کتابچہ امامت سوالات اور ان کے جوابات
سوالات اور ان کے جوابات کتابچہ امامت
برائے امتحان ( پہلے پانچ درس)
1: شیعہ سنی مذہب کے مطابق امام کی تعریف کیا ہے؟
2: نبی کریم (ص) کی رحلت کے بعد مسلمانوں میں سب سے پہلا اختلاف کس بات پر پیش ایا فریقین کا نظریہ بیان کریں؟
3: اسلامی امت میں امام کی ضرورت پر شیعہ سنی نظریہ بیان کریں؟
4: امامت خدائی منصب ہے یا عوامی انتخاب شیعہ سنی نظریہ بیان کریں؟
5: امام کی ضرورت پر شیعہ کے دلائل بیان کریں
6: امام کو لطف الہی قرار دینے پر علامہ حلی کا برہان بیان کریں؟
7: لطف کی تعریف کریں اور لطف کی اقسام بیان کریں
8: جن اقوام تک دین نہیں پہنچا ان کا کیا ہوگا؟
9: امام کے لطف ہونے پر اہل سنت کا کوئی ایک نظریہ بیان کریں اور اس کا جواب دیں؟
10: امام مہدی غائب ہیں تو ان کا لطف کیسے ثابت ہوگا؟
11: عصمت کا معنی بیان کریں اور عصمت کا فلسفہ بیان کریں؟
12: عصمت پر شیعہ اور سنی نظریہ بیان کریں
13: عصمت کے وجوب پر عقلی دلیل بیان کریں
14: عصمت کے وجوب پر روایت بیان کریں
15: اہل سنت کے نزدیک کون سی چیزیں شریعت کے محافظ ہیں اور اس کو رد کریں
16: اہل سنت کا اعتراض 260 ہجری کے بعد شیعہ بھی اہل سنت جیسے ہو گئے جواب دیں
17: قران کریم سے عصمت کے وجوب پر دلیل دیں
18: کسی عالم بے عمل کا فتنہ مثال کے ساتھ بیان کریں
19: مولا علی کا شعر بیان کریں اور واضح کریں کہ اس کا کیا مفہوم ہے
20: امام اگر گناہ کرے گا تو کیا نتیجہ نکلے گا؟
1. شیعہ سنی مذہب کے مطابق امام کی تعریف کیا ہے؟
شیعہ: امام وہ رہنما ہیں جو خدا کی طرف سے منتخب ہوتے ہیں اور ان کے پاس علم و ہدایت کا خصوصی دروازہ ہوتا ہے۔ امام معصوم ہوتا ہے، یعنی وہ گناہ سے محفوظ ہوتا ہے اور ان کی رہنمائی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ امام کی معصومیت اور علم پر شیعہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ امام نہ صرف دینی رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی رہنمائی میں دینی اور دنیوی امور درست طریقے سے چلائے جاتے ہیں۔
سنی: سنی مسلمانوں کے مطابق امام وہ شخص ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی عبادات، خاص طور پر نماز کی قیادت کرتا ہے۔ سنی عقیدہ میں امام معصوم نہیں ہوتا اور اس کا انتخاب عموماً جماعت کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔ سنی مسلمانوں کے نزدیک امام کا کردار زیادہ دنیوی نوعیت کا ہوتا ہے، اور ان کا علم بھی غیر معصوم ہوتا ہے۔
2. نبی کریم (ص) کی رحلت کے بعد مسلمانوں میں سب سے پہلا اختلاف کس بات پر پیش آیا؟ فریقین کا نظریہ بیان کریں؟
شیعہ: شیعہ مسلمان مانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد سب سے بڑا اختلاف امام کے انتخاب پر پیش آیا۔ شیعہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کو نبی (ص) کے بعد مسلمانوں کا رہنما منتخب کیا گیا تھا اور ان کا حق تھا کہ وہ پہلے امام ہوں، لیکن بعض صحابہ نے حضرت علی (علیہ السلام) کے حق میں فیصلہ نہ کیا اور حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ منتخب کیا۔
سنی: سنی مسلمان مانتے ہیں کہ خلافت کا انتخاب جماعت کی مشاورت سے ہوا اور حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ سنی عقیدہ میں خلافت کا نظام منتخب قیادت پر مبنی ہے، جس میں خلافت کسی خدائی حکم سے نہیں، بلکہ امت کی مشاورت اور اجماع سے حاصل ہوتی ہے۔
3. اسلامی امت میں امام کی ضرورت پر شیعہ سنی نظریہ بیان کریں؟
شیعہ: شیعہ مسلمانوں کے مطابق امام کی ضرورت اس لیے ہے کہ وہ دین کی صحیح تفصیل اور معصوم علم رکھتے ہیں، اور ان کی رہنمائی کے ذریعے امت کو گمراہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ امام کا منصب خدا کی طرف سے مقرر ہوتا ہے، اور ان کے ذریعے اللہ کی ہدایت امت تک پہنچتی ہے۔
سنی: سنی مسلمان امام کی ضرورت کو اس بات پر رکھتے ہیں کہ امام امت کی اجتماعی عبادات اور زندگی کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ امام مسلمانوں کی نماز کی قیادت کرتا ہے اور امت کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر وہ معصوم نہیں ہوتا اور اس کے فیصلے بشری نوعیت کے ہوتے ہیں۔
4. امامت خدائی منصب ہے یا عوامی انتخاب؟ شیعہ سنی نظریہ بیان کریں؟
شیعہ: شیعہ مسلمان عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت ایک خدائی منصب ہے اور امام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کیا جاتا ہے۔ امام معصوم ہوتا ہے اور اس کی رہنمائی امت کے لیے ضروری ہے۔
سنی: سنی عقیدہ میں امام کا انتخاب عوامی مشاورت سے ہوتا ہے۔ خلافت یا امامت کسی خدائی حکم سے نہیں، بلکہ امت کے اجتماع اور مشاورت سے منتخب کی جاتی ہے۔ سنی مسلمان امام کو معصوم نہیں سمجھتے۔
5. امام کی ضرورت پر شیعہ کے دلائل بیان کریں؟
شیعہ مسلمانوں کے مطابق امام کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ:
امام معصوم ہوتا ہے اور اس کے پاس خدا کی طرف سے خصوصی علم ہوتا ہے، جو امت کو صحیح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
امام امت کی رہنمائی میں وہ ہدایت فراہم کرتا ہے جس سے دین کا صحیح تشریح اور اس کی درست تفہیم ممکن ہوتی ہے۔
امام کی موجودگی امت کے لیے قیامت تک دین کے اصلی پیغام کو برقرار رکھتی ہے۔
امام کا منصب اتمام دین کا حصہ ہے، جیسے کہ نبی کی رہنمائی تھی، امام کی رہنمائی بھی ضروری ہے۔
6. امام کو لطف الہی قرار دینے پر علامہ حلی کا برہان بیان کریں؟
علامہ حلی نے امام کو لطف الہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام کی معصومیت اور علم خدا کی طرف سے ہوتا ہے، جس سے وہ امت کی رہنمائی کے لیے مختار ہوتا ہے۔ امام کی موجودگی میں امت کو گمراہی سے بچایا جاتا ہے، اور یہ ایک لطیف الہی رحمت ہے جو امت کے لیے ہے۔
7. لطف کی تعریف کریں اور لطف کی اقسام بیان کریں؟
لطف کی تعریف: لطف سے مراد وہ ہدایت، رحمت، یا ایسی تدابیر ہیں جو اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے ان کی فلاح و بہبود کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔
لطف کی اقسام:
1. ظاہری لطف: وہ رہنمائی جو واضح طور پر انسانوں تک پہنچتی ہے، جیسے نبیوں اور اماموں کی تعلیمات۔
2. باطنی لطف: وہ ہدایت جو انسان کے دل میں ڈالی جاتی ہے، جس سے انسان اپنے فیصلے بہتر طریقے سے کر سکتا ہے، جیسے کہ قلب کی سکونت یا الہام۔
8. جن اقوام تک دین نہیں پہنچا ان کا کیا ہوگا؟
شیعہ اور سنی دونوں مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جن اقوام تک دین نہیں پہنچا، ان کا حساب قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ ایمان لانے کے جواز رکھتے ہیں یا نہیں۔
9. امام کے لطف ہونے پر اہل سنت کا کوئی ایک نظریہ بیان کریں اور اس کا جواب دیں؟
اہل سنت: اہل سنت کے مطابق امام معصوم نہیں ہوتا، اور اس کا لطف صرف مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اس کے پاس کوئی غیبی علم یا معصومیت ہوتی ہے۔
جواب: شیعہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام کے لطف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ امام معصوم ہوتا ہے اور اس کا علم اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، تاکہ وہ امت کو درست رہنمائی فراہم کر سکے۔
10. امام مہدی غائب ہیں تو ان کا لطف کیسے ثابت ہوگا؟
شیعہ مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ امام مہدی (علیہ السلام) غیبت میں ہیں، لیکن ان کا لطف اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا علم اور ہدایت امت کی رہنمائی کے لیے موجود ہے۔ شیعہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) قیامت کے قریب واپس آئیں گے اور عدل قائم کریں گے۔
11. عصمت کا معنی بیان کریں اور عصمت کا فلسفہ بیان کریں؟
عصمت کا معنی: عصمت کا لغوی معنی ہے "بچاؤ" یا "محفوظ رکھنا"۔ اسلامی اصطلاح میں، عصمت اس خصوصیت کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے کسی انسان کو گناہ، خطا اور بھول سے اللہ کی طرف سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ خصوصیت انبیاء اور اماموں کی ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنے پیغامات میں کسی قسم کی غلطی یا گناہ کا ارتکاب نہ کریں۔
عصمت کا فلسفہ: عصمت کا فلسفہ اس بات پر مبنی ہے کہ اللہ تعالی اپنے منتخب بندوں جیسے انبیاء اور اماموں کو گناہ، خطا اور لغزش سے محفوظ رکھتا ہے تاکہ ان کی رہنمائی میں کوئی نقص نہ ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ اللہ کے پیغامات اور ان کی ہدایات میں کوئی شک نہ ہو۔ اگر انبیاء یا اماموں میں گناہ یا خطا ہوتی، تو ان کی رہنمائی پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا اور اس سے دین کی حقیقت متاثر ہو سکتی تھی۔
12. عصمت پر شیعہ اور سنی نظریہ بیان کریں؟
شیعہ نظریہ: شیعہ مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ عصمت انبیاء اور اماموں کے لیے ضروری ہے۔ امام اور نبی معصوم ہوتے ہیں، یعنی وہ گناہ، خطا اور بھول سے محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ عقیدہ اس لیے ہے تاکہ امام اور نبی کی رہنمائی اور تعلیمات میں کوئی نقص نہ ہو اور وہ اللہ کے پیغامات کو بالکل صحیح طور پر امت تک پہنچا سکیں۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، اماموں کی عصمت دین کی صحیح ہدایت کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے ذریعے ہی دین کا صحیح پیغام امت تک پہنچتا ہے۔
سنی نظریہ: سنی مسلمان یہ مانتے ہیں کہ عصمت صرف انبیاء کے لیے ہے۔ ان کے مطابق امام یا دوسرے دینی رہنما معصوم نہیں ہوتے، اور وہ گناہ کر سکتے ہیں۔ سنی مسلمان اماموں کی رہنمائی کو درست سمجھتے ہیں، لیکن ان کے گناہ یا خطا کے بارے میں بھی کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ سنی عقیدہ میں، عصمت کو صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص کیا جاتا ہے، امام یا دیگر بزرگان دین سے غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے۔
13. عصمت کے وجوب پر عقلی دلیل بیان کریں؟
عقلی طور پر، اگر امام یا نبی معصوم نہیں ہوگا تو اس کی رہنمائی میں لوگوں کو گمراہی کا خطرہ ہوگا۔ اگر وہ خود گناہ اور خطا کا شکار ہوں گے تو ان کی ہدایات میں اعتماد کی کمی پیدا ہو گی۔ چونکہ دین کا پیغام اور صحیح رہنمائی مسلمانوں کے لیے اہم ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ امام یا نبی معصوم ہو تاکہ وہ گناہ اور خطا سے محفوظ رہ کر اپنی ہدایت کو بالکل صحیح انداز میں لوگوں تک پہنچا سکیں۔ عصمت کی موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اللہ کا پیغام اور ہدایت کبھی بھی غلط نہ ہو۔
14. عصمت کے وجوب پر روایت بیان کریں؟
شیعہ اور سنی دونوں روایات میں عصمت کے وجوب پر دلیل ملتی ہے۔ ایک مشہور حدیث ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص میری امت کے امام یا خلیفہ کی پیروی کرتا ہے، وہ اللہ کی ہدایت کو صحیح طور پر پائے گا، اور امام کو ہر قسم کی خطا اور گناہ سے محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ وہ لوگوں کی رہنمائی میں کسی قسم کی غلطی نہ کریں۔"
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ امام کی عصمت دین کی صحیح رہنمائی کے لیے ضروری ہے تاکہ اس کی ہدایت میں کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔
15. اہل سنت کے نزدیک کون سی چیزیں شریعت کے محافظ ہیں اور اس کو رد کریں؟
اہل سنت: اہل سنت کے نزدیک شریعت کے محافظ قرآن، صحیح حدیث اور اجماع ہیں۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ قرآن اور صحیح حدیث ہی دین کے پیغام کو محفوظ رکھتے ہیں، اور امت کا اجماع اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دین کا پیغام صحیح ہے۔
جواب: شیعہ مسلمان اس عقیدے سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے علاوہ اماموں کی رہنمائی بھی دین کا تحفظ کرتی ہے۔ امام معصوم ہوتے ہیں، اور ان کے ذریعے دین کی تفصیلات اور ہدایات صحیح اور مکمل طور پر امت تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے، شیعہ عقیدہ کے مطابق امام بھی دین کے محافظ ہیں اور ان کے ذریعے دین کی صحیح رہنمائی ممکن ہے۔
16. اہل سنت کا اعتراض 260 ہجری کے بعد شیعہ بھی اہل سنت جیسے ہو گئے جواب دیں؟
اہل سنت کا اعتراض یہ ہے کہ 260 ہجری کے بعد جب امام مہدی (علیہ السلام) غیبت میں چلے گئے، تو شیعہ مسلمانوں کے عقائد اور عمل میں تبدیلی آئی اور وہ اہل سنت کی طرح عمل کرنے لگے۔
جواب: شیعہ مسلمان اس اعتراض کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام مہدی (علیہ السلام) کی غیبت کے بعد بھی ان کا عقیدہ اور عمل نہیں بدلا۔ اماموں کی غیبت میں ان کی ہدایت اور رہنمائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اور شیعہ مسلمان اپنے اماموں کی رہنمائی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لیے، شیعہ عقیدہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
17. قرآن کریم سے عصمت کے وجوب پر دلیل دیں؟
قرآن میں سورۃ الاحزاب کی آیت 33 میں اللہ تعالی نے اہل بیت کی عصمت اور تطہیر کی بات کی ہے: "إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا" (الاحزاب: 33) اس آیت میں اللہ تعالی نے اہل بیت کو گناہ اور آلائش سے صاف اور پاک کیا ہے، اور اس سے عصمت کی ضرورت اور وجوب ظاہر ہوتا ہے کہ امام اور انبیاء کو اللہ کی طرف سے ہر قسم کی گناہ سے بچایا جاتا ہے۔
18. کسی عالم بے عمل کا فتنہ مثال کے ساتھ بیان کریں؟
حضرت عبداللہ بن ابی کی مثال لی جا سکتی ہے، جو کہ ایک معروف منافق اور بے عمل عالم تھے۔ ان کے کردار میں منافقت اور غیرعملی زندگی کی وجہ سے امت میں فتنہ پیدا ہوا۔ ان کا علم اگرچہ تھا، مگر ان کے عمل میں کمی تھی، جس کے نتیجے میں ان کی رہنمائی لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔
19. مولا علی کا شعر بیان کریں اور واضح کریں کہ اس کا کیا مفہوم ہے؟
شعر:
"فَضْلُ الْعِلْمِ خَیْرٌ مِّنَ الْمَالِ"
مفہوم: امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ علم کا فضل مال سے بہتر ہے۔ علم انسان کو وہ سمجھ اور رہنمائی دیتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے راستے کو درست کر سکتا ہے۔ مال کا فائدہ عارضی ہوتا ہے، لیکن علم ہمیشہ انسان کے کام آتا ہے۔
20. امام اگر گناہ کرے گا تو کیا نتیجہ نکلے گا؟
شیعہ عقیدہ: امام گناہ نہیں کر سکتا، کیونکہ امام معصوم ہوتا ہے۔ اگر امام گناہ کرتا تو اس سے امت کا اعتماد ٹوٹ جاتا اور اس کی رہنمائی متاثر ہو جاتی۔ امام کا معصوم ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس کی رہنمائی میں کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔
سنی عقیدہ: سنی مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ امام گناہ کر سکتا ہے، لیکن وہ توبہ کے ذریعے اپنی خطا کی معافی حاصل کر سکتا ہے۔ سنی عقیدہ کے مطابق، امام کی رہنمائی میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے، لیکن اس سے دین کی حقیقت متاثر نہیں ہوتی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں