𝔹𝕠𝕠𝕜 6 Sadia ChatGPT

 , Book 6 Missing Lesson 14, 16, 17,18




🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


*

📆 اتوار  12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


🌴 امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب - تفصیل سے 🌴


پہلا درس: غیبت کا معنی


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🌹🎤


خلاصہ 🍃


امام زمانہ عج کا غیبت میں ہونا ایک انتہائی اہم اور پیچیدہ موضوع ہے جس پر مسلمانوں کی مختلف جماعتوں اور مکاتب فکر میں کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان سوالات میں سب سے اہم یہ ہے کہ امامؑ غیبت میں کیوں ہیں؟ اور ہمیں ان سے کس طرح تعلق قائم کرنا چاہیے؟ اس کے علاوہ یہ بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ غیبت کا مقصد کیا ہے؟ اور یہ کب تک جاری رہے گی؟


غیبت کے معنی

لفظ "غیبت" عربی زبان کا لفظ ہے، جو کسی چیز یا شخص کے چھپے یا پوشیدہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ لغوی طور پر "غیبت" کا مطلب ہوتا ہے "دیکھے جانے سے پوشیدہ ہونا" یا "نظارے سے چھپنا"۔ اس کے مطابق، غیبت وہ حالت ہے جب کسی فرد یا چیز کا موجود ہونا تو ثابت ہو، مگر وہ نظر نہیں آتا یا لوگوں کی دسترس میں نہیں ہوتا۔

شہرت یافتہ لغت "مقالیس اللغتہ" میں اس کا مفہوم یوں بیان کیا گیا ہے:


> "غیب وہ چیز ہے جو آنکھوں سے چھپی ہوئی ہو، اور جس کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا"۔




یہ لفظ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ غیبت صرف ظاہری طور پر نہیں بلکہ علم اور معرفت کے حوالے سے بھی ہو سکتی ہے۔


غیبت کی دو قسمیں


غیبت کی مختلف تشریحات اور مفہوم ہیں، جنہیں ہمیں سمجھنا ضروری ہے:


1. شخص کی غیبت:

اس قسم کی غیبت میں امامؑ کا جسم اور ان کی ظاہری موجودگی لوگوں کی نظر سے چھپی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامؑ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود ہیں، لیکن ان کا جسم ہمیں نظر نہیں آتا۔ امام کا وجود تو موجود ہوتا ہے، مگر وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے۔ اس میں لوگوں کے لیے امام کا جسم دیکھنا ممکن نہیں ہوتا، جیسے ایک شخص کسی پردے یا کسی حجاب کے پیچھے چھپ جائے۔



2. شخصیت کی غیبت:

اس نوعیت کی غیبت میں امامؑ کی شخصیت اور ان کا مقام مخفی ہوتا ہے، مگر ان کا جسم ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے۔ یعنی امامؑ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں، لیکن ان کی شخصیت اور مقام کو پہچاننا ممکن نہیں ہوتا۔ اس میں امام کا جسم ظاہر ہوتا ہے، مگر ان کی حقیقت اور شناخت سے لوگ لاعلم رہتے ہیں، جیسے حضرت یوسفؑ کی غیبت کے دوران ان کے بھائیوں نے انہیں نہ پہچانا، حالانکہ وہ ان کے سامنے تھے۔




غیبت کی نوعیت اور احادیث میں اس کا بیان


بہت سی احادیث میں امام زمانہؑ کی غیبت کی تفصیل دی گئی ہے، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ امامؑ کی غیبت کو حضرت یوسفؑ کی غیبت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حضرت یوسفؑ کے بھائی جب ان سے ملے تو وہ انہیں نہ پہچان پائے، حالانکہ وہ ان کے سامنے تھے۔ اسی طرح امامؑ کی غیبت میں بھی لوگوں کے لیے امامؑ کا پہچاننا ممکن نہیں ہوگا جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو۔


1. امامؑ کی جسمانی غیبت

ایسی احادیث بھی آئی ہیں جن میں امامؑ کی جسمانی غیبت کو بیان کیا گیا ہے، جیسے امام رضاؑ کی ایک روایت میں فرمایا گیا:


> "لا یری جسمہُ ولا یسمی باسمہ"

(ان کا جسم نہ دیکھا جائے گا اور نہ ان کا نام لیا جائے گا)




اسی طرح امام ہادیؑ سے بھی ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس میں امامؑ کی غیبت کی وضاحت کی گئی:


> "انکم لا ترون شخصہُ ولا یحل لکم ذکرہ بسمہ"

(تم ان کے جسم کو نہیں دیکھو گے، اور تمہارے لیے ان کے نام سے انہیں یاد کرنا حلال نہیں ہوگا)




2. امامؑ کی شخصیت کی غیبت

کچھ احادیث میں امامؑ کی شخصیت کو حضرت یوسفؑ کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:


> "بلاشبہ قائمؑ میں حضرت یوسفؑ کی ایک شباہت موجود ہے۔"

(یعنی امام زمانہؑ کی غیبت میں حضرت یوسفؑ کی طرح ایک پردہ ہوگا، جس کے ذریعے لوگ امامؑ کو دیکھیں گے، مگر پہچان نہیں پائیں گے)




غیبت کی حکمت

غیبت کے پیچھے اللہ کی ایک بڑی حکمت ہے۔ امامؑ کا غیبت میں رہنا ہمیں مختلف طریقوں سے آزماتا ہے:


ایمان کی آزمائش: غیبت کی حالت میں ہمارا ایمان اور صبر آزمایا جاتا ہے۔ اس دوران ہمیں امامؑ کے کردار اور مقام کا پختہ یقین رکھنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ امامؑ کی غیبت سے کسی کے ایمان میں کمی نہ آئے۔


غیبت میں امامؑ کی مدد: امامؑ کی غیبت کے دوران ان سے فیض حاصل کرنا ممکن ہے۔ امامؑ کی غیبت ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اور امامؑ کی ہدایت اور رہنمائی کو اپنے دلوں میں محسوس کریں۔


انتظار کی فضیلت: امام زمانہؑ کی غیبت ہمیں "انتظار" کی اہمیت سکھاتی ہے، یعنی ہم ان کے ظہور کا انتظار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو بہتر بناتے ہیں۔


👈 جاری ہے

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6🌴

امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب

دوسرا درس: غیبت امام زمانہ عج کی حقیقت


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹


خلاصہ:


امام زمانہؑ کی غیبت کی حقیقت پر مختلف محققین نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ مثلاً مرحوم علامہ مجلسی (رح) اور ملا صالح مازندرانی نے اپنی کتابوں مراۃ العقول اور شرح اصول کافی میں غیبت سے متعلق مختلف روایات کو اکٹھا کیا اور ان کا تجزیہ کیا۔ ان محققین نے امام زمانہؑ کی غیبت کو دو مختلف نوعیتوں میں تقسیم کیا۔


1. امامؑ کا جسمانی غیبت:

اس نظریے کے مطابق امام زمانہؑ کا جسم اس طرح سے مخفی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان موجود ہوں گے، مگر آپ کا جسم کسی غیر عادی اور معجزانہ طریقے سے نظر نہیں آئے گا۔ اس کو معجزہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ معجزہ فطری قوانین کے خلاف ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی غیبت میں امامؑ کا جسم دیکھا نہیں جا سکتا، حالانکہ وہ موجود ہیں۔


یہ وہ حالت ہے جب امامؑ لوگوں کے درمیان ہوں، مگر ان کا جسم نظر نہ آئے۔ یہ معجزہ ایک مخصوص موقع پر ممکن ہوتا ہے، اور اس کا مقصد عام حالات میں فطری نظام سے انحراف نہیں ہوتا۔ بعض روایات میں امامؑ کی جسمانی غیبت کا ذکر ہے، جیسے امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے:


> "یفقد الناس امامھم میسھد الموسم فیراھم ھم ولا یرونہ"

(لوگ اپنے امام کو نہیں ڈھونڈ پائیں گے، وہ حج کے زمانہ میں حاضر ہوں گے اور لوگوں کو دیکھیں گے، مگر لوگ انہیں نہیں دیکھیں گے)




2. امامؑ کی شخصیت کی غیبت:

اس نظریے کے مطابق امامؑ کی شخصیت، مقام اور شناخت مخفی ہے۔ امام کا جسم موجود ہو گا، مگر لوگ آپ کی پہچان نہیں پائیں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امامؑ کی ظاہری موجودگی کو لوگ پہچاننے میں کامیاب نہیں ہوں گے، چاہے وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں۔


یہ تصور حضرت یوسفؑ کی غیبت کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے جب انہیں دیکھا تو وہ انہیں نہ پہچان پائے، حالانکہ وہ ان کے سامنے تھے۔ قرآن مجید میں بھی اس نوعیت کی غیبت کا ذکر آیا ہے، جیسے:


> "قالو تفقد صواع الملک"

(انہوں نے کہا کہ ہم نے بادشاہ کا پیمانہ گم کر دیا ہے)




یہاں بھی پیمانہ دیکھا نہیں جا رہا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ موجود نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ تھا۔


مختلف علماء کے نظریات:

کچھ علماء کرام نے دونوں روایات کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات امامؑ جسمانی طور پر دکھائی نہیں دیتے، اور بعض اوقات امامؑ کا جسم دکھائی دیتا ہے، لیکن لوگ انہیں پہچان نہیں پاتے۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ امامؑ کی غیبت کے دوران کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو روحانی طور پر امامؑ کو پہچان سکتے ہیں، لیکن ان کا جسم نہیں دیکھ سکتے، جبکہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو نہ امامؑ کا جسم دیکھ پاتے ہیں، نہ ہی انہیں پہچان پاتے ہیں۔


غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ:

کچھ علماء کرام نے اس نظریے کو اس طرح بیان کیا ہے کہ امام زمانہؑ کی جسمانی غیبت غیبت صغریٰ میں تھی۔ اس دوران امامؑ کچھ خاص مقامات پر چھپ کر رہتے تھے، جیسے جنگلوں اور صحراؤں میں۔ لیکن غیبت کبریٰ کے آغاز کے بعد، جو کہ تقریباً 70 سال بعد ہوا، امامؑ کا جسمانی غیبت مکمل طور پر آ چکی تھی اور اس وقت وہ افراد جو امامؑ کو دیکھ چکے تھے، وہ بھی اب نہیں تھے۔ اس کے بعد جو لوگ آئے، انہوں نے امامؑ کو کبھی نہیں دیکھا تھا، اور اس طرح شخصی غیبت کا آغاز ہو گیا، جو آج تک جاری ہے۔


نتیجہ:

امام زمانہؑ کی غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ امامؑ کا جسم موجود نہیں یا امامؑ کسی دوسرے مقام پر ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامؑ کا جسم اور ان کی شخصیت ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے، اور اس کے پیچھے اللہ کی حکمت اور مشیت ہے۔ امامؑ کی غیبت کا مقصد ہمیں اپنے عمل میں اصلاح، ایمان کی پختگی، اور اللہ کی حکمت پر یقین پیدا کرنے کی طرف راغب کرنا ہے۔

👈 جاری ہے

والسلام


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب


تیسرا درس: غیبت امام زمانہ عج کی تاریخ، شیخ صدوق رح کا واقعہ


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


غیبت کی تاریخ کا جائزہ:


امام زمانہؑ کی غیبت کا واقعہ ایک نہایت اہم موضوع ہے جس پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ ان سوالات میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امام زمانہؑ کی غیبت کا واقعہ پہلے کسی اور حجت خدا کے ساتھ پیش آیا تھا؟ تاریخ میں اس سوال کا جواب واضح ہے کہ غیبت کا یہ عمل کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام غیبت میں چلے گئے تھے۔


امام زمانہؑ کی غیبت 260 ہجری میں شروع ہوئی اور اس سے لے کر آج تک ہم امامؑ کے براہ راست فیض سے محروم ہیں۔ اگرچہ اس سے ہم بظاہر امامؑ کی رہنمائی سے دور ہیں، لیکن اس کا مقصد اور حکمت ایک پیچیدہ اور گہری کائناتی نظم کے تحت ہے۔


غیبت امامؑ کے فلسفے کی وضاحت:


بہت سے لوگ اس بات پر شک کرتے ہیں کہ ایک ہادی جس کا جسم ظاہر نہیں ہوتا، کیسے لوگوں کی رہنمائی کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اس بات میں مضمر ہے کہ کائنات میں جو خاص نظام اور ترتیب ہے، اس میں بعض اوقات تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔ امام زمانہؑ کا غیبت میں جانا اس نظم کا حصہ ہے۔


غیبت کا یہ معاملہ انبیاء کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے۔ کچھ انبیاء تو تھوڑی مدت کے لیے غیبت میں گئے، کچھ کئی سالوں تک غیبت میں رہے، اور کچھ انبیاء تو آج بھی غیبت میں ہیں۔ غیبت ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کے منصوبے کا حصہ ہے اور اس کے مختلف اسباب ہیں۔



---


شیخ صدوق (رح) کا واقعہ:


شیخ صدوق (رح)، جو کہ شیعی علما کے عظیم ترین علماء میں سے ہیں، نے امام زمانہؑ کی غیبت پر ایک اہم کتاب کمال الدین و تمام النعمتہ لکھی، جس میں انہوں نے انبیاء کی غیبت کا ذکر کیا اور امام زمانہؑ کی غیبت کو بھی اسی تناظر میں بیان کیا۔


شیخ صدوق نے اس کتاب کو لکھنے کی ضرورت اس وقت محسوس کی جب وہ امام علی رضاؑ کی زیارت کے بعد نیشاپور واپس آئے۔ وہاں بہت سے شیعہ حضرات غیبت امام زمانہؑ کے مسئلے میں شک و تردید کا شکار تھے۔ وہ امامؑ کی غیبت کو سمجھنے میں مشکل محسوس کر رہے تھے۔ اس پر شیخ صدوق نے فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو پیغمبرؐ اور آئمہؑ کی روایات کی مدد سے امامؑ کی غیبت کی حقیقت بتائیں گے۔


شیخ صدوق کی کتاب لکھنے کی وجوہات:


شیخ صدوق کے مطابق، ایک دن بخارا سے ایک عالم نیشاپور آیا اور اس نے شیخ صدوق سے امام زمانہؑ کی غیبت کے بارے میں سوالات کیے۔ وہ شک و تردید میں مبتلا تھا اور امامؑ کی طولانی غیبت پر سوالات اٹھا رہا تھا۔ اس عالم نے شیخ صدوق سے کہا کہ وہ امامؑ کی غیبت کے بارے میں کچھ کتاب لکھیں تاکہ اس موضوع پر لوگوں کے شکوک دور ہوں۔


اس کے بعد ایک رات شیخ صدوق نے خواب میں امام زمانہؑ کو خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑا دیکھا۔ امامؑ نے شیخ صدوق سے فرمایا:


"غیبت کے موضوع پر ایک کتاب کیوں نہیں لکھتے تاکہ تمہارا غم دور ہو؟"


شیخ صدوق نے جواب میں کہا کہ وہ اس موضوع پر پہلے ہی کچھ تحریر کر چکے ہیں، تو امامؑ نے فرمایا:


"ایسا نہیں، تمہیں غیبت کے موضوع پر ایک کتاب لکھنی چاہیے، اور اس میں انبیاء کی غیبت کا ذکر کرنا چاہیے"


شیخ صدوق کا خواب:


شیخ صدوق نے اس خواب کو بہت اہم سمجھا اور اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ رات بھر دعا، گریہ و زاری میں گزارنے کے بعد فجر تک اس کتاب کو لکھنے کا ارادہ کر چکے تھے۔ انہوں نے کتاب میں انبیاء کی غیبت کے مختلف واقعات کو جمع کیا، جن میں حضرت آدمؑ سے لے کر دیگر انبیاء کی غیبت کا ذکر تھا۔


شیخ صدوق نے اس کتاب میں انبیاء کی غیبت کی تفصیل کو بیان کیا اور امام زمانہؑ کی غیبت کو ان کے حالات سے جوڑا۔ انبیاء کی غیبت میں کئی دن، مہینے یا سال گزر جاتے تھے، اور کبھی کبھی انبیاء اس غیبت میں اللہ کے حکم سے رہتے تھے تاکہ وہ اپنی قوم کو ہدایت دے سکیں۔



---


کتاب کی اہمیت:


شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین و تمام النعمتہ نے امام زمانہؑ کی غیبت کے بارے میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ اس کتاب میں امامؑ کی غیبت کو انبیاء کی غیبت کے ساتھ جوڑا گیا اور یہ ثابت کیا گیا کہ غیبت ایک معمولی واقعہ نہیں، بلکہ یہ اللہ کے منصوبے کا حصہ ہے۔ شیخ صدوق نے اس کتاب کے ذریعے امام زمانہؑ کے وجود کی حقیقت کو ثابت کیا اور غیبت کے اسباب کو واضح کیا۔


نتیجہ:


شیخ صدوق کا یہ کام ایک عظیم علمی خدمت ہے جس نے غیبت امام زمانہؑ کے بارے میں لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کیا۔ یہ کتاب نہ صرف امامؑ کی غیبت کو سمجھنے کا ذریعہ بنی، بلکہ اس نے انبیاء کی غیبت کو بھی لوگوں کے سامنے رکھا اور یہ واضح کیا کہ غیبت کا یہ عمل نیا نہیں ہے، بلکہ یہ ہر زمانے میں ہوتا آیا ہے۔

👈 جاری ہے

والسلام


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍


🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب


چوتھا درس: غیبت انبیاء، حضرت صالح علیہ السلام کی غیبت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیبت


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


شیخ صدوق کی کتاب "کمال الدین و تمام النعمتہ":


شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین و تمام النعمتہ میں انبیاء کی غیبت کے نمونوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مختلف انبیاء کی غیبت کے واقعات کو پیش کر کے امام زمانہؑ کی غیبت کی حقیقت کو سمجھایا گیا ہے۔ اس درس میں ہم نے حضرت صالح علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیبت کے واقعات کو بیان کیا ہے۔



---


حضرت صالح علیہ السلام کی غیبت:


زید شحام امام صادقؑ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت صالحؑ نے اپنی قوم سے ایک مدت تک غیبت اختیار کی۔ حضرت صالحؑ کی غیبت کے وقت وہ ایک خوش شکل، مکمل مرد تھے جن کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی اور ان کا بدن نسبتاً دبلہ تھا۔ جب وہ غیبت سے واپس آئے، تو ان کی قوم تین گروہوں میں تقسیم ہو چکی تھی:


1. منکرین: جو حضرت صالحؑ کے پیغام کا انکار کرتے تھے۔



2. اہل شک و تردید: جو حضرت صالحؑ کے پیغام کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا تھے۔



3. اہل ایمان و یقین: جو حضرت صالحؑ کے پیغام پر ایمان رکھتے تھے۔




اس واقعے میں حضرت صالحؑ کی غیبت کو امام زمانہؑ کی غیبت سے مشابہت دی جاتی ہے کیونکہ دونوں حضرات کا غیبت میں ہونا ایک مخصوص حکمت کے تحت تھا، جس کے ذریعے ایک خاص مقصد کو پورا کیا جا رہا ہے۔



---


حضرت یوسف علیہ السلام کی غیبت:


حضرت یوسف علیہ السلام کی غیبت کی روایت پہلے بھی ذکر کی جا چکی ہے۔ حضرت یوسفؑ کی غیبت ایک مدت تک رہی اور اس میں مختلف پیچیدہ واقعات پیش آئے۔ ان کی غیبت کا مقصد اللہ کی حکمت کو ظاہر کرنا تھا، اور یہ غیبت بھی امام زمانہؑ کی غیبت سے ملتی جلتی تھی، جہاں حضرت یوسفؑ کا غیبت میں ہونا اللہ کے منصوبے کا حصہ تھا۔



---


حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیبت:


امیر المؤمنینؑ نے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے پیروکاروں اور خاندان والوں کو جمع کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر حضرت موسیٰؑ نے ان سے کہا کہ ان پر ایک سخت دور آئے گا جس میں ان کے مردوں کو قتل کیا جائے گا، ان کی حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کیے جائیں گے اور ان کے بچوں کے سر جدا کیے جائیں گے۔


اس کے بعد حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو بتایا کہ ایک دن اللہ کی طرف سے ایک "قائم" آئے گا، جو بنی اسرائیل کی نسل سے ہوں گے، گندمی رنگت اور بلند قامت والے، اور ان کی صفات کو بیان کیا۔ پھر بنی اسرائیل پر ایک ایسا دور آیا جب وہ قائم کے قیام کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران حضرت موسیٰؑ کی غیبت کا دور آیا، اور وہ کئی سال تک غیبت میں رہے۔


حضرت موسیٰؑ کی غیبت کا واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیبت ایک عمومی حقیقت ہے جو مختلف انبیاء پر آئی۔ حضرت موسیٰؑ کا غیبت میں چلے جانا اور اس کے بعد ان کی واپسی کا واقعہ بھی اسی حکمت کا حصہ تھا جس کے تحت امام زمانہؑ کی غیبت ہو رہی ہے۔



---


حضرت موسیٰؑ کی غیبت اور جھوٹے دعویدار:


ابو بصیر نے امام باقرؑ سے نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی غیبت کے دوران بنی اسرائیل میں پچاس جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حضرت موسیٰؑ ہیں۔ ان جھوٹے دعویداروں کا مقصد حقیقت کو چھپانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا تھا۔


یہ واقعہ امام زمانہؑ کی غیبت سے مشابہ ہے، کیونکہ غیبت کے دوران بھی بعض لوگ امام کے وجود کے بارے میں شک و تردید میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس دوران جھوٹے دعوے کرنے والے بھی سامنے آتے ہیں۔



---


نتیجہ:


حضرت صالحؑ، حضرت یوسفؑ اور حضرت موسیٰؑ کی غیبتوں کے واقعات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ غیبت صرف امام زمانہؑ کا خاصہ نہیں ہے، بلکہ یہ انبیاء کی زندگی کا بھی حصہ رہی ہے۔ انبیاء کی غیبت کا مقصد ہمیشہ اللہ کے منصوبے کو پورا کرنا ہوتا تھا اور یہ ثابت کرنا ہوتا تھا کہ اللہ کی حکمت میں کوئی کمی نہیں ہے، چاہے اس کا طریقہ کار ہمارے سمجھنے کے مطابق نہ ہو۔ امام زمانہؑ کی غیبت بھی اسی حکمت کا حصہ ہے۔

👈 جاری ہے

والسلام


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب


پانچواں درس: غیبت کے مراحل اور اس کا فلسفہ


معصومین علیہم السلام کی طرف سے امام زمانہ عج کی غیبت بیان ہونا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ السلام کا فرمان


🎤 استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب



---


خلاصہ:


آج ہم امام زمانہ عج کی غیبت کے مختلف پہلوؤں پر بات کریں گے۔ اس سے پہلے ہم نے احادیث اور روایات کی روشنی میں غیبت کی تاریخ پر گفتگو کی ہے، اور آج ہم اس بات پر بات کریں گے کہ امام زمانہ عج کی غیبت کو کس طرح بیان کیا گیا اور اس کے کتنے مراحل ہیں۔



---


امام زمانہ عج کی غیبت کے مراحل


امام زمانہ عج کی غیبت کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:


1️⃣ غیبت صغریٰ:


غیبت صغریٰ ایک مختصر مدت کی غیبت تھی جو تقریباً 70 سال جاری رہی۔ اس دوران امام زمانہ عج کی طرف سے چار خاص نائبین (نواب اربعہ) منتخب ہوئے جو لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے اور امام کے پیغامات کو پہنچانے کا کام کرتے رہے۔


2️⃣ غیبت کبریٰ:


غیبت کبریٰ وہ غیبت ہے جو ابھی تک جاری ہے اور اس میں امام زمانہ عج کی طرف سے کسی خاص نیابت کا دعویٰ کرنے والا کذاب سمجھا جائے گا۔ اس دور میں امام عج کی غیبت کو مزید طول دیا گیا تاکہ لوگ امام کی عظمت کو سمجھیں اور ان کے ظہور کی تیاری کریں۔ اس غیبت کا مقصد یہ ہے کہ لوگ امام کے وجود اور ان کی ضرورت کو درک کریں اور اس کے ذریعے دنیا میں نظام امامت کو نافذ کرنے کی تیاری کریں۔



---


غیبت کا مسئلہ


غیبت کا مسئلہ شروع سے ہی واضح تھا، اور اس کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر امام عسگری علیہ السلام تک تمام معصومین علیہم السلام نے احادیث میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں کو واضح نہیں تھی، لیکن معصومین نے اس حقیقت کو بیان کیا تاکہ شیعہ اس کو ایک دینی امر سمجھ کر اس کے لیے تیار ہو جائیں۔


غیبت کو دو مراحل میں تقسیم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ پہلے مرحلے (غیبت صغریٰ) میں غیبت کی حقیقت کو سمجھیں اور ذہنی طور پر غیبت کبریٰ کے لیے تیار ہوں۔ اس دوران لوگوں کا امام عج سے براہ راست رابطہ ممکن تھا اور اگر ضرورت پیش آتی تو ملاقات بھی ممکن تھی۔



---


معصومین علیہم السلام کی طرف سے امام زمانہ عج کی غیبت بیان ہونا


معصومین علیہم السلام نے اپنی احادیث اور روایات میں امام زمانہ عج کی غیبت اور اس کے فلسفے کو بیان کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا جائے کہ غیبت کا مسئلہ شروع سے ہی تھا اور یہ ایک ضروری امر ہے۔



---


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام زمانہ عج کی غیبت کے بارے میں فرمایا:


"طَوبٰى لِمَن أدرَکَ قَائِمَ أَهلَ بَيتِي وَهُوَ يَاتَمُّ بِهٖ فِى غَيبَتِهٖ قَبلَ قِيَامِهٖ وَ يَتَوَلّٰى اَوْلِيَائهُ وَ يُعَادِى اَعْدَاءَهُ ذٰلِكَ مِنْ رُفَاقَائِی وَ ذَوِى مَوَدَّتِى وَ اَكْرَمُ اُمَّتِى عَلٰى يَومَ الْقِيَامَه"


ترجمہ: "اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو میرے قائم (علیہ السلام) کو ان کی غیبت میں پہچانے، ان کی امامت پر ایمان رکھے، ان کے چاہنے والوں سے محبت کرے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کرے۔ وہ قیامت کے دن میرے دوست اور میری امت کا سب سے عزت پانے والا شخص ہوگا۔"


یہ حدیث امام زمانہ عج کی غیبت میں ہمارے فرائض کو واضح کرتی ہے، جس میں امام کی امامت پر ایمان، ان کے چاہنے والوں سے محبت، اور دشمنوں سے دشمنی رکھنا شامل ہے۔ یہ ایک طرح کی تیاری بھی ہے جس کے ذریعے ہم امام کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔



---


امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان


امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے امام زمانہ عج کی غیبت کے حوالے سے فرمایا:


"لِلْقَائِمِ مِنَّا غَيبَةٌ اَمَدُهَا طَوِيلٌ...اَلَّا فَمَنْ ثَبَتَ مِنهُم عَلٰى دِينِهٖ وَلَمْ يَقْسُ قَلبُهُ لِطُولِ اَمَدِ غَيبَةِ اِمَامِهِ فَهُوَ مَعِى فِى دَرجَتِى يَومَ القِيَامَه"


ترجمہ: "ہمارے قائم کی غیبت طویل مدت تک رہے گی... جان لو کہ جو بھی غیبت کے دوران اپنے دین پر ثابت قدم رہے گا اور امام کی غیبت کی طوالت کے باوجود اس کا دل سخت نہیں ہوگا، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ایک ہی درجے پر ہوگا۔"


امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے امام زمانہ عج کی غیبت کے دوران ثابت قدم رہنے کی اہمیت کو بیان کیا اور بتایا کہ ہمیں امام کی غیبت کو عادت نہیں بنانا چاہیے، بلکہ ان کے ظہور کی تیاری کرنی چاہیے۔ غیبت کے دوران امام کی محبت میں ہمارا دل نرم اور امام کے لیے ہماری تڑپ جتنی زیادہ ہوگی، اتنا ہی ہمارے لیے عظمت کا باعث ہوگا۔



---


دعا:

اللہ تعالیٰ ہمیں امام زمانہ عج کی غیبت کے دوران اپنے دین پر ثابت قدم رکھنے اور ان کے ظہور کے لیے تیاری کرنے کی توفیق دے، اور ہم سب کو امام کے ناصروں میں شامل کرے۔


الہی آمین

👈 جاری ہے

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب


درس 6: معصومین علیہم السلام سے غیبت کی بیان ہونا


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🌹🎤🌹



---


خلاصہ:


اس درس میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام، اور امام سید سجاد علیہ السلام سے نقل کی جانے والی روایتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب کو واضح کرتی ہیں۔ ان روایات میں امام زمانہ کی غیبت اور اس کے دوران آنے والی مشکلات اور آزمائشوں کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔



---


1. امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور غیبت کی پیش گوئی


امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی جانب سے غیبت کا تذکرہ ایک اہم حدیث میں آیا ہے جو ابو سعید عقیصا سے نقل کی گئی ہے۔ اس حدیث میں امام حسنؑ نے معاویہ کے ساتھ اپنی صلح کا دفاع کیا۔


تفصیل: جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کی، تو ان کے ساتھ کچھ لوگ ناراض ہوئے۔ ان میں بعض افراد امام حسنؑ کے اس فیصلے کو غلط سمجھتے تھے اور ان پر تنقید کر رہے تھے۔ امام حسنؑ نے ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا:


"وائے ہو تم پر، تم کیا جانتے ہو کہ میں نے کیا کیا؟ اللہ کی قسم، یہ عمل میرے شیعوں کے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج چمکتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔۔۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہم میں سے کوئی امام ایسا نہیں ہے جس پر اس زمانے کے طاغوت کی بیعت نہ ہو، سوائے اس قائم کے جن کی ولادت مخفی رکھی جائے گی اور ان کا وجود غیبت میں ہوگا، یہاں تک کہ وہ قیام کریں گے اور ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہیں ہوگی۔"


اس حدیث کے نکات:


1. معاویہ سے صلح کی حکمت: امام حسنؑ کی صلح دراصل ایک حکمت عملی تھی تاکہ اپنے مخلصین اور اہل بیتؑ کے پیروکاروں کی جانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ اگر امام حسنؑ جنگ پر اصرار کرتے تو اس کے نتیجے میں بہت سے مخلص شیعہ قتل ہو جاتے اور اہل بیتؑ کے پیروکاروں کا سلسلہ ختم ہو جاتا۔ امام حسنؑ نے صلح کر کے اس نسلوں تک اہل بیتؑ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی۔



2. طاغوت کی بیعت: امام حسنؑ نے فرمایا کہ تمام اماموں کی گردن پر اس وقت کے ظالم حکمرانوں کی بیعت ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس وقت اماموں کو ان ظالم حکمرانوں کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے، حالانکہ یہ بیعت جبر کے تحت ہوتی ہے۔ امام حسنؑ نے خود خاموشی اختیار کی اور تقیہ (ظاہری طور پر سکوت اختیار کرنا) اختیار کیا، تاکہ حالات میں بگاڑ نہ آئے۔



3. غیبت کی پیش گوئی: امام حسنؑ نے امام قائمؑ کی غیبت کی پیش گوئی کی۔ امام قائمؑ (امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف) اس وقت تک غیبت میں رہیں گے جب تک کہ اللہ کا حکم نہ آ جائے، کیونکہ وہ کسی ظالم حکمران کی بیعت نہیں کریں گے۔ ان کی غیبت اللہ کی تقدیر کے تحت ہوگی اور ان کے ظہور کے بعد وہ ظالم حکمرانوں کے خلاف قیام کریں گے۔





---


2. امام حسین علیہ السلام اور غیبت کا ذکر


امام حسین علیہ السلام نے بھی غیبت کے موضوع پر فرمایا:


تفصیل: امام حسینؑ نے فرمایا:


"ہمارے خاندان سے بارہ مھدی ہوں گے، ان میں سے سب سے پہلے امیرالمومنین علیؑ ابن ابی طالبؑ ہیں اور ان میں سے آخری میری نسل سے نویں امام ہوں گے۔ وہ حق پر قائم امام ہیں۔۔۔ ان کے لیے غیبت ہو گی، اس دوران بعض قومیں مرتد ہو جائیں گی، جبکہ دوسے قومیں ایمان پر قائم رہیں گی۔ ان لوگوں کو سخت تکالیف کا سامنا ہوگا اور جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ تو ان کا صبر ان مجاہدین کے برابر ہوگا جو پیغمبر اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تھے۔"


اس حدیث کے نکات:


1. مھدی کا عمومی لقب: امام حسینؑ نے واضح کیا کہ "مھدی" ایک عمومی لقب ہے جو تمام بارہ اماموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن امام حسینؑ نے اس کا خاص ذکر امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے لیے کیا ہے، جو آخرکار غیبت سے باہر آئیں گے۔



2. غیبت کے دوران آزمائشیں: امام حسینؑ نے بتایا کہ غیبت کے دوران دو بڑی آزمائشیں آئیں گی:


ایک یہ کہ لوگوں کو مہدویت کے عقیدہ کے بارے میں شبہات ہوں گے اور اس عقیدے کو جھٹلایا جائے گا۔


دوسری یہ کہ مومنین کو سخت تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہوگا، اور بہت سے لوگ جان کی بازی ہار جائیں گے۔






---


3. امام سید سجاد علیہ السلام اور غیبت کا ذکر


امام سید سجاد علیہ السلام (امام زین العابدین علیہ السلام) نے بھی غیبت کے موضوع پر اہم روایات بیان کیں۔ ابو خالد کے سوال کے جواب میں امام سجادؑ نے فرمایا کہ امام قائمؑ کے بارے میں اللہ کی حکمت کے تحت غیبت ہوگی۔


تفصیل: ابو خالد کہتے ہیں کہ میں امام زین العابدینؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ وہ ہستیاں جو اللہ کے حکم سے امام ہوں گی اور جن کی اطاعت واجب ہے، وہ کون ہیں؟ امام سجادؑ نے فرمایا:


"یہ امیرالمومنین علیؑ اور ان کے فرزند حسنؑ اور حسینؑ ہیں، اور پھر یہ ذمہ داری ہمیں دی گئی۔"


انہوں نے امام زمانہؑ کی غیبت کے بارے میں کہا کہ ان کی غیبت طویل ہوگی، لیکن اس دوران جو لوگ ان کی امامت پر ایمان رکھتے ہوئے صبر کریں گے، ان کا مرتبہ ان مجاہدین سے بلند ہوگا جو پیغمبر اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تھے۔ امام سجادؑ نے فرمایا کہ غیبت کے دوران یہ لوگ اپنے ایمان میں اتنے ثابت قدم ہوں گے کہ ان کے مرتبہ کو پیغمبر کے اصحاب کے برابر سمجھا جائے گا۔


اس حدیث کے نکات:


1. بارہ اماموں کا ذکر: امام سجادؑ نے بارہ اماموں کا ذکر کیا، جن میں امام قائمؑ (امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف) بھی شامل ہیں۔



2. غیبت کے دوران صبر کی اہمیت: امام سجادؑ نے فرمایا کہ غیبت کے دوران امامؑ کے حقیقی مخلصین، جو دین کی حفاظت کریں گے، ان کا مرتبہ ان افراد سے بلند ہوگا جو پیغمبر اکرم ﷺ کی جنگی مہمات میں شریک تھے۔ ان لوگوں کا ایمان، ان کی فہم اور ان کی معرفت ان کے لیے غیبت میں بھی مشاہدہ کی مانند ہوگا۔





---

👈 جاری ہے

والسلام۔


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب


درس 7: معصومین علیہم السلام سے غیبت کا بیان - امام محمد باقر، امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم علیہم السلام سے غیبت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا تذکرہ


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


اس درس میں امام محمد باقر علیہ السلام، امام جعفر صادق علیہ السلام، اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے نقل کردہ روایات کو پیش کیا گیا ہے جن میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب اور اس کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان روایات کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ امام زمانہ کی غیبت اچانک واقع نہیں ہوئی، بلکہ اس کے اسباب پہلے ہی معصومین علیہم السلام کی زبان سے بیان کیے جا چکے تھے۔ اس کے علاوہ غیبت کے دوران ہمارے اعمال اور ہمارے وظائف بھی بتائے گئے ہیں اور غیبت کے خاتمے کے اسباب کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔


شیخ صدوقؒ کی کتاب کمال الدین سے یہ روایات نقل کی گئی ہیں، جس میں آئمہ علیہم السلام نے غیبت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔



---


1. امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث:


امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:


"ایک زمانہ لوگوں پر آئے گا کہ ان کا امام غائب ہوگا، خوشخبری ہو ان لوگوں کے لیے جو اس زمانہ میں ہمارے امر پر ثابت قدم رہیں۔ سب سے کم ترین ثواب جو انہیں ملے گا وہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انہیں آواز دے گا اور فرمائے گا: 'اے میرے بندے! تم نے میرے غیب پر ایمان لایا ہے اور اس کی تصدیق کی ہے، پس میں تمہیں نیک ثواب کی بشارت دیتا ہوں اور تم میرے حقیقی بندے ہو، تم سے قبول کرتا ہوں، تم کو مغفرت عطا کرتا ہوں، اور تمہارے سبب اپنے بندوں پر رحمت کی بارش نازل کروں گا۔ اگر تم نہ ہوتے تو میں ان پر عذاب نازل کرتا۔'"


اس حدیث کے اہم نکات:


1. غیبت میں ثابت قدم رہنا: امام محمد باقر علیہ السلام نے غیبت کے دوران ثابت قدم رہنے کی اہمیت کو بیان کیا۔ غیبت میں ایمان کے ساتھ امام کی ولایت پر قائم رہنا، مومن کی سچی وفاداری کو ظاہر کرتا ہے۔



2. ثواب کی بشارت: غیبت کے دوران ثابت قدم رہنے والوں کو اللہ کی جانب سے بہت بڑا انعام اور مغفرت کی بشارت دی جا رہی ہے۔



3. اللہ کی رحمت: امام باقرؑ نے اس بات کو بیان کیا کہ غیبت میں ثابت قدم رہنے والے مومنین کے ذریعے اللہ اپنے بندوں پر رحمت نازل کرے گا اور ان سے مصیبتوں کو دور کرے گا۔ یہ ثابت قدم افراد، اللہ کی طرف سے خصوصی نگہداشت حاصل کرتے ہیں۔





---


2. امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث:


امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:


"طوبی ہو اس کے لیے جو ہمارے قائم کی غیبت کے دوران اس کے امر ولایت سے تمسک رکھے اور ہدایت کے بعد اس کا دل نہ پلٹے۔"


ان سے سوال کیا گیا: "طوبی کیا ہے؟"


تو امامؑ نے فرمایا:


"جنت میں ایک درخت ہے، جس کی جڑیں علی بن ابی طالبؑ کے گھر میں ہیں۔ کوئی مومن ایسا نہ ہوگا کہ اس کی ایک شاخ اس کے گھر نہ ہو۔ یہ اللہ کا کلام ہے کہ ان کے لیے طوبی اور نیک انجام ہے۔" (سورہ رعد 29)


اس حدیث کے اہم نکات:


1. ولایت سے تمسک: امام جعفر صادقؑ نے غیبت کے دوران امام قائمؑ کی ولایت سے تمسک رکھنے کو بہت بڑی سعادت قرار دیا۔ یہ ثابت قدمی اور وفاداری کا اظہار ہے جو مومن کے دل میں امام کے لیے ہونا ضروری ہے۔



2. طوبی کا درخت: طوبی کا درخت جنت میں مومنوں کا مقام ظاہر کرتا ہے، جو امام علیؑ کے گھر سے جڑا ہوا ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جو شخص امام کی ولایت سے وابستہ رہتا ہے، اسے جنت میں بلند مقام حاصل ہوگا۔





---


3. امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی حدیث:


امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:


"وہ قائم جو زمین کو اللہ کے دشمنوں سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی، میری نسل سے پانچوں فرزند ہیں۔ ان کی غیبت طویل ہوگی کیونکہ انہیں اپنی جان کا خوف ہوگا۔ اس دوران کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گی اور کچھ اقوام ثابت قدم رہیں گی۔ پھر فرمایا: خوشخبری ہو ہمارے شیعوں کو جو ہمارے قائم کی غیبت کے دوران ہمارے دامن سے تمسک رکھتے ہیں اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ثابت قدم ہیں، وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں۔ ہم نے انہیں امام کے طور پر قبول کر لیا ہے اور وہ ہمارے شیعہ ہیں۔ ان کے لیے بشارت ہو، ان کے لیے بشارت ہو، قیامت کے روز خدا کی قسم یہ ہمارے مرتبہ میں ہوں گے۔"


اس حدیث کے اہم نکات:


1. طویل غیبت: امام موسیٰ کاظمؑ نے امام قائمؑ کی غیبت کو طویل اور مشکل دور قرار دیا ہے۔ اس دوران کچھ لوگ ایمان سے منحرف ہو جائیں گے، لیکن جو لوگ ثابت قدم رہیں گے، ان کا مقام بلند ہوگا۔



2. ثابت قدم رہنے والے شیعہ: امام کاظمؑ نے بتایا کہ جو لوگ امام قائمؑ کی غیبت میں اس کے دامن سے تمسک رکھتے ہیں، وہ امامؑ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور امامؑ ان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ امام کے حقیقی شیعہ ہیں اور قیامت کے دن انہیں امام کے مرتبہ کے برابر مقام دیا جائے گا۔



3. دشمنوں سے بیزاری: امامؑ نے فرمایا کہ غیبت کے دوران دشمنان اہل بیتؑ سے بیزاری رکھنا اور امام کی ولایت کو ماننا ہمارے شیعوں کے ایمان کا حصہ ہے۔





---


اہم نکات:


1. ہمارا وظیفہ ثابت قدم رہنا ہے: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت میں ہمارا اہم ترین وظیفہ امام کی ولایت پر ایمان قائم رکھنا اور اس سے وابستہ رہنا ہے۔



2. دشمنان اہل بیتؑ سے بیزاری: غیبت کے دوران امام کے دشمنوں سے بیزاری اور امام کی حمایت پر ثابت قدم رہنا ہمارا دینی فرض ہے۔



3. آئمہؑ کا ہمارے ساتھ تعلق: آئمہؑ ہمیں نہیں بھولے ہیں، اور ہماری محبت و وفاداری کا ذکر کرتے ہوئے وہ ہمیں بشارت دیتے ہیں۔ امامؑ ہمارے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں اور قیامت کے دن ہمیں ان کے مرتبے کے برابر مقام دیں گے۔





--👈 جاری ہے


والسلام۔


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب


درس 8: معصومین علیہم السلام سے غیبت کا بیان - امام علی رضا، امام محمد تقی، امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہم السلام سے غیبت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا تذکرہ


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


اس درس میں امام علی رضا علیہ السلام، امام محمد تقی علیہ السلام، امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل کردہ روایات میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ان فرامین کا مقصد یہ ہے کہ امام زمانہؑ کی غیبت اچانک واقع نہیں ہوئی، بلکہ معصومین علیہم السلام نے اس غیبت کی پیش گوئی اور اس کے اسباب کی تفصیل بیان کی تھی۔



---


1. امام علی رضا علیہ السلام کا فرمان:


امام علی رضا علیہ السلام سے سوال کیا گیا: "اے فرزند رسولؐ، آپؑ اہلبیتؑ کا قائمؑ کون ہیں؟"


آپؑ نے فرمایا:


"میری نسل سے چوتھا فرزند، کنیزوں کی سردار کا فرزند ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے زمین کو ہر طرح کے ستم سے پاک کرے گا اور ہر طرح کے ظلم سے منزہ کرے گا۔ وہ وہی ہے جس کی ولادت میں لوگ شک کریں گے، اور وہ وہی ہے جو اپنے قیام سے پہلے غیبت اختیار کرے گا۔ جب وہ خروج کریں گے تو زمین ان کے نور سے روشن ہو جائے گی۔"


اہم نکات:


1. چوتھے فرزند کا ذکر: امام علی رضاؑ نے امام زمانہؑ کی پیدائش کے بارے میں ذکر کیا کہ وہ آپؑ کی نسل سے چوتھے فرزند ہوں گے۔



2. بی بی نرجس خاتون کا ذکر: امام رضاؑ نے فرمایا کہ امام زمانہؑ کی والدہ "کنیزوں کی سردار" ہوں گی۔ بی بی نرجس خاتون روم کی شہزادی تھیں جنہوں نے اسلامی تہذیب کو قبول کیا اور بعد میں امام عسکریؑ کے عقد میں آئیں۔



3. غیبت کا ذکر: امام زمانہؑ کی غیبت اور پھر ان کے ظہور کی پیش گوئی کی گئی، اور یہ بتایا گیا کہ ان کا خروج زمین کو عدل سے بھر دے گا۔





---


2. امام محمد تقی علیہ السلام کا فرمان:


امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:


"وہ قائم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ زمین کو کفار اور منکرین سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا، وہ وہی ہے جس کی ولادت لوگوں سے پوشیدہ ہوگی اور اس کا وجود غیبت میں ہوگا۔ اس کے اصحاب بدر کی مانند 313 ہوں گے۔ اصحاب زمین کے دور دراز جگہوں سے اس کے ارد گرد جمع ہوں گے۔"


اہم نکات:


1. غیبت کا ذکر: امام محمد تقیؑ نے امام زمانہؑ کی غیبت کا ذکر کیا، اور یہ بتایا کہ ان کا وجود لوگوں سے غائب ہوگا۔



2. 313 اصحاب کا ذکر: امامؑ نے امام زمانہؑ کے 313 اصحاب کا ذکر کیا جو ان کے ظہور کے وقت ان کے ساتھ ہوں گے اور وہ زمین کے دور دراز مقامات سے ان کے ارد گرد جمع ہوں گے۔



3. اللہ کی قدرت: اللہ تعالیٰ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے وقت پر امام زمانہؑ کے اصحاب کو زمین کے مختلف گوشوں سے جمع کر لے گا۔





---


3. امام علی نقی علیہ السلام کا فرمان:


امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:


"میرے بعد میرا جانشین میرا بیٹا حسن ہے، اور تم لوگ میرے جانشین کے بعد والے جانشین کے ساتھ کیا کرو گے؟"


داؤد بن قاسم نے سوال کیا: "آپ پر قربان ہو جائیں، کیا ہوگا؟"


امامؑ نے فرمایا:


"کیونکہ تم انہیں نہیں دیکھو گے... تم ان کو کیسے یاد کرو گے؟"


فرمایا: "ایسے کہو: 'حجت آل محمدؑ صلوات اللہ علیہم۔'"


اہم نکات:


1. جانشین کا ذکر: امام علی نقیؑ نے امام حسن عسکریؑ کے بعد امام زمانہؑ کے بارے میں بتایا کہ آپؑ کا جانشین غیبت میں ہوگا۔



2. غیبت کا ذکر: امام علی نقیؑ نے غیبت کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ لوگوں کو امام زمانہؑ کو یاد کرنے کے لیے "حجت آل محمدؑ" کہنا چاہیے۔



3. دور غیبت میں یاد کرنے کا طریقہ: امامؑ نے بتایا کہ غیبت کے دوران امام زمانہؑ کو "حجت آل محمدؑ" کے لقب سے یاد کیا جائے۔





---


4. امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان:


امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا گیا: "اے فرزند رسولؐ، آپؑ کے بعد امام اور حجت کون ہیں؟"


فرمایا:


"میرا بیٹا محمد ہے، وہ میرے بعد امام اور حجت ہیں۔ اگر کوئی مر جائے اور ان کی معرفت پیدا نہ کرے، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ جان لو کہ ان کے لیے غیبت ہے، جس میں جاہل لوگ سرگرداں ہوں گے اور اہل باطل اس میں ہلاک ہوں گے، اور جو ان کے لیے وقت معین کریں گے، وہ جھوٹ بولتے ہوں گے۔"


اہم نکات:


1. امام زمانہ کا نام: امام عسکریؑ نے امام زمانہؑ کا نام "محمد" بتایا، اور یہ واضح کیا کہ وہ امام ہیں اور ان کا ہی اقتدار ہوگا۔



2. غیبت کا ذکر: امام عسکریؑ نے امام زمانہؑ کی غیبت کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ غیبت کے دوران لوگ مختلف دھوکے اور غلط نظریات میں مبتلا ہوں گے۔



3. جاہلیت کی موت: امامؑ نے فرمایا کہ جو امام زمانہؑ کی معرفت نہیں رکھے گا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا، یعنی اس کی زندگی بے فائدہ ہوگی۔





---


اہم نکات:


1. غیبت کی پیش گوئی: معصومینؑ نے امام زمانہؑ کی غیبت کا ذکر کیا اور اس کی ضرورت اور حکمت کو سمجھایا۔



2. امام زمانہؑ کا ظہور: تمام معصومینؑ نے امام زمانہؑ کے ظہور کے وقت زمین پر عدل و انصاف کے قیام کی بشارت دی۔



3. ان کے پیروکاروں کا مقام: امام زمانہؑ کے پیروکاروں کا مقام بہت بلند ہے اور وہ اپنی ثابت قدمی کے باعث اللہ کی خاص رحمت کے مستحق ہوں گے۔



👈 جاری ہے


---


والسلام۔


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب


درس 9: امام نقی اور امام عسکری علیہم السلام کے شیعوں کو غیبت کے لیے تیار کرنے کے اقدامات


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


اس درس میں امام نقی علیہ السلام اور امام عسکری علیہ السلام کے دور میں غیبت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ معصومینؑ نے غیبت کی حالت میں شیعہ کمیونٹی کو اپنی رہنمائی سے جوڑے رکھنے اور امام کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے تاکہ لوگ غیبت کے دوران امام کے بغیر اپنی زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوں۔



---


1. غیبت کا بیان:


پہلا اقدام جو امام نقیؑ اور امام عسکریؑ نے کیا وہ غیبت کا پیشگی اعلان تھا۔ امام علیؑ سے لے کر امام حسن عسکریؑ تک تمام معصومینؑ نے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کا ذکر کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غیبت کوئی اچانک یا غیر متوقع واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طے شدہ حقیقت تھی جس کی تیاری اماموں کے دور سے ہی کی گئی۔



---


2. امام نقیؑ اور امام عسکریؑ کا عوام سے کم رابطہ:


امام نقیؑ کے دور میں اور اس کے بعد کے ادوار میں اماموں کا عوام سے رابطہ بہت کم ہو گیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے معصومینؑ پر ہونے والی سختیاں تھیں۔ امام نقیؑ کے دور میں اکثر اماموں کا عوامی طور پر سامنے آنا یا ملاقات کرنا ناممکن ہو چکا تھا۔


امام علیؑ کے بعد کے امام زیادہ تر نظر بند رہے اور ان کا عوامی طور پر آنا جانا بند ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ حکومت کی نگرانی اور ظلم تھا۔ اسی وجہ سے امام نقیؑ بھی اپنے محبین سے کم ملتے تھے اور عام لوگوں سے اپنے تعلقات کو محدود کر لیا تھا۔


امام عسکریؑ کے دور میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں تھی۔ امام عسکریؑ بھی پردے کے پیچھے ہی بات کرتے تھے اور عوام میں کم ہی ظاہر ہوتے تھے۔ اس دور میں اماموں کی ملاقاتوں کا احوال زیادہ تر پردے کے پیچھے ہوتا تھا، جب امام محل سے باہر نکلتے تو منظر عام پر آتے تھے۔



یہ تمام اقدامات اس بات کی تیاری کے طور پر کیے گئے تاکہ لوگ امام کی غیبت کی عادت ڈالیں اور غیبت کے دوران امام کے بغیر اپنی روحانیت اور دینی اصولوں کی پیروی کرنا سیکھیں۔



---


3. انجمن وکالت:


اماموں نے غیبت کے دوران شیعوں کی رہنمائی کے لیے "انجمن وکالت" کی تشکیل کی۔ یہ ایک ضروری اقدام تھا تاکہ شیعہ لوگ دین اور امام کے مسائل کے لیے کسی شخص سے رجوع کر سکیں جب امام خود ان سے رابطہ نہیں رکھ سکتے تھے۔


امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے دور میں جب اسلام کا سلطنت دور دراز تک پھیل چکا تھا، تو انجمن وکالت ایک نہایت اہم ضرورت بن گئی تھی۔ اس وقت لوگ دین کے مسائل اور مالی معاملات میں امامؑ کی رہنمائی کے محتاج تھے، لیکن تمام لوگوں کا مدینہ میں آنا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے اماموں نے مختلف شہروں میں اپنے وکیل مقرر کیے جو لوگوں کے سوالات کا جواب امام سے حاصل کرتے اور لوگوں تک پہنچاتے تھے۔


وکیل کا کام تھا کہ وہ امامؑ کے حکم کے مطابق لوگوں کے مسائل حل کرے، ان کے لیے فتاویٰ جاری کرے اور امامؑ کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچائے۔



یہ وکیلوں کا نظام امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے دوران فقہاء کی شکل میں سامنے آیا، اور آج بھی شیعہ مسلمان اپنے دینی مسائل کے حل کے لیے فقہاء سے رجوع کرتے ہیں، جیسے پہلے امامؑ کے وکیلوں سے رجوع کیا جاتا تھا۔



---


4. امام نقیؑ اور امام عسکریؑ کی وکالت کا تعین:


امام نقیؑ اور امام عسکریؑ دونوں نے اپنے وکلا کی اہمیت کو واضح کیا اور اس بات کا تعین کیا کہ غیبت کے دوران لوگ کس سے رابطہ کریں گے۔


احمد بن اسحاق، جو قم کے خاص شیعہ تھے، ایک دن امام نقیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا: "اگر میں یہاں ہوں اور امامؑ سے ملاقات نہ کر سکوں تو مجھے کس سے رجوع کرنا چاہیے؟"


امام نقیؑ نے فرمایا: "ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) میرے مورد اعتماد اور اطمینان والے وکیل ہیں۔ جو کچھ بھی وہ کہیں گے، وہ میری طرف سے ہوگا۔"


جب امام نقیؑ کا انتقال ہوگیا تو احمد بن اسحاق نے وہی سوال امام عسکریؑ سے کیا اور امام عسکریؑ نے بھی یہی جواب دیا: "ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) میرے مورد اعتماد و اطمینان ہیں، اور ان کا بیٹا محمد بھی امام مہدیؑ کے وکیل ہوں گے۔"



اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام نقیؑ اور امام عسکریؑ نے اپنے وکیلوں کا انتخاب اور ان کی اہمیت کو واضح کیا تاکہ شیعہ عوام غیبت کے دوران بھی صحیح رہنمائی حاصل کر سکیں۔



---


5. مالی امور اور وکالت:


اماموں نے مالی معاملات کے حوالے سے بھی وکیلوں کو ذمہ داری دی۔ شیخ طوسیؒ نے غیبت طوسیؒ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جس میں امام عسکریؑ نے عثمان بن سعید عمری کے ذریعے یمن کے شیعوں سے مال وصول کیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کام سے عثمان بن سعید کی اہمیت اور احترام بڑھ گیا ہے۔


امام عسکریؑ نے فرمایا: "جی ہاں، عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں، اور ان کا بیٹا محمد بھی امام مہدیؑ کے وکیل ہوں گے۔"


اس بات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام عسکریؑ نے مالی امور کو بھی اپنے وکیلوں کے سپرد کیا اور اس طرح غیبت کے دوران امام کے کاموں کو جاری رکھنے کے لیے ایک نظام قائم کیا۔



---👈 جاری ہے


والسلام۔


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب


درس 10: نائب خاص کا فلسفہ، غیبت صغریٰ اور کبریٰ میں بنیادی فرق، تاریخی اعتبار سے غیبت کی وجوہات


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


اس درس میں غیبت کے مختلف مراحل کی وضاحت کی گئی ہے، خاص طور پر غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کے درمیان فرق اور غیبت کی وجوہات پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔



---


غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ میں بنیادی فرق:


غیبت صغریٰ:


1. نائبین خاص کا کردار: امام حسن عسکریؑ نے اپنی زندگی میں ہی غیبت کے دوران لوگوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کے لیے نائبین خاص مقرر کیے تھے۔


جناب عثمان بن سعید


جناب محمد بن عثمان



ان نائبین کا کام امام زمانہؑ کے ساتھ لوگوں کا رابطہ قائم رکھنا تھا۔ یہ نائبین امامؑ کے پیغامات لوگوں تک پہنچاتے، ان کے سوالات امامؑ تک پہنچاتے اور جواب لے کر دیتے تھے۔



2. مالی معاملات: نائبین خاص لوگوں سے مالی امور وصول کرتے اور امامؑ کے حکم سے ان پیسوں کو خرچ کرتے۔



3. ملاقات کا عمل: غیبت صغریٰ میں امامؑ سے ملاقات بھی ممکن تھی، اگر کوئی شخص امامؑ سے ملنے کی خواہش رکھتا تو نائبین خاص ان کی ملاقات کراتے تھے۔




غیبت کبریٰ:


1. نائب عام کا کردار: غیبت کبریٰ میں نائبین خاص کا کوئی کردار نہیں رہا۔ امامؑ نے عمومی طور پر علماء کو اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ اس وقت ہر فقیہ سے رجوع کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ مندرجہ ذیل شرائط پر پورا اُترے:


عادل ہو۔


دین کا محافظ ہو۔


اپنی خواہشات کے خلاف عمل کرتا ہو۔


امامؑ کا مطیع ہو۔




2. خط و کتابت کی جگہ عریضہ نویسی: غیبت کبریٰ میں عریضہ نویسی کا آغاز ہوا، جو نہ صرف نیمہ شعبان میں بلکہ کسی بھی وقت امامؑ کو اپنے پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں۔ آج کے دور میں یہ پیغامات ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر میں منتقل ہوتے ہیں اور امام زمانہؑ تک پہنچ جاتے ہیں۔



3. ملاقات کا امکان: غیبت کبریٰ میں کوئی شخص امامؑ سے براہ راست ملاقات نہیں کرا سکتا۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا (کذاب) ہے۔ امامؑ جب چاہیں تو کسی سے ملاقات کر سکتے ہیں، لیکن اس کا انحصار امامؑ کی مرضی پر ہوتا ہے۔




غیبت صغریٰ میں نائبین خاص نے بہترین کردار ادا کیا:


امام حسن عسکریؑ کی جانب سے پہلے دو نائبین خاص مقرر کیے گئے، اور آخرکار امام زمانہؑ نے خود دو نائبین خاص منتخب کیے:


جناب حسین بن روح نو بختی


جناب علی بن محمد سمری




جناب علی بن محمد سمری کی زندگی کے آخری ایام میں امام زمانہؑ کی توقیع موصول ہوئی جس میں امامؑ نے غیبت کبریٰ کا اعلان کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ وہ نائب خاص ہے تو وہ کذاب ہوگا۔



---


غیبت کی ضرورت اور اس کی وجوہات:


بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ غیبت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ خدا نے امامؑ کو لوگوں کے درمیان ظاہر کیوں نہیں رکھا؟ اس سوال کا جواب تین نکات میں دیا جا سکتا ہے:


1. تاریخی اعتبار سے غیبت کی وجوہات:


تاریخ میں ہمیشہ حق و باطل کی جنگ جاری رہی ہے۔ رسولؐ اللہ نے اپنی زندگی میں کتنے مظالم سہے، ہجرت کی، جنگیں لڑیں اور آخرکار ایک الہیٰ حکومت قائم کی۔ لیکن اس کے بعد منافقین اور ظالم حکمرانوں نے اس حکومت کو کمزور کیا اور حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔


اماموں کے دور میں بھی ظالم حکمرانوں نے آئمہؑ کو قتل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنی شیطانی حکومتیں قائم رکھ سکیں۔ امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکمران اماموں کے وجود کو برداشت نہیں کرتے تھے کیونکہ امام حق کی آواز تھے۔


امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے شہادتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ظالم حکمران ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالتے تھے تاکہ وہ اپنی حکومت کو برقرار رکھ سکیں۔




2. غیبت کی حکمت:


امام زمانہؑ کی غیبت اس بات کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امام کی جان کی حفاظت کی اور ان کی زندگی کو اس وقت تک چھپایا جب تک وہ دنیا کے حالات کے مطابق لوگوں کو اپنی الہیٰ حکومت قائم کرنے کے لیے تیار کر نہ لیں۔


امام کا غیبت میں رہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امام ایک مخصوص وقت تک غیبت میں رہ کر دنیا کے حالات کو دیکھ رہے ہیں اور جب وقت آئے گا تو وہ ظہور کریں گے۔






---

👈 جاری ہے

والسلام۔


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے اسباب


درس 11: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب، پہلا سبب غیبت سر و راز الہی ہے


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


اس درس میں امام زمانہؑ کی غیبت کے اسباب پر بات کی گئی ہے، خاص طور پر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ غیبت ایک الہیٰ راز ہے جس کی حکمت اور وجہ کا فہم انسان کے لیے ممکن نہیں۔ یہ غیبت ایک خدا کے راز کی مانند ہے جسے صرف اللہ کی حکمت کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔



---


غیبت کا سر و راز:


کمال الدین کی پہلی روایت:


ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:


"علی بن ابی طالب میرے بعد امام امت اور ان پر خلیفہ ہوں گے، اور وہ قائم ہوں گے جن کا انتظار کیا جائے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔ وہ میرے نسل سے ہوں گے۔ اور قسم ہے اس خدا کی جس نے مجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ ان کی غیبت کے دوران جو لوگ اپنے عقیدے میں ثابت قدم رہیں گے، وہ کبریت احمر سے بھی زیادہ کامیاب ہوں گے۔"


اس کے بعد جابر بن عبد اللہ انصاری نے سوال کیا: "وہ قائم آپ کی نسل سے ہوں گے، کیا وہ غائب ہوں گے؟" تو آپؐ نے فرمایا: "خدا کی قسم، ایسا ہی ہے۔ اور اس غیبت میں مومنین پہچانے جائیں گے اور کفار نابود ہوں گے۔"


یہ حدیث بہت اہم ہے کیونکہ اس میں رسول اللہؐ نے امام زمانہؑ کی غیبت کو ایک الہیٰ سر اور راز قرار دیا۔ اس میں جو بات زیرِ بحث آئی ہے وہ یہ ہے کہ غیبت کا یہ عمل خدا کے حکمت بھرے فیصلے کا حصہ ہے، اور جو لوگ اس دوران اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہیں گے، وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔


اہم نکتہ: یہ حدیث غیبت کی حکمت کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ غیبت ایک ایسا امر ہے جو انسان کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس میں شک کرنا کفر کے مترادف ہے، یعنی یہ غیبت ایک قطعی اور قطعی حقیقت ہے، جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔



---


کمال الدین کی دوسری روایت:


عبد اللہ فضل ہاشمی سے ایک اور روایت نقل کی گئی ہے جس میں امام صادقؑ نے فرمایا:


"صاحبِ امر کے لیے غیبت ضروری ہوگی، جس میں ہر باطل پرست شک کرے گا۔" پھر انہوں نے کہا: "اس غیبت کی کیا وجہ ہے؟" امامؑ نے فرمایا: "یہ غیبت کی حکمت وہی ہے جو اس سے پہلے کی الہیٰ حجتوں کی غیبت میں تھی، اور ان کی غیبت کی حکمت ان کے ظہور کے بعد کھل کر سامنے آ گئی۔"


اس کے بعد امامؑ نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا:


"جیسے حضرت خضرؑ کے بعض اعمال— جیسے کشتی کا توڑنا، بچے کا قتل کرنا، اور دیوار کی تعمیر— حضرت موسیٰؑ کو ان کی حکمت سمجھ نہیں آئی تھی، لیکن جب ان اعمال کا نتیجہ سامنے آیا، تب ان کی حکمت کا پتا چلا۔"


یہاں امامؑ نے اس بات کو واضح کیا کہ اللہ کے فیصلے ہمیشہ حکمت سے بھرپور ہوتے ہیں، اور ہمیں اللہ کی حکمت پر ایمان رکھنا چاہیے، چاہے ہمیں اس کی تفصیل اور وجہ کا علم نہ ہو۔


اہم نکتہ: اس روایت میں امام صادقؑ نے غیبت کی حکمت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰؑ نے حضرت خضرؑ کے اعمال کی حکمت کو فوراً نہیں سمجھا تھا، ویسا ہی انسان کو امام زمانہؑ کی غیبت کی حکمت کو فوری طور پر سمجھنے میں دشواری ہو سکتی ہے، لیکن جب امام زمانہؑ کا ظہور ہوگا، تب اس غیبت کی حکمت واضح ہوگی۔



---


خلاصہ:


غیبت امام زمانہؑ کا ایک الہیٰ سر اور راز ہے جس کی حکمت اور وجہ کا فہم انسان کے لیے مکمل طور پر ممکن نہیں۔ جیسے حضرت خضرؑ کے اعمال کی حکمت حضرت موسیٰؑ پر واضح نہیں ہوئی تھی، ویسا ہی امام زمانہؑ کی غیبت کی حکمت بھی ہمیں اس وقت ہی سمجھ آئے گی جب امامؑ خود ظہور فرمائیں گے۔ اس دوران جو لوگ ثابت قدم رہیں گے، وہ ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے اور ان کی وفاداری کا انعام انہیں ظہور کے وقت ملے گا۔


👈 جاری ہے

---


والسلام 🤲🏻


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہؑ کی غیبت کے اسباب


درس 12: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب، دوسرا سبب: جان کی حفاظت، امام صادقؑ کی روایت


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---



اس درس میں امام زمانہؑ کی غیبت کے اسباب پر تفصیل سے بات کی گئی ہے، خاص طور پر اس غیبت کی دوسری اہم وجہ پر، جو امامؑ کی جان کی حفاظت سے متعلق ہے۔ مختلف احادیث اور روایات میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ امام زمانہؑ کی غیبت کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی کو ظالم حکمرانوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ غیبت امامؑ کی جان کی حفاظت کے لیے ضروری تھی، جیسا کہ تاریخ میں انبیاء کی زندگیوں سے بھی یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ نے اپنی مشیت سے ان کی جان بچانے کے لیے اسی طرح کے اقدامات کیے۔



---


غیبت کا دوسرا سبب: جان کی حفاظت:


احادیث اور روایات کی روشنی میں امام زمانہؑ کی غیبت کی دوسری وجہ امامؑ کی جان کی حفاظت ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق جب کسی بھی عظیم شخصیت کی زندگی کو خطرہ درپیش ہو، تو اللہ اپنی حکمت کے تحت اسے پوشیدہ کردیتا ہے تاکہ اس کی حفاظت کی جا سکے۔ امام زمانہؑ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ کئی روایات میں ذکر ہے کہ امامؑ کی غیبت کا مقصد ان کی جان کی حفاظت ہے، کیونکہ اس وقت کے ظالم حکمران ان کی زندگی کے دشمن بن چکے تھے اور ان کے قتل کی سازشیں ہو رہی تھیں۔


انبیاء کی سنت:


یہ غیبت کی حکمت کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک عمومی اصول ہے جو تاریخ میں بار بار دیکھا گیا ہے۔ انبیاء کی زندگی میں بھی جب ان کی جان کو خطرہ آیا، اللہ نے انہیں اس خطرے سے بچانے کے لیے غیبت یا روپوشی کا حکم دیا۔


1. حضرت موسیٰؑ کی مثال: جب حضرت موسیٰؑ کی جان کو فرعون سے خطرہ لاحق ہوا اور فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے تمام بچوں کو قتل کیا جائے، تو اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو بچانے کے لیے انہیں بچپن میں ہی ایک صندوق میں ڈالا اور دریا کے راستے مصر کے محل میں پہنچا دیا تاکہ ان کی زندگی محفوظ رہے۔



2. حضرت یوسفؑ کی مثال: حضرت یوسفؑ کو اپنے بھائیوں کے حسد کا سامنا تھا جو انہیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اللہ نے حضرت یوسفؑ کو بچانے کے لیے انہیں کنویں میں ڈالا اور پھر ایک تجارتی قافلے کے ذریعے مصر بھیج دیا، جہاں ان کی زندگی محفوظ ہوئی۔



3. رسول اللہؐ کی مثال: جب مکہ مکرمہ میں رسول اللہؐ کی جان کو قریش کے ظلم سے خطرہ ہوا، تو اللہ نے آپؐ کو تین دن کے لیے غارِ ثور میں چھپایا تاکہ ان کی زندگی محفوظ رہے اور دشمن آپؐ کا پیچھا نہ کر سکے۔




یہ تمام واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ جب اللہ کے منتخب بندوں کی جان کو خطرہ درپیش ہوتا ہے، تو اللہ اپنے خاص حکم سے ان کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں غیبت یا پوشیدگی میں رکھتا ہے۔



---


ظالم حکمرانوں کا خطرہ:


اسی طرح امام زمانہؑ کی غیبت کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ ان کی زندگی کو بنی عباس کے ظالم حکمرانوں سے خطرہ تھا۔ امام صادقؑ نے اس بات کو واضح کیا کہ جب ظالم حکمرانوں کو یہ علم ہو گیا کہ امام زمانہؑ بارہویں امام ہیں اور ان کی حکومت کا خاتمہ امامؑ کے ہاتھوں ہوگا، تو انہوں نے امامؑ کو قتل کرنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ امام صادقؑ نے اس بات کو بڑے انداز میں بیان کیا کہ "اللہ تعالی نے اپنے محبوب بندے کی حفاظت کے لیے انہیں غیبت میں رکھا تاکہ دشمن کی سازشوں سے بچ سکیں۔"


معجزات کے بجائے غیبت کا طریقہ:


کچھ لوگوں کا یہ سوال ہوتا ہے کہ اللہ تو قادر مطلق ہے، پھر کیوں نہ امام زمانہؑ کی حفاظت کے لیے معجزات کا سہارا لیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ معجزات کا استعمال اس طرح کا نظام قائم کرتا ہے جہاں لوگ صرف معجزات کے ذریعے ایمان لاتے ہیں اور ان کی تقویٰ اور عبادات میں کمی آ جاتی ہے۔ اللہ نے اپنی حکمت سے یہ فیصلہ کیا کہ امامؑ کی غیبت میں ہی ان کی حفاظت کی جائے، تاکہ لوگوں کو آزمائش کا سامنا ہو، اور وہ اپنی دینی ذمہ داریوں کو سمجھ کر عبادت اور تقویٰ کے راستے پر چلیں۔



---


امام صادقؑ کی روایت:


سدیر صیرفی نے امام صادقؑ کی مجلس میں شرکت کی اور ایک موقع پر امامؑ کو غمگین حالت میں دیکھا۔ امام صادقؑ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آپؑ روتے ہوئے فرما رہے تھے:


"ہمارے قائم کی ولادت، ان کی غیبت، اور ان کی عمر کی طوالت، یہ سب مسائل میرے لیے شدید غم کا باعث ہیں۔ ان کی غیبت کی طوالت اور مومنین کے دلوں میں پیدا ہونے والے شک و شبہات، یہ سب اللہ کی تقدیر کے تحت ہیں۔"


امام صادقؑ نے یہ بھی فرمایا کہ امام زمانہؑ کی ولادت، غیبت اور عمر کی طوالت کی طرح تین خصوصیات پہلے بھی تین پیغمبروں میں دیکھنے کو ملیں:


1. حضرت موسیٰؑ کی ولادت: حضرت موسیٰؑ کی ولادت میں فرعون کو خطرہ تھا کہ ان کے ہاتھوں اس کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اس نے حضرت موسیٰؑ کو قتل کرنے کے لیے منصوبہ بنایا تھا، مگر اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو بچایا۔



2. حضرت عیسیٰؑ کی غیبت: حضرت عیسیٰؑ کی غیبت کے دوران بھی لوگوں نے شک کیا کہ آیا وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے یا نہیں، اور ان کی غیبت بھی اللہ کی مشیت کے تحت تھی۔



3. حضرت نوحؑ کی تاخیر: حضرت نوحؑ کے قوم کو نبی کی دعوت دیر تک نہ آئی اور وہ ان کی تاخیر پر شک کرتے تھے، لیکن اللہ کے حکم کے مطابق وہ مدت پوری ہوئی۔





---


خلاصہ:


امام زمانہؑ کی غیبت کا ایک اہم سبب ان کی جان کی حفاظت ہے۔ یہ غیبت اللہ کی حکمت کے تحت ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ انبیاء کی زندگیوں میں بھی جب ان کی جان کو خطرہ آیا، اللہ نے انہیں غیبت یا روپوشی میں رکھا تاکہ ان کی حفاظت کی جا سکے۔ امام زمانہؑ کی غیبت میں بھی یہی حکمت موجود ہے، تاکہ وہ ظالم حکمرانوں سے بچ سکیں اور لوگ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہیں۔



---

👈 جاری ہے

والسلام 🌹


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم ص koل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**

کتابچہ 6: امام زمانہؑ کی غیبت کے اسباب


درس 13: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب، دوسرا سبب جان کی حفاظت پر مزید احادیث، تیسرا سبب: گذشتہ انبیاءؑ کی سنت کا امام قائمؑ میں جاری ہونا


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


تفصیل:


اس درس میں امام زمانہؑ کی غیبت کے اسباب پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے، جن میں سے اہم ترین اسباب کی وضاحت کی گئی ہے:


1. امام زمانہؑ کی جان کی حفاظت:


احادیث میں غیبت کا فلسفہ: امام زمانہؑ کی غیبت کی سب سے پہلی اور اہم وجہ ان کی جان کی حفاظت ہے۔ مختلف احادیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ امام زمانہؑ غیبت میں رہیں گے کیونکہ ان کی جان کو قتل کرنے کا خطرہ ہے۔


امام جعفر صادقؑ سے روایت: امام صادقؑ نے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

"وہ جوان (امام زمانہؑ) غیبت میں ہوگا کیونکہ اسے خوف ہوگا کہ اسے قتل کیا جائے گا۔"


زرارہ امام محمد باقرؑ سے روایت کرتے ہیں: زرارہ کہتے ہیں کہ امام باقرؑ نے فرمایا:

"اس جوان کے لیے اپنے ظہور سے پہلے ایک غیبت ہے۔" زرارہ نے جب سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوگا، امامؑ نے فرمایا کہ وہ خوف کھائیں گے۔ امامؑ نے اپنے شکم کی طرف اشارہ کیا، یعنی امام زمانہؑ اپنی جان کی حفاظت کے لیے غیبت میں رہیں گے۔



قتل کا خوف اور اس کا فلسفہ: غیبت کی وجہ امامؑ کے قتل کا خوف بیان کیا گیا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ امام زمانہؑ اللہ کی راہ میں جان دینے سے ڈرتے ہیں۔ بلکہ یہ احتیاط کی بات ہے، جیسے کہ رسول اللہؐ نے ہجرت کے دوران غار ثور میں تین دن کی غیبت اختیار کی تھی جب کفار آپؐ کا پیچھا کر رہے تھے۔


نبیؐ اور امامؑ اللہ کی راہ میں جان دینے سے نہیں ڈرتے، لیکن جب اللہ کا حکم ہو کہ ان کی جان باقی رہنی چاہیے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل کریں، تو اس وقت وہ اپنی جان کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ امامؑ کی زندگی محفوظ رہے تاکہ اللہ کی طرف سے دی گئی ذمہ داریاں پوری ہوں۔


شیخ طوسی کی تحریر: شیخ طوسیؒ اپنی کتاب "غیبت" میں لکھتے ہیں کہ غیبت کا فلسفہ اور سبب وہی خوف ہے جو امامؑ کو دشمنوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے لاحق ہے۔ اس خوف کی وجہ سے امامؑ غیبت میں ہیں، جبکہ اس کے اثرات اور نتائج جیسے شیعوں کا امتحان وغیرہ غیبت کے نتیجے ہیں، نہ کہ اس کا فلسفہ۔



---


2. گذشتہ انبیاءؑ کی سنت کا امام زمانہؑ میں جاری ہونا:


انبیاءؑ کی غیبت کی تاریخ: امام زمانہؑ کی غیبت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے کئی انبیاءؑ نے غیبت اختیار کی۔ انبیاءؑ کی غیبت مختلف وجوہات کی بناء پر ہوئی، خاص طور پر ان کی جان کو دشمنوں سے خطرہ تھا۔ انبیاءؑ کی غیبت کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں:


1. حضرت عیسیٰؑ کی غیبت:

حضرت عیسیٰؑ کی غیبت سب سے طویل تھی، اور اس کی وجہ ان کی جان کو بچانا اور اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا تھا۔ حضرت عیسیٰؑ کی غیبت کی طرح امام زمانہؑ کی غیبت بھی ایک طویل غیبت ہو گی، اور یہ ان کی جان کی حفاظت کے لیے ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو مکمل کر سکیں۔



2. حضرت موسیٰؑ کی غیبت:

حضرت موسیٰؑ کو جب فرعون سے خطرہ تھا تو اللہ نے انہیں غیبت میں رکھا تاکہ ان کی جان محفوظ رہے۔ اس سے امام زمانہؑ کی غیبت کا فلسفہ واضح ہوتا ہے کہ یہ غیبت صرف ان کی جان کی حفاظت کے لیے ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی زندگیوں میں تھا۔




امام زمانہؑ کا ظہور: حضرت عیسیٰؑ کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کی ذمہ داریاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور وہ آخر الزمان میں دوبارہ نازل ہوں گے۔ اسی طرح امام زمانہؑ بھی حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ مل کر اپنی باقی ماندہ ذمہ داریاں مکمل کریں گے۔ امام زمانہؑ کی غیبت کی طرح حضرت عیسیٰؑ کی غیبت بھی ان کے پیغام کی تکمیل اور اللہ کے حکم کی تکمیل کے لیے تھی۔


سدیر کی روایت: سدیر، جو امام جعفر صادقؑ کے مخلص اصحاب میں سے تھے، اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ امام صادقؑ نے فرمایا:

"ہمارے قائمؑ کے لیے ایک غیبت ہے، جس کی مدت طولانی ہوگی۔"

سدیر نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوگا؟ امام صادقؑ نے جواب دیا:

"اللہ چاہتا ہے کہ انبیاءؑ کی سنتیں امام زمانہؑ کی غیبت میں جاری ہوں۔" اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام زمانہؑ کی غیبت میں انبیاءؑ کی غیبت کی سنتیں جاری ہوں گی۔



---


خلاصہ:


1. جان کی حفاظت: امام زمانہؑ کی غیبت کا سب سے بڑا سبب ان کی جان کی حفاظت ہے۔ یہ غیبت دشمنوں کے ہاتھوں ان کے قتل ہونے کے خوف کی وجہ سے ہے، جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت موسیٰؑ کی زندگی میں تھا۔



2. انبیاءؑ کی سنت: امام زمانہؑ کی غیبت میں گذشتہ انبیاءؑ کی غیبت کی سنت جاری ہے۔ حضرت عیسیٰؑ اور دیگر انبیاءؑ کی غیبتوں کی مانند امام زمانہؑ کی غیبت بھی اللہ کے پیغام کی تکمیل اور دین کے تمام اصولوں کی حفاظت کے لیے ہے۔




اس طرح امام زمانہؑ کی غیبت کا مقصد نہ صرف ان کی جان کی حفاظت ہے، بلکہ اللہ کی مشیت کے مطابق انبیاءؑ کی غیبت کی سنت کو جاری رکھنا بھی ہے تاکہ ان کا ظہور اور ان کی قیادت انسانی تاریخ کے ایک مخصوص وقت پر مکمل ہو سکے۔

👈 جاری ہے

والسلام 🌹



*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**

کتابچہ 6 📚


امام زمان عج کی غیبت کے اسباب 🕋


درس 14: احادیث و روایات کی رو سے اسباب

*#احادیث کی رو سے اسباب غیبت(4)*

 غیبت، امام زمان عج، ظالم حاکم کی بیعت نہیں چاہتے، اللہ کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ اور لوگوں کا امتحان ⏳


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎓



---


✨ خلاصہ: ✨


← امام عج ظالم لوگوں کی بیعت نہیں چاہتے: 🚫


پہلی گفتگو میں تین سبب بیان ہوچکے ہیں، اور آج ان اسباب کو مزید تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ حضرت امام محمد حسین؀ کے بعد، آئمہ معصومین؀ کا زمانہ سخت ترین ظلم و ستم کا دور تھا۔ ان دوروں میں بیشتر حکمران ظالم اور جابر تھے۔ جب بھی ان کو موقع ملتا، وہ معصومین؀ پر ظلم کرتے، یہاں تک کہ بعض اوقات تو ان کا قتل بھی کر دیتے تھے۔ امام حسین؀ کے قیام کو چھوڑ کر تمام اماموں نے جابرانہ حکومتوں کے خلاف کھل کر قیام نہیں کیا، کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم سے خاموشی اختیار کی۔


یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آئمہ معصومین؀ کے مقابلے میں ایک بڑی رکاوٹ ظالم حکومتوں کی شکل میں موجود تھی، جو دین کے حقیقی رہبروں کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتی تھیں۔ اس کے نتیجے میں یہ حکومتیں ہمیشہ اس کوشش میں رہتی تھیں کہ دین کے رہبروں کو ختم کر دیں اور اپنی تسلط پسندی کو قائم رکھیں۔


← آئمہ معصومین؀ کی خاموشی اور بیعت: 🤐


آئمہ معصومین؀ نے بعض اوقات اللہ کے حکم کے مطابق، اور دین کی بقا کے لیے خاموشی اختیار کی اور ظالم حکومتوں کی بیعت کرنے پر مجبور ہوئے۔ "بیعت" کا مطلب یہ تھا کہ ان اماموں؀ کو حکومت کے خلاف قیام کرنے کی اجازت نہیں تھی اور وہ اس کے حکم کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے تھے۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے تھا تاکہ دین کی بقا اور اسلام کی اصل شکل محفوظ رہ سکے۔



---


🌼 ابو بصیر کی روایت:


ابو بصیر نے امام صادق؀ سے نقل کیا ہے:


" صاحب الامر کی ولادت خلق خدا پر پنہاں ہوگی کہ جب وہ ظہور کریں گے تو ان کی گردن پر کوئی بیعت نہ ہوگی..." 😯


اس کا مطلب ہے کہ امام عج کا ظہور اس وقت ہوگا جب کوئی ظالم حکمران ان پر قابو نہ پا سکے گا اور ان کے ہاتھ میں بیعت کی کوئی طاقت نہیں ہوگی۔ ان کا ظہور ایک خاص وقت پر ہوگا جب دین کا حقیقی رہبر بر سر اقتدار آ جائے گا۔



---


🌸 اللہ کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ: ⚠️


← امام محمد باقر؀ سے روایت:


"جب خدا کسی قوم میں ہماری ہمراہی اور ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو وہ ہم کو ان میں سے اٹھا لیتا ہے..." 👑


یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب کسی قوم کا رویہ اللہ کے ساتھ درست نہیں ہوتا اور وہ دین کی صحیح رہنمائی سے محروم ہو جاتی ہے، تو اللہ اپنی ولایت و رہنمائی سے ان قوموں کو بے بہرہ کر دیتا ہے اور وہ قوم اپنے رہبروں سے محروم ہو جاتی ہے۔



---


🌼 لوگوں کا امتحان: 🧐


← امام محمد باقر؀ کی حدیث:


"اللہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے بندوں کا اسی طرح امتحان لے، اور اس میں اہل باطل تردید رکھیں گے۔" 🔍


امام محمد باقر؀ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں کو اس طرح امتحان میں ڈالتا ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو ثابت کر سکے جو سچائی پر ہیں اور جو باطل پر ہیں۔ امامؑ کا غیبت میں رہنا ایک ایسا امتحان ہے جو اہل ایمان کو سچائی کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اہل باطل کے لیے تردید کا باعث بنتا ہے۔



---


✨ امام موسیٰ کاظم؀ سے روایت:


"ساتویں نسل سے پانچویں امام غایب ہوجائیں گے تو دین کے بارے میں اللہ کی پناہ میں چلے جاؤ، کہیں کوئی تمہیں اپنے صحیح عقیدے سے نہ پھیر دے، اے فرزند!! صاحب الامر کے لیے غیبت ہے۔ وہ لوگ جو ان پر ایمان رکھتے ہوں گے، وہ ان کی غیبت طولانی ہونے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے اور عقیدے سے پھر جائیں گے۔ ان کی غیبت امتحان ہے جو اللہ کی طرف سے ہے، جو اپنے بندوں کو اس کے ذریعے سے امتحان کرنا چاہتا ہے..." ⚖️


یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ امام عج کی غیبت اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں اہل ایمان کی صبر، ثابت قدمی، اور عقیدے کی پختگی کو جانچا جائے گا۔ غیبت کا عرصہ طویل ہوگا، اور اس دوران بعض لوگ ایمان میں کمزوری کا شکار ہو جائیں گے، لیکن جو لوگ سچے ایمان پر قائم رہیں گے، وہ ان شاء اللہ امامؑ کے ظہور کے وقت کامیاب ہوں گے۔



---


👈 جاری ہے... ⏳


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍


🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆 اتوار 12 جمادی الثانی    1446( 15 دسمبر  ، 2024)**


کتابچہ 6: امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب


درس 15: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹



---


خلاصہ:


غیبت امام زمانہ عج پر اہم سوالات کے جوابات:



---


سوال 1:


"کیوں امام زمانہؑ غیبت میں ہیں؟ اگر وہ لوگوں کے درمیان ہوتے تو بہتر ہدایت نہ دیتے؟ اور اللہ انہیں کیوں کفار کے شر سے نہیں بچا سکتا؟"


جواب:


یہ سوال اکثر ذہنوں میں آتا ہے کہ اگر امام زمانہؑ لوگوں کے درمیان ظاہر ہوتے اور ان کی رہنمائی کرتے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا؟ اور اگر اللہ قادر ہے تو وہ امامؑ کو کفار کے شر سے کیوں نہیں بچا سکتا؟


اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر امام زمانہؑ ظاہراً لوگوں کے درمیان ہوتے، تو ان کی ہدایت کا عمل یقینی طور پر زیادہ اثر انگیز ہوتا۔ لیکن اس وقت امامؑ کے دشمنوں کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دشمن انہیں اپنا رہبر تسلیم کرنے دیتے؟ کیا وہ امامؑ کو زندہ رہنے دیتے اور ان کی رہنمائی کا موقع دیتے؟


متواتر حدیث:

رسول اللہؐ اور آئمہؑ سے ایک متواتر حدیث ہے کہ جب امام مہدیؑ ظہور کریں گے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور ظلم و فساد کا خاتمہ کریں گے۔ اس دوران امامؑ کو دو قسم کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا:


1. وہ لوگ جو دنیا میں مظلوم ہیں اور امامؑ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کی نجات کے لیے کچھ کریں گے۔



2. وہ لوگ جو امامؑ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور انہیں کسی بھی حالت میں جینا نہیں دینا چاہتے۔




تاریخ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اللہ کی حجتوں اور انبیاءؑ کو ہمیشہ ظالموں نے شہید کیا ہے، حالانکہ اللہ ہمیشہ موجود تھا اور اس کا اختیار کامل تھا۔ اللہ کا یہ ارادہ ہے کہ دنیا کا نظام اختیار پر مبنی ہو، نہ کہ جبر پر۔ خدا نے انسانوں کو آزاد ارادہ دیا ہے کہ وہ خود اپنے اعمال سے جنت یا جہنم کا انتخاب کریں۔


اگر امامؑ ظاہراً موجود ہوتے تو وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتے، لیکن چونکہ ناصریں اور اذن الہیٰ کی موجودگی ضروری تھی، اور اس وقت وہ موجود نہیں تھے، اس لیے امامؑ کی غیبت ضروری تھی۔ غیبت میں رہ کر امامؑ لوگوں کو ان کے ظہور کے لیے تیاری کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، تاکہ جب امامؑ ظہور کریں، لوگ ان کی ہمراہی کے لیے تیار ہوں۔



---


سوال 2:


"کیا امام زمانہؑ کی غیبت ان کی معرفت نہ رکھنے پر دلیل اور عذر نہیں ہے؟ 'من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ' کی حدیث کی روشنی میں لوگ ایک غائب امام کی معرفت کیسے پیدا کریں گے؟"


جواب:


امامؑ کی غیبت، امامؑ کی معرفت حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ معرفت کے لیے ضروری نہیں کہ امامؑ کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھے یا ان کا دیدار کرے۔ امامؑ کی معرفت کا مفہوم ان کے نام، صفات، فضائل اور خصوصیات سے ہے۔ امامؑ کو اللہ تعالیٰ نے کس مقام پر فائز کیا ہے، اور وہ کس مقصد کے لیے غیبت میں ہیں، یہ سب اہم امور ہیں۔


ان امور کی معرفت حاصل کرنے کے لیے علمائے دین اور کتابوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ غیبت کے باوجود، انسان امامؑ کی سیرت، کردار اور ان کے پیغامات سے ان کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔


روایت: جناب اویس قرنی، جو یمن کے رہائشی تھے، پیغمبرؐ کے زمانہ میں زندہ تھے اور ان کی خواہش تھی کہ وہ پیغمبرؐ کا دیدار کریں۔ لیکن چونکہ ان کی والدہ بوڑھی تھیں اور ان کا خیال رکھتے تھے، اس لیے وہ پیغمبرؐ سے ملاقات نہیں کر سکے۔ باوجود اس کے، اویس قرنی نے پیغمبرؐ کی بہت زیادہ معرفت حاصل کی تھی۔ پیغمبرؐ نے بھی امیر المؤمنینؑ کو اویس قرنی کی تعریف اور ان کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی تھی۔


اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معرفت صرف ظاہری ملاقات تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیرت، کردار اور گفتار سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ امام زمانہؑ کی معرفت بھی اس طرح حاصل کی جا سکتی ہے۔



---


خلاصہ:


1. امام زمانہؑ کی غیبت کا مقصد صرف ان کی جان کی حفاظت نہیں، بلکہ اللہ کی حکمت کے مطابق لوگوں کو تیار کرنا ہے تاکہ جب امامؑ ظہور کریں، لوگ ان کے ساتھ ہوں اور ان کی رہنمائی کو سمجھیں۔



2. امامؑ کی غیبت میں ان کی معرفت حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ امامؑ کو شخصی طور پر دیکھا جائے، بلکہ ان کی سیرت، فضائل اور صفات کو سمجھا جائے۔ اس میں علمائے دین اور کتابوں سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔




والسلام 🌹


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

کتابچہ 6
امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب
درس 16: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب، کیا امام شہادت سے دوری اختیار کر رہے ہیں؟ نیابت کا کیا فلسفہ ہے؟
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

❤‍🔥❤‍🔥*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*❤‍🔥
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
❤‍🔥 اللهم صل على محمد وآل محمّد  ❤‍🔥❤‍🔥

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️* 
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

📆سوموار 🌹5  رجب❤‍🔥    1446( 6 جنوری  ، 2025)**

💦 خلاصہ:

اس درس میں امام زمانہ عج کی غیبت کے بارے میں دو اہم سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں:

1. امام زمانہ عج کیوں غیبت میں ہیں؟ کیا وہ شہادت سے دوری اختیار کر رہے ہیں؟ 🤔


2. نیابت کا فلسفہ کیا ہے؟ امام زمانہ عج کے نائبین کا کردار کیا ہے؟ 🤔




---

🌸 پہلا سوال: امام زمانہ عج شہادت سے کیوں دور ہیں؟

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ اللہ کے راستے میں شہادت بہت بڑی فضیلت ہے، اور امام زمانہ عج اگر ظاہر ہوتے اور غیبت نہ ہوتی تو وہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح اللہ کی راہ میں شہید ہو جاتے۔ تو سوال یہ ہے کہ امام کیوں غیبت میں رہ کر شہادت سے دور ہیں؟ 🤷‍♂️

جواب:
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جو اللہ کی راہ میں شہادت کو گلے لگاتا ہے، اس کا مقصد دینِ خدا کی تکمیل ہوتا ہے۔ انبیاء اور آئمہ کی آرزو ہمیشہ شہادت رہی ہے کیونکہ شہادت سے دین کا پیغام عام ہوتا ہے اور اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ 💭

لیکن، امام زمانہ عج کی حالت میں یہ حقیقت ہے کہ اگر امام شہید ہو جاتے تو اللہ کی جو خاص منصوبہ بندی ہے، وہ متاثر ہو جاتی۔ امام زمانہ عج کی زندگی کا مقصد وہ الہیٰ حکومت قائم کرنا ہے جس کے ذریعے عدل و انصاف کا قیام ہو۔ اگر امام شہید ہو جاتے تو ان کا یہ مقصد پورا نہیں ہو پاتا۔ 😔

اس طرح، امام کا غیبت میں رہنا اس بات کا ضامن ہے کہ ان کی زندگی کو اپنی تکمیل کی طرف لے جایا جائے، یعنی وہ اس وقت تک غیبت میں رہ کر اپنی قیادت کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں جب تک وہ اللہ کی مرضی کے مطابق اس مقصد کو مکمل نہیں کر لیتے۔ ✨

🌸 دوسرا سوال: نیابت کا فلسفہ کیا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ غیبت کے دوران امام کا نیابت کا فلسفہ کیا ہے؟ امام زمانہ عج کے نائبین کا کیا کردار ہے؟ 🤔

جواب:
امام زمانہ عج کی غیبت کا آغاز امام کے دسویں اور گیارھویں اماموں کے دور سے ہو چکا تھا۔ امام نقی علیہ السلام اور امام حسن عسگری علیہ السلام کی زندگیوں میں بھی یہ مشکل پیش آئی کہ وہ ہمیشہ نظر بند رہے۔ عباسی حکومت کا بہت سخت کنٹرول تھا اور ان کے شیعوں سے ملاقات کرنے پر بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان کا گھر قید خانہ تھا اور وہ قید خانوں میں رہتے تھے۔ 🏰

اس دوران اماموں نے اپنے نائبین کو منتخب کیا تاکہ وہ شیعوں کے مسائل کا حل کریں اور اماموں کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچائیں۔ نائبین کے ذریعے امام اپنے شیعوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھتے تھے۔ 🔗

امام زمانہ عج کی غیبت کے تین اہم حصے:

1. زمانہ طفولیت (بچپن کا زمانہ): امام زمانہ عج کا بچپن وہ دور ہے جب آپ نے پانچ سال کی عمر میں امامت کا منصب سنبھالا۔ 👶


2. غیبت صغریٰ: غیبت کا یہ دور ایک مختصر مدت پر مشتمل تھا جس میں امام نے چار خاص نائبین مقرر کیے جو امام کے پیغامات شیعوں تک پہنچاتے تھے۔ 📜


3. غیبت کبریٰ: یہ غیبت کا طویل مدت کا دور ہے جس میں امام زمانہ عج کا رابطہ عام لوگوں سے مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ ⏳



غیبت صغریٰ میں امام کے نائبین:

غیبت صغریٰ میں امام زمانہ عج نے اپنے نائبین منتخب کیے تاکہ شیعوں کے مسائل اور سوالات کا جواب دیا جا سکے۔ ان نائبین کے ذریعے امام کا رابطہ لوگوں سے برقرار رہا۔ غیبت صغریٰ میں امام کے چار نائبین تھے، جنہیں "نائب خاص" کہا جاتا ہے:

1. عثمان بن سعید عمری 👤


2. محمد بن عثمان سعید عمری 👤


3. حسین بن روح نوبختی 👤


4. علی بن محمد سمری 👤



ان نائبین نے امام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچایا اور شیعوں کی مشکلات کا حل دیا۔ ان کا اہم کردار امام کے پیغامات کی ترسیل اور امام کی رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ 📬

غیبت کبریٰ اور عمومی نیابت:

غیبت کبریٰ کے دوران امام زمانہ عج کا لوگوں کے ساتھ کوئی براہ راست رابطہ نہیں رہا۔ اس دور میں امام کے پیغامات پہنچانے اور شیعوں کی رہنمائی کے لیے فقہاء اور علماء کو عمومی نائبین کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس دور میں شیعوں کے مسائل کے حل اور فقہ کی تعلیم دینے کے لیے علماء کو امام کے نائب کے طور پر عمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 📖👨‍🏫

اس طرح، غیبت کبریٰ میں امام کا رابطہ عوام سے منقطع ہو چکا ہے، اور فقہاء کی جماعت امام کی نمائندگی کرتی ہے تاکہ شیعوں کو دین اور مسائل میں رہنمائی ملتی رہے۔ 🌟



 *والسلام۔* 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥
 *شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍


🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
کتابچہ 6 ، درس: 17 || غیبت پر اھم سوالات کا جواب (2)

علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب 
💚عالمی مرکز مہدویت قم💚


❤‍🔥❤‍🔥*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*❤‍🔥
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
❤‍🔥 اللهم صل على محمد وآل محمّد  ❤‍🔥❤‍🔥

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️* 
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

📆سوموار  🌹12  رجب❤‍🔥    1446( 13 جنوری  ، 2025)**
موضوع: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کے جواب

سوال #1
لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر غیبت صغری جاری رہتی تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا؟ یعنی غیبت صغریٰ ہی رہتی اور نائبین کا سلسلہ قائم رہتا۔

💫 جواب:
غیبت صغریٰ دراصل ایک مرحلہ تھا جو غیبت کبری کے لیے انسانوں کو تیار کرنے کے مقصد سے تھا۔
غیبت صغری کا 70 سالہ دور اس لیے تھا تاکہ امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت اور موجودگی کا یقین ہو سکے۔ دسویں امام کے دور سے اماموں پر ظلم، قید و بند اور نظر بندی کا آغاز ہو چکا تھا کیونکہ دشمن چاہتے تھے کہ امام بارہویں کو شہید کر دیں تاکہ ظلم کا خاتمہ نہ ہو۔ اس لیے امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کو مخفی رکھا گیا تھا۔

💫 امام زمانہ علیہ السلام کی جان کی حفاظت
جب امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو امام زمانہ علیہ السلام کی عمر پانچ سال تھی اور اس وقت بہت سے شیعہ نہیں جانتے تھے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی فرزند بھی ہے۔ اس لیے غیبت صغریٰ ضروری تھی تاکہ امام زمانہ علیہ السلام کی جان کی حفاظت ہو سکے اور نائبین خاص کے ذریعے لوگوں کا امام سے رابطہ قائم رہ سکے۔ اس دوران یہ بھی ضروری تھا کہ امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد لوگوں کو بتایا جائے کہ امام کا وارث امام زمانہ علیہ السلام موجود ہیں۔

💫 تعارف امام اور رابطہ
نائبین خاص امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے اور لوگوں کے خطوط کا جواب امام زمانہ علیہ السلام دیتے تھے۔ بعض اوقات امام زمانہ علیہ السلام کی اجازت سے لوگ ان سے ملاقات بھی کرتے تھے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو لوگ دین سے بے گانے ہو جاتے اور دین میں انحراف آ جاتا۔


---

سوال #2
ہم کیوں مراجع کرام اور علماء اور فقہاء کی تقلید کریں؟ وہ تو معصوم نہیں ہیں؟

💫 جواب
تقلید کا آغاز غیبت صغریٰ میں ہی ہوا تھا، بلکہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور سے یہ سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ امام اپنی نظر بندی کے دوران نائبین خاص کے ذریعے شیعوں کے مسائل حل کرتے تھے۔ غیبت صغری میں جب لوگوں نے سوال کیا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے کس سے رجوع کریں تو امام نے فرمایا کہ وہ ان فقہاء اور مجتہدین سے رجوع کریں جو امام کی احادیث کے راوی ہیں۔ یہ علماء امام کی طرف سے حجت ہیں۔

غیبت صغری میں امام نے ان نائبین کی تربیت کی اور انہیں بتایا کہ ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ کا حل امام سے براہ راست لیا جائے، بلکہ امام کے شاگردوں کا مقصد یہی ہے کہ وہ امام کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچائیں۔

💫 حدیث امام مہدی علیہ السلام
امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا: "جس نے ان علماء کو رد کیا، اس نے مجھ مہدی کو رد کیا۔"

غیبت کبریٰ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں امام کی غیر موجودگی کا احساس پیدا ہو اور وہ امام کے ظہور کے لیے تیار ہوں۔

دعا ہے کہ اللہ ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کا با تقویٰ منتظر اور سپاہی بننے کی توفیق دے، آمین۔



 *والسلام۔* 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥
 *✨شہربانو✍️* 
عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟


کتابچہ 6 ، درس: 17 || غیبت پر اھم سوالات کا جواب (2)

علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب 
💚عالمی مرکز مہدویت قم💚
❤‍🔥❤‍🔥*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*❤‍🔥
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
❤‍🔥 اللهم صل على محمد وآل محمّد  ❤‍🔥❤‍🔥

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️* 
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

📆سوموار  🌹12  رجب❤‍🔥    1446( 13 جنوری  ، 2025)**
کتابچہ "غیبت پر اہم سوالات کا جواب" میں علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب نے غیبت کبری کے حوالے سے اہم سوالات اور ان کے جوابات فراہم کیے ہیں، جن کا مقصد لوگوں کو غیبت کی حقیقت اور امام کی موجودہ غیبت کی اہمیت کو سمجھانا ہے۔

1. غیبت کبری کی ضرورت:

غیبت کبری وہ دور ہے جس میں ہمارے امام (علیہ السلام) ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں اور ان کا ظہور ہونا باقی ہے۔ اس وقت میں امام کی رہنمائی براہ راست انسانوں تک نہیں پہنچتی، بلکہ امام کے نمائندے یعنی مجتہدین یا فقہاء کے ذریعے لوگوں کو دین کی رہنمائی دی جاتی ہے۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر غیبت صغری کی حالت رہتی اور امام کا پیغام ان کے نائبین کے ذریعے پہنچتا رہتا تو غیبت کبری کی کیا ضرورت تھی؟

اس کا جواب یہ دیا گیا کہ غیبت صغری دراصل غیبت کبری کی تیاری تھی اور اس کا آغاز امام حسن عسگری علیہ السلام کے دور میں ہوا۔ امام نے اپنے بارہویں امام (علیہ السلام) کی ولادت کو مخفی رکھا تھا تاکہ لوگوں کو اس حقیقت کا احساس ہو کہ امام کا ظہور ایک وقت کے بعد غیبت میں ہو گا۔ امام حسن عسگری (علیہ السلام) کی غیبت کا مقصد لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرنا تھا کہ امام کی غیبت کے بعد، لوگوں کا رابطہ براہ راست امام سے نہیں ہو گا بلکہ ان کے نائبین اور علماء کے ذریعے دین کی رہنمائی حاصل ہوگی۔

2. غیبت کبری کا مقصد:

غیبت کبری کا اصل مقصد یہ تھا کہ امام کا ظہور اس وقت ہو گا جب خدا کی منشاء اور اس کے وقت کے مطابق حالات مکمل ہوں گے۔ امام کی غیبت سے لوگوں کو ان کے حقوق کی اہمیت اور امام کے بغیر زندگی گزارنے کی صبر و استقامت کا سبق ملتا ہے۔ اس دور میں ہم امام کی موجودگی کے باوجود ان سے براہ راست رابطہ نہیں رکھ سکتے، لیکن ہمیں ان کے نائبین اور علماء کی رہنمائی پر عمل کرنا ضروری ہے۔

3. مجتہدین کی تقلید کیوں ضروری ہے؟

غیبت کے اس دور میں ایک اور سوال جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ مجتہدین معصوم نہیں ہوتے، تو ہم ان کی تقلید کیوں کریں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ مجتہدین کی زندگی علم، تقویٰ، عبادت اور پاکیزگی کا اعلیٰ نمونہ ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ معصوم نہیں ہیں، لیکن ان کے علم اور تجربے کی بنا پر وہ امام کے نائب اور وکیل بن کر دین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے فیصلے اور رہنمائی میں خدا کی رضا ہوتی ہے اور ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی جائے تو وہ غیر ارادی طور پر ہوتی ہے اور خدا ان سے درگزر کرتا ہے۔

4. منتظرین کی اہمیت:

علامہ سیفی صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں اپنے دل و دماغ کو مطمئن رکھ کر امام کی معرفت حاصل کرنی چاہیے اور ایک سچا منتظر بن کر امام کے ظہور کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ امام کا ظہور ایک اہم وقت پر ہوگا اور ہم اگر اپنے اعمال اور عقائد کو درست رکھیں گے تو ہم اس وقت کا حصہ بن سکیں گے جب امام کی قیادت دوبارہ دنیا میں قائم ہوگی۔

خلاصہ:

یہ کتابچہ غیبت کبری اور امام کے نائبین کی تقلید کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ غیبت کبری کی ضرورت اور اس کے فلسفہ کو سمجھنا، ساتھ ہی مجتہدین کی تقلید کے ذریعے دین کی رہنمائی حاصل کرنا، یہ سب ہمارے ایمان اور عقیدہ کا حصہ ہیں جو ہمیں امام کے ظہور کے منتظر ہونے کی اہمیت سکھاتے ہیں۔



 *والسلام۔* 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥
 *شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

*کتابچہ 6: امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب



درس 18: غیبت کے موضوع پر  اہم سوالات کا جواب(3)
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹*


❤‍🔥❤‍🔥*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*❤‍🔥
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
❤‍🔥 اللهم صل على محمد وآل محمّد  ❤‍🔥❤‍🔥

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️* 
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

📆سوموار  🌹19  رجب❤‍🔥    1446( 20 جنوری  ، 2025)**



---

امام زمانہ عج کی غیبت کے اسباب اور نیابت  

غیبت امام زمانہ عج:

امام زمانہ عج کی غیبت ایک اہم دینی مسئلہ ہے جس کے پیچھے متعدد اسباب اور حکمتیں موجود ہیں۔ اس غیبت کی وجہ سے امام زمانہ عج کا ظہور ابھی تک نہیں ہوا اور یہ غیبت دو مراحل میں تقسیم کی گئی ہے:

1. غیبت صغریٰ (Minor Occultation)


2. غیبت کبریٰ (Major Occultation)




---

غیبت کے اسباب:

غیبت امام عج کے اسباب مختلف ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے:

1. سیاسی حالات: امام زمانہ عج کے زمانہ میں سیاسی حالات اتنے پیچیدہ تھے کہ دشمنوں کا خوف اور حکومت کی سازشیں امام کو ظاہری طور پر لوگوں سے دور رکھنے کی وجہ بنی۔ 🏛️


2. دینی آزمائش: امام کی غیبت انسانوں کے ایمان اور عقیدہ کی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے تاکہ لوگ اپنی ایمانداری اور دین پر ثابت قدم رہیں۔ 🙏


3. تربیت و تعلیم: امام کا غیبت میں رہنا ایک حکمت ہے تاکہ امت خود دین کی حقیقت اور اصولوں کو سمجھنے کے لیے محنت کرے اور کسی فرد کے بجائے امام کی رہنمائی کی طرف رجوع کرے۔ 📚


4. دشمنوں سے حفاظت: امام کو دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ غیبت میں رہیں تاکہ دشمنوں کا خطرہ کم ہو اور امام کا ظہور ایک خاص وقت پر ممکن ہو۔ ⚔️




---

امام عج کے نائبین:

امام زمانہ عج کی غیبت کے دوران، امام کے نائبین نے لوگوں کو دینی مسائل میں رہنمائی فراہم کی۔ یہ نائبین دو اقسام میں تقسیم ہیں:

1. نائبِ خاص (Special Deputies):



نائبِ خاص وہ افراد تھے جنہیں امام زمانہ عج نے براہ راست اپنے نمائندے کے طور پر منتخب کیا تھا۔ ان کا کام امام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچانا اور ان کے مسائل کو حل کرنا تھا۔ یہ نائبین صرف غیبت صغریٰ کے دوران تھے۔ غیبت صغریٰ 260ہجری میں شروع ہوئی اور 329ہجری میں ختم ہوئی۔ اس دوران چار افراد نائبِ خاص کے طور پر امام کی طرف سے منتخب ہوئے تھے:

جناب عثمان بن سعید عمری

محمد بن عثمان بن سعید عمری

حسین بن روح بختی

علی بن محمد سمری


ان نائبین خاص کا انتخاب امام زمانہ عج نے براہ راست کیا تھا اور ان کا نام امام نے مخصوص طور پر لیا تھا۔ غیبت صغریٰ کے اختتام کے ساتھ نائبِ خاص کا دور بھی ختم ہو گیا۔ اب کوئی بھی شخص نائبِ خاص ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا اور کذاب سمجھا جائے گا۔ 🚫

2. نائبِ عام (General Deputies):



غیبت کبریٰ کے دوران امام زمانہ عج کا کوئی نائبِ خاص نہیں ہے۔ اس وقت امام عج کے نائبِ عام موجود ہیں، جو علماء اور فقہاء ہیں۔ یہ نائبین امام کے نائب ہونے کے ناطے دین کے مسائل میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں کی بنیاد امام عج کی ہدایات پر ہوتی ہے۔
نائبِ عام کو امام عج کی طرف سے براہ راست نام سے نہیں پکارا جاتا، بلکہ ان کی صفات اور خصوصیات بیان کی جاتی ہیں۔ نائبِ عام کے لیے ضروری ہے کہ وہ عادل، دین کا محافظ، امام کا مطیع، اور خواہشات نفسانی کی مخالفت کرنے والا ہو۔ ⚖️

امام عج کی توقیعات میں یہ ہدایات آئی ہیں:

"جو بھی دینی مسائل میں پیش آئے، تم ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم خدا کی طرف سے تم پر حجت ہیں۔" (توقیع امام عج) 📖

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"جو شخص ہماری احادیث کو نقل کرتا ہے اور ہماری حلال و حرام میں تفکّر کرتا ہے، اگر وہ کسی مسئلہ میں حکم کرے اور لوگ اس کے حکم پر راضی ہوں تو میں اسے اپنی طرف سے حاکم قرار دیتا ہوں۔" 🕊️

نائبِ عام کے بارے میں فقہاء کے کردار کی وضاحت:

فقہاء امام زمانہ عج کے نائبین ہیں کیونکہ وہ امام عج کے احکام کی درست تشریح کرتے ہیں اور دین کے مسائل کو حل کرنے میں امام کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہ نائبین دین کے ہر مسئلہ میں صحیح رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ان کی باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پروردگار ان پر رحم فرمائے جو میرے بعد آئیں گے اور میری حدیث بیان کریں گے، ان میں آل رسولﷺ اور امام عج کے بعد فقہاء شامل ہیں۔" 🕌


---

نتیجہ:

امام زمانہ عج کی غیبت میں نائبین کا بہت اہم کردار ہے۔ غیبت صغریٰ میں نائبِ خاص تھے، لیکن غیبت کبریٰ کے دوران نائبِ عام، یعنی فقہاء اور علماء، امام عج کے نمائندے ہیں۔ ہمیں دینی مسائل میں ان کی رہنمائی پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ ہم دین کی اصل حقیقت اور امام عج کے پیغامات کو سمجھ سکیں۔ 🙌

دعا:
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ امام زمانہ عج کا ظہور جلد ہو اور ہم ان کی حمایت و خدمت کا موقع پائیں۔ آمین۔ 🤲

 *والسلام۔* 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥
 *✨شہربانو✍️* 
عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات