𝔹𝕠𝕠𝕜 3 Sadia ChatGPT
Only 11 Lessons
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
---🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
🍃💐 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن کریم کی رو سے🌺🍃
درس نمبر: 1
"امام مہدی عج قرآن کی رو سے اہمیت، قرآن کا جامع و کامل ہونا، تفسیر و تاویل کا مفہوم"
مورخہ: 8 نومبر 2021
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
قرآن مجید میں تقریباً 200 سے زائد آیات امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ہستی کا ذکر نہ ہو جس نے قرآن کو نافذ کرنا ہے؟ امام زمانہؑ کا ظہور جب ہوگا تو حکومت قرآن کے مطابق ہوگی۔ اس وقت قرآن فقط کتاب نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کا حصہ بنے گا، یہ زندوں کی کتاب ہوگی۔ اس دور میں لوگ کہیں گے کہ امام زمانہؑ کی حکومت حقیقتاً دولت قرآن ہے۔
قرآن مجید میں تمام حقائق موجود ہیں، اور اس میں اس ہستی کا ذکر ضروری ہے جس نے دنیا کو عدل سے بھرنا ہے۔ قرآن امام زمانہؑ کی شناخت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم امام زمانہؑ کی معرفت حاصل کریں۔
کلمہ گو ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ اپنے دور کے پیغمبر کے وصی کی معرفت حاصل کرے۔
حدیث ہے: "جو شخص اس حال میں مرا کہ زمانے کے امامؑ کی معرفت نہ کی ہو، وہ جہالیت کی موت مرا۔"
حقیقی اسلام وہی ہے جہاں حقیقی امامؑ موجود ہیں، اور امامؑ تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ قرآن مجید ہے۔ قرآن ہی وہ پاکیزہ راہ ہے جو معصوم اور صراط مستقیم ہے۔
مولاعلیؑ فرماتے ہیں:
"جان لیں کہ جو شخص قرآن سے علم حاصل کر رہا ہے، وہ اب محتاج نہیں ہے، اور قرآن سے قبل وہ غنی نہیں تھا۔
قرآن سے اپنی روحانی بیماریوں کی شفا مانگیں اور مشکلات میں قرآن سے مدد طلب کریں۔"
قرآن واقعی روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔
ہمیں قرآن اور امامؑ کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔ جب ہم قرآن کی نگاہ سے کسی موضوع پر غور کرتے ہیں، تو شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔
اسلام آخری دین ہے، اور پیغمبرؐ کے بعد وحی کا سلسلہ نہیں آئے گا۔ آئمہؑ حامل وحی نہیں ہیں بلکہ وہ وحی کے محافظ ہیں۔
کبھی ہمارے منبروں پر ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ امامؑ بھی حامل وحی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے مخالفین اور اہل سنت ہمیں ختم نبوت کا منکر سمجھتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبرؐ کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اور آئمہؑ پر الہام ہوتا ہے۔ وہ وحی کے محافظ اور احادیث کے محافظ ہیں۔
معصوم فرماتے ہیں:
"اگر کوئی شخص 40 دن تک اپنی زبان کو گناہوں سے پاک کر لے، تو خداوند اس کے دل پر حکمت کے چشمے کھول دیتا ہے۔"
جب ایک انسان پاکیزگی کی راہ اختیار کرتا ہے، تو خدا خود اس کا معلم بن جاتا ہے۔ تو جو پاکیزہ امامؑ ہیں، وہ الہام سے سرفراز ہیں۔
آئمہؑ کو علم غیب عطا ہوا، اور وہ عوام میں اولیاء اللہ ہوتے ہیں، ان کی غیبی مدد ہوتی ہے۔ لیکن وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔
مولا علیؑ نے پیغمبرؐ کی رحلت کے بعد فرمایا:
"یا رسولؐ اللہ! آپؐ کی موت سے بشریت وحی سے محروم ہو گئی ہے، اور آسمانی دین کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔"
یہ دین قیامت تک باقی رہے گا۔
ہر دور کے لیے قرآن کامل اور جامع کتاب ہے جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔
پروردگار عالم نے فرمایا:
"اے نبیؐ! ہم نے آپؐ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے، جیسے کہ شریعت کے احکام، عقائد، اخلاق، اور وہ سب چیزیں جو انسان کو راہِ راست پر لاتی ہیں اور انسان کو بندگی سکھاتی ہیں۔"
قرآن انسان کی ہدایت ہے۔
سورہ البقرہ کی ابتدائی آیات میں فرمایا:
"ھدیٰ للمتحِین" یعنی قرآن اہل تقویٰ کے لیے ہدایت کا کتاب ہے۔
قرآن کی تفسیر و تاویل ضروری ہے۔ تفسیر علم کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن تاویل کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ قرآن کے باطن میں جو حقائق ہیں، ان تک پہنچنے کا ذریعہ امامؑ ہیں۔
قرآن کے ظاہر اور باطن کی تفسیر و تاویل کے لیے امامؑ کی ضرورت ہے۔ امامؑ ہی قرآن کے معلم ہیں، اور ہمیں ان کی ہدایت و فیض حاصل کرنا چاہیے۔
👈جاری ہے
والسلام
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌏
---🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
📢 سلسلہ دروس "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
درس نمبر: 2
نبی اکرمؐ اور اہل بیت علیہم السلام کا مقام، اہل ذکر کون ہیں؟
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہدایت سے متعلق تمام نکات اور موضوعات شامل ہیں۔ یہ کتاب کامل اور جامع ہے، اور اس میں ہدایت کے تمام پہلو ظاہر اور باطن دونوں میں موجود ہیں۔ اس باطن کو سمجھنا محمدؐ اور آل محمدؑ ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
پیغمبرؐ اور آئمہؑ کا قرآن کے ہمراہ کردار
قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسانوں کے لیے تمام ہدایتیں فراہم کرتی ہے، لیکن انسان کی محدود عقل ان تمام ہدایات کو مکمل طور پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس لیے ہمیں ان ہستیوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے جو صاحب وحی ہیں، وہ ہستیاں جنہیں پروردگار عالم نے وحی اور الہام کے ذریعے حقائق سے آگاہ کیا۔ یہ ہستیاں اللہ کے سفیر ہیں، جو حجت الٰہی اور قرآن کے مفسر ہیں۔
سورہ نحل کی آیت 46 میں پروردگار عالم فرماتا ہے:
"اے رسولؐ! ہم نے آپؐ کی طرف ذکر (قرآن) نازل کیا تاکہ آپؐ وہ جو کچھ بندوں کے لیے نازل ہوا، انہیں بتائیں۔"
رسولؐ اللہ نے اپنی زندگی میں قرآن کی تفسیر کا انتظام کیا۔
حدیث ثقلین میں فرمایا:
"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیتؑ۔ اگر تم ان دونوں سے تمسک کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن مجھ تک پہنچ جائیں گے۔"
یہ بات واضح کرتی ہے کہ رسولؐ اللہ کی رحلت کے بعد، اگر ہمیں قرآن کو سمجھنا ہے تو ہمیں اہل ذکر کو سمجھنا ہوگا۔
قرآن میں ارشاد ہے:
"اگر تم کسی چیز کو نہیں جانتے تو اہل ذکر سے رجوع کرو۔"
اہلسنت اور تشیع کی روایات میں ہے کہ "ہم (اہل بیتؑ) اہل ذکر ہیں، اور ہمارے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ کیوں تم نے ان کی طرف رجوع نہیں کیا۔"
یہ روایت اہل سنت کی 12 تفاسیر میں موجود ہے کہ اہل ذکر سے مراد محمدؐ اور آل محمدؑ ہیں، یعنی علیؑ و بتولؑ، یہ اہل ذکر ہیں، اہل عقل ہیں، اہل بیان ہیں، حکمت اور دانائی ان سے حاصل کی جانی چاہیے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ قرآن ایک زندہ امامؑ کے ساتھ ہے۔
قرآن جامع ہے اور امامؑ اس کے مفسر ہیں، جو قرآن کا ظاہر و باطن بتاتے ہیں۔
آج کے دور میں عترت محمدؐ کا مصداق امام مہدیؑ ہیں، جن کی طرف ہمیں رجوع کرنا ہے۔ وہ قرآن کے مفسر ہیں، قرآن کو بیان کرنے والے ہیں، اور وہ قرآن کے ہمراہ ہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جو قرآن کو دنیا پر نافذ کریں گے اور جن کی حکومت قرآنی حکومت ہوگی۔
وہ ہستی جو قرآنی ثقافت کو رائج کریں گے۔ مولاؑ قرآن کو لوگوں کی زندگی کا اساس بنائیں گے، انشاءاللہ۔
👈جاری ہے
والسلام،
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
-
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️☀️ ☀️☀️☀️☀️
---
🍃🌺 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے🌷🍃
درس: 3
قرآن میں تعارف کا طریقہ، ہماری تحقیق کی روش
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
امام زمانہؑ کے بارے میں اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں امام زمانہؑ کا نام کیوں نہیں آیا۔ علماء نے اس حوالے سے دو طرح کے جوابات دیے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب لوگوں نے اپنے من پسند خلیفہ کو منتخب کرنے کا فیصلہ کیا اور رسولؐ اللہ کے حکم کی مخالفت کی، تو انہوں نے قرآن پر بھی ظلم کیا اور آیات میں تبدیلیاں کیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان ناموں کو پوشیدہ رکھ کر قرآن کو محفوظ کر دیا۔
لیکن اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ اللہ کی سنت ہے کہ جب وہ کسی شخص کا قرآن میں تعارف کراتا ہے تو وہ تین طریقوں سے کرتا ہے:
1. بعض مرتبہ وہ نام سے تعارف کراتا ہے، جیسے انبیاء کا نام (ابراہیم، یونس، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یا مختلف افراد کا ذکر (لقمان، طالوت، جالوت، فرعون وغیرہ)۔
2. بعض دفعہ لوگوں کے اعداد کے ذریعے ان کا تعارف ہوتا ہے، جیسے بنی اسرائیل میں 12 اوصیاء کا ذکر یا حضرت موسیٰؑ کا 70 آدمیوں کے ساتھ کوہ طور پر جانا۔
3. پھر قرآن صفات کے ذریعے تعارف کراتا ہے، جیسے نیک لوگوں کی صفات، منافقین کی صفات، ظالموں کی صفات، پیغمبرؐ کے دشمنوں کا ذکر، اور صالحین و مجاہدین کا تعارف۔
اسی طرح قرآن نے رسولؐ اللہ کے وصیوں کا تعارف بھی صفات کے ذریعے کیا، جو بلا فصل خلیفہ ہیں۔ مثال کے طور پر، سورہ اعراف کی آیت میں رسولؐ اللہ کا تعارف "أمي" (امی) کے طور پر ہوا ہے، یعنی وہ واحد رسولؐ تھے جنہوں نے دنیا میں لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا، اور قرآن کا عظیم معجزہ ان کی زبان مبارک سے ظاہر ہوا۔ یہ رسولؐ اللہ کی خاص صفت ہے کہ آپؐ نے کسی سے تعلیم نہیں لی، بلکہ آپؐ کو خدا کی طرف سے علم دیا گیا۔
اسی طرح سورہ مائدہ کی آیت میں مولا علیؑ کی ولایت کی نشانی بیان ہوئی ہے: "تمھارا ولی اللہ ہے اور تمھارا ولی اللہ کا رسولؐ ہے اور وہ صاحبان ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔"
یہ واقعہ تاریخ میں صرف ایک بار ہوا تھا، اور اگر یہاں مولا علیؑ کا نام آتا تو مخالفین اس آیت میں تحریف کرتے اور مولا علیؑ کا نام ہٹا دیتے۔ لیکن اللہ نے اس طرح قرآن کو محفوظ رکھا اور اہل حق کو اس آیت کی تحقیق کا راستہ دیا تاکہ وہ حق تک پہنچ سکیں۔
قرآن میں مولا علیؑ کا تعارف صفات کے ذریعے ہوا ہے۔
جب پروردگار عالم نے اپنا خلیفہ جناب طالوت کو مقرر کیا، تو ان کی حقانیت کی دلیل ان کی صفات بیان کی گئیں۔ ان کی حقانیت کا ثبوت یہ تھا کہ وہ دشمن سے تابوت لے کر آئیں گے جس میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے تبرکات تھے۔ ایسا ہی ہوا اور لوگوں کو یقین ہو گیا کہ جناب طالوت حق پر ہیں۔
قرآن میں آیت تطہیر اہلبیتؑ کی شان کو بیان کرتی ہے، جس میں پنجتن آل عبا کی صفات بیان کی گئی ہیں، اور اہل حق ان صفات کے ذریعے اہلبیتؑ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر یہاں ان کے نام ہوتے تو دشمن قرآن میں تحریف کر دیتے، جیسا کہ انہوں نے قرآن کی زندہ آیات کو شہید کیا اور ناطق قرآن کو شہید کیا، وہ قرآن کی صامت آیات کو بھی تبدیل کر سکتے تھے۔
قرآن مجید میں بہترین طریقہ جو متعارف ہے، وہ صفات کے ذریعے تعارف ہے۔ قرآن میں 200 سے زائد آیات میں امام زمانہؑ کی شان اور صفات بیان ہوئی ہیں۔ ان آیات پر کام کرنے کے تین طریقے ہیں:
1. ان آیات پر کام کریں جن میں تفسیر و تاویل بیان کی گئی ہے۔
2. موضوع کے اعتبار سے کام کریں، جیسے آیات کی ترتیب کے ساتھ صفات و شان بیان کریں، جیسے آیات غیبت، حکومت، اور انتظار کو بیان کریں۔
3. سورہ الحمد سے شروع کریں اور دیکھیں کہ امام زمانہؑ کے بارے میں کون سی آیت ہے، پھر ترتیب سے آگے بڑھیں۔
اور بہترین طریقہ تفسیر و تاویل ہے، یعنی آیت کو دو حصوں میں تقسیم کریں: پہلے ان آیات کا ذکر کریں جن میں امام مہدیؑ کا ذکر ظاہر ہے، پھر ان آیات کو بیان کریں جن کے باطن میں امام زمانہؑ کا ذکر ہے، یعنی تاویل۔
👈جاری ہے
والسلام
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
---🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴
🌷 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے🌾
قرآن کی رو سے درس نمبر 4: اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ اور امام مہدی عج کا ظہور
سورہ توبہ، فتح، اور صف کی رو سے
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
قرآن مجید میں سورۃ توبہ، سورۃ فتح، اور سورۃ صف میں مہدوی موضوع، اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ توبہ میں پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے:
"وہ اپنی پھونک کے ذریعے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، لیکن خدا انہیں مہلت نہیں دے گا جب تک اس کا نور کمال کے مراحل طے نہ کر لے۔ اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار کیوں نہ گزرے، وہ خدا جس نے اپنے پیغمبر کو صحیح دین اور ہدایت کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر کامیاب قرار دے، اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گذرے۔"
سورۃ فتح میں ارشاد پروردگار عالم ہے:
"وہ خدا ہے جس نے اپنے نبیؑ کو اس مقصد سے صحیح دین و ہدایت دے کر بھیجا تاکہ وہ انہیں سب ادیان پر کامیاب قرار دے اور خدا کا شاہد ہونا کافی ہے۔"
سورۃ صف میں ارشاد ربانی ہے:
"وہ اپنی پھونک سے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، لیکن خدا اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا، اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار گزرے۔ خدا وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو دین حق و ہدایت دے کر بھیجا تاکہ وہ تمام ادیان پر غلبہ پاسکے، اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو۔"
ان تینوں آیات میں لفظ لیظہرہ (غلبہ، برتری) آیا ہے۔ پروردگار عالم ان آیات میں چند چیزوں کا اشارہ کر رہا ہے: دشمنانِ مہدی جو امام عج کے ظہور کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گے، لیکن اللہ انہیں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ خدا اپنے نور کو کامل کرے گا، اور حجت خدا ہر حال میں ظہور فرمائیں گے۔ دین حق کا غلبہ ہوگا اور دشمنان اسلام مایوس ہوں گے۔
یہ وہ بشارت ہے جو ہماری روایات میں بھی موجود ہے اور تمام اسلامی محققین، علماء، اور محدثین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ دن جب اسلام پوری دنیا پر غلبہ پائے گا اور پوری دنیا پر اسلامی حکومت ہو گی، وہ امام زمانہؑ کے ظہور کا دن ہوگا، اور اس واقعہ کا گواہ خود خدا ہے۔
محمد بن فضیل کہتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظمؑ سے پوچھا گیا، "مولاؑ، خدا کے اس فرمان لیظہرہ علی الدین کلہ سے کیا مراد ہے؟"
امامؑ نے فرمایا: "اس سے مراد یہ ہے کہ قیام امام مہدیؑ کے وقت اللہ تعالیٰ دین اسلام کو تمام ادیان پر کامیابی و کامرانی عطا کرے گا، یعنی دین اسلام کی حاکمیت کا زمانہ۔"
ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام جعفر صادقؑ سے ھُوَ الَّذِی أَرسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ کے متعلق سوال کیا گیا۔
تو آپؑ نے فرمایا: "خدا کی قسم ابھی تک اس کی تاویل نہیں آئی، اور نہیں آئے گی، جب تک حضرت قائمؑ خروج و ظہور نہ فرمائیں۔ بس جب قائم خروج کریں گے تو کوئی کافر و مشرک باقی نہیں بچے گا، مگر وہ قائم کے ظہور سے ناگواری محسوس کرے گا اور ناراض ہو گا۔ حتیٰ اگر کافر و مشرک کسی پتھر کے درمیان بھی پنہاں ہو جائے گا، تو وہ پتھر گویا ہو گا: 'اے مومن، میرے اندر کافر چھپا ہے، مجھے توڑ کر اسے قتل کر دیجئے۔'"
معصومؑ فرماتے ہیں کہ جو اللہ اور آئمہؑ کے منکر ہیں، یعنی کفار اور منافقین، سب کو ظہور برا لگے گا۔ دنیا میں جہاں بھی چھپیں گے، مومنین انہیں قتل کر دیں گے، اور دنیا میں کفر و منافقت کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔
دنیا ایک مملکت کی مانند ہو جائے گی جس کے حاکم امام مہدیؑ ہوں گے اور پوری دنیا میں اسلام اور عدل کی حکومت ہو گی۔
ان آیات کے ذیل میں دو نکتے واضح ہوئے:
1. پوری دنیا میں اسلام کی حاکمیت ہو گی، جیسا کہ امیر المومنینؑ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:
"کوئی بھی دنیا میں ایسی بستی نہیں بچے گی جہاں شہادتین کا اعلان نہ ہو رہا ہو۔"
2. یہ سب بعد از ظہور امام مہدیؑ عج الشریف ہو گا۔
یہ مہدیؑ زہراؑ ہیں جو ان تینوں آیات کے مجسم، تاویل و تفسیر و تصویر ہیں، جن کے ذریعے دین اسلام غلبہ پائے گا، انشاءاللہ۔
شیخ صدوق رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کمال الدین میں امام حسینؑ کا فرمان نقل کیا:
امامؑ فرماتے ہیں:
"ہم بارہ کے بارہ ہی مہدی ہیں، ہم بارہ کے بارہ ہی ہدایت کے سر چشمے ہیں، ہم میں سے پہلے امیر المومنین علیؑ ہیں اور آخری میری نسل میں سے نویں ہیں جو بارہویں امام قاؑئم ہیں، جو حق کے ساتھ قیام کریں گے۔ خدا ان کے وجود مبارک سے مردہ زمین کو زندہ کرے گا، اور ان کے وجود مبارک سے دین حق تمام ادیان پر غلبہ کرے گا، اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار لگے۔"
"امام مہدی کی غیبت میں بہت سارے لوگ دین حق سے ہٹ جائیں گے اور ایک گروہ دین حق پر ثابت قدم رہے گا۔ انہیں اذیتیں دی جائیں گی اور انہیں کہا جائے گا یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ لیکن یاد رکھو، جو بھی ان کی غیبت میں ان اذیتوں اور جھٹلانے پر صبر کرے، وہ مجاہد کی مانند ہے جو تلوار لیے ہوئے رسولؐ اللہ کے سامنے اللہ کے دشمنوں سے لڑ رہا ہو۔"
👈جاری ہے
والسلام۔
شہر بانو ✍
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴
---
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
🍃🌷🍃
"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
#درس 5
#سورہ نور آیت 55، اللہ تعالیٰ کے وعدے
🌹 استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
سورہ نور آیت نمبر 55 میں پروردگار عالم نے ایک وعدہ کیا ہے:
"خدا نے تم لوگوں میں سے جو ایمان لائے ہیں اور اچھے شایستہ کام بھی انجام دئیے ہیں، ان سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں لازمی طور پر زمین پر اپنا جانشین قرار دے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین پر جانشین قرار دیا ہے، اور وہ دین جو ان کے لیے پسندیدہ ہے ان کے نفع میں قرار دے گا، اور ان کے خوف کو امن میں تبدیل کر دے گا تاکہ وہ میری عبادت کریں، کسی کو میرا شریک قرار نہ دیں، اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے وہ نافرمانوں میں سے ہے۔"
تشریح:
اس آیت میں پہلا وعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی ایک صالح معاشرہ قائم کرے گا اور اس دور میں زمین پر ان لوگوں کو حکمران بنائے گا جو ایمان لائے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں۔
اللہ ان کے دین کو تمام ادیان پر برتری عطا کرے گا (آیت تکمیل دین)۔
ان کے خوف کو امن میں تبدیل کر دے گا۔
صرف خدا کی اطاعت کی جائے گی، اور صرف اللہ کی عبادت کی جائے گی۔
اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے گا وہ نافرمانوں میں شمار ہوگا۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بات بھی ظاہر ہو رہی ہے کہ عصرِ ظہور میں انسانوں کے لیے اتنا سارا امن، دین کا استحکام، زمین کا عدل و انصاف سے بھرنا اور شیاطین کا ختم ہونا ممکن ہوگا۔ اگرچہ انسان کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ گناہ کرے یا کفر اختیار کرے، امام عج کی قیادت میں ایسا ماحول ہوگا کہ گناہ کرنے کے امکانات بہت کم ہوں گے۔
آیت مبارکہ میں تین وعدے اور ان کا نتیجہ:
1. پہلا وعدہ: اللہ تعالی ایک گروہ کو زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا، اور یہ حکومت پوری دنیا پر ہوگی۔ روایات کے مطابق جناب ذوالقرنین نے زمین سے باطل حکومتوں کو ختم کیا تھا، اور جناب نوح، موسیٰ، یوشع بن نون، داؤد، سلیمانؑ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اس آیت میں ذکر کی جانے والی حکومت عالمی سطح پر ہوگی، جس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔
2. دوسرا وعدہ: دین اسلام ساری زمین پر غالب ہوگا، اور یہ وہ دین ہے جو جناب جبرائیل امین لے کر آئے تھے۔
3. تیسرا وعدہ: امن و امان ہوگا، اور پھر حق یہ ہے کہ خدا کی خالص عبادت کی جائے گی۔ جو اللہ کو نہیں مانے گا، اس پر اسلامی قوانین کے مطابق سزا ہوگی۔
یہ وعدہ صرف ساری امت سے نہیں، بلکہ صرف مسلمانوں کے اُن لوگوں سے ہے جو عمل صالح کرتے ہیں اور اہل ایمان ہیں۔ اللہ تعالی انہیں یہ قوت دے گا کہ وہ امام عج کے ظہور سے پہلے تیاری کریں گے، اور امام کے ظہور کا باعث بنیں گے۔ اس آیت میں ظہور امامؑ کی تیاری کا اشارہ بھی موجود ہے، کہ ظہور کے لیے ایمان اور عمل صالح کی ضرورت ہے۔
یہ آیت اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ امام مہدیؑ وقت کے زندہ امامؑ ہیں۔ امامؑ کی جانب سے اسباب مہیا ہو رہے ہیں اور لوگ امامؑ کی طرف توجہ کر رہے ہیں، لیکن یہاں ضرورت ایمان اور عمل صالح کی ہے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
اس آیت کا مصداق ابھی تک نہیں آیا۔ قائمؑ کے زمانے کو پانے والے اس آیت کی تاویل کو دیکھیں گے۔ امامؑ فرماتے ہیں کہ جو اس زمانے کو پائے گا، وہ اس آیت کی تصویر اور تاویل کو پائے گا، اور پھر دیکھے گا کہ دین محمدی وہاں پہنچا ہے جہاں رات پہنچتی ہے۔ اس کے بعد زمین پر کوئی مشرک باقی نہیں رہے گا۔
👈 جاری ہے
والسلام۔
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
🍃🌸🍃🍀🍀💍💍💍🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀
---
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
✨💫✨
"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
درس نمبر: 6
سورہ انبیاء میں بشارت الہی، امام مہدی عج اور ان کے انصار زمین کے وارث
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
پروردگار عالم سورہ انبیاء کی 105 نمبر آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (سورہ انبیاء، آیت 105)
"اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔"
تشریح:
پروردگار عالم اس آیت میں اپنے صالح بندوں کی بشارت دے رہا ہے کہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ یہ آیت آسمانی کتابوں اور ظہور امام عج کے بارے میں ہے۔
آیت میں "ذکر" سے مراد تورات اور قرآن مجید یعنی کلام الہیٰ ہے، اور اس میں ذکر ہے کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔ یہ "زمین" کا ذکر کسی خاص خطے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ پوری زمین کی بات ہو رہی ہے۔
اس سے پہلے بھی مختلف حصوں میں صالحین کی حکومتیں رہی ہیں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت، حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤدؑ کی حکومتیں، اور بنی اسرائیل میں صالحین کی حکومتیں۔ یوشع بن نون کی حکومت بھی ایک خطے تک محدود تھی، لیکن یہ آیت پوری زمین کے بارے میں بات کر رہی ہے۔
تمام شیعہ و سنی مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مہدویت کے حوالے سے ہے، اور یہ اس واقعہ کی نشاندہی کرتی ہے جو آخر الزمان میں واقع ہوگا۔ یعنی آخر الزمان میں صالح بندوں کی حکومت پوری زمین پر ہوگی، اور یہ وہی واقعہ ہے جس کی بشارت رسولؐ نے مہدیؑ عج کے ظہور کے بارے میں دی تھی۔
آیت مبارکہ میں بیان کی جانے والی صفات:
1. عبدیت: یہ بندے اللہ کے عبد ہیں، یعنی ان کے اندر عبودیت کا شعور ہے۔ وہ خود کو کسی چیز میں مستقل نہیں سمجھتے، بلکہ وہ ہمیشہ اللہ سے وابستہ ہیں، اور ان کے اندر ایمان راسخ ہے۔ وہ توحید حقیقی پر فائز ہیں اور ہر کام میں اللہ کی منشا کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
2. صالحیت: صالح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں حکومت کرنے کی صلاحیت ہے۔ ان کے اندر بصیرت، مہارت، حکمت، اور علم ہے جو ان کے قائدانہ کردار کو مضبوط بناتا ہے۔
کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آیت اللہ کا کلی وعدہ ہے اور یہ بتدریج ہوگا، لیکن جو حکومتیں پہلے برپا ہوئیں، وہ مخصوص خطوں میں تھیں۔ عالمی حکومت صرف امام مہدیؑ کے ظہور کے بعد ہی قائم ہوگی۔
رسول اللہؐ اور آئمہؑ کے جتنی بھی روایات اس آیت کے حوالے سے آئی ہیں، وہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں صالح سے مراد امام مہدیؑ اور ان کے شیعہ و انصار ہیں۔
لفظ "کتب" کا مطلب: قرآن میں جہاں بھی لفظ "کتب" آیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے، یہ ایک قطیٔ حکم ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔
لفظ "ارض" کا مطلب: یہاں "ارض" سے مراد پوری زمین ہے۔
"وارثت" کا مفہوم: اس سے مراد ہے کہ یہ حکومت قیامت تک قائم رہے گی۔
پروردگار نے یہ نہیں کہا کہ وہ حاکم بنائے گا، بلکہ "وارث" کہا۔ روایات میں آیا ہے کہ جب امامؑ وارث بنیں گے تو قیامت تک صالحین کا اقتدار قائم ہوگا۔ زمین ان کے دائرہ قدرت میں ہوگی۔
امام مہدیؑ اس حکومت کے پہلے مالک ہوں گے اور 70 سال حکومت کریں گے، اور بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ کے بارہ جانشین بھی حکومت کریں گے۔
ہمارا فریضہ: ہمارا فرض ہے کہ ہم امامؑ کی حکومت کے لیے اپنے وظائف ادا کریں اور ظہور کی راہ ہموار کریں۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں: اسی آیت کے بارے میں، کہ یہ بشارت صرف تورات اور زبور تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام آسمانی کتابوں میں دی گئی ہے۔ اور "ان الارض..." سے مراد امامؑ اور ان کے انصار ہیں۔
👈 جاری ہے
والسلام۔
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
🌺🌷☘️🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
---
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
---🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
☘️🌷☘️
📢 "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
درس 7
سورہ انبیاء میں مستضعفین کی حکومت اور وراثت زمین کی بشارت، سورہ حدید میں زمین کے دوبارہ زندہ ہونے کی بشارت، مستضعفین کون ہیں اور زمین کی زندگی سے مراد
خلاصہ:
سورہ قصص آیت نمبر 5:
وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَّوَجْعَلَهُمْ الْوَارِثِينَ (سورہ قصص، آیت 5)
"اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔"
سورہ حدید آیت نمبر 17:
ٱعْلَمُواْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
"یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔"
---
تشریح:
یہ آیات مہدویت کے حوالے سے ہیں، اور شیعہ و سنی مفسرین ان آیات کو امام زمانہؑ کی حکومت سے تفسیر کرتے ہیں۔
سورہ قصص کی آیت نمبر 5 میں پروردگار عالم زمین پر کمزور لوگوں کی حکومت کی بشارت دے رہا ہے، وہ لوگ جن کا حق چھین لیا گیا۔
یہ آیت حضرت موسیٰؑ کی داستان سے جڑی ہوئی ہے، جب فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کیا۔ فرعون اپنے ظلم کے ذریعے بنی اسرائیل کو مکمل طور پر تباہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ پروردگار عالم نے بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰؑ کو پیدا کیا اور انہیں وہ طاقت عطا کی جس سے حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی۔ بنی اسرائیل نے بعد میں فلسطین میں ایک صالح حکومت قائم کی۔
یہ آیت صرف ماضی کی حکمت عملی کا ذکر نہیں کرتی، بلکہ ہمیشہ کے لیے اللہ کا ارادہ ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ آئمہؑ کی حکومت کو برپا نہیں ہونے دیا گیا، لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ظلم کے خاتمے کے بعد عدل کی حکومت قائم کرے گا۔
امیرالمومنینؑ علی ابن ابی طالبؑ اسی آیت کے حوالے سے فرماتے ہیں:
"یہاں پر مستضعفین سے مراد آل محمدؑ ہیں، اور ان میں سے امام مہدیؑ کو اٹھایا جائے گا جو قیامت تک آل محمدؑ کی حکومت قائم کریں گے۔"
شیخ صدوقؒ اپنی کتاب "کمال الدین" میں پیغمبرؐ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام مہدیؑ وہ ہستی ہیں جو زمین کو عدل سے بھر دیں گے۔
شیخ صدوقؒ اپنی کتاب میں مزید بیان کرتے ہیں کہ جب امام مہدیؑ کی ولادت ہوئی تو آپؑ نے سورہ قصص آیت 5 کی تلاوت کی، یہ تصدیق کرتی ہے کہ امام زمانہؑ ہی وہ ہستی ہیں جو فرعونوں سے لڑیں گے اور حکومت عدل قائم کریں گے۔
---
سورہ حدید آیت 17:
ٱعْلَمُواْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
"یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔"
اس آیت میں پروردگار مومنین کو تنبیہ کرتے ہیں کہ کیا وہ وقت نہیں آیا جب خشوع کی حالت میں وہ دل جو مردہ ہو چکے ہیں، ذکر الہیٰ سے زندہ ہوں گے؟ جیسے زمین بارش کے قطروں سے زندہ ہوتی ہے، ویسے ہی اہل زمین ذکر الہیٰ سے زندہ ہوں گے۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
"اللہ زمین کو موت کے بعد زندہ کرے گا۔ یہاں زمین کے مرنے سے مراد کفر ہے، اور کافر ہمیشہ مردہ ہوتے ہیں۔"
محقق کلینیؒ نے امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ:
"جب امام مہدیؑ عدل کے ساتھ حکومت قائم کریں گے، تو اہل زمین ان کی عدالت سے زندہ ہوں گے۔"
---
👈 جاری ہے
والسلام۔
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
💫
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
💫✨ سلسلہ آفتاب امامت ✨💫
مورخہ: 13 اکتوبر 2021
درس نمبر 8
امام زمانہ عج کا معارف بیان کرنا اور شیعوں سے ہدیہ و واجبات کی وصولی اور اس میں اہم نکات
استاد مہدویت محترم علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
خلاصہ:
جب امام زمانہؑ کی ولادت ہوئی، ان کا تعارف چھپایا گیا۔ لیکن امام حسن عسکریؑ نے امام زمانہؑ کے تعارف کے لیے اقدامات کیے اور اپنے خاص پیروکاروں اور شیعہ بزرگان کو امامؑ کا تعارف کرایا۔ امام عسکریؑ نے اپنے خاص اصحاب کو خطوط لکھ کر امام زمانہؑ کی شان میں آگاہی فراہم کی، تاکہ لوگ امامؑ کو پہچان سکیں۔
جب کوئی فقیہ یا عالم سوالات لے کر آتا تھا، امام عسکریؑ کوشش کرتے تھے کہ امام مہدیؑ خود ان کے سوالات کا جواب دیں۔ اس دوران کچھ لوگ امامؑ سے علمی فیض بھی حاصل کرتے تھے اور امامؑ نے معرفت کے پیغامات لوگوں تک پہنچائے۔
شیخ صدوق رحمۃ اللہ نے "کمال الدین" کی جلد 2، باب 43، حدیث نمبر 12 میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جس میں ابو نصر امام عسکریؑ کے گھر میں تشریف لائے اور امام زمانہؑ سے ملاقات کی۔ امامؑ نے فرمایا:
"میں خاتم الاوصیاء ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے وسیلے سے میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاء و مصیبت کو دور کرتا ہے"
امامؑ نے اپنے دو اہم منصبوں کا ذکر کیا:
1. خاتم الاوصیاء: یعنی امامؑ تمام اماموں کے بعد آخرین وصی ہیں۔
2. ولی پروردگار: امامؑ اللہ کے نمائندہ ہیں جو لوگوں کو ہدایت کی روشنی دیتے ہیں۔
امامؑ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف شیعوں کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ صرف آئمہؑ کے نام یاد رکھیں، بلکہ ان کے مراتب اور عہدوں کی معرفت بھی ضروری ہے تاکہ لوگ ان سے فیض لے سکیں۔
زیارت جامعہ کبیرہ میں آئمہؑ کی معرفت اور ان کے مراتب کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
---
امام حسن عسکریؑ اور امام زمانہؑ کا معاملہ
امام حسن عسکریؑ کے دور میں، جب امامؑ کے وکلا خمس و زکوۃ لے کر امامؑ کی بارگاہ میں آتے تھے، امام عسکریؑ نے فرمایا کہ امام زمانہؑ خود ان رقوم کو وصول کریں۔
اسی دوران امامؑ کے ایک خاص اشارے پر، امام زمانہؑ (جو اس وقت بچے تھے) نے وصولی کا عمل شروع کیا۔
شیخ صدوق نے اس واقعہ کو "کمال الدین" میں نقل کیا ہے، جس میں سعد بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام عسکریؑ کے دربار میں احمد بن اسحاق نے شیعوں کے بھیجے ہوئے پیسوں کی تھیلیاں پیش کیں۔ امام عسکریؑ نے اپنے بچے (امام زمانہؑ) کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ وہ یہ مال وصول کریں۔ امام زمانہؑ نے نہ صرف مال کو کھولا بلکہ اس میں حرام پیسوں کی نشاندہی بھی کی۔
ایک خاص واقعہ:
ایک تھیلی میں 62 دینار تھے، جن میں سے 45 دینار ایک پتھریلی زمین کی قیمت تھے، جو کسی شخص نے اپنے باپ سے وراثت میں حاصل کی تھی۔ امام زمانہؑ نے بتایا کہ ان دیناروں میں کچھ حرام ہیں اور اس کی وجہ بھی وضاحت کی۔
ایک اور تھیلی میں، امام زمانہؑ نے بتایا کہ پچاس دینار اس گندم کی قیمت ہیں جس کے مالک نے کاشت کاروں کے ساتھ ظلم کیا تھا۔
سبق:
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ امامؑ اور اللہ تعالیٰ کو حرام مال ہرگز پسند نہیں آتا، اور جب ہم اجتماع کرتے ہیں یا مجالس میں حصہ لیتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہمارے مالی معاملات حلال ہوں۔ اگر مال حرام ہو تو نہ امامؑ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔
---👈 جاری ہے
والسلام۔
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
---
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
💫🌸✨✨
📢 سلسلہ دروس "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
#درس 9
سورہ اسراء میں آیت ندعو کی تفسیر و تاویل، امام صادق ع کے فرمان میں معرفت امام کی اہمیت، اصحاب یمین کون ہیں
استاد مہدویت محرم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ:
سورہ اسراء، آیت نمبر 17:
یاد کرو اس روز کو جب ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا پھر ہر شخص جسے اس کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دئیے جائیں گے، وہ اپنے اعمال نامے پڑھیں گے اور ان پر کھجور کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔
یہ آیت دو اہم موضوعات کی جانب ہماری توجہ دلاتی ہے:
1. امامت
2. رہبری
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا میں ہر انسان کے لیے ایک امام موجود ہے، اور یہ امام اچھے یا برے ہو سکتے ہیں۔
امام نور: وہ امام جو اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، جو نبیؑ اور ان کے وصی ہیں۔ ان کے پیچھے چلنے والے قیامت میں ان کے ساتھ محشور ہوں گے اور ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ اصحاب یمین ہوں گے۔
امام نار: وہ امام جو شیطان کے پیروکار ہیں، جن کے پیچھے چلنے والوں کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور وہ اصحاب شمال ہوں گے۔
---
آیت کی تاویل:
ہر زمانے میں ایک نوری امامؑ موجود ہوتا ہے جو اس دور کی امت کی رہبری کرتا ہے، اور امت ان کی اقتداء کرتی ہے۔
تمام شیعہ اور اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ رسولؐ اللہ آخری نبیؐ ہیں اور ان کے بعد کوئی نیا نبیؐ نہیں آئے گا۔ رسولؐ اللہ کا فرمان ہے کہ ان کے بعد 12 خلفاء آئیں گے، جن میں سے پہلا امام علیؑ اور آخری امام امام مہدیؑ عج الشریف ہیں۔
اس آیت اور رسولؐ اللہ کی حدیث کے مطابق، آج کے خلیفہ امام مہدیؑ عج الشریف ہیں۔
---
امام جعفر صادقؑ کا فرمان:
امامؑ سے آیت کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو امامؑ نے فرمایا:
"اے فضیل! امامت کو پہچانو۔ اگر تم نے امامت کو پہچان لیا تو تمہیں کوئی نقصان نہ ہو گا، چاہے قیام و ظہور کا زمانہ قریب ہو یا دور۔ جو اپنے امامؑ کو پہچان لے اور قیام کے پہلے مر جائے، وہ ایسے ہے جیسے وہ امامؑ کے لشکر میں ہو، نہیں بلکہ ایسا ہے جیسے وہ ان کے پرچم تلے ہو۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ ہر دور میں امامؑ کی معرفت ضروری ہے۔
---
دوسری روایت میں امامؑ فرماتے ہیں:
"جو اپنے امامؑ کی معرفت پیدا کرے، وہ ایسے ہے جیسے وہ امام منتظرؑ کے خیمہ میں موجود ہو۔"
---
اہم نکات 💠:
اپنے زمانے کے امام کی معرفت انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جو لوگ امام نور کی معرفت رکھتے ہوئے صراط مستقیم پر چلتے ہیں، وہ نجات پائیں گے۔ اور جو امام نار کا انتخاب کرتے ہیں، ان کی آخرت میں ہلاکت ہوگی۔
تمام معرفتوں میں سب سے اہم امام کی معرفت ہے۔ اپنے امام کی پیروی کرنا رسولؐ اللہ اور اللہ کی پیروی ہے۔ دین کا آغاز امام کی معرفت سے کرنا چاہیے۔
امام کی اطاعت در حقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اگر ہم زمانہ رسولؐ میں ہوتے تو رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوتی، اور اگر ہم اپنے زمانے کے امامؑ کے دور میں ہیں تو امامؑ کی اطاعت اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت ہے۔ اور جو شخص یہ اطاعت کرتا ہے، اسے کوئی خوف نہیں کیونکہ اس کا سرپرست اللہ ہے۔
جو شخص اپنے زمانے کے امامؑ کی معرفت اور اطاعت کرتا ہے، اس کا اجر یہ ہوگا کہ وہ امام زمانہؑ کے لشکر میں شمار ہوگا۔
---
👈 جاری ہے
والسلام۔
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
☘️☘️
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
---
🌸🌷🌷🌷
📢 سلسلہ دروس "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
#درس 10
سورہ ھود میں آیت بقیۃ اللہ کی تفسیر و تاویل، امام باقر ع کے فرمان کی رو سے ظہور کے حالات و علامات اور آغاز ظہور، دیگر مہدوی نکات
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ:
سورہ ھود، آیت نمبر 86 میں ارشاد پروردگار عالم ہے:
"خدائی ذخیرہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر مومن ہو تو اور میں تمھارا محافظ نہیں ہوں"۔
یہ آیت حضرت شعیب ؑ کی قوم سے گفتگو ہے۔ حضرت شعیب ؑ فرما رہے ہیں کہ اگر تم حلال مال کو جمع کرو تو یہ باقی رہے گا اور اس کی برکتیں تمھارے کام آئیں گی، مگر اگر تم ظلم و ستم سے مال جمع کرو گے تو یہ تمھارے لیے وبال بنے گا اور آخرت میں بربادی کا سبب ہوگا۔
آیت کی تاویل:
آیت بقیۃ اللہ کا کامل مصداق امام مہدیؑ ہیں، جو 1100 سال سے غیبت میں ہیں۔ امام مہدیؑ کو پروردگار عالم وقت پر ظاہر فرمائے گا، اور ان کے ظہور سے دنیا میں برکتیں آئیں گی۔
شیخ صدوق (رح) ایک روایت میں امام محمد باقرؑ سے نقل کرتے ہیں:
"ہمارے قائم کی رعب کے ذریعے مدد دی جائے گی، ان کا رعب دشمنوں کے دلوں میں بیٹھ جائے گا، زمین ان کے نور سے منور ہو جائے گی، خزانے ان کے لیے ظاہر ہوں گے، ان کی حکومت مشرق و مغرب پر چھا جائے گی، اور اللہ تعالی ان کے وسیلے سے اپنے دین کو تمام ادیان پر غلبہ دے گا۔"
حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ آسمان سے نازل ہوں گے اور امام مہدیؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
---
ظہور کے حالات و علامات:
امامؑ فرماتے ہیں:
جب مرد عورتوں کی شبیہ اختیار کریں گے اور عورتیں مردوں کی شبیہ بن جائیں گی،
مرد مردوں پر اکتفاء کریں گے، اور عورتیں عورتوں پر اکتفاء کریں گی،
جھوٹی گواہیاں قبول کی جائیں گی، سچی گواہی رد کر دی جائے گی،
لوگ سود خوری، خون ریزی اور زنا جیسے بدتر گناہ کو معمولی سمجھیں گے،
شریر افراد کی زبان سے لوگ خوفزدہ ہوں گے،
سفیانی شام سے اور یمانی یمن سے خروج کریں گے،
بیداء کی زمین دھنس جائے گی،
آل محمد کا ایک جوان "محمد بن حسن" قتل ہوگا۔
ظہور کی آخری علامت:
آسمان سے آواز آئے گی، "حق اس کے اور اس کے شیعوں کے ساتھ ہے"، اور امام مہدیؑ خانہ کعبہ میں کھڑے ہوں گے۔ 313 افراد ان کے گرد جمع ہوں گے، اور امام کا پہلا کلام قرآن کی آیت ہوگی:
"بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین"۔
---
بقیۃ اللہ:
بقیۃ اللہ وہ امام ہیں جو ذخیرہ الہیٰ ہیں اور جن کے ذریعے مومنوں کو عزت ملے گی اور ظالموں کو ذلت ہوگی۔
"دعائے ندبہ" میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ شرک و نفاق کی بنیادوں کو منہدم کریں گے اور دین اسلام کو دوبارہ زندہ کریں گے۔
---
چند اہم نکات:
امامؑ موجود ہیں اور غیبت میں ہیں، لیکن وہ ذخیرہ الہی ہیں، جن کے ذریعے پروردگار عالم دنیا کو خیر عطا فرمائے گا۔
بقیۃ اللہ امامؑ کا قرآنی لقب ہے جس سے ظہور کے وقت امامؑ کو پکارا جائے گا۔
امام زمانہؑ غیبت میں اس سورج کی مانند ہیں جو بادلوں کی اوٹ میں بھی اپنی روشنی پہنچاتا ہے، یعنی ہم امامؑ سے فیض لے سکتے ہیں۔
👈 جاری ہے
---
والسلام
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
---🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 12 جمادی الثانی 1446( 15 دسمبر ، 2024)**
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌍🌍
---
🌸
🌺🌷🌺
"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے"
#درس 11
تین آیات کی تفسیر و تاویل، قائم علیہ السلام کا قیام، قیام کی علامت، انصار کا اجتماع
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
---
خلاصہ:
سورہ فصلت، آیہ نمبر 53
"ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یقیناً وہی اللہ حق ہے، کیا تمھارے لیے تمھارا رب کافی نہیں ہے جو یقیناً ہر چیز پر اچھی طرح شاہد ہے؟"
یہ آیت کائنات اور انسان کے اندر جو الہی نشانیاں ہیں، ان کی طرف اشارہ کرتی ہے جو حق کی تلاش میں رہنے والوں کے لیے ہدایت کا باعث بنتی ہیں۔
---
آفاقی نشانیاں:
سورج، چاند، ستارے اور دیگر زمینی موجودات جو اللہ نے تخلیق کی ہیں۔
انفسی نشانیاں: انسان کے اندرونی اعضاء اور جسمانی ساخت جو اللہ کی نشانی ہیں۔
مسلمانوں کی روحانی، معنوی، فکری کاوشیں اور آنے والے زمانے میں فتح اور اسلام کا دنیا میں غلبہ۔
آیت کی تاویل:
یہ آیت امام مہدیؑ کے قیام کے بارے میں ہے۔
ابو بصیر امام جعفر صادقؑ سے روایت کرتے ہیں:
"قائم کا حق کے ساتھ خروج کرنا، خدا کی جانب سے ہو گا۔ لوگ انہیں دیکھیں گے، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔"
یہ ظاہر کرتا ہے کہ حق کا آشکارا ہونا اور دنیا کا انجام حق و صداقت کے ساتھ ہوگا، جس کی مکمل تجلی امام مہدیؑ کے ظہور میں ظاہر ہوگی۔
---
قیام کی علامتیں:
سورہ مدثر، آیت نمبر 8:
"پھر صور پھونکا جائے گا"
آیت کی تفسیر:
صور کے پھونکے جانے کی پہلی مرتبہ موت کی علامت ہوگی (یعنی دنیا کا اختتام) اور دوسری مرتبہ قیامت کے آغاز پر بیداری کی آواز ہو گی۔
آیت کی تاویل:
یہ آیت امام مہدیؑ کے قیام اور ظہور سے متعلق ہے، جس کے لیے امامؑ کو خدا کی جانب سے اذن ملے گا۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"جب خدا کا ارادہ ظاہر کرنے کا ہو گا، امام کے دل میں ایک نقطہ ظاہر ہوگا (الہام) اور اس کے بعد امام ظہور کریں گے اور خدا کے حکم کو قائم کریں گے"
یہ واضح کرتا ہے کہ امام زمانہؑ کا قیام اللہ کے اذن کے تحت ہوگا۔
---
سورہ بقرہ، آیت:
"ہر شخص کے لیے قبلہ ہے جس کی جانب رخ کرکے وہ عبادت کرتا ہے۔ بس نیکی انجام دینے کی طرف سبقت اختیار کرو، تم جہاں کہیں ہو خدا تم سب کو اپنی جانب پلٹاتا ہے۔"
آیت کی تفسیر:
یہ آیت ہجرت کے پہلے سال کے واقعے سے متعلق ہے جب مسلمانوں کو قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا۔ اس کے ذریعے پروردگار نے یہ اشارہ کیا کہ ہر گروہ کے لیے ایک خاص قبلہ ہے، اور اصل میں نیک کام اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے۔
آیت کی تاویل:
یہ آیت امام مہدیؑ کے اصحاب کے بارے میں ہے جو دنیا بھر میں بکھرے ہوں گے، لیکن جب امامؑ کا ظہور ہوگا، خدا ان کے ناصروں کو جمع کرے گا۔
روایات:
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
"خدا کا فرمان 'اینما تکونو' سے مراد قائم کے اصحاب ہیں جو 313 ہوں گے۔ یہ افراد امامؑ کے پاس ایک ساعت میں جمع ہو جائیں گے، جیسے خزاں کے بادل تیز ہوا سے جمع ہو جاتے ہیں۔"
---
چند اہم نکات:
قبلہ معین کرنا خدا کا اختیار ہے، جیسے رہبر اور امام کا تعین بھی اللہ کی مرضی سے ہے۔
ولایت کو مقدم رکھنا اور نیک عمل کرنا، جیسے امامؑ کی معرفت حاصل کرنا۔
امامؑ کے ناصر دنیا بھر میں بکھرے ہوں گے اور جب امامؑ ظہور کریں گے، خدا انہیں ایک جگہ جمع کرے گا، جیسے قیامت میں مردہ جسموں کو زندہ کیا جائے گا۔
---
👈 جاری ہے
والسلام
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌏
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
---
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں