عقیدہ امامت (mє)
*سلسلہ دروس معارف*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 7 جمادی الاول 1446( 10 نومبر ، 2024)**
بسم اللہ الرحمن الرحیم *درس عقائد* # 4
*موضوع : امامت کا فلسفہ وجوب عصمت*
*اہل سنت کے نظریے کا رد*
*اہم نکات*
💫 امام کی جو صفات ہونی چاہئیں ان میں سب سے اہم عصمت ہے ۔
اب مسئلہ ہے کہ شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلی فرقہ صرف وہ امام کی عصمت کے قائل ہیں ۔۔ باقی کوئی بھی فرقہ امام کی عصمت کا قائل نہیں ہے۔ شیعہ اسماعیلی اس بحث میں حصہ نہیں لیتے۔۔
💫 *سنی فرقوں میں اشاعرہ، معتزلہ، وہابی* ، کوئی بھی ماں کی عصمت کے قائل نہیں ہیں۔
اس سلسلے میں علامہ حلی اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے کچھ دلائل دیے ہیں ۔۔ وہ درج ذیل ہیں۔
*1*⬅️ اگر ہم امام کے لیے عصمت کے قائل نہ ہوں تو امامت میں تسلسل لازمی ہے۔ (اس کی ایک دلیل برہان امتناع تسلسل جس کے بارے میں ہم پہلے بھی گزشتہ درس میں پڑھ چکے ہیں) وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر امام کے وجود میں عصمت نہیں ہے تو ایک کے بعد دوسرا امام۔۔ دوسرے کے بعد تیسرا امام ۔۔ تیسرے کے بعد چوتھا امام۔۔ یہ ایک تسلسل چلتا رہے گا۔
💫 اس کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر امام معصوم عن الخطا نہیں ہے وہ غلطی کرے تو پھر اس کی اصلاح کے لیے کوئی کوئی ہادی نمبر 2 ہونا چاہیے کہ جو ان کی غلطی کی اصلاح کرے۔۔ اور ان کو صحیح اور غلط کا فرق بتائیں۔۔ کیونکہ اگر ہادی نمبر 2 غلطی کی اصلاح نہ کریں تو وہ امت کو گمراہ کر سکتے ہیں۔۔ پھر امت کی گمراہی کا مسئلہ ا جائے گا۔۔ اور اگر یہ کہاں جائے کہ ہادی نمبر 2 ہر قسم کی خطا سے پاک ہے تو پھر تو مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔۔ پھر ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ امام ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور معصوم ہے ۔
لیکن اگر ہادی نمبر 2 بھی غلطی کرے تو پھر اس کی غلطی کو درست کرنے کے لیے ہادی نمبر 3 امام ہونا چاہیے۔۔ یہ وجہ ہے کہ امامت میں تسلسل کا لازمہ ا جائے گا۔۔
*2* 💫 دوسرا نکتہ یہ بیان ہوا کہ اللہ تعالی امام کو خود منتخب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی ہر ایک کا ظاہر اور باطن جانتا ہے اور وہ امام کو ایسے علم کے ساتھ مبعوث کرتا ہے کہ جس سے امام درست فیصلہ کر سکیں۔
💫 *سعد بن عبداللہ کا واقعہ*
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں ایک صحابی سعد بن عبداللہ نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ امام کو اللہ تعالی منتخب کرتا ہے تو امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ اس کا جواب دیں گے (امام مہدی علیہ السلام اس وقت بہت کم سن تھے) اور امام مہدی علیہ السلام نے اس وقت یہی بیان فرمایا کہ جو امام تم منتخب کرو کیا اس میں احتمال رکھتے ہو کہ وہ خطا کر سکتا ہے ؟ تو سوال کرنے والے نے کہا کہ جی یہ احتمال تو قائم رہے گا ۔ تو پھر امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللہ تعالی امام کو منتخب کرتا ہے کہ احتمال خطا باقی نہ رہے اور لوگوں کا اپنے امام پر اعتماد اور یقین ہو کہ امام نے درست فیصلہ فرمایا ہے۔
💫 *امام محافظ شریعت*
امام شریعت کے محافظ ہوتے ہیں کیونکہ جو شریعت نبی ص لے کر ائے امام ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک صرف امام محافظ شریعت نہیں بلکہ قران سنت اور اجماع مسلمین وہ ان کو بھی محافظ شریعت قرار دیتے ہیں۔
پھر پھر یکے بعد دیگرے اہل سنت کے عقائد کے مطابق ان محافظان شریعت
کے بارے میں تجزیہ بیان کیا گیا۔۔
*قران محافظ شریعت ہے* مگر اس میں بھی مکمل دین بیان نہیں ہوا ۔
اس میں جزیات بیان کی گئی ہیں اسی لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث ثقلین میں قران کے ساتھ اہل بیت کا بھی ذکر کیا ہے ۔
پھر اگر *سنت نبوی کو صلی اللہ علیہ وسلم کو محافظ شریعت* مانا جائے تو رسول اللہ کا زمانہ میں اج کے مسئلے نہیں تھے بلکہ وہ بالکل الگ ایک دور تھا تو اس دور کے مسائل بھی الگ تھے تو اج کے دور کے مسائل کون بیان کرے گا ؟؟ تو جتنی اس وقت کی ضرورت
تھی رسول الہ نے اس وقت بیان کیا لیکن باقی کی وضاحت وقت کے ساتھ ساتھ بیان ہوتی رہی۔ اور اگر سنت مکمل تھی تو پھر اس کے بعد یہ لوگ *قیاس* کی طرف کیوں گئے یعنی کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کا مسئلہ یا ہاتھ کھول کے نماز پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ۔
💫 260 ہجری تک شیعہ مکتب میں دین بیان کیا گیا امام کے ذریعے ۔۔ اس کے بعد امام کی غیبت کا دور شروع ہو گیا۔
*اجماع*
اجماع یہ ہے کہ امت کا ایک گروہ جمع ہو کر کسی مسئلے پر غور کرتا ہے اور اس کے متعلق احادیث جمع کرتا ہے پھر کوئی فتوی دیا جاتا ہے کیونکہ تمام امت کبھی بھی ایک نکتے پر جمع نہیں ہوتی۔ ۔۔
*قیاس* دین کا مسئلہ اپنی مرضی سے حل نہیں ہو سکتا یعنی اس میں قیاس نہیں کیا جاتا۔ سب سے پہلا قیاس شیطان نے کیا تھا جب اس نے سوچا کہ ادم تو مٹی سے بنے ہیں اور میں اگ سے بنا ہوں تو اس نے قیاس کیا کہ میں کیونکہ اگ سے بناؤں اگ بہتر ہے اس لیے میں برتر ہوں تو اس نے جو بھی کیا وہ اپنے قیاس کی بنیاد پہ کیا تو وہ شیطانی عمل تھا اور غلط تھا ۔
تو کیا مفتی یا فقہاء کا فتوی خدا کے حکم سے بدلا جا سکتا ہے ؟؟
💫لہذا امت کی ہدایت کے لیے نبی کے بعد ایک سلسلہ امامت کا ہونا چاہیے اور ہدایت معصوم سے ہی لینی چاہیے۔۔ جیسے کہ قران ہر خطا سے پاک ہے اسی طرح قران کو بیان کرنے والا بھی ہر گناہ اور خطا سے پاک ہونا چاہیے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں قران اور میری عترت۔
🤲 دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں امامت کے موضوع کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی توفیق اور وقت کے امام کی معرفت عطا فرمائے۔ *ان کے ظہور میں تعجیل ہو اور ہمیں ان کے اطاعت گزار اعوان و انصار میں سے قرار دے* آمین ثم امین ۔
*الھم عجل لولیک الفرج*۔
شہر بانو✍️
**درس امامت ۴: فلسفہ وجوب عصمت اور اہل سنت کے نظریہ کی رد**
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل ۲ جمادی الاول 1446( ۵ نومبر ، 2024)**
**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
### *امام کے لیے عصمت کا وجوب ہے*
آج کے درس کا موضوع امام کے لیے عصمت کے وجوب پر ہے۔ ہم نے اس سے قبل امامؑ کے ہونے کے فلسفہ اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے دلائل پر بحث کی ہے۔ آج ہم اس بات پر غور کریں گے کہ امامؑ کی کون سی صفات ضروری ہیں، جن میں سے سب سے اہم صفت عصمت ہے۔
### *عصمت کی تعریف*
پچھلے درس میں عصمت کی تعریف بیان کی گئی تھی۔ علماء کرام کے مطابق، عصمت ایک *وہبی* امر ہے، یعنی یہ خدا کی جانب سے عطا کی گئی صفت ہے، جو کسی انسان کو گناہ اور اشتباہ سے محفوظ رکھتی ہے۔ بعض علماء اس کے برعکس عصمت کو *کسبی* مانتے ہیں، یعنی امام خود اپنے عمل سے عصمت حاصل کرتا ہے۔ تاہم شیعی عقیدہ یہ ہے کہ عصمت ایک وہبی کیفیت ہے جو امام کو اللہ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔
عصمت کا مفہوم یہ ہے کہ امام وہ شخص ہوتا ہے جو گناہوں سے مکمل طور پر پاک اور خطا سے محفوظ ہو، اور اس کے عمل میں کسی قسم کا اشتباہ یا نسیان نہیں ہوتا۔ عصمت کی بنیادی تعریف میں دو عناصر شامل ہیں:
1. امام کا مکمل علم، جو ہر قسم کے حقائق سے آگاہی اور حلال و حرام کے بارے میں مکمل بصیرت دیتا ہے۔
2. امام کا ارادہ اور عزم، یعنی وہ ہمیشہ اللہ کی رضا میں زندگی گزارنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔
### *اسلامی مکاتب فکر کا نقطہ نظر*
تمام اسلامی مکاتب فکر میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ امامؑ کے لیے عصمت کا تصور کیا ہے؟ شیعہ اثنا عشریہ اور اسماعیلیہ تو امامؑ کی عصمت کے قائل ہیں، جبکہ دوسرے مکاتب فکر جیسے اہلسنت، ماتریدیہ، معتزلہ، وہابیت وغیرہ اس پر متفق نہیں ہیں۔ ہم اس وقت شیعہ اثنا عشری عقیدہ کی وضاحت کر رہے ہیں، کیونکہ باقی مکاتب میں اس پر کم بحث ہوتی ہے۔
### *دلائل امام کی عصمت کے وجوب پر*
شیعہ علماء جیسے خواجہ نصیر الدین طوسی اور علامہ حلی نے امام کی عصمت کے وجوب پر کئی دلائل پیش کیے ہیں۔
#### **1. عصمت کے وجوب پر پہلی دلیل: تسلسل کا مسئلہ**
اگر امامؑ معصوم نہ ہو تو ایک تسلسل کی ضرورت پیش آئے گی جو کہ عقلی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ امامؑ کا وجود اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ انسانوں کو خطا سے بچائے، کیونکہ انسانوں کے اندر خطا کا احتمال ہوتا ہے۔ اگر امام بھی گناہ کر سکتا ہے، تو پھر اس کی اصلاح کے لیے ایک اور شخص کی ضرورت ہوگی۔ یہ سلسلہ لامتناہی ہو جائے گا، جو عقلاً اور شرعاً ناقابلِ قبول ہے۔
مثال کے طور پر، امام حسن عسگریؑ کے زمانے میں قم کے ایک فقہی سعد بن عبداللہ نے امام عسگریؑ سے سوال کیا کہ کیوں امام کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، کیوں کہ ہم خود امام منتخب نہیں کر سکتے؟ امام عسگریؑ نے فرمایا کہ امام کا انتخاب اللہ کا کام ہے کیونکہ انسانوں کے انتخاب میں باطنی نقائص ہو سکتے ہیں جو ان کی اصلاح کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔
#### **2. امام کا شریعت کا محافظ ہونا**
دوسری دلیل یہ ہے کہ امامؑ شریعت کا محافظ ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ وحی لانے والے ہیں، لیکن امامؑ شریعت کے تمام پہلوؤں کا محافظ ہوتا ہے۔ امام کی عصمت ضروری ہے کیونکہ اگر امام معصوم نہ ہو، تو وہ شریعت کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
امامت کا یہ فلسفہ دراصل دین کی حفاظت اور اس کے مکمل بیان سے متعلق ہے۔ شریعت کے محافظ کے طور پر امامؑ کو ہر قسم کی گمراہی اور انحراف سے بچانے کے لیے معصوم ہونا ضروری ہے۔
#### **3. قرآن اور سنت کا مکمل بیان نہ ہونا**
اہلسنت یہ کہتے ہیں کہ قرآن اور سنت کے ذریعے شریعت کی مکمل وضاحت ہو گئی ہے، لیکن شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت کا مکمل بیان صرف پیغمبرؐ اور اماموں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ قرآن میں کلیات بیان کی گئی ہیں اور سنت نبویؐ بھی ان کلیات کو مکمل کرنے کے لیے ہے، اور اس کی تفصیل اہل بیتؑ کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ اگر قرآن اور سنت کافی ہوتے تو پھر قیاس اور اجماع کی ضرورت نہ پڑتی۔
اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن میں محض عمومی ہدایات دی گئی ہیں، لیکن اس کی تفصیل، جزیات اور عملی طریقہ کار پیغمبرؐ اور اہل بیتؑ نے ہی بیان کیا ہے۔
#### **4. اجماع اور قیاس کا رد**
اہلسنت کے علماء کہتے ہیں کہ مسائل میں اجماع اور قیاس سے حل نکالا جا سکتا ہے، لیکن شیعہ علماء کے نزدیک یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اگر اجماع غیر معصوم لوگوں پر مبنی ہو، تو یہ اجماع غلط ہو سکتا ہے، کیونکہ انسانوں سے خطا ہو سکتی ہے۔ قیاس کا طریقہ بھی غلط ہے، کیونکہ قیاس شیطان کا طریقہ تھا جب اس نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل کو پیش کیا تھا۔
شیعہ عقیدہ میں اجماع یا قیاس سے فیصلے کرنا دین کے اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ دین کا معاملہ اللہ کی طرف سے مکمل اور معصوم ہستیوں کے ذریعے ہی صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
### *امام کی عصمت: اہلسنت کے جواب*
اہلسنت کے علماء یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امام کو معصوم کیوں ہونا چاہیے؟ اگر ہم امام کو معصوم نہیں مانتے تو پھر ہمارے پاس قرآن، سنت، اور اجماع ہیں جو شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن اور سنت میں جزیات کا بیان نہیں ہے۔ قرآن اور سنت کا بیان مکمل نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں امام کی ضرورت ہے تاکہ وہ دین کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔
اس نقطہ نظر کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن اور سنت کی جزیات کو سمجھنے اور ان کی حفاظت کرنے کے لیے امامؑ کی معصومیت ضروری ہے۔ امامؑ وہ معصوم ہستی ہے جو دین کو مکمل اور درست طور پر بیان کرتی ہے، تاکہ امت گمراہی سے بچ سکے۔
### *نتیجہ*
آخرکار یہ ثابت ہوتا ہے کہ امامؑ کا معصوم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ شریعت کی حفاظت کرے اور امت کو انحراف سے بچا سکے۔ امام کی عصمت کے بغیر دین کا تحفظ اور امت کی ہدایت ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ، امام کے ذریعے ہی ہمیں دین کی مکمل تفصیلات اور احکام مل سکتے ہیں۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق، عصمت کا تصور دین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور اس کے بغیر نہ تو امت کی ہدایت ممکن ہے اور نہ ہی دین کا صحیح فہم۔ امامؑ کا معصوم ہونا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دین کا ہر پہلو درست طور پر بیان کیا جائے، اور امت گمراہی سے بچ کر اللہ کی ہدایت کی طرف رہنمائی حاصل کرے۔
شہر بانو✍️
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 🕊️
درس عقائد 📚 (امامت 🙌)
درس نمبر ✍️📚.. (4)
موضوع ✍️📚 فلسفہ وجوب عصمت اور اہلسنت کے نظریہ کی رد ۔۔
امام کی صفات 💫
اہم ترین صفت (عصمت)
تاریخ میں 💫
عصمت ایک ملکہ ہے ۔یہ حاصل ہوتا ہے وہ علم اور اللّٰہ کی بارگاہ میں یہ ارادہ و عظم کرنا کہ فقط عطاعت کرو گا نا فرمانی سے بچو گا ۔یہ دو چیزیں امام کا علم تمام حقائق کا علم حلال و حرام کا علم اور ساتھ پروردگار کی عطاعت کا ارادہ ۔
یہ دونوں مل کر عصمت کو تشکیل دیتی ہے ۔
اسلام کے تمام مکاتب کا نقطئہ نظر 📚
اسلامی مکاتب کے اندر شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلیہ یہ دونوں قائل ہیں امامت کی عصمت کے ۔باقی اس کے علاوہ کوئی بھی مکتب فکر عصمت امام کے قائل نہیں ۔۔۔
چند دلائل 🕊️💫
علامہ حلی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور خود صاحب تجرید نے پیش کی ۔
پہلی دلیل حواجہ نصرالدین طوسی اور علامہ حلی ۔
عصمت کے وجوب پر کہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر عصمت امام کے قائل نا ہوں تو تسلسل لازم آۓ گا۔
امام کے وجوب کا جو فلسفہ ہے کسی امت میں یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اجتمال خطا ہے ۔یعنی لوگ اپنے امور میں اپنے کردار و گفتار میں اور عمل میں معصوم تو نہیں ہے گناہگار ہے معمولآ اور کوئی جتنا بھی نیک ہو صاحب تقوی ہو عادل ہو احتمال خطا تو ہے۔ اسکی ہم نفی نہیں کر سکتے ۔
اب یہ جو عالم بشریت احتمال خطا کی وجہ سے کسی بھی وقت انحراف کا شکار ہو سکتا ہے ۔ذلالت کا شکار ہو سکتا ہے تو یہاں ایک ہادی ہونا چاہیئے جو انھیں فورآ خطا سے بچائے اور انکی اصلاح کریں اور انہیں بتاۓ کہ جس راہ میں آپ جانے لگے ہے یہ راہ غلط ہے اور یہ راہ صحیح ہے ۔
سوال ؟
آیا یہ ہادی انہی کی طرح اختمال خطا کار ہے یا معصوم ہے ؟
اگر معصوم ہے! تو ہمارا مسئلہ حل ہوا۔۔لیکن اگر خطا کار ہوا تو پھر اسکی اصلاح کیلئے بھی کوئی ہادی ہو نمبر 2 ہادی ہونا چاہیے جو انکی اصلاح کرے اور انکو صحیح اور غلط کا فرق بتاۓ ۔کیونکہ اگر ہادی نمبر 2 غلط کی اصلاح نا کرے تو وہ امت کو گمراہ کر سکتے ہیں ۔پھر امت کی گمراہی کا سوال آ جائے گا ۔۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہادی نمبر 2 ہر قسم سے پاک ہے تو پھر تو مسئلہ ختم ہو جاتا ہے ۔۔
ہمارا عقیدہ 💫
امام ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور معصوم ہے ۔
لیکن! اگر ہادی نمبر 2 بھی غلط کرے تو پھر اسکی غلطی کو درست کرنے کے لیے ہادی نمبر 3 امام ہونا چاہیے ۔۔۔یہ وجہ ہے کہ امامت میں تسلسل کا لازمہ آ جائے گا ۔۔
دوسرا نقطئہ نظر 📚
اللّٰہ تعالیٰ امام کو خود منتخب کرتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہر ایک کا ظاہر و باطن جانتا ہے اور وہ امام کو ایسے علم کے ساتھ مبعوث کرتا ہے کہ جس سے امام درست فیصلہ کر سکیں ۔۔
سعد بن عبداللہ کا واقعہ ✍️
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں ایک صحابی سعد بن عبداللہ نے امام حسن عسکری علیہ السّلام سے سوال کیا کہ!
کیا وجہ ہے کہ امام کو اللّٰہ تعالیٰ منتخب کرتا ہے ؟
تو امام حسن عسکری علیہ السّلام نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ اس کا جواب دیں گے۔
امام مہدی علیہ السلام اس وقت بہت کم سن تھے ۔اور امام مہدی علیہ السلام نے اس وقت یہی فرمایا کہ جو امام تم منتخب کرو کیا اس میں احتمال رکھتے ہوکہ وہ خطا کر سکتا ہے ؟
تو سوال کرنے والے نے کہا کہ جی یہ احتمال تو ہے اور ہم اسکی نفی نہیں کر سکتے
پھر امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ امام منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ظاہر کو بھی دیکھتا ہے اور باطن کو بھی ۔
دوسری دلیل ✍️
امام محافظ شریعت ہے 🙌🏻
یہ دوسری دلیل علامہ حلی رح اور صاحب تجرید نے پیش کی ۔
وہ یہ ہے کہ امام محافظ شریعت ہے ۔پیغمبر ص وحی لانے والے ہیں اور امام ع پر وحی نہیں آتی اور امام محافظ وحی و شریعت ہیں اور محافظ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہونا چاہیے ۔
امامت ✍️
امامت عقائد سے مربوط ہے اور عقائد کے حوالے سے گمراہی کا تصور سب سے بڑی گمراہی ہے جو پورے عمل کو فاسد کر دیتی ہے ۔ مثلاً!
جنگ سفین ۔جنگ جمل ۔جنگ نہروان میں امام کے تبدیل ہونے سے یعنی! جن لوگوں نے اپنا امام بنایا تھا اس کے ایک فیصلے سے کچھ لوگ مرنے کے بعد جہنم جا رہے ہیں اور کچھ لوگ مرنے کے بعد جنت ۔
ان جنگوں میں جو مقاتلہ ہوا تھا اور چاہیے کوئی کتنا بھی پرہیز گار اور متقی تھا لیکن جسے اپنا امام اور پیشوا بنایا تو یہ جنگ اسے جہنم میں کھینچنے کے لیے کافی ہے ۔
شریعت کے محافظ 💫📚
سوال کون ہے شریعت کے محافظ ؟
یہاں اہل سنت کہتے ہیں کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ محافظ شریعت امام ہیں ۔جبکہ قرآن ،سنت پیغمبر اور اجماع مسلمین بھی محافظ شریعت ہے ۔
جواب شریعت کے محافظ ✍️
قرآن محافظ شریعت نہیں ۔یہ شریعت کا ایک منبہ ہے لیکن محافظ شریعت نہیں ہے کیونکہ قرآن کے اندر کلیات بیان ہوئے ہیں جزیات بیان نہیں ہوۓ ہیں ۔
قرآن مجید نے چند چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن وہ کیسے کرنا ہے اور کیسے انجام دینا ہے وہ سنت نبوی اور فرامین معصومین ع بیان کرتے ہیں ۔
اس کی جزیات اور تفصیلات آئمہ معصومین ع عترت پیغمبر ص بیان کرتے ہیں اسی لیے تو رسول ص نے اپنے بعد فرمایا ۔
کہ قرآن مجید اور اہلبیت علیہ السّلام سے متمسک رہو۔
بیان اہل سنت 💫
وہ کہتے ہیں کہ سنت بیان کی ۔
بیان اہل تشیع 💫
کہتے ہیں کہ عترت بیان کی۔۔
کیونکہ!
ایک قرآن مجید ہے اور دوسرے اہلبیت علیہ السّلام رسول ص جو اس کے شاعرے ہیں ۔اس کی تشریح کرنے والے ہیں ۔
سنت نبوی ص📚
اہل سنت کے مطابق کہ سنت نبوی ص محافظ شریعت ہے ۔لیکن اہل تشیع کہتے ہیں کہ جو سنت نبوی ص بیان ہوئی ہے یا اسی دور کے تقاضوں کے لیے بیان ہوئی ہے یا قیامت تک کے لیے عالم اسلام کو پیش آنے والی مشکلات اور انحرافات کے لیے بیان ہوئی ہے ۔
یقیناً ۔۔پیغمبر ص نے اس دور کے مطابق بیان کی اور باقی بیان نہیں کی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ص پر دین کامل ہوا ہے لیکن کامل بیان نہیں ہوا چونکہ! صدر اسلام میں جتنی ضرورت تھی اتنا بیان ہوا باقی رسول اللّٰہ ص نے اپنے خلفاء حقیقی کے لیے حصہ چھوڑا کہ وہ بیان کرے ۔۔
دلیل ✍️
اگر ہم کہیں کہ سنت کافی تھی تو کیوں مسلمانوں کے اندر سو سال کے بعد نفی ،مالکی،حنبلی،شافعی نے کیوں اساس کی طرف رجوع کیا اور کہا ایسے ایسے مسائل پیش آرہے ہیں کہ جن کا حل نہ قرآن میں ہے اور نہ سنت نبوی ص میں ہے ۔نتیجتاً فقیہ جو ہے وہ اپنے قیاس سے فقہی مسائل کو حل کر رہا ہے اور پھر ان کے اندر اختلاف پڑ گیا کہ اس نے یہ فتویٰ دے دیا اور فلاں نے وہ فتویٰ دے دیا اور نتیجتاً ایک شریعت کی جگہ چار شریعت بن گئیں ۔
فقہاء کا فرق 💫
اہل سنت اور اہل تشیع کے فقہاء میں یہ فرق ہے کہ اہل سنت کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کا نہ ہونا ہے لہٰذا وہ اپنے قیاس سے مسئلہ کا حل کر رہا ہے ۔
اہل تشیع کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کی کثرت ہے کہ ایک ایک موضوع پر اتنی کثرت سے احادیث موجود ہیں کہ وہ کئی کئی سال اس پر بحث کرتا ہے کہ ہم کس حدیث سے موجودہ دور میں استدلال کرے۔۔
مکتب تشیہوں کے اندر کوئی فقیہ یہ کرے نہیں کرتا ہے کہ اپنے قیاس سے کوئی فتویٰ دے کہ مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے بلکہ ہمارے پاس اتنے فرامین معصومین ع ہیں اور احادیث ہیں کہ جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔
اجماع:3 دلیل ✍️
اہل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ
اگر کوئی مسئلہ بن گیا تو ہم اجماع کے ذریعے حل کریں گے ۔اب سوال ہے کہ اجماع آپ کے اندر کون کرے گا آیا سارے غیر معصوم کریں گے تو پھر فرق کیا ہے ؟
ایک غیر معصوم کی رائے یا مجموعہ امت غیر معصوم کی رائے ہو تو کوئی فرق نہیں دونوں گمراہ کرنے والی ہے اور امت کہیں بھی جمع نہیں ہوتی ۔کیونکہ امت کا اطلاق ایک مکتب پر نہیں ہوتا تمام مکاتب پر ہوتا ہے جو بھی کلمہ گو ہے امت ہے ۔
تو گروہ علماء کا یہاں اجماع ہوا اور یہ غیر معصوم ہیں ۔ان سے خطا ہو سکتی ہے ۔خطا جسے فردی ہوتی ہے اسی طرح اجتماعی بھی ہوتی ہے ۔تو محافظ شریعت وہ بنے جو خطا سے پاک ہو۔۔
نتیجہ 💫
اجماع محافظ شریعت نہیں ۔
قیاس 💫
چوتھی چیز قیاس ہے بعض علماۓ اہلسنت نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کا حل قرآن سے نہیں تو سنت سے سنت سے نہیں تو اجماع سے قیاس و استحسان سے حل کرو۔جبکہ
دین کا مسئلہ کوئی بھی اپنی رائے سے نہیں کرسکتا ۔
اور قیاس کرنے والا سب سے پہلا شیطان تھا۔اور جتنے قیاس کرنے والے تھے وہ ابلیس کے پیروکار ہیں کیونکہ جب اس نے قیاس کیا کہ وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے یعنی اس نے مقائسہ کیا اور اپنے ذہن سے بہتر پا رہا ہے اور اپنی ذہنی رائے کو اللّٰہ کے مد مقابل لایا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے دین کامل ںھیجا ہے جو لوح محفوظ پر اور پیغمبر ص لاۓ اور ان کے بعد معصومین ع کے پاس ہے 🌸
قیاس ہمارے نزدیک حق نہیں ہے ۔۔
اصول عملیہ 💫
چند لوگوں نے اسکو دلیل بنایا ہے کہ اصل برات یعنی جب حکم شریعہ نہ ملیں تو آپ بری الزمہ ہیں ۔تو یہ تو حکم ثانوی ہے اور حکم ثانوی تب ہوتا ہے کہ جب حکم اولی کی گنجائش نہ ہو۔یا ہم حکم اولی سے کلی طور پر لا علم ہوں۔اود احکام ثانوی محافظ دین نہیں ہے اور پیغمبر ص دین بیان کر گئے ہیں اب ہم نے ان ہستیوں سے دین لینا ہے جو معصوم ع ہیں ۔
قیاس اور اصول عملیہ میں فرق 💫
وہ قیاس سے حکم اولیہ بناتے ہیں اور اس کو واقیعت قرار دیتے ہیں ۔کہتے ہے کہ اللّٰہ کا ایک حکم تھا لیکن چونکہ ہمارے فقیہ نے قرآن اور سنت میں تحقیق کی اور اس کو پتہ نہیں چلا اب اس نے جو سوچا اور جاری کیا خدا اپنا حکم مٹا دے گا اس فقہی کا حکم لوح محفوظ پر لکھ دے گا ۔یعنی ایک ناقص العقل فقہی کا حکم اللّٰہ کے حکم پر فائز ہیں ۔(نعوذ باللہ )
امام علی علیہ السلام سے لیکر امام حسن عسکری علیہ السّلام تک جن ہستیوں نے دین کی حفاظت کی وہ آئمہ معصومین ع ہیں 🙌🏻
فلسفہ امامت اور اصل دین 💫
ہو سکتا ہے کہ یہاں اہل سنت سوال کرے کہ ۔
260 ھ تک آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد تو آپ ہم جیسے ہوگئے ہیں آپ کے بھی فقہاء ہیں اور ہمارے بھی اور ابھی آپ کو مسائل پیش آتے ہیں تو آپ فقہاء سے رجوع کرتے ہیں ؟
جواب 📖✍️
ہمارے پاس اصل دین 99 فیصد بیان ہوچکے ہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایک در صد مسئلہ رہ گیا ہو کہ جس میں ہمیں اصول عملیہ کی ضرورت پڑتی ہو لیکن آپ کے پاس تو بے پناہ مسائل ہیں کہ جس میں آپ نے قیاس سے کام لیا ہے
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 🕊️
درس عقائد 📚 (امامت 🙌)
درس نمبر ✍️📚.. (4)
موضوع ✍️📚 فلسفہ وجوب عصمت اور اہلسنت کے نظریہ کی رد ۔۔
امام کی صفات 💫
اہم ترین صفت (عصمت)
تاریخ میں 💫
عصمت ایک ملکہ ہے ۔یہ حاصل ہوتا ہے وہ علم اور اللّٰہ کی بارگاہ میں یہ ارادہ و عظم کرنا کہ فقط عطاعت کرو گا نا فرمانی سے بچو گا ۔یہ دو چیزیں امام کا علم تمام حقائق کا علم حلال و حرام کا علم اور ساتھ پروردگار کی عطاعت کا ارادہ ۔
یہ دونوں مل کر عصمت کو تشکیل دیتی ہے ۔
اسلام کے تمام مکاتب کا نقطئہ نظر 📚
اسلامی مکاتب کے اندر شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلیہ یہ دونوں قائل ہیں امامت کی عصمت کے ۔باقی اس کے علاوہ کوئی بھی مکتب فکر عصمت امام کے قائل نہیں ۔۔۔
چند دلائل 🕊️💫
علامہ حلی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور خود صاحب تجرید نے پیش کی ۔
پہلی دلیل حواجہ نصرالدین طوسی اور علامہ حلی ۔
عصمت کے وجوب پر کہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر عصمت امام کے قائل نا ہوں تو تسلسل لازم آۓ گا۔
امام کے وجوب کا جو فلسفہ ہے کسی امت میں یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اجتمال خطا ہے ۔یعنی لوگ اپنے امور میں اپنے کردار و گفتار میں اور عمل میں معصوم تو نہیں ہے گناہگار ہے معمولآ اور کوئی جتنا بھی نیک ہو صاحب تقوی ہو عادل ہو احتمال خطا تو ہے۔ اسکی ہم نفی نہیں کر سکتے ۔
اب یہ جو عالم بشریت احتمال خطا کی وجہ سے کسی بھی وقت انحراف کا شکار ہو سکتا ہے ۔ذلالت کا شکار ہو سکتا ہے تو یہاں ایک ہادی ہونا چاہیئے جو انھیں فورآ خطا سے بچائے اور انکی اصلاح کریں اور انہیں بتاۓ کہ جس راہ میں آپ جانے لگے ہے یہ راہ غلط ہے اور یہ راہ صحیح ہے ۔
سوال ؟
آیا یہ ہادی انہی کی طرح اختمال خطا کار ہے یا معصوم ہے ؟
اگر معصوم ہے! تو ہمارا مسئلہ حل ہوا۔۔لیکن اگر خطا کار ہوا تو پھر اسکی اصلاح کیلئے بھی کوئی ہادی ہو نمبر 2 ہادی ہونا چاہیے جو انکی اصلاح کرے اور انکو صحیح اور غلط کا فرق بتاۓ ۔کیونکہ اگر ہادی نمبر 2 غلط کی اصلاح نا کرے تو وہ امت کو گمراہ کر سکتے ہیں ۔پھر امت کی گمراہی کا سوال آ جائے گا ۔۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہادی نمبر 2 ہر قسم سے پاک ہے تو پھر تو مسئلہ ختم ہو جاتا ہے ۔۔
ہمارا عقیدہ 💫
امام ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور معصوم ہے ۔
لیکن! اگر ہادی نمبر 2 بھی غلط کرے تو پھر اسکی غلطی کو درست کرنے کے لیے ہادی نمبر 3 امام ہونا چاہیے ۔۔۔یہ وجہ ہے کہ امامت میں تسلسل کا لازمہ آ جائے گا ۔۔
دوسرا نقطئہ نظر 📚
اللّٰہ تعالیٰ امام کو خود منتخب کرتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہر ایک کا ظاہر و باطن جانتا ہے اور وہ امام کو ایسے علم کے ساتھ مبعوث کرتا ہے کہ جس سے امام درست فیصلہ کر سکیں ۔۔
سعد بن عبداللہ کا واقعہ ✍️
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں ایک صحابی سعد بن عبداللہ نے امام حسن عسکری علیہ السّلام سے سوال کیا کہ!
کیا وجہ ہے کہ امام کو اللّٰہ تعالیٰ منتخب کرتا ہے ؟
تو امام حسن عسکری علیہ السّلام نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ اس کا جواب دیں گے۔
امام مہدی علیہ السلام اس وقت بہت کم سن تھے ۔اور امام مہدی علیہ السلام نے اس وقت یہی فرمایا کہ جو امام تم منتخب کرو کیا اس میں احتمال رکھتے ہوکہ وہ خطا کر سکتا ہے ؟
تو سوال کرنے والے نے کہا کہ جی یہ احتمال تو ہے اور ہم اسکی نفی نہیں کر سکتے
پھر امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ امام منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ظاہر کو بھی دیکھتا ہے اور باطن کو بھی ۔
دوسری دلیل ✍️
امام محافظ شریعت ہے 🙌🏻
یہ دوسری دلیل علامہ حلی رح اور صاحب تجرید نے پیش کی ۔
وہ یہ ہے کہ امام محافظ شریعت ہے ۔پیغمبر ص وحی لانے والے ہیں اور امام ع پر وحی نہیں آتی اور امام محافظ وحی و شریعت ہیں اور محافظ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہونا چاہیے ۔
امامت ✍️
امامت عقائد سے مربوط ہے اور عقائد کے حوالے سے گمراہی کا تصور سب سے بڑی گمراہی ہے جو پورے عمل کو فاسد کر دیتی ہے ۔ مثلاً!
جنگ سفین ۔جنگ جمل ۔جنگ نہروان میں امام کے تبدیل ہونے سے یعنی! جن لوگوں نے اپنا امام بنایا تھا اس کے ایک فیصلے سے کچھ لوگ مرنے کے بعد جہنم جا رہے ہیں اور کچھ لوگ مرنے کے بعد جنت ۔
ان جنگوں میں جو مقاتلہ ہوا تھا اور چاہیے کوئی کتنا بھی پرہیز گار اور متقی تھا لیکن جسے اپنا امام اور پیشوا بنایا تو یہ جنگ اسے جہنم میں کھینچنے کے لیے کافی ہے ۔
شریعت کے محافظ 💫📚
سوال کون ہے شریعت کے محافظ ؟
یہاں اہل سنت کہتے ہیں کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ محافظ شریعت امام ہیں ۔جبکہ قرآن ،سنت پیغمبر اور اجماع مسلمین بھی محافظ شریعت ہے ۔
جواب شریعت کے محافظ ✍️
قرآن محافظ شریعت نہیں ۔یہ شریعت کا ایک منبہ ہے لیکن محافظ شریعت نہیں ہے کیونکہ قرآن کے اندر کلیات بیان ہوئے ہیں جزیات بیان نہیں ہوۓ ہیں ۔
قرآن مجید نے چند چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن وہ کیسے کرنا ہے اور کیسے انجام دینا ہے وہ سنت نبوی اور فرامین معصومین ع بیان کرتے ہیں ۔
اس کی جزیات اور تفصیلات آئمہ معصومین ع عترت پیغمبر ص بیان کرتے ہیں اسی لیے تو رسول ص نے اپنے بعد فرمایا ۔
کہ قرآن مجید اور اہلبیت علیہ السّلام سے متمسک رہو۔
بیان اہل سنت 💫
وہ کہتے ہیں کہ سنت بیان کی ۔
بیان اہل تشیع 💫
کہتے ہیں کہ عترت بیان کی۔۔
کیونکہ!
ایک قرآن مجید ہے اور دوسرے اہلبیت علیہ السّلام رسول ص جو اس کے شاعرے ہیں ۔اس کی تشریح کرنے والے ہیں ۔
سنت نبوی ص📚
اہل سنت کے مطابق کہ سنت نبوی ص محافظ شریعت ہے ۔لیکن اہل تشیع کہتے ہیں کہ جو سنت نبوی ص بیان ہوئی ہے یا اسی دور کے تقاضوں کے لیے بیان ہوئی ہے یا قیامت تک کے لیے عالم اسلام کو پیش آنے والی مشکلات اور انحرافات کے لیے بیان ہوئی ہے ۔
یقیناً ۔۔پیغمبر ص نے اس دور کے مطابق بیان کی اور باقی بیان نہیں کی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ص پر دین کامل ہوا ہے لیکن کامل بیان نہیں ہوا چونکہ! صدر اسلام میں جتنی ضرورت تھی اتنا بیان ہوا باقی رسول اللّٰہ ص نے اپنے خلفاء حقیقی کے لیے حصہ چھوڑا کہ وہ بیان کرے ۔۔
دلیل ✍️
اگر ہم کہیں کہ سنت کافی تھی تو کیوں مسلمانوں کے اندر سو سال کے بعد نفی ،مالکی،حنبلی،شافعی نے کیوں اساس کی طرف رجوع کیا اور کہا ایسے ایسے مسائل پیش آرہے ہیں کہ جن کا حل نہ قرآن میں ہے اور نہ سنت نبوی ص میں ہے ۔نتیجتاً فقیہ جو ہے وہ اپنے قیاس سے فقہی مسائل کو حل کر رہا ہے اور پھر ان کے اندر اختلاف پڑ گیا کہ اس نے یہ فتویٰ دے دیا اور فلاں نے وہ فتویٰ دے دیا اور نتیجتاً ایک شریعت کی جگہ چار شریعت بن گئیں ۔
فقہاء کا فرق 💫
اہل سنت اور اہل تشیع کے فقہاء میں یہ فرق ہے کہ اہل سنت کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کا نہ ہونا ہے لہٰذا وہ اپنے قیاس سے مسئلہ کا حل کر رہا ہے ۔
اہل تشیع کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کی کثرت ہے کہ ایک ایک موضوع پر اتنی کثرت سے احادیث موجود ہیں کہ وہ کئی کئی سال اس پر بحث کرتا ہے کہ ہم کس حدیث سے موجودہ دور میں استدلال کرے۔۔
مکتب تشیہوں کے اندر کوئی فقیہ یہ کرے نہیں کرتا ہے کہ اپنے قیاس سے کوئی فتویٰ دے کہ مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے بلکہ ہمارے پاس اتنے فرامین معصومین ع ہیں اور احادیث ہیں کہ جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔
اجماع:3 دلیل ✍️
اہل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ
اگر کوئی مسئلہ بن گیا تو ہم اجماع کے ذریعے حل کریں گے ۔اب سوال ہے کہ اجماع آپ کے اندر کون کرے گا آیا سارے غیر معصوم کریں گے تو پھر فرق کیا ہے ؟
ایک غیر معصوم کی رائے یا مجموعہ امت غیر معصوم کی رائے ہو تو کوئی فرق نہیں دونوں گمراہ کرنے والی ہے اور امت کہیں بھی جمع نہیں ہوتی ۔کیونکہ امت کا اطلاق ایک مکتب پر نہیں ہوتا تمام مکاتب پر ہوتا ہے جو بھی کلمہ گو ہے امت ہے ۔
تو گروہ علماء کا یہاں اجماع ہوا اور یہ غیر معصوم ہیں ۔ان سے خطا ہو سکتی ہے ۔خطا جسے فردی ہوتی ہے اسی طرح اجتماعی بھی ہوتی ہے ۔تو محافظ شریعت وہ بنے جو خطا سے پاک ہو۔۔
نتیجہ 💫
اجماع محافظ شریعت نہیں ۔
قیاس 💫
چوتھی چیز قیاس ہے بعض علماۓ اہلسنت نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کا حل قرآن سے نہیں تو سنت سے سنت سے نہیں تو اجماع سے قیاس و استحسان سے حل کرو۔جبکہ
دین کا مسئلہ کوئی بھی اپنی رائے سے نہیں کرسکتا ۔
اور قیاس کرنے والا سب سے پہلا شیطان تھا۔اور جتنے قیاس کرنے والے تھے وہ ابلیس کے پیروکار ہیں کیونکہ جب اس نے قیاس کیا کہ وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے یعنی اس نے مقائسہ کیا اور اپنے ذہن سے بہتر پا رہا ہے اور اپنی ذہنی رائے کو اللّٰہ کے مد مقابل لایا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے دین کامل ںھیجا ہے جو لوح محفوظ پر اور پیغمبر ص لاۓ اور ان کے بعد معصومین ع کے پاس ہے 🌸
قیاس ہمارے نزدیک حق نہیں ہے ۔۔
اصول عملیہ 💫
چند لوگوں نے اسکو دلیل بنایا ہے کہ اصل برات یعنی جب حکم شریعہ نہ ملیں تو آپ بری الزمہ ہیں ۔تو یہ تو حکم ثانوی ہے اور حکم ثانوی تب ہوتا ہے کہ جب حکم اولی کی گنجائش نہ ہو۔یا ہم حکم اولی سے کلی طور پر لا علم ہوں۔اود احکام ثانوی محافظ دین نہیں ہے اور پیغمبر ص دین بیان کر گئے ہیں اب ہم نے ان ہستیوں سے دین لینا ہے جو معصوم ع ہیں ۔
قیاس اور اصول عملیہ میں فرق 💫
وہ قیاس سے حکم اولیہ بناتے ہیں اور اس کو واقیعت قرار دیتے ہیں ۔کہتے ہے کہ اللّٰہ کا ایک حکم تھا لیکن چونکہ ہمارے فقیہ نے قرآن اور سنت میں تحقیق کی اور اس کو پتہ نہیں چلا اب اس نے جو سوچا اور جاری کیا خدا اپنا حکم مٹا دے گا اس فقہی کا حکم لوح محفوظ پر لکھ دے گا ۔یعنی ایک ناقص العقل فقہی کا حکم اللّٰہ کے حکم پر فائز ہیں ۔(نعوذ باللہ )
امام علی علیہ السلام سے لیکر امام حسن عسکری علیہ السّلام تک جن ہستیوں نے دین کی حفاظت کی وہ آئمہ معصومین ع ہیں 🙌🏻
فلسفہ امامت اور اصل دین 💫
ہو سکتا ہے کہ یہاں اہل سنت سوال کرے کہ ۔
260 ھ تک آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد تو آپ ہم جیسے ہوگئے ہیں آپ کے بھی فقہاء ہیں اور ہمارے بھی اور ابھی آپ کو مسائل پیش آتے ہیں تو آپ فقہاء سے رجوع کرتے ہیں ؟
جواب 📖✍️
ہمارے پاس اصل دین 99 فیصد بیان ہوچکے ہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایک در صد مسئلہ رہ گیا ہو کہ جس میں ہمیں اصول عملیہ کی ضرورت پڑتی ہو لیکن آپ کے پاس تو بے پناہ مسائل ہیں کہ جس میں آپ نے قیاس سے کام لیا ہے
ہمارے پاس جو 260ھ تک احادیث کا سلسلہ جاری رہا ہے اس سے ہمیں بھی اتنی احادیث مل گئی ہیں کہ جو ہمارے لیے تا زمانہ ظہور کافی ہیں ۔کجا 23 سالہ احادیث کا ذخیرہ ۔اور جب عصر ظہور ہوگا تو یہ ایک در صد مسائل بھی بیان ہونگے اور اس زمانے کے مسائل اور باقی ماندہ دین بھی امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے بیان ہوگا۔(انشاء اللّہ)📚💫🕊️✍️
*🪷درس امامت5*
فلسفہ وجوب۔عصمت اہل سنت کے نظریہ کی رد
*🎤استاد محترم حجت الاسلام و المسلمین علامہ علی اصغر سیفی صاحب*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
🌾امام کے لیے عصمت پر کیا دلیل ہے؟
ہم نے دو دلائل آپ کی خدمت میں بیان کیے آج تیسری دلیل۔
*تیسری دلیل*
یہ ہے کہ شریعت کے اندر امر بالمعروف اور نہی از منکر ایسی دلیل ہے کہ جو عمومیت رکھتی ہے۔
یعنی ہر ایک کو امر بالمعروف اور نہی از منکر کر سکتے ہیں حتی اگر خدا نہ کرے پیغمبر یا امام سے بھی کوئی خطا یا معصیت اگر لوگ دیکھیں تو اس وقت بھی لوگوں پر واجب ہے کہ وہ پیغمبر یا امام کو بھی نصیحت کریں اور اسکی مخالفت کریں کہ آپ یہ کام نہ کریں آپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ یہ کام معصیت ہے۔
لیکن قرآن مجید ایک طرف یہ کہہ رہا ہےکہ:
*اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی امر منکم*
*ترجمہ*:
"اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے اولی امر ہیں"
یہ جو امر بالمعروف اور نہی از منکر ہے جو بظاہر عام ہے وہ اس آیت کے ساتھ سازگار نہیں ہے چونکہ آیت مطلقا رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دے رہی ہے۔
آیت کا یہ اطلاق بتا رہا ہے رسول اور اولی الامر وہ ہستیاں ہیں کہ جو گناہ نہیں کرتی کیونکہ اگر یہ گناہ کرتی ہوتی تو پھر اللہ یہ نہ کہتا کہ مطلقا اطاعت کرو بلکہ خدا کہتا ہے کہ جو کام معصیت والے نہیں ہیں ان میں اطاعت کرو اس میں ایک قید لگاتا ہے ایک قید کا نہ لگانا مطلقا کہنا کہ ان کی آپ اطاعت کریں اس سے پتہ چل رہا ہے کہ خدا تعالی جو ہے وہ چونکہ ان ہستیوں کو بعنوان معصوم بھیجتا ہے اس لیے اللہ نے مطلقا اطاعت کا حکم دیا۔
اب ہو سکتا ہے آپ کے ذہنوں میں یہ سوال ہو کہ یہ تو ہم شیعہ یوں کہہ رہے ہیں اہل سنت کا کیا نظریہ ہے اہل سنت کا نظریہ بھی یہی ہے کہ رسول اور اولی الامر کی اطاعت مطلق ہے چاہے اولی الامر اپ کو غلط ہی دستور کیوں نہ دے دیں۔
لہذا آپ دیکھیں پوری ہماری تاریخ میں علماء اہل سنت نے ان سلطان و بادشاہوں اور نام نہاد خلیفوں کے جن کو یہ اولی الامر کہتے ہیں ان کی ہمیشہ اطاعت کی ہے حتی غلط کاموں میں بھی انہوں نے کہا چونکہ یہ اولی الامر ہے لہذا ہم نے ہر صورت میں اطاعت کرنی ہے یعنی اطاعت مطلق کے قائل ہیں۔
تو ہم شیعہ یہ کہتے ہیں کہ اطاعت مطلق اس کی ہوتی ہے جو معصوم ہو جہاں پتہ چل رہا ہے کہ یہ معصیت کر رہا ہے خدا کی نافرمانی کر رہا ہے وہاں تو پھر اطاعت مطلق نہیں ہونی چاہیے اللہ نے جو اطاعت مطلق کا حکم دیا ہے وہ اس صورت میں ہے کہ میری معصیت نہ ہو ورنہ خدا کس طرح پسند کرتا ہے کہ میری نافرمانی میں آپ اطاعت کریں۔
ادھر سے اللہ کہہ رہا ہےامر بالمعروف کرو، ادھر سے کہہ رہا ہے کہ نافرمان شخص کی اطاعت کرو تو یہ قرآن میں تناقض ہے تو پس اگر اس تناقض سے بچنا ہے تو پھر یہاں ایک ہی صورت ہے کہ اولی الامر وہ ہستیاں ہیں کہ جو معصوم ہیں یہ تیسری دلیل۔
*چوتھی دلیل:*
وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کیوں امام کو منسوب کرتا ہے اس لیے کہ لوگ امام کے مد مقابل تسلیم ہوں اور اس کی ہر بات کو بغیر چوچرا کے مانیں چونکہ اگر لوگ ہر بات میں جرح کرنے لگ جائیں گے پھر تو کوئی کام نہیں چلے گا جب ہم نے ایک شخص کو امام مان لیا تو بس ٹھیک ہے جس طرح وہ کہہ رہے ہیں ہم نے اسی طرح ہی کرنا ہے۔
خوب اگر امام جو ہے خدا نہ کرے اس سے کوئی معصیت یا نسیان ہو تو پھر لوگوں کا اعتماد اس سے ختم ہو جاۓ گا اور جب لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا پھر لوگ اس کی اطاعت نہیں کریں گے اور جب لوگ اطاعت نہیں کریں گے تو پھر یہ امام کو منسوب کرنے کی جو غرض ہے اس کا نقض لازم آئے گا یعنی اللہ نے ایک شخص کو منسوب کیا اور جو ہدف تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔
اللہ کا ہدف کیا تھا کہ لوگ اس کی بلا چوچرا اطاعت کریں اب لوگ اس کے اندر معصیت دیکھتے ہیں وہ اس کی اطاعت ہی نہیں کرتے تو پھر یہ فلسفہ امامت خود بخود ختم ہو گیا۔ فلسفہ امامت تھا کہ لوگ اطاعت کریں تاکہ وہ کام کرے لوگوں نے جب اس کے اندر معصیت دیکھی تو وہ نہیں کر رہے اطاعت۔
پس اگر فلسفہ امامت کو پورا کرنا ہے اگر غرض امامت کو پورا کرنا ہے تو پھر اس کے لیے شرط رکھنی پڑے گی کہ یہ معصوم ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کا کبھی بھی اعتماد سلب نہ ہو۔
*پانچویں چیز*:
اگر امام فرض کریں اس سے کوئی گناہ ہوتا ہے تو پھر اس کا مقام تو عوام الناس سے بھی نیچے چلا گیا کیوں؟
کیونکہ عوام الناس جب گناہ کرتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس علم نہیں ہوتا بہت ساری چیزوں کا انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ یہ گناہ ہے یا اگر پتہ ہے گناہ تو اس کے آواقب کا، نتائج کا اتنا شاید پتہ نہ ہو اگر پتہ بھی ہو تو ان کے پاس وہ عقل کامل نہیں ہوتی وہ وسیع بصیرت نہیں ہوتی کہ بھئی اللہ کے حضور گناہ نہیں کرنا چاہیے تو امام جس کے پاس یہ سارے مراتب ہوں اور اس کے باوجود وہ گناہ کرے تو اس کا مطلب ہے کہ پھر وہ عوام الناس سے بھی گیا گزرا ہے.
اس لیے آپ دیکھیں کہ علماء کا جو گناہ ہے،اسکے جو اثرات ہیں یا اسکے جو عذاب ہیں وہ با نسبت عوام الناس کے گناہ سے زیادہ ہے۔
عالم بے عمل جو ہے کہتے ہیں روز قیامت وہ جہنم کے سب سے نیچے والے طبقات میں ہوگا یعنی جہاں ابلیس کو خدا رکھے گا وہاں علماء بے عمل کو رکھے گا کیونکہ ابلیس بھی عالم بے عمل تھا۔
وہ جو مشہور شعر ہے امیر المومنین علیہ السلام کا
*"دیوان علی"* کتاب کے اندر کہ:
*ان کان العلم شرف بدون تقوی لکان الشیطان علی منزلة*
اگر علم کی تقوی وخوف خدا کے بغیر کوئی حیثیت و شرف ہوتا تو پھر دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ شرف کس کو ملناچاہیے تھا شیطان کو۔ کیونکہ کئی ہزار سال اسکی عمر ہے اور ہر دور میں جتنے نبی آئے ہیں اس کو سب کا پتہ ہے جتنے اوصیاء ہیں سب کا پتہ جتنی کتابیں صحیفے نازل ہوئے سب کا پتہ ہے وہ ساری چیزوں کو جانتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بے عمل ہے۔
تو اگر فقط علم رکھنا کسی شخص کے شرف کی علامت ہے تو پھر سب سے زیادہ شرف شیطان کون ہونا چاہیے تھا حالانکہ اللہ نے اسے مردود اور پس ترین قرار دیا ہے کیوں؟ کیونکہ عالم بے عمل جو ہے واقعا جتنا اس کا علم زیادہ ہے بے عملی سے اتنی پستی اس کی ہے۔
میں نے تو بعض روایات میں یہ دیکھا ہے اور اللہ نہ کرے کوئی اس مصیبت میں گرفتار ہو کہ معمولا عالم بے عمل جو ہے وہ مرنے سے پہلے کافر ہو کے مرتا ہے در حد کفر تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے ساری چیزوں کو اس کے باوجود جب وہ کر گیا یعنی وہ اس ذات کو کچھ بھی نہیں سمجھ رہا جتنی اس کی معلومات اور اس کی بصیرت اور اس کا احاطہ علمی ہے تو وہ تو سب سے زیادہ سمجھ رہا ہے نا عام لوگوں کی نسبت پروردگار کو اور اگر حیا نہیں کر رہا تو یعنی وہ عمدا اس کا انکار کر رہا ہے
اسی لیے ہمارے بعض معلم اخلاق کہتے تھے کہ طالب علم اور علماء جو ہیں ان کی حساب رسی بہت سخت ہے اور خدانہ کرے یہ گناہوں میں یا ان چیزوں میں مبتلا ہوں یا وہ چیزیں جہاں وہ جانتے ہیں چونکہ وہ مسائل جو ہیں آگے ان کو سخت پیش آئیں گے یہ چیزیں ان کو لے جائیں گی کہاں در حد کفر اور شرک اور معمولا آپ یہ بھی غور فرمائیں پوری تاریخ کے اندر وہ لوگ جنہوں نے امامت کے دعوے کیے اور معصوم نہیں تھے یہ سارے وہی تھے جو ہواۓ نفس میں گرفتار تھے۔
وہ علماء تھے اب میں نام نہیں لینا چاہتا چونکہ یہ چیزیں ضبط ہو رہی ہیں یہ جو مشہور علماء ہیں جو امام بنے ہوئے ہیں مختلف فرقوں کے جن کو بعنوان امام فلاں مکتب ہم کہتے ہیں یہ کون تھے؟ پڑھے لکھے لوگ تھے قرآن و حدیث کے عالم تھے حتی ان میں سے ت بعض ہمارے آئمہ کے محضر میں بھی گئے اور وہاں سے بھی انہوں نے علم حاصل کیا لیکن اس کے باوجود یہ حق کے مدمقابل اپنی جھوٹی دکان کھول کے بیٹھ گئے۔ عالم تھے لیکن حق کے مدمقابل قرار پا گئے اور فتنہ کھڑا کیا اور گمراہی کا نیا باب اور نیا فرقہ کھولا جو ابھی تک چل رہا ہے۔
کیوں ایسا ہوا کیونکہ خواہش نفسانی اور گناہ نے خدا کے دین کے مدمقابل انکو کھڑا کر دیا۔
یہ جو قادیانی فرقے کا احمد رضا قادیانی نہ غلام احمد قادیانی *"مرزا غلام احمد قادیانی"*
یہ نام اس کا ہے وہ *"احمد رضا بریلوی"* ہے وہ مکتب بریلوی کا امام ہے اسکی بات نہیں کر رہا۔
میں قادیانی فرقہ،مرزا غلام احمد قادیانی کی بات کر رہا ہوں۔
مزرا غلام احمد قادیانی کون تھا؟بہت بڑا عالم تھا یہ مسیحوں کے ساتھ مناظرہ کیا کرتا تھا اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کےلیے۔جگہ جگہ اس نے مناظروں کا بازار گرم کیا ہوا تھا لوگ اسکے بڑے دیوانے تھے بہت مشہور شخصیت تھی ہند کی۔
اہل قلم و خطیب بھی تھا، بیان بھی بہت اچھا تھا لیکن اس زمانے میں ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت تھی تو انہوں نے جنگ آزادی جو مسلمان اور ہندو لڑ رہے تھے انگریز کے مد مقابل جنگ آزادی لڑ رہے تھے اسکو روکنے کے لیے اس پر کام کیا بلآخر یہ مولوی تو تھا لیکن اسکے اندر کچھ خامیاں تھی شہرت، قدرت اور مال پسندتھا انہوں نے اسکو اپنا ہمنوا بنا لیا اور اسکی مالی اور ہر حوبلے سے بھرپور تائید کی اس نے فتوی صادر کر دیا کہ برطانیہ کے خلاف جنگ و جہاد نہیں کرنا چاہیۓ۔
اب ہم مسلمانوں پر اس قسم کا جہاد واجب نہیں ہے بلکہ ہم مسلمانوں پر تبیلغ و قلم اور زبان والا جہاد واجب ہے نہ کہ ایسا جہاد۔
یہ جہاد تو پیغمبر کے زمانے کا تھا اس زمانے میں دین اسلام کو امت اسلامی کو وسعت دینی تھی۔ جگہ و زمینیں لینی تھی تو لڑائیاں تھیں تو اب ہمارے پاس زمینیں و جگہیں ہیں اور جگہ جگہ پر مسلمان ملک ہیں۔
اب ان کافروں کے مدمقابل وہ والی لڑائی نہیں لڑنی اب ہم نے قلم سے اور زبان سے اصلاحی کام کرنے ہیں۔
انگریزوں نے اس مشہور آدمی کےذریعے فتوی دلاوا کر اسکو پیچھے کر دیا ایسے تو فتوی نہیں نکلتا منہ سے پھر گورنمنٹ برطانیہ نے تعریف کی کہ یہ ہی ہمارے سب کچھ ہیں اور اولی الامر کا عنوان انکو دے دیا گیا ان کے خلاف نہیں لڑنا پھر باقاعدہ کوئی کتاب بھی لکھی جو اس کو، اس زمانے کے جو ملکہ تھی اس کو یا جو وہ بادشاہ تھا انگریزاسکو ہدیہ کی اور باقاعدہ القابات لکھے۔
اب یہ کون کر رہا ہے؟ مولوی،ہواۓ نفس،لالچ، شہرت اور پیچھے حکومت کی طاقت۔ٹھیک ہے جیسے کسی مولوی صاحب کو کسی جگہ پر پولیس،فوج یا گورنمنٹ کی کوئی حمایت حاصل ہو جاۓ کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں آپکی حفاظت ہوگی اور آپکو پروٹوکول دیں گے تو وہ خود بخود انہی کی زبان بولے گا جو حکومت چاہتی ہے بولے گا یا نہیں بولے گا۔اس کو بلائیں مختلف فورم پر،اسکو ٹی وی پر بھی دکھائیں گے،مختلف دعوتوں پر بلا کر پروٹوکول دیں تو وہ جہاں تقریر کےلیے جائے پولیس پہرا دیں اور پھر پولیس کی گاڑی ساتھ ساتھ چلے،جھنڈا لگاۓ اوپر تو وہ کیا ہو جاۓ گا وہ تو پھولا نہیں سمائے گا وہ کہے گا پتہ نہیں میں کیا ہوں ۔حکومت تو اس سے استفادہ کر رہی ہیں۔
اب اس نے دیکھا جب کہ میں پتہ نہیں کیا بن گیا ہوں میرے پیچھے پوری انگریز سرکار میری حمایت کررہی ہیں پھر اس نے کہا مجھ پر وحی بھی آتی ہے،الہام بھی ہوتا ہے اور ایک کتاب بھی لکھ ماری کہ یہ دیکھو اللہ کی نئی وحی۔
وحی کا دروازہ بند نہیں ہوا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے وحی آتی ہو اور اب اتنے انسان ہیں دنیا میں اور آبادی۔اب اللہ وحی نہ بھیجے وحی بھیج رہا ہے بھائی میں ہوں۔
اس نے کہا وحی تو نبیوں پر آتی ہے تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں نبی امتی ہوں یعنی پیغمبر وہی ہے میں ان کی امت میں ایک نبی ہوں جیسے پرانے زمانے میں ہر بڑے نبی کی بعد ایک امت کے نبیوں کا سلسلہ ہوتا تھا میں بھی نبی امتی ہوں پھر اس نے کبھی کہا کہ نہیں میں تو مہدی ہوں پھر کبھی کہا میں تو عیسی مسیح ہوں۔
اب یہاں سے اس کے نئے نئے دعوے اور فتنے اور گمراہی اور آخر میں اس نے ایک گمراہ مکتب، *"مکتب قادیانیت"* اسلام میں کھڑا کر دیا اور ایک نبوت کا سلسلہ شروع کر دیا جھوٹا اور ایک نئی کتاب کے جو اس پہ وحی ہوئی ہے وہ لے آیا اور اسلام کی شریعت کے مد مقابل ایک نئے شریعت بنا دی نئے عقائد بنا دیے اور خود فی النار ہوا اور اس کے بعد پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کو جنہم پہنچنے کا باعث بن رہا ہے تو ہواۓ نفس کسی بھی عالم کو اس حد تک لے جا سکتی ہے۔
لہذا جسطرح علم بڑھ رہا ہے اسی طرح اپنی تربیت اور اصلاح پر بھی اتنا ہی زیادہ کام ہونا چاہیے۔
یہ ہم سب کا فریضہ ہے کہ اللہ ہمیں توفیق دے کہ لوگوں کی اصلاح سے پہلے پہلے اپنی اصلاح و تربیت پر کام کریں اور اپنے آپکو پاک و پاکیزہ قرار دیں واقعا خدمت گزار بنیں اپنے پروردگار کے،ولی اور اپنے مکتب و دین کے اور حقائق کی حفاظت اور پرچار کریں اور اس پر خود بھی عمل کریں۔🤲
آمین
شہر بانو✍️
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*درس (عقائد) امامت*
*درس نمبر 6*
*موضوع: عصمت پر مزید اقوال اور سوالات*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 16 جمادی الاول 1446( 19 نومبر ، 2024)**
### خلاصہ:
💫 *پیغمبروں اور اماموں کے لیے عصمت واجب ہے* کیونکہ ان کا بنیادی مقصد لوگوں کی ہدایت اور تربیت ہے۔ اگر ان میں عصمت نہ ہو تو وہ غلطی کر سکتے ہیں، اور پھر لوگوں کا ان پر اعتماد متاثر ہوگا۔ امام کو ہادی سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کے لیے عصمت ضروری ہے۔
💫 *عصمت کیا ہے؟*
سوال یہ اٹھتا ہے کہ عصمت کی حقیقت کیا ہے اور کیسے جانا جا سکتا ہے کہ کوئی معصوم ہے؟ اس پر مختلف نظریات ہیں۔
#### گروہ 1 کی رائے:
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ خدا نے اماموں کی روح میں عصمت ودیعت کی ہے، یعنی ان میں ایسا کوئی خاص عنصر موجود ہے جو انہیں خطا سے محفوظ رکھتا ہے، بالکل فرشتوں کی طرح جو خطا نہیں کر سکتے۔
تاہم، یہ خیال قرآن کے مخالف ہے، کیونکہ فرشتے بھی عاقل ہیں اور اللہ کے حکم کی پیروی کرتے ہیں، لیکن ان میں خواہشات نہیں ہوتیں۔ انسان میں خواہشات ہوتی ہیں، لیکن جب وہ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کرتا ہے، تب وہ معصوم بن جاتا ہے۔
شیطان کی مثال دی جاتی ہے جو عبادت گزار تھا لیکن اس کے غرور نے اسے انکار پر مجبور کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نفس سے مراد ذہن ہے، جو انسان کی خواہشات کا مرکز ہوتا ہے۔
💫 *توحید اور گناہ سے بچاؤ*
توحید پر مضبوط ایمان انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب انسان اللہ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے، تو وہ گناہ کرنے سے بچنے کے لیے خود کو اللہ کے سامنے محسوس کرتا ہے۔
*بنی اسرائیل کے ایک شخص اور عورت کا واقعہ*
ایک شخص نے ایک عورت کو دیکھا اور خواہش دل میں اُٹھی، مگر عورت نے خدا کی خوف سے اپنی خواہش کو کچلا۔ اس شخص نے اس عورت سے پوچھا تو وہ جواب دیتی ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے کانپ رہی ہے۔ اس واقعہ نے اس شخص کو توبہ کی طرف راغب کیا۔
#### گروہ 2 کی رائے:
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اماموں کی عصمت ان کی اپنی صلاحیت اور ارادے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس میں دو رائیں ہیں:
1. بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اماموں کو خاص قوت بخشی ہے جس سے وہ گناہ سے محفوظ رہتے ہیں۔
2. بعض کے مطابق، عصمت ایک خاص صلاحیت ہے جو انسان اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔
💫 *قم کے ایک عالم کا طالب علم سے سوال*
ایک عالم دین نے جواب دیا کہ گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ جیسے انسان گندگی کے کھانے کا تصور نہیں کر سکتا، ویسے ہی وہ گناہ کا تصور بھی نہیں کرتا۔
#### گروہ 3 کی رائے:
تیسرا گروہ کہتا ہے کہ ابتدا میں اللہ کا خاص لطف اور کرم اماموں پر ہوتا ہے، پھر اللہ انہیں اس مقام پر مہر لگا دیتا ہے کہ وہ گناہ نہیں کر سکتے۔
💫 *پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت*
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت ان کے دادا حضرت عبدالمطلب اور چچا حضرت ابو طالب نے کی تھی۔ وہ دونوں توحید پر ایمان رکھتے تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت میں بہت کچھ سیکھا۔
💫 *امامت اور نبی کا عہدہ*
یہ سوال کیا گیا کہ کیا پیغمبر اور امام پیدائشی طور پر معصوم ہوتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ وہ بالقوی نبی یا امام ہوتے ہیں، لیکن کسب اور تربیت کے ذریعے وہ اس عہدے تک پہنچتے ہیں۔
💫 *اختتام*:
علماء کا ماننا ہے کہ اماموں اور پیغمبروں کا علم ان کے عمل سے ہم سب کے لیے نمونہ ہے۔ اللہ تعالی نے انہیں اس علم پر عمل کرنے کی توفیق دی تاکہ وہ اپنی ہدایت کا عملی نمونہ بن سکیں۔
*اللہ تعالی ہمیں علم دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔*
*اللهم عجل لوليك الفرج*
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️
**درس (عقائد) امامت**
**درس نمبر 6**
**موضوع: عصمت پر مزید اقوال اور سوالات**
*بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيم*
السَّلاَمُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
اللهم صل على محمد وآل محمد
**خلاصہ:**
اس درس میں اماموں کی عصمت پر مختلف اقوال اور نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے، خاص طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اماموں اور پیغمبروں کے لیے عصمت کیوں ضروری ہے۔ 💫
معارف گفتگو درس عقائد 📚
موضوع: عصمت پر مزید اقوال اور سوالات 📚✍️
اہم ترین صفت جو امام میں ہونی چاہیے وہ عصمت ہے ۔امام کے لیے جس طرح ایک پیغمبر ص میں ہے ۔۔پیغمبر ص اور امام لوگوں کی ہدایت کے لئے ۔
امام میں عصمت کا ہونا بھی لازم ہے امام ہر حطا سے پاک ہے معصوم ہے اگر کوئی شخص کہیں کہ وہ امام ہیں تو اس میں یہ صفت واجب ہے کیونکہ امام میں جو صفت پائی جاتی ہے وہی صفت پیغمبر میں بھی ہوتی ہے ۔جس طرح سے پیغمبر صاحب عصمت ہیں اسی طرح امام بھی صاحب عصمت ہوں ۔۔
سوالات 📚
ایک سوال یہ ہے کہ انسانوں میں چاہیے وہ نبی ہو یا امام ہو ہم کیسے عصمت کو تصور کرے؟
عصمت ہے کیا ؟
ہر مکاتب نے اپنے اپنے مختلف نظریات کو اس میں بیان کیا ہے ۔
ان سب نظریات کو اکھٹا کرے تو تین شکلیں بنتی ہے ۔
پہلی صورت 📚
ایک گروہ کہتا ہے کہ...!
امام یا پیغمبر دونوں مجبور ہیں ۔
خدا نے ان کی روح میں کو کوئی ایسا کام کیا ہے کہ وہ عطاعت کو ترک نہیں کرسکتے اور مسیحیت کو انجام نہیں دے سکتے ۔
جیسے ملائکہ میں ہے ملائکہ کبھی بھی کسی بھی صورت میں عطاعت کو ترک نہیں کرسکتے ۔۔
قرآن مجید ملائکہ کو معصوم کے طور پر بیان کر رہا ہے ۔ملائکہ کے اندر خوائش نفسانی نہیں ہے ۔اور اسی لیے انسانوں کے لئے بھی کہا گیا ہے کہ جب کہ انسان کے پاس خوائش نفس موجود ہے مگر وہ اپنے نفس کے پیچھے نہیں چلتا نا اسکی پیروی کرتا ہے خود کو گناہوں سے دور رکھتا ہے ایسا انسان فرشتوں سے افضل ہے ۔۔۔
اور ابلیس کے بارے میں قرآن مجید نے کہا ہے کہ وہ جنات میں سے تھا وہ ایک جن تھا یہ ایک ایسا جن تھا جس نے بہت زیادہ عبادت کی اور اللّٰہ نے اسکو رتبے دینے شروع کئے اور یہ اس مکام تک پہنچ گیا کہ پروردگار نے پھر اسے اس کا صلہ دیا خدا نے اسے عرشی مخلوقات میں قرار دیا ۔۔۔
ابلیس کے رتبے بڑھتے گئے اور یہ ملائکین میں داخل ہو گیا ختہ کہ ان ملائکہ میں آ گیا کہ جن کو اللّٰہ نے حکم دیا آدم کو سجدہ کرو۔۔
سب سے حیرت انگیز چیز جو بنی ہے وہ دماغ ہے جو انسانوں میں ہے حیوانات میں نہیں ہے ۔۔
کوئی بھی خواہش کا ہمارے اندر پیدا ہونا تو یہ سارا مغز ہے دل سے مراد وہ نہیں ہے وہ تو خون کو پنم کررہا ہے ۔یہ جو لوگ اپنے نفس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں خوائش کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں انکو مغز کنٹرول کرتا ہے ۔(انسانی دماغ)
دماغ جنات میں بھی ہے ۔
انسان کا دماغ جو ہے اس میں ہزاروں فکرے دوڑتی ہیں اور کوئی ایک فکر اسے اس کسی ایک طرف لے جاتی ہے ۔سب سے
مشکل ترین لڑائی💫
اپنے دماغ سے ہے سب سے مشکل ترین لڑائی ۔سمجھ سکتے ہیں حقائق کو اس پر قائم رہنا اپنے دماغ کو لگانا اس پر یہ سب سے بڑی لڑائی ہے ۔اور عبادت و ریاضت ممکن ہے بہت فائدہ دے لیکن کبھی بھی اپنی عبادتوں پر اعتماد نہیں کرنا۔چونکہ دماغ کی ایک رکعت جس کے پیچھے آپ اگر لگ گئے اسنے لگا دیا تو یہ ساری بے اسر ہو جائے گی 💯 تکبر بھی ہے.
ہمیشہ عقائد میں کام کیا جائے عقائد عمل کی اساس ہے جس انسان کی توحید سب سے زیادہ مضبوط ہے یا نہیں ہے یا بہت کم ہے ۔
اج کل میڈیا پر لوگ علماء سے بڑا سوال کرتے ہیں کوئی ہمیں عمل بتاۓ کوئی چلہ بتاۓ کوئی وظیفہ بتائیں گناہ ختم ہو جائے ہماری زندگی میں سکون نہیں ہے ۔
ان سب کو اگر اساسی طور پر کم کرنا ہے تو پھر توحید پر کام کرنا پڑے گا،معرفت اللّٰہ پر کام کرنا پڑے گا جتنا اللّٰہ کے حوالے سے حقائق روشن ہو گئے ۔انسان اپنے نفس کو دبا دے گا کچھ بھی ہو جائے وہ گناہ نہیں کرے گا نا نفس کی پیروی بس ہر کام میں ہر وقت خدا کا فرمانبردار بنے گا ۔
💫سب سے بہترین دوست وہی ہے جو گناہ کے وقت خدا کی یاد آوری کروائیں ۔
آئمہ معصومین ع تین نظریات ہیں البتہ انبیاء و آئمہ ایک ہی بات ہے ۔
دوسرا گروہ 💫
کہتا ہے کہ یہاں اللہ کے کچھ خوفیاں لطف انکے اندر نیک کام کرنے کا آمیزہ زیادہ پیدا کر دیتا ہے اور برائی سے روکنے تبھی انگیزہ زیادہ پیدا کر دیتا ہے خدا کا ایک زیادہ لطف ہے توفیقات اللّٰہ انکو زیادہ دیتا ہے نا کہ خدا انکو مجبور کرتا ہے ۔
عام آدمیوں کی نصیب انبیاء میں انگیزہ زیادہ پیدا کیا ہے خدا نے ۔
انسان خود کو اس مقام تک پہنچا سکتا ہے کہ اسکے ذہن میں بھی گناہ کا تصور یا فطور نا آئے ۔
ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں بچوں میں کتنا کام ہو رہا ہے وہ ابھی معصوم ہے مگر ایسے ایسے کام کر رہا ہے کہ اسے ہم عالم کہتے ہیں تو پھر گھرانہ اہل بیت میں کتنا کام ہوتا ہوگا۔
پس ہمیں پروردگار باحق محمد و آل محمد کے صدقے توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے دماغ سے توحید پر عمل کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر رکھے ہمیں نفس کی پیروی نہیں کرنا اور خود کو اس قابل بنا سکے کہ ہمارا شمار بھی انہی میں ہو جو ملائکہ سے بھی افضل قرار دیۓ گۓ ہیں
اللهم عجل لوليك الفرج
**آمین یا رب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام**
*شہر بانو*✍️
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں