درس کتاب لقاء اللہ (17)📖
آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی (رح)🌷
*تجلی ، خدا کیا ہے؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
جمعہ المبارک 14 ربیع الثانی 1446( 18 اکتوبر ، 2024)**
**Dars 17 Khulasa**
اللہ اپنے بندوں کو خاص مقامات عطا کرتا ہے، اور ان کے دل میں تجلی کرتا ہے۔ تجلی سے مراد وہ خیال نہیں ہے جو ہم تصور کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات لا محدود ہے، وہ خیال میں سما نہیں سکتی۔
ایک دفعہ امام جعفر صادق ایک آیت کی تلاوت کرتے ہوئے غش کھا گئے۔ جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا، "میں اس آیت کی تکرار کر رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں اللہ سے سن رہا ہوں، میری جسمانی طاقت اللہ کے جلال کی تجلی کو برداشت نہ کر سکی۔"
اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس مقام پر پہنچنا آسان نہیں۔ اس کے لیے بے پناہ علم، ریاضت، اور دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
شہر بانو✍️
*درس لقاء اللہ۔ درس17*
کتاب لقاء اللہ۔
مصنف : *آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی* (رح)
موضوع *تجلی خدا*
*خلاصہ*
پروردگار اپنے خاص بندوں کو جو مقامات عطا کرتا ہے اس میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تجلی کرتا ہے
⬅️تجلی سے مراد وہ نہیں جو ہم تصور کرتے ہیں اس کی دنیا کی روشنیاں یا اجالا ۔۔۔یا نور ۔۔۔
ہم جو بھی تصور کرتے ہیں وہ اسکی مخلوق ہے ۔۔
⬅️تجلی کیا ہے؟؟
یہ ایک معنوی و روحانی حس ہے ۔۔یا ایک کیفیت کا نام ہے۔۔
اس کے لئے ریاضت و علم چاہیے ۔۔۔توجہ قلب و عاجزی چاہیے۔ اس کیلئے
بہت دعا کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسکی توفیق و شرف عطا فرمائے ۔
⬅️سید ابن طاؤس کتاب فلاح السائل میں روایت کرتے ہیں
⬅️امام صادق علیہ السلام اپنی نماز میں تلاوت قرآن فرما رہے تھے اور اس دوران حالت غشی طاری ہوئی ۔۔
سوال کرنے پر فرمایا
کہ قرآن کی آیات کی تلاوت اس طرح کی کہ اسکے بعد مجھ پر ایسی حالت طاری ہوگئی گویا میں اس ہستی سے ان آیات کو براہ راست سن رہا ہوں جس نے ان کو نازل کیا ہے
میری انسانی اور بشری طاقت پروردگار کی تجلی کو برداشت نہ کرسکی اور مجھ پر حالت غشی طاری ہوگئی ۔
پھر
⬅️حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال پیش کی گئی کہ
⬅️حضرت موسی ع نے قوم کے تقاضے پر درخواست کی تھی کہ اے رب مجھے اپنا آپ دکھا اور پرودگار نے پہاڑ پر تجلی فرمائی اور وہ پہاڑ اس تجلی کو برداشت نہ کرسکا اور ریزہ ریزہ ہوگیا
اور حضرت موسیٰ اس منظر کو دیکھ کر غش کھا گئے ۔
⬅️انسان پہلے اپنے ھدف معین کرے کہ اسکے مطابق استعداد ہے یا نہیں۔
⬅️پروردگار کی معرفت چاہنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی کیسی ہے کتنی بزرگ اور اعظم ہے ۔
نہ عقل و فکر اسکا فہم رکھتے ہیں نہ درک کرسکتے ہیں۔
⬅️اگر ہم تصور کریں کہ خدا اس کائنات کا حاکم ہے تو ہمارے ذہنوں میں دنیا کے بادشاہوں کا تصور آتا ہے ان دنیاوی حکمرانوں کے پاس چھوٹے ملک ہیں اور عارضی حکومت ہے ۔۔ اسی لحاظ سے ان کے اختیارات و طاقت بھی کمتر درجے کے ہیں ۔۔مثال کے طور پہ اگر ایک دیہات کے حاکم ( زمیندار یا وڈہرہ)کو ملک کی حاکمیت دے دی جاے تو وہ اسے نہیں چلا پاے گا کیونکہ یہ اس کی استعداد اور صلاحیت سے بہت اوپر کی بات ہے ۔ اسی طرح ہم تجلی الہی کو تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے تصور سے بہت اوپر کی بات ہے۔ ہم صرف وہی چیزیں تصور میں لا سکتے ہیں جنہیں ہم نے کبھی مجسم یا تصویر میں دیکھا ہؤا ہو ۔
⬅️اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ازلی و ابدی ہے ۔ وہ اس جیسی لاکھوں زمینوں۔۔۔ لاکھوں کائناتوں کا اور جنت و جہنم کا تمام عالمین کا مالک ہے ۔
⬅️دنیاوی حکمرانوں کی حکومت میں نقائص ہوتے ہیں جب کہ خدا ہر قسم کے نقص سے پاک ہے ۔
⬅️روایات میں آیا ہے
پروردگار اہل بہشت کو وہ کمال عطا کرے گا
جو اس ظاہری دنیا میں اولیا و انبیاء کو حاصل ہوتا ہے ۔
⬅️ اللہ تعالیٰ اہل بہشت سے فرمائے گا ۔۔۔
میں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے زندگی عطا کردی ہے۔ اب تمہاری حیات ابدی ہے اور تم جس چیز کے بارے میں ارادہ کرو گے تو وہ ہوجاے گی ۔ جبکہ قرآن میں یہ طاقت اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بیان کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے سورہ یاسین آیت انما امرہ اذا ارادا شیء ان یقول کن فیکون۔۔۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ جب کسی چیز (کو خلق کرنے ) کا ارادہ فرماتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے ۔
⬅️ انبیاء اور اولیاء کو جو طاقت و معرفت ، جو اختیار دنیا میں نصیب ہے وہ اہل جنت کو جنت میں عطا کیا جائے گا ۔
⬅️خدا کی معرفت حاصل کرنے لیے بہت زیادہ توجہ، اخلاص قلب ، مراقبہ ، دعا و مناجات چاہیئے ۔۔
پروردگار عالم ہمیں اپنی اور اپنے انبیاء و ائمہ علیہم السلام کی حقیقی معرفت عطا فرمائے اور اطاعت گزار بندوں میں شامل فرمائے آمین ثم آمین ۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو✍️
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
ہفتہ 22 ربیع الثانی 1446( 26 اکتوبر ، 2024)**
*دروس لقاءاللہ📖*
*آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی (رح)🌷*
درس 18
*اللہ کے خالص بندوں کے مقامات*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹
*موضوع: جنت اور اس کی نعمات سے بھی بڑی سعادت*
*اس درس کے اہم نکات مندرجہ ذیل رہے*۔۔
💫 اس درس میں بتایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالی پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ تقوی کی زندگی گزارتے ہیں ان کو اخرت میں جنت کا مقام عطا کیا جائے گا اور اہل بہشت کو کیا کیا نعمتیں میسر ہوں گی۔
💫 *بہشت کی نعمتیں بعید از قیاس ہیں*
⬅️اہل بہشت کو جو نعمتیں میسر ہوں گی ان کا ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے اندازہ بھی نہیں کر سکتے اور جو کچھ بھی قرآن یا احادیث میں بیان کیا گیا ہے اصل نعمات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
💫 *اہل بہشت کیلیے پانی*
⬅️ اہل بہشت کو جو پانی میسر ہوگا اس میں اس دنیا کے تمام مشروبات کا ذائقہ ہوگا یعنی اہل بہشت ایک پانی پیتے ہوئے تمام مشروبات کا ذائقہ محسوس کریں گے اور ان کی لذت سے لطف اٹھائیں گے۔۔
اگر ہم دنیا میں بہت سے مشروبات ملا کر پئیں تو اس کا ذائقہ عجیب سا ہو جاتا ہے اور انسان اس سے لطف اندوز نہیں ہوتا جبکہ جنت میں ایسا نہیں ہوگا اور انسان اس مشروب بہشتی کے ہر ہر گھونٹ سے پوری طرح لطف اندوز ہوگا۔
💫 *تجلی پروردگار*💫
⬅️ *تمام نعمتوں سے زیادہ جو نعمت جنت میں افضل ترین ہے وہ پروردگار عالم کی *تجلی* ہے۔
جب اللہ تعالی اہل بہشت کو اپنی تجلی سے سرفراز کرے گا تو وہ بے ہوش ہو جائیں گے جیسے کہ حضرت موسیٰ کوہ طور پہ بے ہوش ہو گئے تھے۔۔
اور اہل جنت کی وہ
بے ہوشی اتنی طویل ہو جائے گی کہ حوران جنت پروردگار سے کہیں گی کہ کہ ہم کس کی خدمت کریں کہ جس کے لیے ہمیں مقرر کیا گیا ہے وہ تو طویل نیند میں ہے۔۔ پھر ان لوگوں کو حکم الہی سے ہوش میں لایا جائے گا۔
💫 *ہم جنت کے ماحول اس کی نعمتوں ، اس کے لطف اور لذتوں کا ادراک نہیں کر سکتے*
⬅️اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے اور وہ بڑوں کے درمیان بیٹھتا ہے تو ان کی باتوں کو سمجھ نہیں پاتا اور بعض اوقات ہنستا ہے یا الجھتا ہے کہ یہ کیا باتیں کر رہیے ہیں۔۔۔۔لیکن جب وہ بڑا ہوتا ہے تو پھر وہ ان باتوں کو اچھے سے سمجھنے لگتا ہے۔
💫 *اہل جنت*۔۔۔۔
⬅️ *حیات ابدی* کو پائیں گے اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔۔۔اسی طرح اہل جہنم بھی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا پا کر پھر جنت میں بھیج دیے جائیں گے۔
💫⬅️*فرمان مولا علی علیہ السلام*
مولا علی علیہ السلام فرماتے تھے کہ پروردگار عالم میں تیری عبادت جہنم کے خوف سے نہیں کرتا اور نہ ہی جنت کے لالچ میں کرتا ہوں بلکہ اس لیے تیری عبادت کرتا ہوں کہ تو عبادت کے لائق ہے۔
⬅️ *دعاۓ کمیل* میں *مولا علی علیہ السلام* کا جملہ ہے کہ پروردگار میں تیرے عذاب پر صبر کر لوں گا لیکن تیری جدائی پر کیسے صبر کروں گا* 😭
💫 *پیغمبر حضرت شعیب علیہ السلام اتنا گریہ کرتے تھے کہ رب تعالیٰ نہ مجھے جنت چاہیے نہ مجھے جہنم کا خوف ہے بس مجھے تیری دوری کا غم ہے۔۔ مجھے تیری قربت چاہیے اور وہ مجھے نصیب نہیں ہوتی* ۔
⬅️فارسی کے ایک شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ اے پروردگار تو مجھے دنیا کے جلوے دکھا کر دیوانہ کر رہا ہے۔۔۔لیکن جو تیرا دیوانہ ہے اسے ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے پروردگار میں تیرے در پہ کھڑا ہوں۔۔۔ لیکن تیری گلی میں کھڑے ہو کر تیرے در کو دیکھنے میں بھی بہت مزہ ہے۔
⬅️ *ایت اللہ ملکی تبریزی* آللہ تعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ زندگی کے شب و روز گزرتے جا رہے ہیں اور ہمارا دھیان کہاں ہے ہم دنیا میں مشغول ہیں لیکن اس مقصد کی طرف توجہ نہیں کرتے جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالی نے ہمیں اپنے لیے پیدا کیا ہے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔۔پھر وہ امام زمانہ علیہ السلام سے توسل کرتے ہیں۔ ۔ کہ خدا کا قرب عطا ہو کہ جس کو وہ مل گیا اسے سب کچھ مل گیا۔
💫 *اسی طرح امام حسین علیہ السلام دعائے عرفہ* میں فرماتے ہیں کہ اے رب جس نے تجھے پایا اس نے کیا کھویا اور جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا۔۔۔یعنی کہ جس نے رب کو پا لیا اس نے سب کچھ پا لیا پھر اس کا اگر کوئی نقصان بھی ہوا تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے کچھ نہیں کھویا۔۔ اور جس نے اللہ کو نہ پایا تو پھر اس نے کوئی بھی شے کوئی بھی نعمت دولت پا لی لیکن وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کچھ بھی نہ حاصل کیا ہو۔
المختصر کہ اپنے رب کی نظر رحمت میں ہونا
یا قرب پروردگار کا احساس ہونا سب سے بڑی نعمت، سعادت اور تحفہ الہی ہے۔
🤲 دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں اپنی معرفت اور قرب کی منازل عطا فرمائے اور ہمارا شمار اس کے پسندیدہ اور متقی بندوں میں ہو۔ ہمارے وقت کے امام ہم سے راضی ہوں۔ اور اپ کے ظہور میں تعجیل و آسانی عطا ہو الہی امین ثم امین ۔
*الھم عجل لولیک الفرج*۔
شہر بانو✍️
*دروس لقاءاللہ📖*
*آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی (رح)🌷*
درس 18
*اللہ کے خالص بندوں کے مقامات*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
ہفتہ 22 ربیع الثانی 1446( 26 اکتوبر ، 2024)**
**موضوع: جنت اور اس کی نعمات سے بھی بڑی سعادت**
#### اہم نکات:
1. **اللہ پر یقین اور اطاعت**
جو لوگ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں، ان کو آخرت میں جنت کا مقام عطا کیا جائے گا، جہاں انہیں بے شمار نعمتیں میسر ہوں گی۔
2. **بہشت کی نعمتیں**
جنت کی نعمتیں ہماری سوچ سے بالاتر ہیں۔ قرآن اور احادیث میں بیان کردہ چیزیں اصل نعمتوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔
3. **پانی کی نعمت**
اہل بہشت کو جو پانی ملے گا، اس میں دنیا کے تمام مشروبات کا ذائقہ ہوگا، جس سے وہ مکمل لطف اندوز ہوں گے۔
4. **پروردگار کی تجلی**
جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ کی تجلی ہے، جو اہل جنت کو بے ہوش کر دے گی۔ یہ حالت اتنی طویل ہوگی کہ حوران جنت یہ سوال کریں گی کہ انہیں کس کی خدمت کرنی ہے۔
5. **نظام جنت کی تفہیم**
جنت کی نعمتوں کا ادراک انسان کو اس وقت نہیں ہو پاتا جب وہ دنیا میں ہوتا ہے، جیسے ایک بچہ بڑوں کی باتیں نہیں سمجھتا۔
6. **حیات ابدی**
اہل جنت ہمیشہ وہاں رہیں گے، جبکہ کچھ لوگ اپنے گناہوں کی سزا کے بعد جنت میں بھیجے جائیں گے۔
7. **مولا علی علیہ السلام کی بات**
مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت جنت کی طلب یا جہنم کے خوف سے نہیں بلکہ اللہ کی عبادت کے لائق سمجھ کر کرتے ہیں۔
8. **دعاۓ کمیل**
مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں عذاب پر صبر کر لوں گا لیکن تیری جدائی پر کیسے صبر کروں گا۔
9. **حضرت شعیب علیہ السلام کا گریہ**
حضرت شعیب علیہ السلام اللہ کی قربت کی طلب میں اتنا روتے تھے کہ نہ جنت چاہیے نہ جہنم، بس قربت کا غم ہے۔
10. **آیت اللہ ملکی تبریزی**
وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم دنیاوی مشاغل میں گم ہیں اور اپنے مقصد سے غافل ہیں۔
11. **امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ**
امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس نے اللہ کو پا لیا، اس نے سب کچھ پا لیا، اور جس نے اسے کھو دیا، اس نے سب کچھ کھو دیا۔
#### خلاصہ:
اللہ کی قربت اور رحمت کا احساس سب سے بڑی نعمت ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنی معرفت عطا فرمائے اور ہم اپنے وقت کے امام کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں۔
**اللہ تعجل لولیک الفرج۔**
شہر بانو✍️
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*دروس لقاء اللہ*
*درس نمبر* 19
*موضوع : توبہ اور اس کے درجے*
💫 بندگی کا تقاضا ہے کہ جب ایک عبد اپنے مقصد زندگی کو جان لے اور اللہ تعالی کی معرفت حاصل کر لے اسے معلوم ہو جائے کہ وہ خدا کے لیے اس دنیا میں آیا ہے اور اس نے خدا کے پاس واپس جانا ہے تو پھر اس بندے کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔ جیسے ہی کوئی گناہ ہو جائے فورا توبہ کرے اور یہ نہیں کہ ایک بار توبہ کر لی اور پھر اپنی روز مرہ کی زندگی میں مشغول ہو گیا نہیں بلکہ اپنی پچھلی زندگی پر بھی نظر رکھے اور حتیٰ کہ اگر خیال میں بھی۔۔ سوچ میں بھی۔۔ تصور میں بھی کوئی ایسی بات ہوئی ہے جو کہ نافرمانی الٰہی میں شمار ہوگی تو اس سے بھی توبہ کرے۔
*توبہ کا مطلب ہے پروردگار کی طرف رجوع کرنا اور یہ عہد کرنا کہ اب یہ گناہ یا یہ نافرمانی والا کام دوبارہ نہیں کریں گے*
*کتاب مصباح الشریعہ میں توبہ کے مختلف درجے بیان کیے گئے ہیں*
جس طرح معرفت و مقام میں لوگوں کے درجے ہوتے ہیں اسی طرح ان کے حساب سے ان کی توبہ کے بھی درجے ہوتے ہیں ۔
💫*انبیاءکی توبہ*
قرآن و حدیث میں انبیاء کی توبہ کا ذکر اور ان سے منسوب دعائیں ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ انبیاء تو معصوم ہوتے ہیں ان سے کوئی خطا نہیں ہوتی تو وہ کس بات پر توبہ کرتے ہیں؟؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں ان سے اس طرح کے گناہ سرزد نہیں ہوتے جیسے ہم عام لوگوں کے بارے میں تصور کرتے ہیں یا جانتے ہیں. ان سے کوئی شرعی اور فقہی خطا سرزد نہیں ہوتی لیکن کبھی کبھی انبیاء کے دل میں جو اضطراب پیدا ہوتا ہے جب وہ اپنے باہر کے حالات سے۔۔ لوگوں کے رویوں سے ۔۔ یا اپنے نفس کی پریشانی سے پریشان ہوتے ہیں تو ان کے دل میں جو ایک مخفی سا اضطراب پیدا ہوتا ہے وہ نہیں ہونا چاہیے۔ انبیاء اس سے توبہ کرتے ہیں ۔وہ اپنے دل کے اس اضطراب اور پریشانی سے توبہ کرتے ہیں اسلئے کہ ان کی پشت پر پروردگار عالم کا ہاتھ ہے اس رب العالمین کی قدرت ہے۔۔ اس کی سپورٹ ہے کہ جو سارے جہانوں کا مالک ہے تو اس کی مدد ساتھ ہوتے ہوئے ان کے دل میں یہ اضطراب اور پریشانی نہیں پیدا ہونی چاہیے خدا کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہونا چاہیے تو انبیاء اس اس اضطراب کے انے سے توبہ کرتے ہیں۔
💫 *اولیاء کی توبہ*
اولیاء میں ائمہ اور اوصیاء شامل ہیں۔ اولیاء کس چیز سے توبہ کرتے ہیں اور کس چیز سے گریہ کرتے ہیں۔۔ بعض علماء اور فقہاء کہتے ہیں کہ وہ ہمیں دکھانے کے لیے کہ ہم کس طرح توبہ کریں ہمارے لیے نمونہ عمل پیش کرنے کے لیے توبہ کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ بات اس طرح ہے کہ اولیاء اس لمحے کے لیے کہ جب ان کے دل میں کسی آلودگی کا خیال آیا ۔۔کوئی ایسی بات ان کے دل میں ائی کہ جو پروردگار کے خیال سے انہیں دور لے گئی وہ اس چیز سے توبہ کرتے ہیں۔ اولیاء بھی کسی گناہ میں مبتلا نہیں ہوتے وہ کوئی ایسا حرام کام نہیں کرتے کہ جو کسی عام ادمی سے کرنے کا تصور کیا جا سکتا ہے لیکن وہ صرف اپنے دل کے اس خیال سے کہ جو انہیں کسی لحظہ کے لیے پروردگار کے خیال سے دور کر دے۔ ۔ وہ اس سے توبہ کرتے ہیں ۔
💫*اوصیاء کی توبہ*
*توبۃ الاوصیاء من تنفیس*
یہ یوں ہے کہ اوصیاء پروردگار کے خاص بندے ہوتے ہیں اللہ کے منتخب بندے ہوتے ہیں ۔ تنفیس سے مراد یہ ہے کہکبھی رزق کی کشادگی ۔۔ عزت ۔۔شہرت ان کے نیک اعمال کی وجہ سے ان کو اتنی عزت ۔۔ تو اس شہرت کی وجہ سے پروردگار کے خیال سے غافل ہو گئے۔۔۔ تو وہ اس چیز سے توبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں آزمائش میں ڈال۔۔ ہمیں مصیبتوں میں مبتلا کر تاکہ ہم تیری ہی طرف متوجہ رہیں۔
عام لوگوں کے لیے رزق عزت شہرت سکون فضل خدا ہے لیکن اوصیاء آزمائشوں کو اپنے لیے فضل خدا سمجھتے ہیں۔۔
💫*توبۃ الاوصیاء من التنفس* سے مراد یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک سانس بھی ہمارا پروردگار کی اطاعت اور فرمانبرداری کے بغیر نا گزرے۔۔ کوئی ایسا سانس جو ہم نے لیا ہے کہ جس میں ہم پروردگار کی طرف مائل نہیں تھے۔۔ غیر خدا کے خیال میں سانس لیتے رہے تو وہ اس سے بھی توبہ کرتے ہیں۔
💫 *خواص کی توبہ*
خواص میں علماء اور فقہاء شامل ہیں۔ انکی توبہ میں یہ ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالی کے نیک بندے ہیں لیکن ان سے کوئی ایسا عمل سرزد ہوا کہ جس میں وہ پروردگار کی یاد سے دور ہو گئے۔ ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے انہوں نے کبھی ریا اور دکھاوا پیدا ہو گیا کہ وہ اس وجہ سے عمل کریں کہ لوگ انہیں اچھا جانیں۔۔۔ تو یہ اس چیز سے توبہ کرتے ہیں۔۔
💫 *عوام کی توبہ*
عوام میں ہم جیسے بندے عام بندے شامل ہیں جن سے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں اور وہ کبھی ایسا عمل بھی کرتے ہیں کہ جو پروردگار عالم کی نافرمانی ہوتا ہے کوئی حرام کام ہوتا ہے شرعی اور فقہی طور پہ اس کو گناہ تصور کیا جاتا ہے تو جب ایسا عمل ان سے سرزد ہو جاتا ہے تو پھر وہ توبہ کرتے ہیں۔۔
*ہمیں چاہیے کہ ہر وقت پروردگار عالم سے توبہ کرتے رہیں اس سے رجوع کریں اس سے گناہوں سے بچے رہنے کی دعا کرتے رہیں تاکہ اسی دنیا میں اپنے درجات کو بلند کریں*
اور جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ توبہ جو ہے وہ ایک حبل ہے ۔۔ *حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی ہے* تو توبہ کر کے اپنے درجوں کو بلند کریں ۔۔ عوام سے خواص میں۔۔ خواص سے اوصیاء ۔۔
پھر اولیاء کے درجے میں شامل ہوں۔۔
⬅️ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اس لیے کوئی بھی یہ نہیں سوچے کہ وہ اولیاء سے بڑھ کر نبی کے درجے میں شامل ہو جائے گا ۔
🤲دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں گناہوں سے بچے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ہر لمحہ ہر لحظہ پروردگار کا خیال اس کی اطاعت کا خیال ہمارے دل میں رہے اور ہم اللہ تعالی کے نیک اور مقرب بندوں میں شامل ہوں۔
اپنے وقت کے امام کے انصار و اعوان میں شامل ہوں ۔ آمین ثم آمین ۔
اللہم صلی علی محمد ال محمد۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو✍️
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
جمعہ المبارک 28 ربیع الثانی 1446( 1 نومبر ، 2024)**
**بسم اللہ الرحمن الرحیم**
**دروس لقاء اللہ**
**درس نمبر 19**
**موضوع: توبہ اور اس کے درجے**
بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ جب ایک بندہ اپنے زندگی کے مقصد کو جان لے اور اللہ کی معرفت حاصل کر لے، تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کے لیے آیا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ ایسے میں، اسے ہر وقت اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے۔ جب بھی کوئی گناہ ہو، فوراً توبہ کرے۔ یہ نہیں کہ صرف ایک بار توبہ کر کے اپنی زندگی میں مشغول ہو جائے، بلکہ اسے اپنی پچھلی زندگی پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اگر خیال، سوچ یا تصور میں بھی کوئی ایسی بات آئے جو نافرمانی الٰہی میں شمار ہو، تو اس سے بھی توبہ کرنی چاہیے۔
**توبہ کا مطلب** یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کرنا اور عہد کرنا کہ یہ گناہ دوبارہ نہیں کیا جائے گا۔
**کتاب مصباح الشریعہ میں توبہ کے مختلف درجے بیان کیے گئے ہیں**۔ جیسے معرفت و مقام میں لوگوں کے درجے ہوتے ہیں، ویسے ہی ان کی توبہ کے درجے بھی مختلف ہوتے ہیں۔
### انبیاء کی توبہ
قرآن و حدیث میں انبیاء کی توبہ کا ذکر ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ انبیاء تو معصوم ہوتے ہیں، تو وہ کس بات پر توبہ کرتے ہیں؟ ان کا جواب یہ ہے کہ انبیاء شرعی اور فقہی خطاؤں سے تو محفوظ ہیں، مگر کبھی کبھار ان کے دل میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ یہ اضطراب بیرونی حالات یا اپنے نفس کی پریشانی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور انبیاء اس سے توبہ کرتے ہیں، کیونکہ ان کا یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔
### اولیاء کی توبہ
اولیاء، جن میں ائمہ اور اوصیاء شامل ہیں، اس بات سے توبہ کرتے ہیں کہ جب ان کے دل میں کسی آلودگی کا خیال آتا ہے۔ وہ توبہ کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی لمحے کے لیے بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہتے۔
### اوصیاء کی توبہ
اوصیاء، جو اللہ کے منتخب بندے ہیں، کبھی کبھار عزت یا شہرت کی وجہ سے اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں۔ وہ اس سے توبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا اللہ، ہمیں آزمائشوں میں مبتلا کر تاکہ ہم تیری طرف متوجہ رہیں۔
### خواص کی توبہ
خواص، جن میں علماء شامل ہیں، کبھی کبھار اپنے اعمال میں ریاکاری کر لیتے ہیں۔ جب ان سے یہ بات سرزد ہوتی ہے تو وہ اس سے توبہ کرتے ہیں۔
### عوام کی توبہ
عوام میں وہ لوگ شامل ہیں جو گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب وہ نافرمانی کرتے ہیں، تو توبہ کرتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اللہ سے توبہ کرتے رہیں، اس کی طرف رجوع کریں اور گناہوں سے بچنے کی دعا کریں تاکہ اس دنیا میں اپنے درجات کو بلند کر سکیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے، توبہ اللہ کی رسی ہے، جس کے ذریعے ہم اپنے درجات بلند کر سکتے ہیں۔
**دعا ہے کہ اللہ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر لمحہ اللہ کا خیال ہمارے دلوں میں رہے۔**
**اللہم صلی علی محمد و آل محمد۔**
**الھم عجل لولیک الفرج۔**
شہر بانو✍️
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 🕊️
درس:۔۔۔لقاء اللّٰہ 📚
درس نمبر:
موضوع: توبہ اور اسکے درجے.
توبہ کے درجے ✍️
اہم ترین کام انسان کا توبہ ہے ۔
اپنی گزشتہ زندگی میں جو کچھ اس نے کیا جو نہیں کرنا چاہیئے تھا جو سوچا (حتی) جو خیال آئیں ان سب سے توبہ ۔
توبہ کے مرتبے و درجے ہیں:
جس طرح سے لوگوں کے درجے ہیں ۔توبہ کرنے والوں کے درجے ہیں
اسی طرح خود توبہ کے بھی درجے ہیں ۔
کتاب مصباح الشعریاں میں توبہ کے درجے بیان ہوئے ہیں ۔
لوگوں کے درجوں کی مناسبت سے۔اس میں آیا ہے کہ:
توبہ اللّٰہ کی رسی ہے اس کی عنایت سے پروردگار کی مدد ہے ۔ہر ابد کے لیئے ہر بندے کے لیے ہر حال میں ضروری ہے کہ وہ اپنی توبہ کو جاری رکھے ۔
اگر کوئی نامناسب کام ہوا ہے تو فوری توبہ کرے۔ایسا نہیں ہے کہ توبہ کرے اور پھر انسان اپنی دنیا 🌏 میں غرق ہو جائے
نہیں! جب بھی کوئی یہ سمجھے کہ وہ راہ حق سے ہٹ رہا ہے فوری توبہ کرے۔
اس کے بعد فرماتے ہیں 💫
لوگوں کے ہر گروہ کے لیے توبہ ہیں ۔یعنی ہر گروہ کی اپنی خاص توبہ ہے۔
💫۔ نبیوں کی توبہ کیا ہے ؟
قرآن مجید ۔ احادیث ۔دعائیں۔
ان سب میں نظر آتا ہے۔
نبیوں کی توبہ جو ہے وہ یہ ہے کہ ان کے اندر جو اضطراب پیدا ہوتا ہے دنیا کے جن حالات سے وہ دو چار ہوتے ہیں تبھی انسان بلآخر پریشان ہوتا ہے اپنے نفس سے ،دشمنوں سے
یہ جو ایک مخفی سا نا معلوم سا اضطراب پیدا ہوتا ہے یہ نہیں پیدا ہونا چاہئے تھا ۔ کیونکہ آپ نبی خدا ہے ولی خدا ہے آپکی پشت پر لامحدود قدرت کا مالک خدا ہے ۔
تو یہ انکی اک خطا ہوتی ہے ۔درواقع ہمارے لیے خطا نہیں ہے
یہ کوئی شرعی یا فقہی خطا نہیں ہے ۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ نبی معصوم ہوتے ہیں تو وہ گناہ کیا ہوتا ہیں جو وہ کرتے ہیں جس سے وہ استغفار کرتے ہیں وہ یہی چیز ہے ۔یعنی ! یہ انکے مقام پر ایک خطا ہے ۔جس درجے پر وہ فائز ہیں اس درجے میں اک خطا ہے بلآخر وہ بشر ہے انسان ہیں ۔لیکن!
یہ وہ خطا نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں جس میں حلال و حرام کا مسئلہ ہے ۔نعوذباللہ یہ نہیں ہے۔ وہ معصوم ہے ان چیزوں سے وہ معصوم ہے۔وہ جو اک پریشانی اک اضطراب انکے اندر پیدا ہوتا ہے وہ نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔تو انبیاء اس سے توبہ کرتے ہیں ۔
اولیاء کی توبہ 💫
نبیوں کے بعد جو دوسرا مقام ہے اولیاء خدا ۔اس میں آئمہ ہیں اوصیاء ہے انکی توبہ کس چیز سے ہے ۔دلوں میں بعض دفعہ خیال پیدا ہوتے ہیں جیسے بدگمانی پیدا ہوگئی جیسے سوۓ زن پیدا ہوگیا جیسے فکر گناہ آگئ ذہن میں یہ بھی گناہ نہیں کرتے یہ بھی معصوم ہوتے ہیں وہ جو گناہ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ نہیں کرتے یہ مبطلا نہیں ہوتے کسی گناہ میں ان سے کوئی خطا عملی طور پر نہیں ہوتی لیکن یہ کس چیز کے لیے روتے ہیں اللّٰہ کی بارگاہ میں! استغفار کرتے ہیں لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں گریہ کرتے ہیں ۔
ہمارے بعض لوگ بعض علماء کہتے ہیں ۔ہمیں دکھانے کے لیے ہیں ۔نہیں نہیں انکے درجے پر پر بھی کوئی گناہ ہے جو ہمارے لیے گناہ نہیں ہے لیکن انکے درجے پر وہ کیا ہے ۔جیسے ہم کہیں یہ اس چیز سے توبہ کرتے ہیں ۔
اصفیاء کی توبہ 💫
اصفیاء کون ہے اولیاء کے بعد والا درجہ ۔
منتخب شُدہ لوگ کہ جنہیں اللّٰہ منتخب کرتا ہے ۔اور وہ آہستہ آہستہ اولیاء کے درجے پر پہنچتے ہیں۔
انکا کیا گناہ ہے؟
انکا یہ ہے کہ بعض ہمارے علماء یہاں تنفیذ سے مراد لیتے ہیں کہ جو انکو وصت ملتی ہے زندگی میں مثلاً:
۔رزق کی فراوانی ۔۔کوئی شہرت مل گئی ۔۔بڑا مقام مل گیا۔لوگ ارد گرد بہت اکھٹے ہوگئیں اور یہ وہ چیز ہے جو انسان کو بلآخر غافل کرتی ہے چاہے لہزوں کے لیے گھنٹوں کے لیے دنوں کے لیے اس وقت جب یہ لوگ یہ چیزیں دیکھتے ہیں تو اللّٰہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔اے پروردگار ہمیں آزمائشوں میں ڈال تا کہ ہم ایک لہزا بھی تیری یاد سے غافل نا رہے ۔
ہمارے یہاں لوگوں کو رزق عزت شہرت سکون فضل خدا ہے لیکن! اصفیاء آزمائشوں کو اپنے لیے فضل خدا سمجھتے ہیں ۔۔
جن کے مقام بڑے انکے امتحان بڑے وہاں دکت بڑی وہاں ضرافت بڑی ۔
خواص کی توبہ 💫
اس میں علماء و فقہاء کی توبہ ہے ان کی توبہ کیا ہے ؟یہ کبھی کبھی اپنی آمور زندگی میں غیر خدا میں مشغول ہوگئے ۔
پہلے والوں میں خیال تھا مگر یہاں عملی طور پر ہو گیا جیسے بعض دفعہ ریاں ہو جاتی ہے دکھاوا ہو جاتا ہے کاموں میں بظاہر نیک کام کر رہے ہیں لیکن دکھاوا جتنا ٹائم بھی غیر خدا میں مشغول ہوئے البتہ یہ گناہ نہیں ہر رہے۔حرام نہیں کر رہے حلال کر رہے ہیں لیکن ہر حلال کام قربتہ اللّٰہ ہونا چاہیے ۔
انسان اپنے تمام کاموں میں نیت کرے بس۔
عوام کی توبہ 💫
وہ گناہ یہ جو عام طور پر کام ہوتے ہیں حرام ان سے توبہ کرنا یہ عوام کی توبہ ہے عوام کا درجہ سب سے نیچے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے درجات رکھے ہوئے ہیں اور دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔عوام
خواص والے درجے میں داخل ہو سکتی ہے خواص اصفیاء کے درجے پر داخل ہو سکتے ہیں اصفیاء اولیاء ۔پس نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے ۔
پروردگار ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان درجوں کو سمجے۔اور اپنی توبہ اور اپنے عمل صالح سے اسی دنیا میں مرنے سے پہلے اپنا درجہ بڑھاے اور اللّٰہ کے مقرر بندوں میں داخل ہو ۔۔۔
شہر بانو✍️
سلسلہ دروس لقاء اللہ
*درس نمبر 20*
*موضوع : استغفار کے 6 درجے*
*اہم نکات*
💫 *سیر و سلوک کی راہ کا اغاز توبہ سے ہوتا ہے*۔
اس سے پچھلے درس میں توبہ کے درجے بتائے گئے تھے انبیاء کی توبہ ، اولیاء کی توبہ، خواص کی توبہ ،
اوصیاء کی توبہ ، عوام الناس کی توبہ وغیرہ وغیرہ ۔
💫 مکلف جب معرفت الہی کی راہ پہ قدم رکھے تو سب سے پہلا کام توبہ کرنا ہے توبہ کا معنی ہے اپنے گناہوں پہ ندامت اور استغفار کرنا۔
*استغفار عوام الناس کے لیے لازمی ہے* ۔
💫 *امام علی علیہ السلام* سے سوال کیا گیا کہ استغفار کیا ہے تو مولا نے *استغفار کے چھ حصے بیان فرمائے*-
1- *ندامت یا پشیمانی*
ندامت سے مراد ہے کہ اپنے گناہوں پر پشیمان ہو ۔۔۔ اس وقت پر پشیمان ہو کہ جو گناہوں میں صرف کیا۔۔اور دل میں ارادہ کرے کہ اب یہ گناہ دوبارہ کبھی نہیں کریں گے۔
اہل قبور سے جب سوال کیا جائے گا کہ کوئی حسرت ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ کاش ایک لحظہ دنیا میں پلٹائے جائیں اور ہم استغفار توبہ کر لیں۔
حضرت مریم والدہ حضرت عیسی سے منقول واقعہ بیان کیا گیا کہ جب حضرت عیسی نے اپنی والدہ کی روح سے دریافت کیا (جو کہ برزخی جنت میں ہے)آیا کیا اپ اس دنیا میں واپس انا چاہتی ہیں ؟؟ تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور وجہ یہ بتائی کہ وہ گرمیوں کے لمبے دن روزوں میں۔۔۔ اور سردیوں کی طویل ٹھنڈی راتوں کو اللہ کی عبادت میں گزارنا چاہتی ہیں۔۔
2 - *ہمیشہ کے لیے گناہوں کو ترک کرنے کا عزم*
یہ نہیں کہ ایک بار توبہ کر لی اور پھر دوبارہ اسی گناہ میں مصروف ہو گئے بلکہ یہ کہ اللہ سے عہد کریں گے پروردگار میں نادم ہوں اور اب ہمیشہ کے لیے تیری اطاعت کی طرف لوٹ ایا ہوں۔ توبہ پہ ثابت قدم رہنے کا عزم
3- *مخلوق کے حقوق کو ادا کرنا* ۔
مخلوق میں سے جس کا جو بھی حق ہے اس کو ادا کریں جیسے والدین کے اولاد کے حقوق رشتہ داروں کے حقوق جب تک حقوق الناس کی ادائیگی نہیں ہوگی۔۔۔چاہے صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو اس کی توبہ فائدہ مند نہیں ہوگی۔
اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کوئی نجس جانور کنویں میں گر جائے تو پانی نکالتے رہیں کنواں پاک نہیں ہوگا جب تک کہ نجس چیز کو باہر نہ نکالا جائے۔
4-*جو حقوق چھوٹ گئے ہیں ان کو ادا کیا جائے*
5- *حرام کھانے سے جو بدن میں گوشت بنا ہے اب ریاضت کے ذریعے اس کو گلا دیا جائے بدن سے دور کیا جائے*۔
6- *جتنی لذت گناہوں سے حاصل کی ہے اب اتنا ہی وقت نفس کو عبادتوں کے بوجھ سے آشنا کرنا*۔۔۔ اتنا ہی وقت عبادت میں صرف کرے۔ تاکہ تقوی کی اصل روح سے آشنا ہو ۔
🤲دعا ہے کہ ہمیں معرفت پروردگار اور معرفت ائمہ علیہم السلام اور ان کی پیروی کی توفیق عطا ہو۔۔ آمین ثم آمین ۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو✍️
**سلسلہ دروس لقاء اللہ**
*درس نمبر 20*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 7 جمادی الاول 1446( 10 نومبر ، 2024)**
*موضوع : استغفار کے 6 درجے*
**اہم نکات**
💫 *سیر و سلوک کی راہ کا آغاز توبہ سے ہوتا ہے*
پچھلے درس میں توبہ کے مختلف درجات پر بات کی گئی تھی، جیسے: انبیاء کی توبہ، اولیاء کی توبہ، خواص کی توبہ، اوصیاء کی توبہ، اور عوام الناس کی توبہ۔
💫 جب مکلف (یعنی وہ شخص جو اللہ کے راستے پر قدم رکھتا ہے) معرفتِ الہی کی راہ پر چلنا شروع کرتا ہے، تو سب سے پہلا قدم توبہ کرنا ہوتا ہے۔ توبہ کا مطلب ہے گناہوں پر پشیمانی اور استغفار کرنا۔
*استغفار عوام الناس کے لیے ضروری ہے*۔
💫 *امام علی علیہ السلام* سے استغفار کے بارے میں سوال کیا گیا تو مولا نے استغفار کے چھ درجے بیان فرمائے:
1. **ندامت یا پشیمانی**
ندامت کا مطلب ہے اپنے گناہوں پر پچھتاوا اور گناہ کی حالت میں گزارے گئے وقت پر افسوس۔ اس کے ساتھ دل میں یہ عزم ہونا چاہیے کہ اب ان گناہوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ اہلِ قبور سے جب سوال کیا جائے گا کہ کیا ان کے دل میں کوئی حسرت ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک لمحے کے لیے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ ہم توبہ کرلیں۔ حضرت مریم (علیھا السلام) کا واقعہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ کیا آپ دنیا میں واپس آنا چاہیں گی؟ تو حضرت مریم نے جواب دیا کہ وہ دنیا کے گرم دنوں میں روزے اور سردیوں کی طویل راتوں میں عبادت گزارنا چاہتی ہیں۔
2. **ہمیشہ کے لیے گناہوں کو ترک کرنے کا عزم**
یہ صرف توبہ کا معاملہ نہیں کہ ایک بار توبہ کرلی اور پھر دوبارہ گناہ کر لیا، بلکہ اس میں اللہ سے پکا عہد کرنا ضروری ہے کہ اب ہم ہمیشہ کے لیے گناہوں سے بچیں گے اور صرف اللہ کی رضا کی طرف لوٹیں گے۔
3. **مخلوق کے حقوق کا ادا کرنا**
اگر کسی پر مخلوق کے حقوق ہیں جیسے والدین، رشتہ دار یا کسی دوسرے فرد کا حق، تو ان حقوق کو پورا کرنا ضروری ہے۔ جب تک حقوق الناس کی ادائیگی نہیں ہوگی، توبہ کا اثر کامل نہیں ہوگا۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ اگر کوئی نجس چیز کنویں میں گر جائے، تو پانی نکالنے سے کنواں صاف نہیں ہوگا جب تک کہ نجس چیز باہر نہ نکال لی جائے۔
4. **چھوٹے ہوئے حقوق کی ادائیگی**
جو حقوق آپ سے رہ گئے ہیں، جیسے قرض یا وعدے، انہیں فوراً ادا کرنا چاہیے۔
5. **حرام کھانے سے جو بدن میں گوشت بن چکا ہے، اس کی تطہیر**
اگر کسی نے حرام مال یا غذا کھائی ہے تو وہ جو گوشت اس میں پیدا ہوا، اس کا گلا کر کے، ریاضت اور عبادت کے ذریعے اس بدن کو پاک کرے۔
6. **گناہوں کی لذت کے برابر عبادت کی لذت حاصل کرنا**
جتنی لذت گناہوں سے حاصل کی تھی، اب اتنا ہی وقت عبادت میں گزارنا چاہیے تاکہ نفس اس کی حقیقت سے آشنا ہو اور تقویٰ کی اصل روح سمجھ میں آئے۔
🤲 دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنی معرفت، ائمہ علیہم السلام کی معرفت اور ان کی پیروی کی توفیق دے۔ آمین۔
*اللھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو ✍️
*🪷درس لقاءاللہ:21*
*▪️توبہ کیسے شروع کی جائے*
*استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤*
*🏴عالمی مرکز مہدویت قم🏴*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
جمعہ مُبارک 19 جمادی الاول 1446( 22 نومبر ، 2024)**
**توبہ کیسے شروع کی جائے؟**
آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ کی کتاب *لقاء اللہ* میں توبہ کے حوالے سے جو اہم نکات بیان کیے گئے ہیں، وہ ایک عمیق اور دل کو چھو لینے والی تفصیل پیش کرتے ہیں۔ استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے توبہ کے چھ مراحل کو بیان کیا، جن کے ذریعے انسان اپنی روحانی صفائی اور قربِ الٰہی کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔
**توبہ کا اصل مقصد**
توبہ کا مقصد صرف گناہوں سے بچنا نہیں بلکہ ان گناہوں کی اثرات کو اپنی روح سے صاف کرنا اور اللہ کی رضا کی جانب رجوع کرنا ہے۔ آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ کے مطابق، جب انسان گناہوں کے عذاب اور ان کے اثرات کو پہچانتا ہے، تو وہ حقیقتاً توبہ کی لذت کو سمجھتا ہے۔ مثلا، اگر انسان یہ سمجھ لے کہ یتیم کا مال کھانا دراصل آگ کھانے کے مترادف ہے، تو پھر وہ اس آگ کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش کرے گا۔
**توبہ کی لذت**
توبہ کی اصل لذت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ جیسے اللہ کا وعدہ ہے کہ:
*مبدل السیئات باضعافھا من الحسنات* (اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے)
یہ نہ صرف انسان کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ اللہ کی محبت اور قرب کا بھی سبب بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے:
*ان اللہ یحب التوابین* (اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)
**توبہ کی حقیقت**
عارفِ کامل آیت اللہ محمد بہاری ہمدانیؒ نے توبہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق، توبہ صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے ہونی چاہیے۔ جب انسان اپنے گناہوں پر پشیمان ہو، اس کے دل میں ان گناہوں کا مزہ تلخی اور ندامت میں بدل جائے، تب ہی اللہ کی بخشش کا دروازہ کھلتا ہے۔ آیت اللہ محمد بہاری ہمدانیؒ کے مطابق، جتنی شدت سے انسان اپنے گناہوں کی ندامت محسوس کرتا ہے، اتنی ہی اللہ کی مغفرت حاصل کرتا ہے۔
**قصہ بنی اسرائیل کا**
ایک پیغمبر بنی اسرائیل کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ سے سوال کرتا ہے کہ آیا ایک گناہگار شخص کی توبہ قبول ہو چکی ہے جو کئی سالوں سے عبادت میں مشغول ہے۔ اللہ کا جواب تھا کہ اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک کہ اس کے دل میں گناہوں کا مزہ نہیں نکل جاتا، کیونکہ توبہ کا اصل معیار دل کی حقیقت ہے۔
**توبہ کی عملی صورت**
توبہ کی عملی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی تمام کوتاہیوں اور گناہوں پر پشیمان ہو کر اللہ سے معافی مانگے۔ اگر اس نے کسی کا حق مارا ہے تو اس حق کو واپس کرے، اگر کسی کو اذیت دی ہے تو اس سے معافی مانگے، اور اگر اس نے اپنی نمازیں قضا کی ہیں تو انہیں ادا کرے۔
**غسلِ توبہ**
آیت اللہ محمد بہاری ہمدانیؒ نے غسلِ توبہ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ اس غسل سے مراد روحانی صفائی ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ اس غسل کے بعد انسان کو اپنے گناہوں کا ایک ایک تفصیل یاد کرکے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
**خفیہ صدقہ**
توبہ کے بعد انسان کو خفیہ صدقہ دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ صدقہ اللہ کے غضب کو رحمت میں بدل دیتا ہے اور انسان کی روحانی صفائی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
**خلاصہ**
توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی تحول ہے۔ انسان کو اپنے گناہوں کی تلخی کو دل میں محسوس کرنا ہوگا، تاکہ وہ اللہ کی محبت اور قرب حاصل کر سکے۔ توبہ کا یہ عمل انسان کے روحانی سفر کا آغاز ہے، جو اسے اللہ کے قریب لے جاتا ہے اور آخرت کی فلاح کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حقیقی توبہ کرنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنی ہدایت کی راہوں پر چلنے کی طاقت دے تاکہ ہم آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔🤲
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*۔
*درس لقاء اللہ #21*
*موضوع: توبہ کیسے شروع کی جائے*
*اہم نکات*
دروس لقاء اللہ میں ہم آیت اللہ مرزا جواد ملکی تبریزی کی کتاب لقاء اللہ کے حوالے سے دروس سن رہے ہیں۔
پچھلے درس میں استاد صاحب نے توبہ اور استغفار کے چھ مراحل کو بیان کیا۔۔
جن کے ذریعے انسان اپنا تزکیہ نفس کر کے قرب الہی کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔
💫 *توبہ کا مقصد۔*
توبہ کا اصل مقصد صرف گناہوں سے بچنا نہیں بلکہ ان گناہوں کے اثرات سے اپنی روح کو نجات دینا ہے اور اللہ کی رضا کی جانب قدم بڑھانا ہے
جو برے اثرات اس گناہ کی لذت حاصل کرنے کی وجہ سے روح پر ائے ہیں اپنی روح کو ان اثرات کی گندگی اور غلاظت سے نجات دلانا ہے اپنے قلب کی صفائی اور پاکیزگی کرنا ہے۔
*ایت اللہ مرزا جواد ملکی تبریزی کے مطابق جب انسان گناہوں کے عذاب اور ان کے اثرات کو پہچانتا ہے تو پھر وہ حقیقت ان سے بچنا چاہتا ہے اور توبہ کی روح کو سمجھتا ہے*۔
مثلا اگر انسان یہ سمجھ لے کہ یتیم کا مال کھانا دراصل اگ کھانے کے مترادف ہے تو پھر وہ اس اگ کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش کرے گا۔
💫 *توبہ کی لذت*
توبہ کی اصل لذت یہ ہے کہ اللہ تعالی انسان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے جیسے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ۔۔
*ترجمہ۔۔اللہ تعالی گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے*۔
توبہ نہ صرف انسان کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ اللہ کی محبت اور قرب کا بھی سبب بنتی ہے اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے جیسے کہ قران مجید میں ایا ہے۔
*ان اللہ یحب التوابین*۔ترجمہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
*یہاں یہ بات واضح رہے کہ توبہ کرنا اصل میں یہ نیت کرنا ہے کہ ہمیشہ کے لیے گناہوں سے توبہ کر رہے ہیں یعنی گناہ نہ کرنے کا عہد کر رہے ہیں. توبہ کرنے سے یہ مراد نہیں ہونی چاہیے کہ اج توبہ کر لوں کل پھر گناہ کر کے پرسوں پھر توبہ کر لوں گا۔*
💫 *توبہ کی حقیقت*۔
عارف کامل ایت اللہ محمد بہاری ہمدانی نے توبہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے ان کے مطابق توبہ صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے ہونی چاہیے۔
💫 *گناہوں پر پشیمانی* جب انسان اپنے گناہوں پر پشیمان ہوتا ہے تو اس کے دل میں ان گناہوں کی تلخی اور ندامت پیدا ہونے لگتی ہے۔۔
وہ اس تلخی اور بے سکونی سے نجات چاہتا ہے۔۔
جب وہ اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سے پریشان ہوتا ہے اور نادم ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس پر اپنی بخشش کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
💫ایت اللہ ہمدانی کے مطابق جتنی شدت سے انسان اپنے گناہوں کی ندامت محسوس کرتا ہے اتنی ہی جلدی اللہ تعالی اس پہ سکون اور مغفرت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
💫*قصہ بنی اسرائیل*۔
بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کا قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے سوال کرتے ہیں کہ ایک گنہگار شخص کی توبہ قبول ہو چکی ہے یا نہیں جو کہ کئی سالوں سے عبادت میں مشغول ہے اللہ کا جواب ایا کہ اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک کہ اس کے دل سے گناہوں کا مزہ نکل نہیں جاتا *کیونکہ توبہ کا اصل معیار دل کی ندامت ہے*۔
💫 *توبہ کے عملی اقدامات*
1-توبہ کے عملی اقدامات یہ ہیں کہ انسان اپنی تمام کوتاہیوں اور گناہوں پر پشیمان ہو کر اللہ سے معافی مانگے۔
2-اگر اس نے کسی کا حق مارا ہے تو اس حق کو واپس کرے۔
3-اگر کسی کو اذیت دی ہے تو اس سے معافی مانگے۔
4-اگر اللہ کی نافرمانی کی ہے مثلا واجبات کو ادا نہیں کیا تو اللہ سے معافی مانگے اور واجبات کو ادا کرے۔
💫 *غسل توبہ*۔
ایت اللہ ہمدانی نے غسل توبہ کی اہمیت پر بھی بہت زور دیا اس غسل سے مراد روحانی صفائی ہے جس کے ذریعے انسان اپنے گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ ائمہ کرام کے ارشادات میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ توبہ کا آغاز غسل توبہ سے کرے۔
💫 *خفیہ صدقہ*۔
توبہ کی نیت کے بعد انسان کو صدقہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ خفیہ صدقہ اللہ کے غضب کو رحمت میں بدل دیتا ہے اور انسان کے تزکیہ نفس میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
💫 حاصل کلام یہ ہے کہ توبہ صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی تحول ہے ۔ انسان کو اپنے گناہوں کی تلخی کو دل میں محسوس کرنا ہوگا تاکہ وہ اللہ تعالی کی معرفت محبت اور قرب حاصل کر سکے۔ توبہ کا یہ عمل انسان کے تزکیہ نفس اور روحانی سفر کا اغاز ہے جو اسے اللہ کے قریب لے جائے گا اور اخرت کی فلاح کی ضمانت فراہم کرے گا۔
🤲اللہ تعالی ہم سب کو حقیقی توبہ کرنے کی توفیق دے اور ہدایت کی راہوں پہ چلنے میں مدد عطا فرمائے تاکہ ہم دنیا اور اخرت میں۔۔ اللہ تبارک و تعالی اور معصومین کی نگاہوں میں سرخرو ہو سکیں۔ اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔ امین ثم امین۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو✍️
درس لقاء اللہ: 22
کتاب شریف: لقاء اللہ
آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ
گناہ گار کی تین حالتیں اور رحمت الہی
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
ہماری گفتگو کا سلسلہ درسِ عرفان درسِ لقاءاللہ میں یہاں پہنچا ہے کہ مولف آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ کے ایک ہم درس عارفِ کامل محمد بحاری ہمدانیؒ نے توبہ کے حوالے سے فرمایا کہ توبہ کس طرح کرنی چاہیے۔
فرماتے ہیں کہ: 🌸
جب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں تو خدا کو اس کے مقربین کا واسطہ دیں۔ وہ ہستیاں جن کا اللہ کی بارگاہ میں بہت بڑا مقام ہے، جیسے انبیاءؑ، آئمہؑ، معصومینؑ اور ملائکہ مقربین۔ خاص طور پر چار مقرب ملائکہ جن میں جبرائیلؑ امین بھی ہیں، اور انبیاءؑ میں اولُوالْعزم انبیاءؑ، خاص طور پر حضرت محمدﷺ اور تمام آئمہ معصومینؑ ان کی قسم دے کر اپنی توبہ بارگاہ خداوندی میں پیش کریں تاکہ خدا ان کے صدقے میں ہماری توبہ قبول فرمائے۔
بالآخر پروردگار اپنے گنہگار بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، کیونکہ رب العزت فرماتا ہے کہ خدا اپنے بندے سے اسی طرح معاملہ کرتا ہے جس طرح اس کا بندہ اپنے رب کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے۔ انسان گناہ کے بعد یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ یقیناً خدا اسے معاف کر دے گا۔ وہ بارگاہ خداوندی میں حسن ظن اور امید رکھتا ہے کہ اللہ اسے مایوس نہیں کرے گا۔ جتنے ہمارے اچھے گمان پروردگار کے بارے میں بڑھیں گے، اس سے بڑھ کر اللہ ہم پر کرم اور مہربانی فرمائے گا۔
اسی لیے جناب ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ:
اگر اللہ نہ کرے کہ آپ توبہ کرنے کے بعد پھر توبہ کو توڑ دیں اور گناہ کریں، تو اس مسئلے میں مایوس نہ ہوں، تھکیں نہیں۔ بلکہ آپ کی امید اور حسن ظن یہ ہونا چاہیے کہ
"فَإِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ"
پروردگار تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ خدا بالآخر اسے معاف کردے گا اور اپنی رحمت جاودانی سے اسے جنت کی طرف لے جائے گا۔
اس کے بعد جناب ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کی تین حالتیں ہیں جب وہ گناہ کرتا ہے:
1. گناہ سے پہلے کی حالت
2. گناہ کے دوران کی حالت
3. گناہ کے بعد کی حالت
گناہ سے پہلے کی حالت:
انسان کو چاہیے کہ ان تین حالتوں میں اپنے اوپر توجہ رکھے۔ گناہ کے غلط عمل کرنے سے پہلے وہ احادیث و روایات پڑھے جن میں اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہو، مثلاً ایسی روایات جو بتاتی ہیں کہ بعض گناہ ایسے ہیں جنہیں خدا کبھی معاف نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر وہ شخص جو بار بار گناہ کرتا ہے، خدا اسے کبھی معاف نہیں کرتا۔ کیونکہ عبد اور اس کے پروردگار کے درمیان سرکشی اور مخالفت کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور اگر کوئی شخص اس حد سے پار ہو جائے، تو ممکن ہے کہ خدا اسے اپنی رحمت سے عاق کردے۔
جیسے والدین اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، مگر جب بچے سرکشی اور نافرمانی شروع کرتے ہیں تو والدین کی محبت اور بخشش کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور وہ انہیں عاق کر دیتے ہیں۔
گناہ کے دوران کی حالت:
اگر انسان یہ سوچے کہ اس وقت مالک الملوک، بادشاہوں کا بادشاہ، مالک کائنات، جل جلالہ، تیرے سامنے حاضر و ناظر موجود ہے اور تو اس کی مقدس بارگاہ میں اس کی بے حرمتی کر رہا ہے، حالانکہ تیرے چاروں طرف اس کی فوج کھڑی ہے، ملائکہ اور ان کے لشکر موجود ہیں، اور اس کائنات میں تمام مخلوقات اس کے حکم کے منتظر ہیں، حتیٰ کہ تیرا اپنا جسم بھی خدا کا لشکر ہے، تو یہ سوچ کر لرزنا چاہیے۔
"اَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلاَ مَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکْرُکَ"
(دعائے کمیل)
گناہ کے بعد کی حالت:
اگر گناہ کرنے کے بعد پشیمانی آئے، تو پھر خدا کی رحمت کی امید کی احادیث پڑھیں تاکہ شیطان اسے مایوس نہ کرے۔ جب شیطان یہ وسوسہ ڈالے کہ اب کوئی فائدہ نہیں، تو جواب میں کہنا چاہیے کہ میرا رب بڑا کریم ہے، وہ ارحم الراحمین ہے، اور اس نے خود کہا ہے کہ میری رحمت سے مایوسی گناہ کبیرہ ہے۔
"اگر ستر پیغمبروں کو بھی قتل کیا ہو اور دل سے توبہ کی ہو، تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔"
جناب محمد بحاری ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے قاتل حمزہؑ کو معاف کر دیا اور اس کی توبہ قبول کر لی۔ پروردگار کی رحمت کی کوئی حد نہیں، کبھی بھی رحمت الہیٰ سے مایوس نہ ہو۔
"باز آ باز آ ہر انچہ ہستی باز آ"
(فارسی شعر)
اگر سو بار بھی توبہ ٹوٹ جائے، تو بھی لوٹ آ، کیونکہ ہماری بارگاہ میں ناامیدی کی جگہ نہیں ہے۔
"یَا سَرِیعَ الرِّضا، اغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إلاَّ الدُّعاءَ"
اے جلد رضا ہونے والے، مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں رکھتا۔
دعا ہے کہ پروردگار ہمیں توبہ کرنے کی توفیق دے اور ہم کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
الہی آمین۔
والسلام،
شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم ایران 🌍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں