کتاب لقاء اللہ (ѕαdíα)
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
درس کتاب لقاء اللہ (17)📖
آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی (رح)🌷
*تجلی ، خدا کیا ہے؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
موضوع سخن رسالہ لقاء اللہ ہے کہ جسے آیت اللہ حاج میرزا جواد ملکی تبریزیؒ نے تالیف فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو جو خاص مقامات عطا کرتا ہے اس میں سے ایک خاص مقام یہ ہے کہ پروردگار اپنے بندوں کے دلوں میں تجلی کرتا ہے۔
اب یہاں تجلی سے مراد وہ نہیں جو ہم اپنے ذہنوں اور خیالوں میں تصور کرتے ہیں یا وہ نہیں ہے جو ہم اپنے باہر کی دنیا میں دیکھتے ہیں یا سوچتے ہیں۔
پروردگار اس قسم صورت یا جسم نہیں رکھتا وہ ان چیزوں سے پاک اورمنزہ ہے۔ ہم جو بھی سوچتے ہیں اور تصور کرتے ہیں وہ خالق نہیں ہے بلکہ اس کی مخلوق ہیں۔
تجلی کیا ہے؟
تجلی ایک روحانی اور معنوی مسئلہ ہے اس لیے انسان کبھی بھی اپنے خیالوں سے یا تصورات یا باہر کی چیزوں کی کو دیکھ کر مقاسیہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ریاضتیں اور بے پناہ علم چاہیے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا چاہیے کہ وہ ہمیں اپنی معرفت کی توفیق دے۔
کتاب فلاح السائل📚
سید ابن طاوؤس✨
روایت:
ہمارے مولا امام جعفر صادقؑ اپنی کسی نمازمیں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے تو ان پر غش کی حالت طاری ہوگئی۔ اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ پر غش کی حالت کیسے طاری ہوگئی کہ میں قرآنی آیات کی تلاوت کر رہا تھا کہ مجھ پر ایک ایسی حالت طاری ہوگئی کہ میں اس ہستی سے ان آیات کو براہ راست سن رہا ہوں کہ جس ہستی نے ان آیات کو نازل کیا اور اس کے بعد میرے جسم کے اوپر انسانی اور بشری طاقت بھی پروردگار کی اس تجلی کو برداشت نہ کر سکی۔ اور مجھ پر حالت غشی طاری ہوگئی۔ یہ چیزیں اولیاء خدا کو پیش آتیں ہیں۔
ہم نے قرآن مجید کے اندر حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں پڑھا ہے کہ جب ان کی قوم کے تقاضے پر جب انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں یہ درخواست کی تھی کہ ہمیں اے پروردگارا اپنا آپ دکھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک پہاڑ پر تجلی کی تھی اور وہ پہاڑ اللہ کی تجلی کو برداشت نہ کر سکا اور وہ ریزا ریزا ہوگیا۔
اگر انسان چاہتا ہے کہ اللہ کی معرفت میں قدم رکھے تو پھر سب سے پہلے اپنے ہدف کو معین کرے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس چیز کو چاہ رہا ہے۔ اس کے اندر طاقت اور استداد ہے۔
مثلاً ایک شخص کہ جس میں ایک دیہات پر حکومت کرنے کی طاقت ہو وہ کس طرح ایک بڑی حکومت یا سلطنت پر یا دنیا پر حکومت کر سکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔
پروردگار کی معرفت میں قدم رکھنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جس ہستی کی بارگاہ میں ہم معرفت پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ اتنی بزرگ اور عظیم ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ یعنی ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اللہ تعالیٰ اتنی لامحدود وسعتوں کا مالک ہے۔ اور یہ چیز نہ ہماری فکر میں آسکتی ہے نہ علم میں آسکتی ہے اور نہ ہی ہمارا علم اس چیز کو درک کر سکتا ہے۔
مثلاً اگر ہم اس بات کو تصور کریں کہ خدا اس کائنات کا مالک ہے تو ہمارے ذہنوں میں دنیا کے بادشاہوں کا تصور آتا ہے۔ اور ہم اس سے مقائسہ کرتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کے سلطانوں کےپاس زمین کے چھوٹے چھوٹے حصے ہیں۔
پروردگار اس زمین اور اس زمین جیسے لاکھوں کڑوڑوں زمینوں کا مالک ہے۔ دنیا کے حاکموں کی جگہ اور حاکم آجاتے ہیں لیکن اللہ کی سلطانیت عبدی ہے وہ جہانوں کا مالک ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی حکومتوں میں ہزاروں نقائص ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے کہ وہ کمالات عطا کرتی ہے جیسا کہ روایات میں آیا ہے:
پروردگار اہل بہشت کو وہ کمالات عطاکرے گا کہ جو آج ہم دیکھتے ہیں کہ اولیا اور انبیاء کو عطا فرمایا ہے۔ اور اس کی مثال یہ ہے کہ پروردگار اہلبہشت سے خطاب کرے گا اور فرمائے گا کہ :
میں نے تمھیں ہمیشہ کے لیے زندہ پیدا کیا ہے۔ اور تم کھبی بھی نہیں مروں گے اور تم جس چیز کے بارے میں ارادہ کرو گے اور کہو گے ہوجا تو وہ ہو جائے گی۔
قرآن مجید میں یہ طاقت اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مخصوص رکھی ہے اور یہ طاقت پروردگار اپنے اولیاء اور انبیاء کو بھی دیتا ہے۔ جس سے ان سے کرامات صادر ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ یہ طاقت ہر بہشتی کو دے گا اور ہر جنتی یہ طاقت رکھے گا۔
تو اللہ تعالیٰ آج جو چیزیں انبیاء اور اولیاء کو دےدے رہا ہے وہ کل بہشتیوں کو عطا ہونگی۔ اور یہ ہے سلطان کہ جس کی سلطنت میں کمالات ہی حاصل ہوتے ہیں اور کوئی نقص نہیں ہے۔
جس طرح اللہ نے ہمیں خیال کی دنیا میں سلطان بنایا ہے اسی طرح اللہ نے انبیاء اور اولیاء کو باہر کی دنیا میں کمال اور طاقت اور سلطنت عطا کی ہے۔ اور جب ہم انشاء اللہ جنت میں جائیں گے تو پروردگار یہی کمال اور سلطنت حقیقت میں عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ جو اتنی عظمتوں کا مالک ہے اس کی معرفت کوئی آسان قدم نہیں اس کے لیے بے پناہ توجہ، فکر، مراقبہ اور بے پناہ دعائیں اور مناجات کی ضرورت ہے۔
والسلام🤲
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌏
*دروس لقاءاللہ📖*
*آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی (رح)🌷*
درس 18
*اللہ کے خالص بندوں کے مقامات*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم:
موضوع سخن آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ کی کتاب شریف رسالہ لقاءاللہ ہے ہمارا موضوع گفتگو یہاں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص لوگوں کو کہ جو اس کی راہ میں زحمتیں کرتے ہیں اور حقیقتاً خدا اور اس کے رسولؐ اور آئمہؑ پر ایمان رکھتے ہیں۔ پروردگار ان کو آخرت میں بے پناہ نعمات عطا کرے گا۔ ان کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ:
*وَلَا خَطَرَ عَلَي قَلْبٍ بَشَرٍ*✨
اللہ نے ایسی ایسی نعمتیں انسان کو عطا کرنی ہیں کہ جو انسان کے ذہن میں یہ چیزیں آ ہی نہیں سکتی کہ جو کچھ خدا نے اسے عطا کرنا ہے۔
*جنت کے اندر کیا ہے؟*🌟
جو کچھ قرآن اور احادیث میں بیان ہوا ہے وہ ان نعمات کا بہت ہی قلیل ذکر ہے کہ جو اللہ نے بے پناہ اور فراوان بہشتیوں کو عطا کرنی ہے۔
مثلاً ہماری روایات میں آیا ہے کہ پروردگار اہلبہشت کو ایک ایسا پانی عطا فرمائے گا کہ جس کے اندر کائنات کے تمام لذیذ مشروبات اور کھانوں کی لذت ہے اور جب وہ یہ پانی پئے گا تو ان تمام چیزوں کا ذائقہ اور لذت جدا جدا محسوس کرے گا۔ یعنی وہ سب مل کر کوئی نیا ذائقہ یا محلول ذائقہ ایجاد نہیں کریں گی۔ کہ جس طرح دنیا میں لوگ بہت ساری لذیذ چیزوں کو ملا دیتا ہے اور ان کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے کہ جو انسان کو مطلوب نہ ہو۔ اور انسان اس کی جانب رغبت نہ کرے لیکن بہشت کی جو چیزیں ہیں ان کو انسان کو ان مخلوط انداز میں کھائے گا تو ہر چیز جدا جدا لذت دے گی اور ان کی لذتیں خراب نہیں ہونگی۔ اور ایک چیز دوسری چیز کے اثر کو باطل نہیں کرے گی۔
*سبحان اللہ!*🌷
یہ ایک ایسا جہان ہے کہ جس کے بارے میں انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے علاوہ بھی ایک لذت ہے کہ جو خود پروردگار کی تجلی ہے کہ جو پروردگار اہل بہشت کو عطا کرے گا۔
روایات میں آیا ہے کہ جب پروردگار اہلبہشت کو اپنی تجلی سے سرفراز کرے گا اور جیسے ہم نے قرآن پاک میں پڑھا کہ جب حضرت موسیٰؑ پر تجلی آئی تو حضرت موسیٰؑ بیہوش ہوگئے۔ 😭 🙏اہل بہشت بھی بیہوش ہو جائیں گے اور ان کی بیہوشی اتنی طولانی ہوجائے گی کہ حورالعین پروردگار سے شکایت کریں گی کہ جن کی خدمت کے لیے تو نے ہمیں خلق کیا یہ تیرے بندے تیرے جاہ و جلال کی تجلی سے اور اسکی لذت سے بہوش ہیں۔ خداتعالیٰ تب حکم دے گا اور اہل بہشت ہوش میں آئیں گے۔
اب ہوسکتا ہے کہ بہت سارے لوگ ان چیزوں کو سنیں تو انہیں عجیب محسوس اور اور ہوسکتا ہے کہ بہت سارے لوگ ہنس پڑیں لیکن یہ حقائق ہیں۔ کیونکہ جو جس مرتبے کو نہیں جانتا ہوسکتا ہے کہ وہ مرتبہ اسے سمجھ نہ آئے اور اسے عجیب لگے۔ لیکن جب کوئی اُس مرتبہ میں قدم رکھتے گا تو اس کی لذت کو جانے گا۔ 🫴
مثال کے طور پر جب ایک بچہ بڑوں کی باتوں کو سن کر ہنس پڑتا ہے اسے سب عجیب لگتا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ مذاق بھی اڑائے گا لیکن جب وہ اس مقام پر سنی تقاضے کے مطابق پہنچے گا اور اسے وہ بصیرت حاصل ہو گی تو اس وقت اسے حقائق سمجھ آئیں گے اور اس وقت جو لذت اور آگاہی محسوس کرے گا اسے اس نے بچپن میں درک نہیں کیا ہوگا۔
*بہشت جہانِ حقیقی ہے:*🌟
خود بہشت ایک ایسا جہان ہے کہ جسے روایات میں جہانِ حقیقی کہا گیا ہے۔ کہ وہاں حیاتِ حقیقی اور ابدی زندگی ہے۔ اور ابدی زندگی جنت ہے۔ البتہ جہنم کے اندر بھی حیات ابدی ہے۔
بعض اہل جہنم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے کیونکہ ان کے عقیدے بھی باطل تھے اور عمل بھی ظالمانہ تھے۔ اور بعض اہل جہنم اپنے صحیح عقیدے کے ساتھ اپنے گناہوں کی سزا پا کر جنت کی طرف جائیں۔
اہلبہشت کی حیات حقیقی حیات ہے کہ جس میں انہیں ساری نعمات مہیا ہے اور جس کی کوئی انتہا نہیں۔
*سبحان اللہ!*🌷
وہ موت ، درد، رنج نہیں ہے۔ اور خدا بہشتیوں سے کہے گا کہ جہاں جان چاہتے ہو جاؤ۔ بہشت بہت وسیع ہے۔ اور جو کچھ انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتا خداوند متعال نے وہ اپنے بندوں کو بہشت میں مہیا کیا ہے۔
*سبحان اللہ!*🌷
*لیکن* !
اس بہشت اور اس کی نعمات سے بڑھ کر بھی ایک چیز ہے اور وہ معرفت ، قٗرب اور تجلیِ پروردگار ہے جو خدا اپنے اہل بہشت کو عطا فرمائے گا۔ کہ جس کی عظمت اور لذت کا مقابلہ بہشت کی نعمات بھی نہیں کر سکتیں اور یہ وہ چیز ہے کہ جس کی تمنا اہل معرفت رکھتے ہیں۔ ✨
اب ہمیں یہاں امیرالمومنینؑ کے فرمان کی سمجھ آتی ہے کہ مولاؑ فرماتے ہیں:🫴
*الهی ! ما عبدتک خوفاً من عقابک و لا طمعاً فی ثوابک و لکن وجدتک أهلاً للعبادة فعبدتک.*🌷
خدایا میں نے تیری عبادت نہ تیری جنت کی طمع میں کی ہے اور نہ تیرے جہنم کے خوف سے … بلکہ تجھے عبادت کا اہل پایا ہے تو تیری عبادت کی ہے۔✨
( عوالی اللئالی 1 ص 404/63۔2 ص11/18،شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی 5 ص361 ، شرح مأتہ کلمہ ص 235)📚
یہ مقام عرفان ہے اور یہ وہی چیز ہے کہ جس کے اندر انسان کے تمام کمالات، تکامل اور عروج پوشیدہ ہے اور جب یہ حالت کسی بشر پر طاری ہو تو وہ اولیاء خدا کی صفت اور ان کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور ہمارے آئمہؑ اور انبیاؑء ایسے ہی تھے۔ 🌷
*حضرت شعیبؑ کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ خدا کے فراق میں گریہ فرماتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ*
پروردگار نہ تو میں جہنم کے خوف سے روتا ہوں اور نہ ہی مجھے کوئی جنت کی دوری کا غم ہے اگر مجھے کوئی غم ہے تو وہ یہ کہ میں خود کو تجھ سے دور نہیں رکھ سکتا۔ اور اس دوری پر صبر نہیں کرسکتا۔ مجھے اپنے دیدار اور قُرب سے سرفراز فرما۔
*😭اللہ اکبر!*
خود امیرالمومنینؑ جو کہ سید العارفین اور رئیس المراجعہ ہیں کس طرح پروردگار سے دعائے کمیل میں کس طرح مخاطب ہوتے ہیں کہ:✨
*فَھَبْنِی یَا إلھِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَرَبِّی، صَبَرْتُ عَلَی عَذابِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَلَی فِراقِکَ*😭
تو اے میرے معبود میرے آقا میرے مولا اور میرے رب تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے صبر کروں گا؟
اللہ اکبر!
*ایک عارف کا فارسی میں شعر ہے۔* ✨
کہتے ہیں کہ:
*دیوانہ کنی و دو جہانش بخشی*
*دیوانہ تو دو جہاں را چہ کُند*
اے پروردگارا ! تو مجھے اپنے دونوں جہان دے کر دیوانہ کر رہا ہے
جو تیرا دیوانہ ہے اسے ان دو جہانوں کی کیا ضرورت۔
کہتا ہے:
اے خدایا میں تیرے در پر کھڑا ہوں تو مجھے جنت میں نہ بھیج
میرے لیے تیرے گھر کی گلی کا آغاز (تیرا قرب) کافی ہے اور مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔
*یہاں پھر آیت اللہ ملکی تبریزیؒ اظہار غم کرتے ہیں۔* ✨
کہتے ہیں کہ :
*واہ حسرتَ* ! اے انسان تو کہاں کھڑا ہے زندگی کے لحظات گذر رہے ہیں اور یہ چیزیں حق ہیں اور اگر تجھے یقین ہے تو تو کہاں کھڑا ہے اور اگر تجھے یقین نہیں تو تجھے گمان تو ہے نہ لیکن پھر تو نے کیوں کچھ نہیں کیا اور کیوں تیری روح اور تیرا دل محبت دنیا میں مریض ہے۔ فقط تجھے ایک ہی فکر ہے اور امورِ دنیا ہیں۔ اور کہاں فکر آخرت اور پروردگار؟
*اللہ نے تجھے اپنی معرفت اور قرب میں آنے کے لیے پیدا کیا اور تو ہے کہ کہاں چلا گیا؟*🫴
پھر وہ رسولؐ اللہ سے، آئمہؑ سے اور بلخصوص امام زمانؑ عج سے توسل کرتے ہیں اور ان کے توسل سے اللہ کا قرب مانگتے ہیں۔
*بہترین توسل اور بہترین دعا یہی ہے کہ:*
*جو پیغمبرؐ معصومینؑ اور بلخصوص بارگاہِ امام زمانؑ عج میں جو چیز بذریعہ توسل مانگنی ہے وہ قرب پروردگار اور معرفت پروردگار ہے۔ کیونکہ جسے یہ مل جائے اسے سب کچھ مل جاتا ہے۔* 🤲
جیسے سید الشہدؑا فرماتے ہیں۔ ✨
*مَاذَا وَجَدَ مَنْ فَقَدَكَ وَ مَا الّذِى فَقَدَ مَنْ وَجَدَكَ؟*🌷
خداوندا! جس نے تجھے کھو دیا، اسے کیا مل گیا اور جسے تو مل گیا، اس نے کیا کھو دیا؟!
(بحار الانوار، ج ۹۵ ص ۲۲۶ ح۳ (📚
*اللہ اکبر!*😭
پروردگار عالم ہم سب کو محمدؐ و آل محمدؑ کے صدقے خدا کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین!🤲
والسلام
تحریر و پیشکش:✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌏
درس لقاء اللہ 19
(19)
*آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی (رح)🌷*
موضوع: توبہ اور اسکے درجے
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم✨✨
ہماری گفتگو کا موضوع کتاب شریف لقاءاللہ ہے ہم اپنے سلسلہ گفتگو میں یہاں پہنچے ہیں کہ جب انسان کا ہدف واضح ہو جائے کہ وہ اللہ کے لیے جی رہا ہے اور پروردگار کی معرفت کو جب حاصل کر لے تو اس کے بعد اس کا اہم ترین کام توبہ ہے۔
اپنی گذشتہ زندگی میں جو کچھ اس نے کیا جو نہیں کرنا چاہیے تھا جو کچھ اس نے سوچا حتہ کہ جو خیال آئے ان سب سے توبہ ہے۔ اور توبہ کے مرتبے اور درجات ہیں۔
جس طرح سے لوگوں کے درجے ہیں ۔ توبہ کرنے والوں کے درجے ہیں
اسی طرح خود توبہ کے بھی درجے ہیں ۔
کتاب *مصباح الشریعہ* 📚 میں لوگوں کے درجوں کی مناسبت سے توبہ کے درجے بیان ہوئے ہیں ۔ اس میں آیا ہے کہ:
*التوبہ حبل اللہ و مدد عنایتہ ولا بد للعبد من مداومہ التوبہ علی کل حال* ✨
توبہ اللّٰہ کی رسی ہے اس کی عنایت سے پروردگار کی مدد ہے ہر ابد کے لیئے ہر بندے کے لیے ہر حال میں ضروری ہے کہ وہ اپنی توبہ کو جاری رکھے۔ اگر کوئی نامناسب کام ہوا ہے تو فوری توبہ کرے۔ ایسا نہیں ہے کہ توبہ کرے اور پھر انسان اپنی دنیا میں غرق ہو جائے۔ نہیں! بلکہ جب بھی کوئی یہ سمجھے کہ وہ راہ حق سے ہٹ رہا ہے فوری توبہ کرے۔
اس کے بعد فرماتے ہیں
*و کل فرقہ من العباد لہ توبہ:* ✨
لوگوں کے ہر گروہ کے لیے توبہ ہے۔ یعنی ہر گروہ کی اپنی خاص توبہ ہے۔
*انبیاءؑ کی توبہ کیا ہے؟*
*فتوبہ الانبیاء من اضطراب السر* ✨
ہم بعض اوقات قرآن مجید اور احادیث میں اور دعاؤں میں بھی دیکھتے ہیں۔ نبیوں کی توبہ جو ہے وہ یہ ہے کہ ان کے اندر جو اضطراب پیدا ہوتا ہے دنیا کے جن حالات سے وہ دو چار ہوتے ہیں تبھی انسان بلآخر اپنے نفس سے اور دشمنوں سے پریشان ہوتا ہے۔
یہ جو ایک مخفی سا نا معلوم سا اضطراب پیدا ہوتا ہے یہ نہیں پیدا ہونا چاہئے تھا ۔ کیونکہ تو ایک نبی خدا ہے، ولی خدا ہے تیری پشت پر لامحدود قدرت کا مالک پروردگار ہے۔ تو یہ انکی اک خطا ہوتی ہے۔ درواقع ہمارے لیے خطا نہیں ہے۔ یہ کوئی شرعی یا فقہی خطا نہیں ہے ۔
*بعض مرتبہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ نبیؑ معصوم ہوتے ہیں تو وہ گناہ کیا ہوتا ہیں جو وہ کرتے ہیں جس سے وہ استغفار کرتے ہیں وہ یہی چیز ہے ۔*
یعنی یہ انکے مقام پر ایک خطا ہے ۔جس درجے پر وہ فائز ہیں اس درجے میں اک خطا ہے بلآخر وہ بشر ہے ایک انسان ہے۔ لیکن! یہ وہ خطا نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں۔ جس میں حلال و حرام کا مسئلہ ہے ۔ نعوذباللہ! ایسا نہیں ہے۔ نبیؑ ان چیزوں سے معصوم ہیں۔ وہ جو اک پریشانی اک اضطراب ان کے اندر پیدا ہوتا ہے وہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ تو انبیاء اس سے توبہ کرتے ہیں ۔
*و توبہ الاولیاء من تلوث*✨
نبیوں کے بعد جو دوسرا مقام ہے اولیاء خدا ہیں۔ اس میں آئمہ اور اوصیاء ہیں اور ان کی توبہ کس چیز سے ہے؟
یہ جو دلوں میں بعض دفعہ خیال پیدا ہوتے ہیں جیسے بدگمانی پیدا ہوگئی جیسے سوۓ زن پیدا ہوگیا، جیسے ذہن میں فکر گناہ آ گئی۔
یہ بھی گناہ نہیں کرتے یہ بھی معصوم ہوتے ہیں۔ اور وہ جو گناہ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ نہیں کرتے یہ کسی گناہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ان سے کوئی خطا عملی طور پر نہیں ہوتی لیکن یہ کس چیز کے لیے روتے ہیں اللّٰہ کی بارگاہ میں استغفار کرتے ہیں لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں گریہ کرتے ہیں۔
ہمارے بعض لوگ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ ہمیں دکھانے کے لیے ہے ۔ ایسا بلکل نہیں۔ ان کے درجے پر پر بھی کوئی گناہ ہے جو ہمارے لیے گناہ نہیں ہے لیکن انکے درجے پر ہے اور وہ کیا ہے کہ دلوں میں بعض مرتبہ ایسی حالتیں پیدا ہونا کہ جسے ہم کہیں کہ دل میں کبھی کبھی آلودگی پیدا ہونا ۔ اور یہ اس چیز سے توبہ کرتے ہیں ۔
*الخطرات و وتوبہ الاصیاء من التنفیس*✨
اصفیاء اولیاء کے بعد والا درجہ ہے۔ یعنی منتخب شُدہ لوگ کہ جنہیں اللّٰہ منتخب کرتا ہے۔ اور وہ آہستہ آہستہ پھراولیاء کے درجے پر پہنچتے ہیں۔ ان کیا گناہ ہے؟
ان کا گناہ یہ ہے کہ: بعض ہمارے علماء یہاں تنفیس سے مراد لیتے ہیں کہ جو ان کوزندگی میں وسعت ملتی ہے مثلاً:👈
۔ ▪️ رزق کی فراوانی
۔ ▪️شہرت اور بڑا مقام ملنا
۔ ▪️لوگ کا ان کے اردگرد جمع ہونا
اور یہ وہ چیز ہے جو انسان کو بلآخر غافل کرتی ہے چاہے لحظوں کے لیے، گھنٹوں کے لیے، دنوں کے لیے تو اس وقت جب یہ لوگ یہ چیزیں دیکھتے ہیں تو اللّٰہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں آزمائشوں میں ڈال تاکہ ہم ایک لحظہ بھی تیری یاد سے غافل نہ رہیں۔
*اللہ اکبر!*
ہمارے ہاں اس کے برعکس سمجھا جاتا ہے کہ جس آدمی کی شہرت زیادہ ہورہی ہے اور جس کا مقام بڑھ رہا ہے تو اس پر اللہ کا فضل ہو گیا ہے۔ لیکن جو اصفیاء کے مقام پر ہیں وہ اس کو فضل نہیں سمجھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ چیزیں انسان کو غافل کرنے والی ہیں اسی لیے وہ امتحانات اور تکلیفوں کو اللہ کا فضل سمجھتے ہیں۔ اور وہاں وہ توبہ کرتے ہیں اور اللہ سے آزمائشیں مانگتے ہیں۔ اور بعض جگہ یہاں لفظ نتفس آیا ہے
*توبہ الاصیاء من التنفس*✨
تنفس سے مراد یعنی غیر خدا کے لیے سانس لیا یا پھر غفلت میں سانس لیا یعنی اللہ سے غافل ہوکے سانس لیا ہے اور اپنی زندگی کے امور میں ایسے گم ہوئے کہ کچھ لحظوں کے لیے خدا یاد نہ رہا اور اتنی دیر تک سانس لیتے رہے وہ اس کی توبہ کرتے ہیں۔
*اللہ اکبر! یہ مسئلہ کتنا دقیق اور پیچدہ ہے۔ جن کے مقام بڑے ہیں ان کے امتحان بڑے ہیں اور وہاں دقت بڑی ہے۔ وہاں ظرافت بڑی ہے۔*
اس کے بعد علماء اور فقہا کا درجہ ہے کہ جن کی بصیرت زیادہ ہے۔
*علماء و فقہاء کی توبہ کیا ہے؟*
*و توبہ الخاص من الاشتعال بغیر اللہ* ✨
کہ یہ جو کبھی کبھی اپنے امورِ زندگی میں غیر خدا میں مشغول ہوگئے۔
ان سے پچھلے والے مراحل میں خیال تھا فقط ذہنی حد تک تھا، مگر یہاں یہ عملی طور پر مشغول ہوگئے۔ جیسے بعض دفعہ ریا ہو جاتی ہےاور نیک کاموں میں دکھاوا ہو جاتا ہے جتنا وقت بھی غیر خدا میں مشغول ہوئے البتہ یہ گناہ نہیں کر رہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ حرام کام کر رہے ہیں۔ بلکہ حلال کام انجام دے رہے ہیں لیکن ہر حلال کام قربتہ الی اللہ ہونا چاہیے۔ انسان اپنے تمام کاموں خدا کی نیت کرے۔ اور یہ جو غیر خدا کی نیت کی وہ کام جو جائز ہے اس کو غیر خدا کے لیے کر دیتے ہیں۔ یعنی دوسروں کے لیے کر دیتے ہیں۔ یہ ان کے لیے گناہ ہے اور وہ اس کے لیے توبہ کرتے ہیں۔
*عوام کی توبہ کیا ہے؟*
*وتوبہ العام من الذنوب*✨
وہ گناہ یہ جو عام طور پر حرام کام ہوتے ہیں ان سے توبہ کرنا یہ عوام کی توبہ ہے اور عوام کا درجہ سب سے نیچے ہے۔
*اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے درجات رکھے ہوئے ہیں اور دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔عوام، خواص والے درجے میں داخل ہو سکتے ہیں اور خواص اصفیاء کے درجے پر داخل ہو سکتے ہیں اور اصفیاء اولیاء کے درجے میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔*
پروردگار ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم درجوں کو سمجے۔اور اپنی توبہ اور اپنے عمل صالح سے اسی دنیا میں مرنے سے پہلے اپنا درجہ بڑھائیں اور اللّٰہ کے مقرر بندوں میں داخل ہوں۔
خدایا ہم توبہ کرتے ہیں اور ہماری توبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہم پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ ہماری توفیقات بڑھا تاکہ اس گناہ آلود زندگی سے نکل سکیں۔
الہیٰ آمین۔🤲
والسلام
تحریر و پیشکش✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌏
🟥 انسان کا جب ھدفب واضح ہوجاے کہ وہ اللہ کے لیے جی رہا ہے اور پروردگار کی معرفت کو حاصل کرلے تو اسکا اہم ترین کام توںہ ہے
🌀اپنی زندگی میں جو عمل کیا خیال اے اس سب سے توبہ
💠توبہ کے درجات
🔆کتاب مصباح الشریعہ میں توبہ کے درجے بیان ہوئے ہیں لوگوں کے درجوں کی مناسبت سے
🔅 التوبہ حبل اللہ و مدد و عنایتہ ولا بدا للعبد من مداومتہ توبہ علی کل حال
توبہ اللہ کی رسی ہے اسکی عنایت سے پروردگار کی مدد اور ہر بندے کے لئے ہر حال میں ضروری ہے کہ وہ اپنی توبہ کو جاری رکھے
اگر کوئی نامناسب کام ہوا ہے تو فورا توبہ کرے
🔅و کل فرقتہ من العباد لہ توبہ
اور لوگوں کے ہر گروہ کے لئے توبہ ہے
🔅فتوبہ الانبیاء من اضطراب السر
نبیوں کی توبہ
💠نبیوں کی توبہ
ان کے اندر جو اضطراب پیدا ہوتا ہے دنیا کے حالات سے اپنے نفس سے دشمنوں سے جو اضطراب پیدا ہوتا ہے
انبیاء اس سے توبہ کرتے ہیں
البتہ یہ شرعی و فقہی توبہ نہیں
💠اولیاء خدا ائمہ اوصیاء کی توبہ
و توبہ الاولیاء من طلو الخاطر
تلوس الخاطر
دلوں میں خیال کا پیدا ہونا، بدگمانی ،سوء زن، فکر گناہ
یہ گناہ نہیں کرتے مگر خدا کی درگاہ میں استغفار کرتے ہیں
دل کی اس حالت سے جو ان کے درجے پر آلودگی ہے
💠اصفیاء کی توبہ
🔅و توبہ الاصفیاء من التنفیص
منتخب شدہ لوگ
ان کا گناہ یہ ہے کہ علماء کے مطابق
رزق کی فراوانی شہرت مقام لوگوں کا اردگرد جمع ہونا کے باعث یہ توبہ کرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں آزمائش میں ڈال کہ ہم غافل نہ ہوں
تنفص
▪️اللہ سے غافل ہونے کے بعد سانس لینا
▪️کچھ دیر خدا کو بھول کر سانس لینا
💠خواص کی توبہ
🔅و توبہ الخاص من الشتغال من غیراللہ
اور خواص کی توبہ یہ ہے کہ وہ غیر اللہ میں مشغول ہوگئے
💠عوام کی توبہ
🔅و توبہ العام من الذنوب
اور عوام کی توبہ گناہوں سے ہے
*دروس لقاء اللہ*
*درس # 20*
موضوع *عصمت امام کے دلائل*
*اہم نکات*
اس سے پہلے ہم عصمت امام پہ دو دلیلیں پڑھ چکے ہیں۔
*3ـ *امر بالمعروف ونہی عن المکر*
*تیسری دلیل*
امر بالمعروف ونہی عن المنکر ایک عمومی دلیل ہے یعنی کہ ہر خاص و عام کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا جا سکتا ہے۔ (یہ ویسے بھی اسلام میں واجب ہے۔) یعنی اگر کوئی دیکھے نعوذ باللہ نعوذ باللہ اگر امام یا پیغمبر سے بھی کوئی خطا یا غلطی سرزد ہو رہی ہے تو ان کو بھی امر بالمعروف کرے اور کہے کہ اپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ یہ کام غلط ہے نہیں کرنا آپ خود یہ کام کیوں کر رہے ہیں۔۔۔
پھر ہم دیکھتے ہیں قران مجید میں ارشاد باری تعالی ہے *اطیعواللہ و اطیعو رسول و اولی امر منکم*
یعنی "اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہو ں".
اب یہ ایت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم سے مطابقت نہیں رکھتی۔۔
ایک طرف تو اللہ تعالی حکم دے رہا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اور دوسری طرف حکم دے رہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور صاحبان امر کیا تھا یعنی مطلقا ان کی اطاعت کا حکم ہے یعنی ہر حال میں ان کی اطاعت کا حکم ہے۔۔۔
بس یہی ایت امام کی عصمت پر دلیل ہے۔ اگر امام معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالی قید لگاتا کہ صرف ان باتوں میں ان کی اطاعت کرو جہاں وہ معصیت نہ کریں۔۔ لیکن ایت میں ایسی کوئی قید نہیں ہے ایسی کوئی شرط نہیں ہے اور اللہ تعالی نے اپنے ساتھ فورا رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔۔۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ اور اس کے رسول واجب اطاعت ہیں اور عصمت کے حامل ہیں اسی طرح صاحبان امر یعنی امام بھی عصمت کے حامل ہیں۔
*اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل سنت کے ہاں کیا نظریہ ہے*؟؟
تو اہل سنت بھی اسی آیت کے تحت اولی الامر کی اطاعت کو واجب سمجھتے ہیں۔۔
*تاریخی اعتبار سے* بھی دیکھا جائے تو ان کے ہاں یہی نظریہ رائج رہا ہے کہ صاحبان امر یعنی جو حاکم ہے ۔۔ یا جن کو یہ اپنا خلیفہ مانتے ہیں ۔۔اگر وہ غلط حکم بھی دے تب بھی اس کا حکم مانا جائے۔۔ یہ نظریہ غلط ہے۔ اللہ اگر کا حکم دے رہا ہے تو صرف اسی صورت میں کہ جہاں اس کی معصیت نہ ہو۔۔ کیونکہ اس طرح اللہ کے حکم میں تضاد ا جاتا ہے کہ ایک طرف تو امر بالمعروف کا حکم دے اور دوسری طرف کسی معصیت کرنے والے کی اطاعت کا حکم دے۔ لہذا ہم شیعوں کا عقیدہ یہی ہے کہ اطاعت اس کی کی جائے جو مطلقا معصوم ہے اور ہمارے امام مطلقا معصوم ا
عن الخطا ہیں۔
*دلیل 4۔۔ *اللہ تعالی کیوں امام کو منصوب کرتا ہے*۔
*ایک اہم نکتہ* یہ ہے کہ اللہ تعالی امام کو منتخب کرتا ہے تو اس کا ہدف کیا ہے !؟
جب اللہ تعالٰی امام کو منتخب کرتا ہے تو اس کا ہدف یہ ہے کہ *لوگ امام کی بلا چوں و چرا اطاعت کریں*..۔
*امام کے سامنے سر تسلیمِ خم کریں*۔ ۔
اب اگر امام سے خطا سرزد ہو تو لوگوں کا اعتماد امام پر قائم نہیں رہے گا ۔
دوسری بات یہ کہ امام امت کا رہبر ہے ۔۔۔رہنما ہے ۔۔ اگر رہنما ہی خطا کرنے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ عوام سے بھی گیا گزرا ہے نعوذباللہ ۔۔
عوام سے کیوں گناہ سرزد ہوتے ہیں۔؟؟
*1* ـ ان کا علم ناقص ہے
*2*- ان کو علم نہیں کہ یہ کام گناہ ہے
*3* ـ اگر علم بھی ہے تو گناہ کے نتائج کا علم نہیں
*4* ـ عوام کی عقل کامل نہیں ۔
⬅️امام کے اوصاف میں ہے کہ اس کا علم سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔۔ اب اگر امام ہی اپنے علم پہ عمل نہ کرے تو اس سے خدا کے انتخاب پہ نقص آتا ہے۔۔۔ دوسرے *عالم بے عمل کا رتبہ سب سے کم ہے ایک روایت میں ہے کہ عالم بے عمل جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہو گا*
*وہ علم جس پہ عمل نہ کیا جاے کسی شرف کا حامل نہیں*
شیطان کی بات کی گئی کہ اس کا علم زیادہ تھا مگر اس نے عمل نہ کیا (اپنی حجت کی تکبر کیا کہ آگ مٹی سے زیادہ طاقتور ہے تو میں سجدہ کیوں کروں) اور وہ رائندہ درگاھ ٹھہرا۔
💫 *حاصل کلام*
مندرجہ بالا تمام بحث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصوب ہوتا ہے اور وہ عصمت کے اعلیٰ ترین درجے پر ہوتا ہے ۔ اور یہ بات بھی واضح رہے کہ علماء کے نزدیک یہ عصمت اکتسابی ہے ۔
رب تعالیٰ ہمیں اپنے امام وقت کی زیادہ سے زیادہ معرفت اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اور ناصران امام میں ہمارا شمار ہو آمین ثم آمین 🤲
*الھم عجل لولیک الفرج*
سبیکہ بانو بنت غلام حسین
🪷درس لقاءاللہ:21📚
آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ
▪️توبہ کیسے شروع کی جائے
*استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤*🌹
موضوع سخن کتاب شریف لقاءاللہ ہے جسے آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ نے لکھا ہے اور سلسلہ گفتگو توبہ ہے۔
گذشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ جس شخص نے بھی توبہ کرنی ہے اس کی توبہ چھ مراحل پر مشتمل ہو۔
اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ جیسا کہ آپ نے کہا کہ وہ لذت جو اس شخص نے گناہ سے لی تھی اس لذت کے عوض میں اپنے آپ کو عبادتوں کی زحمت اور رنج دے یہاں اس سے کیا مراد ہے؟
انسان جو حقیقی معنوں میں ان برائیوں اور گناہوں کے جو ثمرات ہیں کہ کیا کچھ اس نے اپنے بدن اور روح پر اکھٹا کیا ہوا ہے اور اگر وہ ان آلودگیوں کو جان لے اور پہچان لے۔ مثلاً اگر وہ اس بات پر یقین پیدا کرے کہ میں جو مال یتیم کھا رہا ہوں گویا میں آگ کھا رہا ہوں اور یہ آگ اسی طرح میرے بدن میں موجود ہے اور جب انسان مر جائے تو یہی آگ شعلہ ور ہوجاتی ہے اور اس کے پورے بدن کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور اس کی روح کو جو کچھ بھی اس کی حقیقت ہے اسے پھر یہ آگ جلاتی رہتی ہے۔ اگر انسان ان آلودگیوں اور ان گناہوں کے عذاب کو سمجھے اور پڑھے تو پھر وہ حقیقی معنوں میں پشیمان ہوگا اور کوشش کرے گا کہ وہ جلد ہی ان آلودگیوں سے چٹکارا حاصل کرے کہ جنہوں نے کل قبر اور جہنم کی آگ بننا ہے۔
جب وہ اس نقطے کی جانب متوجہ ہوگا کہ ان آلودگیوں کو ختم کرنے میں کتنا لطف ہے اور پروردگار نے اس کے اندر کتنی برکات رکھیں ہوئیں ہیں تو پھر وہ شوق کے ساتھ بڑھے گا اور اس آگ کو اپنے اندر سے بجھائے گا۔ اور اس کی خاطر وہ سختی بھی برداشت کرے گا تاکہ اس کے اندر کی آلودگی ختم ہو اور اس کے اندر کی آگ بجھ جائے۔
اب اس سے بڑھ کر اور کیا لذت ہو سکتی ہے کہ پروردگار فرما رہا ہے کہ:
اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرے تو وہ گناہوں کو کئی نیکیوں میں بدل دے گا۔
*مبدل السیئات باضعافھا من الحسنات*
اور ادھر خداوند یہ بھی فرما رہا ہے کہ:
*ان اللہ یحب التوابین*🌸
اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند بھی کرتا ہے ان سے محبت کرتا ہے۔
اب اس سے بڑھ کر کیا مقام ہوسکتا ہے کہ انسان توبہ کرتے ہوئے اپنے وجود کو جہنم کی آگ سے پاک کرتے ہوئے ساتھ ساتھ اللہ کا مقام محبت بھی حاصل کر لے اور جب انسان مقام محبت حاصل کر لیتا ہے تو پھر اللہ حجابات ہٹاتا ہے اور اپنے قرب میں کہ جسے لقاءاللہ کہتے ہیں اس سے اللہ اسے سرفراز کرتا ہے اور یہ یہ سارے کام اور سیروسلوک اور عرفانی فیض توبہ سے شروع ہوتے ہیں جو صدق دل سے ہو۔ ( *اتوب الی اللہ)* ۔
*عارفِ کامل اور الہیٰ ربانی شخصیت آیت اللہ محمد بہاری ہمدانیؒ*🌺 جو کہ آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ کے ہم درس تھے اور ان کے مدرس مرحوم اخند مُلا حسین ہمدیانیؒ تھے ۔
*آیت اللہ محمد بہاری ہمدانیؒ* بہت بڑی ہستی تھے صاحب کرامات عالیہ کے حامل تھے۔ انہوں نے توبہ کے حوالے سے فرمایا کہ:
یہ جو ہم توبہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ آپ راہ توبہ پر چلیں تو آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ حقیقیت میں خدا اس وقت توبہ کو قبول کرتا ہے جب انسان اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے اپنے دل پر پڑی کثافتوں کو دھوتا ہے۔
جتنی ندامت کی حرارت زیادہ ہوگی اتنی گناہوں کی بخشش زیادہ ہوگی۔ جتنا آپ نے گناہ کا مزہ لیا ہے اتنی آپ ندامت کی زحمت یعنی رنج و گریہ انجام دیں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے۔ یعنی یہ توبہ دل سے ہو اور ظاہری نہ ہو۔
پھر انہوں نے اسرائیل کے ایک پیغمبرؑ کا قصہ بیان کیا۔ 🫴
فرماتے ہیں کہ:
بنی اسرائیل کے ایک پیغمبرؑ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سوال کیا کہ اے پروردگارا ! تیرا ایک بندہ ہے جو کئی سالوں سے تیری عبادت میں مشغول ہے پہلے وہ گناہگار تھا لیکن اب اس نے توبہ کر لی ہے اور دن رات تیری عبادت میں مشغول ہے تو آیا تو نے اس کی توبہ قبول کر لی ہے اور اسے بخش دیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ کا جواب آیا: 🫴
پروردگار نے فرمایا کہ مجھے اپنی عزت کی قسم کہ اگراس کے حق میں تمام اہل آسمان اور زمین والے شفاعت بھی کریں تو میں اس کی توبہ قبول نہیں کروں گا۔ کیونکہ جن گناہوں سے اس نے توبہ کی تھی ان کا مزا ابھی بھی اس کے دل میں ہے اور جب تک وہ مزا اس کے دل سے صاف نہیں ہوتا میں اس کی توبہ قبول نہیں کروں گا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ توبہ تو کرتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ گناہ کرتے ہیں کیونکہ یہ جو مزا دل میں ہوتا ہے وہ ان کو اس گناہ کی جانب کھیچتا ہوا لے جائے گا۔ توبہ اس وقت ہو گی کہ جب اس گناہ کا مزا تلخی اور ندامت میں بدل جائے۔ اسی لیے تو امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ: 🌺
وہ گوشت جو تمھارے بدن کا حرام اشیاء سے بنا ہے وہ خشک ہو کیونکہ اس کے ساتھ گناہ ملے ہوئے ہیں اور پھر دوبارہ صحیح گوشت اگنا چاہیے۔😭
مراد یہ ہے کہ انسان دل و جان سے گناہ کو ترک کرنے کا ارادہ کرے۔ اور جو اس کے واجبات ہیں اس کو انجام دے اور مسلسل اسی کوشش میں لگا رہے یہاں تک کہ اسے موت آجائے۔ 🪻
مثلاً وہ دیکھے کہ قبل از بالغ ہونے کے اب تک جو کچھ اسے یاد آرہا ہے جیسے کس کس کا مال کھایا ہے تو اس کے وارثان کو واپس کرے اور اگر واپس نہیں کر سکتا تو اس کے مالکان سے جا کر معافی مانگے کہ وہ اسے بخش دیں اور اگر اس نے کسی کو اذیت دی ہے تو اس سے بھی جا کر معافی مانگے اور اگر وہ موجود نہیں ہے تو پھر اللہ سے معافی مانگی اور صدقہ اور خیرات دے۔ اسی طرح جو اپنی نمازیں ہیں جو نہیں پڑھیں اگر یاد نہیں تو کم از کم اتنی نمازیں پڑھے اور اتنے روزے رکھے کہ یقین ہوجائے کہ ادا ہو گئے ہیں۔ زکوۃٰ و خمس جو اب تک ادا نہیں کیا تو ادا کرے۔
چونکہ دنیا کی زندگی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اور انسان ابدی عذاب میں گرفتار ہو سکتا ہے۔ 😭
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ استغفار کے چھ معنی اور چھ مرحلے ہیں۔
جب بھی آپ صحیح معنوں میں توبہ کریں اور اپنے واجبات ادا کریں اور اپنے قدم صحیح معنوں میں اٹھائیں تو جناب محمد بہاری ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ: 🫴
ہر عمل خیر سے قبل صدقہ دیں چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو لیکن کوشش کریں کہ خفیہ دیں کیونکہ جو صدقہ خفیہ اللہ کے غضب کو رحمت میں بدلتا ہے۔ خدا کے غضب اور غصے کی حالت خاموش ہوجاتی ہے اور انسان اللہ کی رحمت و لطف و کرم کو پاتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ: 🫴
انسان کو چاہیے کہ قبل از توبہ غسل توبہ کو انجام دے۔ اور اگر تو مرد ہے تو کسی بیبان صحرا میں چلا جائے اور اگر کوئی خاتون ہے تو وہ زمین پر بیٹھے اور اپنے ایک ایک گناہ کو زبان پر لائے اور اللہ سے معافی مانگے اور کہے کہ میرے پروردگارا! میں نے فلاں گناہ فلاں مقام اور فلاں وقت پر انجام دیا اور تو دیکھ رہا تھا۔ تو چاہتا تو اسی وقت مجھے ہلاک کر دیتا کہ تو حلیم ہے اور تو نے مجھے وقت دیا کہ میں اپنے گناہوں پر پشیمان ہو جاؤں اور واپس آجاؤ۔ پھر گریہ کرے اور اپنے آنسوؤں سے اپنے گناہوں کی کثافت کو دھوئے اور پھر یہاں سے آغاز ہوگا اور پھر پروردگار اس پر اپنی نظر رحمت کرے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی معنوں میں توبہ کی توفیق دے اور پروردگار ہمیں توبہ کرنے والوں میں سے قرار دے اور ہمیں اتنی مہلت دے کہ ہم دنیا سے توبہ کر کے جائیں۔ اگر ہم قبر والوں سے پوچھیں کہ ان کی خواہش کیا ہے تو وہ کہیں گے کہ ہمیں کاش کچھ لمحے کے لیے دنیا میں آنے دیا جائے تاکہ ہم صدق دل سے توبہ کر سکیں۔ اور توبہ کرنے والوں میں قرار پائیں۔ 😭
آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں