Book 6 Exam
*سوالات کتابچہ 6 غیبت*
📢 *سوالات امتحان*
👈 *کوئی سے چار سوال حل کریں*
*سوال نمبر 1 : شخص کی غیبت اور شخصیت کی غیبت میں کیا فرق ہے*
جواب
غیبت کی دو قسمیں
غیبت کی مختلف تشریحات اور مفہوم ہیں، جنہیں ہمیں سمجھنا ضروری ہے:
1. شخص کی غیبت:
اس قسم کی غیبت میں امامؑ کا جسم اور ان کی ظاہری موجودگی لوگوں کی نظر سے چھپی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامؑ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود ہیں، لیکن ان کا جسم ہمیں نظر نہیں آتا۔ امام کا وجود تو موجود ہوتا ہے، مگر وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے۔ اس میں لوگوں کے لیے امام کا جسم دیکھنا ممکن نہیں ہوتا، جیسے ایک شخص کسی پردے یا کسی حجاب کے پیچھے چھپ جائے۔
2. شخصیت کی غیبت:
اس نوعیت کی غیبت میں امامؑ کی شخصیت اور ان کا مقام مخفی ہوتا ہے، مگر ان کا جسم ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے۔ یعنی امامؑ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں، لیکن ان کی شخصیت اور مقام کو پہچاننا ممکن نہیں ہوتا۔ اس میں امام کا جسم ظاہر ہوتا ہے، مگر ان کی حقیقت اور شناخت سے لوگ لاعلم رہتے ہیں، جیسے حضرت یوسفؑ کی غیبت کے دوران ان کے بھائیوں نے انہیں نہ پہچانا، حالانکہ وہ ان کے سامنے تھے۔
غیبت کی نوعیت اور احادیث میں اس کا بیان
بہت سی احادیث میں امام زمانہؑ کی غیبت کی تفصیل دی گئی ہے، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ امامؑ کی غیبت کو حضرت یوسفؑ کی غیبت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حضرت یوسفؑ کے بھائی جب ان سے ملے تو وہ انہیں نہ پہچان پائے، حالانکہ وہ ان کے سامنے تھے۔ اسی طرح امامؑ کی غیبت میں بھی لوگوں کے لیے امامؑ کا پہچاننا ممکن نہیں ہوگا جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو۔
*سوال نمبر 2: شیخ صدوق کی امام زمانہ (عج) سے ملاقات کو بیان کریں*
جواب
شیخ صدوق (رحمت اللہ علیہ) نے امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے بارے میں اپنی اہم کتاب "کمال الدین و تمام النعمتہ" میں تفصیل سے لکھا۔ اس کتاب کی تحریر کی ضرورت شیخ صدوق نے اس وقت محسوس کی جب نیشاپور واپس آنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ بہت سے شیعہ لوگ امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے مسئلے میں شک و شبہات کا شکار ہیں۔ یہ لوگ امام کی غیبت کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ اس کے بعد شیخ صدوق نے اس مسئلے کی وضاحت کے لیے پیغمبروں اور آئمہ (علیہم السلام) کی روایات کا استعمال کرتے ہوئے امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی۔
شیخ صدوق نے اس کتاب کو لکھنے کی تحریک اس وقت حاصل کی جب ایک عالم بخارا سے نیشاپور آیا اور امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت پر سوالات اٹھائے۔ اس عالم نے شیخ صدوق سے درخواست کی کہ وہ امام کی غیبت کے بارے میں کتاب لکھیں تاکہ لوگوں کے شکوک و شبہات دور کیے جا سکیں۔ اس کے بعد ایک رات شیخ صدوق نے خواب میں امام زمانہ (علیہ السلام) کو خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑا دیکھا۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: "غیبت کے موضوع پر کتاب کیوں نہیں لکھتے تاکہ تمہارا غم دور ہو؟" امام (علیہ السلام) نے شیخ صدوق سے کہا کہ وہ انبیاء کی غیبت کا ذکر کرتے ہوئے اس موضوع پر کتاب لکھیں۔
شیخ صدوق نے اس خواب کو بہت اہمیت دی اور اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں انبیاء کی غیبت کے مختلف واقعات کو جمع کیا، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر دیگر انبیاء کی غیبت کے واقعات، اور پھر امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کو ان کے حالات سے جوڑا۔ انہوں نے بتایا کہ غیبت صرف امام زمانہ (علیہ السلام) تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تاریخ کا حصہ ہے، جس میں مختلف انبیاء اور اماموں کی غیبتیں ہوئی ہیں۔
شیخ صدوق کی کتاب "کمال الدین و تمام النعمتہ" امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے موضوع پر ایک علمی اور فکری اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب نے لوگوں کے شکوک دور کیے اور یہ ثابت کیا کہ غیبت امام زمانہ (علیہ السلام) کا واقعہ ایک خاص مقصد کے تحت اور اللہ کی حکمت سے ہو رہا ہے، جیسے انبیاء کی غیبتیں بھی اللہ کے حکم کے تحت ہوتی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو ہدایت دے سکیں۔ اس کتاب نے امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کو ایک مقدس اور اہم واقعہ کے طور پر پیش کیا اور اسے ایک تاریخی تسلسل میں سمجھنے کا راستہ فراہم کیا۔
*سوال نمبر 3: حضرت موسی (ع) کی غیبت کو تفصیل سے بیان
کریں*
جواب
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت کا واقعہ بھی ایک اہم پہلو ہے جو امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی وفات سے قبل اپنی قوم کو ایک سخت دور کی پیشگوئی کی تھی، جس میں ان کے لوگوں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسے کہ قتل و غارت، عورتوں کے پیٹ چاک کرنا اور بچوں کے سر جدا کرنا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خبر دی کہ ایک دن اللہ کی طرف سے ایک "قائم" آئیں گے جو بنی اسرائیل کی نسل سے ہوں گے، اور ان کی صفات بیان کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت کے دوران بنی اسرائیل نے "قائم" کے قیام کا انتظار کیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت کا یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ غیبت ایک عمومی حقیقت ہے جو مختلف انبیاء پر آئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت بھی اللہ کی حکمت کا حصہ تھی، اور ان کی غیبت اور بعد میں ان کی واپسی کا واقعہ اسی حکمت کو سمجھانے کے لیے تھا جو امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کے پیچھے بھی کام کر رہی ہے۔
حضرت موسیٰؑ کی غیبت اور جھوٹے دعویدار: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غیبت میں چلے گئے، تو بنی اسرائیل میں پچاس جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے، جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ان جھوٹے دعویداروں کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا اور حقیقت کو چھپانا تھا۔ یہ واقعہ امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت سے مشابہ ہے، کیونکہ امام (علیہ السلام) کی غیبت کے دوران بھی کچھ لوگ اس کے وجود کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا ہوتے ہیں، اور جھوٹے دعویدار سامنے آتے ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
اس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت اور جھوٹے دعویداروں کا اٹھنا ایک سبق آموز واقعہ ہے، جو امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت کی حقیقت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت کا مقصد اللہ کی حکمت کے تحت تھا، اسی طرح امام زمانہ (علیہ السلام) کی غیبت بھی اللہ کے منصوبے کا حصہ ہے، اور اس دوران لوگوں کو صبر، ایمان اور حق کی پیروی کی ضرورت ہوتی ہے۔
*سوال نمبر 4: امام حسین علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام کا امام مہدی کی غیبت پر فرمان بیان کریں*
جواب
امام حسین علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں فرامین:
1. امام حسین علیہ السلام کا فرمان: امام حسین علیہ السلام نے ایک اہم حدیث میں غیبت کے موضوع پر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: "ہمارے خاندان سے بارہ مھدی ہوں گے، ان میں سے سب سے پہلے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہیں اور ان میں سے آخری میری نسل سے نویں امام ہوں گے۔ وہ حق پر قائم امام ہیں۔۔۔ ان کے لیے غیبت ہو گی، اس دوران بعض قومیں مرتد ہو جائیں گی، جبکہ دوسری قومیں ایمان پر قائم رہیں گی۔ ان لوگوں کو سخت تکالیف کا سامنا ہوگا اور جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ تو ان کا صبر ان مجاہدین کے برابر ہوگا جو پیغمبر اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تھے۔"
اس حدیث کے نکات:
مھدی کا عمومی لقب: امام حسین علیہ السلام نے بتایا کہ "مھدی" ایک عمومی لقب ہے جو تمام بارہ اماموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن انہوں نے اس کا خاص ذکر امام زمانہ علیہ السلام کے لیے کیا ہے، جو آخرکار غیبت سے باہر آئیں گے۔
غیبت کے دوران آزمائشیں: امام حسین علیہ السلام نے غیبت کے دوران دو اہم آزمائشوں کی طرف اشارہ کیا:
ایک یہ کہ لوگوں کو مہدویت کے عقیدہ کے بارے میں شبہات ہوں گے اور اس عقیدے کو جھٹلایا جائے گا۔
دوسری یہ کہ مومنین کو سخت تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہوگا، اور بہت سے لوگ اپنی جان کی بازی ہار جائیں گے۔
2. امام سید سجاد علیہ السلام کا فرمان: امام سجاد علیہ السلام نے بھی غیبت کے موضوع پر اہم روایات بیان کیں۔ ابو خالد کے سوال کے جواب میں امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا کہ امام قائم علیہ السلام کے بارے میں اللہ کی حکمت کے تحت غیبت ہوگی۔
تفصیل: ابو خالد کہتے ہیں کہ میں امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ وہ ہستیاں جو اللہ کے حکم سے امام ہوں گی اور جن کی اطاعت واجب ہے، وہ کون ہیں؟ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: "یہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور ان کے فرزند حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام ہیں، اور پھر یہ ذمہ داری ہمیں دی گئی۔"
امام سجاد علیہ السلام نے امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں کہا کہ ان کی غیبت طویل ہوگی، لیکن اس دوران جو لوگ ان کی امامت پر ایمان رکھتے ہوئے صبر کریں گے، ان کا مرتبہ ان مجاہدین سے بلند ہوگا جو پیغمبر اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تھے۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا کہ غیبت کے دوران یہ لوگ اپنے ایمان میں اتنے ثابت قدم ہوں گے کہ ان کے مرتبہ کو پیغمبر کے اصحاب کے برابر سمجھا جائے گا۔
اس حدیث کے نکات:
بارہ اماموں کا ذکر: امام سجاد علیہ السلام نے بارہ اماموں کا ذکر کیا، جن میں امام قائم علیہ السلام (امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف) بھی شامل ہیں۔
غیبت کے دوران صبر کی اہمیت: امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا کہ غیبت کے دوران امام علیہ السلام کے حقیقی مخلصین، جو دین کی حفاظت کریں گے، ان کا مرتبہ ان افراد سے بلند ہوگا جو پیغمبر اکرم ﷺ کی جنگی مہمات میں شریک تھے۔ ان لوگوں کا ایمان، ان کی فہم اور ان کی معرفت ان کے لیے غیبت میں بھی مشاہدہ کی مانند ہوگا۔
نتیجہ: امام حسین علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام دونوں نے غیبت امام زمانہ (علیہ السلام) کی اہمیت، اس کے دوران آنے والی آزمائشوں اور اس دوران صبر کی ضرورت پر زور دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے غیبت کے دوران آنے والی تکالیف اور آزمائشوں کا ذکر کیا، جبکہ امام سجاد علیہ السلام نے غیبت کے دوران ایمان کی حفاظت کرنے والوں کے مرتبے کی بلندی اور ان کی عظمت پر روشنی ڈالی۔ ان دونوں فرامین سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیبت کا دور ایک امتحان ہے جس میں مخلصین کو اپنے ایمان کو ثابت کرنے کا موقع ملتا ہے۔
*سوال نمبر 5: فلسفہ غیبت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کسی ایک وجہ کو تفصیل سے بیان کریں*
جواب
غیبت کی ضرورت اور اس کی وجوہات:
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ غیبت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ خدا نے امامؑ کو لوگوں کے درمیان ظاہر کیوں نہیں رکھا؟ اس سوال کا جواب تین نکات میں دیا جا سکتا ہے:
1. تاریخی اعتبار سے غیبت کی وجوہات:
تاریخ میں ہمیشہ حق و باطل کی جنگ جاری رہی ہے۔ رسولؐ اللہ نے اپنی زندگی میں کتنے مظالم سہے، ہجرت کی، جنگیں لڑیں اور آخرکار ایک الہیٰ حکومت قائم کی۔ لیکن اس کے بعد منافقین اور ظالم حکمرانوں نے اس حکومت کو کمزور کیا اور حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
اماموں کے دور میں بھی ظالم حکمرانوں نے آئمہؑ کو قتل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنی شیطانی حکومتیں قائم رکھ سکیں۔ امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکمران اماموں کے وجود کو برداشت نہیں کرتے تھے کیونکہ امام حق کی آواز تھے۔
امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے شہادتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ظالم حکمران ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالتے تھے تاکہ وہ اپنی حکومت کو برقرار رکھ سکیں۔
2. غیبت کی حکمت:
امام زمانہؑ کی غیبت اس بات کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امام کی جان کی حفاظت کی اور ان کی زندگی کو اس وقت تک چھپایا جب تک وہ دنیا کے حالات کے مطابق لوگوں کو اپنی الہیٰ حکومت قائم کرنے کے لیے تیار کر نہ لیں۔
امام کا غیبت میں رہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امام ایک مخصوص وقت تک غیبت میں رہ کر دنیا کے حالات کو دیکھ رہے ہیں اور جب وقت آئے گا تو وہ ظہور کریں گے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں