اخلاق منتظرین Me

 








بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 🕊️ 

اخلاق منتظرین 💫📚
درس نمبر 14📖

🤝اسلام کرنے کا اجر و ثواب ،سنت نبوی کیا ہے اور بدعات کیا ہیں ؟📚


✍️ چند نکات 📖

اہم ترین دعا 🤲
جس کے بارے میں سنت رسول ص یہی ہے کہ ہر مسلمان ہر مومن جب دوسرے اپنے ایمانی اسلامی بھائی کو دیکھے تو اس دعا کے ساتھ سبقت کرے۔

اس حوالے سے ہمارے پیغمبر ص اور آئمہ معصومین ع کی بہت سی روایات موجود ہیں ۔

فرمانِ نبی ص 🙌 
اہم ترین فرمان نبی اکرم ص سے نقل ہوتا ہے کہ آپ ص نے جناب آنس سے فرمایا کہ اے انس جس سے بھی تم ملاقات کروں چاہیے وہ کوئی بھی شخص ہوں جب بھی ملاقات کروں سلام کرو۔ پروردگار تمہاری نیکیوں کو بڑھا دے ۔

پھر فرمایا 💫
جب تم اپنے گھر کی طرف جاؤ تو اپنے گھر کو بھی سلام کرو۔
اپنے گھر کی سلامتی کے لیے دعا کروں ۔تاکہ پروردگار تمھارے لیے برکتوں کا اضافہ کرے ۔( یعنی) گھر با برکت بن جائے ۔

ہمارا گھر میں داخل ہونا کتنا اہم ہے ۔ہم کن خیالات کو لیکر گھر میں داخل ہوتے ہیں.کن چیزوں کا ساتھ لیکر داخل ہوتے ہیں اور گھر میں کیا کچھ ہوتا ہے ۔ہمیں گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام کرنا چاہیے اور یہ عمل صرف دنیا والوں کے لیے نہیں ہے بلکہ جنت میں رہنے والے ایک دوسرے کو دیکھ کر اسی طرح کہیں گے ۔اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ ۔۔

نکتہ 💫✍️
ہمارے بعض مومنین کے اندر الگ رویہ پیدا ہو رہا ہے ۔ایک تو یہ ہے کہ سلام کے بعد فوراً یا علی مدد کہتے ہیں ۔
یہ پھر بھی قابل قبول ہے ۔سنت رسول ص سے آغاز کیا اور یا علی مدد یہ ہمارا ورد ہے کہ ہم مولا علی ع کو یاد کرتے ہیں انکا زکر کرتے ہیں 

۔لیکن بعض اہل ایمان جو ہے یا محبین جو ہے انہوں نے سلام کو بلکل فراموش کر دیا ہے اور اپنی گفتگو کا آغاز اور جب بھی کسی مومن کو ملتے ہیں تو فوراً یا علی مدد کہتے ہیں ۔یعنی یا علی مدد کو لے آئے ہیں سلام کی جگہ پر 

(توحید کی جگہ ولایت پہلے ادا کر رہے ہیں)

یہ بدعت میں سے ہے کہ سنت رسول کو چھوڑ دیا گیا ہے۔۔ 
اور اپنی طرف سے کہہ دیا کہ یہ سنت رسول ہے سلام کے علاوہ کوئی اور الفاظ کا استعمال کرنا ۔

خود لفظ یا علی مدد کہنا بدعت نہیں ہے یہ تو ذکر ہے مولا ع کا توسل ہے مولا ع سے
لیکن!
اگر ہم اسکو سلام کی جگہ پہ لیکر آئے گے تو یہ بدعت ہے ۔کیونکہ سلام کہنا رسول اللّٰہ ص کا حکم ہے ۔

مسلمان کی پہچان ہے کہ سلام سے گفتگو کا آغاز کرے 

نقصان
 اگر ہم اس کی جگہ لفظ یا علی مدد سے اپنی گفتگو کا آغاز کر رہے ہیں یا اسکو سلام کی جگہ لیکر آئے ہیں تو یہ کس نے کہا ۔؟
نا نبی نے کہا نا ہی کسی معصوم نے کہا یہ ہماری اخیطلا کردہ چیز ہے۔اس کو اک مستحب جگہ مستحب چیز یا واجب چیز کی جگہ لے آؤ تو اس نے میں یہ توجہ رکھو کہ مجھے وہ شریع ثواب جب ہم اس طرح سے سلام کی جگہ پر یا علی مدد کہیں گے تو لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں گے یہ مسلمان ہی نہیں ہے نا انکا انداز ملاقات مسلمانوں والا نہیں ہے ۔ہم تو پہلے سے کہتے ہیں یہ کافر ہے کیونکہ یہ جب ملتے ہیں تو رسول ص کی سنت پر عمل کرتے بلکہ یہ یا علی مدد کو سلام کی جگہ استعمال کرتے ہیں ۔

یا علی مدد ذکر ہے کرنا چاہیے توسل ہے کوئی شک نہیں ۔لیکن سلام کی جگہ پہ نہیں اور اگر کوئی مومن یا مومنانہ یا علی مدد کہے تو اسکو جواب نا دے
کیونکہ امر بمعروف اور نہی عن المنکر یہی ہے خرافات کو روکنا ہے ۔اور آپ کو یا علی مدد کہتے ہیں تو آپ اسکو جواب نا دے آپ اسکو کہے اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ اور ساتھ اسکو نصیحت کرے کہ رسول اللّٰہ ص کی سنت پر ہمارے تمام آئمہ معصومین عمل کرتے تھے اور ہمیں بھی عمل کرنا چاہیے ۔

مومن یا مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ وہ جب ملتے ہیں تو سلام کرتے ہیں اور سلام جو ہے یہ صرف ہم اہلِ ایمان کی دنیا میں پہچان نہیں بلکہ بہشت والوں کی بھی یہی پہچان ہے ۔

فرمانِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 💫

اگر کوئی شخص گناہگار ہے اور اللّٰہ سے مغفرت چاہتا ہے ۔اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اللّٰہ کے نذدیک اسکا استغفار قبول ہو تو اسے چاہیے زیادہ سے زیادہ سلام کیا کرے۔سلام میں سبقت لے اور حسنِ کلام اختیار کرے ۔

دنیا میں سب سے عاجز ہے وہ شخص جس کے منہ سے دعا نہ نکلے ۔

لوگوں میں سب سے کنجوس وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرتا ہوں 
 
پروردگار باحق محمد و آل محمد کے صدقے ہمیں سنت نبوی ص اور آئمہ معصومین ع کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

                الٰہی آمین 💫🤲 

 ✍️ شہر بانو✨


*درس اخلاق  منتظرین# 14*

*موضوع : *سلام کرنے کا اجر و ثواب* 


 *اہم نکات*
 
💫کیونکہ سلام کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور دین اسلام کی پہچان ہے اس لیے 
اس درس میں استاد صاحب نے مزید نئے نکات کے ساتھ *سلام کرنے*  کی اہمیت کو بیان فرمایا ۔

1- *السلام علیکم* کہنا سنت ہے اور نیکیوں میں اضافے اور گناہوں سے مغفرت کا سبب ہے ۔

2- جب بھی کسی مسلمان سے ملیں تو *سلام سے گفتگو کا آغاز کرنا چاہیئے*۔

3- جب اپنے گھر میں داخل ہوں تب اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ اپنے *گھر کو بھی سلام کریں*۔۔ یعنی نیت میں رکھیں کہ گھر کو بھی سلام کر رہے ہیں۔ گھر ہمارے رہنے کی جگہ ہے ۔۔ سلامتی کی یہ دعا دینے  سے گھر میں خیر وبرکت اور رحمت الٰہی داخل ہو گی اور برے اثرات، بے برکتی اور  شیاطین جو فساد کا باعث بنتے ہیں گھر ان برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ 

4 - *سلام میں بدعات سے پرہیز کریں*۔  السلام علیکم کے بعد یا علی مدد کہنے میں کوئی حرج نہیں لیکن سلام کرنے کے بجائے صرف یاعلی مدد کہنا بدعت ہے کیونکہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا اور نہ ہی ہمارے کسی امام نے۔۔۔ اور ایسا کرنے سے مخالفین کو بھی شہ ملتی ہے کہ یہ تو کافر ہیں ان کا سلام کرنے کا انداز ہی امر مسلمہ سے الگ ہے۔ 
اگر کوئ سلام کرنے کے بجائے یا علی مدد کہے تو اسے سمجھائیں ۔۔  
پہلے السلام علیکم کہیں اور پھر اسے صحیح طور پر سلام کرنے کا انداز اور اس کی اہمیت بتائی ۔

5- *سلام کرنا سلامتی کی  ایک دعا ہے۔ سلام نہ کرنے والا *بخیل* کہلاتا ہے جو کسی کو دعا تک نہیں دے سکتا حالانکہ اس میں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔ 
سلام کرنا *تکبر سے بچاؤ کا ذریعہ ہے* ۔  یہ انتظار نہ کریں کہ کوئی پہلے سلام کرے تب میں جواب دوں گا / دوں گی ۔۔۔۔ بلکہ سلام کرنے میں پہل کریں۔ 

6-0 *سلام کے جواب میں صرف سر ہلانے سے جواب نہ دیں بلکہ مکمل طور سے جواب دیں*۔ بلکہ بڑھ کر دعا دیں جیسے *وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ* جیسے دنیا کے تحائف میں کوشش ہوتی ہے کہ دینے والے سے پڑھ کر تحفہ جوابا" تحفہ دیں اسی طرح دینے و روحانی 
معاملات میں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے ۔ 

7- *اگر کوئ شخص حقیقت میں اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرنا چاہتا ہے* تو اس ہمیشہ سلام میں پہل کرنا چاہیے ۔

8- *اہل جنت* کا بھی طریقہ یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہوے سلام کرتے ہیں ۔ 

اللہ تعالیٰ  تمام منتظرین امام مہدی علیہ السلام کو اسوہ نبوی ص پہ عمل پیرا ہونے اور امام وقت کے سربازوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

*الھم عجل لولیک الفرج* 

شہر بانو✍️ 


*اخلاق منتظرین*(14)
*اسلام کرنے کا اجر وثواب،سنت نبوی کیا ہے اور بدعات کیا ہیں؟*

*🎤استاد مہدویت علی اصغر سیفی صاحب*

***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

جمعہ المبارک   5  جمادی الاول   1446( 8  نومبر   ، 2024)**



*سنت نبوی کیا ہے اور بدعت کیا ہیں* سلام کرنا اور اس میں پیش قدمی کرنا

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انسان جس سے بھی تم ملاقات کرو

جب بھی ملاقات کرو تمہارا یہ سلام کرنا تمہاری نیکیوں کو بڑھا دے گا

اس کے بعد فرمایا کہ جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر کو بھی سلام کرو او

گھر کی سلامتی کی دعا کرو تاکہ اللہ تمہارے گھر کو برکت دے

ہمارے اس عمل کی وجہ سے گھر کے اندر

انے والے برے خیالات یا بے برکتی ہم تک نہ پہنچے گی اور ہمارا گھر

نیکیوں کا گہوارہ بن جائے گا جو ہمارے لیے رحمت کا سبب ہوگا

سلام کرنے کا عمل صرف دنیا والوں کے لیے نہیں ہے

بلکہ جنت میں رہنے والے بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر اسی طرح کہیں

یہ کہیں گے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


سلام کرنے کی برکتیں بھی بہت ہیں

اگر کوئی شخص گنہگار ہے اور اللہ سے مغفرت چاہتا ہے

تو اگر وہ چاہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس کا استغفار قبول ہو

تو اسے چاہیے کہ کہ وہ کثرت سے سلام کرے

کوشش کرے کہ سلام میں سبقت لے اور

حسن کلام اختیار کرے

دنیا میں سب سے عاجز وہ شخص ہے جس کے منہ سے

دعا نہ نکلے

لوگوں میں سب سے کنجوس وہ ہے جو سلام

کرنے میں بخل کرتا ہے

ایک مسلمان کو چاہیے ایک کہ وہ سلام سبقت کرے اور اگر کوئی اسے سلام کرے

تو اسے بہترین انداز میں جواب دے

بدعت

بدعت کیا ہے؟

سلام کے علاوہ کوئی اور لفظ کہنا

جیسے "یا علی مدد" اگرچہ یہ کوئی بدعت نہیں ہے

لیکن اگر اپ سلام کی بجائے کوئی اور لفظ کہیں

تو یہ بدعت ہوگا کیونکہ سلام کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

کا حکم ہے

ہمیں اس بدعت کو روکنا چاہیے کیونکہ پہلے ہی لوگ

ہمیں کافر کہتے ہیں اگر ہم اپنا ایسا رویہ رکھیں گے

تو ہم امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے دور ہو جائیں گے 

کیونکہ سلام کرنا دعا ہے اور یا علی مدد کہنا ذکر ہے

سلام کرنا دعا ہے اس دعا سے ہمارے گناہ جھڑ جاتے ہیں

اور ہماری نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے

اکثر یہ بھی دیکھنے میں اتا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو

سلام کیا جائے جواب میں صرف وہ سر ہلا دیتی ہیں جو کہ

تکبر کہلاتا ہے ایسے انسان کے گناہ میں اضافہ ہوتا ہے

یہ اہل ایمان کی نشانی نہیں اہل ایمان کی نشانی یہ ہے کہ

وہ سلام میں سبقت کرتا ہے اور مومن جواب دیتا ہے

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ

جس طرح دنیا میں ہمیں کوئی ہدیہ دیتا ہے تو ہماری

خواہش ہوتی ہے کہ اس سے بہتر ہدیہ دیا جائے

اسی طرح ایک مسلمان دوسرے کو بڑھ چڑھ کر سلام کا

جواب دیتا ہے یہ روحانی اور الہی معاملات ہیں

ہم جو اخلاق منتظرین ہیں ہمیں محمد و ال محمد علیہم السلام

کی سیرت اور نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے

اور سلام میں سبقت کرنی چاہیے اللہ تعالی سے یہ دعا ہے


کہ ہمیں امام کے یارو انصار میں شمار فرمائے اور سلام میں

سبقت کرنے والوں اور نیکیوں میں اضافہ کرنے والوں میں

ہمارا شمار ہو


شہر بانو✍️







  


اخلاق منتظرین پارٹ 13👆
#نبی کریم (ص) اسوہ کامل,حسن خلق کا اجر, خلق خدا سے مہربان رہیں

# استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
# عالمی مرکز مہدویت💚

**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

جمعہ   7  ربیع الثانی  1446( 11 اکتوبر  ، 2024)*

### خلاصہ

اج کے درس میں نبی رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا ذکر ہوا، جو کہ بہترین اخلاق کے حامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ خوش اخلاقی اور لوگوں کے ساتھ اچھے رویے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، یہ بتایا گیا کہ عبادت گزار ہونے کے باوجود اگر کسی کا رویہ بُرا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا۔

**سورہ آل عمران آیت 159** میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم دلی کو بیان کیا گیا ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر آپ سخت ہوتے تو لوگ آپ سے دور بھاگ جاتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ لوگ آپ کی باتوں سے متاثر ہوتے تھے، جو آج بھی 1400 سال بعد لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

**درس** یہ ہے کہ ہمیں اپنے اخلاق کو بہتر بنانا چاہیے اور لوگوں سے نرمی سے پیش آنا چاہیے تاکہ انہیں دین کی طرف مائل کیا جا سکے۔

**رحمت** اور **اسوہ حسنہ** اللہ کی طرف سے عطا کردہ صفات ہیں، اور ہمیں یہ صفات اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں۔ علماء کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں، ان کی غلطیوں پر عذاب کی بات کرنے کے بجائے اللہ کی رحمت اور نعمتوں کا ذکر کریں۔

**دل سوزی** بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم صفت ہے، آپ لوگوں کے گناہوں پر پریشان ہوتے اور اللہ کے سامنے ان کے لیے دعا کرتے۔ ہمیں بھی حسن خلق کے ساتھ لوگوں کو اچھی باتیں سمجھانی چاہئیں۔

دعا ہے کہ اللہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے اطاعت گزار انصار میں شامل فرمائے۔ آمین۔

شہر بانو✍️ 


درس اخلاق منتظرین # 13.

*موضوع ,*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

*خلاصہ

اج کے درس میں بھی نبی رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتایا گیا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین اخلاق کے مالک تھے۔ اپ کے اخلاق کو انسانوں کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔

خوش اخلاقی اور بندوں کے ساتھ اچھے رویے کی اہمیت پہ روشنی ڈالی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کتنا ہی عبادت گزار ہو لیکن انسانوں کے ساتھ اس کا رویہ اچھا نہیں اور خوش اخلاقی سے پیش نہیں اتا بلکہ بد خلقی سے پیش آتا ہے  تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا۔

⬅️نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سورہ *ال عمران ایت۔ 159*۔ میں بیان کیا گیا ہے۔

⬅️اپ انسانوں کے لیے بہترین رول ماڈل تھے اور اپ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش اتے تھے *سورہ ال عمران کی ایت نمبر 159* میں پروردگار عالم نے رسول اکرم ص کی اسی خوبی کو بیان فرمایا ہے۔ اگر اپ سخت گیر ہوتے اور لوگوں کو بالجبر توحید کا درس دیتے ہیں تو لوگ اپ سے دور بھاگتے ۔۔اس کے برعکس ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ لوگ اپ سے بہت متاثر تھے اور اپ کی بات توجہ سے سنتے تھے اور اپ کی بات پر یقین بھی کرتے تھے۔ ۔ ۔ یہی وجہ ہے کہ اج تک 1400 سال گزرنے کے بعد تھی تمام لوگ (حتیٰ کہ جو مسلمان بھی نہیں وہ بھی) اپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھتے ہیں۔ 

⬅️منتظرین کے لیے اس میں درس ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھیں ۔ لوگوں کو دین کی طرف اور امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کی طرف مائل کرنا ہے تو لوگوں سے نرمی اور خوش خلقی سے پیش ائیں۔

⬅️اس کے علاوہ بتایا گیا کہ رحمت اور اسوہ حسنہ خوش خلقی اور تمام اچھی صفات۔۔۔  یہ سب صفات پروردگار کی طرف سے ہیں۔ چونکہ ہم اللہ تعالی کو دیکھ نہیں سکتے اس لیے رب کریم نے اپنے نبی اور معصومین علیہ السلام کو ان صفات کا حامل بنایا ہے۔۔اور اسی لیے اور اب ہمارا رب یہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام بندوں میں یہ صفات کریمہ پیدا ہوں۔

⬅️علماء کو چاہیے کہ لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش ائیں۔ اگر کوئی غلطی یا خطا دیکھیں یا کوئی ان کے پاس اپنا مسئلہ لے کر ائے تو فورا سے عذاب اور سزا کی آیات سنانے نہ بیٹھ جائیں بلکہ اللہ تعالی کی نعمتوں اور رحمت اور اس کی بخشش کا تذکرہ کر کے اس کے دل میں اللہ کی اور معصومین کی محبت کو اجاگر کریں کہ اتنی نعمتیں عطا کرنے والے مالک حقیقی کا حق ہے کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔۔۔ اس کی مہربانی اور عطاؤں کا تذکرہ کر کے اس کے بعد تائب ہونے کی اہمیت بتائی جائے اور پھر نیکی پر جزا اور گناہوں پر سزا کے بارے میں گفتگو کی جائے۔

⬅️ *دل سوزی*

اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک اور صفت دل سوزی ہے۔۔ یعنی کہ اپ اتنے نرم دل اور حساس تھے کہ لوگوں کے گناہوں پر پریشان ہو جاتے تھے۔۔۔بارگاہ الہی میں ان کے لیے انسو بہاتے تھے۔ اسی پر قران مجید میں *سورہ حجر آیت 88* میں ۔۔۔اور

 *سورہ توبہ  ایت نمبر۔۔ 128* میں اپ کی اس خوبی کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اپ بندوں کی بخشش کے لیے کس قدر حساس تھے۔ 

اس میں بھی ہمارے لیے درس ہے کہ لوگوں کے ساتھ حسن خلق سے پیش ائیں  ان کو پیار محبت کے ساتھ امر بالمعروف کریں لیکن اگر کوئی پھر بھی گناہ اور شر کے راستے پر چلتا رہے تو پھر یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ 

🤲دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں رحمت اللعالمین کے اسوہ حسنہ اور ائمہ کرام کی معرفت اور ان کے راستے  پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین ثم امین اور ہمیں وقت کے امام کے اطاعت گزار انصار میں شامل فرمائے آمین ثم آمین ۔

*الھم عجل لولیک الفرج

شہر بانو✍️ 

**بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم صلی علی محمد ال محمد 

درس نمبر 13 

موضوع حسن اخلاق 

 اج کے موضوع اخلاق حسنہ میں رحمت اللعالمین پیغمبر اکرم کی ذات کو موضوع سخن قرار دیا اور اپ کی حیات طیبہ سے مختلف صفات جو ہماری زندگی کے لیے مشعل راہ ہیں ان کو پڑھنے سے جاننے سے ہماری اپنی تربیت ہوتی ہے ایک اہم ترین صفت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں تھی ان کے پورے وجود میں وہ صفت طیبہ خود ان کا حسن خلق تھا اسلام کے اندر اخری بیان ہوا ہے کہ جنت اس کو ملے گی جس کے اخلاق اچھے ہوں گے جنت ان کی جگہ ہے ہو جائیں گے اگر کوئی شخص جتنا بھی بڑا عبادت گزار ہو لیکن اگر اس کے اندر اخلاق حسنہ نہ ہو تو وہ کبھی بھی جنتی نہیں بن سکتا ہمارے لیے بہترین سب سے زیادہ خوش اخلاق رسول خدا کی ذات ہے سورہ ال عمران کے اندر 169 ایت اپ کے حسن اخلاق کی طرف اشارہ کرتی ہے خدا ارشاد فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کی رحمت ہے جو مخلوق کے ساتھ ہے یعنی پیغمبر کا لوگوں کے ساتھ مہربان ہونا یہ اصل میں جلوہ رحمت الہی ہے اخلاق کے اصل معلم تو پروردگار عالم ہے لیکن وہ اپنی مخلوق میں سے ایک ہستی کو جب سفیر بناتا ہے تو وہ ہمارے لیے اسوہ بن جاتی ہے خود خدا اس اعتبار سے ہمارے لیے اس وقت کرتا ہے اور جب رسول خدا کو اسوہ حسنہ اخلاق حسنہ کے بلند مقام پر فائز کرتا ہے تو یہ بھی اصل میں رحمت پروردگار کا جلوہ تھا اگر اپ لوگوں کے ساتھ سخت ہوتے جھگڑا کرنے والے ہوتے سخت مزاج سخت دل ہوتے تو یہ جو ہمارے ارد گرد لوگ اکٹھے ہوئے ہیں یہ سب دوڑ جاتے ہیں یہ سب جدا ہو جاتے ہیں یعنی یہ جو لوگ اے رسول موجود ہیں اور تیرے عاشق ہیں اور تجھ پر اپنی جان نچھاور کر رہے ہیں اور تجھ سے جدا ہونا نہیں چاہتے یہ اس لیے کہ تیرے اندر اس نے اس نے خلق کو ڈال دیا ہے اور ہمارے معاشرے کے اندر وہ ادمی جو اس نے خلق رکھتا ہے وہ سب کے ساتھ مہربان بھی ہے وہ سب کا محبوب ہوتا ہے سب اس کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے ہیں یہ ایت پیغام دے رہی ہے اور سب سے پہلا پیغام یہی ہے اصل میں رحمت پروردگار کا جو لوگ چاہے کتنے بھی عالم ہو پڑھے لکھے ہوں عبادت گزار ہوں لیکن اگر وہ سخت دل ہوں تو ان کا لوگوں کے اندر کوئی مقام نہیں ہے مثلا مثلا بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں ایک شخص اتا ہے کسی عالم دین کے پاس اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے تو وہ ایک اس سے اتنے بڑے عذاب سنا دیے جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ میں کسی صورت بخشا نہیں جاؤں گا کیونکہ میری بخشش کی کوئی راہ نہیں ہے ہو سکتا ہے وہ شخص وہ عالم دین جو دین سے ہے اس نے اسے درست بتایا لیکن ابھی ٹائم نہیں تھا یا اللہ کی بخشش خدا کی رحمت سے امیدوار کرنا تھا پہلے اسے بتانا تھا کہ تیری توبہ کی راہ ابھی باقی ہے جب وہ مائل ہو جاتا پھر اہستہ اہستہ اس کی تربیت کرنی تھی اسے بتانا تھا کہ اس کا گناہ اگر ایسا ہے یعنی اخلاق حسنہ کو کسی بھی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہیے حتی کہ حقوق اللہ کا مسئلہ ہو یا حقوق العباد کا مسئلہ ہو لوگوں سے مہربان رہیں اخرت کی فکر کریں لوگوں کو دنیا کے امور میں ان کی مشکلوں کو حل کرنے کی کوشش کریں خوش اخلاقی سے جواب دیں اور پیغمبر کسی رت پر چلتے ہوئے ہمارے اندر انشاءاللہ یہ تمام باتیں ہونی چاہیے اور وہ ایثار ایثار نہیں ہے اگر کسی نے بداخلاقی کی ہے تو اس سے اخلاق سے اس کا جواب دیں اور یہ وہ جلوہ اس خلق پیغمبر کا اثر ہے جو ہماری تربیت کے لیے ہے اور جو ایک اور اہم ترین صفت ہے 

صفت دلسوزی اور حسن خلق میں تھوڑا سا فرق ہے سورہ توبہ ایت نمبر 128 اور سورہ حجر 

سورہ حجر کی ایت نمبر 88 میں اپ کی اس خوبی کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اپ بندوں کی بخشش کے لیے اس قدر حساس تھے 

درس اس میں بھی ہمارے لیے درس ہے کہ لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش ائیں پیار اور محبت کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور اگر کوئی پھر بھی غلط راستے پر چلتا ہے تو یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ یوسف کے زہرا کے ظہور میں تعجیل عطا فرما اور امام کی راہوں پر چلنے کی نیک توفیق عطا فرما امین ثم امین اللہم عجل لولیک الفرج

شہر بانو✍️ 

**



**درس اخلاق منتظرین: اپنے لمحات خیر کو ضائع نہ کریں** ✍️



*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*


درس اخلاق 13



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ



قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت 148 میں اللہ فرماتا ہے: *فَاسْتَبِقُوا الْخَيْـرَاتِ* یعنی "کار خیر کی جانب سبقت کرو" 🌟۔



ہماری زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جو اللہ کی رحمت کی علامت ہیں ❤️۔ اگر ہم ان لمحوں سے فائدہ اٹھائیں، تو یہ ہماری سعادت کا سبب بن سکتے ہیں ✨۔ یہ لمحات ہر ایک کے لیے آتے ہیں، مگر غفلت سے یہ فرصتیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں 😔۔



ہمیں چاہیے کہ ہم ان لمحات کی تلاش میں رہیں 🔍۔ ہمارے اردگرد کئی مسائل ہیں، جہاں تھوڑی سی مدد بھی بڑی رحمتوں کا باعث بن سکتی ہے 🌈۔



**ایک دلچسپ واقعہ:**



ایران کے معروف خطیب، حجت الاسلام استاد مسعود عالی، آیت اللہ محمد تقی بہلول کے بارے میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں 📖۔ آیت اللہ بہلول ایک عظیم عالم، عارف اور مجاہد تھے 🌹۔



جب وہ اصفہان آتے تو میرے دوست کے گھر ٹھہرتے تھے 🏡۔ ایک بار، ایک مجلس میں تقریر کرتے ہوئے انہیں چھینک آئی 🤧، اور چونکہ ان کے پاس رومال نہیں تھا، میرے دوست نے اپنی قیمتی ٹوپی ان کو دے دی 🎩۔ آیت اللہ نے اس پر ایک خاص نظر سے دیکھا 👀۔



جب وہ اصفہان کے بعد گھر آئے تو پوچھا: "کیا تمہاری کوئی آرزو ہے؟" دوست نے کہا کہ وہ کربلا جانا چاہتے ہیں لیکن راستے بند ہیں 😢۔ آیت اللہ نے انہیں غسل زیارت کرنے، استغفار کرنے اور مخصوص سورتیں پڑھنے کی ہدایت کی 🛀📜۔



پھر، وہ چند قدم چلنے کے بعد، انہیں ایسا لگا جیسے وہ کربلا میں ہیں 🌌۔ انہوں نے وہاں عبادت کی 🙏 اور جب واپس آئے تو یہ ایک خواب کی طرح تھا 🌙۔



**نکتہ:**



یہ واقعہ بتاتا ہے کہ چھوٹے سے کام کی اہمیت کس قدر بڑی ہوسکتی ہے 🛠️۔ اگر ہم اپنے بزرگوں کی خدمت کریں اور اللہ کی راہ میں قدم بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے رحمتوں کا باعث بن سکتا ہے 🌺۔



اللہ ہمیں ایسے قیمتی لمحے عطا فرمائے 🙏، اور ہمیں اپنے بزرگوں، عزیزوں اور اردگرد کے لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق دے۔ آمین 🌟۔



شہر بانو✍️




بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 


اللہم عجل لولیک الفرج 



درس اخلاق 12


سورہ قلم آیت 4 


آپ ص کا مزاج کریمانہ ہے ہمارے آئمہ نے بھی آپ ص کو اپنے لئے اسوہ قرار دیا آپ ص نے فرمایا مہدی عج کی سیرت میری سیرت ہوگی 


سورہ رعد 19٫20 


وعدہ کی پابندی ضروری ہے 


جنھوں نے دکھ پہچایا ان کے ساتھ بھی کریمانہ 


صفت کریم وہ ہے جو برا کرے اس سے بھی اچھا کریں 


آپ ص سلام کرنے میں سبقت فرماتے 


سلام بہت بڑی دعا ہے 


سلام ایک دوسرے کی ہدایت کے لیے دعا ہے اور روح کی تربیت ہے


سورہ انعام آیت 54 اور سورہ  نمل آیت 59


سلام کا ثواب بےپناہ ہے انتطار نہ کریں کہ اگلا خود کرے 


ایک دفعہ اگر کر لیا تو بار بار کر لیں سلام 


اجتماعی طور پر ظاہر ہے مسلمان کسی کے لیے بھی خطرہ نہیں رکھتا سلامتی کے لیے دعا کرتا ہے 


آپ ص ہر ایک کو بڑھ کر سلام کرتے تھے 


سلام سے گناہ جھرتے ہیں اور روح کو تقویت ملتی ہے جس سے ناراض ہیں اسے سلام کرنا 


آمین آمین ثمہ آمین یارب العالمین یا الرحم الراحمین




سورہ قلم آیت 4


وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ﴿۴﴾


۴۔ اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔


تفسیر آیات


یہ آپ کا عظیم اخلاق ہے کہ آپ کی شان میں انتہائی نامناسب جسارت ہوتی ہے، ان تمام اہانتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کے پاس خلق عظیم ہے۔



اچھا اخلاق، اعلیٰ نفسیات کا مالک ہونے کی علامت ہے اور فکر و عقل میں اعلیٰ توازن رکھنے والا ہی اعلیٰ نفسیات کا مالک ہوتا ہے۔ خلق عظیم کا مالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عقل عظیم کا مالک ہے۔ اس طرح مخلوق اول، عقل ہو یا نور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، بات ایک ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے:



اِنَّمَا بُعْثِتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ۔ (مستدرک الوسائل ۱۱: ۱۸۷)میں اخلاق حمیدہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔


لہٰذا جو ذات اخلاق حمیدہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوئی ہے وہ خود اخلاق حمیدہ ہی کی تکمیل کا مظہر نہ ہو گی بلکہ الٰہی اخلاق کا بھی مظہر ہو گی۔



الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 9، صفحہ 261




سورہ رعد آیت 19 


آغا صاحب معذرت اس کی تو سمجھ نہیں آئی 


سورہ رعد آیت 20


الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾


۲۰۔ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور پیمان کو نہیں توڑتے۔


الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ: وہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ جو عہد بزبان فطرت اللہ سے کیا ہے۔ میثاق فطرت وہ میثاق ہے جو دیگر تمام فروعی عہد و میثاق کے لیے اساس کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ وہی عہد ہے جو نسل آدم سے ابتدائے فطرت میں لیا گیا تھا اور خود اس کو اپنے اوپر گواہ بنا کر پوچھا تھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا تھا: ہاں۔


الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 4، صفحہ 286




سورہ انعام آیت 54


وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢ ابِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۵۴﴾


۵۴۔اور جب آپ کے پاس ہماری آیات پر ایمان لانے والے لوگ آجائیں تو ان سے کہیے: سلام علیکم تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ تم میں سے جو نادانی سے کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔



تفسیر آیات


جاہلیت کی اقدار کے مطابق جن افراد کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کیا جاتا تھا، انہی افراد کو اسلامی قدروں کے مطابق یہ مقام ملتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ کو یہ حکم ملتا ہے کہ جب یہ لوگ آپؐ کے پاس آ جائیں، انہیں سلام علیکم کہیں، ان پر سلام کریں، انہیں انسانی حقوق اور احترام آدمیت سے نوازیں۔ رسول رحمتؐ کو یہ حکم ملتا ہے ان کو عزت و اکرام دیں۔۔



کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ: تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے۔ 



ابِجَہَالَۃٍ: اگر زمان جاہلیت میں نہ جاننے کی وجہ سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے تو اللہ اسے معاف کر دے گا۔ آیت کا اطلاق ان تمام گناہوں کو شامل کرتا ہے جو انسان سے از روئے غفلت سرزد ہو جاتے ہیں، پھر توبہ کرتے ہیں۔ 


بِجَــہَالَۃٍ کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ النساء آیت ۱۷۔



وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ یَظۡلِمۡ نَفۡسَہٗ ثُمَّ یَسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا (۴ نساء : ۱۱۰)اور جو برائی کا ارتکاب کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو درگزر کرنے والا، رحم کرنے والا پائے گا۔




اہم نکات


۱۔ رسول اسلامؐ پر واجب ہے کہ مؤمنین کو احترام آدمیت سے نوازیں۔



۲۔ رحیم ذات کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحمت عام کرے۔



الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 3، صفحہ 56





سورہ نمل آیت 59


قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾


۵۹۔ کہدیجئے: ثنائے کامل ہے اللہ کے لیے اور سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پر، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں؟


تفسیر آیات


۱۔ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ: انبیاء علیہم السلام کی سرگزشت بیان کرنے کے بعد اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: آپ اللہ کی حمد و ستائش کریں۔ وہ لائق حمد ہے۔ جو بھی حمد و ستائش قابل تصور ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے۔ جس کسی میں حمد و ستائش کے قابل کوئی بات ہو گی تو اس کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔



۲۔ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی: سلام ہو اللہ کے برگزیدہ بندوں پر۔ جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ یہ برگزیدہ بندے کون ہیں تو یہ آیت ہمارے سامنے آتی ہے:



اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿﴾ ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿﴾ (۳ آل عمران: ۳۳۔ ۳۴)بے شک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین پر برگزیدہ فرمایا ہے۔ وہ اولاد جو ایک دوسرے کی نسل سے ہے اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔


لہٰذا قرآن کی رو سے برگزیدہ بندگان، انبیاء اور اولاد انبیاء علیہم السلام ہیں۔



۳۔ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ: اللہ کے ساتھ ان لوگوں کا کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا جنہیں یہ مشرکین اللہ کے ساتھ شریک گردانتے تھے لیکن مشرکین ان شریکوں کو اللہ سے زیادہ چاہتے تھے اس لیے ایک دعوت فکر کے طور پر کہا گیا: کیا اللہ بہتر ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے یا وہ بت جن کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے؟



الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 6، صفحہ 176



شہر بانو✍️ 







### درس اخلاق 12



**بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم**  


**اللہم عجل لولیک الفرج**



**آیات کا خلاصہ:**



1. **سورہ قلم آیت 4**  


   "وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ"  


   آپ کا اخلاق عظیم ہے، اور آپ کی سیرت ہمارے آئمہ کے لیے نمونہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مہدی عجل اللہ تعالیٰ کی سیرت میری سیرت ہوگی۔



2. **سورہ رعد آیت 19-20**  


   "الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ"  


   وعدے کی پابندی ضروری ہے اور جو لوگ دکھ سہتے ہیں ان کے ساتھ کریمانہ سلوک کرنا چاہیے۔ 



3. **سلام کی اہمیت:**  


   سلام ایک بڑی دعا ہے اور ایک دوسرے کی ہدایت کے لیے دعا کرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرنے میں سبقت فرماتے تھے اور یہ عمل روح کی تربیت کا حصہ ہے۔



**اہم نکات:**



1. **سلام کا ثواب:**  


   سلام کرنے سے گناہ جھڑتے ہیں اور روح کو تقویت ملتی ہے۔ کسی سے ناراض ہوکر بھی سلام کرنا چاہئے۔



2. **اللہ کی رحمت:**  


   اللہ نے اپنی رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے۔ جو نادانی سے گناہ کرتا ہے، وہ توبہ کرکے اپنی اصلاح کرسکتا ہے۔



3. **اخلاق کا معیار:**  


   اچھا اخلاق اعلیٰ نفسیات کی علامت ہے۔ آپ کا اخلاق دنیا کی سب سے بڑی مثال ہے۔



**خلاصہ:**  


اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے، وعدے کی پاسداری کرنی چاہیے، اور سلام کے ذریعے محبت اور ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم ایک دوسرے کی روحانی ترقی میں مدد کر سکتے ہیں۔



شہر بانو✍️ 




*درس اخلاق منتظرین* ۔


درس 12 


 *موضوع* : *سیرت طیبہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم* ۔



*وفا ۔ کریمانہ صفت اور سلام میں سبفت* ۔



*خلاصہ*


 اس درس میں استاد صاحب نے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی  


شخصیت مبارک کے اخلاقی پہلوؤں کو بیان کیا ہے ۔


 آپ کی شخصیت اور سیرت ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے اور  اس عظیم شخصیت سے ہم نے درس لینے ہیں۔


 اس درس  سے پہلے جو صفات محمدی بیان ہو چکی ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔



1 *صفت احسان* 


2 *صفت  اخلاص* 


3 *صفت ادب* 


4 *صفت استقامت* 


5 *صفت امانت داری* 



 *آج کے درس میں آپ ص کی صفات 


⬅️*6 وفا* 


⬅️*7 کریمانہ مزاج* اور 


⬅️*8 سلام میں پہل کرنا بیان ہوا ہے* 



 ہماری روح کی تربیت کیلئے آپ کاملاً ایک  ہادی ہیں۔


  بہ عنوان مربی اپ نے جس انداز سے حق ادا کرنا چاہیے تھا اپ نے ادا کیا



 *سورہ قلم کی آیت نمبر 4* میں ارشاد الٰہی ہے


"و انک لعلی خلق عظیم" 


 تو خلق عظیم یعنی پیغمبر ص کی  تمام اخلاقی صفات درجہ اکمل پہ ہیں۔  اپ دنیا والوں کے لیے صرف اور صرف ایثار اور اکرام کرنے والے ہیں۔


 لوگوں کو احترام دیتے ہیں لوگوں کے لیے فداکاری کرتے ہیں۔


 


⬅️ *آئمہ کرام کے لیے اسوہ*


  نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات کو ہمارے ائمہ علیہم السلام نے بھی اپنے لیے اسوہ قرار دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے ائمہ کی اتباع میں نبی اکرم کو اپنے لیے اسوہ قرار دیں۔


  


*امام زمانہ علیہ السلام اور سیرت نبوی میں مماثلت* 


*ہمارے وقت کے امام  بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے لیے اسوہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اپنے جد یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت پہ چلوں۔ خود ہمارے پیغمبر بھی یہی فرماتے تھے کہ مہدی صلوات اللہ علیہ کی سیرت میری سیرت ہوگی* 


  


استاد صاحب نے نبی اکرم ص کی صفات کو قرانی ایات کے ساتھ بیان کیا ہے ہیں تاکہ دونوں چیزوں پر توجہ رہے۔


یعنی  ایک قران پہ 


اور دوسرے ذات رسالت ماب (ص) پہ 


 


*6*آپ کی  ایک اہم ترین صفت *وفا کرنا* ہے۔ اپ کے اندر جو وفاداری ہے ۔


 دنیا بھر کے اندر جو اصول اخلاق ہیں ان میں ایفائے عہد کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔


ایک عاقل انسان ہمیشہ اپنا عہد و پیمان پورا کرنا ہے ۔ *سورہ رعد* آیت نمبر 19+20 کا حوالہ دیا گیا۔  



⬅️7 *کریمانہ مزاج*  


 کسی شخص کو نبی اکرم سے کبھی بھی کسی قسم کا دکھ درد یا  ناراضگی نہیں ہوتی تھی۔  اپ ہمیشہ ہر ایک  سے بہت ہی بزرگواری سے پیش اتے تھے۔ بہت ہی محبت اور شفقت سے پیش اتے تھے ۔ 


یہ مزاج  کریمانہ  اللہ تعالی کی افضل ترین صفت ہے۔ ہم اپنے رب کی  سرکشی کرتے ہیں اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اپنے بعض کاموں سے خدا کو غضب دلاتے ہیں۔۔ یعنی کسی کے حق میں جب ہم برا کرتے ہیں۔۔ کسی خدا کی مخلوق کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔ ۔ کسی کے حق میں تجاوز کرتے ہیں  ۔ ۔ تو اس سے خدا کو غضب ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود خدا کریم ہے وہ ہمارا رزق بند نہیں کرتا وہ پھر بھی ہمیں بہت ساری نعمتیں دیتا ہے تو یہ صفت کریمانہ پروردگار ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔


اور یہ بھی ہمارے لیے درس ہے اگرچہ ہم انتقام لے سکتے ہیں لیکن نہیں لیں ۔۔ جنہوں نے دکھ پہنچایا ہے ان کے ساتھ بھی بزرگواری سے پیش آئیں۔  کریمانہ انداز سے جو ہے وہ پیش انا چاہیے ۔


*سورہ قلم کی آیت کے بارے میں تفسیر  مجمع البیان میں خلق عظیم کا جو معنی بیان کیا گیا وہ یہی پیغمبر کی طبیعت کریمہ ہے*  کہ   صرف اس کے ساتھ اچھے نہیں ہیں جو ان کے ساتھ اچھے تھے بلکہ جو ان کے ساتھ اچھے نہیں تھے ان سے بھی اچھے رہے تھے۔   



 *ایک خاتون کا واقعہ* جو ہر روز گھر کا  کوڑا کرکٹ اپ پر پھینک دیتی تھی اور اپ اسے بہت ہی تحمل سے برداشت کرتے تھے۔  ایک دن جب اس نے کوڑا نہیں پھینکا دو دن نہیں پھینکا تو پوچھنے پر بتایا گیا  وہ بیمار ہے تو اپ  اس کے گھر تشریف لے گئے ۔۔ اس کہ تیمار داری اس کی خدمت میں مشغول ہو گئے ۔ یعنی اس نے آپ کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا اور آپ اسکا جواب اچھائی اور حسن سلوک سے  دے رہے ہیں تو یہ وہ صفت کریمانہ ہے کہ جس نے پھر اس خاتون کو بھی مسلمان کیا اور وہ بھی آپ پر ایمان لے ائی ۔ 


یعنی صفت کریمہ کا خاصہ ہے کہ یہ دوسروں کی روح میں بھی تحول پیدا کر دیتی ہے۔ یہ انسان کی اپنی روح کو پرورش دیتی ہے۔  اور دوسروں کی  روح  کی میل کو بھی دھوتی ہے۔



⬅️8 *سلام میں پہل*  جب بھی اپ کا سامنا کسی سے ہوتا تھا تو اپ سلام میں سبقت فرماتے تھے سلام کرنے میں پہل کرنا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت حسنہ ہے۔۔  کہ  جب کوئی مسلمان ۔۔ کوئی مومن کسی مومن کو دیکھتا ہے تو سب سے پہلے سلام کرتا ہے ۔ *سلام دراصل  دوسرے کے لیے دعائے سلامتی ہے*۔ دوسرے کے لیے عافیت و سلامتی طلب کرنا ہے ۔۔ کہ پروردگار اسے ہر قسم کی بلا سے محفوظ رکھے اسے صحت و سلامتی کی دعا  دینا  بہت بڑی دعا ہے ۔ مومن جب سلام کرتا ہے تو دعا دیتا ہے کہ ہر قسم کی بیماریاں مصیبتیں دوسرے سے دور ہو جائیں ۔ 


سلام کو معمولی چیز نہ سمجھیں یہ بہت بڑی دعا ہے کہ پیغمبر اسلام  ہمیشہ جب خود بھی کسی کا سامنا کرتے تھے تو اس کے ساتھ اپنی گفتگو کا اغاز کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اس میں سبقت کرو۔ تو یہ ایک  دوسرے کے لیے دعائے رحمت ہے۔


*نکتہ ہدایت* 


سلام  کے اندر ایک اور نکتہ ہے وہ یہ کہ ہم دوسرے کی ہدایت کے لیے دعا کرتے ہیں۔۔جب ہم دوسرے کو سلامتی اور عافیت کی دعا دیتے ہیں تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اگر وہ خدا کی نافرمانی کے راستے پر ہے تو وہ اس غلط راستے سے ہٹ کر خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری اور عافیت کے راستے پر ا جائے تاکہ اس پر خدا کی طرف سے سلامتی نازل ہو۔*


 *اس حوالے سے  سورہ انعام کی ایت نمبر 54 اور سورہ نمل کی ایت نمبر 59 کا حوالہ بھی دیا گیا* 



⬅️سلام میں پہل کرنے سے تکبر سے دوری پیدا ہوتی ہے۔


⬅️سلام میں پہل کرنا صلح کا پیغام بھی دیتا ہے کہ اپ اگلے شخص کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں کہ اس کے لیے عافیت اور طول عمر کی دعا کر رہے ہیں۔


 ⬅️ سلام کا جواب ہمیشہ اس سے بہتر طریقے سے دینا چاہیے جیسے اگر کوئی السلام علیکم کہی تو جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر اس کا جواب دینا چاہیے۔


 ⬅️ سلام میں پہل کرنا گناہوں کی بخشش کا سبب ہے۔


⬅️ سلام میں پہل کرنے سے روح اور قلب میں وسعت اور نورانیت پیدا ہوتی ہے۔


🤲 دعا ہے کہ پروردگار ہماری روح کو پرورش دے بالیدگی عطا فرمائے اور سنت پیغمبر کے مطابق ہمارے اخلاق  کامل ہوں  امین۔۔اور ان عظیم اخلاقی صفات کے ساتھ ہم اپنے وقت کے امام حضرت بقیت اللہ علیہ السلام کی اطاعت گزار انصار و امان میں شامل ہوں ان شاءاللہ امین ثم امین۔ 



*الھم عجل لولیک الفرج*    




شہر بانو ✍ 


درس اخلاق منتظرین 16


**موضوع: شکر اور ناشکری**


*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*


*عالمی مرکز مہدویت، قم*


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️


جمعہ مُبارک 19  جمادی الاول   1446( 22  نومبر     ، 2024)**





قرآن مجید میں سورہ یونس کی آیت 21 اور اس کے بعد کی آیات میں اللہ تعالی نے انسانوں کی ناشکری کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ جب تکلیف کے بعد ہم نے انسانوں کو اپنے لطف و کرم سے راحت دی، تو وہ ہماری آیات کے بارے میں مکر کرنے لگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسانوں پر کوئی مشکل آتی ہے، تو وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں، لیکن جب اللہ ان کی مشکل حل کرتا ہے، تو وہ اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے دوبارہ ناشکری کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔


**شکر اور ناشکری کی فطرت**


انسان کی فطرت میں ایک خطرناک عادت پائی جاتی ہے جو اسے ناشکری کی طرف لے جاتی ہے۔ پیغمبرؐ نے فرمایا کہ انسان ہمیشہ ان چیزوں پر شکوہ کرتا ہے جو اسے نہیں ملیں، اور وہ چیزیں جنہیں وہ پا چکا ہوتا ہے، ان کی قدر نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، اور ہم ان کا شکر ادا کرنے کے بجائے صرف وہ چیزیں یاد رکھتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ہم غمگین اور مایوس ہو جاتے ہیں۔


دنیا ایک دارالبلاء (آزمائش کا مقام) ہے، جہاں خوشی اور غم، راحت اور تکلیف کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اس دنیا میں مومن کے لیے صبر ضروری ہے۔ اگر کوئی تکلیف یا مشکل آتی ہے، تو اسے شکر کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے، اور اگر اللہ کی رضا کے مطابق وہ دور نہ ہو، تو صبر کرنا چاہئے، کیونکہ اس کا بدلہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہوگا۔


**شکر کے مختلف پہلو**


شکر کرنا صرف زبان سے نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کی نعمتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا اور ان کا غلط استعمال نہ کرنا بھی شکر کی ایک صورت ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ انسانوں کو مختلف نعمتیں عطا کرتا ہے، جیسے رزق، حسن، جسمانی صحت وغیرہ، اور انسان ان نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کرتا ہے، جو کہ ناشکری ہے۔


**مخلص لوگوں کی آزمائش**


اللہ بعض مخلص لوگوں کو آزمائش میں ڈال کر ان کے دلوں کی کیفیت جاننا چاہتا ہے۔ ایسے لوگ جو جسمانی یا مالی طور پر مشکلات میں ہیں، لیکن پھر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ان کی حالت سے ہمیں سبق لینا چاہیے۔ ایسے لوگ اللہ کے ذکر سے اپنی روح کو سکون دیتے ہیں اور آخرت کے لئے عمل کرتے ہیں۔


**شکر کا اثر**


شکر کرنے سے انسان کی زندگی میں خوشی اور سکون آتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ اللہ کی نعمتوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا، اور جب ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ مزید نعمتیں عطا کرتا ہے۔


ایک واقعہ میں ایران کے مشہور عالم جناب کافی نے اپنی زندگی میں اس بات کا تجربہ کیا کہ جب وہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں، تو ان کی زندگی میں امام زمانہؑ کی طرف سے ایک روحانی ذمہ داری اور نعمت کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے گناہ مٹتے ہیں، بلکہ اللہ انہیں دینے والا بناتا ہے، نہ کہ مانگنے والا۔


**اختتام**


اللہ کی نعمتوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا، اور ہمیں ہر وقت ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کرنے سے نہ صرف دنیا میں سکون آتا ہے بلکہ آخرت میں بھی انعامات ملتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کی دی ہوئی ہر چھوٹی بڑی نعمت کا قدر کرنا چاہیے، اور ناشکری کی طرف نہ جانا چاہیے۔


***اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️**


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

*اخلاق منتظرین*

*برس نمبر 16*۔


*موضوع شکر اور ناشکری*۔


*خلاصہ* 

درس کے شروع میں ہی استاد صاحب نے موضوع کے بیان کے بعد *سورہ یونس* کی ان آیات کا حوالہ دیا جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ناسپاسی اور ناشکری کے بارے میں بیان کیا ہے۔


*القرآن - سورۃ نمبر 10 يونس*

*آیت نمبر 21*


*ترجمہ:

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔


*القرآن - سورۃ نمبر 10 يونس*

آیت نمبر 22


*ترجمہ*

*وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں*


*۔القرآن - سورۃ نمبر 10 يونس*

*آیت نمبر 23*


*ترجمہ*

*لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے*


⏪ان ایات میں اور قران مجید کی متعدد ایات میں  بتایا گیا کہ جب انسان پر مصیبتیں اور مشکلیں اتی ہیں تو کہتا ہے کہ جب یہ مشکل دور ہو جائے گی تمہیں اللہ کا نیک بندہ بن جاؤں گا اور اس کی مکمل اطاعت کروں گا اور جب اللہ تعالی اس مصیبت اور مشکل کو دور کر دیتا ہے تو وہ خدا کی حدود کو توڑنے لگ جاتا ہے اور پھر سے اس کی نافرمانی کرنے لگتا ہے 

اس کی وجہ انسان کا ناشکرا پن ہے۔


⏪انسان اللہ تعالی کی عطا کردہ بہت ساری نعمتوں کی طرف تو توجہ نہیں کرتا لیکن جیسے ہی کوئی ایک کمی یا کوئی ایک مشکل سامنے اتی ہے تو ان سب نعمتوں کو بھلا کر اللہ تعالی سے اس مصیبت یا مشکل کے لیے شاکی ہو جاتا ہے 


⏪انسان کی زندگی میں بہت ساری مشکلات ا سکتی ہیں ہو سکتا ہے کہ اس پڑوس میں کوئی بندہ ایسا ہو جو پریشان کرنے والا ہو۔۔۔۔گھر کے افراد میں سے کوئی ایسا ہو کام کی جگہ آفس وغیرہ میں یا بیوی یا شوہر ایسا ہو کہ جن کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو چکی ہو لیکن انسان اللہ کی نعمتوں کو فراموش کر کے اسی ایک مشکل پریشانی کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ناشکری کا شکار ہو جاتا ہے۔ 


💫 امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ 40 دن نہیں گزرتے کہ ہمارے مومن پر کوئی مشکل اور پریشانی نہ ائے۔


💫 آیت اللہ کافی کا وہ واقعہ بیان کیا گیا کہ جس میں ان پر خمس ادا کرنے کی ذمہ داری تھی اور وہ خمس و زکوۃ کی رقم سے لوگوں کی مدد کرتے تھے ایک بار ایک شخص رات کو ان کے پاس ایا اور مدد کی درخواست کی۔۔ تو وہ اپنی نیند خراب ہونے پر کافی پریشان ہوئے اور بڑبڑاتے ہوئے اس شخص کی مدد کی۔ رات کو خواب میں امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور امام نے فرمایا کہ اگر اس ذمہ داری سے تم تھک گئے ہو تو ہم یہ کسی اور کو سونپ دیتے ہیں۔ پھر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ کہ یہ ذمہ داری تو لطف امام ہے۔۔ امام کی نظر کرم ہے کہ انہوں نے مجھے یہ ڈیوٹی سونپی۔  اور انہوں نے معافی مانگی توبہ کی۔۔


💫 *آئمہ کرام کے فرامین کے مطابق انسان کی زندگی دو حالتوں پر مشتمل ہونی چاہیے ایک شکر اور دوسرے صبر* 

💫 انسان کو چاہیے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کو شمار کر کے اس پروردگار عالم کا شکر گزار رہے اپنے ہاتھوں سے کام کر رہا ہے کسی کی محتاج ہی نہیں ہے تو یہ بھی ایک نعمت ہے۔۔

 خدا کا شکر اپنے پیروں سے چل پھر رہا ہے تو یہ بھی اللہ کی نعمت ہے۔۔ 

 اگر اپنے گھر میں ایک چھت کے نیچے ارام سکون سے بیٹھا ہوا ہے تو یہ بھی اللہ کی نعمت ہے اس کا شکر ادا کرے۔ 

اور اگر کوئ مصیبت یا پریشانی اتی ہے تو صبر سے کام لے جیسا کہ قران مجید میں ارشاد ہے *واستعینو بالصبر والصلواۃ*


💫 قران مجید میں *سورہ ابراہیم* میں ارشاد باری تعالی ہے۔۔

*ترجمہ* کہ *اگر تم شکر گزار بنو گے تو تمہاری نعمتوں میں اضافہ ہوگا*


🤲 *دعا ہے کہ پروردگار عالم ہم سب کو اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور امام زمانہ علیہ السلام کے اطاعت گزار اور باوفا انصار بے شمار ہو الہی امین*🤲۔


🤲 *اللہم  عجل لولیک الفرج* 


شہر بانو✍️ 


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 💫 

درس اخلاق منتظرین 16📚

موضوع:شکر اور ناشکری ✍️



انسان کی ناشکری ✍️ 

قرآن مجید کے اندر سورہ یونس میں آیت نمبر 21 سے لیکر بعد کی چند آیات میں پروردگار نے انسان کی  ناشکری کی طرف بہت ہی واضع انداز سے اشارہ کیا ۔


پروردگار فرما رہا ہے 💫

کہ جب بھی لوگوں کو مختلف مصیبتوں کے بعد ہم نے رحمت و رفعا و سعادت بخشی مشکلیں حل ہو گی لوگوں کو آسائش نصیب ہوگی ۔

تو پھر یہ کیا کرتے ہیں ہماری آیات میں ہمارے حقائق جو کائنات کے ہے اس کے اندر یہ پھر فریب مکل شروع کر دیتے ہیں ۔


اسی طرح آیت نمبر 22  💫

پروردگار نے اشارہ فرمایا لوگ خشکی میں دریا میں زمین پر جب بھی کسی جگہ پر مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ہیں انکی کشتی جو ہے پھس جاتی ہے سمندر کی لہروں میں اور وہ جو بڑی بڑی موجے ہوتی ہے غرق کرنے والی تو اس وقت یہ پھر مخلص ہو کے اللّٰہ کو پکارتے ہیں ۔


پروردگار اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے گرداب سے اگر نجات دے دی تو ہمیں شکر گزار پاۓ گا۔


یہاں اللہ سے شاکر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔


پروردگار فرماتا ہے 💫

اور جیسے ہی میں انکو نجات دیتا ہوں بس مشکل سے نکالتا ہوں تو پھر یہ زمین پر ناحق جو ہے تجاوز کرنا شروع کر دیتے ہیں ظلم و ستم ایک دوسرے پر گریمی ایک دوسرے پر ناحق برائی پھر یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔


انسان کی فطرت اور خصلت کے اندر ایک جو اہم اور دوسرے لفظوں میں خلاقت کی طرف لی جانے والی جو خصلت ہے 

وہ یہی انسان کی نا شکری ہے۔


اس حوالے سے بہت ساری روایات موجود ہیں ۔


پیغمبر اکرم ص کا فرمان 💫

کہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جو اسے نعمتیں ملی ہوئی ہے انکو وی چھپاتا ہے اور اگر کوئی مشکل ہے ساتھ کوئی مصیبت ہے صرف اسی کا شکوہ کرتا ہے ۔


خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو اگر دیکھے تو ہمارے پاس اتنی ہے اسکی نعمتیں کہ ہم انکو گن بھی نہیں سکتے لیکن اگر ہم ہمارے ساتھ کوئی مشکل یا مصیبت ہے تو ہم اسی کو لیکر بیٹھے رہتے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں اسی کے شکوے ہے ۔

یہاں تک کہ انسان خودکشی تک پہنچ جاتا ہے لیکن اگر وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو گننا شروع کرے جو اللّٰہ نے اسے عطا کی تو وہ انکو شمار ہی نہیں کر سکتا ۔


دنیا 🌎

اس میں کبھی آسائش ہے کبھی غم ہے کبھی خوشی ہے دنیا یہی کچھ ہے 


اسی لیے تو کہتے ہیں نا مومن کے لیے دنیا قید خانہ ہے تو یہاں ہمیں صبر کا حکم دیا گیا ہے اگر کوئی مصیبت آتی ہے اور ہم اگر اسے دور کرسکتے ہیں تو پھر کرے لیکن جائز طریقے سے ناجائز سے نہیں ۔لیکن اگر وہ دور نہیں ہو رہی تو شکر کر لے صبر کر لے بالآخر اسے تعمل کرے دُنیا میں مصیبتوں کے تعمل کرنے پر بھی ایک آجر ۔


خدا کی بارگاہ میں شکوے کرنا شکایت لگانا ایک دوسرے کو بدعائیں دینا نفرین تک پہنچانا

نہیں انسان اگر بہت ساری نعمتیں دیکھے تو اسے یہ شاید ہیچ نظر آۓ ۔


پروردگار اپنے خالص و با ایمان بندوں کو آزماتا بھی ہے ۔۔


ایک طرف وہ ہے جو مصیبتوں میں مبتلا رہتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اسنے ہمیں نعمتیں عطا کی ہوئی ہے ۔اور ایک طرف وہ لوگ جن کے پاس سب کچھ موجود ہے پھر بھی وہ شکر کے بجائے ناشکری کرتے ہیں خدا کی 


پروردگار نے انسانوں سے شکوہ کیا ہے کہ تم میری دی ہوئی نعمتوں کو چھپاتے ہو لیکن مصیبتوں میں صرف شکوہ کرتے ہو ( کتنی بڑی ناشکری)


پروردگار انسانوں سے فرما رہا ہے کہ اے انسان تو میرے ساتھ کیوں نہیں انصاف کرتا۔؟میں تو تمہیں نعمتیں دے کر بھی محبت کرتا ہوں ۔لیکن تم اپنے گناہوں کے ساتھ مجھ سے دشمی کرتا ہے ہر روز تو اک نئی دشمنی کر رہا ہے ہر روز میری نا فرمانی کر رہا ہے ۔میں تو نعمتیں عطا کرتا ہوں یہ تو میری محبتوں کی علامت ہے اور تو مسلسل گناہ کر رہا ہے اپنے اوپر بھی اپنے اردگرد لوگوں پر بھی ظلم عبادتوں میں بھی کوتاہی بیشمار گناہ اگر ہم اپنے گناہوں کو شمار کرنا شروع کرے نا روز لکھے نا تو ہمیں پتہ بھی نہیں چل رہا ہوتا 


دنیا میں لوگ مختلف گناہوں میں مبتلا ہیں ۔


ان سب کے باوجود پروردگار فرما رہا ہے کہ میں نے تو تیری طرف خیر نازل کی لیکن تو شر لیکر میری طرف آتا ہے ۔


بعض لوگ خدا کی نعمتوں کو اسکی نافرمانی میں استعمال کر رہے ہیں ۔


امام علی علیہ السلام فرماتے 

جو شخص خدا کی دی ہوئی نعمت کو خدا کی مصیت میں استعمال کرے یہ وہ ہے جو کفر کرتے ہیں ۔۔۔


امام حسین ع کا خوبصورت فرمان 🥰

فرماتے ہیں کہ بعض اوقات لوگ آپ کے مختاج ہوتے ہیں آپ سے کچھ مانگتے ہیں تو یہ بھی نعیمات پروردگار ہے ۔

پتہ نہیں کتنے ہمارے گناہ جڑھنے ہے جو ہم نے اسکی مدد کرنی ہے ۔وہ مدد جس حوالے سے ہی کیو نا ہو۔

فرماتے ہیں کہ لوگ تمہاری طرف رجوع کر رہے ہیں تم سے مانگ رہے ہیں یہ نعیمات پروردگار ہے ۔


ہمارا فریضہ ہے کہ ہمیں خدا نے جو واجبات دی وہ ہم بجالاۓ مستحبات کو بجالاۓ اسکی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور مشکلات میں مصیبتوں میں صبر کرے اور انکا بھی شکر ادا کریں ۔ہر اس انسان کی مدد کرے جو ہمارے پاس اس آس سے آیا ہے کہ اسکی مشکل کا حل ہمارے پاس ہے ۔کیونکہ خدا کا حکم ہے اسکی رضا ہیں کہ اسکے بندے کی مدد مشکل کو ہم حل کرے خدا کی رضا ہماری رضا ہونی چاہیے ہر وقت ہمیں اسکا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے اور ہم ان بندوں میں شمار ہو جو خدا کے نذدیک نیک مخلص لوگ ہیں ۔۔۔۔

شہر بانو✍️ 


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


اتوار  28 جمادی الاول   1446( 1 دسمبر  ، 2024)**



قرآن مجید اہل ایمان کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اور ہر دور میں اللہ نے دو حجتیں عطا کی ہیں: ایک ناطق (معصوم امام) اور دوسری صامت (قرآن مجید)۔ آج کے زمانے میں امام زمانہؑ اور قرآن ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں، اور اہل ایمان ہی حقیقی منتظرین ہیں۔


قرآن کی تلاوت نہ صرف گھروں کو نورانی بناتی ہے بلکہ شیاطین کو دور کرتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے تلاوت کی بہت تاکید فرمائی ہے، اور امام صادقؑ نے روزانہ کم از کم 50 آیات پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ قرآن کو عربی لب و لہجے اور تجوید کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے، تاکہ اس کا اثر دل پر ہو۔ غلط انداز یا موسیقی کے طرز پر پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں۔


ہم سب کو قرآن کو سمجھنے، اس کی تلاوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے اور امام زمانہؑ کے منتظرین میں شامل ہونے کی دعا کرنی چاہیے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔🤲




*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️


بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم

تمام تر تعریفیں پروردگار دو عالم کے لٸے زیبا ہیں اور تمام تر درودو سلام محمد ص آل محمد کے واسطے🌹

درس اخلاق #17 قرآن مجید کی تلاوت


آج ہم نے قرآن پاک کی تلاوت پر گفتگو کرنی ہے ۔ صد شکر ہے پروردگار عالم کا اس نے ہمیں دو حجتوں سے نوازا ایک حجت صامت ہے اور ایک حجت ناطق ۔حجت صامت یعنی قران مجید اور حجت ناطق یعنی آٸمہ معصومین ع بالخصوص امام زمانہ عج 🌹

قران کتاب ہدایت ہے اور امام زمانہ عج ہادی ۔ قران کتاب ہے اور امام عج اسکے مفسر قرآن وحی ہے اور امام زمانہ عج محافظ

ہر دور میں حجتیں رہیں ہیں جناب رسول خدا ص نے فرمایا اپنے بعد میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑیے جا رہا ہوں ایک قرآن اور ایک میرے اہلبیت ۔ تو ہر دور میں قرآن بھی رہا اور اہلبیت میں سے بھی ایک ہستی جو انسانوں کی ہدایت کا سامان مہیا کرتی رہیں

یوں تو قرأن کی توصیف و عظمت خود قران میں بھی بیان کی گٸی ہے

سورہ یونس کی آیت نمبر 57 میں ارشاد باری تعالی ہے

اے لوگوں تمہارے پروردگار کی جانب سے نصحیت اٸی ہے


شہر بانو✍️ 


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹

 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


جمعہ مُبارک 🌹 10 جمادی  الثانی    1446( 13 دسمبر  ، 2024


 درس اخلاق منتظرین * 18

کیسے گناہ سے بچیں


🕯️ استاد اخلاق حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی صاحب


قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں گناہوں سے بچنے کی بار بار ترغیب دی ہے اور ان گناہوں کے عذاب اور جہنم سے بھی خبردار کیا ہے، لیکن افسوس کہ انسان کا خوف بیدار نہیں ہوتا۔ دنیاوی کاموں کے نقصانات سے انسان اپنے اندر تبدیلی لانے اور اپنے ارادے کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن گناہ کے نقصان سے بچنے کے لیے وہ اتنا متوجہ نہیں ہوتا۔


سورہ یونس آیت نمبر 27 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"جو لوگ گناہ کرتے ہیں ان کو ان کی بدی کے مطابق سزا ملے گی اور ذلت ان کے پورے وجود کو لپیٹ لے گی۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، جیسے تاریک رات کا کوئی ٹکڑا ہو، اور یہ اہل جہنم ہیں۔"


دنیاوی زندگی کا مقصد رشد و کمال حاصل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اچھے اور نیک لوگوں کی صفات بھی بیان کی ہیں، جن کی تفسیر اور تشریح آئمہ معصومین (علیہم السلام) نے کی ہے۔


سورہ ہود آیت نمبر 3 میں اللہ تعالیٰ نے امید دی ہے کہ:

"اگر تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو اور توبہ کرو، تو اللہ تمہیں زندگی میں اچھے اثرات اور نعمتیں دے گا۔"


لیکن اگر انسان توبہ کے بعد پھر اپنے نفس امارہ کی وجہ سے گناہ کی طرف راغب ہو جائے، تو پھر وہ عذاب کی آیتیں سچی ہوں گی۔


اکثر لوگ گناہوں کا ذمہ دار شیطان کو سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیطان، جو ایک عبادت گزار جن تھا، اس کے اندر موجود نفس امارہ نے اُسے دھوکا دیا۔ یہی نفس امارہ انسانوں اور جنوں دونوں میں موجود ہے۔ شیطان کے نفس نے تکبر پیدا کیا اور اس نے اللہ کے حکم کو رد کیا، جس کی وجہ سے اُسے سزا ملی۔ اللہ نے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے، اور اگر شیطان توبہ کرنا چاہتا تو اللہ نے اُسے حضرت آدم کی قبر پر توبہ کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن وہ تیار نہیں تھا۔


یعنی، یہ بات ثابت ہے کہ توبہ سچے دل اور اخلاص سے کی جائے تو وہ قبول ہوتی ہے۔


خلاصہ:

گناہ صرف شیطان کے بہکاوے سے نہیں ہوتا، بلکہ ہمارا نفس بھی اس میں شریک ہوتا ہے۔ امام زمانہ (علیہ السلام) ابلیس اور اس کے تمام لشکر کو تباہ کر دیں گے۔ قرآن اور احادیث کے مطابق یہ وہی وقت ہے جس میں امام کا ظہور ہوگا۔


شیطان گناہ کی طرف راغب کرتا ہے، لیکن نفس امارہ بھی گناہ کرنے کے لیے انسان کو ابھارتا ہے۔ امام کی تربیت کی وجہ سے برائیاں کم ہو جائیں گی، لیکن پھر بھی گناہ کے وسوسے آتے رہیں گے۔


گناہوں سے بچنے کے لیے پہلا قدم:

عزم ہے۔ ذکر اور چلہ وغیرہ سے عزم اور قوت ارادی پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ہمیں اپنے وجود میں عزم کو راسخ کرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی کاموں میں ہم وہی کام کرتے ہیں جس کا ہم پکا ارادہ کرتے ہیں، اسی طرح دین میں بھی عزم ضروری ہے۔


عزم کے بعد واجبات کی پابندی ضروری ہے۔ انسان کو اپنے نفس امارہ سے جہاد کرنا ہوتا ہے، اور یہ جہاد ہر وقت جاری رہنا چاہیے۔ پھر مستحبات میں قرآن کی کم از کم 50 آیتوں کی تلاوت، حقوق العباد کی ادائیگی، اور صدقات دینا شامل ہیں۔ ان سب کاموں سے انسان کا نفس امارہ کمزور ہوتا ہے اور نفس مطمئنہ مضبوط ہوتا ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔🤲


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


اخلاق منتظرین

درس 19


موضوع: #برائی پھیلانے کا عذاب


آج کل کے معاشرے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کی برائیاں یا خامیاں چھپانے کے بجائے، لوگ انہیں دوسروں کے سامنے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے یہ کچھ عام بات ہو۔ لوگ دوسروں کی برائیاں چھڑک کر اس میں مزید نمک مرچ لگا کر بات کرتے ہیں، اور ان کے عیوب کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 😞


قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

"وہ لوگ جو یہ پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بدی اور برائیوں کو پھیلائیں، ایسے آدمیوں کے لیے دنیا و آخرت میں عذابِ الیم ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔" (سورۃ النور، آیت 19) 📜


اس آیت میں اللہ تعالی ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ جو لوگ دوسروں کی برائیاں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے عیوب اور گناہوں کو جانتا ہے، لیکن وہ ان کو ظاہر نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ ستار العیوب ہے، اور ہمیں بھی اللہ کی اس صفت کو اپنے عمل میں لانا چاہیے۔ 🌸


ہر انسان میں اچھائیاں اور برائیاں موجود ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان برائیوں کو چھپاتا ہے تاکہ انسانوں کی عزت میں کمی نہ آئے۔ اس کے باوجود، جو شخص کسی کی برائی کو دوسروں کے سامنے لاتا ہے، وہ خود بھی اس گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کو سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔ 😔


رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"جو فحش باتوں کو پھیلائے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود انہیں شروع کرے اور انہیں عمل میں لائے۔" 🌿

اس حدیث سے واضح ہے کہ فحش یا برائی پھیلانے والا بھی اتنے ہی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے جتنا کہ وہ شخص جو برا عمل کرتا ہے۔


اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی:

"پروردگار! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اُس برے دوست سے جو برائی دیکھے اور دوسروں کو بتائے۔" 📿

یہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں سے بچنا چاہیے جو ہماری یا دوسروں کی برائیوں کو پھیلانے کا سبب بنیں۔


ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی گناہ یا غلطی سر زد ہو جائے اور وہ اس کا انکار کرے، تو ہمیں اس پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:

"اگر کوئی شخص کہے کہ یہ گناہ میں نے نہیں کیا اور لوگ اس پر الزام لگائیں، تو تم لوگوں کی بات پر یقین کر لو۔" 🔑

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے غلطی یا گناہ سرزد ہو جائے اور وہ معذرت کرے، تو ہمیں اس کا عذر قبول کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہر شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ 💖


ہمیں کبھی بھی کسی کی عزت کو پامال نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی دوسروں کی خامیوں کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"اگر کوئی شخص کسی مومن کی برائی دیکھے اور لوگوں میں اس کو بیان کرے، تو وہ اسی آیت کا مصداق بنے گا۔" 🌸

یعنی، جو شخص کسی کی برائی کو لوگوں کے سامنے لاتا ہے، وہ اس شخص کے ساتھ شریکِ گناہ ہو گا اور وہ بھی اس گناہ کا سامنا کرے گا۔ 😢


اس لیے ہمیں اپنی زبان اور عمل میں احتیاط برتنا چاہیے، اور دوسروں کی برائیوں یا خامیوں کو چھپانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم دوسروں کی عزت کریں، ان کی معذرت کو قبول کریں اور خود بھی اپنے عیوب کو چھپانے کی کوشش کریں۔ 🤲


اللہ تعالی ہمیں اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی توفیق دے، اور ہمیں اپنی زبان اور عمل میں اس کی رضا کو مدنظر رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 🙏


شہر بانو ✍️


*💓*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*💓

السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ🫸🏻

💓 اللهم صل على محمد وآل محمد 💓


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️* 

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 


 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*


📆ہفتہ🌹 3 رجب❤‍🔥    1446( 4 جنوری  ، 2025)**




💫 جمعہ کا دن نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک عظیم دن ہے بلکہ یہ ایک خاص دن ہے جس میں امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ 💫

یہ دن ہمیں امید، رحمت، اور برکت کا پیغام دیتا ہے، اور اسی دن کا انتظار کر کے ہم اپنی روحانیت اور ایمان میں مزید مضبوطی حاصل کرتے ہیں۔ ✨

اللہ تعالی ہمیں امام مہدی علیہ السلام کا صحیح طور پر پیروکار اور ان کی مدد کرنے کی توفیق دے۔ 🙏

آمین۔ 🌟


---


امام مہدی عج کے ناصرین مشرق سے ظاہر ہوں گے ایک اہم موضوع ہے جو مختلف حوالوں سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور اور ان کے ناصرین کی خصوصیات پر گفتگو کرتے ہوئے ہم مشرق کی سرزمین کی خصوصیات، ناصرین کے اخلاق، کردار، گفتار، اور ان کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔


مشرق سرزمین کی خصوصیات 🌍


مشرق کی سرزمین امام مہدی (علیہ السلام) کی حمایت کرنے والے افراد کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یہ سرزمین اسلامی تاریخ اور مہدویت سے جڑی ہوئی ہے۔ مشرق میں، خصوصاً ایران، عراق، اور دیگر اسلامی ممالک میں، امام مہدی (علیہ السلام) کی حمایت کے لیے ایک مضبوط دینی اور ثقافتی بنیاد موجود ہے۔


1. روحانی مرکزیت ✨: مشرقی سرزمین میں اہل بیت کے ساتھ گہری محبت اور عقیدت پائی جاتی ہے۔ ایران اور عراق جیسے ممالک امام حسین (علیہ السلام) کی قربانی اور امام علی (علیہ السلام) کی محبت میں سرشار ہیں۔ ان علاقوں میں امام مہدی (علیہ السلام) کی حمایت کے لئے ایک مستحکم اور بااثر گروہ موجود ہے۔



2. عدل و انصاف کی جڑیں ⚖️: مشرق کی سرزمین پر لوگوں کا یہ ایمان ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور ظلم و فساد کے خاتمے کے لیے ہوگا۔ یہاں کے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کے ساتھ عالمی سطح پر عدل و انصاف قائم ہوگا، اور ظلم کا خاتمہ ہوگا۔



3. سیاسی اور ثقافتی اہمیت 🌏: مشرقی علاقے، خاص طور پر ایران، عراق اور دیگر مسلم ممالک، سیاسی اور ثقافتی طور پر اس بات کے متمنی ہیں کہ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور ہو اور وہ اپنے علاقے میں عدل و انصاف کا قیام عمل میں لائیں۔ اس خطے کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام کی قیادت میں ہی ایک کامیاب اور خوشحال معاشرہ قائم ہو سکے گا۔




ناصرین کا اخلاق، کردار اور گفتار کی خصوصیات 🌟


امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ اخلاقی اور روحانی طور پر بھی ان کی مدد کرنے والے ہوں گے۔ ناصرین کی خصوصیات میں اخلاقی بلندی، کردار کی مضبوطی، اور گفتار کی سچائی شامل ہوں گی۔ ان افراد کا کردار امام کی قیادت میں عالمی انقلاب کی بنیاد بنے گا۔


1. اخلاقی بلندی 🌹: ناصرین کا اخلاق بہت بلند ہوگا اور ان کے دل میں اللہ کا خوف، سچائی اور عدل کا جذبہ ہوگا۔ وہ امام مہدی (علیہ السلام) کے پیروکار ہوں گے اور ان کی مدد کرنے کے لئے خود کو پیش کریں گے۔


حدیث: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"میرے مہدی کے ناصرین وہ لوگ ہوں گے جو مشرق سے آئیں گے، اور ان کے دل ایمان اور تقویٰ سے بھرے ہوں گے، ان کی زبان سچی ہوگی اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔" (الفتن)




2. وفاداری اور شجاعت 🛡️: امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین وفادار اور شجاع ہوں گے۔ وہ امام کی قیادت میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں گے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان کی شجاعت اور ہمت عالمی سطح پر امام کی مدد کا سبب بنے گی۔


حدیث: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"میرے بعد ایک شخص آئے گا جس کا نام میرا نام ہوگا، اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و فساد سے بھری ہوئی ہوگی۔ اور اس کے ساتھ مشرقی علاقوں سے کچھ لوگ ہوں گے جو اس کی مدد کریں گے۔" (صحیح مسلم)




3. علم اور فہم 📚: امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین میں خاص علم و فہم ہوگا جو انہیں امام کے قیام میں مدد دینے کے لئے تیار کرے گا۔ وہ نہ صرف دینی تعلیمات پر پختہ ایمان رکھتے ہوں گے بلکہ ان کی بصیرت انہیں عالمی مسائل کو سمجھنے اور امام کی رہنمائی کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت دے گی۔



4. ایمان اور تقویٰ 💫: ناصرین کی روحانی خصوصیات میں ایمان اور تقویٰ شامل ہوگا۔ ان کی زندگی میں اللہ کا خوف اور دین پر مضبوط ایمان ہوگا، اور وہ اپنی ذات کے تمام تقاضوں کو امام کی رہنمائی کے مطابق ڈھالیں گے۔




بہت سے اہم نکات 📌


1. مشرق سے اتحاد اور انقلاب 🔗: امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین مختلف اقوام اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے ہوں گے، مگر ان سب میں ایک خاص قسم کا اتحاد ہوگا۔ ان کا مقصد دنیا کو عدل و انصاف سے بھرنا ہوگا، اور اس مقصد کے لیے وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔


حدیث: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"میرے مہدی کے ناصرین مختلف قوموں سے ہوں گے، لیکن ان میں اتحاد ہوگا، اور وہ امام کی قیادت میں ایک عالمی انقلاب برپا کریں گے۔" (کتاب الفتن)




2. ظلم کے خلاف جدوجہد ⚔️: امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین ظلم و فساد کے خلاف لڑیں گے اور ان کا کردار عالمی سطح پر انصاف کی بحالی کے لیے ہوگا۔ وہ نہ صرف دینی لحاظ سے بلکہ اجتماعی طور پر بھی عالمی سطح پر عدل قائم کرنے کے لئے جدوجہد کریں گے۔



3. عالمی عدل کا قیام 🌍: امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین کا سب سے اہم مقصد عالمی سطح پر عدل کا قیام ہوگا۔ ان کا کردار نہ صرف اسلامی معاشرتی اصلاحات کے لئے ہوگا بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کے لئے عدل و انصاف کی ضمانت فراہم کرے گا۔




نتیجہ 📝


امام مہدی (علیہ السلام) کے ناصرین مشرق سے آئیں گے اور ان کی خصوصیات میں ایمان، تقویٰ، علم، شجاعت، وفاداری، اور بلند اخلاق شامل ہوں گے۔ وہ امام کی قیادت میں عالمی عدل قائم کرنے کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دینے کو تیار ہوں گے۔ مشرق کی سرزمین میں یہ لوگ امام کے قیام کی تحریک میں اہم کردار ادا کریں گے اور امام کی مدد سے دنیا کو ظلم و فساد سے بچا کر عدل و انصاف کا ماحول قائم کریں گے۔


یہ تمام نکات ہمیں ایک سبق دیتے ہیں کہ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور ایک عالمگیر انقلاب کا پیش خیمہ ہوگا، جس میں مشرق سے نکلنے والے ناصرین اپنی خصوصیات کی بدولت اس مقصد میں اہم حصہ ڈالیں گے۔ اس عالمی انقلاب کا آغاز مشرق سے ہوگا، جہاں کے لوگ اپنی ایمانی قوت اور بلند اخلاق کے ساتھ امام کی رہنمائی میں ایک بہتر اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے قدم اٹھائیں گے۔


آمین ثم آمین! 🤲💫

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ہدایت سے نوازے اور ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم اپنے نفس کی جنگ جیت کر امام زمانہ علیہ السلام کی قیادت میں ان کے انصار میں شامل ہوں۔ 🙏🕊️

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے راستے پر ثابت قدم رکھے اور امام کا ظہور جلدی فرمائے۔ 🌹🕋

آمین! 🤲


 *والسلام۔* 🙏

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲

 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*❤‍🔥

 *شہر بانو 📝

عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍


*دروس مہدویت بروز جمعہ ، علماء و طلاب پردیسان قم مقدس ، ایران 

17 جنوری ، 2025


*▪️کونسی آگ ظہور سے پہلے بڑھکے گی؟*

*▪️آمریکا کی آگ کا ظہور سے کیا تعلق؟*

*▪️آیا امام مہدی عج کے ظہور سے پہلے زمین ظلم سے بھرے گی ؟*

*▪️امام مہدی عج کن کا انتظار کررہے ہیں؟*

*▪️بہت سے اہم نکات پر مشتمل درس* 

*▪️امام مہدی عج کا حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر گریہ*


‏‏ *🎙️علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*


🤍 *عالمی مرکز مہدویت قم*🤍*


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


دروس مہدویت بروز جمعہ

ہم اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامات، اسباب، اور ناصرانِ ظہور پر گفتگو کر رہے ہیں۔

🍃 امریکہ میں ہولناک آگ 🔥 اور اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا امام کا ظہور قریب ہے؟ اس موضوع پر ہم آج تفصیل سے بات کریں گے۔


ظہور اور غیبت کے حوالے سے غلط فہمیاں


مہدویت کے موضوع پر بہت ساری احادیث اور روایات موجود ہیں، جنہیں کبھی غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے ان احادیث کا مفہوم غلط ترجمہ کیا یا ان میں تحریف کی تاکہ لوگوں میں خوف، اضطراب یا بے یقینی پیدا کی جا سکے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں مہدویت کے بارے میں غلط تصورات اور خوف پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ گمان کرتے ہیں کہ امام کے ظہور سے پہلے دنیا میں بہت زیادہ فساد اور ظلم ہو گا۔


ایک مشہور حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امام زمانہ کے ظہور سے پہلے زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی اور امام کے ظہور کے بعد وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ اس حدیث کا مفہوم اس طرح سمجھا جانا چاہیے کہ دنیا میں جو ظلم اور فساد پہلے سے ہوتا رہا ہے، جیسے جنگ عظیم اول و دوم، ہلاکو خان کا حملہ، چنگیز خان کا ظلم، سلطنت خوارزم میں خونریزی اور دیگر تاریخی واقعات، ان تمام کے دوران زمین پر ظلم کا دور چلتا رہا ہے۔ امام کا ظہور اس کے بعد ہوگا، اور اس وقت امام عدل و انصاف کے ساتھ زمین کو بھر دیں گے، نہ کہ یہ کہ لوگوں کے گناہوں اور ظلم میں اضافہ ہو اور اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ امام کا ظہور ہونے ہی والا ہے۔ اس طرح کے خیالات سے ہمیں بچنا چاہیے۔


قرآن مجید میں امام کے ظہور کی چار نشانیاں


قرآن مجید میں سورہ نور کی آیت 55 میں امام کے ظہور کے بعد زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کے مطابق:


1. صالحین کی خلافت

امام کے ظہور کے بعد صالحین کی حکومت قائم ہوگی، اور دنیا میں فاسد و ظالم حکومتوں کا خاتمہ ہوگا۔



2. دین اسلام کا پوری زمین پر نفاذ

امام کا ظہور اس بات کا باعث بنے گا کہ اسلام کا حقیقی پیغام اور قانون تمام دنیا میں غالب ہوگا اور اس کا نفاذ ہوگا۔



3. زمین سے ہر خوف کا خاتمہ اور امن کا قیام

امام کے آنے سے دنیا میں امن قائم ہوگا۔ لوگ خوف کی بجائے سکون اور اطمینان کی زندگی گزاریں گے۔



4. تمام انسانوں کا اللہ کی عبادت میں مشغول ہونا

امام کا ظہور اس بات کا باعث بنے گا کہ پوری دنیا اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جائے گی، اور اس کا حقیقی پیغام تمام انسانوں تک پہنچے گا۔




یہ چار نشانیاں بتاتی ہیں کہ امام کا ظہور ایک ایسا دور لائے گا جس میں دنیا امن و سکون کی زندگی گزارے گی اور ظلم و فساد کا خاتمہ ہوگا۔


امریکہ میں آگ اور امام کے ظہور سے تعلق


اب بات کرتے ہیں امریکہ میں پھیلنے والی ہولناک آگ 🔥 کی، جسے بعض لوگ امام کے ظہور سے پہلے کی آگ سمجھ رہے ہیں۔ تاہم، ہمیں اس بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ امام صادق علیہ السلام نے ایک خاص روایت بیان کی تھی جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ "من قبل المشرق" یعنی مشرق سے ایک آگ بلند ہوگی۔ یہ آگ مشرقی ممالک سے جڑی ہوئی ہوگی، اور امام صادق علیہ السلام جب یہ بات فرما رہے تھے، تو وہ مدینہ میں موجود تھے، اور اس وقت ایران، عراق اور اس کے ارد گرد کے علاقے اس خطے میں شامل تھے۔


یہ روایت کسی خاص جغرافیائی علاقے کے بارے میں ہے، نہ کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں پھیلنے والی آگ کے بارے میں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر آگ جو دنیا میں لگے، وہ امام کے ظہور کی نشانی ہو۔ امریکہ میں جو آگ لگی ہے، اس کا تعلق اس روایت سے نہیں ہے۔ ہمیں ہر واقعہ کو امام کے ظہور سے جڑ کر دیکھنا نہیں چاہیے جب تک کہ اس کا براہ راست تعلق نہ ہو۔ اس آگ کے محرکات ابھی تک سامنے نہیں آئے، اور یہ ممکن ہے کہ یہ آگ کسی قدرتی یا انسانی وجہ سے لگی ہو۔


امام کے ظہور سے پہلے دنیا کا تقسیم ہونا


امام کے ظہور سے پہلے دنیا میں خیر اور شر کی ایک بڑی جنگ چھڑ جائے گی، جیسا کہ تمام تاریخوں میں خیر و شر کے درمیان جنگیں ہوتی آئی ہیں۔ امام کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا ظالمانہ حکومتوں اور فاسد نظاموں سے بھر چکی ہوگی، اور لوگوں کو امن، عدل اور انصاف کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت امام کی قیادت میں ایک صالح حکومت قائم ہوگی، اور دنیا دو قطبوں میں تقسیم ہو جائے گی، جہاں ایک طرف ظلم و فساد کا راج ہوگا اور دوسری طرف عدل و انصاف کا۔


نتیجہ


ہمیں مہدویت کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کو اس طرح گزارنا چاہیے کہ ہم امام کے ظہور کے منتظر بن سکیں۔ ہمیں اپنے اعمال اور افکار میں تقویٰ اور معرفت پیدا کرنی چاہیے تاکہ جب امام کا ظہور ہو، تو ہم ان کے پیروکار بن سکیں اور ان کے مشن میں شامل ہو سکیں۔ اس دوران ہمیں ہر واقعہ کو صحیح تناظر میں دیکھنا چاہیے اور کسی بھی واقعے کو فوراً امام کے ظہور سے نہ جوڑنا چاہیے جب تک کہ اس کا کوئی واضح تعلق نہ ہو۔


ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا چاہیے اور دنیا کے حالات سے گھبرانے کی بجائے اپنے اعمال کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ ہم امام کے ظہور کے وقت ایک حقیقی منتظر بن سکیں۔


✨شہربانو✍️

*دروس مہدویت بروز جمعہ*


▪️آخر الزماں کے فتنے اور ہماری زمہ داریاں 

▪️فتنہ الحاد ( سکولوں اور کالجوں کا ملحدانہ نصاب)

▪️فتنہ احمد الحسن یمانی کذاب (تیزی سے عراق ، ایران و پاکستان پھیل رہا)

▪️کیسے ان فتنوں کا مقابلہ کریں 

▪️زمانہ غیبت کے ناصر یعنی ابدال کی خصوصیات 

▪️امام کاظم علیہ السلام کے مصائب


استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤

🍁عالمی مرکز مہدویت قم🍁


*دروس مہدویت بروز جمعہ*


یہ دروس ہمیں ہمارے دینی فرض و ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم کس طرح اپنے ایمان اور دین کی حفاظت کر سکتے ہیں۔


▪️ *آخر الزمان کے فتنے اور ہماری ذمہ داریاں*  

آخر الزمان میں مختلف فتنے اُٹھیں گے، اور ہمیں ان فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ان فتنوں سے بچنے کے لیے اپنی علم اور تقویٰ کو مضبوط کریں۔


▪️ *فتنہ الحاد (سکولوں اور کالجوں کا ملحدانہ نصاب)*  

ہمارے تعلیمی اداروں میں ملحدانہ نظریات اور فلسفے کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ہمیں ان نصابوں کو پہچان کر اپنے بچوں کی تعلیم میں ان کے اثرات کو محدود کرنا ہوگا۔


▪️ *فتنہ احمد الحسن یمانی کذاب (تیزی سے عراق، ایران و پاکستان پھیل رہا)*  

احمد الحسن یمانی کذاب کا فتنہ ایک بڑا خطرہ ہے جو عراق، ایران اور پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہمیں اس فتنہ کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔


▪️ *کیسے ان فتنوں کا مقابلہ کریں*  

ان فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی دینی تعلیمات کو مضبوط بنانا ہوگا، اپنی فکر کو صحیح سمت میں مرکوز کرنا ہوگا، اور ان فتنوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔


▪️ *زمانہ غیبت کے ناصر یعنی ابدال کی خصوصیات*  

ابدال وہ افراد ہیں جو امام کی غیبت کے دوران حق کا علم پھیلانے والے ہیں۔ ان کی خصوصیات میں تقویٰ، علم، صبر اور اپنے مقصد کے لیے مکمل لگن شامل ہے۔


▪️ *امام کاظم علیہ السلام کے مصائب*


امام کاظم علیہ السلام نے اپنی زندگی میں بے شمار مصائب جھیلے ہیں، اور ان کی سیرت ہمارے لیے ایک نمونہ ہے کہ ہم کس طرح مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔


✨شہربانو✍️

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم


درس اخلاق منتظرین 21🍂

دوسروں کے حق میں نیکی💫


*دروس اخلاق منتظرین اور  مہدویت بروز جمعہ*


یہ دروس ہمیں ہمارے دینی فرض و ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم کس طرح اپنے ایمان اور دین کی حفاظت کر سکتے ہیں۔


دوسروں کے حق میں نیکی💫


اللہ تعالی نے قرآن امجید میں اپنی بے شمار نعمتوں کا ذکر کیا ہے، اور ان میں سب سے بڑی نعمت انسانوں کے درمیان نیکی کی ترغیب دینا ہے۔ نیکی کرنے کا عمل ایک ایسی خوبی ہے جو انسان کی روح کو صفا دیتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون و سکونت کا باعث بنتی ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ الرحمن میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:


"نیکیوں کا بدلہ سوائے نیکی کے کچھ نہیں ہوتا۔" (سورۃ الرحمن: 60)


اس آیت سے واضح ہے کہ جو شخص اپنے عمل سے دوسرے لوگوں کے حق میں نیکی کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے اس عمل کا بہترین بدلہ دیتا ہے، اور یہ ایک ایسا عمل ہے جو کسی خاص فوائد تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ نیکی کی جزا ایک دن انسان کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہت بڑی ہوگی۔


قرآن کی ہدایات اور آئمہ معصومین (علیہ السلام) کی تعلیمات


اللہ تعالی نے قرآن میں اپنے عزیزوں، اقارب، ہمسایوں اور ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ نیکی کا حکم دیا ہے، اور اس پر زور دیا ہے کہ انسان کو ہر صورت میں اپنے اہل و عیال، دوستوں، ہمسایوں، اور دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن مجید کی مختلف آیات میں اللہ تعالی نے اس بات کو بہت واضح طور پر بیان کیا ہے کہ نیکی کرنے کی کوئی مخصوص صورت نہیں ہے، بلکہ ہر اچھا عمل جو دوسرے انسانوں کے حق میں کیا جائے وہ نیکی ہے۔


آئمہ معصومین علیہ السلام کی زندگی ہمیں اس بات کی بہترین مثال پیش کرتی ہے کہ نیکی کا عمل کس طرح کیا جاتا ہے۔ امام علی علیہ السلام کی زندگی میں ہمیں اس بات کا ایک بہت بڑا نمونہ ملتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں نہ صرف اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کے ساتھ نیکی کی، بلکہ آپ نے وقتاً فوقتاً غریبوں، مسکینوں اور بے کسوں کی مدد بھی کی۔


علی علیہ السلام کی مثال


آپ رات کی تاریکی میں خود چل کر لوگوں کے گھروں میں اناج اور دوسری ضروریات پہنچاتے تھے، تاکہ لوگ نہ جان پائیں کہ انہیں مدد کس نے دی ہے۔ آپ کے اس عمل میں یہ پیغام چھپاہوا تھا کہ نیکی ہمیشہ اللہ کے لیے کی جانی چاہیے، نہ کہ لوگوں کی تعریف کے لیے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ روش ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کا عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اور انسان کا مقصد صرف اپنے رب کو خوش کرنا ہو۔


نیکی کا عمل ظاہری یا مخفی؟


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:


"وہ مومن جو اپنے احسانات کو چھپاتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک سب سے برتر ہے۔" (مسند احمد)


اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چھپ کر نیکی کرنا ایک بہت بڑی عبادت ہے، اور یہ انسان کو اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ اگر آپ کسی کی مدد کرتے ہیں اور اس کی مدد کو چھپاتے ہیں تو یہ عمل آپ کی روحانی عظمت کا مظہر بن جاتا ہے۔ اس سے انسان میں عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔


آج کے دور میں نیکی کے مواقع


آج کے دور میں نیکی کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم کسی بھی شخص کی مدد کر سکتے ہیں، چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا دور ہو۔ آپ کسی کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر سکتے ہیں، کسی کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے رقم بھیج سکتے ہیں، یا پھر کسی کو ضرورت کے مطابق فون کے ذریعے رقم یا دیگر مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ سب ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم چھپ کر نیکی کر سکتے ہیں، اور اس کے ذریعے دوسرے لوگوں کی زندگی میں آسانی لا سکتے ہیں۔


نیکی کے مختلف انداز


نیکی کا عمل صرف مالی مدد تک محدود نہیں ہے۔ نیکی کی دیگر اقسام میں کسی کو تسلی دینا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا، اور اس کی ذہنی اور فکری سطح پر معاونت کرنا شامل ہے۔ جب ہم کسی کو ذہنی سکون دیتے ہیں یا اس کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تو ہم ایک عظیم نیکی کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔


دشمنوں کے ساتھ نیکی


امام علی علیہ السلام نے فرمایا:


"تمہارے دشمنوں کے ساتھ بھی نیکی کرنا چاہیے، کیونکہ جب تم ان کے ساتھ نیکی کرتے ہو، تو یہ ان کے غصے کو کم کرتا ہے اور یہ ایک طرح سے ان کی اصلاح کا باعث بنتا ہے۔"


یہ بات بہت اہم ہے کہ نیکی کا عمل صرف دوستوں اور عزیزوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انسان کو اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور نیکی کا رویہ اپنانا چاہیے۔ اس سے انسان کی اخلاقی پختگی اور روحانیت کا اندازہ ہوتا ہے۔


مولا علی علیہ السلام کے اقوال


امام علی علیہ السلام نے فرمایا:


"جو شخص دوسرے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتا ہے، لوگ اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور اس کی عزت بڑھتی ہے۔"


جب ہم کسی کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کرتے ہیں تو اس سے انسان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے، اور لوگ اس شخص کو مزید پسند کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ نیکی کرنے والے شخص کے ساتھ محبت بڑھتی ہے۔


راستوں کی آسانی اور دشواری


مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:


"مومن وہ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے راستے آسان کرتا ہے، اور منافق وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے راستے دشوار کرتا ہے۔"


یہ بات بہت اہم ہے کہ اگر ہم دوسروں کے لیے راستے آسان کرتے ہیں تو ہم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ایک قدم اور قریب پہنچتے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں، تو ہم اللہ کے بندے بن کر اس کے دروازے پر جا رہے ہوتے ہیں۔


آخری بات


آخرکار، امام علی علیہ السلام نے فرمایا:


"نیکی کرنے والا کبھی تنہا نہیں رہتا، کیونکہ اللہ اس کے لیے مددگار پیدا کرتا ہے۔"


جب انسان نیکی کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اللہ تعالی بھی اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔


دعاء


اللہ ہمیں اپنی زندگی میں نیکی کرنے کی توفیق دے، تاکہ ہم امام زمانہ علیہ السلام کے نقش قدم پر چل کر اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ آمین۔🤲


✨شہر بانو✍️✨ 


*درس مہدویت بروز جمعہ*


🌸 *تہذیب نفس کرو، خود ملنے آؤں گا۔ امام مہدیؑ عج* 🌸  

*زمانہ غیبت کے ناصرین ابدال کون ہیں؟*


*استاد محترم:*  

*علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹


---


*درس کی تفصیلات:*


*درس مہدویت* میں امام مہدیؑ کے ظہور، ان کی غیبت کے دوران کی حالت اور ان کے ناصرین ابدال کی خصوصیات پر تفصیل سے گفتگو کی جاتی ہے۔ یہ موضوع خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو امام مہدیؑ کے آنے کے بعد کی دنیوی اور روحانی تبدیلیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔


1. *تہذیب نفس اور خود کی اصلاح:*

    امام مہدیؑ نے فرمایا ہے کہ انسان کو اپنے نفس کی اصلاح کرنا چاہیے تاکہ وہ امام کی قیادت میں صحیح راستے پر چل سکے۔ "تہذیب نفس کرو، خود ملنے آؤں گا" کا مفہوم یہ ہے کہ امام مہدیؑ جب آئیں گے تو ان کی رہنمائی میں وہ لوگ کامیاب ہوں گے جو اپنے نفس کی اصلاح کریں گے اور ان کے راستے کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں گے۔


2. *ناصرین ابدال:*

    *ناصرین ابدال* وہ خاص لوگ ہیں جو امام مہدیؑ کے ظہور سے پہلے اور ان کے غیبت کے دوران دین کی خدمت میں مصروف ہوں گے۔ ان کی شناخت اور کردار بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ امام کی مدد کے لیے تیار رہیں گے۔ ناصرین ابدال کا کردار بہت نیک، ایماندار اور دین دار ہو گا، اور یہ لوگ امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت ان کی رہنمائی اور حمایت فراہم کریں گے۔


    - *ناصرین ابدال کی خصوصیات:*

        - یہ لوگ ایمان و عمل میں مضبوط ہوں گے۔

        - ان کا دل اللہ کی محبت اور امام کی خدمت میں ہوگا۔



- یہ لوگ اخلاقی طور پر بلند اور روحانی طور پر مکمل ہوں گے۔

        - ان کے کاموں میں اللہ کی رضا اور دین کی خدمت کا جذبہ ہوگا۔

        - ناصرین ابدال ہمیشہ اپنی زندگی کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔


3. *درس کا مقصد:*

    اس درس کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں امام مہدیؑ کی غیبت کے دوران اپنے نفس کو بہتر بنانا ہوگا، اور اس کی مدد سے ہم اپنے علم و عمل میں ترقی کر سکتے ہیں تاکہ جب امام آئیں، ہم ان کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوں۔


---


*اختتام:*  

*علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب* نے اس درس میں امام مہدیؑ کے بارے میں اہم نکات پر روشنی ڈالی اور ہمیں بتا یا کہ امام کے ظہور سے قبل ہم کس طرح اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں تاکہ امام کی قیادت میں رہ کر ہم ان کے ناصر بن سکیں۔


*اللہ تعالی ہمیں اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور امام مہدیؑ کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!*


شہر🌸 بانو✍️

 🙏


دولت کریمہ امام زمانہ عج

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹


آج روز جمعہ ہے اور نیمہ شعبان ہے اور آپ سب عزیزان، اہل انتظار، اہل ایمان اور بلخصوص ہمارے ادارے کے جتنے طلباء اور طالبات ہیں سب کی خدمت میں آج کے دن کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتی  ہوں۔ ✨


یہ دن اس ہستی کے ساتھ خاص ہے کہ جس ہستی کا انتظار تبھی سے ہو رہا ہے جب سے یہ عالم تخلیق ہوا ہے۔ مولاؑ عج کا انتظار حضرت آدمؑ سے ہوا اور تمام نبیوں نے آپؑ کے ظہور اور دنیا میں آپؑ عج کے ذریعے الہیٰ حکومت کے بپا ہونے کی خبریں اپنی امتوں کو دیں۔ اور سب امتوں کے صالحین، اولیاء اور انبیاءؑ مولاؑ عج کے ظہور کے مشتاق بھی ہیں اور ہماری کتابوں میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ جب مولاؑ عج کا ظہور ہوگا تو گذشتہ امتوں سے صالحین اور انبیاءؑ بھی تشریف لائیں گے اور مولاؑ عج کا زمانہ ظہور دیکھیں گے۔


یہ اشتیاق خود ہمارے پیغمبرﷺ اور ان کے اوصیاءؑ کے دلوں میں بھی تھا اور انہوں نے بار بار اس کا اظہار کیا۔ اور اسی لیے رجعت میں یہ ہستیاں بھی تشریف لائیں گی۔


تو یہ تمام ہستیاں کس چیز کو دیکھنے کے لیے آئیں گے؟

ماہ رمضان میں دعائے افتتاح کا یہ جملہ کہ جو ہمیشہ ہمارا ورد ہونا چاہیے اور ہماری ہر نماز کے بعد اللہ کی بارگاہ میں یہ بات ضرور مانگنی چاہیے کہ یہ ہر مومن شیعہ کی دعا کا حصہ ہونا چاہیے۔

معصومؑ فرماتے ہیں۔

اَللّٰہُمَّ إنَّا نَرْغَبُ إلَیْکَ فِی دَوْلَةٍ کَرِیمَةٍ،

اے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں

تُعِزُّ بِھَا الْاِسْلامَ وَأَھْلَہُ وَتُذِلُّ بِھَا النِّفاقَ وَأَھْلَہُ،

جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت دے اور نفاق و اہل نفاق کو ذلیل کرے


اور اس کے بعد فرمایا:

وَتَجْعَلُنا فِیھَا مِنَ الدُّعاةِ إلٰی طاعَتِکَ، وَالْقادَةِ إلٰی سَبِیلِکَ، وَتَرْزُقُنا بِھَا کَرامَةَ الدُّنْیا وَالْاَخِرَہِ

اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کیطرف بلانے والے اور اپنے راستے کیطرف رہنمائی کرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت دے


یہ دعا ہمارا ورد ہونی چاہیے کیونکہ یہ دعا ایک معصومؑ کی خواہش ہے اور اشتیاق ہے اور یہ ہمارے لیے درس ہے کہ ایک منتظر مومن کے اندر بھی اسی طرح کا اشتیاق اور تڑپ ہونی چاہیے۔ 🌟


دولت کریمہ:

امام زمانؑ عج کی حکومت کو کیوں دولت کریمہ کہا گیا ہے اور اُس عظیم الہیٰ حکومت میں کیا ایسے وصف ہیں؟


پہلی خصوصیت:

پوری دنیا پہ عظیم الہیٰ حکومت:

اگر مولاؑ عج کی عظیم الہیٰ حکومت کے بارے میں تمام آیات مجیدہِ قرآن اور احادیثِ شریفہ محمدؐ و آل محمدؑ کا مطالعہ فرمائیں تو ہمیں یہ  کچھ نظر آتا ہے کہ جب یہ حکومت قائم ہوگی تو اس وقت پوری دنیا کا نظام ایک امامؑ کی رہبری میں آجائے گا اور پوری دنیا پہ ایک معصومؑ ہستی حکومت کرے گی۔ یعنی ابھی تک کسی معصومؑ کی پوری دنیا پہ حکومت قائم نہیں ہوئی۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا کے کچھ حصے پر تو قائم ہوئی ہے جیسے حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ، اور ذولقرنینؑ جیسے عظیم الہیٰ سلطان کی حکومت دنیا کے کچھ حصے پر تھی۔ اور پیغمبرؐ اسلامﷺ کی حکومت جزیرۃ العرب کے کچھ حصے پر تھی اسی طرح یوشع بن نون جو حضرت موسیٰؑ  کے وصی ہیں ان کی حکومت زمین کے کچھ حصے پر تھی اسی طرح مولا علیؑ کی حکومت دنیا کے کچھ حصے پر تو تھی لیکن! ابھی تک کوئی معصوم ہستی جس نے مشرق  سے مغرب تک پوری زمین پر حکومت کرنی ہو تو ایسا نظام ابھی برقرار نہیں ہوا اور اللہ نے اس حکومت کے لیے اپنی ساری مخلوقات اور اپنے برگزیدہ بندوں میں ایک ہستی کو منتخب کیا اور وہ یوسف زہراؑ ہیں۔ کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کیا کہ وہ پوری زمین پر الہیٰ حکومت کو نافذ کریں اور وہ اللہ کے ایسے وصی ہیں کہ جن کے قبضہ قدرت میں پوری زمین ہوگی۔


روایت :

معصومؑ فرماتے ہیں کہ؛

پروردگار مہدیؑ عج اور ان کے ناصرین کے اختیار میں فقط زمین کو نہیں دے گا بلکہ آسمانوں کو بھی دے گا۔ 🌷


یعنی اللہ ان کے سپرد آسمانوں اور زمین کا اختیار دے دے گا۔ اور وہ صرف زمین پہ اختیار نہیں رکھیں گے بلکہ ان کی حکومت آسمانوں پر بھی ہوگی۔ 🌍


دوسری خصوصیت:

عقلوں کا کامل ہونا:

معصومؑ فرماتے ہیں کہ اس حکومت میں لوگوں کی عقلیں کامل ہو جائیں گی۔


ہمارے ہاں بہت سارے جرائم،  لوگوں کے عقلی اور فکری لحاظ سے جو نقائص اور حماقتیں ہیں اور بہت ساری برائیاں اور جہالتیں ہیں یہ ان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یا پھر جب عقلیں مغلوب ہو جاتی ہیں تو یہ ان کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن! امام مہدیؑ عج کی دولت کریمہ میں مشرق سے مغرب تک سارے رعایا کی عقلیں کامل ہو جائیں گی۔ یعنی امامؑ عج ایسے انتظامات کریں گے۔


تیسری خصوصیت:

دین اسلام کی حاکمیت:

دین اسلام برتر ہوگا اور دنیا پر حاکم ہوگا۔ اور سارے باطل دین اور باطل مکتب ختم ہو جائیں گے۔


چوتھی خصوصیت:

نفس امارہ پر قابو اور شیطان کا خاتمہ:

انسان کے سب سے بڑے دشمن شیطان کا خاتمہ ہو جائے گا اور نفس امارہ کو قابو کرنے کے لیے مولاؑ عج  لوگوں کی تربیت فرمائیں گے اسی لیے پھر دنیا پاک و پاکیزہ اور نوارنی ہوجائے گی اور پھر نفس انسان کو دھوکا نہیں دے سکے گا۔ یعنی مولاؑ عج لوگوں کے لیے اتنی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا انتظام فرمائیں گے۔


پانچویں خصوصیت:

بغض اور کینہ کا خاتمہ

لوگوں کے دلوں سے کینہ اور بغض ختم ہو جائے گا۔ اور لوگوں کے دلوں میں صرف محبت اور ایک دوسرے کی خدمت رہ جائے گی۔ 💖


چھٹی خصوصیت:

زمین پر کوئی گناہ نہیں رہے گا:

اس دولت کریمہ میں زمین پر فقط اور فقط اللہ کی عبادت ہوگی ✨


ساتویں خصوصیت:

دنیا کے غریب و نادار سب بے نیاز ہو جائیں گے:

اتنا زیادہ مال ہوگا کہ جو بھی مولاؑ عج کے پاس آئے گا امام اسے فراوانی سے مال عطا فرمائیں گے۔ 💰


آٹھویں خصوصیت:

لوگ طاقتور ہو جائیں گے:

اس زمانے میں لوگوں کے بدنوں سے ناتوانی اور ضعف ختم ہوجائے گی اور لوگ طاقتور ہو جائے گے اور قوی ہوجائیں گے اور روایات کہتی ہیں کہ اس زمانے میں ایک انسان چالیس کے برابر قوی ہوگا۔ لہذا عمریں بھی طولانی ہو جائیں گی۔ 💪


نویں خصوصیت:

نابینا بینا ہو جائیں گے:

اس زمانے میں نابینا بینا ہو جائیں گے۔ یعنی جسمانی اور روحانی دونوں آنکھیں ملیں گی۔ 👀


دسویں خصوصیت:

لاعلاج مریض شفا پائیں گے:

ایسے مریض جو ایک مدت سے بستر پر ہونگے شفایاب ہو جائیں گے اور ان کی عمریں طولانی ہو گی۔ دنیا سے بیماریاں دکھ اور پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔ 🙏


گیارویں خصوصیت:

طولانی عمر

لوگوں کی عمریں طولانی ہو جائیں گی۔ کیونکہ نہ بیماریاں رہیں گی نہ پریشانیاں نہ ہی دکھ رہیں گے۔


بارویں خصوصیت:

کمال تک پہنچنا

اس زمانے میں انسان علم و دانش کے اعتبار سے کمال تک پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک اپنے علوم کا کچھ حصہ ہمیں دیا ہے لیکن! اللہ کے کامل ترین علوم امام مہدیؑ عج کے زمانے میں ملیں گے۔


اسی لیے ہماری بعض احادیث یہ کہتی ہیں کہ اس زمانے میں زمین فقط عدل سے نہیں بلکہ علم سے بھی بھرے گی۔ 📚


تیرویں خصوصیت:

لوگوں کو ایسی ایسی نعمات ملیں گی کہ جن کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

سبحان اللہ! 🌸


آخری خصوصیت:

امامؑ لوگوں کے ساتھ اتنی خوبیاں اور نیکیاں کریں گے اور لوگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ اتنے مہربان ہونگے کہ زمین اتنی نورانی ہو جائے گی کہ زندہ لوگ اپنے مرحومین کے لیے یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی زندہ ہوتے اور یہ زمانہ دیکھتے۔ یہ وہ حکومت ہے کہ جس کی تجلی احادیث میں بیان ہوئی ہے اور ہم اس حکومت کے منتظر ہیں۔ 🌟


لیکن!


عام طور پر ہمارے ذہنوں میں یہی سوال آتا ہے کہ یہ حکومت کیوں نہیں شروع ہو رہی جبکہ اب تو گیارہ سو سال ہو چکے ہیں ؟ کیوں غیبت طولانی ہو رہی ہے اور ظہور میں تاخیر ہو رہی ہے؟


جواب :

بہت بڑی ہستی عالمِ جلیل القدر علامہ نصیر الدین طوسیؒ فرمایا کرتے تھے کہ "اگر یہ حکومت برقرار نہیں ہورہی تو اس کی وجہ ہم خود ہیں۔"

کیونکہ ہم نے مولاؑ عج کے ظہور کی کوئی تیاری نہیں کی ہوئی۔ ہم اہل نماز بھی ہیں اہل زکوۃٰ بھی ہیں۔ اچھے اچھے کام بھی کرتے ہیں۔ عزاداری و میلاد کرتے ہیں، حج عمرہ زیارات سب کام کرتے ہیں مگر! اپنی نجات کے لیے۔ ابھی تک ہماری فکریں شخصی ہیں اور ابھی تک ہم نے ملت اور امامِ مِلت کے بارے میں نہیں سوچا۔


امام زمانؑ عج کے ناصروں کی سوچ یہ ہے کہ وہ اجتماعی سوچ رکھتے ہیں اور اجتماعی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ اگر وہ کسی کو خیر پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ فقط اپنی ذات یا اپنے رشتہ دار نہیں بلکہ مخلوق خدا تک ان کی سوچ ہوتی ہے۔ یعنی ان کی سوچ اپنے امامؑ عج کی طرح ہے کہ امامؑ عج پوری زمین کے لیے امان ہیں اسی طرح ناصرین مہدیؑ عج بھی پوری زمین کے لیے امان ہیں۔ اور سب کے لیے خیر و برکت ہیں۔


امامؑ عج  وہ ہیں جو کافروں کے بھی مددگار ہیں۔ تو یہ ظہور اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ ہم اجتماعی طور پر حرکت میں نہیں آتے اور قرآن مجید بارھا یہ کہہ چکا ہے۔


سورہ رعد 11

اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُغَيِّـرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّـٰی يُغَيِّـرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِـمْ

اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ 🌍


ہمیں چاہیے کہ خود قدم تو اٹھائیں خود کوشش تو کریں۔ بنی اسرائیل کے مہدی اور مسیحا حضرت موسیٰؑ تھے کہ جنہوں نے انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دلائی تو وہ کیوں ظاہر ہوئے، کیونکہ قوم بنی اسرائیل نے بے پناہ ظلم برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ظہور کے لیے کوششیں کیں۔ انہوں نے اشتیاق کا اظہار کیا اور جناب موسیٰؑ کی راہ کو ہموار کیا۔


مثلاً اگر ہم قلی طور پر دیکھیں تو پچاس یا ساٹھ سال قبل کے چین اور آج کے چائینہ میں کتنا فرق ہے انہوں نے کس قدر ترقی کی ہے۔ اسی طرح دیگر ممالک ہیں کہ جنہوں نے جس نہج میں محنت اور کوشش کی تو اللہ نے ان کو ترقی دی۔


یہ تو کافروں کی مثالیں ہیں لیکن! اگر مسلمان کوشش کریں تو اللہ انہیں کئی گناہ ترقی دیتا ہے کیونکہ مسلمان اہل ایمان ہیں۔


مکتب تشیہو میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی اجتماعی حرکت سامنے آئی تو اس کی کتنی برکات ظاہر ہوئیں۔ مثلاً لبنان میں شعیوں کا ایک گروہ ایک عظیم قیام کی صورت میں سامنے آیا اور بڑی بڑی شخصیات ظاہر ہو


 گئیں، جیسے سید موسی صدر، امام موسٰی کاظمؑ کے پیروکار اور حزب اللہ کی تشکیل۔ انہی اجتماعات اور تحریکوں کی بدولت لبنان میں مظلوموں کے حقوق کا تحفظ ہوا اور سامراجی طاقتوں کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت کا آغاز ہوا۔ اسی طرح ایران میں بھی اسلامی انقلاب اور حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں ملت ایران نے امریکہ اور شاہی حکومت کے خلاف عظیم جدوجہد کی اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کو ممکن بنایا۔


اگر ہم اپنی حالت کو بدلنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے ہمیں اجتماعی طور پر اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے اخلاق، کردار اور ایمان کی مضبوطی پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر ہم اپنے اندر اس تبدیلی کی خواہش پیدا کریں، تو اللہ تعالیٰ بھی ہماری مدد کرے گا اور ہمیں امام زمانہؑ کے ظہور کی خوشی نصیب ہوگی۔


ہمیں ہر دن اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے، یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم امامؑ عج کے متوقع فوجی، نمائندے یا مددگار بننے کے لائق ہیں؟ کیا ہم اپنے معاشرے میں عدل، انصاف، اور محبت کی روشنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہو، تو ان شاء اللہ امامؑ عج کا ظہور قریب ہوگا اور ہم ان کی رہنمائی میں وہ خوشحال اور عدلیہ کا دور دیکھ پائیں گے جو اس وقت کا عالم ہے۔


لہذا، آئیے ہم سب اپنے دلوں میں امامؑ عج کے لیے محبت اور اشتیاق پیدا کریں، اور اپنے عمل سے اس اشتیاق کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کریں تاکہ امامؑ عج کا ظہور ہمارے درمیان ہو اور ہم ان کی قیادت میں ایک بہتر دنیا کا مشاہدہ کریں۔


اللہ ہمیں اپنے امامؑ کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کی توفیق دے اور ان کی حکومت کے قیام میں ہمارا حصہ بنائے۔ آمین۔

🤲 


✨شہر بانو📝

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات