Course 2 Book 3 Me

 تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو

سے "

(My Lessons)

سوال نمبر 1

قرآن کی رو سے معرفت امام کی اہمیت ، قرآن کا جامع و کامل ہونا اور تفسیر و تاویل سے مراد


جواب


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم



قرآن کی رو سے معرفت امام کی اہمیت

اصول دین و مذہب میں عقیدہ امامت ہر شخص کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح توحید، عدل، نبوت اور قیامت یعنی اگر کوئی شخص اللہ کی وحدانیت و عدالت کا قائل ہے تو اس کے لئے عقیدہ امامت پر ایمان تکھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے ـ علم کلام میں اس ضرورت کی توجیہ " نظریہ لطف " سے کی گئی ہے ـ اس لئے اگرہم ذات باری تعالی، کو عادل تسلیم کرتے ہیں تو اس کا لازمی و منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی جانب سے ہر زمانے میں کسی نہ کسی عہدہ دار ہدایت وراہنمائی کا وجود بھی ضروری ماننا پڑے گا ـاگر چہ وہ ظاہر نہ ہو اور پردہ غیب میں رہ کر ہی ہدایت کے کام کو آگے بڑھارہا ہو ـ اس لئے کہ خود حضرت باری تعالی کا ارشاد و اعلان ہے کہ ہم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں چھوڑا یا کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں ہادی و رہبر نہ بھیجے ہوں ـ اس بارے میں قرآن حکیم کی یہ آیہ کریمہ بہت محکم ہے ـ "
ولقد بعثنا فی کل امة رسولاً " (۱) اور یقیناً ہم نے ہر امت کے لئے رسول بھیجے اسی طرح ایک اور مشہور آیت ہے جو اسی مضمون سے متعلق ہے کہ : " وماکنا معذبین نبعث رسولاً " (۲) اورہم تب تک عذاب نہیں کریں گے جب تک اپنا رسول نہ بھیج دیں ـ چنانچہ ہم کسی بھی زمانے میں حجت خدا اور وجود رہبر سے انکار نہیں کرسکتے ـ ورنہ جناب باری تعالی کے اعلان کی تکذیب کے علاوہ اس کی عدالت میں بھی شبہ پیدا ہوجائے گا جو ناممکن ہے ـ ہاں ! یہ بات بالکل الگ ہے کہ کوئی خدا کی توحید کا قائل تو ہو لیکن اس کے عدل ہی کا قائل نہ ہو تو اس کا علاج مشکل ہے اور فلسفہ و حکمت یادین و مذہب کی منطقی دلیلیں اس کا ساتھ بہر حال نہیں دے سکتیں ِ
یقیناً خداوند کریم نے ازل سے لیکر وفات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اور وفات رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت تک کا ایک سلسلہ ہدایت قائم فرمایا ہے جو جاری و ساری ہے ـ



قرآن کا جامع و کامل ہونا

 

خدا وند عالم نے قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں ان باتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ پوری دنیا میں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگی، دین اسلام ہر طرف پھیل جائے گا اور تما م مذاہب پر اس کا غلبہ ہوگا، (صالح اور لائق حضرات حکومت کریں گے) ان میں سے بعض آیتیں یہ ہیں:
<و قاتلوھم حتیٰ لا تکون فتنة و یکون الدین کلہ للّٰہ>(۱)
اور تم لوگ ان کفار سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے اور سارا دین صرف اللہ کے لئے رہ جائے۔
<ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ>(۲)
وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔


تفسیر و تاویل سے مراد

تفسیر اور تاویل دونوں لفظ قرآن مجید میں آئے ہیں. سورۃ آل عمران کی متذکرہ بالا آیت میں ارشاد ہوا : وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ’’اس کی تاویل کو ئی نہیں جانتا مگراللہ‘‘. تفسیر کا لفظ قرآن مجید میں سورۃ الفرقان میں آیا ہے: وَ لَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اَحۡسَنَ تَفۡسِیۡرًا ﴿ؕ۳۳﴾ ’’اور نہیں لاتے وہ آپ کے سامنے کوئی نرالی بات مگر ہم پہنچا دیتے ہیں (اس کے جواب میں) آپ کو ٹھیک بات اور بہترین طریقے سے بات کھول دیتے ہیں‘‘. یہ لفظ قرآن میں ایک ہی مرتبہ آیا ہے ‘جبکہ تاویل کا لفظ سترہ (۱۷) بار آیا ہے. اس کے کچھ اور مفاہیم بھی ہیں اور قرآن کے علاوہ کچھ اور چیزوں پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے. تفسیر اور تاویل میں فرق کیا ہے ؟ تفسیر کا مادہ ’’ف‘ س‘ ر‘‘ ہے. یہ گویا’’سفر‘‘ کی منقلب شکل ہے. سفر بمعنی Journey بھی ہے اور اس کا مطلب روشنی بھی ہے‘ کتاب بھی ہے. حروف ذرا آگے پیچھے ہو گئے ہیں‘ لفظ ایک ہی ہے.

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم



درس 2



نبی اکرم و اور اھل بیت علیھم السلام کا مقام،اھل
ذکر کون ہیں؟

خلاصہ نمبر 2


اہل بیت بمعنی اخص کی نمایاں ترین خصوصیت عصمت ہے۔ یہ خصوصیت آیت تطہیر سے بخوبی قابل ادراک ہے؛ کیونکہ اس آیت کریمہ میں اہل بیت کو ایسے افراد کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے کہ خداوند متعال نے ارادہ فرمایا ہے کہ ہر قسم کی پلیدی کو ان سے دور رکھے۔ آیت کریمہ میں لفظ "إنّما" اور اس آیت کریمہ کی شان نزول میں منقولہ احادیث سے ثابت ہے کہ یہ عصمت اہل بیت کی خصوصیات میں شامل ہے اور ان ہی کے لئے مختص ہے۔



قرآن میں لفظ اہل بیت کا تذکرہ

لفظ اہل بیت قرآن میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے:

سورہ ہود کی آیت 73 جس کا تعلق ابراہیمؑ اور ان کی زوجہ سے ہے: "قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللّہِ رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ"۔(ترجمہ: فرشتوں نے کہا: کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ تم پر اے گھر والو! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں؛ یقیناً اے اس گھر والو! یقینا وہ قابل ستائش ہے، بزرگی والا۔)سورہ قصص کی آیت 12، جس کا تعلق خاندان موسیؑ سے ہے: "وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ"۔(ترجمہ: اور ہم نے اس پر اناؤں کو پہلے سے حرام کر دیا تھا تو اس (موسیؑ نے کہا کہ کیا میں تم لوگوں کو ایک گھرانا بتاؤں جو اس کو تمہارے لئے پال دے اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں گے۔)سورہ احزاب کی آیت نمبر 33 جو آیت تطہیر سے معروف ہے جس میں خداوند عالم پیغمبر اکرمؐ کے اہل خانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں "إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً"۔(ترجمہ: اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم لوگوں سے ہر گناہ کو دور رکھے اے اس گھرکے رہنے والو! اللہ تمہیں پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے۔)
تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے



درس 3

قرآن مجید میں تعارف کا طریقہ، ہماری تحقیق کی روش


خلاصہ نمبر 3
------------------------

تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے
---------------------------------------------------------------------


قرآن اور حضرت امام مہدی علیہ السلام
-------------------------------------------------------------

حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے: ”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ہے کہ آخرکار صالح افراد اس زمین کے مالک ہوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔“
ہم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ہیں: ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین کے ساتہ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“

بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر

ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرائیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہاں تک سفیدی سحر نمودار ہو جائے۔
چنانچہ سورہٴ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایک شب ایسی آتی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر ہوتی ہے۔ وہ احادیث جو اس سورہ اور سورہٴ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق“ کی خدمت میں لے کر آتے اور ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ آپ(ص) کا گھر تھا۔ جب ہم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ ”شب قدر“ ہر سال آتی ہے تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ہمیشہ موجود ہونا چاہئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ہوتے ہیں؟ چونکہ ”قرآن کریم“ قیامت تک ہے اور ”حجت“ ہے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ہے اوروہ بھی”حجت“ ہے۔ اس زمانہ میں حجت خدا، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: ”امام زمین پر خدا کا امین ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ہوتا ہے، آبادیوں اور زمینوں پر خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔“
مشہور اسلامی ریاضی دان اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ہیں: ”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ہے کہ لطف الٰہی کا انحصار امام (ع) کی تعیین میں ہے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطف الٰہی ہے، امور کی انجام دہی اس کا دوسرا لطف ہے اور اس کی غیبت خود ہم سے مربوط ہے۔

Shahir Bano
--------------------------


تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے

درس 4

اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ اور امام مہدی عج کا ظہور
سورہ توبہ،فتح اور صف کی رو سے



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ) سورہ توبہ آيہ ٣٣)
اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اسی نے بھیجا ہے تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا ہی لگے۔اس آيہ مجيدہ ميں خداوند متعال فرماتاہے کہ اس نے اپنے رسول کو ھدايت الہي اور دين حق کے ساتھ بھيجا الہي ھدايت اور دين جو اپنے ساتھ محکم اور مضبوط دلائل رکھتاہے کہ جن کے ذريعہ وہ تمام اديان پر غالب ہوجائے گا۔
لِيُظْھرَہ ميں ضمير “ہ” دين کي طرف لوٹتي ہے کيونکہ آيہ کا ظاہر بتاتاہے کہ دين کا غالب آنا ہے، نہ شخص کا غالب آنا اور غالب اور مغلوب ميں توافق ہونا چاہئے ، دين کا غلبہ تمام اديان پر اور پھر غالب آنا بھي ايسا غالب آنا جو تمام زاويوں سے ہو يعني جس زاويے سے ديکھا جائے دين اسلام دوسرے تمام اديان پر غالب نظر آئے۔ خداوندکريم نے قرآن ميں تين جگہ اسي آيہ کو بيان کياہے اس کامطلب يہ ہے کہ غلبہ اسلام حتمي ہے اور اللہ کے نزديک بہت اہميت رکھتاہے۔
اس آيہ مجيدہ سے يہ بات واضح ہوتي ہے کہ سر انجام اسلام ساري زمين پر چھا جائے گا اور دين اسلام کے علاوہ کوئي دين نہيں رہے گا۔
اس بات ميں شک نہيں ہے کہ ابھي تک پوري زمين پر ايک دين نہيں ہوا اور متعدد اديان موجود ہيں اور آہستہ آہستہ يہ دين ترقي کررہاہے اور ايک وقت ايسا آئے گا کہ جس وقت دين اسلام تمام دنيا پر چھا جائے گا اور وہ زمانہ روايات کے مطابق حضرت امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کا زمانہ ہے۔
مرحوم طبرسي مجمع البيان ميں فرماتے ہيں کہ امام باقر عليہ السلام نے اس آيہ کي تفسير ميں فرمايا:
“ان ذالک يکون عند خروج المھدي من آل محمد فلايبقي احد الا اقرّ لمحمد و آل محمد حقانيۃ” (مجمع البيان ج٥ ٬ ص٤٥)
دين کا غلبہ مہدي آل محمد کے ظہور کے وقت ہوگا اس وقت سب محمد و آل محمد کي حقانيت کا اقرار کريں گے۔
ابو بصير نے امام صادق عليہ السلام سے آيہ ھو الذي … کے بارے ميں پوچھا تو حضرت نے فرمايا:
“واللہ مانزل تاويلھا بعد٬ ولاينزل تأويلھا حتي يخرج القائم فاذا خرج القائم لم يبق کافر باللہ العظيم ولاشرک بالامام الاکرہ خروجہ حتي ان لو کان کافر اور مشرک في بطن صخرۃ لقالث يا مؤمن في بطن کافر فاکسرني واقتلہ” (کمال الدين ٬ ج٢ ٬ باب٥٨ ص٧)
خدا کي قسم اس آيہ کي تاويل ابھي تک نہيں آئي اور اس کي تاويل نہيں آئے گي قائم کے آنے تک، جب قائم ظہور فرمائيں گے تو اللہ کے بارے ميں کوئي کافر اور امام کے بارے ميں کوئي مشرک باقي نہيں رہے گا سوائے اس کے کہ جو امام کے ظہور کو ناپسند کرے گا يہاں تک کہ اگر کافر يا مشرک پتھر کے اندر بھي چھپا ہوا ہوگا تو وہ پتھر کہے گا کہ اے مؤمن ميرے اندر کافر ہے مجھے توڑو اور اس کو قتل کردو۔
اس آيہ مجيدہ سے دو نکات واضح ہوتے ہيں :
(١)۔يہ کہ سارے جہان پر اسلامي حکومت ہوگي۔
امير المؤمنين علیہ السلام سے اس آيہ ھوالذي کے بارے ميں نقل ہواہے:
لايبقي قريۃ الا و نودي فيھا بشھادۃ ان لا الہ الا اللہ و ان محمدارسول اللہ بکرۃ و عشياً. ( بحار٬ ج٥١ ٬ ص٦٠)
اس زمانے ميں ہر شہر ميں صبح و شام توحيد اور پيامبر کي رسالت کي گواہي دي جائے گي۔
(٢)۔يہ غلبہ اسلام امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کے زمانہ ميں ہوگا۔
جب يہ غلبہ ابھي تک وقوع پذير نہيں ہوا تو يہ غلبہ امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کے وقت ہوگا اگر کوئي کہے کہ آيہ ميں رسول (ص)کاذکر ہے۔
تو اس کا جواب يہ ہے کہ امامت وصي نبوت کا استمرار ہے امام پيامبر کا جانشين ہوتاہے اور وحي کے علاوہ باقي نبي کے مقامات کا حامل ہوتاہے اگر يہ غلبہ دين کي خوشخبري پيامبر کے آخري وصي کے زمانہ ميں وقوع پذير ہوئي تو يہ ايسے ہے کہ جيسے خود پيامبر نے اس نام کو عمل جامعہ پہنايا ہو۔
شيخ صدوق ايک روايت ميں امام حسن عليہ السلام سے نقل فرماتے ہيں : منا اثنا عشر مھديا اولھم امير المؤمنين علي ابن ابي طالب و آخرھم التاسع من ولدي وھو الامام القائم بالحق يحيي اللہ بہ الارض بعد موتھا و يظھر بہ دين الحق علي الدين کلہ ولوکرہ المشرکون . ( کمال الدين ٬ج١٬ باب٣٠ ٬ ص٣)
ہم ميں سے بارہ مہدي ہيں کہ ان ميں سے پہلا امير المؤمنين علي بن ابي طالب اور آخري ميري اولاد ميں سے نواں بيٹا ہے وہ امام ہے جو حق کے ساتھ قيام کرے گا خدااس کے ذريعہ زمين کو مرد ہ ہونے کے بعد زندہ کرے گا اور اس کے ذريعہ دين کا تمام اديان پرغلبہ عطا کرے گا اگرچہ مشرک اس کو ناپسند بھي سمجھيں۔
 

امام مہدی عج کا ظہور
سورہ توبہ اور فتح اور صف کی رو سے

.

امام مہدی علیہ اسلام کے بارے میں قرآن مجید 200 سے زیادہ آیات موجود ہیں آج کے موضوع میں امام زمانہ علیہ اسلام کا ذکر تین سورہ میں آيا ھے سورہ توبہ میں
سورہ فتح میں
سورہ صف میں
سورہ توبہ کے اندر پروردگار فرما رھا ھے کہ
وہ اپنے پھونکوں کے ذریعہ خدا کے نور کو بجھانا چاھتے ھیں لیکن خدا انھیں اس بات کے مھلت نھیں دیگا وہ اپنے نور کو مکمل کریگا اگرچہ کافروں کو یے بات بری لگی.
یے خدا ھے جس نے اپنے پیغمبر کو دین حق کے ساتهہ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب قرار دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار گزرے.
سورہ فتح میں پروردگار فرما رھا ھے :
یے خدا ھے جس نے اپنے نبی کو دین حق اور ھدایت کے ساتهہ بھیجا تاکہ اسی تمام ادیان پر کامیاب قرار دے اور خدا کا شاھد ھونا ھے کافی ھے .

سورہ صف میں
وہ اپنے پھونکوں سے خدا کے نور کو بجھانا چاھتے ھیں جبکہ خدا اپنے نور کو کامل کرکے رھے گا اگرچہ کافروں کو ناگوار گزرے.
خدا وہ ھے جس نے اپنے پیغمبر کو دین حق ھدایت کے ساتهہ بھیجا.
ان تین آياة کے اندر لفظ یظھر آیا عربی گرامر میں جب یے علی کے ساتهہ آٸے یے غلبہ کے معنی برتری کے معنی ھے:

ان آیات میں دشمنوں کے طرف بھی اشارہ ھے پھونک ھے .



اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم



Shahir Bano



تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "

درس 5

سورہ نور آیت 55، اللہ تعالیٰ کے وعدے

استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم

جواب

خلاصہ نمبر 5

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سورہ نور آیت 55، اللہ تعالیٰ کے وعدے

کی خلافت پر دلیل ہے ؟

قوله تعالي (وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آَمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ  قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَي لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ) (النور:55)

 تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا اور جس دین کو اللہ نے ان کے لیے پسندیدہ بنایا ہے اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں ۔

آیت کی مختصر تفسیر ــ

شیخ محسن علی نجفی صاحب کی تفسیر الکوثر سے ۔۔۔۔

خلافت سے مراد صرف غلبہ اور اقتدار نہیں ہے، جیساکہ بعض لوگ کہتے ہیں، بلکہ جس خلافت کا اس آیت میں وعدہ دیا جا رہا ہے وہ درج ذیل اصولوں پر قائم ہے۔ i ایمان۔ii عمل صالح   iii۔ ان کے پسندیدہ دین کی پائداری۔ iv خوف کے بعد امن۔ v شرک سے پاک خالص اللہ کی بندگی۔ لہذا ہر منصف اس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جن کے اقتدار کے سائے میں دین کو استحکام ملے گا۔ واضح رہے حکومت کا استحکام اور ہے اور دین کا استحکام اور ہے، بلکہ مسلمانوں کا استحکام اور ہے اور اسلام کا استحکام اورہے۔ ممکن ہے کسی دور میں اسلام کے زرین اصولوں کے استحکام کے لیے جنگ لڑی جار ہی ہو، مسلمانوں میں بے چینی ہو، لیکن اسلام کو تحفظ مل رہا ہو۔ چنانچہ یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کی حکومت کو تو استحکام ہو لیکن اسلامی اصول پامال ہو رہے ہوں اور دین کی تمکین و استحکام، اس کے نظام عدل و انصاف کا قیام، ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو جڑ سے اکھاڑ دینا اور ہر قسم کے شرک سے پاک اللہ کی بندگی ہے اور ظہورمہدی (عج) کے بعد ہی یہ وعدہ پورا ہو سکتا ہے

اٰللـــٌّٰـهًٌُمٓ صَلِّ عٓـلٰىٰ مُحَمَّدٍ وُاّلِ مُحَمَّدٍ وٓعٓجٓلِ فٓرٰجٰهٌٓمّ


Shahir Bano


سوال نمبر 6


تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے
درس 6


* سورہ انبیاء میں بشارت الہی ، امام مہدی عج اور انکے انصار زمین کے وارث

استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم

جواب

خلاصہ نمبر 6


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


سلام
سورہ انبیاء قرآن مجید کی اکیسویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 17ویں پارے میں واقع ہے۔اس سورہ میں 16 انبیاء کے اسامی کا تذکرہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام "سورہ انبیاء" رکھا گیا ہے۔ توحید، نبوت، معاد اور لوگوں سے غفلت کو دور کرنا اس سورت کے مضامین میں سے ہیں۔


اس سورت کی آیت نمبر 87 اور 88 آیات نماز غفیلہ یا ذکر یونسیہ کے نام سے معروف ہیں۔ اسی طرح آیت نمبر 105 جس میں زمین پر نیک اور صالح لوگوں کی حکمرانی سے متعلق بحث ہوئی ہے، اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہے۔ اس سورت کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ انبیاء کی تلاوت کرے گا قیامت کے دن خدا اس کا حساب و کتاب آسانی سے لے گا، اس کے خطاؤوں کو معاف فرمائے گا اور جتنے انبیاء کا نام اس سورت میں آیا ہے سب اس شخص کو سلام کریں گے۔

وسلام

اٰللـــٌّٰـهًٌُمٓ صَلِّ عٓـلٰىٰ مُحَمَّدٍ وُاّلِ مُحَمَّدٍ وٓعٓجٓلِ فٓرٰجٰهٌٓمّ


شہر بانو

سوال نمبر 7


سوال نمبر 7

سورہ انبیاء میں مستضعفین کی حکومت اور وراثت زمین کی بشارت،سورہ حدید میں زمین کے دوبارہ زندہ ہونے کی بشارت،مستضعفین کون ہیں اور زمین
کی زندگی سے مراد

جواب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


*
▪️ *سورہ قصص آیت 05* میں زمین پر مستضفعین ( وہ لوگ جو زمین پر کمزور کئے گئے) کی حکومت کی بشارت ہے۔
اس کی تفسیر میں یہ بنی اسرائیل کے مستضفعین ہونے کو بیان کیا گیا ہے جن پر فرعون کی ظالم حکومت مسلط تھی۔ خدا نے اسی محکوم قوم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا۔ آپ نے اپنی قوم کے فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلائی۔ اس قوم نے بعد میں مصر و فلسطین میں حکومت قائم کی۔
اس آیت کے ذیل میں جو روایات ہیں اس کے مطابق خدا کا یہ ارادہ آخر الزمان کے لئے بھی ہے۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں اس آیت میں مستضفعین سے مراد ہم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ خدا مہدی علیہ السلام کے ذریعے عزت بخشے گا اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ اور آپ ع پوری زمین کے وارث قرار پائیں گے۔
اس آیت میں لفظ منت(احسان) خدا کا خاص احسان ہے۔ جو خدا نے انبیاء کے مبعوث ہونے کے ساتھ بھی ذکر کیا ہے۔

شیخ صدوق نے اکمال الدین میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوئے تھے تو اسی آیت کی تلاوت فرمائی تھی۔

▪️ *سورہ حدید آیت 17*
یہ خدا ہے جو زمین کو اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ ہم نے تمہارے لئے اپنی روشن آیات بھیجی ہیں تاکہ تم غور و فکر کرو۔

بظاہر زمین کی زندگی لیکن روایت میں اہل الارض کی زندگی بھی مراد ہے جو ذکر الہی سے زندہ ہوتے ہیں۔
یہ سب قائم علیہ السلام کے ظہور سے زندہ ہوں گے۔ اس وقت حقیقی ذکر الہی پھیلے گا عدل و انصاف ہو گا۔
زمین کے مردہ ہونے سے مراد کفر ہے، ناشکرا ہونا ، خدا و دین کا انکار کرنا۔ کافر ہمیشہ میت ہوتا ہے خواہ بظاہر زندہ ہوں۔
امام صادق علیہ السلام اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ اہل عالم جو ظلم گناہ و سرکشی سے مردہ ہوں چکے ہوں گے عدل و انصاف سے زندہ ہوں گے۔ہم سب کو امام مہدی کا پیرو کار بنایا امین یا رب العلمین

سورہ انبیاء میں مستضعفین کی حکومت اور وراثت زمین کی بشارت،سورہ حدید میں زمین کے دوبارہ زندہ ہونے کی بشارت،مستضعفین کون ہیں اور زمین
کی زندگی سے مراد


سورہ انبیاء میں مستضعفین کی حکومت اور وراثت زمین کی بشارت


اسی طرح آیت نمبر 105 جس میں زمین پر نیک اور صالح لوگوں کی حکمرانی سے متعلق بحث ہوئی ہے، اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہے۔ اس سورت کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ انبیاء کی تلاوت کرے گا قیامت کے دن خدا اس کا حساب و کتاب آسانی سے لے گا، اس کے خطاؤوں کو معاف فرمائے گا اور جتنے انبیاء کا نام اس سورت میں آیا ہے سب اس شخص کو سلام کریں گے۔


سورہ حدید میں زمین کے دوبارہ زندہ ہونے کی بشارت،مستضعفین کون ہیں اور زمین
کی زندگی سے مراد

آیت قرض الحسنہ اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہے۔ احادیث میں جہنم کے عذاب سے نجات بہشتی نعمتوں سے منعم ہونا اور امام زمانہؑ کے ظہور کے وقت آپ سے ملاقات وغیرہ اس سورت کے خواص اور فضیلتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ہمین امام مہدی کا پیروکار بناء یا رباالعلمین


اٰللـــٌّٰـهًٌُمٓ صَلِّ عٓـلٰىٰ مُحَمَّدٍ وُاّلِ مُحَمَّدٍ وٓعٓجٓلِ فٓرٰجٰهٌٓمّ

Shahir Bano


*📢 تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
*# درس 8*
*# سورہ لقمان میں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے مراد، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی تاویل آیت اور امام زمانہ عج بعنوان نعمت باطنی*
*# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*
*# عالمی مرکز مہدویت قم*


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خلاصہ نمبر 8

سلام


قرآن مجید سورہ لقمان آيت نمبر .20.
میں ارشاد خدا وندی ہے .

ترجمہ

کیا وہ نھیں جانتے کہ جو آسمان زمین میں
اور جو انکے درميان ھے تمہارے لیٸے مسخر کردیا ھے اور تمہارے لیٸے نعمتیں ظاہری اور باطنی یے سارے نعمتیں تم پر تمام کردیں لوگوں میں کچھہ لوگ ایسے ھیں جو اللہ کے بارے میں بحث کرتے ھیں جگہڑا کرتے ھیں بغیر کسی علم کے اور بغیر کسی ھدایت کے کتاب خدا کے بغیر .
زمین و آسمان میں اور ہمارے اپنے وجود میں پروردگار کی بیحساب نعمتیں جو اشرف المخلوقات انسان کے لئے مسخر کی ہیں تاکہ انسان عبودیت کے مقام تک پہنچے

ظاہری و باطنی نعمتوں کا ذکر

نعمت وہ چیز جو انسان کے مزاج اور وجود کے مطابق ہو جس سے انسان فوائد حاصل کرے

ظاہری نعمتیں

سالم بدن

رزق حلال

اولاد

باطنی نعمتوں

جن کو عقل تسلیم کرتی ہے


یہ سب خدا کی طرف دلیلیں ہیں ، حجت ہیں تاکہ انسان خدا کی رف رجوع کرے


آیت کی تاویل

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں

میں نے اپنے مولا سے پوچھا کہ ظاہری و باطنی نعمتوں سے کیا مراد ہے؟
امام ع نے فرمایا
نعمت ظاہرہ سے مراد امام ظاہر اور نعمت باطنہ سے مراد امام غائب

وسلام

شہر بانو




*📢 تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
*# درس 9*
*# سورہ اسراء میں آیت ندعو کی تفسیر و تاویل، امام صادق ع کے فرمان میں معرفت امام کی اہمیت ،اصحاب یمین کون ہیں*
*# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*
*# عالمی مرکز مہدویت قم*



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جواب

سورہ اسراء میں آیت ندعو کی تفسیر و تاویل
سورہ اِسراء یا سُبحان و یا بنی‌ اسرائیل قرآن کریم کی 17ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 15ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورہ کا نام "اسراء" اس لئے رکھا گیا ہے چونکہ اس میں پیغمبر اسلامؐ کے اس سفر کا تذکرہ ہوا ہے جس میں آپ کو راتوں رات مسجدالحرام سے بیت المقدس لے جایا گیا۔ اسی طرح اس کا دوسرا نام بنی‌ اسرائیل ہے چونکہ اس میں قوم بنی‌ اسرائیل سے متعلق داستانیں بیان ہوئی ہیں۔
اس سورت میں توحید، معاد، نفی شرک، معراج پیغمبر، دلائل نبوت، اعجاز قرآن، والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی سفارش، انسان پر گناہ کے اثرات، بعض گناہوں کا حرام ہونا اور دوسرے موجودات پر انسان کی برتری جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی ہے۔
اس سورت کی پہلی آیت جوکہ پیغمبر اسلامؐ کے معراج کے سفر سے متعلق ہے، آیت نمبر 40 جوکہ انسانی کرامت سے متعلق ہے اور آیت نمبر 82 آیت شفاء اس سورت کے مشہور آیات میں سے ہیں۔ اسی طرح آیت نمبر 33 جو کہ قتل نفس کی حرمت کے بارے میں ہے اور آیت نمبر 78 اوقات نماز کے بارے میں ہے اس سورت کی آیات الاحکام میں شمار کئے جاتے ہیں۔
امام علیؑ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ اسراء کی تلاوت کرے اور جب والدین سے متعلق خدا کی سفارشات پر پہنچے تو اس کے جذبات بھڑک اٹھے اور والدین کے ساتھ زیادہ محبت کا اظہار کرے تو اس شخص کو اتنا ثواب دیا جائے گا جو اس دنیا اور اس میں موجود تمام اشیاء سے برتر ہوگا

امام صادق ع کے فرمان میں معرفت امام کی اہمیت ،اصحاب

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ سب سے
بہتریں وہ لوگ ہیں جو القائم ع کی دور میں پیدا ہونگے اور امام ع کے ظہور کا انتظار کریں گے ۔

اصحاب یمین کون ہیں

"اصحاب یمین" ھیں یعنی جن کے نام اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے-
انہیں "اصحاب یمین" کہتے ہیں


اٰللـــٌّٰـهًٌُمٓ صَلِّ عٓـلٰىٰ مُحَمَّدٍ وُاّلِ مُحَمَّدٍ وٓعٓجٓلِ فٓرٰجٰهٌٓمّ

شہر بانو




*📢 تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
*# درس 10*
*# سورہ ھود میں آیت بقیۃ اللہ کی تفسیر و تاویل، امام باقر ع کے فرمان کی رو سے ظہور کے حالات و علامات اور آغاز ظہور، دیگر مہدوی نکات*
*# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*
*# عالمی مرکز مہدویت قم*



آیت بقیۃ اللہ کی تفسیر و تاویل

جواب

سلام



بقیۃ اللہ کا لفظ آخری امام حضرت مہدی کے القاب میں سے ایک لقب ہے جو اس وقت غیب کے پردے میں ہیں۔ بقیۃ اللہ ایک قرآنی لفظ ہے جس کی بعض روایات میں ائمہ معصومین سے تاؤیل ہوئی ہے جبکہ بعض نے اسے امام مہدی کے القاب میں سے ایک لقب قرار دیا ہے۔ عربی لغت اور تفاسیر میں بقیۃ اللہ کا معنی اس چیز سے کیا ہے جو اللہ تعالی انسان کے لیے محفوظ رکھتا ہے نیز فضل اور خیر کا معنی بھی کیا گیا ہے. اور ائمہ سے معنی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ائمہؑ اللہ کی طرف سے لوگوں پر فضل اور نعمت ہیں۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں



امام مہدی علیہ اسلام کے ظہور کی علامات

امام محمد باقر علیہ اسلام امام زمانہ علیہ اسلام کے ظہور کا ذکر بھی فرماتے ہیں

ان میں چند ایک علامات مندرجہ ذیل ہیں


1. امام مہدی علیہ اسلام کی حکومت
2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول
3. ہم جنس پرستی
4. سود خوری،
5. جھوٹی گواہیاں قبول،
6. سچی گواہیاں رد،
7. سفیانی کی خروج،
8. یمانی کا خروج،
9. سرزمین بیدا کا دھنس جانا

سوال 11

درس 11
تین آیات کی تفسیر و تاویل،قائم علیہ السلام کا قیام،قیام کی علامت،انصار کا اجتماع
استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
آیہ نمبر تفسیر
 وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
اور ہم نے ذکر (توراۃ یا پند و نصیحت) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ انبیاء 105 امام باقرؑ سے منقول ہے کہ صالحون سے مراد آخر الزمان میں امام زمانہؑ کے اصحاب ہیں۔[1
 وَنُرِ‌يدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْ‌ضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِ‌ثِينَ
اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) وارث قرار دیں۔ قصص 5 امام علیؑ کی ایک حدیث میں الذین استضعفوا، کی تفسیر آل محمدؑ سے ہوئی ہے کہ حضرت مہدیؑ اپنے دشمنوں کو خوار کریں گے۔[2
 وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح جانشین بنائے گا؛...؛... نور 55 شیخ طوسی کے بقول، اہل بیتؑ سے روایت ہوئی ہے کہ یہ آیت حضرت مہدیؑ کے بارے میں ہے۔


شہر بانو


*📢 تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
*# درس 12*
*# تین آیات کی تفسیر و تاویل،حق کا غلبہ اور باطل کی نابودی،الہی وعدے کا محقق ہونا،غیبت و ظہور کی پانی سے تشبیہ*
*# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب*
*# عالمی مرکز مہدویت قم*


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بقره آیت نمبر 1-3

1 ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَ‌يْبَ ۛ فِيهِ ۛهُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ
بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ...

ترجمہ

یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ (یہ) ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لیے۔ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور پورے اہتمام سے نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (میری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔

بقره 1-3 امام صادقؑ سے روایت منقول ہے کہ یہ آیت حضرت قائم اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی باہمی وعدہ یا عہد و پیمان کے بغیر جمع ہونگے۔


بقره آیت نمبر 148

2 ... أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ...

ترجمہ

تم جہاں بھی ہوگے اللہ تم سب کو (جزا و سزا کے لئے ایک جگہ) لے آئے گا۔


بقره 148 امام صادقؑ سے روایت منقول ہے کہ یہ آیت حضرت قائم اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی باہمی وعدہ یا عہد و پیمان کے بغیر جمع ہونگے۔


بقره آیت نمبر 155

3 وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ...

ترجمہ

اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف و خطر، اور کچھ بھوک (و پیاس) اور کچھ مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ساتھ ...


[[سورہ بقرہ|بقرہ 155 امام صادقؑ نے ایک روایت میں ظہور کی نشانیاں بیان کرنے کے بعد اس آیت کی تلاوت کی۔


اٰللـــٌّٰـهًٌُمٓ صَلِّ عٓـلٰىٰ مُحَمَّدٍ وُاّلِ مُحَمَّدٍ وٓعٓجٓلِ فٓرٰجٰهٌٓمّ


شہر بانو

Completed

Important Questions For Preparing Exam

سوالات کتابچہ 3 *امام مہدی عج قرآن کی رو سے*


1: تفسیر و تاویل کا معنی بیان کریں

تفسیر اور تاویل کی تعریف:

مفسرین نے تفسیراور تاویل کی مختلف تعریفات کی ہیں ،ان میں سے تفسیر کی ایک تعریف یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہوسکیں بلکہ ان میں نقل کی ضرورت ہو جیسے آیات کا شانِ نزول یا آیات کا ناسخ و منسوخ ہونا بیان کرنا۔

تاویلِ قرآن کی ایک تعریف یہ ہے کہ قرآنی آیات کے مضامین اور ان کی باریکیاں بیان کی جائیں اور صرفی و نحوی قواعد اور دیگر علوم کے ذریعے قرآنی آیات سے طرح طرح کے نکات نکالے جائیں۔



2: قرآن میں شناخت کے کتنے اور کونسے طریقے ہیں

سوال نمبر 3

3: امام زمانہ عج کی قرآن میں شناخت کونسے طریقے سے بیان ہوئی ہے اسکی کوئی مثال دیں




4: منا اثنا عشر مھدیا۔۔۔۔۔تا آخر اس حدیث کا مکمل ترجمہ بیان کریں

Book


سوال نمبر 5


5:سورہ نور کی آیت 55 میں اللہ تعالیٰ نے مومنین سے کتنے وعدے کیے اور اس آیت کی تاویل کب ظاھر ہوگی



سوال نمبر 6

6: سورہ انبیاء کی آیت 105 میں ذکر ، وراثت اور عبد صالح سے مراد کیا ہے



7: اس حدیث کا ترجمہ کریں
یحییها اللہ عز وجل بالقائم علیہ السلام بعد موتها بموتها کفر اهلها و الکافر میت

سوال نمبر 8

8:سورہ لقمان کی آیت 20 کی تفسیر اور تاویل بیان کریں



9: یوم ندعو کل اناس بامامهم۔۔۔کی تفسیر و تاویل بیان کریں


71-72

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا(۷۱)وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا(۷۲)

ترجمہ:

جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گااور جو اس زندگی میںاندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اوربھی زیادہ گمراہ


تفسیر:

{ یَوْمَ نَدْعُوْا: جس دن ہم بلائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں  گے جس کی وہ دنیا میں  پیروی کرتا تھا۔
اس سے مراد وہ پیشوا ہے جس کی دعوت پر دنیا میں  لوگ چلے خواہ اس نے حق کی دعوت دی ہو یا باطل کی۔
 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہوگی جس کے حکم پر دنیا میں  چلتی رہی اور اُنہیں  اُسی کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں  کے پیروکارو!۔

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں  صالحین کو ہی اپنا پیشوا بنانا چاہیے تاکہ قیامت میں  انہی کے ساتھ حشر ہو۔


10: قائم کو زمانہ ظہور میں کس لقب کے ساتھ پکارا جائیگا اور کس لقب سے پکارنا صحیح نہیں ہے



بقیۃ اللہ



امام زمانہ ؑ کے القاب میں سے ایک لقب‘‘ بقیۃاللہ ’’بھی ہے روایات میں ہے کہ امام زمانہ ؑجس وقت ظہور کریں گے اس وقت آپ دیوار کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے تو آپ ؑ کے گرد 313 اصحاب کا مجمع ہو گا . سب سے پہلے آپ اس آیت کی تلاوت کریں گے ‘‘بقیۃاللہ خیرلکم ان کنتم مومنین ’’اگر تم صاحب ایمان ہو تو تمھارے لیے خیر اور بھلائی بقیہ اللہ میں ہے جسے خدا نے اس دن کے لیے بچا کر رکھا ہے .
عمران بن واہر روایت نقل کرتا ہے : ایک شخص امام جعفرصادق ؑ کے پاس آیا اور عرض کی. اے میرے مولا :کیا حضرت قائم ؑکو امیرالمومنین کہہ کر سلام کر سکتے ہیں؟امام صادق ؑ نے فرمایا:نہیں .اللہ تبارک وتعالی نے یہ نام صرف حضرت علی ؑ کے ساتھ خاص کیا ہے .ان کے بعد یہ نہیں کسی کیلئے بھی جائز نہیں ہے یہ نام کوئی بھی نہیں رکھا گا مگر کافر.پس اس شخص نے عرض کی کس طرح اپنے آخری مولا پر سلام کریں ؟تو امام ؑ نے فرمایا : کہو:السلام علیک یا بقیۃ اللہ .اور اس کے بعد فرمایا: بقیۃاللہ خیرلکم ان کنتم مومنین.





11: آفاقی نشانیوں کی تفسیر و تاویل کیا ہے



12: سورہ ملک کی آیت 30 میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ان سے کہیں مجھے بتائیں کہ اگر انکے استعمال میں آنے والا پانی زمین میں چلا جائے تو کون جاری پانی تمھارے لیے فراہم کرسکتا ہے
اس آیت کی تفسیر و تاویل میں تمام نکات بیان کریں


آیت نمبر 30


قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ
مَّعِیۡنٍ﴿٪۳۰﴾


ترجمہ آ ٓیت نمبر 30

کہدیجئے: بتلاؤ کہ اگر تمہارا یہ پانی زمین میں جذب ہو جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے آب رواں لے آئے؟

تفسیر آیت نمبر 30

مَّعِیۡنٍ: سہولت کے ساتھ جاری ہونے والے پانی کو کہتے ہیں۔ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے۔

یہ کرۂ ارض انسان کے لیے باقی لوازم حیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ چنانچہ بارش کا پانی اپنے میں جذب کر کے ایک حد تک گہرائی میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اس حد سے نیچے پانی جانے نہیں دیا جاتا۔ پس اگر اللہ پانی ایک حد تک گہرائی میں محفوظ نہ کرتا تو یہ اس سے نیچے چلا جاتا یا خشک سالی کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہو جاتی اور موجودہ پانی نیچے چلاتا تو پانی کی کمی کی دور کرنے کے لیے اس پانی کو اوپر لانے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ ہے؟ یا یہ کام صرف اللہ کر سکتا ہے۔

دیکھو تمہاری تدبیر حیات کا کام اللہ انجام دے رہا ہے یا کوئی اور۔

Exam Questions


والات کتابچہ 3 *امام مہدی عج قرآن کی رو سے*

*سوالات*


*کوئی سے چار سوال کریں*


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال نمبر 1 قرآن میں شناخت کے کتنے اور کونسے طریقے ہیں

جواب


سوالنمبر 2: سورہ نور کی آیت 55 میں اللہ تعالیٰ نے مومنین سے کتنے وعدے کیے اور اس آیت کی تاویل کب ظاھر ہوگی؟

جواب

ترجمہ


 تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا اور جس دین کو اللہ نے ان کے لیے پسندیدہ بنایا ہے اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں ۔

آیت کی مختصر تفسیر



خلافت سے مراد صرف غلبہ اور اقتدار نہیں ہے، جیساکہ بعض لوگ کہتے ہیں، بلکہ جس خلافت کا اس آیت میں وعدہ دیا جا رہا ہے وہ درج ذیل اصولوں پر قائم ہے۔ i ایمان۔ii عمل صالح   iii۔ ان کے پسندیدہ دین کی پائداری۔ iv خوف کے بعد امن۔ v شرک سے پاک خالص اللہ کی بندگی۔ لہذا ہر منصف اس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جن کے اقتدار کے سائے میں دین کو استحکام ملے گا۔ واضح رہے حکومت کا استحکام اور ہے اور دین کا استحکام اور ہے، بلکہ مسلمانوں کا استحکام اور ہے اور اسلام کا استحکام اورہے۔ ممکن ہے کسی دور میں اسلام کے زرین اصولوں کے استحکام کے لیے جنگ لڑی جار ہی ہو، مسلمانوں میں بے چینی ہو، لیکن اسلام کو تحفظ مل رہا ہو۔ چنانچہ یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کی حکومت کو تو استحکام ہو لیکن اسلامی اصول پامال ہو رہے ہوں اور دین کی تمکین و استحکام، اس کے نظام عدل و انصاف کا قیام، ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو جڑ سے اکھاڑ دینا اور ہر قسم کے شرک سے پاک اللہ کی بندگی ہے اور ظہورمہدی (عج) کے بعد ہی یہ وعدہ پورا ہو سکتا ہے


سوال نمبر 3: اس حدیث کا ترجمہ کریں
یحییها الله عز و جل بالقائم علیه السلام بعد موتها بموتها کفر اهلها والکافر میت

جواب


اللہ تعالیٰ اسے قائم علیہ السلام کے ساتھ اس کی موت کے بعد زندہ کرے گا، اس کی موت سے اس کا خاندان کافر ہے اور کافر مر گیا ہے۔


سوالنمبر 4: یوم ندعو کل اناس بامامهم کی تفسیر و تاویل بیان کریں

جواب



ترجمہ:

جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گااور جو اس زندگی میںاندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اوربھی زیادہ گمراہ


تفسیر:

{ یَوْمَ نَدْعُوْا: جس دن ہم بلائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں  گے جس کی وہ دنیا میں  پیروی کرتا تھا۔
اس سے مراد وہ پیشوا ہے جس کی دعوت پر دنیا میں  لوگ چلے خواہ اس نے حق کی دعوت دی ہو یا باطل کی۔
 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہوگی جس کے حکم پر دنیا میں  چلتی رہی اور اُنہیں  اُسی کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں  کے پیروکارو!۔

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں  صالحین کو ہی اپنا پیشوا بنانا چاہیے تاکہ قیامت میں  انہی کے ساتھ حشر ہو۔


سوالنمبر 5: آفاقی نشانیوں کی تفسیر و تاویل کیا ہے


جواب


ترجمہ آ ٓیت نمبر 30

کہدیجئے: بتلاؤ کہ اگر تمہارا یہ پانی زمین میں جذب ہو جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے آب رواں لے آئے؟

تفسیر آیت نمبر 30

مَّعِیۡنٍ: سہولت کے ساتھ جاری ہونے والے پانی کو کہتے ہیں۔ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے۔

یہ کرۂ ارض انسان کے لیے باقی لوازم حیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ چنانچہ بارش کا پانی اپنے میں جذب کر کے ایک حد تک گہرائی میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اس حد سے نیچے پانی جانے نہیں دیا جاتا۔ پس اگر اللہ پانی ایک حد تک گہرائی میں محفوظ نہ کرتا تو یہ اس سے نیچے چلا جاتا یا خشک سالی کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہو جاتی اور موجودہ پانی نیچے چلاتا تو پانی کی کمی کی دور کرنے کے لیے اس پانی کو اوپر لانے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ ہے؟ یا یہ کام صرف اللہ کر سکتا ہے۔

دیکھو تمہاری تدبیر حیات کا کام اللہ انجام دے رہا ہے یا کوئی اور۔

اٰللـــٌّٰـهًٌُمٓ صَلِّ عٓـلٰىٰ مُحَمَّدٍ وُاّلِ مُحَمَّدٍ وٓعٓجٓلِ فٓرٰجٰهٌٓمّ


شہر بانو


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات