Course 3 𝔹𝕠𝕠𝕜 1 Sadia
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
*کتاب غیبت نعمانی*📚
First 6 Lessons
درس: 1
✨موضوع درس:
شخصیت نعمانی، مقدمہ کتاب ، شک و تردید در اوائل غیبت ، فلسفہ غیبت اور علل شک و تردید
* 🎤استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*قدیم ترین منبع :*
شیخ صدوقؒ کی کتاب کمال الدین اور دوسری کتاب جناب عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفرنعمانی کی کتاب غیبت نعمانی ہے۔ یہ دونوں کتابیں اوائل غیبت کبریٰ کے اندر لکھی گئیں ہیں اور دونوں قدیم منابع ہیں۔ اور دونوں کتابیں مستند ہیں۔
*کتاب غیبت نعمانی:*📚
کتاب غیبت نعمانی کے کاتب جناب عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر الکاتب نعمانیؒ ہیں۔ ان کو نعمانی اس لیے کہتے ہیں کہ بعض علماء کرام یہ کہتے ہیں کہ یہ مصر کے شہر نعمانیہ سے تھے اس لیے انہیں نعمانی کہتے ہیں لیکن ہمارے اکثرمحققین یہ کہتے ہیں کہ یہ عراق کے اندر ایک علاقہ نعمانیہ ہیں جہاں سے ان کا تعلق ہے اس لیے ان کو نعمانی کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے اصول کافی کی کتابت کی اس لیے کاتب مشہور ہو گئے۔ اصل میں محقق کلینیؒ کے شاگردوں میں سے ہیں اور انہوں نے سب سے زیادہ انہی سے استفادہ کیا۔ ہم جو اصول کافی کی کتابت دیکھ رہے ہیں یہ انہوں نے کی ہے۔
البتہ علمی حلقوں کے اندر ابن ابی زینبؒ کے نام سے زیادہ مشہور رہے ہیں۔
*شخصیت نعمانیؒ:*
غیبت نعمانی جناب عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر الکاتب نعمانیؒ کی ابتدائی کتابوں میں سے ہے۔ اور انہوں نے یہ کتاب شیخ صدوقؒ سے پہلے لکھی ہے۔ البتہ شیخ صدوقؒ نے انہی وجوہات کی وجہ سے کمال الدین لکھی ہے جو وجوہات انہوں نے بیان کئیں ہیں۔
*لیکن* ! ان کو الویت اس لیے ہے کہ یہ شخصیت کے اعتبار سے بھی پہلے کے ہیں اور ان کی کتاب بھی پہلے لکھی گئی اور ان کی تاریخ وفات 360 ھجری میں ہوئی ہے جب کہ شیخ صدوقؒ کی وفات 381 ھ میں ہوئی تو یہ اکیس سال قبل وفات پاگئے اس لیے زمانے کے اعتبار سے بھی ان کو تقدم حاصل ہے۔ اور ان کی کتاب غیبت نعمانی 342 ھ میں یہ کتاب تالیف ہوئی ہے۔ تو اس حوالے سے یہ ہمارے پاس قدیم ترین منبع ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد ہمارے پاس معروف کتاب کمال الدین آتی ہے۔ اس کتاب کا متن چھبیس ابواب میں لکھا گیا ہے البتہ جو ترتیب ابن ابی زینبؒ نے اختیار کی ہم اسے اس ترتیب کو اختیار نہیں کریں گے بلکہ اس کتاب کو جدید روش کے مطابق تقسیم کریں گے۔ یعنی اس کتاب کو ایک منطقی ترتیب دیں گے اور ایک موضوع سے متعلق معلومات کو اکھٹا کریں گے۔
*آغا نعمانی کے حوالے سے شیخ نجاشی کہتے ہیں:*
شیخ من اصحابنا، عظیم القدر، شریف المنزلتہ، صحیح العقیدۃ، کثیر الحدیث
"وہ ہمارے مذہب کے جید و بزرگ عالم، جلیل القدر، صاحب مقام و مرتبہ ، صحیح العقیدہ اور بہت بڑے محدث تھے۔ "
اسی طرح ان کو متکلم کہا کیونکہ ان کے بعض آثار ان کے کلام میں ہیں۔
جیسے اس زمانے میں اسماعیلیہ فرقے کا بہت زور تھا تو انہوں نے اس زمانے میں اسماعیلیہ پر پوری کتاب لکھی "الرد علی الاسماعیلیۃ"۔ اور خود الغیبت کے اندر بھی ایک باب اسماعیلیہ کے خلاف ہے۔ ان کے آثار علوم قرآن میں بھی ہیں۔ یہ محدث اپنی جگہ ہیں اور ان کے آگے اپنے بھی شاگرد تھے۔
*علامہ مجلسیؒ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ فقہی بزرگ ، فاضل کامل، صاحب تقویٰ اور صاحب منزل شخصیت تھے۔ ان کی آخری زندگی شام کے شہر حلب میں گذری اور ان کی قبر بھی شام میں ہے۔* 🌺
*کتاب الغیبت کے ابواب کی ترتیب جدید روش کے مطابق:* 🫴
اس کتاب کے چھبیس ابواب ہیں آغاز کے نو ابواب اور باب نمبر پچیس کی ساری ابحاث مقدماتی ہیں۔ یعنی یہ ابحاث خود امام مہدیؑ کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ امامت کے موضوع پر ہیں۔ اور ان کو تمہیدی ابحاث کہا جاتا ہے۔
👈 تیرواں اور تئیسواں باب مولاؑ عج کی سیرت اور صفات کے بارے میں ہے۔
👈باب نمبر 10، 11، 12 غیبت اور انتظار کے موضوع پر ہیں۔
👈باب نمبر14، 15، 16، 17 اور 18 موضوع علامات ظہور، قبل از ظہور کے حالات اور مسائل پر ہیں۔
👈19، 20، 21 22، 26 آغاز قیام ، کیفیت ظہور، عصر ظہور کے حالات اور مدت حکومت
چھٹے نمبر پر ہم باب نمبر24 پڑھیں گے جو بحث مہدویت سے خارج ہے۔ یہ اسماعیل کی امامت کا بتلان اور جناب امام موسیٰ کاظمؑ کی حقانیت ہے البتہ اس کو لانے کی وجہ یہ تھی کہ اسماعیلیہ اس دورمیں بہت شور و غل کر رہے تھے اور وہ تشیہو کو گمراہ کر رہے تھے اور بنی عباس کے آخر میں انہوں نے مصر میں اپنی فاطمی حکومت بھی بنا دی تھی۔ ان میں فرقے بھی بنے لیکن ان کا اہم مسئلہ یہ بھی تھا کہ آج کے دور کے داعش اور طالبان کی طرح یہ عالم اسلام کی اہم شخصیات کا قتل عام بھی کر رہے تھے۔ اور خلاصہ یہ ہے کہ جناب نعمانی نے ان کی رد میں بھی ابواب ترتیب دیے۔
*کتاب کا مقدمہ:*
یہ مقدمہ اتنا اہم ہے کہ پوری کتاب کا نچوڑ ہے۔ یہ ایک علمی مقدمہ ہے کہ جس میں انہوں نے اپنی کتاب کو لکھنے کی وجوہات اور کتاب کے اہم ترین مطالب کی جانب اشارہ کیا۔
مقدمے کہ آغاز میں ثنائے حمد پروردگار کے بعد ذکر محمد و آل محمد کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے زمانے کے حالات کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔
*شک و تردید در اوائل غیبت:*
فرماتے ہیں کہ:
ہم شیعہ لوگ کہ جو کہ محمدؐ و آل محمدؑ کے چاہنے والے ہیں اور ہم جو ان کے وفادار لوگ ہیں اور ہم جو نماز پڑھتے اور زکوۃٰ دیتے ہیں اور یہاں سے بیان کرتے کرتے اس نقطے پر پہنچتے ہیں کہ یہ جو امام حسن عسکریؑ کے بعد شیعوں میں گمراہی پیدا ہوئی ہے۔ اور یہ ایک عجیب دور ہے کیونکہ کبھی بھی شیعوں میں ایسا تذلذل والا دور نہیں گزرا کہ جو امام عسکریؑ کی شہادت کے بعد امام زمانہ کے دور غیبت صغریٰ یعنی آغاز امامت امام زماں عج میں گذرا ہے۔ اور غیبت صغریٰ کا فلسفہ بھی یہی ہے
*بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیوں دو غیبتیں ہیں یعنی غیبت صغریٰ اور کبریٰ؟*
*اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اصل میں ایک ہی غیبت تھی لیکن غیبت صغریٰ درواقع عصر غیبت میں داخل ہونے کی تمہید ہے۔*
شعیوں کو اپنے گیارہ آئمہ سے برائے راست رابطے کی عادت تھی۔ اب ایک دم یہ برائے راست رابطہ ختم ہوجانا اور امام زمانہؑ عج کا رابطہ فقط خواص کے ساتھ تھا ۔ عوام الناس کو تو علم ہی نہ تھا۔ حتہ کہ عام علمائے کرام بھی آپ کے وجود مبارک سے مطلق نہیں تھے۔ تو اب ایک عجیب اضطراب پیدا ہوا کہ امام کہاں ہیں کیونکہ زمین تو حجت خدا سے خالی نہیں ہے۔ اور اب امام زمان عج کہاں ہیں اور پھر جعفر کذاب کے دعوے تھے اور بھی بہت سارے عناصر ایک عجیب اضطراب کا باعث بنے اور ایک تذلذل والا دور شیعوں میں رہا۔
یہ غیبت صغریٰ کا دور اسی لیے تھا تاکہ شیعوں کو نائبین امامؑ عج کی جانب متوجہ کیا جائے کہ ان کی تائید کریں اور امام زمان عج کی سری ملاقاتیں اسی جہت سے تھی تاکہ شعیوں کو اس دور تذلذل سے نکالا جائے اور غیبت کبریٰ میں داخل کیا جائے۔
پھر بھی نواب اربعہ کی کاوشوں کے باوجود بہت بڑے بڑے علما عقائد میں تذلذل کا شکار ہوگئے جس کی ایک مثال شلغمانی ہے۔ جو غیبت صغریٰ کے منحرف فقہا میں سے تھا۔
اب یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ آغا نعمانیؒ اور شیخ صدوقؒ جیسی شخصیات موضوع غیبت کی تالیف کتاب کے حوالے سے مجبور ہوئیں۔ اور غیبت صغریٰ کے بعد کتاب لکھی گئی ہے۔ اور یہ کتاب بتا رہی ہے کہ 329 ھ میں آخری نائب خاص علی محمد سمریؒ وفات پا چکے ہیں لیکن شیعوں کا تذلذل اور اضطراب ختم نہیں ہو رہا تھا۔
اب اسی زمانے کے حالات کی شکایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
شعیہ جو اتنے پابند اور معتقد ہیں پھر بھی یہ مختلف مکاتب اور مذاہب میں تفرقے کا شکار ہو گئے۔
شیخ صدوقؒ کے والد جناب *علی بن بابویہ قمیؒ* نے اس دور کے حوالے سے کتاب لکھی الامامہ التبصرہ ولاحیرہ میں اس دور کے حالات اور غیبت کے بارے میں جو احادیث اور مولا ؑ عج کی غیبت کی جانب اشارہ کیا۔ یہ اوائل غیبت صغریٰ میں لکھی گئی تھی۔ (ہمارے پاس یہ کتاب مکمل موجود نہیں)۔ انہوں نے یہی کوشش کی تھی جو جناب نعمانیؒ نے کی ۔ چونکہ اوائل غیبت میں لوگ امام زمانہؑ عج کے موضوع پر حیران و پریشان تھے اور مختلف فرقوں کا شکار ہو چکے تھے تو اس وقت انہوں نے اہم ترین کام کیا کہ راہ حق کو دکھایا اور امامت اور غیبت کے موضوع پر روایات کو جمع کیا اور باطل فرقوں کو رد کیا۔
*کتاب الامامہ التبصرہ ولاحیرہ* 📚 ہم تک تو مکمل نہیں پہنچی لیکن جن شخصیات نے اس کتاب سے استفادہ کیا وہ شیخ صدوقؒ اور جناب کاتب نعمانیؒ ہیں۔
اور اس کتاب کے بعد جو پہلا منبع ہم تک پہنچا وہ الغیبت ہے۔ جسے ہم پڑھ رہے ہیں۔
جناب نعمانیؒ یہاں شعیوں کی گمراہی کا ذکر کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آج ہم بہت اچھے دور میں ہیں اور ہمارے لیے بہت سی چیزیں واضح ہیں لیکن اگر ہم ایک ایسے دور کا تصور کریں کہ جب بنی عباس کی حکومت ہو اور وہ پہ در پہ ہمارے آئمہؑ کو شہید کر رہے ہوں اور ہمارے امام رضاؑ کے بعد چار آئمہؑ نے زندگی نظر بندی کی کیفیت میں گذاری ہو اور اسی دوران امام زمانہؑ عج کا دنیا میں آنا اور خواص کا صرف ان کو دیکھنا۔۔۔ چونکہ چند لوگ تھے کہ جنہوں نے امام زمانہؑ عج کو دیکھا تھا جیسے احمد ابن اسحاق اور سعد بن عبداللہ نے دیکھا اور بعض روایات میں چالیس علمائے کرام کے گروہ نے دیکھا کہ جن کو امام عسکریؑ نے اپنے آخری ایام میں زیارت کروائی اور فرمایا کہ آج کے بعد انہیں نہیں دیکھو گے اور میرے بعد یہ حجت خدا ہیں۔
امام حسن عسکریؑ کی عمر مبارک 28 برس کی تھی اور 260 ھ میں ان کی شہادت ہوئی تو حکومت بنی عباس نے پہلے مرحلے کے اندر جو اقدام کیے وہ یہ تھے کہ:
امام عسکریؑ کی اولاد کو ڈھونڈا جائے چونکہ امام زمانہؑ نے پانچ سال کی عمر میں اپنے بابا کا جنازہ پڑھا تھا اور بنی عباس پر یہ انکشاف ہو چکا تھا کہ امام عسکری کا ایک فرزند ہے۔ تقریباً سات سال تک امام زمانہؑ عج کو یہ حکومت ڈھونڈتی رہی۔ یہ دور شیعوں پر بہت سخت تھا کہ بہت سخت قسم کا تشدد اور شکنجہ کیا جاتا تھا۔
*لیکن* ! *سات سال کے بعد کیا ہوا؟*
امام حسن عسکریؑ کی جو میراث امام زمانہؑ عج کی والدہ اور جعفر میں تقسیم ہوگئی یعنی امام زمانہؑ عج کا کوئ حصہ ہی نہیں تھا اس میں۔
اسوقت جعفر نے اس چیز سے استفادہ کیا اور اپنی امامت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور شعیوں کی ایک تعداد کو اپنے گرد جمع کیا۔ اور جعفر کی اس کوشش کا نتیجہ جو نکلا وہ یہ تھا کہ شیعہ اضطراب کا شکار ہوگئے۔
مثلاً ہم یہ دیکھتے ہیں کہ امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد قم سے ایک کاروان سامرہ پہنچا اور جب وہ پہنچتے ہیں اور ان کو جب معلوم ہوا کہ گیارویں مولاؑ شہید ہو چکے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ امام کون ہے تو شیعوں کے ایک گروہ نے جعفر کے بارے میں بتایا اب جب انہوں نے جعفر کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جعفر ایک کشتی لے کر سیر کے لیے گیا ہوا ہے اور اس کشتی میں اس کے ہمراہ شراب اور موسیقی موجود تھی یعنی یہ اس قدر فسق وفجور میں مبتلا تھا۔
اس کاروان میں ایک بہت بڑی ہستی تھی کہ جن کا نام ابوالعباس تھا وہ بڑی حیران ہوئے اور بعض نے کہا کہ یہ ہمارا امام نہیں ہم کیسے اس شخص کے سپرد لوگوں کے اموال، امانتیں اور خطوط کریں جب کہ یہ توامام کی صفات نہیں رکھتا۔
ابوالعباس نے کہا کہ آپ سب پریشان نہ ہوں اور اسے آنے دیں۔ جب جعفر آیا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تو امام ہے کہا کہ ہاں میں امام ہوں کہا اچھا ہم لوگوں کے اموال اور خطوط تیرے سپرد کرتے ہیں۔ کہا کہ ٹھیک ہے مجھے دو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے نہیں دیں گے کیونکہ جب ہم یہ ساری چیزیں بارگاہ امام حسن عسکریؑ میں لے کر آتے تھے تو اس سے پہلے ہم وہ مال ان کو دیں وہ اس مال کے بارے میں ساری معلومات بتاتے تھے کہ کس نے کتنا مال بھیجا ہے۔
اب جعفر نے کہا کہ تم میرے مرحوم بھائی کی طرف علم غیب کی نسبت دیتے ہو۔ اب جعفر خلیفہ عباسی معتمد قاتل امام عسکریؑ کے پاس جاتا ہے اور اس کے ذریعے ان سے اموال لینے کی کوشش کرتا ہے۔ تو خلیفہ ان کو بلاتا ہے کیونکہ جعفر کا کذب خلافت عباسیہ کی ہی سازش تھی یعنی شیعوں کو مختلف گرپوں میں توڑنا۔
اب خلیفہ نے ان لوگوں کو بلایا۔ اور کہا کہ مال اس کے حوالے کیوں نہیں کرتے تو جعفر نے کہا کہ یہ ہم آل محمد کی طرف علم غیب کو نسبت دیتے ہیں اور جھوٹے ہیں۔ حالانکہ میرے بھائی ایسے نہیں تھے۔
اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ہی تھے اور ہمیں جو شیعوں نے مال دیا ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ امام کے سپرد کرنا اور امام کی یہ نشانی ہے کہ وہ اس مال کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ تو اب خلیفہ بنی عباس بھی وہاں مجبور ہوجاتا ہے۔
اور کہتا ہے کہ اے جعفر اگر تیرے اندر یہ شرائط موجود ہیں تو تو ہی امام ہے ورنہ میں اس میں مداخلت نہیں کرتا ۔
اب جب یہ لوگ واپس پلٹنے لگتے ہیں تو ان کو بغداد کے باہر ایک غلام ملتا ہے اور کہتا ہے کہ امام زمانہؑ عج فلاں جگہ پر تشریف فرما ہیں اور تمھارے پاس فلاں فلاں اموال ہے۔ تب یہ لوگ اس غلام کے ساتھ مولاؑ عج کی خدمت میں جاتے ہیں۔ تو امام اسی طرح کہ جس طرح امام عسکریؑ کی زندگی کا طریقہ کار تھا۔ امام زمانہؑ عج بھی ان کو بتا دیتے ہیں کہ تمھارے پاس فلاں فلاں شخص اموال اور خطوط ہیں۔ اور اس پر وہ کاروان والے سجدہ شکر کرتے ہیں کہ ہم نے امام وقت عج کی زیارت کی ہے۔
یہ غیب صغریٰ میں تھا کہ غیبت تھی لیکن زیارت ہو رہی تھی۔
*غیبت صغریٰ میں دو چیزیں تھیں۔* 🫴
۔ جب ضرورت پڑتی تھی تو امامؑ عج کی زیارت ہوتی تھی
۔ امامؑ عج کو خطوط لکھے جاتے تھے۔ یہ اریضہ انہی غیبت صغریٰ کے خطوط کی رسم ہے۔ اور شیعوں کو اپنے مولاؑ سے خط و کتابت کی عادت تھی۔ اب جب غیبت کبریٰ میں یہ سلسلہ بند ہو گیا تو لوگوں نے وہ خطوط دریا اور کنویں میں ڈالنے شروع کر دیے۔
امام ؑ عج نے اس کاروان والے لوگوں سے فرمایا کہ آج تم نے مجھے دیکھ لیا اور حجت تمام ہوگئی لیکن اس کے بعد میں تمھیں نظر نہیں آؤں گا۔ اور اب اگر تم اموال اور خطوط لے کر آؤ تو بغداد میں فلاں شخص میرا نائب ہے۔ یعنی یہاں پر عثمان بن سیعدؒ کا حوالہ دیا کہ آج کے بعد تم یہ اموال و خطوط ان کے حوالے کرنا۔
یہاں پر دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ مولاؑ عج کے نائبین کی کرامات بھی ایسی ہی ہیں کہ جب ان کے پاس قافلے جاتے تھے تو یہ سارے اموال جب ان کے حوالے کرتے تھے اور اگر کوئی کچھ دینا بھول گیا ہے تو یہ ان کو بتاتے تھے کہ آپ نے فلاں شخص کے اموال اور خطوط نہیں دیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جعفر کی کذب والی صورت حال کا ذکر جناب بابویہؒ نے اپنی کتاب میں اور شیخ صدوقؒ اور کاتب نعمانیؒ نے اپنی کتابوں میں یہ ذکر کیا ہے کہ شیعہ اس دور میں کتنے پریشان تھے۔
*شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں کہ:* 🌺
شعیہ اثنا عشری کے تقریباً 14 فرقوں میں تقسیم ہو گئے کہ جس میں تین فرقوں کا مہدیؑ عج پر یقین تھا باقی تمام فرقے یقین چھوڑ چکے تھے۔ مثلاً بعض شیعہ جعفر کے قائل ہوگئے اور بعض نے کہا کہ امام عسکریؑ ہی گویا امام حق نہیں تھے وہ امام ھادیؑ کے فرزند سید محمد ٹھیک تھے اور اس کا آگے جو بیٹا ہے وہ بارواں ہے۔ اور اس طرح وہ پیچھے چلے گئے اور امام ھادیؑ کے دوسرے بیٹوں سے نسبت دیتے ہوئے کتنے ہی فرقے بن گئے۔
شعیوں کے اندر تو یہ حالت تھی اور اسی دوران معتزلہ، اہل حدیث اور زیدیہ فرقے نے بھی فریب دینا شروع کر دیا اور شیعوں کے اندر فرقے بنانے شروع کر دیے۔ اور شعیوں کا مسخرہ ، مذاق اور ان کے اندر مذید اعتراضات شروع کر دیے۔ اور اس زمانے نے الوالقاسم بلوی نے بہت سارے سوال اٹھانے شروع کر دیے۔
زیدیہ میں ابوزید علوی نے شعیوں پر کافی فکری حملے کئے۔ اور صاحب ابن عباد جو کہ بڑی اچھی شخصیت تھی لیکن شیعوں میں معتزلی تفکر کا تھا۔
معتزلہ اتنا کام کر رہےتھے کہ ہمارے بہت سارے صاحب تفکر شخصیات علماء تشیہو کو چھوڑ کر معتزلہ کی جانب میلان پیدا کر رہے تھے یعنی ایک امام کی غیبت سے حیرانی کا دور شروع ہوتا ہے اور جناب نعمانیؒ بھی یہاں یہی کہہ رہے ہیں کہ بہت سے شعیہ گمراہ ہوگئے سوائے تھوڑے سے لوگوں کے کہ جو امام زمان عج کی امامت اور ان کے حجت خدا ہونے پر قائل رہے۔ اور جب غیبت میں شعیوں پر آزمائش آئی تو سارے شعیہ حتہ علماء اور طلباء عقیدے کے حوالے سے متذلذل اور گمراہی کا شکار ہوگئے اور تھوڑے سے لوگ دین حق پر باقی رہے۔
شیخ مفید کہتے ہیں کہ 14 فرقوں میں سے 3 فرقے حق پر تھے اور باقی سارے گمراہی کا شکار تھے۔
اس دور میں بہت اہم شخصیات نے کام شروع کیا جیسے حسن بن حمزہ بن عبداللہ جو ایک عالم بزرگ شخصیت تھے۔ پھر عبداللہ بن جعفر جو معروف ہیں ابن ابی طاہر کے عنوان سے ہیں انہوں نے غیبت کے موضوع پر کام شروع کیا اور کہا کہ آپ غیبت کے عنوان سے کیوں گمراہ ہو رہے ہیں یہ موضوع رسولؐ اللہ کے زمانے میں بتایا جا چکا تھا۔
*مقدمے میں آقائے نعمانیؒ نے بہت خوبصورت بات کی فرمایا کہ:* 🫴
مجھے حیرت ہے کہ مولاؑ عج کی غیبت کی وجہ سے اتنے لوگ گمراہ ہوئے ہیں کہ اگر یہ غیبت نہ ہوتی تو ہمارا مذہب باطل ہوتا یہ غیبت ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے مذہب کی تائید ہوئی ہے کیونکہ یہ موضوع غیبت ہے کہ جس پر پیغمبرؐ اسلام سے احادیث موجود ہیں رسولؐ اللہ نے اسے بیان کیا۔ امیرالمونینؑ نے اپنی احادیث اور خطبوں میں اس کی خبر دی۔ اور ہر امامؑ نے اس موضوع پر گفتگو کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ علماء نے اور ان کے شاگردوں نے ان احادیث کو چار سو رسالوں میں نقل کیا ہے اور کوئی امامؑ ایسا نہیں گذرا کہ جس نے غیبت پر گفتگو نہ کی ہو۔ اور یہ حتماً ہونا تھا اگر نہ ہوتا تو پھر یہ مذہب باطل ہوتا۔
*فلسفہ غیبت:*
*یہ غیبت کیوں پیش آئی؟*
اس کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ غیبت اس لیے پیش آئی کہ ہم گناہوں میں پڑ گئے اور ہم نے ہوائے نفس کی پیروی کی اور دنیا کو آخرت پر مقدم کر دیا۔ عام طور پر فلسفہ غیبت کے اندر غیبت کی ایک علت گناہ بھی ہے۔ اور امام زمانہؑ عج کا اپنے شعیوں سے شکوہ ہے کہ اس میں بھی امامؑ عج نے اپنی غیبت طولانی کی وجہ ہمارے گناہ بیان فرمائے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ : اے شیعوں میرے اور تمھارے درمیان جو حجاب ہے وہ تمھارے وہ اعمال ہیں جو ہمیں ناپسند ہیں۔
اور ہمارے گیارہ آئمہؑ کی تنہائی کی وجہ بھی یہی تھی کہ لوگ ہوائے نفس کا شکار تھے۔ حالانکہ اتنے کثرت میں شیعہ ہوتے تھے لیکن امامؑ خود کو تنہا محسوس کرتے تھے بس یہی چند اک اصحاب بافا جب دنیا سے چلے جائیں تو مولا علیؑ جیسا امام تنہائی کا شکوہ کرتا ہے۔ مولاؑ اپنے باوفا اصحاب کی جدائی میں گریہ کرتے تھے اور انہیں ان کی موت کے بعد یاد کرتے تھے۔ اسی طرح ہمارے باقی آئمہؑ بھی تھے جو اپنے باوفا اصحاب کو یاد کرتے تھے۔
اگرچہ محبین کثرت میں تھے لیکن امامؑ اسوقت بھی تنہا تھے۔ جیسے آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں شعیہ ہیں تو کیوں 313 پورے نہیں ہو رہے تو وہ واقعاً پورے نہیں ہو رہے۔
یہاں صرف بات 313 کی نہیں۔
امام زمانہؑ عج تین قسم کے اصحاب کا انتظار کر رہے ہیں۔
*۔ پہلے 313 ہیں۔ جو سبب ظہور ہیں*🌺
*۔ 10 اور 12 ہزار جوانان کا لشکر ہے جو کہ سبب قیام ہے کہ جو مولاؑ عج کے ظہور کے وقت مسجد الحرام میں جمع ہوگا۔* 🌺
اب کتابوں میں جو خصوصیات 313 اور بارہ ہزار کے لشکر کی لکھی گئی ہیں انسان تعجب کرتا ہے کہ واقعاً یہ خصوصیات لوگوں میں نہیں ملتیں ہیں۔
مثلاً:
۔ 313 میں سے ہر ایک شخص شجاعت میں سو آدمیوں کے برابر ہے۔
۔ عبادت و بصیرت میں سو آدمیوں کے برابر ہے۔
۔ ہمدلی ، ایثار اور امربالمعروف سو آدمیوں کے برابر ہے۔
بارہ ہزار کا لشکر:
۔ ایک شخص دس آدمیوں کے برابر ہے
۔ دس آدمیوں جتنی عبادت اور ذکر کرتے ہیں
۔ ان کے بدن اور روح دس نیک آدمیوں جتنی طاقت رکھتی ہے۔
۔ دس آدمیوں جتنی شجاعت رکھتے ہیں۔
آئندہ ناصرین امام زمانہؑ عج آئندہ دروس میں بیان ہونگی۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایسے اگر دس بارہ ہزار آجائیں تو پوری دنیا پہ قیام کے لیے کافی ہیں۔ یعنی اگر انہیں دس پر ضرب دیں تو ایک لاکھ بیس کا لشکر ایک قیام کے لیے کافی ہے۔
۔ پھر *تیسرے درجے میں عام ناصر ہونگے* کہ جب قیام شروع ہوگا اس وقت وہ اپنے مولاؑ کے ساتھ ملیں گے۔ لیکن آغاز قیام کے لیے درکار دس سے بارہ ہزار کا لشکر ہوگا لیکن ابھی اس تعداد تک نہیں پہنچا۔
*خلاصہ یہ ہے* 🫴 چونکہ امام وقتؑ ہر دور میں تنہا تھے اور شہید ہوتے رہے اور یہ آخری حجت کہ جس کو اللہ نے ابھی زندہ رکھنا تھا اور کام لینا تھا تو ان کی جان کو بچانے کے لیے خدا نے انہیں غائب کیا ہے۔ ورنہ وجہ غیبت ہم خود ہی ہیں۔ جس طرح خواجہ نصیر الدین طوسیؒ بھی یہی کہتے ہیں غیبت امام کی وجہ ہم ہیں۔ اللہ نے امام ؑ عج سے کام لینے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ان کا غائب ہونا ضروری ہے۔
آقائے نعمانیؒ نے مقدمہ میں کچھ وجوہات لکھی گئی ہیں۔
*۔ 🪻 شعیہ اہل علم کیوں گمراہ ہوئے ہیں؟*
*۔ 🪻 ان کے پاس علم نہیں تھا اور اگر علم تھا تو ان کے پاس تفکر نہیں تھا۔*
امام صادقؑ کی ایک روایت آقائے نعمانیؒ نے نقل کی ہے۔
*امام صادقؑ فرماتے ہیں۔*
*کہ اگر آپ نے ہمارے شیعہ کو پہچاننا ہے تو دیکھو کتنا ہم سے روایت کرتا ہے۔ اور کتنا ہماری روایت کو سمجھتا ہے۔* 🌺
یعنی شیعہ کتنا ہمارے فرامین کو نقل کرتا ہے اور کتنا ان کو سمجھتا ہے۔
دوسری وجہ کہ کیوں اہل علم گمراہ ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ:
کچھ لوگوں کے پاس علم تو تھا لیکن دنیا کی طلب زیادہ تھی جس کی وجہ سے وہ باطل کی جانب کھیچ گئے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ فقہاء میں سے اس کی تقلید کرو جو خواہش نفسانی کی مخالفت کرتا ہو۔
خواہشات نفسانی سے مقابلہ جہاد اکبر ہے۔ ہماری زندگیوں کو بعض اوقات چھوٹی سی خواہش نفسانی کر دیتی ہے اور ایک عالم کہ جس کے ہزاروں شاگرد ہوتے ہیں اس کا خاتمہ ایک چھوٹی سی ہوائے نفس کی وجہ سے ایمان پر نہیں ہوتا۔
*اللہ اکبر!*😭😭
ناصرین کی نشانیاں ہیں کہ وہ کثرت سے پناہ لیتے ہیں جو کثرت سے نماز اور نماز شب پڑھتے ہیں۔ اور ناصرین امام زمانہؑ عج زیر لب ذکر پروردگار کو جاری رکھتے ہیں۔ تاکہ خواہش نفسانی اور شیطانی غلبہ نہ ہو۔
۔۔ *تیسری وجہ* جو بیان کی ریاکاری اور طلب ریاست۔ یہ بھی دوسری وجہ کے ساتھ ہی ہے۔ لیکن انہوں نے اس کو جدا کیا کہ بعض لوگ ریاکاری اور طلب ریاست کرتے ہیں کہ ہمارے کنٹرول میں ساری چیز آجائے۔ وہ بھی گمراہ ہوئے ۔
۔۔ *چوتھی وجہ* یہ بیان کی کہ: بعض لوگ ایمان میں اضافہ اور اعتقادات میں یہ ہے سستی کی وجہ سے گمراہ ہوجاتے ہیں یعنی ہو سکتا ہے کہ ان کو روایات حفظ بھی ہوں لیکن عقیدہ پر کام اور مباحثہ نہیں کیا اور اس پر غور و فکر نہیں کیا ۔
کہتے ہیں 🫴کہ یہ وہ آزمائش تھی کہ جس پر تین سو سال پہلے ہمارے آئمہؑ ہمیں بتاگئے کہ اے شیعوں غیبت آنے والی ہے۔ اور وہی دین حق پر ہو گا کہ جو ہم آئمہؑ سے اور ولی حق سے متمسک ہوگا۔
کہتے ہیں 🫴کہ ہمیں بتایا گیا تھا لیکن ہم جب اس زمانے میں داخل ہوئے تو ہم دین حق کو چھوڑ بیٹھے تھے۔
اس کے بعد جناب نعمانیؒ کہتے ہیں 🫴کہ چونکہ ہمارے پاس یہ احادیث اور روایات ہیں کہ: جس شخص کو اللہ نے علم عطا کیا ہو اور وہ دیکھے کہ میرے بھائیوں پر دین مشتبہ ہو گیا ہے اور وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو اسے چاہیۓ کہ اپنے علم کو ظاہر کرے۔
کہتے ہیں کہ🫴 چونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے پاس بہت سے علماء اور طلاب غیبت کے حوالے سے ہٹ رہے ہیں تو میرے پاس غیبت سے متعلق جو معلومات ہیں وہ میں کتاب کی شکل میں ظاہر کر رہا ہوں۔
*جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*🌺
پروردگار عالم سے دعا ہے کہ ہمیں توفیق دے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس قدم کو موفق فرمائے اور امام زمانہؑ عج کا بابصیرت منتظر بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جن کو دیکھ کر اور ان کی محفل سے وقت کے امام راضی ہوتے ہوں اور ان کا قلب نورانی مسرور ہوتا ہو۔ پروردگار عالم ہماری ان توفیقات کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔
آمین۔
والسلام
شہر بانو✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍
*کتاب غیبت نعمانی*
درس2️⃣
✨موضوع درس:
مقدمہ کتاب ، آیات سورہ حدید کی غیبت و ظہور پر تطبیق ، زمانہ غیبت کے فتنے اور انکی اقسام ، ہمارے وظائف ، مومن شہد کی مکھی کی مانند ہو
*🎤استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*مقدمہ کتاب شریف غیبت نعمانی:*
قدیم زمانے سے علماء کی یہ صیغہ چلی آرہی ہے اور ابھی بھی یہ کافی حد تک موجود ہے کہ جو مقدمہ کتاب ہوتا ہے وہ پوری کتاب کا مغز ہوتا ہے۔ اور بہت سارے مسائل مقدمہ سے حل ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی شخص پوری کتاب نہیں پڑھ سکتا تو اسے چاہیے کہ اس کتاب کا مقدمہ پڑھ لے تو وہ سمجھ جائے گا کہ مولف نے کون سے مسائل کو کتاب میں مورد بحث قرار دیا ہے۔
کتاب غیبت نعمانی کا مقدمہ بہت ہی علمی اور مطالب کے حوالے سے ایک غنی مقدمہ ہے اور جس میں جناب مصنفؒ بہت ہی بہترین انداز میں اس زمانے کے حالات کا جائزہ لیا اور اپنا ایک وظیفہ بطور عالم دین بیان کیا ہے اور ضمناً مختلف موضوعات مہدویت کو بیان کیا ہے۔
انہوں نے اپنے زمانے کے حالات کا شکوہ کیا کہ آغاز غیبت کبریٰ تھی۔ غیبت صغریٰ میں پھر بھی مولاؑ عج کا کچھ نہ کچھ رابطہ نواب اربعہ کے ذریعے برقرار تھا لیکن غیبت کبریٰ میں بلکل انقطاع والی صورت حال تھی۔
*فرماتے ہیں کہ:*
تشیہو کے اندر بہت بڑا افتراء سامنے آیا اور شیعہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ اس حوالے سے جناب کاتب نعمانیؒ نے کچھ علت بیان کیں جو گذشتہ درس میں بیان ہوئیں کہ کیوں شعیہ علماء اور دینی طلاب باطل مذاہب کی جانب چلے گئے جس کی بنیادی وجوہات مطالعہ نہ ہونا اور معلومات نہ ہونا تھا اور آج بھی یہی وجوہات ہیں۔ کیونکہ جو لوگ مہدویت کے حوالے سے معلومات نہیں رکھتے وہ منکر مہدویت ہو جاتے ہیں۔
ہمارے پاس پاکستان اور دیگر ممالک میں اس کے حوالے مثالیں موجود ہیں کہ لوگ مہدویت کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مہدویت سے انکار کر دیتے ہیں۔ حتکہ کہ وہ شخصیات جو مہدویت کے موضوع پر کام کرتے رہے ہیں وہ کم معلومات ہونے کی وجہ سے منکر ہو گئے ہیںَ
یہ فتنے آج سے بارہ سو سال قبل بھی تھے۔ آج بھی ہیں اور بعد میں بھی ہوں گے۔ اب یہاں جو عقیدہ مہدویت کے قائل ہیں اور مدافع اور سربازِ امام زماں عج ہیں یعنی جو طلاب اور علماء فکری محافظ ہیں ان کا یہ فریضہ اس سپاہی کی مثل ہے جو محاذ پر مکمل تیاری کے ساتھ آتا ہے اسی طرح ان کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ مکمل معلومات کے ساتھ آئیں اور جو شیعوں کے اندر منکرین ہیں ان کا مقابلہ کریں۔
*مہدویت کے دشمن۔*
1۔ ♦️جو بیرونی مخالف مہدویت ہے
2۔ ♦️جو ہمارے اندر ہیں اور مہدویت کے منکر ہیں اور فتنہ گر ہیں۔
ان دشمنان مہدویت کا مقابلہ وہی کرے گا جس نے خوب تیاری کی ہوگی۔
معلومات کی کمی اس بات کی وجہ ہے کہ ایک انسان طویل حوضوی زندگی گذار لیتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ مہدویت کے موضوع پر اس کے پاس ابتدائی معلومات بھی نہ ہوں۔ اور یہ بہت بڑا المیہ ہے۔
مصنفؒ محترم وجوہات بیان کرتے ہیں کہ :
۔ ▪️ معلومات کا نہ ہونا
۔ ▪️ دنیا کی طلب
۔ ▪️ ریاکاری
۔ ▪️ ریاست کی طلب
۔ ▪️ اعتقاد کے اندر سستی
۔ ایمان میں کمی
(گذشتہ درس میں مقدمہ میں بیان ہو چکی ہیں)
مصنفؒ محترم اس کے بعد اپنا ایک عزم بیان کرتے ہیں کہ امام صادقؑ سے ایک روایات انہوں نے وظیفہ عالمانے حق سے بیان کی۔
*فرامین معصومین*
روایت:
یہ روایت امام جعفر صادقؑ اور امام محمد باقرؑ دونوں سے نقل ہوئی ہے ۔
فرماتے ہیں کہ:
جسے اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا ہو۔ اور خدا نے اسے وہاں تک پہنچایا کہ جہاں اس کے غیر کو نہیں پہنچایا ہے تو اب اس کا وظیفہ ہے کہ جو اس کے دینی بھائی ہیں اور ان پر جو چیزیں مشتبہ ہیں یعنی جن چیزوں میں وہ اشکالات کا شکار ہو گئے ہیں تو اس چاہیے کہ ان لوگوں کو وہ بیان کرے۔ اور ان کو اس حیرت و شک سے راہ مستقیم کی جانب لے کر آئے۔ اور اس کا وظیفہ یہ ہے کہ لوگوں کو شک کے مقام سے نکالے اور نور یقین تک لے کر آئے۔
روایات کو بیان کرنے بعد مصنفؒ بارگاہ خداوند ی میں قصد کرتے ہیں کہ وہ چیزیں بیان کروں جو ہم تک آئمہؑ طاہرین سے پہنچی ہیں۔
*عصر رسالت تا از امام عسکریؑ روایات کا بیان ہونا۔*
انہوں نے فرمایا کہ روایت غیبت امیرالمومنینؑ سے لیکر کر تمام آئمہؑ تک نقل ہوئیں لیکن ہم اس کو یہاں وسعت دیتے ہیں خود پیغمبرؐ اسلام سے روایاتِ غیبت نقل ہوئیں۔ اور ہم ان سے لے کر امام حسن عسکریؑ تک روایات غیبت کو دیکھتے ہیں۔
*جناب مصنفؒ فرماتے ہیں* کہ ہم نے یہ ارادہ قربتاً الی اللہ کیا ہے۔ یعنی ایک عالم جب بھی کوئی ارادہ کرے چاہے وہ ارادہ تبلیغ ہو یا لوگوں کے لیے دین بیان کرنا ہے اور ان کا شک دور کرنا ہے تو وہ قربتہً الی اللہ ہو۔
۔۔ *دوسرا* ارادہ انہوں نے یہ کیا کہ جب میں نے لوگوں کو دین بیان کرنا ہے تو وہ محمدؐ و آل محمدؑ کے فرامین سے استفادہ کرنا ہے۔
*۔۔ تیسری چیز فرماتے ہیں کہ*
روایات تو ہمارے پاس پہنچ چکی ہیں لیکن ان میں ہم نے تعامل حسن کرنا ہے یعنی اچھے اندازسے غوروفکر کرنا ہے۔ ہمارے ہاں ایک المیہ ہے کہ بسا اوقات روایت تو بیان ہوتی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں سطحی انداز سے بیان ہو جاتی ہے لیکن اس کے اندر اہم نکات بیان نہیں ہوتے۔ اور غیبت کے موضوع پر روایات بھی سطحی انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ جبکہ غیبت کے حوالے سے روایات کو اہم نکات کے ساتھ بیان کرنا چاہیے یعنی اس کے اندر فلسفہ غیبت، اسباب غیبت ، فوائد غیبت بیان ہو۔ اور امام کی غیبت سے کیا مراد ہے اس حوالے سے بہت سی روایات کو جمع کر کے ایک نتیجہ نکالنا ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ روایات تو بظاہر ایک دوسرے کی شبیہ محسوس ہوتی ہیں اور ہمیں یہ چاہیے کہ ان پر ہم دقت کریں۔
کہتے ہیں ظاہراً یہ لگتا ہے کہ ہر روایت شبیہ ہے لیکن ہر روایت کے اندر زیادۃ المعنی ہے یعنی ایک روایت دوسری سے زیادہ معنی رکھتی ہے اور یہی معنی ہمارے لیے راہ کشاں ہیں یعنی وہ معنی گویا ہماری مشکل کو حل کرتے ہیں۔
اس کے بعد ایک بہت بڑا نقطہ آقا نے بیان کیا وہ یہ ہے کہ:
اگر یہ روایات جو اتنی وسعت سے غیبت کے موضوع پر وارد ہوئی ہیں اگر ان روایات کی موجودگی میں غیبت نہ ہوتی اور اتنا کچھ بیان ہونے کے باوجود یہ بیان نہ ہوتی تو ہمارا شیعہ مذہب باطل ہو جاتا۔ حتماً غیبت واقع ہونی چاہیے کیونکہ اللہ نے غیبت کو واقع کرکے ہمارے آئمہ نے جو ہمیں مسلسل خبر دی تھی اس کی تصدیق کی ہے اور اللہ نے اس پر مہر صحت لگائی ہے۔ اور اب یہاں شعیوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ غیبت کو قبول کریں نہ کہ باطل مذاہب کی جانب چلے جائیں۔
فرماتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے لیے اولیائے کرام نے بیان کیا ہے وہ صحیح ثابت ہوا۔ کیونکہ مسلسل بیان ہو رہا تھا کہ قائمؑ عج نے غیبت اختیار کرنی ہے تو اس سے تو ہمارا قوت قلب بڑھنا چاہیے لیکن یہ کیا ہوا کہ ہم اختلافات میں پڑ گئے۔ اور افسوس صد افسوس علماء اور دینی طلاب اضطراب کا شکار ہوگئے۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ یہ وہی امتحان تھا کہ جس کے بارے میں ہمیں شروع سے خبر دی جاتی رہی۔
آیات سورہ حدید کی غیبت و ظہور پر تطبیق اور اس کے ضمن میں ایک روایت باری کی۔
کہتے ہیں کہ امام صادقؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے منقول ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے امام عالی مقام سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ:
سورہ حدید 16
*وَلَا يَكُـوْنُـوْا كَالَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْـهِـمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُــهُـمْ ۖ وَكَثِيْـرٌ مِّنْـهُـمْ فَاسِقُوْنَ*
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب (آسمانی) ملی تھی پھر ان پر مدت لمبی ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
یہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ امام صادقؑ نے فرمایا کہ یہ زمانہ غیبت کے بارے میں ہے۔
*توجہ فرمائیے۔:*✋
سورہ حدید کی اس آیت کے بارے میں امام صادقؑ فرما رہے ہیں کہ یہ زمانہ غیبت کے لوگوں کے لیے نازل ہوئی ہے۔ چونکہ زمانہ غیبت بہت طولانی ہے۔
عصر حضور رسالت مآب سے لیکر کر امام حسن عسکریؑ تک رہا جو تقریباً 250 سال کا ہے۔ اور اگر ہم رسولؐ خدا کی مکہ کی زندگی اس میں شامل کریں تو کل عرصہ 273 سال کا ہے۔ کہ جس میں پیغمبرؐ آئے اور گیارہ امام پہ در پہ آئے اس کے بعد عصر غیبت ہے کہ جس 1200 سال سے ہے۔
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ غیبت بہت طولانی ہو گی کہ دل سخت ہو جائیں گے۔ یعنی وہ عقیدہ مہدویت سے خارج ہونے شروع ہو جائیں گے اور علمی اور عملی دوری بھی ہو جائے گی۔
اب چونکہ اس روایت کے ضمن میں ایسے شخص کا ذکر ہوا ہے کہ جس کا نام ہمیں معلوم نہیں ہے تو اس روایت سے ہمارے لیے ضعیف ہے لیکن ہم اس سے ایک استفادہ کرتے ہیں کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور اس کی ہر آیت کے مصادیق ہیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس آیت کا مصداق عصر غیبت کے شیعہ ہے ہوسکتا ہے کہ شان نزول کچھ اور ہو۔ قرآن کی آیات کے ہر دور میں مصادیق ہیں۔ یعنی پیغمبرؐ سے آئمہ طاہرین کے ادوار تک لوگوں کے قلوب سرد تھے۔ اور آج کے دور غیبت میں شیعہ اس آیت کا مصداق ہیں۔
*اِعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (17)*
اور جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے، ہم نے تو تمہارے لیے کھول کھول کر نشانیاں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔
پھر امام نے فرمایا: یہاں سے مراد غیبت کا عرصہ ہے۔ اور اے شیعوں اے امت محمدؐ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا۔
(اب یہاں روایت ختم ہوگئی)
*مصنف کی گفتگو:*
مصنف فرماتے ہیں کہ:
اسی روایت کی توضیح و توجیہ کرنی شروع کر دی اور فرماتے ہیں کہ یہاں اس آیت کی تاویل یہ ہے کہ یہ آیت فقط دور غیبت کے لوگوں کے لیے آئی ہے۔
فرماتے ہیں کہ یہاں شیعوں کو اللہ تعالیٰ نے حجت خدا پر شک سے منع کیا ہے یا شیعہ یہ گمان کریں کہ اللہ تعالیٰ زمین کو حجت خدا سے پلک جھپکنے کی مدت تک خالی رکھے گا تو وہ اس سے بھی منع رہیں۔ ( یہ چیز ناقابل قبول ہے) اُس دور میں کہ جبکہ غیبت کو صرف ساٹھ یا ستر سال ہی گذرے تھے اور آغا نعمانیؒ کہتے ہیں کہ طول العمر غیبت ہے اس لیے شک پیدا ہوگیا۔ لیکن اگر آج کے دور میں آغا نعمانیؒ ہوتے تو کیا کہتے جبکہ غیبت کو گیارہ سو سال ہو چکے ہیں۔
غیبت طوسیؒ میں بھی طوسیؒ بھی فرماتے ہیں کہ اب تو ایک طویل مدت ہوچکی غیبت کو۔ آج ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ غیبت ایک طویل مدت سے ہے اور اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آنے والے دور میں بھی لوگ اسی طرح سے کہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس زمانے میں جو حالات تھے اس کی نسبت ہم بہتر ہیں اور ہمارے حوضات قوی ہیں۔
اس زمانے میں ایک عجیب حالت تھی لیکن غیبت نعمانی غیبت طوسیؒ اور کمال الدین جیسی کتابوں کا ثمرہ یہ ہوا کہ تشیہو مضبوط ہوئی۔ اور آج ہم میں وہ حالات نہیں ہیں کہ شعیہ علماء کا کئی باطل فرقوں کے ساتھ ملحق ہونا اور تھوڑے سے لوگوں کا حق پر رہنا۔ لیکن آج کا دور اس کے برعکس ہے۔
جناب کاتب نعمانیؒ کی کاوشیں ہیں اور ان کا بہت بڑا کردار ہے کہ جس کی وجہ سے دور غیبت میں شیعہ متفق ہوئے۔
*امیرالمومنینؑ نے جناب کمیلؒ سے فرمایا کہ:* 🌸
"اے کمیل زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہے۔ "
خدا کی نشانیاں فقط حجت خدا سے ظاہر ہونگی۔
فرمایا:
*اِعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (17)*
اس آیت پر مستقل روایات موجود ہیں جبکہ پہلی آیت پر بحث ہے کیونکہ اس کی روایت ضعیف ہے۔
جناب مصنفؒ کہتے ہیں کہ: اس آیت کا مصداق عصر ظہور ہے اور یہ واقعہ ابھی رونما نہیں ہوا۔
*قبل از ظہور حالات:*
زمین کا مرنا یعنی روحانیت مرے گی۔ روح اسلام، روح تشہیو، روح انسانیت مرے گی اور دنیا کفر و شرک اور ذلالتوں کی جانب زیادہ مائل ہوگی۔ اور جب امام زمانؑ عج ظہور فرمائیں گے اور عدل بپا کریں گے تو اس کے ذریعے اس زمین کو زندہ کریں گے یعنی لوگ زندہ ہونگے۔ کیونکہ جب لوگوں کو عدل کے ذریعے ان کا حق ملے گا اور ان کی تربیت پر کام ہوگا اورانہیں علم و حکمت دی جائے گی تو یہ ساری چیزیں لوگوں کے وجود کو زندہ کریں گی اور ان کے اجتماعی زندگی میں بہتری آئے گی اور زمین اتنی باسعادت ہو جائے گی کہ آسمانی مخلوقات زمین پر رشک کرے گی۔
*زمانہ غیبت کے فتنے اور ان کی اقسام*
جناب کاتب نعمانیؒ اہم ترین نقطے کی جانب توجہ دلاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ زمانہ غیبت کے اندر شعیوں کو فتنوں سے آزمایا جائے گا۔
*فلسفہ غیبت:*
مثال کے طور پر امیرالمومنین کو جنگ سفین میں مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہ ہوئے کیونکہ وہ لوگ کے جنہوں نے قرآن کو نیزوں پر اٹھایا تھا۔ وہاں مدمقابل کی فوج مستحکم تھی اور انتشار خود مولا علیؑ کی فوج میں پیدا ہوا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جن کو آزمایا گیا تھا۔ اور ان میں سے اکثر لوگوں کا ایمان سطحی تھا۔
غیبت کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ شیعہ بار بار آزمائے جائیں تاکہ وہ خالص شعیہ فوج سامنے آئے کہ جو پھر ہر بڑی آزمائش اور مصائب کا مقابلہ کر سکے اور اس کا ایمان قائم رہے۔
معصومین کے فرامین میں بیان کیا گیا ہے کہ :🌟
شعیہ مختلف امتحانوں سے آزمائے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں شعیہ ارتداد کا شکار ہونگے (واپس پلٹیں گے)۔
*استاد محترم نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے کہ:*🌸
احادیث کی مختلف کتابوں میں باب تمہیص ولامتحاں ہوتا ہے۔
*قبل از ظہور شیعوں کی آزمائش ہے۔ اور قبل از ظہور تین فتنے آئیں گے۔*
*۔ 👈فتنہ اعتقادی*
یعنی سب سے پہلا بحران عقائد کا آئے گا اور ہمارے مسلمات کو نشانہ بنایا جائے گا اور لوگ متذلزل ہونگے اور آج بھی ایسا ہی ہے کہ عقائد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یعنی لوگ حجت خدا کے عقیدے سے منکر ہونگے۔
۔۔ 👈*دجال* :
دوسرا فتنہ دجال ہے۔ جس کی خبر ملی ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ یہ ایک خاص شخص ہے یہ ایک نظام ہے جیسے مغربی ثکافت ہے۔
*۔۔۔👈 شعیوں میں اختلاف*
یعنی شعیہ آپس میں ہمدل نہیں ہونگے اور آج ایسا ہی ہے۔ 🫴
لیکن❗ ان تینوں فتنوں میں سے جو سب سے خطرناک فتنہ ہے وہ اعتقادی فتنہ ہے۔ اور اسی لیے ہماری کتابوں میں جتنے باب بنے ہیں ان میں یہ باب موجود ہے۔ مثلاً اصول کافی میں باب تمہیص ولاامتحان میں چھ روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن میں بیان کیا گیا ہے کہ شیعہ ارتداد کا شکار ہو جائیں گے یعنی مرتد ہو جائیں گے۔ اور تھوڑے سے لوگ ایمان پر قائم ہونگے۔
آغا نعمانیؒ نے اپنی کتاب کے باب تمہیص ولامتحان میں تقریباً 20 روایات نقل کئیں۔ 📚
شیخ طوسیؒ نے اپنی کتاب میں 10 روایات نقل کئیں ہیں اسی طرح بحار النوار میں روایات نقل ہوہیں ۔ 📚
یہ روایات بیان کرتی ہیں کہ ہمارے آئمہؑ نے کتنا اہتمام کیا تاکہ شیعوں کو اعتقادی فتنوں سے آگاہ کریں کیونکہ یہ فتنے ایسے ہیں کہ جن میں ہر انسان مبتلا ہوگا تو اب آئمہؑ نے جو ہمیں بیان کیا تاکہ ہم کامل آگاہی کے ساتھ ان فتنوں کا مقابلہ کریں۔
*سید شہداءؑ کا فرمان:*🌸
قائمؑ عج کی غیبت میں بہت سے لوگ مرتد ہو جائیں گے جو باقی بچیں گے ان کے ساتھ دو طرح کے مسائل ہیں
۔ ان کی تکذیب کی جائے گی
۔ انہیں اذیت کی جائے گی۔
*ہمارے وظاتف*
*مومن شہد کی مکھی کی مانند ہو*🪰
روایت طولانی ہے (پہلا حصہ)
جناب مالک بن ضمرہ کی روایت:
امیرالمومنینؑ نے اپنے شیعوں کو مخاطب کرکے فرمایا:
"ایسے بن جاؤ جیسے پرندوں میں شہد کی مکھی ہوتی ہے۔ ہر پرندہ اسے ضعیف و بے وقعت سمجھتا ہے لیکن اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ اس کے پیٹ میں کتنی برکتیں پوشیدہ ہیں تو وہ اس کے ساتھ ایسا نہ کریں۔ لوگوں کے ساتھ اپنی زبان و بدن دونوں سے میل جول رکھو اور اپنے دلوں اور بہترین اخلاق کے ساتھ ان سے جدا ہو۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ تم جو چیز دیکھنا چاہتے ہو اسے نہ دیکھ پاؤ گے تا وقت یہ کہ تم ایکدوسرے کے منہ پر نہ تھوکو اور ایک دوسرے کو کذاب نہ کہو۔ حتکہ تم میں (یا فرمایا: میرے شعیوں میں) اتنے ہی لوگ راہ راست پر باقی رہ جائیں گے جتنا آنکھ میں سرمہ ہوتا ہے اور جتنا کھانے میں نمک ہوتا ہے۔
میں تمھارے لیے ایک مثال بینا کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر ایک شخص کے پاس گندم ہو اور وہ اسے پاک صاف کر کے گھر میں رکھے اور یہ امید رکھے کہ خدا کرے گا اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن جو وہ واپس آکر دیکھے تو اس میں کیڑے پڑ گئے ہوں پھر وہ ان کیڑوں کو گندم سے نکالے اور اسے دوبارہ صاف کر گے گھر میں رکھ دے۔ اور کہے کہ اللہ کرے گا کہ اب اسے کچھ نہیں ہوگا۔ پس وہ اس عمل کو بار بار دہرائے گا یہاں تک کہ گندم کا صرف کھلیان باقی رہ جائے گا جسے کیڑے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اسی طرح تم سے بھی کمزور افراد کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ بالآخر تم میں صرف وہ جماعت باقی رہ جائے گی جسے فتنہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
(بحار الانوار 115، 52) 📚
*یہ قائم کے ساتھی ہیں کہ جن کو بار بار آزمایا جائے گا۔ یعنی 313 سردار اور دس یا بارہ ہزار جوان وہ خالص سرباز اور ناصرین امام زماں عج ہونگے جو بار بار آزمائے گئے ہونگے۔*
*جاری ہے۔۔۔۔*♦️♦️
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم ان جیسے لوگوں کی طرح بننے کی کوشش کریں۔ تاکہ مولا ؑ عج کے خدمت گار بن سکیں۔
آمین!🤲
والسلام،
تحریر و پیشکش:✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌍
شہر بانو✍️
*کتاب غیبت نعمانی*
درس 3️⃣
✨موضوع درس:
روایت مالک بن ضرہ کا جائزہ، شہد کی مکھی🪰 کی مومن سے مشابہتیں اور آخرالزمان کے فتنوں کا جائزہ اور روایت کی رو سے راہ حل
*🎤استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🌹
ہماری گفتگو غیبت نعمانی کے مقدمہ میں جاری ہے۔ کتاب نعمانی کا مقدمہ بہت اہم ترین ہے۔ اور ویسے بھی ہمارے بزرگان کی عادت تھی کہ وہ جب بھی وہ کتابیں لکھتے تھے تو اس کتاب کا مقدمہ ہی اس کا خلاصہ ہوتا تھا۔ اور یہ مقدمہ غیبت نعمانی مہدوی ابحاث کو تقویت دیتا ہے۔
*روایت مالک بن ضرہ کا جائزہ:* 🫴
اس روایت کی سند کے اندر بڑے جلیل القدر اصحاب ہیں لیکن اس کے باوجود سند کے اعتبار سے یہ روایت خدشہ دار ہے۔
*پہلے راوی: 🌀*
احمد ابن محمد بن سعید ابن عقدۃ الکوفی بہت مشہور شخصیت ہے اور ان کا تعلق زیدی فرقے کی شاخ جارودیہ سے تھا یہ اثنا عشری نہیں تھے البتہ بعض علما کہتے تھے کہ یہ اثنا عشری ہیں لیکن اس کے باوجود سبھی نے ان کی تعریف کی ہے۔ اور صاح کتاب نعمانی نے بھی ان کی تعریف کی ہے اور انہیں قبول کرتی ہے۔
*دوسرے راوی:🌀*
جناب علی ابن الحسین تیمولی حسن ابن علی ابن الفضال کے بیٹے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ میرے بابا نے بیان کی۔ یہ سب یعنی ان کے دونوں بھائی بھی آغاز میں فرقہ فتیحہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ شروع میں امام موسیٰ کاظمؑ کی امامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے لیکن امام رضاؑ سے کافی وابستہ تھے۔ لیکن آخر میں یہ امام رضاؑ کی امامت کے قائل ہوگئے اور اثنا عشری قرار پائے۔ اور ان کے بیٹے علی، احمد اور محمد نے امام حسن عسکریؑ کا زمانہ دیکھا ہے۔
*تیسرے راوی:🌀*
صالحوا بن میمون اصحاب امام صادقؑ میں سے تھے۔ اور فقیہ اور بزرگ شخصیت تھے۔ مولا ؑ نے فرمایا: آپ لوگوں میں شہد کی مکھی کی مانند۔۔۔
*چوتھے راوی: 🌀*
ابی قامس ان کا اصل نام حیسن بن عبد اللہ ہے ان کے بارے میں معلوم نہیں
*پانچویں راوی : 🌀*
جناب عمران بن میثم بن یحی الاسدی ہیں۔
*چھٹے راوی:* 🌀
جناب مالک بن ضمرہ ہیں۔ یہ اصحاب امام علیؑ ہیں اور خلیفہ سوم کے قتل کے بعد یہ پہلی شخصیات میں سے ہیں کہ جنہوں نے مولاؑ علی کی بیعت کرنے والوں میں سبقت کرنے والوں میں سے ہیں۔ یہ وہ شخصیت ہیں کے جنہوں نے آخرالزمان کے حوالے سے بہت زیادہ روایات نقل کیں۔
یہ روایت ان حالات کے بارے میں ہے جو امام زمانہؑ عج کے ظہور سے قبل ہونگے۔
*متن روایت:* 🍯🪰
*امیرالمومنینؑ نے مالک بن ضمرہ سے فرمایا:*
*فرمایا اے شعیو! لوگوں کے درمیان ایسے ہو جاؤ جیسے پرندوں کے درمیان شہد کی مکھی ہوتی ہے۔*
فرماتے ہیں کہ: کوئی بھی پرندہ ایسا نہیں ہوتا کہ جو شہد کی مکھی کو کمزور نہ سمجھے۔ اگر پرندوں کو یہ پتہ چل جائے کہ ان شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں کیا ہے تو وہ اسے کھا جائیں۔
پھر امیر المومنینؑ نے عام لوگوں کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ اپنے جسموں کے ساتھ معاشرت کرو لیکن اپنے اعمال میں ان لوگوں کی ہمراہی نہ کرو۔
فرماتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار ہمارے کسب پر ہے اور قیامت کے دن ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جواس کا محبوب ہوگا۔
*آخر الزمان کے فتنوں کا جائزہ اور اس کا راہ حل* 🫴
*امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ*
"اے ہمارے شیعہ تم جس چیز سے محبت کرتے ہو اور جس چیز کی آرزو رکھتے ہو اسے تم نہیں پاؤ گے یہاں تک کہ تم میں سے بعض بعض کے منہ پر تھوکیں گے۔ (یعنی شیعوں کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہوگا۔ ) حتہ کہ تم میں سے بعض بعض کو کذاب کہیں گے۔ اور تم میں سے کوئی بھی راہ حق پرباقی نہیں رہے گا ۔ مگر جس طرح سرمہ آنکھ میں یا نمک کھانے میں۔ (قلیل تعداد دین پر باقی رہے گی)۔
*امام نے یہاں دو فتنے بیان کئے۔*
1۔ 🌀 شیعہ ایک دوسرے کو کذاب کہیں گے اور ایکدوسرے کے منہ پر تھوکیں گے۔
2۔ 🌀 دین حق پر ایک قلیل تعداد باقی رہے گی۔
*امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ میں تمھیں ایک مثال دیتا ہوں۔*
وہ یہ کہ اگر ایک شخص کے پاس گندم ہو اور وہ اسے پاک صاف کر کے گھر میں رکھے اور یہ امید رکھے کہ خدا کرے گا اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن جو وہ واپس آکر دیکھے تو اس میں کیڑے پڑ گئے ہوں پھر وہ ان کیڑوں کو گندم سے نکالے اور اسے دوبارہ صاف کرکے گھر میں رکھ دے۔ اور کہے کہ اللہ کرے گا کہ اب اسے کچھ نہیں ہوگا۔ مولاؑ نے یہاں بہت دقیق مثال دی ہے یعنی جن کا ایمان خراب ہو چکا ہے اب وہ امام زمانہؑ عج کے قابل نہیں ہیں۔پس وہ اس عمل کو بار بار دہرائے گا یہاں تک کہ گندم کا صرف کھلیان باقی رہ جائے گا جسے کیڑے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اسی طرح تم سے بھی کمزور افراد کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ بالآخر تم میں صرف وہ جماعت باقی رہ جائے گی جسے فتنہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
*روایت کی تشریح* 🫴
*پہلا حصہ:*
*شہد کی مکھی سے تشبیہ:* 🪰🍯
سورہ نحل 68
*وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِىْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ (68)*
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان چھتوں میں گھر بنائے جو اس کے لیے بناتے ہیں۔
سورہ نحل 69🌸
*ثُـمَّ كُلِىْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِىْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُـلًا ۚ يَخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِـهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٝ فِيْهِ شِفَـآءٌ لِّلنَّاسِ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّـرُوْنَ (69)*
پھر ہر قسم کے میوں سے کھا پھر اپنے رب کی تجویز کردہ آسان راہوں پر چل، ان کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے ہیں۔
شہد کی مکھی یہ عظمت رکھتی ہے کہ اسے خدا نے وحی کی اور یہ فضیلت کسی غیر از انسان (حیوان)کو حاصل نہیں اور اللہ نے اسے حکم دیا کہ:
خدا کا پہلا دستور:
تو نے پہاڑوں اور درختوں میں ان چھتوں میں گھر بنانے ہیں۔
خدا کا دوسرا دستور :
کہ اے مکھی پھر ہر قسم کے میوں سے کھاؤ یعنی تمام ثمرات حلال ہیں انہیں کھاؤ
*خدا کا تیسرا دستور:*🌸
اے شہد کی مکھی تو نے اپنے رب کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنا ہے۔ یعنی متواضع انداز سے خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چل
جب خدا نے شہد کی مکھی کو اپنے تین دستور تعلیم فرمائے پھر اس کے بدن سے ایک مایہ نکالا جس کے رنگ کے مختلف ہیں اور شہد کی مکھی کے بدن سے نکلنے والی شراب میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ اور اس کے اندر صاحب فکر کے لیے نشانی ہے۔
اب یہاں سے ہمیں سمجھنا ضروری ہے کہ کیوں امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ اے میرے شعیوں تم شہد کی مکھی کی مانند ہو جاؤ۔ کیونکہ یہ وجہ ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھی کو صاحب وحی قرار دیا ہے اور اسی وجہ سے وہ تمام حیوانون میں قدرومنزلت رکھتی ہے ۔ اور اسی طرح تشیہو ہے کہ وہ تمام انسانوں ، تمام مسلمانوں اور تمام ادیان میں قدر و منزلت رکھتا ہے کہ جس نے وحی کو اور دین الہیٰ کو پوری دنیا میں نافذ کرنا ہے۔
*سبحان اللہ!*
آج کے دور میں جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید ہر دور کے لوگوں کے لیے نافذ ہوا۔ اگر پروردگار فرماتا ہے کہ *یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا* تو اس کا مخاطب آج کے زمانے کے لوگ (شیعہ) ہیں کہ جو امام مہدیؑ عج پر عقیدہ رکھتے ہیں۔
امام صادقؑ کے دور میں پروردگار کا کون مخاطب تھے؟ وہ لوگ جو امام صادقؑ کے دور میں تھے۔
آج حجت خدا بقیتہ اللہ ہیں اور جو ان پر ایمان رکھتا ہے مومن وہی ہے۔
*مومن ہونے کی شرط:*
اور اگر ہم کہیں کہ نہیں وہ تھے مومن تو پھر ہم کیا ہیں۔ جبکہ پیغمبرؐ کے زمانے میں یہی شرط تھی کہ اللہ کےبعد رسولؐ اور پھر ولیؑ پر ایمان رکھے کہ جو اللہ اور رسولؐ خدا کے بعد ان کے تمام اوصیاءؑ پر بھی ایمان رکھتا ہوگا وہ مومن ہے اگر ایک وصی پر بھی ایمان نہ رکھے تو وہ مومن نہیں۔
یعنی جو مولا علیؑ پر ایمان رکھتا ہو وہ مومن ہے اور جب امام حسن ؑ مجتبیٰ کا دور آیا تو اب شرط یہ تھی کہ جو مولا علیؑ پر ایمان رکھتا ہے لازم ہے کہ وہ ان پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ امام حسنؑ پر بھی ایمان رکھے وہ مومن ہے اسی طرح آج اگر خدا قرآن میں اہل ایمان سے مخاطب ہے تو وہ آج کے دور کے مومن ہیں جو گیارہ آئمہؑ کی ولایت کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے ولیؑ عج پر ایمان رکھتے ہیں۔
شہد کی مکھی کے ساتھ ہماری تشبیہ یہ ہے کہ شیعان محمدؐ و آل محمؑد مورد وحی ہیں مورد خطاب پروردگار ہیں۔
*سبحان اللہ !*
*دوسری تشبیہ:* 🪻
دوسری تشبیہ یہ ہے کہ شہد کی مکھی کو کہا کہ اپنے چھتے (گھر) بلندی پر بناؤ۔ یعنی اپنے گھروں کو معنوی طور پر بلندی پر رکھو۔ جہاں عبادت پروردگار ہوتی ہو۔ جہاں نیکیاں ہوتی ہوں جہاں مطالعہ قرآن ہوتا ہو۔ تاکہ تم بلندی پر رہو۔ کیونکہ جس گھر کا یہ ماحول ہو وہ معنوی لحاظ سے بلند سے بلند تر ہوتا جاتا ہے۔
*تیسری تشبیہ:* 🪻
اللہ نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ خدا کے بتائے گئے راستوں پر چل۔ اور شیعوں کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ خدا کے بتائے گئے راستے یعنی مکتب اہلبیتؑ سے جڑے ہیں۔ اور ان کے پاس صراط مستقیم ہیں۔
سبحان اللہ!
اس کے علاوہ بھی علمائے کرام گفتگو فرماتے ہیں کہ یہ جو امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ شہد کی مکھی جیسے ہو جاؤ تو اس میں بہت درس ہیں۔
شہد کی مکھی انفرادی زندگی نہیں گذارتی بلکہ اجتماعی زندگی گذارتی ہے۔ اور شہد کی مکھی آپس میں لڑتی نہیں وہ آپس میں ہمدل ہوتی ہیں۔ اور امام زمانہؑ عج کے ظہور کی اہم ترین شرط بھی یہی ہے کہ مومن آپس میں ہمدل ہوں تاکہ ظہور امامؑ عج ہو جائے۔
*چوتھی تشبیہ:* 🪻
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں میں نظم ہے۔ ان کے گھروں کی تعمیر میں ریاضی تمام اصول موجود ہیں اور ان کا جو نظام ہے یعنی شہد بنانے کا ایک خاص نظم ہے۔ ان میں ایک ملکہ ہوتی ہے جس کے تابع تمام نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ کچھ مکھیاں محافظ ہیں اور کچھ شہد بنانے کا کام کر رہی ہوتی ہیں۔ اور کچھ دیگر مکھیوں کے لیے خوراک کا انتظام کر رہی ہوتی ہیں یعنی ایک شیعہ اجتماع ایسا ہونا چاہیے۔
جب نظم ہوگا تب وہ ہستی ظہور فرمائے گی جو اس نظم کے اصولوں کو پوری دنیا پر لاگو کرے گی۔ پہلے دنیا میں ایک آئیڈیل معاشرہ تو تیار ہو جائے۔ خود انقلاب ایران اسی بنا پر وجود میں آیا تھا ایک مہدوی حکومت کا ڈھانچہ تیار ہوا تھا تاکہ ہم دنیا کو مہدیؑ عج کی حکومت کے بارے میں سمجھا سکیں۔ حکومت فقہی اس لیے نافذ ہوئی تھی تاکہ مثال پیش کی جائے اگرچہ یہ حکومت فقہی کامل نہیں تھی اور کچھ خامیاں تھیں لیکن اس حکومت نے دنیا کو مہدوی حکومت کا ایک تصور، ایک ماڈل پیش کیا۔اور امام کی حکومت خالص ہو گی *انشاءاللہ* !
*سبحان اللہ!*
*یہ جو کہا جاتا ہے کہ کلچر مہدوی کا احیاء کرو وہ یہی ہے کہ شہد کی مکھیوں کی طرح اپنا معاشرہ جگہ جگہ پر تشکیل دو۔*
۔ ▪️آپس میں ہمدلی اور محبت ہو
۔ ▪️گھر معنوی لحاظ سے بلند ہوں
۔ ▪️زندگی آپس میں نظم ، ایثار و تعاون، نیکی، اور خلوص کے ساتھ گذار۔
یعنی یہ جو کہا جاتا ہے کہ 313 مولاؑ عج کے ظہور سے قبل کام کریں گے وہ یہی ہے کہ وہ 313 آئیڈیل معاشرے بنائیں گے۔ جن میں ہمدلی اور نظم ہوگا۔ اور پھر جب امام ؑ عج انہیں دعوت دیں گے تو یہ سارے اپنے مولاؑ کے پاس اکھٹے ہو جائیں گے۔ اور جب یہ اکھٹے ہونگے تو دس یا بارہ ہزار کا لشکر تشکیل پائے گا کہ جو دنیا کی کمانڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔
*سبحان اللہ!*
313 کے بارے میں روایت ہے کہ ان میں سے ہر فرد کے پاس سو آدمیوں جتنی طاقت ہوگی۔ اور جو ان کے پیچھے دس یا بارہ ہزار کا لشکر ہوگا ان میں سے ہر آدمی کے پاس دس آدمیوں جتنی طاقت ہوگی۔ مثلاً عبادت ، شجاعت، ایثارو قربانی میں دس آدمیوں کے برابر ہونگے۔ اور ان کا رہبر سو آدمیوں کی صلاحیتیں رکھتا ہوگا۔
اب یہاں ایک اور تشبیہ ہے کہ شہد کی مکھی کا نتیجہ ہے شہد جو شفا بخش ہے۔ مومنوں اور شیعہ کے اجتماع سے جو چیز خارج ہوگی وہ روحانی شفا ہے۔ شہد کی مکھی کا نتیجہ شہد ہے اور شیعوں کے اجتماع کا نتیجہ حکومت صالحین ہے۔ یعنی قبل از قیام جب شعیہ اس طرح کے اجتماعات کریں گے تو نتیجہ قائم کا ظہور ہوگا اور حکومت صالحین بپا ہوگی۔ اور حکومت صالحین ایسی ہوگی کہ لوگوں کی ساری مشکلیں حل ہونگی لوگوں کا فقر و فاقہ، حرص و طمع سب ختم ہو جائے گا۔ یعنی
تمام موارد میں شعیہ حکومت ہوگی جو تمام دنیا کے لیے باعث شفا ہوگی اور دنیا کے سارے دکھ درد دور ہو جائیں گے۔
*انشاءاللہ* !
*دوسرا حصہ* 🫴
*فتنے*
*تمہید:*
آخرالزمان میں بہت سارے فتنے پھیلنے ہیں جیسے دجال کا فتنہ، فتنہ سفیانی، فتنہ آوازِ شیطانی، بیماریاں اور وبائیں ہونگی، سفید و سرخ موت۔
*لیکن!*
دوفتنے بہت اہم ہیں جو شیعوں میں پیدا ہونگے۔
1۔ فتنہ عقائد
لوگ عقائدی فتنوں میں مبتلا ہونگے اور لادین ہونگے۔ آج یہ فتنے موجود ہیں جیسے غلو ، قلندری، جمن شاہی فتنہ وغیرہ یہ تو پاکستان میں فتنے ہیں لیکن دوسرے ممالک میں جھوٹے مہدی اور جھوٹے نائبین ہیں۔ اور غلو سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یعنی لوگوں کو مولا علیؑ کی بندگی پر اکسانا۔ جبکہ بندگی خدا کے لیے خاص ہے۔ تشیہو اطاعت پذیری ہے۔
فتنہ عقائد میں تمام خواص اور عام مبتلا ہونگے۔
امیرالمونینؑ نے جو گندم والی مثال دی ہے وہ فتنہ عقائد کے بارے میں ہے۔
*2۔ اختلاف شیعہ:*
مالک بن ضمرہ نے اور بھی روایات اس سلسلے میں امیرالمومنینؑ سے نقل کیں ہیں جو انشاءاللہ روایات غیبت نعمانی کے دروس میں بیان ہونگی۔
شیعہ ایک دوسرے کو غلط کہہ رہے ہی ایک دوسرے کے منہ پر تھوک رہے ہیں اور ایک دوسرے کو باطل اور کذاب کہہ رہے ہیں۔ یہ فتنہ تا از ظہور رہے گا اور امام زمانہؑ عج اس کو خود ختم کریں گے۔
*مالک بن ضمرہ نے امیرالمومنینؑ سے ایک روایت نقل کی ہے۔ کہ*
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ ہمارا مہدی ستر کذابوں کو قتل کرے گا جو اب فتنوں کی وجہ ہیں۔ یعنی جو نام تو خدا کا اور رسولؐ کا لیتے ہونگے لیکن فتنہ کرتے ہونگے۔
*فرماتے ہیں :*
ستر ایسے شخص ہیں کہ جن کا کام شیعوں میں اختلاف کریں گے۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ علمائے سو ہیں یا منافقین ہیں۔
حتہ کہ اختلاف کی وجہ سے شیعہ ایک دوسرے پر لعن کریں گے اور تکفیر کریں گے۔ یہ فتنہ امام ؑ عج کے ظہور کے بعد ختم ہوگا۔
عقائد کے حوالے سے ضروری ہے کہ ہم اپنے عقائد کو حوضہ کے کسی پختہ عالم کے زیر نظر رکھیں۔ یعنی ایسے استاد کے جس کے اپنے عقائد درست ہوں۔ بسا اوقات بہت بڑی شخصیات ہیں کہ جو خود فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ سبھی نے بار بار آزمایا جانا ہے۔ (روایت امیرالمومنینؑ)
🤲
دعا ہے کہ پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی ان شعیوں کی مانند بنیں کہ جن کا اجتماع شہد کی مکھیوں کی مانند ہو۔ اور پروردگار ہمیں تمام فتنوں سے محفوظ رکھے کہ جس کے بارے میں امیرالمومنینؑ ہمیں خبردار کیا ہے۔ ان تمام فتنوں سے صحیح و سالم ایمان کے ساتھ اور آپس میں وحدت و ہمدلی کے ساتھ اس امتحان میں کامیاب ہونے کی توفیق دے اور اپنے زمانے کے امام کے ناصر ہونے کی توفیق دے۔
الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
شہر بانو✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍
*کتاب غیبت نعمانی*📚
درس نمبر4️⃣
موضوع درس:
مقدمہ کتاب سے تین روایات کی متن خوانی ، أخرالزمان میں انصار کی صفات کا جائزہ ، شبہہ قاتلین امام حسین ع سے انتقام کا جواب.
** استاد مہدویت حجت الاسلام علی اصغر سیفی صاحب**🎤🌹
ہماری گفتگو کا محور کتاب شریف غیبت نعمانی ہے اور ہم نے ابھی اس کا مقدمہ زیر بحث قرار دیا ہوا ہے۔ چونکہ یہ مقدمہ بہت سارے مطالب کے اعتبار سے غنی ہے۔ اور اس مقدمہ میں اہم ترین مہدوی نکات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔
چوتھا درسِ مقدمہ:
جناب کاتب نعمانیؒ نے مقدمہ میں دوسری روایت امام صادقؑ سے نقل کی ہے
کہ ہمیں جو آئمہؑ سے فیض ملا ہے پروردگار عالم ہمیں اس فیض کو محفوظ رکھنے کا اور اپنے دل وجان سے ان کے کلام سے صحیح معنوں میں مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ الہیٰ آمین!
امام صادقؑ نے زمانہ غیبت کے جو حالات ہیں ان کو بڑے خوبصورت انداز سے بیان کیا۔ اور اس روایت میں امام صادقؑ نے سب سے پہلے آزمائش کا ذکر کیا
فرماتے ہیں کہ:
خدا کی قسم تمھیں حتماً آزمایا جائے گا اور خالص کیا جائے گا اور جو لوگ خالص نہیں وہ خارج کئے جائیں گے۔ خدا کی قسم تم بائیں اور دائیں جانب پرواز کرو گے یعنی اپنے مسیر پر جو راہ راست ہے آئمہؑ پر مگر وہ شخص کہ جس کی تین صفات ہیں۔
1۔ 🌺 جس سے اللہ نے عہد و پیمان لیا
2۔ 🌺 اس کے دل پر ایمان نقش ہو چکا ہے۔
3۔ 🌺 اور پروردگار اپنی روح کے ساتھ اس کی تائید کرے گا۔
1۔ *میثاق* :
اس روایت میں سب سے پہلے میثاق، یعنی پیمان کا ذکر ہے۔
*وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِىٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِـمْ ذُرِّيَّتَـهُـمْ وَاَشْهَدَهُـمْ عَلٰٓى اَنْفُسِهِـمْۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوْا بَلٰىۚ شَهِدْنَاۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِيْنَ (172)*
اور جب تمھارے پروردگار نے فرزند آدمؑ کی پشتوں سے انکی ذریت کو لے کر انھیں خود ان کے اوپر گواہ بنا کر سوال کیا کہ کیا میں تمھارا خدا نہیں ہوں تو سب نے کہا۔ بیشک ہم اس کے گواہ ہیں۔ یہ عہد اس لیے لیا کہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ ہم اس عہد سے غافل تھے۔
یہ جو میثاق پروردگار ہے یہ ہم سب سے لیا گیا ہے لیکن کیوں مولاؑ فرماتے ہیں کہ تم سے عہد و پیمان لیا گیا کیونکہ ان کو یاد ہے اور انہوں نے اس میثاق پر عمل کیا۔ میثاق سب سے لیا گیا تھا۔
لیکن! اگر ہم امام صادقؑ کی روایت سے قطع نظرجو دیگر روایات کی رو سے دیکھیں تو امام زمانہؑ جب ظہور فرمائیں گے تو ان کے ناصرین کی عناوین کی جانب اگر غور کریں تو وہاں بھی یہ مثال جھلکتی ہے۔ مثلاً ان کو عنوان دیا گیا ہے کہ یہ:
رجالُ الہیون: الہیٰ مرد ہیں
ذٗخر اللہ : خدا کے ذخیرے
خواص:
خیر اللہ:
یعنی انہیں اپنا پیمان توحید یاد ہے۔
معصومؑ فرماتے ہیں : کہ یہ وہی لوگ ہیں کہ جو پروردگار کی توحید کا حق ادا کرتے ہیں۔ پیمان تو لیا گیا ہے لیکن یہ وہ خاص لوگ ہیں کہ جن کی رگ رگ کے اندر توحید ہے ۔
*امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ:*
رجال اعرف اللہ حق معرفتہ
ہم عام طور پر ہم یہ آئمہؑ کے لیے کہتے ہیں کہ ایک امام اس طرح معرفت رکھتا ہے جس طرح معرفت رکھنے کا حق ہے لیکن آئمہؑ نے جملہ اسی خالص گروہ کے لیے کہا۔
یہ خالص گروہ جو موجب ظہور قرار پائےگا یہ ہم میں سے ہی ظاہر ہوگا جو تیاری کرے گا اور مولاؑ عج کے ظہور کا باعث قرار پائے گا۔ ہمارا کام یہ ہے کہ جو صفات ان کی بیان ہوئی ہیں انہیں اپنے وجود میں ابھاریں۔
*2۔ اس کے دل پر ایمان نقش ہو چکا ہے۔*
پہلی صفت میثاق پروردگار ہےاللہ نے میثاق سب سے لیا ہے لیکن! یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو یہ میثاق یاد ہے اور وہ اس پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کو پہچانا اور اس کی ربوبیت پر ایمان اور اعتقاد پیدا کیا اور اس پر اپنی زندگی گذاری۔
مولا امام زمانہؑ عج جب ظہور فرمائیں گے اور جب سفیانی کے لشکر سے جنگ ہوگی۔ اور امامؑ عج جب نجف میں داخل ہونگے تو فرمائیں گے کہ آج کی رات سب نے عبادت کرنی ہے تو روایت کہتی ہے کہ پورا لشکر ساری رات رکوع و سجود میں گذارے گا۔ یعنی وہی توحید و بندگی پروردگار ان کے وجود سے ظاہر ہے۔
ہم اس زاویے سے بھی نگاہ کر سکتے ہیں کہ پیمان تو سب سے لیا گیا لیکن ان کے وجود سے ظاہر ہوگا۔
*سورہ مجادلہ 22🌸*
*لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ رَضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۚ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّـٰهِ ۚ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّـٰهِ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ (22)*
آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں،
یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے، اور وہ انہیں بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے، یہی اللہ کا گروہ ہے، خبردار بے شک اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔
مولا امام صادقؑ نے اپنے اس فرمان میں آیات سے استفادہ کیا۔ اور اگر ہم امامؑ کے فرمان کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سورہ مجادلہ کی آیت نمبر 22 کو سمجھنا پڑے گا تب ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ گروہ کون سا ہے۔ یعنی وہ گروہ کہ جس کے قلوب میں ایمان نقش ہو چکا ہے۔
ہمارے علمائے و ماہرین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ جب انسان معرفت حاصل کرتا ہے اس وقت ایمان نقش ہو جاتا ہے۔ ہمیں عام طور پر خدا اور آئمہؑ کے بارے میں معلومات ہیں لیکن ہم صدق دل سے نہیں کہہ سکتے کہ ہم مومن ہیں ممکن ہے کہ ہم کہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم نے کلمہ توحید پڑھا ہوا ہے۔ لیکن ایمان یہ وہی حالت یقین ہے جو انسان کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ جو معرفت اللہ رکھتا ہے وہ کبھی بھی گناہ کے قریب نہیں جاتا اسی طرح جو کاملاً معرفت آئمہؑ رکھتا ہے وہ کبھی بھی مشیعت امامؑ کے تابع ہوتا ہے۔
*امامؑ فرماتے ہیں کہ:*
یہ گروہ تھوڑا سا رہ جائے گا۔ یعنی خالص گروہ بچے گا اور جو دعوے کرتے ہیں کہ ہم حبدار ہیں ہم عاشق ہیں ، مولائی ہیں وہ سارے دائیں بائیں پرواز کر جائیں گے اور باقی وہی رہ جائیں گے کہ جنہوں نے حقیقی معنوں میں اپنے امامؑ عج کی معرفت حاصل کی ہو گی۔ اسی لیے مہدوی ابحاث کے اندر جو بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے وہ وہی معرفت امامؑ عج ہے۔
معرفت امام وہی نقطہ آغاز ہے۔ معرفت امام دل پر نقش پیدا ہونا ہے۔ حالانکہ اللہ کی معرفت سے قبل امامؑ کی معرفت ضروری ہے۔
*مَنْ ماتَ وَ لَمْ یعْرِفْ إمامَ زَمانِہِ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیۃ؛*🌸
جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے، تو یقینا وہ جاہلیت کی موت اس دنیا سے چلا جائے گا۔
معرفت امام دریچہ معرفت پروردگار اور پیغمبرؐ ہے۔ اور ہر دور میں جو ھادی موجود ہے وہ گذشتہ تمام آئمہؑ کی تعلیمات اور اللہ کی ہدایت کی جانب ایک دریچہ ہے۔ یعنی اس کی معرفت سے ہمیں توحید اور سنت پیغمبرؐ کی سمجھ آئے گی۔
ورنہ بہت سارے لوگ توحید رکھتے ہیں لیکن جو لوگ معرفت امام وقتؑ عج رکھتے ہیں ان کی توحید ان لوگوں کی توحید سے فرق ہے۔ وہ لوگ توحید پروردگار میں تشبیہ کے قائل ہوگئے اور ہم تنزل کے قائل ہیں۔ ہمارے آئمہؑ نے بتایا کہ خدا جسم نہیں رکھتا اور اسے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔
*معرفت کیسے پیدا ہوتی ہے؟*❓❓
فکر، تعاقل، تعلیم
معرفت معلومات کے بڑھنے سے ہوتی ہے ہماری کسی بھی موضوع پر جتنی معلومات بڑھتی چلی جائیں گے ہم حالت یقین پر پہنچ جائیں گے۔اور ہم اس کے مطابق اپنی زندگی گذاریں گے۔
اسی لیے امام صادقؑ نے فرمایا کہ ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو چکا ہے اور ان کے تمام اعضاء و جوارح اور کیفیات اس ایمان کے تابع ہیں۔
امامؑ عج کے ناصرین کی ایک اور صفت جو بیان ہوئی ہے کہ جب یہ اپنے امامؑ عج کے سامنے آئیں گے تو یہ مانند کنیز و غلام ہونگے یعنی اس قدر حالت تسلیم رکھیں گے۔ اور یہ معرفت امامؑ عج کی دلیل ہے۔ یعنی وہاں جنگ سفین و جنگ جمل اور امام حسنؑ مجتبیٰ کی جنگ والی کیفیات نہیں ہے۔ وہاں امام زمانہؑ عج کے سامنے چوں چراں نہیں ہے بلکہ فقط اور فقط اطاعت ہے۔
اسی لیے تو ہمارے آئمہؑ اور علمائے کرام جب قائمؑ عج کے اصحاب کی مثال دیتے ہیں تو حتہ کربلا کے شہداءؑ کی مثال دیتے ہیں۔ اس لیے عزاداری اور ہر سال کربلا کی یاد کا مقصد بھی امام زمانہؑ عج کے ناصرین کو تیار کرنا ہے تاکہ شہدائے کربلا جیسے ہوں۔ کیونکہ شہدائے کربلا وہی لوگ تھے کہ جن کے وجود میں اور قلوب میں ایمان راسخ ہو چکا تھا اور جیسے جیسے وقت شہادت قریب آرہا تھا ان کے چہرے سرخ اور ہشاش ہورہے تھے۔ اور ان پر نہ تو آثار خوف تھا نہ ہی آثار غم بلکہ شہادت کی خوشخبری ان کے وجود سے جھلک رہی تھی۔ اور یہ وہی حالت ایمان ہے۔
*3۔ پروردگار اپنی روح کے ساتھ اس کی تائید کرے گا۔*
سورہ مجادلہ کی آیت نمبر 22 میں بھی آیا ہے کہ پروردگار اپنی روح سے ان کی تائید کرتا ہے۔
*روح سے کیا مراد ہے؟*❓❓
عام طور پر ہم سنتے ہیں "روح القدس" انبیاؑء کی اللہ اپنی روح سے تائید کرتے ہیں اور سورہ قدر میں آیا ہے روح۔
اس حوالے سے مختلف روایات ہیں اور ہم نے کسی ایک جگہ اکتفاء کرنا ہے۔
ہمارے بعض مفسریں روح سے مراد حضرت جبرائیلؑ کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ روح سے مراد ایک ایسا فرشتہ ہے کہ جس کا مقام جناب جبرائیلؑ و میکائیلؑ سے بھی بلند ہے۔ اور پروردگار اس فرشتے کے ذریعے تائید پیغمبرؐ ، نصرت پیغمبؐر اور معجزات پیغمبرؐ کرتا تھا۔ جبرائیلؑ صرف وحی پروردگار لاتے تھے۔ اور روح ایک فرشتے کا اسم ہے کہ جس کا مقام باقی ملائکہ خاص سے بلند ہے۔
مثلاً ہمارے آئمہؑ فرماتے ہیں کہ یہ جو حضرت عیسیٰؑ بے اذن پروردگار مردوں کو زندہ کرتے تھے یہ وہی روح پروردگار تھی یعنی وہی ملک تھا۔ کہ جو حضرت عیسیٰؑ کے ہمراہ تھا کہ جو حضرت عیسیٰؑ کی مدد کرتا تھا۔
البتہ بعض روایات میں ہے کہ روح ملائکہ سے ہٹ کر ایک موجود ہے کیونکہ حضرت جبرائیلؑ افضل ترین فرشتے ہیں۔
بعض روایات اور علماء کہتے ہیں کہ روح خدا کی ایک غیبی طاقت ہے۔
روح چاہے ملک ہو یا غیبی طاقت ہے یہ فقط انبیاءؑ تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ انبیاءؑ کے اوصیا کے ساتھ ہے
*جیسا کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں*
روح وہ فرشتہ ہے جو جناب میکائیلؑ اور جناب جبرائیلؑ سے مقام میں بلند ہے اور وہ پیغمبرؐ کی زندگی میں میں ان کے ساتھ تھا اور ان کے بعد ہم آئمہؑ کے ساتھ ہے۔
اسی لیے ہمارے بعض علماءکہتے ہیں کہ آئمہؑ کے علم غیبی کا منشا یہی روح ہے۔
جب آئمہؑ سے الہام کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے کان میں آواز آتی ہے۔ (روح)
*لیکن!* ہمارے علمائے بزرگان جو نتیجہ نکالتے ہیں وہ یہ ہے کہ روح آئمہؑ کے ساتھ درجہ قوی پر ہوتا ہے اور فقط آئمہؑ تک محدود نہیں ہے بلکہ ان سے نیچے والے اہل ایمان و اہل تقویٰ کے ساتھ روح درجہ ضعیف پہ ہوتا ہے۔ لہذا مشکل اوقات میں ان کی مدد بھی یہی روح کرتا ہے۔
فرض کریں کہ ایک شخص جو پاکیزگی چاہتا ہے تو اس کی پاکیزہ راہوں کی جانب مدد کرتا ہے اور اسے شہوات، گناہ اور دشمن سے بچاتا ہے اور اس نکلنے کی راہ بھی بتاتا ہے۔
*لیکن !* اگر اب کوئی گناہ کرنے کا تحیہ کر لے تو پھر ایک اور بات ہے لیکن روح گناہ سے بچنے کی راہ بتاتا ہےاور دشمن سے بچنے کی راہ بتاتا ہے۔
مولا امام زمانؑ عج کی جو فوج ہے قبل از قیام ان کی پروردگار کی روح کے ذریعے سے تائید ہوگی۔ اسی لیے تو یہ لوگ فتح پائیں گے۔
سب سے پہلے یہ لوگ اپنے اندر کے میدان جنگ میں اپنے نفس سے لڑیں گے اور فتحیاب ہونگے اور پھر بیرون دنیا میں دشمنان دین اور دشمنان خدا سے جنگ کریں گے۔ اور مشرق سے مغرب تک حکم خدا کو نافذ کریں گے۔ جیسا کہ معصومؑ فرما رہے ہیں کہ ان کے ساتھ تائید پروردگار بھی ہوگی۔
*اس کے بعد معصومؑ فرما رہے ہیں کہ:*
نصرت قائمؑ عج:
اس امر (نصرت قائمؑ عج) پر کم رہیں گے پھر ان کے درمیان تصفیہ ہوگا اور پھر کم رہ جائیں گے۔
*بعض مرتبہ سوال ہوتا ہے کہ آیا مولاؑ عج فقط 313 کے منتظر ہیں جب کہ حوضہ میں اتنے علماء فقہاء اور باہر کی دنیا میں اتنے اہل ایمان ہیں؟*❓❓
یقین کریں کہ وہ تین سو تیرا نہیں ہیں کیونکہ جو ہم نے قائمؑ عج کی صفات پڑھیں ہیں اگر ہم ان صفات کو دیکھیں تو شائد ہمیں اپنی زندگی میں کوئی ایک شخص ان صفات میں سے ایک صفت پر محسوس ہو ورنہ نہیں ہے۔ یعنی جیسا کہ امامؑ فرما رہے ہیں کہ وہ کم ہونگے۔ البتہ ان 313 کے بارے میں روایات میں ملتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک سو مردوں کی طاقت رکھتا ہے یعنی جسمانی، روحانی، فکری اعتبار سے وہ سو کے برابر ہوگا۔
اس کے علاوہ دس یا بارہ ہزار کا لشکر ہوگا کہ جس نے امام زمانہؑ عج کی بیعت کرنی ہے تو کیا ان کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ ان میں سے ہر آدمی دس کے برابر ہوگا۔ یعنی یہ لشکر تقریباً 313 کو ملا کر مولاؑ عج ڈیرھ لاکھ کے لشکر کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو ان صفات سے آراستہ ہے۔
ابھی محبین، اہل ایمان ، اہل انتظار ہیں لیکن جن کا مولاؑعج کو انتظار ہے وہ 313 کا عدد ابھی بھی پوری دنیا میں پورا نہیں ہوا۔ بلخصوص دس یا بارہ ہزار میں بھی چند سیکنڑوں ہو سکتے ہیں تو جب تک یہ لشکر پورا نہیں ہوگا اس وقت تک امام کا ظہور نہیں ہوگا اور یہ باعث افسوس ہے۔
*سوال ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟*❓❓
جواب: یہ ایسے ہی ممکن ہے کہ امیرالمومنینؑ کے ایک لاکھ سے زائد محبین تھے لیکن کربلا میں فقط بہتر بمشکل پہنچے۔
امام صادقؑ کے دور میں لاکھوں شیعہ تھے لیکن امام صادقؑ کو سات ناصر مہیا نہیں ہورہے تھے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اس دور میں محبین زیادہ تھے شیعہ زیادہ تھے لیکن وہ گروہ کہ جس کی بنا پر مولاؑ عج قیام بپا کرتے وہ میسر نہ تھا۔
اور آج بھی صد افسوس! کہ وہ گروہ اب تک میسر نہیں کہ جس کی بنا پر امامؑ عج حکومت الہیہ کو بپا کریں۔ اگر ہم کہیں کہ نہیں ! محبین کی صورت میں بھی حکومت الہیٰ بپا ہو سکتی ہے تو مولا علیؑ نے بھی بپا کی تھی لیکن یہ ان تمام صفات سے آراستہ نہیں تھے اور اس کے نتیجے میں اپنے ہی لوگوں کی وجہ سے مسائل ہوئے۔ بعض مقامات پر گورنر کو تبدیل کیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ آدمی عبادت گذار ہو لیکن وہ ابھی سیاسی طور پر ابھی تیار نہیں ہوا تھا کہ اس کے حوالے ایک حکومت کی جائے۔
*جیسے مولا علیؑ کے دشمن (خوارج) اپنے ہی لوگ بن گئے۔*
مولا علیؑ کے محبین تو تھے لیکن وہ معرفت مولا علیؑ نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے خود کو حکومت علویہ کے لیے تیار نہیں کیا ہوا تھا۔
ابھی ہم دجالی بحران اور عقائدی بحرانوں سے گذر رہے ہیں اور بعد میں ہم پر حملہ ہوگا۔
ابھی وہ تعداد بہت کم ہے۔ لیکن 313 سب کو نظر آئیں گے یہ 313 رہبران اور قائدین ہیں اور یہ 313 امام عج کے ظہور کے لیے پورے پورے جامع ، معاشرے کی تربیت کر رہے ہیں اور کلچر انتظار کو پھیلا رہے ہیں۔ یہ پیشگان ہیں اور ان کے پیچھے امت ہے اور لوگ ہیں جو ان کے ساتھ چلیں گے۔ ان کے شاگردوں اور پیروکاروں کی ایک تعداد ہوگی جو ان کے پیچھے چلے گی اور ان کی نگاہ امام عج پر ہوگی۔ جیسے کہتے ہیں کہ یمنی جو امامؑ عج کے ظہور سے قبل خروج کرے گا وہ انہی 313 میں سے ایک ہے۔
اگر ہم یمنی پر غور کریں تو ہمیں باقی 312 کی صفات بھی سمجھ آ جاتی ہیں۔
استاد محترم ایک مثال دیتے ہیں کہ فرض کریں کہ جیسے ایران میں رہبر معظم ہیں اور عراق میں آیت اللہ سیستانی ہیں مثلاً لبنان میں سید حسن نصر اللہؒ ہیں، بحرین اور یمن میں فلاں شخصیت ہے یعنی اس طرح کے لوگ ہیں جو مشخص ہیں کہ جو ظہور کی راہ کو ہموار کریں گے اور امامؑ عج سے پہلے جنگ کو شروع کر دیں گے۔ دشمنان دین کے مد مقابل کھڑے ہونگے اور نظریاتی اور فکری علمی، سیاسی سرحدوں کے محافظ بنیں گے اور ہر ہر جگہ پر یہ اپنا کردار ادا کریں گے یہ نرم جنگ کریں گے اور سخت جنگ امام زمانہؑ عج کے ظہور کے بعد ہوگی۔
*اس کے بعد معصوؑم فرماتے ہیں کہ:*
یہ وہ گروہ ہیں جو اس امر پر باقی رہیں گے۔ ثابت قدم رہیں گے اور حق پر قائم رہیں گے اور یہ وہ گروہ ہے کہ جسے زمانہ غیبت میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔
روایات غیبت کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات ایسی ہیں جو ہمیں صبر کا حکم دیتی ہیں۔
مثلاً
سید الشہداؑ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے
فرمایا:
جب تمھیں اذیتیں دی جائیں اور تکذیب کی جائے کہ کہاں ہے تمھارا امام اور کہاں ہے ظہور اس وقت تم صبر کرنا۔
*صبر سے مراد کیا ہے؟ کیا خاموش بیٹھ جانا ہے؟*❓❓
جی نہیں۔
اس صبر سے مراد ظہور کی تیاری ہے۔ اس صبر سے مراد صفات یاران امام زمانہؑ عج کو اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔
*اسی صبر کے حوالے سے جو امام محمد باقرؑ کی روایت نقل ہوتی ہے ۔ اس روایت کے اندر مولاؑ فرماتے ہیں کہ:* 🌸
امام محمد باقرؑ نے پہلے آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی:
*يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِـرُوْا وَصَابِـرُوْا وَرَابِطُوْاۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (200)*
اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلہ کے وقت مضبوط رہو اور لگے (ڈٹے) رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔
اصبرو سے مراد مشکلات کے مد مقابل صبر کرو اور پائدار رہو
رابطو اپنے فکری سرحدوں کی حفاظت کرو۔
امام باقرؑ اس کی زمانہ غیبت کے حوالے سے تفسیر کرتے ہیں کہ :
یہاں اصبرو سے مراد واجبات کے انجام دہی میں صبر کرو یعنی اپنے خواہشات نفسیانی سے لڑو۔ اور دشمنوں کے مدمقابل دفاعی پوزیشن پر رہو۔ یعنی زمانہ غیبت میں ہماری پوزیشن دفاعی ہے نہ کہ ہم حملہ آور ہوں۔ حملہ کی پوزیشن تب ہو گی جب ظہور امامؑ عج ہوگا۔ ابھی ہماری ذمہ داری تیاری اور دفاع ہے۔
اسی لیے علماء و فقہا زمانہ غیبت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ کسی بھی اسلامی مملکت کو حق نہیں کہ وہ کسی دوسری مملکت پر حملہ کرے حتہ کہ کسی فقیہ کی حکومت کو بھی یہ حق نہیں بلکہ دفاع کرے۔
یعنی دشمنوں کے مدمقابل دفاع کرو اور صبر کرو یعنی اگر دشمن نے آپ پر تجاوز کیا ہے تو آپ نے نہیں کرنا۔
*فرماتے ہیں کہ؛*
وَرَابِطُوْاۚ سے مراد کہ آپ کو اپنے زمانے کے امام کی جانب توجہ کرنی ہے اور ان کے نگہبان بننا ہے۔ یعنی مہدویت کی تعلیمات کے نشر میں حقائق مہدویت کے محافظ بنو اور اس کا دفاع کرو۔
*فرماتے ہیں کہ:*
یہ گروہ کم ہے یعنی سارے یہ کام نہیں کریں گے اور امیر المومنینؑ نے فرمایا کہ ہدایت کی راہ میں قلیل تعداد ہونے سے نہ وحشت کھائیں کہ بالآخر پروردگار ہمارے ساتھ ہے۔
اس روایت کی سند اپنی جگہ موضوع بحث ہے لیکن روایت کو سب سے پہلے نقل کرنے والے احمد بن محمد بن سعید بن عقدۃ الکوفی بہت بڑی شخصیت ہیں یعنی وہ شخصیت جو غیبت صغریٰ کے بزرگان میں سے ہیں اور یہ وہ شخصیت ہیں کہ جن کا سنی بھی احترام کرتے ہیں یہ ایک لاکھ بیس ہزار احادیث کے سند کے ساتھ راوی تھے۔
*امیرالمومنین نے خطبہ میں فرمایا:* 🌟🌟
اے لوگوں میں ایمان کو سونگھتا ہوں میں ہدایت کو دیکھتا ہوں۔ اے لوگوں کبھی بھی راہ ہدایت میں قلیل تعداد ہونے سے وحشت نہ کھاؤ کیونکہ حضرت آدمؑ سے لیکر اب تک یہی رہا ہے۔ راہ ہدایت میں لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔
*فرماتے ہیں کہ :*
لوگ ایک ایسے سفرے کے گرد جمع ہیں جہاں تھوڑے سے لوگ سیر ہونگے اور اکثر لوگ بھوکے اٹھیں گے۔
دنیا میں اللہ نے قرآن اور تعلیمات محمدؐ و آل محمدؑ اور امام وقتؑ عج کی شکل میں راہ ہدایت کھولی ہوئی ہے۔ لیکن اس دسترخوان الہیٰ سے سیر ہونے والے لوگ تھوڑے ہیں۔
*اللہ اکبر!*😭🤲
*فرماتے ہیں کہ:*
خدا سے مدد مانگنی چاہیے کہ اس الہیٰ دسترخوان سے ہمیں سیر کرے۔ الہیٰ آمین۔
اس کے بعد فرماتے ہیں کہ :
لوگوں کو کون سی چیز اکھٹا کرتی ہے جب راضی ہوتے ہیں یا غمی میں یا پھر غذا اکھٹا کرتی ہے۔ یا پھر احتجاج کرنا ہو تب اکھٹے ہوتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ:
*ایک شخص نے جناب صالحؑ کی اونٹنی کو اذیت پہنچائی تھی لیکن اللہ نے ساری قوم کو عذاب دیا کیونکہ سارے راضی تھے۔* 🫴
پھر آیات کی تلاوت فرمائی:
*سورہ قمر آیت نمبر 27 تا 31🌸*
*اِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّـهُـمْ فَارْتَقِبْـهُـمْ وَاصْطَبِـرْ (27) ↖*
بے شک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجنے والے ہیں پس (اے صالح) ان کا انتظار کر اور صبر کر۔
*وَنَبِّئْـهُـمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْـمَةٌ بَيْنَـهُـمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ (28) ↖*
اور ان سے کہہ دو کہ پانی ان میں بٹ گیا ہے، ہر ایک اپنی باری سے پانی پلایا کرے۔
*فَنَادَوْا صَاحِبَـهُـمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ (29) ↖*
پھر انہوں نے اپنے رفیق کو بلایا تب اس نے ہاتھ بڑھایا اور (اس کی) کانچیں کاٹ ڈالیں۔
*فَكَـيْفَ كَانَ عَذَابِىْ وَنُذُرِ (30) ↖*
پھر (دیکھا) ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا تھا۔
اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ صَيْحَةً وَّّاحِدَةً فَكَانُـوْا كَهَشِيْـمِ الْمُحْتَظِرِ (31) ↖
بے شک ہم نے ان پر ایک زور کی چیخ کا عذاب بھیجا پھر وہ ایسے ہو گئے جیسا کانٹو ں کی باڑ کا چورا۔
*سورہ شمس آیت 11 تا 15*🌸
*كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوَاهَآ (11) ↖*
ثمود نے اپنی سرکشی سے (صالح کو) جھٹلایا تھا۔
*اِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاهَا (12) ↖*
جب کہ ان کا بڑا بدبخت اٹھا۔
*فَقَالَ لَـهُـمْ رَسُوْلُ اللّـٰهِ نَاقَةَ اللّـٰهِ وَسُقْيَاهَا (13) ↖*
پس ان سے اللہ کے رسول نے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے بچو۔
*فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْـهِـمْ رَبُّهُـمْ بِذَنْبِهِـمْ فَسَوَّاهَا (14) ↖*
پس انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر ان پر ان کے رب نے ان کے گناہوں کے بدلے ہلاکت نازل کی پھر ان کو برابر کر دیا۔
*وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا (15) ↖*
اور اس نے اس کے انجام کی پروا نہ کی۔
اللہ نے اس کے انجام کی پرواہ نہ کی کیونکہ گناہ کرنے والے اور گناہ پر راضی ہونے والے سب ایک برابر ہیں
فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تم سے میرے قاتل کے بارے میں سوال کررہا ہے اور یہ گمان کر رہا ہے کہ میرا قاتل مومن ہے تو وہ یہ ہی سمجھے کہ اس نے مجھے قتل کیا۔ یعنی جو علیؑ کے قاتل کو مومن سمجھے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے قاتل علیؑ۔
فرمایا:
اے لوگوں جو ہدایت کی راہ پر چلے وہ نتیجے (نجات) تک پہنچے گا اور جو گمراہ ہوگا وہ صحرا یعنی بیاباں میں چلا جائے گا۔
اس کے بعد امیرالمومنینؑ ممبر سے نیچے تشریف لے آئے۔
اس خطبے کو بیان کرنے کا مقصد ایک شعبہ دور کرنا ہے۔ ہم نے یہ سنا ہے کہ جب امام زمانؑ عج تشریف لائیں گے تو قاتلین سید الشہداءؑ سے انتقام لیں گے وہ منتقم خون خدا ہیں۔
امام صادقؑ سے سوال ہوا کہ آیا واقعاً قاتلین سید الشہداءؑ سے انتقام لیں گے۔
سورہ الاسرا آیت نمبر 33
*وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّـٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِـوَلِـيِّـهٖ سُلْطَانًا فَلَا يُسْـرِفْ فِّى الْقَتْلِ ۖ اِنَّهٝ كَانَ مَنْصُوْرًا (33)*
اور جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا، اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہٰذا قصاص میں زیادتی نہ کرے، بے شک اس کی مدد کی گئی ہے۔
اس آیت کے ذیل میں ہمارے آئمہؑ کہتے ہیں کہ یہ آیت بلخصوص شان سید الشہداءؑ میں نازل ہوئی ہے۔ اور یہ جو ولی سلطان ہے یہ امام زمانؑ عج ہیں
🫴
*امام صادقؑ اسی خطبے سے روایت کرتے ہیں کہ امیرالمومنینؑ نے فرمایا۔*
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے قائم ؑ عج ظہور فرمائیں گے تو وہ لوگ جو اس وقت قتل حسین ؑ پر راضی ہونگے کہ یزید نے ٹھیک کیا یعنی ان قاتلین کی جو روحانی اولادیں ہونگی جو اپنے روحانی آباؤ اجداد کے کام پر راضی ہونگے ان کو مولا امام زمانہؑ عج قتل کریں گے۔ انشاءاللہ!
وہ کربلا اور تھی۔ آج کی کربلا میں ان لعینوں کی روحانی اولادیں قائمؑ عج کے ہاتھوں فنار ہونگی۔
*انشاءاللہ!*🌸
امام عج اور ان کی سپاہ اتنی قوی ہونگے اور روایات میں پوچھا گیا کہ یہ ولی سلطان کون ہیں تو کہا گیا کہ یہ وہی نصرت پروردگار اور رعب پروردگار ہوگا کہ جودشمنوں کے دلوں پر بیٹھے گا۔ یا ناصرین، ملائکہ اور روح قدس کی مدد ہوگی۔
*اب یہ بھی امام زمانہؑ عج کے مدمقابل آرہے ہیں۔ یہ سب صف باندھیں گے اور لشکر کشی کریں گے اور اس مصباح الھدیٰ کو بجھانے کے لیے وار کریں لیکن پروردگار قائم اور ان کے ناصرین کو فتح نصیب فرمائے گا۔*
*انشاءاللہ !*🌸
پروردگارکی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں انہیں عظیم گروہ قلیلا کہ جن کی خبر روایات میں ہے ہمیں بھی ان میں شامل ہونے کا شرف عطا کرے کہ ہم اپنے زمانے کے امامؑ عج کی رکاب میں دشمنان خدا سے لڑنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری آنکھوں کو ظہور امام مھدیؑ سے منور فرمائے۔ ہمیں امام زمان عج کے ساتھ سعادت مند زندگی اور ان کی رکاب میں سعادت مند موت عطا فرمائے۔
آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌍
*کتاب غیبتِ نعمانی*📚
*درس 5.*
موضوع درس: مقدمہ کتاب سے چند روایات کی متن خوانی، امام مانند آب حیات امام مانند آب حیات اور حدیث یملاء الارض کا درست معنی ، ظہور سے پہلے حالات پر شبہہ کا ازالہ ، اہل فتنہ سے مجادلہ کا منع ہونے کی وجہ اور مجادلہ کی حقیقت
*استاد محترم : آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹
ہماری گفتگو مقدمہ کتاب میں ہے اور مقدمہ کتاب سے سلسلہ روایات مذید بیان ہونگی۔ گذشتہ درس میں ایک روایت بیان ہوئی تھی اور آج اس روایت کا معنیٰ بیان ہوگا۔
*روایت امیرالمومنینؑ*🌺
وفی قول امیر المومنینؑ:
*من سلک الطریق وردالماء و من حاد عنہ وقع فی التیہ ؛*
معصومؑ نے ممبرِکوفہ سے یہ جملہ کہا اور پھر مولا علیؑ کوفہ کے ممبر سے اتر گئے۔
اس روایت کے معنیٰ کیا ہیں اور امامؑ کس جانب اشارہ فرما رہے ہیں:
یہاں مولاؑ جو فرما رہے ہیں کہ جو سیدھے راہ پر چلے گا وہ پانی تک پہنچے گا اور جو نہیں چلے گا وہ بیابانوں اور صحراؤں میں سرگرداں رہے گا۔
الطریق سے مراد وہی صراط مستقیم ہے یعنی جو بھی صراط مستقیم تک پہنچے گا۔
*وردالماء* وہ پانی تک پہنچ جائے گا
و من حاد عنہ وقع فی التیہ
اور جو اس سے ہٹ جاتا ہے وہ بیابان میں گر جاتا ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ روایات کے اندر آئمہؑ آیات قرآن سے بہت زیادہ استفادہ فرماتے ہیں۔ اس حدیث میں اگر ہم دیکھیں تو امیرالمومنینؑ اس روایت میں یہ فرما رہے ہیں کہ جو بھی پانی تک پہنچے گا۔ اب یہاں لفظ ماء (پانی) سے کیا مراد ہے؟
اگر ہم قرآنی آیات کی جانب نظر دوڑائیں تو یہ آیت امام مھدیؑ عج کے بارے میں ہے لیکن امامؑ عج کو بعنوان پانی کے معرفی کیا گیا ہے۔ اور اس آیت کے ذیل میں جو روایات ہیں اور میں آئمہؑ نے فرما دیا ہے کہ یہاں پانی سے مراد ہم امامؑ ہیں۔ یعنی صراط مستقیم ہم ہیں۔
*یعنی جو صراط مستقیم پر چلے گا وہ امام حق تک پہنچے گا۔*
*سورہ ملک*🌺
30 نمبر آیت:
*قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ (30)*
کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر تمہارا پانی خشک ہو جائے تو وہ کون ہے جو تمہارے پاس صاف پانی لے آئے گا۔
اب ظاہراً تو یہ لگتا ہے کہ یہاں پانی کی بات ہو رہی ہے لیکن ! اس آیت کی تاویل میں جتنی بھی روایات بیان ہوئی ہیں ان میں آئمہؑ نے پانی سے مراد امامت لی ہے۔ اور اس آیت سے ہمیں مولا علیؑ کے فرمان کی بھی سمجھ آتی ہے۔
کیونکہ روایت کی تفسیر روایت کرتی ہے کہ مولا علیؑ بالآخر کس پانی کی بات کر رہے ہیں اور یہاں پانی سے مراد وہی مقام امامت ہے۔
*مثلاً بعنوانِ مثال امام رضا ؑ نے اسی آیت کے ذیل میں فرمایا:*
🌺
*مَاؤُکُمْ أَبْوَابُکُمْ أَیِ الْأَئِمَّهًُْ (علیهم السلام) وَ الْأَئِمَّهًُْ.*
یہاں جو تمھارے پانی جو زمین میں جاتے ہیں یا جاری ہو جاتے ہیں یہاں ابواب اللہ سے مراد تمھارے آئمہؑ ہیں۔
*أَبْوَابُ اللَّهِ بَیْنَهُ وَ بَیْنَ خَلْقِهِ*
یہ آئمہؑ ہیں جو اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان دروازے ہیں یعنی باب اللہ ہیں۔ یہاں معصومؑ نے ماء سے مراد امام لیا۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظمؑ سے ان کے بھائی علی ابن جعفر روایت کرتے ہیں کہ:
جب امام معصومؑ سے پوچھا کہ یہاں پانی سے مراد کیا ہے تو فرمایا:
*إِذَا فَقَدْتُمْ إِمَامَکُمْ فَلَمْ تَرَوْهُ فَمَا ذَا تَصْنَعُونَ*
جب امام تمھاری نظروں سے اوجھل ہوجائے گا اس وقت تم اس کو نہیں دیکھو گے تب کیا کرو گے۔
یعنی ہمارے ساتویں امامؑ اس آیت کے ذیل میں لفظ ماء سے مراد امامؑ لے رہے ہیں اور پانی کے زمین میں چلے جانے سے مراد لفظ غیبت لے رہے ہیںَ
*کمال الدین میں امام محمد باقرؑ سے ایک روایت ہے کہ :*
📚
*هَذِهِ نَزَلَتْ فِی الْقَائِمِ (عجل الله تعالی فرجه الشریف)*
فرماتے ہیں کہ: یہ آیت امام زمانؑ عج کے حوالے سے ہیں یہ روایت طولانی ہے اور تفسیر برھان میں ایک روایت ہے کہ جس کے ذریعے ہمیں امرالمومنینؑ کے فرمان کی تشریح پتہ چل جائے گی کیونکہ روایت روایت کی تشریح کرتی ہے جس طرح آیت آیت کی تشریح کرتی ہے۔
*تفسیر البرھان*📚
*پیغمبرﷺ فرماتے ہیں کہ:*
*الرّسول (صلی الله علیه و آله)- عَن عَمَّارٍ (رحمة الله علیه) قَالَ کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) فِی بَعْضِ غَزَوَاتِهِ وَ قَتَلَ عَلِیٌّ (علیه السلام) أَصْحَابَ الْأَلْوِیَهًِْ*
پیغمبرﷺ فضائل امیرالمومنینؑ بیان فرماتے ہیں کہ اے عمارؒ علیؑ مجھ سے ہیں اور میں علیؑ سے ہوں۔ وہ میرے بعد قاضی اور خلیفہ ہیں۔ اگر علی نہ ہوتے تو خالص مومن کی پہچان نہ ہوتی اور پھر ۔۔۔۔۔۔ آخر میں جب فرزندان امیرالمومنینؑ کا ذکر جب آتا ہے اور جب امام حسینؑ کا ذکر آتا ہے تو فرماتے ہیں کہ:
*یُخْرِجُ مِنْ صُلْبِ الْحُسَیْنِ (علیه السلام) أَئِمَّهًًْ (علیهم السلام) تِسْعَهًًْ وَ التَّاسِعُ مِنْ وُلْدِهِ یَغِیبُ عَنْهُمْ*
فرزند علیؑ جناب حسینؑ کے صلب سے پروردگار نو آئمہؑ ظاہر فرمائے گا اور جو ان میں سے نواں ہے وہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہو جائے گا۔ اس کے بعد پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ :
*وَ ذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّوَجَلَّ قُلْ أَ رَأَیْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ ماؤُکُمْ غَوْراً فَمَنْ یَأْتِیکُمْ بِماءٍ مَعِینٍ*
یعنی اسی آیت مجیدہ کا مصداق امام زمانہؑ عج ہیں۔
فرماتے ہیں کہ:
*یَکُونُ لَهُ غَیْبَهًٌْ طَوِیلَهًٌْ*
امام زماںؑ عج کی غیبت طولانی ہے۔
امام زماںؑ عج کی غیبت کی خبریں شروع سے ہی چلی آرہی ہیں۔ اور چھٹے مولاؑ نے باقاعدہ اس کی تشریح کی ہے کہ دو طرح کی غیبت ہونگی۔
*1۔ 👈غیبت صغریٰ (غیبت صغیرہ)*
اس روایت کے مطابق امام صادقؑ نے فرمایا فقط خواص کو امام زماںؑ عج کے متعلق پتہ ہوگا۔
*لیکن!*
*2۔ 👈غیبت کبریٰ (غیبت کبیرہ)*
غیبت کبیرہ میں اہل ولایہ ہیں۔ اور اہل ولایہ کو ابدال سے تعبیر کیا گیا۔
ابدال بدل کی جمع ہے اور بدل سے مراد کہ جب ایک شخص چلا جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا شخص آجاتا ہے۔ ابدال اولیائے پروردگار ہیں۔ یہ مومنین کے اندر ہی افراد ہیں جن کا انتخاب خود مولا امام زماںؑ عج فرماتے ہیں اور پھر یہ تاحیات مولاؑ کی خدمت میں رہتے ہیں ۔
اب یہ امام کے لیے کام کیا کرتے ہیں۔ جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ ایک شخص آیا اور مجھے مولاؑ عج کا پیغام دے گیا۔ تو یہ امام کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اگر ہم آئمہؑ اور بلخصوص امام زماںؑ عج کے حوالے سے تشرفات پڑھیں جیسے جناب محدث نوریؒ نے کتاب نجم الثاقب میں کافی ساری ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے جن میں صالحین اور فقہا نے ملاقاتیں کیں اس میں ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آیا۔۔۔۔ کسی نے پیغام پہنچایا۔۔۔۔ کسی نے خبر دی۔۔
تو جیسا کہ روایات میں غیبت کا ذکر آچکا ہے اور یہاں بھی پیغمبرﷺ یہی فرما رہے ہیں کہ: امام حسینؑ کے نویں فرزند کی غیبت طویل ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ:
*یَرْجِعُ عَنْهَا قَوْمٌ*
غیبت کے اندر کچھ لوگ پلٹ جائیں گے ایک اور فرمان کے مطابق بہت سے لوگ دین سے مرتد ہو جائیں گے۔ اور امیر المومنینؑ کے فرمان کے مطابق یہ وہی لوگ ہیں جو دین حق سے جب پلٹ جائیں گے تو وہ ساری عمر سرگرداں ہی رہیں گے اور نجات نہ پائیں گے۔ اور فرمایا:
*وَ یُثْبِتُ عَلَیْهَا آخَرُونَ*
کچھ لوگ دین حق پر ثابت قدم رہیں گے۔
اس کے بعد فرمایا:
*فَإِذَا کَانَ فِی آخِرِ الزَّمَانِ یَخْرُجُ فَیَمْلَأُ الدُّنْیَا قِسْطاً وَ عَدْلًا کما*
*مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً*
آخری زمانے میں امام حسینؑ کا نواں فرزند خروج فرمائے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھیں گے گے جیسے کہ زمین ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ لوگ اس کو تقدم کا درجہ دیتے ہیں کہجیسے زمین ظہور سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ حالانکہ ہرگز ایسا نہیں ہے یہاں کما حرف تشبیہ ہے اور ہرگزتقدم زمانی کو بیان نہیں کر رہا ہے کہ جیسے زمین کسی بھی دور میں ظلم و جور سے بھری تھی امام زمانؑ عج کے ظہور کے بعد عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔ نہ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہور سے کچھ عرصہ قبل زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی بلکہ ظہور سے قبل زمین بہت اچھی حالت میں ہوگی۔
عام طور پر لوگ اس روایت کو غلط بیان کرتے ہیں۔ کما تقدم کو بیان نہیں کر رہا بلکہ فقط تشبیہ دے رہا ہے کہ جب زمین ظلم و ستم سے بھری تھی۔ یہاں ظہور سے قبل کی بات نہیں ہوئی۔ ظہور سے قبل تو حالات اچھے ہو رہے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے امام وقت عج کی طلب کر رہے ہیں اور یہ طلب آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔
ہماری روایات ظہور سے قبل دنیا کو دو چہروں میں بیان کرتی ہیں۔
*۔ منفی چہرہ*
یعنی ظلم و جور ہے جو ہر دور میں تھا
*۔ مثبت چہرہ*
دوسرا چہرہ منتظرین کی تحریک ہے کہ جو اپنے امامؑ عج کے راہ کو ہموار کرنے والے ہیں کہ جن کے بارے میں معصومینؑ اور پیغمبرﷺ کی روایت ہے کہ
قائمؑ عج کے ظہور سے پہلے میری امت سے لوگ اٹھیں گے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے۔ جو بدعت سے لڑیں گے اور جو مہدیؑ عج کے ظہور کی راہ ہموار کریں گے۔
*منفی چہرہ ہر دور میں رہا ہے۔ اور شیطان اپنا کام کر رہا ہے لیکن امام مہدیؑ عج کے ظہور کا باعث وہ چہرہ بنے گا یعنی امام زمانہؑ عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنے والوں کی اتنی کثرت ہوگی کہ امام پر حجت تمام ہو جائے گی۔*
*انشاءاللہ* !
مولاؑ عج دیکھیں گے کہ بہت بڑی تعداد اس انقلاب کے لیے مہیا ہو چکی ہے۔ تین سو تیرہ قائدین ہونگے کہ جن کے پیچھے امتیں ہونگی۔ اور مولاؑ کے ظہور سے قبل ایک بڑی تعداد منتظرین کی ہوگی۔ لیکن یہ تعداد مخالفین سے قلیل ہوگی۔ (یعنی مثال کے طور پر اگر دنیا کی آبادی اربوں میں ہو تو منتظریں چند کڑورڑ یا چند لاکھ ہو نگے جو ایک بہت بڑی بات ہے۔ یعنی ان کی اتنی تعداد ہوگی کہ معصومؑ کے حکم پر پوری زمین کا نقشہ بدل دیں گے۔
*انشاءاللہ* !
مثال کے طور پر ایران کے اندر انقلاب آنے کے بعد امام مہدیؑ عج کی تشنگی زیادہ بڑھی ہے نہ کہ انقلاب سے قبل اور ہر آنے والا دن اس تشنگی کو بڑھا رہا ہے کیونکہ لوگوں کو اب پتہ چلا ہے کہ ہمارے حقوق کیا ہیں یعنی یہ ایک قابل توجہ نقطہ ہے کہ:
امام مھدیؑ عج کی طلب ان لوگوں میں بڑھی ہے کہ جن میں شعور و آگاہی، تعلیم اور دینی رجحان بڑھا ہے یعنی جن سے غفلت کا پردہ اٹھا ہے اور انہیں اب معلوم ہوا ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہمیں کیا ہونا چاہیے۔ انہیں اب پتہ چلا ہے کہ ایک فقیہ کی حکومت میں بھی ہمارے حقوق پورے نہیں ہوسکتے تو امام مھدیؑ کی تشنگی شدت سے اب بڑھی ہے۔ کہ جب مولاؑ عج آئیں گے تو ہمارے سارے مسائل کا حل ہوگا۔
*انہوں نے حکومت فقیہ کا تجربہ بھی کر لیا ہے باقی لوگوں نے تو یہ بھی نہیں کیا باقی امامؑ عج سے غافل ہیں۔*
اب جہاں جہاں انقلاب آیا ہے اور معرفت بڑھی ہے وہاں وہاں امام وقت عج کی طلب بھی بڑھی ہے۔ جب معرفت ہی نہ ہو تو طلب کیسے بڑھے گی۔ ابھی تک پوری شعیہ قوم مولا علیؑ کے زمانے میں سو رہی ہے۔ البتہ مولا علیؑ اور امام حسین ؑ کا ذکر ضروری ہے لیکن اس ذکر کے ساتھ ساتھ ہدف ولایت اور ہدف کربلا تک پہنچنا بھی ضروری ہے کہ جو کہ امام مھدیؑ کی حکومت ہے۔ اور جہاں جہاں امام مھدیؑ عج کی معرفت بڑھ رہی ہے وہاں وہاں ظہور کی کوشش ہو رہی ہے۔
مثال کے طور پر دنیا میں خونی جنگیں پہلے زیادہ ہوتی تھیں۔ اسی طرح اب دنیا میں ایک اجتماعی عدالت کی تشنگی بڑھ رہی ہے۔ یعنی لوگوں کو اپنے شعور کے ادراک اب ہو رہا ہے اور یہ چیزیں آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اس جانب لے کر جا رہی ہیں کہ یہ نظام دنیا کافی نہیں اور ایک الہیٰ شخص ہونا ضروری ہے۔
اس بحث میں آگے بڑھتے ہیں کہ 🫴 کبھی ہم نے سوچا کہ کیسے امام زمانؑ عج سات مہینوں میں پوری دنیا پر قبضہ کریں گے حالانکہ مثال کے طور پر امریکہ ایک طاقتور ملک ہے لیکن ایک طولانی مدت گذر جانے کے بعد بھی افغانستان پر قبضہ نہیں کر سکا اور اسے نکلنا پڑ رہا ہے۔
حالانکہ امام زمانؑ عج سات ماہ میں پوری دنیا پر قبضہ کر لیں گے۔ اور لوگ ان کے تابع ہونگے اور وہ پوری دنیا پر حکومت بپا کریں گے۔ کیونکہ ان کی راہ قبل از ظہور اتنی ہموار ہو چکی تھی کہ جہاں جہاں امام ؑ عج کی سپاہ داخل ہو رہی ہو گی۔ لوگ ان کی آمد اور حکومتوں کو قبول کر رہے ہونگے۔
*(واللہ!)*
ہم روایات میں دیکھتے ہیں کہ:
جب مولاؑ امام زماںؑ عج تحریک شروع کریں گے تو کچھ ممالک میں لوگ اپنی حکومتوں کو گرا دیں گے اور مولاؑ عج سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنے ناصر کو بھیجیں تاکہ وہ حکومت کریں۔ 🌸
*ظہور کے بعد لڑائی دو یا تین مقامات پر ہے باقی دنیا حالت تسلیم میں ہوگی۔*
روایات کہتی ہیں کہ فوجیں امامؑ عج کے ناصرین کے سامنے اپنے ہتھیار پھینک دیں گی۔ اور ان کی ملتیں خود امام زمانؑ عج سے رجوع کریں گی۔ یعنی حالات اتنے اچھے ہونگے کہ ایک منجی عالم کی حکومت کے سامنے تسلیم ہونگے۔ یعنی ادراک بڑھے گا تو لڑائیاں کم ہونگی۔ امامؑ یا پیغمبرؑ ناچاری کی حالت میں جنگ کرتا ہے۔
*امام مھدیؑ عج کا لائحہ عمل :*
سفیانی کہ جس نے ظہور سے قبل بہت تباہی مچائی ہوئی ہوگی۔ لیکن امامؑ عج بھی اس سے جنگ کرنے سے پہلے مذاکرہ کریں گے اور کوشش کریں گے کہ جنگ نہ ہو۔ حتہ کہ سفیانی اپنے وفد کے ساتھ مولاؑ کے حضور میں آئے گا اور عجیب چیز یہ ہے کہ وہ تسلیم ہو جائے گا۔ اور کہے گا کہ میں مانتا ہوں کہ آپ ہی امام مھدیؑ ہیں اور میں خطا پر تھا لیکن جیسے ہی واپس اپنی فوج کے پاس جائے گا تو اس کے ساتھی اسے اکسائیں گے کہ نہیں ہمیں تو لڑنا ہی ہے۔
ا *امام کی جنگیں دنیائے عیسائیت سے نہیں ہے بلکہ یہودیوں سے ہیں* کیونکہ یہ کسی بھی صورت نہیں مانیں گے۔ جب کہ عیسائی بہت جلد تسلیم ہونگے۔ کیونکہ یہ دنیا کے تمام حاکموں سے بیزار ہو چکے ہونگے کہ کوئی بھی ہمیں دنیا و آخرت کی سعادت تک نہیں پہنچا سکتا۔ اور جب یہ ایک آسمانی شخصیت کی آواز اور خطبے سنیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کا نظام حکومت مکہ سے آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے تو خود بخود حالت تسلیم ہوجائیں گے۔ دنیا کے ممالک کے بارڈر گرنا شروع ہو جائیں گے اور دنیا ایک مملکت میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گی۔
صاحب کتاب 📜 خود بھی اس روایت کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ بیان کس کے لیے ہے کہ جو اہل فکر ہے اور ایک بہترین دلیل ہے کہ امامت کے نظام سے تمسک کیا جائے اور آئمہؑ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ بیابان جگہوں یعنی گمراہی میں سرگرداں نہ ہوں کیونکہ جب ہم آئمہؑ کی راہ سے جدا ہونگے تو ہم گمراہ ہوجائیں گے۔ اور یہ جو دین میں افتراء کرتے ہیں اور آئمہؑ پر تہمتیں لگاتیں ہیں اور افتراء کرتے ہیں اور جو ان لوگوں کی جانب مائل ہونگے تو ان کی باتیں گمراہ کن ہیں اور اس صحرا کی مانند ہے کہ جس میں پانی نظر تو آتا ہے لیکن ہوتا نہیں ہے۔ اور امام علیؑ نے ہمیں ان سے منع فرمایا ہے۔
*اس کے بعد مصنف سورہ عنکبوت کی آیہ مجیدہ کا ذکر کرتے ہیں۔* 🌺
*الٓـمٓ* (1) ↖
ا ل مۤ۔
*اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْـرَكُـوٓا اَنْ يَّقُوْلُوٓا اٰمَنَّا وَهُـمْ لَا يُفْتَنُـوْنَ (2) ↖*
کیا لوگ خیال کرتے ہیں یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں چھوڑ دیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔
*وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِيْنَ (3) ↖*
اور جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ہم نے انہیں بھی آزمایا تھا، سو اللہ انہیں ضرور معلوم کرے گا جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔
بالآخر صاحبان ایمان کی آزمائش ہر حال میں ہوگی۔ اور مومن کی سخت ترین آزمائش عتقادات اور اس کے بعد اختلاف ہے۔ اور یہ دونوں مسائل آئمہؑ نے بیان فرمائے ہیں کہ زمانہ غیبت میں یہ دونوں مسائل ہونگے۔
ان دونوں مسائل سے ہٹ کر امیرالمومنینؑ نے فرمایا تھا اختلاف المومنین یعنی اس کے اندر ریاست طلبی، خواہشات نفسیانی، ریاکای وغیرہ ہے اور یہ شدت اختیار کرے گی قبل از ظہور اور بعد از ظہور یعنی بہت سے لوگ غیبت کے دور میں ظالموں سے جنگ کریں گے اہل انحراف اور اہل بدعت سے جنگ کریں گے اور حق پر خود کو ثابت کریں گے پھر ان میں سے کچھ لوگ بعد از ظہور راہ حق سے ہٹ جائیں گے اور مولاعج کے مد مقابل کھڑے ہو جائیں گے۔
مثال کے طور پر اہل کتاب مکہ اور مدینہ میں آکر اس لیے آباد ہوئے تاکہ آخری پیغمبرﷺ پر ایمان لائیں لیکن جب پیغمبرﷺ آئے تو یہ ہی عیسائی اور یہودی دشمن ہوئے اور ان کے برعکس کفار ایمان لے آئے۔ اسی طرح ہم بھی امام زمانہؑ عج کے ظہور کے وقت ایسے حالات دیکھیں گے کہ وہ جو پہلے ایمان نہیں رکھتے تھے وہ تشنگی عدالت اور اپنے اخلاص کی وجہ سے پہلے ایمان لائیں گے اور اپنوں میں سے بعض مد مقابل کھڑے ہو جائیں گے۔ اسی لیے زور دیا گیا ہے کہ اپنے امامؑ عج کی معرفت حاصل کریں کیونکہ یہ معرفت ہے کہ جو اس وقت ہمیں بچائے گی وگرنہ شک و تردید کی حالت رہے گی کیونکہ لوگ کہیں گے کہ یہ دین جو یہ مہدیؑ ہمیں بتارہے ہیں یہ تو وہ دین نہیں جو ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں بتایا کہ ہم شعیہ ہیں یہ تو وہ شعیت ہی نہیں۔ کیونکہ جب مولاؑ دین پیش کریں گے تو فرمائیں گے " یہ ہے وہ دین جو ہمارے جد امجد ﷺ پر جبرائیل امینؑ کے قلب مبارک پر لے کر آئے تھے۔ کہ جس پر گرد و غبار پڑتی رہے اور تم سنت نبوی کو فراموش کرتے رہے۔ اور اپنے بنائے ہوئے رسوم اور فرقوں میں مصروف ہوگئے۔ میں اس ساری گرد و غبار کو صاف کرتا ہوں۔"
*زمانہ ظہور کی آزمائش:*
جب مہدیؑ زہراؑ دینِ حق کو شفاف انداز سے بیان فرمائیں گے۔ تو وہی لوگ جو مولاؑ عج کی رکاب میں دشمنان اسلام سے جنگ کر رہے ہونگے انہیں میں پھوٹ پڑے گی اور یہ کہیں گے ہم تو اپنے آباؤ اجداد والی شعیت پر چلیں گے حتہ کہ شیعوں کا ایک گروہ مدمقابل آجائےگا۔ اصلاح کا کام بہت سخت ہے۔ یہ زمانہ ظہور کی آزمائش ہوگی۔
*قبل از ظہور آزمائش:*
اس زمانے کی آزمائش ، اعتقادی مخالفت اور اختلاف مومنین ہے وہاں ہم راہ حق کو تلاش کریں اور اس پر ثابت قدم رہیں۔
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ مولا امام زمانؑ عج کے خدمت گذار ناصر بنیں۔ ان کی معرفت کو حاصل کریں اور اس معرفت کے پیغام کو آگے پھیلائیں اور مولا کے اگلے درجے میں جنگ کرنے والے سربازوں میں شمار ہوں۔
اور فکری دفاع کرنے والے سربازوں میں قرار دے۔ ہمیں قبل از ظہور اور بعد از ظہور بھی امام کے سربازوں میں شمار فرمائے۔
الہیٰ آمین!🤲
والسلام۔
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌎
*📚کتاب غیبت نعمانی*
⚪ *درس 6*
⬅️ *موضوع درس:*
*مقدمہ کتاب کا آخری حصہ روایات غیبت کا عصر آئمہؑ اور غیبت کے دور میں اہتمام ، تواصب و معتزلہ کا تذکرہ ، جاھل قاصر و مقصر ، قبل از ظہور پرچم طاغوت سے مراد*
🌼 *کتاب کا مقدمہ*
ہماری گفتگو کا موضوع کتاب شریف غیبت نعمانی ہے اور آج اس سلسلے میں ہماری آخری گفتگو ہے اور پھر اس کتاب کے ابواب میں گفتگو کریں گے۔
شیخ نعمانی رح نے بہت ہی خوبصورت انداز سے اوائل غیبت کبریٰ کی عکاسی کی اور اس حوالے سے محمد و آل محمد ع کے فرامین کی رو سے مہدویت کے حوالے سے مختلف اہم مطالب کی جانب اشارہ کیا اور جو اس دور میں اہل تشیع کے اندر جو گمراہی اور علماء کے اندر جو اختلافات تھے ان کی جانب بھی اشارہ کیا۔
آغا نعمانی فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس کتاب کے اندر جن احادیث کو جمع کیا ہے یہ وہی ہیں کہ جو ہمارے علماء اور بزرگان دین نے امیرالمومنین ع اور دیگر آئمہ صادقین علیہ السلام سے غیبت کے حوالے سے جو کچھ نقل کیا وہ میں نے اس کتاب کے اندر جمع کیا۔
فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کچھ میرے پاس ہے وہ بہت کم ہے ورنہ اس موضوع پر بہت ساری روایات ہیں جو موجود ہیں اور میرے پاس ایک مختصر سا ذخیرہ ہے جو میں نے ابواب کی شکل میں جمع کیا ہے
☀️ *ایک اہم نکتہ۔۔۔۔۔۔*
یہ جو فرما رہے ہیں کہ ہمارے پاس غیبت کے موضو ع پر بہت سارا ذخیرہ ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں لفظ غیبت سے مراد ان کی روایات مہدویت ہیں کیونکہ اس زمانے کے اندر جب امام کی غیبت شروع ہوئی اوائل غیبت کبریٰ کے اندر تو جو کچھ بھی امام ع کے حوالے سے بیان ہوتا تھا سب کو لفظ غیبت کے ساتھ تعبیر کیا جاتا تھا۔
⬅️اب ہمارے پاس قدیم ترین منبع غیبت نعمانی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں اس سے قبل کوئی کتابیں نہیں تھیں ۔ کتابیں تو تھیں لیکن ہمارے پاس نہیں ہیں گذرے زمانے کے ساتھ ختم ہوگئیں یا ان سے متعلق بعد والی کتابوں میں منتقل ہوئیں اور آہستہ آہستہ ان کی ضرورت نہ رہی یا پھر کتاب خانے جب بہت بڑی تعداد میں جلائے گئے جب بغداد میں بہت بڑا کتاب خانہ جس کو سلجوقیوں نے جلایا تھا جب ترکوں نے حملہ کیا تھا اور آئمہ ع کے اصحاب کے ہاتھوں سے لکھی گئی کتابیں جو تھیں جن کی تعداد چار سو تک تھی وہ جلائی گئیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مہدویت پر کام کتاب کی شکل میں ہوتا رہا ہے۔
جیسے ایک بہت بڑی شخصیت *انماطی ابراہیم ابن صالح* جو امام محمد باقر ع کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں سب سے پہلے انہوں نے کتاب *الغیبہ* لکھی۔ *حسن ابن محمد ابن سماع* نے ایک کتاب غیبت لکھی۔ اسی طرح اور بھی شخصیات نے کتاب الغیبہ لکھی ۔ اور اس سلسلے میں فرقہ واقفیہ کا بھی ایک بہت بڑا کردار ہے۔
🔶 *فرقہ واقفیہ۔۔۔۔۔۔*
یہ امام موسیٰ کاظم ع کو امام غائب کے عنوان سے ان کا تعارف کرواتے تھے اور انہوں نے بہت زیادہ روایات کو جمع کیا اور مہدویت کے موضوع پر کتابیں لکھیں۔ اور اس حوالے سے ایک بہت ذخیرہ ہمیں ملتا ہے اگرچہ انہوں نے اس کے مصداق اور تطبیق میں اشتباہ کیا ہے۔ لیکن جو کچھ بھی مہدویت اور غیبت کے حوالے سے جمع کیا ہے وہ وہی کچھ ہے جو ہمارے آئمہ ع نے بیان کیا تھا۔
⬅️اسی طرح فرقہ زیدیہ کا بھی کردار ہے مہدویت روایات کی جمع آوری میں ۔
🔶اثناعشری۔۔۔۔۔۔
کتابوں کے حوالے سے جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے *جناب علی ابن مھزیار اہوازی* کا بہت بڑا کردار ہے۔ یہ اہواز میں امام جواد ع اور امام ھادی ع کے وکیل اور نمائندے تھے۔ انہوں نے بھی دو کتابیں لکھیں۔
*کتاب الملاہم*
یہ آخرالزماں کے واقعات کے حوالے سے کتاب ہے
*کتاب القائم*
اگرچہ یہ دونوں کتابیں ہمارے پاس موجود نہیں ہیں البتہ ان کتابوں سے روایات موجود ہیں اور ان کے دونوں بیٹے ابراہیم اور محمد یہ بارہویں امام کے اس زمانے میں نواب اربعہ کے اہواز میں وکیل تھے۔
🌱غیبت صغریٰ میں *جناب عبد ابن جعفر ہندیاری* ایک مشہور شخصیت ہیں کہ جن کا انتقال 293 میں ہوا ہے انہوں نے ایک کتاب *الغیبہ ولاحیرہ* لکھی ہے اگرچہ یہ کتاب ہمارے پاس موجود نہیں ہے
اسی طرح خود محقق کلینی رح نے *کتاب الکافی* میں بعث حجت کے عنوان سے جو روایات جمع کی ہیں یہ بھی ہمارے لیے ایک اہم ترین ذخیرہ ہے۔
خود کتاب غیبت نعمانی جو آپ کی خدمت میں بیان ہورہی ہے اور شیخ مفید رح نے جو کتاب *المسائل العشرہ فی الغیبتہ* کے عنوان سے ایک روایات کا خزانہ اور بہت ہی عمدہ ابحاث ہمیں دیں اسی طرح *کتاب کمال الدین* ہے اسی طرح شیخ طوسی رح کی کتاب *الغیبتہ* ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس موضوع پر بہت عرصے سے کام ہو رہا ہے اور آغا نعمانی رح کے پاس ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔
جناب نعمانی رح دو طرح کےلوگوں پر اعتراض فرما رہے ہیں جو حق بھی ہے اور ہمارے مذہب تشیع کا موقف بھی ہے۔
🔶نواصب
🔶معتزلہ
ناصبی لفظِ نصب سے ہے اور اس کا مطلب برپا کرنا ہے۔ ناصبی یعنی دشمنی برپا کرنے والا، سوئے قصد رکھنے والا۔
*ناصبی کی تاریخ*
ناصبی کی تاریخ یہ ہے کہ جو امیرالمومنین ع اور اہلبیت ع میں سے کسی کے ساتھ دشمنی کرے اور اپنی دشمنی کو آشکار کرے، فضائل اہلبیت ع کا انکار کرے یا پھر آئمہ معصومین ع پر لعن کرے، یا پھر اہل تشیع کے ساتھ دشمنی ان کی تکفیر یا قتل کرے۔ ایسا شخص ناصبی ہے۔
تاریخ کے اندر نواصب
*خوارج*
*بنو امیہ*
آج کے دور کے نواصب
*داعشی گروہ*
دوسرا گروہ جس پر جناب نعمانی رح اعتراض کرتے ہیں وہ معتزلہ ہے۔
معتزلہ دوقسم کے ہیں۔
🌼معتزلہ بغداد
🌼معتزلہ بصرہ
*معتزلہ بغداد ۔۔۔۔۔۔۔۔*
یہ کافی حد تک شیعوں کے نزدیک تھے اور مولا علی ع کے باقی خلفاء پر فضیلت کے قائل تھے۔ اس حوالے سے مشہور شخصیات ابوجعفر از کافی ہیں۔ صاحب ابن عباد ہیں۔ خود شیخ مفید اور سید مرتضیٰ کے بعد اساتید معتزلی ہیں۔
🌱 *معتزلہ بصرہ ۔۔۔۔۔۔۔*
معتزلہ بصرہ عثمانی مذہب ہیں جیسے ان کے اندر ایک شخصیت جناب جاہز ہیں یہ باقی تین خلفاء کو مولاعلی ع پر ترجیع دیتے ہیں۔
خود صاحب ابن عباد کے رد میں شیخ مفیدؒ نے کتاب لکھی کیونکہ یہ لوگ اہلسنت کی طرح کہتے ہیں کہ امامت منسوس من اللہ نہیں بلکہ لوگوں نے خود امام کا انتخاب کرنا ہے۔
بغدادی معتزلہ کہتے تھے۔۔۔۔۔
*ہم اس پروردگار کی حمد و ثنا کرتے ہیں کہ جس نے مفضول کو افضل پر فضیلت بخشی۔*
یعنی یہ ایک قسم کا ایک تعصب اور ضد ان کے رویے سے ظاہر ہے۔
اسی لیے جناب نعمانی رح آیات قرآنی سے ان کی مذمت کرتے ہیں ۔
جیسا کہ سورہ حج سے، سورہ یونس، سورہ کہف، سورہ آل عمران سے۔
*سورہ یونس 35*
*قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللّـٰهُ يَـهْدِىْ لِلْحَقِّ ۗ اَفَمَنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَـهِدِّىٓ اِلَّآ اَنْ يُّـهْدٰى ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ*
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو صحیح راہ بتلائے، کہہ دو اللہ ہی صحیح راہ بتلاتا ہے، تو اب جو صحیح راستہ بتلائے اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو خود راہ نہ پائے جب کوئی اور اسے راہ بتلائے، سو تمہیں کیا ہوگیا کیسا انصاف کرتے ہو۔
*سورہ حج 46*
*فَاِنَّـهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِىْ فِى الصُّدُوْرِ*
پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں۔
*سورہ الکھف 103، 104*
*قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا*
کہہ دو کیا میں تمہیں بتاؤں جو اعمال کے لحاظ سے بالکل خسارے میں ہیں۔
*اَلَّـذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَهُـمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّـهُـمْ يُحْسِنُـوْنَ صُنْعًا (104)*
وہ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں کھو گئی اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔
یعنی عالم ہیں حجت تمام ہوئی ہوئی ہے لیکن فضائل اہلبیت ع کو چھپاتے ہیں۔
*سورہ آل عمران 103*
*وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۚ*
اور سب مل کر اللہ کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو،
سب جانتے ہیں کہ حبل اللہ کا مصداق قرآن اور اہلبیت ع ہیں
⚪ہم اپنی روایات کے اندر بھی دیکھتے ہیں۔
روایت معنی الاخبار
امام سجاد ع فرماتے ہیں
حبل اللہ قرآن ہیں۔
*تفسیر عیاشی*
امام محمد باقر ع فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔
حبل اللہ اہلبیت ع ہیں کہ جن سے تمسک کا حکم دیا گیا ہے۔
حکم دیا ۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بالآخر یہ لوگ ساری چیزوں کو جاننے کے باوجود راہ حق پر نہیں ہے
*سورہ فضلت 17*
*وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنَاهُـمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْـهُدٰى فَاَخَذَتْهُـمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْـهُوْنِ بِمَا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ*
اور وہ جو قوم ثمود تھی ہم نے انہیں ہدایت کی سو انہوں نے گمراہی کو بمقابلہ ہدایت کے پسند کیا پھر انہیں کڑاکے کے ذلیل کرنے والے عذاب نے آ لیا ان کے اعمال کے سبب سے۔
آغا نعمانی نے سورہ الجاثیہ کی ایک بہت ہی خوبصورت آیت سے تمسک کیا ھے ۔۔۔۔۔
*اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٝ هَوَاهُ وَاَضَلَّـهُ اللّـٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشَاوَةًۖ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْ بَعْدِ اللّـٰهِ ۚ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ*
بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن گیا اور اللہ نے باوجود سمجھ کے اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، پھر اللہ کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے۔
۔۔ 👈کفار کے بارے میں (سورہ البقرہ)
۔۔ 👈وہ لوگ جنوں نے خواہشات نفسانی کی پرستش کرنے والے
👈ہمارے علماء کہتے ہیں یہ شرک ہے اور کچھ شرک باہر سے ہوتے ہیں جیسے بت وغیرہ لیکن اپنے اعمال میں خواہشات نفسانی کی پرستش کرنے والا بھی شرک کرتا ہے۔
*آغا نعمانی کے مقدمہ میں یہ ان لوگوں کا ذکر ہے کہ جو علم تو رکھتے تھے لیکن ! اپنی خواہشات نفسانی کی پرستش کی وجہ سے راہ حق سے دور تھے۔*
البتہ یہ ہم جیسے لوگوں کے لیے بھی درس ہے کہ علم کا ہونا انسان کی نجات کی ضمانت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفسانی کو کنٹرول نہیں کرتا۔
💦 *جاہل قاصر اور جاہل مقصر بھی مشخص ہیں۔*
*جاہل قاصر*
وہ شخص کہ جس کے لیے راہ حق مشخص نہیں یا وہ راہ حق کی جانب نہیں پہنچ سکتا۔ مثال کے طور پر وہ دور رہتا ہے اور اس کا کسی عالم یا حجت خدا یا مکتب سے احتصال نہیں ہو پا رہا جیسے ایسے قبائل کہ جن کے پاس کوئی ذرائع ابلاغ یا آج کی دنیا میں انٹرنیٹ نہیں ہے مثلاً ایمازون کے جنگلات میں رہے والے قبائل۔ اس کی تو بخشش ہے۔
اس کی ایک اور مثال ہمارے اندر بھی ہے جیسے ایک شخص کسی اور مذہب سے دائرہ اسلام میں آتا ہے لیکن اسلام کے اتنے فرقے ہیں اور وہ تمام فرقوں پر پوری عمر تحقیق کرتا رہتا ہے تو یہ بھی جاہل قاصر ہے اور مورد بخشش پروردگار قرار پائے گا۔
*لیکن!*
☀️ *جاہل مقصر*
وہ شخص ہے کہ جو راہ حق تک پہنچ سکتا ہے لیکن نہیں پہنچنا چاہتا اور وہ دنیا کے کاموں میں غرق ہے۔ ایسے لوگوں سے حساب ہوگا اور اس کی بخشش نہیں ہے۔
✨باب 2
*فی ذکر حبل اللہ الذی امرنا بالاعتصام بہ وترک التفرق عنہ بقولہ*
*وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۚ*
فرماتے ہیں
حبل اللہ سے تمسک کریں اور تفرقہ کو چھوڑ دیں اور آج کے دور میں حبل اللہ امام زمانہؑ عج ہیں۔
🌱اسی طرح *باب 3:*
*ما جاء فی الامامتہ والوصیتہ، وانھما من اللہ عزوجل و باختیارہ، وامانتہ یودیھا الامام الی الامام بعدہ*
یہ باب آئمہ ع اثنا عشر کے حوالے سے ہے اور جناب نعمانی نے اس حوالے سے قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں سے ان مطالب کو ذکر کیا ہے۔
الحمد للہ شیعہ مکتب کو محمد و آل محمد ع کی ہدایت کی روشنی میں یہ فخر ہے کہ ہم بارہ اماموں کے قائل ہیں اور حدیث اثنا عشر پر عمل کرنے والے ہم ہیں اور وہ امام ہمارے ہیں کہ پوری دنیا میں جن میں نقص، چاہ کر بھی نہیں تلاش کر سکتی۔
وہ آئمہ ع جو ہر دور میں اپنے زمانے والوں سے سب سے زیادہ عالم، شجاع، افضل، اور کریم ہیں۔
*🌼باب 4 ۔۔۔۔*
*ماروی فی ان الائماتہ اثنا عشر اماما وانھم من اللہ و باختیارہ*
اس شخص کے بارے میں ہے کہ جنہوں نے امامت کے دعوے کئے جب کہ وہ امام نہیں تھے یا وہ پرچم جو قائم کے قیام سے پہلے بلند ہوگا لیکن وہ طاغوت کا ہوگا اس پر انہوں نے روایات کو جمع کیا۔
یہ ایک بحث ہے جو عام طور پر ہمارے معاشرے میں ہوتی ہے اور ایران میں بھی یہ بحث ہوئی تھی کہ آیا امام زماں ع کے ظہور سے قبل پرچم بلند کرنا ، قیام کرنا ، حکومت قائم کرنا ٹھیک ہے یا نہیں
اس وقت رہبر کبیر امام خمینی نے بحثیت ولایت فقیہ، بعنوان نائب امام زماں ع ، بعنوان زمینہ ظہور کی فراہمی، بعنوان امر بالمعروف یہ ثابت کیا کہ یہ ہمارا وظیفہ ہے کہ اگر ہمیں ایسے حالات میسر ہیں تو حکومت کو بپا کیا جائے تاکہ ہمیں اس بے نظیر، عظیم اور عالمگیر حکومت کی راہ ہموار ہو تاکہ معاشرے میں نیکیوں کا رواج ہو اور برائیوں سے دور ہوں ناکہ یہ کوئی نئی بعنوان امام زمانہ ع حکومت قائم کرنی ہے بلکہ یہ ان کی راہ میں ہم نے حکومت قائم کر کے حرکت کرنی ہے اور یہ انقلاب اسلامی کی ہی برکات ہیں کہ لوگوں کی توجہ امام زمان ع کی جانب اس انقلاب کے بعد بڑھی ہے۔
*باب 4 کی روایت کا مصداق وہ لوگ ہیں جو ظہور سے قبل جھوٹے مہدی بنیں گے۔*
*سفیانی*
*خراسانی*
خراسانی کا نظام 15 ماہ سے زیادہ نہ ہوگا۔ جب خراسانی کے موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو اس کو رہبر معظم سے تطبیق دی جاتی ہے جو کہ غلط بات ہے۔ خراسانی کی مذمت میں بھی روایات ہیں اور اس وقت مہدویت میں سب سے بڑا جو خطرہ تطبیق سے ہے۔ ہم خود سے ہی خراسانی کو رہبر معظم سے تطبیق دے دیتے ہیں جبکہ نہیں جانتے کہ خراسانی کا موضوع کیا ہے۔ یہ علامت غیر حتمی ہے۔ اور یہ شخص خراسانی سنی ہوگا اور مہدویت کا دعویٰ کرے گا۔ ایک شیعہ میں یہ جرت نہیں کہ مہدی ہونے کا دعویٰ کرے۔ ٹھیک ہے کہ یہ سید ہے لیکن جب یہ مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا اور امام زمانہ ع کے مد مقابل اپنے لشکر کے ہمراہ یہ قرار پائے گا تو امام زمان ع اس سے بحث کریں گے اور فرمائیں گے کہ اگر تو مہدی ہے تو اپنی نشانیاں دکھا۔ یہاں تک کہ امام ع اپنی نشانیاں پیش کریں گے لیکن یہ نہیں دکھا پائے گا۔ نتیجتاً یہ تسلیم ہوگا۔ اور اس کی فوج میں اختلاف پڑ جائے گا۔ اس قسم کے لوگ طاغوت کے زمرے میں آتے ہیں کہ جوقیام قائم کا پرچم بلند کرتے ہیں حالانکہ وہ قائم نہیں ہیں۔
⚪ *خلاصہ*
خلاصہ یہ ہے کہ ہم بھی جناب نعمانی کے ساتھ اس دعا میں شریک ہوتے ہیں کہ:
جو کچھ جناب نعمانی نے اپنے لیے مانگا پروردگار ہمیں بھی وہ عطا فرمائے اور ہمیں امام زمان ع کا خدمت گذار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
🤲 التماسِ دعا
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکزِ مہدویت قم
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں