Exam Book 11

 


📢 *سوالات امتحان*


👈 *کوئی سے چار سوال حل کریں*

**1. عصر ظہور تک پہنچنے کے لیے چار اہم راستے کیا
ہیں؟**

جواب

عصر ظہور تک پہنچنے کے لیے جو راستے ہیں، ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا میں فساد اور ظلم بڑھ چکا ہوگا۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل اہم راستے ہیں:

1. **ایمان کی مضبوطی اور عقیدہ کی درستگی**: 
   امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ کا ایمان مضبوط ہو اور ان کا عقیدہ صحیح ہو۔ لوگوں کو امام مہدی کی حقیقت، ان کے ظہور کی علامات، اور ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو امام مہدی کی شخصیت اور ان کے قیام کے مقصد کو بتائیں تاکہ امت صحیح عقیدہ اختیار کرے اور ذہنی طور پر اس عظیم قیام کے لیے تیار ہو۔

2. **معاشرتی اصلاحات**: 
   امام مہدی کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا میں ظلم و فساد اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرتی اصلاحات کی جائیں، تاکہ جب امام مہدی کا ظہور ہو تو لوگ اصلاحات کی طرف مائل ہوں اور فتنوں اور فساد کی شدت کم ہو چکی ہو۔ ان اصلاحات میں اجتماعی سطح پر اخلاقی تربیت، عدل و انصاف کا نفاذ، اور معاشرتی ہم آہنگی شامل ہیں۔

3. **سیاسی مزاحمت اور جدوجہد**: 
   امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا میں ظلم اور جبر کا نظام قائم ہوگا۔ مسلمانوں کو اس ظلم کے خلاف سیاسی اور عسکری مزاحمت کرنی ہوگی تاکہ جب امام مہدی آئیں، تو ان کے قیام کے لیے ایک مناسب ماحول ہو۔ سیاسی سطح پر مظلوموں کا ساتھ دینا اور ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

4. **عالمی سطح پر اتحاد**: 
   امام مہدی علیہ السلام کا ظہور صرف کسی ایک علاقے یا قوم کے لیے نہیں ہوگا بلکہ یہ پوری امت مسلمہ اور انسانیت کے لیے ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی ہو۔ تمام مسلم ممالک اور برادریاں کو اپنے اختلافات ختم کر کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ امام مہدی کے قیام کی تیاری کے لیے عالمی سطح پر حالات سازگار ہوں۔

---

**2. اہلسنت کے کسی ایک عالم کا امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں نظریہ بیان کریں**

جواب

**اہلسنت کے معروف عالم** **علامہ ابن تیمیہ** امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اپنے نظریے میں فرماتے ہیں کہ امام مہدی کا ظہور ایک قطیعت اور حقیقت ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ امام مہدی کا ظہور آخر الزمان میں واقعی ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی کا تعلق آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگا اور ان کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا میں شدید فساد، ظلم اور باطل حکمرانی کا دور دورہ ہوگا۔

ابن تیمیہ کے مطابق امام مہدی کا قیام محض ایک مذہبی یا فلسفی بحث نہیں ہوگی بلکہ یہ عملی قیام ہوگا جس کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا اور ظلم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ امام مہدی کی قیادت میں مسلمانوں کو متحد کر کے ایک عظیم عالمی اسلامی تحریک چلائی جائے گی جو دنیا کے مختلف خطوں میں عدل قائم کرے گی۔ وہ امام مہدی کی شخصیت کو ایک آسمانی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو اللہ کے حکم سے زمین پر حق و عدل کا قیام کریں گے۔

ابن تیمیہ نے یہ بھی کہا کہ امام مہدی کا قیام ایک مختصر دورانیے کا نہیں ہوگا بلکہ ان کی حکومت میں زمین پر عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا اور یہ اسلامی شریعت کے مطابق ایک عالمی حکومت قائم کرے گا۔

---

**3. فرقہ زیدیہ پر نوٹ لکھیں**

جواب

**زیدیہ** ایک شیعہ فرقہ ہے جس کا نام امام زید بن علی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ فرقہ امام علی علیہ السلام کی نسل سے ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ امام کا انتخاب محض نسلی تسلسل کے بجائے امام کی علمی صلاحیتوں، تقویٰ، اور قیادت کے اصولوں پر منحصر ہونا چاہیے۔ زیدیہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے بعد امام حسین کے بیٹے امام زین العابدین نے قیام کیا، لیکن امام زین العابدین کے بعد امام زید بن علی نے اپنا قیام کیا اور اس قیام کی بنیاد عوامی حمایت اور معقول قیادت پر تھی۔

زیدیہ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ امام منتخب نہیں ہوتا بلکہ اس کا قیام اس کی صلاحیتوں، علم، اور اصلاحی پروگرام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ امام کا منصب صرف نبوت یا رشتہ داری پر مبنی نہیں بلکہ اس میں قیادت اور جرات کا عنصر بھی شامل ہے۔ زیدیہ میں امامت کا مسئلہ زیادہ جمہوری نوعیت کا ہے، جس کے تحت امام کا انتخاب عوامی ارادے اور حمایت سے کیا جاتا ہے۔

اس فرقہ کے پیروکار زیادہ تر یمن میں مقیم ہیں اور وہاں کی سیاسی تاریخ میں ان کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ ان کے عقائد میں دیگر شیعہ فرقوں سے مختلف نظر آتی ہیں، خاص طور پر اس بات میں کہ زیدیہ امام کے انتخاب میں زیادہ جمہوریت اور عوامی مشاورت کو اہمیت دیتے ہیں۔

---

**4. عصر ظہور میں امام مہدی علیہ السلام کی جہادی سیرت کیا ہے؟**

جواب

عصر ظہور میں امام مہدی علیہ السلام کی **جہادی سیرت** کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا اور ظلم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ امام مہدی کا قیام ایک عالمی سطح پر ہوگا اور ان کی قیادت میں ایک عظیم فوج اٹھے گی جو ظالم حکمرانوں کے خلاف جہاد کرے گی۔ ان کی جہادی سیرت میں سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے جنگ کریں گے، نہ کہ ذاتی مفاد یا اقتدار کے لیے۔

امام مہدی کی قیادت میں یہ جہاد ایک تنظیم شدہ، منظم اور عدلیہ پر مبنی ہوگا، جس کا مقصد عالمی سطح پر انصاف قائم کرنا اور تمام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوگا۔ ان کی جنگ کا مقصد ظالموں کو شکست دینا اور اسلامی شریعت کے مطابق عدل و انصاف کا قیام کرنا ہوگا۔ امام مہدی کا قیام ایک اسلامی انقلاب ہوگا جس میں مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر کے مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

امام مہدی کی جہادی سیرت میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہوگا کہ وہ کسی بھی قسم کے ذاتی مفاد یا اقتدار کے لئے نہیں لڑیں گے بلکہ ان کی جنگ کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول اور دین اسلام کا غلبہ ہوگا۔ وہ اپنے عادلانہ قیام کے ذریعے ظلم و فساد کے خاتمے کے لئے جنگ کریں گے اور اسلامی قوانین کا نفاذ کریں گے۔

---

**5. القائم بالسیف سے کیا مراد ہے؟**

جواب

**القائم بالسیف** ایک عربی عبارت ہے جو "تلوار کے ذریعے قیام کرنے والا" کے طور پر ترجمہ کی جا سکتی ہے۔ یہ لقب امام مہدی علیہ السلام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ امام مہدی کا قیام محض فکری اور نظریاتی نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک عملی عسکری قیام ہوگا۔ امام مہدی کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا بھر میں ظلم و فساد پھیل چکا ہوگا، اور وہ تلوار کے ذریعے ان ظالم حکمرانوں اور جابر نظاموں کے خلاف قیام کریں گے۔

**القائم بالسیف** کا یہ مطلب ہے کہ امام مہدی تلوار (جہاد) کے ذریعے اپنی قیادت کو قائم کریں گے اور دنیا میں عدل قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔ یہ لقب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ امام مہدی کے قیام کا مقصد صرف سیاسی یا مذہبی فتوحات نہیں ہوگا بلکہ ان کی قیادت میں ایک عالمی اسلامی حکومت قائم کی جائے گی جو اسلامی شریعت کے اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ ان کی قیادت میں ظلم کا خاتمہ ہوگا اور دنیا میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا۔

**القائم بالسیف** کی عبارت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام مہدی کا قیام ایک عسکری قیام ہوگا، جس میں وہ ظالموں کے خلاف جنگ کریں گے اور اہل حق کو کامیاب کریں گے۔ یہ لفظ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ امام مہدی کی قیادت میں کوئی کمزوری نہیں ہوگی اور وہ پوری قوت اور عزم کے ساتھ اس جہاد کو آگے بڑھائیں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات