Exam Book 2

*💐*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم*
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🙏
اللهم صل على محمد وآل محمّد 🕌

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️**
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*

*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭 **

📆بدھ 20  شعبان🌟    1446( 19 فروری، 2025)*
*#دوسرا کتابچہ آفتاب امامت*

📢 *سوالات امتحان*

👈 *کوئی سے پانچ سوال حل کریں*

سوال نمبر 1: امام زمان عج کے شمائل و خصوصیات بیان کریں

جواب

شمائل مبارک اور خصوصیات:

احادیث میں امام مہدیؑ کے اوصاف اور شمائل بیان کیے گئے ہیں۔

پیغمبرؐ اکرم فرماتے ہیں: "مہدیؑ شکل و صورت اور رفتار و گفتار کے لحاظ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے سے مشابہ ہیں۔"

روایات میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرتؑ کا چہرہ جوان، رنگ گندمی، بلند اور چمکدار پیشانی، ابرو لمبے اور ہلال کی مانند، آنکھیں سیاہ اور موٹی، ناک کشیدہ اور زیبا اور دانت سفید اور چمکدار ہیں۔✨

آپؑ کے دائیں رخسار پر سیاہ تل اور شانوں کے درمیان مہر نبوت جیسی علامت دکھائی دیتی ہے۔ 👑 آپؑ کے اعضاء بدن معتدل و متوسط ہیں اور چہرہ نورانی ہے۔ ان کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی مانند چمکتا ہے🌕۔

امام مہدیؑ کا وجود معطر اور خوشبودار ہے اور آپؑ بے نظیر ہیبت و عظمت کے مالک ہیں، مگر پھر بھی لوگوں کے قریب ہیں۔🌸

صفات امام زمانہؑ (عج) میں یہ بھی بیان ہوا کہ آپؑ اہل عبادت، شب زندہ دار، زاہد، سادہ زندگی گزارنے والے، صبر و بردباری اور صاحب عدالت ہیں۔🕊️

بعض مقامات پر فرمایا گیا کہ امام زمانہؑ اتنے خوبصورت ہیں کہ انہیں طاؤس اہل بہشت کا لقب ملا ہے۔🦚

امیرالمؤمنینؑ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ منبر کوفہ پر آپؑ نے فرمایا: "آخر زمانے میں میری نسل سے ایک شخص ظہور کرے گا جس کے چہرے کا رنگ سرخی مائل سفید ہوگا، اس کا سینہ وسیع اور اس کی رانیں اور شانے قوی ہوں گے، اور اس کی پشت پر دو خال ہوں گے؛ ایک خال اس کی جلد کے رنگ کا اور دوسرا پیغمبرؐ کے خال کے مشابہ ہوگا۔"

امام رضاؑ فرماتے ہیں: "حضرت قائمؑ وہ ہیں جو بوڑھوں کی عمر میں بھی جوان چہرے کی مانند چہرہ رکھتے ہوں گے، اور اتنے طاقتور ہوں گے کہ اگر دنیا کے سب سے بڑے درخت کو بھی پکڑیں گے تو جڑوں سمیت کھینچ لائیں گے، اور اگر وہ پہاڑوں کے درمیان نعرہ بلند کریں گے تو پتھر اپنی جگہ چھوڑ دیں گے۔🌍💪"

جناب اباصلت امام رضاؑ کے صحابی ہیں، جو امام مہدیؑ کے شمائل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو امامؑ فرماتے ہیں: "اگرچہ وہ طول عمر کے باعث بوڑھے ہوں گے لیکن وہ دیکھنے میں جوان نظر آئیں گے، اور آپؑ کی عمر مبارک چالیس سال یا اس سے کم ہوگی۔"

جناب علی بن مہزیار جو امام زمانہؑ کی ملاقات کا شرف رکھتے تھے، وہ بھی امامؑ کا قد میانہ، چہرہ گول، سینہ وسیع اور پیشانی سفید ہونے کی تصدیق کرتے ہیں، اور دائیں رخسار پر تل کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔🌟

سوال نمبر 2: غیبت کبریٰ کا آغاز کیسے ہوا اور اس میں ہم امام زمان عج سے کیسے فیض حاصل کرتے ہیں۔

جواب

غیبت کبریٰ کا آغاز کیسے ہوا

غیبت کبریٰ میں امامؑ کا ظاہری رابطہ ختم ہونے کے باوجود، امامؑ کا فیض اب بھی موجود ہے 🌟. امامؑ کا فیض غیبت کے پردے میں بھی انسانوں تک پہنچتا ہے جیسے سورج کی روشنی بادلوں کے پیچھے چھپ کر بھی زمین تک پہنچتی ہے 🌞. امامؑ نے فرمایا کہ غیبت کے دوران ان سے فیض حاصل کرنا ویسا ہی ہے جیسے بادلوں کے پیچھے سے سورج کی روشنی حاصل کرنا 🌥️. اسی طرح امامؑ کا وجود اور ان کی رہنمائی غیبت کے دوران بھی انسانی معاشرے کے لیے نفع بخش ہے 🌱.

غیبت کبریٰ میں ہم امام زمان عج سے کیسے فیض حاصل کرتے ہیں۔: ⚖️

غیبت کبریٰ میں ہمیں اپنی کوششوں کو امامؑ کے ظہور کی تیاری کے طور پر دیکھنا چاہیے ⏳. امامؑ کا فیض اور ان کی رہنمائی ہم تک پہنچ رہی ہے, لیکن ہم اس کو اپنی زندگیوں میں عمل کے ذریعے محسوس کرتے ہیں 💪. ہمیں امامؑ کے ناصر بننے کی کوشش کرنی چاہیے 🛡️ اور اپنی زندگیوں میں امامؑ کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے 📜.

آج کے دور میں بھی بہت سی شخصیات امامؑ کے ناصر بننے کی جدوجہد کر رہی ہیں، جیسے سید حسن نصراللہ, رہبر معظم آیت اللہ خامنائی, اور آیت اللہ زکزاکی اور ان کے ساتھی، جو امامؑ کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں 💥🕊️.

سوال نمبر  3:امام زمان عج کی ولادت پر قائل کوئی تین علماء اھل سنت کا نام لیں اور انکی کتابوں کا نام بھی بیان کریں 

جواب

اہل سنت علماء کا امام زمانہؑ کی ولادت کی تصدیق: 🕌

اہل سنت کے 40 سے زائد علماء، جن میں محمد بن طلحہ شافعی 📚، محمد بن یوسف گنجی شافعی 📖، اور محمد بن احمد مالکی شامل ہیں 📚، نے اپنی کتابوں میں امام زمانہؑ کی ولادت کی تصدیق کی ہے. یہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امامؑ کی ولادت ایک حقیقت ہے جو تمام مسلمان فرقوں کے لیے تسلیم شدہ ہے 🙏.

امام زمانہ (علیہ السلام) کی ولادت پر اہل سنت کے تین علماء نے تصریح کی ہے۔ ان میں سے چند مشہور علماء اور ان کی کتابوں کا ذکر درج ذیل ہے:

1. ابن حجر ہیثمی (متوفی 974 ہجری)


کتاب: الصواعق المحرقة

اس کتاب میں امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت اور ان کے ظہور کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔


2. السمہودی (متوفی 911 ہجری)


کتاب: وفاء الوفاء

اس کتاب میں امام مہدی (علیہ السلام) کے متعلق مختلف احادیث اور روایات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں امام کی ولادت کی تصدیق کی گئی ہے۔


3. شمس الدین ذہبی (متوفی 748 ہجری)


کتاب: تاریخ الإسلام

اس میں امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت اور ان کے بارے میں مختلف روایات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔



یہ تین علماء اہل سنت نے امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے بارے میں مختلف کتابوں میں تصریح کی ہے، اور اس بات کی تائید کی ہے کہ امام کی ولادت ہو چکی ہے۔

سوالنمبر4:حضرت عج کی مخفی دور میں کیا فعالیت تھی کسی ایک موضوع کی تشریح کریں 

جواب

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت (مخفی دور) ایک اہم اور پیچیدہ دور ہے جو اسلامی تاریخ میں گزر چکا ہے اور اس کا بہت گہرا اثر امت مسلمہ پر پڑا۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے دوران ان کی فعالیت ایک اہم موضوع ہے، کیونکہ امامؑ کا غیبت میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی رہنمائی اور قیادت امت کے لئے ایک نئے طریقے سے جاری رہی۔ اس دور میں امامؑ کی اہم ترین فعالیت *دین کی حفاظت اور امت کی رہنمائی* تھی، اور اس کی مختلف صورتیں تھی جنہیں ہم تفصیل سے سمجھ سکتے ہیں۔

1. *غیبتِ صغریٰ (Minor Occultation)* 


حضرت امام مہدیؑ کی غیبتِ صغریٰ کا آغاز 260ھ میں ہوا جب امامؑ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے امت کو رہنمائی فراہم کرنا شروع کی۔ اس دوران امامؑ کا ظاہری رابطہ عوام سے محدود تھا، لیکن آپ نے اپنے چار خاص نمائندوں کے ذریعے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے اور دین کی رہنمائی دینے کا عمل جاری رکھا۔ ان نمائندوں کو "نواب خاص" کہا جاتا تھا، اور یہ نواب خاص امامؑ کے پیغامات، ہدایات اور شرعی مسائل کے جوابات عوام تک پہنچاتے تھے۔ 
اس دور کی فعالیت میں اہم بات یہ تھی کہ امامؑ نے اس وقت کے علماء اور فقہاء کو دین کی سچائیوں کو واضح کرنے کا موقع دیا اور ان کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کی۔ امامؑ کی یہ فعالیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آپ نے دین کی حفاظت اور امت کی رہنمائی کے لیے اپنے نمائندوں کے ذریعے عملی طور پر کام کیا۔

2. *غیبتِ کبریٰ (Major  Occultation)*

غیبتِ کبریٰ کا آغاز 329ھ میں ہوا، جب امامؑ نے اپنی غیبت کو مکمل طور پر اختیار کیا اور کسی ظاہری رابطے کا امکان ختم ہو گیا۔ اس دور میں امامؑ کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اور امامؑ کے پیغامات یا ہدایات کو فقہاء، علماء اور اجتہاد کے ذریعے امت تک پہنچایا گیا۔ اس دوران، امامؑ نے اپنے پیروکاروں کو اس بات کی تاکید کی کہ وہ دین کی صحیح تشریح اور رہنمائی کے لیے علماء کی طرف رجوع کریں۔ 
اس دور کی اہم ترین فعالیت یہ تھی کہ امامؑ نے دین کے اہم اصولوں کو ان علماء اور فقہاء کے ذریعے صحیح طور پر عام کیا۔ امامؑ کا غیبت میں رہنا اس بات کی علامت تھا کہ امت کا مستقبل صرف علم و عمل پر منحصر ہے۔ اس دوران امامؑ کی رہنمائی کا عمل غیر مستقیم تھا لیکن پھر بھی آپ کا اثر امت کی زندگی میں جاری رہا۔

3. *دین کی حفاظت اور فتنوں سے بچاؤ* 


حضرت امام مہدیؑ کی غیبت میں سب سے اہم فعالیت دین کی حفاظت تھی۔ امامؑ کے غیبت میں ہونے کے باوجود، آپ کے علم اور ہدایات کا اثر کسی نہ کسی صورت میں امت تک پہنچتا رہا۔ امامؑ کی غیبت کی ایک وجہ امت کو آزمائش میں ڈالنا بھی تھی، تاکہ لوگ اپنی ایمان داری اور عقیدہ کی پختگی کو ثابت کر سکیں۔ امامؑ کا یہ دور امت کو فتنے سے بچانے، اور دین کے غلط تشریحات سے محفوظ رکھنے کے لئے تھا۔ اس دوران علماء نے امامؑ کے اصولوں اور فتووں کو اجتہاد کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا، اور اس طرح امامؑ کی غیبت میں بھی دین کی حفاظت کا عمل جاری رہا۔

4. *انسانوں کی اصلاح اور آزمائش*

امامؑ کا غیبت میں رہنا امت کی اصلاح اور ان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تھا۔ حضرت امام مہدیؑ کی غیبت میں ان کا کردار اس بات پر مرکوز تھا کہ لوگ اپنے عمل اور ایمان کو ثابت کریں، اور وہ خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ امامؑ کی غیبت نے مسلمانوں کو خودمختار بنانے کی کوشش کی، تاکہ وہ اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت کر سکیں۔

نتیجہ 
حضرت امام مہدیؑ کی غیبت میں ان کی فعالیت ایک بہت اہم پہلو ہے جو دین کی حفاظت، امت کی رہنمائی اور انسانوں کی آزمائش پر مبنی تھی۔ امامؑ کی غیبت نے امت کو خود مختار بنایا اور ان کے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کیا۔ امامؑ کے علم کا اثر آج بھی امت مسلمہ پر جاری ہے اور غیبت کے دور میں بھی امامؑ نے امت کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔

سوال نمبر  5: اسکا ترجمہ کریں: 

 یَا أَحْمَدَ بْنَ إِسْحَاقَ مَثَلُهُ فِی هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ الْخَضِرِ ع وَ مَثَلُهُ مَثَلُ ذِی الْقَرْنَیْنِ وَ اللَّهِ لَیَغِیبَنَّ غَیْبَةً لَا یَنْجُو فِیهَا مِنَ الْهَلَکَةِ إِلَّا مَنْ ثَبَّتَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى الْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ وَ وَفَّقَهُ فِیهَا لِلدُّعَاءِ بِتَعْجِیلِ فَرَجِهِ.

جواب

یہ عبارت حضرت امام مہدیؑ کی غیبت اور اس کے دوران لوگوں کی آزمائش کے بارے میں ہے۔ اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:

*"اے احمد بن اسحاق! اس امت میں اس کا (امام مہدیؑ) مثال خضر علیہ السلام کی طرح ہے، اور اس کا مثال ذوالقرنین کی طرح ہے۔ اللہ کی قسم! وہ ایک غیبت میں غائب ہوں گے، ایسی غیبت میں جس میں ہلاکت سے بچنے والا وہی شخص ہوگا جسے اللہ عز و جل امامتی عقیدے پر ثابت رکھے اور اس غیبت میں ان کی مدد کے لیے ان کی دعاؤں میں تیز رفتاری کے لیے توفیق دے۔"*

اس عبارت کا مقصد امام مہدیؑ کی غیبت کے دوران ان کی شناخت اور عقیدہ کی پختگی کی اہمیت کو واضح کرنا ہے، اور یہ بیان کرنا ہے کہ غیبت کے دوران صرف وہ لوگ ہلاکت سے بچیں گے جو امامؑ کی امامتی حیثیت پر ایمان رکھیں گے اور ان کی مدد کے لیے دعا کریں گے۔

سوال نمبر  6: امام عسکری علیہ السلام کے نماز جنازے کے واقعہ سے ہم کیا درس لیتے ہیں

جواب

جنازہ کے بعد کا واقعہ: 💫

ابو لادیان سامرہ واپس پہنچے, اور وہی منظر دیکھنے کو ملا جو امامؑ نے بیان کیا تھا. امام عسکریؑ کا جنازہ تیار تھا ⚰️، اور جعفر (امام عسکریؑ کا بھائی) لوگوں کے ساتھ امامؑ کے جنازے کے قریب پہنچا تاکہ نماز جنازہ پڑھائے 🙏. لیکن اس دوران امام زمانہؑ (جو بچپن میں تھے) آگے بڑھے اور جعفر سے کہا:

"چچا پیچھے ہٹیں، میں اپنے بابا کا جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔" 🌟

جعفر کا چہرہ زرد ہو گیا 😔 اور وہ پیچھے ہٹ گیا. امام زمانہؑ نے امام عسکریؑ کا جنازہ پڑھایا 🕊️ اور اس کے بعد ابو لادیان سے فرمایا:

"تمھارے پاس جو خطوط ہیں، وہ مجھے دے دو۔" 📜

ابو لادیان نے دل میں کہا کہ امام زمانہؑ نے دو نشانیاں ثابت کر دیں: پہلی یہ کہ امامؑ ہی امام حسن عسکریؑ کے جانشین ہیں 🏆، اور دوسری یہ کہ وہ ہی امام ہیں جو ان خطوط کا جواب دیں گے 💌.

جعفر کا انکار: ❌

ابو لادیان نے جعفر سے پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے? 🤔 تو جعفر نے کہا:

"خدا کی قسم، میں نے انہیں آج تک نہیں دیکھا تھا۔" 😳

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ جعفر امام نہیں بلکہ کذاب تھا 🚫.

آخری فیصلہ: ⚖️

اسی دوران اہل قم آئے 🏘️ اور پوچھا کہ امام کا جانشین کون ہے؟ کچھ لوگوں نے جعفر کی طرف اشارہ کیا, تو جعفر نے کہا کہ وہ علم غیب جانتے ہیں 📚. لیکن امام زمانہؑ کا غلام باہر آیا اور بتایا کہ ان خطوط کا تعلق فلاں شخص سے ہے 📜 اور تھیلی میں ہزار دینار ہیں 💵، جن میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے 🔍.

نتائج: ✅

یہ واقعہ تین اہم نکات کو واضح کرتا ہے:

1. امام زمانہؑ کا جنازہ پڑھانا: امام زمانہؑ نے امام عسکریؑ کا جنازہ پڑھا کر اپنے امام ہونے کا اعلان کیا 📢.



2. جعفر کا کذاب ہونا: جعفر امام نہیں تھا بلکہ وہ کذاب تھا 🚫.



3. ابو لادیان کا واقعہ: تینوں نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ امام زمانہؑ ہی امام عسکریؑ کے جانشین اور حجت خدا ہیں 🌟.





*والسلام۔* 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥
*✨شہربانو✍️*
*عالمی مرکز مہدویت قم* ۔* 🌍


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات