𝔹𝕠𝕠𝕜 4 Sadia ChatGPT
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
💠🩵💠
💠🩵💠
امام مہدی شیعہ و سنی احادیث کی رو سے
درس 1
استاد مہدویت محترم آغا علی سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ:
ہماری گفتگو کا موضوع امام مہدی علیہ السلام احادیث کی رو سے ہے۔ اسلام کے اندر کسی بھی موضوع کو جاننے کے لیے قرآن مجید کے بعد ایک اہم ترین ماخذ اور منبع احادیثِ محمد ﷺ و آل محمد ہیں۔ اس لیے ہم اسلام کے اندر جو دیگر ہمارے فرامین اور احکامات، شریعت کے مسائل اور اخلاق اور عقائد ہیں، ان سب چیزوں میں ہم قرآن کے بعد پیغمبر ﷺ اور اُن کی آل علیہ السلام کے فرامین سے ہی استفادہ کرتے ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور، اُن کے متعلق جتنے بھی مسائل ہیں جیسے ان کی سیرت ہے، غیبت ہے، انتظار ہے، علاماتِ ظہور ہیں اور مولا نے زمانہ ظہور میں کیا کچھ کرنا ہے، ان سب کو احادیث میں بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اگر کوئی یہ پوچھے کہ سب سے زیادہ احادیث کس شخصیت کے بارے میں ہیں، تو ہم کہیں گے کہ یہ امام مہدی علیہ السلام ہیں، جن کے بارے میں سب سے زیادہ احادیث ہیں۔
💠💭
اہل سنت میں پیغامبر اسلام ﷺ کے علاوہ اصحاب اور تابعین نے بھی بہت کچھ بیان کیا، اور ہمارے مذہب اور مکتبہ فکر میں نبی اسلام ﷺ کے بعد اُن کی آل سے، یعنی گیارہویں امام تک کے، سب کے فرامین کا مجموعہ دیکھیں تو سب سے زیادہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ احادیث نے مہدویت کو بہت کھول کر بیان کیا ہے۔ ہر پہلو کو بیان کیا ہے۔ جتنے بھی ہمارے سوالات ہیں، ان کا جواب احادیث میں موجود ہے۔ لہٰذا ہم بھی احادیث سے بہت وسعت سے استفادہ کریں گے۔ ہم امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں جتنے موضوعات ہیں، یہ سب احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ ہمیں آئندہ اپنے مستقبل کا جو نقشہ معلوم ہے، یہ احادیث کی وجہ سے معلوم ہے۔ لیکن ہم احادیث میں جانے سے پہلے، کچھ احادیث کے متعلق جو الفاظ ہیں یا اصطلاحات ہیں، اُن کو جان لیں، پھر ہم ان احادیث پر گفتگو کریں گے۔
💠📚
---
حدیث:
سب سے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ خود حدیث کسے کہتے ہیں؟ لغت کے اعتبار سے حدیث اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپی ہوئی تھی اور ظاہر ہو گئی ہے، یعنی ظاہر ہونے والی چیز۔ اصطلاح کے اندر، یعنی علمی تعریف میں حدیث سے مراد معصوم (علیہ السلام) کا قول ہے، اسی طرح فعل معصوم (علیہ السلام) نیز معصوم کے سامنے کسی نے کوئی کام کیا ہے، امام اس کی تائید کر رہے ہیں۔ یعنی معصوم (علیہ السلام) کا اپنا قول یا وہ چیز جو معصوم کے قول، فعل یا تائید کو بیان کرے۔ ہمارے ہاں پیغمبر ﷺ اور اُن کی آل (علیہ السلام) سے نقل ہونے والی قول معصوم، فعل معصوم یا دیگر عمل کی تائید کو ہم حدیث کہتے ہیں۔ اہل سنت کے اندر پیغمبر اسلام ﷺ، اصحاب اور تابعین کے قول اور فعل کو بھی حدیث کہتے ہیں۔
💠✍️
---
سنت:
ایک لفظ سنت استعمال ہوتا ہے، تو سنت سے مراد کیا ہے؟ یعنی خود معصوم کا قول، فعل اور تائید۔ اسے سنت کہتے ہیں۔ حدیث میں یہ وہ چیز ہے جو نقل ہو، لیکن سنت میں وہ قول، فعل اور تائید خود معصوم اور پیغمبر ﷺ کا ہوتا ہے۔
💠📖
---
صحیح:
جب ہم احادیث میں گفتگو کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ حدیث صحیح سے مراد وہ حدیث ہے جس کی تمام طبقات میں، یعنی جب حدیث نقل ہوتی ہے تو اس کے کئی طبقے ہوتے ہیں۔ جیسے جس نے سب سے پہلے نقل کیا وہ پہلا طبقہ ہے، پھر جس سے نقل کیا، وہ دوسرا طبقہ، پھر اس سے جس نے نقل کیا، یہ سب طبقے ہیں۔ تو صحیح حدیث وہ ہوتی ہے جس کے تمام طبقات میں شیعہ اور عادل راوی ہوں۔ اہل سنت کے مطابق وہ روایت صحیح ہے جس کی سند میں عادل اور ضابط ہوں، یعنی دقّت کرنے والے ہوں اور یہ حدیث صحیح ہے۔ مشہور احادیث کی مخالف نہ ہوں۔ 💠📜
---
حَسَن:
ایک اصطلاح ہے جو حدیث کے اعتبار سے حسن ہے۔ حسن وہ روایت ہے جس کی سند میں سوائے ایک یا چند راویوں کے باقی تمام راوی عادل ہوں اور شیعہ ہوں۔ وہ جو ایک یا چند ہوں، ان کی عدالت تو بیان نہیں ہوئی، مگر اُن کا قابلِ اعتماد ہونا بیان ہوا ہے اور ان کی تعریف بھی ہوئی ہے۔ اہل سنت کے مطابق وہ روایت حسن ہے جس کی سند میں عادل ہوں اور کم دقّت والے لوگ ہوں اور یہ مشہور اور صحیح حدیث کے مخالف نہ ہوں۔ 💠💬
---
متواتر:
ایک اور اصطلاح ہے جسے خبرِ متواتر کہتے ہیں۔ مطلب وہ روایت جس کے تمام طبقات میں راویوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔ مثلاً ایک حدیث کو اگر ایک شخص نقل کرتا ہو، لیکن اگر پچاس سے سو لوگ اس کو نقل کریں، تو یہ خبر متواتر کہلاتی ہے۔ چونکہ اسے اتنے لوگوں نے نقل کیا ہے کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا نا ممکن ہے، اس لیے خبرِ متواتر ایک بہت بڑی دلیل سمجھی جاتی ہے۔ 💠🗣️
---
صحاح ستہ:
اہل سنت کے اندر احادیث کی جو اہم ترین کتابیں ہیں، وہ صحاح ستہ ہیں، جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی۔ جب کہ شیعوں کے اندر احادیث کی جو اہم ترین کتابیں ہیں وہ 4 کتابیں ہیں جنہیں ہم کتب اربعہ کہتے ہیں، جن میں اصول الکافی، مَن لایَحضُرُہ الفقیہ، تہذیب الاحکام اور الاِستِبصار شامل ہیں۔ 💠📚
---
👈 جاری ہے... ⏳
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
---
"امام مہدی (علیہ السلام) شیعہ و سنی احادیث کی رو سے" 🌙
دوسرا درس: احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو 📜
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ:
شیعہ حدیثی ماخذات کا تعارف
جب سے اسلام میں احادیث کی جمع آوری کا عمل شروع ہوا، اسی وقت سے مہدویت کے موضوع پر احادیث کا ایک وسیع ذخیرہ جمع ہونا شروع ہوگیا۔ اس کے بعد مختلف محدثین نے اس موضوع پر کتب لکھیں اور اس سلسلے میں اہم ابواب قائم کیے۔ شیعہ اور سنی دونوں مکتبہ فکر کے محدثین نے امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں احادیث کو اپنی کتابوں میں شامل کیا، جس کی بنیاد پر مختلف کتب وجود میں آئیں۔ ان کتابوں میں موضوعِ مہدویت پر جامع احادیث جمع کی گئیں۔ 📚
---
شیعہ حدیثی ماخذات 📝
شیعہ کتب میں امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں، ان کے ماخذات مختلف ادوار میں تحریر کیے گئے ہیں۔ ان احادیث کو ہم دو اہم حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
1. تاریخی اعتبار سے امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے تحریر شدہ احادیثی کتب 📖
2. امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد تحریر شدہ احادیثی کتب ✍️
---
1. امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے تحریر شدہ کتب:
یہ کتب وہ ہیں جو امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت سے قبل لکھی گئیں اور ان میں مہدویت پر احادیث موجود ہیں:
کتاب سلیم ابن قیس: یہ کتاب 76 ہجری سے پہلے لکھی گئی اور اس میں امام مہدی (علیہ السلام) کی آمد اور اس سے متعلق کئی اہم احادیث موجود ہیں۔ کتاب کا عنوان "اسرار آل محمدؑ" ہے اور یہ امام علی (علیہ السلام) کے خاص اصحاب میں سے سلیم ابن قیس کی تصنیف ہے۔ ✨
کتاب الغیبہ للحجۃ: یہ کتاب جناب عباس ابن ہشام ابوالفضل الناشیری کی تحریر ہے، جو امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے لکھی گئی۔ یہ کتاب بھی مہدویت کے موضوع پر جامع احادیث پر مشتمل ہے۔ 📘
کتاب اخبار المہدی: ابو سعید عباد بن یعقوب الرواجنی الکوفی کی تصنیف ہے (250 ہجری)۔ یہ کتاب مکمل طور پر امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں ہے اور اس میں مہدویت پر ایک اہم ذخیرہ جمع کیا گیا ہے۔ 📖
کتاب القائم الصغیر: حسن بن علی بن ابی حمزہ البطائنی کی تحریر ہے، جو امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے لکھی گئی اور اس میں مہدویت کے حوالے سے اہم احادیث درج کی گئی ہیں۔ ✨
کتاب الغیبہ: ابو اسحاق ابراہیم بن صالح الانماطی کی تحریر ہے، جو امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے لکھی گئی۔ اس کتاب میں امام کی غیبت اور قیام کے بارے میں احادیث موجود ہیں۔ 🔍
---
2. امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد تحریر شدہ کتب:
یہ کتب وہ ہیں جو امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد لکھی گئیں، اور ان میں مہدویت کے موضوع پر مختلف احادیث کا ذخیرہ جمع کیا گیا:
---
منابع عام:
یہ وہ کتابیں ہیں جن میں امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں عمومی بحث کی گئی ہے، اور یہ کتابیں شیعہ احادیث کے معتبر ذخائر میں شمار ہوتی ہیں:
الکافی: محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی (329 ہجری) کی کتاب ہے جو شیعہ احادیث کا سب سے قدیم اور معتبر ترین ذخیرہ ہے۔ اس کتاب میں 16 ہزار احادیث موجود ہیں اور اس میں فقہ، کلام، تاریخ، اور دیگر موضوعات پر احادیث شامل ہیں۔ اس کی مشہور شروحات میں "مراۃ العقول" اور "وافی" شامل ہیں۔ 📚
قرب الاسناد: یہ کتاب ابو العباس عبد اللہ بن جعفر بن حسین بن مالک حمیری کی تحریر ہے۔ یہ کتاب "الکافی" سے پہلے کی ہے اور شیعہ کے معتبر ترین ماخذات میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں 1404 احادیث موجود ہیں۔ 🔑
بصائر الدرجات: ابو جعفر محمد بن حسن بن فروخ الصفار (290 ہجری) کی تحریر ہے۔ یہ کتاب اہل بیت (علیہ السلام) کے فضائل اور امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں احادیث پر مشتمل ہے۔ 🌹
المحاسن: ابو جعفر احمد بن محمد بن خالد برقی (م 274 یا 280 ہجری) کی تحریر ہے، جو اہم ترین کتابوں میں سے ہے اور اس میں امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں بھی احادیث شامل ہیں۔ 📖
کفایۃ الا ثر فی النص علی الآئمۃ الاثنی عشر: ابو القاسم علی بن محمد بن علی خزاز قمی کی تحریر ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے اہم شیعہ فقیہ اور محدث ہیں۔ اس میں امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں احادیث بھی موجود ہیں۔ 🏆
الا رشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد: شیخ مفید محمد بن محمد بن نعمان عکبری بغدادی (413 ہجری) کی کتاب ہے، جو امام مہدی (علیہ السلام) کی احادیث پر مشتمل ہے اور اس میں اماموں کے فضائل اور تاریخ کا ذکر کیا گیا ہے۔ 🖋️
---
منابع خاص:
یہ وہ کتابیں ہیں جو خاص طور پر امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد لکھی گئیں اور ان میں امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں احادیث کا خاص ذخیرہ موجود ہے:
کمال الدین و تمام النعمہ: شیخ صدوق (305 ہجری) کی کتاب ہے، جو امام مہدی (علیہ السلام) کی دعا سے پیدا ہونے والے شیخ صدوق کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مبنی ہے اور امام مہدی (علیہ السلام) کے حوالے سے سب سے جامع کتاب سمجھی جاتی ہے۔ 📖
الغیبتہ: ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر کاتب نعمانی (342 ہجری) کی تحریر ہے، جس میں 500 سے زائد احادیث موجود ہیں اور امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ ✨
الفصول العشرہ فی الغیبتہ: شیخ مفید کی کتاب ہے جس میں امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں سوالات اور اعتراضات کے جوابات دیے گئے ہیں۔ 🧐
اربع رسالات فی الغیبۃ: یہ کتاب بھی شیخ مفید کی ہے اور اس میں امام مہدی (علیہ السلام) کی غیبت، قیام، اور امام کی امامت کے حوالے سے کیے گئے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے ہیں۔ 🔍
کتاب الغیبتہ للحجۃ: شیخ طوسی کی اہم کتاب ہے، جس میں امام مہدی (علیہ السلام) کی غیبت، ظہور، اور سیرت پر احادیث موجود ہیں۔ اس کتاب میں عقلی اور نقلی دلائل سے امام مہدی (علیہ السلام) کی غیبت اور ظہور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 📘
معجم الا حادیث الام المہدی: یہ کتاب شیعہ اور سنی ماخذات سے امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں جمع کی گئی احادیث کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب پانچ جلدوں میں موجود ہے اور مختلف محدثین کی محنت کا نتیجہ ہے۔ 📚
منتخب الاثر: یہ کتاب آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی (رحمت اللہ علیہ) کی تحریر ہے، جو مہدویت کے موضوع پر ایک اہم شاہکار ہے اور اس میں امام مہدی (علیہ السلام) سے متعلق مفصل بحث کی گئی ہے۔ 🏅
---
جاری ہے... ⏳
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷
"امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
تیسرا درس.
5 فروری، 2022
🥀احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
اہل سنت کے محدثین نے امام مہدیؑ عج کے موضوع پر خاص توجہ دی ہے، اور اس موضوع پر بہت ساری کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ بعض محققین کے مطابق 160 افراد نے امام مہدیؑ کے موضوع پر مستقل طور پر کام کیا۔
❄️ اہل سنت محدثین کی کتابوں کا جائزہ تین مرحلوں میں کیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ:
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے لکھی جانے والی کتب:
1. کتاب الجامع - معمر بن راشد ازدی (م 151 ہجری) 📚
2. الرسالتہ - محمد بن ادریس شافعی (م 204 ہجری) 📖
3. المصنف صنعانی (م 211 ہجری) 📔
4. الفتن - نعیم بن حماد (م 229 ہجری) 📜
5. المصنف - ابی بکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ (م 235 ہجری) 📝
6. مسند احمد - احمد بن حنبل (م 241 ہجری) 📘
دوسرا مرحلہ:
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بعد لکھی جانے والی کتب:
اہل سنت کے محدثین نے امام مہدیؑ کی ولادت کے بعد 255 ہجری کے بعد مختلف کتابیں لکھی ہیں، جن میں مہدویت کے موضوع پر ابواب شامل ہیں۔
1. سنن ابن داؤد - سلیمان بن اشعث ابن داؤد السجستانی الازدی (م 275 ہجری) 📚
اس کتاب کی چوتھی جلد میں کتاب المہدی کے نام سے ایک باب موجود ہے، جس میں بارہ احادیث آئی ہیں۔
2. سنن ابن ماجہ - محمد بن یزید ابو عبداللہ القزوینی (م 275 ہجری) 📖
3. سنن ترمزی - محمد بن عیسی ابو عیسی الترمزی (م 279 ہجری) 📘
یہ کتابیں آخری زمانے میں آنے والے فتنے اور واقعات کا ذکر کرتی ہیں، جن کا تعلق غیبت صغریٰ سے ہے۔
تیسرا مرحلہ:
عصر غیبت کبریٰ میں لکھی جانے والی کتب: (329 ہجری کے بعد)
1. صحیح ابن حبان 📚
2. المعجم الاوسط - ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی (م 360 ہجری) 📖
3. المستدرک علی الصحیحین 📔
4. السنن الواردة فی الفتن و غوائلها و الساعة و اشراطها (سنن دانی) 📘
5. بغیہ الرائد فی تحقیق مجمع الزوائد و منبع الفوائد - نور الدین علی بن ابی بکر ہیثمی 📜
چوتھا مرحلہ:
حضرت مہدی علیہ السلام سے مختص کتب:
1. الاربعین - ابو نعیم اصفہانی (م 430 ہجری) 📚
2. البیان فی اخبار صاحب الزمان - ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن محمد کنجی شافعی (م 658 ہجری) 📖
3. البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان - علاء الدین علی بن حسام الدین متقی ہندی (م 975 ہجری) 📘
4. موسوعہ المہدی المنتظر - ڈاکٹر عبد العلیم عبد العظیم البستوی 📜
5. الفصول المہتہ - علی بن محمد ابن احمد مالکی (م 855 ہجری) 📔
6. الصواعق المحرقہ - ابو العباس شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیثمی (م 974 ہجری) 📚
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل سنت کے محدثین نے بھی شیعہ علماء کی طرح امام مہدیؑ کے موضوع پر اپنی معتبر کتابوں میں تفصیل سے کام کیا۔ یہ کتابیں اور ابواب اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرم ﷺ کی پیش گوئیاں اور احادیث کا ذخیرہ اہل سنت کے محدثین نے بڑی محنت سے جمع کیا ہے، جس میں امام مہدیؑ کی تشریحات اور علامات شامل ہیں۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
✨🌹✨
"امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
چوتھا درس
مہدوی احادیث کے موضوعات
کتاب منتخب الاثر کی فہرست پر ایک نظر
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
عصر حاضر کی مشہور کتاب "منتخب الاثر" آیت اللہ صافی گلپایگانی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیعہ و سنی احادیث کو اکٹھا کر کے ایک عظیم مجموعہ تیار کیا ہے۔ اس کتاب میں آیت اللہ صاحب نے تقریباً چھ ہزار احادیث کا مطالعہ کیا اور ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ احادیث کو جمع کیا ہے۔
احادیث کے عناوین:
کتاب منتخب الاثر میں مختلف موضوعات پر احادیث کی فہرست دی گئی ہے جن کی تعداد 99 ہے۔
سب سے پہلے بارہ اماموں کی حدیث پر بات کی گئی ہے جس کی تعداد 271 ہے۔ پھر امام بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق 40 احادیث جمع کی گئی ہیں۔ آئمہ کی تعداد بارہ ہے، جن میں سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کی احادیث کی تعداد 133 ہے۔ پھر امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں کی تعداد نو ہے، اور ان میں سے امام مہدی علیہ السلام کی بشارت دینے والی احادیث 94 ہیں۔
مہدی علیہ السلام کے بارے میں اہم احادیث:
امام مہدی علیہ السلام کی خوشخبری دینے والی 50 احادیث۔ ✨
امام مہدی علیہ السلام کا عترت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت سے تعلق 50 احادیث۔ 🌹
امام مہدی علیہ السلام کا خروج 657 احادیث۔ ✨
امام مہدی علیہ السلام کے شمائل مبارک پر 48 احادیث۔ 🌹
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کی علت 91 احادیث۔ ✨
امام مہدی علیہ السلام کی عمر اور ان کے ظہور سے متعلق 318 احادیث۔ 🌹
یہ کتاب امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اہم ترین موضوعات کو اجاگر کرتی ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ ✨🌹
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
❄️❄️
"امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 5
احادیث مہدویت کی تقسیم اور ان اصحاب کی تعداد و نام جنہوں نے مہدوی احادیث کو نقل کیا ہے
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ: ✨
ہمارے ماہرین احادیث کو عمومی طور پر اور بلخصوص احادیث مہدویت کو چار گروہ میں تقسیم کرتے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
📢 پہلا گروہ - تفسیری روایات:
یہ وہ روایات ہیں جو قرآن مجید کے ذیل میں نقل ہوئی ہیں۔ چونکہ قرآن کے اندر 200 زائد آیات امام مہدیؑ کی شان میں ہیں اور ہر آیت کے ذیل میں جو روایت نقل ہوئی وہ بتاتی ہے کہ یہ آیت امام مہدیؑ اور ان کے انصار کے لیے نازل ہوئی ہے، یا ان کی غیبت یا دور حکومت کے بارے میں ہیں۔ 🌙📜
📢 دوسرا گروہ - اخباری روایات:
یہ وہ روایات ہیں جن میں آئمہؑ نے آئندہ کے حالات اور ظہور سے پہلے کے حالات یا علامات کی خبر دی ہے، جیسے امام مہدیؑ کے دور حکومت میں ان کی سیرت، جنگیں اور حضرت عیسیٰ کا نزول۔ ✨📖
📢 تیسرا گروہ - تشریحی روایات:
یہ روایات فلسفہ غیبت اور انتظار کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہیں، اور یہ وضاحت کرتی ہیں کہ کیوں ظہور کا وقت متعین نہیں کیا جا سکتا، اور امامؑ کا نام ظہور سے قبل کیوں نہیں لیا جا سکتا۔ 🤔🕰️
📢 چوتھا گروہ - تاریخی روایات:
یہ روایات امام مہدیؑ کی ولادت، نصب، کرامات اور امام عسکریؑ کے زمانے میں پیش آنے والے حالات پر مبنی ہیں۔ 📜✨
احادیث کا مجموعہ:
مختلف ماخذات سے امام مہدیؑ سے متعلق احادیث نقل کی گئی ہیں، جیسے کہ "معجم الاحادیث الامام المہدی" جو علمائے کرام کے گروہ نے تحریر کی۔ اس میں 1941 احادیث بیان کی گئی ہیں، جن میں سے پیغمبرؐ سے 560، امام علیؑ سے 130، امام حسینؑ سے 10، امام سجادؑ سے 22، امام صادقؑ سے 297، امام کاظمؑ سے 19، امام رضاؑ سے 30، امام تقیؑ سے 9، امام نقیؑ سے 13 اور امام عسکریؑ سے 42 احادیث نقل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ امام زمانہؑ سے 130 مواقع پر دعا اور توقیع نقل کی گئی ہیں۔
صحابہ سے احادیث مہدویت کے راوی حضرات:
پیغمبرؐ کے کم از کم 60 صحابہ نے بلاواسطہ پیغمبر اسلام سے امام مہدیؑ کے متعلق احادیث نقل کی ہیں، جو شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود ہیں۔ یہاں چند صحابہ کے نام درج کیے جا رہے ہیں:
1. امیر المومنین علیؑ ابن ابی طالبؑ
2. سیدہ فاطمتہ الزہراءؑ
3. امام حسنؑ
4. امام حسینؑ
5. جناب عباس ابن عبد المطلب
6. عبداللہ ابن عباس
7. عبداللہ ابن جعفر طیار
8. جناب ابو ذر غفاری
9. سلمان فارسی
10. عبدالرحمان بن عوف
11. حذیفہ بن یمان
12. عمار بن یاسر
13. ابو ہریرہ
14. عمر بن خطاب
15. ابو ایوب انصاری
16. ازواج رسولؐ اللہ (جناب عائشہ، ام سلمہ، ام حبیبہ)
17. عبداللہ بن عمر
18. اب امامہ باہلی
19. جابر ابن عبد اللہ انصاری
20. عبداللہ بن حارث
21. ابو الطفیل
22. عبداللہ بن ابی اوفی
23. انس بن مالک
24. ابو سلمی
25. زرارۃ بن عبداللہ
یہ تقریباً 60 اصحاب ہیں جنہوں نے مہدویت کے موضوع پر احادیث بیان کیں۔
🌸 پہلی بات:
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مہدویت ایک اہم اور مضبوط عقیدہ ہے جس پر محدثین اور راہ سعادت کے متلاشی افراد کو مدد ملتی ہے۔ 📚✨
🌸🌸 دوسری بات:
یہ مہدویت کی حقیقت کے منکرین اور مخالفین کے لیے ایک راستہ بند کرتا ہے اور ان کے لیے حقیقت کا انکار مشکل ہو جاتا ہے۔ 🚫🌟
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
❄️🌷❄️
"امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 6
احادیث مہدویت کا متواتر اور صحیح ہونا
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ: ✨
اہل سنت کے علماء کا اظہار:
حدیث متواتر وہ حدیث ہے جسے ہر دور میں اتنے لوگ نقل کریں کہ اس میں جھوٹ بولنے کا امکان ختم ہو جائے، اور اس کے ہر راوی کی صداقت پر یقین ہو۔ اگر کسی موضوع پر حدیث متواتر موجود ہو، تو اس موضوع پر یقین کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہمارا مسلم عقیدہ بن جاتا ہے۔
علمائے اہل سنت نے مہدویت پر متواتر احادیث کا اعتراف کیا ہے، اور یہ حدیثیں تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔
اہل سنت کی مشہور شخصیات کے اقوال:
📜 محمد بن عمر رازی شافعی اپنی کتاب مناقب الشافعی میں بیان کرتے ہیں کہ امام مہدیؑ کی آمد کی بشارت دینے والی احادیث تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔
📜 جناب قرطبی مالکی (متوفی 761 ہجری) نے بھی ان احادیث کی تواتر پر زور دیا۔
📜 ابن قیم (م 751 ہجری) اور ابن حجر عسقلانی (م 852 ہجری) نے اپنی کتابوں میں امام مہدیؑ کی احادیث کے تواتر کی تصدیق کی ہے۔
📜 سیوطی (م 911 ہجری) اور ابن حجر ہیثمی (م 911 ہجری) نے بھی کئی مرتبہ امام مہدیؑ کی آمد پر عقیدہ کا دفاع کیا اور ان احادیث کے تواتر کی تصریح کی۔
📜 محمد رسول برزنجی (م 1103 ہجری) لکھتے ہیں کہ ایسی احادیث جو امام مہدیؑ کے وجود اور ان کے قیام کے بارے میں ہوں، وہ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں اور ان کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔
📜 شیخ محمد بن علی صبان (م 1026 ہجری) بھی ان احادیث کے تواتر کے قائل ہیں۔
احادیث امام مہدیؑ کا صحیح ہونا:
احادیث صحیح وہ احادیث ہوتی ہیں جو متواتر ہونے کے بعد سب سے بلند مقام رکھتی ہیں۔ مہدویت پر صحیح احادیث کا ہونا فقط شیعہ عقیدہ نہیں، بلکہ اہل سنت نے بھی انہیں قبول کیا اور اپنی تصانیف میں ان کی تعداد بھی بیان کی۔
📚 اہل سنت کے مصادر سے صحیح احادیث:
جناب ترمذی اپنی کتاب سنن (ج 4 ص 505) میں احادیث 2230، 2231، 2232، 2233 کو صحیح بیان کرتے ہیں۔
حافظ ابو جعفر عقیلی نے اپنی کتاب الضعفاء الکبیر (ج 3 ص 253 حدیث 1257) میں صحیح احادیث بیان کی ہیں۔
حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب مستدرک (ج 4 احادیث 429، 465، 553، 558) میں صحیح احادیث ذکر کی ہیں۔
بہیقی نے اپنی کتاب الاعتقاد (ص 127) میں بھی یہ احادیث نقل کی ہیں۔
امام بغوی نے اپنی کتاب مصابیح السنتہ (ص 448 حدیث 4199) میں امام مہدیؑ کی صحیح احادیث بیان کی ہیں۔
ابن اثیر نے نہایہ (ج 5، ص 254) میں امام مہدیؑ کی احادیث ذکر کی ہیں۔
قرطبی مالکی نے التزکرہ (ص 704) میں صحیح احادیث بیان کی ہیں۔
ناصر الدین البانی نے اپنی کتاب حول المہدی (ص 644) میں یہ احادیث بیان کی ہیں۔
عبد العلیم عبد العظیم البستوی نے المھدی المتظر میں ان احادیث کو بیان کیا ہے۔
🌟 نتیجہ:
یہ تمام اہل سنت کے علماء اور محدثین کی تصدیق کرتی ہیں کہ امام مہدیؑ کی آمد اور ان کے متعلق جو احادیث موجود ہیں، وہ متواتر اور صحیح ہیں، اور ان پر ایمان لانا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
❄️❄️❄️❄️❄️
" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 7
احادیث عام اور خاص، حدیث ثقلین کا بیان، لفظ اہلبیت سے قرآن کی رو سے مراد
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ: ✨
احادیث کی دو قسمیں:
1. عام احادیث: ان میں اہلبیتؑ اور امام زمانہؑ کا ذکر ہوتا ہے، جیسے کہ حدیث ثقلین📜، حدیث من مات💀 اور خلفائے اثنا عشَر👑۔
2. خاص احادیث: یہ صرف مہدویت کے موضوع پر بیان ہوئی ہیں✨۔
1. حدیث ثقلین:
یہ حدیث شیعہ و سنی دونوں مکتبہ فکر کے معتبر کتب میں کثرت سے آئی ہے📚۔ تقریباً 34 صحابہ کرام نے اس حدیث کو نقل کیا ہے، اور اہل سنت کے 187 بڑے علماء جیسے ترمذی، احمد حنبل وغیرہ نے بھی اپنی کتابوں میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے📖۔
تفصیل:
پیغمبرؐ اسلام نے مختلف مواقع پر اس حدیث کو بیان کیا۔ صحیح مسلم میں زید بن ارقم اس حدیث کو یوں نقل کرتے ہیں:
"پیغمبرؐ اسلام ایک دن غدیر خم کے مقام پر پانی کے کنارے🚶♂️💧 کھڑے تھے، جہاں آپؐ نے فرمایا: 'میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک کتاب اللہ📖 ہے جس میں ہدایت اور نور ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔ اور دوسری چیز میرے اہلبیتؑ ہیں، ان کے بارے میں تمھیں خدا کی یاد دلاتا ہوں۔'"
اسی طرح جناب ترمذی اپنی کتاب سنن میں اس حدیث کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
"میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، کہ اگر تم ان سے تمسک کرو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے🔗۔ پہلی کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین تک کھینچی گئی رسی کی طرح ہے، اور دوسری میری عترت (اہلبیتؑ) ہے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے، حتیٰ کہ یہ دونوں حوض کوثر پر آ کر تمھارے سامنے آئیں گے🌊۔"
حدیث ثقلین میں لفظ اہلبیت اور عترت آیا ہے:
یہ لفظ قرآن مجید میں موجود ہے📖، خاص طور پر آیہ تطہیر🌟 میں۔ سنن ترمذی، مسند احمد اور دیگر کتابوں میں جناب انس سے یہ روایت آئی ہے کہ پیغمبرؐ اسلام روزانہ جب صبح کی نماز کے لیے مسجد جاتے، تو حضرت فاطمہؑ کے گھر کے قریب پہنچ کر فرمایا کرتے:
"اے اہلبیتؑ! نماز پڑھو🕌" اور پھر آیہ تطہیر کی تلاوت کرتے تھے📜۔
اہلسنت کے بعض علماء لفظ اہلبیتؑ کو قبول کرتے ہیں, مگر اس کی تشریح میں سب کو شامل کرتے ہیں، حتیٰ کہ ازواج مطہرات کو بھی💍۔ لیکن آیہ تطہیر کے ذیل میں جو روایات آئی ہیں, وہ بتاتی ہیں کہ پیغمبرؐ اسلام کس مقام پر اور کس کے دروازے پر آیہ تطہیر کی تلاوت کرتے تھے🚪۔ پیغمبرؐ خدا نے چھ ماہ تک حضرت فاطمہؑ کے دروازے پر آ کر یہ آیہ تلاوت کی، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اہلبیتؑ وہ ہستیاں ہیں جن سے اللہ نے رجس (ناپاکی) کو دور رکھا اور انہیں پاکیزہ کیا✨۔
مسلم نیشاپوری نے سعد بن وقاص سے نقل کیا ہے کہ جب آیہ مباہلہ نازل ہوئی، تو پیغمبرؐ نے علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو بلایا اور فرمایا:
"پروردگارا! یہ میرے اہل بیتؑ ہیں👨👩👧👦۔"
علاوہ ازیں، بعض روایات میں لفظ عترت بھی آیا ہے🌿۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
سلسلہ دروس " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 8
حدیث ثقلین میں لفظ عترت سے مراد، قرآن و عترت کی ہمراہی سے پانچ نکات کی وضاحت
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ: ✨
حدیث ثقلین کی ایک تعبیر میں لفظ اہلبیتؑ آیا ہے، جس کی وضاحت کی گئی کہ یہاں اہلبیتؑ سے مراد رسولؐ اللہ کے تمام اقرباء نہیں ہیں، بلکہ مخصوص افراد ہیں جو آیہ مباہلہ اور حدیث کساء کی رو سے ثابت ہیں۔
دوسری تعبیر میں حدیث ثقلین میں اہلبیتؑ کے بجائے عترت کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی رسولؐ اللہ نے فرمایا: "میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک کتاب الہیٰ 📖 اور ایک میری عترت 👨👩👧👦۔ یہ دونوں ہرگز آپس میں جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ حوض کوثر 💧 پر میرے پاس تشریف لائیں گے۔" یہ حدیث صحیح مسلم اور دیگر اہل سنت کی کتابوں میں آئی ہے۔
یہاں عترت سے مراد اہلبیتؑ رسولؐ اللہ ہیں، اور یہ وہ افراد ہیں جو قرآن کے ہم پلہ اور باعظمت ہیں۔
چند نکات: ✨
1. قرآن کی ہمراہی: جیسے کتاب خدا "ابدی" ہے 📜 اور قیامت تک باقی ہے، اسی طرح اہلبیتؑ کا کوئی فرد قیامت تک قرآن کے ساتھ باقی رہ کر ہدایت دینے والا ہوگا۔ ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں کہا ہے کہ ایسی احادیث جو لوگوں کو اہلبیتؑ سے تمسک کی دعوت دیتی ہیں، وہ اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کوئی فرد ہمیشہ قیامت تک اہلبیتؑ سے موجود ہوگا، جو ہدایت کی صلاحیت رکھتا ہو۔
2. اہلبیتؑ کی اطاعت: جیسے قرآن حجت ہے 📖 اور لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں، اسی طرح اہلبیتؑ کی اطاعت اور پیروی بھی ضروری ہے۔ یہی ثقل اکبر اور ثقل اصغر ہے 🏆، یعنی قرآن اور اہلبیتؑ دونوں کی پیروی ضروری ہے، اور دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
3. معصومیت: قرآن میں کوئی لغزش یا خطا نہیں ہے 🚫، اور قرآن کے حقیقی پیروکار کبھی بھی گمراہی کا شکار نہیں ہوتے۔ جب پیغمبرؐ نے اہلبیتؑ کو قرآن کے ساتھ رکھا، تو فرمایا کہ اگر تم دونوں سے تمسک کرو تو کبھی خطا نہیں ہو گے ❌۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہلبیتؑ کبھی بھی خطا سے دوچار نہیں ہو سکتے ہیں، وہ معصوم ہیں ✨۔ اگر اہلبیتؑ خطا کریں گے تو یہ یقیناً گمراہی کا باعث بنیں گے۔
4. قرآن کی رہنمائی: قرآن اور اہلبیتؑ کا ہمراہی یہ ثابت کرتی ہے کہ صرف اہلبیتؑ ہی قرآنی آیات کے صحیح حقائق اور دقائق کو سمجھ کر لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے قرآن سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اہلبیتؑ کی رہنمائی حاصل کی جائے 🌟، کیونکہ وہ قرآن کے حقیقی پیروکار ہیں اور اس کے معانی کو بہتر طور پر سمجھا سکتے ہیں۔
5. علم و معرفت: قرآن معرفت کا عظیم دریا ہے 🌊، اور اہلبیتؑ کا قرآن سے متصل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ علم و معرفت کے عظیم مراتب پر فائز ہیں 📚۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہلبیتؑ کا علم قرآن کے عمیق معانی اور اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے، اور وہ قرآن کے حقیقی مرشد ہیں۔
نتیجہ:
ان تمام نکات کی روشنی میں ہمیں اہلبیتؑ کی اہمیت اور امام زمانہؑ کی معرفت و اہمیت کے بارے میں واضح تفصیل حاصل ہوتی ہے 🌟۔ ان نکات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہلبیتؑ نہ صرف قرآن کے پیروکار ہیں، بلکہ قرآن کے ہم پلہ ہیں اور اس کی حقیقت کو بہتر سمجھ کر لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کا علم اور کردار لوگوں کے لیے ہدایت کا اہم ذریعہ ہے۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
✨🌟✨
سلسلہ دروس امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی روشنی میں
درس 9
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
➖➖➖➖
خلاصہ درس:
1. سورہ اسرا آیت 71
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا
"جس دن ہم ہر قوم کو اس کے امام کے ساتھ اٹھائیں گے، پھر جس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ہوگا، وہ اپنے نامہ اعمال کو پڑھے گا اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔"
تفسیر آیت:
امامت اور رہبری کا مسئلہ انسان کی ہدایت اور تقدیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ امام وہ شخص ہے جس کی اقتداء کی جاتی ہے۔
اگر امام اللہ کا منتخب ہے، تو اس کی پیروی کرنے والے ہدایت یافتہ ہوں گے، اور اگر امام شیطان کا پیروکار ہے تو گمراہ ہوں گے۔
قیامت کے دن امام کی پیروی کرنے والے جنت میں جائیں گے، اور گمراہی کے پیروکاروں کا حساب و کتاب ہوگا۔
2. تاویل آیت:
ہر دور میں نور ہدایت موجود ہے۔
شیعہ سنی دونوں مکاتب فکر میں امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
اگر امام کو پہچان لیا جائے اور ان کی پیروی کی جائے تو انسان قیامت میں امام مہدی کے ساتھ محشور ہوگا۔
3. امام صادق علیہ السلام کا کلام:
"یوم ندعو۔۔۔ کے متعلق سوال کیا تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنے امام کو پہچان لو، اگر تم امام کو پہچان لیتے ہو تو نہ دنیا میں تمہیں کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ آخرت میں۔
اگر کوئی شخص اپنے امام کو پہچان لے اور امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور سے پہلے انتقال کر جائے، تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے وہ امام مہدی کے لشکر میں ہو، بلکہ وہ امام مہدی کے پرچم کے نیچے ہو۔"
4. اہم نکتہ:
امام کی معرفت بہت اہم ہے کیونکہ ہم ایک امام کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ امام پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدا کی طرف پہنچنے کا دروازہ ہیں۔ امام کی اطاعت کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدا کی اطاعت کرنا ہے۔
امام مہدی کی معرفت اور ان کی پیروی کے ذریعے انسان اپنی دنیا و آخرت کی فلاح اور کامیابی کو حاصل کر سکتا ہے۔
🌟✨
👈 جاری ہے
Lesson 9 missing Sadia
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷
" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 10
حدیث من مات کی روشنی میں امام مہدی عج
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ: ✨
حدیث رسولؐ اللہ ہے:
"جو بھی اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کیے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا۔" 💫
یہ حدیث شیعہ سنی کتابوں میں موجود ہے۔ شیعہ اور سنی محدثین میں سے صحاح ستہ کے مولفین نے اس حدیث کو سات صحابہ سے نقل کیا ہے:
1. زید بن ارقم
2. عمر بن ربیعہ
3. عبد اللہ بن عمر
4. عبداللہ ابن عباس
5. ابو درداء
6. معاذ بن جبل
7. معاویہ بن ابی سفیان
ان سات افراد کے علاوہ اسی سے ملتی جلتی احادیث کو ابو ہریرہ اور انس بن مالک نے بھی نقل کیا۔📚
اہل تشیع میں علامہ مجلسی علیہ الرحمتہ نے اس حدیث کو چالیس شیعہ اسناد کے ساتھ بحار الانوار میں ذکر کیا ہے۔🖋️
علمائے اہل سنت نے اس حدیث کو ستر کتابوں سے زائد کتب احادیث میں بیان کیا ہے جن میں چند یہ ہیں:
1. سنن ابی داؤد
2. مصنف حافظ عبد الرزاق بن ھمام صنعانی
3. سنن سعید بن منصور خراسانی
4. طبقات الکبری
5. محمد بن سعد کاتب واقدی
6. مسند حافظ ابو الحسن علی جوہری
7. مصنف ابی شیبہ
8. صحیح بخاری
9. صحیح مسلم وغیرہ
ایک محقق نے اس حدیث کے 33 مضمونوں میں سے 30 مضمون جمع کر کے انہیں مرتب کیا ہے جن میں سے 10 مضمونوں کا تعلق اہل سنت سے اور 13 کا تعلق شیعہ سے ہے، باقی سات ایسے ہیں جو شیعہ اور سنی دونوں کے قابل اعتماد ماخذات میں ذکر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کے ناموں کا بھی ذکر کیا ہے جو اس حدیث کے متواتر ہونے کے دعوے دار ہیں، جن میں بعض کے نام یہ ہیں:
شیخ مفید، شیخ بہائی، علامہ مجلسی، قندوزی حنفی، قاضی بہلول، بہجت آفندی، اور ابن ابی الحدید۔🔍
اس حدیث کے مضمون کی تعبیرات مختلف ہیں۔ اکثر مقام پر "میتۃ جاہلیہ" اور کبھی "مات یہودیہ اور نصرانیا" کی عبارت کے ساتھ بیان ہوئی، کہ جن سے شخص کی بری عاقبت کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ امام صاحب شرائط ہیں، امر الہی کی جانب راغب کرنے والے ہیں، یہ عام شخص نہیں بلکہ معصوم ہیں۔ یہ وہ امام ہیں جن کو نہ پہچاننا جاہلیت ہے اور جن کے احکام کی نافرمانی کرنے کا نتیجہ جہنم ہے۔🔥
اہم نکات:
1. اسلام کے نظریاتی اور فکری نظام میں شرائط کی حامل امامت اور رہبریت کی ضرورت ہے۔
2. ہر عصر میں امامت کا استمرار اور امام کا وجود ضروری ہے۔
3. عصری تقاضوں کے مطابق امام کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے، نہ ممالک اور اقوام کے اعتبار سے۔ 🌍
4. ہر عصر میں اپنے وقت کے امام کی معرفت نہ رکھنے والا انسان جاہلیت کی موت مر جاتا ہے۔
5. علم اور تقویٰ میں سب سے بڑھ کر ہونا ضروری ہے۔📖✨
6. امامت اور خلافت کے ایسے دعوے داروں کی نفی ہے جو امامت کی شرائط سے عاری ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کے راستے امام زمانہؑ کے راستے سے مختلف ہیں اور کوئی بھی شخص ایسے لوگوں کی معرفت نہ رکھنے کو جاہلیت کی موت کا سبب نہیں جانتا۔
7. امام زمانہ عج کی معرفت کے راستوں کا انحصار صرف پیغمبرؐ یا سابق امام کی طرف سے اعلان یا معجزے کے اظہار پر ہے۔✨
8. جو شخص بھی اپنے امام زمانہؑ کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہ رکھتا ہوگا وہ اگر مر جائے تو جاہلیت کی موت مرے گا۔💔
9. حدیث من مات" کے یقینی ہونے کی صورت میں صرف شیعہ اثنا عشری ایسے مسلمان ہیں جو بارہ اماموں کی امامت پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہ جن کے آخری امام حضرت مہدی عج ہیں، جو اس حدیث کے لاریب مصداق ہیں۔ (امام کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں وہ صرف شیعہ کے بارہ اماموں میں موجود ہیں)
10. اس حدیث اور کئی دوسری حدیثوں کی بنیاد پر پیغمبر اکرمؐ کے خلفاء اور آئمہؑ کی تعداد بارہ ہے، اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں خلیفہ اور آخری امام حضرت مہدی موعود عج ہیں۔🌟
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷
" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 11
حدیث "اثنا عشر" کی روشنی میں امام مہدی عج
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
یہ حدیث "اثنا عشر" اہل سنت اور اہل تشیع کے ماخذات میں نہایت معروف حدیث ہے۔ اہلسنت میں تقریباً چالیس سے زیادہ مضامین ہیں حدیث "اثنا عشر" کے۔📖
صحیح بخاری: جابر بن سمرہ کہتے ہیں:
"میں نے پیغمبرؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیشہ اسلام میرے بارہ خلفاء کے ذریعہ عزت پائے گا، اس کے بعد آپؐ نے کوئی لفظ کہا جسے میں نہ سن سکا۔ لہٰذا میں نے اپنے والد سے کہا کہ رسولؐ اللہ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے کہا کہ نبیؐ نے فرمایا ہے: وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔" 🌟
یہ ایک مشہور حدیث ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ رسولؐ اللہ نے اپنے بارہ خلفاء کو کبھی خلیفہ سے تعبیر کیا، کبھی امام سے، کبھی والی، کبھی حاکم سے تعبیر کیا، کبھی امیر اور کبھی نقیب سے تعبیر کیا۔ کبھی فرمایا یہ سارے قریش سے ہیں، کبھی فرمایا یہ سارے بنی ہاشم سے ہیں، کبھی فرمایا یہ سارے میری عترت اور میرے اہلبیتؑ سے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ یہ سارے پے در پے آئیں گے اور ان کے بعد قیامت ہے۔🌍
اہلسنت کے اندر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان سے یہ طے نہیں ہو سکا کہ یہ بارہ کون ہیں۔ عام طور پر وہ خلفاء راشدین سے آغاز کرتے ہیں اور پھر بنو امیہ کے کچھ حکمرانوں کو ملاتے ہیں۔ بعض جو ہیں وہ بنی عباس کو ملاتے ہیں، پھر بھی پورے نہیں ہوتے، اور اگر وہ پورے کر بھی لیں تو پھر قیامت نہیں ہے اور وہ سارے بنی ہاشم بھی نہیں ہیں۔ اور بعض نے فقط بنوامیہ کو ملایا۔ اور بعض نے کہا کہ خلفاء راشدین کے بعد بنوامیہ سے عمر بن عبدالعزیز ہیں اور بنو عباس سے ہارون الرشید اور مامون ہیں۔ اور باقی آئیں گے۔ آج تک ان سے یہ عدد مصداق کے اعتبار سے پورا نہ ہوا، جبکہ اہل تشیع میں یہ واضح ہے۔📝
روایات پر تحقیقی نگاہ: 🔬
محمد بن ابراہیم حموئی شافعی "عبد اللہ بن عباس" سے روایت کرتے ہیں کہ "رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: میرے بعد میرے خلفاء، اوصیاء اور مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی حجتیں بارہ (افراد) ہیں، ان میں سے پہلا میرا بھائی ہے اور ان میں سے آخری میرا بیٹا ہے۔"
کہا، یا رسولؐ اللہ آپ کا بھائی کون ہے؟ تو فرمایا علی ابن ابی طالب، پھر سوال کیا گیا کہ آپؑ کا بیٹا کون ہے؟ تو فرمایا مہدی عج اور وہ ہی ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔⚖️
اس حدیث میں پیغمبر اکرمؐ نے بارہ خلفاء سے مراد کو واضح کرنے کے لئے پہلے امام اور آخری یعنی بارہویں امام کو بیان کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔🕊️
ینابیع المودۃ میں روایت ہے:
"پیغمبرؐ نے ارشاد فرمایا: "میرے بعد میرا خلیفہ اور جانشین علی ابن ابی طالب ہیں اور ان کے بعد میرے دو نواسے حسن پھر حسین ہیں، اس کے بعد حسینؑ کے نو بیٹے امام ہوں گے۔ (نعثل) نے کہا: اے محمدؐ ان نو اماموں کے نام بھی بتائیے؟ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: جب حسینؑ اس دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کے بیٹے علی امام ہوں گے۔ اور جب علی اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے محمد امامت پر فائز ہوں گے، اور جب محمد اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے جعفر امام ہوں گے۔ اور جب جعفر چلے جائیں گے تو ان کے بیٹے موسیٰ امام ہوں گے۔ اور جب موسیٰ اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے علی امام ہوں گے اور جب وہ اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے محمد اور پھر علی امام ہوں گے اور جب علی اس جہان فانی سے آنکھیں بند کریں گے تو پھر انکے بیٹے حسن، تو ان کے بعد حجۃ ابن الحسن امام ہوں گے یہ بارہ امام بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے برابر ہیں۔"👑
ان حدیثوں اور شیعہ و سنی کی دوسری حدیثوں پر توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ خلفاء سے یہی بارہ امام مراد ہیں۔💡
تاریخی پس منظر: 📖
رسولؐ اللہ نے بارہ حجتیں معین کیں کہ جن سے اسلام عزت پائے گا، اور یہ سلسلہ قیامت تک ہے۔
اگر ہم خلفاء راشدین سے لیکر بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کو شمار کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنو امیہ یا بنی عباس تو کسی وقت بھی اسلام کے لیے مایہ عزت نہ تھے، نہ ان میں تقویٰ تھا، نہ علم تھا اور نہ دین۔ یہ سب ختم ہوگئے تو پھر قیامت کہاں ہے؟🌱
پورے عالم اسلام میں اگر بارہ امام دیکھنے ہیں تو وہ مکتب اہلبیتؑ میں ہیں، تو اپنے اپنے زمانے میں تقویٰ الہی کے مظہر ہیں، اسلام اور سنت رسولؐ کے محافظ ہیں۔ آئمہ اہلسنت جن کے شاگرد رہے ہیں۔🌹
خلاصہ حدیث: ✨
1. ✨ آئمہؑ بارہ ہیں
2. ✨ ان کی امامت دنیا کے اختتام تک باقی رہے گی۔
3. ✨ وہ سب کے سب قریش میں سے ہیں۔
4. ✨ شیعہ حضرات کے علاوہ کسی فرقے کا یہ دعوٰی نہیں ہے۔
5. حضرت مہدی عج بارہویں امام ہیں جو 260 ھ ق سے منصب امامت پر فائز ہوئے ہیں۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
عقیدہ مہدویت اور امام پر ایمان کا واجب ہونا
درس 12
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
احادیث خاص ✨✨
پہلے حصے میں احادیث عامہ بیان ہوئیں جن میں حدیث "من ماتَ" ہے، حدیث "ثقلین" ہے۔
اسی طرح حدیث اثنا عشر
اثنا عشر خلیفہ ہے۔ ان احادیث میں رسولؐ اللہ کی ذریت کا ذکر ہے اور جس میں امام مہدی عج بعنوان بارہویں امام کا ذکر ہے۔
امام مہدی ؑ عج کا موضوع وہ موضوع ہے جسے رسولؐ اللہ، آئمہ معصومینؑ اور اصحاب نے بیان کیا۔ اور اگر ان کا شمار کریں تو یہ احادیث 2 ہزار سے زائد ہیں۔
نمونہ کے طور پر صاحب کتاب "منتخب الاثر" جس کے 157 ماخذات ہیں، تو یہاں آیت اللہ صافی نے 900 کے قریب احادیث بغیر تکرار کے مکمل طور پر نقل کی ہیں۔
ہم اس موضوع پر دو عنوان سے بحث کریں گے:
1. شیعہ سنی کا مشترکہ نقطہ نظر
2. اختلافی نظریہ
سب سے پہلے ہم مشترکہ نقطہ نظر پر گفتگو کرتے ہیں۔ اور اس کے 14 نکات درج ذیل ہیں جن پر شیعہ و سنی متفق ہیں۔
1. ✨ عقیدہ مہدویت:
2. ✨ امام مہدی ؑ عج کے سلسلے میں اعتقاد رکھنا واجب ہے
3. ✨ امام مہدیؑ عج کی حکومت اور دعوت کا عالمگیر ہونا
4. ✨ حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہو کر حضرت مہدی عج کی اقتداء کرنا
5. ✨ خسف بیداء
6. ✨ لقب مہدی عج پر اتفاق
7. ✨ امداد الہیٰ
8. ✨ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
9. ✨ امام مہدی عج حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہیں
10. ✨ امام ؑ کی ظاہری صفات
11. ✨ امام مہدی ؑ کے زمانہ میں نعمتوں کی کثرت
12. ✨ رکن کعبہ و مقام ابراہیم کے درمیان بیعتِ
13. ✨ عدالت
14. ✨ پیغمبرؐ کا ہمنام ہونا
1. عقیدہ مہدویت: 💫💫
عقیدہ مہدویت پر شیعہ سنی کا اتفاق نظر ہے، تمام امت مسلمہ سوائے چند لوگوں کے جو مغرب زدہ ہیں اور بظاہر روشن فکر ہیں جیسے احمد امین مصری وغیرہ، سب اس مسئلہ پر اتفاق نظر ہے کہ آخر الزمان میں مہدی نامی شخص جو رسولؐ اللہ کی اولاد میں سے ہوں گے وہ ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
اس عقیدہ پر تاکید کی وجہ وہ کثیر روایات ہیں جو تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں، کہ جنہیں پیغمبرؐ اسلام نے اسی موضوع پر بیان فرمایا ہے۔ یہ واضح سی بات ہے کہ جو بھی مسئلہ تواتر کی حد تک پہنچ جائے وہ شک و تردید سے خارج ہو جاتا ہے اور وہ انسان کو منزل یقین پر لا کھڑا کرتا ہے۔
مشہور شیعہ شخصیت شہید صدر اس بارے میں فرماتے ہیں:
"بے شک حضر مہدی ؑ پر بحثیت ایک ایسے منتظر پیشوا کے عقیدہ رکھنا جو دنیا کو بہتر جہاں میں تبدیل کریں گے، یہ موضوع احادیث پیغمبر اسلامؐ میں بالعموم اور روایات اہلبیتؑ میں بالخصوص بیان کیا گیا ہے اور بہت زیادہ روایات کے ساتھ مستحکم انداز میں اس موضوع پر نہایت تاکید کی گئی ہے کہ انسان کے لئے کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔"
صرف اہل سنت کی کتابوں میں رسولؐ اللہ سے مہدویت کے موضوع پر 400 کے قریب احادیث جمع ہوئیں ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق ان روایتوں کی تعداد 6000 سے بھی زائد ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے کہ جس کی مثال اسلام کے دیگر بنیادی مسائل میں نہیں ملتی، ایسے مسائل کہ جن میں عموماً مسلمانوں کو شک و تردید نہیں ہوتی۔
اہل سنت کے علماء ✨
حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ:
"تواتر الاخبار بان المہدی من ھذہ الامتہ"
تواتر کی حد تک روایات دلالت کرتی ہیں کہ مہدی عج اسی امت اسلام میں سے ہیں۔
قاضی شو کانی کہتے ہیں:
"و ھی متواترۃ بلا شک و لا شبهة"
مہدی عج کے سلسلے میں حدیثیں بلا شک و تردید متواتر ہیں۔
ابن حجر ہیثمی کہتے ہیں:
"والا حادیث التی جاء فیھا ذکر ظہور المہدی کثیرۃ متواترۃ"
وہ احادیث جن میں حضرت مہدی عج کے ظہور کا ذکر آیا ہے وہ بہت زیادہ اور متواتر ہیں۔
دمشقی کہتے ہیں:
"علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مہدیؑ وہی شخص ہے جو آخر الزمان میں قیام کرے گا اور ان کے ظہور کی احادیث اور اخبار ایک دوسرے کی تائید میں ہیں۔"
مبارکفوری کہتے ہیں:
"جان لو کہ تمام گزرتے ہوئے زمانوں کے تمام مسلمانوں کے درمیان یہ بات مشہور رہی ہے کہ یقینی طور پر آخر الزمان میں اہلبیت میں سے ایک شخص ظہور کرے گا جس کا نام مہدی عج ہے۔"
💫💫
2. امام مہدی ؑ عج الشریف کے سلسلے میں اعتقاد رکھنا واجب ہے 💫
قرآن مجید میں سورہ البقرہ:
"ذالک الکتاب لا ریب فیہ ھدی اللمتقین الذین یؤمنون بالغیب"
وہ کتاب قرآن جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے، متقین کے لئے ہدایت ہے کہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
شیخ صدوق رح ان دو روایات سے تمسک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"کسی مومن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس چیز کی معرفت حاصل نہ کر لے کہ جس پر ایمان لانا چاہتا ہے، اس طرح ہر شخص جو مہدی عج کو قبول کرتا ہے لیکن یہ اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں دے گا جب تک وہ زمانہ غیبت میں آنحضرت کی شان و منزلت کی معرفت نہ حاصل کر لے۔"
اسی لئے شیعہ اور سنی روایات میں ظہور مہدی ؑ عج کے منکر کو کافر سمجھا جاتا ہے۔ جابر بن عبداللہ نے رسولؐ اللہ (ص) سے نقل فرمایا:
"جو شخص بھی ظہور مہدیؑ کا منکر ہے اس نے حضرت محمدؐ پر نازل ہونے والی ہر چیز کا انکار کیا اور وہ کافر ہو گیا۔"
امام صادق ؑ ایک روایت میں غیب کے مصاریق کے بارے میں فرماتے ہیں:
"متقین" سے مراد شیعان علی ابن ابی طالب ؑ ہیں اور غیب کے مصایق میں سے ایک وہی حجت غائب ہیں یعنی مہدی منتظرؑ۔
اہل سنت میں سے ایک عالم احمد بن محمد بن صدیق کہتے ہیں:
ظہور مہدی ؑ عج پر ایمان رکھنا واجب اور ان کے ظہور پر عقیدہ رکھنا پیغمبرؐ کی حتمی اور یقینی خبر کی تصیق کی بنا پر ہے۔
سفارینی جنبلی کہتے ہیں:
ظہور مہدی پر ایمان رکھنا واجب ہے جیسا کہ یہ حقیقت اہل علم کے نزدیک ثابت اور اہل سنت والجماعت کے عقائد میں رائج ہے۔
شیخ ناصر الدین البانی وہابی کہتے ہیں:
بے شک ظہور مہدی ؑ عج الشریف کا عقیدہ ثابت اور پیغمبر اسلام سے متواتر ہے کہ اس پر ایمان رکھنا واجب ہے کیونکہ یہ عقیدہ ان امور میں سے ہے کہ جن پر ایمان کو قرآن میں متقین کی صفات میں شمار کیا گیا ہے۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
آپ کے مواد میں تمام حصوں کے آخر میں ایموجی شامل کر دیے گئے ہیں، یہ رہا آپ کا مواد:
---
🌷🌷
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 13
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
عالمگیر مہدوی حکومت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی عج کی اقتداء کرنا، خسف بیداء، لقب مہدی
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ : 💫
امام مہدی ؑ عج کی حکومت اور دعوت کا عالمگیر ہونا:
امام زمانہؑ دنیا کے کسی خاص حصے میں حاکم نہیں ہوں گے۔ پوری زمین ان کے اختیار میں ہو گی اور وہ پوری زمین کو دعوت اسلام دیں گے۔ اور وہ پوری زمین پر حاکم ہوں گے۔ اس پر شیعہ سنی دونوں کا اتفاق ہے۔ اور بہت سی روایات اور آیات اس پر گواہ ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں سورہ انبیاء کی 105 نمبر آیت میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے:
"اور ہم نے ذکر (تورات) کے ساتھ زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔" 🌟
اسی طرح سورہ نور کی آیت نمبر 55 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ "اللہ تعالی کا تم میں سے صاحب ایمان اور عمل صالح انجام دینے والے لوگوں سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں ضرور ضرور زمین میں خلیفہ قرار دے گا۔" 🌟
ان آیات کے علاوہ اس موضوع پر فریقین میں کئی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔
حاکم نیشا پوری نے ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے کہ "رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی تو اسی دوران میں عترت میں سے ایک شخص خروج کرے گا جو سات یا نو سال تمام زمین کا مالک ہوگا اور اسی دوران وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔" 🌍
ہمارے آئمہؑ سے بھی یہ روایت موجود ہے۔ اور یہاں سات سال سے مراد ایک سال 10 سال کے برابر ہوگا۔ یعنی مولاؑ کی حکومت 70 سال ہوگی۔
امام باقرؑ نے ارشاد فرمایا:
"امام مہدی عج 309 سال زمین پر حاکم ہوں گے۔ بالکل اتنی ہی مدت جتنا اصحاب کہف غار میں سوئے رہے۔ اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح کہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ اللہ تعالی ان کے لیے دنیا کے مشرق و مغرب کو فتح کرے گا تاکہ زمین پر صرف دین محمدؐ باقی رہ جائے۔" 💫
---
4۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہو کر حضرت مہدی عج کی اقتداء کرنا:
امت مسلمہ کی حدیثوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جب حضرت مہدی ؑ عج ظہور کریں گے تو حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوں گے اور نماز میں امام مہدی کی اقتداء کریں گے۔ 🌟
اس حوالے سے ابوہریرہ نے رسولؐ اللہ سے روایت کی ہے "تم لوگوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ جب فرزند مریم نازل ہوں گے، اور تمھارا امام تم میں سے ہی ایک شخص ہوگا۔"
ابو بصیر کہتے ہیں کہ "میں نے امام جعفر صادق ؑ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: عیسی ابن مریم نازل ہوں گے اور وہ امام مہدی ؑ عج کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔" 💫
---
5۔ خسف بیداء:
یہ ایک اہم ترین علامت ہے علامات ظہور میں سے جو شیعہ سنی دونوں میں پائی جاتی ہے۔
حضرت عائشہ پیغمبر اسلام ؐ سے حدیث بیان کرتی ہیں کہ "لشکر جب کعبہ کی طرف بیدا ء پر پہنچے گا تو زمین ان سب کو نگل لے گی۔" 🌍
جابر کہتے ہیں۔ امام محمد باقرؑ نے فرمایا: "جب سفیانی کا سپہ سلال اپنے لشکر کے ہمراہ سرزمین بیداء پر اترے گا تو آسمان سے منادی ندا دے گا اے سرزمین بیداء! اس قوم کو تباہ و برباد کردے پس زمین انہیں نگل لے گی۔" 💫
---
6۔ لقب مہدی ؑ عج پر اتفاق:
امام مہدیؑ عج کے بارے میں ایک اور امر جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، وہ آپؑ کا لقب مبارک ہے جو آپؐ کے وجود مقدس کے لیے بولا جاتا ہے اور وہ لقب "مہدی" ہے۔ 🌟
کعب کہتے ہیں "بے شک ان کو مہدی کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایک مخفی امر کی جانب ہدایت فرمائیں گے۔"
امر مخفی سے مراد توریت و انجیل ہے جو مخفی ہیں اور ان کے حقائق کا کسی کو علم نہیں ہے۔
ابو سعید خراسانی سے منقول ہے کہ "میں نے امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا کہ کیا 'مہدی' اور 'قائم' ایک ہی شخص ہیں؟ تو امام ؑ نے فرمایا ہاں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ 'انہیں مہدی کیوں کہا جاتا ہے؟' تو آپؑ نے فرمایا: 'اس لئے کہ وہ ہر امر مخفی کی طرف ہدایت کئے جائیں گے۔'" 💫
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
⭐⭐
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 14
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
الہی امداد اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
⭐ استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
---
خلاصہ :
---
7. امداد الہٰی❣️
ایک اہم نکتہ جس پر شیعہ سنی دونوں احادیث کی رو سے موضوع مہدویت پر اتفاق نظر رکھتے ہیں وہ امداد الہٰی ہے۔ کہ جب امام زمانہؑ ظہور فرمائیں گے تو پروردگار عالم ان کی مدد فرمائے گا۔ امام مہدی عج کا ایک لقب منصور بھی ہے۔ کیونکہ امامؑ کی نصرت اللہ کی جانب سے ہوگی۔ بعض روایات کہتی ہیں کہ امامؑ کی مدد فرشتوں کے ذریعے ہو گی جیسے جنگ بدر میں ہوئی۔ لیکن بعض روایات اس سے زیادہ بیان کر رہی ہیں کہ کائنات کی ہر چیز حتی کہ پتھر اور چٹانیں بھی پروردگار کے حکم سے امام زمانہؑ اور ان کے سپاہ کی مدد کریں گی۔
پہلی حدیث صحیح بخاری سے ہے: ابو ہریرہ پیغمبرؐ سے نقل کرتے ہیں: "قیامت برپا نہ ہو گی جب تک یہودیوں کے ساتھ جنگ نہ ہو جائے یہاں تک کہ ہر وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی چھپا ہو گا وہ کہے گا: اے مسلمانوں میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اسے قتل کر دو۔"
یہاں حدیث کو تراشا گیا ہے اور بیان میں کمی کی گئی ہے لیکن یہی روایت تفصیل کے ساتھ کمال الدین میں درج ہے۔
ابو بصیر امام صادق ؑ سے روایت کرتے ہیں:
"جب قائم خروج کریں گے تو کوئی بھی خدا کا انکار کرنے والا کافر اور مشرک باقی نہیں رہے گا سوائے اس کے کہ وہ ان کے خروج کو پسند نہ کرتا ہو۔ کیونکہ زمانہ خروج میں) اگر کافر یا مشرک کسی پتھر کے اندر بھی چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول کر کہے گا: اے مومن میرے اندر کافر ہے آؤ مجھے توڑ دو اور اسے قتل کر دو۔"❣️
---
8. سورج کا مغرب سے طلوع ہونا❣️
مشترکہ نکات میں اہم ترین نکتہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ جس کی طرف اہل سنت اور شیعہ دونوں نے اشارہ کیا ہے۔
ابو ہریرہ نے پیغمبرؐ سے یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"قیامت برپا نہیں ہو گی حتی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا، بس جب سورج مغرب سے طلوع ہوجائے گا تو لوگ اسے دیکھ کر ایمان لے آئیں گے، لیکن اس وقت ایسے لوگوں کا ایمان لانا جو اس سے پہلے صاحب ایمان نہ تھے یہ ان کے لئے (صرف ظاہری ایمان ہے کوئی فائدہ مند نہ ہو گا)۔"
شیعہ روایات کے اندر یہ مولاؑ امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت ہوگا۔ یہ ظہور کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ اور یہ حتمی علامت نہیں۔
حتمی علامات فقط پانچ ہیں:
سفیانی کا خروج
خسف بیداء
یمانی کا قیام
آسمانی ندا
نفس ذکیہ ء کا قتل
سورج مغرب سے کس طرح طلوع ہو گا تو اس میں علمائے کرام کے مختلف نظریات ہیں۔ اور ان کا خلاصہ یہ ہے:
قیامت سے پہلے یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ قدرت خدا سے زمین کی حرکت کچھ لمحوں کے لیے متوقف ہو گی اور زمین اپنی حرکت کے برعکس سورج کے گرد حرکت کرے گی۔ اور وہ مغرب سے طلوع ہو گا اور پھر دوبارہ سے اسی طرح اپنی حرکت کرے گا جیسے معمول کے مطابق کرتا تھا۔
یعنی خدا دنیا پر قیامت بپا کرنے سے پہلے اپنی قدرت دکھائے گا۔ لوگ اس کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے لیکن تب کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
پہلے بھی یہی ہوتا تھا جب لوگ کوئی معجزہ دیکھتے تھے ایمان لے آتے تھے اور پھر دوبارہ کفر اختیار کرلیتے تھے۔
بعض علماء یہ کہتے تھے کہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونے کا مطلب امام زمانہؑ عج کا ظہور ہے جو مغرب سے ظاہر ہوگا اور پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔
یعنی یہ آفتاب ولایت ہے، جس سے تمام دنیا میں امن و امان ہو جائے گا۔ اور جب امامؑ اپنی طاقت سے حکومت فرمائیں گے، تو یہ اس وقت لوگ خوف سے ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ دل سے ایمان نہ لائیں گے اور فساد برپا کریں گے۔ ایسے لوگوں کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا۔
اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امامؑ مغرب سے طلوع کریں گے۔ جبکہ امام مکہ سے ہیں؟ بعض لوگوں کی آراء ہے چونکہ امامؑ کی والدہ کا تعلق روم سے تھا تو اس لیے مغرب سے طلوع شمار ہوگا، رومی لوگ امامؑ سے لڑیں گے نہیں بلکہ ساتھ دیں گے۔ یعنی مسیحی لوگ امام کا ساتھ دیں گے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ آئیں گے تو امامؑ کا ساتھ دیں گے اور امامؑ کو تقویت دیں گے۔ یہ وہ آراء ہیں جن پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
👈 جاری ہے
💫❣️
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
⭐⭐
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 15
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
امام مہدی عج کا اولاد حضرت فاطمہ سے ہونا، ظاہری صفات، زمانہ ظہور میں نعمتوں کی فراوانی، زمین کا عدل سے بھرنا وغیرہ
⭐ استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ :
---
⭐9۔ امام مہدیؑ عج حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہیں:
اہل سنت اور شیعہ کے درمیان ایک مشترک موضوع یہ ہے کہ حضرت مہدیؑ پیغمبرؐ کے اہل بیتؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد سے ہیں۔ اس حوالے سے دونوں کی کتابوں میں احادیث موجود ہیں۔ بعنوان مثال سنن ابی داؤد سے روایت ہے کہ:
ام سلمہ رح پیغمبرؐ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں:
المھدی من عترتی من ولد فاطمہ
"مہدی عج میری عترت میں سے اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہیں۔"
اس سے ایسے لوگوں کی نفی ہے جو اہل سنت کے اندر کہتے ہیں کہ یہ مہدیؑ ہی حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ ایسا نہیں بلکہ یہ مہدیؑ فرزند زہراؑ ہیں۔
---
⭐10۔ امامؑ کی ظاہری صفات:
امامؑ کی ظاہری صفات پر بھی شیعہ سنی دونوں نے اپنی اپنی حدیث کی کتابوں میں بیان کیا۔
ابو سعید خدری رسولؐ اللہ سے روایت نقل کرتے ہیں: "مہدی مجھ سے ہیں، ان کی پیشانی کشادہ، ناک کشیدہ اور بلند ہے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔"
ابی وائل کہتے ہیں کہ امام علیؑ نے امام حسینؑ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: 🌹
خداوند متعال جلد ہی اس (حسینؑ) کے صلب سے ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہم نام ہو گا۔ اس کی پیشانی کشادہ، ناک کشیدہ، اور بلند ہو گی۔ اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ وہ ظلم ستم سے پر ہو چکی ہو گی۔
---
⭐11۔ امام مہدیؑ کے زمانہ میں نعمتوں کی کثرت:
اس حوالے سے دونوں طرف روایات موجود ہیں کہ زمانہ ظہور میں خیر و برکت اور نعمتوں کی فراوانی ہے جو اس زمانے کے لوگوں کو میسر ہو گی۔
سنن ابی ماجہ سے ابو سعید خدری پیغمبر اسلام سے روایت نقل کرتے ہیں:
"مہدی میری امت میں سے ہیں، اگر اس کی مدت کم ہو تو سات سال ورنہ نو سال حکومت کریں گے۔ پس ان کے زمانہ میں میری امت ایسی نعمتیں دیکھے گی جو ہرگز اس سے پہلے انہوں نے نہ دیکھی ہو گی۔ مال و سرمایہ اس زمانہ میں ان کے پاس جمع ہو گا، پس ایک مرد کھڑا ہو گا اور کہے گا: 'اے مہدی عطا کرو' اور اسے کہا جائے گا: 'لے لو'۔" یعنی لوگوں کو بیت المال سے عطا کیا جائے گا۔
غیبت نعمانی سے روایت نقل کرتے ہیں:
پیغمبرؐ نے مجھ علیؑ سے فرمایا: "اے علیؑ! تمہاری اولاد میں سے گیارہ امام ہیں جو ہدایت یافتہ اور معصوم ہیں، اور تم ان اماموں سے پہلے ہو اور ان میں سے آخری میرا ہم نام ہو گا۔ جب وہ ظہور کرے گا تو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ وہ ظلم و ستم سے پر ہو چکی ہو گی۔ ایک شخص اس کے پاس آئے گا تو اموال جو امام کے پاس جمع ہیں، وہ کہے گا 'اے مہدیؑ مجھے عطا کیجئے'، پس امام فرمائیں گے 'لے لو'۔"
---
⭐12۔ رکن کعبہ و مقام ابراہیمؑ کے درمیان بیعت:
مسند احمد میں احمد ابن حنبل ایک روایت میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں: "رکن و مقام کے درمیان مہدی کی بیعت کی جائے گی۔"
غیبت طوسی کے اندر جو روایت ہے، جابر بن جعفی امام باقرؑ سے نقل کرتے ہیں: "رکن و مقام کے درمیان قائم سے تین سو کچھ افراد جو اہل بدر کی تعداد کے برابر ہوں گے بیعت کریں گے۔"
---
⭐13۔ عدالت:
امام مہدیؑ عج کی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا وسیع اور عام عدالت سے حامل ہونا ہے۔ سنن ابی داؤد میں ابو سعید خدری نے پیغمبرؐ سے ایک حدیث کو نقل کیا:
"مہدی مجھ سے ہیں، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔"
کمال الدین میں صقر بن ابی دلف کہتے ہیں؛ "میں نے امام ھادی علی نقیؑ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:🌹
'میرے بعد میرے فرزند حسن امام ہو گا اور حسن کے بعد ان کا فرزند قائم ان کا جانشین ہے۔ وہ کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔'"
---
⭐14۔ پیغمبرؐ کا ہم نام ہونا:
امام کے نام مبارک پر بھی شیعہ و سنی مشترکہ نظریہ رکھتے ہیں۔ سنن ابی داؤد میں عبداللہ نے رسولؐ اللہ سے نقل کیا ہے: "دنیا آخر تک نہیں پہنچے گی یا دنیا ختم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ میری اہل بیت سے ایک مرد جو میرا ہم نام ہے عرب پر حاکم نہ ہو جائے۔"
ہشام بن سالم کمال الدین میں امام جعفر صادقؑ سے روایت نقل کرتے ہیں:
"قائم میرے فرزندوں میں سے ہے۔ اس کا نام میرا نام، اس کی کنیت میری کنیت، اس کے شمائل و صفات میرے شمائل و صفات اور اس کی سنت میری سنت ہے۔"
👈 جاری ہے
---
💫❣️
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
💫⭐
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 16
احادیث خاص 📚
امام مہدی عج کے موضوع پر اختلافی آراء
امام زماں عج کی ولادت اور نسب پر اختلاف
⭐ استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ 📖
---
2۔ اختلافی نقطہ نظر:
شیعہ سنی مکاتب کے اندر مہدویت کے بارے اشتراکات زیادہ ہیں اور کچھ مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں، جس کی بڑی مثال امام مہدیؑ کی ولادت ہے۔
اہل سنت کہتے ہیں کہ امام مہدیؑ ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ آخر الزماں میں پیدا ہوں گے، جوان ہوں گے اور قیام کریں گے، جب کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امامؑ 255 ھجری میں تشریف لا چکے ہیں اور 260 ھ میں اپنے والد گرامی کی شہادت کے وقت آپ غائب ہو گئے۔
اب اگر کسی بھی ہستی کی ولادت کو ثابت کرنا ہو تو عقلی منطقی اور حدیث کی رو سے دلائل کی دنیا میں جو دلائل ہونے چاہیے، تو سب سے پہلے دیکھیں کہ آپ کے والد گرامی کیا کہہ رہے ہیں اپنے فرزند کی ولادت کو ثابت کر رہے ہیں۔ ان کی دایہ سے کیا نقل ہوا؟ اور بچپن میں انہیں کسی نے دیکھا ہے؟
امام زمانہؑ عج کی ولادت کی سب سے پہلی بشارت ان کے دادا امام علی نقیؑ نے دی تھی کہ میرے بیٹے حسن عسکریؑ سے میرا وہ پوتا آئے گا جس نے زمین کو عدل و انصاف سے بھرنا ہے۔ 🌍
اور پھر امام حسن عسکریؑ نے بھی وقت ولادت اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کیا اور خدا کا شکر کیا کہ میں نے اپنے فرزند کی زیارت کی۔ 🙏
پھر دایہ بی بی حکیمہ خاتون نے نومولود کی زیارت کی اور ولادت کی گواہی دی۔ اور امامؑ کے بچپن میں امام عسکریؑ کے کتنے ہی اصحاب نے اور علماء، فقہاء اور صالحین نے امامؑ کی زیارت کی اور سوالات کیے۔ وجود امامؑ کی برکت سے معجزات ہوئے۔ ✨
پھر غیبت صغرٰی میں امام زمانہؑ نے اپنے نائبین مقرر کیے اور 90 کے قریب امام زمانہؑ کے خطوط ہیں جو ہماری کتابوں میں نقل ہوئے۔ 📜
اور اس غیبت کبریٰ کے ہزار سالہ دور کے اندر سینکڑوں لوگوں کی مولا سے ملاقاتیں ہیں۔ جو کہ دلیل ہے اس بات کی کہ امامؑ پیدا ہو چکے ہیں اور دنیا حجت خدا کے وجود سے خالی نہیں۔
لیکن اس کے باوجود بعض مکاتب اسلام امامؑ کے وجود کو نہیں مانتے، اگرچہ ان کے اندر بھی ایسے لوگ رہے ہیں جنہوں نے امامؑ کے وجود کا اقرار کیا، اگرچہ وہ شیعہ نہیں تھے۔
اسی کی بہت بڑی مثال ابن عربی ہیں جو اہل سنت کے اندر ایک بہت بڑی ہستی ہیں، انہوں نے اقرار زیارت کیا ہے۔ 👤
ایک روایت احمد بن اسحاق کی ہے، کہتے ہیں کہ میں امام عسکریؑ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپؑ نے فرمایا: "میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے دنیا سے نہیں اٹھایا یہاں تک کہ مجھے اپنا جانشین دکھایا ہے۔" 🙌
2۔ امام حسن عسکریؑ کا خادم ابی غانم کہتا ہے: ابو محمد امام حسن عسکریؑ کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے محمد (ص) رکھا، اس کے بعد تیسرے دن امام حسن عسکریؑ نے اس فرزند کی اپنے اصحاب کو زیارت کروائی اور فرمایا: "یہ میرے بعد تمہارا امام، سردار اور میرا جانشین ہے، یہ وہی قائم ہے کہ جس کے انتظار کے لیے لوگ منتظر ہوں گے۔" 🕊️
3۔ امام ھادی (علی نقیؑ) نے ارشاد فرمایا: "میرے بعد میرا بیٹا حسن امام ہوگا اور حسن کے بعد اس کا بیٹا قائم (امام ہے)، وہی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔" ⚖️
ان روایات کے مجموعہ کو دیکھتے ہوئے امام کی ولادت پر روایات کے موضوع تواتر کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔
---
2-2 : امام مہدیؑ عج کا نسب
ایک مسئلہ ہمارے اور اہل سنت کے اندر اختلاف ہے جو کہ امامؑ کا نسب ہے۔ ان کے ہاں اکثر روایات اس بات پر دلیل ہیں کہ امام مہدیؑ امام حسینؑ کی نسل سے ہیں، لیکن ایک روایت ایسی ہے جو باعث اختلاف ہے، انہوں نے ہماری ضد میں امامؑ کو فرزند امام حسن کہا اور حسنی کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔
یہ روایت سنن ابی داؤد میں آئی ہے اور وہ حدیث یہ ہے:
"حضرت علیؑ نے اپنے فرزند امام حسنؑ کی طرف نگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: بے شک میرا یہ بیٹا سید وہ سردار ہے جیسا کہ پیغمبر اسلامؐ نے انہیں اس نام سے موسوم کیا ہے اور ان کے صلب سے وہ شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے پیغمبرؐ جیسا ہو گا۔ وہ خلقت میں بھی ان کا مشابہ ہوگا۔" 👑
اس میں کاتب کی غلطی ہے کہ اس نے نقطے نہیں لگائے۔ کیونکہ ایک اور روایت ہے جس میں امام حسینؑ کا ذکر ہے۔
اب اس روایت کی سب سے پہلے ہم سند دیکھیں گے اور پھر مضمون اور پھر وہ احادیث جو امام حسینؑ کے متعلق روایت ہیں۔
اہل سنت کے اندر اور بھی راوی گزرے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو سنن ابی داؤد سے نقل کیا ہے لیکن لفظ حسینؑ لکھا ہے۔
جزری شافعی نے اس حدیث کو ابی داؤد سے نقل کیا ہے، لیکن اس میں حسن کے بجائے حسین ہے۔
2- سند کامل نہیں: کیونکہ جس شخص نے حضرت علیؑ سے نقل کیا، وہ اسحاق سبیعی ہے۔ اس کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نے ایک حدیث بھی خود مولا علیؑ سے سنی ہو۔ جیسا کہ منذری نے اس حدیث کی تشریح میں اس نکتہ کی تصریح کی ہے، وہ حضرت علیؑ کی شہادت کے وقت سات سال کا تھا۔
3۔ یہ حدیث کی سند مجہول ہے: ابی داؤد کہتے ہیں کہ میرے لیے ہارون بن مغیرہ سے یہ حدیث نقل ہوئی اور مجھے معلوم نہیں وہ کون تھا۔
جناب حذیفہ نے کہا کہ پیغمبرؐ اسلام نے خطبہ ارشاد فرمایا اور ہمارے لیے مستقبل کی خبریں بیان فرمائیں اور پھر فرمایا: "اگر دنیا کی عمر سے صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تو بھی خداوند عالم اسے اس قدر طولانی کرے گا کہ میری اولاد میں سے ایک مرد قیام کرے جو میرا ہمنام ہے۔" 🌅 سلمان اٹھے اور عرض کیا: "اے رسولؐ اللہ، آپ کے کون سے فرزند میں سے؟" تو آپ نے فرمایا: "اس فرزند" اور آپؐ نے ہاتھ سے حسینؑ کی جانب اشارہ کیا۔
اس کے علاوہ ہماری شیعہ کتابوں میں جو احادیث نقل ہوئی ہیں، تو امام مہدیؑ حسینی ہیں اور ماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام محمد باقرؑ کی والدہ امام حسنؑ کی بیٹی تھیں۔
اہل سنت کے بعض علماء کے نام درج ذیل ہیں جنہوں نے امام زمانہؑ کے حسینی ہونے کا اعتراف کیا:
1. علامہ ابن قتیبہ دینوری
2. حافظ اب الحسن علی بن عردار قطنی شافعی
3. حافظ ابو نعیم اصفہانی
4. موفق بن احمد ملکی خوارزمی خطیب
5. شیخ السلام ابو العلاء حسن بن احمد بن حسن عطار ہمدانی
6. ابن ابی الحدید
---
👈 جاری ہے
💫⭐
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
✨🌟✨
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 17
کچھ اعتراضات کا جواب
پہلا اعتراض: کیوں احادیث مہدویت صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں؟ اور اسکا جواب
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ :
👈 پہلا اعتراض:
امام مہدیؑ کے بارے میں احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کیوں نہیں آئی؟ کیا ان کے نزدیک مہدویت کا موضوع ایک اسلامی عقیدہ نہیں تھا؟ کیا وہ اسے حقیقی معنوں میں ان موضوعات میں نہیں لیتے جنہیں رسولؐ اللہ نے بیان کیا؟
ہم اس سوال کا جواب نکات کی صورت میں دیتے ہیں۔
1. صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں احادیث مہدویت موجود ہیں:
یہ اس بات کی علامت ہے کہ اعتراض کرنے والے نے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ ✨📖
2. تمام احادیث مہدویت ان میں موجود نہیں:
یہ درست ہے کہ تمام احادیث مہدویت ان میں نہیں لیکن ایک بڑی تعداد اور مہدوی موضوعات کا ذکر ہے۔ جناب بخاری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں ایک لاکھ احادیث جمع کی ہیں اور کئی احادیث چھوڑ دی ہیں، جو کہ دوسری کتابوں میں آئی ہیں۔ 📚📝
3. صحیح بخاری میں امام مہدیؑ کا ذکر:
صحیح بخاری میں امام مہدیؑ کے بارے میں احادیث جیسے آپ کا نام، اوصاف اور حکومت کا ذکر ہے، مگر کلمہ "مہدیؑ" نہیں، بلکہ "رجل" (مرد) کے ساتھ آئی ہیں۔ 🤔✨
4. بہت سی احادیث کتابوں سے نکالی گئی ہیں:
جیسے صحیح مسلم میں سے کچھ احادیث نکالی گئیں ہیں۔ 📜❌
5. اہل سنت کے بعض علماء کی روایات:
مثلاً، ابن حجر ہیثمی، متقی ہندی، شیخ محمد علی صبان اور شیخ حسن عدوی نے اپنی کتابوں میں امام مہدیؑ کے متعلق احادیث نقل کی ہیں، مگر یہ بھی اب کتابوں سے نکالی جا رہی ہیں۔ 📚🔍
6. صحیح بخاری اور مسلم کی احادیث:
صحیح مسلم میں 10 احادیث دجال کے خروج اور امام مہدیؑ کے ظہور کے بارے میں ہیں۔ ان میں حضرت عیسیٰؑ کے متعلق بھی احادیث ہیں۔ 📖👀
7. اہل سنت کی دوسری کتابوں میں امام مہدیؑ کے بارے میں روایات:
ابن ابی شیبہ اور ابو نعیم نے اپنی کتابوں میں امام مہدیؑ کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ ہوں گے۔ 👥🕊️
8. فتح الباری، عمدۃ القاری اور فیض الباری میں مہدویت کے بارے میں تفصیل:
ان کتابوں میں امام مہدیؑ کی تفسیر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ امام مہدیؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ 🙏📖
9. صحیح مسلم کی احادیث:
مسلم نے حدیث نقل کی ہے کہ آخر الزمان میں امام مہدیؑ مال کی بڑی بخشش کریں گے، اور حدیث "خسف بیداء" میں بھی امام مہدیؑ کا ذکر ہے، اگرچہ ان کا نام نہیں لیا گیا۔ 💰🌍
نتیجہ:
صحیح بخاری اور مسلم میں امام مہدیؑ کا ذکر موجود ہے، لیکن بعض اوقات ان کا نام "رجل" (مرد) کے طور پر آیا ہے، اور کئی احادیث کو کتابوں سے نکال دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود امام مہدیؑ کے بارے میں مختلف کتابوں اور احادیث میں صراحت سے ذکر موجود ہے۔ 📖✨
👈 جاری ہے
🌹💠🌹
امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے
درس 18
کچھ اعتراضات کا جواب
دوسرا اعتراض: ابو خلدون اور الازھر کے کچھ علماء کا احادیث مہدویت کا انکار
اس اعتراض کا جواب
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ:
ابن خلدون جو ایک بہت بڑے عالم تھے، انہوں نے احادیث مہدویت کا انکار کیا اور اس کے بعد "الازہر یونیورسٹی" کے پروفیسر سعد محمد حسن، جو احمد امین کے شاگرد ہیں، نے بھی ابن خلدون کے نظریہ کی تائید کی۔ اس طرح ابوزہرہ، محمد فرید وجدہی، جبہان اور سائح لیبی نے بھی یہی نظریہ اپنایا، کہ ابن خلدون نے ان احادیث پر ناقدانہ نظر ڈالتے ہوئے ان میں سے اکثر کو ضعیف قرار دیا اور ان کی نظر میں حضرت عیسیٰؑ کے علاوہ کوئی مہدی نہیں ہے۔
ابن خلدون کے احادیث کو ضعیف قرار دینے کی حقیقت:
👈پہلی بات یہ ہے کہ ابن خلدون نے تمام احادیث مہدویت کا انکار نہیں کیا تھا، بلکہ کچھ کو قبول کیا تھا۔ انہوں نے 23 احادیث میں سے 19 کا انکار کیا اور ضعیف قرار دیا، اور باقی کو انہوں نے قبول کیا۔ اس انکار کی وجہ سے اہل سنت کے علماء نے ان کے خلاف تنقید کی اور ابن خلدون کا شدید مواخذہ کیا۔
اہل سنت کے علماء نے ابن خلدون کے اس نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ آپ تاریخ اور سوشیالوجی میں ماہر ہیں، لیکن آپ کا علم حدیث اور علم رجال سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ ان میں ماہر نہیں ہیں۔
👈دوسری بات یہ ہے کہ جو احادیث مہدویت پر ثابت ہیں، ان میں متواتر احادیث بھی ہیں اور بہت بڑی تعداد میں صحیح احادیث بھی موجود ہیں۔
لہٰذا، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا موضوع جس پر صحیح اور متواتر احادیث موجود ہوں اور جسے صحابہ، تابعین، اور اہلسنت کے بڑے آئمہ نے قبول کیا ہو، اس کا انکار کیا جائے؟
ابن خلدون نے چار احادیث مہدویت کو تسلیم کیا تھا:
⭐ 1. حاکم کی روایت عون اعرابی سے: اس نے "ابو صدیق ناجی" اور اس نے "ابو سعید خدری" سے نقل کیا۔
⭐ 2. حاکم کی روایت سلیمان بن عبید سے: اس نے "ابو صدیق ناجی" اور اس نے "ابو سعید خدری" سے نقل کیا۔
⭐ 3. ظہوری مہدی عج کے بارے میں حاکم کی روایت حضرت علیؑ سے: اس کی سند صحیح ہے، ابن خلدون نے اس کو تسلیم کیا۔
⭐ 4. ابی داود سجستانی کی روایت: اس کی سند بھی صحیح ہے اور ابن خلدون نے کہا ہے کہ اس میں کوئی غیر موثق اور مجہول نہیں ہیں۔
اگر کوئی ایک روایت صحیح ہو تو اس سے مہدویت کا نظریہ ثابت ہو جاتا ہے، لیکن ابن خلدون نے جن چار احادیث کو تسلیم کیا، وہ بعد کے علماء نے امام مہدیؑ اور تمام روایات کا انکار کیا اور حضرت عیسیٰؑ کو ہی مہدی قرار دیا۔
اہل سنت کے علماء کی طرف سے رد:
ان علماء کے خلاف اہل سنت کے علماء نے ایک تحریک شروع کی اور ان تمام نظریات کو باطل قرار دیا، اور عقیدہ مہدویت کو اسلام کے اہم عقائد میں سے قرار دیا۔ بعض اہل سنت علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جو عقیدہ مہدویت کا قائل نہیں، وہ مسلمان نہیں۔
نتیجہ:
❣️☘️
مہدویت کا موضوع شیعہ و سنی کتابوں میں موجود ہے اور دونوں کے درمیان کئی امور میں مشترکہ آراء ہیں۔ کچھ مسائل میں اختلاف موجود ہے، لیکن دونوں امام مہدی عج کے ظہور، ان کی امامت، اور ان کی حکومت عدل پر قائل ہیں، جو پوری زمین پر قائم ہو گی۔
اہلسنت اور اہل تشیع کی احادیث میں فرق:
👈 1. اہل سنت میں احادیث مہدویت کی تعداد شیعہ کی نسبت کم ہے۔
👈 2. اہل سنت کی احادیث کلی ہیں، جیسے امام مہدیؑ عج زمین کو عدل سے بھر دیں گے، مال کو صحیح طریقے سے تقسیم کریں گے، وغیرہ۔ لیکن اس کی جزئیات شیعہ احادیث میں زیادہ وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔
👈 3. اہل سنت نے احادیث میں صرف رسول اللہؐ اور اصحاب کا ذکر کیا ہے، لیکن اہلبیتؑ کے بارے میں کوئی خاص ذکر نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ احادیث کی ایک بڑی تعداد سے محروم ہو گئے ہیں۔ جبکہ شیعہ میں احادیث کی ایک بڑی تعداد ہے۔
👈 4. اہل سنت میں ایک سو سال تک احادیث کے نقل ہونے پر پابندی تھی جو حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے سے شروع ہوئی اور بنی امیہ کے دور تک رہی۔ جبکہ شیعہ خاندان وحی سے مربوط ہیں اور ان کے ہاں ہمیشہ احادیث کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻
💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📆اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*💓
شہر بانو 📝
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں