Book 7 Exam

 *🌸🍃﷽🍃🌸* 

*شروع اللَّهِ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے*


السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🙏

**🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*🤲)* ✨ 🕌


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️** 

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭 **

 

📆اتوار  28  شوال🌟    1446( 27 اپریل ، 2025)* 


### سوال1:*اہلسنت کا امام زمانہ عج کی غیبت پر اعتراض اور اسکا جواب تحریر کریں*


 *جواب ....... ✍️*


اہلسنت علماء میں امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت پر مختلف اعتراضات کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ امام غیبت میں ہیں تو ان کا وجود بے فائدہ ہے کیونکہ امام کا کام حکومت قائم کرنا اور مسلمانوں کی رہنمائی کرنا ہے، جو غیبت کی حالت میں ممکن نہیں۔ اس اعتراض کو قاضی عبد الجبار معتزلی اور جناب تفتازانی نے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق، امام کا غیبت میں ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ان کا کوئی حقیقی کردار نہیں ہے، جیسے کہ وہ صرف لوگوں کے درمیان موجود نہ ہونے کی حالت میں بھی فائدہ نہیں دے سکتے۔


شیعہ مسلمان اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ امام (علیہ السلام) کا وجود، جیسے نبی کی نبوت کا ہے، ایک حجت ہے جو اللہ کے نزدیک ضروری ہے۔ امام غیبت میں ہونے کے باوجود اپنی برکت اور فیض سے انسانوں کی رہنمائی کرتے ہیں، جیسے بادلوں کے پیچھے سورج کی روشنی زمین تک پہنچتی رہتی ہے۔ امام کا غیبت میں رہنا اس بات کا اشارہ نہیں کہ ان کا وجود بے فائدہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام نے ایک خاص منصوبے کے تحت غیبت اختیار کی ہے تاکہ انسانوں کو آزمائش میں ڈالا جائے اور امام کے منتظر افراد کی ایمانداری کو پرکھا جائے۔


امام کا غیبت میں ہونے کا مقصد اس بات پر ایمان رکھنا ہے کہ امام اللہ کے حکم کے تحت اس وقت پردہ میں ہیں اور وہ دنیا میں جب ظہور کریں گے، تو زمین پر عدل قائم کریں گے۔ امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کا فائدہ یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے اعمال کی اصلاح اور بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ امام (علیہ السلام) کا غیبت میں بھی موجود ہونا مومنین کے لیے ایک روحانی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔


---

### سوال 2:*امام زمانہ عج کے کوئی پانچ زمانہ حضور و ظہور کے اور پانچ زمانہ غائب کے فوائد کا نام لیں*


 *جواب ....... ✍️*


**زمانہ حضور و ظہور کے فوائد:**


1. **عدلیہ کا قیام:** امام زمانہ کا ظہور زمین پر عدل و انصاف قائم کرے گا۔ ہر قسم کی ناانصافی کا خاتمہ ہوگا اور ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں گے۔


2. **دین کی حفاظت:** امام کا ظہور دین اسلام کو ہر قسم کے انحرافات سے محفوظ کرے گا اور حقیقی احکام پر عمل درآمد ہوگا۔


3. **حکومت کی تشکیل:** امام کی حکومت اسلامی اصولوں پر مبنی ہوگی، جس میں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں گے۔


4. **اجتماعی اصلاحات:** امام زمانہ (علیہ السلام) کے ظہور کے بعد معاشرتی، سیاسی، اور اقتصادی اصلاحات ہوں گی جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوں گی۔


5. **غیبت کا خاتمہ:** امام کا ظہور غیبت کے دور کا خاتمہ کرے گا اور انسانوں کو ایک حقیقی قائد ملے گا جو ان کی رہنمائی کرے گا۔


**زمانہ غیبت کے فوائد:**


1. **واسطہ فیض:** امام زمانہ کا غیبت میں ہونا اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے فیض کا دروازہ ہے۔ امام کے وجود سے کائنات میں برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔


2. **ہدایت باطنی:** امام (علیہ السلام) ہماری روحانی رہنمائی کرتے ہیں اور ہمارے باطن کو صاف کرتے ہیں تاکہ ہم اپنے اعمال کی اصلاح کر سکیں۔


3. **امید و حوصلہ افزائی:** امام کا غیبت میں رہنا مومنوں کو ایک امید دیتا ہے کہ اللہ کا وعدہ سچ ہوگا اور امام کا ظہور ہوگا، جس سے دنیا میں عدل قائم ہوگا۔


4. **دعا کی قبولیت:** امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے دوران دعائیں قبول ہوتی ہیں اور مومن اپنی مشکلات میں امام سے مدد طلب کرتے ہیں۔


5. **مکتب تشیع کا تحفظ:** امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت میں بھی تشیع مکتبہ فکر کا تحفظ جاری رہتا ہے، اور دشمنوں کے ظلم کے باوجود شیعہ عقائد محفوظ ہیں۔

---


### سوال 3:*امام واسطہ فیض ہیں فیض کی اقسام بیان کرتے ہوئے امام کا کردار تشریح کریں*

 *جواب ....... ✍️*


**واسطہ فیض:**


امام زمانہ (علیہ السلام) کا وجود اللہ اور مخلوقات کے درمیان واسطہ فیض ہے۔ امام کا وجود اس کائنات کے نظام کی بقاء اور اس کی رحمت کے نزول کا سبب ہے۔ جیسے انسانی جسم میں دل کی دھڑکن کی موجودگی ضروری ہے تاکہ زندگی قائم رہے، اسی طرح امام کا وجود اس زمین پر ضروری ہے تاکہ اس کی برکات اور رحمتیں مخلوقات تک پہنچ سکیں۔


امام سجاد علیہ السلام کی ایک روایت میں فرمایا گیا ہے:  


*"یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ نے آسمان کو گرنے سے روکا ہوا ہے، زمین کی لرزیش سے بچایا ہے، بارشیں ہمارے وسیلے سے نازل ہوتی ہیں، اور اگر ہم نہ ہوں تو زمین اپنے رہنے والوں کو اپنے اندر نگل لے"*


**مفہوم:** امام کا وجود اس دنیا کی بقاء کی بنیاد ہے، اور ہر قسم کی برکت اور رحمت امام کے ذریعے ہی زمین پر پہنچتی ہے۔ امام زمانہ (علیہ السلام) کا فیض انسانوں تک پہنچانے کا عمل جاری رہتا ہے، چاہے وہ غیبت میں ہوں یا ظہور میں۔ امام کی موجودگی انسانوں کی روحانیت کی اصلاح، اجتماعی عدل، اور کائنات کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔


---


### سوال4:*باطنی ھدایت کیا ہے اور قران و سنت کے ہوتے ہوئے باطنی ھدایت کی ضرورت کیا ہے*


 *جواب ....... ✍️*


**باطنی ہدایت:**  


باطنی ہدایت وہ رہنمائی ہے جو انسان کے باطن کو درست کرتی ہے۔ یہ ہدایت صرف ظاہری اعمال اور ظاہر کی اصلاح نہیں کرتی بلکہ انسان کے دل و دماغ کی صفائی، اخلاق کی درستگی، اور روح کی پاکیزگی پر مرکوز ہوتی ہے۔ امام زمانہ (علیہ السلام) اس بات کی ہدایت دیتے ہیں کہ انسان اپنی روحانیت کو بہتر بنائے اور اپنی باطنی اصلاح کے لیے راہنمائی حاصل کرے۔


**قرآن و سنت کے ہوتے ہوئے باطنی ہدایت کی ضرورت:**


قرآن و سنت نے انسانوں کو ظاہری اور عملی ہدایت دی ہے، لیکن انسان کی باطنی اصلاح کے لیے ایک مخصوص روحانی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، جو امام (علیہ السلام) فراہم کرتے ہیں۔ باطنی ہدایت کے ذریعے انسان اپنے اندر کی صفائی کرتا ہے اور نیک عمل کرنے کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔ یہ ہدایت انسان کی روحانی سطح کو بلند کرتی ہے اور اسے خدا کے قریب لاتی ہے۔


حضرت ابرہیم علیہ السلام کو جب خدا نے امامت کے منصب پر فائز کیا تو انہیں باطنی ہدایت دی گئی۔ اسی طرح دیگر انبیاء اور ائمہ بھی اللہ کے حکم سے انسانوں کی باطنی رہنمائی کرتے ہیں۔


---


### سوال5:*امید بخشنا یا امن و  آسائش کی فراہمی ان میں سے کسی ایک پر نوٹ لکھیں*


 *جواب ....... ✍️*  


**امید دلانا:**  


امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے دوران مومنین کو امید اور حوصلہ ملتا ہے۔ امام کا وجود ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ زمین پر عدل قائم ہوگا اور ظلم کا خاتمہ ہوگا۔ اگرچہ امام غیبت میں ہیں، لیکن ان کی موجودگی کی امید سے ہی تشیع مکتبہ کو ظلم و ستم کے باوجود زندہ رکھا ہے۔ امام (علیہ السلام) ہمارے اعمال سے واقف ہیں اور ہمارے مسائل کو جانتے ہیں۔ یہ امید ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور ہمیں بہتر عمل کرنے کی تحریک دیتی ہے۔


**امن و آسائش کی فراہمی:**  


امام زمانہ (علیہ السلام) کا غیبت میں ہونا زمین پر امن کی ضمانت ہے۔ امام کی موجودگی کی برکات سے انسانوں کو توبہ کرنے اور اپنے گناہوں سے بچنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر امام کا وجود زمین سے غائب نہ ہوتا تو انسانوں کو عذاب میں مبتلا کیا جا چکا ہوتا۔ امام کی برکات کے باعث زمین پر بارشیں، دعاوں کی قبولیت، اور بلاؤں کا دفع ہونا جاری رہتا ہے۔



سوالات کتابچہ۷ (امام غائب کے فوائد)

*كوئی سے پانچ سوال حل کریں*:


سوال6:*کسی واقعہ کے ذریعے امام کا غیبت میں لوگوں کو فیض بیان کریں*

---


 *والسلام۔* 🙏

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🐊*📃📗✒️ *شہر  بانو* 🖋️📘📃

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات