Course 2 Book 1 Me
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *پہلا درس*
# *موضوع :عقیدہ مہدویت کیا ہے؟
*اللہ کی معرفت امام کی معرفت پر موقوف یے*
🎤 *آغا اصغر علی سیفی صاحب*
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
💫 *خلاصہ:*
عقیدہ مہدویت ہے کیا؟؟ ابتک جو کچھ ہم اپنی اسلامی زندگی, اسلامی کلچر اور شیعہ کلچر کا جو مکتب ہے اس میں جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ امام مہدی عج کا موضوع اسی طرح سمجھا جا رہا جیسے دوسرے آئمہ کا موضوع ہے جس طرح باقی آئمہ پر جو عقیدہ ہے اس طرح کا عقیدہ امام مہدی عج پر بھی ہے یعنی امام ہیں لیکن آیا امام جو ہیں وہ کس لیے ہیں؟ کس ہدف کے لیے ہیں؟ کیوں غائب ہیں؟ اور ہمارا امام کے ظہور میں کوئی کردار ہے؟ہم کیا کریں ؟
اپنے مولا کے قرب کو حاصل کریں ان تک پہنچیں۔
ان سب چیزوں کے حوالے سے جو ہم سب دیکھ رہے ہیں ایک جمود فکری ہے ,بے حسی ہے, لا پروائی ہے بلکہ جس طرح دوسرے آئمہ کی تاریخ کے مختلف ادوار میں موجود تھے اور شہید ہوگئے اور اس وقت اللہ کی بارگاہ میں ہیں اس طرح امام مہدی عح کو بھی سمجھا جاتا ہے کہ مولا بھی جسطرح باقی امام اسی طرح ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ جب کوئی اعمال انجام دیتے ہیں کوئی نذرونیاز کرتے ہیں جسطرح دوسرے آئمہ کا ہدیہ ہوتا ہے اسی طرح امام مہدی عج کے لیے بھی ہدیہ کردیتے ہیں ثوآب یا وہ عمل یعنی انکے طرز عمل سے یہ محسوس ہوتا ہے باقی آئمہ شھید ہیں اس جہاں سے انکی جو ذمہ داری تھی باعنوان امام وہ پوری ہوچکی ہے ختم ہوچکی ہے اب مہدیِ زہراہ عج کا دور ہے اس وقت زندہ امام ہیں اور اسی دنیا میں , اسی زمین پر وہ چل پھر رہے ہیں یعنی وقت کے حیی اور زندہ امام اور جو دیگر شھداء اور آئمہ ہیں انکے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہمارے طرز عمل میں , ہماری زندگی میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر ہم اگر غور کریں تو آپکو غیبت کے طولانی ہونے اور ظہور میں تاخیر کا فلسفہ سمجھ آجائے گا یعنی مشکل جو ہے وہ امام مہدی عج کی طرف سے نہیں ہیں کہ کیوں غیبت طولانی ہورہی ہے؟ کیوں ظہور میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟ یہ ہمارے رویے ہیں یہ ہماری سوچ ہے , ہمارے اعمال ہیں, ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم نے اپنے امام کے لیے کس طرح کا عقیدہ رکھا ہوا ہے جیسے:
ہمارے بیشتر مولا علی وصی رسول مولا علی ہیں انکا بہت بلند مقام ہے کوئی امام انکے مقام تک نھیں پہنچ سکتا اس میں کوئی شک نہیں لکین مولا علی آئے اور دنیا میں بعنوان وصی پیعمبرﷺ, بعنوان خلیفہ خدا انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور شیعوں کی تربیت کی اپنے وظائف انجام دیئے اور دین کو پہنچایا بعنوان ہادی آخر میں وہ شہید ہوئے اور امامت ختم ہوئی اور امام حسن کو امامت ملی اور مولا علی ہمارے امام ہیں پہلے امام ہیں یعنی ترتیب سے جہ پیغمبر کے جو اوصیاء ہیں اور جو جانشین ہیں ان میں سب سے پہلے وصی جنکی امامت پر ہم ایمان رکھتے ہیں وہ مولا علی ہیں لیکن آیا یہ انکا زمانہ ھے نہیں,آیا یہ امام حسن کا زمانہ ہے نہیں, ہاں یہ ہمارے عقیدہ کے اعتبار سے ہیں لیکن یہ زمانہ امام مہدی عج کا زمانہ ہے کہ جنکی اقتداء ہم پر واجب ہے, جنکی معرفت ہم پر واجب ہے, جنکے ہدف کو پورا کرنا واجب ہے, جنکی نگاہ سے اپنی دینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ضروری ہے وہ مہدی موعود عج ہیں جنکے دور میں ہیں۔۔۔جو آج خلیفہ خدا ہیں, جو آج ولئ پروردگار ہیں اور جنکے پیچھے روز محشر ہم نے محشور ہونا ہے وہ مہدی موعود عج ہیں انکے حوالے سے جو ہمارے فرائض ہیں وہ امام علی, امام حسن و حسین ہیں اور اور جو گیارہ آئمہ ہیں انکے حوالے سے جو ہمارے فرائض ہیں ان میں فرق ہے ان گیارہ ائمہ کی یاد کو باقی رکھنا ہم پر فرض ہےلیکن آج کے دور میں جنکی منشاء کے مطابق ہمیں زندگی گزارنی ہے وہ امام زمانہ عج ہیں
غور طلب بات ہے کہ جب گیارہ اآئمہ کا دور ہوتا تھا تو شیعت مظلوم تھی بند کمروں میں امام کا ذکر کیا جاتا تھا تقیہ عام حتی کہ لوگ شیعوں والے نام تک نہیں رکھتے تھے اب جب امام مہدی عج کا زمانہ آیا ہے آیا چاہے غیبت طولانی ہو یا غیبت صغری ہو اس میں شیعہ حکومتیں قائم ہوئیں , درسگاہیں قائم ہوئی, شش امامیہ مراکش ایران , حزب اللہ کو دیکھیں , رہبی معظم ایک طاقتور شیعہ کے روپ میں کھل کر سامنے آئے گی یہ سب امام زمانہ عج کے سبب ہے فیض امام ہے
🪷 امام عج خود فرماتے ہیں کہ:
*"اے میرے شیعوں میں تم سے غافل نہیں اگر میں تمہیں بھول جاتا تو یہ دنیا تمہیں نگل جاتی"*
امام نے شیعت کی ہر جگہ سر پرستی کی ہے شیعت ہی اصل اسلام ہے جو ہر جگہ ڈٹا ہوا ہے اللہ نے صالحین کی حکومت کی بشارت دی ہے
مہدویت عملی عقیدہ ہے اور سب مشکلوں کا حل یہی حکومت ہے ساری دنیا کی سعادت مہدویت میں ہے
یہ دنیا جنت بنے گی اہل عرش رسک کریں گ زمانہ عدل و انصاف سے بھر جائے گا شیعت اول درجے پر ہوگی اور ہر جگہ عدالت قائم ہوگی
اس لیے ہمارے ہر عمل مو مہدوی رنگ ہونا چاہیے اور مہدوی زندگی معرفت امام سے ہی جس سے ہم خدا تک پہنچیں گے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
ℂ𝕙𝕒𝕥𝕘𝕡𝕥
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *دوسرادرس*
# *موضوع :معرفت امام کیوں ضروری یے؟*
# *نکات*
*معرفت امام حقیقی اسلام کی شرط ہے،اعمال کی قبولیت امام کی معرفت پر موقوف یے اور امام واسطہ فیض الہی ہے*
استاد محترم علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
موضوع گفتگو معرفت امامؑ کی اہمیت ہے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہر مومن کا ایک فریضہ ہے کہ وہ زمانے کی حجت کو پہچانے۔ اللہ کی معرفت کے بعد عظیم ترین معرفت خود وہ وقت کی حجت چاہے وہ نبیؐ ہو یا امامؑ کی معرفت ہے۔ آج زمانے کی حجت ہیں وہ امام مھدیؑ عج الشریف ہیں جو ہمارے درمیان ایک زندہ امامؑ کی صورت میں موجود ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے مولا ؑ کی معرفت کو حاصل کریں۔
### امام کی معرفت کیوں ضروری ہے؟ 🤲
امام کی معرفت کا ہونا ہماری دینی زندگی میں بہت اہم ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
#### 1. **اللہ کی معرفت کا ذریعہ** 🌟
امام کی معرفت اللہ تک پہنچنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنے خالق کی حقیقی بندگی چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ہم حجت خدا کے ذریعے اس کی صفات اور عظمت کو سمجھیں۔
#### 2. **اسلامی شناخت** 📜
پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے، وہ جہالت کی موت مرا ہے۔" یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ امام کی معرفت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔
#### 3. **عمل کی قبولیت** ✅
اللہ تعالی صرف ان اعمال کو قبول کرتا ہے جو امام کی معرفت کے ساتھ ہوں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "اللہ بندوں کے عمل کو قبول نہیں کرتا مگر ہماری معرفت کے ساتھ۔" اس لیے، اگر کسی نے صحیح اعمال کیے لیکن امام کو نہیں جانتا تو اس کے اعمال کی قبولیت کی ضمانت نہیں۔
#### 4. **فیض الہی کا واسطہ** 🌈
امام فیض الہی کا واسطہ ہیں۔ جو نعمتیں ہمیں ملتی ہیں، ان کا سبب امام کا وجود ہے۔ اگر امام نہ ہوں تو کائنات کا نظام متاثر ہو جائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت کا شکر ادا کریں اور امام کی معرفت حاصل کریں۔
#### 5. **روحانی ترقی** 🌱
امام کی معرفت ہمیں روحانی ترقی کی راہ دکھاتی ہے۔ جب ہم امام کے راستے پر چلتے ہیں، تو ہم اپنے اندر ایمان کی قوت محسوس کرتے ہیں اور ہماری زندگی میں سکون آتا ہے۔
#### 6. **منافقوں کی پہچان** 🔍
امام کی معرفت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کون لوگ حقیقتاً دین پر عمل پیرا ہیں اور کون لوگ صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔ امام کی رہنمائی ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی طاقت دیتی ہے۔
### نتیجہ
امام کی معرفت ہمارے دین، ایمان اور اعمال کی قبولیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں اس ہستی کا شکر گزار ہونا چاہیے جس کے ذریعے ہم الہی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ امام کی معرفت کے بغیر، ہم اپنی دینی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکتے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *دوسرادرس*
# *موضوع :معرفت امام کیوں ضروری یے؟*
# *نکات*
*معرفت امام حقیقی اسلام کی شرط ہے،اعمال کی قبولیت امام کی معرفت پر موقوف یے اور امام واسطہ فیض الہی ہے*
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
✨ *خلاصہ:*
موضوع گفتگو معرفت امامؑ کی اہمیت ہے ہم نے پہلی گفتگو میں بیان کیا تھا کہ ہر مومن کا ایک فریضہ ہے کہ وہ زمانے کی حجت کو پہچانے, اللہ کی معرفت کے بعد عظیم ترین معرفت خود وہ وقت کی حجت چاہے وہ رسولﷺ ہو یا امامؑ کی معرفت ہے۔ آج زمانے کی حجت ہیں وہ امام مہدی عج ہیں جو ہمارے درمیان ایک زندہ امامؑ کی صورت میں موجود ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے مولا کی معرفت کو حاصل کریں۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ پچھلی گفتگو میں بیان کیا گیا کہ بہت ساری جہات اور پہلو ہیں جن کی بنا پر ہم پر لازم ہے کہ ہم زمانے کے امام کو پہچانیں کیونکہ زمانے کے امام کی معرفت ہی ہمیں خدا تک پہنچائے گی۔۔۔
*←پہلی جہت :*
خود اللہ کی معرفت کا ذریعہ بھی معرفت امامؑ ہے۔
یعنی اگر ہم چاہتے ہیں ہم اپنے خالق کی معرفت حاصل کریں اور اس کی حقیقی معنوں میں بندگی اور اطاعت کریں تو اس کی راہ یہ ہے کہ ہم حجت خدا کے ذریعے اللہ تک پہنچیں ۔ حجت ہمیں بتائے گی کہ وہ پروردگار جس نے ہمیں خلق کیا ہے وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ اور اس کی صفات کیا ہیں۔ اور اس کی عظمت کیا ہے۔ خدا کیا ہے اور کون ہے۔ یہ ساری چیزیں وقت کا امام بیان کرتا ہے۔۔۔۔۔
١- جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ امام کے تبدیل ہونے سے ایمان تبدیل ہو جاتا ہے,اسلام میں کتنے فرقے ہیں سارے ہی توحید اور رب پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کا رب اور ہے ہم اہل تشیع کہتے ہیں کہ رب جسم سے پاک ہے لیکن ہمارے اہل سنت فرقہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نہیں رب کا جسم ہے جیسے انسانی جسم ہے۔ تو یا تو وہ رب ہے جسے یہ لوگ بیان کرتے ہیں یا تو یہ رب ہے جسے ہم مانتے ہیں یقیناً یہ رب ہے جسے پیغمبر اسلامﷺ نے بیان کیا جسے ان کے وصی علی ابن ابی طالب نے بیان کیا جسے تمام بارہ(١٢) آئمہ نے بیان کیا اور جس کی توصیف کی یہ وہ رب ہے کہ جسے قرآن بیان کر رہا ہے اور قرآن کی تفسیر وہ ہستیاں بیان کر رہی ہیں کہ جنہیں پروردگار نے اور اس کے آپ ﷺ نے قرآن کے ساتھ حجت قرار دیا۔ وہ عترت اہلبیتؑ بیان فرمارہے ہیں کہ یہ جو صفات اللہ کی قرآن پاک میں بیان ہوئی ہیں۔ ان صفات کا کیا مطلب ہے؟ صفات ثبوتیہ کیا ہیں؟ صفات سلبیہ کیا ہے؟, صفات ذاتیہ کیا ہیں؟
تو بس امام راہ ہے خدا کی معرفت تک جانے کا اگر امام سے تمسک کریں گے تو ہماری توحید ٹھیک ہوگی۔۔۔۔۔۔۔
٢- اگر ہم حقیقی معنوں پر مسلمان رہنا چاہتے ہیں تو شرط یہ ہے کہ زمانے کے امامؑ کی معرفت حاصل کریں۔
*✨شعیہ اور سنی دونوں حضرات نے پیغمبر اکرم ؐ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ:*
*"وان من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتہ جاھلیۃ"*
_"یعنی بے شک جو شخص بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے تو وہ جاھلیت کی موت مرا۔"_
یعنی اگر امام کی معرفت رکھیں گے تو جاہلیت کی موت سے بچیں گے لیکن اگر یہ جاہلیت کا لفظ ہمارے آئمہ کی گفتگو میں آئے تو اس سے مراد بعد از اسلام جاہلیت ہے
پیغمبرﷺ نے قبل از اسلام کی جاہلیت کو دور کیا اور جب مہدی زہرا عج تشریف لائیں گے تو وہ بعد از اسلام کی جاہلیت کو دور کریں گے۔۔۔۔۔۔
*پیغمبرﷺاسلام فرما رہے ہیں کہ*
جو شخص زمانے کے امامؑ کی معرفت کے بغیر مرا وہ قبل از اسلام کی موت مرا اور جو شخص قبل از اسلام کی موت مرا گویا اس کی زندگی بھی اسلام پر نہیں ہے۔ بےشک وہ اعمال انجام دے رہا ہے لیکن اگر وہ حجت خدا کو نہیں پہچانتا تو یہ اس کے مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں ہےکیونکہ وہ مرکزی نقطے کو چھوڑ بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔مرکزی نقطے کو جو چھوڑ دے گا تو وہ شریعت کو چھوڑ دے گا اور جو اس کے دل میں ہے اس کے مطابق زندگی گذارے گا۔
*زمانے کے امامؑ کی معرفت بنیادی شرط ہے۔*
جیسے امام صادقؑ کے دور میں کئی لوگ تھے جو اسلام کی تفسیر کر رہے تھے تو اب کون سی تفسیر صحیح ہیں کیونکہ نبیﷺ کے بعد صدی کا فاصلہ ہے تو اب اس زمانے کے مسلمان بالغ ہو رہے ہیں کس اسلام کو مانیں گے ابو حنیفہ کے بیان کردہ کو یا امام صادق جو اسلام بیان کر رہے ہیں۔ یقیناً ایک اسلام درست ہے تو جو صحیح امام سے تمسک کرے گا تو صحیح اسلام تک پہنچے گا ورنہ وہ جس اسلام سے تمسک کر رہا ہے تو وہ اس کا اپنا اسلام ہے خدا کا اسلام نہیں ہے۔
امام کی معرفت حقیقی اسلام کی شرط ہے۔ امام بتائے گا کہ کون سے اعمال اسلامی اعمال ہیں۔ امام مرکزی نقطہ ہے وہ بنیادی ستون ہے۔
_٣- قبولیت عمل کی شرط، قبول ولایت:_
ہو سکتا ہے کہ تشیع سے ہٹ کر دیگر مکاتب ہیں ان میں کچھ ایسے لوگ ہوں جو قرآن اور احادیث دیکھ کر کچھ صحیح اعمال کر رہے ہوں لیکن اب یہ صحیح انجام تو دے رہے ہیں لیکن خدا ان اعمال کو قبول نہیں کر ے گا کیونکہ اس نے چونکہ زمانے کے امام کی ولایت کی جانب توجہ نہیں کی تو اللہ اس کے اعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ اور اب اسے ثواب نہیں ملے گا۔
*💫امام صادقؑ ایک مقام پر فرماتے ہی کہ:*
*"لا یقبل اللہ من العباد عملا الا بمعرفتنا"*
"*_اللہ بندوں کے عمل کو قبول نہیں کرتا مگر ہماری معرفت کے ساتھ۔"*_
تو بس جو صحیح اعمال بھی کر رہا ہو اور پیغمبرﷺ کے اوصیاء کی معرفت نہیں رکھے گا تو پروردگار عالم اس کے اعمال کو قبول ہی نہیں کرے گا۔
*٤- ولی نعمت کی ضرورت معرفت:*
امامؑ فیض الہیٰ کا واسطہ ہے اور جو نعمتیں بھی عالم وجود تک پہنچتی ہیں ، امام کے وجود کی بدولت ہیں اور ان موجودات میں انسان بھی امامؑ کے وجود کے ذریعے بے شمار الہیٰ نعمتوں سے فیض یاب ہوتا ہے۔
اگر حجت خدا زمین پر نہ ہو تو یہ زمین پر رہنے والے کو دھنس دے۔ تمام نظام کائنات اس لیے چل رہے ہیں کہ وہ مرکزی نقطہ وہ حجت خدا موجود ہے۔ وہ مرکزی نقطہ جو واسطہ فیض ہے۔ تکوین (یعنی تمام مادی امور جو ہمیں مل رہے ہیں) اور تشریعی یعنی شرعی احکام میں بھی واسطہ فیض ہے۔ وہ ہستی جس کی برکت سے ہم سانس لیتے ہیں اور روزی لیتے ہیں تو آیا اس کا پہچاننا ضروری نہیں کہ ہم اس ہستی کا شکریہ ادا کریں اور اس کا شکریہ اس کی اطاعت ہے۔
*بہت ساری روایات ہیں کہ جس میں آئمہؑ واضح طور پر فرماتے ہیں کہ:*
*"اس امام کی برکت سے خلق کو روزی پہنچتی ہے اور اس کے وجود کے ذریعہ سے زمین و آسمان قائم ہیں۔ "*
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
درس 2
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*معرفتِ امام کی ضرورت*
شیعہ سنی کا یقین ہے اس حدیث پر
جو شخص دنیا سے چلا جائے اور زمانے کے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو تو جہالت کی موت ہے ۔
قبل از اسلام جہالت
شرک
بعد از اسلام جہالت
منافقت
امام بنیادی ستون ہے جس پر اعمال کا دارومدار ہے
اعمال کی قبولیت کی شرط ولایت اور معرفت کی قبولیت ہے
امام کی وجہ سے نظام جاری ہے اس ہستی کے وجود کے برکت کی وجہ سے حیات ہے کیا ہمیں انھیں پہچاننا ضروری نہیں ہے تاکہ ہم شکریہ ادا کریں حجت خدا کی وجہ سے درہم برہم کچھ نہیں ہے تخلیق کا پہلا ہدف محمد و آل محمد ہیں انھی کے زریعے روحانیت کے چشمے بہتے ہیں انھی حستیوں کی وجہ سے خدا کا فیض ہم تک پہنچ رہا ہے یہ عجیب بات ہے جن کی وجہ سے ہمیں فیض ملے اور ہم ان سے بے خبر ہوں ہم کیوں نہ پہچانہیں
آمین آمین آمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
✨ *کورس ٹو*
*💫پہلا کتابچہ*
*🌷تیسرا درس*
# *امام خلیفۃ اللہ اور قرآن کے ہمراہی*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*📆 بدھ 20 ربیع الاول 1446( 25 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
💫 *خلاصہ:*
امام کی معرفت اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہ خدا کے خلیفہ ہیں۔ اب چونکہ ہم خدا کے بندے ہیں، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پروردگار کا اس زمین پر خلیفہ الٰہی کون ہے؟
🪷 **الٰہی خلیفہ کی معرفت:**
← رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں کہ:
*"جب مہدی عج قیام کریں گے تو ان کے سر پر ایک بادل کا ٹکڑا ہوگا جو آواز دے گا کہ یہ مہدی عج ہے خلیفۂ خدا ہے، لہذا اس کی پیروی کرو۔"*
🔴 _← اسی طرح رسول خدا ﷺ نے فرمایا:_
*_"جب تم اسے دیکھو تو اس کی بیعت کرو اگرچہ تمہیں سینے کے بل برف پر چل کر بس تک پہنچنا پڑے، کیونکہ وہ خلیفۂ خداوندی ہے."_*
خلیفہ الٰہی کا قیام قرآن پاک اور احادیث میں بیان کیا گیا ہے اور زیارات میں بھی امام زمانہ عج کو خلیفۂ الٰہی کہا گیا ہے، کیونکہ وہ خلیفۂ خداوندی ہیں۔
💦 **امام کی شناخت قرآن کے ہمراہ کی شناخت:**
🔵← رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
"میں تمھارے درمیان قرآن اور اپنی عترت و اہل بیت چھوڑے جارہا ہوں اور ان دو سے تمسک کا حکم دیا۔"
یعنی *"تمام مسلمانوں کا فریضہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن پاک کی طرف رجوع کرتے ہیں، اس طرح عترت رسولﷺ اور آئمہ بالخصوص مہدی عج سے بھی متمسک ہوں تاکہ راہ ہدایت پاسکیں۔"*
🖇️ احادیث میں شب قدر اور نیمہ شعبان کا باہمی مقایسہ قرآن و عترت میں بیان کیا گیا ہے، نیز یہ کہ کوئی بھی اس امت میں آل محمدﷺ سے قابل قیاس نہیں ہے۔
🌸🌼 *_امام صادق فرماتے ہیں:_* 🌸🌼
*"قسم ہے پروردگار کی، جس وقت سے اللہ نے آدم کو اٹھایا، اہل زمین کو ہرگز اپنے حال پر نہیں چھوڑا، مگر اس نے امام قرار دیا تاکہ لوگ اس وسیلہ سے پروردگار کی طرح ہدایت پائیں، اور وہ اللہ کے تمام بندوں پر حجت ہے۔"*
← اس دعا کی رو سے آج حجت فقط امام مہدی عج ہیں۔
خداوند متعال سے دعا ہے کہ امام زمانہ عج کے ظہور میں تعجیل کر اور ہمیں ان کے ناصرین میں شامل کر۔ *آمین* 🌺🌷🌹
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *چوتھادرس*
# *موضوع :معرفت امام کیوں حاصل نہیں ہوتی؟*
# *نکات*
*دینی تعلیم سے دوری اور اپنی اخلاقی تربیت بالخصوص وظائف انتظار پر عمل کی ضرورت*
*📆 منگل 26 ربیع الاول 1446( 1 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
**خلاصہ:💦**
انسان کو چاہیے سب سے پہلے اپنی توحید کو درست کرے پھر معرفت حجت حاصل کرے۔✨
**🕊️ _دینی تعلیمات سے دوری:_**
جو لوگ دینی تعلیمات اور الہی معارف کی شناخت نہیں رکھتے، وہ امام اور حجت خدا کی معرفت تک نہیں پہنچ سکتے اور امام کی معنوی خصوصیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔🚫
**☪️** بہت سے لوگ جو اپنی دنیا میں مصروف ہیں، ان کے لیے امام حسنؑ فرماتے ہیں:
*تعجب ہے اس شخص پر جو جسم کی غذا کی اتنی فکر کرتا ہے، لیکن اپنی فکری غذا پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔*🤔
**🔯** اسی طرح امام صادقؑ فرماتے ہیں:
*"ہمارے اصحاب میں سے جو بھی دین نہیں رکھتا، اس کے لیے کوئی خیر نہیں."*⚖️
غیبتِ صغری میں امام زمانہؑ کی توقیع میں یہ درد بیان کیا گیا ہے:
**⭕ امام عج فرماتے ہیں:**
*"اے محمد بن علی!! جاہل و نادان اور بیوقوف شیعہ مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں اور یہ وہ ہیں کہ مچھر کا پر ان کے دین سے بہتر اور قیمتی ہے!"*😔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *پانچواں درس*
# *موضوع :معرفت امام کیوں حاصل نہیں ہوتی؟*
**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 2 ربیع الثانی 1446( 6 اکتوبر ، 2024)*
# *نکات*
*دنیا کی مذمت نہیں بلکہ حب دنیا کی مذمت ہے دنیا سے دل نہ لگائیں بلکہ اس سے اللہ اور ولی کا قرب حاصل کرنے اور اپنی آخرت بنانے کا استفادہ کریں*
دینی تعلیمات سے دوری واقعی انسان کو خدا کی معرفت اور امام زمانہ کی معرفت سے دور کر سکتی ہے۔
### مسلمانوں کے لیے اقدامات:
1. **ذاتی تعلیم**: ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دین کی بنیادی تعلیمات خود حاصل کرے۔
2. **بچوں کی تربیت**: اپنے بچوں کو دین سکھائیں، تاکہ وہ صحیح عقائد اور اخلاقی قدریں سمجھ سکیں۔
3. **معاشرتی ذمہ داری**: اپنے اردگرد کے لوگوں، خاص طور پر بزرگوں کو دینی علم فراہم کریں۔
4. **علمی ماحول**: مساجد، دینی مدارس اور علمی محفلوں میں شرکت کریں تاکہ علم کا حصول ممکن ہو۔
5. **فقہی معلومات**: حلال و حرام کے مسائل، توحید، امامت، ولایت اور قیامت کی بنیادیات پر عبور حاصل کریں۔
6. **اخلاقی تربیت**: اخلاقی تعلیمات پر توجہ دیں، کیونکہ یہ دین کا اہم حصہ ہیں۔
یہ اقدامات ہمیں معرفت کی وادی میں قدم رکھنے کی راہ دکھا سکتے ہیں۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اللہم عجل لولیک الفرج
درس 5
دینی تعلیمات ذریعہ بنتی ہیں معرفت کا
دنیا پرستی کی وجہ سے انسان محروم رہتا معرفت سے
یہاں ہم مہمان ہیں بہشت کی دنیا ابدی ہے یہ اہم دنیا ہے اس نے اس جہاں کو بنانا ہے
دنیا کی مزمت نہیں ہوئی دنیا کی نہیں ہوئی اس کے اندر تو بے پناہ نعمات ہیں دنیا بذاتِ خود بہت اچھی ہے اس سے لگاؤ ٹھیک نہیں ہے
سورہ نجم سورہ اعراف
انسان کے لیے سب سے بڑا
اسے اس کے حال پہ چھوڑ دے
بنی اسرائیل نے اپنی من پسند حیوانی زندگی گزاری
یہی لوگ جہنم کی خوراک ہیں
دنیا کی نعمات سے ٹھیک فائدہ اٹھائیں
حب دنیا ساری خطاؤں کا سر چشمہ ہے اس حب کو حب خدا میں تبدیل کریں
اس دنیا کو پل بنانا ہے اس سے لو نہیں لگانا
افراط و تفریط سے بچیں
امام نے کہا میں چونکہ امام ہوں میری ریعت میں ہر قسم کے لوگ ہیں وہ مجھے دیکھیں گے کہ انھیں تسلی ہو گی لیکن تم ناشکری کر رہے ہو اپنے مال سے حلال استفادہ کریں
آمین آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *چھٹا درس*
# *موضوع :معرفت امام کیوں حاصل نہیں ہوتی؟*
# *نکات*
*امام عج سے عہد وپیمان نہ باندھنا یا عہد توڑنا اور گناہ بھی معرفت امام سے محرومی کا باعث ہیں*
*📆 منگل 4 ربیع الثانی 1446( 8 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
معرفت سے محرومی
عہد و پیمان نہ کرنا یا توڑنا
انسان کو اس سے طاقت ملتی ہے وعدہ فطری طور پر انسان کو ملزم کرتا ہے اس سے انسان فتنوں سے بھی آزاد ہو جاتا ہے
ولی کی ہمراہی کامیابی کی ظمانت ہے ہمیں امام کے ہدف کو جاننا چاہئے
امام عج ظہور کے وقت بھی عہد لیں گے انسانی حقوق کی بہت اہمیت ہے اسلام میں
عہد کی وفا کرنے والے کا انجام اچھا ہوتا ہے
ہر روز ہمیں اپنے مولا عج سے عہد کرنا چاھئے
گناہ
گناہ حجاب ہے جیسے جیسے گناہ بڑھتے ہیں تو نقطے بڑھتے ہیں گناہ انسان کو حیوانوں سے بھی بد کر دیتے ہیں
گناہ جب ہو تو استعفار کریں اسے روحانیت میں بدلیں
سورہ توبہ آیت 105
جیسے جیسے گناہ بڑھتے ہیں توفیقات سے محرومی ہوتی ہے ولایت سے محروم ہو جاتے ہیں
حرام کھانے پینے سے انسان امام عج کا دشمن ہو جاتا ہے
رات کو سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں کہ کیا کھویا اور کیا پایا تو آپ غور کریں گے کہ کھویا وہ بہت زیادہ ہے اور جو پایا وہ کم ہے بلکہ جو پایا وہ بھی ساتھ چلا گیا
گناہوں سے دور رہنا جہاد اکبر ہے اگر ہو گیا تو توبہ کریں
اس وقت امام کا دشمن ابلیس ہے اور اپنی زندگی میں غور کریں کہ کس کی اطاعت ہو رہی ہے
امام عج شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے شیعوں سے دور ان کے گناہ کر رہے ہیں
امام عج کے دل کو رنج پہنچتا ہے
امام فرماتے ہیں ہمارے فرمان کو جانتے ہو پھر بھی سرکشی 😢
آمین آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحیم
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *ساتواں درس*
# *موضوع :معاشرتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*عالمی عقیدہ میدویت،فوٹوریزم،مغربی مفکرین کی آراء*
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
ہر مذہب میں روشن مستقبل کی امید دلائی گئی ہے یہی دنیا کچھ عرصہ کے لیے بہشت بنے گی
ہم بھی ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے نہ بیٹھیں کہ سارے کام وہ آ کرہں گے ہمیں بھی کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے تاکہ آخری کام وہ آ کے کریں انتظار مسلسل فعالیت کا نام ہے جب ہم عالمی جہدوجہد کریں گے امام عج کے لئے راستے ہموار ہوں گے
مکتب تشیع بھرپور انداز میں مہدویت پر بحث کر رہا ہے
آئیندہ آنے والے وقت میں شیعہ مذہب بہت آگے جائے گا
شیعہ مکتب تحرک کا نام ہے
انتظار پوری دنیا کی امید ہے مکتب تشیع دین اسلام کا ظامن ہے
آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *آٹھواں درس*
# *موضوع :معاشرتی رو سے مہدویت پر گفتگو کے اثرات*
# *نکات*
*امید کا مستحکم ہونا اور خوف دور ہونا*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 18 ربیع الثانی 1446( 22 اکتوبر ، 2024)**
انسان دن بدن تنہائی کی طرف جا رہا ہے جو کہ المیہ ہے عقیدہ مہدویت ہماری امید کو مستحکم کرتا ہے مکتب تشیع میں تحرک ہے
تشیع میں وسعت نگری ہے شیعہ عالمی سطح پر بڑے ظالموں کو للکارا رہے ہیں
زمانہ ظہور میں آسمانی مخلوق زمین پر رشک کریں گی
ابھی تو ہو سکتا ہے وہ لعنت بھیجتے ہوں
سورہ نور آیت 95
جب صالحین کی حکومت برپا ہو گی اور دنیا پر توحید کا پرچم لہرائے گا اور شرک ختم ہو جائے گا ریاکاری ظلم ختم ہو جائے گا
اس وقت ہمارے دلوں میں خوف نہیں ہو گا
سبحان اللّہ مولا علی امیر المومنین علیہ السّلام نے قائم عج کے دور حکومت کی مثال پیش کی
آمین آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
زمین نور پرودگار سے چمکے گی
ان شاءاللہ آمین 🙏🏻🤲🏻
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *آٹھواں درس*
# *موضوع :معاشرتی رو سے مہدویت پر گفتگو کے اثرات*
# *نکات*
*امید کا مستحکم ہونا اور خوف دور ہونا*
*📆 بدھ 12 ربیع الثانی 1446( 16 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
### آٹھواں درس: معاشرتی رو سے مہدویت پر گفتگو کے اثرات
**نکات:**
1. **امید کا مستحکم ہونا**:
- مہدویت کا تصور انسانوں میں امید کا ایک عظیم منبع ہے۔ جب لوگ مہدی علیہ السلام کی آمد کی امید رکھتے ہیں، تو ان کے دلوں میں امن اور خوشحالی کی توقع بیدار ہوتی ہے۔
- یہ امید نہ صرف فردی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی معاشرے کے افراد کو حوصلہ دیتی ہے کہ مشکلات کے باوجود بہتر مستقبل ممکن ہے۔
2. **خوف دور ہونا**:
- مہدویت کی گفتگو سے لوگوں کے خوف میں کمی آتی ہے، خاص طور پر جب وہ موجودہ حالات کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔
- یہ یقین کہ ایک عظیم رہنما آ کر عدل و انصاف قائم کرے گا، لوگوں کے دلوں سے ناامیدی اور خوف کو نکال دیتا ہے۔
3. **معاشرتی یکجہتی**:
- مہدویت کی بحث مختلف طبقوں، فرقوں اور قومیتوں کے لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کی طرف متوجہ کرتی ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
- اس کے نتیجے میں ایک مثبت معاشرتی ماحول بنتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
4. **تعلیمی پہلو**:
- مہدویت پر گفتگو سے لوگوں کی دینی و روحانی تعلیم میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ گفتگو علم و بصیرت کے دروازے کھولتی ہے، جو معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
- معاشرت میں روحانی آگہی بڑھنے سے، اخلاقیات میں بہتری آتی ہے اور برائیوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔
5. **معاشرتی تبدیلیوں کی توقع**:
- جب لوگ مہدویت کے فلسفے سے متاثر ہوتے ہیں، تو وہ اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیوں کی توقع کرنے لگتے ہیں، جو بالآخر معاشرتی اصلاحات کا باعث بنتی ہیں۔
- یہ تبدیلیاں نہ صرف فرد کی زندگی بلکہ پورے معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔
### خلاصہ
مہدویت پر گفتگو کا معاشرتی پہلو امید و یقین کی فضاء قائم کرتا ہے، خوف و پریشانی کو دور کرتا ہے، اور معاشرتی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، لوگ ایک بہتر مستقبل کی توقع کے ساتھ مل کر کام کرنے لگتے ہیں۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *نواں درس*
# *موضوع :سیاسی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*دنیا کے سیاسی نظاموں اور حاکموں کی ناکامی اور نوع انسان کا نئی عالمگیر حکومت کا منتظر ہونا اور مساوات و عدالت کی تشنگی*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 18 ربیع الثانی 1446( 22 اکتوبر ، 2024)**
سیاست اور حکومت
اہم ترین پہلو سیاست اور حکومت ہے اکثر حکومتیں جھوٹ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہیں
کیپمپلیزم سسٹم دنیا کے حقوق نہیں دے دہا
ٹیکنالوجی نے عدالت نہیں دی
آج کا انسان مایوس ہو چکا ہے اور محسوس کر رہا ہے کہ کوئی جدید نظام آئے یہی چیز اسلام مہدویت کی شکل میں پیش کرتا ہے
امام معصوم پر اعتماد کیا جاتا ہے
امام ایک نیا نظام لائیں گے جس کو کسی نے نہیں دیکھا ہو گا کیونکہ ابھی تک لاگو نہیں ہوا
مہدویت محدود نظریہ ہے اور یہ عملی نظام ہے امام کی حکومت رسول اللہ کی حکومت کی عکاسی کرے گی یہ حکومت تب ہو گی جب ہم قدم بڑھائیں گے
اہل بیت ع سے پہلے جنھوں نے حکومت کرنی ہے کریں گے لیکن بعد میں نہیں کریں گے
مہدویت میں اجتماعی مسائل کا حل ہے
آمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *نواں درس*
# *موضوع :سیاسی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*دنیا کے سیاسی نظاموں اور حاکموں کی ناکامی اور نوع انسان کا نئی عالمگیر حکومت کا منتظر ہونا اور مساوات و عدالت کی تشنگی*
*📆 اتوار 16 ربیع الثانی 1446( 20 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
✨ *خلاصہ:*
جب سے تاریخ بشری شروع ہوئی ہے تب سے حکومت اور سیاست کی بات اسی دور سے چل رہی ہے کہ کون انسانی معاشرے کا حاکم ہے؟ کیسا نظام انسانی معاشرے پر حاکم ہو؟ لوگوں کے مسایل کس طرح یہ حکومتیں حل کریں؟
🔵پھر آیا یہ حکومتیں یہ مکاتب یہ سیاسی نظام جسے ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں لوگوں کی ضروریات پوری ہوئی کے نہیں؟ لوگوں کے مسائل بھی حل ہوئے کے نہیں؟ آیا واقعاً ان حکومتوں کے ذریعے اور ان سیاسی جتنے بھی نظام آئے اس سے سکھ کا سانس لیا؟ کیا واقعاً لوگوں نےخوشحال زندگی گزاری؟ یا یہ صرف ایک آرزو ہی رہی اور حکومتیں تو چینج ہوتی رہتی ہیں اور ہر دفع لوگ ایک نئی حکومت کی طرف نئی امیدیں لے کر دیکھتے ہیں لیکن وہ پہلے سے بھی زیادہ مایوس کر رہی ہے اور لوگوں کا دن بدن اعتماد ختم ہو رہا ہے ہماری ان اپنی بنائی ہوئی مختلف حکومتوں پر۔۔۔۔
💦 اکثر دنیا کی حکومتیں جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر بنائی جاتی ہیں پہلے جو دعوے کیے جاتے ہیں وہ کبھی بھی پورے نہیں ہوتے صرف لوگوں سے استفادہ ہوتا ہے جہان ہمحمہوری نظام کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ لوگوں کے ووٹ لینے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے اور بعد میں ایک گروہ اور ایک خاندان ہے جو عیاشی کرتا ہے۔۔۔۔ ✨گزشتہ کئی سالوں سے دو غالب نظریات کیپٹل ازم جو مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کا نمائندہ ہے اور رکیمونزم جو مزدوروں کے حقوق کے دفاع کا مدعی ہے۔۔۔۔
💫دو وحشی درندوں کی طرح ایٹمی اسلحوں کی طاقت کے ساتھ عصر حاضر کو خطرے سے دوچار کی دھمکی دے چکے ہیں۔۔۔۔ اس سے کوئی فایدہ نہیں ہوا لوگ غریب سے غریب تر ہوتا گیا اور امیر امیر سے امیر تر۔۔۔۔۔۔دوسری طاقت جو کیمونزم کے مقابلے میں تھی بظاہر رقیب نہ ہونے کی وجہ سے غرور اور تکبر میں مبتلا ہوکر اپنے نیچے اور دانت دکھا کر اپنے آپ کو جدید عالمی نظام کے مقابلے کے لیے مناسب آئیڈیالوجی سمجھتی ہے اور چاہتے ہیں کہ مخالف آواز کو ہر ممکن طریقے سے سینوں میں ہی دبا دیں۔۔۔
انسان انتظار میں ہے کہ ایک ایسا نظام بنے جس میں سب کو برابر کے حقوق ملیں۔۔۔
🖇️ ایسی حکومت ایک امام ہی قائم کر سکتا ہے امام مہدی عج ایک ایسا نظام بناییں گے جس میں سب کا خیال رکھا جائے گا اور تمام مسائل کو حل کیا جائے گا۔۔۔۔مہدویت ایک عالمگیر نظریہ ہے جو پوری دنیا کے لیے ہے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *دسواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*مہدویت پر مثبت اور منفی اسلامی تاریخ اور فرقہ کیسانیہ کی حقیقت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
# عالمی مرکز مہدویت🌐
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 18 ربیع الثانی 1446( 22 اکتوبر ، 2024)**
*تاریخ مہدویت*
نبوت کا سلسلہ امامت پر ختم ہو رہا ہے اول علی ع اور آخری مہدی عج ہیں جو ہمنام ہیں رسول ص کے شیعہ سنی کتابوں میں مہدویت پر باب موجود ہیں البتہ بیان کرنے میں اختلاف ہیں
شیعہ امام عج کے وجود سے فیض لے رہے ہیں اور خطوط بھی موجود ہیں اس لیے خوش قسمت ہیں
*فرقہ قصانیہ*
انھوں نے جھوٹا مہدی پیش کیا مختیار ثقفی محبان مولا علی ع تھے اور محب امام حسین ع تھے لیکن ہماری طرح شیعہ نہیں تھے کیونکہ امام حسن علیہ السّلام کا ساتھ نہیں دیا ان کی طرف سے مہدویت میں سب سے پہلا انحراف آیا ہے
انھوں نے بجائے امام سجاد علیہ السّلام کے محمد بن حنفیہ کو اپنا امام بتایا
محمد بن حنفیہ نے کچھ عرصہ اپنی امامت کا دعویٰ کیا
پھر امام سجاد علیہ السّلام نے ان سے گفتگو کی تو انھوں نے قبول نہیں کیا تو آپ ع ان کو حجر اسود پر لے گئے تو انھوں نے ندامت کا اظہار کیا
جب مختیار ابن زیاد کے زنداں سے واپس آ ئے تو سب سے پہلے عبداللہ ابن زبیر کے پاس آئے یہ اہل بیت سے نفرت کرتا تھا لیکن یہ یزید کا بھی مخالف تھا اس نے مکہ اور مدینہ پر اپنی ایک علیحدہ حکومت قائم کی ہوئی تھی حکومت زبیری
مختیار نے کچھ عرصہ اس کے ساتھ کام کیا بعد میں مختار کوفہ کی کمزور حکومت میں آتا ہے اور کچھ لوگوں کو شامل کر کے ایک تحریک شروع کی اور کوفہ پر قبضہ کر لیا شیعوں میں اس نے محمد بن حنفیہ کو ساتھ ملایا پہلے وہ امام سجاد علیہ السّلام کے پاس گئے کہ آپ میرا حکومت میں ساتھ دیں تاکہ میں آپ کا نام لے کر بیعت لوں لیکن آپ ع کو مناسب نہیں لگا امام نے اس بات کو قبول نہیں کیا تو مختار محمد بن حنفیہ کے پاس گئے وہ پہلے تو نہیں مانے لیکن بعد میں مان گئے اور باقاعدہ ایک خط لکھا جو مختار نے لوگوں کو سنایا کہ یہ مہدی ہیں اس طرح نادان شیعہ اکٹھے ہوئے اس طرح غلط استفادہ ہوا اور تحریک چلائی تو کامیاب ہو گیا پھر کوفہ پر قبضہ ہو گیا ان کا پھر مختیار نے قاتلین سید شہدا ع سے انتقام بھی لیا تاکہ سارے شیعہ لوگ ساتھ دیں یوں اس کا قیام کچھ عرصہ کامیاب ہوا لیکن بعد میں چونکہ عبداللہ ابن زبیر بھی جنگ کر رہا تھا اور بنو امیہ سے بھی جنگ تھی
اور نتجتن زبیری لشکر عبداللہ ابن زبیر کے بھائی کی قیادت میں ایک لشکر آتا ہے اور مختیار اور ان کے ساتھ شیعہ شہید ہو جاتے ہیں اور قیام ختم ہو جاتا ہے
پہلا فرقہ مختیار کا فرقہ قصانیہ ہے اس فرقے کے نائب کا نام قصان تھا اس لیے قصانیہ کہتے ہیں
آمین ثم
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *دسواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*مہدویت پر مثبت اور منفی اسلامی تاریخ اور فرقہ کیسانیہ کی حقیقت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
✨ *خلاصہ:*
رسول خداﷺ آخری نبی ہیں اور امامت کے سلسلے کو بھی ختم ہونا ہے اور مہدویت پر ختم ہوگا آپﷺ نے اپنے بعد بارہ اوصیاء کا ذکر کیا اور یہ حدیث اثنا عشر میں موجود ہےجس میں آخری امام کا بتا دیا گیا ہے شعیہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن اہل سنت کے اکثر علماء کہتے ہیں کہ امام موجود نہیں ہیں آخری ہادی کے بارے میں رسول خدا ﷺ نے بہت سی بشارتیں دی ہیں کہ میرا ہمنام ہوگا, جیسی میری سیرت ویسی اسکی , اس کے شمائل صفات مجھ محمدﷺ جیسا ہوگا وہ جب آئیں گے عدل کو نافذ کریں گے , زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے, لوگوں میں سخاوت عام کریں گے میرے امت پر مہربان امام ہونگے انکے صالحین قیامت تک حکومت کریں گے۔۔۔
💦 مختلف کتابوں میں اس بات پر ردو بدل کی گئی ہے کہ آپ موجود ہیں بھی یا نہیں؟؟ لیکن اس بات پر شیعہ سنی سب اتفاق رائے ہیں کہ وہ محمدﷺ کی نسل سے,جناب فاطمہ کی نسل سے ہیں 🔵 اہل سنت کے ایک بہت بڑے بزرگ عالم *ابن عربی* وہ کہتے ہیں کہ مہدی عج جو فرزند حسن عسکری ہیں وہ موجود ہیں اور طویل عمر پائیں گے اور انکی حکومت ہوگی اور حضرت عیسی انکے پیچھے نماز پڑھیں گے۔۔۔
*💫 فرقۂ کسانیہ کی ابتداء:*
یہ پہلا فرقہ ہے جو مہدویت کے عنوان سے وجود میں آیا اور انہوں نے پہلا جھوٹا مہدی پیش کیا سب سے پہلے انحراف دین اسلام کے اندر مہدویت کے عنوان سے ایک جھوٹا مہدی اور ایک جھوٹا فرقہ بنا ہے وہ جناب مختار کا فرقۂ کسانیہ ہے۔۔۔اور کسانیہ نام اس لیے کہ انکا جو تائب تھا اسکا نام کسان تھا یہ فرقہ کچھ عرصہ ہی چل سکا اس فرقے سے بنی عباس نے فائدہ اٹھایا , جناب مختار محبان علی اور امام حسین سے محبت رکھنے والے تھے لیکن حقیقی معنوں میں وہ شیعہ نہیں تھے انہوں نے امام حسن اور امام سجاد کی بیعت نہیں کی تھی اور جناب حنفیہ کو اپنا امام بنایا اور جھوٹی مہدویت کا دعوی کیا
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *دسواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*مہدویت پر مثبت اور منفی اسلامی تاریخ اور فرقہ کیسانیہ کی حقیقت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
✨ *خلاصہ:*
رسول خداﷺ آخری نبی ہیں اور امامت کے سلسلے کو بھی ختم ہونا ہے اور مہدویت پر ختم ہوگا آپﷺ نے اپنے بعد بارہ اوصیاء کا ذکر کیا اور یہ حدیث اثنا عشر میں موجود ہےجس میں آخری امام کا بتا دیا گیا ہے شعیہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن اہل سنت کے اکثر علماء کہتے ہیں کہ امام موجود نہیں ہیں آخری ہادی کے بارے میں رسول خدا ﷺ نے بہت سی بشارتیں دی ہیں کہ میرا ہمنام ہوگا, جیسی میری سیرت ویسی اسکی , اس کے شمائل صفات مجھ محمدﷺ جیسا ہوگا وہ جب آئیں گے عدل کو نافذ کریں گے , زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے, لوگوں میں سخاوت عام کریں گے میرے امت پر مہربان امام ہونگے انکے صالحین قیامت تک حکومت کریں گے۔۔۔
💦 مختلف کتابوں میں اس بات پر ردو بدل کی گئی ہے کہ آپ موجود ہیں بھی یا نہیں؟؟ لیکن اس بات پر شیعہ سنی سب اتفاق رائے ہیں کہ وہ محمدﷺ کی نسل سے,جناب فاطمہ کی نسل سے ہیں 🔵 اہل سنت کے ایک بہت بڑے بزرگ عالم *ابن عربی* وہ کہتے ہیں کہ مہدی عج جو فرزند حسن عسکری ہیں وہ موجود ہیں اور طویل عمر پائیں گے اور انکی حکومت ہوگی اور حضرت عیسی انکے پیچھے نماز پڑھیں گے۔۔۔
*💫 فرقۂ کسانیہ کی ابتداء:*
یہ پہلا فرقہ ہے جو مہدویت کے عنوان سے وجود میں آیا اور انہوں نے پہلا جھوٹا مہدی پیش کیا سب سے پہلے انحراف دین اسلام کے اندر مہدویت کے عنوان سے ایک جھوٹا مہدی اور ایک جھوٹا فرقہ بنا ہے وہ جناب مختار کا فرقۂ کسانیہ ہے۔۔۔اور کسانیہ نام اس لیے کہ انکا جو تائب تھا اسکا نام کسان تھا یہ فرقہ کچھ عرصہ ہی چل سکا اس فرقے سے بنی عباس نے فائدہ اٹھایا , جناب مختار محبان علی اور امام حسین سے محبت رکھنے والے تھے لیکن حقیقی معنوں میں وہ شیعہ نہیں تھے انہوں نے امام حسن اور امام سجاد کی بیعت نہیں کی تھی اور جناب حنفیہ کو اپنا امام بنایا اور جھوٹی مہدویت کا دعوی کیا
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *گیارھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ زیدیہ اور مہدویت*
استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*🫧خلاصہ:*
ہم تاریخی اعتبار سے مہدویت پر گفتگو کر رہے ہیں
*💦فرقہ زیدیہ:*
جب ہم زیدی کہتے ہیں تو ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ یہ زیدی سادات ہیں لیکن ہماری یہ مراد نہیں۔۔۔۔امام سجاد کی نسل سے انکے فرزند جناب زید ہیں انکے نسل سے ہیں اثناءعشری ہیں لیکن یہاں ہماری مراد فرقہ زیدیہ ہے ضروری نہیں یہ سادات ہوں زیدی فرقے سے مراد وہ لوگ جو جناب زید بن علی کے پیروکار ہوں چونکہ انہوں نے بنو امیہ کے خلاف خروج کیا تھا جیسے امام حسین نے اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا اسی طرح جناب زید نے بھی یہی کام کیا امام باقر کے زمانے میں اور امام صادق کے زمانے میں ہوا لیکن انہوں نے بتا دیا تھا کہ آپ کامیاب نہیں ہونگے آپ آگے جاکر شہید ہوجائیں گے اور اسی طرح ہی ہوا آپ اپنے تمام ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے اور انکے بعد انکے بیٹے یحیٰ بن زید نے امامت کا دعویٰ کیا اور یہاں سے فرقہ زیدیہ شروع ہوا یعنی یہ لوگ اثناء عشری صراط مستقیم سے ہٹ کے۔۔۔۔جناب زید جو ہیں وہ ایسے نہیں تھے اور حکومت امام صادق کے حوالے کرتے لیکن انکے بیٹے نے ایک نئی ہی امامت کا آغاز کیا امام باقر اور امام صادق کے مقابلے میں ایک امام کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور اس طرح فرقہ چلتا رہا اور آج تک اس فرقے میں بہت سے فرقے سے بنے ہوئے ہیں اور اب بھی یہ زیدیہ فرقہ موجود ہے جیسے یمن میں سب زیدی ہیں اور بھی ممالک میں زیدی موجود ہیں۔۔۔۔۔۔ آج کے جو زیدی ہیں وہ لازمی نہیں ہیں کہ وہ سادات ہیں بلکہ انکا مسلک زیدی ہے اب ان میں جو عجیب چیز نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ فقہی اعتبار سے ابو حنفیہ کے پیروکار ہیں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں سنی لوگوں کے طرح انکی نمازیں ہیں عقائد کے لحاظ سے وہ ابوبکر , عمر کو بھی مانتے ہیں اور مولا علی,حسن و حسین کے بعد امام سجاد اور انکے بیٹے زید بن علی اور پھر آگے انکے بیٹے کو مانتے ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو بھی بی بی فاطمہکی نسل سے کوئی سید ہو, شجاع ہو اور وہ تحریک ظالم کے خلاف شروع کرئے وہ ہمارا امام ہے وہ کسی ١٢عدد کے پابند نہیں ہیں وہ جو بھی شجاع ہو, عالم ہو اور خروج کرئے وہ اسکو امام مانتے ہیں ان لوگوں نے بھی اثناء عشری پر ایسے ہی ظلم کیے جیسے وہابی کرتے ہیں لیکن یمن کے اندر جو وہابی ہیں وہ کافی بہتر ہیں
یہ جو زیدی ہیں ان میں کچھ مھدویت کا شدت سے انکار کرتے ہیں یہ سب مخالف نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ مخالف ہیں انکا امام *"عبداللہ بن حمزہ"* ہیں انکے یہ قائل ہیں
یہ امام حسین کے ایک بیٹے کو نفس ذکیہ کہتے ہیں انکی مھدویت کے قائل ہیں یہ زن کی مھدویت کے قائل نہیں
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کورس 2 🌻
# کورس ٹو
# پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت
# گیارھواں درس
# موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت
# استاد مہدویت محترم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
خلاصہ:
ہم تاریخی اعتبار سے مہدویت پر گفتگو کر رہے ہیں اور موضوع سخن فرقہ زیدیہ ہے۔
جب ہم زیدی کہتے ہیں تو ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ یہ زیدی سادات ہیں لیکن ہماری مراد یہ نہیں۔
امام سید سجادؑ کی نسل سے انکے فرزند جناب زید ہیں اور جناب زید کی نسل سے ہیں اور یہ سب اثناءعشری سادات ہیں
جبکہ یہاں ہماری مراد فرقہ زیدیہ ہے ضروری نہیں یہ سادات ہوں بلکہ وہ لوگ جو جناب زید بن علی کے پیروکار ہیں۔
چونکہ انہوں نے بنو امیہ کے خلاف خروج کیا تھا جیسے امام حسینؑ نے اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا اسی طرح جناب زید نے بھی اپنے زمانے میں یہی کام کیا تھا
امام باقرؑ کے زمانے میں اور امام صادقؑ کے زمانے میں ہوا لیکن انہوں نے بتا دیا تھا کہ آپ کامیاب نہیں ہونگے بلکہ آپ شہید ہوجائیں گے اور اسی طرح ہی ہوا آپ اپنے تمام ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے اور انکے بعد انکے بیٹے یحیٰ بن زید نے امامت کا دعویٰ کیا اور یہاں سے فرقہ زیدیہ شروع ہوا یعنی یہ لوگ اثناء عشری صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔
جناب زید ایسے نہیں تھے اور حکومت امام صادق کے حوالے کرتے لیکن انکے بیٹے نے ایک نئی ہی امامت کا آغاز کیا اور امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے مقابلے میں ایک امام کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو اکٹھا کیا البتہ یہ بھی مارا گیا۔ اور اس طرح فرقہ چلتا رہا اور آج تک اس فرقے میں بہت سے فرقے سے بنے ہوئے ہیں اور اب بھی یہ زیدیہ فرقہ موجود ہے جیسے یمن میں سب زیدی ہیں اور بھی ممالک میں زیدی موجود ہیں۔
آج کے جو زیدی ہیں وہ لازمی نہیں ہیں کہ وہ سادات ہیں بلکہ ان کا مسلک زیدی ہے اب ان میں جو عجیب چیز جو ان کے اندر دیکھی جاتی ہے کہ یہ فقہی اعتبار سے ابو حنفیہ کے پیروکار ہیں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں سنی لوگوں کے طرح انکی نمازیں ہیں عقائد کے لحاظ سے وہ ابوبکر , عمر کو بھی مانتے ہیں اور مولا علیؑ امام حسنؑ ، امام حسینؑ کے بعد امام سجاد اور انکے بیٹے زید بن علی اور پھر آگے انکے بیٹے کو مانتے ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو بھی بی بی فاطمہؑ کی نسل سے کوئی سید ہو, شجاع ہو اور وہ تحریک ظالم کے خلاف شروع کرئے وہ ہمارا امام ہے یعنی وہ کسی عدد کے پابند نہیں ہیں۔ بلکہ ہر دور میں جو سید شجاع ہو, عالم ہو اور تحریک کا آغاز کرے اسے امام کہتے ہیں۔
یہ جو زیدی ہیں وہ شدت سے مہدویت کا انکار کرتے ہیں۔ جیسے ان کا ایک مشہور عالم تھا ابو زید علوی وہ شدت سے امام مھدی اور غیبت کی تمام روایات کا انکار کرتا تھا۔ اور انہیں نامعقول کہتا تھا ۔
زیدیہ فرقے کے پاس جب بھی حکومتیں آئیں تو انہوں نے شیعہ اثناء عشری لوگوں پر ایسے ہی ظلم کیے جیسے وہابی اور سنی حکومتیں کرتی رہیں۔ اور اب بھی کر رہی ہیں لیکن اب جو یمن کے اندر ہم زیدی دیکھ رہے ہیں وہ کافی بہتر ہیں۔ اور شیعہ اثنا عشری کے کافی قریب ہیں۔ لیکن سنی طریقے اور فقہی احکام پر عمل کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ لوگ ہدایت پا رہے ہیں۔
ان کے کچھ فرقے مہدویت کے مخالف ہیں لیکن جیسے ان کا فرقہ جارودیہ ہے، یحیٰ بن محمد صاحب کوفہ کے پیروکار امام غائب پر یقین رکھتے ہیں۔
انہیں میں ایک شخص امام ھادی الاحق کے عنوان سے گذرا ہے اس کا یہ عقیدہ تھا کہ دنیا کے آخر میں جو امام آئے گا وہ امام حسن اور امام حسینؑ کی نسل سے ہونگے اور وہ مہدی منتظر ہونگے۔
یہ سب مخالف نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ مخالف ہیں انکا امام عبد اللہ ابن حمزہ کہتا ہے کہ :
ہم سب شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ بلآخر امام مھدی ؑ عج ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔ حضرت عیسیٰ ؑ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور دجال مارا جائے گا۔
البتہ یہ اس بات کے قائل نہیں کہ امام مھدیؑ عج امام حسن عسکری ؑ کے فرزند ہیں۔
زیدی فرقے میں جو ایک اور چیز ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ ایسے افراد زیدیہ فرقے میں بھی آئے کہ جنہوں نے مہدویت کا دعویٰ کیا یا کچھ کو انہوں نے خود ہی مہدی کہا جیسے جناب زید کو انہوں نے خود ہی امام کہا اور پھر ان کی موت کے بعد جو اشعار پڑھے اس میں بھی لفظ مہدی آیا۔
اسی طرح ان کا ایک امام جسے یہ نفس ذکیہ کہتے ہیں محمد بن عبداللہ بن حسن جو امام حسن کے بیٹے حسن مثنا کی نسل سے ایک شخص کو نفس ذکیہ بھی کہتے ہیں اور اس کی مہدویت کے بھی قائل تھے۔
اسی طرح امام سجاد کے ایک پوتے محمد ابن قاسم بن عمر بن علی کی مہدویت کے قائل ہیں۔
یہ اپنے اندر بھی مختلف اماموں کو مہدی کہہ چکے ہیں اور امام مہدی کے بھی اکثر قائل ہیں اور اس میں بھی انحراف کا شکار ہیں۔ اور جس مھدیؑ کو شیعہ اثنا عشری مانتے ہیں یہ ان کے قائل نہیں ۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *بارھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ ناووسیہ اور مہدویت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
*📆 اتوار 30 ربیع الثانی 1446( 3 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
_🪷خلاصہ:_
ہم تاریخی اعتبار سے مہدویت پر گفتگو کر رہے ہیں
*💦فرقہ ناؤوسیہ:*
ناؤوسیہ شیعوں کا وہ گروہ یا فرقہ تھا جو امام صادق کا ظہور کا منتظر تھا
ناؤوس بصرا کے رہنے والے ایک شخص کا نام تھا جو اسی نام کے ایک دیہات سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔۔ناؤوسیہ کا عقیدہ تھا کہ امام جعفر بن محمد زندہ ہیں اور شہید نہیں ہوئے اور نہ ہونگے کیونکہ آپ آخری قائم ہیں ان لوگوں نے امام صادق پر تکیہ کر لیا لیکن اس فرقے کے اور بھی عقائد ہیں شیعہ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ تمام عقائد میں قدیم شیعوں کی مانند ہیں بس ایک مسئلہ تھا کہ وہ یہ کہ یہ لوگ مہدویت کے مصداق اور فرد میں انکو شک و شبہ تھا ہمارے بزرگ عالم دین شیخ مفیدؒ کہتے ہیں کہ" یہ لوگ اگر موجود تھے تو اب ختم ہو چکے ہیں اور اس فرقے کا کوئی وجود نہیں ہے ۔"
*شیخ مفیدؒ* نے اپنی *کتاب اکمال دین* میں ایک روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک صحابی امام جعفر صادق کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا مولا آپ کا جانشین کون ہے تو امام صادق نے فرمایا:
*" میرا جانشین موسی کاظم ہوگا اور ان کے بعد امام علی رضا اور انکے بعد امام محمد تقی اور ان کے بعد امام علی نقی اور پھر انکے بیٹے امام حسن عسکریاور پھر انکے بیٹے جو کے حجت خدا ہوں گے وہ امام مہدی عج ہوں گے*
لہٰذا امام صادق اپنی زندگی میں مہدویت کے بارے میں بتا گئے تھےلیکن لوگ گمراہ ہو گئے اور آج تک لوگ گمراہ ہیں کیونکہ لوگ آج بھی مہدویت کے دعوے کر رہے ہیں اور لوگ انکے پیچھے بھاگ رہے ہیں لیکن ہمارے مراجع ،فقہاء ،اور مجہتدین کی وجہ سے لوگ بے نقاب ہو رہے ہیں یہ صرف دشمن کی شازش ہے جو ہر وقت ناکام ہوتی رہے گی اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم تمام آئمہ کے فرامین کو پڑھ کر اس پر عمل کرنا ہوگا لیکن اس سے زیادہ ہمیں امام زمانہ عج کی معرفت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ لوگ آج تک امام زمانہعج کی معرفت سے نابلد ہیں
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *بارھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ ناووسیہ اور مہدویت*
*📆 سوموار 30 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
خلاصہ:
ہم تاریخی اعتبار سے مہدویت پر گفتگو کر رہے ہیں
فرقہ ناؤوسیہ
ناؤوسیہ شیعوں کا وہ گروہ یا فرقہ تھا جو امام صادق کا ظہور کا منتظر تھا
ناؤوس بصرا کے رہنے والے ایک شخص کا نام تھا جو اسی نام کے ایک دیہات سے تعلق رکھتا تھاناؤوسیہ کا عقیدہ تھا کہ امام جعفر بن محمد زندہ ہیں اور شہید نہیں ہوئے اور نہ ہونگے کیونکہ آپ آخری قائم ہیں ان لوگوں نے امام صادق پر تکیہ کر لیا لیکن اس فرقے کے اور بھی عقائد ہیں شیعہ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ تمام عقائد میں قدیم شیعوں کی مانند ہیں بس ایک مسئلہ تھا کہ وہ یہ کہ یہ لوگ مہدویت کے مصداق اور فرد میں انکو شک و شبہ تھا ہمارے بزرگ عالم دین شیخ مفیدؒ کہتے ہیں کہ" یہ لوگ اگر موجود تھے تو اب ختم ہو چکے ہیں اور اس فرقے کا کوئی وجود نہیں ہے ۔"
*شیخ مفیدؒ* نے اپنی *کتاب اکمال دین* میں ایک روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک صحابی امام جعفر صادق کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا مولا آپ کا جانشین کون ہے تو امام صادق نے فرمایا:
میرا جانشین موسی کاظم ہوگا اور ان کے بعد امام علی رضا اور انکے بعد امام محمد تقی اور ان کے بعد امام علی نقی اور پھر انکے بیٹے امام حسن عسکریاور پھر انکے بیٹے جو کے حجت خدا ہوں گے وہ امام مہدی عج ہوں گے*
لہٰذا امام صادق اپنی زندگی میں مہدویت کے بارے میں بتا گئے تھےلیکن لوگ گمراہ ہو گئے اور آج تک لوگ گمراہ ہیں کیونکہ لوگ آج بھی مہدویت کے دعوے کر رہے ہیں اور لوگ انکے پیچھے بھاگ رہے ہیں لیکن ہمارے مراجع ،فقہاء ،اور مجہتدین کی وجہ سے لوگ بے نقاب ہو رہے ہیں یہ صرف دشمن کی شازش ہے جو ہر وقت ناکام ہوتی رہے گی اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم تمام آئمہ کے فرامین کو پڑھ کر اس پر عمل کرنا ہوگا لیکن اس سے زیادہ ہمیں امام زمانہ عج کی معرفت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ لوگ آج تک امام زمانہعج کی معرفت سے نابلد ہیں
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
💦# *پہلی کتاب:*
*مہدویت پر بحث کی ضرورت*
✨# *تیرھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ واقفیہ امام کاظم(ع) اور فرقہ واقفیہ امام عسکری(ع)*
🌸# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
*📆 منگل 2 جمادی الاول 1446( 5 نومبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*✨خلاصہ:*
اللّٰہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ یوسف زہراع کے ظہور میں تعجیل فرما اور اللّٰہ دنیا کو واقع پوری دنیا کو خدا کی طرف متوجہ ہونے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی توفیق دے
آمین
← آج ہماری گفتگو فرقہ واقفیہ میں ہے۔۔۔۔
🌸 *فرقہ واقفیہ:*
*✨ _قرقہ واقفیہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام:_*
فرقہ واقفیہ یہ وہ منحرف لوگ ہیں کہ جنہوں نے امام معصوم علیہ السلام کی شہادت سے انکار کیا اور بعد والے امام کی امامت کا بھی انکار کیا اور شہید امام کو آخری امام سمجھا یا غائب امام سمجھا اور اسی کو امام مہدی کا عنوان دیا تاریخ کے اندر ویسے تو ہر امام کی شہادت پر کچھ نہ کچھ انحراف سامنے آیا کچھ نہ کچھ منکرین سامنے آتے ہیں لیکن دو اماموں پر بہت بڑی تعداد میں منکرین سامنے آئے
١- ایک امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی شہادت پر ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بعض اصحاب بلکہ بعض وکیل ان میں نام ہیں جیسے علی ابنِ حمزہ زاہد بن مروان قندی عثمان بن عیسیٰ راواسی یہ امام کے وکیل تھے جو مختلف علاقوں کے اندر لوگوں سے خمس وغیرہ اور مال بھی جمع کیا ہوا تھا لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام چونکہ کافی عرصہ زنداں میں رہیے تو وہ مال ان کے پاس اسی طرح پڑہا رہا اور جب امام کی شہادت ہو گئی تو امام رضا علیہ السلام کی امامت کا اعلان ہوا تو اب ان پر یہ فرض تھا کہ وہ امام رضا علیہ السلام کی امامت کا اقرار کرتے اور یہ مال اور یہ جو خمس اور یہ جو شیعوں کی امانتیں تھی یہ آٹھویں مولا کے سپرد کرتے لیکن انہوں نے نہ کیا البتہ باقی جتنے وکیل تھے انہوں نے کر دیا یہ تین جو شخص تھے انہوں نے یہ کام نہ کیا بلکہ برعکس امام رضا علیہ السّلام کی امامت کا انکار کیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ یا تو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام شہید ہی نہیں ہوئے وہ غائب ہیں یا جو وہ ہیں وہ اگر شہید ہوچکےہیں تو وہ راجعت کریں گے اور وہی امام مہدی عج ہیں یعنی ان کے امام خاتم ہونے کا عقیدہ بھی لایا اور ان پر تواقف کیا اب چونکہ یہ خود مشہور شخصیات تھیں ان کی وجہ سے کافی انحراف پھیلائی لوگ جو ہیں وہ گمراہ ہوئے اور یہ فرقہ ہمارے تشعیوں میں فرقہ واقفیہ مشہور ہوا چونکہ انہوں نے امام موسیٰ کاظم ع کی امامت پر واقف کر لیا تواقف کر لیا البتہ
✨←اس زمانے میں بڑی تعداد جو شیعوں کی تھی انہوں نے امام علی ابنِ موسیٰ رضا ع کی امامت کو قبول کیا اس لیے انہیں *قطعیہ* کہتے ہیں
اور
✨←انہوں نے جنہوں نے واقف کیا انہیں *واقفیہ* کہتے ہیں اب ان کے ساتھ ہمارے شعیہ بزرگان نے مناظرہ کیا جیسے علی ابنِ اسماعیل اسمی یوناسق نے عبد الرحمن جیسے پہلے اصحاب امام موسیٰ کاظم ع تھے بعد میں امام رضا ع کے اصحاب تھے انہوں نے آ کے ان منحرف وکلاء سے مناظرہ کیا اور جب ان کے مادی طمع اور لالچ کو دیکھا تو انہوں نے انہیں کہا کہ تم کلاب ممتورع ہو یعنی ایک عنوان ہے ایک خاص کتے کا جو انہیں دیا طمع دنیا کا بھی مال حرام مال کا طمع جو ہے اس نے انہیں اندھا کر دیا تھا اس لیے ان کو ممتورع بھی فرقہ بھی کہا جاتا ہے اب یہ کیا کہتے تھے یہ کہتے تھے کہ امام ہفتم جو ہیں وہ اگر چہ شہید ہو چکے ہیں لیکن یہ وہی امام مہدی عج ہیں اور انہوں نے راجعت کرنی ہے جب وقت آئے گا یہ کہتے تھے یا کہتے تھے نہیں وہ شہید ہی نہیں ہوئے انہیں اللّٰہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمانوں پہ لے گیا ہے اور جب ان کا وقت آئے گا قیام کا وہ زمین پر آئیں گے تو یہ امام موسیٰ کاظم ع کی غیبت کی ایک قسم کے قائل ہو گئے ہیں اور یوں انہوں نے یہ انحراف جو آگے بڑھایا یعنی امام موسیٰ کاظم ع کو جھوٹا مہدی ع کے طور پر لوگوں میں جو ہے انہیں ان کے بارے میں نشر واشاعت کی اور بہت سارے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنے البتہ بعد
← میں جو شعیان قطعیہ تھے جو امام علی رضا ع کے ماننے والے تھے اور ان کی آٹھویں امامت کے قائل تھے بلا آخر وہ بعد میں ان لوگوں نے ان کے اثر کو کم کیا اور یہ فرقہ واقفیہ ختم ہو گیا یہ صرف یوں سمجھ لیں کہ ان کا تعارف صرف تاریخ کے اندر ہی ذکر رہ گیا ہے بعد میں ان کا کوئی قائل نہیں رہا امام رضا ع کی گفتگو مناظرہ آواز اور بعد والے آئمہ نے اسی طرح جو کام کیا یہ ختم ہو گیا چونکہ ان کی جو پنا تھی وہ مادی تھی ان کے پاس جو اتنا مال تھا
جیسے *جنابِ شیخ طوسی* نے *الغیبت* میں یہ واضح کیا ہے کہ یہی علی ابنِ ابی حمزہ زاہد بن مروان قندی عثمان بن عیسیٰ راواسی انہوں نے دنیا کے مال میں طمع کیا تھا اور اپنی آخرت کو تباہ کیا اور یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ اموال جو ہیں امام رضا ع کے سپرد کریں نتیجتاً خود بھی تباہ ہوئے دنیا کے مال کی خاطر اور کئی لوگوں کی بھی ہلاکت کا باعث بنے اب کتنا مال تھا ان کے پاس کہتے ہیں کہ زاہد بن مروان قندی کے پاس اسی ہزار دینار تھا,علی ابنِ حمزہ کے پاس تیس ہزار دینار تھے, عثمان بن عیسیٰ راواسی کے پاس یہ بھی اگرچہ کہ مصر میں وکیل تھے ان کے پاس بھی کافی مال تھا اور ایک اور بھی ان کے ساتھ جس کا نام یہاں ذکر نہیں ہوا لیکن ہیں یعنی ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے لیکن یہ تین لوگ جو ہیں یہ مشہور تھے اب یہ فرقہ بعد میں ختم ہو گیا لیکن تاریخ کے اندر فرقہ واقفیہ کا زکر باقی رہ گیا اس کے بعد جو ہیں۔
*✨فرقہ واقفیہ امام حسن عسکری علیہ السلام:*
←دوسرا جو فرقہ ہیں وہ امام حسین عسکری ع کی شھادت کے بعد شروع ہوا انہوں نے کہا کہ آپ دنیا سے نہیں گئے بلکہ موجود ہیں اور انکی غیبت کے قائل ہوگئے اور انہی ک بعنوان مہدی ع قائل ہوگئے اور انہی پر تواقف کر دیا۔
ہماری تاریخ میں دو بار فرقہ واقفیہ سامنے آیافرقہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور فرقہ امام حسن عسکری علیہ السلام ۔
ہماری کتابوں میں *جناب نوبختی* کا ایک جملہ موجود ہے اور جناب نوبختی مشہور شخصیت ہیں غیبت صغریٰ کی۔
وہ کہتے ہیں کہ:
لوگ امام کی شہادت کے بعد چودہ فرقوں میں تقسیم ہوگئے صرف یہ ایک فرقہ واقفیہ ہے جس میں جناب حسن ابن علی ع زندہ ہیں اور شہید نہیں ہوئے اور یہی جناب قائم ہیں جنہوں نے ظہور کرنا ہے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *چودھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ اسماعیلیہ کی تاریخ،عقائد اور انکی شاخیں*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
اتوار 7 جمادی الثانی 1446(10 نومبر ، 2024)*
میں 6 خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*🌸خلاصہ:*
اسماعیلی فرقہ اس وقت دنیا میں موجود ہے
*←اب یہ فرقہ کیسے وجود میں آیا؟؟*
امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور تک یہ سنت رائج تھی کہ امام کے بعد امام کا بڑا بیٹا امام ہوتا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں لوگ یہی سمجھتے تھے امام کے بڑے بیٹے اسماعیل امام کے بعد امام ہونگے
قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ امام جعفر علیہ السلام کی زندگی میں ہی انکے بیٹے اسماعیل وفات پا گئے اور امام نے بار بار انکو چہرہ لوگوں کو دکھایا تاکہ لوگوں کو یقین آ جائے کہ اسماعیل وفات پاچکے ہیں اسکے باوجود شیعوں کے ایک گروہ جو کہ منحرفین میں سے تھے ←انکا عقیدہ یہ تھا کہ اسماعیل ابھی زندہ ہیں اور وہ قائم ہیں اور انکی مہدویت کے قائل تھے
← بہت سے لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ امامت دو اماموں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام میں منتقل ہوئی اس کے بعد دو بھائیوں میں امامت نہیں منتقل ہوئی اس لیے جناب اسماعیل کے بعد انکے بیٹے محمد بن اسماعیل امام بنے۔
انہوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت کو نہیں مانا یہ بھی اسماعیلیوں کا ہی فرقہ ہوا۔
←اس میں ایک بہت بڑا گروہ اس بات کا قائل تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی وصیت میں امامت انکے بیٹے موسیٰ ابن جعفر علیہ السلام کی طرف منتقل ہوئی ہے۔۔۔
*🌸فرقہ اسماعیلیہ کے مشہور نام:*
اسماعیلیہ دنیا میں کئی ناموں سے مشہور ہے , تاریخ میں انکو بہت سے نام ملے جیسے کہ:
١- باطنیہ ٢- تعلیمیہ ٣- سبعیہ ٤- حشیشیہ ٥- ملاحدہ ٦- قرامطہ کے ناموں سے مشہور ہیں
←آج کے دور میں انکے دو فرقے آغا خانی اور بوہرہ مشہور ہیں۔
← محمد بن اسماعیل جو جناب اسماعیل کے بیٹے تھے انکا بہت بڑا کردار ہے انہوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دور میں امامت کا دعویٰ کیا اور یہی شخص امام کی قید کا باعث بنا یہی ہارون کو امام علیہ السلام کی شکایتیں لگاتا تھا۔۔۔
بعد میں یہ فرقہ بنا اور اسکی کئی شاخیں تھیں آج کے دور میں بھی کافی شاخیں ہیں ان میں بوہرہ کافی حد تک بہتر ہیں انکے اپنے عقائد اور دینی اعمال ہیں۔
اسماعیلی جو کہ آغا خانی ہیں انہوں نے دینی اعمال کو چھوڑ دیا ہے یہ صرف باطنی کے قائل ہیں انکے بارے میں بحث ہے کہ یہ نجس ہیں یا پاک لیکن بوہرے پاک ہیں اور کافی حد تک شیعہ اثناء عشری کے قریب ہیں بس دینی اعمال کا فرق ہے
اب تک اسماعیلی تکفیر یعنی خدا کی ہر صفت کا انکار کر رہے ہیں صفات خدا کے قائل نہیں ہیں اسی وجہ سے لوگ ان پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں
💦 *نبوت کے حوالے سے نظریہ:*
نبوت کے بارے میں انکا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا میو ہمیشہ ایک ناطق ہوتا ہے جو پیغمبر ہوتا ہے اور اسکا ایک وصی ہوتا ہے جو دین کی تاویل کرئے۔
*✨امامت کے حوالے سے نظریہ:*
امامت کے بارے میں انکا عجیب نظریہ ہے کہ وہ امامت کے چار یا پانچ رتبوں کے قائل ہیں۔۔۔
١- امام مقیم ہو ( مقمیم جو نبی کی طرف سے بھیجا گیا ہو۔) یہ غالی رتبہ ہے جسکو *رب الوقت* بھی کہتے ہیں اور *صاحب العصر* بھی کہتے ہیں جو بنی بھیجتا ہے اور اس نبی کا ایک وصی بھی ہوتا ہے جسے امام اساس کہتے ہیں جو نبی کا جانشین ہوتا ہے۔
٢- ایک امام مطعم ہوتا ہے جو سات نفل کا دورہ ہوتا ہے اسکے اندر جو آخری شخص ہوتا ہے وہ امام مطعم یعنی ساتواں امام کہتے ہیں
٣- ایک امام مستقر ہے جو کہ امامت اپنے بچوں میں اپنے جانشینوں میں اپنا چوتھا مقام رکھتا ہے۔
٤- ایک امام مستودہ جو امام مستقر کا نائب ہے جو مستقر کی جگہ اپنا کردار ادا کرتا ہے
انکے عجیب و غریب عقائد ہیں کہتے ہیں سب سے پہلا امام مقیم حنید تھا جسکو آدم نے بھیجا وہ کون ہے کیا شخصیت ہے نہیں معلوم
چھٹا دور جو ہے اس میں جناب ابو طالب مقیم ہیں جنہوں نے پیغمبرﷺ کو مبعوث کیا اور اس پیغمبرﷺکے امام اساس جو ہیں وہ علی ابن ابی طالبع ہیں اور انکے آگے سے چھ جو ہیں وہ امام مستقر ہیں مثلاً امام حسین ع امام مستقر ہیں امام سجاد ع اسی طر ح امام باقر ع کو امام صادق کو اور پھر چھٹے نمبر پر اسماعیل مستقر اور اسکے بعد اسکا بیٹا محمد بن اسماعیل مستقر یہ امام مستقر بھی ہے اور امام مطعم بھی اس طرح سات کا لفظ اس پر پورا ہوگیا
اور امام حسن کو یہ امام مستودہ کہتے ہیں جناب حنفیہ کو امام موسیٰ کاظم ع کو مستودہ کہتے ہیں
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *چودھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ اسماعیلیہ کی تاریخ،عقائد اور انکی شاخیں*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
اتوار 7 جمادی الثانی 1446(10 نومبر ، 2024)*
میں 6 خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*🌸خلاصہ:*
مہدویت کی ضرورت
اسماعیلیہ فرقہ
امام صادق علیہ السّلام کے زمانے میں سب سے بڑے بیٹے کو مقام ملتا تھا سب سمجھتے تھے کہ آپ کے بڑے بیٹے اسماعیل جو نہایت پاکیزہ شخصیت کے مالک ہیں یہی ساتویں امام ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اس مقام پر منسوب کرے گا لیکن جناب اسماعیل اپنے والد کی ہی زندگی میں وفات پا گئے اور امام صادق علیہ السّلام نے کئی بار اپنے بیٹے کا چہرہ شیعوں کو دکھایا تاکہ یقین پیدا کر لیں کہ وہ وفات پا گئے ہیں لیکن پھر بھی ایک منحرف گروہ نے دعویٰ کیا کہ وہ زندہ ہیں اور ظہور کریں گے
بعض کا عقیدہ تھا کہ امامت امام حسن اور امام حسین میں منتقل ہوئی ہے اس کے علاوہ بھائیوں میں منتقل نہیں ہو گی اور اسماعیل سے ان کے بیٹے محمد بن اسماعیل میں منتقل ہوئی
ایک بڑا گروہ موسیٰ علیہ السّلام کی امامت کی قائل تھی
اسماعیلیہ اس وقت دنیا میں کئی ناموں سے موجود ہیں تاریخ میں بھی کئی نام ملے
غلط تصور کو وجود میں لانے کا محمد ابن اسماعیل کا بہت بڑا کردار ہے امام موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بالآخر اس نے اپنی امامت کا دعویٰ کر لیا یہی شخص امام موسیٰ کے زنداں میں رہنے کا سبب بنا کیونکہ یہ ہارون کو جا کر شکایتیں لگاتا تھا بعد میں اس فرقے کی کئی شاخیں بنیں
اب موجودہ کے اسماعیلی ان میں بحرے بہتر ہیں آغا خانی نے دینی اعمال کو چھوڑ دیا یہ صرف باطنی ہونے کے قائل ہیں
بحرے پاک ہیں اعمال میں شیعہ کے مطابق عمل کرتے ہیں
زمین پر وصی کو امام کہتے ہیں جوکہ دین کی تاویل کرتا ہے پھر اس کا بھی وارث امام ہے عجیب و غریب ان کے عقیدے ہیں ان کے مطابق سات دور ہیں
مثلاً پہلا دور حضرت آدم سے شروع ہوتا ہے اور اس کا وصی شیس ہیں
دوسرا دور نوع ع سے شروع ہوا ان کے وصی صام تھے
تیسرا دور حضرت ابرہیم سے شروع ہوا ان کے وصی اسماعیل علیہ السّلام تھے
چوتھا دور موسیٰ سے شروع ہوا ان کے وصی ہارون تھے
پانچواں حضرت عیسیٰ جن کے وصی شمعون تھے
چھٹا پیغمبر اسلام جن کے وصی مولا علی علیہ السّلام تھے
امامت کے اعتبار سے ان عجیب نظریات ہیں
وہ کہتے ہیں ایک امام مقیم ہوتا ہے جو نبی بھیجتا ہے یہ عالی ترین رتبہ ہے پھر اس نبی کا ایک وصی ہوتا ہے جسے امام اساس کہتے ہیں جو نبی کا جانشین ہوتا ہے پھر ایک امام متم ہوتا ہے جو اس دورہ کا آخری شخص ہوتا ہے
پھر ایک امام مستقر ہوتا ہے جو امامت کو اپنے بچوں میں منتقل کرتا ہے ایک امام مستودہ ہے جو امام مستقر کا نائب ہے
یہ ہر چیز کی تاویل کرتے ہیں یہ جنت اور جہنم کو خود تاویل کرتے ہیں یہ ارکان شریعت رکھتے ہیں آغا خانی نے چھوڑ دی
اسماعیلیہ مبارکیہ یہ کہتے ہیں اسماعیل فوت ہو گئے لیکن محمد بن اسماعیل ظہور کریں گے
ایک فرقہ کرامتہ انھوں نے تاریخ میں بہت زیادہ ظلم کیا ہجر اسود اٹھا کر لے گئے حاجیوں پر ظلم کرتے
ایک گروہ فاطمیان بھی سامنے آتا ہے بڑے عرصے تک حاکم رہے ان کی حکومت صلاح الدین ایوبی نے ختم کیا
ایک فرقہ دروزی اور اس طرح اور بھی بہت سارے فرقے ہیں
پاکستان میں گلگت کے اندر آغا خانی کا فرقہ موجود ہے اس طرح کراچی ،انڈیا ،گجرات ،بمبئی اور مختلف جگہوں پر موجود ہیں
ہماری نگاہ میں ان کے تمام عقائد فاسد ہیں یہ گمراہی پر ہیں انھیں شیعہ ہی شمار نہیں کرتے
جو ایک امام کا قائل نہیں وہ سب کا قائل نہیں
آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *پندرھواں درس*
# *موضوع :تاریخکورسی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ شیخیہ کی تاریخ،عقائد اور پاکستان میں انکی فعالیت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 9 جمادی الاول 1446( 12 نومبر ، 2024)**
*👈🏻خلاصہ نمبر : 15:*
موضوع: تاریخی اعتبار سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت
فرقہ شیخیہ کی تاریخ ، عقاٸد اور پاکستان میں انکی فعالیت
آغازگفتگو میں صد شکر ہے پرودگار عالم کا جو کاٸنات کا مالک و خالق ہے بعد از تمام درود پاک ہے محمد و آل محمد ﷺ کے لٸے!!!
تاریخی اعتبار سے مہدویت پر سلسلہ گفتگو جاری ہے اب تک مختلف انحرافی فرقوں پر بات کر چکے ہیں
آج جو فرقہ موضوع گفتگو ہے اسکا نام"فرقہ شیخیہ" ہے۔ یہ فرقہ شیخ احمد احساٸی کا پیروکار ہے۔ شیخ احمد احساٸی کا تعلق سعودی عرب کے شیعہ نشین علاقہ سے ہے۔ اس فرقہ کے بارے میں کلی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ آٸمہ اطہار ع کے لٸے بہت زیادہ غلو کا شکار ہیں۔ پاکستان انڈیا اور دیگر ممالک میں خاص طور پر مولا علی ع کے بارے میں ربوبیت و رزاقیت کا عقیدہ اسی فرقہ کے سبب ہے۔
مہدویت کے حوالے سے اس فرقہ کا ایک نظریہ رکن رابع کا ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ ایک شخص ہے جسکا رابطہ امام زمانہ عج سے ہے اور وہ تمام احکام و دستورات امام زمانہ عج سے لیتا ہے اور شیعوں میں منتقل کرتا ہے۔ اسکا براہ راست امام عج سے رابطہ ہے۔
شیخ احمد احساٸی زیادہ تر عراق(کربلا) میں رہے اور وہی اپنا دینی مدرسہ بھی قاٸم کیا۔ شروع میں انکے عقاٸد درست تھے انھوں نےزیارت جامع کبیرہ کی شرح بھی لکھی ہے۔ دنیا کے وجود کی چار علتوں کو انھوں نے محمد و آل محمد سے منصوب کیا جبکہ دیکھا جاٸے تو علت فاعلی اللہ تعالی سے منصوب ہے۔
ایک نظریہ انکا معاد(قیامت) کے بارے میں بھی ہے۔
امام زمانہ عج کے جسمانی وجود کے بھی قاٸل نہیں ہیں۔
اس فرقہ کے ماتحت پاکستان و دیگر ممالک میں بہت سے ادارے بھی بناٸے گٸے جس میں آٸمہ کے بارے میں بڑے عجیب و غریب نظریات بالخصوص ربوبیت کے بارے بیان کیا جاتا ہے ملک پاکستان میں آٸمہ ع کے حوالے سے غلو اسی فرقہ کہ سبب ہے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *پندرھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ شیخیہ کی تاریخ،عقائد اور پاکستان میں انکی فعالیت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 9 جمادی الاول 1446( 12 نومبر ، 2024)**
*👈🏻خلاصہ:*
*تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت:*
_✨شیخیہ:_
یہ گروشیخ احمد احسائی کا پیروکار ہے اور شیخ کا تعلق سعودی عرب کے منطقہ احساء (شیعہ نشین علاقہ) سے تھا۔۔۔۔
←یہ آئمہ کے بارے میں بہت زیادہ غلو کرتے ہیں اور مولا علی علیہ السلام کے بارے میں ربوبیت و رازقیت کے قائل ہیں۔۔۔
← مہدویت کے حوالے سے ان کا عجیب و غریب نظریہ رکن رابع کا ہے۔۔
*←ایک ایسا شخص،عالم،شیخ یا پیر جسکا براہ راست رابطہ امام زمانہ ع سے ہے وہ باب اور رکن رابع کہلاتا ہے*
*💦فلسفی کتابوں میں عللِ اربع:*
١- علت فاعلی(جو چیز کو وجود میں لائے)
٢- علت مادی(ایک خاص مادہ رکھنے والی چیز)
٣- علت صوری (خاص شکل رکھنےوالی چیز)
٤- علت غائی(اسکا ہدف کیا ہے)
ان کے مطابق پوری کائنات کی چاروں علتیں *محمد وآل محمد ع* ہیں
←صحیح نظریہ یہ کہ کائنات کی علتِ فاعلی پرودگار ہے۔۔
← معاد کے بارے میں یہ انسان کے ایک دوسرے جسم کے قائل ہیں جسے *حور کلیائی* کہتے ہیں یعنی انسان کا نورانی وجود کسی اور جہان میں ہےاور مادی وجود اس جہان میں یوں دو جسم ہو گئےمادی وجود بعد از موت تباہ ہو جاتا ہے لیکن نورانی وجود باقی رہتا ہے اور جزا ،سزا،رجعت،بہشت،سب نورانی وجود کے ساتھ ہیں اس فلسفی کے بحث کو شیخ نے دینی مباحث میں داخل داخل کیا ہے تو بعض علماء نے اس کی تکفیر کی کیونکہ یہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے
ان کے مطابق اللّہ کے اسماء وصفات اسکی عین ذات نہیں بلکہ یہ خداکے نیچے محمد وآل محمد ہیں مثلا آج امام مہدی اسم خداہیں اور بندگی خدا در واقع بندگی امام ہے
یہ لوگ امام مہدی عج کے جسم کے قائل نہیں لہذا ،آئمہ نے ایسے غالیوں پر لعن کی اور ان کے شر سے بچنے کا حکم دیا ہے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اللہم عجل لولیک الفرج
آمین آمین
درس 15
مہدویت کی ضرورت
فرقہ شیخیہ
ہر دور میں ایک شیخ ہے جس کا امام زمانہ علیہ السّلام سے رابطہ ہے تمام احکامات ان سے کر آگے شیعوں کو منتقل کرتا ہے اس کا براہِ راست اماموں سے رابطہ ہے
اس باقی شیخ احمد ہے یہ کربلا میں رہے اور وہاں مدرسہ برقرار رکھا شروع میں ٹھیک رہے ان کتاب جامعہ کبیرہ میں مفصل شرح لکھی ہے مادی دنیا پر امام کے اثر کی انھوں نے زیادہ گفتگو کی گفتگو کرتے کرتے کہتے ہیں کہ امام زمانہ یا دیگر آئمہ واسطہ فیض ہیں یعنی علت فاعلی علت مادی علت صوری اور علت غائی
پوری کائنات کی علتیں محمد و آل محمد ہیں
علت فاعلی پرودگار ہے نہ کہ کوئی اور ساری علتیں محمد و آل محمد کے لئے خلق ہوئی ہیں
ان کے نظریے کے مطابق انسان کا جسم قبر کے اندر خاک بن جاتا ہے
اس جہاں کے ساتھ ایک اور جہاں بھی ہے یہاں مادی وجود وہاں نورانی
مادی وجود موت کے بعد فنا ہو جاتا ہے اور نورانی قائم ہے
بعض علماء نے ان کی تکفیر کی
امام زمانہ زمین پر موجود نہیں ہے مادی وجود سے
محمد کریم خان کرمانی نے کہا ایک آدمی امام سے رہنمائی لیتا ہے
اللہ کی صفات عین نہیں ہیں وہ کہتے ہیں
شیخیہ کریمان ، شیخیہ آذربائیجانی فرقہ احقاقی بھی ہے
انھوں نے مہدویت کے بارے میں بہت انحراف پھیلایا جیسے کہ امام عج کا ہر دور میں ایک مرشد خاص موجود ہے ۔
آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اللہم عجل لولیک الفرج
آمین آمین
درس 15
مہدویت کی ضرورت
ہر دور میں ایک شیخ ہے جس کا امام زمانہ علیہ السّلام سے رابطہ ہے تمام احکامات ان سے کر آگے شیعوں کو منتقل کرتا ہے اس کا براہِ راست اماموں سے رابطہ ہے
اس باقی شیخ احمد ہے یہ کربلا میں رہے اور وہاں مدرسہ برقرار رکھا شروع میں ٹھیک رہے ان کتاب جامعہ کبیرہ میں مفصل شرح لکھی ہے مادی دنیا پر امام کے اثر کی انھوں نے زیادہ گفتگو کی گفتگو کرتے کرتے کہتے ہیں کہ امام زمانہ یا دیگر آئمہ واسطہ فیض ہیں یعنی علت فاعلی علت مادی علت صوری اور علت غائی
پوری کائنات کی علتیں محمد و آل محمد ہیں
علت فاعلی پرودگار ہے نہ کہ کوئی اور ساری علتیں محمد و آل محمد کے لئے خلق ہوئی ہیں
ان کے نظریے کے مطابق انسان کا جسم قبر کے اندر خاک بن جاتا ہے
اس جہاں کے ساتھ ایک اور جہاں بھی ہے یہاں مادی وجود وہاں نورانی
مادی وجود موت کے بعد فنا ہو جاتا ہے اور نورانی قائم ہے
بعض علماء نے ان کی تکفیر کی
امام زمانہ زمین پر موجود نہیں ہے مادی وجود سے
محمد کریم خان کرمانی نے کہا ایک آدمی امام سے رہنمائی لیتا ہے
اللہ کی صفات عین نہیں ہیں وہ کہتے ہیں
شیخیہ کریمان ، شیخیہ آذربائیجانی فرقہ احقاقی بھی ہے
انھوں نے مہدویت کے بارے میں بہت انحراف پھیلایا جیسے کہ امام عج کا ہر دور میں ایک مرشد خاص موجود ہے ۔
آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *سولھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ بابیہ اور بہائیہ کی تاریخ،عقائد اور پاکستان میں انکی فعالیت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 14 جمادی الاول 1446( 17 نومبر ، 2024)**
*💫خلاصہ:*
_🌸فرقہ بابیہ:_
یہ فرقہ *سید محمد علی شیرازی* کے پیروکار ہے اس نے خود کو باب قرار دیا یعنی آج کے دور میں امام مہدی عج کا خاص نائب کے جسکے ذریعے ہم امام سے رابطہ کر سکتے ہیں ںہ ہوں اس کے بعد اس نے امام مہدی ہونے کا بھی دعوی کر دیا اور پھر آہستہ آہستہ نبی ہونے کا دعویٰ اور پھر خدا ہونے کا دعویٰ فر اسلام کے منسوخ ہونے کا دعویٰ اور نئے قوانین بنائے جب اس نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ اس وقت ایران میں قادیانی حکومت تھی اسکا دو تین بار شیعہ علماء کے ساتھ مباحثہ ہوا کہا کہ دلائل پیش کرو اپنے مہدی ہونے کے اور وہ دلائل کہاں ہیں اور اسکی جو کتب تھیں اس میں اتنی غلطیاں تھیں عربی کی علمی غلطیاں جب ثابت نہ کر سکا تو اس نے توبہ کر لی کہ میں تو مسلمان ہوں حکومت اسکو چھوڑ دیتی ہے لیکن کچھ وقت بعد دوبارہ یہی کام شروع کر دیتا کہیں دفعہ وہ قید ہوا آخر میں جب یہ فتنے بازی سے باز نہیں آیا تو خدا ہونے کا دعویٰ کر دیا اسے پھر پھانسی دے دی گئی اسکے ماننے والے اسکی لاش اٹھا کر *اسرائیل* لے گئی اور اسرائیل میں *شہر حیفہ* ہے وہاں اسکا مقبرہ بنا دیا جو بابیوں کا قبلہ ہے
🌸 *فرقہ بہائیہ:*
پھر یہ فرقہ دو دو فرقوں میں تقسیم ہوگیا چونکہ اسکا جو وصی تھا وہ *مرزا یحیٰ نوری* جسے *صبحِ ازل* کا نام دیا گیا اسکا ایک بھائی تھا *مرزا حسین علی نوری* اب ان دونوں نے جو کہ بڑے فعال بھی تھے ان دونوں نے نائب ہونے کا دعویٰ کیا مرزا یحیٰ نوری اتنا فعال نہیں ہوسکا جتنا اسکا بھائی مرزا حسین علی نوری ہوا اس نے گماراہی میں کافی فعالیت کی لوگوں کو گمراہ کرنے میں اور یہ کہنے شروع کر دیا کہ باب جو کہ مہدی تھا اس کے بعد میں جسکا انتظار جسکی بشارت دی گئی میں وہ ہوں اور اس نے اپنا لقب بھی *بھاء اللہ* رکھا اور اسلام کا مکمل طور پر انکار کر دیا اور اسرائیل کے ساتھ انگریزوں کے ساتھ اسکے تعقات بہت اچھے تھے اور خود جو ہے اس نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا اسکو سب علماء نے اسلام سے خارج کر دیا یہ مرتد , کافر کے حساب میں آتے ہیں پھر اس نے نیا دین بنایا اور کہا کہ باب نے میری بشارتیں دی یہ کہتا تھا _قیامت سے مراد باب کا قیام_ ہے اور قیامت کے بعد میں ہوں اس نے ایک کتاب لکھی *کتاب اقدس* اور اس نے عجیب قسم کی نماز اور روزے عجیب غریب اسکا مذہب بنا
باب نے کتاب *بیان* لکھی جو *کتاب اقدس* قرآن کے مد مقابل لکھی باب نے بھی الوہیت کا دعویٰ کیا یہ بھی الوہیت کا دعویٰ کرتا ہے یہ فرقہ بہائیہ اتنا وسع ہوا کہ وہ بابیہ فرقہ ختم ہوگیا اور اب یہ پوری دنیا میں کام کر رہے ہیں اسکے بعد اسکا بیٹا جو ہے باب کا *عبدالبھاء* اسکا نائب بنا پھر آگے سے اسکی اولاد نہیں ہوئی تھی اسکی کا اسی کا نواسہ *شوقی آفندی* وہ بابیوں نبی یا پیغمبر بنا ۔
پاکستان میں انکی فعالیت کراچی میں اور اسلام آباد میں بھی انکا ایک مرکز ہے اور یہ کتابیں بھی چھاپتے ہیں اور گمراہی بھی پھیلتی ہے انکی کتابوں سے یہ بظاہر شیعہ لگتے ہیں ہمارے ائمہ سے احادیث بیان کرتے ہیں اور وہ احادیث جو مھدویت کے بارے میں ہیں
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *سولھواں درس*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*فرقہ بابیہ اور بہائیہ کی تاریخ،عقائد اور پاکستان میں انکی فعالیت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 14 جمادی الاول 1446( 17 نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 16
قادیانی فرقہ
اس کا جو بانی ہے یہ خاندانی طور پر پیچھے سے انگریزوں کے غلام ہیں یہ شروع میں مسیحوں سے مناظرہ کرتا رہا اور کافی شہرت حاصل کی اس نے ایک کتاب لکھی اس میں عجیب گمراہ کن تصوّرات کا اظہار کیا اور مہدویت کا دعویٰ کیا اپنے آپ کو کبھی عیسیٰ مسیح قرار دیتا تھا اور پچاس سال کی عمر میں اس نے باقاعدہ طور پر کہہ دیا کہ مجھ پہ وحی ہوتی ہے میں پیغمبر ہوں اور اس نے قرآن کے مدمقابل ایک کتاب بھی پیش کر دی ایک نیا دین پھیلا دیا اس کو بنانے والا انگریز سامراج تھا ان کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں جو انگریزوں کے خلاف جہاد ہو رہا تھا اس کو روکا جائے اس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا حرام قرار دیا اس کے پیچھے آنے والے خلیفے سارے لندن میں رہتے ہیں ان کو حکومت کی طرف سے باقاعدہ خطاب دیے جاتے ہیں
سب سے پہلا اس کا خلیفہ نور الدین تھا پھر مختلف لوگوں کے بعد اس کا بیٹا بنا بعد میں پوتا اور پھر کئی لوگ بنتے گئے
جتنی بھی کتابیں یہ لکھ رہے ہیں ساری اسلام کے خلاف ہیں
مسلمان انھیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں
شروع والے مرتد تھے اور باقی ہمارے حساب سے کافر ہیں
اس نے مہدویت کا دعویٰ کیا
پھر عیسیٰ اور پھر محمد کا دعویٰ کیا
گمراہی بڑھتی گئی اور نئی نبوت نئی کتاب اور نیا دین بن گیا
یہ بہت بڑا انحراف تھا جو ان کی وجہ سے پھیلا لاکھوں لوگ ان کی وجہ سے ابھی تک گمراہ ہو رہے ہیں
قادیانی فرقہ: ایک مختصر جائزہ
قادیانی فرقہ یا احمدیہ مسلم جماعت ایک اسلامی فرقہ ہے جس کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی نے 19ویں صدی میں رکھی تھی۔ یہ فرقہ اسلام کے دیگر مکاتب فکر سے کچھ بنیادی عقائد میں مختلف ہے۔
بنیادی عقائد
* مسیح موعود اور مہدی: مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہیں۔
* ختم نبوت: دیگر مسلمانوں کے برعکس، احمدیہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔
* تجدید اسلام: احمدیہ نے اسلام کی تجدید کا دعویٰ کیا اور جدید دور کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات کی نئی تعبیر پیش کی۔
تنقید اور اختلاف
* دیگر مسلمانوں سے اختلاف: اسلام کے دیگر مکاتب فکر کے علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں کو رد کیا اور احمدیہ کو اسلام سے خارج قرار دیا۔
* ختم نبوت کا مسئلہ: احمدیہ کا ختم نبوت کے بارے میں عقیدہ دیگر مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
* سیاسی اور سماجی اثرات: احمدیہ نے کئی ممالک میں سیاسی اور سماجی تنازعات کو جنم دیا ہے۔
پاکستان میں صورتحال
* قانون: پاکستان میں احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور انہیں مسلمانوں کے نام سے پکارنے پر پابندی ہے۔
* سماجی دباؤ: پاکستان میں احمدیہ کو سماجی طور پر بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔
* حقوق کی پابندی: احمدیہ کو کئی بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے
نوٹ: یہ صرف ایک مختصر جائزہ ہے۔ قادیانی فرقہ ایک پیچیدہ موضوع ہے جس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔
اہم نکتہ: قادیانی فرقے کے بارے میں مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 17*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*قادیانیت، تاریخ اور دور حاضر میں مہدویت کے مثبت پہلو اور انحراف،ہماراوظیفہ*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 16 جمادی الاول 1446 (19) نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 17
فرقہ بابیہ
یہ تسلسل شیخیہ فرقے کا ہے اس کا بانی شیخ احمد نے اپنا نائب کاظم رشدی کو قرار دیا اس نے بہت ساری کتابیں بھی لکھیں کاظم رشدی کی وجہ سے شیخیہ پھیلا لیکن جب یہ فوت ہوا تو کسی کو نائب نہیں بنایا اس کے مختلف شاگردوں نے اس کی نیابت کا دعویٰ کیا
سید علی محمد شیرازی نے بھی نیابت کا دعویٰ کیا پھر اس نے کہا میں باپ ہوں یعنی امام مہدی علیہ السّلام کا سفیر خاص یا نائب ہوں
اس نے امام مہدی کے ہونے کا دعویٰ کیا پھر نبی ہونے کا دعویٰ پھر خدا ہونے کا دعویٰ اور اسلام کے منسوخ ہونے کا دعویٰ پھر نیا دین نئے قوانین
جب مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو ایران کی حکومت ساتھ مباحثہ ہوا اس نے دلائل مانگے
پھر اس کتابوں میں اتنی غلطیاں تھیں عربی کی پھر ثابت جب کچھ نہیں کر سکا تو توبہ کر لی
حکومت اسے چھوڑ دیتی ہے
پھر دوبار یہی کام شروع کر دیتا ہے پھر قید بھی ہوا جب آخر میں یہ فتنہ بازی سے باز نہیں آیا اور خدا ہونے کا دعویٰ کیا تو اسے پھانسی دی گئی اس کے ماننے والے اس کی لاش اسرائیل لے گئے
شہر حیفا میں اس کا مقبرہ بنا اور بابیوں کا قبلہ بن گیا
فرقہ بابویہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اس کا وصی مرزا یحییٰ نوری اس کا بھائی مرزا حسین علی نوری دونوں نے باپ کے قتل ہونے کے بعد اس کے نائب ہونے کا دعویٰ کیا
یحییٰ نوری تو اتنا فعال نہیں ہو سکا لیکن اس کے بھائی نے کافی فعالیت کی لوگوں کے گمراہ کرنے میں کامیاب ہوا
اسرائیل اور انگریزوں کے ساتھ اس کے بڑے اچھے تعلقات تھے
بار بار خدا ہونے کا دعویٰ کیا
ہمارے عالم اس کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں
کہتا تھا باب نے میری بشارتیں دی تھیں
کتاب اقدس لکھی اس نے
ابھی پوری دنیا میں کام کر رہے ہیں اس کے بعد اس کا بیٹا نائب بنا
اس کے اولاد ختم ہونے کے بعد ان شوریٰ بیت العدل کے نام سے پوری دنیا میں فرقے کو چلا رہی ہے
پاکستان میں بھی ان کی فعالیت ہے کراچی اور اسلام آباد میں ان کے مراکز ہیں
یہ کتابیں چھاپتے ہیں ظاہراً شیعہ لگتے ہیں کتابوں میں آئمہ سے احادیث بیان کرتے ہیں لیکن نتیجہ نکالتے ہیں مہدی آئے تھے شیعہ علماء نے اسے قتل کر دیا
اس کے بعد والا یہ دور ہے
یہ نجس ہیں ہمارے علماوں کے مطابق
انھوں نے محارم رشتے ختم کر دیے اسلامی قوانین سب ختم ہو گئے اور اسلامی دشمن ہیں پاکستان میں بھی فعال ہیں ان کے مبلغ بھی ہیں
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
شہر بانو✍️
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 17*
# *موضوع :تاریخی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*قادیانیت، تاریخ اور دور حاضر میں مہدویت کے مثبت پہلو اور انحراف،ہماراوظیفہ*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 16 جمادی الاول 1446 (19) نومبر ، 2024)**
_💥خلاصہ:_
ہماری گفتگو انحرافی فرقوں کے متعلق ہو رہی تھی جس میں آج برصغیر پاک و ہند یعنی سوا سو سال پہلے ایک بہت بڑا انحراف مھدویت پر شروع ہوا جسکا نتیجہ ایک علیحدہ نبوت کا دعویٰ ایک علیحدہ دین کی شکل میں جو سامنے آیا اسے قادیانی فرقہ, احمدیہ کہہ سکتے ہیں
☘️ *قادیانی فرقہ یا قادیانیت:*
قادیانی فرقے کے موسس *مرزا غلام احمد قادیانی* ہے جو ہندوستان کے علاقے _قادیان_ سے تھا یہ خاندان عام طور پر انگریز سامراج کے غلام لوگ ہیں اس شخص نے کچھ دینی تعلیم حاصل کی شروع میں یہ میسحی مبلغ جو تھے انکے ساتھ مناظرہ کرتا تھا اور اپنی کافی شہرت حاصل کی۔۔۔اسکے بعد اس نے ایک کتاب *ابراہین احمدیہ* چالیس سال کی عمر میں لکھی اور اس میں عجیب و غریب عقائد اور گمراہ کن تصورات کا اظہار کیا اور اپنی مھدویت کا دعویٰ کیا وہ اپنے آپکو عیسیٰ مسیح کہتا کبھی امام مہدی۔۔۔
جب اسکی عمر *٥٠سال* ہوئی تو اس باقاعدہ طور پر کہہ دیا کہ اسکو وحی ہوتی ہے میں باقاعدہ پیغمبر ہوں اور باقاعدہ ایک کتاب بھی قرآن کے مدمقابل لکھی۔
💫←ایک نیا دین یعنی ختم نبوت کا منکر ہوگیا اس لیے یہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے ایک نئی کتاب, ایک نئی وحی اور نیا دین, نئے طریقے کی نماز , روزے تمام مسائل جو ہیں
اسکے پیچھے جو اب اس فرقے کو بنانے والے انگریز سامراج کی حکومت تھی انکا ایک ہدف تھا کہ ہندوستاں کے اندر انگریزوں کے خلاف جہاد ہوا تھا اسکو روکنا ایک نیا دین بنایا جائے
اس نے بھی ایسا ہی کیا انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا حرام قرار دیا اور اسکو مختلف خطاب ملے اور اب. بھی اسکے جو خلیفے آ رہے ہیں وہ لندن میں رہتے ہیں اور انکو باقاعدہ حکومت برطانیہ جو _گورنمنٹ_ وہ انکو *سر* کا خطاب دیتی ہے انکے دین کو رسمی دین اور انکو ساری سہولیات اور یہ سارا انکا جو ہے ہم و غم یہی ہے کہ اسلام کے خلاف پروپگینڈا کرتے ہیں
🌷←اسکے بعد اسکے کئی خلیفے ہیں:
*١- نورالدین*
اسکے بعد اور بھی لوگ آتے رہے پھر اسکا بیٹا _بشیر احمد_ بنا اور بعد میں اور لوگ بھی مطلب اسکے بعد پوتا _محمود احمد_ اور کئی لوگ خلیفے بنتے گئے اور ابھی تک خلیفوں کا سلسلہ چلا آ رہا ہے یہ جو بھی کتابیں لکھتے ہیں وہ مھدویت کے خلاف لکھتے آ رہے ہیں یہ حکومت برطانیہ کے لیے وفادار اور انکے مونس ہیں
ہم مسلمان انکو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور یہ لوگ جو ہیں وہ مرتد تھے اور یہ کافر شمار ہوتے ہیں
⭕←ہمارے ساتھ اس موضوع کا تعلق وہ مھدویت کا دعویٰ ہے عجیب و غریب پہلے مھدویت کا دعویٰ پہلے اس نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور فر عیسیٰ مسیح یعنی حضرت عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر آخر میں کہہ دیا کہ میں وہی محمد ہوں جو مدینہ میں پیدا ہوئے تھے اور اب قادیان میں پیدا ہوا ہے
🌟←اس مھدویت کے جھوٹے دعوے سے تحریک شروع کی اور کہاں سے کہاں ختم ہوگئی جب الف ہی خراب ہوگی تو ی تک خراب ہوتا ہے گمراہی سے گمراہی بڑھتی گئی اور نا ہی نبوت, نا ہی کتاب اور نا دین
یہ بہت بڑا انحراف ہے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 18*
# *موضوع :ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*اسلام کے اندر منکرین مہدویت، تاریخ اور دور حاضر میں مہدویت کے خلاف غیر مسلموں کی سازشیں اور ہماری اسٹریٹجی*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 21 جمادی الاول 1446( 1 دسمبر ، 2024)**
*🌷خلاصہ:*
ہماری گقتگو تاریخی اعتبار سے مھدویت کی ضرورت میں ختم ہوگئی ہے اور پانچواں موضوع کلچر اور فرہنگ
اہل سخن کسی بھی ملت میں کلچر کی تشکیل کرتے ہیں
مہدویت کا موضوع احادیث سے تفصیل کے ساتھ بیان ہوا
شیعہ سنی سب نے لکھا
آئمہ ع کو قتل کیا گیا کہ مہدی کو روکا جائے
فلموں اور گیموں میں خوف زدہ کیا جا رہا ہے
یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی آگے ہو گا ہم نجات دینے والے ہیں
باہر کے علاوہ اسلام کے اندر بھی مہدویت کی یا نفی کرتے ہیں یا شک پیدا کرتے ہیں خود کو روشن فکر ظاہر کرتے ہیں اصل میں ضربیں لگا رہے ہیں
ہمارا فریضہ ہے مہدویت کا دفاع کیا جائے
امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا بہت سارے لوگ مہدویت سے پھر جائیں گے کچھ بچیں گے
آج بے پناہ سیہونی قوتیں کام کر رہی ہیں
اس یلغار کو روکنے کے لیے امام کے سربازوں کو سامنے آنا چاہیے
علماء اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ملت کو بھی کرنا چاہیے
ہمیں چاہیے انتظار کی سٹریٹیجی کو تیار کریں جب ہدف بڑا ہے تو کام بھی بڑے کریں۔
تین نقطے اہم ہیں:
1ـ مستقبل کی طرف نگاہ موجوہ ہو حالات کو نہ دیکھیں ہم ایسی حکومت ہیں جنھیں اپنا مستقبل معلوم ہے بے پناہ بشارتیں ملی ہیں ہمیں منصوبہ بندی کرنی ہے ۔
2ـ مستقبل کے نقطے کی تائید کریں اور اس تک پہنچنے کے لیے منصوبہ بندی کریں
3ـ منصوبہ بندی میں اگر کوئی رکاوٹ آ رہی ہے تو اس کو دیکھ کر اپنا ہدف نہیں چھوڑنا
اس لئے ماہرین مہدویت تین اصول بناتے ہیں
سب سے پہلا مرحلہ موجودہ دور کے انسان کی حالت دیکھنی ہے
جدید سے جدید ٹیکنالوجی آرہی اور روحانیت ختم ہوتی جارہی ہے
مزاج سخت ہو رہے ہیں ملتوں اور اقوام میں تنازع بڑھ رہے ہیں اسلامی کلچر پامال ہو رہا ہے مغربی کلچر کی یلغار ہے سوشل میڈیا زہریلا کردار ادا کر رہا ہے
انسان بہت افسردہ ہے احساس ناکامی بھی ہے دنیا سے بیزار ہے
ہمارے پاس ایک مطلوبہ نقطہ ہے جہاں ہم نے پہنچنا ہے اس دور میں انسان کی عقل کامل ہو جائے گی اخلاق بہتر ہو جائیں گے
بے حسیاں ایسے نہیں رہیں گی انسان کی تربیت امام کریں گے یہی انسان جو آج ایک دوسرے کے دشمن ہیں کل اعلیٰ ترین اخلاق کے درجے پر ہوں گے
امام جعفر صادق علیہ السّلام نے فرمایا 27 حرف تھے علم کے جس میں ابھی تک تمام انبیاء نے 2 حرف ہم تک پہنچائے ہیں جب 2 حرف بھی عوام الناس نہیں جانتی جب قائم آئیں گے تو باقی 25 حروف کی بھی تعلیم دیں گے اور 2 حرفوں کو بھی مکمل کریں گے
ان لوگوں کی زندگی کتنی روحانی ہو گی اس کی روح عقل فکر سب سیراب ہو گی ترقی ہر حالت میں انسان کی ہو گی ظاہر بھی باطن بھی لوگ بے نیاز ہو جائیں گے دنیا نعمات سے بڑھ جائے گی ہر خوف امن میں بدل جائے گا
یہ ہمارا مطلوبہ نقطہ ہے
اب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے موجودہ حالات سے مطلوبہ نقطے تک کیسے پہنچنا ہے
آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
شہر بانو✍️
### کورس ٹو
### پہلی کتاب: مہدویت پر بحث کی ضرورت
### درس 18
### موضوع: ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت
**نکات:**
- اسلام میں مہدویت کے منکرین، تاریخ اور موجودہ دور میں مہدویت کے خلاف غیر مسلموں کی سازشیں اور ہماری اسٹریٹیجی
**استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب** 🌹
**بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم** 🌹
السلام علیکم وَرحمتُ اللّٰہِ وَبرکاتُہ 🌹
اللہم صل علی محمد و آل محمد 🌹🍃🍃
میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں۔ پروردگار کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ یوسف زہرا (سلام اللہ علیہا) کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲❤️
**اتوار 21 جمادی الاول 1446 (24 نومبر 2024)**
### خلاصہ:
ہماری گفتگو تاریخی لحاظ سے مہدویت کی ضرورت پر ختم ہو چکی ہے اور اب ہم پانچویں موضوع یعنی "کلچر اور ثقافت کی رو سے مہدویت" پر بات کر رہے ہیں۔
### کلچر اور ثقافت کی رو سے:
کسی بھی ملت کا کلچر اس کے دانشور طبقے، علماء، اہلِ فکر، اہلِ قلم اور اہلِ سخن پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ لوگ ملت کی فکری سمت اور رہنمائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اور ان کی کتابیں، مقالات اور تھیوریز ہی ملت کی راہ متعین کرتی ہیں۔
مہدویت پر کام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے شروع ہوا، اور آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس موضوع کو تفصیل سے بیان کیا۔ اس کے بعد ہمارے علمی مراکز اور حوزات علمیہ میں شیعہ و سنی تمام فرقوں نے اس پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں، لیکن دو بڑے مسائل اب بھی موجود ہیں:
1. **شیطانی قوتیں:** ہر دور میں اسلام کے اندر بظاہر مسلمان لیکن دراصل منافقین اور مفاد پرست لوگ موجود ہیں جو اسلام کے اندر انحرافات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
2. **مہدویت کی نفی:** کچھ افراد اور گروہ ہیں جو مہدویت کے عقیدے سے گھبراتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ ہمارے آئمہ علیہ السلام کا قتل بھی اس لیے کیا گیا کہ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور نہ ہو سکے۔
### اسلامی ثقافت میں مہدویت:
اسلامی ثقافت میں مہدویت کے بڑھتے اثرات سے عالمی استعمار اور صیہونی قوتوں کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ وہ مہدویت کو اپنے لیے ایک بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں اور اسے روکنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی دو بڑی حکمت عملی ہیں:
1. **انحرافی گروہوں کی تشکیل**
2. **مہدویت کی نفی اور اس کا مذاق اڑانا**
ہم آج کے دور میں دیکھتے ہیں کہ بے شمار کتابیں، مقالات اور ویڈیوز مہدویت کی نفی کر رہی ہیں، اور یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور ایک خطرہ ہے۔
انھوں نے مختلف فلمز، ویڈیوز اور گیمز کے ذریعے یہ پیغام پھیلایا کہ "ہم خود ہی بچاؤ کے لیے کافی ہیں، کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں ہے"۔ اس کے علاوہ، اسلام کے اندر بھی ایسے افراد موجود ہیں جو مہدویت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے خلاف انحرافات پھیلاتے ہیں۔
### فریضہ:
ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کے مدِ مقابل مہدویت کا دفاع کریں اور حقائق کو بیان کریں تاکہ جو لوگ ان کی کتابیں اور مقالات پڑھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں کوئی شک پیدا نہ ہو۔
جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
_"ایک ایسا دور آئے گا جب بہت سے لوگ مہدویت سے پھر جائیں گے، اور بہت کم لوگ ثابت قدم رہیں گے۔"_
یہ دور آج آ چکا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی مستشرقین اور صہیونی طاقتیں بھی مہدویت کی نفی کر رہی ہیں۔
### انتظار کی اسٹریٹیجی:
ہمیں ایک واضح اسٹریٹیجی تیار کرنی ہوگی تاکہ ہم اپنے بڑے مقصد یعنی عظیم عالمی حکومت کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنے فکری، عملی، علمی اور مالی وسائل کو بہتر انداز میں ترتیب دینا ہوگا۔
### تین اہم نکات:
1. **مستقبل کی سمت پر نظر:** ہمیں صرف موجودہ حالات کو نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ ہمیں اپنے روشن مستقبل کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک دن دنیا میں عدل قائم ہوگا، اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت قائم ہوگی۔
2. **ہدف کا تعین:** ہمیں اپنے مقصد کو واضح طور پر متعین کرنا ہوگا۔
3. **اسٹریٹیجی کی تیاری:** اسٹریٹیجی بناتے وقت ہر قسم کے ردعمل کے پیشِ نظر منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔
### اسٹریٹیجی کے تین اہم اصول:
1. موجودہ دور کے انسان کی حالت سے آگاہی۔
2. مطلوبہ حالات یا صورتِ حال کی صحیح عکاسی۔
3. موجودہ حالات سے مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے لیے درست منصوبہ بندی۔
**اللہم عجل لولیك الفرج** 🤲
**آمین یارب العالمین بحق محمد وآل محمد علیہم السلام** 🌹
**شہر بانو** ✍️
---
کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 19*
# *موضوع :ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*عصر ظہور تک پہنچنے کا پلان،آفات کی شناخت،دشمن کی شناخت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
# عالمی مرکز مہدویت🌐
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 3 دسمبر ، 2024)**
** 19 :خلاصہ نمبر**
**موضوع: ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت**
مہدویت ایک ایسا موضوع ہے جو اسلامی عقائد میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے حوالے سے جو آخری زمانے میں انسانیت کو امن و انصاف کی راہ دکھائیں گے۔ اس وقت کے منتظرین کی تیاری اور صحیح فہم کے لیے مہدویت پر گہری بحث کی ضرورت ہے۔ یہ بحث نہ صرف دینی بلکہ ثقافتی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے تاکہ مسلمان اپنے عقائد، نظریات اور عمل کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔
### **نکات:**
#### 1. **عصر ظہور تک پہنچنے کا پلان**
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ایک اہم اور مقدس واقعہ ہے جس کے لئے مسلمانوں کو مختلف سطحوں پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ عصر ظہور تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے ایمان، عمل اور عقیدہ کو مضبوط کریں تاکہ وہ اس عظیم موقع پر صحیح طور پر امام کی حمایت کر سکیں۔ اس کے لیے ایک واضح اور منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں فرد فرد کی دینی و اخلاقی تربیت، اجتماعی فعالیت، اور دشمن کے خلاف چیلنجوں کا سامنا کرنے کی تیاری شامل ہو۔
**پلان کی تفصیل میں شامل نکات:**
- **ایمان کا استحکام:** ہمیں اپنے عقائد کو ہر حال میں درست رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ظہور امام مہدی کے موقع پر ایمان کی پختگی اور ثابت قدمی ضروری ہوگی۔
- **عملی تیاری:** دینی عبادات، اخلاقی اصول اور اجتماعی ذمہ داریوں کی تکمیل کرتے ہوئے، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم امام کی مدد کے لئے تیار ہوں۔
- **تعلیمی اور فکری تیاری:** مہدویت کے موضوع پر تعلیم و تحقیق کو فروغ دینا تاکہ لوگ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور اس پر بحث و مباحثہ کر سکیں۔
#### 2. **آفات کی شناخت**
ہر دور میں آفات، فتنوں اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، لیکن امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے دنیا میں جو مشکلات آئیں گی، وہ غیر معمولی ہوں گی۔ ان آفات کی شناخت کرنا ضروری ہے تاکہ مسلمان ان سے بچ کر اپنی روحانی اور عملی تیاری کر سکیں۔
**آفات کی نوعیت میں شامل نکات:**
- **فکری آفات:** فکری انحرافات، غلط عقائد، فرقہ واریت اور دشمن کے پروپیگنڈے سے بچنا۔ مسلمانوں کو اپنی اصل اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ رہنا ہوگا۔
- **اجتماعی آفات:** معاشرتی ناہمواریاں، ظلم، جبر اور اقتدار کی ہوس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی بدعنوانیاں۔
- **سیاسی آفات:** دنیا کے مختلف حصوں میں طاقتور قوتوں کی طرف سے کی جانے والی سازشیں اور اسلامی دنیا کو کمزور کرنے کی کوششیں۔
دشمنانِ اسلام اور فتنہ پرور طاقتوں کی شناخت کرنا اس مقصد کے لیے ضروری ہے تاکہ ہم ان سے بچ سکیں اور اپنے دینی و اخلاقی اصولوں پر قائم رہیں۔
#### 3. **دشمن کی شناخت**
مہدویت پر ثقافتی بحث میں دشمن کی شناخت بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل ایک عالمی سطح پر فساد اور ظلم و جبر کا دور ہوگا۔ دشمن کی شناخت کرنے سے مسلمان اپنی صفوں کو مضبوط کر سکتے ہیں اور دشمن کی سازشوں سے بچ سکتے ہیں۔
**دشمن کی شناخت میں شامل نکات:**
- **داخلی دشمن:** وہ قوتیں جو اندرونی طور پر مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرتی ہیں، فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہیں اور امت کو منتشر کرتی ہیں۔ ان دشمنوں سے آگاہ ہو کر ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنا ہوگا۔
- **بیرونی دشمن:** وہ عالمی طاقتیں جو مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں، خواہ وہ اقتصادی، فوجی یا ثقافتی میدان میں ہوں۔ ان طاقتوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک اور عوام کو یکجہتی کی ضرورت ہے۔
- **ثقافتی دشمن:** وہ دشمن جو اسلامی ثقافت، تعلیمات اور معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ثقافتی اور تعلیمی سطح پر بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
**استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹** نے اس بات پر زور دیا کہ مہدویت کے موضوع پر گفتگو کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ مسلمان اس وقت کے حالات اور آفات سے بچ کر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لیے تیار ہوں۔ اس موضوع پر شعور بیدار کرنا نہ صرف فرد کی تربیت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ اجتماعیت کے لئے بھی ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے عقائد میں مستحکم رہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔
### **عالمی مرکز مہدویت 🌐**
عالمی مرکز مہدویت کا مقصد مسلمانوں میں مہدویت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس موضوع پر ایک تعلیمی، فکری و ثقافتی بحث کا آغاز کرنا ہے تاکہ ہر فرد اور امت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی تیاری کر سکے۔ اس مرکز کے ذریعے مختلف سیمینارز، ورکشاپس، اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو اس عظیم موضوع پر مفصل اور درست معلومات مل سکیں۔
---
**نتیجہ:**
یہ درس ہمیں بتاتا ہے کہ مہدویت پر ثقافتی اور فکری بحث ضروری ہے تاکہ مسلمان امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے تیار رہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم آفات، دشمن کی شناخت اور عصر ظہور تک پہنچنے کی منصوبہ بندی پر سنجیدہ بحث کریں تاکہ ہم اپنی روحانیت، ایمان اور عمل میں مضبوط ہوں اور امام کی حمایت کے لئے تیار رہیں۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 19*
# *موضوع :ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*عصر ظہور تک پہنچنے کا پلان،آفات کی شناخت،دشمن کی شناخت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
# عالمی مرکز مہدویت🌐
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 3 دسمبر ، 2024)**
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 19*
# *موضوع :ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*عصر ظہور تک پہنچنے کا پلان،آفات کی شناخت،دشمن کی شناخت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
# عالمی مرکز مہدویت🌐
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 3 دسمبر ، 2024)**
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کورس ٹو*
# *پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت*
# *درس 19*
# *موضوع :ثقافتی رو سے مہدویت پر گفتگو کی ضرورت*
# *نکات*
*عصر ظہور تک پہنچنے کا پلان،آفات کی شناخت،دشمن کی شناخت*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
# عالمی مرکز مہدویت🌐
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 3 دسمبر ، 2024)**
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
---
سوال نمبر 1:
معرفت امام اسلام اور اعمال کی قبولیت کی شرط ہے بیان کریں۔
جواب:
اسلام میں امام کی معرفت ایمان کی تکمیل اور اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ امام وہ ہدایت کے رہنما ہیں جو اللہ کے پیغام کی مکمل وضاحت کرتے ہیں۔ اعمال کی قبولیت اسی صورت میں ہے جب انسان امام کی صحیح معرفت رکھتا ہو اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ امام کی معرفت انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے اور اس کے اعمال کو بہتر بنانے کی صلاحیت دیتی ہے۔
---
سوال نمبر 2:
امام کی شناخت در واقع قرآن کے ہمراہی کی شناخت نوٹ لکھیں۔
جواب:
امام کی شناخت قرآن کی صحیح تفسیر اور اس کی پیروی کرنے کے مترادف ہے۔ حدیث ثقلین میں رسول اللہؐ نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے۔" اس سے واضح ہوتا ہے کہ امام قرآن کے حقیقی معنی کو سمجھانے اور اس پر عمل کرنے والے رہنما ہیں۔ امام کی شناخت دراصل قرآن کے پیغام کی درست تفہیم ہے۔
---
سوال نمبر 3:
معرفت حاصل نہ ہونے کی وجوہات کونسی ہیں؟ کسی ایک کی تشریح کریں۔
جواب:
معرفت حاصل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ غفلت ہے۔ انسان جب دنیاوی لذتوں میں مگن ہو جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے، تو وہ حقیقت سے بے خبر رہتا ہے۔ اس غفلت کی وجہ سے انسان امام کی معرفت سے بھی محروم رہتا ہے۔
---
سوال نمبر 4:
وَقُلِ اعْمَلُوا... اس آیت کا ترجمہ کریں اور اس سے ہمیں کیا درس مل رہا ہے؟
جواب:
ترجمہ: "کہہ دو کہ عمل کرو، اللہ، اس کے رسول اور مؤمنین تمہارے اعمال کو دیکھیں گے۔"
درس: اس آیت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اعمال کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایمان کے ساتھ ساتھ صحیح عمل بھی ضروری ہے تاکہ اللہ کے ہاں ہماری عبادات اور اعمال قبول ہوں۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اعمال کا محاسبہ اللہ، اس کے رسول اور مخلص مؤمنین کریں گے۔
---
سوال نمبر 5:
شیعہ فوٹوریزم کو مستشرقین کی نگاہ سے بیان کریں۔
جواب:
شیعہ فوٹوریزم کو مستشرقین نے ہمیشہ ایک منفرد اور انقلابی تحریک کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ فوٹوریزم انسانوں میں عدل و انصاف کے قیام اور ظلم کے خاتمے کی جستجو کو ظاہر کرتا ہے۔ مستشرقین کے مطابق، شیعہ فوٹوریزم خاص طور پر امام مہدیؑ کی آمد کے تصور کے ذریعے دنیا میں عالمی انقلاب کی توقع ظاہر کرتا ہے، جو ظلم و فساد کا خاتمہ کرے گا۔
---
سوال نمبر 6:
ہانری کوربن اور ماربین کی نگاہ سے مفہوم انتظار کو واضح کریں۔
جواب:
ہانری کوربن اور ماربین کے مطابق "انتظار" صرف ایک وقت کا گزرا ہوا لمحہ نہیں بلکہ ایک فعال اور روحانی عمل ہے۔ انتظار کا مفہوم یہ ہے کہ انسان امام مہدیؑ کی آمد کا دل سے منتظر ہوتا ہے اور اس انتظار میں وہ خود کو روحانی طور پر تیار کرتا ہے تاکہ وہ امام کی مدد میں شریک ہو سکے۔ یہ انتظار انسان کے اندر عدل و انصاف کی جستجو اور عالمی انقلاب کے لیے آمادگی پیدا کرتا ہے۔
---
سوال نمبر 7:
سماجی سطح پر عقیدہ مہدویت کے اثرات بیان کریں۔
جواب:
عقیدہ مہدویت کا سماجی سطح پر بہت گہرا اثر ہے۔ اس عقیدے سے انسانوں میں عدل، انصاف اور مساوات کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔ امام مہدیؑ کے آنے کا عقیدہ انسانوں کو ظلم و فساد کے خلاف کھڑا ہونے کی ترغیب دیتا ہے اور ان میں اجتماعی انقلاب کے لیے کوشش کرنے کی تحریک پیدا کرتا ہے۔ مہدویت کے عقیدے کے ذریعے سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
---
سوال نمبر 8:
موجودہ عالمی سیاسی صورتحال میں آج کے انسان کی ضرورت کیا ہے؟
جواب:
آج کے انسان کی سب سے بڑی ضرورت امن و انصاف ہے۔ عالمی سطح پر جنگیں، غربت، اور طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہیں، اس لیے انسانیت کو ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ انسان کو ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہیے جو انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہو۔
---
سوال نمبر 9:
فرقہ کیسانیہ اور زیدیہ پر نوٹ لکھیں۔
جواب:
کیسانیہ ایک شیعہ فرقہ ہے جو امام حسینؑ کے بعد امام حسینؑ کے بیٹے امام زیدؑ کو امام تسلیم کرتے تھے۔
زیدیہ ایک دوسرا شیعہ فرقہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ امام وہ شخص ہوتا ہے جو قیادت کا حق رکھتا ہو اور جو ظلم کے خلاف جہاد کرے۔ اس فرقے کا عقیدہ امام زیدؑ کو امام تسلیم کرتا ہے۔
---
سوال نمبر 10:
اسماعیلہ اور ناووسیہ پر نوٹ لکھیں۔
جواب:
اسماعیلہ ایک شیعہ فرقہ ہے جو امام جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بیٹے امام اسماعیلؑ کو امام مانتے ہیں۔
ناووسیہ ایک فرقہ تھا جو امام علیؑ کو خدا سمجھتا تھا اور ان کے بارے میں کچھ انتہائی مبالغہ آمیز عقائد رکھتا تھا۔
---
سوال نمبر 11:
شیخیہ اور بہائیہ پر نوٹ لکھیں۔
جواب:
شیخیہ ایک اسلامی فرقہ ہے جو ایران میں شیخ احمد احسائی کے پیروکاروں نے قائم کیا۔ اس فرقہ کا عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ کی غیبت کے بعد شیخ احمد احسائی نے ایک نئی روحانی قیادت قائم کی۔
بہائیہ ایک فرقہ ہے جو شیخ احمد احسائی کے پیروکاروں کے ایک گروہ نے قائم کیا اور ان کا عقیدہ ہے کہ بہا اللہ کا پیغام اللہ کی طرف سے تھا۔
---
سوال نمبر 12:
قادیانیت پر نوٹ لکھیں۔
جواب:
قادیانیت ایک فرقہ ہے جو 19ویں صدی کے آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے قائم کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا، جسے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے رد کر دیا۔ قادیانیوں کے عقائد اسلامی اصولوں سے متصادم ہیں اور انہیں مسلمانوں کے درمیان غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔
---
سوال نمبر 13:
منکرین مہدویت کون ہیں اور انکے افکار و نیز اسکا رد بیان کریں۔
جواب:
منکرین مہدویت وہ لوگ ہیں جو امام مہدیؑ کے آنا اور ان کی عالمی حکومت کے قیام کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ امام مہدیؑ کی آمد ایک فرضی یا علامتی بات ہے۔
رد: یہ عقیدہ اسلامی تاریخ اور قرآن کی تصدیق سے متصادم ہے۔ قرآن میں امام مہدیؑ کی آمد کی نشاندہی کی گئی ہے، اور مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اس عقیدہ کو حقیقت مانتی ہے۔
---
سوال نمبر 14:
اسٹریٹجی انتظار کیا ہے؟ تشریح کریں۔
جواب:
اسٹریٹجی انتظار کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو امام مہدیؑ کی آمد کا انتظار کرتے ہوئے ایک اجتماعی طور پر تیار ہونا ہے تاکہ جب امام آئیں تو ان کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انتظار کے دوران انسان اپنے اعمال کو بہتر کرے اور روحانی طور پر مضبوط ہو۔
---
---
سوال نمبر 15:
اسٹریٹجی بنانے کے اصول کیا ہیں؟ کسی ایک کی تشریح کریں۔
جواب:
اسٹریٹجی بنانے کے کئی اصول ہیں جن میں سے ایک اہم اصول مقاصد کی وضاحت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی اسٹریٹجی کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے پہلے اس کے مقاصد کو واضح کرنا ضروری ہے۔ یہ مقاصد انسان کے اہداف اور ترجیحات کے مطابق ہونے چاہئیں تاکہ ان کی طرف رہنمائی کی جا سکے اور تمام وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
---
سوال نمبر 16:
ہمارے دین نے مطلوبہ صورت کی کیا عکاسی کی ہے؟
جواب:
ہمارے دین اسلام نے مکمل طور پر ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کی عکاسی کی ہے جو عدل، انصاف، اور ہمدردی پر مبنی ہو۔ دین اسلام میں امام مہدیؑ کی آمد کا عقیدہ اس بات کا عکاس ہے کہ ایک دن ایک ایسا رہنما آئے گا جو ظلم و فساد کا خاتمہ کرے گا اور دنیا میں عدل و انصاف کا قیام کرے گا۔ اسلام کی تعلیمات، خاص طور پر امام مہدیؑ کے ذریعے، دنیا کو ایک بہتری کی طرف لے جانے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
---
سوال نمبر 17:
عصر غیبت میں اجتماعی بلوغ کا معیار کیا ہے؟
جواب:
عصر غیبت میں اجتماعی بلوغ کا معیار روحانی پختگی اور فکری بیداری ہے۔ مسلمان اس وقت میں امام کی غیر موجودگی میں اپنے ایمان کو مضبوط کریں، انفرادی اور اجتماعی طور پر فلاحی کاموں میں مصروف رہیں، اور اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نہ صرف فرداً فرداً بلکہ ایک جماعت کے طور پر بھی بہتر بنے، اور امام کی غیبت کے دوران اسلامی معاشرت اور اخلاقیات کی عکاسی کرے۔
---
سوال نمبر 18:
آفات مہدویت کیا ہیں اور اسکا راہ حل بیان کریں؟
جواب:
آفات مہدویت میں سب سے بڑی آفت افکار کی غلط تفہیم اور انتظار کی سستی ہیں۔ بہت سے لوگ امام مہدیؑ کی آمد کے انتظار میں صرف اپنی عبادات میں مگن ہو جاتے ہیں اور عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔
راہ حل: اس کا حل یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، اس کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی بہتر زندگی گزارے، ظلم و فساد کے خلاف آواز بلند کرے اور معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ امام کے آنے کے بعد ان کی رہنمائی میں اس کے کاموں میں شریک ہو۔
---
سوال نمبر 19:
دشمنان مہدویت کی فعالیت اور ہمارا فریضہ بیان کریں؟
جواب:
دشمنان مہدویت وہ لوگ ہیں جو امام مہدیؑ کی آمد کا انکار کرتے ہیں اور اس عقیدے کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی فعالیت میں سب سے اہم کام شیعہ عقائد کو غلط ثابت کرنا اور مہدویت کے تصور کو توڑنا ہے۔
ہمارا فریضہ: ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان میں مضبوط رہیں، امام مہدیؑ کے عقیدے کو صحیح طریقے سے سمجھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ ہمیں دشمنان مہدویت کے پروپیگنڈے سے بچنا ہے اور امام کی حمایت میں کھڑے ہونا ہے۔
---
سوال نمبر 20:
دعائے معرفت کو مکمل ترجمہ کے ساتھ بیان کریں اور بتائیں کیوں تین معرفتیں ضروری ہیں؟
جواب:
دعائے معرفت کا ترجمہ:
"الٰہی! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اپنے امام کی معرفت دے، جو تیرے برگزیدہ ہیں، تاکہ میں ان سے تعلق رکھ سکوں اور ان کی ہدایت کو قبول کروں۔"
تین معرفتیں ضروری ہیں:
1. معرفت اللہ: اللہ کی پہچان اور اس کی صفات کو سمجھنا، تاکہ انسان اپنے رب سے قریب ہو سکے۔
2. معرفت امام: امام کی حقیقت اور ان کی رہنمائی کو سمجھنا، کیونکہ امام ہی وہ رہنما ہیں جو انسان کو درست راستے پر چلنے کی ہدایت دیتے ہیں۔
3. معرفت خود: انسان کو اپنی حقیقت اور اپنی کمزوریوں کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ وہ اصلاح کی کوشش کرے اور امام کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکے۔
---
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں