𝔹𝕠𝕠𝕜 14 Sadia ChatGPT
---
📖 کتابچہ — صفحہ 14
📌 موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
📚 درس 1: قادیانیت سے آشنائی
✍️ نکات: قادیانیت کا مختصر تاریخچہ، علامہ اقبال کا جہاد، رہبر انقلاب اسلامی کا تبصرہ
👳♂️ استاد: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌿
ہماری آج کی گفتگو تین ایسے انحرافی مکاتبِ فکر 🕋 پر مرکوز ہے جنہوں نے خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں کو فکری، دینی اور اعتقادی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی:
1️⃣ قادیانیت
2️⃣ گوہر شاہی
3️⃣ جمن شاہی
ان تینوں کا مشترکہ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے عقیدۂ مہدویت کو غلط انداز میں استعمال کیا۔
---
1) ✨ قادیانیت (احمدیہ) — مختصر تاریخچہ
📍 قادیانیت 19ویں صدی کے آخر میں قادیان (پنجاب، ہندوستان) سے شروع ہوئی۔
👤 بانی: مرزا غلام احمد قادیانی (1835–1908)
ابتدا میں وہ مناظرے اور تبلیغ کرتے تھے، پھر مختلف دعوے کرنے لگے:
🔸 ملہم، محدث، مجدد
🔸 مسیح موعود اور امام مہدی
🔸 نبی امتی اور نبی شریعتی 📜
علمائے اسلام نے ان کے تمام دعوے رد کیے۔
⚔️ علامہ اقبالؒ نے اس فتنے کے خلاف فکری جہاد کیا اور فرمایا:
> “آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ شرک کے مفہوم میں آتا ہے۔”
📗 اس حوالے سے ایک اہم کتاب ہے: علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت (محمد متین خالد)
🕰️ تاریخی طور پر برطانوی استعماری حکومت نے قادیانیت کی حمایت کی اور مرزا غلام احمد نے ان کی وفاداری کا برملا اظہار بھی کیا۔ بعد میں خلیفہ جات کا سلسلہ چلا اور گروہ مختلف شاخوں میں تقسیم ہو گیا۔
---
2) 👁 گوہر شاہی
📍 یہ فرقہ پاکستان میں اُبھرا اور بعد میں مغربی دنیا میں سرگرم ہوا۔
⚠️ اس نے بھی عقیدۂ مہدویت کو بگاڑ کر پیش کیا اور عوام کو گمراہ کیا۔
---
3) 🕊 جمن شاہی
📍 یہ فرقہ جنوبی پنجاب میں بعض شیعہ حلقوں میں نمودار ہوا۔
❌ اس نے نیابتِ امام کے مفہوم میں تحریف کر کے لوگوں کو الجھایا۔
---
🔸 مشترکہ پہلو
ان تینوں فرقوں نے عقیدۂ مہدویت کا غلط استعمال کیا:
🛑 قادیانیت و گوہر شاہی → جھوٹے مہدی کا دعویٰ
🛑 جمن شاہی → نیابت کے نام پر گمراہی
---
🧠 علامہ اقبالؒ اور استعماری پس منظر
🕰️ علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ جب بھی اسلامی عقائد میں انحراف ہوا، عالمی طاقتوں (روس، برطانیہ وغیرہ) نے ایسے گروہوں کی پشت پناہی کی۔
🌍 رہبر انقلاب اسلامی نے بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ ظالم طاقتیں ہمیشہ اسلام کی اساس پر وار کرتی ہیں — خاص طور پر عقیدۂ مہدویت ان کے لیے بڑی رکاوٹ ہے ⚔️
---
🙏 نتیجہ اور دعا
📚 مرزا غلام احمد نے تقریباً 70 کتابیں مختلف زبانوں میں لکھیں۔
📜 اس کے بعد مختلف خلفاء آئے اور سلسلہ جاری رہا۔
🕊 دعا:
الٰہی ہمیں امام زمانہؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے فکری و علمی سپاہی بننے کی توفیق دے تاکہ ہم ان فتنوں کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔ 🤲
والسلام 🌸
✍️ تحریر و پیشکش: شہر بانو
🏛 عالمی مرکز مہدویت — قم، ایران
📖 کتابچہ
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
درس: قادیانیت سے آشنائی — درس دوم
نکات: میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوے، باطل احکام اور ان کی عالمی فعالیت
استاد: محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب 👳♂️
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌿
ہماری گفتگو کا موضوع وہ باطل فرقے اور گروہ ہیں جو مہدویت سے منسلک ہو کر جھوٹے دعوے کرتے ہوئے اپنے انحرافات دنیا میں پھیلا چکے ہیں اور دینِ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں۔
سبق اول میں قادیانیت کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا تھا؛ اب ہم اس کے جھوٹے دعوؤں، باطل احکام اور عالمی فعالیت پر غور کریں گے۔ 🌍
---
✳️ میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوے، باطل احکام اور عالمی فعالیت
1) 🛑 مہدویت اور عیسیٰ مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ
مرزا غلام احمد نے خود کو مہدی و مسیح قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہی وہ ہستی ہے جس کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ یہ دعوے اس کی کتاب الاستفتاء (1897، انگلینڈ) میں ملتے ہیں۔ 📚
اس نے متعدد صحیح روایات کو کمزور یا ضعیف قرار دے کر صرف ایک ضعیف روایت سے یہ نتیجہ نکالا کہ مہدی اور مسیح ایک ہی ہستی ہیں، لہٰذا وہ خود وہی ہیں — یہ موقف سراسر باطل ہے۔ ❌
قرآن و حدیث کی آیات و روایات جو امام مہدیؑ کے لیے وارد ہوئی ہیں اور جو ان کی نسلِ پیغمبر ﷺ سے منسوب کرتی ہیں، وہ اس نے ضعیف قرار دے دیں اور اپنی تاویلات کسیں۔ 🔍
2) 📖 قرآنی آیات اور وحی کا جھوٹا اطلاق
مرزا غلام احمد نے قرآن کی بعض آیات (مثلاً سورہ صف وغیرہ) کو اپنے اوپر اطلاق کر کے غلط دعوے کیے اور بعض مقامات پر سورہ مائدہ کی آیات کو حضرتِ عیسیٰؑ کی وفات کی دلیل بنائے — اور اپنے آپ کو اُس واقعے کا مظہر سمجھا۔
یہ تمام تاویلات غیر مستند اور مذہبی نصوص کا مسخ ہیں۔ ⚖️
3) ✝️ حضرتِ عیسیٰؑ کے نزول سے انکار
وہ اس بات پر زور دیتا کہ حضرتِ عیسیٰؑ وفات پا چکے ہیں اور ان کا ظہور پھر نہیں ہوگا — جو کہ اہلِ سنت و اہلِ تشیع کی متفقہ روایات کے خلاف ہے۔ یہ ادعاء انتہائی تشویشناک اور باطل ہے۔ 🙅♂️
4) 🔯 نبوت کا دعویٰ اور خاتم النبیینؐ کی تحریف
مرزا غلام احمد نے کہا کہ نبوت کے معنی میں "خاتم" کا مطلب یہ ہے کہ رسولؐ سب سے اعلیٰ مرتبے پر پہنچ گئے — اس لیے ان کے بعد بھی کوئی نبی آ سکتا ہے جو ان کے زیرِ سایہ ہو۔ یہ صراحتاً عقیدۂ ختمِ نبوت کی تحریف ہے اور اسلام کی بنیادوں کے خلاف ہے۔ ⚠️
5) 📚 باطل احکام اور فرقہ وارانہ قوانین
اس فرقے نے اپنے مخصوص احکام جاری کیے، مثلاً:
جو شخص قادیانیوں کو کافر سمجھے وہ خود کافر ہے۔ ❗
جو قادیانی نہ ہو مگر اسے کافر نہ کہے وہ منافق ہے۔
غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا حرام، اور غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا منع۔ ⚰️
یہ احکام مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور کفر کے فتوے پھیلاتے ہیں — اسلام کی وحدت کے منافی ہیں۔ 🛑
(یہ عقائد و احکام روحانی خزائن، القادیانی والقادیانیہ اور رسالہ التقویٰ جیسے مآخذ میں درج ہیں۔)
6) ⚙️ عالمی فعالیت اور تبلیغی نیٹ ورک
قادیانی جماعت نے منظم طریقے سے عالمی سطح پر فعالیت کی:
ہزاروں مساجد اور مشن قائم کیے ✨
مبلغین کو دنیا بھر میں بھیجا 🗺️
لندن سے ٹی وی و سیٹلائٹ پروگرامز مختلف زبانوں میں نشر کیے 📡
بہت سی کتابیں، رسائل اور ویب سائٹس چلائیں 🔗
البتہ اس کے خلاف علماءِ اسلام نے بھرپور علمی، فقہی اور نظریاتی جدوجہد کی اور سیکڑوں کتب، مقالات اور فتاویٰ جاری کیے۔ 📚🕌
7) ✅ علماء کا موقف اور اجماع
قادیانیت کے تمام دعوے — مہدی و عیسیٰ بننا، الہام و وحی، اور نبوت کا دعویٰ — امتِ مسلمہ کے اجماع کے خلاف ہیں۔ شیعہ و سنی تمام مکاتب نے ان دعوؤں کو رد کیا اور قادیانی جماعت کو خارجِ اسلام قرار دیا گیا ہے۔ ✋
---
🙏 نتیجہ اور دعا
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے باطل فرقوں سے بچائے اور ہمیں امامِ زمانہؑ عج کے حقیقی فکری و علمی سپاہی بنائے۔ آمیـن 🤲
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلَايَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْأَئِمَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ✨
والسلامُ علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہُ 🌸
تحریر و پیشکش: شہر بانو
عالمی مرکزِ مہدویت — قم، ایران 🕋
---
---
📘 کتابچہ: 14
🕋 جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
📖 موضوعِ درس: قادیانیت سے آشنائی
📚 درس: 3
📝 نکات:
قادیانیت نے پانچ مقامات پر اسلام و مسلمانوں پر ضرب لگائی ⚔️
ختمِ نبوت پر ان کا فاسد نظریہ ❌
علامہ اقبالؒ کا تاریخی جواب 🕌
👳♂️ استادِ درس: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
---
🌿 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہماری گفتگو ان باطل گروہوں کے بارے میں ہے جنہوں نے مہدویت کے مقدس نام کو استعمال کر کے جھوٹے دعوے کیے، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
ان میں ایک نمایاں فرقہ قادیانیت ہے۔
📜 پچھلے دروس میں ہم نے ان کے تاریخی پس منظر اور جھوٹے دعووں پر گفتگو کی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ قادیانیت نے اسلام پر کہاں کہاں وار کیا۔
📢 1974ء میں مکہ مکرمہ 🕋 میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام کا عظیم اجلاس ہوا جس میں قادیانیت کو متفقہ طور پر خارجِ اسلام قرار دیا گیا۔
---
⚔️ قادیانیت نے اسلام و مسلمانوں پر پانچ مقامات پر ضرب لگائی:
1. 📌 مسلمانوں کے عقائد میں انحراف پیدا کیا۔
2. 🧭 اسلام کو دنیا کے سامنے غلط انداز میں پیش کیا (اور خود کو اصل اسلام کہا)۔
3. 📖 دینِ اسلام پر براہِ راست حملہ کیا۔
4. ⚠️ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف پیدا کیا۔
5. 🌿 عقیدۂ مہدویت اور اس سے متعلق موضوعات میں تحریف کی۔
---
1️⃣ مسلمانوں کے عقائد میں انحراف
✨ عقیدہ ختمِ نبوت:
تمام عالمِ اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اسی طرح حضرت عیسیٰؑ اور امام مہدیؑ دو علیحدہ شخصیات ہیں۔
❌ قادیانیت نے:
ختمِ نبوت کے عقیدے میں انحراف پیدا کیا۔
عیسیٰؑ اور مہدیؑ کو ایک ہی شخصیت قرار دیا۔
آیات و احادیث کی غلط تفسیر کی۔
“خاتم النبیین” کو “ختم کمالات” کے معنی میں پیش کیا۔
📚 اپنی کتابوں (الاستفتاء وغیرہ) میں قادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ:
> “یہ غلط عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد دروازہ وحی ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔”
استغفراللہ ❗
---
🕌 ختمِ نبوت پر قادیانیوں کا فاسد نظریہ اور علامہ اقبالؒ کا تاریخی جواب
عقیدہ ختمِ نبوت، اسلام کا بنیادی ستون ہے۔
📌 اگر کوئی شخص اسلام قبول کر کے دعویٰ کرے کہ:
اس پر وحی آتی ہے 📩
اور جو اس کا پیروکار نہیں وہ کافر ہے ❌
تو ایسا شخص کافر، کذاب اور واجب القتل ہے، چاہے وہ بظاہر رسولؐ اکرم کی نبوت کا اقرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
🕊 قادیانیوں کا یہی دعویٰ ہے:
کہ وہی اللہ والے ہیں،
ان کا نبی رسول ﷺ کے بعد کا نبی ہے،
اور جو ان کا پیروکار نہیں وہ کافر ہے۔
---
🕋 علامہ اقبالؒ کا واضح موقف:
1. ✨ ہم اللہ کی واحدانیت کے قائل ہیں۔
2. 📿 ہم نبی ﷺ کی ختمِ نبوت کے قائل ہیں۔
اگر کوئی ان دو بنیادی اصولوں میں سے کسی ایک کا انکار کرے تو وہ اسلام سے خارج ہے۔
📜 علامہ اقبالؒ نے کہا:
> “جس طرح ایران میں بہائیت کے مقابل مسلمانوں میں حساسیت پیدا ہوئی، اسی طرح ہندوستان میں قادیانیت کے مقابل بھی شدید ردعمل پیدا ہوا — اور یہ ردِعمل عین اسلامی ہے کیونکہ اسلام غلط عقیدے کو برداشت نہیں کرتا۔”
---
🕊️ رہبر انقلاب اسلامی کا قول:
> “اسلام باطل نظریات کے مقابل میں حساس ہے کیونکہ اسلام یہ برداشت نہیں کرتا کہ مسلمان گمراہ کن عقائد میں مبتلا ہوں اور امت کو دھوکہ دیا جائے۔”
📛 قادیانیوں کے نبوت کے دعوے کی کوئی دلیل نہیں، نہ ہی کوئی سند۔
📚 یہ آیات و احادیث کی تحریف کے ذریعے اپنے باطل نظریات پھیلاتے رہے، اور اُس وقت کی برطانوی استعمار نے انہیں بھرپور حمایت فراہم کی۔
---
🌸 دعا
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے کہ:
🤲 “اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے باطل عقائد اور گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھے، اور ہمیں ختمِ نبوت پر قائم رہنے والے سچے موحدین میں شامل فرمائے۔”
آمین یا رب العالمین 🌿
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلَايَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْأَئِمَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ 🕊️
---
✍️ تحریر و پیشکش: شہر بانو
🏛 عالمی مرکز مہدویت — قم، ایران
---
---
📘 کتابچہ: 14
🕋 جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
📖 موضوعِ درس: قادیانیت سے آشنائی
📚 درس: 4
📝 نکات:
قادیانیت کی عقیدۂ مہدویت پر ضرب ⚔️
دو بڑے انحراف ❌
عالم اسلام کا بھرپور ردِ عمل 🕌
👳♂️ استاد محترم: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
---
🌿 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہماری گفتگو قادیانیت کے باطل نظریات پر جاری ہے، جس نے اسلام کے مقدس عقائد — خصوصاً مہدویت اور ختمِ نبوت — پر کھلی چوٹ لگائی۔
قادیانیت نے مہدویت کے حوالے سے دو بڑے انحراف سامنے لائے 👇
---
⚠️ قادیانیت کے دو بڑے انحراف
1️⃣ ختمِ نبوت پر ضرب
قادیانی گروہ نے واضح طور پر اس بنیادی اسلامی عقیدے پر حملہ کیا کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔
یہ عقیدہ تمام مکاتبِ فکر کے نزدیک قطعی اور غیر متنازع ہے۔
2️⃣ امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ کو ایک شخصیت قرار دینا
📛 قادیانیت نے اعلان کیا کہ:
امام مہدیؑ اور عیسیٰؑ ابن مریمؑ ایک ہی شخص ہیں۔
حضرت عیسیٰؑ وفات پا چکے ہیں (نعوذ باللہ)۔
جو شبیہِ عیسیٰؑ آنا ہے وہ میرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
اور اسی پر وحی و الہام نازل ہوا ہے۔
استغفراللہ ❌
📚 یہ باتیں خود روحانی خزائن (قادیانی کتب کا مجموعہ) میں موجود ہیں۔
---
🕌 اسلامی عقیدہ: امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ ✨ دو مختلف شخصیات
تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ:
🌿 امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ علیحدہ شخصیات ہیں۔
🌿 حضرت عیسیٰؑ زندہ ہیں اور آسمان چہارم پر موجود ہیں۔
🌿 امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔
---
📜 احادیثِ نبویؐ سے استدلال
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
> “لم یمت عیسیٰ ابن مریم و انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ”
"عیسیٰؑ ابن مریمؑ نے وفات نہیں پائی، وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔"
📖 صحیح بخاری و صحیح مسلم میں روایت:
> “کیف أنتم إذا نزل عیسیٰ ابن مریم فیکم وإمامکم منکم”
"تمہارا کیا حال ہوگا جب عیسیٰؑ ابن مریمؑ تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔"
---
🕋 امام صادقؑ اور ابو بصیرؒ کا واقعہ
📜 روایت: ابو بصیرؒ نے امام صادقؑ سے سوال کیا کہ قائم اہلبیتؑ کون ہوں گے؟
امامؑ نے فرمایا:
> “وہ میری نسل سے ہوں گے… جب ان کی غیبت طویل ہو جائے گی تو اہل باطل شک میں پڑیں گے، پھر اللہ انہیں ظاہر کرے گا۔ روح اللہ عیسیٰؑ ابن مریمؑ نازل ہوں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے، اور ان کے وجود سے زمین منور ہو جائے گی۔” ✨
✅ اس عقیدے پر اہلسنت اور اہل تشیع دونوں کا اتفاق ہے۔
---
📚 اہل سنت کا عقیدہ — شرح فقہ اکبر کے مطابق
امام مہدیؑ جب حرمین شریفین سے ظہور فرمائیں گے تو بیت المقدس میں داخل ہوں گے۔
دجال کا لشکر امام مہدیؑ کا محاصرہ کرے گا۔
حضرت عیسیٰؑ دمشق کی مسجد کے مشرقی مینار پر نازل ہوں گے۔
دجال سے جنگ کریں گے اور پھر امام مہدیؑؑ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔
40 سال تک زندہ رہیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھ کر دفن کریں گے۔
---
⚔️ عالم اسلام کا ردِعمل
جب قادیانیت نے کہا کہ:
> “امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ ایک ہی ہیں اور غلام احمد قادیانی وہی عیسیٰؑ ہے”
تو علمائے اسلام نے:
📢 اسے شدید انحراف قرار دیا،
🕌 قادیانیوں کو زندیق اور خارج از اسلام قرار دیا،
✍️ باقاعدہ فتوے، بیانات اور تحریری دلائل کے ذریعے اس عقیدے کو رد کیا۔
---
🖋️ علامہ اقبالؒ کا مؤقف
📖 کتاب: علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
> “جب قادیانیت کی تحریک شروع ہوئی، میں سمجھا کہ یہ شخص اسلام کا شیدائی ہے۔ لیکن جلد ہی واضح ہوا کہ وہ ایک منافق اور کافر سے بھی بدتر ہے۔ اس کی تحریک تحریف اور جھوٹے دعووں پر مبنی ہے اور اصل اسلام کے عقائد پر حملہ ہے۔”
---
🕊️ رہبر معظم انقلاب کا فرمان
> “دشمن ہمیشہ عقیدہ مہدویت کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ اس عقیدے کو لوگوں کے ذہنوں سے مٹانا یا اس میں تحریف کرنا چاہتے ہیں۔ آج ہمارا فرض ہے کہ ہم اس عقیدے کے مدمقابل کھڑے ہوں اور اسے بہترین انداز میں بیان کریں تاکہ ظہورِ امامؑ کے لیے زمین ہموار ہو۔”
---
🌸 دعا
🤲 پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم باطل نظریات کے مقابل مدافع اسلام و مہدویت بنیں، حق کو بیان کریں اور امام زمانؑ عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنے والوں میں شامل ہوں۔
آمین یا رب العالمین 🌿
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلَايَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْأَئِمَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ 🕊️
---
✍️ تحریر و پیشکش: شہر بانو
🏛 عالمی مرکز مہدویت — قم، ایران
---
---
📘 کتابچہ 14
🕋 جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
📖 موضوعِ درس: قادیانیت سے آشنائی
📚 درس: 5
📝 نکات:
میرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا دعویٰ
علمائے اسلام کا تاریخی و متفقہ ردعمل
👳♂️ استادِ درس: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
---
🕊️ تعارف
ہماری گفتگو مکتب قادیانی کے بارے میں جاری ہے۔
📌 میرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے بنیادی اصولوں پر براہِ راست حملہ کیا:
1. ✍️ ختم نبوت کا انکار کیا۔
2. ⚔️ جہاد کے بارے میں گمراہ کن فتویٰ دیا۔
3. 🤝 انگریز استعمار کا آلہ کار بن کر دین میں تحریف کی۔
---
🌿 مہدویت پر حملہ
📢 1891 میں میرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ:
> “جس مہدیؑ کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی تھی وہ میں ہوں۔”
اور پھر 📖 قرآن مجید کی آیت
> هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ... (سورہ الصف: 9)
کو اپنے اوپر تطبیق دی ❌
یہ تحریف براہِ راست عقیدہ مہدویت پر حملہ تھی۔
---
📜 سنی و شیعہ مکتب میں امام مہدیؑ کی علامات
تمام علمائے اسلام نے اس دعوے کو رد کیا کیونکہ:
1. 🕌 امام مھدیؑ رسول اللہ ﷺ کی عترت اور سیدہ فاطمہؑ کی نسل سے ہوں گے۔
📌 میرزا غلام احمد میں یہ صفت نہیں تھی۔
2. 🌍 امام مھدیؑ پوری زمین پر حکومت کریں گے۔
📌 وہ شخص ایک چھوٹے سے شہر میں مرا۔
3. ⚖️ امام مھدیؑ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
📌 یہ شخص استعمار کا خدمت گزار تھا۔
4. 📢 ظہورِ مھدیؑ کی علامات (ندائے آسمانی، سفیانی کا خروج وغیرہ) اس میں موجود نہ تھیں۔
5. ✝️ امام مھدیؑ نصارا سے جنگ کریں گے۔
📌 یہ شخص ان کا شکرگزار اور حمایتی تھا۔
6. 👹 دجال کے مقابلے میں امام مھدیؑ ہوں گے۔
📌 یہ خود ایک فتنہ بنا۔
7. 🕊 حضرت عیسیٰؑ امام مھدیؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
📌 یہ شخص خود کو مھدی اور عیسیٰ دونوں کہتا تھا۔
8. ⏳ امام مھدیؑ جب ظہور فرمائیں گے تو ان کی عمر چالیس سال کے قریب ہوگی۔
📌 میرزا کی عمر اس حدیث کے مطابق نہ تھی۔
📚 ان تمام علامات میں سے ایک بھی صفت اس شخص میں موجود نہ تھی، اس لیے علمائے کرام نے اس کے دعوے کو باطل قرار دیا۔
---
🕌 اہلسنت کا نقطہ نظر — شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی)
📜 اپنی کتاب مکتوب امام ربانی دفتر دوم میں فرماتے ہیں:
> “رسول اللہ ﷺ نے جو علاماتِ مہدیؑ بیان کی ہیں، وہ قطعی اور یقینی ہیں۔ اس جھوٹے مدعی میں ان میں سے کوئی علامت موجود نہیں۔”
وہ مزید فرماتے ہیں:
ظہورِ مہدیؑ کے وقت آسمان سے اعلان ہوگا 📢
ان کے سر پر بادل کا سایہ ہوگا ☁️
امام مھدیؑ پوری زمین کے حاکم ہوں گے 🌍
اصحاب کہفؑ انصار میں سے ہوں گے 🕊
حضرت عیسیٰؑ نزول فرمائیں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ✝️🕌
سورج اور چاند گرہن مخصوص ایام میں لگے گا 🌕☀️
🛡 ان تمام علامات میں سے کوئی بھی میرزا غلام احمد قادیانی پر منطبق نہیں ہوتی۔
---
📣 علامہ اقبالؒ کا تاریخی موقف
📘 کتاب علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
> “شروع میں میں سمجھتا تھا کہ غلام احمد ایک محبِ اسلام ہے۔
لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ وہ منافق ہے، کافر سے بھی بدتر۔
اس کی تحریک جھوٹے دعووں اور تحریفات پر مبنی ہے اور اسلام پر ضرب ہے۔”
---
🕊️ رہبر معظم کا فرمان
> “دشمن ہمیشہ عقیدہ مہدویت کو اپنے اہداف کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے، اس لیے وہ یا تو اسے مٹانے یا اس میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ہمارا فریضہ ہے کہ ہم دشمن کے مقابلے میں اس عقیدے کا دفاع کریں اور امام زمانؑ عج کے ظہور کی راہ ہموار کریں۔”
---
🌸 نتیجہ و دعا
قادیانیت کا جھوٹ واضح ہے:
❌ نہ علامات، ❌ نہ نسب، ❌ نہ اقتدار، ❌ نہ سچائی۔
✅ اور اسی بنیاد پر عالمِ اسلام نے اسے خارج از اسلام قرار دیا۔
🤲 “پروردگار! ہمیں جھوٹے مہدیوں اور باطل تحریکوں سے محفوظ رکھ، اور اپنے امام زمانؑ کی معرفت عطا فرما۔ ہمیں اُن کے ناصر و مددگار بننے کی توفیق دے۔”
آمین یا رب العالمین 🌿
---
✍️ تحریر و پیشکش: شہر بانو
🏛 عالمی مرکز مہدویت — قم، ایران
---
---
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس 1: قادیانیت سے آشنائی
نکات: قادیانیت کا مختصر تاریخچہ، علامہ اقبال کا جہاد، رہبر انقلاب اسلامی کا تبصرہ
#استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہماری گفتگو کا موضوع تین انحرافی مکاتب ہیں جنہوں نے عالم اسلام، خاص طور پر پاک و ہند کے مسلمانوں کو فکری، دینی اور اعتقادی اعتبار سے کافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
پہلا جھوٹا دین قادیانیت:
سب سے پہلا انحرافی مکتب، اعتقادی فرقہ اور جھوٹا دین قادیانیت ہے۔ قادیانی، احمدی یا مرزائی یہ تینوں نام جھوٹے دین کے ہیں جو انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوا۔
دوسرا جھوٹا دین گوہر شاہی ہے:
انہوں نے ابتدا میں پاکستان میں کام کیا اور اب اس کا نمائندہ مغربی دنیا میں بیٹھا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
تمام عالم اسلام، شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے، ان دونوں جھوٹے فرقوں نے سب پر فکری اور نظریاتی اعتقادات یعنی اسلام کے بنیادی اصولوں پر ضرب لگانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
تیسرا جھوٹا دین جمن شاہی ہے:
یہ ایک خاص مکتبہ یا گروہ ہے جو پاکستانی شیعوں میں ہے، خاص طور پر یہ جنوبی پنجاب سے سامنے آیا۔
ان تینوں گروپوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ انہوں نے مہدویت کے عنوان کو غلط استعمال کیا۔
قادیانی اور گوہر شاہی جھوٹے گروہ ہیں جنہوں نے دین کی شکل اختیار کی اور جھوٹا مہدی پیش کیا۔ جمن شاہی فرقے نے نیابت کے سلسلے میں لوگوں کو گمراہ کیا۔
اب ہم ان تینوں گروپوں کے بارے میں تفصیلات اور ان کا رد بیان کرتے ہیں۔
قادیانیت کا مختصر تاریخچہ: 🫴
قادیانیت یا احمدیہ یہ وہ منحرف دین یا فرقہ ہے جو انیسویں صدی کے آخر میں پیدا ہوا۔ ان کو قادیانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے بانی کا تعلق ہندوستان کے ایک گاؤں قادیان سے تھا، اور احمدیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے مؤسس کا نام غلام حیدر تھا۔
کذاب احمد قادیانی 1835 میں پیدا ہوا اور 1908 میں واصل جہنم ہوا۔ 🖐🏼
شروع میں یہ ہندوؤں، عیسائیوں اور بدھ مت کے لوگوں کے ساتھ مناظرے کرتا تھا اور 1884 تک اس نے "براہین احمدیہ" نامی کتاب لکھی۔ اس کتاب میں اس کی افعالیت اسلام کے دفاع میں تھی، مگر اس میں کچھ اشارے تھے جو بتا رہے تھے کہ وہ گمراہی کی راہ پر جا رہا ہے۔ اس کے بعد اس نے ملہم ہونے کا دعویٰ کیا کہ اس پر الہام ہوتا ہے، پھر محدث ہونے کا دعویٰ کیا، اور بعد میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا، یعنی اس نے تین دعوے کیے: ملہم، محدث اور مجدد۔
بعد میں اس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور امام مہدیؑ ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ یعنی ان دونوں ہستیوں کا ایک ہی شخص میں جمع ہونا۔ جب اس کے دعووں پر علمائے اسلام نے تنقید کی تو اس نے کہا کہ میں تو مامور من اللہ ہوں اور مجدد ہوں۔
جب اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو علمائے اسلام نے اس کے تمام جھوٹے دعووں کو رد کیا، اور اس کے بعد علامہ اقبالؒ نے اس فتنے کا سب سے زیادہ مقابلہ کیا اور پیغمبر اسلام کی نبوت کے بعد کسی بھی دعویٰ نبوت کو کفر اور شرک قرار دیا۔
علامہ اقبالؒ کی تقریر کا عنوان: "اے وہ ہستی پیغمبرؐ کہ آپؐ کے بعد نبوت مفہوم شرک میں بدل گئی"
اس فتنے کے رد میں علامہ اقبالؒ کی کوششیں "کتاب علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت" میں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ 📗
جب مرزا احمد قادیانی نے اپنے دعوے کیے، تو برطانوی استعمار نے اس کی مکمل حمایت کی۔ قادیانیت اور برطانیہ کے تعلقات بھی اس دوران مضبوط ہوئے۔
اس کے بعد قادیانیوں کے خلیفہ بشیر الدین محمود نے "تحفہ شہزادہ ویلز" لکھی، جو اس نے برطانوی ولی عہد کو تحفے کے طور پر دی۔
علامہ اقبالؒ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ایران میں بابیہ فرقہ تھا جس کی روس نے حمایت کی، اور قادیانیت کی پشت پناہی برطانیہ نے کی۔"
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: "ہمیشہ ظالم حکومتوں کا مقصد اسلام کے عقائد میں انحراف پیدا کرنا رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے یہ استعمار تمام وسائل استعمال کرتے ہیں۔"
قادیانیت نے مہدویت کے عقیدے کو غلط استعمال کیا اور برطانوی استعمار کی خدمت میں پیش کیا۔
غلام احمد قادیانی نے تقریباً 70 کتابیں لکھیں، جنہیں "روحانی خزائن" کے نام سے چھاپا گیا۔
جب وہ فوت ہوا، تو اس کے بعد اس کے خلیفے بنے۔ پہلے خلیفہ حکیم نورالدین، دوسرے خلیفہ بشیر الدین محمود، اور پھر اس کے بعد ناصر احمد اور طاہر احمد وغیرہ۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اختتام:
اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم امام زمانہؑ عج کے فکری اور علمی سپاہی بنیں اور ایسے فتنوں کا مقابلہ کریں، ان شاء اللہ۔🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
درس دوم: قادیانیت سے آشنائی
نکات: میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوے، انکے باطل احکام، اور ان کی دنیا بھر میں پھیلائی گئی سرگرمیاں۔
استاد مہدویت محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہمارا موضوع ان فرقوں اور گروہوں کا رد ہے جو مہدویت کے نام پر جھوٹے دعوے کرتے ہوئے دین اسلام سے انحراف کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم اور معروف فرقہ قادیانی ہے، جس کا تذکرہ گزشتہ درس میں تاریخی حوالے سے کیا گیا۔
میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوے اور انکے باطل احکام
1. مہدویت اور عیسیٰ مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ 😡
غلام احمد قادیانی نے خود کو امام مہدی اور عیسیٰ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کا یہ دعویٰ کہ وہ وہی مہدی ہیں جس کا ذکر ابن سیرین کی کتاب الاستفتاء میں ہے، سراسر جھوٹ تھا۔
اس نے تمام صحیح احادیث کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے، ایک ضعیف حدیث "لا المھدی الا عیسیٰ" کو بنیاد بنایا اور کہا کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخصیت ہیں، اور وہ خود ہی یہ دونوں ہیں۔
اس کا یہ عقیدہ تھا کہ قرآن اور صحیح احادیث میں جو امام مہدیؑ کے بارے میں آیا ہے، وہ تمام غلط ہیں اور یہ اس کی ذات پر منطبق ہوتا ہے۔
2. عیسیٰ کی وفات کا جھوٹا دعویٰ 😡
غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہو چکی ہے اور ان کی قبر سرینگر میں ہے۔ اس نے قرآن کی آیت "فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ" کو اپنی بات کی حمایت میں پیش کیا اور کہا کہ حضرت عیسیٰؑ دوبارہ نہیں آئیں گے۔
اس کے مطابق، وہ خود ہی حضرت عیسیٰؑ کے شبیہ اور نیابت میں آسمان سے نازل ہوئے ہیں، اور مسلمانوں کے عقیدہ کے برعکس عیسیٰؑ کے نزول کی تمام حدیثوں کی تاویل کی گئی۔
3. نبوت کا جھوٹا دعویٰ 😡
غلام احمد نے نہ صرف خود کو امام مہدی اور عیسیٰ مسیح کے طور پر پیش کیا، بلکہ اپنے آپ کو نبی بھی سمجھنا شروع کیا۔ اس نے کہا کہ وہ بھی نبوت کے عہد میں ہیں اور ان پر وحی آتی ہے جیسے کہ پیغمبرؐ پر وحی آتی تھی۔
اس نے دعویٰ کیا کہ نبی اکرم ﷺ کا خاتمیت کا معنیٰ یہ نہیں کہ کوئی نبی نہیں آئے گا، بلکہ یہ کہ نبیوں کا درجہ انتہائی بلند ہے اور اس کے بعد آنے والے تمام نبیؑ ان کے زیر سایہ ہوں گے۔
4. غلام احمد کا دعویٰ کہ وہ سارے نبیوں کی تجلی ہے 😡
غلام احمد نے اپنی کتاب روحانی خزائن میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام نبیوں کا مظہر ہیں، اور وہ خود حضرت محمدؐ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت موسیؑ، حضرت داؤدؑ اور تمام انبیاء کے جامع ہیں۔
اس کا یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد اور کفر پر مبنی تھا۔
5. قادیانیوں کے باطل احکام 😡
غلام احمد نے اپنے پیروکاروں کو یہ عقائد سکھائے کہ غیر احمدی کافر ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا حرام ہے۔ اس نے حتیٰ کہ غیر احمدیوں کے جنازے پڑھنے کو بھی ممنوع قرار دیا۔
اس کے مطابق، جو شخص ان پر ایمان نہیں لاتا وہ منافق اور کافر ہے۔
6. جہاد کا انکار 😡
غلام احمد قادیانی نے کہا کہ جہاد اب صرف قلم اور دعوت اسلام کے ذریعے ہوگا، اور یہ صدر اسلام میں جنگوں کے ساتھ مخصوص تھا۔ اس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بھی ناجائز قرار دیا، جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ تھا کہ جہاد ایک اہم اسلامی فریضہ ہے۔
قادیانی مذہب کی دنیا بھر میں سرگرمیاں
قادیانیوں نے دنیا بھر میں ہزاروں مساجد بنائیں اور اپنے مبلغین کو مختلف ممالک میں بھیجا۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹی وی چینلز، میگزینز اور ویب سائٹس کے ذریعے اپنے جھوٹے عقائد کی تبلیغ کی۔
تاہم، الحمد اللہ، مسلم اُمہ نے قادیانیت کے عقائد کو رد کیا ہے اور اس کے خلاف کئی کتابیں، مقالات اور فتوے جاری کیے ہیں۔
اختتام:
قادیانی فرقہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے اور اس کے عقائد کو پوری مسلم اُمہ نے رد کیا ہے۔ وہ اپنے جھوٹے دعووں اور باطل عقائد کی بنا پر خارج اسلام ہیں۔
قادیانی خارج الاسلام ہیں اور یہ کافر ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔
پروردگار ہم سب کو ایسے باطل فرقوں اور گروہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں امام مہدی عج کے حقیقی فکری اور روحانی ساتھی ہونے کی توفیق دے۔
آمین۔🤲
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّکینَ بِوِلایَۃِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْاَئِمَّۃ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ 🌹🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
کتابچہ: 14📖✨
ہماری گفتگو اس موضوع پر ہے کہ قادیانیت نے مہدویت کے نام پر کئی جھوٹے دعوے کیے ہیں، جس سے نہ صرف وہ خود گمراہ ہوئے بلکہ ہزاروں لوگ بھی متاثر ہوئے۔ قادیانی تحریک نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے پانچ اہم طریقے اختیار کیے:
1. **مسلمانوں کے عقائد میں انحراف**: قادیانیت نے ختم نبوت کے عقیدے میں تبدیلی کی اور حضرت عیسیٰ اور امام مہدی کو ایک ہی شخصیت کے طور پر پیش کیا۔
2. **اسلام کا غلط تاثر**: انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اصل اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں، جس سے اسلام کو عالمی سطح پر بدصورت انداز میں پیش کیا۔
3. **اصل دین پر حملہ**: قادیانیوں نے دین کی بنیادی تشریح کو مسخ کیا، خاص طور پر نبوت کے موضوع پر۔
4. **مسلمانوں میں اختلاف**: ان کے نظریات نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کیا۔
5. **مہدویت کے عقیدے میں انحراف**: قادیانیت نے اس عقیدے کو بھی غلط انداز میں پیش کیا۔
اختتاماً، یہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے عقائد کی حفاظت کریں اور قادیانیت جیسے انحرافات سے دور رہیں۔ اللہ ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
Other girl not sadia
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
کتابچہ: 14📖✨
### ضرب اور دو انحراف: عالم اسلام کا ردعمل
قادیانیت میں ایک بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام ایک ہی شخصیت ہیں۔ غلام احمد قادیانی نے اس تصور کو دو طریقوں سے تحریف کیا:
1. عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام کی شناخت کو ملا دیا۔
2. یہ کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور دوبارہ نہیں آئیں گے۔ اس کے مطابق، جب کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ آئیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی شبیہ آئے گی، اور وہ خود کو عیسیٰ اور مہدی قرار دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، شیعہ اور سنی مسلمانوں میں یہ بات متفقہ طور پر موجود ہے کہ حضرت عیسٰی اور مہدی دو علیحدہ شخصیات ہیں۔ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ جب مہدی علیہ السلام ظہور کریں گے، تو عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔
صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں موجود احادیث کے مطابق، عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا دن آئے گا جب وہ امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء کریں گے۔ امام صادق علیہ السلام نے بھی یہ وضاحت کی ہے کہ مہدی علیہ السلام میرے نسل سے ہیں اور غیبت کے دوران لوگوں کی آزمائش کا سبب بنیں گے۔
اہل سنت بھی اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ان کی کتب میں مہدویت کے عقائد موجود ہیں، جس کے مطابق مہدی علیہ السلام بیت المقدس میں داخل ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام دجال کا مقابلہ کریں گے۔
علماء نے قادیانیت کے ان انحرافات کا سخت جواب دیا ہے اور مرزا غلام احمد کو کذاب قرار دیا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی تحریروں میں مرزا کی حقیقت کو سمجھنے کے بعد انہیں منافق قرار دیا۔
رہبر معظم کے نزدیک، عقیدہ مہدویت دشمنوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان انحرافات کا مقابلہ کریں اور حقیقی ناصرانِ امام کی صف میں شامل ہوں۔ آمین۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
Other girl not sadia
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
کتابچہ: 14📖✨
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی
درس 5
نکات: میرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا دعویٰ اور علمائے اسلام کا ردعمل
استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
ہماری گفتگو مکتب قادیانی میں جاری ہے اور عرض کیا تھا کہ میرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے بہت سارے اصولوں پر حملہ کیا تھا۔
اس نے پہلے ختم ِنبوت کا انکار کیا اور اسی طرح جہاد کی ممنویت کا غلط فتویٰ صادر کیا اور جس قسم کے اسلام اور فرقے کا وہ بانی تھا وہ صرف اور صرف انگریز استعمار کی خدمت میں تھا اور اس بات کو اس نے اپنی کتابوں میں بہت ہی واضح انداز سے بیان کیا۔
مہدویت پر حملہ: 🫴
میرزا غلام احمد قادیانی کا ایک بہت بڑا انحراف مہدویت پر حملہ تھا اور جھوٹا مہدی ہونے کا دعویٰ تھا۔
یہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے🫴 کہ وہ شخص کہ جس کی بشارت اوائل اسلام میں دی گئی تھی وہ میں ہوں (میرزا غلام احمد) یعنی یہ وہ شخص ہے وہ آخری مہدیؑ کہ جب اسلام زوال کا شکار ہوگا اور مسلمان گمراہی میں پڑ جائیں گے اور یہ مہدی اللہ سے براہ راست ہدایت لے گا اور انسانوں کے لیے نئے انداز سے دسترخوان الہیٰ بچھائے گا اور جس کی بشارت رسولؐ اللہ نے تیرہ سو سال قبل کی تھی وہ میں ہوں۔ اسطرح اس نے اپنی مہدویت کا جھوٹا دعویٰ 1891 میں کیا۔
یہ دعویٰ اس کی کتاب روحانی خزائن میں موجود ہے۔ 📚
پھر اس نے قرآن مجید کی آیہ مھدویہ
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ(9)
وہی تو ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے، اگرچہ مشرک نا پسند کریں۔
سورہ الصف 9
میرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کو اپنے اوپر تطبیق دی ہے۔ 😡
اب یہاں ہمارے جو علمائے اسلام ہیں، چاہے وہ سنی ہیں یا شیعہ، سب نے اس کے اس جھوٹے دعوے کو رد کیا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس جو سنی اور شیعہ مکتب میں جواحادیث ہیں ان میں امام مھدیؑ کی علامات ہیں۔ اور اس شخص میں ان میں سے کوئی علامت موجود نہ تھی۔
رسولؐ اللہ نے امام مھدیؑ کے بارے میں جو پیشن گوئی فرمائی تھی اور یہ پیشن گوئی ایک معجزہ ہے۔ یہ ساری پیشن گوئیاں ہمیں جھوٹے مہدیوں سے بچانے والی ہیں۔ چونکہ جب وہ علامات اور پیشن گوئیاں جو رسولؐ اللہ نے بتائیں ہیں اور وہ اس کے اندر نہیں ہیں تو نعوذ باللہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسولؐ اللہ کی بات جھوٹی تھی۔ بلکہ یہ شخص جھوٹا تھا۔ 🫴
اگر ہم شیعہ سنی کتابوں میں مشترکہ چیز دیکھیں تو چند چیزیں ہمارے لیے واضح ہیں۔
1. ▪️ امام مھدیؑ عج رسولؐ اللہ کی عترت میں سے ہیں اور سیدہ فاطمہ زہراؑ کی نسل سے ہیں اور میرزا غلام احمد قادیانی میں یہ چیز نہیں تھی۔
2. ▪️ امام مھدیؑ عج خلیفہ خدا ہیں اور پوری زمین کے حاکم بنیں گے۔ اور یہ شخص قادیان میں ہی مر گیا اور ایک چھوٹے سے شہر کی حکومت بھی اس کے پاس نہ تھی کجا پوری زمین کی حکومت۔
3. ▪️ امام مھدیؑ عج زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور ظلم و ستم کو ختم کریں گے۔ اور یہ شخص وہ تھا کہ جو ظالمین کا خدمتگار تھا۔ استعماری حکومت برطانیہ کی خدمت کرتا رہا۔
4. ▪️ امام مھدیؑ عج کے ظہور کی حتمی علامات کہ جن میں ندائے آسمانی ہے سفیانی کا خروج ہے ایسی کوئی علامات اس شخص میں نہ تھیں۔
5. ▪️ امام مھدیؑ عج نصارا سے جنگ کریں گے جبکہ یہ شخص ان کی خدمت کرتا رہا اور ان کی شان میں کتابیں لکھتا رہا۔ اور ان کا شکرگزار رہا۔
6. ▪️ امام مھدیؑ عج کے دور میں دجال ظاہر ہوا اور یہ شخص بذات خود ایک فتنہ بنا رہا۔
7. ▪️ حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے اور امام مھدیؑ عج کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔ اور یہ شخص وہ کذاب ہے جو خود کو مھدی اور عیسیٰ دونوں کہتا تھا۔
8. ▪️ امام مھدیؑ عج جب ظہور فرمائیں گے تو چالیس سال تک زمین پر رہیں گے۔ دوسرے الفاظ میں امام مھدیؑ جب خروج کریں گے تو چالیس سال کے سن میں ظہور کریں گے۔ اور یہ شخص کہ جب اس نے مھدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اس کی عمر اس حدیث کی مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
تو کسی بھی علامت اور صفت نے یہاں تحقق پیدا نہیں کیا کہ جو شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود ہیں۔ لیکن اس نے انگلیسی استعمار کی پشت پناہی سے کہ جو اس کو بچا رہے تھے اس طرح مسلسل جھوٹے وحی اور الہام کے دعوے کرتا رہا کہ آخرکار کچھ سادہ لوح لوگ گمراہ ہوگئے۔ اب وہ خود گمراہ ہوئے یا اس کے پیچھے کوئی اور شیطانی علامات تھیں۔ آخرکار یہ فرقہ زالہ بنا کہ جس کو علمائے اسلام نے خارج السلام قرار دیا۔
یہاں اہلسنت کی ایک بڑی مشہور شخصیت کہ جس کو مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی بیان فرماتے ہیں کہ:
یہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قیامت کی جو علامات ہیں کہ جن کی خبر صادقؑ یعنی پیغمبرؐ اکرمؔ نے دی وہ حق ہیں اور اس میں کسی بھی قسم کے اختلاف کا احتمال نہیں۔ 📚
جیسے مغرب سے طلوع آفتاب ہونا، امام مھدیؑ عج کا ظہور، روح اللہ حضرت عیسیٰؑ ابن مریمؑ کا نزول، دجال کا خروج، یاجوج ماجوج کا ظہور، دابتہ الارض کا خروج اور آسمان سے ایک دھوئیں کا نکلنا اور لوگوں پر عذاب کا ہونا اور لوگ اضطراب میں آئیں گے اور کہیں گے کہ پروردگار اس عذاب کو ہم سے دور کر اور اسی طرح عدن سے نکلنے والی آگ ہے۔ ✨
اس کے بعد جناب سرہندی صاحب فرماتے ہیں کہ:✨
ہمارا یہ معاشرہ اپنی بے وقوفی سے یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ جو شخص ہے کہ جو ہندوستان سے ہے اور جس نے مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے یہ شائد وہی مھدی موعود ہے۔ اب یہ شخص جو یہ دعویٰ کر چکا ہے اور اب مر چکا ہے آیا یہ وہی شخص ہے کہ جس کا صحاح ستہ کی احادیث کے اندر ذکر ہوا ہے؟ اور یہ احادیث تواتر معنی تک پہنچی ہیں اور ہمارے پیغمبرؐ نے جو علامات مھدیؑ بیان کی ہیں اس کے اندر یہ ساری علامات موجود نہ تھیں۔
پھر فرماتے ہیں کہ جب امام مھدیؑ عج ظہور فرمائیں گے تو ان کے سر پر ایک بادل کا ٹکڑا ہو گا جو تمام لوگوں کو آواز دے گا کہ یہ مہدیؑ عج ہیں اور ان کی اطاعت کرو۔ اور مہدی ساری زمین پر حاکم ہونگے۔ اور اس سے پہلے پوری زمین پر چار حاکم تھے۔ دو مومن اور دو کافر۔ یعنی ذوالقرنینؑ اور سلیمان مومن تھے جنہوں نے پوری زمین پر حکومت کی اور نمرود اور بخت نصر کافر تھے۔ 🫴
اور رسولؐ اکرم فرماتے ہیں کہ: 🌷
کہ پانچواں شخص میرے اہلبیتؑ میں سے ہے۔ میرا بیٹا مہدیؑ ہے اور جس کا نام میرے نام جیسا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام جیسا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔ اور پھر حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اصحاب کہف امام مہدیؑ عج کے انصار ہونگے اور حضرت عیسیٰؑ ان کے زمانے میں نزول کریں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور دجال کے قتل میں امام مہدیؑ عج کی مدد کریں گے۔ اور ان کی حکومت میں ماہ رمضان چودھویں کو سورج گرہن لگے گا اور اسی ماہ کے آغازمیں چاند گرہن ہوگا۔ اور یہ قوانین کے خلاف ہیں۔
اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی علامات تھیں کہ جن کو نبیؐ صادقؔ نے ارشاد فرمایا تھا۔ 🌷اس حوالے سے ایک رسالہ بھی لکھا گیا ہے اور اسمیں امام مھدیؑ منتظر کی دو سو کے قریب علامات لکھیں ہیں۔ اور یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے کہ اتنی بڑی علامات کے باوجود کوئی شخص اس کذاب کو مہدی سمجھے اور ذلالت اور گمراہی میں پڑ جائے۔
یہ تجزیہ جناب سرہندی کی کتاب مکتوب امام ربانی دفتر دوم میں لکھا ہوا ہے۔ 📚
یہاں اہلسنت کی ایک بہت بڑی شخصیت کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قادیانی نے جو یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا یہ جھوٹ اتنا واضح تھا کہ اس زمانے کے شیعہ سنی تمام علمائے کرام نے اس کو رد کیا اور آج تک رد کر رہے ہیںَ
*اور تعجب کی بات ہے کہ جب اس میں ایک بھی صفت موجود نہیں تو پھر کیوں اتنی بڑی تعداد میں یہ گمراہ لوگ اس کے تابع ہیں اور اس نظریے کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں انسان اتنی نعمات الہیٰ کو دیکھنے کے باوجود اللہ کا ناشکرا بنتا ہے۔ اور دین حق اور راہ حق سے کیوں اور کسیے گمراہی کی جانب آجاتا ہے۔ اب یہ جہالت ہے، ہوائے نفس ہے یا پھر استعمار کی سازشیں ہیں۔ جو بھی ہیں ان کا راہ حل موجود ہے اور اسی لیے حکم ہے کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کریں۔ اپنے دینی مطالعے کے لیے وقت نکالیں۔ کیونکہ ہمارے قلب مانند شکم ہیں اگر انہیں حقائق سے نہ بھرا جائے پھر یہ ذلالتیں اور گمراہی میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ 🫴
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم راہ حق پر چلیں اور اپنے امام وقت ؑ کی معرفت حاصل کریں اور ان کے خدمت گذار ناصر بنیں۔🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی
درس 6
نکات:
1. میرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ مہدویت کا انکار و تخریب
2. رہبر معظم انقلاب اسلامی کی نظر میں ہمارا فریضہ
استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب
قادیانیت ایک گمراہ فرقہ ہے جس نے اسلام کے بنیادی عقائد، خاص طور پر ختم نبوت، عقیدہ مہدویت اور نبوت کے حوالے سے شدید انحرافات کیے۔ قادیانیوں نے نہ صرف ان عقائد کا انکار کیا، بلکہ انہیں تخریب کرنے کی کوشش بھی کی۔
قادیانیوں کا عقیدہ مہدویت کے بارے میں انکار
میرزا غلام احمد قادیانی نے سب سے پہلے اپنی جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا دعویٰ بھی کیا۔ پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس پر وحی آتی ہے۔ اس کا یہ دعویٰ پوری مسلم اُمّہ کے لیے ایک بڑا فتنے کا سبب بنا، اور تمام اسلامی مکاتب فکر کے علماء نے اسے کذاب اور جھوٹا قرار دیا۔ اس کی تکفیر کی اور اس کے دعووں کو رد کیا۔
علامہ یوسف لدھیانوی کی نظر میں قادیانیوں کا دعویٰ
علامہ یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب "تحفہ قادیانیت" میں اس بات کی تفصیل بیان کی کہ غلام احمد قادیانی نے مہدویت کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی عیسیٰ ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کے مطابق، جب امام مہدیؑ آئیں گے تو وہ نبوت کا دعویٰ نہیں کریں گے، اور چونکہ قادیانیوں کے دعوے میں نبوت کا دعویٰ شامل تھا، اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور اس نے مہدویت کے اصل عقیدے کو نقصان پہنچایا۔
غلام احمد قادیانی کا مہدویت کا انکار
غلام احمد قادیانی نے نہ صرف اپنی جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کیا بلکہ اس نے امام مہدیؑ کے بارے میں جو مسلم عقیدہ تھا، اسے بھی رد کیا۔ اس نے اپنی کتابوں میں لکھا:
1. "کشف لغطاء" (روحانی خزائن): اس کتاب میں غلام احمد نے کہا کہ مہدویت صرف ایک افسانہ ہے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں، وہ جہالت کا شکار ہیں۔ اس نے یہ تک کہا کہ تمام احادیث جو امام مہدیؑ کے بارے میں آئی ہیں، وہ جعلی ہیں اور صرف عباسی حکومت کے دوران تیار کی گئی تھیں۔
2. "کتاب البریہ" (روحانی خزائن): اس کتاب میں اس نے کہا کہ وہ کسی "خونی" مہدی کے عقیدے پر ایمان نہیں رکھتا جو خاندان بنی ہاشم سے ہو گا، جیسا کہ اہل سنت و اہل تشیع کا عقیدہ ہے۔ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ تمام احادیث جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان میں سے کوئی حقیقت نہیں ہے۔
3. "روحانی خزائن": اس کتاب میں اس نے اپنے جھوٹے دعووں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ وہ مہدی نہیں ہے جو عترت رسولؐ سے ہوگا اور جو زمین کو عدل سے بھرے گا۔ اس نے یہ تمام حدیثوں کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ ان کا کوئی حقیقت سے تعلق نہیں۔
میرزا قادیانی کے جھوٹے دعووں کا مقابلہ
غلام احمد قادیانی کے پاس نہ تو اپنے جھوٹے دعوے کے حق میں کوئی دلیل تھی اور نہ ہی امام مہدیؑ کے حقیقی عقیدے کے انکار کے لیے کوئی ٹھوس دلیل۔ اس کے دعوے صرف اس کے ذاتی خیالات اور جھوٹ پر مبنی تھے۔ اس کا مقصد اصل اسلامی عقائد کو توڑنا اور مسلمانوں کو گمراہ کرنا تھا۔
ہمارا فریضہ
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قادیانیت جیسے باطل فرقوں کے مدمقابل رہیں اور امام مہدیؑ کے عقیدے کو درست طریقے سے سمجھیں اور اس کی حفاظت کریں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی، حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ:
"دشمن ہمارے عقائد پر حملہ کرتا ہے اور ان پر حملے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہمارے عقیدے کے نور کو کم کرنا اور اس میں تاریکی پیدا کرنا ہے۔ خاص طور پر امام مہدیؑ کے بارے میں ہمارا عقیدہ، جو یہ بتاتا ہے کہ امام مہدیؑ رسول اللہؐ کی نسل سے آخری زمانے میں ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، دشمن کے حملوں کا ہدف ہے۔"
لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمن کے مقابلے میں اس عقیدے کی تبلیغ کریں، اس پر عمل کریں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ اس طرح کی تخریب سے بچا جا سکے۔
اللہ تعالی ہمیں اپنی ہدایت دے اور ہمیں حق کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی
درس 7
نکات:
میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہانت
ریبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں ایسے افسانوں کی حقیقت
---
استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب کی گفتگو:
---
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہمارا آج کا موضوع ایک باطل مذہب قادیانیت ہے، اور اس سلسلے کا یہ آخری درس ہے۔ ہم یہاں میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعووں اور ان کے افکار کا جائزہ لیں گے، جنہوں نے سب سے پہلے خود کو جھوٹا مہدی اور عیسیٰ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، پھر ختم نبوت کا انکار کیا اور اسلام کے اصولوں میں تخریب کی۔ اس کے بعد اس نے نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
قادیانیت کا آغاز:
میرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تعلیمات کا آغاز غیر معروف اصطلاحات سے کیا جن میں "نبی ظلی، نبی مجازی، نبی بروزی" جیسے الفاظ شامل تھے، جو اسلام میں ناپسندیدہ اور غیر متعارف تھے۔
قادیانیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ چونکہ پیغمبرؐ کے کمالات انبیاءؑ کے کمالات کا عکس ہیں، اس لئے ان کے کمالات کی صورت میں وہ ان کمالات کو اپنے اندر منتقل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہ عقیدہ ناپسندیدہ ہے کیونکہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ عقلی طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:
میرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین شروع کی۔ اس نے براہین احمدیہ میں لکھا: "عیسیٰؑ مسیح نے انجیل کو ناقص چھوڑا اور آسمانوں میں جا کر بیٹھ گئے"۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰؑ کی روحانیت اور ان کے مقام کو کم کرنے کی کوشش کی۔
پھر اعجاز احمدیہ میں اس نے کہا کہ عیسیٰؑ کی تین پیشن گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں، اور دافعی البلاء میں یہ بیان کیا کہ حضرت عیسیٰؑ اپنے زمانے میں سچے نہیں تھے، اور یحییٰ نبیؑ ان سے بہتر تھے۔
اس طرح اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت اور مقام کو جھوٹے دعووں سے گھٹانے کی کوشش کی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام قرآن میں:
قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف ایک نبی بلکہ ایک با برکت شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے: سورہ مریم 31: "وَجَعَلَنِى مُبَارَکًا اَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِى بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا"
"اور مجھے جہاں کہیں بھی ہوں، برکت دی، اور مجھے نماز اور زکوة کا حکم دیا جب تک میں زندہ ہوں۔"
ریبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا نقطہ نظر:
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بارے میں فرمایا کہ میرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو افسانے گھڑے ہیں، وہ مغربی اور مشرقی فاسد مذاہب کا اثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جعلی انجیلیں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے 100 یا 150 سال بعد وجود میں آئی ہیں، اور اصلی انجیل کا کوئی تاریخی وجود نہیں ہے۔
قادیانیت کے جھوٹے دعوے:
1. نیا دین: قادیانیت نے نہ صرف ایک نیا دین متعارف کرایا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کی بھی توہین کی۔
2. ختم نبوت کا انکار: قادیانیوں نے ختم نبوت کا انکار کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے عقیدے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔
3. جھوٹے دعوے: میرزا قادیانی نے جھوٹا مہدی اور عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا، جو کہ عقلی اور دینی طور پر بالکل باطل ہے۔
خلاصہ:
قادیانیت کا عقیدہ نہ صرف ناپسندیدہ ہے بلکہ یہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنا اور ختم نبوت کا انکار کرنا قادیانیت کی اصل حقیقت ہے۔
اس عقیدے کو قبول کرنا نہ صرف دینی طور پر غلط ہے بلکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف بھی ہے۔
دعاء:
اللہ تعالی ہمیں ان گمراہ نظریات سے محفوظ رکھے اور ہمیں دین اسلام پر ثابت قدمی عطا کرے۔ آمین۔🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
کتابچہ: 14📖✨
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی
درس 8
نکات:
میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے اصل اسلام اور سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سارے اوصاف و کمالات کو اپنے اندر بیان کرنا
علامہ اقبالؒ اور رہبر معظم انقلاب کی رائے
---
استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب کی گفتگو:
---
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج کی گفتگو کا موضوع قادیانیت ہے، جو ایک باطل فرقہ ہے، جو اسلام کے اندر سے اٹھا اور لوگوں میں گمراہی پھیلائی۔ ان میں سب سے اہم فرقہ قادیانی یا میرزائی ہے۔ اس فرقے نے اسلام کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا، خاص طور پر ختم نبوت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حملے کئے۔
میرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
میرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں عجیب و غریب اصطلاحات رائج کیں جیسے "پیغمبر ظلی" اور "پیغمبر بروزی"۔
اس کا دعویٰ تھا کہ جو کمالات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہیں وہ میرے اندر بھی موجود ہیں اور میں ظل محمد ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کا کوئی مستقل وجود نہیں تھا، بلکہ وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آئینہ ہیں، اور خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کا کوئی وجود نہیں تھا۔
نعوذ باللہ!
قادیانی عقیدہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین:
میرزا قادیانی نے اپنی کتاب "فتنہ قادیانیت" میں یہ تک دعویٰ کیا کہ:
میرزا غلام احمد کی شکل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظلی وجود آیا تھا۔
قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ میرزا غلام احمد کی وجہ سے زمین و زمانہ وجود میں آیا اور اسی کی وجہ سے باقی ہے۔
نعوذ باللہ! ان کا دعویٰ تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ روحانیت کی ابتداء تھا جبکہ میرزا کا زمانہ روحانیت کی انتہاء ہے۔
قادیانی عقیدے کی مزید توہین:
قادیانیوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین میں یہ تک کہہ دیا کہ:
میرزا کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے بہتر تھا۔
ان کے مطابق میرزا کا دور اسلام کا چودہواں رات تھا، یعنی مکمل طور پر اسلام کی تکمیل۔
مزید یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو اسرار و رموز منکشف نہیں ہوئے وہ میرزا غلام احمد پر منکشف ہو گئے۔
نعوذ باللہ!
علامہ اقبالؒ اور قادیانیت:
علامہ اقبالؒ نے قادیانی عقائد کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے فرمایا:
"اگر قادیانی یہ تمام فاسق عقائد رکھنے کے ساتھ مسلمان ہیں تو پھر اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم جو سب مسلمان ہیں وہ غیر مسلم ہیں؟"
یعنی، قادیانی فرقہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
علامہ اقبالؒ نے مزید کہا:
فتنہ بہائیت قادیانیت سے بہتر تھا کیونکہ بہائیت نے کھل کر اسلام سے دوری کا اظہار کیا تھا، جبکہ قادیانیوں نے اسلام کا ظاہری روپ رکھا اور اندرونی طور پر وہ غیر مسلم ہیں۔
قادیانی فرقہ کی منافقت اور اسلام کے اصل پیغام کے خلاف سازشیں قابل مذمت ہیں۔
رہبر معظم انقلاب کی رائے:
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے قادیانیت اور اس کے پیچھے استعماری طاقتوں کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
انگریزوں نے اسلام کو نشانہ بنایا اور برصغیر پر قابض ہونے کے بعد اسلام کے خلاف اپنی سازشیں شروع کیں۔
اس دوران اسلامی معاشرت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں، جس کا ایک نتیجہ قادیانیت کی صورت میں سامنے آیا۔
خلاصہ:
قادیانیت نے اسلام، ختم نبوت، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت پر شدید حملے کئے ہیں۔
علامہ اقبالؒ اور تمام شیعہ و سنی علماء کرام کا یہ نظریہ ہے کہ قادیانی دین اسلام سے خارج ہیں۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ہمیں ان فتنوں سے محفوظ رکھے اور امام محمد بن حسن عجل اللہ تعالی فرجہ کی حمایت میں اسلام کے دفاع کے لیے ہم سب کو تیار کرے۔
اللہ ہمیں ان گمراہ نظریات سے بچائے اور ہمیں صحیح دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔🤲
👈 جاری ہے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
درس 9: گوہر شاہی سے آشنائی
نکات: فرقہ گوہر شاہی اور اس کے بانی کا تعارف، ریاض گوہر شاہی کے جھوٹے دعوے اور نظریات
استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہماری گفتگو آج ان انحرافی مکاتب فکر پر مبنی ہے جو دنیا میں مختلف فتنے پیدا کر رہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے قادینیت پر تفصیل سے بات ہو چکی ہے، اور آج ہم ایک اور جھوٹے فرقے مکتب گوہر شاہی کی حقیقت پر گفتگو کریں گے۔
فرقہ گوہر شاہی کا تعارف
ریاض احمد گوہر شاہی نے 1980 میں حیدر آباد، پاکستان میں امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس کا تعلق مذہبی طور پر اہل سنت اور بریلوی فرقے سے تھا اور وہ ایک معروف صوفی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس نے انجمن سرفروشانِ اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کا مقصد لوگوں کو اپنی باتوں اور عقائد کی طرف مائل کرنا تھا۔
اس کا دعویٰ تھا کہ وہ امام مہدی ہے اور اس نے اپنی تبلیغ کا آغاز 1980 میں کیا تھا، جب اس نے حیدر آباد اور کوٹری میں اپنی تعلیمات کا آغاز کیا۔ ابتدا میں وہ خود کو ایک صوفی اور روحانی رہنما کے طور پر پیش کرتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عقائد میں انحرافات شامل کرنا شروع کر دیے۔ اس کے پیروکار اس کی تعلیمات پر یقین رکھتے تھے اور وہ اسے امام مہدی تسلیم کرتے تھے۔
ریاض احمد گوہر شاہی کی زندگی
ریاض احمد گوہر شاہی 1941 میں پاکستان کے علاقے راولپنڈی کے قریب کسی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق ایک صوفی خاندان سے تھا اور وہ صوفیانہ تعلیمات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 24 سال کی عمر میں ان کا رابطہ مختلف صوفی درباروں اور درویشوں سے ہوا۔ 1975 میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں "جُسہ" حاصل ہو چکا ہے۔
صوفیت میں "جُسہ" ایک اہم روحانی مقام ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے اندر ایک خاص قوت پیدا کر لیتا ہے جس سے وہ اپنے اور دوسروں کے جسموں سے شیاطین کو نکال سکتا ہے۔ یہ دعویٰ بھی اس کے فتنہ کا حصہ تھا۔
1980 میں، اس نے اپنی تبلیغ کا آغاز حیدر آباد اور کوٹری سے کیا، اور اس کے پیروکاروں کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں واقع بری امام کی قبر سے روحانی رہنمائی حاصل کرنے کے بعد اس کام کو شروع کرنے کا حکم پا چکے تھے۔
گوہر شاہی کے دعوے اور عقائد
1. مہدی ہونے کا دعویٰ: ریاض گوہر شاہی نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ امام مہدی ہیں۔ اس کے پیروکار اسے امام مہدی کے طور پر تسلیم کرتے تھے اور وہ اس کی باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔
2. تناسخ کا عقیدہ: ریاض گوہر شاہی تناسخ کے عقیدہ کا بھی قائل تھا، یعنی وہ مانتا تھا کہ انسان مرنے کے بعد کسی دوسرے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ عقیدہ ہندو دھرم کا حصہ ہے، اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
3. تحریف قرآن کا عقیدہ: اس نے قرآن کی تحریف کا بھی دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ قرآن کو من مانے طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ بات صریح طور پر اسلام کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن کو اللہ کا کلام سمجھا جاتا ہے، جو ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے۔
4. تمام مذاہب میں نجات کا عقیدہ: گوہر شاہی کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر کوئی شخص صوفی بن جائے، تو وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، جنت میں جائے گا۔ اس کے مطابق روحانیت سے جڑ کر کسی بھی مذہب کا پیروکار جنت میں جا سکتا ہے، چاہے وہ ہندو ہو، عیسائی ہو یا کسی اور مذہب کا پیروکار ہو۔
5. عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات: اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امریکہ میں ملے تھے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلامشافہ ملاقات کر چکا ہے اور جو کچھ آپؐ نے اسے بتایا، وہ لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔
گوہر شاہی کی وفات اور اس کے پیروکاروں کے عقائد
ریاض احمد گوہر شاہی 2001 میں انگلینڈ میں وفات پا گئے۔ تاہم، اس کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ غیبت میں ہیں اور وہ جلد دنیا میں واپس آئیں گے۔ اس کی تدفین انگلینڈ سے پاکستان منتقل کی گئی اور وہ انجمن سرفروشانِ اسلام کے مرکزی دفتر میں دفن کیا گیا۔
گوہر شاہی کی کتابیں اور ان کے دعوے
ریاض احمد گوہر شاہی کی کئی کتابیں بھی موجود ہیں جو اس کے عقائد اور تعلیمات پر مبنی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
1. مینار نور
2. روشناس
3. تحفتہ المجالس
4. روحانی سفر
5. تریاق قلب
6. دین الہیٰ
گوہر شاہی کے جھوٹے دعوے اور پیشن گوئیاں
ریاض احمد گوہر شاہی نے کئی جھوٹے دعوے کیے تھے جن کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا تھا:
1. پاکستان کے مکمل ہونے کا دعویٰ: ریاض گوہر شاہی نے 1998 میں ایک پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان امام مہدی کے لیے بنایا گیا تھا اور جب وہ آئیں گے تو پاکستان مکمل ہو جائے گا۔ اس کے مطابق امام مہدی کے آنے سے پاکستان ایک عظیم اسلامی ریاست بن جائے گا۔
2. قیامت کی پیشن گوئی: اس نے کہا تھا کہ 25 یا 26 سال بعد زمین سے ایک سیارہ ٹکرائے گا اور قیامت برپا ہو جائے گی۔
3. تیسری جنگ عظیم کا آغاز: اس نے دعویٰ کیا کہ تیسری جنگ عظیم عراق سے شروع ہوگی، جو بعد میں دنیا بھر میں پھیل جائے گی۔
نتیجہ
ریاض احمد گوہر شاہی کے تمام دعوے جھوٹے اور اسلامی عقائد کے خلاف ہیں۔ اس نے جو تعلیمات دیں، وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تھیں۔ اس مکتب کے پیروکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں اور جھوٹے دعوے کرنے والوں سے بچیں۔
ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں سچائی کی ہدایت دے اور ہمیں امام مہدیؑ کے سچے پیروکار بنائے تاکہ ہم ان جھوٹے فرقوں کا مقابلہ کر سکیں۔
انشاء اللہ!
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
درس 10: گوہر شاہی سے آشنائی
نکات:
گوہر شاہی کے باطل نظریات
تحریف قرآن
عقیدہ تناسخ
دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا
انبیاء کی توہین
امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ
عجیب دلائل
استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہمارا آج کا موضوع فتنہ گوہر شاہی ہے۔
گوہر شاہی کا فتنیہ ایک بہت بڑا اور سنگین مسئلہ ہے، جس کے بانی ریاض گوہر شاہی ہیں۔ حالانکہ وہ فوت ہو چکے ہیں، مگر ان کا نائب یونس الگوہر اس فتنے کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اس فتنے کا مقصد لوگوں کو امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں جھوٹے دعوے اور مغالطے دینا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل سے بات کی جائے تاکہ لوگوں کو سچائی کا علم ہو سکے۔
گوہر شاہی کی کتابیں:
ریاض گوہر شاہی کی دو مشہور کتابیں "دین الہی" اور "روحانی سفر" ہیں۔ ان کتابوں میں اس نے اپنے باطل عقائد اور نظریات کو پیش کیا۔
1. تحریف قرآن:
ریاض گوہر شاہی قرآن کی تحریف کا قائل تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ قرآن میں بظاہر تیس پارے ہیں، لیکن اس کے باطن میں دس اور پارے بھی ہیں، جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو عبادت اور ریاضت میں مصروف ہو۔ یہ دعویٰ قرآن کی واضح آیات اور اسلامی اجماع کے خلاف ہے، جو کہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف کو مسترد کرتے ہیں۔
2. عقیدہ تناسخ:
گوہر شاہی تناسخ کا عقیدہ رکھتا تھا، جو کہ ہندو مذہب کا بنیادی عقیدہ ہے۔ وہ یہ کہتا تھا کہ مرنے کے بعد انسان کی روحیں ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہیں۔ اس نے اس عقیدے کو اسلامی رنگ میں پیش کیا، حالانکہ یہ عقیدہ قرآن اور حدیث سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسلام میں عقیدہ معاد ہے، یعنی انسان مرنے کے بعد برزخ کی جانب منتقل ہوتا ہے اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہوگا۔
3. دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا:
ریاض گوہر شاہی نے دین اسلام کو بری شکل میں پیش کیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی توہین کی، جیسے وہ کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجبور ہے، اور اگرچہ وہ لوگوں کی شہ رگ سے قریب ہے، لیکن وہ نہیں دیکھ سکتا۔ یہ بات قرآن کی واضح آیات کے خلاف ہے، جیسے:
إِنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے)
إِنَّ اللّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے)
4. انبیاء کی توہین:
ریاض گوہر شاہی نے مختلف انبیاء کی توہین بھی کی۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو حسد کا شکار قرار دیا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کو خالی اور مرکز شرک کہا۔ اس کے علاوہ، حضرت خضر علیہ السلام کو قاتل قرار دیا۔ یہ تمام باتیں اس کی گمراہی کو ظاہر کرتی ہیں اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
5. امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ:
ریاض گوہر شاہی نے امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، اور اس کے پیروکار اس کے اس دعوے کو سچ مانتے ہیں۔ یونس الگوہر نے کہا کہ ریاض گوہر شاہی نے ایک دن اعلان کیا کہ اللہ کی طرف سے اسے وحی ہوئی ہے کہ وہ امام مہدی ہے۔ اس کے مطابق، عبدالقادر جیلانی کے پوتے، حیات الامیر، نے گوہر شاہی سے ملاقات کر کے غوث الاعظم کا سلام پہنچایا تھا، جو کہ ایک مکمل جھوٹ اور گمراہی ہے۔
6. عجیب دلائل:
یونس الگوہر نے گوہر شاہی کی مہدویت کی حمایت کرنے کے لیے کئی عجیب و غریب دلائل دیے۔ ایک جگہ پر اس نے کہا کہ 1994 میں چاند پر امام مہدی کا چہرہ ظاہر ہوا تھا، اور پھر یہ چہرہ مختلف جگہوں پر نظر آنے لگا جیسے حجر اسود، سورج، کلیسا، اور مریخ پر۔ یہ تمام دعوے جھوٹے اور غیر سائنسی ہیں۔
نتیجہ:
ریاض گوہر شاہی کا دعویٰ امام مہدی ہونے کا بالکل جھوٹا اور باطل تھا۔ اس نے اپنی گمراہی کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کئی جال بچھائے اور اپنے پیروکاروں کو گمراہ کیا۔ ہمیں ان جھوٹے دعووں سے بچنے کے لیے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں کھولنی ہوںگی، تاکہ ہم حقیقت کو جان سکیں اور امام مہدی علیہ السلام کے اصلی ظہور کا انتظار کر سکیں۔
خلاصہ:
ریاض گوہر شاہی اور اس کے پیروکاروں نے جھوٹے دعوے کیے اور دین اسلام کو گمراہ کن شکل میں پیش کیا۔ اس کے دعوے اور عقائد قرآن و سنت کے خلاف ہیں، اور اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے عجیب و غریب دلائل دیے۔ ہمیں ان جھوٹے عقائد سے بچنا چاہیے اور سچائی کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔
دعاء:
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سچائی کی ہدایت دے اور ہم امام مہدی علیہ السلام کے سچے پیروکار بنیں، تاکہ ان جھوٹے فرقوں کا مقابلہ کر سکیں۔ آمین۔
انشاء اللہ!🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
درس 11: گوہر شاہی سے آشنائی
گوہر شاہی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے
ریاض احمد گوہر شاہی نے مہدویت کے دعوے کے ساتھ اسلام کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اس نے نہ صرف امام مہدیؑ ہونے کا دعویٰ کیا، بلکہ کئی دیگر جھوٹے دعوے بھی کیے جو اسلام کے عقائد اور قرآن کی تعلیمات کے خلاف تھے۔ یہاں ہم گوہر شاہی کے دعووں اور ان کے خلاف دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
1. چاند میں گوہر شاہی کی تصویر
گوہر شاہی کے پیروکاروں کا دعویٰ تھا کہ امام صادقؑ نے فرمایا تھا کہ مہدیؑ کا چہرہ چاند میں دکھائی دے گا۔ گوہر شاہی کی تصویر چاند میں نظر آنا اس دعوے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس روایت کی کوئی مستند کتابی یا تاریخی سند نہیں ملتی، اور نہ ہی اس دعوے کے بارے میں کوئی ٹھوس دلیل ہے۔
جواب:
چاند میں کسی کا چہرہ دکھائی دینا ایک عام سی بات ہو سکتی ہے جو کسی بھی تصویر یا شکل سے مشابہ ہو، اور اسے کسی مذہبی دعوے کے طور پر پیش کرنا محض ایک گمراہ کن عمل ہے۔
2. پشت پر مہر مہدویت
گوہر شاہی کے پیروکاروں کا دعویٰ تھا کہ امام علیؑ نے فرمایا تھا کہ مہدیؑ کی پشت پر مہر مہدویت ہوگی، اور گوہر شاہی کی پشت پر بھی ایسی مہر تھی۔ اس کو امام مہدیؑ کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
جواب:
یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کیونکہ اس بات کا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا کہ امام علیؑ نے ایسی کوئی پیشنگوئی کی ہو۔ نیز، مہر مہدویت کی حقیقت بھی ابھی تک ثابت نہیں ہوئی ہے۔
3. حجرہ اسود میں گوہر شاہی کا چہرہ
ایک اور جھوٹا دعویٰ یہ کیا گیا کہ گوہر شاہی کا چہرہ حجرہ اسود میں ظاہر ہوا تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ امام مہدیؑ کا ظہور کعبہ میں ہوگا، اور حجرہ اسود میں گوہر شاہی کا چہرہ اس کا نشان تھا۔
جواب:
یہ محض ایک خرافات اور جھوٹ ہے۔ امام مہدیؑ کے بارے میں جتنی بھی روایات ہیں، ان کے مطابق ان کا ظہور ایک خاص وقت پر ہوگا اور وہ کسی غیبی طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔
4. گوہر شاہی کا علم لدنی
گوہر شاہی کے پیروکاروں نے یہ دعویٰ کیا کہ گوہر شاہی کے پاس امام مہدیؑ کی طرح علم لدنی ہے۔
جواب:
علم لدنی کا دعویٰ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔ امام مہدیؑ کو اللہ تعالی نے علم لدنی سے نوازا ہوگا، لیکن گوہر شاہی کے دعوے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ علم لدنی ایک ایسا علم ہے جو کسی انسان کو اللہ کی طرف سے براہ راست عطا ہوتا ہے، اور اس کا تعلق روحانیت سے ہے، نہ کہ کسی معمولی انسان کے دعووں سے۔
5. گوہر شاہی کی ملاقات حضرت عیسیٰؑ سے
گوہر شاہی نے کہا تھا کہ اس نے حضرت عیسیٰؑ سے امریکہ میں ملاقات کی۔
جواب:
یہ دعویٰ ایک اور جھوٹ ہے کیونکہ حضرت عیسیٰؑ ابھی تک زندہ نہیں ہیں اور ان کا امام مہدیؑ کے ساتھ ظہور ہوگا۔ حضرت عیسیٰؑ کا قیامت سے پہلے واپس آنا ایک مسلم عقیدہ ہے، اور گوہر شاہی کا ایسا دعویٰ اسلام کے عقائد کے خلاف ہے۔
6. گناہوں سے آلودہ زندگی
گوہر شاہی کی زندگی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کا کردار بے حد متنازعہ تھا۔ وہ حلال و حرام کی تفریق کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور اس کی زندگی میں عبادات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
جواب:
اگر کوئی شخص گناہوں میں ڈوبا ہو اور اس کی زندگی میں کوئی روحانی حقیقت نہ ہو، تو وہ کیسے امام مہدیؑ کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ امام مہدیؑ کی شخصیت کا وصف ایمان، تقویٰ، اور دین پر عمل ہے، جو گوہر شاہی میں نہیں تھا۔
گوہر شاہی کا کفر
گوہر شاہی کا دعویٰ تھا کہ اسلام واحد نجات کی راہ نہیں ہے، اور اس نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو روحانیت کی طرف بلایا۔ اس کے مطابق، اگر کوئی شخص روحانیت کی تعلیمات پر عمل کرے، تو وہ جنت میں جا سکتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو۔
جواب:
یہ دعویٰ قرآن اور حدیث کے مخالف ہے، کیونکہ قرآن میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ دین اسلام ہی نجات کی واحد راہ ہے۔ گوہر شاہی کا یہ دعویٰ گمراہی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
گوہر شاہی کا کلمہ
گوہر شاہی کے پیروکاروں کا کلمہ بھی ایک سنگین گمراہی ہے۔ اس میں "محمد رسول اللہ" کی جگہ "گوہر شاہی رسول اللہ" لکھا گیا ہے۔
جواب:
یہ تبدیلی اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے۔ اسلام میں اللہ کے بعد سب سے عظیم شخصیت حضرت محمدؐ کی ہے، اور ان کی رسالت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ گوہر شاہی کا نام کلمے میں ڈالنا ایک کفر کا عمل ہے۔
خلاصہ:
گوہر شاہی نے اپنے جھوٹے دعووں کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا، اور اس کے پیروکاروں نے ان دعووں کو سچ سمجھ کر پھیلایا۔ لیکن تمام سنی اور شیعہ علمائے کرام نے گوہر شاہی کو باطل اور گمراہ فرقہ قرار دیا ہے۔ گوہر شاہی نے اسلام کے خلاف کام کیا، اور اس نے روحانیت کو نجات کا ذریعہ بنایا جو کہ قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
ہمارا فرض ہے کہ ہم ان جھوٹے دعووں کا مقابلہ کریں اور لوگوں کو گوہر شاہی کے باطل نظریات سے آگاہ کریں تاکہ یہ فرقہ مزید لوگوں کو گمراہ نہ کر سکے۔*
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی
درس 12
نکات:
انحرافی گروہ جمن شاہی سے آشنائی: اس گروہ کے بانی، اس کے عقائد اور باطل نظریات کا جائزہ۔
استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب کی گفتگو پر مبنی۔
---
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
ہم نے پہلے قادیانی، گوہر شاہی اور ان کے باطل نظریات پر گفتگو کی ہے، اور آج ہم ایک اور انحرافی گروہ "جمن شاہی" کے بارے میں بات کریں گے۔
جمن شاہی گروہ ایک انحرافی فرقہ ہے جو امام زمانہؑ عج کے حوالے سے عقائد رکھتا ہے، اور اس گروہ نے بھی اسلامی حقیقت سے انحراف کیا ہے اور بہت سے غلط افکار پھیلائے ہیں۔ اس گروہ کی بنیاد پاکستان کے جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے شہر "جمن شاہ" میں رکھی گئی۔ گروہ کا بانی سید طالب حسین نقوی بخاری ہے۔
جمن شاہی گروہ کی خصوصیات:
1. امام زمانہؑ عج سے ملاقات کا دعویٰ: جمن شاہی گروہ کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جب چاہیں امام زمانہؑ عج سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، امام زمانہؑ عج کا ظہور اور ملاقات ممکن ہے، جو ایک انحرافی اور غلط عقیدہ ہے کیونکہ امامؑ عج کی غیبت میں ان سے ملاقات ممکن نہیں ہے۔
2. سید طالب حسین نقوی کا دعویٰ: سید طالب حسین نقوی نے اپنے آپ کو امام زمانہؑ عج کا نائب قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امام زمانہؑ عج نے ان کو اپنی طرف سے منتخب کیا ہے اور وہ ان کے حقیقی نمائندے ہیں۔
3. فقہاء کی تقلید کا انکار: جمن شاہی گروہ فقہاء کی تقلید کے مخالف ہے اور اسے توہین سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق، ایک مسلمان کو امام زمانہؑ عج سے براہ راست رہنمائی ملنی چاہیے، اور اس کے لیے کسی فقیہ یا علما کی ضرورت نہیں ہے۔
4. غلو در امام زمانہؑ عج: جمن شاہی گروہ امام زمانہؑ عج کے بارے میں غلو کا شکار ہے اور ان کو الوہیت کے قریب سمجھتا ہے۔ یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ امامؑ عج انسان ہیں اور ان کا مرتبہ بہت بلند ہے، لیکن وہ خدا نہیں ہیں۔
5. پاکستان اور ہندوستان میں پیروکار: اس گروہ کے پیروکار پاکستان کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی موجود ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ امام زمانہؑ عج کا ظہور قریب ہے اور وہ ان کی رہنمائی کریں گے۔
سید طالب حسین نقوی کا تعارف:
سید طالب حسین نقوی کا تعلق ایک دینی خاندان سے تھا اور وہ 1940 یا 1941 میں پاکستان کے ایک دینی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نجف اشرف گئے۔ وہاں ان کا تعلق شیخ الجبل نامی ایک صوفی استاد سے تھا، جو عبادت اور ریاضت میں مشغول رہتے تھے۔
پاکستان واپس آکر انہوں نے جمن شاہ میں ایک روحانی مرکز قائم کیا، جہاں وہ اپنے پیروکاروں کو مختلف روحانی اور مذہبی تعلیمات دیتے تھے۔ انہوں نے "دعائے فرج امام زمانہؑ عج" کو اپنی عبادت کا مرکزی نقطہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ امامؑ عج ان کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔
جمن شاہی گروہ کے انحرافات:
1. امام زمانہؑ عج سے ملاقات کا دعویٰ: اس گروہ کا دعویٰ ہے کہ وہ جب چاہیں امام زمانہؑ عج سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ امامؑ عج کی غیبت میں ملاقات کا امکان نہیں ہوتا۔
2. غیبت میں شادی نہ کرنے کا عقیدہ: جمن شاہی گروہ کا عقیدہ ہے کہ امام زمانہؑ عج کے ظہور تک شادی نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح کے عقائد مسلمانوں کی حقیقت اور شریعت سے انحراف ہیں۔
3. غیر خدا کو سجدہ کرنے کی اجازت: اس گروہ کے لوگ غیر خدا کو سجدہ کرنے کے جواز کو درست سمجھتے ہیں، جو کہ اسلام میں بالکل ممنوع ہے۔
4. امام زمانہؑ عج کا نام ذبح کے وقت لینا: اس گروہ کے لوگ جب جانور ذبح کرتے ہیں تو وہ اللہ کے بجائے امام زمانہؑ عج کا نام لیتے ہیں، جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
5. تقلید کے حرام ہونے کا فتویٰ: جمن شاہی گروہ تقلید کو حرام قرار دیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ امام زمانہؑ عج ہی دین کے حقیقی رہبر ہیں، اس لیے اس کی رہنمائی کے بغیر کسی فقیہ کی تقلید نہیں کی جا سکتی۔
6. قرآن کی تفسیر بالرائے: اس گروہ کا دعویٰ ہے کہ وہ قرآن کی آیات کی تفسیر اپنی مرضی سے کرتے ہیں، جو کہ شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس طرح کی تفسیر مسلمانوں کے عقائد کو پراگندہ کرتی ہے۔
7. لڑکیوں کو خمس میں دینا: جمن شاہی گروہ کی ایک اور عجیب و غریب عادت یہ ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو خمس کے طور پر امام زمانہؑ عج کو پیش کرتے ہیں۔ اس گروہ کے مطابق، ان لڑکیوں کو امامؑ عج کے ظہور کے بعد ان سے شادی کرنی چاہیے۔
8. طالب حسین شاہ کو امام زمانہؑ عج کا نائب سمجھنا: جمن شاہی گروہ کے لوگ سید طالب حسین نقوی کو امام زمانہؑ عج کا نائب مانتے ہیں اور ان کی زندگی میں ان سے سجدہ کرتے تھے۔ یہ عقیدہ بھی اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔
خلاصہ:
جمن شاہی گروہ نے امام زمانہؑ عج کی شخصیت اور ان کی غیبت کو اپنے نظریات کے مطابق مسخ کیا ہے، اور ان کے عقائد اسلامی اصولوں سے انحراف کرتے ہیں۔ ان کے دعوے اور افکار مسلمانوں کے لیے خطرناک ہیں، اور یہ گروہ شیعت اور اہل بیتؑ کے نظریات کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس قسم کے انحرافی گروہ اور عقائد سے محفوظ رہیں اور امام زمانہؑ عج کے حقیقی پیروکار بن کر ان کے ناصرین اور سپاہی بنیں۔ آمین۔🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
📅 سوموار 4 شعبان 1446( 3 فروری ، 2025)**
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کتابچہ: 14📖✨
موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی
درس 13
نکات: انحرافی گروہ جمن شاہی سے آشنائی، اس گروہ کے باطل انحرافات اور اس کا جواب
استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب
انحرافی گروہ جمن شاہی سے آشنائی:
اس درس میں گفتگو انحرافی گروہ "جمن شاہی" کے بارے میں کی جا رہی ہے، جس میں اس گروہ کے عقائد اور انحرافات کو بیان کیا جائے گا اور ان کا رد پیش کیا جائے گا۔
باطل انحرافات اور اس کا جواب:
1. غیر خدا کو سجدہ کرنا: جمن شاہی گروہ غیر خدا کو سجدہ کرنے کے جواز کی بات کرتا ہے، حالانکہ دین اسلام میں تمام مکاتب فکر کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سجدہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
2. جانور کو ذبح کرتے ہوئے امام زمانؑ عج کا نام لینا: اس گروہ کا عقیدہ ہے کہ ذبح کرتے وقت امام زمانؑ عج کا نام لینا ضروری ہے۔ یہ ایک بڑا انحراف ہے کیونکہ اس سے جانور نجس ہو جاتا ہے اور اس کا گوشت حرام ہو جاتا ہے۔
3. تقلید نہ کرنے کا فتویٰ: جمن شاہی گروہ تقلید سے انکار کرتا ہے، جبکہ امام زمانؑ عج نے تقلید کا حکم دیا ہے اور یہ گروہ امامؑ عج کے حکم کو رد کرتا ہے۔
4. قرآنی آیات کی تفسیر بلرائے کرنا: یہ گروہ اپنی رائے کے مطابق قرآن کی آیات کی تفسیر کرتا ہے اور ان آیات کو اہل بیتؑ پر چسپاں کرتا ہے، جو کہ ایک بڑا انحراف ہے اور اس کی وجہ سے یہ گروہ غلو کا مرکز بن چکا ہے۔
5. بچیوں کو خمس کے عنوان پر لینا: یہ لوگ دین اسلام اور مکتب تشیع کی بدنامی کا باعث بنے ہیں، کیونکہ وہ بچیوں کو خمس کے نام پر اپنے پاس رکھتے ہیں۔
6. غیبت امامؑ زمان میں شادی کرنا ممنوع قرار دینا: یہ گروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امام زمانؑ کے غیبت میں شادی کرنا ممنوع ہے، جو کہ ایک غلط عقیدہ ہے۔
7. طہارت کے مسائل میں وسوسہ ڈالنا: یہ لوگ طہارت کے مسائل میں اتنے وسوسے پیدا کرتے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے کھانے پینے تک سے پرہیز کرتے ہیں۔
8. مہدویت پر کاری ضرب: اس گروہ نے مہدویت کے عقیدہ میں بھی علویت کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق امام زمانؑ عج علویت کے مقام پر ظہور کریں گے۔
9. کتاب "عصمت الامم": اس کتاب میں جعفر الزمان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امام زمانؑ عج کا ظہور ایسا ہو گا کہ تمام مومنین معصوم ہو جائیں گے، جو کہ ایک مکمل طور پر غلط اور کفر پر مبنی عقیدہ ہے۔
10. امام زمانؑ عج سے ملاقات کے دعوے: جمن شاہی گروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امام زمانؑ عج سے ملاقات کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں، جو کہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
11. شیعت کے اندر فرقے بنانا: یہ گروہ شیعت کے اندر دو فرقے بنا دیتا ہے: "شیعہ حقیقی" اور "جمن شاہی" اور دوسروں کو نجس سمجھتا ہے۔
خلاصہ:
جمن شاہی گروہ دین اسلام اور مکتب تشیع سے باہر ہے کیونکہ انہوں نے توحید کو چھوڑ دیا ہے اور امامؑ کو علویت کا مقام دیا ہے۔ ان کے عقائد اسلام کے بنیادی اصولوں کے مخالف ہیں اور یہ مکتب اہلبیتؑ سے خارج ہیں۔
جعفر الزمان کے عقائد:
جعفر الزمان کے عقائد میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئمہؑ خدا کی خالقیت میں شریک ہیں، اور آئمہؑ نہ انسانوں کی مانند پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی حیوانوں کی مانند، بلکہ ان کا نزول ہوتا ہے۔
اختتام:
جمن شاہی گروہ کے عقائد اسلام سے منحرف ہیں اور امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت ان کا مدمقابل آنا متوقع ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس گروہ کی حقیقت سے آگاہ کرے اور ہمیں اپنے عقائد میں درستگی اور بیداری دے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اس قسم کے انحرافی فرقوں سے محفوظ رہیں اور اپنے بچوں اور جوانوں کو اس حوالے سے آگاہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے امام زمانؑ عج کے ناصرین اور سپاہی ہونے کی توفیق دے۔ آمین۔🤲
👈 جاری ہے
والسلام۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں