کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات

 *کتاب غیبت نعمانی*📚


پہلے تین درس کا امتحان 🙏


*💐*بِسۡمِ اللَّهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*✨


*شروع اللَّهِ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے*


السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🙏

**🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*🤲)* ✨ 🕌


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️** 

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭 **

 

📆جمعہ المبارک 12 شعبان🌟    1446( 11 اپریل، 2025)* 


سوال نمبر 1 : فتنہ عقائد اور اختلاف شیعہ میں سے کسی ایک کو وضاحت سے بیان کریں


جواب ....... ✍️


شیعوں میں دو اہم فتنے پیدا ہوں گے:


فتنہ عقائد

اختلاف شیعہ: 

فتنہ عقائد: لوگ عقائدی فتنوں میں مبتلا ہوں گے، جیسے غلو، جھوٹے مہدی اور لادینیت۔ اس میں مولا علیؑ کی بندگی کو خاص خدا کی بندگی سمجھا جائے گا۔ یہ فتنہ تمام افراد، خواص اور عام لوگوں کو متاثر کرے گا۔


سوال نمبر 2: گندم والی مثال کی تشریح کریں


جواب ....... ✍️


امامؑ نے ایک مثال دی کہ جیسے اگر ایک شخص کے پاس گندم ہو اور وہ اسے صاف کر کے رکھے، لیکن ہر بار اس میں کیڑے آ جائیں، تو وہ گندم کو دوبارہ صاف کرے گا اور امید رکھے گا کہ اب اسے نقصان نہیں ہوگا۔ یہی عمل بار بار دہرایا جائے گا، یہاں تک کہ گندم صرف کھلیان میں باقی رہ جائے گی، جہاں کیڑے اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اسی طرح، شیعوں کو بھی بار بار آزمائشوں سے گزرنا پڑے گا، اور آخرکار صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں فتنہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔


سوال نمبر 3: امیر المومنین کا فرمان کے مومن شہد کی مکھی کی مانند ہو اس کی تشریح کریں 


جواب ....... ✍️


امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ مومن کو شہد کی مکھی کی طرح ہونا چاہیے۔ شہد کی مکھی کو پرندے کمزور سمجھتے ہیں، لیکن اگر انہیں اس کی برکتوں کا علم ہو جائے تو وہ اسے کم نہ سمجھیں۔ مومن کو لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہیے، لیکن دل میں ان سے جدا رہنا چاہیے۔ امامؑ نے کہا کہ تمہیں ایک دوسرے کو کذاب نہ کہنا چاہیے اور نہ ہی ایک دوسرے پر تھوکنا چاہیے۔ آخرکار، تم میں سے صرف وہی لوگ راہ راست پر رہیں گے جو کم ہوں گے، جیسے سرمہ آنکھ میں یا نمک کھانے میں ہوتا ہے۔


سوال نمبر 4: نعمانی کا یہ کہنا کہ غیبت نہ ہوتی تو ہمارا مذہب باطل ہوتا تشریح کریں 


جواب ....... ✍️


مقدمے میں آقائے نعمانیؒ نے بہت خوبصورت بات کی فرمایا کہ:

مجھے حیرت ہے کہ مولاؑ عج کی غیبت کی وجہ سے اتنے لوگ گمراہ ہوئے ہیں کہ اگر یہ غیبت نہ ہوتی تو ہمارا مذہب باطل ہوتا۔ یہ غیبت ہے جس کی وجہ سے ہمارے مذہب کی تائید ہوئی ہے، کیونکہ یہ موضوع غیبت وہ ہے جس پر پیغمبرؐ اسلام سے احادیث موجود ہیں۔ رسولؐ اللہ نے اس کی خبر دی، اور امیرالمؤمنینؑ نے اپنی احادیث اور خطبوں میں اس کا ذکر کیا۔ ہر امامؑ نے اس موضوع پر گفتگو کی ہے۔ آقائے نعمانیؒ فرماتے ہیں کہ علماء اور ان کے شاگردوں نے ان احادیث کو چار سو رسالوں میں نقل کیا ہے، اور کوئی امامؑ ایسا نہیں گزرا جس نے غیبت پر گفتگو نہ کی ہو۔ یہ موضوع حتماً ہونا تھا، اور اگر نہ ہوتا تو پھر یہ مذہب باطل ہوتا۔



سوال نمبر 5: غیبت صغری میں شیعوں کے اندر کیوں تزلزل والا دور تھا 



جواب ....... ✍️



شک و تردید در اوائل غیبت کی صورتحال شیعہ تاریخ میں ایک اہم اور پیچیدہ مرحلہ تھا۔ امام حسن عسگریؑ کی شہادت کے بعد امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کا آغاز ہوا، جس نے شیعہ مسلمانوں کے درمیان گہرے فکری سوالات اور شک و تردید کے دور کو جنم دیا۔ اس وقت شیعہ جماعت کی حالت ایسی تھی کہ انہیں پہلی بار اس طرح کا تذلزل اور بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ دور اس لئے بہت منفرد تھا کیونکہ اس سے قبل کبھی بھی شیعہ امت نے ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا جہاں امام کا براہ راست وجود غائب ہو اور شیعہ اپنی رہنمائی کے لئے کسی نائب یا نمائندہ کے ذریعے امام سے رابطہ کر سکیں۔


*📃📗✒️ *شہر  بانو* 🖋️📘

 *والسلام۔* 🙏

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥

 *✨شہربانو✍️* 

 *عالمی مرکز مہدویت قم* ۔* 🌍


*کتاب غیبت نعمانی*📚


دوسرے تین درس کا امتحان 🙏



*🌸🍃﷽🍃🌸* 

*شروع اللَّهِ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے*


السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🙏

**🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*🤲)* ✨ 🕌


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️** 

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭 **

 

📆جمعہ المبارک  19  شوال🌟    1446( 18 اپریل ، 2025)* 



سوال  نمبر 1: 313 ناصروں کی کیا خصوصیات ہیں


جواب ....... ✍️



 — 313 ناصرینِ امام مہدیؑ وہ عظیم لوگ ہوں گے جنہیں ظہور کے وقت امامؑ کے پہلے سپاہی، قریبی ساتھی اور مددگار ہونے کا شرف حاصل ہوگا۔


یہ 313 صرف تعداد نہیں بلکہ صفات، قرب، اور عظمت کا معیار ہیں۔



آئیں دیکھتے ہیں کہ روایات کی روشنی میں ان کی خصوصیات کیا ہوں گی:




---



1. کامل ایمان اور یقین



ان کا ایمان ایسا پختہ ہوگا کہ نہ شک کریں گے، نہ خوفزدہ ہوں گے، اور نہ دنیاوی لالچ ان پر اثر کرے گا۔


امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:


"وہ ایسے لوگ ہوں گے جو شک اور فتنوں کے دور میں بھی حق پر قائم رہیں گے۔"




---



2. عرفانِ امام (معرفت)



یہ لوگ امام مہدیؑ کی معرفت رکھتے ہوں گے — صرف ظاہری طور پر نہیں، بلکہ دل سے امامؑ کو پہچاننے والے ہوں گے۔




---



3. اطاعتِ کاملہ



یہ 313 افراد امام کے حکم کے سامنے ایسے ہوں گے جیسے مردہ ہاتھ غسال کے ہاتھ میں — یعنی بغیر سوال کیے اطاعت کریں گے۔




---



4. عبادت گزار و شب زندہ دار



روایت ہے کہ وہ راتوں کو عبادت گزار اور دن میں شیر کی طرح مجاہد ہوں گے۔




---



5. شجاعت و بہادری



یہ لوگ انتہائی دلیر، جنگی مہارت رکھنے والے، اور نظم و ضبط والے ہوں گے۔


ہر ایک کی بہادری ہزاروں پر بھاری ہوگی۔




---



6. علم و حکمت



یہ فقط جنگجو نہیں ہوں گے، بلکہ علم، عقل، تقویٰ اور حکمت میں بھی بلند درجے کے ہوں گے۔


امامؑ کے مشیر، مبلغ، اور رہنما بھی یہی ہوں گے۔




---



7. عالمی نمائندگی



یہ 313 صرف ایک قوم یا خطے سے نہیں، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک، نسلوں اور زبانوں سے ہوں گے — امام کا لشکر عالمی اور متحد ہوگا۔




---



8. وہ امامؑ کے ظہور سے پہلے ہی تیار ہوں گے



یہ لوگ غیبت کے دور میں ہی امامؑ کی اطاعت و انتظار میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔


ان کے دل امامؑ کی محبت سے لبریز ہوں گے، اور ان کی عملی زندگی امامؑ کی فکر کا عکس ہوگی۔




---



9. ان کے اندر اخلاص اور قربانی کا جذبہ ہوگا



دنیا، جان، مال، شہرت — سب کچھ قربان کرنے والے ہوں گے، فقط امام کے حکم پر۔




---



10. ان کا شمار "اصحابِ بدر" کے برابر ہوگا



روایات میں آیا ہے کہ یہ 313 اصحابِ بدر کی طرز پر ہوں گے — یعنی کمی تعداد میں مگر مضبوط ترین بنیاد والے۔






سوال  نمبر 2-؛زمانہ ظہور سے پہلے اور زمانہ ظہور کے بعد ازمائش سے کیا مراد ہے



 جواب ....... ✍️




زمانۂ ظہور کی آزمائش:


جب مہدیؑ زہراؑ دینِ حق کو شفاف انداز سے بیان فرمائیں گے، تو وہی لوگ جو مولاؑ عج کی رکاب میں دشمنانِ اسلام سے جنگ کر رہے ہوں گے، انہی میں پھوٹ پڑے گی۔ وہ کہیں گے: "ہم تو اپنے آباؤ اجداد والی شیعت پر چلیں گے!"


یہاں تک کہ شیعوں کا ایک گروہ امام کے مقابل کھڑا ہو جائے گا۔


اصلاح کا کام آسان نہیں ہوگا۔ یہ زمانۂ ظہور کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔



قبل از ظہور کی آزمائش:


اس دور کی آزمائش، فکری اختلاف اور اعتقادی مخالفت کی صورت میں سامنے آئے گی۔ ایسے میں ہمیں راہِ حق کو پہچاننا ہوگا اور اس پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔



پروردگارِ عالم!


ہمیں توفیق دے کہ ہم مولا امامِ زمانؑ عج کے سچے خدمت گزار اور ناصر بنیں۔


ان کی معرفت حاصل کریں، اس پیغامِ معرفت کو آگے پھیلائیں، اور


ظہور کے بعد امامؑ کے عملی اور فکری سپاہیوں میں شمار ہوں۔



ہمیں قبل از ظہور اور بعد از ظہور بھی امامؑ کے مخلص سربازوں میں قرار دے۔


آمین۔



سوال نمبر 3: ناصبی اور معتزلی کی تشریح کریں 



جواب ....... ✍️



ناصبی لفظِ نصب سے ہے اور اس کا مطلب برپا کرنا ہے۔ ناصبی یعنی دشمنی برپا کرنے والا، سوء قصد رکھنے والا۔



ناصبی کی تاریخ



ناصبی کی تاریخ یہ ہے کہ جو امیرالمومنینؑ اور اہلِ بیتؑ میں سے کسی کے ساتھ دشمنی کرے اور اپنی دشمنی کو آشکار کرے، فضائلِ اہلِ بیتؑ کا انکار کرے، یا پھر آئمہ معصومینؑ پر لعن کرے، یا اہلِ تشیع کے ساتھ دشمنی، ان کی تکفیر یا قتل کرے—ایسا شخص ناصبی ہے۔



تاریخ کے اندر نواصب



خوارج



بنو امیہ




آج کے دور کے نواصب



داعشی گروہ



معتزلہ دو قسم کے ہیں:



🌼 معتزلہ بغداد:


یہ گروہ کافی حد تک شیعہ نظریات کے قریب تھا۔ وہ حضرت علی علیہ السلام کو باقی خلفائے راشدین پر فضیلت دیتے تھے۔ اس مکتبِ فکر سے وابستہ مشہور شخصیات میں ابوجعفر اسکافی، صاحب ابن عباد شامل ہیں۔ یہاں تک کہ شیخ مفیدؒ اور سید مرتضیٰؒ کے بعض اساتذہ بھی معتزلی تھے۔



🌱 معتزلہ بصرہ:


یہ گروہ عثمانی مذہب رکھتا تھا، یعنی حضرت عثمانؓ اور دیگر خلفاء کو حضرت علیؑ پر فضیلت دیتے تھے۔ ان میں ایک نمایاں شخصیت جاحظ ہیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ امامت اللہ کی طرف سے منصوص نہیں بلکہ لوگوں کے انتخاب سے ہوتی ہے، جیسے اہلسنت کا نظریہ ہے۔ اسی وجہ سے شیخ مفیدؒ نے صاحب ابن عباد کے رد میں ایک کتاب بھی لکھی۔



سوال نمبر 4:: حبل اللہ سے کیا مراد ہے روایات میں



جواب ....... ✍️



> وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا


"اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور تفرقے میں نہ پڑو..."


(سورہ آل عمران: 103)





یہ آیت وحدت کی دعوت بھی ہے اور "حبل اللہ" سے تمسک کی تاکید بھی۔




---



اور آج کے زمانے میں "حبل اللہ" کون ہے؟



روایات کی روشنی میں، جس طرح قرآن اور اہل بیتؑ "حبل اللہ" ہیں، اسی طرح آج کے دور میں امامِ عصرؑ، حجت بن الحسن العسکریؑ (عج) ہی وہ زندہ "حبل اللہ" ہیں جو زمین پر اللہ اور بندوں کے درمیان رابطے کی رسی ہیں۔



حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت ہے:



> "الإمامُ حبلُ اللهِ المتینُ، وصراطُهُ المُستقیمُ، لا یَزالُ معَ القرآنِ، والقرآنُ معَه..."


"امام ہی اللہ کی مضبوط رسی ہے، اور اس کا سیدھا راستہ ہے، وہ ہمیشہ قرآن کے ساتھ ہوتے ہیں اور قرآن ان کے ساتھ..."


(کافی، ج 1، باب فی أن الأئمة هم حبل الله)





لہٰذا:



"حبل اللہ" سے مراد امام ہے۔



اور اس زمانے میں امام مہدیؑ ہی وہ حبل اللہ ہیں جن سے تمسک لازم ہے۔



ان سے دوری تفرقے کا باعث ہے، اور ان سے وابستگی نجات کی


سوالنمبر 2: معرفت امام زماں کیسے پیدا ہوتی ہے



جواب ....... ✍️




 بہت خوبصورت سوال ہے — معرفتِ امامِ زمانؑ یعنی امام مہدیؑ کو پہچاننا، ان کے مقام، ان کے حق، اور ان کے فرائض کو سمجھنا — یہ ہر مومن کی ذمہ داری ہے، بلکہ دین کی بقا اور ایمان کی سلامتی اسی معرفت سے وابستہ ہے۔



امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:



"جو شخص اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔"



اب سوال یہ ہے کہ معرفتِ امام کیسے حاصل ہوتی ہے؟ تو اس کے چند اہم ذرائع اور طریقے ہیں:




---



1. قرآن اور احادیث کی روشنی میں



قرآن میں واضح طور پر اہل بیتؑ کے مقام و مرتبے کا ذکر موجود ہے، اور احادیثِ نبویؐ میں امام مہدیؑ کا تذکرہ بکثرت ہے۔ ان سے ہمیں امامؑ کی صفات، علامات، اور ذمہ داریوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔




---



2. علم حاصل کرنا



امامؑ کی معرفت کے لیے ضروری ہے کہ انسان دین کو گہرائی سے سمجھے۔ جب ہم دین کو سمجھتے ہیں، تب ہمیں امامؑ کی ضرورت کا بھی احساس ہوتا ہے۔




---



3. علمائے ربّانی کی صحبت



اہل علم اور خالص مومنین کی صحبت انسان کو امامؑ کے قریب کرتی ہے۔ ان سے گفتگو اور ان کی رہنمائی معرفت میں اضافہ کرتی ہے۔




---



4. دعا اور توسل



خصوصاً دعائے عرفہ، دعائے ندبہ، اور دعائے العہد جیسی دعائیں انسان کے دل میں امامؑ کی محبت اور معرفت کو بیدار کرتی ہیں۔ اللہ سے معرفتِ امام کے لیے دعا کرنا بھی بہت مؤثر ہے۔




---



5. خودسازی (تزکیۂ نفس)



جب انسان گناہوں سے بچتا ہے، دل کو پاک کرتا ہے، تو اس کی روحانی آنکھ کھلتی ہے، اور وہ امامؑ کو دل سے پہچاننے لگتا ہے۔





 *والسلام۔* 🙏

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🐊*📃📗✒️ *شہر  بانو* 🖋️📘📃


*کتاب غیبت نعمانی*📚

آخری چار اسباق کا امتحان 🙏


*🌸🍃﷽🍃🌸* 

*شروع اللَّهِ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے*


السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🙏

**🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*🤲)* ✨ 🕌


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️** 

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭 **

 

📆اتوار  28  شوال🌟    1446( 27 اپریل ، 2025)* 


  ---


✨ *کتاب غیبت نعمانی*📚 آخری 4 اسباق کا امتحان  ✨



---


سوال نمبر ❶ امام صادق علیہ السلام نے حقیقی شیعہ کی کیا صفات بیان کیں؟ (جنگ صفین کے پیش نظر)


 *جواب ....... ✍️*


امام صادق علیہ السلام نے حقیقی شیعہ کی صفات یوں بیان فرمائیں:

✅ اللہ سے ڈرنے والے اور نیکیوں پر عمل کرنے والے۔

✅ اماموں کی اطاعت کرنے والے اور ان کی سیرت پر چلنے والے۔

✅ امانت دار، سچے، اور بااخلاق۔

✅ مال و جان سے دین کی مدد کرنے والے۔


⚔️ جنگ صفین کے تناظر میں:

حقیقی شیعہ وہ تھے جو حضرت علیؑ کے حکم پر بغیر کسی شک و شبہ کے عمل کرتے، حق و باطل کے درمیان فرق پہچانتے اور اپنی جانیں امام کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔



---


سوال نمبر ❷ جناب ابو بصیر یا جناب مفضل پر نوٹ لکھیں


 *جواب ....... ✍️*


✨ جناب ابو بصیر:


ابو بصیر محمد بن علی یا لیث بن بختری مرادی، امام جعفر صادقؑ کے خاص اور معتمد اصحاب میں سے تھے۔


علم حدیث و فقہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔


نابینا ہونے کے باوجود علم و معرفت کی روشنی رکھتے تھے۔


امام صادقؑ نے ان پر مکمل اعتماد فرمایا۔



یا


✨ جناب مفضل بن عمر:


مفضل بن عمر جعفی، امام جعفر صادقؑ اور امام موسی کاظمؑ کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔


امام نے انہیں "توحید مفضل" جیسی تعلیمات عطا فرمائیں۔


وہ فلسفہ اور خدا شناسی میں ماہر تھے۔


امامؑ نے ان کے علمی مقام کی تصدیق فرمائی۔




---


سوال نمبر ❸ منصور یمانی کون ہیں روایت کی رو سے؟


 *جواب ....... ✍️*


"منصور یمانی" ظہور امام مہدیؑ کی علامات میں ایک نمایاں شخصیت ہیں۔


وہ یمن سے قیام کریں گے اور امام مہدیؑ کی نصرت کریں گے۔


ان کو ہدایت یافتہ اور برحق قرار دیا گیا ہے۔


✊ اللہ کی طرف سے ان کی مدد کی جائے گی اور وہ ظلم کے خلاف کامیابی حاصل کریں گے۔




---


سوال نمبر ❹ نبی کریمؐ کے فرمان میں "حبل اللہ" (اللہ کی رسی) سے مراد کیا ہے؟


 *جواب ....... ✍️*


نبی کریمؐ کے مطابق "حبل اللہ" سے مراد اہل بیت علیہم السلام ہیں۔


بعض تفاسیر میں قرآن کو بھی "حبل اللہ" کہا گیا ہے۔


نبیؐ نے فرمایا:

✨ "قرآن اور اہل بیتؑ اللہ کی مضبوط رسی ہیں، جو ان سے وابستہ رہے گا، وہ کبھی گمراہ نہ ہوگا۔"




---


سوال نمبر ❺ آیت "انما انت منذر و لکل قوم ہاد" کی تشریح کریں


 *جواب ....... ✍️*


(سورۃ الرعد، آیت 7)


ترجمہ:

📖 "آپ (اے نبیؐ) تو صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی (راہنما) ہے۔"


اس آیت میں نبی اکرمؐ کو "منذر" یعنی خبردار کرنے والا بتایا گیا ہے۔


"ہاد" (رہنما) سے مراد امام علیؑ اور بعد کے ائمہ علیہم السلام ہیں۔


🌟 نبیؐ خبردار کرتے ہیں اور اہل بیتؑ ہدایت دیتے ہیں، جو قیامت تک جاری رہے گی۔




 *والسلام۔* 🙏

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🐊*📃📗✒️ *شہر  بانو* 🖋️📘📃

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان