Course 3 𝔹𝕠𝕠𝕜 1 Me

 


First 6 Lessons


کتاب غیبت نعمانی📚

درس: 1
موضوع درس:
شخصیت نعمانی، مقدمہ کتاب، شک و تردید در اوائل غیبت، فلسفہ غیبت اور علل شک و تردید

🎤استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب🌹

قدیم ترین منبع:
شیخ صدوقؒ کی کتاب کمال الدین اور دوسری کتاب جناب عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفرنعمانی کی کتاب غیبت نعمانی ہے۔ یہ دونوں کتابیں اوائل غیبت کبریٰ کے اندر لکھی گئیں ہیں اور دونوں قدیم منابع ہیں۔ اور دونوں کتابیں مستند ہیں۔

کتاب غیبت نعمانی:📚
کتاب غیبت نعمانی کے کاتب جناب عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر الکاتب نعمانیؒ ہیں۔ انہیں نعمانی اس لیے کہتے ہیں کہ بعض علماء کرام یہ کہتے ہیں کہ یہ مصر کے شہر نعمانیہ سے تھے، لیکن ہمارے اکثر محققین یہ کہتے ہیں کہ یہ عراق کے اندر ایک علاقہ نعمانیہ ہیں جہاں سے ان کا تعلق ہے۔ اس لیے انہیں نعمانی کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے اصول کافی کی کتابت کی تھی۔ محقق کلینیؒ کے شاگردوں میں سے تھے اور سب سے زیادہ انہی سے استفادہ کیا۔

شخصیت نعمانیؒ:
غیبت نعمانی جناب عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر الکاتب نعمانیؒ کی ابتدائی کتابوں میں سے ہے۔ اور انہوں نے یہ کتاب شیخ صدوقؒ سے پہلے لکھی ہے۔ ان کی وفات 360 ھجری میں ہوئی جب کہ شیخ صدوقؒ کی وفات 381 ھجری میں ہوئی۔ اس لیے یہ شخصیت کے اعتبار سے بھی پہلے ہیں اور ان کی کتاب غیبت نعمانی 342 ھ میں تالیف ہوئی ہے۔

آغا نعمانی کے حوالے سے شیخ نجاشی کہتے ہیں:
شیخ نے کہا کہ وہ ہمارے مذہب کے جید و بزرگ عالم، جلیل القدر، صاحب مقام و مرتبہ، صحیح العقیدہ اور بہت بڑے محدث تھے۔

کتاب الغیبت کے ابواب کی ترتیب جدید روش کے مطابق: 🫴
اس کتاب کے چھبیس ابواب ہیں جن میں سے آغاز کے نو ابواب اور باب نمبر پچیس مقدماتی ہیں۔ یعنی یہ ابحاث خود امام مہدیؑ کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ امامت کے موضوع پر ہیں۔

👈 باب 10، 11، 12 غیبت اور انتظار کے موضوع پر ہیں۔
👈 باب 14، 15، 16، 17 اور 18 موضوع علامات ظہور، قبل از ظہور کے حالات پر ہیں۔
👈 باب 19، 20، 21، 22، 26 آغاز قیام، کیفیت ظہور، عصر ظہور کے حالات پر ہیں۔

کتاب کا مقدمہ:
یہ مقدمہ کتاب کا نچوڑ ہے، جس میں جناب نعمانیؒ نے اپنی کتاب کو لکھنے کی وجوہات اور اہم ترین مطالب پر روشنی ڈالی ہے۔

شک و تردید در اوائل غیبت:
جناب نعمانیؒ فرماتے ہیں کہ شیعہ اس عجیب دور میں گمراہی کا شکار ہو گئے تھے، کیونکہ امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد امام زمانہؑ کے غیبت کے آغاز کے وقت ایک اضطراب کی حالت تھی۔

غیبت صغریٰ اور کبریٰ:
یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ غیبت کی دو قسمیں کیوں ہیں؟ جناب نعمانیؒ اس کا جواب دیتے ہیں کہ اصل میں غیبت ایک ہی تھی، لیکن غیبت صغریٰ اس دور کی تمہید تھی۔

فلسفہ غیبت:
جناب نعمانیؒ نے غیبت کے فلسفے پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ یہ غیبت ہمارے گناہوں کی وجہ سے پیش آئی۔ امام زمانہؑ کی غیبت طولانی ہونے کی وجہ ہم شیعوں کے اعمال ہیں۔

مقدمے میں آقائے نعمانیؒ کی خوبصورت بات:
فرماتے ہیں کہ: "یہ غیبت تھی جس کی وجہ سے ہمارے مذہب کی تائید ہوئی۔" اگر یہ غیبت نہ ہوتی، تو ہمارا مذہب باطل ہوتا۔

313 اور 12,000 کا لشکر:
کتاب میں امام زمانہؑ کی صفات، ان کے 313 صحابہ اور 12,000 جوانوں کے لشکر کی خصوصیات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ جناب نعمانیؒ نے ان افراد کی خصوصیات کا ذکر کیا جنہیں امامؑ کے ظہور میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔

یہ تھا کتاب غیبت نعمانی کا پہلا درس جس میں کتاب کے مقدمہ، شک و تردید، غیبت کا فلسفہ اور دیگر اہم موضوعات پر بات کی گئی۔


---


علامہ علی اصغر سیفی صاحب کی اہم بات:

"کتاب غیبت نعمانی اور اس کا مقدمہ ایک علمی خزانہ ہے جس سے ہمیں غیبت کے موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔"📖


درس 2️⃣

✨ موضوع درس:

مقدمہ کتاب، آیات سورہ حدید کی غیبت و ظہور پر تطبیق، زمانہ غیبت کے فتنے اور ان کی اقسام، ہمارے وظائف، مومن شہد کی مکھی کی مانند ہو۔

🎤 استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🌹


مقدمہ کتاب شریف غیبت نعمانی:

قدیم زمانے سے علماء کی یہ روایت رہی ہے کہ جو مقدمہ کتاب ہوتا ہے وہ پوری کتاب کا مغز ہوتا ہے۔ مقدمہ کتاب غیبت نعمانی کا بہت علمی اور غنی مقدمہ ہے، جس میں جناب مصنف نے اپنے زمانے کے حالات کا جائزہ لیا اور مختلف مہدویت کے موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔

غیبت کبریٰ:
مصنفؒ فرماتے ہیں کہ غیبت کبریٰ کے دوران امام زمانہ عج کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا، اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے فتنے پیدا ہوئے۔ غیبت کے دوران شیعہ مختلف گروپوں میں بٹ گئے، جس کی بنیادی وجہ معلومات کی کمی اور مطالعہ نہ ہونا تھا۔

مہدویت کے دشمن:

  1. بیرونی مخالف
  2. داخلی مخالف جو مہدویت کو نہیں مانتے۔

وظیفہ علماء:
علماء کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام فتنے اور غلط فہمیوں کا مقابلہ کریں اور مہدویت کے بارے میں درست معلومات فراہم کریں۔


فرامین معصومین:

امام جعفر صادقؑ اور امام محمد باقرؑ کی روایات میں یہ فرمایا گیا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو، اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو علم کی روشنی دے اور انہیں شک و شبہ سے نکالے۔

عصر رسالت تا امام عسکریؑ:
مصنفؒ نے بیان کیا کہ غیبت کے حوالے سے روایات، جن کا آغاز پیغمبرؐ اسلام سے تھا، امام حسن عسکریؑ تک پہنچی ہیں۔ اور یہ روایات ہمارے لیے ایک نشانی ہیں کہ غیبت کا واقعہ ہونے والا تھا اور اسے تسلیم کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔

آیات سورہ حدید اور غیبت:
سورہ حدید کی آیت 16 میں غیبت کے دور کی علامات بیان کی گئی ہیں، جہاں لوگوں کے دل سخت ہو جائیں گے۔ امام صادقؑ نے فرمایا کہ یہ آیت غیبت کے دور کے لیے نازل ہوئی ہے۔


قبل از ظہور حالات:

زمین کا مرنا:
یہاں مراد روحانیت کی موت ہے، جہاں انسانوں کی روح اور ان کے عقائد مردہ ہو جائیں گے۔ امام زمانہ عج کے ظہور سے زمین کو زندہ کیا جائے گا۔

فتنوں کا آنا:
زمانہ غیبت میں شیعہ مختلف امتحانات سے گزریں گے۔

  1. فتنہ اعتقادی
  2. فتنہ دجال
  3. فتنہ شیعوں میں اختلاف

ان تین فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ اعتقادی ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مہدویت کے عقیدے سے منحرف ہو جائیں گے۔


مومن شہد کی مکھی کی مانند ہو:

امیرالمومنینؑ نے فرمایا:
"شیعہ اپنے اخلاق اور زبان سے لوگوں سے میل جول رکھیں، لیکن دلوں میں اختلاف رکھیں۔"
شہد کی مکھی کی مثال دیتے ہوئے، امامؑ نے کہا کہ جیسے شہد کی مکھی کو کمزور سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی برکتوں کا کوئی تصور نہیں کرتا، اسی طرح شیعہ لوگ بھی کمزوری کے باوجود اپنی محنت اور صداقت سے بہت اہم ثابت ہوں گے۔


اختتام:

دعاء:
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم امام زمانہ عج کے حقیقی خدمت گار بن سکیں اور ان کے فرمان کے مطابق عمل کریں۔

تحریر و پیشکش:
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت، قم، ایران 🌍



کتاب غیبت نعمانی

درس 3️⃣ ✨ موضوع درس:

  • روایت مالک بن ضرہ کا جائزہ، شہد کی مکھی🪰 کی مومن سے مشابہتیں اور آخرالزمان کے فتنوں کا جائزہ اور روایت کی رو سے راہ حل

🎤 استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب🌹

ہماری گفتگو غیبت نعمانی کے مقدمہ میں جاری ہے۔ کتاب نعمانی کا مقدمہ بہت اہم ترین ہے۔ اور ویسے بھی ہمارے بزرگان کی عادت تھی کہ وہ جب بھی وہ کتابیں لکھتے تھے تو اس کتاب کا مقدمہ ہی اس کا خلاصہ ہوتا تھا۔ اور یہ مقدمہ غیبت نعمانی مہدوی ابحاث کو تقویت دیتا ہے۔

روایت مالک بن ضرہ کا جائزہ: 🫴

اس روایت کی سند کے اندر بڑے جلیل القدر اصحاب ہیں لیکن اس کے باوجود سند کے اعتبار سے یہ روایت خدشہ دار ہے۔

پہلے راوی: 🌀 احمد ابن محمد بن سعید ابن عقدۃ الکوفی بہت مشہور شخصیت ہیں اور ان کا تعلق زیدی فرقے کی شاخ جارودیہ سے تھا یہ اثنا عشری نہیں تھے البتہ بعض علما کہتے تھے کہ یہ اثنا عشری ہیں لیکن اس کے باوجود سبھی نے ان کی تعریف کی ہے۔ اور صاح کتاب نعمانی نے بھی ان کی تعریف کی ہے اور انہیں قبول کرتی ہے۔

دوسرے راوی: 🌀 جناب علی ابن الحسین تیمولی حسن ابن علی ابن الفضال کے بیٹے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ میرے بابا نے بیان کی۔ یہ سب یعنی ان کے دونوں بھائی بھی آغاز میں فرقہ فتیحہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ شروع میں امام موسیٰ کاظمؑ کی امامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے لیکن امام رضاؑ سے کافی وابستہ تھے۔ لیکن آخر میں یہ امام رضاؑ کی امامت کے قائل ہوگئے اور اثنا عشری قرار پائے۔ اور ان کے بیٹے علی، احمد اور محمد نے امام حسن عسکریؑ کا زمانہ دیکھا ہے۔

تیسرے راوی: 🌀 صالحوا بن میمون اصحاب امام صادقؑ میں سے تھے۔ اور فقیہ اور بزرگ شخصیت تھے۔ مولا ؑ نے فرمایا: آپ لوگوں میں شہد کی مکھی کی مانند۔۔۔

چوتھے راوی: 🌀 ابی قامس ان کا اصل نام حیسن بن عبد اللہ ہے ان کے بارے میں معلوم نہیں۔

پانچویں راوی: 🌀 جناب عمران بن میثم بن یحی الاسدی ہیں۔

چھٹے راوی: 🌀 جناب مالک بن ضمرہ ہیں۔ یہ اصحاب امام علیؑ ہیں اور خلیفہ سوم کے قتل کے بعد یہ پہلی شخصیات میں سے ہیں کہ جنہوں نے مولاؑ علی کی بیعت کرنے والوں میں سبقت کی۔ یہ وہ شخصیت ہیں کے جنہوں نے آخرالزمان کے حوالے سے بہت زیادہ روایات نقل کیں۔

یہ روایت ان حالات کے بارے میں ہے جو امام زمانہؑ عج کے ظہور سے قبل ہونگے۔

متن روایت: 🍯🪰

امیرالمومنینؑ نے مالک بن ضمرہ سے فرمایا: "فرمایا اے شعیو! لوگوں کے درمیان ایسے ہو جاؤ جیسے پرندوں کے درمیان شہد کی مکھی ہوتی ہے۔"

فرماتے ہیں کہ: "کوئی بھی پرندہ ایسا نہیں ہوتا کہ جو شہد کی مکھی کو کمزور نہ سمجھے۔ اگر پرندوں کو یہ پتہ چل جائے کہ ان شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں کیا ہے تو وہ اسے کھا جائیں۔"

پھر امیر المومنینؑ نے عام لوگوں کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ اپنے جسموں کے ساتھ معاشرت کرو لیکن اپنے اعمال میں ان لوگوں کی ہمراہی نہ کرو۔

فرماتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار ہمارے کسب پر ہے اور قیامت کے دن ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جو اس کا محبوب ہوگا۔


آخر الزمان کے فتنوں کا جائزہ اور اس کا راہ حل 🫴

امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ: "اے ہمارے شیعہ تم جس چیز سے محبت کرتے ہو اور جس چیز کی آرزو رکھتے ہو اسے تم نہیں پاؤ گے یہاں تک کہ تم میں سے بعض بعض کے منہ پر تھوکیں گے۔ (یعنی شیعوں کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہوگا۔ ) حتہ کہ تم میں سے بعض بعض کو کذاب کہیں گے۔ اور تم میں سے کوئی بھی راہ حق پرباقی نہیں رہے گا ۔ مگر جس طرح سرمہ آنکھ میں یا نمک کھانے میں۔ (قلیل تعداد دین پر باقی رہے گی)"

امام نے یہاں دو فتنے بیان کئے:

  1. 🌀 شیعہ ایک دوسرے کو کذاب کہیں گے اور ایکدوسرے کے منہ پر تھوکیں گے۔
  2. 🌀 دین حق پر ایک قلیل تعداد باقی رہے گی۔

امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ میں تمھیں ایک مثال دیتا ہوں۔ وہ یہ کہ اگر ایک شخص کے پاس گندم ہو اور وہ اسے پاک صاف کر کے گھر میں رکھے اور یہ امید رکھے کہ خدا کرے گا اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن جو وہ واپس آکر دیکھے تو اس میں کیڑے پڑ گئے ہوں پھر وہ ان کیڑوں کو گندم سے نکالے اور اسے دوبارہ صاف کرکے گھر میں رکھ دے۔ اور کہے کہ اللہ کرے گا کہ اب اسے کچھ نہیں ہوگا۔ مولاؑ نے یہاں بہت دقیق مثال دی ہے یعنی جن کا ایمان خراب ہو چکا ہے اب وہ امام زمانہؑ عج کے قابل نہیں ہیں۔ پس وہ اس عمل کو بار بار دہرائے گا یہاں تک کہ گندم کا صرف کھلیان باقی رہ جائے گا جسے کیڑے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اسی طرح تم سے بھی کمزور افراد کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ بالآخر تم میں صرف وہ جماعت باقی رہ جائے گی جسے فتنہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

روایت کی تشریح 🫴

پہلا حصہ:
شہد کی مکھی سے تشبیہ: 🪰🍯
سورہ نحل 68
وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِىْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ (68)
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان چھتوں میں گھر بنائے جو اس کے لیے بناتے ہیں۔

سورہ نحل 69🌸
ثُـمَّ كُلِىْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِىْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُـلًا ۚ يَخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِـهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٝ فِيْهِ شِفَـآءٌ لِّلنَّاسِ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّـرُوْنَ (69)
پھر ہر قسم کے میوں سے کھا پھر اپنے رب کی تجویز کردہ آسان راہوں پر چل، ان کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے ہیں۔


شہد کی مکھی کی مثال کا مفہوم: شہد کی مکھی کو خدا نے وحی کی اور اسے تمام حیوانات میں خصوصیت دی۔ اسی طرح، شیعہ بھی مکتبہ اہلبیتؑ سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کا دین اللہ کی وحی اور حضرت محمدؐ اور اہل بیتؑ کے طریقے پر قائم ہے۔


دوسری تشبیہ: 🪻
شہد کی مکھی کو کہا گیا کہ اپنے گھروں کو بلند مقامات پر بناؤ۔ یعنی مومنین کے گھروں میں نیک کاموں اور عبادت کا ماحول ہونا چاہیے تاکہ یہ روحانی لحاظ سے بلند ہوں۔

تیسری تشبیہ: 🪻
شہد کی مکھی کو کہا گیا کہ وہ اپنے رب کے راستوں پر چلے، جیسے شیعہ اہلبیتؑ کی تعلیمات پر چلتے ہیں اور یہی ان کی ہدایت کا راستہ ہے۔


فتنے اور راہ حل:

  • فتنہ عقائد
  • اختلاف شیعہ
  • آپس میں ہمدلی، نظم، اور ایثار

یہ تمام فتنہ آخرالزمان میں ہوں گے اور ان کا صحیح حل یہی ہے کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور امامؑ کے راہ حل کی پیروی کریں۔


دعا ہے کہ پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی ان شعیوں کی مانند بنیں کہ جن کا اجتماع شہد کی مکھیوں کی مانند ہو اور ہمیں تمام فتنوں سے محفوظ رکھے۔

الہیٰ آمین۔

والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم ایران 🌍

کتاب غیبت نعمانی📚
درس نمبر 4️⃣
موضوع درس:
مقدمہ کتاب سے تین روایات کی متن خوانی، أخرالزمان میں انصار کی صفات کا جائزہ، شبہہ قاتلین امام حسین ع سے انتقام کا جواب۔

استاد مہدویت حجت الاسلام علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

ہماری گفتگو کا محور کتاب شریف "غیبت نعمانی" ہے اور ہم نے ابھی اس کا مقدمہ زیر بحث قرار دیا ہوا ہے۔ چونکہ یہ مقدمہ بہت سارے مطالب کے اعتبار سے غنی ہے، اور اس مقدمہ میں اہم ترین مہدوی نکات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔

چوتھا درسِ مقدمہ:
جناب کاتب نعمانیؒ نے مقدمہ میں دوسری روایت امام صادقؑ سے نقل کی ہے کہ ہمیں جو آئمہؑ سے فیض ملا ہے، پروردگار عالم ہمیں اس فیض کو محفوظ رکھنے کی توفیق دے اور ہم اپنے دل و جان سے ان کے کلام سے صحیح معنوں میں مستفید ہوں۔ الہٰی آمین!

امام صادقؑ نے زمانہ غیبت کے جو حالات ہیں ان کو بڑے خوبصورت انداز سے بیان کیا۔ اور اس روایت میں امام صادقؑ نے سب سے پہلے آزمائش کا ذکر کیا اور فرمایا:
خدا کی قسم تمہیں حتماً آزمایا جائے گا اور خالص کیا جائے گا، اور جو لوگ خالص نہیں ہوں گے، وہ خارج کیے جائیں گے۔
خدا کی قسم تم بائیں اور دائیں جانب پرواز کرو گے، یعنی اپنے راستے پر جو راہِ راست ہے، آئمہؑ کی اتباع میں۔ لیکن وہ شخص جو ان صفات کا حامل ہوگا:

  1. جس سے اللہ نے عہد و پیمان لیا
  2. جس کے دل پر ایمان نقش ہو چکا ہے
  3. جس کی تائید پروردگار اپنی روح سے کرے گا

1۔ میثاق:
اس روایت میں سب سے پہلے میثاق (عہد و پیمان) کا ذکر ہے۔
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا بَلَىٰ
"اور جب تمہارے پروردگار نے فرزند آدمؑ کی پشتوں سے ان کی ذریت کو نکال کر انہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا اور فرمایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا، بیشک ہم گواہ ہیں۔" (سورہ اعراف 7:172)

یہ میثاق اور عہد ہم سب سے لیا گیا تھا، لیکن جب ہم امام صادقؑ کی روایت کو سمجھیں، تو یہ وہ خاص لوگ ہیں جو اپنے دلوں میں ایمان رکھتے ہیں اور اس عہد کو یاد رکھتے ہیں۔ ان کا دل اور جان اس عہد سے پختہ ہے اور یہ لوگ اپنے امامؑ کے پیروکار ہوں گے۔

2۔ دل پر ایمان نقش ہونا:
دوسری صفت جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دل پر ایمان نقش ہو چکا ہے۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو اپنے امامؑ کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں، ان کے دل میں ایمان گہرا ہوچکا ہوتا ہے۔ اور اس ایمان کا اثر ان کے عمل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔

3۔ روحانی تائید:
تیسری صفت یہ ہے کہ پروردگار اپنی روح سے ان کی مدد کرے گا۔ امام صادقؑ کی روایت میں ہے کہ اللہ ان افراد کو اپنی روح سے تقویت دے گا۔ اس روح کا مفہوم مختلف روایات میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے، لیکن مجموعی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی غیبی طاقت اور مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوگی جو اپنے امامؑ کے ساتھ وفادار رہیں گے۔

مراد روح سے:
روح سے مراد وہ طاقت یا فرشتہ ہے جو انبیاءؑ کی مدد کرتا ہے، جیسے حضرت جبرائیلؑ، یا بعض روایات میں اسے ایک خاص فرشتہ بتایا گیا ہے جس کا مقام جبرائیلؑ اور میکائیلؑ سے بلند ہے۔ یہ روحانی مدد ان لوگوں کو ملے گی جو امام زمانہؑ کے ناصر ہوں گے۔

امام زمانہؑ کے ناصرین کی صفات:
جب امام زمانہؑ عج کا ظہور ہوگا، ان کے ناصرین کی صفات بھی خاص طور پر ذکر کی گئی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ صرف ایمان کی گہرائی میں ڈوبے ہوں گے، بلکہ ان کی زندگی کا ہر پہلو ان کے امامؑ کے تابع ہوگا۔ ان کے دل میں ایمان نقش ہو چکا ہوگا اور ان کی مدد اللہ کی روحانی طاقت سے ہوگی۔

دوسری صفات:
نصرت امامؑ عج: امام صادقؑ نے فرمایا کہ ان افراد کا شمار وہ گروہ ہوگا جو امام زمانہؑ عج کی نصرت کے لیے تیار ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک سو لوگوں کے برابر قوت رکھتا ہوگا۔

سوال:
کیا امام زمانہؑ کے ناصرین صرف 313 افراد ہوں گے؟
جواب: روایات میں کہا گیا ہے کہ امام زمانہؑ کے ناصرین کی تعداد زیادہ ہوگی، مگر 313 افراد وہ خاص افراد ہوں گے جو امامؑ کے قیام کی بنیاد بنیں گے۔ یہ افراد مکمل طور پر امامؑ کے پیروکار ہوں گے، اور ان کی قوت روحانی، جسمانی، اور فکری طور پر بے مثل ہوگی۔

صبر کی اہمیت:
زمانہ غیبت میں ان لوگوں کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور صبر کا مطلب صرف خاموش بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہے کہ ہم امامؑ کے ظہور کی تیاری کریں اور اپنی صفات کو بہتر بنائیں تاکہ ہم اس عظیم مقصد کے لیے تیار ہو سکیں۔

امام محمد باقرؑ کی حدیث:
"اے ایمان والو! صبر کرو، اور مقابلہ کے وقت مضبوط رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو۔" (سورہ آل عمران 3:200)

یہ صبر ہماری روحانی، فکری، اور عملی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں امامؑ کے ساتھ وفادار رہنا ہے، اور اپنے اعمال و کردار کے ذریعے ان کے ساتھ اپنی بیعت کی تصدیق کرنی ہے۔

نتیجہ:
یہ وہ گروہ ہے جو امام زمانہؑ کے ظہور کے بعد دنیا میں حکومت الہیہ قائم کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ ہمیں ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے تاکہ ہم بھی اس مبارک گروہ کا حصہ بن سکیں اور امامؑ کے ظہور میں مدد فراہم کر سکیں۔



کتاب غیبتِ نعمانی
درس 5.

موضوع درس: مقدمہ کتاب سے چند روایات کی متن خوانی، امام مانند آب حیات امام مانند آب حیات اور حدیث یملاء الارض کا درست معنی، ظہور سے پہلے حالات پر شبہہ کا ازالہ، اہل فتنہ سے مجادلہ کا منع ہونے کی وجہ اور مجادلہ کی حقیقت

استاد محترم: آغا علی اصغر سیفی صاحب

ہمارا موضوع مقدمہ کتاب پر جاری ہے، اور اس میں چند اہم روایات کا تذکرہ کیا جائے گا۔ پچھلے درس میں ایک روایت پیش کی گئی تھی، اور آج ہم اس روایت کے معنیٰ پر بات کریں گے۔

روایت امیرالمومنینؑ

وفی قول امیرالمومنینؑ: من سلک الطریق وردالماء و من حاد عنہ وقع فی التیہ؛

مولا علیؑ نے کوفہ کے ممبر سے یہ جملہ فرمایا اور پھر ممبر سے اتر گئے۔ اس روایت کا معنیٰ یہ ہے کہ جو شخص صحیح راستہ اختیار کرے گا، وہ منزل تک پہنچے گا، لیکن جو اس راستے سے ہٹ جائے گا، وہ بے راہ روی میں مبتلا ہو جائے گا۔

یہاں "الطریق" سے مراد صراط مستقیم ہے، یعنی وہ راستہ جو ہدایت کی طرف لے جاتا ہے، اور "ورد الماء" یعنی جو اس راستے پر چل کر پانی تک پہنچے گا، وہ ہدایت کی حقیقت تک پہنچے گا۔

پانی کا مفہوم

پانی کا مفہوم واضح کرنے کے لئے ہم قرآن کی جانب رجوع کرتے ہیں۔ سورہ ملک کی آیت 30 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قُلْ اَرَأَیْتُمْ إِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَأْتِیکُمْ بِمَاءٍ مَعِیْنٍ (30)

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اگر تمہارا پانی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمہیں صاف پانی فراہم کرے گا؟ اس آیت میں "ماء" سے مراد امام معصومؑ ہیں۔ آئمہؑ نے اس آیت میں "پانی" کو امامت کے مقام سے جوڑا ہے، یعنی امامؑ وہ ذریعہ ہیں جس سے انسان ہدایت حاصل کرتا ہے۔

امام رضا ؑ کی تفسیر

امام رضا ؑ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مَاؤُکُمْ أَبْوَابُکُمْ أَیِ الْأَئِمَّهًُْ
یعنی تمہارے پانی سے مراد تمہارے آئمہؑ ہیں، جو تمہارے لیے اللہ کے دروازے ہیں۔

امام موسٰی کاظمؑ کی تفسیر

امام موسٰی کاظمؑ کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
إِذَا فَقَدْتُمْ إِمَامَکُمْ فَلَمْ تَرَوْهُ فَمَا ذَا تَصْنَعُونَ
یہ روایت "ماء" کے مفہوم کو امامؑ کے غیبت سے جوڑتی ہے، یعنی جب امام غیبت میں ہوں گے، تب لوگوں کو کیا کرنا چاہیے۔

ظہور امام زمانؑ کی وضاحت

امام محمد باقرؑ نے فرمایا:
هَذِهِ نَزَلَتْ فِی الْقَائِمِ (عجل الله تعالی فرجه الشریف)
یہ آیت امام زمانہؑ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے بارے میں ہے، اور ان کے ظہور کے حوالے سے بہت سی روایات موجود ہیں۔

تفسیر البرھان

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
یُخْرِجُ مِنْ صُلْبِ الْحُسَیْنِ (علیه السلام) أَئِمَّهًًْ (علیهم السلام) تِسْعَهًًْ وَ التَّاسِعُ مِنْ وُلْدِهِ یَغِیبُ عَنْهُمْ
یہ حدیث امام حسینؑ کے نواسے امام زمانہؑ کی غیبت کے حوالے سے ہے، اور اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ امام زمانہؑ کا غیبت کا دور طویل ہوگا۔

غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ

امام صادقؑ نے فرمایا:
غیبت صغریٰ میں امام زمانہؑ کے مخصوص نمائندے ہوں گے، جبکہ غیبت کبریٰ میں امامؑ کی پیروی کرنے والے مومنین کا ایک گروہ موجود ہوگا جو امامؑ کے پیغام کو پہنچائے گا۔

ظہور کے وقت کی حقیقت

ظہور امام زمانہؑ کے وقت دنیا کے حالات ایسے ہوں گے کہ امامؑ کی راہ میں ایک بڑے انقلاب کی تیاری ہوگی۔ جیسے ایران میں انقلاب کے بعد امام مہدیؑ کی تشنگی بڑھ گئی ہے، اسی طرح دیگر ممالک میں بھی لوگوں میں امام مہدیؑ کی طلب بڑھ رہی ہے۔

امام زمانہؑ کی حکومت کا قیام

امام زمانہؑ کی حکومت قائم ہونے کے بعد دنیا کی بڑی طاقتیں، جیسے امریکہ، جنہوں نے کئی سالوں تک افغانستان پر قبضہ رکھنے کے باوجود کامیاب نہ ہو سکیں، امام زمانہؑ کے سات مہینوں میں دنیا پر تسلط کے سامنے سر تسلیم خم کریں گی۔ امامؑ کی حکومت اتنی مستحکم ہوگی کہ دنیا کے کئی ممالک خود بخود ان کی حکومت کو قبول کر لیں گے، اور زمین بھر میں عدل و انصاف قائم ہوگا۔

معرفت امامؑ کی اہمیت

ظہور امام زمانہؑ کے وقت یہ ضروری ہوگا کہ لوگ اپنے امامؑ کی معرفت حاصل کریں، کیونکہ یہی معرفت انہیں گمراہی سے بچائے گی۔ جو لوگ امامؑ کی صحیح معرفت سے بیگانہ ہوں گے، وہ شک و تردید کی حالت میں ہوں گے اور وہ حق سے منحرف ہو جائیں گے۔

خلاصہ:
اس درس میں امامؑ کی معرفت کی اہمیت اور غیبت کے دوران امامؑ کے پیغام کے اثرات پر بات کی گئی۔ امام زمانہؑ کی غیبت کے دوران لوگوں کا کردار اور ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے امامؑ کے پیغام کو سمجھیں تاکہ وہ ظہور امامؑ کے وقت حق کا ساتھ دیں۔


📚کتاب غیبت نعمانی

⚪ درس 6

⬅️ موضوع درس:
مقدمہ کتاب کا آخری حصہ، روایات غیبت کا عصر آئمہؑ اور غیبت کے دور میں اہتمام، تواصب و معتزلہ کا تذکرہ، جاھل قاصر و مقصر، قبل از ظہور پرچم طاغوت سے مراد

🌼 کتاب کا مقدمہ

آج ہماری گفتگو کا موضوع کتاب غیبت نعمانی کا مقدمہ ہے اور یہ ہماری آخری گفتگو ہے اس سلسلے میں، پھر ہم کتاب کے ابواب میں بحث کریں گے۔

شیخ نعمانی رحمہ اللہ نے بہت خوبصورت انداز میں اوائل غیبت کبریٰ کی عکاسی کی اور اس حوالے سے محمد و آل محمدؑ کے فرامین کی رو سے مہدویت کے مختلف اہم مطالب کی جانب اشارہ کیا، نیز اس دور میں اہل تشیع میں جو گمراہی تھی اور علماء کے اندر جو اختلافات تھے، ان کا ذکر بھی کیا۔

آغا نعمانی فرماتے ہیں کہ: "میں نے اس کتاب میں جو احادیث جمع کی ہیں، یہ وہی ہیں جو ہمارے علماء اور بزرگان دین نے امیرالمومنینؑ اور دیگر آئمہ صادقینؑ سے غیبت کے حوالے سے نقل کی ہیں۔"

فرماتے ہیں کہ: "جو کچھ میرے پاس ہے وہ بہت کم ہے، ورنہ اس موضوع پر بہت ساری روایات ہیں جو موجود ہیں، اور میں نے ایک مختصر ذخیرہ جمع کیا ہے جو ابواب کی شکل میں پیش کیا ہے۔"

☀️ ایک اہم نکتہ

یہ جو فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس غیبت کے موضوع پر بہت سارا ذخیرہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں "غیبت" سے مراد مہدویت کی روایات ہیں۔ جب امامؑ کی غیبت شروع ہوئی، تو اس دور میں جو بھی امامؑ کے بارے میں بیان کیا جاتا تھا، اسے لفظ "غیبت" سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

⬅️ ہمارے پاس قدیم ترین منبع "غیبت نعمانی" ہے، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے پہلے کوئی کتابیں نہیں تھیں۔ کتابیں تو تھیں، لیکن وہ یا تو گزرے وقتوں کے ساتھ ختم ہو گئیں، یا بعد میں ان سے متعلق مواد دوسری کتابوں میں منتقل ہو گیا۔

انماطی ابراہیم ابن صالح جو امام محمد باقرؑ کے شاگرد تھے، سب سے پہلے انہوں نے کتاب "الغیبہ" لکھی۔ اس کے علاوہ، حسن ابن محمد ابن سماع نے بھی ایک کتاب "غیبت" لکھی۔ فرقہ واقفیہ نے بھی اس موضوع پر کتابیں لکھیں، اگرچہ ان کا نظریہ درست نہیں تھا، لیکن انہوں نے مہدویت اور غیبت کے حوالے سے روایات جمع کیں۔

🔶 فرقہ واقفیہ

یہ فرقہ امام موسیٰ کاظمؑ کو امام غائب کے طور پر مانتا تھا اور مہدویت پر کتابیں لکھیں۔ ان کا زیادہ تر ذخیرہ ہمارے آئمہؑ کے بیانات پر مبنی تھا۔

🔶 معتزلہ

معتزلہ دو قسم کے تھے:

  1. معتزلہ بغداد: یہ شیعوں کے قریب تھے اور مولا علیؑ کو باقی خلفاء پر فضیلت دیتے تھے۔
  2. معتزلہ بصرہ: یہ عثمانی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور مولا علیؑ کو باقی تین خلفاء پر کم تر سمجھتے تھے۔

شیخ مفیدؒ نے صاحب ابن عباد کے رد میں کتاب لکھی، کیونکہ یہ لوگ امامت کو منسوس من اللہ نہیں مانتے تھے اور اسے انتخابی سمجھتے تھے۔

قرآن کی آیات جن کا ذکر جناب نعمانی نے کیا، ان میں سورہ یونس، سورہ حج، سورہ آل عمران، اور سورہ کہف شامل ہیں۔

⚪ جاہل قاصر اور جاہل مقصر

  • جاہل قاصر: وہ شخص جسے راہ حق معلوم نہیں ہو سکی یا جو کسی وجہ سے حق تک پہنچ نہیں سکا، جیسے دور دراز علاقے کے لوگ۔
  • جاہل مقصر: وہ شخص جو راہ حق کو جاننے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتا، یہ شخص قابل عتاب ہے۔

✨ باب 2: حبل اللہ

فرماتے ہیں "حبل اللہ سے تمسک کریں اور تفرقہ کو چھوڑ دیں۔" آج کے دور میں حبل اللہ امام زمانہؑ عج ہیں۔

باب 3: امامؑ کا انتخاب
یہ باب آئمہؑ اثنا عشری کے بارے میں ہے اور جناب نعمانی نے اس حوالے سے قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں سے مواد جمع کیا ہے۔

باب 4: جھوٹے مہدی
یہ باب ان لوگوں کے بارے میں ہے جو امام زمانہؑ کے ظہور سے پہلے مہدی بننے کا دعویٰ کریں گے، جیسے سفیانی اور خراسانی۔ یہ لوگ طاغوتی پرچم بلند کریں گے اور ان کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔

⚪ خلاصہ:
ہم جناب نعمانی کے ساتھ دعا گو ہیں کہ اللہ ہمیں امام زمانہؑ کا خدمت گزار اور ناصر بنائے۔

🤲 التماسِ دعا
Shahir Bano 
عالمی مرکزِ مہدویت، قم


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات