(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)
معرفت امام
معرفت امام
مہدویت پر بحث کرنے کی ضرورت
“موعود ” یا “مصلح کل” کا موضوع ایک ایسا نظریہ اور خیا ل نہیں ہے کہ جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا ہو اور یہ ایسا موضوع ہو کہ جو انسانیت کے دردوں کی تسکین اور مظلوموں کی دلداری کا ذریعہ ہوبلکہ یہ موضوع شیعیت کی شناخت ہے۔کہ جس کی ضرورت اور اہمیت کو آیات و روایات کی روشنی میں درک کیا جا سکتا ہے۔
زیر نظر تحریر میں، بطور اختصارمہدویت کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں:
۱۔ اعتقادی پہلو
عقیدہ زندگی کی اصل اساس ہے یعنی انسان میدان عمل میں جو کچھ بھی انجام دیتا ہے اس کی بنیاد اس کے عقائد ہوتے ہیں۔
بنابراین اگر انسان کا عقیدہ صحیح اور مستحکم ہو تو انسان عملی میدان میں لغزش اور شک و شبہ کا شکار نہیں ہوگا۔ وہ اہم ترین چیز ہے کہ جو ایک صحیح عقیدے کو تشکیل دیتی ہے وہ معرفت ہے۔
معرفت حاصل کر کے ہی ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ہی آئمہ ھدیٰ کی امامت کو دوام دینے والی شخصیت ہیں۔ آپ فیض الہٰی کے (بندوں تک پہنچنے کے لئے) واسطہ، خاتم اوصیاءاور مظہر صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ ہیں۔
امام زمانہ علیہ السلام خالق کائنات کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ ہیں جیسا کہ احادیث میں خداوند متعال اور اس کے اوصاف کی معرفت کا ذریعہ اور وسیلہ، اولیائے خدا اور آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی شناخت کوقراردیا گیا ہے۔ یہ ہستیاں مظہر اسمائے الہٰی ہیں اور ان ذوات مقدسہ کی صحیح معرفت ہی خدا کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ قرار پاتی ہے۔
شیعہ اور سنی راویوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے : ” مَن مَاتَ و َ لَم یَعرِفۡ اِماَمَ زَماَنَہِ ماَتَ مِیتةً جاَھَلیة ” [1]
(جو شخص اس حال میں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت ( شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کی موت مرا)
بعض دعاﺅں میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ معرفت امام کی توفیق طلب کریں:
“اَلَّھُمَّ عَرِّفۡنِی حُجَّتَکَ فَا نَّکَ اِن لَّم تُعَرِّ فۡنیِ حُجَّتَک ضَلَلۡتُ عَنۡ دِیِنی ” [2]
“خداوندا! اپنی حجت کی معرفت عطا فرماکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاﺅں گا۔”
کیا اتنی(روایات )کی مو جودگی کے باوجود، امام زمانہ علیہ السلامکی شناخت کااہتمام نہیں کرنا چاہیے؟ اور کیا حضرت ولی العصر علیہ السلام کے مقدس وجود کے مختلف پہلو ﺅں کو بہتر طریقے سے نہیں پہچاننا چاہیے؟
امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح اور درست شناخت سے کیسے غافل رہ سکتے ہیں جبکہ امام زمانہ علیہ السلام اپنے غیبت کے زمانہ میں بھی سب مخلوقات کو اپنے الہی فیض سے محروم نہیں رکھتے اور ہم سب امام زمانہ علیہ السلام کی امامت کے فیوضات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
۲۔ معاشرتی پہلو
جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے ایک سعادت مندمعاشرتی زندگی کی آرزو کر رہا ہے۔ اگر اس خواہش کے برآوردہ ہونے کا امکا ن نہ ہوتاتو ہرگز ایسی خواہش ، آرزو اور امید انسان کی فطرت میں قرار نہ دی جاتی جیسے کہ اگر پانی اور غذا نہ ہوتی تو پیاس اور بھوک بھی نہ ہوتی۔
“مہدویت” ایک ایسی فکر ہے کہ جوبہت سے معاشرتی اثرات رکھتی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اثر، معاشرے کے پیکر سے مایوسی اور نا امیدی کا خاتمہ ہے مہدویت یعنی روشن مستقبل کی امید اور مظلوم اور بے سہارابشریت کے لئے آزادی کا پیغام اور یہ کہ ایک دن ایک مردخدا آئے گا اورلوگ جس چیز کی امید رکھتے ہیں وہ انجام پذیر ہو کر رہے گی۔
ہر مسلمان کا اس چیز پرپختہ یقین ہے کہ جو معاشرتی نظام،اس کی جائز خواہشات و آرزوﺅں کی تکمیل کر سکتا ہے اور جو اس معاشرتی نظام کو حق وعدالت کی بنیا د پر استوار کرسکتا ہے وہ اسلام کاوہ خوبصورت”حکومتی نظام” ہے۔جس کی کامل و مکمل شکل اما م زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت تشکیل پائے گی۔اوراس بات پر یقین امید، نشاط اورزندگی کے مساوی ہے۔
یہ فکر اتنی واضح و روشن ہے کہ حتٰی کہ بعض مستشرقین (جیسے جرمن فلسفی ماربین) نے بھی اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ”انتہائی اہم معاشرتی مسائل میں سے ایک مسئلہ جو امید (نجات) کا موجب ہو سکتا ہے وہ حضرت حجت ولی العصر علیہ السلام کے وجود پر اعتقاد رکھنا اور ان کے ظہور کا انتظار ہے”۔
بناءبر ایں،مہدی موعود علیہ السلام کے مقدس وجود پرعقیدہ رکھنا، (انسانوں کے) دلوں کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے ، جو انسان اس “اصل”پرعقیدہ رکھتاہے وہ نا امید (اور مایوس) نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن اختتام حتمی ہے۔لہٰذاکوشش کرتاہے کہ خود کو اس (روشن اختتام )تک پہنچائے [3]اور یہی نظریہ اس کی مسلسل حرکت کا سبب بنتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرروشن اختتام کو حقیقی شکل دینے کی را ہ میں جدوجہد کرتے ہوئے سختیوں و ناخوشگوار حوادث و واقعات کے سامنے شکست تسلیم نہیں کرتا ۔اس کا یہی عمل ” مہدویت” پر اعتقاد کے زیر اثر، بشریت کے لئے حاصل ہونے والا سب سے بڑا معاشرتی تخفہ ہے۔
سیاسی پہلو
عالمی سطح پر تاریخ ہمیشہ مختلف حکومتوں اور نظاموں کی شکست کی شاہد رہی ہے۔ عرصہ دراز تک دو غالب نظریات (کیپٹلزم،مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے نمائندہ کے طور پراور کیمونزم،سوشلزم کے نمائندہ کے طورپر ) نے ایٹمی اور غیر ایٹمی اسلحے کے ذریعے دنیاکےلئے خطرہ بنے رہے اور یہی ان کے نظریات اور نظاموں کی شکست کی واضح ترین دلیل ہے۔
ان نظریات نے عرصہ دراز تک معاصر عالمی سیاسی تفکر کو متاثر کئے رکھا لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایک شکست سے دوچار ہوا اور دوسرا (نظام یعنی سوشیالزم) شکست کے دہانے پہ ہے،مغربی لبرل ڈیموکریسی کودرپیش چیلنج کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ( لبرل ڈیموکریسی) میں اخلاقی ، نفسیاتی، ٹیکنالوجی اور علمی (معرفتی ) بحرانوں کی بہتات اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہنشاہیت اور نظام ایک سنگین شکست سے دوچار ہو نے والا ہے۔
ایسے حالا ت میں ناکامیوں،کھوکھلے نعروں اور امن و سلامتی کے سراب دیکھ کر تھکے ماندہ انسانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
آج کی بشریت عالمی سیاست میں نظر ثانی اور جدت کی پیاسی ہے۔ در حقیقت آج کا انسان شدید تشنگی محسوس کر رہا ہے او راس کو صرف “مدینہ فاضلہ” مہدوی کا نظام و منصوبہ ہی سیراب کر سکتا ہے۔
نظریہ مہدویت ایک عالمی نظریہ ہے اور یہ نظریہ دنیا کو چلانے کا ایک پروگرام اور منصوبہ رکھتا ہے۔بناءبر ایں جو نظام اور پروگرام معاصر بشریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ “مہدویت” یہی فکرہے۔ اور مہدویت کے حکومت کے بارے میں بلند ترین اور قیمتی اہداف و مقاصد ہیں، حتٰی کہ یہ فکر مہدویت، دینی حکومت (کے قیام) کے لئے ایک مفید اور قابل عمل منصوبہ بندی قرار پا سکتی ہے۔
اگر (نظریہ) مہدویت صحیح اندازمیں بیان ہوجائے تو دنیا بھر میں اصلاحی تحریکوں میں جان پڑ جائے گی۔ جس طرح کہ انقلاب اسلامی ایران ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب کے لئے مناسب پیش خیمہ اور نقطہ آغاز بن چکا ہے۔
تاریخی پہلو
مہدویت کاسلسلہ امامت اور نبوت کے تسلسل کا نام ہے۔ اس وجہ سے تاریخ کے ایک حساس دور میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ اور آج تک جاری و ساری ہے اور مہدویت کا یہ سلسلہ بشریت کی دنیوی زندگی کے اختتام تک باقی رہے گا۔ بناءبر ایں، امام علی علیہ السلامسے لے کر امام ولی عصر علیہ السلام تک (ان آئمہ کی) امامت کی کیفیت کے بارے میں بالعموم اور مہدویت کے بارے میں بالخصوص مسلمانوں کا رد عمل اور نیز اس سے پیش آنے والے تاریخی حوادث، تاریخ اسلام کے اہم اور حساس موضوعات قرار دئیے جا سکتے ہیں۔
مہدویت کے موضوع پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور شیعہ، سنی رورایات میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کثرت سے بشارتیں ذکر ہوئی ہیں۔تاریخ اسلام میں ہمیشہ امام مہدی موعود علیہ السلام کے عقیدے پر جہت سے آثارمرتب ہوئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی اور حال میں بہت سی اصلاحی تحریکیں، نظریہ مہدویت سے متاثر تھیں( جیسے مصر میں فاطمیوں کی تحریک اور سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک ) ، (مہدی) موعود علیہ السلام پر عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلامی معاشرے پر جو عجیب اثرات چھوڑے انہیں دیکھ کر کچھ حیلہ بازوں نے بھی لفظ مہدی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط اہداف تکہ پہنچنے کے لئے مہدویت کا دعویٰ کیا اورمسلم معاشروں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔
ثقافتی پہلو
ہم مسلمانوں کی (جملہ) ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ مہدویت کے کلچر کو پھیلانے کے لئے زمین ہموار کر کے آنحضرت علیہ السلام کے ظہور میں (مزید) تاخیر کو روکیں۔ مہدویت کے ثقافتی پہلو کے اعتبار سے چند نکا ت پر کام کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ انتظار کی پالیسی کو واضح کرنا
انتظار کی پالیسی کا مطلب ہے وسعت نظر اورامام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے تمام وسائل اور توانائیوں کو کام میں لانا۔ امام کا ظہور فقط اسی وقت ہوگا جب ہم جمود کی حالت سے نکل کر اپنے آپ کو ایک فعال اور متحرک پروگرام کے تحت منظم کرلیں اور اپنے مشن تک پہنچنے کے لئے توانائیاں بروئے کار لائیں اور نظر ہماری مستقبل پر ہونا چاہئے۔
کیونکہ جب تک مستقبل روشن اور واضح نہ ہو اس وقت تک صحیح منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔
۲۔ غلط افکار کی پہچان
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اوران کا ازالہ کریں ۔ مثال کے طور پر امام زمانہ علیہ السلام کی بحث میں افراطی رنگ نہ دیں۔ اسی طرح فقط امام کا قہر وغضب کا چہرہ لوگوں کے سامنے نہ رکھیں بلکہ امام کے اسوہ رحمت اور بے پناہ بخشش کو بھی پیش کریں۔ اسی طرح ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ انتظار کا مفہوم تحریف کا شکار نہ ہو جائے۔ اور معاشرے میں ظلم وستم کے بڑھنے پر بھی سکوت اختیار نہ کریں کہ غلط افکار معاشرے پر حکم فرما ہوں۔
۳ ۔ دشمن شناسی
اسلام دشمن معاشرے میں مہدویت کی تعلیم کے رشد کو روکنے یا تحریف کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں اوردشمن کوتو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اگر دشمن ایسا نہ کرے تو تعجب کرنا چاہیے۔ چونکہ دشمن کی ماہیت ہی یہی ہے۔پس اہل حق کو کوشش کر نی چاہیے کہ مہدویت کی ابحاث کو صحیح انداز میں پیش کریں تاکہ ہر قسم کی تخریب و تحریف کو روکا جا سکے۔
پیشکش:علی اصغر سیفی
*معرفت امام زمانہ عج کورس کا پہلا درس*
*امام مہدی عج کہاں ہیں*
*دعائے عہد کی تلاوت*
_استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب_
*معرفت امام زمان عج کا دوسرا درس*
*حدیث من مات*
*دعائے عہد کی تشریح*
*اور عقیدہ امامت کی تکمیل*
*_استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب💐_*
*تیسرا درس : معرفت امام مہدی عج کے مراحل*
*دعائے معرفت کی اہمیت اور تشریح*
*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
چوتھا درس
معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت
معاشرتی رو سے
سیاسی رو سے
استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
پانچواں درس
معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت
تاریخی اور ثقافتی رو سے
استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
چھٹا درس
ثقافتی رو سے ضرورت معرفت امام زمان عج
مہدویت میں کونسی چیز کا جاننا ضروری اور کس کا جاننا ضروری نہیں ہے
آیا ظہور کے وقت قتل عام ہوگا؟
ملاقات امام زمان عج اور امام کی شادی اور دیگر موضوعات پر جائزہ
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🚩
عالمی مرکز مہدویت قم
First 6 Lessons Completed in this Part
نواں درس: امام کی صفات
علم امام
عصمت امام
حدیث ثقلین کی تشریح
استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 💚
👆🏻
مقدمہ
جیسا کہ ہم کہ جانتے ہیں کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان موضوع امامت کے تحت صرف تین مسئلوں میں اختلاف ہے
١۔ پہلے یہ کہ امام کا تعین و انتخاب، خدا کی جانب سے ہو۔
٢۔ دوسرے یہ کہ امام ملکۂ عصمت سے آراستہ ہو۔
٣۔ تیسرے یہ کہ علم لدنی کا مالک ہو،
عصمت امام ۔
منصب امامت کا الٰہی ہونا اور حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا خدا کی جانب سے منصب امامت پر فائز ہونے کے اثبات کے بعد ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کو اِس آیت کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
'' لَا ینالُ عَہدِ الظَالِمِینَ''(١)
یعنی منصب امام صرف انھیں حضرات کے لئے سزاوار ہے جو گناہوں سے آلودہ نہ ہوں۔
اس کے علاوہ آیہ ''اولوا الامر'' (٢)جو امام کی اطاعت کو مطلق قرار دیتی ہے اور امام کی اطاعت کو آنحضرت ۖ کی اطاعت کے مساوی قرار دیتی ہے، اُس کے ذریعہ بھی ائمہ علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں امام کی اطاعت کو اطاعت خدا کے خلاف قرار نہیں د یا جا سکتا لہٰذا او لوالامر یعنی امام کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
اسی طرح ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کوآ یہ تطہیر سے بھی ان کا معصوم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے:
( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذہِبَ عَنکُمُ الرِجسَ اَہلَ البَیتِ وَ یُطَہِّرَ کُم تَطہِیراً)(٣)
اے اھل بیت !(رسول) خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی ) برائی سے دوررکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ایسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔
بندوں کی تطہیر کا ارادۂ تشریعی، کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کے سلسلہ میں خدا کا ارادہ، ارادۂ تکوینی ہے کہ جس میں اراد کا ارادہ کرنے والے (خدا ) سے تخلف ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
( اِنَّمَا اَمرُہُ اِذَا اَرَادَ شَیٔاً اَن یَقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ).(٤)
پس تطہیر مطلق اور کسی بھی قسم کی نجاست اور پلیدی سے دورری عین عصمت ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانو ںمیں سے کوئی بھی فرقہ آنحضرت ۖ کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا قائل
………………………………………
(١) سورۂ بقرہ آیت ١٢٤.
(٢)سورہ نسا۔آیت٥٩
(٣) سورۂ احزاب آیت ٣٣
(٤) سورۂ یس ٨٢.
نہیں ہے فقط شیعہ فرقہ ہے جو حضرت زہراء علیہا السلام اور بارہ اماموں کی عصمت کا قائل ہے۔( ١)
اس مقام پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ اس آیت کے سلسلہ میں وہ روایتیں جو نقل ہوئیں ہیں، ان میں سے اکثر کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اِس بات پردلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت ،خمسہ طیبہ کے سلسلہ میںنازل ہوئی ہے۔(٢)
شیخ صدو ق حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول خدا ۖ فرما یا: اے علی! یہ آیت تمہارے اور حسن و حسین علیہم السلام اور تمہار ی نسل سے ہونے والے اماموں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ،میں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے تو آپ ۖ نے فرمایا: اے علی! تم ہوگے پھر حسن اور پھر حسین اور حسین کے بعد علی بن الحسین اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد جعفر بن محمد اس کے بعد موسیٰ بن جعفر اس کے بعد علی بن موسیٰ اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد علی بن محمد اس کے بعد حسن بن علی اور پھر حسن کے فرزند حجت خدا امام ہوں گے۔
اس کے بعد فرمایا: کہ یہ اسماء اسی ترتیب سے ساحت عرش پر لکھے ہوئے ہیں، اور جب میں نے ان اسماء کو دیکھا تو خدا سے سوال کیا کہ یہ اسماء کس کے ہیں! تو خدا نے فرمایا:اے محمد ۖ یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں کہ جنھیں پاک قراردیا گیا ہے اور وہ معصوم ہیں نیز ان کے دشمنوں پر بے شمار لعنت کی گئی ہے۔(٣)
ان آیتوں کے علاوہ حدیث ثقلین جس میں آنحضرت ۖ نے ائمہ ا طہار علیہم السلام کو قرآن کے مساوی قرار دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ دونوں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت پر ایک روشن دلیل ہے، اس لئے کہ ایک معمولی خطا کا بھولے سے بھی سرزد ہوجانا قرآن عملی مفارقت کا سبب ہوگا۔
………………………………………………
(١) مزید وضاحت کے لے تفسیر المیزان اور کتاب ''الامامة والولایة فی القرآن''. کی طرف رجوع کیا جائے
(٢) غایة المرام ص ۔٢٨٧ ٢٩٣.
(٣) غایة المرام (ط قدیم) ۔ج،٦۔ ص ٢٩٣
علم امام۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ ا طہار علیہم السلام لوگوں کے مقابلہ میں علمی اعتبار سے بہت بلند مقامات کے حامل تھے جیسا کہ نحضرت ۖ نے فرمایا:
(لَا تُعَلِّمُوہُم فَاِنَّہُم اَعلَمُ مِنکُم)
انھیں تعلیم نہ دو اس لئے کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ جاننے والے ہیں(١)
مخصوصاً حضرت علی علیہ السلام جو بچپنے سے رسول اللہ ۖ کے سائے میں رہے اور آپ ۖ کی آخری سانسوں تک آپ کے علوم سے مستفید ہوتے رہے، جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے خود فرمایا:
( اَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِّ بَابُہَا) (٢)
میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔
اس کے علاوہ خود امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
( اِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ۖ عَلَّمَن اَلفَ بَابٍ وَ کُلُّ بَابٍ یَفتَحُ اَلفَ بَابٍ فَذَلِکَ
اَلفَ اَلفَ بَاب حَتَّی عَلِمتُ مَاکَانَ وَ مَایَکُونُ اِلی یَومِ القِیَامَةِ وَ عَلِمتُ عِلمَ المَنایا وَ البَلایا وَ فَصلَ الخِطابِ)(٣)
………………………
(١) غایة المرام ۔ص،٢٦٥ اصول کافی۔ ج ١' ص٢٩٤
(٢)مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ٢٢٦قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ ایک سنی عالم نے ایک کتاب بنام
''فتح الملک العلی بصحة حدیث مدینة العلم علی'' نے لکھی جو ١٣٥٤ میں قاہرہ میں چھپی ہے
(٣) ینابیع المودہ۔ ص٨٨ اصول کافی ۔ج ١ ص،٢٩٦
یعنی رسول اللہ ۖ نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار ہزار باب کھولے جو مجموعاً ہزار ہزار باب (دس لاکھ باب ) ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اُن سب سے میںباخبرہوگیا ، اموات و آفات کے اسرار کا میں عالم اور 'عدل کے ساتھ حکم کرنا'' کا مالک ہوں۔
لیکن علوم آ ل محمد ۖ صرف اُن علوم پر منحصر نہیں ہے کہ جسے واسطہ کے ساتھ یا واسطہ کے بغیر انھوں نے آنحضرت ۖ سے حاصل کیا ،بلکہ ائمہ اطہار علیہ السلام غیر عادی علوم سے بھی سرفراز تھے جس سے بصورتِ الہٰام باخبر ہوجاتے تھے(١) بالکل اسی طرح کہ جیسے جناب خضر، جناب ذوالقرنین، (٢)حضرت مریم اورجناب موسیٰ کی والدہ پر افاضہ ہوا کرتا تھا(٣) جن میں سے بعض کو قرآن نے وحی سے تعبیر کیا ہے لیکن یہاں وحی سے مراد وحی نبوت نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض ائمہ علیہم السلام بچپنے میں مقام امامت پر فائز اور دوسروں سے تعلیم حاصل کرنے سے بے نیاز ہوتے تھے۔
یہ مطلب ان روایتوں کے ذریعہ ثابت ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئیں ہیں جن کی حجیت آپ لوگوں کی عصمت سے ثابت ہے، لیکن ان میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کرنے سے پہلے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ضروری ہے جس میں بعض افراد کو'ومن عندہ علم الکتاب' (٤) کے عنوان سے آنحضرت ۖ کی حقانیت پر بہ طور شاھد پیش کیا گیا ہے، اور وہ آیت یہ ہے
( قُل کَفَی بِاللّہِ شَہِیداً بَینِ وَ بَینَکُم وَمَن عِندَہُ عِلمُ الکِتَابِ)(٥)
آپ کہہ دیں کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان شہادت اور گواہی دینے کے لئے کافی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کافی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے۔
…………………………………
(١) اصول کافی۔ کتاب الحجہ۔ ٢٦٤ ٢٧٠
(٢)اصول کافی ۔ج ١، ص ٢٦٨
(٣) سورۂ کہف۔ ٦٥ ٩٨ آل عمران ۔٤٢، مریم ١٧' ٢١ طہ۔ ٣٨ قصص۔٧
(٤) سورۂ رعد۔ ٤٣
(٥)سورۂ رعد ۔٤٣
پس اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ شخص جس کی گواہی خدا کی گواہی کے برابر ہو، اور علم الکتاب سے آراستہ ہو ، وہ کمالات کے عظیم درجات پر فائز ہوگا ۔
ایک دوسری آیت میں اسی شاہد کی طرف اشارہ کیا ہے:
(َفَمَن کَانَ عَلی بَیِّنَةٍ مِن رَبِّہِ وَ یَتلُوہُ شَاہِد مِّنہُ)(١)
تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہو
اس آیت میں(مِنہُ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شاہد رسول اللہ ۖ کے خاندان اور آپ کے ا ہل بیت سے ہے، اہل تشیع و تسنن کی طرف سے نقل ہونے والی روایتوں کے مطابق اس شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
منجملہ ابن مغازلی شافعی نے عبد اللہ بن عطا سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ''عبد اللہ بن سلام ( آنحضرت ۖکے دور میں اہل کتاب کے بزرگ علماء میں سے تھے) کے فرزند ہمارے سامنے سے گذرے تو میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ومن عندہ علم الکتاب.سے مراد اس شخص کے والد ہیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا نہیں،بلکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور آیہ ''
(وَیَتلُوہُ شَاہِد مِنہ) اور آیہ (اِنَّما وَلِیُکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا) (٢)
(اے ایماندارو)تمارے مالک و سرپرست بس یہی ہیں ۔ خدا اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اسی طرح بہت سی روایتوں کے مطابق جو شیعہ اور سنی اسناد کے (٣) مطابق وارد ہوئی ہیں، سورۂ ہود میں ''شاہد'' سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں،
…………………………………
(١) سورۂ ہود۔ آیت/ ١٧
(٢) سورۂ مائدہ۔ آیت /٥٥
(٣)غایة المرام (ط قدیم) ٣٥٩.٣٦١
لہٰذا ''منہ'' سے مراد امام علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
علم الکتاب کے حامل ہونے کی اہمیت اُس وقت آشکار ہوگی کہ جب ہم جناب سلیمان علیہ السلام کے حضور میں تخت بلقیس کے حاضر کرنے کی داستان کا مطالعہ کریں:
( وَقَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِنَ الکِتَاب أَناَ آتِیکَ بِہِ قبَلَ ن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُکَ)( ١)
یعنی جس کے پاس کتاب کا ایک مختصر علم تھا اس نے کہا کہ میں تخت بلقیس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یہاں حاضر کروں گا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الکتاب کے ایک حصہ سے باخبر ہونا ایسے حیرت انگیز امورکا باعث ہے، پس تمام علم الکتاب سے متصف ہونا کیسے عظیم اثرات کیرونما ہونے کا سبب ہوسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے ''جناب سدیر'' سے نقل ہونے والی روایت میں فرمایا ہے، سدیر کہتے ہیں کہ میں،، ابو بصیر، یحییٰ بزاز اور دائود بن کثیر جو امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرت بڑے غضب کے عالم میں وارد مجلس ہوئے فرمایا: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیںکہ ہمارے پاس علم غیب ہے، حالانکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب سے واقف نہیں ہے میں اپنی کنیز کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ فرار ہوگئی جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حجرہ میں مخفی ہے۔(٢)
……………………
(١) سورۂ نمل۔آیت ٤٠
(٢) اس حدیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ باتیں نامحرموں سے کہی ہیں، اور یہ نکتہ معلوم رہے کہ وہ علم غیب جو خدا سے مخصوص ہے اس سے مراد وہ علم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے سائل کے سوال کے ( کیا آپ علم غیب کے مالک ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ '' انما ہم تعلم من ذی علم '' وگرنہ ا نبیاء اور اولیاء الٰہی وحی اور الہٰام کے ذریعہ علوم غیبی سے واقف تھے، مادر حضرت موسیٰ کے لئے خدا کی جانب سے الہٰام انھیں مقامات میں سے ایک ہے کہ جس کے لئے شک نہیں کیا جاسکتا ۔
'' انا رادہ الیک و جاعلوہ من المرسلین'''' قصص ٧٠''.
سدیر کہتے ہیں: جب امام علیہ السلام اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی ابو بصیر اور میسر کے ساتھ آنحضرت کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں میں نے حضرت علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم آپ پر قربان جائیں آپ نے جو کچھ اپنی کنیز کے سلسلہ میں فرمایا، اسے ہم نے تسلیم کیا اور ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ آپ بے شمار علوم کے مالک ہیں نیز کبھی بھی آپ کے سلسلہ میں علم غیب کا دعوی نہیں کرتے۔
ا مام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سدیر! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں،، تو آپ نے فرمایا کہ کیا اِس آیت کی تلاوت نہیں کی ہے:
(قَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِن الکِتَابِ اَنَا آتِیکَ بِہِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اَلِیکَ طَرفُکَ)
وہ شخص ( آصف بن برخیا ) جس کے پاس کتاب خدا کا کچھ علم تھا بولا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا ۔
تو میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ شخص کتاب میںسے کس قدر علم کا مالک تھا؟ تو میں نے کہا کہ آپ ہی فرمائیں، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک عظیم سمندر سے صرف ایک قطرہ کے برابر، اس کے بعد فرمایا کہ کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے؟ (قل کفی باللہ شہیداً بین و بینکم ومَن عندہ علم الکتاب)
میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بتائو وہ شخص افضل ہے جو تمام کتاب کے علم سے واقف ہے یا وہ شخص جو صرف کتاب کا ایک حصہ جانتا ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا خدا کی قسم تمام کتاب کا علم ہما رے پاس ہے(١) اب اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے علوم کو بیان کرنے والی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
………………………………
(١)اصول کافی۔ ج١ ص٢٥٧(طبع دار الکتب الاسلامیہ).
امام رضا علیہ السلام، امامت کے سلسلہ میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں : جب خدا کسی کو لوگوں کے لئے منتخب کرتا ہے تو اسے سعہ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری اور اُسے علم کی دولت سے آراستہ کردیتاہے تا کہ وہ سوالات کے جوابات دے سکے ،اور حق کو پہچاننے میں سرگردان نہ ہو، چنانچہ ایسا شخص معصوم، خدا کی طرف سے تائید شدہ اور خطائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔
در اصل خدا، اِس لئے اس کو یہ خصلتیں عطا کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں پر حجت تمام کر سکے لھذایہ ایک عطیہ ہے جسے خدا پسند کرتا ہے ا ُسے عطاء کرتا ہے
ا سکے بعد فرمایا کیا عوام میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے شخص کو پہچان کر اسے منتخب کرلیں، اور جب وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا وہ شخص ایسی صفات کا مالک ہوتا ہے ؟! (١)
حسن بن یحییٰ مدائنی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب امام سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح جواب دیتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے میں فرمایا: کبھی اُس پر الہٰام ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ سے سنتا ہے اور کبھی دونوں ایک ساتھ (٢) واقع ہوتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''وہ امام جسے معلوم نہ ہو کہ اس پر کیسی مصیبت آنے والی ہے اور اس کا انجام کیاہوگا تو وہ بندوں پر خدا کی حجت نہیں ہوسکتا۔(٣)
ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی امام کسی چیز کے متعلق جانناچاہتا ہے تو خدا اُس سے باخبر کردیتا ہے۔(٤)
…………………………
(١)اصول کافی۔ ج١ ص ١٩٨ ٢٠٣.
(٢)بحار الانوار ۔ج٢٦ ص٥٨.
(٣)اصول کافی ۔ج١ ص١٥٨.
(٤)اصول کافی ۔ج١ص ٢٥٨.
اسی طرح آپ کی جانب سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میںآیا ہے کہ روح، جبرئیل و میکائیل سے عظیم تر مخلوق ہے جو رسول اللہ ۖ کے پا س تھی، اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کی طرف منتقل ہوگئی جن سے ان کی مدد ہوتی ہے۔(١)
………………………………
(١) اصول کافی ج١ص ٢٧٣.
حدیث ثقلین رسول اللہ کی ایک مشہور اور متواتر حدیث ہے جو فرماتے ہیں: "میں تمھارے درمیان میں اللہ کی کتاب (یعنی قرآن) اور عترت یا اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ قرآن اور اہل بیت قیام قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے"۔
یہ حدیث تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ ہے اور شیعہ اور سنی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔
شیعہ اس حدیث کے سہارے لزوم امامت اور ائمہ کی عصمت اور تمام زمانوں میں امامت کے دوام اور تسلسل کا ثبوت دیتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں