عقیدہ امامت (mє)

 *سلسلہ دروس معارف* 

*درس عقائد : 1*
*موضوع عقیدہ امامت*
نکات : امام کی تعریف ، پہلا امت میں نزاع، امام علی ع کی امامت کا کہاں اور کب اعلان کیا، امامت کا فلسفہ ، امام مہدی عج کیا کریں گے ، اہلسنت کا موقف۔۔۔۔

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤
🪷عالمی مرکز مہدویت قم🪷


***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

منگل  11  ربیع الثانی  1446( 15 اکتوبر  ، 2024)**


### موضوع: عقیدہ امامت

#### 1. امام کی تعریف
امام کا مطلب ہے "رہنما" یا "پیشوا"، جو اسلامی معاشرت میں رہنمائی اور قیادت فراہم کرتا ہے۔ امام وہ شخص ہے جو اللہ کی طرف سے منتخب کیا گیا ہو، اور اس میں علم، تقویٰ اور قیادت کی خصوصیات موجود ہوں۔

#### 2. پہلا امت میں نزاع
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں، خلافت کے مسئلے پر مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس بات پر بحث شروع ہوئی کہ قیادت کا حق کس کو حاصل ہے۔ اس اختلاف نے شیعہ اور سنی مکاتب فکر کی بنیاد رکھی۔

#### 3. امام علی علیہ السلام کی امامت کا کہاں اور کب اعلان کیا
امام علی علیہ السلام کی امامت کا اعلان غدیر خم میں ہوا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ"۔ یہ واقعہ 18 ذوالحجہ، ہجری سال 10 میں پیش آیا۔

#### 4. امامت کا فلسفہ
امامت کا فلسفہ یہ ہے کہ امام معصوم ہوتا ہے، جو دین کی صحیح تشریح و تفسیر فراہم کرتا ہے۔ امام کی موجودگی سے امت کو رہنمائی، اتحاد اور استقامت حاصل ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسا محور ہے جس سے وہ اپنے اعتقادات کو استوار کرتے ہیں۔

#### 5. امام مہدی عج کیا کریں گے
امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ آخر الزمان میں قیام کریں گے اور عدل و انصاف کا قیام کریں گے۔ ان کی آمد کا مقصد دنیا میں ظلم و فساد کا خاتمہ اور حق کی بحالی ہے۔ ان کے ساتھ مخلصین کا ایک گروہ ہوگا جو ان کی قیادت میں کام کرے گا۔

#### 6. اہلسنت کا موقف
اہلسنت کے نزدیک خلافت کا انتخاب اہلِ مشاورت کے ذریعے ہونا چاہئے۔ ان کے عقائد میں خلافت کو سیاسی نظام سمجھا جاتا ہے، جبکہ شیعہ عقیدہ امامت کو ایک مقدس اور الہی منصب تصور کرتے ہیں۔ اہل سنت نے کئی خلفاء کو اہمیت دی ہے، جیسے کہ ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی علیہ السلام۔

یہ نکات عقیدہ امامت کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہیں اور اس موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔



شہر بانو✍️ 

*دروس معارف* 
*عقائد ، امامت*
*درس دوم*
*نکات: امامت اللہ کی طرف سے ہے یا لوگ بناتے ہیں ؟ شرعی ہے یا عقلی؟امام کے لطف الہی ہونے پر دلیل ، لطف سے مراد ؟ اللہ کے لطف کی دیگر مثالیں*
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤
عالمی مرکز مہدویت قم


***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

سوموار   17  ربیع الثانی  1446( 21 اکتوبر  ، 2024)**


### درس دوم: امامت

**نکات:**

1. **امامت: اللہ کی طرف سے یا لوگوں کی بنائی ہوئی؟**
   - امامت ایک الہی منصب ہے، جس کا تعین اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ یہ نظریہ عقیدہ تشیع میں بہت اہم ہے، جہاں امام کو خدا کی طرف سے منتخب کیا گیا سمجھا جاتا ہے۔
   - اس کے مقابلے میں، بعض نظریات یہ کہتے ہیں کہ امام کا انتخاب عوامی ارادے سے ہوتا ہے، لیکن یہ نظریہ تشیع کے مطابق نہیں ہے۔

2. **شرعی ہے یا عقلی؟**
   - امامت کا نظریہ بنیادی طور پر شرعی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد قرآن اور سنت میں موجود نصوص پر ہے۔
   - اس کے ساتھ، عقلی دلائل بھی موجود ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک رہنما کی ضرورت ہے جو معصوم ہو اور ہدایت میں لوگوں کی رہنمائی کر سکے۔

3. **امام کے لطف الہی ہونے پر دلیل:**
   - قرآن و سنت میں ایسے متعدد مقامات ہیں جہاں امام کے مقام و منزلت کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً، غدیر خم کا واقعہ، جہاں پیغمبر (ص) نے امام علی (ع) کو اپنا جانشین مقرر کیا۔
   - امام کی معصومیت اور ہدایت کے حوالے سے احادیث بھی موجود ہیں جو ان کے الہی لطف کی دلیل ہیں۔

4. **لطف سے مراد:**
   - لطف الہی کا مطلب ہے وہ خاص مدد اور رہنمائی جو اللہ اپنے منتخب بندوں کو عطا کرتا ہے۔ یہ وہ برکات ہیں جو امام کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔

5. **اللہ کے لطف کی دیگر مثالیں:**
   - **انبیاء:** اللہ نے اپنے انبیاء کو منتخب کر کے ان کی مدد فرمائی، جیسا کہ حضرت محمد (ص) اور دیگر انبیاء۔
   - **کتب سماوی:** قرآن اور دیگر الہی کتابیں انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کی گئیں۔
   - **عصمت:** معصومین کی خصوصیات، جن میں خطا سے پاک ہونا شامل ہے، یہ بھی اللہ کے لطف کی مثال ہیں۔

یہ نکات امامت کی اہمیت اور اس کی الہی بنیاد کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔


شہر بانو✍️


*دروس معارف*
عقائد امامت 
درس # 2
 
*نکات درس*

1💫 امامت اللہ کی طرف سے یا لوگ منتخب کرتے ہیں 
2 💫 شرعی ہے یا عقلی
3 💫 لطف کی تعریف
4 💫 امام کے لطف الہی ہونے پر دلیل
5 💫 اللہ کے لطف کی مثالیں 

*خلاصہ*

اس درس میں امامت کے موضوع کے حوالے سے مختلف نظریات یا عقائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اہل سنت کے مختلف فرقے جیسے اشاعرہ معتزلہ اہل حدیث اور ماتریدیہ یہ امامت کو تو واجب سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک امامت وجوب عقلی ہے لیکن ان کے عقیدے کے مطابق امامت انتخابی ہے منصوب من اللہ نہیں ہے۔۔یعنی اس دنیا کے لوگ ہی امام کو منتخب کرتے ہیں۔

اہل تشیع کا نظریہ امامت۔
اہل تشیع کا نظریہ یہ ہے کہ وجوب امامت عقلا بھی واجب ہے اور شریعت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ جو چیز عقلا واجب ہو تو شریعت اسے دوبارہ واجب قرار نہیں دیتی بلکہ اس کی تائید کرتی ہیں جیسے انسانی عقل عدل کو تسلیم کرتی ہے کہ عدل کرنا واجب ہے احسن ہے ۔ اسے  اصطلاح میں حکم ارشادی کہا جاتا ہے۔ 

⬅️ *امامت کا واجب ہونا شرعی ہے یا عقلی ؟؟  اور آیا عقل اسے تسلیم کرتی ہے*  ؟؟
مکتب شیعہ اور مکتب معتزلہ دونوں  کے نزدیک  امامت کے وجوب کو عقلی قرار دیا گیا ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک امت کے اندر ایک امام کا ہونا ضروری ہے جو کہ معاشرے کا نظم و نسق چلائے اور تمام دینی و دنیاوی امور کو سنبھالے اور دین خدا کی حفاظت کرے اور حکم خدا کو جاری کرے ورنہ تو معاشرے کا نظام بالکل درہم برہم ہو جائے اور اجتماعی زندگی کا کوئی تصور نہ رہے پس یہ ایک عقلی دلیل ہے۔ 

*اس کے بعد سوال یہ ہے کہ اگر یہ عقلی ہے تو امام  کو متعین کرنا کس پر واجب ہے* 
عقیدہ اہل سنت۔۔
اہل تسنن اگرچہ وجوب امامت کے قائل ہیں لیکن ان کے نزدیک یہ کام اپس میں مشاورت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
جبکہ 
*اہل تشیع* ۔۔ *واحد مکتب ہے جن کا عقیدہ ہے کہ یہ کام اللہ تعالی کا ہے کیونکہ جو اللہ نبیوں کو منتخب  کرتا ہے وہی ہم پر امام کو بھی متعین کرتا ہے*  

⬅️ *امام کے لطف الہی ہونے کی دلیل* 

کتاب کشف المراد میں لطف کا ذکر جو ہے۔
وہاں برہان صغری اور برہان کبری اور ان کا ایک نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ 

💫 *برہان صغریٰ* 
کسی امت میں امام کا منصوب کرنا لطف الہی ہے۔ جس طرح ایک نبی کو امت کی رہنمائی کے لیے بھیجنا خدا کا لطف ہے اسی طرح بعد نبی کسی قوم کے جانب امام کا متعین کرنا بھی لطف الہی ہے۔ 

💫 *برہان کبریٰ* 
لطف ہمیشہ اللہ پر واجب ہے کیونکہ امامت لطف کے مصداق میں سے ہے بس اللہ تعالی پر واجب ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے امام معصوم کا تعین کرے جو کہ علم لدنی کا حامل ہو۔

⬅️ *لطف سے کیا مراد ہے*؟؟ *لطف کی تشریح* 
کتاب کشف المراد کے ایک مسئلے میں لطف کے حوالے سے علامہ حلی نے فرمایا لطف کے لغوی معنی کسی کے ساتھ محبت یا مہربانی سے پیش انا کے ہیں۔

⬅️ *علم الکلام کی اصطلاح میں لطف ایک ایسی چیز ہے کہ مکلف ( یعنی وہ شخص جس پر شرعی ذمہ داری ہے) اس چیز کے ہوتے ہوئے اللہ کی اطاعت کے قریب ہو جاتا ہے اور معصیت خدا سے دور ہو جاتا ہے*. 
یعنی لطف ان چیزوں کو کہا جاتا ہے جو اللہ ہی عطا کرتا ہے لیکن ان کا فائدہ یہ ہے کہ مکلف ان کے ہوتے ہوئے خدا کی فرمانبرداری کی جانب رجوع کرتا ہے اور خدا کی نافرمانی سے دور ہو جاتا ہے۔

💫*لطف الہی کی مثالیں* 
انبیاء کا نازل کرنا لطف الہی  ہے 
آسمانی کتابیں لطف الہی ہے اگر اللہ ان کتابوں کو نازل نہ کرتا تو ہمیں معصیت اور اطاعت۔ جزا اور سزا کے حوالے سے کچھ پتہ نہ چلتا۔

لیکن اس کے اندر دو شرطیں بیان کی گئی ہیں۔۔ 
لطف وہ چیز نہیں کہ جس کا ہماری طاقت اور قدرت سے تعلق ہو جیسے کہ اللہ نے ہمیں تکالیف شریعہ۔۔(یعنی شرعی فرائض) انجام دینے کے لیے ہاتھ پاؤں آنکھیں زبان وغیرہ عطا کیے ہیں.. ان چیزوں کا لطف سے تعلق اس لیے نہیں ہے کہ اگر یہ چیزیں ہوں گی تو تکلیف یعنی شرعی ذمہ داری عائد ہوگی اور اگر یہ چیزیں نہیں ہوں گی تو تکلیف شرعی واجب نہیں ہوگی مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ذہنی معذور ہے تو اس پر نماز واجب نہیں ہے۔

لطف اس سے بڑھ کر ایک چیز ہے مثلا اللہ نے ہمیں ایک جسم اور ایک روح عطا کی اور جب اس نے ہماری ہدایت کے لیے رسول اور کتاب الہی بھیجی تو یہ اللہ کا لطف ہے اللہ اپنے نبی کے ذریعے ہماری ہدایت کرے اور اپنے کلام کے ذریعے ہمیں بتائے کہ وہ کیا چاہتا ہے تو یہ لطف ہے۔

⬅️ایک اور عالم کا لطف کے بارے میں بیان ہے کہ لطف وہ چیز نہیں کہ جو انسان کو مجبور کر دے۔ 

⬅️مثال کے طور پہ حضرت موسی کی قوم توریت کے نازل ہونے کے بعد۔۔۔ احکام شریعہ کے ا جانے کے بعد اور حضرت موسیٰ کے اتنے بڑے بڑے معجزے دکھانے کے بعد بھی اللہ کے احکام نہیں مان رہے تھے۔ یعنی مصریوں کے مظالم سے نجات ملنا، پتھر سے چشمے کا جاری ہونا،
 من و سلوی کا نازل ہونا، عصا کا سانپ میں تبدیل ہو جانا ،  اور بھی بہت سے معجزات انہوں نے دیکھے لیکن اتنے معجزات کے باوجود وہ احکام شریعت کو ماننے سے انکاری تھے کہ یہ سخت کام ہم سے نہیں ہوتے ۔۔۔ ہم اپنی من پسند زندگی گزاریں گے تب اللہ نے کوہ طور کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر ہوا میں معلق ہو گیا اور بالکل قوم موسیٰ کے اوپر اگیا یہ امر الہی تھا اور قریب تھا کہ یہ پہاڑ ان کے اوپر گر جاتا اور سارے کے سارے ہلاک ہو جاتے ۔ تب انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ آپ جو کہیں گے ہم مانیں گے۔ تو یہ لطف نہیں تھا یعنی لطف میں انسان کو مجبور نہیں کر دیا جاتا۔ 
بلکہ لطف یہ ہے کہ اپ کو اختیار ہو۔
یہاں لطف الہی کی وضاحت کے لیے تین مزید نکات بیان کیے گئے 

1 ⬅️اللہ تعالی انسانوں کو خلق کرتا اور سارے اختیار اور توانائی دیتا اور انبیاء بھی بھیجتا کہ یہ کام کرو اور یہ کام نہ کرو اور کتابیں بھی بھیجتا لیکن جنت اور جہنم کی باتیں نہ کرتا  

⬅️ 2 - ایک اور صورت یہ تھی کہ پروردگار سب کو زبردستی سے منواتا کہ اگر اطاعت کرو گے تو بخشے جاؤ گے ورنہ سزا ملے گی جیسے کہ قوم موسی کو دکھایا ۔

3- ⬅️ایک صورت یہ ہے کہ پروردگار سب کچھ بھیجتا یعنی انبیاء اور کتابیں اور ترغیب دلاتا اور جزا و سزا کی بات کرتا کہ اگر اطاعت  اور نیک اعمال کرو گے تو یہ نتیجہ ہے یعنی جنت۔۔۔ اور اگر بدی کرو گے تو یہ نتیجہ ہے یعنی جہنم ملے گا ۔ اب اختیار انسان کے ہاتھ میں ہے۔
💫 بس یہ جو تیسرا نکتہ ہے یہ لطف ہے۔۔ یعنی نبی کتاب اور احکام بتانا جنت اور جہنم کی بات ساتھ ساتھ کر دینا توفیق کی بات کرنا تشویش دلانا اور اطاعت کی جزا اور نافرمانی کے برے اثرات سے ڈرانا یہ لطف ہے۔

*المختصر لطف سے مراد یہ ہے کہ انسان کے تکالیف شریعہ کے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بھی عطا ہوں کہ جن کے وجہ سے ہم خود راہ اطاعت کی جانب چل پڑیں اور اللہ کی معصیت سے دور رہیں۔

 ⬅️ *کیا لطف کے مراتب یا درجات ہیں*؟؟ 
لطف کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں 
*لطف عام* ۔۔۔لطف عام سب کے لیے ہے جیسے خدا نے سب مسلمان ,مومن, مشرک ہر ایک کے لیے رسول اور کتابیں بھیجیں اور حجت تمام کی اور رسولوں کی زبانی سب کو نیک اعمال پہ جنت کی بشارت دی ۔ ۔اور برے اعمال کے نتیجے میں جہنم سے ڈرایا۔  

*لطف خاص*۔۔ جب انسان جنت کے حصول کے خاطر اور جہنم کے خوف سے ڈر کر تکالیف شریعہ انجام دینا شروع کرتا ہے تو وہ معصیت ترک کرتا ہے اور تقویٰ کے ذریعے اعمال صالح بجا لاتا ہے۔۔۔پھر اس کے اندر ایک اور لطف کو پا لینے کی لگن پیدا ہوتی ہے۔۔
 
💫 *مثلاً*   ایک شخص جو پنجگانہ نماز باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے پھر  اس کے اندر *نماز شب* ادا کرنے کی بھی توفیق، لگن  اور آمادگی پیدا ہو جاتی ہے ۔۔ یہ چیزیں سلسلہ وار تسبیح کی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ۔۔۔ اور انسان ایک کے بعد ایک درجہ اگے بڑھتا جاتا ہے۔۔ 

💫 *پس ہر عمل صالح دوسرے عمل صالح کا زینہ بنتا ہے*

پھر کچھ مثالیں بیان کی گئیں ۔۔ 
ایک فقیہ کی مثال جو کسی دعوت پر گئے اور کھانا کھانے کے بعد سو گئے تو نماز شب کے لیے نہیں اٹھ سکے بدن اور سر بھاری تھا نماز فجر کے بعد بہت گریہ کیا اور وجہ جاننے کی کوشش کی کہ نماز شب کیوں قضا ہوئی تو بتایا گیا کہ کل جو کسی کے گھر دعوت میں کھانا کھایا تھا وہ مال حرام سے بنا تھا اور اس کا اثر کچھ دن رہے گا۔ 
اسی طرح شراب پینے کا اثر یہ ہے کہ کوئی شخص شراب بھی پیے اور نماز بھی پڑھے یا روزہ رکھے تو اس کی نماز اور اعمال صالح قبول نہیں ہوں گے گویا وہ اعمال شریعہ بجا لانے کے بعد ان کے جزا و ثواب اور درجات سے محروم رہے گا۔

⬅️اگر انسان اپنے واجبات بروقت انجام دے تو یہ بعض مستحبات کا پیش خیمہ بنتے ہیں اور ان کا لطف آنے کی صلاحیت کا موجب بنتے ہیں اور جب انسان اس لطف کو انجام دینا شروع کر دے تو اللہ تعالی مزید خاص وظائف اسے عطا فرماتا ہے کہ *اے میرے بندے اب تجھ میں یہ لیاقت پیدا ہو گئی ہے کہ اب تو ان مزید خاص اعمال کو انجام دے سکتا ہے* گویا یہ لطف الہی ہے کہ وہ بندہ راہ اولیاء پر چلنے لگے اور اسے قوت اولیاء نصیب ہو اور پھر وہ اولیاء اللہ میں شامل ہو جائے اور ولی اللہ کا رتبہ حاصل کر لے یہ پروردگار کا لطف خاص ہے۔

⬅️ ایک قابل بحث نکتہ یہ بیان کیا گیا کہ اہل تسنن کہتے ہیں کہ ہمیں حق نہیں کہ ہم کہیں کہ خدا پر یہ چیز واجب ہے ۔خدا بے نیاز ہے وہ غنی ہے قادر مطلق ہے ہم کون ہوتے ہیں خدا پر واجب کرنے والے۔۔۔۔
جب کہ اہل تشیع کہتے ہیں کہ لطف خدا پر واجب ہے۔
*اس کا جواب یہ بیان کیا گیا کہ ہم اللہ پر واجب نہیں کرتے  ۔۔*بلکہ خود اس باری تعالی کی صفات اس پر واجب کرتی ہیں ۔ اس کی حکمت الہی اس پر واجب کرتی ہے* جیسے اللہ تعالی نے عدل خود اپنے اوپر واجب کیا ہے اب کوئی پوچھیے کہ کس نے اللہ پر عدل واجب کیا ہے تو جواب ہے کہ کسی نے نہیں بلکہ خود اس کی صفت *حکیم* نے اس پر لازم کر دیا کہ وہ عدل کرے۔۔  

⬅️ *علامہ حلی کی 2 دلیلیں*  دلیل کبریٰ و دلیل صغریٰ بیان کی گئیں۔ 
دلیل صغری یعنی مولا کی غرض کہ اس کے بندے جنت میں جائیں تو اس کے لیے راستے بتانا یعنی کلام (آسمانی کتاب) کے ذریعے ہدایت عطا کرنا اور دلیل کبریٰ یہ کہ مولا کی غرض کو پورا کرنے ( یعنی اس کے بندے جنت میں جائیں) اس کے لیے سامان فراہم کرنا یعنی انبیاء بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا۔

*دلیل صغری کی تشریح*۔۔
اللہ جانتا ہے کہ اگر میں انسانوں پر لطف نہ کروں یعنی انبیاء اور کتابیں نہ بھیجوں اور ان کو جنت کی بشارت اور جہنم کی دھمکی نا دوں تو یہ اپنی شرعی ذمہ داریوں کو حقیقی معنوں میں انجام نہیں دیں گے۔
اس کو ایک آسان مثال کے ذریعے یوں سمجھایا گیا کہ اگر ایک شخص کسی کو اپنے گھر دعوت دے ، اس کے لیے دسترخوان بچھائے، اس کے لیے اچھے اچھے کھانے بنائے لیکن گھر کا پتہ نہیں دیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تمام اہتمام رائیگاں جاے گا۔ یا پھر اس مہمان کو پتہ بھی دیا  بے ۔۔ کھانے بھی بنائے لیکن مہمان کو دعوت نہیں دی اس کو پتہ ہی نہیں کہ مجھے یہ ایڈریس کیوں بھیجا ہے یعنی کہ مجھے کسی دعوت کا انویٹیشن دیا گیا ہے ۔۔  اس طرح اگر انسان کو اللہ تعالی بتا دے کہ میں تمہارا خدا ہوں اور تمہارے لیے جنت بنائی ہے لیکن رسول نہ بھیجے۔۔۔ کتاب کے ذریعے یہ نہ بتائے کہ تم یہ اعمال کرو گے اور میری طرف توجہ کرو گے تو پھر تمہیں یہ جنت ملے گی تو بس یہ ایسا ہی ہے کہ جنت کا راستہ نہیں بتایا۔۔
*دوسری دلیل* کہ لطف اللہ پر واجب ہے اگر اللہ لطف نہ کرے اور بندوں کو نہ بتائے کہ برے اعمال  انجام دینے پر جہنم کی سزا ملے گی اور فرمانبرداری کی تو جنت میں ڈالوں گا ۔۔ تو بندہ کہے گا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ برے اعمال پہ جہنم کی کوئی سزا بھی ہے بس اگر عذاب اخروی دینا تھا تو ہمیں پہلے سے بتا دیا ہوتا۔
لہذا خالق کی عظمت یہی ہے کہ جب وہ اپنے بندے کو جزا و سزا کا معاملہ بتائے تو  وہ ساری بات کھول کر بتا دے۔
 اور اللہ تعالی نے قران مجید میں
 *سورہ بنی اسرائیل* میں فرمایا ہے *ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں* ۔۔
(یعنی جب تک کہ احکام شریعہ نہ بھیج دیں)۔  ۔

دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
یوسف زہرا کے ظہور میں تعجیل فرمائےاور ہمارے وقت کے امام کے اطاعت گزار انصار میں ہمارا شمار ہو الٰہی امین ثم امین۔🤲 

*الھم عجل لولیک الفرج*   

شہر بانو✍️  
۔

درس امامت (3) امامت کے لطف الہی ہونے پر اعتراضات کے جوابات اور عصمت کی تشریح ..... علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب 🌹 🌹🌹

***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

بدھ   26  ربیع الثانی  1446( 30 اکتوبر  ، 2024)**


**درس امامت (3): امامت کے لطف الہی ہونے پر اعتراضات کے جوابات اور عصمت کی تشریح**

**مقدمہ:**

امامت کا موضوع اسلامی تعلیمات میں ایک اہم موضوع ہے، خاص طور پر شیعہ عقائد میں۔ اس میں امام کی خصوصیات، عصمت، اور اللہ کی طرف سے ان کی رہنمائی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس درس میں ہم امامت کے لطف الہی ہونے پر اٹھائے جانے والے بعض اعتراضات کے جوابات دیں گے اور عصمت کی تشریح کریں گے۔

### 1. امامت کے لطف الہی ہونے پر اعتراضات

**اعتراض 1:** کیا اللہ کی حکمت کے تحت ہر زمانے میں امام ہونا ضروری ہے؟

**جواب:**  
اللہ کی حکمت کے تقاضے ہیں کہ وہ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے ایسے افراد کو منتخب کرے جو علم، تقویٰ اور شجاعت میں ممتاز ہوں۔ امام کی موجودگی انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے: "وَاجْعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا" (مریم 50)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر دور میں ایک امام کی ضرورت ہے تاکہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرے۔

**اعتراض 2:** کیا امام کی عصمت کا تصور غیر انسانی ہے؟

**جواب:**  
عصمت کا تصور انسان کی فطرت کی ایک اعلیٰ ترین سطح ہے۔ امام معصوم ہوتے ہیں، یعنی وہ گناہ، خطا اور نسیان سے محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ عصمت انہیں اللہ کی طرف سے دی گئی ہے تاکہ وہ صحیح اور صحیح ترین فیصلے کرسکیں۔ اس کے بغیر وہ اللہ کی پیغام کو درست طریقے سے نہیں پہنچا سکتے۔

### 2. عصمت کی تشریح

عصمت کا معنی ہے "محفوظ رہنا"۔ اسلام میں، عصمت کے مفہوم میں یہ شامل ہے کہ امام کو گناہ کرنے کی قدرت نہیں ہوتی۔ اس کی چند بنیادی وجوہات یہ ہیں:

- **الہی انتخاب:** امام کو اللہ نے اپنی حکمت کے تحت منتخب کیا ہے، لہذا ان کا کوئی بھی عمل اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں ہو سکتا۔
  
- **روحانی مقام:** امام کا روحانی مقام اتنا بلند ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے نیچے نہیں آتے، اور ہمیشہ لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

- **عقل و دانش:** امام کی عقل و دانش کا درجہ بہت بلند ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ صحیح فیصلے کرنے میں مکمل طور پر قادر ہوتے ہیں۔

### 3. نتیجہ

امامت ایک الہی منصب ہے جو اللہ کی طرف سے مخصوص افراد کو عطا کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو ہدایت دینا اور انہیں صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ عصمت کی خصوصیت امام کو ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے، جو انہیں انسانیت کی رہنمائی کے لئے مکمل طور پر موزوں بناتی ہے۔ 

یہ سب عقائد ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ امامت اور عصمت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اللہ کی طرف سے دی جانے والی نعمتیں ہیں، جو انسانی زندگی میں ہدایت و رہنمائی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

یہ درس ہمیں اس بات کی اہمیت سمجھاتا ہے کہ کس طرح ہم اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور امامت کے اس الہی نظام کا پاس و لحاظ 

شہر بانو✍️



دروس معارف 
عقاید امامت 
درس 3

 امامت کے لطف الہی ہونے پر اعتراضات کے جوابات اور عصمت کی تشریح



 🌀 امامت کے لطف الہی ہونے پر اعتراضات


1️⃣پہلا اعتراض کبری پر 

کیا اللہ کی حکمت کے تحت ہر زمانے میں امام ہونا ضروری ہے


 🔆اللہ تعالی پر لطف اس صورت میں واجب ہوتا ہے 

❕ جب کوئی رکاوٹیں یا کوئی نامناسب جہات موجود نہ ہوں

🔅مثلاً مقتضی موجود مانع مفقود 

▪️اللہ تعالی کے لطف کرنے کی راہ ہموار ہو اور آگے کوئی رکاوٹ نہ ہو

▪️یا آگے کوئی مفسدات نہ ہوں

▪️ یا آگے کوئی نامناسب چیز نہ ہو تو پھر لطف ہوگا 

❇️اللہ تعالی نے ہمیں شرعی ذمہ داریاں دیں۔ یہ اللہ کا لطف ہے

➖ ہم باعقل تھے، بے عقل نہ تھے 

➖ ہم بااختیار تھے بے اختیار نہ تھے

🔅پروردگار نے رسول بھیجے 


❓معترضین کہتے ہیں کہ اللہ کا لطف ہونا

▪️ یعنی ہمیں یقین ہو کہ اب وہاں مفسدات نہیں ہیں اور کوئی رکاوٹ نہیں ہے

🔅امامت کے مسئلے میں ہم نے جہاں تک سوچا رکاوٹ نہیں ہے

🔅 لیکن ہمیں یقین بھی نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کوئی رکاوٹ ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو


🌀مثلاً شریعت کہتی ہے کہ یہ پانی جو ہمارے سامنے ہے

▪️ جب تک نجس نہ ہونے کا احتمال ہو پاک ہے یا آپ کو یقین ہونا چاہیے تو ہی استعمال کرسکتے ہیں

🌀یا ہم کسی کے گھر دعوت پر گئے ہیں

 ▪️ہمیں یقین ہے کہ یہ شخص مومن ہے اور اس کا کھانا حلال ہے 

▪️یا ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اس کا کھانا حرام نہیں ہے


▪️کہتے ہیں امامت کے مسئلے پر بظاہر تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے

 اللہ کسی کو بھی امام بنا سکتا ہے 

لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی نہ کوئی معنی ہو کہ جس کا ہمیں پتہ نہ ہو

➖جب تک ہم یقین تک نہیں پہنچ جاتے اسوقت تک آپ کا یہ کبری درست نہیں ہے

💠علامہ حلی فرماتے ہیں

 🔅ظاہر میں کوئی مفسدہ موجود نہیں ہے

🔅 اگر کوئی مفسدہ ہو  وہ خدا کو بہتر پتہ ہے 

🔅 ما لا یطاق

 ہمیں معلوم نہیں ہے اور
حساب نہیں ہے 


💠علامہ حلی 

🔅 آپ مفسدہ بتا رہے ہیں

❓ یہ دو حال سے خارج  نہیں ہے 

▪️یا تو یہ امامت کے موضوع کا لازمہ ہے 

▪️یا پھر اسے باہر سے عارض ہوگی کیونکہ اس کا جز نہیں ہے 

❇️اگر لازمہ ہے تو پھر قرآن میں خود اللہ نے کچھ ہستیوں کو امام بنایا ہے

جیسے حضرت ابراہیم ع

 ❇️ اگر بعد میں عارض ہو تو وہ یہ کہ اللہ کسی شخص کو امام بنائے اور وہ بعد میں فاسق  و فاجر ہوجاے

▪️ہم نے شروع میں ہی شرط عصمت لگا دی ہے لہذا ایسا شخص امام بن ہی نہیں سکتا


یہ اعتراض اور جواب کشف المراد میں علامہ حلی نے بیان کیا ہے



2️⃣دوسرا اعتراض صغری پر


آپ کہہ رہے ہیں کہ امام کا کسی ملت پر نصب کرنا  لطف ہے


🔅 آپ نے منحصر کیوں کر دیا اللہ تو کچھ اور طریقوں سے بھی اپنا لطف کر سکتا تھا 


➖اللہ سب کو مجبور کرتا کہ برائیوں سے دور رہیں اور نیک کام کریں جیسے اللہ نے فرشتوں کو لطف کیا ہوا ہے

➖اللہ تعالی ہر انسان پر ایک فرشتہ معین کرتا کہ یہ شخص جب گناہ کرے تو اس پر سختی کرو تاکہ یہ خوف سے گناہ نہ کرے


❓ کسی نبی کے دور میں انسان گناہ کرتا تھا تو اس کی پیشانی پر لکھا جاتا تھا

▪️خوف سے انسان گناہ نہیں کرتے تھا یا اپنی پیشانی چھپاتا تھا 

💠علامہ حلی

  کہتے ہیں کہ آپ یہ کون سے مفروضے لے کر بیٹھ گئے ہیں اور کن انسانوں کی بات کر رہے ہیں آیا خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں

 اللہ نے انسان  کو نہ تو مجبور خلق کیا اور نہ فرشتوں کی طرح تکوینی طور پر  معصوم ہیں 

▪️یہ انسان وہ ہےکہ جسے اللہ نے پورے اختیار کے ساتھ زمین پر چھوڑ دیا ہے

▪️ اس کے لیے رسول اور شریعت بھیج دی ہے اور اب اسے پورا اختیار دیا ہے



اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا

سورہ دھر آیت 2


بیشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کر

🔅 اس صورت میں سوائے امام کے کوئی راہ باقی رہی
وہ جو منصوب من اللہ ہو 

3️⃣تیسرا اعتراض 

 ▪️کسی بھی ملت میں امام کا ہونا بہت ضروری ہے 

▪️لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب لے کر جائے 

▪️ وہ امرونہی کرے 

▪️معصیت کاروں کو روکے ان کی تربیت کرے، اور تصرف کرے
 ▪️ آپ شیعہ لوگ امام کو بعنوان حاکم کے پیش کرتے ہیں

❓حالانکہ آپ کے آئمہ بطور حاکم نہ تھے بلکہ وہ ایک استاد تھے وہ پڑھاتے تھے

❓  کیا ضرورت ہے آپ کو اس عقیدہ امامت کی 


 ➖ آپ شیعہ حضرات کے سوائے ایک دو آئمہ کے کوئی امام حکمران نہ تھا

➖موجودہ امام  ویسے ہی غائب ہیں اور وہ تو کسی قسم کا تصرف نہیں کر رہے 

➖ بظاہر کوئی ہدایت کر رہے ہیں

➖ان سے کوئی سوال کرناچاہیں تو وہ جواب نہیں دیتے

توآپ کا ہدف واقع نہیں ہوا۔ 


💠 علامہ حلی کہتے ہیں کہ ہماری گفتگو اصل امام میں ہے جبکہ آپ بات کو امام کے افعال میں لے گئے ہیں

🔅 افعال یعنی جیسے جیسے لوگ امام کو فرصت دیں گے تو امام کام کریں گے

🔆مثال کے طور پر اللہ نےہمں آنکھیں ہاتھ پاؤں دیے تاکہ ہم اس کی عبادت کریں

🔆ایک ظالم نے آکر یہ تمام اعضا باندھ دیے کہ ہم عبادت نہیں کرسکتے تو یہ اعضا ظالم نے باندھے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمیں یہ اعضا ہی نہ دے

 

‼️ آئمہ حکومت نہیں کر سکے یا حاضر امام عج غیبت میں ہیں تو یہ ہمارے اپنے مسائل ہیں 

🔅دنیا میں  امام ہونا چاہیے کہ اس کا وجود لطف ہے 

🔅جیسے جیسے اس کو وسعت ملتی جائے گی تو وہ لطف شامل حال ہوتا جائے گا


💠 علامہ حلی 

🔅 آپ نے بطور کلی آئمہ کی نفی کر دی

🔅ہمارے آئمہ کا لطف یہ ہے کہ وہ حافظ شریعت تھے

 🔅 امام باقر ع اور امام صادق ع  اگر نہ ہوتے تو ہم بھی قیاس کا شکار ہوتے

🔆 امام غائب کی بات ہے تو امام زمان عج موجود ہیں اور لطف یہ ہے

 🔆امام عج کے ہونے سے کائنات کا نظام جاری ہے

 🔆وہ کسی بھی وقت ظہور کر سکتے ہیں اور یہ ظہور ہماری خود کی اصلاح کے لیے بھی کافی ہے  

➖ ظہور کا وقت مقرر نہیں 

کہ لوگ نیک عمل کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید ہمارے ہی دور میں ظہور ہوجاے 

💠علامہ فرماتے ہیں 

 
 ➖امام زمان عج بظاہر غائب ہیں لیکن ان کے وجود کی برکات سے
زمین اور اہل زمین قائم ہیں

➖زمانہ غیبت میں امام عج تصرفات بھی کر رہے ہیں 

➖ بے پناہ  لوگوں کی مدد ہو رہی ہے

➖ علماء اور فقہا کے مسائل حل ہو رہے ہیں


❓ایک اہلسنت یہ سوال کر سکتا ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہے 

💠  جواب 

 کچھ کام اللہ کی طرف سے ہیں اور کچھ ہماری طرف سے ہیں

▪️ اللہ جب کسی چیز کو پیدا کرتا ہے تو وہ مصلحت سے خالی نہیں ہوتی 

▪️ اس سے استفادہ کرنا ہے تو وہ ہم نے کرنا ہے

🔅 امام کا وجود افعال سیرت اللہ کی طرف سے لطف تھا 

❕ہم خود اس تک نہیں پہنچ رہے 

اللہ نے امام کو اس کے وجود  افعال سیرت کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیا اللہ کی جانب سے لطف مکمل ہوگیا اب یہ ہم ہیں کہ جو وجہ ہیں کہ امام کے ظاہر اور ان کے افعال کو نہیں دیکھ رہے نہ کہ اللہ

🔆آئمہ کو حکومت کرنے اور احکام الہی اجراء کرنے کا اگر موقع نہیں ملا تو آپ لوگوں نے نہیں کرنے دیا

  
❕امام زمان عج ظہور نہیں فرما رہے تو اس کی وجہ لوگ خود ہیں 

 🔆 پیغمبر ص آغاز اسلام میں مکہ میں تبلیغ کر رہے تھے

▪️بہت تھوڑے لوگ تھے جو راہ حق کی طرف ائے

▪️مدینہ کے لوگوں نے مدد کی پیغمبر ص نے جب حکومت الہی شروع کی 

▪️ اس میں اسلام کی کتنی تبلیغ ہوئی اور اسلام کو شان و شوکت حاصل ہوئی

▪️ وسیع تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے 

▪️امیرالمومنین ع امام حسن ع اور امام حسین ع ظالموں کے خلاف اٹھے

▪️ لوگ باعث بنے کہ وہ اپنے مقاصد کو پورا کرسکے 

 ▪️لوگ باعث بنے کہ امام مظلومانہ شہید ہوں 

▪️ لوگ باعث بنے کہ امام نظربند رہیں

▪️ لوگ ظالم  کے خلاف نہیں اٹھے اور اپنے امام کی مدد نہیں کی 

🔅خدا نے امام کو علم اور دوسری صفات کے ساتھ بھیجا 

▪️ لوگ اپنا فریضہ انجام نہیں دے رہے


❓پیغمبر کے کچھ  اصحاب

🔅 استفادہ کرتے 
🔅اپنی تربیت کرتے 
🔅اپنے علم میں اضافہ کر
🔅مبلغ بنتے
🔅دور دور تبلیغ کے لیے جاتے تھے


❓ لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے تھے 

➖جو آتے اور چلے جاتے تھے

🔆 کوئی فتنہ فساد ڈالنا ہوتا تھا تو ابحاث لڑائی اور فتنہ کرتے تھے

 💠خدا بارش ساری زمین کے لیے برساتا ہے

▪️ بارش سے سبزہ اور پھل اگتے ہیں
▪️ کچھ زمینوں میں بارش سے کیچڑ اور بدبو ہو جاتی ہے
  
یعنی یہ ضرفیت ہر ہے اللہ کے لطف میں کمی نہیں ہے 


🟥آئمہ کی عصمت 

💠امام ع اپنی خصوصیت عصمت میں انبیاء کی مانند ہے


🔆امامیہ اسماعیلیہ ق اثنا عشری کہتے ہیں 

🔅ضروری ہے امام معصوم ہو

❓اہل سنت اہل حدیث کہتے ہیں 

▪️غیر معصوم بھی امام ہوسکتا ہے 


💠علامہ حلی اور خواجہ نصیرالدین طوسی نے 5 دلیلیں بیان کیں کہ ضروری ہے کہ امام معصوم ہو 


‼️عصمت 

امام گناہوں سے پاک ہو 

جو موجودہ دور میں علماء عصمت کی تعریف کرتے ہیں 


🔆ایک ملکہ یعنی جو صفت راسخ ہوجاے 

🔅جو صفت مالک ہوجاے وجود پر چھا جاے 

🔅مزاج میں رس بس جاے 

🔅جو روح میں رچ بس جاے 


🌀کیسے وجود میں آیا 

❕علم 

تمام حرام حلال کا علم 

❕عزم 

خدا کی اطاعت کرے گا اور اسکی نافرمانی نہیں کرے گا 

🔆عصمت امر اکتسابی ہے نہ کہ وہبی 


🔆قدیم علماء کا نظریہ تھا عصمت وہبی ہے 

یعنی خدا انہیں گناہ کرنے ہی نہیں دیتا 


❓جو عصمت کے آخری درجے کے پر ہوتا تھا امام کے فرزندوں میں سے وہی امام بنتے تھے


شہر بانو✍️ 




***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

اتوار  7  جمادی الاول   1446( 10  نومبر   ، 2024)**

بسم اللہ الرحمن الرحیم *درس عقائد* # 4
*موضوع : امامت کا فلسفہ وجوب عصمت*

*اہل سنت کے نظریے کا رد*

*اہم نکات*
💫 امام کی جو صفات ہونی چاہئیں ان میں سب سے اہم عصمت ہے ۔
اب مسئلہ ہے کہ شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلی فرقہ  صرف وہ امام کی عصمت کے قائل ہیں ۔۔ باقی کوئی بھی فرقہ  امام کی عصمت کا قائل نہیں ہے۔  شیعہ اسماعیلی اس بحث میں حصہ نہیں لیتے۔۔  

💫 *سنی فرقوں میں اشاعرہ، معتزلہ،  وہابی* ، کوئی بھی ماں کی عصمت کے قائل نہیں ہیں۔

اس سلسلے میں علامہ حلی اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے کچھ دلائل دیے ہیں ۔۔ وہ  درج ذیل ہیں۔

*1*⬅️ اگر ہم امام کے لیے عصمت کے قائل نہ ہوں تو امامت میں تسلسل لازمی ہے۔   (اس کی ایک دلیل برہان امتناع تسلسل جس کے بارے میں ہم پہلے بھی گزشتہ  درس میں پڑھ چکے ہیں) وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر امام کے وجود میں عصمت نہیں ہے تو  ایک کے بعد دوسرا امام۔۔ دوسرے کے بعد تیسرا امام ۔۔ تیسرے کے بعد چوتھا امام۔۔ یہ ایک تسلسل چلتا رہے گا۔
💫 اس کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر امام معصوم عن الخطا نہیں ہے وہ غلطی کرے  تو پھر اس کی اصلاح کے لیے کوئی کوئی ہادی نمبر 2  ہونا چاہیے کہ جو ان کی غلطی کی اصلاح کرے۔۔ اور ان کو صحیح اور غلط کا فرق بتائیں۔۔ کیونکہ اگر ہادی نمبر 2 غلطی کی اصلاح نہ کریں تو وہ امت کو گمراہ کر سکتے ہیں۔۔ پھر امت کی گمراہی کا مسئلہ ا جائے گا۔۔  اور اگر یہ کہاں جائے کہ ہادی نمبر  2 ہر قسم کی خطا سے پاک ہے تو پھر تو مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔۔  پھر ہمارا عقیدہ  یہی ہے  کہ امام ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور معصوم ہے ۔
لیکن اگر ہادی نمبر 2 بھی غلطی کرے تو پھر اس کی غلطی کو درست کرنے کے لیے ہادی نمبر 3  امام ہونا چاہیے۔۔  یہ وجہ ہے کہ امامت میں تسلسل کا لازمہ ا جائے گا۔۔

*2* 💫 دوسرا نکتہ یہ بیان ہوا کہ اللہ تعالی امام کو خود منتخب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی ہر ایک کا ظاہر اور باطن جانتا ہے اور وہ امام کو ایسے علم کے ساتھ مبعوث کرتا ہے کہ جس سے امام  درست فیصلہ کر سکیں۔

💫 *سعد بن عبداللہ کا واقعہ*
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں ایک صحابی سعد بن عبداللہ نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ امام کو اللہ تعالی منتخب کرتا ہے تو امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ اس کا جواب دیں گے (امام مہدی علیہ السلام اس وقت بہت کم سن تھے) اور امام مہدی علیہ السلام نے اس وقت یہی بیان فرمایا کہ جو امام تم منتخب کرو کیا اس میں احتمال رکھتے ہو کہ وہ خطا کر سکتا ہے ؟ تو سوال کرنے والے نے کہا کہ جی یہ احتمال تو قائم رہے گا ۔ تو پھر امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللہ تعالی امام کو منتخب کرتا ہے کہ احتمال خطا باقی نہ رہے اور لوگوں کا اپنے امام پر اعتماد اور یقین ہو کہ امام نے درست فیصلہ فرمایا ہے۔

💫 *امام محافظ شریعت*  
امام شریعت کے محافظ ہوتے ہیں کیونکہ جو شریعت نبی ص لے کر ائے امام ان کی حفاظت کرتے ہیں۔  اہل سنت کے نزدیک صرف امام محافظ شریعت نہیں بلکہ قران سنت اور اجماع مسلمین وہ ان کو بھی محافظ شریعت قرار دیتے ہیں۔
پھر پھر یکے بعد دیگرے اہل سنت کے عقائد کے مطابق ان محافظان شریعت
کے بارے میں تجزیہ بیان کیا گیا۔۔
*قران محافظ شریعت ہے* مگر اس میں بھی مکمل دین بیان نہیں ہوا ۔
اس میں جزیات بیان کی گئی ہیں اسی لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث ثقلین میں قران کے ساتھ اہل بیت کا بھی ذکر کیا ہے ۔

پھر اگر *سنت نبوی کو صلی اللہ علیہ وسلم کو محافظ شریعت* مانا جائے تو رسول اللہ کا زمانہ میں  اج کے مسئلے نہیں تھے بلکہ وہ بالکل الگ ایک دور تھا تو اس دور کے مسائل بھی الگ تھے تو اج کے دور کے مسائل کون بیان کرے گا ؟؟ تو جتنی اس وقت کی ضرورت
تھی رسول الہ نے اس وقت بیان کیا لیکن باقی کی وضاحت  وقت کے ساتھ ساتھ بیان ہوتی رہی۔ اور اگر سنت مکمل تھی تو پھر اس کے بعد یہ لوگ *قیاس* کی طرف کیوں گئے یعنی کہ  نماز میں ہاتھ باندھنے کا مسئلہ یا ہاتھ کھول کے نماز پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ۔

💫 260 ہجری تک شیعہ مکتب میں دین بیان کیا گیا امام کے ذریعے ۔۔ اس کے بعد امام کی غیبت کا دور شروع ہو گیا۔

*اجماع*
اجماع یہ ہے کہ  امت کا  ایک گروہ  جمع ہو کر کسی مسئلے پر غور کرتا ہے اور اس کے متعلق احادیث جمع  کرتا ہے پھر کوئی فتوی دیا جاتا ہے کیونکہ تمام امت کبھی بھی ایک نکتے پر جمع نہیں ہوتی۔ ۔۔

*قیاس*  دین کا مسئلہ اپنی مرضی سے حل نہیں ہو سکتا یعنی اس میں قیاس نہیں کیا جاتا۔ سب سے پہلا قیاس شیطان نے کیا تھا جب اس نے سوچا کہ ادم تو مٹی سے بنے ہیں اور میں اگ سے بنا ہوں تو اس نے قیاس کیا کہ میں کیونکہ اگ سے بناؤں اگ بہتر ہے اس لیے میں برتر ہوں تو اس نے جو بھی کیا وہ اپنے قیاس کی بنیاد پہ کیا تو وہ شیطانی عمل تھا اور غلط تھا ۔
تو کیا مفتی یا فقہاء  کا فتوی خدا کے حکم سے بدلا جا سکتا ہے ؟؟  
💫لہذا امت کی ہدایت کے لیے  نبی کے بعد ایک سلسلہ امامت کا ہونا چاہیے اور ہدایت معصوم سے ہی لینی چاہیے۔۔ جیسے کہ قران ہر خطا سے پاک ہے اسی طرح  قران کو بیان کرنے والا بھی ہر گناہ اور خطا سے پاک ہونا چاہیے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں قران اور میری عترت۔
🤲 دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں امامت کے موضوع کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی توفیق اور  وقت کے امام کی معرفت عطا فرمائے۔ *ان کے ظہور میں تعجیل ہو اور ہمیں ان کے اطاعت گزار اعوان و انصار میں سے قرار دے* آمین ثم امین ۔

*الھم عجل لولیک الفرج

شہر بانو✍️ 

**درس امامت ۴: فلسفہ وجوب عصمت اور اہل سنت کے نظریہ کی رد**

*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

منگل   ۲  جمادی الاول   1446( ۵  نومبر   ، 2024)**

**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

### *امام کے لیے عصمت کا وجوب ہے*

آج کے درس کا موضوع امام کے لیے عصمت کے وجوب پر ہے۔ ہم نے اس سے قبل امامؑ کے ہونے کے فلسفہ اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے دلائل پر بحث کی ہے۔ آج ہم اس بات پر غور کریں گے کہ امامؑ کی کون سی صفات ضروری ہیں، جن میں سے سب سے اہم صفت عصمت ہے۔

### *عصمت کی تعریف*

پچھلے درس میں عصمت کی تعریف بیان کی گئی تھی۔ علماء کرام کے مطابق، عصمت ایک *وہبی* امر ہے، یعنی یہ خدا کی جانب سے عطا کی گئی صفت ہے، جو کسی انسان کو گناہ اور اشتباہ سے محفوظ رکھتی ہے۔ بعض علماء اس کے برعکس عصمت کو *کسبی* مانتے ہیں، یعنی امام خود اپنے عمل سے عصمت حاصل کرتا ہے۔ تاہم شیعی عقیدہ یہ ہے کہ عصمت ایک وہبی کیفیت ہے جو امام کو اللہ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔

عصمت کا مفہوم یہ ہے کہ امام وہ شخص ہوتا ہے جو گناہوں سے مکمل طور پر پاک اور خطا سے محفوظ ہو، اور اس کے عمل میں کسی قسم کا اشتباہ یا نسیان نہیں ہوتا۔ عصمت کی بنیادی تعریف میں دو عناصر شامل ہیں:

1. امام کا مکمل علم، جو ہر قسم کے حقائق سے آگاہی اور حلال و حرام کے بارے میں مکمل بصیرت دیتا ہے۔


2. امام کا ارادہ اور عزم، یعنی وہ ہمیشہ اللہ کی رضا میں زندگی گزارنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔

### *اسلامی مکاتب فکر کا نقطہ نظر*

تمام اسلامی مکاتب فکر میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ امامؑ کے لیے عصمت کا تصور کیا ہے؟ شیعہ اثنا عشریہ اور اسماعیلیہ تو امامؑ کی عصمت کے قائل ہیں، جبکہ دوسرے مکاتب فکر جیسے اہلسنت، ماتریدیہ، معتزلہ، وہابیت وغیرہ اس پر متفق نہیں ہیں۔ ہم اس وقت شیعہ اثنا عشری عقیدہ کی وضاحت کر رہے ہیں، کیونکہ باقی مکاتب میں اس پر کم بحث ہوتی ہے۔

### *دلائل امام کی عصمت کے وجوب پر*

شیعہ علماء جیسے خواجہ نصیر الدین طوسی اور علامہ حلی نے امام کی عصمت کے وجوب پر کئی دلائل پیش کیے ہیں۔

#### **1. عصمت کے وجوب پر پہلی دلیل: تسلسل کا مسئلہ** 
اگر امامؑ معصوم نہ ہو تو ایک تسلسل کی ضرورت پیش آئے گی جو کہ عقلی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ امامؑ کا وجود اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ انسانوں کو خطا سے بچائے، کیونکہ انسانوں کے اندر خطا کا احتمال ہوتا ہے۔ اگر امام بھی گناہ کر سکتا ہے، تو پھر اس کی اصلاح کے لیے ایک اور شخص کی ضرورت ہوگی۔ یہ سلسلہ لامتناہی ہو جائے گا، جو عقلاً اور شرعاً ناقابلِ قبول ہے۔

مثال کے طور پر، امام حسن عسگریؑ کے زمانے میں قم کے ایک فقہی سعد بن عبداللہ نے امام عسگریؑ سے سوال کیا کہ کیوں امام کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، کیوں کہ ہم خود امام منتخب نہیں کر سکتے؟ امام عسگریؑ نے فرمایا کہ امام کا انتخاب اللہ کا کام ہے کیونکہ انسانوں کے انتخاب میں باطنی نقائص ہو سکتے ہیں جو ان کی اصلاح کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔

#### **2. امام کا شریعت کا محافظ ہونا** 
دوسری دلیل یہ ہے کہ امامؑ شریعت کا محافظ ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ وحی لانے والے ہیں، لیکن امامؑ شریعت کے تمام پہلوؤں کا محافظ ہوتا ہے۔ امام کی عصمت ضروری ہے کیونکہ اگر امام معصوم نہ ہو، تو وہ شریعت کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔

امامت کا یہ فلسفہ دراصل دین کی حفاظت اور اس کے مکمل بیان سے متعلق ہے۔ شریعت کے محافظ کے طور پر امامؑ کو ہر قسم کی گمراہی اور انحراف سے بچانے کے لیے معصوم ہونا ضروری ہے۔

#### **3. قرآن اور سنت کا مکمل بیان نہ ہونا** 
اہلسنت یہ کہتے ہیں کہ قرآن اور سنت کے ذریعے شریعت کی مکمل وضاحت ہو گئی ہے، لیکن شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت کا مکمل بیان صرف پیغمبرؐ اور اماموں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ قرآن میں کلیات بیان کی گئی ہیں اور سنت نبویؐ بھی ان کلیات کو مکمل کرنے کے لیے ہے، اور اس کی تفصیل اہل بیتؑ کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ اگر قرآن اور سنت کافی ہوتے تو پھر قیاس اور اجماع کی ضرورت نہ پڑتی۔ 

اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن میں محض عمومی ہدایات دی گئی ہیں، لیکن اس کی تفصیل، جزیات اور عملی طریقہ کار پیغمبرؐ اور اہل بیتؑ نے ہی بیان کیا ہے۔

#### **4. اجماع اور قیاس کا رد** 
اہلسنت کے علماء کہتے ہیں کہ مسائل میں اجماع اور قیاس سے حل نکالا جا سکتا ہے، لیکن شیعہ علماء کے نزدیک یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اگر اجماع غیر معصوم لوگوں پر مبنی ہو، تو یہ اجماع غلط ہو سکتا ہے، کیونکہ انسانوں سے خطا ہو سکتی ہے۔ قیاس کا طریقہ بھی غلط ہے، کیونکہ قیاس شیطان کا طریقہ تھا جب اس نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل کو پیش کیا تھا۔

شیعہ عقیدہ میں اجماع یا قیاس سے فیصلے کرنا دین کے اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ دین کا معاملہ اللہ کی طرف سے مکمل اور معصوم ہستیوں کے ذریعے ہی صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

### *امام کی عصمت: اہلسنت کے جواب*

اہلسنت کے علماء یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امام کو معصوم کیوں ہونا چاہیے؟ اگر ہم امام کو معصوم نہیں مانتے تو پھر ہمارے پاس قرآن، سنت، اور اجماع ہیں جو شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن اور سنت میں جزیات کا بیان نہیں ہے۔ قرآن اور سنت کا بیان مکمل نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں امام کی ضرورت ہے تاکہ وہ دین کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

اس نقطہ نظر کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن اور سنت کی جزیات کو سمجھنے اور ان کی حفاظت کرنے کے لیے امامؑ کی معصومیت ضروری ہے۔ امامؑ وہ معصوم ہستی ہے جو دین کو مکمل اور درست طور پر بیان کرتی ہے، تاکہ امت گمراہی سے بچ سکے۔

### *نتیجہ*

آخرکار یہ ثابت ہوتا ہے کہ امامؑ کا معصوم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ شریعت کی حفاظت کرے اور امت کو انحراف سے بچا سکے۔ امام کی عصمت کے بغیر دین کا تحفظ اور امت کی ہدایت ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ، امام کے ذریعے ہی ہمیں دین کی مکمل تفصیلات اور احکام مل سکتے ہیں۔

شیعہ عقیدہ کے مطابق، عصمت کا تصور دین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور اس کے بغیر نہ تو امت کی ہدایت ممکن ہے اور نہ ہی دین کا صحیح فہم۔ امامؑ کا معصوم ہونا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دین کا ہر پہلو درست طور پر بیان کیا جائے، اور امت گمراہی سے بچ کر اللہ کی ہدایت کی طرف رہنمائی حاصل کرے۔

شہر بانو✍️ 

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 🕊️ 

درس عقائد 📚 (امامت 🙌)

درس نمبر ✍️📚.. (4)

موضوع ✍️📚 فلسفہ وجوب عصمت اور اہلسنت کے نظریہ کی رد ۔۔


امام کی صفات 💫 

اہم ترین صفت (عصمت)


تاریخ میں 💫

عصمت ایک ملکہ ہے ۔یہ حاصل ہوتا ہے وہ علم اور اللّٰہ کی بارگاہ میں یہ ارادہ و عظم کرنا کہ فقط عطاعت کرو گا نا فرمانی سے بچو گا ۔یہ دو چیزیں امام کا علم تمام حقائق کا علم حلال و حرام کا علم اور ساتھ پروردگار کی عطاعت کا ارادہ ۔

یہ دونوں مل کر عصمت کو تشکیل دیتی ہے ۔


اسلام کے تمام مکاتب کا نقطئہ نظر 📚

اسلامی مکاتب کے اندر شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلیہ یہ دونوں قائل ہیں امامت کی عصمت کے ۔باقی اس کے علاوہ کوئی بھی مکتب فکر عصمت امام کے قائل نہیں ۔۔۔


چند دلائل 🕊️💫

علامہ حلی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور خود صاحب تجرید نے پیش کی ۔

پہلی دلیل حواجہ نصرالدین طوسی اور علامہ حلی ۔

عصمت کے وجوب پر کہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر عصمت امام کے قائل نا ہوں تو تسلسل لازم آۓ گا۔

امام کے وجوب کا جو فلسفہ ہے کسی امت میں یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اجتمال خطا ہے ۔یعنی لوگ اپنے امور میں اپنے کردار و گفتار میں اور عمل میں معصوم تو نہیں ہے گناہگار ہے معمولآ اور کوئی جتنا بھی نیک ہو صاحب تقوی ہو عادل ہو احتمال خطا تو ہے۔ اسکی ہم نفی نہیں کر سکتے ۔

اب یہ جو عالم بشریت احتمال خطا کی وجہ سے کسی بھی وقت انحراف کا شکار ہو سکتا ہے ۔ذلالت کا شکار ہو سکتا ہے تو یہاں ایک ہادی ہونا چاہیئے جو انھیں فورآ خطا سے بچائے اور انکی اصلاح کریں اور انہیں بتاۓ کہ جس راہ میں آپ جانے لگے ہے یہ راہ غلط ہے اور یہ راہ صحیح ہے ۔


سوال ؟

آیا یہ ہادی انہی کی طرح اختمال خطا کار ہے یا معصوم ہے ؟


اگر معصوم ہے! تو ہمارا مسئلہ حل ہوا۔۔لیکن اگر خطا کار ہوا تو پھر اسکی اصلاح کیلئے بھی کوئی ہادی ہو نمبر  2 ہادی ہونا چاہیے جو انکی اصلاح کرے اور انکو صحیح اور غلط کا فرق بتاۓ ۔کیونکہ اگر ہادی نمبر 2 غلط کی اصلاح نا کرے تو وہ امت کو گمراہ کر سکتے ہیں ۔پھر امت کی گمراہی کا سوال آ جائے گا ۔۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہادی نمبر 2 ہر قسم سے پاک ہے تو پھر تو مسئلہ ختم ہو جاتا ہے ۔۔


ہمارا عقیدہ 💫

امام ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور معصوم ہے ۔

لیکن! اگر ہادی نمبر 2 بھی غلط کرے تو پھر اسکی غلطی کو درست کرنے کے لیے ہادی نمبر 3 امام ہونا چاہیے ۔۔۔یہ وجہ ہے کہ امامت میں تسلسل کا لازمہ آ جائے گا ۔۔


دوسرا نقطئہ نظر 📚 


اللّٰہ تعالیٰ امام کو خود منتخب کرتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہر ایک کا ظاہر و باطن جانتا ہے اور وہ امام کو ایسے علم کے ساتھ مبعوث کرتا ہے کہ جس سے امام درست فیصلہ کر سکیں ۔۔


سعد بن عبداللہ کا واقعہ ✍️

امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں ایک صحابی سعد بن عبداللہ نے امام حسن عسکری علیہ السّلام سے سوال کیا کہ!

کیا وجہ ہے کہ امام کو اللّٰہ تعالیٰ منتخب کرتا ہے ؟

تو امام حسن عسکری علیہ السّلام نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ اس کا جواب دیں گے۔

امام مہدی علیہ السلام اس وقت بہت کم سن تھے ۔اور امام مہدی علیہ السلام نے اس وقت یہی فرمایا کہ جو امام تم منتخب کرو کیا اس میں احتمال رکھتے ہوکہ وہ خطا کر سکتا ہے ؟

تو سوال کرنے والے نے کہا کہ جی یہ احتمال تو ہے اور ہم اسکی نفی نہیں کر سکتے 


پھر امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ امام منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ظاہر کو بھی دیکھتا ہے اور باطن کو بھی ۔


دوسری دلیل ✍️

امام محافظ شریعت ہے 🙌🏻

یہ دوسری دلیل علامہ حلی رح اور صاحب تجرید نے پیش کی ۔

وہ یہ ہے کہ امام محافظ شریعت ہے ۔پیغمبر ص وحی لانے والے ہیں اور امام ع پر وحی نہیں آتی اور امام محافظ وحی و شریعت ہیں اور محافظ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہونا چاہیے ۔


امامت ✍️ 

امامت عقائد سے مربوط ہے اور عقائد کے حوالے سے گمراہی کا تصور سب سے بڑی گمراہی ہے جو پورے عمل کو فاسد کر دیتی ہے ۔ مثلاً!

جنگ سفین ۔جنگ جمل ۔جنگ نہروان میں امام کے تبدیل ہونے سے یعنی! جن لوگوں نے اپنا امام بنایا تھا اس کے ایک فیصلے سے کچھ لوگ مرنے کے بعد جہنم جا رہے ہیں اور کچھ لوگ مرنے کے بعد جنت ۔


ان جنگوں میں جو مقاتلہ ہوا تھا اور چاہیے کوئی کتنا بھی پرہیز گار اور متقی تھا لیکن جسے اپنا امام اور پیشوا بنایا تو یہ جنگ اسے جہنم میں کھینچنے کے لیے کافی ہے ۔


شریعت کے محافظ  💫📚

سوال کون ہے شریعت کے محافظ ؟


یہاں اہل سنت کہتے ہیں کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ محافظ شریعت امام ہیں ۔جبکہ قرآن ،سنت پیغمبر اور اجماع مسلمین بھی محافظ شریعت ہے ۔


جواب شریعت کے محافظ ✍️

قرآن محافظ شریعت نہیں ۔یہ شریعت کا ایک منبہ ہے لیکن محافظ شریعت نہیں ہے کیونکہ قرآن کے اندر کلیات بیان ہوئے ہیں جزیات بیان نہیں ہوۓ ہیں ۔

قرآن مجید نے چند چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن وہ کیسے کرنا ہے اور کیسے انجام دینا ہے وہ سنت نبوی اور فرامین معصومین ع بیان کرتے ہیں ۔


اس کی جزیات اور تفصیلات آئمہ معصومین ع عترت پیغمبر ص بیان کرتے ہیں اسی لیے تو رسول ص نے اپنے بعد فرمایا ۔


کہ قرآن مجید اور اہلبیت علیہ السّلام سے متمسک رہو۔


بیان اہل سنت 💫

وہ کہتے ہیں کہ سنت بیان کی ۔


بیان اہل تشیع 💫 

کہتے ہیں کہ عترت بیان کی۔۔


کیونکہ!

ایک قرآن مجید ہے اور دوسرے اہلبیت علیہ السّلام رسول ص جو اس کے شاعرے ہیں ۔اس کی تشریح کرنے والے ہیں ۔


سنت نبوی ص📚

اہل سنت کے مطابق کہ سنت نبوی ص محافظ شریعت ہے ۔لیکن اہل تشیع کہتے ہیں کہ جو سنت نبوی ص بیان ہوئی ہے یا اسی دور کے تقاضوں کے لیے بیان ہوئی ہے یا قیامت تک کے لیے عالم اسلام کو پیش آنے والی مشکلات اور انحرافات کے لیے بیان ہوئی ہے ۔


یقیناً ۔۔پیغمبر ص نے اس دور کے مطابق بیان کی اور باقی بیان نہیں کی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ص پر دین کامل ہوا ہے لیکن کامل بیان نہیں ہوا چونکہ! صدر اسلام میں جتنی ضرورت تھی اتنا بیان ہوا باقی رسول اللّٰہ ص نے اپنے خلفاء حقیقی کے لیے حصہ چھوڑا کہ وہ بیان کرے ۔۔


دلیل ✍️

اگر ہم کہیں کہ سنت کافی تھی تو کیوں مسلمانوں کے اندر سو سال کے بعد نفی ،مالکی،حنبلی،شافعی نے کیوں اساس کی طرف رجوع کیا اور کہا ایسے ایسے مسائل پیش آرہے ہیں کہ جن کا حل نہ قرآن میں ہے اور  نہ سنت نبوی ص میں ہے ۔نتیجتاً فقیہ جو ہے وہ اپنے قیاس سے فقہی مسائل کو حل کر رہا ہے اور پھر ان کے اندر اختلاف پڑ گیا کہ اس نے یہ فتویٰ دے دیا اور فلاں نے وہ فتویٰ دے دیا اور نتیجتاً ایک شریعت کی جگہ چار شریعت بن گئیں ۔


فقہاء کا فرق 💫

اہل سنت اور اہل تشیع کے فقہاء میں یہ فرق ہے کہ اہل سنت کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کا نہ ہونا ہے لہٰذا وہ اپنے قیاس سے مسئلہ کا حل کر رہا ہے ۔

اہل تشیع کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کی کثرت ہے کہ ایک ایک موضوع پر اتنی کثرت سے احادیث موجود ہیں کہ وہ کئی کئی سال اس پر بحث کرتا ہے کہ ہم کس حدیث سے موجودہ دور میں استدلال کرے۔۔


مکتب تشیہوں کے اندر کوئی فقیہ یہ کرے نہیں کرتا ہے کہ اپنے قیاس سے کوئی فتویٰ دے کہ مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے بلکہ ہمارے پاس اتنے فرامین معصومین ع ہیں اور احادیث ہیں کہ جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔




اجماع:3 دلیل ✍️


اہل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ 

اگر کوئی مسئلہ بن گیا تو ہم اجماع کے ذریعے حل کریں گے ۔اب سوال ہے کہ اجماع آپ کے اندر کون کرے گا آیا سارے غیر معصوم کریں گے تو پھر فرق کیا ہے ؟


ایک غیر معصوم کی رائے یا مجموعہ امت غیر معصوم کی رائے ہو تو کوئی فرق نہیں دونوں گمراہ کرنے والی ہے اور امت کہیں بھی جمع نہیں ہوتی ۔کیونکہ امت کا اطلاق ایک مکتب پر نہیں ہوتا تمام مکاتب پر ہوتا ہے جو بھی کلمہ گو ہے امت ہے ۔


تو گروہ علماء کا یہاں اجماع ہوا اور یہ غیر معصوم ہیں ۔ان سے خطا ہو سکتی ہے ۔خطا جسے فردی ہوتی ہے اسی طرح اجتماعی بھی ہوتی ہے ۔تو محافظ شریعت وہ بنے جو خطا سے پاک ہو۔۔


نتیجہ 💫

اجماع محافظ شریعت نہیں ۔


قیاس 💫


چوتھی چیز قیاس ہے بعض علماۓ اہلسنت نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کا حل قرآن سے نہیں تو سنت سے سنت سے نہیں تو اجماع سے قیاس و استحسان سے حل کرو۔جبکہ 

دین کا مسئلہ کوئی بھی اپنی رائے سے نہیں کرسکتا ۔

اور قیاس کرنے والا سب سے پہلا شیطان تھا۔اور جتنے قیاس کرنے والے تھے وہ ابلیس کے پیروکار ہیں کیونکہ جب اس نے قیاس کیا کہ وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے یعنی اس نے مقائسہ کیا اور اپنے ذہن سے بہتر پا رہا ہے اور اپنی ذہنی رائے کو اللّٰہ کے مد مقابل لایا۔


اللّٰہ تعالیٰ نے دین کامل ںھیجا ہے جو لوح محفوظ پر اور پیغمبر ص لاۓ اور ان کے بعد معصومین ع کے پاس ہے 🌸


قیاس ہمارے نزدیک حق نہیں ہے ۔۔


اصول عملیہ 💫

چند لوگوں نے اسکو دلیل بنایا ہے کہ اصل برات یعنی جب حکم شریعہ نہ ملیں تو آپ بری الزمہ ہیں ۔تو یہ تو حکم ثانوی ہے اور حکم ثانوی تب ہوتا ہے کہ جب حکم اولی کی گنجائش نہ ہو۔یا ہم حکم اولی سے کلی طور پر لا علم ہوں۔اود احکام ثانوی محافظ دین نہیں ہے اور پیغمبر ص دین بیان کر گئے ہیں اب ہم نے ان ہستیوں سے دین لینا ہے جو معصوم ع ہیں ۔


قیاس اور اصول عملیہ میں فرق 💫


وہ قیاس سے حکم اولیہ بناتے ہیں اور اس کو واقیعت قرار دیتے ہیں ۔کہتے ہے کہ اللّٰہ کا ایک حکم تھا لیکن چونکہ ہمارے فقیہ نے قرآن اور سنت میں تحقیق کی اور اس کو پتہ نہیں چلا اب اس نے جو سوچا اور جاری کیا خدا اپنا حکم مٹا دے گا اس فقہی کا حکم لوح محفوظ پر لکھ دے گا ۔یعنی ایک ناقص العقل فقہی کا حکم اللّٰہ کے حکم پر فائز ہیں ۔(نعوذ باللہ )


امام علی علیہ السلام سے لیکر امام حسن عسکری علیہ السّلام تک جن ہستیوں نے دین کی حفاظت کی وہ آئمہ معصومین ع ہیں 🙌🏻


فلسفہ امامت اور اصل دین 💫


ہو سکتا ہے کہ یہاں اہل سنت سوال کرے کہ ۔

260 ھ تک آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد تو آپ ہم جیسے ہوگئے ہیں آپ کے بھی فقہاء ہیں اور ہمارے بھی اور ابھی آپ کو مسائل پیش آتے ہیں تو آپ فقہاء سے رجوع کرتے ہیں ؟


جواب 📖✍️


ہمارے پاس اصل دین 99 فیصد بیان ہوچکے ہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایک در صد مسئلہ رہ گیا ہو کہ جس میں ہمیں اصول عملیہ کی ضرورت پڑتی ہو لیکن آپ کے پاس تو بے پناہ مسائل ہیں کہ جس میں آپ نے قیاس سے کام لیا ہے 

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 🕊️ 

درس عقائد 📚 (امامت 🙌)

درس نمبر ✍️📚.. (4)

موضوع ✍️📚 فلسفہ وجوب عصمت اور اہلسنت کے نظریہ کی رد ۔۔


امام کی صفات 💫 

اہم ترین صفت (عصمت)


تاریخ میں 💫

عصمت ایک ملکہ ہے ۔یہ حاصل ہوتا ہے وہ علم اور اللّٰہ کی بارگاہ میں یہ ارادہ و عظم کرنا کہ فقط عطاعت کرو گا نا فرمانی سے بچو گا ۔یہ دو چیزیں امام کا علم تمام حقائق کا علم حلال و حرام کا علم اور ساتھ پروردگار کی عطاعت کا ارادہ ۔

یہ دونوں مل کر عصمت کو تشکیل دیتی ہے ۔


اسلام کے تمام مکاتب کا نقطئہ نظر 📚

اسلامی مکاتب کے اندر شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلیہ یہ دونوں قائل ہیں امامت کی عصمت کے ۔باقی اس کے علاوہ کوئی بھی مکتب فکر عصمت امام کے قائل نہیں ۔۔۔


چند دلائل 🕊️💫

علامہ حلی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور خود صاحب تجرید نے پیش کی ۔

پہلی دلیل حواجہ نصرالدین طوسی اور علامہ حلی ۔

عصمت کے وجوب پر کہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر عصمت امام کے قائل نا ہوں تو تسلسل لازم آۓ گا۔

امام کے وجوب کا جو فلسفہ ہے کسی امت میں یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اجتمال خطا ہے ۔یعنی لوگ اپنے امور میں اپنے کردار و گفتار میں اور عمل میں معصوم تو نہیں ہے گناہگار ہے معمولآ اور کوئی جتنا بھی نیک ہو صاحب تقوی ہو عادل ہو احتمال خطا تو ہے۔ اسکی ہم نفی نہیں کر سکتے ۔

اب یہ جو عالم بشریت احتمال خطا کی وجہ سے کسی بھی وقت انحراف کا شکار ہو سکتا ہے ۔ذلالت کا شکار ہو سکتا ہے تو یہاں ایک ہادی ہونا چاہیئے جو انھیں فورآ خطا سے بچائے اور انکی اصلاح کریں اور انہیں بتاۓ کہ جس راہ میں آپ جانے لگے ہے یہ راہ غلط ہے اور یہ راہ صحیح ہے ۔


سوال ؟

آیا یہ ہادی انہی کی طرح اختمال خطا کار ہے یا معصوم ہے ؟


اگر معصوم ہے! تو ہمارا مسئلہ حل ہوا۔۔لیکن اگر خطا کار ہوا تو پھر اسکی اصلاح کیلئے بھی کوئی ہادی ہو نمبر  2 ہادی ہونا چاہیے جو انکی اصلاح کرے اور انکو صحیح اور غلط کا فرق بتاۓ ۔کیونکہ اگر ہادی نمبر 2 غلط کی اصلاح نا کرے تو وہ امت کو گمراہ کر سکتے ہیں ۔پھر امت کی گمراہی کا سوال آ جائے گا ۔۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہادی نمبر 2 ہر قسم سے پاک ہے تو پھر تو مسئلہ ختم ہو جاتا ہے ۔۔


ہمارا عقیدہ 💫

امام ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور معصوم ہے ۔

لیکن! اگر ہادی نمبر 2 بھی غلط کرے تو پھر اسکی غلطی کو درست کرنے کے لیے ہادی نمبر 3 امام ہونا چاہیے ۔۔۔یہ وجہ ہے کہ امامت میں تسلسل کا لازمہ آ جائے گا ۔۔


دوسرا نقطئہ نظر 📚 


اللّٰہ تعالیٰ امام کو خود منتخب کرتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہر ایک کا ظاہر و باطن جانتا ہے اور وہ امام کو ایسے علم کے ساتھ مبعوث کرتا ہے کہ جس سے امام درست فیصلہ کر سکیں ۔۔


سعد بن عبداللہ کا واقعہ ✍️

امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں ایک صحابی سعد بن عبداللہ نے امام حسن عسکری علیہ السّلام سے سوال کیا کہ!

کیا وجہ ہے کہ امام کو اللّٰہ تعالیٰ منتخب کرتا ہے ؟

تو امام حسن عسکری علیہ السّلام نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ اس کا جواب دیں گے۔

امام مہدی علیہ السلام اس وقت بہت کم سن تھے ۔اور امام مہدی علیہ السلام نے اس وقت یہی فرمایا کہ جو امام تم منتخب کرو کیا اس میں احتمال رکھتے ہوکہ وہ خطا کر سکتا ہے ؟

تو سوال کرنے والے نے کہا کہ جی یہ احتمال تو ہے اور ہم اسکی نفی نہیں کر سکتے 


پھر امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ امام منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ظاہر کو بھی دیکھتا ہے اور باطن کو بھی ۔


دوسری دلیل ✍️

امام محافظ شریعت ہے 🙌🏻

یہ دوسری دلیل علامہ حلی رح اور صاحب تجرید نے پیش کی ۔

وہ یہ ہے کہ امام محافظ شریعت ہے ۔پیغمبر ص وحی لانے والے ہیں اور امام ع پر وحی نہیں آتی اور امام محافظ وحی و شریعت ہیں اور محافظ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہونا چاہیے ۔


امامت ✍️ 

امامت عقائد سے مربوط ہے اور عقائد کے حوالے سے گمراہی کا تصور سب سے بڑی گمراہی ہے جو پورے عمل کو فاسد کر دیتی ہے ۔ مثلاً!

جنگ سفین ۔جنگ جمل ۔جنگ نہروان میں امام کے تبدیل ہونے سے یعنی! جن لوگوں نے اپنا امام بنایا تھا اس کے ایک فیصلے سے کچھ لوگ مرنے کے بعد جہنم جا رہے ہیں اور کچھ لوگ مرنے کے بعد جنت ۔


ان جنگوں میں جو مقاتلہ ہوا تھا اور چاہیے کوئی کتنا بھی پرہیز گار اور متقی تھا لیکن جسے اپنا امام اور پیشوا بنایا تو یہ جنگ اسے جہنم میں کھینچنے کے لیے کافی ہے ۔


شریعت کے محافظ  💫📚

سوال کون ہے شریعت کے محافظ ؟


یہاں اہل سنت کہتے ہیں کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ محافظ شریعت امام ہیں ۔جبکہ قرآن ،سنت پیغمبر اور اجماع مسلمین بھی محافظ شریعت ہے ۔


جواب شریعت کے محافظ ✍️

قرآن محافظ شریعت نہیں ۔یہ شریعت کا ایک منبہ ہے لیکن محافظ شریعت نہیں ہے کیونکہ قرآن کے اندر کلیات بیان ہوئے ہیں جزیات بیان نہیں ہوۓ ہیں ۔

قرآن مجید نے چند چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن وہ کیسے کرنا ہے اور کیسے انجام دینا ہے وہ سنت نبوی اور فرامین معصومین ع بیان کرتے ہیں ۔


اس کی جزیات اور تفصیلات آئمہ معصومین ع عترت پیغمبر ص بیان کرتے ہیں اسی لیے تو رسول ص نے اپنے بعد فرمایا ۔


کہ قرآن مجید اور اہلبیت علیہ السّلام سے متمسک رہو۔


بیان اہل سنت 💫

وہ کہتے ہیں کہ سنت بیان کی ۔


بیان اہل تشیع 💫 

کہتے ہیں کہ عترت بیان کی۔۔


کیونکہ!

ایک قرآن مجید ہے اور دوسرے اہلبیت علیہ السّلام رسول ص جو اس کے شاعرے ہیں ۔اس کی تشریح کرنے والے ہیں ۔


سنت نبوی ص📚

اہل سنت کے مطابق کہ سنت نبوی ص محافظ شریعت ہے ۔لیکن اہل تشیع کہتے ہیں کہ جو سنت نبوی ص بیان ہوئی ہے یا اسی دور کے تقاضوں کے لیے بیان ہوئی ہے یا قیامت تک کے لیے عالم اسلام کو پیش آنے والی مشکلات اور انحرافات کے لیے بیان ہوئی ہے ۔


یقیناً ۔۔پیغمبر ص نے اس دور کے مطابق بیان کی اور باقی بیان نہیں کی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ص پر دین کامل ہوا ہے لیکن کامل بیان نہیں ہوا چونکہ! صدر اسلام میں جتنی ضرورت تھی اتنا بیان ہوا باقی رسول اللّٰہ ص نے اپنے خلفاء حقیقی کے لیے حصہ چھوڑا کہ وہ بیان کرے ۔۔


دلیل ✍️

اگر ہم کہیں کہ سنت کافی تھی تو کیوں مسلمانوں کے اندر سو سال کے بعد نفی ،مالکی،حنبلی،شافعی نے کیوں اساس کی طرف رجوع کیا اور کہا ایسے ایسے مسائل پیش آرہے ہیں کہ جن کا حل نہ قرآن میں ہے اور  نہ سنت نبوی ص میں ہے ۔نتیجتاً فقیہ جو ہے وہ اپنے قیاس سے فقہی مسائل کو حل کر رہا ہے اور پھر ان کے اندر اختلاف پڑ گیا کہ اس نے یہ فتویٰ دے دیا اور فلاں نے وہ فتویٰ دے دیا اور نتیجتاً ایک شریعت کی جگہ چار شریعت بن گئیں ۔


فقہاء کا فرق 💫

اہل سنت اور اہل تشیع کے فقہاء میں یہ فرق ہے کہ اہل سنت کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کا نہ ہونا ہے لہٰذا وہ اپنے قیاس سے مسئلہ کا حل کر رہا ہے ۔

اہل تشیع کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کی کثرت ہے کہ ایک ایک موضوع پر اتنی کثرت سے احادیث موجود ہیں کہ وہ کئی کئی سال اس پر بحث کرتا ہے کہ ہم کس حدیث سے موجودہ دور میں استدلال کرے۔۔


مکتب تشیہوں کے اندر کوئی فقیہ یہ کرے نہیں کرتا ہے کہ اپنے قیاس سے کوئی فتویٰ دے کہ مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے بلکہ ہمارے پاس اتنے فرامین معصومین ع ہیں اور احادیث ہیں کہ جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔




اجماع:3 دلیل ✍️


اہل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ 

اگر کوئی مسئلہ بن گیا تو ہم اجماع کے ذریعے حل کریں گے ۔اب سوال ہے کہ اجماع آپ کے اندر کون کرے گا آیا سارے غیر معصوم کریں گے تو پھر فرق کیا ہے ؟


ایک غیر معصوم کی رائے یا مجموعہ امت غیر معصوم کی رائے ہو تو کوئی فرق نہیں دونوں گمراہ کرنے والی ہے اور امت کہیں بھی جمع نہیں ہوتی ۔کیونکہ امت کا اطلاق ایک مکتب پر نہیں ہوتا تمام مکاتب پر ہوتا ہے جو بھی کلمہ گو ہے امت ہے ۔


تو گروہ علماء کا یہاں اجماع ہوا اور یہ غیر معصوم ہیں ۔ان سے خطا ہو سکتی ہے ۔خطا جسے فردی ہوتی ہے اسی طرح اجتماعی بھی ہوتی ہے ۔تو محافظ شریعت وہ بنے جو خطا سے پاک ہو۔۔


نتیجہ 💫

اجماع محافظ شریعت نہیں ۔


قیاس 💫


چوتھی چیز قیاس ہے بعض علماۓ اہلسنت نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کا حل قرآن سے نہیں تو سنت سے سنت سے نہیں تو اجماع سے قیاس و استحسان سے حل کرو۔جبکہ 

دین کا مسئلہ کوئی بھی اپنی رائے سے نہیں کرسکتا ۔

اور قیاس کرنے والا سب سے پہلا شیطان تھا۔اور جتنے قیاس کرنے والے تھے وہ ابلیس کے پیروکار ہیں کیونکہ جب اس نے قیاس کیا کہ وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے یعنی اس نے مقائسہ کیا اور اپنے ذہن سے بہتر پا رہا ہے اور اپنی ذہنی رائے کو اللّٰہ کے مد مقابل لایا۔


اللّٰہ تعالیٰ نے دین کامل ںھیجا ہے جو لوح محفوظ پر اور پیغمبر ص لاۓ اور ان کے بعد معصومین ع کے پاس ہے 🌸


قیاس ہمارے نزدیک حق نہیں ہے ۔۔


اصول عملیہ 💫

چند لوگوں نے اسکو دلیل بنایا ہے کہ اصل برات یعنی جب حکم شریعہ نہ ملیں تو آپ بری الزمہ ہیں ۔تو یہ تو حکم ثانوی ہے اور حکم ثانوی تب ہوتا ہے کہ جب حکم اولی کی گنجائش نہ ہو۔یا ہم حکم اولی سے کلی طور پر لا علم ہوں۔اود احکام ثانوی محافظ دین نہیں ہے اور پیغمبر ص دین بیان کر گئے ہیں اب ہم نے ان ہستیوں سے دین لینا ہے جو معصوم ع ہیں ۔


قیاس اور اصول عملیہ میں فرق 💫


وہ قیاس سے حکم اولیہ بناتے ہیں اور اس کو واقیعت قرار دیتے ہیں ۔کہتے ہے کہ اللّٰہ کا ایک حکم تھا لیکن چونکہ ہمارے فقیہ نے قرآن اور سنت میں تحقیق کی اور اس کو پتہ نہیں چلا اب اس نے جو سوچا اور جاری کیا خدا اپنا حکم مٹا دے گا اس فقہی کا حکم لوح محفوظ پر لکھ دے گا ۔یعنی ایک ناقص العقل فقہی کا حکم اللّٰہ کے حکم پر فائز ہیں ۔(نعوذ باللہ )


امام علی علیہ السلام سے لیکر امام حسن عسکری علیہ السّلام تک جن ہستیوں نے دین کی حفاظت کی وہ آئمہ معصومین ع ہیں 🙌🏻


فلسفہ امامت اور اصل دین 💫


ہو سکتا ہے کہ یہاں اہل سنت سوال کرے کہ ۔

260 ھ تک آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد تو آپ ہم جیسے ہوگئے ہیں آپ کے بھی فقہاء ہیں اور ہمارے بھی اور ابھی آپ کو مسائل پیش آتے ہیں تو آپ فقہاء سے رجوع کرتے ہیں ؟


جواب 📖✍️


ہمارے پاس اصل دین 99 فیصد بیان ہوچکے ہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایک در صد مسئلہ رہ گیا ہو کہ جس میں ہمیں اصول عملیہ کی ضرورت پڑتی ہو لیکن آپ کے پاس تو بے پناہ مسائل ہیں کہ جس میں آپ نے قیاس سے کام لیا ہے 

ہمارے پاس جو 260ھ تک احادیث کا سلسلہ جاری رہا ہے اس سے ہمیں بھی اتنی احادیث مل گئی ہیں کہ جو ہمارے لیے تا زمانہ ظہور کافی ہیں ۔کجا 23 سالہ احادیث کا ذخیرہ ۔اور جب عصر ظہور ہوگا تو یہ ایک در صد مسائل بھی بیان ہونگے اور اس زمانے کے مسائل اور باقی ماندہ دین بھی امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے بیان ہوگا۔(انشاء اللّہ)📚💫🕊️✍️


*🪷درس امامت5*
فلسفہ وجوب۔عصمت اہل سنت کے نظریہ کی رد

*🎤استاد محترم حجت الاسلام و المسلمین علامہ علی اصغر سیفی صاحب*

***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️


🌾امام کے لیے عصمت پر کیا دلیل ہے؟

ہم نے دو دلائل آپ کی خدمت میں بیان کیے آج تیسری دلیل۔

*تیسری دلیل*
یہ ہے کہ شریعت کے اندر امر بالمعروف اور نہی از منکر ایسی دلیل ہے کہ جو عمومیت رکھتی ہے۔
یعنی ہر ایک کو امر بالمعروف اور نہی از منکر کر سکتے ہیں حتی اگر خدا نہ کرے پیغمبر یا امام سے بھی کوئی خطا یا معصیت اگر لوگ دیکھیں تو اس وقت بھی لوگوں پر واجب ہے کہ وہ پیغمبر یا امام کو بھی نصیحت کریں اور اسکی مخالفت کریں کہ آپ یہ کام نہ کریں آپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ یہ کام معصیت ہے۔

لیکن قرآن مجید ایک طرف یہ کہہ رہا ہےکہ:
*اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی امر منکم*

*ترجمہ*:
"اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے اولی امر ہیں"

یہ جو امر بالمعروف اور نہی از منکر ہے جو بظاہر عام ہے وہ اس آیت کے ساتھ سازگار نہیں ہے چونکہ آیت مطلقا رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دے رہی ہے۔
آیت کا یہ اطلاق بتا رہا ہے رسول اور اولی الامر وہ ہستیاں ہیں کہ جو گناہ نہیں کرتی کیونکہ اگر یہ گناہ کرتی ہوتی تو پھر اللہ یہ نہ کہتا کہ مطلقا اطاعت کرو بلکہ خدا کہتا ہے کہ جو کام معصیت والے نہیں ہیں ان میں اطاعت کرو اس میں ایک قید لگاتا ہے ایک قید کا نہ لگانا مطلقا کہنا کہ ان کی آپ اطاعت کریں اس سے پتہ چل رہا ہے کہ خدا تعالی جو ہے وہ چونکہ ان ہستیوں کو بعنوان معصوم بھیجتا ہے اس لیے اللہ نے مطلقا اطاعت کا حکم دیا۔
اب ہو سکتا ہے آپ کے ذہنوں میں یہ سوال ہو کہ یہ تو ہم شیعہ یوں کہہ رہے ہیں اہل سنت کا کیا نظریہ ہے اہل سنت کا نظریہ بھی یہی ہے کہ رسول اور اولی الامر کی اطاعت مطلق ہے چاہے اولی الامر اپ کو غلط ہی دستور کیوں نہ دے دیں۔
لہذا آپ دیکھیں پوری ہماری تاریخ میں علماء اہل سنت نے ان سلطان و بادشاہوں اور نام نہاد خلیفوں کے جن کو یہ اولی الامر کہتے ہیں ان کی ہمیشہ اطاعت کی ہے حتی غلط کاموں میں بھی انہوں نے کہا چونکہ یہ اولی الامر ہے لہذا ہم نے ہر صورت میں اطاعت کرنی ہے یعنی اطاعت مطلق کے قائل ہیں۔

تو ہم شیعہ یہ کہتے ہیں کہ اطاعت مطلق اس کی ہوتی ہے جو معصوم ہو جہاں پتہ چل رہا ہے کہ یہ معصیت کر رہا ہے خدا کی نافرمانی کر رہا ہے وہاں تو پھر اطاعت مطلق نہیں ہونی چاہیے اللہ نے جو اطاعت مطلق کا حکم دیا ہے وہ اس صورت میں ہے کہ میری معصیت نہ ہو ورنہ خدا کس طرح پسند کرتا ہے کہ میری نافرمانی میں آپ اطاعت کریں۔

ادھر سے اللہ کہہ رہا ہےامر بالمعروف کرو، ادھر سے کہہ رہا ہے کہ نافرمان شخص کی اطاعت کرو تو یہ قرآن میں تناقض ہے تو پس اگر اس تناقض سے بچنا ہے تو پھر یہاں ایک ہی صورت ہے کہ اولی الامر وہ ہستیاں ہیں کہ جو معصوم ہیں یہ تیسری دلیل۔

*چوتھی دلیل:*
  وہ  یہ ہے کہ اللہ تعالی کیوں امام کو منسوب کرتا ہے اس لیے کہ لوگ امام کے مد مقابل تسلیم ہوں اور اس کی ہر بات کو بغیر چوچرا کے مانیں چونکہ اگر لوگ ہر بات میں جرح کرنے لگ جائیں گے پھر تو کوئی کام نہیں چلے گا جب ہم نے ایک شخص کو امام مان لیا تو بس ٹھیک ہے جس طرح وہ کہہ رہے ہیں ہم نے اسی طرح ہی کرنا ہے۔

خوب اگر امام جو ہے خدا نہ کرے اس سے کوئی معصیت یا نسیان ہو تو پھر لوگوں کا اعتماد اس سے ختم ہو جاۓ گا اور جب لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا پھر لوگ اس کی اطاعت نہیں کریں گے اور جب لوگ اطاعت نہیں کریں گے تو پھر یہ امام کو منسوب کرنے کی جو غرض ہے اس کا نقض لازم آئے گا یعنی اللہ نے ایک شخص کو منسوب کیا اور جو ہدف تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔
اللہ کا ہدف کیا تھا کہ لوگ اس کی بلا چوچرا اطاعت کریں اب لوگ اس کے اندر معصیت دیکھتے ہیں وہ اس کی اطاعت ہی نہیں کرتے تو پھر یہ فلسفہ امامت خود بخود ختم ہو گیا۔ فلسفہ امامت تھا کہ لوگ اطاعت کریں تاکہ وہ کام کرے لوگوں نے جب اس کے اندر معصیت دیکھی تو وہ نہیں کر رہے اطاعت۔

پس اگر فلسفہ امامت کو پورا کرنا ہے اگر غرض امامت کو پورا کرنا ہے تو پھر اس کے لیے شرط رکھنی پڑے گی کہ یہ معصوم ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کا کبھی بھی اعتماد سلب نہ ہو۔

*پانچویں چیز*:
اگر امام فرض کریں اس سے کوئی گناہ ہوتا ہے تو پھر اس کا مقام تو عوام الناس سے بھی نیچے چلا گیا کیوں؟

کیونکہ عوام الناس جب گناہ کرتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس علم نہیں ہوتا بہت ساری چیزوں کا انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ یہ گناہ ہے یا اگر پتہ ہے گناہ تو اس کے آواقب کا، نتائج کا اتنا شاید پتہ نہ ہو اگر پتہ بھی ہو تو ان کے پاس وہ عقل کامل نہیں ہوتی وہ وسیع بصیرت نہیں ہوتی کہ بھئی اللہ کے حضور گناہ نہیں کرنا چاہیے تو امام جس کے پاس یہ سارے مراتب ہوں اور اس کے باوجود وہ گناہ کرے تو اس کا مطلب ہے کہ پھر وہ عوام الناس سے بھی گیا گزرا ہے.

اس لیے آپ دیکھیں کہ علماء کا جو گناہ ہے،اسکے جو اثرات ہیں یا اسکے جو عذاب ہیں وہ با نسبت عوام الناس کے گناہ سے زیادہ ہے۔

عالم بے عمل جو ہے کہتے ہیں روز قیامت وہ جہنم کے سب سے نیچے والے طبقات میں ہوگا یعنی جہاں ابلیس کو خدا رکھے گا وہاں علماء بے عمل کو رکھے گا کیونکہ ابلیس بھی عالم بے عمل تھا۔

وہ جو مشہور شعر ہے امیر المومنین علیہ السلام کا
*"دیوان علی"*  کتاب کے اندر کہ:
*ان کان العلم شرف بدون تقوی لکان الشیطان علی منزلة*

اگر علم کی تقوی وخوف خدا کے بغیر کوئی حیثیت و شرف  ہوتا تو پھر دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ شرف کس کو ملناچاہیے تھا شیطان کو۔ کیونکہ  کئی ہزار سال اسکی عمر ہے اور ہر دور میں جتنے نبی آئے ہیں اس کو سب کا پتہ ہے جتنے اوصیاء ہیں سب کا پتہ جتنی کتابیں صحیفے نازل ہوئے سب کا پتہ ہے وہ ساری چیزوں کو جانتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بے عمل ہے۔
تو اگر فقط علم رکھنا کسی شخص کے شرف کی علامت ہے تو پھر سب سے زیادہ شرف شیطان کون ہونا چاہیے تھا حالانکہ اللہ نے اسے مردود اور پس ترین قرار دیا ہے کیوں؟ کیونکہ عالم بے عمل جو ہے واقعا جتنا اس کا علم زیادہ ہے بے عملی سے اتنی پستی اس کی ہے۔

میں نے تو بعض روایات میں یہ دیکھا ہے اور اللہ نہ کرے کوئی اس مصیبت میں گرفتار ہو کہ معمولا عالم بے عمل جو ہے وہ مرنے سے پہلے کافر ہو کے مرتا ہے در حد کفر تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے ساری چیزوں کو اس کے باوجود جب وہ کر گیا یعنی وہ اس ذات کو کچھ بھی نہیں سمجھ رہا جتنی اس کی معلومات اور اس کی بصیرت اور اس کا احاطہ علمی ہے تو وہ تو سب سے زیادہ سمجھ رہا ہے نا عام لوگوں کی نسبت پروردگار کو اور اگر حیا نہیں کر رہا تو یعنی وہ عمدا اس کا انکار کر رہا ہے
اسی لیے ہمارے بعض معلم اخلاق کہتے تھے کہ طالب علم اور علماء جو ہیں  ان کی حساب رسی بہت سخت ہے اور خدانہ کرے یہ گناہوں میں یا ان چیزوں میں مبتلا ہوں یا وہ چیزیں جہاں وہ جانتے ہیں چونکہ وہ مسائل جو ہیں آگے ان کو سخت پیش آئیں گے یہ چیزیں ان کو لے جائیں گی کہاں در حد کفر اور شرک اور معمولا آپ یہ بھی غور فرمائیں پوری تاریخ کے اندر وہ لوگ جنہوں نے  امامت کے دعوے کیے اور معصوم نہیں تھے یہ سارے وہی تھے جو ہواۓ نفس میں گرفتار تھے۔

وہ علماء تھے اب میں نام نہیں لینا چاہتا چونکہ یہ چیزیں ضبط ہو رہی ہیں یہ جو مشہور علماء ہیں جو امام بنے ہوئے ہیں مختلف فرقوں کے جن کو بعنوان امام فلاں مکتب ہم کہتے ہیں یہ کون تھے؟ پڑھے لکھے لوگ تھے قرآن و حدیث کے عالم تھے حتی ان میں سے ت بعض ہمارے آئمہ کے محضر میں بھی گئے اور وہاں سے بھی انہوں نے علم حاصل کیا لیکن اس کے باوجود یہ حق کے مدمقابل اپنی جھوٹی دکان کھول کے بیٹھ گئے۔ عالم تھے لیکن حق کے مدمقابل قرار پا گئے اور فتنہ کھڑا کیا اور گمراہی کا نیا باب اور نیا فرقہ کھولا جو ابھی تک چل رہا ہے۔

کیوں ایسا ہوا کیونکہ خواہش نفسانی اور گناہ نے  خدا کے دین کے مدمقابل انکو کھڑا کر دیا۔
یہ جو قادیانی فرقے کا احمد رضا قادیانی نہ غلام احمد قادیانی *"مرزا غلام احمد قادیانی"*
یہ نام اس کا ہے وہ *"احمد رضا بریلوی"* ہے وہ مکتب بریلوی کا امام ہے اسکی بات نہیں کر رہا۔
میں قادیانی فرقہ،مرزا غلام احمد قادیانی کی بات کر رہا ہوں۔
مزرا غلام احمد قادیانی کون تھا؟بہت بڑا عالم تھا یہ مسیحوں کے ساتھ مناظرہ کیا کرتا تھا اسلام کی حقانیت کو  ثابت کرنے کےلیے۔جگہ جگہ اس نے مناظروں کا بازار گرم کیا ہوا تھا لوگ اسکے بڑے دیوانے تھے بہت مشہور شخصیت تھی ہند کی۔
اہل قلم و خطیب بھی تھا، بیان بھی بہت اچھا تھا لیکن اس زمانے میں ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت تھی تو انہوں نے جنگ آزادی جو مسلمان اور ہندو لڑ رہے تھے انگریز کے مد مقابل جنگ آزادی لڑ رہے تھے اسکو روکنے کے لیے اس پر کام کیا بلآخر یہ مولوی تو تھا لیکن اسکے اندر کچھ خامیاں تھی شہرت، قدرت اور مال پسندتھا انہوں نے اسکو اپنا ہمنوا بنا لیا اور اسکی مالی اور ہر حوبلے سے بھرپور تائید کی اس نے فتوی صادر کر دیا کہ برطانیہ کے خلاف جنگ و جہاد نہیں کرنا چاہیۓ۔

اب ہم مسلمانوں پر اس قسم کا جہاد واجب نہیں ہے بلکہ ہم مسلمانوں پر تبیلغ و قلم اور زبان والا جہاد واجب ہے نہ کہ ایسا جہاد۔

یہ جہاد تو پیغمبر کے زمانے کا تھا اس زمانے میں دین اسلام کو امت اسلامی کو وسعت دینی تھی۔ جگہ و زمینیں لینی تھی تو لڑائیاں تھیں تو اب ہمارے پاس زمینیں و جگہیں ہیں اور جگہ جگہ پر مسلمان ملک ہیں۔

اب ان کافروں کے مدمقابل وہ والی لڑائی نہیں لڑنی اب ہم نے قلم سے اور زبان سے اصلاحی کام کرنے ہیں۔

انگریزوں نے اس مشہور آدمی کےذریعے فتوی دلاوا کر اسکو پیچھے کر دیا ایسے تو فتوی نہیں نکلتا منہ سے پھر گورنمنٹ برطانیہ نے تعریف کی کہ یہ ہی ہمارے سب کچھ ہیں اور اولی الامر کا عنوان انکو دے دیا گیا  ان کے خلاف نہیں لڑنا پھر باقاعدہ کوئی کتاب بھی لکھی جو اس کو، اس زمانے کے جو ملکہ تھی اس کو یا  جو وہ بادشاہ تھا انگریزاسکو ہدیہ کی اور باقاعدہ القابات لکھے۔

اب یہ کون کر رہا ہے؟ مولوی،ہواۓ نفس،لالچ، شہرت اور پیچھے حکومت کی طاقت۔ٹھیک ہے جیسے کسی مولوی صاحب کو کسی جگہ پر پولیس،فوج یا گورنمنٹ کی کوئی حمایت حاصل ہو جاۓ کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں آپکی حفاظت ہوگی اور آپکو پروٹوکول دیں گے تو وہ خود بخود انہی کی زبان بولے گا جو حکومت چاہتی ہے بولے گا یا نہیں بولے گا۔اس کو بلائیں مختلف فورم پر،اسکو ٹی وی پر بھی دکھائیں گے،مختلف دعوتوں پر بلا کر پروٹوکول دیں  تو وہ جہاں تقریر کےلیے جائے پولیس پہرا دیں اور پھر پولیس کی گاڑی ساتھ ساتھ چلے،جھنڈا لگاۓ اوپر تو وہ کیا ہو جاۓ گا وہ تو پھولا نہیں سمائے گا وہ کہے گا پتہ نہیں میں کیا ہوں ۔حکومت تو اس سے استفادہ کر رہی ہیں۔

اب اس نے دیکھا جب کہ میں پتہ نہیں کیا بن گیا ہوں میرے پیچھے پوری انگریز سرکار میری حمایت کررہی ہیں پھر اس نے کہا مجھ پر وحی بھی آتی ہے،الہام بھی ہوتا ہے اور ایک کتاب بھی لکھ ماری کہ یہ دیکھو اللہ کی نئی وحی۔
وحی کا دروازہ بند نہیں ہوا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے وحی آتی ہو اور اب اتنے انسان ہیں دنیا میں اور آبادی۔اب اللہ وحی نہ بھیجے وحی بھیج رہا ہے بھائی میں ہوں۔

اس نے کہا وحی تو نبیوں پر آتی ہے تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں نبی امتی ہوں یعنی پیغمبر وہی ہے میں ان کی امت میں ایک نبی ہوں جیسے پرانے زمانے میں ہر بڑے نبی کی بعد ایک امت کے نبیوں کا سلسلہ ہوتا تھا میں بھی نبی امتی ہوں پھر اس نے کبھی کہا کہ نہیں میں تو مہدی ہوں پھر کبھی کہا میں تو عیسی مسیح ہوں۔

اب یہاں سے اس کے نئے نئے دعوے اور فتنے اور گمراہی اور آخر میں اس نے ایک گمراہ مکتب، *"مکتب قادیانیت"* اسلام میں کھڑا کر دیا اور ایک نبوت کا سلسلہ شروع کر دیا جھوٹا اور ایک نئی کتاب کے جو اس پہ وحی ہوئی ہے وہ لے آیا اور اسلام کی شریعت کے مد مقابل ایک نئے شریعت بنا دی نئے عقائد بنا دیے اور خود فی النار ہوا اور اس کے بعد پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کو جنہم پہنچنے کا باعث بن رہا ہے تو ہواۓ نفس کسی بھی عالم کو اس حد تک لے جا سکتی ہے۔

لہذا جسطرح علم بڑھ رہا ہے اسی طرح اپنی تربیت اور اصلاح پر بھی اتنا ہی زیادہ کام ہونا چاہیے۔

یہ ہم سب کا فریضہ ہے کہ اللہ ہمیں توفیق دے کہ لوگوں کی اصلاح سے پہلے پہلے اپنی اصلاح و تربیت پر کام کریں اور اپنے آپکو پاک و پاکیزہ قرار دیں واقعا خدمت گزار بنیں اپنے پروردگار کے،ولی اور اپنے مکتب  و دین کے اور حقائق کی حفاظت اور پرچار کریں اور اس پر خود بھی عمل کریں۔🤲
آمین

شہر بانو✍️

*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*


*🪷درس امامت5*
فلسفہ وجوب۔عصمت اہل سنت کے نظریہ کی رد

*🎤استاد محترم حجت الاسلام و المسلمین علامہ علی اصغر سیفی صاحب*

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
 
 🌾امام کے لیے عصمت پر کیا دلیل ہے ؟ 
 *تیسری دلیل*
 یہ ہے کہ شریعت کے اندر امر بالمعروف اور نہی از منکر ایسی دلیل ہے کہ جو عمومیت رکھتی ہے۔
یعنی ہر ایک کو امر بالمعروف اور نہی از منکر کر سکتے ہیں حتی اگر خدا نہ کرے پیغمبر یا امام سے بھی کوئی خطا یا معصیت اگر لوگ دیکھیں تو اس وقت بھی لوگوں پر واجب ہے کہ وہ پیغمبر یا امام کو بھی نصیحت کریں اور اسکی مخالفت کریں کہ آپ یہ کام نہ کریں آپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ یہ کام معصیت ہے۔
لیکن قرآن مجید ایک طرف یہ کہہ رہا ہےکہ:
*اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی امر منکم*
*ترجمہ*:
"اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے اولی امر ہیں"
یہ جو امر بالمعروف اور نہی عن منکر ہے جو بظاہر عام ہے وہ اس آیت کے ساتھ سازگار نہیں ہے چونکہ آیت مطلقا رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دے رہی ہے۔ 
آیت کا یہ اطلاق بتا رہا ہے رسول اور اولی الامر وہ ہستیاں ہیں کہ جو گناہ نہیں کرتی کیونکہ اگر یہ گناہ کرتی ہوتی تو پھر اللہ یہ نہ کہتا کہ مطلقا اطاعت کرو بلکہ خدا کہتا ہے کہ جو کام معصیت والے نہیں ہیں ان میں اطاعت کرو اس میں ایک قید لگاتا ہے ایک قید کا نہ لگانا مطلقا کہنا کہ ان کی آپ اطاعت کریں اس سے پتہ چل رہا ہے کہ خدا تعالی جو ہے وہ چونکہ ان ہستیوں کو بعنوان معصوم بھیجتا ہے اس لیے اللہ نے مطلقا اطاعت کا حکم دیا۔
 اب ہو سکتا ہے آپ کے ذہنوں میں یہ سوال ہو کہ یہ تو ہم شیعہ یوں کہہ رہے ہیں اہل سنت کا کیا نظریہ ہے اہل سنت کا نظریہ بھی یہی ہے کہ رسول اور اولی الامر کی اطاعت مطلق ہے چاہے اولی الامر اپ کو غلط ہی دستور کیوں نہ دے دیں۔ 
لہذا آپ دیکھیں پوری ہماری تاریخ میں علماء اہل سنت نے ان سلطان و بادشاہوں اور نام نہاد خلیفوں کے جن کو یہ اولی الامر کہتے ہیں ان کی ہمیشہ اطاعت کی ہے حتی کہ غلط کاموں میں بھی انہوں نے کہا کہ یہ اولی الامر ہیں لہذا ہم نے ہر صورت میں اطاعت کرنی ہے یعنی اطاعت مطلق کے قائل ہیں۔
 تو ہم شیعہ یہ کہتے ہیں کہ اطاعت مطلق اس کی ہوتی ہے جو معصوم ہو جہاں پتہ چل رہا ہے کہ یہ معصیت کر رہا ہے خدا کی نافرمانی کر رہا ہے وہاں تو پھر اطاعت مطلق نہیں ہونی چاہیے اللہ نے جو اطاعت مطلق کا حکم دیا ہے وہ اس صورت میں ہے کہ میری معصیت نہ ہو ورنہ خدا کس طرح پسند کرتا ہے کہ میری نافرمانی میں آپ اطاعت کریں۔ 
 ادھر سے اللہ کہہ رہا ہےامر بالمعروف کرو، ادھر سے کہہ رہا ہے کہ نافرمان شخص کی اطاعت کرو تو یہ قرآن میں تناقض ہے تو پس اگر اس تناقض سے بچنا ہے تو پھر یہاں ایک ہی صورت ہے کہ اولی الامر وہ ہستیاں ہیں کہ جو معصوم ہیں یہ تیسری دلیل۔
 *چوتھی دلیل:*
    یہ ہے کہ اللہ تعالی کیوں امام کو منسوب کرتا ہے؟ اس لیے کہ لوگ امام کے مد مقابل تسلیم ہوں اور اس کی ہر بات کو بغیر چوں چرا کے مانیں چونکہ اگر لوگ ہر بات میں جرح کرنے لگ جائیں گے پھر تو کوئی کام نہیں چلے گا جب ہم نے ایک شخص کو امام مان لیا تو بس ٹھیک ہے جس طرح وہ کہہ رہے ہیں ہم نے اسی طرح ہی کرنا ہے۔
خود اگر امام جو ہے خدا نہ کرے اس سے کوئی معصیت یا نسیان ہو تو پھر لوگوں کا اعتماد اس سے ختم ہو جاۓ گا اور جب لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا پھر لوگ اس کی اطاعت نہیں کریں گے اور جب لوگ اطاعت نہیں کریں گے تو پھر یہ امام کو منسوب کرنے کی جو غرض ہے اس کا نقض لازم آئے گا یعنی اللہ نے ایک شخص کو منسوب کیا اور جو ہدف تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔
 اللہ کا ہدف کیا تھا ؟
کہ لوگ اس کی بلا چوں چرا اطاعت کریں اب لوگ اس کے اندر معصیت دیکھتے ہیں وہ اس کی اطاعت ہی نہیں کرتے تو پھر یہ فلسفہ امامت خود بخود ختم ہو گیا۔ فلسفہ امامت تھا کہ لوگ اطاعت کریں تاکہ وہ کام کرے لوگوں نے جب اس کے اندر معصیت دیکھی تو وہ نہیں کر رہے اطاعت۔ 
 پس اگر فلسفہ امامت کو پورا کرنا ہے  تو پھر اس کے لیے شرط رکھنی پڑے گی کہ یہ معصوم ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کا کبھی بھی اعتماد سلب نہ ہو۔
*پانچویں چیز*:
اگر  فرض کریں امام سے کوئی گناہ ہوتا ہے تو پھر اس کا مقام تو عوام الناس سے بھی نیچے چلا گیا کیوں؟
کیونکہ عوام الناس جب گناہ کرتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس علم نہیں ہوتا بہت ساری چیزوں کا انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ یہ گناہ ہے یا اگر پتہ ہے گناہ تو اس کے عذاب کا، نتائج کا اتنا شاید پتہ نہ ہو اگر پتہ بھی ہو تو ان کے پاس وہ عقل کامل نہیں ہوتی  کہ بھئی اللہ کے حضور گناہ نہیں کرنا چاہیے تو امام جس کے پاس یہ سارے مراتب ہوں اور اس کے باوجود وہ گناہ کرے تو اس کا مطلب ہے کہ پھر وہ عوام الناس سے بھی گیا گزرا ہے.
اس لیے آپ دیکھیں کہ علماء کا جو گناہ ہے،اسکے جو اثرات ہیں یا اسکے جو عذاب ہیں وہ با نسبت عوام الناس کے گناہ سے زیادہ ہے۔
 عالم بے عمل جو ہے کہتے ہیں روز قیامت وہ جہنم کے سب سے نیچے والے طبقات میں ہوگا یعنی جہاں ابلیس کو خدا رکھے گا وہاں علماء بے عمل کو رکھے گا کیونکہ ابلیس بھی عالم بے عمل تھا۔
وہ جو مشہور شعر ہے امیر المومنین علیہ السلام کا
*"دیوان علی"*  کتاب کے اندر کہ:
*ان کان العلم شرف بدون تقوی لکان الشیطان علی منزلة*
اگر علم کی تقوی وخوف خدا کے بغیر کوئی حیثیت و شرف  ہوتا تو پھر دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ شرف کس کو ملناچاہیے تھا شیطان کو۔ کیونکہ  کئی ہزار سال اسکی عمر ہے اور ہر دور میں جتنے نبی آئے ہیں اس کو سب کا پتہ ہے جتنے اوصیاء ہیں سب کا پتہ جتنی کتابیں صحیفے نازل ہوئے سب کا پتہ ہے وہ ساری چیزوں کو جانتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بے عمل ہے۔
تو اگر فقط علم رکھنا کسی شخص کے شرف کی علامت ہے تو پھر سب سے زیادہ شرف شیطان کو حاصل ہونا چاہیے تھا حالانکہ اللہ نے اسے مردود اور پس ترین قرار دیا ہے کیوں؟ کیونکہ عالم بے عمل ہے واقعا جتنا اس کا علم زیادہ ہے بے عملی سے اتنی پستی اس کی ہے۔
 میں نے تو بعض روایات میں یہ دیکھا ہے اور اللہ نہ کرے کوئی اس مصیبت میں گرفتار ہو کہ معمولا عالم بے عمل جو ہے وہ مرنے سے پہلے کافر ہو کے مرتا ہے در حد کفر تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے ساری چیزوں کو اس کے باوجود وہ اس ذات کو کچھ بھی نہیں سمجھ رہا جتنی اس کی معلومات اور اس کی بصیرت اور اس کا احاطہ علمی ہے تو وہ تو سب سے زیادہ سمجھ رہا ہے نا عام لوگوں کی نسبت پروردگار کو اور اگر حیا نہیں کر رہا تو یعنی وہ عمدا اس کا انکار کر رہا ہے 
اسی لیے ہمارے بعض معلم اخلاق کہتے تھے کہ طالب علم اور علماء جو ہیں  ان کی حساب رسی بہت سخت ہے اور خدانہ کرے یہ گناہوں میں یا ان چیزوں میں مبتلا ہوں یا وہ چیزیں جہاں وہ جانتے ہیں چونکہ وہ مسائل جو ہیں آگے ان کو سخت پیش آئیں گے یہ چیزیں ان کو لے جائیں گی کہاں در حد کفر اور شرک اور معمولا آپ یہ بھی غور فرمائیں پوری تاریخ کے اندر وہ لوگ جنہوں نے  امامت کے دعوے کیے اور معصوم نہیں تھے یہ سارے وہی تھے جو ہواۓ نفس میں گرفتار تھے۔
 وہ علماء تھے اب میں نام نہیں لینا چاہتا چونکہ یہ چیزیں ضبط ہو رہی ہیں یہ جو مشہور علماء ہیں جو امام بنے ہوئے ہیں مختلف فرقوں کے جن کو بعنوان امام فلاں مکتب ہم کہتے ہیں یہ کون تھے؟ پڑھے لکھے لوگ تھے قرآن و حدیث کے عالم تھے حتی ان میں سے بعض ہمارے آئمہ کے محضر میں بھی گئے اور وہاں سے بھی انہوں نے علم حاصل کیا لیکن اس کے باوجود یہ حق کے مدمقابل اپنی جھوٹی دکان کھول کے بیٹھ گئے۔ عالم تھے لیکن حق کے مدمقابل قرار پا گئے اور فتنہ کھڑا کیا اور گمراہی کا نیا باب اور نیا فرقہ کھولا جو ابھی تک چل رہا ہے۔
کیوں ایسا ہوا کیونکہ خواہش نفسانی اور گناہ نے  خدا کے دین کے مدمقابل انکو کھڑا کر دیا۔
 یہ جو قادیانی فرقے کا احمد رضا قادیانی نہ غلام احمد قادیانی *"مرزا غلام احمد قادیانی"*
 یہ نام اس کا ہے وہ *"احمد رضا بریلوی"* ہے وہ مکتب بریلوی کا امام ہے اسکی بات نہیں کر رہا۔
میں قادیانی فرقہ،مرزا غلام احمد قادیانی کی بات کر رہا ہوں۔
مزرا غلام احمد قادیانی کون تھا؟بہت بڑا عالم تھا یہ مسیحوں کے ساتھ مناظرہ کیا کرتا تھا اسلام کی حقانیت کو  ثابت کرنے کےلیے۔جگہ جگہ اس نے مناظروں کا بازار گرم کیا ہوا تھا لوگ اسکے بڑے دیوانے تھے بہت مشہور شخصیت تھی ہند کی۔
اہل قلم و خطیب بھی تھا، بیان بھی بہت اچھا تھا لیکن اس زمانے میں ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت تھی تو انہوں نے جنگ آزادی جو مسلمان اور ہندو لڑ رہے تھے انگریز کے مد مقابل جنگ آزادی لڑ رہے تھے اسکو روکنے کے لیے اس پر کام کیا بلآخر یہ مولوی تو تھا لیکن اسکے اندر کچھ خامیاں تھی شہرت، قدرت اور مال پسندتھا انہوں نے اسکو اپنا ہمنوا بنا لیا اور اسکی مالی اور ہر حوبلے سے بھرپور تائید کی اس نے فتوی صادر کر دیا کہ برطانیہ کے خلاف جنگ و جہاد نہیں کرنا چاہیۓ۔
اب ہم مسلمانوں پر اس قسم کا جہاد واجب نہیں ہے بلکہ ہم مسلمانوں پر تبیلغ و قلم اور زبان والا جہاد واجب ہے نہ کہ ایسا جہاد۔
یہ جہاد تو پیغمبر کے زمانے کا تھا اس زمانے میں دین اسلام کو امت اسلامی کو وسعت دینی تھی۔ جگہ و زمینیں لینی تھی تو لڑائیاں تھیں تو اب ہمارے پاس زمینیں و جگہیں ہیں اور جگہ جگہ پر مسلمان ملک ہیں۔
اب ان کافروں کے مدمقابل وہ والی لڑائی نہیں لڑنی اب ہم نے قلم سے اور زبان سے اصلاحی کام کرنے ہیں۔
انگریزوں نے اس مشہور آدمی کےذریعے فتوی دلاوا کر اسکو پیچھے کر دیا ایسے تو فتوی نہیں نکلتا منہ سے پھر گورنمنٹ برطانیہ نے تعریف کی کہ یہ ہی ہمارے سب کچھ ہیں اور اولی الامر کا عنوان انکو دے دیا گیا  ان کے خلاف نہیں لڑنا پھر باقاعدہ کوئی کتاب بھی لکھی جو اس کو، اس زمانے کے جو ملکہ تھی اس کو یا  جو وہ بادشاہ تھا انگریزاسکو ہدیہ کی اور باقاعدہ القابات لکھے۔
اب یہ کون کر رہا ہے؟ مولوی،ہواۓ نفس،لالچ، شہرت اور پیچھے حکومت کی طاقت۔ٹھیک ہے جیسے کسی مولوی صاحب کو کسی جگہ پر پولیس،فوج یا گورنمنٹ کی کوئی حمایت حاصل ہو جاۓ کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں آپکی حفاظت ہوگی اور آپکو پروٹوکول دیں گے تو وہ خود بخود انہی کی زبان بولے گا جو حکومت چاہتی ہے بولے گا یا نہیں بولے گا۔اس کو بلائیں مختلف فورم پر،اسکو ٹی وی پر بھی دکھائیں گے،مختلف دعوتوں پر بلا کر پروٹوکول دیں  تو وہ جہاں تقریر کےلیے جائے پولیس پہرا دیں اور پھر پولیس کی گاڑی ساتھ ساتھ چلے،جھنڈا لگاۓ اوپر تو وہ کیا ہو جاۓ گا وہ تو پھولا نہیں سمائے گا وہ کہے گا پتہ نہیں میں کیا ہوں ۔حکومت تو اس سے استفادہ کر رہی ہیں۔
اب اس نے دیکھا جب کہ میں پتہ نہیں کیا بن گیا ہوں میرے پیچھے پوری انگریز سرکار میری حمایت کررہی ہیں پھر اس نے کہا مجھ پر وحی بھی آتی ہے،الہام بھی ہوتا ہے اور ایک کتاب بھی لکھ ماری کہ یہ دیکھو اللہ کی نئی وحی۔
وحی کا دروازہ بند نہیں ہوا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے وحی آتی ہو اور اب اتنے انسان ہیں دنیا میں اور آبادی۔اب اللہ وحی نہ بھیجے وحی بھیج رہا ہے بھائی میں ہوں۔
 اس نے کہا وحی تو نبیوں پر آتی ہے تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں نبی امتی ہوں یعنی پیغمبر وہی ہے میں ان کی امت میں ایک نبی ہوں جیسے پرانے زمانے میں ہر بڑے نبی کی بعد ایک امت کے نبیوں کا سلسلہ ہوتا تھا میں بھی نبی امتی ہوں پھر اس نے کبھی کہا کہ نہیں میں تو مہدی ہوں پھر کبھی کہا میں تو عیسی مسیح ہوں۔
 اب یہاں سے اس کے نئے نئے دعوے اور فتنے اور گمراہی اور آخر میں اس نے ایک گمراہ مکتب، *"مکتب قادیانیت"* اسلام میں کھڑا کر دیا اور ایک نبوت کا سلسلہ شروع کر دیا جھوٹا اور ایک نئی کتاب کے جو اس پہ وحی ہوئی ہے وہ لے آیا اور اسلام کی شریعت کے مد مقابل ایک نئے شریعت بنا دی نئے عقائد بنا دیے اور خود فی النار ہوا اور اس کے بعد پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کو جنہم پہنچنے کا باعث بن رہا ہے تو ہواۓ نفس کسی بھی عالم کو اس حد تک لے جا سکتی ہے۔
لہذا جسطرح علم بڑھ رہا ہے اسی طرح اپنی تربیت اور اصلاح پر بھی اتنا ہی زیادہ کام ہونا چاہیے۔
 یہ ہم سب کا فریضہ ہے کہ اللہ ہمیں توفیق دے کہ لوگوں کی اصلاح سے پہلے پہلے اپنی اصلاح و تربیت پر کام کریں اور اپنے آپکو پاک و پاکیزہ قرار دیں واقعا خدمت گزار بنیں اپنے پروردگار کے،ولی اور اپنے مکتب  و دین کے اور حقائق کی حفاظت اور پرچار کریں اور اس پر خود بھی عمل کریں۔🤲
آمین


شہر بانو✍️ 


*درس (عقائد) امامت*.
*درس # 6*۔ 

*موضوع ۔۔ عصمت پر مزید اقوال اور سوالات*

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

منگل   16  جمادی الاول   1446( 19  نومبر   ، 2024)**

*خلاصہ* 
💫 *پیغمبروں اور اماموں کے لیے عصمت واجب ہے* کیونکہ وہ لوگوں کی ہدایت اور تربیت کے لیے اتے ہیں۔
کیونکہ اگر ان میں عصمت نہ ہوگی تو خطا ہوگی اور خطا ہوگی تو تسلسل کا لازمہ ائے گا۔۔ دوسرے لوگوں کا ان پر اعتماد قائم نہیں ہوگا کہ اگر ایک گناہ کر سکتا ہے تو جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔۔امام یعنی ہادی کے لیے عصمت لازم ہے۔

💫 *عصمت کیا ہے*
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عصمت کیا ہے ؟ کیسے اندازہ ہو کہ کوئی معصوم ہے؟۔  اس کے لیے مختلف نظریات ہیں۔

⬅️ *گروہ # 1 کی راۓ*
 ایک گروہ کہتا ہے کہ خدا نے ان کی روح میں عصمت رکھ دی ہے. یعنی ان کے اندر کوئی ایسا کام کیا ہے کہ جس سے وہ فرشتوں کی طرح معصوم ہیں یعنی جیسے فرشتوں میں خواہش نفسانی نہیں ہے اور وہ خطا نہیں کر سکتے اسی طرح امام بھی معصوم ہیں اور وہ خطا نہیں کر سکتے۔۔۔ 
⬅️ جب کہ فرشتوں کی طرح  جبری عصمت کا ذکر غلط اور خلاف قران ہے۔۔فرشتے عاقل ہیں اور خداوند عالم سے بات کر سکتے ہیں (جیسے حضرت ادم کے سجدے پر سوال کیا تھا لیکن پھر عطا دے الہی کی اور سجدہ کیا)لیکن پابند اطاعت ہیں عملا مطیع ہیں۔۔

⬅️ *فرشتوں میں ہوائے نفس نہیں ہے یعنی اپنی خواہش نہیں ہے*۔۔ انسان میں ہوائے نفس ہے۔۔ نفس ہونے کے باوجود وہ مطیع پروردگار رہے اور نیک اعمال کرے تب وہ فرشتہ کہلاتا ہے۔ 
 ⬅️شیطان ایک جن لیکن بہت عبادت گزار تھا عبادتوں کی وجہ سے اللہ نے اس کو عرشی مخلوق میں سے قرار دیا ۔۔ عبادتوں کی وجہ سے اس کے درجے بڑھتے گئے۔۔ اور وہ فرشتوں میں رہنے لگا اس مقام کے لیے اسے پانچ سے 10 ہزار سال لگے لیکن جب اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو پھر وہ راندہ درگاہ ہو گیا ۔۔ کہ اس نے اپنی عبادتوں کے غرور میں اطاعت الہی سے انکار کیا تھا۔۔

⬅️یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نفس سے کیا مراد ہے ⬅️*نفس سے مراد دماغ ہے* دماغ جو کہ خواہشات کا گھر ہوتا ہے۔۔ دماغ خواہشات کو کنٹرول کرتا ہے جن و انس دونوں میں دماغ یعنی مغز موجود ہے جو کہ خواہشات رکھتے ہیں۔۔ جب انسان اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اطاعت الہی کو فراموش کر دے اور کسی غلط راستے پر چل پڑے تو پھر وہ اللہ تعالی سے مخاصمت کرنے لگتا ہے۔۔

💫 *بس واضح ہوا کہ عقیدے کے ساتھ ساتھ عمل توحید کی اساس ہے* 

⬅️ *توحید پر مضبوطی گناہ سے دور رکھتی ہے* لوگ گناہ ختم کرنے کے لیے وظیفہ پوچھتے ہیں کہ عبادتوں کے باوجود سکون کیوں نہیں ملتا.  علماء سے  بھی سوال کرتے ہیں ۔۔ 
اس کا جواب ہے کہ جب معرفت توحید اور معرفت الٰہی  ہے  تو اللہ کے سامنے گناہ کرتے ہوئے اپ کو حیا ائے گی  ۔
⬅️ اپنے نفس کو دبائیں۔ ⬅️اللہ کو اپنے سامنے محسوس کریں۔
⬅️ اس کو حاضر و ناظر جانیں تو گناہ نہیں ہوں گے۔ 

⬅️ *بنی اسرائیل کے ایک شخص اور عورت کا واقعہ*
خدا کو حاضر و ناظر جاننے کے بارے میں ایک واقعہ بیان کیا گیا کہ ایک شخص کشتی سے اترا اور اس نے سامنے ایک عورت کو دیکھا اس کے دل میں خواہش نفس نے سر اٹھایا اس عورت کی طرف بڑھا تو وہ عورت خوف خدا سے کانپنے لگی۔ اس شخص نے اس عورت سے کانپنے کی وجہ پوچھی تو اس عورت نے بتایا کہ خدا دیکھ رہا ہے اور میں اللہ کی معصیت کے خوف سے کانپ رہی ہوں۔۔اس شخص کے دل پہ چوٹ پڑی اور وہ نادم ہو کر چل پڑا۔  راستے میں اسے ایک راہب ملا۔۔  وہ شخص بھی اس کے ساتھ چل پڑا ان کے سر پر ایک بادل بھی چل رہا تھا راستے الگ ہوئے تو راہب نے دیکھا کہ بادل اس شخص کے سر پر ہے۔ 
 اس نے پوچھا کہ تم نے کیا عمل کیا ہے تو جواب میں اس شخص نے کہا کہ کچھ نہیں میں تو ایک گنہگار شخص ہوں پھر اپنا واقعہ بتایا تو راہب نے کہا کہ اسی لیے اللہ کی تم پر خاص رحمت ہوئی ہے کہ تم نے اللہ سے حیا کی اور گناہ کو ترک کر دیا ورنہ لوگ تو اللہ کی طرف توجہ کے  موقع گنوا دیتے ہیں۔۔  اللہ کی طرف توجہ .. یعنی توحیدی توجہ نے اس کا عمل ٹھیک کر دیا ۔

⬅️ *ابلیس نے توحید کو نہ سمجھا* تکبر کر بیٹھا کہ میں اتنا عبادت گزار ہوں اس   مٹی کے پتلے کو کیوں سجدہ کروں ؟؟ تو اللہ نے بھی اس کی حقیقت کھول دی اور بڑا دقیق امتحان لیا کہ تیرا تکبر عبادت کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔

⬅️*دوسرے گروہ کی رائے*  
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انبیاء و ائمہ کی عصمت ان کے اپنے اختیار اور ارادے اور طاقت  سے ہے۔۔ 
یہاں طاقت سے مراد دو رائے ہو گئی ہیں۔۔
1◀️ ایک رائے یہ ہے کہ *طاقت اللہ تعالی کا کوئی خاص لطف ہے جو اللہ تعالی ان پر فرماتا ہے یعنی اللہ تعالی ایک کام کرنے کا اور برے کام سے رکنے کا کوئی خاص جوہر ان کو عطا کرتا ہے*.
2◀️بعض علماء کہتے ہیں کہ *عصمت ایک خاص ملکہ ہے یہ ایک صفت راسخ ہے جو اپنے اندر خود پیدا کی جاتی ہے*  امام اپنے علم کی روشنی میں گناہ سے دور رہتے ہیں ۔ 
معصیت سے بچے رہنا اور نیک اعمال انجام دینا، 
حلال و حرام کا خیال کرنا۔۔ الہی کاموں میں مشغول رہنا۔۔ پھر ہر عمل کو اس کے اس کے نتائج تک جاننا انسان کو گناہ سے روکے رکھتا ہے۔ 

💫 *قم کے عالم دین سے ایک طالب علم کا سوال* 
ایک بار حوضہ علمیہ قم کے ایک بزرگ عالم دین سے کسی طالب علم میں سوال کیا کہ اپ علماء گناہ نہیں کرتے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ کرتے ہوں لیکن کرنا نہیں چاہیۓ۔۔
 تو اس طالب علم نے سوال کیا کہ جو گناہ نہیں کرتے تو کیسے نہیں کرتے؟
  تو جواب دیا کہ میں تو گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔  پھر پوچھا کہ گناہ کا تصور کیسے نہیں کر سکتے یہ تو بہت بڑا کام ہے۔  تو عالم دین نے جواب دیا کہ کیا تم فضلہ کھانے کا تصور کر سکتے ہو ؟  طالب علم بولا کہ یہ کیا کہہ دیا میرا تو دل خراب ہو گیا استغفر اللہ۔۔ تو عالم نے کہا کہ جیسے تم وہ تصور بھی نہیں کر سکتے ایسے ہی ہم گناہ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے انسان گندی چیزوں کے کھانے کا بھی نہیں کر سکتا ایسے ہی اگر وہ اس تصور کو وسعت دے تو وہ گناہ کے تصور سے بھی دور رہے گا۔
 *عصمت ملکہ ہے جیسے عدالت۔۔ سخاوت وغیرہ* انسان اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔
*یہاں اپنی روح کی تربیت کی بات ہو رہی ہے۔ جسمانی طور پر ہو سکتا ہے کوئی شخص طاقت میں زیادہ ہو یا کم ہو۔۔۔لیکن روح کی طاقت اور روح میں اوصاف حمیدہ پیدا کرنا انسان کا ملکہ ہے*
 
*حاضرین میں سے کسی کا ایک سوال*
⬅️❔⬅️ انسان کی 14 سال کی عمر میں جو ذہنی کیفیت ہوتی ہے وہ 54 سال کی عمر میں نہیں ہوتی۔۔ تو کیا ائمہ طاہرین 14 سال کی عمر اور 54 سال کی عمر میں ایک ہی ذہنی کیفیت میں ہوتے ہیں ؟  اگر ہاں تو پھر کسب والا معاملہ کیا ہے اور اگر 14 اور 54 سال کی عمر میں اہستہ اہستہ کسب کیا تو پھر اس کا مطلب ہے کہ عہدہ امامت بھی اہستہ اہستہ ہی ملا ؟؟ 
*جواب* 
اج کل بہت سی مثالیں دیکھنے میں اتی ہیں کہ والدین بچوں کی ایسی تربیت کرتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں ہی بچے کو اتنا علم حاصل ہو جاتا ہے کہ یونیورسٹی کی اعزازی ڈگری دینی پڑتی ہے کیونکہ پانچ چھ سال کی عمر میں بعض بچے اتنے کمالات دکھا دیتے ہیں مثلا ایک بچہ  
*طباطبائی* جو کہ حافظ قران اور نہج البلاغہ میں عبور رکھتا ہے اور قران احادیث اور ایات سے جواب دیتا ہے۔
 اسی طرح ایک اور بچہ کہ جس نے پانچ سال کی عمر میں 1000 کتابیں پڑھ کر حفظ کر لی ہیں۔۔  تو ایسے بچوں کو  PhD کی اعزازی ڈگری دی جاتی ہے. جب عام 
بچے اتنا کام کر سکتے ہیں تو وہ تو اہل بیت کے بچے ہیں ۔۔ چھوٹی عمر سے ہی اتنی ذہنی پختگی اور علم انہیں حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ بالغ لوگوں کی طرح اپنے اپ کو اچھے اعمال میں مقید کر لیتے ہیں اور ہر ناپسندیدہ چیز سے دور ہو جاتے ہیں۔

*سوال*❔۔۔
 پھر کسی نے سوال کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو یتیم تھے تو ان کی تربیت کس نے کی؟؟

*جواب*
پیغمبر کی مربی آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب اور آپ کے چچا حضرت ابو طالب علیہ السلام تھے۔ اپ توحید ابراہیمی پر تھے اور ان کے زیر سایہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہت کچھ سیکھا اور پھر غار حرا میں جا کر اپنی قوت فکر کو بڑھایا اتنا کہ ان کو بعثت سے پہلے ہی *صادق اور امین* کا لقب مل چکا تھا۔
حضرت ابو طالب اور عبدالمطلب علیہ السلام کے متعلق بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اوصیاء میں سے تھے۔ بے شک ان کو حکم تبلیغ نہ تھا لیکن بعض نبی اپنے گھر کی حد تک بھی نبی ہوتے ہیں۔ 

💫 *وہ حضرت اسماعیل کے وصی تھے اور کسی بت کو سجدہ نہ کیا تھا*۔ 

❔⬅️سوال *کیا پیغمبر یا امام پیدائشی ہوتے ہیں*؟
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بالقوی نبی یا امام تھے لیکن  کسب اور تربیت سے وہ اس عہدے پر اے ۔
 
💫ان میں  استعداد اور صلاحیت تھی۔
یعنی اللہ تعالی کے علم ازلی کی بنا پر۔۔  اللہ تعالی کے پاس ابدی اور ازلی علم ہے اور وہ زمانے کی قید سے باہر ہے ہمارے لیے اج یا کل یا پرسوں ہے ۔۔ اس کے لیے زمانے کی قید نہیں ۔
اللہ تعالی ابھی بھی دیکھ رہا ہے کہ میں جنت میں ہوں یا جہنم میں (حالانکہ ابھی میں زندہ ہوں) 

◀️اسے علم ہے کہ کسے پیشوا یا نبی بنانا ہے اور کون نبوت کے بلند ترین رتبے پر ہے۔ 

⬅️ وہ جانتا ہے کہ کس کے کیا اعمال ہوں گے بس ان کے اعمال ہی انہیں کسی مقام پر لاتے ہیں۔

💫 *گروہ # 3 کی راۓ* 
تیسرا گروہ کہتا ہے کہ پہلے تو انبیاء اور اماموں پر خدا کا لطف خاص ہوتا ہے اور بعد میں اللہ ان پر مہر لگا دیتا ہے کہ وہ گناہ نہیں کر سکتے۔ تینوں گروہ کہتے ہیں کہ عصمت کسبی ہے  اور اسے ملکہ ( صفت راسخ) کہتے ہیں۔
علماء اور ہم بھی اور مصنف بھی گروہ # 2 کی رائے کو مقدم سمجھتے ہیں۔  کہ وہ جو علم رکھتے ہیں وہ ہر علم پر عمل کرتے ہیں۔ اوصیاء اور ہم میں کیا فرق ہے ؟؟  یہی کہ ہم کتنی ساری باتوں کا علم رکھتے ہیں لیکن ہم ہر بات پہ عمل نہیں کرتے لیکن انبیاء امام اور اوصیاء اپنے علم دین کی ہر بات پر عمل کرتے ہیں اسی لیے اللہ تعالی ان کو بعد میں بقدر ضرورت نبی یا امام کا رتبہ عطا فرماتا ہے۔ 

(ا اخر میں بتایا گیا کہ اس موضوع کے مزید پہلوؤں پر بعد میں بات کی جائیگی) ۔۔ 

🤲پروردگار عالم ہمیں علم دین کو سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ثم امین۔ 

 *اللهم عجل لوليك الفرج*
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️



*درس (عقائد) امامت
*درس نمبر 6
*موضوع: عصمت پر مزید اقوال اور سوالات*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

منگل   16  جمادی الاول   1446( 19  نومبر   ، 2024)**

### خلاصہ:

💫 *پیغمبروں اور اماموں کے لیے عصمت واجب ہے* کیونکہ ان کا بنیادی مقصد لوگوں کی ہدایت اور تربیت ہے۔ اگر ان میں عصمت نہ ہو تو وہ غلطی کر سکتے ہیں، اور پھر لوگوں کا ان پر اعتماد متاثر ہوگا۔ امام کو ہادی سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کے لیے عصمت ضروری ہے۔

💫 *عصمت کیا ہے؟
سوال یہ اٹھتا ہے کہ عصمت کی حقیقت کیا ہے اور کیسے جانا جا سکتا ہے کہ کوئی معصوم ہے؟ اس پر مختلف نظریات ہیں۔

#### گروہ 1 کی رائے:
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ خدا نے اماموں کی روح میں عصمت ودیعت کی ہے، یعنی ان میں ایسا کوئی خاص عنصر موجود ہے جو انہیں خطا سے محفوظ رکھتا ہے، بالکل فرشتوں کی طرح جو خطا نہیں کر سکتے۔ 
تاہم، یہ خیال قرآن کے مخالف ہے، کیونکہ فرشتے بھی عاقل ہیں اور اللہ کے حکم کی پیروی کرتے ہیں، لیکن ان میں خواہشات نہیں ہوتیں۔ انسان میں خواہشات ہوتی ہیں، لیکن جب وہ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کرتا ہے، تب وہ معصوم بن جاتا ہے۔

شیطان کی مثال دی جاتی ہے جو عبادت گزار تھا لیکن اس کے غرور نے اسے انکار پر مجبور کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نفس سے مراد ذہن ہے، جو انسان کی خواہشات کا مرکز ہوتا ہے۔

💫 *توحید اور گناہ سے بچاؤ
توحید پر مضبوط ایمان انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب انسان اللہ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے، تو وہ گناہ کرنے سے بچنے کے لیے خود کو اللہ کے سامنے محسوس کرتا ہے۔

*بنی اسرائیل کے ایک شخص اور عورت کا واقعہ
ایک شخص نے ایک عورت کو دیکھا اور خواہش دل میں اُٹھی، مگر عورت نے خدا کی خوف سے اپنی خواہش کو کچلا۔ اس شخص نے اس عورت سے پوچھا تو وہ جواب دیتی ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے کانپ رہی ہے۔ اس واقعہ نے اس شخص کو توبہ کی طرف راغب کیا۔

#### گروہ 2 کی رائے: 
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اماموں کی عصمت ان کی اپنی صلاحیت اور ارادے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس میں دو رائیں ہیں:

1. بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اماموں کو خاص قوت بخشی ہے جس سے وہ گناہ سے محفوظ رہتے ہیں۔


2. بعض کے مطابق، عصمت ایک خاص صلاحیت ہے جو انسان اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔

💫 *قم کے ایک عالم کا طالب علم سے سوال
ایک عالم دین نے جواب دیا کہ گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ جیسے انسان گندگی کے کھانے کا تصور نہیں کر سکتا، ویسے ہی وہ گناہ کا تصور بھی نہیں کرتا۔

#### گروہ 3 کی رائے: 
تیسرا گروہ کہتا ہے کہ ابتدا میں اللہ کا خاص لطف اور کرم اماموں پر ہوتا ہے، پھر اللہ انہیں اس مقام پر مہر لگا دیتا ہے کہ وہ گناہ نہیں کر سکتے۔

💫 *پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت ان کے دادا حضرت عبدالمطلب اور چچا حضرت ابو طالب نے کی تھی۔ وہ دونوں توحید پر ایمان رکھتے تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت میں بہت کچھ سیکھا۔

💫 *امامت اور نبی کا عہدہ
یہ سوال کیا گیا کہ کیا پیغمبر اور امام پیدائشی طور پر معصوم ہوتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ وہ بالقوی نبی یا امام ہوتے ہیں، لیکن کسب اور تربیت کے ذریعے وہ اس عہدے تک پہنچتے ہیں۔

💫 *اختتام*: 
علماء کا ماننا ہے کہ اماموں اور پیغمبروں کا علم ان کے عمل سے ہم سب کے لیے نمونہ ہے۔ اللہ تعالی نے انہیں اس علم پر عمل کرنے کی توفیق دی تاکہ وہ اپنی ہدایت کا عملی نمونہ بن سکیں۔

*اللہ تعالی ہمیں علم دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔*
*اللهم عجل لوليك الفرج*
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️


**درس (عقائد) امامت** 
**درس نمبر 6** 
**موضوع: عصمت پر مزید اقوال اور سوالات** 
*بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيم
السَّلاَمُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ 
اللهم صل على محمد وآل محمد 

**خلاصہ:**

اس درس میں اماموں کی عصمت پر مختلف اقوال اور نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے، خاص طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اماموں اور پیغمبروں کے لیے عصمت کیوں ضروری ہے۔ 💫
معارف گفتگو درس عقائد 📚
موضوع: عصمت پر مزید اقوال اور سوالات 📚✍️

اہم ترین صفت جو امام میں ہونی چاہیے وہ عصمت ہے ۔امام کے لیے جس طرح ایک پیغمبر ص میں ہے ۔۔پیغمبر ص اور امام لوگوں کی ہدایت کے لئے ۔

امام میں عصمت کا ہونا بھی لازم ہے  امام ہر حطا سے پاک ہے معصوم ہے اگر کوئی شخص کہیں کہ وہ امام ہیں تو اس میں یہ صفت واجب ہے   کیونکہ امام میں جو صفت پائی جاتی ہے وہی صفت پیغمبر میں بھی ہوتی ہے ۔جس طرح سے پیغمبر صاحب عصمت ہیں اسی طرح امام بھی صاحب عصمت ہوں ۔۔

سوالات 📚
ایک سوال یہ ہے کہ انسانوں میں چاہیے وہ نبی ہو یا امام ہو ہم کیسے عصمت کو تصور کرے؟
عصمت ہے کیا ؟
ہر مکاتب نے اپنے اپنے مختلف نظریات کو اس میں بیان کیا ہے ۔

ان سب نظریات کو اکھٹا کرے تو تین شکلیں بنتی ہے ۔

پہلی صورت 📚
ایک گروہ کہتا ہے کہ...!
امام یا پیغمبر دونوں مجبور ہیں ۔
خدا نے ان کی روح میں کو کوئی ایسا کام کیا ہے کہ وہ عطاعت کو ترک نہیں کرسکتے اور مسیحیت کو انجام نہیں دے سکتے ۔
جیسے ملائکہ میں ہے ملائکہ کبھی بھی کسی بھی صورت میں عطاعت کو ترک نہیں کرسکتے ۔۔
قرآن مجید ملائکہ کو معصوم کے طور پر بیان کر رہا ہے ۔ملائکہ کے اندر خوائش نفسانی نہیں ہے ۔اور اسی لیے انسانوں کے لئے بھی کہا گیا ہے کہ جب کہ انسان کے پاس خوائش نفس موجود ہے مگر وہ اپنے نفس کے پیچھے نہیں چلتا نا اسکی پیروی کرتا ہے خود کو گناہوں سے دور رکھتا ہے ایسا انسان فرشتوں سے افضل ہے ۔۔۔

اور ابلیس کے بارے میں قرآن مجید نے کہا ہے کہ وہ جنات میں سے تھا وہ ایک جن تھا یہ ایک ایسا جن تھا جس نے بہت زیادہ عبادت کی اور اللّٰہ نے اسکو رتبے دینے شروع کئے اور یہ اس مکام تک پہنچ گیا کہ پروردگار نے پھر اسے اس کا صلہ دیا خدا نے اسے عرشی مخلوقات میں قرار دیا ۔۔۔
ابلیس کے رتبے بڑھتے گئے اور یہ ملائکین میں داخل ہو گیا ختہ کہ ان ملائکہ میں آ گیا کہ جن کو اللّٰہ نے حکم دیا آدم کو سجدہ کرو۔۔

سب سے حیرت انگیز چیز جو بنی ہے وہ دماغ ہے جو انسانوں میں ہے حیوانات میں نہیں ہے ۔۔
کوئی بھی خواہش کا ہمارے اندر پیدا ہونا تو یہ سارا مغز ہے  دل سے مراد وہ نہیں ہے وہ تو خون کو پنم کررہا ہے ۔یہ جو لوگ اپنے نفس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں خوائش کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں انکو مغز کنٹرول کرتا ہے ۔(انسانی دماغ)

دماغ جنات میں بھی ہے ۔
انسان کا دماغ جو ہے اس میں ہزاروں فکرے دوڑتی ہیں اور کوئی ایک فکر اسے اس کسی ایک طرف لے جاتی ہے ۔سب سے

مشکل ترین لڑائی💫
اپنے دماغ سے ہے سب سے مشکل ترین لڑائی ۔سمجھ سکتے ہیں حقائق کو اس پر قائم رہنا اپنے دماغ کو لگانا اس پر یہ سب سے بڑی لڑائی ہے ۔اور عبادت و ریاضت ممکن ہے بہت فائدہ دے لیکن کبھی بھی اپنی عبادتوں پر اعتماد نہیں کرنا۔چونکہ دماغ کی ایک رکعت جس کے پیچھے آپ اگر لگ گئے اسنے لگا دیا تو یہ ساری بے اسر ہو جائے گی 💯 تکبر بھی ہے.

ہمیشہ عقائد میں کام کیا جائے عقائد عمل کی اساس ہے جس انسان کی توحید سب سے زیادہ مضبوط ہے یا نہیں ہے یا بہت کم ہے ۔

اج کل میڈیا پر لوگ علماء سے بڑا سوال کرتے ہیں کوئی ہمیں عمل بتاۓ کوئی چلہ بتاۓ کوئی وظیفہ بتائیں گناہ ختم ہو جائے  ہماری زندگی میں سکون نہیں ہے ۔

ان سب کو اگر اساسی طور پر کم کرنا ہے تو پھر توحید پر کام کرنا پڑے گا،معرفت اللّٰہ پر کام کرنا پڑے گا جتنا اللّٰہ کے حوالے سے حقائق روشن ہو گئے ۔انسان اپنے نفس کو دبا دے گا کچھ بھی ہو جائے وہ گناہ نہیں کرے گا نا نفس کی پیروی بس ہر کام میں ہر وقت خدا کا فرمانبردار بنے گا ۔

💫سب سے بہترین دوست وہی ہے جو گناہ کے وقت خدا کی یاد آوری کروائیں ۔

آئمہ معصومین ع تین نظریات  ہیں البتہ  انبیاء و آئمہ ایک ہی بات ہے ۔

دوسرا گروہ 💫
کہتا ہے کہ یہاں اللہ کے کچھ خوفیاں لطف انکے اندر نیک کام کرنے کا آمیزہ زیادہ پیدا کر دیتا ہے اور برائی سے روکنے تبھی انگیزہ زیادہ پیدا کر دیتا ہے خدا کا ایک زیادہ لطف ہے توفیقات اللّٰہ انکو زیادہ دیتا ہے نا کہ خدا انکو مجبور کرتا ہے ۔
عام آدمیوں کی نصیب انبیاء میں انگیزہ زیادہ پیدا کیا ہے خدا نے ۔
انسان خود کو اس مقام تک پہنچا سکتا ہے کہ اسکے ذہن میں بھی گناہ کا تصور یا فطور نا آئے ۔

ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں بچوں میں کتنا کام ہو رہا ہے وہ ابھی معصوم ہے مگر ایسے ایسے کام کر رہا ہے کہ اسے ہم عالم کہتے ہیں تو پھر گھرانہ اہل بیت میں کتنا کام ہوتا ہوگا۔

پس ہمیں پروردگار باحق محمد و آل محمد کے صدقے توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے دماغ سے توحید پر عمل کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر رکھے ہمیں نفس کی پیروی نہیں کرنا اور خود کو اس قابل بنا سکے کہ ہمارا شمار بھی انہی میں ہو جو ملائکہ سے بھی افضل قرار دیۓ گۓ ہیں

اللهم عجل لوليك الفرج 
**آمین یا رب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام**

*شہر بانو*✍️



🌿 *ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ*🌿
💕 *درس نمبر: 7*💕
🌹 *موضوع:*  آئمہ علیہ السلام کی عصمت🌹
🎀 *خلاصہ:*🎀
ہماری گفتگو عصمت کی بحث میں یہاں تک پہنچی تھی کہ عصمت پر تین نظریات ہیں
🍂 پہلا نظریہ کہ یہ مجبور ہیں یعنی پروردگار نے ان سے وہ اختیار ہی ختم کر دیا ہے کہ یہ گناہ کے بارے میں سوچیں یا گناہ کی طرف مائل ہوں جیسے ملائکہ
🍂دوسرا نظریہ یہ صاحب اختیار ہیں اگر گناہ نہیں کرتے تو خود اپنی مرضی سے نہیں کرتے یا نہیں چاہتے اور اس چیز نے ان کے اندر ایک ملکہ پیدا کر دیا یہ کبھی بھی گناہ کی طرف مائل نہیں ہوتے لیکن کر سکتے ہیں لیکن خود نہیں کرتے
 🍂تیسرا نظریہ یہ کہ یہ لطف خاص ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر سے وہ میلان ختم کر دیا ہے کر سکتے ہیں لیکن خود نہیں کرتے  یہ خود ہی معصیت سے دوری اختیار کرتے ہیں اور یہ دوری آہستہ آہستہ ان کے اندر وہ ملکہ پیدا کر دیتی ہے کہ یہ خود معصیت کے پیچھے نہیں جاتے یہ دوری کیسے اختیار کرتے ہیں کیونکہ یہ گناہ سے نقصانات سے آگاہ ہوتے ہیں اور نیک کاموں کے ثواب اور اس کے فوائد سے آشنا ہوتے ہیں پہلے ان کو یہ علم حاصل ہوتا ہے اور پھر ہی اس کے مطابق عمل کرنا شروع کرتے ہیں پھر چونکہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو مقام امامت دے خدا ان کے ساتھ الہام کے ذریعے رابطے رکھتا ہے ان کو الہام بھیجتا ہے یہ کرو وہ نہ کرو یہ اور اپنی مشیت کے تابع رکھتا ہے اور پھر خدا سخت گیری بھی کرتا ہے یہ ہے لطف خاص کی تعریف جو مقدمین کیا کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں دوسرا نظریہ درست ہے
🍃 اس چیز کا خیال نہیں رکھا جاتا لہذا ہمارے عام لوگوں کی نگاہ آئمہ کے حوالے سے وہ افسانوی بنتی جا رہی ہے بشریت سے خارج کر دیا بس وہ کہتے ہیں جی وہ نور ہے باقی کوئی بات کرتے ہی نہیں اور نہ سننے کے لیے تیار ہیں نور کی روایت  جو ہے وہ تمام صالحین کے بارے میں ہو سکتی ہے نور ایک باطنی کیفیت ہے اس کا انسان کے بشری جسم سے مادی حوائج اور ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم جب تمام چیزوں میں جسمانی تمام تقاضوں میں ان ہستیوں کو عام بشر کی مانند دیکھ رہے ہیں پھر اس کا مطلب ہے کہ عظمت اور بزرگی اور بلندی کا تعلق جسم سے نہیں ہے وہ ان کی روح سے ہے وہ ان کی باطنی کیفیتوں سے ہے ابھی بھی ایک معلم اور شاگرد میں فرق جسم کے اعتبار سے نہیں ہوتا اس کی روحانی بات اور فکری کیفیت کے اعتبار سے ہوتا ہے ہمیشہ علم کو نور کہا گیا نیکی کو نور کہا گیا پاکیزگی کو نور کہا گیا جسم مادی کو تو نور نہیں کہتے  احادیث قدسیاں اور روایات سے پہلے خود قرآن جو کہ ہمیں کلیات دے رہا ہے تمام چیزوں میں اس کو پہلے سمجھیں قرآن جو ہے وہ انبیاء کی تخلیق اور عام آدمی کی تخلیق مادی میں کوئی فرق ڈال رہا ہے نہیں ڈال رہے  قرآن عرش کی تخلیق کرسی کی تخلیق کی بات کر رہا ہے اور ہمارے بعض اور عرفہ جو ہیں وہ کہتے ہیں عرش سے مراد حقیقت محمدیہ ہے کرسی سے مراد حقیقت علوی ہے
🍃 پیغمبر اسلام اپنی بدنی اور جسمانی تقاضوں میں سب لوگوں جیسے تھے لیکن احتیاط کرتے تھے اپنا خیال صحت کا رکھتے تھے کہ امام اور ایک نبی سے انسان کو کیا انتظار ہونا چاہیے کہ وہ باقیوں کو کہہ رہے ہیں کہ بھئی فلاں چیز نہ کھاؤ فلاں چیز سے پرہیز کرو گرمیوں میں خیال رکھو سردیوں میں ایسے کرو کھانے میں یہ چیز ان تمام حفاظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھتے تھے اس لیے بہت کم بیمار ہوتے تھے  عظمتوں کا تعلق ان چیزوں سے نہیں ہے ایک مثال دے رہا ہوں کہ ہمارے پیغمبر اسلام جہاں سے بھی گزرتے تھے تو کافی کافی دن خوشبو آتی تھی سوال یہ خوشبو ان کے بدن کی ذاتی تھی یا وہ عطر استعمال کرتے تھے پیغمبر جو ہیں وہ تو بہت زیادہ شوقین تھے عطر خریدنے کے حتیٰ انہوں نے کئی دفعہ قرض لیا تھا عطر خریدنے کے لیے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جسمانی تقاضوں میں ہمیں حق نہیں ہے فرق ڈالنے کا چونکہ تاریخ اس چیز کی مخالف ہے عقل اس چیز کی مخالف ہے قرآن اس چیز کا مخالف ہے
 🍃اگر کوئی روایتیں اس طرح کی بات کرتی ہیں کہ ان کا سایہ نہیں تھا فلاں چیز نہیں تھی مکھیاں نہیں بیٹھتی تھیں ان کے غذا پہ یا وہ سوئے ہوئے بھی جاگ رہے ہوتے تھے اور وہ سونا ان کے وضو کو باطل نہیں کرتا تھا یہ وہ چیزیں ہیں کہ جس کے اندر پیغمبر نے کہیں بھی اپنے لیے استثناء بیان نہیں کیا اگر پیغمبر کا سایہ نہ ہوتا تو یہ کفار اور مشرکین کے لیے سب سے بڑا معجزہ ہوتا لوگ تو دور دور سے دیکھنے کے لیے نبی کو آتے کہ یہ ایک ایسا انسان ادھر رہتا ہے جس کا سایہ نہیں ہے  خود پیغمبر کا یہ وجود بغیر سائے والا ایک بہت بڑا چلتا پھرتا معجزہ ہوتا اور بہت سے مشرکین اور عرب تو اسی بات کو دیکھ کر ایمان لے آتے
🍃 کرامات اور معجزات انبیاء اور آئمہ علیہ السلام سے جب تقاضہ کیا جاتا تھا تو وہ حکم خدا اس کو کر کے دکھایا کرتے تھے ان تمام چیزوں کے ذریعے رب العالمین اپنے نبی کی نبوت اور امام کی امامت کو ثابت کر رہا ہوتا ہے
شہر بانو✍️ 

درس عقائد:8
عصمت آئمہ علیہم السلام پر تجزیہ
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
عالمی مرکز مہدویت، قم 🌹

عصمت کا مفہوم اور اہمیت
عصمت کا لغوی معنی ہے "گناہ سے بچنا" 🚫۔ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا عقیدہ اسلامی ایمان کا ایک اہم جزو ہے، جو ان کی گناہوں سے مکمل پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے ✨۔ اس عقیدہ کے مطابق، آئمہ معصومین (علیہم السلام) پر کوئی گناہ یا خطا نہیں ہوتی، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، یہ عقیدہ ان کی روحانیت، اللہ کی قربت، اور ان کے رہنمائی کے کردار کو اجاگر کرتا ہے 🌟۔

عصمت کی دلالت قرآن و حدیث سے
قرآن مجید 📖 اور اہل بیت کی احادیث عصمت کی حقیقت کو ثابت کرتی ہیں۔ خاص طور پر قرآن کی آیات جیسے آیہ تطہیر (الاحزاب: 33) میں اللہ تعالیٰ نے اہل بیت کو "رجس" یعنی ہر قسم کی آلودگی سے پاک قرار دیا ہے 🕊️، جو ان کی عصمت کی مضبوط دلیل ہے۔ اسی طرح حدیثِ ثقلین اور حدیثِ کساء جیسے متعدد روایتیں بھی اہل بیت کی پاکیزگی اور عصمت کو ثابت کرتی ہیں 🕌۔

عصمت آئمہ علیہم السلام کی ضرورت
آئمہ علیہم السلام کی عصمت اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہوں 🧑‍🏫 اور ان کی رہنمائی سے انسانوں کو غلط راہ سے بچایا جا سکے 🌍۔ ان کی عصمت میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ کی ہدایت اور اُس کے احکام کی درست تشریح اور عملی نمونہ فراہم کیا جا سکے 📜۔

عصمت کی حقیقت اور اس کے مختلف پہلو

1. علمی عصمت: آئمہ علیہم السلام کی علمی عصمت میں یہ شامل ہے کہ وہ تمام علمی سوالات کا صحیح جواب دینے کے قابل ہیں 💡 اور کبھی بھی غلطی نہیں کرتے 🧠۔


2. عملی عصمت: ان کے عمل میں کبھی بھی کوئی گناہ، غلطی یا جهل نہیں ہوتا 🚶‍♂️۔ ان کا ہر عمل اور ہر فیصلہ اللہ کی رضا کے مطابق ہوتا ہے ✅۔


3. اخلاقی عصمت: ان کی اخلاقی حالت میں مکمل پاکیزگی اور بلندترین اقدار پائی جاتی ہیں 🌸۔



نتیجہ
آئمہ علیہم السلام کی عصمت پر ایمان رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے 🙏 اور یہ ہمیں ان کی رہنمائی کی طرف راغب کرتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے قریب پہنچ سکیں 🌹۔

شہر بانو✍️

🪷درس عقائد (امامت): 9

✨آئمہ علیہم السلام کی افضلیت

🎤استاد محترم حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیقی صاحب

🌐 عالمی مرکز مہدویت قم


---

مقدمہ

اسلامی عقائد میں امامت ایک اہم ستون ہے جو دین کی صحیح رہنمائی اور اس کے عملی نفاذ کے لئے ضروری ہے۔ امام وہ شخصیت ہیں جو نہ صرف دینی تعلیمات کی تفہیم فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی زندگی اور عمل امت کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے دین کا حقیقی پیغام لوگوں تک پہنچتا ہے۔ اس درس میں ہم آئمہ علیہم السلام کی افضلیت پر روشنی ڈالیں گے، اور یہ سمجھیں گے کہ کیوں اماموں کا مقام و مرتبہ دیگر تمام انسانوں سے بلند ہے۔ 🌙

امامت کی اہمیت

امامت کا تصور اسلامی عقائد میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر شیعہ عقائد میں۔ امام وہ معصوم اور مقدس شخصیت ہے جو اللہ کی طرف سے مخصوص رہنمائی اور علم کی حامل ہوتی ہے۔ امام نہ صرف اپنے زمانے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی زندگی کا ہر پہلو امت کے لئے ایک نمونہ ہوتا ہے۔ امامت کا مفہوم یہ ہے کہ امام کو اللہ کی طرف سے ہدایت ملتی ہے اور وہ اپنی علمی و روحانی صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کو صحیح راستے پر گامزن کرتے ہیں۔ 🌟

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت کا مفہوم

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ معصوم شخصیتیں اللہ کی طرف سے منتخب کی گئی ہیں اور ان کا مقام و مرتبہ دنیا و آخرت میں سب سے بلند ہے۔ ان کی افضلیت کی کئی وجوہات ہیں جن میں ان کی معصومیت، علم و حکمت، اخلاقی صفات، اور ان کی قربانیوں کا کردار شامل ہے۔ 🕋

معصومیت: امام کا حقیقی مقام

شیعہ عقیدہ کے مطابق، امام معصوم ہوتا ہے یعنی وہ کسی بھی گناہ یا خطا سے پاک ہوتا ہے۔ معصومیت کا یہ مفہوم یہ ہے کہ امام نہ صرف گناہوں سے محفوظ ہوتا ہے بلکہ اس کے تمام اعمال اللہ کی رضا کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ معصومیت امام کو دیگر انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی نے بار بار نبیوں اور رسولوں کو معصوم ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی ہدایت کی خصوصیات کو بیان کیا ہے۔ 📜

امامت کی معصومیت امام کے علم، فہم، اور رہنمائی کی صفات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ امام کا علم الہی طور پر مکمل ہوتا ہے، اور وہ دین کے تمام اسرار کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام کا کوئی بھی قول یا عمل غلط نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی تمام تر رہنمائی اللہ کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔ 💡

امام کا علم و حکمت

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت میں ایک اور اہم پہلو ان کا علم و حکمت ہے۔ اماموں کا علم وہ علم ہے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کیا گیا ہوتا ہے، اور اس علم کا مقصد انسانیت کو ہدایت دینا ہوتا ہے۔ اماموں کا علم صرف ظاہری علم تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک خاص الہامی علم ہوتا ہے جس کے ذریعے امام دین کی گہری حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور لوگوں کو ان کی ہدایت دیتے ہیں۔ 📚

اماموں کا یہ علم کبھی بھی محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ تمام دورانیے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وسیع ہوتا ہے۔ امام کی حکمت اور فہم ان کے فیصلوں میں ظاہر ہوتی ہے جو ہر حال میں عدل و انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ امام کی رہنمائی امت کے لئے ایک انمول تحفہ ہے، کیونکہ وہ دین کی سچائی کو اس طرح سمجھاتے ہیں جو باقی انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ 🌍

اماموں کی اخلاقی صفات

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت کی ایک اور بڑی وجہ ان کی اخلاقی صفات ہیں۔ اماموں کی زندگی میں سچائی، عدل، احسان، شجاعت، اور صبر جیسی اعلیٰ صفات پوری دنیا کے لئے نمونہ ہیں۔ امام علی علیہ السلام کا قول ہے کہ "سب سے بڑی طاقت انسان کا اپنے نفس پر قابو پانا ہے"۔ امام علی کی یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ امام وہ شخصیت ہے جو اپنے نفس کو پاک اور سچا رکھتا ہے۔ 💖

امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں دکھایا گیا صبر و استقامت بھی ایک شاندار مثال ہے جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ امام حسین کا کربلا میں قیام اس بات کا غماز ہے کہ امام کا اخلاق اور ان کی ہمت اللہ کے راستے میں اپنی جان کی قربانی دینے تک پہنچتی ہے۔ امام حسین کی قربانی نے ایک نئی جہت کا آغاز کیا اور دکھایا کہ امام کی افضلیت اس میں ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ 🏞️

اماموں کی قربانیاں

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت کا ایک اور پہلو ان کی قربانیاں ہیں۔ اماموں نے دین اسلام کے بقاء کے لئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ امام حسین کا کربلا میں شجاعانہ قیام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اماموں کی قربانیاں صرف ایک شخص یا ایک عہد کے لئے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے تھیں۔ امام حسین نے اپنی قربانی کے ذریعے دین اسلام کی حقیقت کو اور اس کے اصولوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ⚔️

امام علی علیہ السلام نے خلافت کے دوران اپنے عدل و انصاف کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان ایک ایسا ماحول قائم کیا جس میں ہر فرد کو مساوات اور انصاف ملتا تھا۔ امام علی کی یہ قربانی اس بات کا غماز ہے کہ امام کا ہر عمل امت کے فائدے کے لئے ہوتا ہے۔ 🤝

آئمہ کی افضلیت کا قرآن و حدیث میں تذکرہ

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت کو قرآن و حدیث میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا: "إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا" (الاحزاب 33:33) یعنی اللہ تعالی کا ارادہ ہے کہ اہل بیت سے تمام گندگی دور کرے اور انہیں پاک و صاف رکھے۔ 🕌

یہ آیت اہل بیت کی معصومیت اور ان کے بلند مقام کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، حدیث کساء میں بھی اہل بیت کی پاکیزگی اور فضیلت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری اہل بیت"۔ یہ حدیث اماموں کی افضلیت اور اہمیت کو ثابت کرتی ہے کہ وہ قرآن کے ساتھ مل کر دین کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ 📖

اماموں کا معاشرتی کردار

آئمہ علیہم السلام کا معاشرتی کردار بھی بہت اہم ہے۔ اماموں نے اپنے دور میں معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے جو اقدامات کئے وہ آج بھی ہمارے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے خلافت کے دوران عدل و انصاف کے اصولوں پر عمل کیا اور ہر شخص کو اس کا حق دیا۔ امام علی کے فیصلوں میں یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ امام کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا ہوتا تھا۔ ⚖️

نتیجہ

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت ان کی معصومیت، علم و حکمت، اخلاقی صفات، قربانیوں اور قرآن و حدیث میں ان کے مقام و مرتبے سے ثابت ہوتی ہے۔ اماموں کا کردار نہ صرف دینی رہنمائی کے لئے اہم ہے بلکہ ان کی زندگی کا ہر پہلو امت کے لئے ایک نمونہ ہے۔ اماموں کی افضلیت کو سمجھنا اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہماری دینی اور اخلاقی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اماموں کا ہر عمل، ہر قول اور ہر فیصلہ ہمارے لئے رہنمائی کا ایک روشن چراغ ہے۔ 🌹

ہمیں اپنی زندگیوں میں اماموں کی سیرت کو اپنانا چاہیے اور ان کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو بہتر بنانا چاہیے۔ اماموں کی زندگی کا ہر پہلو ایک الہامی پیغام ہے جو ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کے راستے پر چلنا اور اس کی رضا کی کوشش کرنا ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ ✨


---
شہر بانو✍️ 🌟




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات