Book 2 Exam Ok
*#دوسرا کتابچہ آفتاب امامت*
📢 *سوالات امتحان*
👈 *کوئی سے پانچ سوال حل کریں*
سوال نمبر 1: امام زمان عج کے شمائل و خصوصیات بیان کریں
جواب
شمائل مبارک اور خصوصیات:
احادیث میں امام مہدیؑ کے اوصاف اور شمائل بیان کیے گئے ہیں۔
پیغمبرؐ اکرم فرماتے ہیں: "مہدیؑ شکل و صورت اور رفتار و گفتار کے لحاظ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے سے مشابہ ہیں۔"
روایات میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرتؑ کا چہرہ جوان، رنگ گندمی، بلند اور چمکدار پیشانی، ابرو لمبے اور ہلال کی مانند، آنکھیں سیاہ اور موٹی، ناک کشیدہ اور زیبا اور دانت سفید اور چمکدار ہیں۔✨
آپؑ کے دائیں رخسار پر سیاہ تل اور شانوں کے درمیان مہر نبوت جیسی علامت دکھائی دیتی ہے۔ 👑 آپؑ کے اعضاء بدن معتدل و متوسط ہیں اور چہرہ نورانی ہے۔ ان کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی مانند چمکتا ہے🌕۔
امام مہدیؑ کا وجود معطر اور خوشبودار ہے اور آپؑ بے نظیر ہیبت و عظمت کے مالک ہیں، مگر پھر بھی لوگوں کے قریب ہیں۔🌸
صفات امام زمانہؑ (عج) میں یہ بھی بیان ہوا کہ آپؑ اہل عبادت، شب زندہ دار، زاہد، سادہ زندگی گزارنے والے، صبر و بردباری اور صاحب عدالت ہیں۔🕊️
بعض مقامات پر فرمایا گیا کہ امام زمانہؑ اتنے خوبصورت ہیں کہ انہیں طاؤس اہل بہشت کا لقب ملا ہے۔🦚
امیرالمؤمنینؑ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ منبر کوفہ پر آپؑ نے فرمایا: "آخر زمانے میں میری نسل سے ایک شخص ظہور کرے گا جس کے چہرے کا رنگ سرخی مائل سفید ہوگا، اس کا سینہ وسیع اور اس کی رانیں اور شانے قوی ہوں گے، اور اس کی پشت پر دو خال ہوں گے؛ ایک خال اس کی جلد کے رنگ کا اور دوسرا پیغمبرؐ کے خال کے مشابہ ہوگا۔"
امام رضاؑ فرماتے ہیں: "حضرت قائمؑ وہ ہیں جو بوڑھوں کی عمر میں بھی جوان چہرے کی مانند چہرہ رکھتے ہوں گے، اور اتنے طاقتور ہوں گے کہ اگر دنیا کے سب سے بڑے درخت کو بھی پکڑیں گے تو جڑوں سمیت کھینچ لائیں گے، اور اگر وہ پہاڑوں کے درمیان نعرہ بلند کریں گے تو پتھر اپنی جگہ چھوڑ دیں گے۔🌍💪"
جناب اباصلت امام رضاؑ کے صحابی ہیں، جو امام مہدیؑ کے شمائل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو امامؑ فرماتے ہیں: "اگرچہ وہ طول عمر کے باعث بوڑھے ہوں گے لیکن وہ دیکھنے میں جوان نظر آئیں گے، اور آپؑ کی عمر مبارک چالیس سال یا اس سے کم ہوگی۔"
جناب علی بن مہزیار جو امام زمانہؑ کی ملاقات کا شرف رکھتے تھے، وہ بھی امامؑ کا قد میانہ، چہرہ گول، سینہ وسیع اور پیشانی سفید ہونے کی تصدیق کرتے ہیں، اور دائیں رخسار پر تل کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔🌟
نسب:
امام زمانہؑ کے والد گرامی امام حسنؑ عسکری ہیں اور والدہ ماجدہ بی بی نرجس خاتون سلام اللہ علیہا ہیں۔💫
بی بی نرجس خاتون کے بارے میں تین روایات ہیں، مگر سب سے زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ وہ قیصر روم کی پوتی تھیں اور ان کی والدہ حضرت عیسیٰؑ کے وصی جناب شمعون کی نسل سے تھیں۔ بی بی نرجس خاتون نہایت پرہیزگار اور دیندار خاتون تھیں۔ جب ان کی شادی کا ارادہ کیا گیا اور ان کے عقد کو پڑھنا چاہا تو تخت روم گر گیا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ بی بی کی شادی کچھ عرصے کے لیے روک دی جائے۔💍
شہزادی نرجس خاتون، جن کا رومی نام ملیکہ تھا، ایک دن خواب میں بی بی مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی زیارت کرتی ہیں، اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ ایک ہستی جس کا نام محمدؐ ہے اور ایک خاتون فاطمہؑ ہیں، وہ اپنے فرزند کے لیے ان کا رشتہ طلب کر رہی ہیں۔💭
بی بی نرجس خاتون نے حضرت امام حسن عسکریؑ کی زیارت عالم خواب میں کی۔ سیدہؑ نے بی بی کو کلمہ پڑھایا اور امام عسکریؑ نے بتایا کہ وہ کیسے ان سے ملیں گی۔ بی بی نرجس خاتون نے مسلمان قیدیوں کے لیے نرم گوشہ اختیار کیا اور انہیں آزاد کرایا۔ جب رومی اور اسلامی حکومت کے درمیان جنگ ہوئی، تو بی بی امام کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق آمادہ سفر ہوئیں اور بردہ فروشوں کے بازار میں بطور کنیز پہنچی جہاں امام علی نقیؑ کے نمائندے موجود تھے، جو شہزادی کو خرید کر لائے اور عزت و احترام کے ساتھ بی بی حکیمہؑ خاتون کے گھر پہنچا دیا، کیونکہ بی بی کو مخفی رکھنا تھا اور بی بی حکیمہؑ خاتون کو ان کی تربیت کی ذمہ داری دی گئی۔🕌
سب سے بلند مقام:
سیدہ فاطمہؑ زہراء کا ہے۔ پھر جناب زینبؑ عالیہ، پھر جناب معصومہ قم، اور پھر بی بی حکیمہؑ خاتون کا مقام آتا ہے۔👑
بی بی حکیمہؑ خاتون کا بہت بلند مقام ہے۔ وہ چار آئمہ سے نسبت رکھتی ہیں: امام محمدؑ تقی، امام علیؑ نقی، امام حسن عسکریؑ، اور امام زمانہؑ کے والد۔🙏
بی بی حکیمہ خاتون نے بی بی نرجس خاتون کی تربیت کی اور ان کا بہت احترام کرتی تھیں، کیونکہ وہ حجت خدا کی ماں کا رتبہ رکھتی تھیں۔ جناب نرجس خاتون کو کنیزوں کی سردار قرار دیا گیا تھا۔👸
سوال نمبر 2: غیبت کبریٰ کا آغاز کیسے ہوا اور اس میں ہم امام زمان عج سے کیسے فیض حاصل کرتے ہیں۔
جواب
فلسفہ غیبت صغریٰ: ⏳
تاریخی طور پر 260ھ سے امام مہدیؑ کی غیبت کا آغاز ہوا۔ غیبت کے یہ دو مراحل—غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ—ایک الہی منشاء کے تحت ہوئے۔ غیبت صغریٰ کا دور 260ھ سے 329ھ تک تقریباً 70 سال تک جاری رہا، اور اس کے بعد غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا.
علماء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر غیبت صغریٰ نہ ہوتی، تو امامؑ کی غیبت کبریٰ فوراً شروع ہو جاتی اور لوگوں کے دلوں میں امامؑ کی موجودگی کا کوئی اثر نہ ہوتا ❤️. غیبت صغریٰ کے دوران لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے امامؑ کے نائبین موجود تھے 👥، اور لوگ خطوط کے ذریعے امامؑ تک پہنچتے تھے ✉️. اس کے برعکس غیبت کبریٰ میں امامؑ کا ظاہری رابطہ ختم ہوگیا 🔒، اور لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق محض عقیدہ اور عمل کے ذریعے قائم ہے.
غیبت صغریٰ کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو فتنوں سے بچایا جائے 🛡️، جیسے جھوٹے دعویدار اور غالی فرقے ❌. امامؑ کے نائبین نے ان فتنوں کا مقابلہ کیا 💥 اور شیعہ امت کو دوبارہ متحد کیا 🤝. اس دور میں امامؑ نے فقہاء اور علماء کی تربیت کی تاکہ جب غیبت کبریٰ کا دور شروع ہو، لوگ صحیح رہنمائی کے لیے علماء کی طرف رجوع کریں 📚.
غیبت صغریٰ کا مقصد: 🎯
غیبت صغریٰ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ امامؑ لوگوں کو عادت ڈالیں کہ غیبت کبریٰ میں وہ علماء اور فقیہ کی رہنمائی کے لیے رجوع کریں 👨🏫. امامؑ نے اس دوران علماء کو فقہی مسائل پر تحقیق کرنے کی ترغیب دی 🧠. امامؑ کے نائبین اس وقت لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے تھے 💬، اور اس عمل کے ذریعے امامؑ نے لوگوں کو اپنے آپ کو علم و عمل میں مضبوط کرنے کی تعلیم دی 📖.
آخری توقیع: ✍️
غیبت صغریٰ کا آخری نائب، علی بن سمری، امامؑ کی طرف سے ایک توقیع حاصل کرتا ہے جس میں امامؑ نے غیبت کبریٰ کے آغاز کا اعلان کیا 📜. امامؑ نے اس توقیع میں فرمایا: "اس کے بعد آپ مجھے نہیں دیکھیں گے جب تک کہ اللہ کا حکم نہ ہو، اور اس وقت دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی" 🌍.
غیبت کبریٰ کا فلسفہ: 🌒☀️
غیبت کبریٰ میں امامؑ کا ظاہری رابطہ ختم ہونے کے باوجود، امامؑ کا فیض اب بھی موجود ہے 🌟. امامؑ کا فیض غیبت کے پردے میں بھی انسانوں تک پہنچتا ہے جیسے سورج کی روشنی بادلوں کے پیچھے چھپ کر بھی زمین تک پہنچتی ہے 🌞. امامؑ نے فرمایا کہ غیبت کے دوران ان سے فیض حاصل کرنا ویسا ہی ہے جیسے بادلوں کے پیچھے سے سورج کی روشنی حاصل کرنا 🌥️. اسی طرح امامؑ کا وجود اور ان کی رہنمائی غیبت کے دوران بھی انسانی معاشرے کے لیے نفع بخش ہے 🌱.
سوال نمبر 3:امام زمان عج کی ولادت پر قائل کوئی تین علماء اھل سنت کا نام لیں اور انکی کتابوں کا نام بھی بیان کریں
جواب
اہل سنت علماء کا امام زمانہؑ کی ولادت کی تصدیق: 🕌
اہل سنت کے 40 سے زائد علماء، جن میں محمد بن طلحہ شافعی 📚، محمد بن یوسف گنجی شافعی 📖، اور محمد بن احمد مالکی شامل ہیں 📚، نے اپنی کتابوں میں امام زمانہؑ کی ولادت کی تصدیق کی ہے. یہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امامؑ کی ولادت ایک حقیقت ہے جو تمام مسلمان فرقوں کے لیے تسلیم شدہ ہے 🙏.
امام زمانہ (علیہ السلام) کی ولادت پر اہل سنت کے تین علماء نے تصریح کی ہے۔ ان میں سے چند مشہور علماء اور ان کی کتابوں کا ذکر درج ذیل ہے:
1. ابن حجر ہیثمی (متوفی 974 ہجری)
کتاب: الصواعق المحرقة
اس کتاب میں امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت اور ان کے ظہور کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
2. السمہودی (متوفی 911 ہجری)
کتاب: وفاء الوفاء
اس کتاب میں امام مہدی (علیہ السلام) کے متعلق مختلف احادیث اور روایات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں امام کی ولادت کی تصدیق کی گئی ہے۔
3. شمس الدین ذہبی (متوفی 748 ہجری)
کتاب: تاریخ الإسلام
اس میں امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت اور ان کے بارے میں مختلف روایات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔
یہ تین علماء اہل سنت نے امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے بارے میں مختلف کتابوں میں تصریح کی ہے، اور اس بات کی تائید کی ہے کہ امام کی ولادت ہو چکی ہے۔
سوال نمبر 4:حضرت عج کی مخفی دور میں کیا فعالیت تھی کسی ایک موضوع کی تشریح کریں
جواب
حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ کی مخفی دور میں ایک اہم فعالیت دینی رہنمائی اور عالم اسلام کی اصلاح کے حوالے سے تھی، جس کی تشریح ہم "حضرت مہدی کا دور غیبت" کے حوالے سے کر سکتے ہیں۔
حضرت مہدی علیہ السلام کا غیبت کا دور وہ وقت ہے جب آپ نے ظاہری طور پر اپنی جماعت یا پیروکاروں کے ساتھ عوام میں موجودگی سے اجتناب کیا۔ اس غیبت کے دوران حضرت مہدی کی مخفی فعالیتوں کا بنیادی مقصد اسلامی امت کی رہنمائی اور اصلاح تھا، تاکہ وہ ایک ایسے وقت میں جکڑی ہوئی تھی جب حکومتیں ظلم و فساد کا شکار تھیں۔
غیبت کے اس دور میں حضرت مہدی علیہ السلام نے "غیبی رہنمائی" فراہم کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنے نمائندوں (جو "نواب" کہلاتے تھے) کے ذریعے لوگوں تک علم، ہدایات اور دینی رہنمائی پہنچائی۔ ان نمائندوں نے دینی مسائل کے حل کے لیے لوگوں کی رہنمائی کی، ان کے سوالات کا جواب دیا اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کی۔
اس دور میں حضرت مہدی علیہ السلام کی رہنمائی غیبی طریقوں سے جاری رہی، اور لوگوں کو دین اسلام کی صحیح تعلیمات کی طرف راہنمائی فراہم کی گئی، تاکہ اسلامی معاشرہ دوبارہ اپنی اصل راہ پر واپس آ سکے۔ غیبت کے دوران امام مہدی کا کردار ایک قائد کی مانند تھا جو براہ راست امت مسلمہ کو ہدایت نہیں دے رہے تھے، لیکن ان کے نمائندے اس ہدایت کو لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔
اس کے علاوہ، حضرت مہدی کا مخفی دور اُمت مسلمہ کو ظلم و فساد کے خلاف یکجا کرنے کی ایک کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ وہ دنیا میں عدل و انصاف قائم کریں گے، لیکن ان کی غیبت کے دوران امت کو اس بات کا شعور دیا گیا کہ انہیں اپنے اعمال میں اصلاح کرنی ہوگی اور اپنے اندر اکھٹا ہونا ہوگا تاکہ وہ امام مہدی کے ظہور کے لیے تیار ہوں۔
سوال نمبر 5: اسکا ترجمہ کریں:
جواب
یہ حدیث یا عبارت حضرت احمد بن اسحاق کی طرف منسوب ہے، جس میں امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اور ان کے قیام کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اس میں حضرت احمد بن اسحاق سے نقل کیا گیا ہے کہ:
"یَا أَحْمَدَ بْنَ إِسْحَاقَ مَثَلُهُ فِی هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ الْخَضِرِ ع وَ مَثَلُهُ مَثَلُ ذِی الْقَرْنَیْنِ وَ اللَّهِ لَیَغِیبَنَّ غَیْبَةً لَا یَنْجُو فِیهَا مِنَ الْهَلَکَةِ إِلَّا مَنْ ثَبَّتَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى الْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ وَ وَفَّقَهُ فِیهَا لِلدُّعَاءِ بِتَعْجِیلِ فَرَجِهِ"
ترجمہ:
"اے احمد بن اسحاق! ان کی مثال اس امت میں حضرت خضر (علیہ السلام) کی مانند ہے، اور ان کی مثال ذو القرنین (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ قسم ہے اللہ کی! وہ ایک غیبت میں ہوں گے جس میں ان کے غیبت کے دوران ہلاکت سے بچنے والا صرف وہی شخص ہوگا جسے اللہ عز و جل نے امام مہدی کی امامت پر ثابت قدم رکھا ہو اور جسے ان کے ظہور کی جلدی کے لیے دعاء کرنے کی توفیق دی ہو۔"
اس حدیث میں امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا ذکر کیا گیا ہے اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ان کی غیبت کے دوران ہلاکت سے بچنے والے وہ لوگ ہوں گے جو ان کی امامت پر ایمان لائیں گے اور ان کے ظہور کے لیے دعاء کریں گے۔ یہاں امام مہدی کو حضرت خضر اور ذو القرنین علیہما السلام کی مانند بیان کیا گیا ہے، جن کی خاص صفات اور اہمیت رہی ہے۔
اس عبارت کا مقصد لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ امام مہدی کی غیبت کے دوران صحیح ایمان اور دعا کے ذریعے ہی انسان ان کے ظہور کا منتظر رہ کر فلاح پا سکتا ہے۔
سوال نمبر 6: امام عسکری علیہ السلام کے نماز جنازے کے واقعہ سے ہم کیا درس لیتے ہیں
جواب
کمال الدین کی روایت: 📖
شیخ صدوق نے کمال الدین میں ایک روایت نقل کی ہے کہ امام عسکریؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے غلام ابو لادیان کو کچھ خطوط دیے ✉️ اور کہا کہ انہیں مدائن شہر پہنچا دیں. امامؑ نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہو گا، تم 15 دن بعد سامرہ واپس آنا 🔄، اور تم دیکھو گے کہ میرے جنازے کا غسل دیا جا رہا ہوگا 🕊️ اور تمہیں میرے بعد امام کا تعارف ہوگا 🏅. امامؑ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص میرے جنازے کی نماز پڑھائے گا، وہی میرا جانشین ہوگا 🕌.
جنازہ کے بعد کا واقعہ: 💫
ابو لادیان سامرہ واپس پہنچے, اور وہی منظر دیکھنے کو ملا جو امامؑ نے بیان کیا تھا. امام عسکریؑ کا جنازہ تیار تھا ⚰️، اور جعفر (امام عسکریؑ کا بھائی) لوگوں کے ساتھ امامؑ کے جنازے کے قریب پہنچا تاکہ نماز جنازہ پڑھائے 🙏. لیکن اس دوران امام زمانہؑ (جو بچپن میں تھے) آگے بڑھے اور جعفر سے کہا:
"چچا پیچھے ہٹیں، میں اپنے بابا کا جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔" 🌟
جعفر کا چہرہ زرد ہو گیا 😔 اور وہ پیچھے ہٹ گیا. امام زمانہؑ نے امام عسکریؑ کا جنازہ پڑھایا 🕊️ اور اس کے بعد ابو لادیان سے فرمایا:
"تمھارے پاس جو خطوط ہیں، وہ مجھے دے دو۔" 📜
ابو لادیان نے دل میں کہا کہ امام زمانہؑ نے دو نشانیاں ثابت کر دیں: پہلی یہ کہ امامؑ ہی امام حسن عسکریؑ کے جانشین ہیں 🏆، اور دوسری یہ کہ وہ ہی امام ہیں جو ان خطوط کا جواب دیں گے 💌.
جعفر کا انکار: ❌
ابو لادیان نے جعفر سے پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے? 🤔 تو جعفر نے کہا:
"خدا کی قسم، میں نے انہیں آج تک نہیں دیکھا تھا۔" 😳
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ جعفر امام نہیں بلکہ کذاب تھا 🚫.
آخری فیصلہ: ⚖️
اسی دوران اہل قم آئے 🏘️ اور پوچھا کہ امام کا جانشین کون ہے؟ کچھ لوگوں نے جعفر کی طرف اشارہ کیا, تو جعفر نے کہا کہ وہ علم غیب جانتے ہیں 📚. لیکن امام زمانہؑ کا غلام باہر آیا اور بتایا کہ ان خطوط کا تعلق فلاں شخص سے ہے 📜 اور تھیلی میں ہزار دینار ہیں 💵، جن میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے 🔍.
نتائج: ✅
یہ واقعہ تین اہم نکات کو واضح کرتا ہے:
1. امام زمانہؑ کا جنازہ پڑھانا: امام زمانہؑ نے امام عسکریؑ کا جنازہ پڑھا کر اپنے امام ہونے کا اعلان کیا 📢.
2. جعفر کا کذاب ہونا: جعفر امام نہیں تھا بلکہ وہ کذاب تھا 🚫.
3. ابو لادیان کا واقعہ: تینوں نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ امام زمانہؑ ہی امام عسکریؑ کے جانشین اور حجت خدا ہیں 🌟.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں