Exam Book 12
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
بدھ 8 جمادی الثانی 1446(11 دسمبر ، 2024)**
سوال نمبر 1. **رجعت کا معنی اور روایات کی رو سے فلسفہ رجعت بیان کریں**
**جواب:**
**رجعت کا معنی:**
رجعت کا لغوی معنی "پلٹنا" یا "واپس آنا" ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ مخصوص افراد کو اللہ تعالیٰ دنیا میں دوبارہ واپس بھیجے گا۔ یہ افراد انبیاء، ائمہ معصومین، مومنین اور بعض اوقات کفار و منافقین ہو سکتے ہیں۔ ان کا واپس آنا مخصوص مقصد کے لیے ہوگا تاکہ ان کے عملوں کا حساب لیا جا سکے اور عدل کا قیام ہو۔
**رجعت کا فلسفہ:**
رجعت کا فلسفہ اس بات پر مبنی ہے کہ ظلم کے خلاف خدا کی عدالت قائم کی جائے اور مظلوموں کو ان کے حق ملے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے:
"مومنین پلٹ جائیں گے تاکہ عزت پائیں، ان کی آنکھیں روشن ہوں گی اور ظالم لوگ بھی پلٹیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کرے"۔ (بحارالانوار ج۵۳ص۴۶)
اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت سے پہلے، اللہ تعالیٰ بعض افراد کو دوبارہ دنیا میں لائے گا تاکہ وہ اپنے اعمال کا حساب دیں اور مومنین کو عزت ملے جبکہ ظالمین کو سزا دی جائے۔ اس فلسفے میں انسانوں کے لیے ایک عدلیہ کی فضا فراہم ہوتی ہے جس میں ہر عمل کا حساب ہوگا۔
رجعت کا عقیدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی عدالت کبھی بھی کمزور نہیں ہوگی اور ہر ظلم کا حساب ہوگا۔ یہ عقیدہ شیعہ مسلمانوں کے لیے امید اور حوصلے کا باعث بنتا ہے۔
---
### سوال نمبر 2. **مکتب تشیع میں رجعت کی اہمیت بیان کریں**
**جواب:**
**مکتب تشیع میں رجعت کی اہمیت:**
رجعت کا عقیدہ شیعہ مکتبہ فکر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک عظیم مذہبی اور اخلاقی اصول پر مبنی ہے جو انصاف، عدل اور قیامت سے پہلے کے حساب کتاب کے نظریہ کو تسلیم کرتا ہے۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد دنیا میں عدل و انصاف کا دور شروع ہوگا اور ظلم کا خاتمہ ہوگا۔ رجعت کا عقیدہ اس بات کی ضمانت ہے کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا دی جائے گی اور مظلوموں کو ان کے حقوق واپس کیے جائیں گے۔
رجعت کے عقیدے کا تعلق خاص طور پر اہل بیت کے متعلق ہے، جن کے بارے میں شیعہ عقیدہ ہے کہ قیامت سے پہلے ان کی واپسی ہوگی اور وہ دنیا میں عدل قائم کرنے کے لیے واپس آئیں گے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور امام علی علیہ السلام کے دور میں جو ظلم ہوا، اس کا انتقام رجعت کے وقت لیا جائے گا۔
یہ عقیدہ شیعہ مسلمانوں کو اس بات کا حوصلہ دیتا ہے کہ ان کی دنیا میں کی گئی قربانیاں اور ظلم کا کوئی نتیجہ نکلے گا اور خدا کی عدالت قائم ہوگی۔
---
###سوال نمبر 3. **قرآن کی دو آیات سے رجعت کو ثابت کریں**
**جواب:**
1. **آیت 1:**
"ہر چیز کو وہ واپس کرنے والا ہے"۔ (الرعد: 31)
یہ آیت رجعت کا اصول ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اپنی اصل حالت میں واپس کر سکتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ماضی میں جو چیزیں گزر چکی ہیں، انہیں دوبارہ زندہ کر سکتا ہے، مثلاً لوگوں کو قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں لانا۔
2. **آیت 2:**
"تم میں سے جو کوئی موت کے بعد ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، ہم اسے زندہ کریں گے اور اسے جزا دیں گے"۔ (الأنکبوت: 10)
یہ آیت بھی رجعت کے عقیدے کی تائید کرتی ہے۔ اس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ایمان اور نیکی کے ساتھ موت کے بعد انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ موت کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا ممکن ہے۔
---
### سوال نمبر 4. **رجعت کی کوئی پانچ خصوصیات بیان کریں**
**جواب:**
رجعت کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
1. **خدا کی قدرت کا اظہار:**
رجعت کا دن خدا کی بے پناہ طاقت کا مظہر ہوگا، جس میں اللہ تعالیٰ انبیاء، ائمہ اور مومنین کو دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ دنیا میں عدل کا قیام کر سکیں۔
2. **اہل بیت کی نشانی:**
رجعت پر ایمان، اہل بیت کے عقائد کی ایک بنیادی نشانی ہے۔ شیعہ مسلمان اہل بیت کی عزت و عظمت کو مانتے ہیں اور ان کی رجعت کا عقیدہ بھی اہل بیت کے مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
3. **ظالموں کا حساب:**
رجعت کے دن ظالموں کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی اور مظلوموں کو ان کے حقوق واپس ملیں گے۔ یہ دن انصاف کا دن ہوگا۔
4. **انبیاء، ائمہ اور مومنین کی واپسی:**
رجعت میں انبیاء، ائمہ معصومین اور بعض مومنین واپس آئیں گے تاکہ دنیا میں عدل کا قیام ہو اور انہیں ان کے اچھے اعمال کا انعام ملے۔
5. **اختیاری و اجباری رجعت:**
مومنین کی رجعت اختیار کی بنیاد پر ہوگی، یعنی وہ خود اپنی مرضی سے دنیا میں آئیں گے۔ لیکن کافر اور منافقین کی رجعت اجباری ہوگی، یعنی وہ اللہ کے حکم سے دوبارہ دنیا میں آئیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جا سکے۔
---
###سوال نمبر 5. **کون رجعت کریں گے اور سب سے پہلے کس نے رجعت کرنی ہے؟**
**جواب:**
**کون رجعت کریں گے:**
رجعت کے دوران دو طرح کے افراد شامل ہوں گے:
1. **ظالمین:**
وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ظلم کیا لیکن انہیں قیامت کے دن سزا نہیں ملی، وہ رجعت کے ذریعے دوبارہ زندہ ہوں گے اور ان کے ظلم کی سزا دی جائے گی۔
2. **مومنین:**
وہ افراد جو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے منتظر تھے، ان میں انبیاء، ائمہ، اور ان کے اصحاب شامل ہوں گے۔ یہ افراد بھی رجعت کریں گے تاکہ دنیا میں عدل کا قیام ہو اور ان کے اچھے اعمال کا انعام ملے۔
**سب سے پہلے رجعت کرنے والے:**
سب سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رجعت ہوگی۔ پھر امام حسین علیہ السلام اور دیگر اماموں کی رجعت ہوگی تاکہ عدل قائم ہو اور ظلم کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ سب رجعت کا عملی طور پر مقصد ہے کہ عدل و انصاف قائم ہو اور اللہ کی عدالت کے سامنے تمام اعمال کا حساب لیا جائے۔
---
### اختتام:
رجعت کا عقیدہ شیعہ مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور یہ عقیدہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر اپنے مظلوم بندوں کو عزت دے گا اور ظالموں کو ان کی سزا دے گا۔ یہ عقیدہ انسانوں کو امید، عدل اور انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بناتا ہے اور اس کے ذریعے انسانوں کو اپنی زندگی میں اخلاقی اور روحانی بہتری کی طرف راغب کرتا ہے۔
---
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں