عقیدہ امامت. ѕαdíα

 

*سلسلہ دروس معارف* 
*درس عقائد : 1*
*موضوع عقیدہ امامت*
نکات : امام کی تعریف ، پہلا امت میں نزاع، امام علی ع کی امامت کا کہاں اور کب اعلان کیا، امامت کا فلسفہ ، امام مہدی عج کیا کریں گے ، اہلسنت کا موقف۔۔۔۔

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤
🪷عالمی مرکز مہدویت قم🪷


🟥امامت کی تعریف 
علماء کے مطابق 

🔹ریاست عامه فی امور دین و الدنیا لشخص من الاشخاص نیابتا عن النبی ص 

کسی شخص کے لئے دین و دنیا کے امور میں حکومت طاقت قدرت ریاست نبی کی نیابت میں ہوگا وہ امام ہوگا



🔷نبی کے فرائض میں سے ایک فریضہ 


🔅ابلاغ شریعت و دین 
🔅تعلیم و تربیت 
🔅قیام عدل 


🔸عدل کے قیام کے لئے حکومت کی ضرورت ہے 
🔸دشمن کے حملے کی صورت میں حکومت کی ضرورت ہے 
🔸 قیام امن کے لئے بھی حکومت کی ضرورت ہے 


یہ حاکم والا وظیفہ امامت کی صورت میں آیا 

ایک شخص جو نبی کی مانند اس کی مسند پر بیٹھ کر فیصلے کرے 


🔸نبی اکرم س کے بعد اختلاف پیدا ہوا 
دو گروہ بن گئے 


🔹ایک گروہ جو زیادہ تعداد پر مشتمل تھا انہوں نے خلیفہ اول کا انتخاب کیا 

🔹ایک گروہ نے جناب علی ابن ابی طالب کو نبی کا جانشین و خلیفہ مانا جن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تو خم کے مقام پر ہوچکا ہے 


▪️نظریات خلیفہ الرسول کے متعلق 



❗بعض کہتے ہیں ضرورت ہی نہیں خوارج 
 
❗بعض کہتے ہیں ضرورت ہی مگر خود انتخاب کرنا ہے جیسے اشاعرہ اور معتزلہ( عقاید فرقے)

❗امامیہ کا نظریہ ہے کہ نبی کی مانند امام کا تعیین بھی خداوند عالم فرماتا ہے

اور نبی اکرم ص یہ اعلان کر چکے تھے 

خم میں بیعت بھی لی 

من کنت مولاہ فعلی مولاہ 

سرپرستی کے معنی میں ہے یہ ولایت کا موضوع 

جس نے تمام امور سنھبالنے ہیں وہ ولی ہے 


🌀 اہل سنت و الجماعت نے خلیفہ اول کا انتخاب کیا پھر انہوں نے خلیفہ دوم کا انتخاب کرلیا 

 نبی کو یہ حق نہیں دیا مگر خلفاء کو یہ انتخاب دیا گیا 


⬅️تعریف امامت 

ایک کلی طاقت ریاست ہے امامت 


امام قانون کا اجراء کرے گا 

◀️دینی امور کو سنبھالنا
◀️امن و امان 
◀️سرحدوں کی حفاظت 
◀️لوگوں کے مسائل کا حل 


نبی کی نیابت بعنوان حاکم


⏺️اہل سنت کے مطابق 

جس کو حکومت ملی وہ امام ہے 

یعنی کوئی فاسق بھی ظلم کے ذریعے مسند حکومت پر آجاے تو اسکی اطاعت واجب ہے 


⏺️اہل تشیع کے مطابق 


امام امام ہی ہے چاہے حکومت میں ہو یا نہ ہو


صرف امیرالمومنین ع کو حکومت ملی 

بقیہ ائمہ ع حکومت میں نہیں رہے لیکن امام ہی ہیں 



🔷امام نبی کی مانند 

🔹 ہادی 
🔹دین کی تفسیر و تشریح کرنے والے 
🔹معلم اخلاق 
🔹تزکیہ نفس کرنے والے 


🔸علماء کے مطابق 


❗امام حجت خدا و واسطہ فیض ہیں پیغمبر ص کی مانند 

🔷امام مہدی عج ظھور کے بعد 

▪️اصل اسلام کو بیان کریں گے یعنی اپنے جد کے دین کو بیان فرمائیں گے 


◀️امام صادق ع 
جو میرے مد مقابل کھڑے ہیں (شاید اس زمانے میں فرقوں کے بانی جو تھے اس طرف اشارہ ہے)اسی طرح قائم کے مقابل کھڑے ہوں گے


❗ پیغمبر اکرم س کی جنگ کفار و مشرکین سے تھے 
مگر امام عج کی جنگ منافقین سے ہوگی حتی ان سے جو شیعت میں فرقے بنا چکے ہیں 


🔸سورہ نور 

کے مطابق 
ہر جگہ دنیا میں خدا کی حکومت ہوگی اور دین صرف اسلام ہوگا 


❗علماء فرماتے ہیں 

اس تعریف امامت میں ایک وظیفہ امام بیان کیا گیا ہے نہ کہ جامع تعریف 

⁉️سوال 

🔸آیا معاشرے کو امام کی ضرورت ہے 

🔸ہر دور میں یا خاص مواقع پر 


بعض کہتے ہیں

خاص حالات میں جنگ ہو یا کوئی دوسرے موقع پر ضرورت ہے ورنہ نہیں 

🔸ضرورت شرعی ہے یا عقلی

شعوری یعنی آیا واجب ہے 

🔸آیا خدا کے لئے واجب ہے کہ ہمارے لئے حاکم کا تقرر ہو 



◀️پہلا سوال 

🔅آیا امام کی ضرورت ہے یا نہیں 


ایک اسلام سے جدا ہونے والا فرقہ سیاسی طور پر جدا ہوے 


خوارج کا فرقہ 

نہایت عبادت گزار 
مگر امیرالمومنین ع کے مخالف 

▪️حکم کا نظریہ 
ان الحکم الا للہ

حکم صرف خدا کا ہے 

ان کا نظریہ 
اسلامی معاشرے کو کسی حاکم کی ضرورت نہیں ہے

❗لیکن اپنے لشکر کا حاکم بنایا ہوا تھا 
ابن ملجم بھی خارجی تھا جس نے امیرالمومنین ع کو قتل کیا 


ان کا نظریہ نہ عقلی ہے نہ شرعی 

▪️کسی معاشرے کا حاکم نہ ہو یہ ناممکن ہے نظم معاشرے کے لئے حاکم کی ضرورت ہے 

▪️ امیرالمومنین ع

لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کا ایک حاکم ہو


🔸امام معصوم ع کی موجودگی میں فرض ہے کہ ان کو حاکم بنایا جاے

🌀اہل سنت کے اعتقادی فرقے 
▪️اشاعرہ 
▪️اہل حدیث 
▪️ماتریدیہ 
▪️معتزلہ 

▪️پاکستان میں ماتریدی اور اشاعرہ ہیں 


❗اشاعرہ کا نظریہ 

حکومت ضروری ہے اور یہ شریعی مسئلہ ہے لیکن حاکم خود بنانا ہے اور جو بھی حاکم بن جاے وہ اولی الامر ہے 

❗معتزلہ کا نظریہ


یہ حکم عقل ہے 
بنانا ہم نے خود ہے 



❗شیعہ نظریہ 


حاکم ضروری ہے عقلی طور پر 
اور وہ حاکم ہوگا وہ خدا و رسول یا امام کی جانب سے چنا ہوا ہوگا.
σthєr gírl


دروس معارف 
عقائد ، امامت
درس دوم
نکات: امامت اللہ کی طرف سے ہے یا لوگ بناتے ہیں ؟ شرعی ہے یا عقلی؟امام کے لطف الہی ہونے پر دلیل ، لطف سے مراد ؟ اللہ کے لطف کی دیگر مثالیں

*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 🎤*🌹


*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*✨
ہماری گفتگو کا موضوع  بحث امامت ہے اور ہم نے علمائے تسنن کے نظریات بیان کئے۔ ان کے مختلف فرقے ہیں جیسے اشاعرہ ، معتزلہ، اہل حدیث ، ماتریدیہ۔ 

یہ امامت کو واجب سمجھتے ہیں جیسے اشاعرہ ماتریدیہ اور اہل حدیث اور بعض عقلی سمجھتے ہیں جیسے معتزلہ لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ امامت انتخابی ہے منسوب نہیں ہے۔ 

اس میں  فقط مکتب تشیہو، مکتب امامیہ کا یہ نظریہ ہے کہ وجوب امامت عقلاً واجب بھی ہے اور شریعت اس کی تائید میں ہے۔ اور جب کوئی چیز عقلاً واجب ہو تو شریعت اسے دوبارہ واجب قرار نہیں دیتی کیونکہ وہ اس کی تائید میں ہے۔ جیسے عقل جو ہے وہ عدل کے وجود کو سمجھتی ہے اور ہر انسان کی عقل خود کہتی ہے کہ عدل کرنا واجب ہے۔ اب شریعت دوبارہ عدل کے وجود کا حکم نہیں دے گی بلکہ اس کی تائید میں گفتگو کرے گی۔ اسی لیے ہم اسے کہتے ہیں حکم ارشادی۔  

*امامت کا وجوب آیا شریعی ہے یا عقلی؟ اور آیا عقل اسے درک کرتی ہے یا نہیں؟*❓

امامیہ شعیہ مکتب اور معتزلہ بھی کہتے ہیں کہ کیوں نہیں عقل اسے درک کرتی ہے۔ کہ ایک ملت میں ایک امت کے اندر امام ہونا ضروری ہے ورنہ نظام بگڑ جائے گا۔ معاشرے کا کوئی نظم نہیں رہے گا۔ بلآخر ایک شخص جو اس معاشرے کے تمام امور کو نہ سنبھالے اور ان کی حفاظت نہ کرے اور وہاں حکم خدا کو جاری نہ کرے۔ 

ویسے تو دنیا کا ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ ایک امام اور ایک حاکم کے بغیر کوئی بھی اجتماعی زندگی کا کوئی تصور نہیں اور یہ عقلی ہے۔ 

*اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ عقلی ہے تو اس کو معین کرنا کس پر واجب ہے؟*❓
اہل تسنن چاہے شریعن قائل ہوں یا عقلاً یہ کہتے ہیں کہ ہم ہیں جو ایک شخص کو منتخب کریں گے۔ یہاں جو نظریہ سب سے مختلف ہے وہ مکتب تشیہو کا ہے۔ 

*مکتب تشیہو کا نظریہ امامت:*✨
مکتب تشیہو واحد مکتب ہے جو کہتے ہیں کہ یہ کام ہمارا نہیں بلکہ پروردگار کا ہے۔ کیونکہ جو ہم پر نبیوںؑ کو واجب کرتا ہے تو وہی ہم پر اماموں کو منسوب کرے۔ جس پروردگار کے ہاتھ میں نبیوں کا نصب ہے تو اسی کے ہاتھ میں اماموں کا نصب بھی ہے۔ یہاں نصب سے مراد انہیں مقرر کرنا ہے۔ 

*دلیل اور اس کی تشریح:*
 کشف المراد میں کتاب برھان کا ذکر ہوا: 📖📚
اس کے اندر برھان صغرہ، برھان کبرہ اور ایک نتیجہ ہے۔ 
برھان صغریٰ:
کسی امت میں امام کا منسوب کرنا لطف الہیٰ ہے۔ یعنی جسطرح ایک نبیؐ کو بھیجنا خدا کا لطف ہے اسی طرح کسی قوم کی جانب امام بھیجنا بھی لطف ہے۔ 
برھان کبریٰ:
لطف ہمیشہ اللہ پر واجب ہے۔ چونکہ امامت لطف کے مصداق میں سے ہے تو بس امامؑ کا تعین کرنا بھی اللہ پر واجب ہے۔ 

*اب یہاں سوال یہ ہے کہ لطف سے کیا مراد ہے اور ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ لطف اللہ پر واجب ہے؟*❓
کتاب کشف المراد کے 12 نمبر مسئلے میں لطف  کے حوالے سے علامہ حلیؒ نے گفتگو فرمائی۔   
یہ بحثِ لطف اکثر ہمارے معاشرے میں سنی جاتی ہے اور بعض اہل ممبر اور اساتذہ کہتے ہیں لیکن لوگوں پر لطف واضح نہیں ہوپاتا۔ 

*لطف* :
*لغوی معنیٰ:* ✨
کسی کے ساتھ مہربانی و محبت سے پیش آنا۔

*علم کلام کی اصطلاح میں:* ✨

*الطف ھوما یکون المکلف ماھواکرب الا فعل الطاعتہ و ابعدا فعل مسییء*
لطف ایک ایسی چیزہے کہ مکلف (ٰیعنی وہ شخص جس پر شرعی ذمہداریاں ہیں) وہ اس چیز کے ہوتے ہوئے اللہ کی اطاعت کے قریب ہوتا جاتا ہے اور خدا کی نافرمانی سے دور ہوتا جاتا ہے۔ 

یعنی لطف ان چیزوں کہتے ہیں کہ جو اللہ ہی عطا کرتا ہے لیکن ان کا فائدہ یہ ہے کہ مکلف ان چیزوں کے ہوتے ہوئے خدا کی فرمابرداری کی جانب چل پڑتا ہے اور خدا کی نافرمانی سے دور ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اللہ اگر انبیاؑ کو نہ بھیجتا اور کتابوں کو نازل نہ کرتا تو ہمیں تو معسیت اور اطاعت کا کچھ پتہ چلتا لیکن ہمیں اس حوالے سے زیادہ پتہ نہ چلتا۔ اور ان انبیاؑ اور کتابوں نے ہمیں بتایا کہ یہ کام اطاعت والے ہیں اور یہ کام معسیت والے ہیں۔ یہ وہ کام ہیں کہ جن کو انجام دینے سے جنت ملے گی اور یہ وہ کام ہیں کہ جن کے کرنے سے جہنم ملے گی تو یہ وعدہ وعید ، انبیاءؑ، کتابیں ان سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اب بیشتر اطاعت کی جانب جائیں گے اور بیشتر معسیت سے دور ہونگے کیونکہ ان پر حجت تمام ہو رہی ہے۔ 

*لیکن اس کے اندر دو شرطیں ہیں۔* 
فرماتے ہیں کہ: 🫴
لطف وہ چیز نہیں کہ جس کا ہماری طاقت اور قدرت سے تعلق ہو۔ جیسے اللہ نے ہمیں تکالیف کو انجام دینے والے کچھ افعال دیے ہوئے ہیں جیسے آنکھیں ، ہاتھ، زبان وغیرہ 
ان چیزوں کا لطف سے تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر یہ چیزیں ہونگی تو تکلیف ہوگی اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو تکلیف واجب نہیں ہے۔ اگر ایک ایسا شخص ہے کہ جو معزور ہے یہ اس کے پاس عقل نہیں ہے تو اس پر تکالیف نہیں ہیں۔ 

لطف کا تعلق ان چیزوں سے نہیں ہیں کہ جو شرائط تکالیف ہیں۔ بلکہ لطف اس سے بڑھ کر ایک چیز ہے۔ مثلاً اللہ نے ہمیں جسم عطا کیا تو جب اللہ اس کے ساتھ رسولؑ اور قرآن بھیجے تو یہ اللہ کا لطف ہے۔ کلام کرے اور بتائے کہ میں کیا چاہتا ہوں یہ لطف ہے۔ وہ اگلے راستے جو ہمیں معلوم ہوں وہ لطف ہے تو بس لطف کا تعلق ہمارے ان اعضاء اور چیزوں سے نہیں ہیں کہ جو تکالیف کے لیے شرط ہیں۔ 

*اور دوسرا مصنف فرماتے ہیں کہ:* 🫴
لطف وہ چیز نہ ہو کہ جو انسان کو مجبور کر دے۔ 
جیسے قوم موسیٰؑ اللہ کی بات مان نہیں رہی تھی۔ تورات نازل ہوگئی، احکام شرعی آگئے لیکن یہ نہیں مان رہے تھے اور من مانی کر رہے تھے۔ اب یہ وہ قوم تھی جو انتہائی ہٹ دھرم تھی کہ جنہوں نے اتنے بڑے بڑے معجزے دیکھے تھے یعنی فرعون  کا غرق ہونا۔ مصریوں کے مظالم سے نجات ملنا۔ دریا میں راستہ بننا، پتھر سے چشمے جاری ہونا، من و سلویٰ کا نازل ہونا۔ اور بھی بہت سے معجزات انہوں نے دیکھے۔ اور اتنے معجزات کے باوجود جب حضرت موسیٰؑ تورات اور احکام شریعت لے کر آئے تو انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ سخت کام ہم سے نہیں ہوتے۔ یعنی ہم اپنی من پسند زندگی گذاریں گے۔ تب اللہ نے کوہ طور کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر ہوا میں مہلک ہوگیا۔  اور بلکل قوم موسیٰ کے اوپر آگیا تو اب بس امر الہیٰ تھا اور یہ پہاڑ ان پر گر جاتا اور یہ سارے کے سارے مر جاتے۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ؑ آپ جو کہیں گے ہم مانیں گے۔ تو یہ لطف نہیں۔ 

بلکہ لطف یہ ہے کہ آپ کو اختیار ہو ۔ 
اسی لیے جناب مصنف کہتے ہیں کہ ہمارے اعضاء سے لطف کا تعلق نہیں اور لطف کا زبردستی کے ساتھ بھی تعلق نہیں۔ 

*جناب مصنف نے یہاں تین شقیں بیان کیں۔* 🫴
فرماتے ہیں کہ: 
1۔ ▪️ اللہ تعالیٰ انسانوں کو خلق کرتا اور سارے اختیار اور توانائی دیتا اور انبیاءؑ بھی بھیجتا کہ یہ کام کرو اور یہ کام نہ کرو اور کتابیں بھی بھیجتا لیکن جنت اور جہنم کی باتیں نہ کرتا۔ 

2۔▪️ ایک صورت یہ تھی کہ پروردگار سب کو زبردستی سے کہتا کہ اگر کرو گے ورنہ سزا دوں گا (قوم موسیٰؑ)

3۔ ▪️ایک صورت یہ ہے کہ پروردگار سب کچھ بھیجتا اور ترغیب دلاتا اور جزا و سزا کی بات کرتا کہ اگر کرو گے تو نتیجہ یہ ہے اور اگر نہیں کرو گے تو نتیجہ یہ ہے اور زبردستی نہ کرتا۔ 

**یہ جو تیسری شق ہے یہ ہے لطف فقط نبیؐ ، کتاب اور احکام بتانا یہ ہے تکلیف۔  دنیا میں ڈرانا (قوم موسیٰؑ) یعنی اجباری ہوگیا۔ اور جنت اور جہنم کی بات ساتھ کر دینا اور توفیق کی بات کرنا اور تشویق دلانا اور اس کے برے واقف سے ڈرانا یہ ہے لطف۔* 

تو لطف سے مراد کہ انسان کے تکلیف شریعا کے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بھی ساتھ مل جائیں کہ جن کی وجہ سے ہم خود راہِ اطاعت کی جانب چل پڑیں اور معسیت سے دور ہوجائیں۔ 


**آیا لطف کے بھی مراتب ہیں؟*🫴*❓
*جی ہاں بلکل ہیں۔* 
جیسا کے اللہ نے بندوں کے لیے مراتب بیان کئے ہیں اسی طرح لطف کے بھی مراتب ہیں۔ اللہ نے سب کے لیے راستے کھولے ہوئے ہیں ۔ کچھ لوگ حد عقل تکالیف پر اکتفاء کر لیتے ہیں جیسے بعض لوگوں کا ہدف  فقط جنت میں جانا ہے اور بعض کا ہدف جنت میں اعلیؑ درجات کا پانا ہے۔ اور وہ اللہ کے مقربین خاص کے اعمال انجام دینے چل پڑتے ہیں ۔ ان کے لیے بھی اللہ نے خاص چیزیں بھیجی ہیں اور ان پر خاص لطف ہو گیا اور پھر کچھ ان مقرب اعمال کے ساتھ ساتھ وہ اتنی مشتقتیں کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں ولایت کے درجوں میں شامل کرے گا اور ادھر ان کے لیے خصوصی الطاف کی بارش ہوگی اور ان کے لیے اور راستے کھلیں گے۔  یعنی جیسے جیسے امتحانات گذارتے جائیں گے ان کے لیے راستے کھلتے جائیں گے۔ 

*لطف کی دو اقسام ہیں:*
پروردگار نے اپنے بندوں پر دو قسم کے لطف جاری کئے

*لطف عام:* ✨
سب کے لیے ہیں مسلمان، مومن مشرک۔ خدا نے سب کے لیے رسول اور کتابیں بھیجیں اور حجت تمام کی۔ اور ان رسولوں کی زبانوں سے وعدہ و وعید جاری کیا۔ یعنی جنت کی بشارت اور جہنم کی دھمکی۔ 

*لطف خاص:*✨
جب انسان بہشت کی خاطر اور جہنم کے خوف سے  حد عقل تکالیف کو انجام دینا شروع کرتا ہے یعنی معسیت کو ترک کرنا شروع کرتا ہے اور امر صالح انجام دینا شروع کرتا ہے تو  اس کے اندر ایک اور لطف لینے کی آمادگی پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً یہ شخص جو واجبات ادا کر رہا ہے اس کے اندر آمادگی پیدا ہوتی ہے کہ یہ نماز شب بھی ادا کرے۔ یہ چیزیں سلسلہ وار تسبیح کی طرح جڑی ہوئی ہیں۔ (دنیاوی مثال : میٹرک، انٹر، بی اے، ماسٹرز اسی طرح اور آگے بڑھتا ہے )۔ 


👈دعوت قبول کرنا مستحب ہے لیکن دعوت کرنے والے کا ذریعہ روزگار کیا ہے یہ مہم ہے۔ آیا رزق حرام کماتا ہے۔ کیونکہ لقمے کے اثرات بدن پر ہوتے ہی۔ جیسے اگر کوئی انجانے میں زہر کھا لے تو اس کی موت خودکشی شمار نہیں ہوگی لیکن زہر نے اپنا اثر دکھا دیا۔ 

📖:
*ایک فقہی کی کسی نے اپنے گھر دعوت کی ہوئی تھی۔ جب وہ چلے گئے اورجب کھانا کھا کر آئے اور جب سو گئے تو صبح نماز شب کے لیے نہیں اٹھ سکے ان کا بدن بہت بھاری تھا اور بہت تھکاوٹ تھی ، سر بھاری تھا۔ یہ بہت پریشان ہوئے بہرحال انہوں نے نماز فجر ادا کی اور بہت گریہ کیا کہ یہ کیا ہو گیا تو انہیں بتایا گیا کہ آپ نے جو کل کسی کے گھر کھانا کھایا ہے وہ مال حرام سے بنا ہوا تھا اور اتنے دن آپ پر یہ اثر رہے گا۔* 

اسی طرح شراب پینے کا اثر یہ ہے کہ اتنے عرصے تک اس کی  نماز اور اعمال صالح قبول نہیں ہوتے۔ گو کہ وہ شرعی تکالیف انجام تو ہو گئیں لیکن قبول ہونے کے بعد جو اسے درجات ملنے تھے اور جو اجر و ثواب ملنے تھے وہ اب اسے نہیں ملیں گے۔ 

ہر عمل صالح ایک دوسرے عمل صالح کے لطف کا زمینہ بنتا ہے۔ (سلسلہ وار تسبیح)🌟
اگر ہم اپنے واجبات سرِموقع انجام دیں تو یہ بعض مستحبات کے لیے پیش خیمہ بنیں گے۔ اور ان کا لطف آنے کی صلاحیت بنیں گے اور جب ہم ان لطف کو انجام دینا شروع کریں گے تو اللہ مزید خاص وظائف عطا فرمائے گا کہ میرے بندے میں اب یہ لیاقت پیدا ہو گئی ہے کہ ان خاص اعمال کو انجام دے۔ پھر یہ نظام قدرت ہے کہ اللہ اس عمل کی توفیق اور اس عمل کو بندے تک پہنچائے گا۔ اور وہ اسے انجام دے گا۔ اور یوں راہ اولیاء پر وہ چلے گا۔ یعنی پہلے اسے قوت اولیاء نصیب ہوتی ہے اور پھر وہ سمت اولیاء میں داخل ہو جاتا ہے۔  اور یہ ہے *الطاف خاص* ۔ 🌷

*اب اذہان میں یہ سوال آسکتا ہے کہ آپ نے لطف کی تشریح تو کر دی لیکن برھان کبرہ میں کیسے ایک چیز خدا پر واجب ہے؟ اہل تسنن یہی تو کہتے ہیں کہ ہمیں حق نہیں ہے کہ خدا پر یہ چیز واجب ہے۔ خدا بے نیاز ہے وہ غنی مطلق ہے اور یہ ہم پر واجب ہوتے ہیں۔ اور شیعہ عجیب بات کہتے ہیں کہ خدا پر لطف واجب ہے جبکہ خدا بے نیاز ہے۔ اور کسی کی جرت نہیں ہے؟*❓

*اس کا جواب یہ ہے:* 🫴
 ہم اللہ پر واجب نہیں کرتے بلکہ اللہ کی اپنی صفات اس پر واجب کرتی ہیں۔ اس کی حکمت الہیٰ اس پر واجب کرتی ہیں ۔ جیسے اللہ پر عدل واجب ہے یا نہیں؟ تو اہل تسنن کہیں گے کہ کس نے واجب کیا تم نے یا میں نے کیا نہیں خود خدا کی صفت حکیم اس پر لازم کر رہی ہے کہ وہ عدل کرے۔ 

*اب یہ جو کہتے ہیں کہ اللہ پر لطف واجب ہے تو کیوں واجب ہے؟*❓
*جواب* :🫴
اگر ہم یہ نہ کہیں کہ اللہ پر لطف  واجب ہے تو کئی دیگر مشکلات سامنے آئیں گی کہ جن کا کوئی جواب نہیں ہے۔ 

*علامہ حلیؒ بیان کرتے ہیں۔* 🌷
جس طرح اہل تسنن کے علماء یہ کہتے ہیں کہ خدا کا لطف ہم پرواجب نہیں ہے اور اس کا کوئی باطل نتیجہ بھی سامنے نہیں آتا لیکن ہمارے علمائے امامیہ میں مشہور علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکیم ہونا اور اس کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ پروردگار پر لطف کرنا واجب ہے۔ 

*یہاں علامہ حلیؒ نے دو دلیلیں دی ہیں:*✨ 

*1۔ دلیل صغریٰ*✨
یہ لطف جو وعد وعید اور یہ بشارت یہ محصلِ غرض مولاؑ ہے۔ مولاؑ کی غرض یہ تھی کہ ہم جنت جائیں اور جہنم نہ جائیں تو اللہ اسے وعد و وعید کے ذریعے پورا کر رہا ہے۔ یہ *دلیل صغریٰ* ہے۔ 

*2۔ دلیل کبریٰ*✨
ہر وہ چیز جو مولاؑ کی غرض کو پورا کرنے والی ہے تو مولاؑ کے لیے ضروری ہے  اسے انجام دیں یعنی اسے بیان کریں ۔ 

*نتیجہ: لطف کرنا اللہ پر واجب ہے ۔* 

*دلیل صغریٰ کی تشریح* 🫴
یہ اللہ کی غرض تھی کہ ہم انہیں انجام دیں اور اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگرمیں انسان پر لطف نہ کروں یعنی انبیاءؑ اور کتابیں نہ بھیجوں ان کو بشارت اور دھمکی نہ دوں تو یہ تکالیف کو حقیقی معنوں میں انجام نہیں دیں گے۔ اور یہ چیزیں کرنا اللہ پر کوئی مشکل نہیں ہے۔ نہ ہی خدا کی کسی حکمت یا غرض کے منافی ہے۔ کیونکہ برعکس اللہ کی غرض کو پورا کرنے والا ہے اور اللہ کا جو ہدف تھا ہمارے لیے تکالیف بھیجنے کا اس کو پورا کرتا ہے۔ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اللہ یہ کام نہ کرے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نقض غرض لازم آئے گا اور نقض غرض مولاؑ کے لیے قبیح ہے۔ 

*🫴مثال* : 
آپ نے ایک شخص کو اپنے گھر دعوت اور اس کے لیے اچھے دسترخوان بنائے لیکن اس کو اپنے گھر کا پتہ نہیں دیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تمام اہتمام رائگاں گئے۔ 
یا پھر اس مہمان کو پتہ بھی بھیجا کھانے بھی بنائے لیکن اس کو دعوت ہی نہیں دی۔ تو اس کو پتہ ہی نہیں کہ مجھے پتہ کیوں بھیجا ہے۔ اسی طرح انسان کو پتہ بھیج دیا کہ میں تمھارا خدا ہوں۔ جنت بنائی  لیکن اس بتایا ہی نہیں کہ یہ جنت تمھارے لیے بنائی ہے اگر تم یہ اعمال کرو گے میری طرف توجہ کرو گے تو تمھارے لیے ہے۔ اس انسان کو یہ کیسے پتہ چلے گا۔ 

*دوسری دلیل:* 🫴
لطف اللہ پر واجب ہے اگر اللہ لطف نہ کرے تو پھر اللہ کا اپنے گنہگار بندوں پر عذاب کرنا قبیح ہو۔ کیونکہ وہ کہیں گے کہ اے پروردگار تھیک ہے کہ تو نے ہمیں تکالیف بتائیں تھیں لیکن تو نے کونسا کہا تھا کہ اگر نافرمانی کرو گے تو میں جہنم میں ڈالوں گا۔ اور اگر فرمابرداری کی تو میں تمھیں جنت میں ڈالوں گا۔ ہمیں یہ تو نہیں پتہ تھا کہ یہ واجب ہیں۔ 

اگر مولاؑ حکم دیں تو غلام عبد پر انجام دینا واجب ہے۔ اور اگر انجام نہ دے تو اس کی مذمت ہوگی۔ لیکن اگر عذاب اخروی دینا تھا تو اسے پہلے سے بتا دیتا۔ 

خالق کا حق یہی ہے کہ اگر وہ کوئی حکم دے تو اسے تسلیم کریں لیکن اگر نہیں مانیں گے تو عقل مذمت کرے گی۔ لیکن اگر خدا روز محشر بندے کو عذاب دینا چاہے تو وہ چیخے گا کہ پروردگار تو مجھے بتا دیتا تاکہ میں ہر صورت یہ اعمال انجام نہ دیتا۔ اور اگر مجھے پتہ ہوتا توآج میں اپنے کئے کا عذاب جھیلتا۔ اسی لیے وعدہ و وعید اور بشارت و دھمکی لطف ہے۔ 

اگر کل اللہ نے کفار اور نافرمانوں کو سزا دینی ہے تو پھر اس پر لطف واجب ہے کہ ان کو پہلے سے خبر دے کہ میں کفار ، نافرمانوں کو سزا دوں گا۔ 

اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ 
سورہ بنی اسرائیل 15
*وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا* ✨
ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں ۔

*یہاں پر ایک نقطہ ہے اور یہ بہت سے لوگوں کا سوال ہے:🫴*❓
*سوال : وہ اقوام جن تک کوئی نبیؑ نہیں پہنچا یعنی ابھی بھی دنیا میں ایسی اقوام ہیں کہ جہاں تک دین پہنچا ہی نہیں اور یہ لوگ  اپنی عقل کے مطابق کبھی درخت کو اور کبھی کسی چیز کو اپنا خدا مان لیتے ہیں اور اگر ان لوگوں کو پتہ چل جاتا تو ان کی طبیعتیں اور مزاج ایسے ہیں کہ وہ جھوٹی چیزوں کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں  تو اب ان لوگوں کے لیے اللہ روز محشر کیا کرے گا؟*❓

جواب : ان پر بھی عذاب نہیں ہوگا کیونکہ اللہ نے ان پر لطف نہیں کیا اور جو عقلی طور پر اعمال انجام دے  تو تعریف اور مذمت ہوگی۔ اسی پر اجر و ثواب ہے۔ 

*اب جو اہل ممبر کہتے ہیں کہ ولایت امیرالمومنین واجب ہے اور جو اس پر عمل کرے گا وہ جنت میں اور جو دور ہے وہ جہنم میں ہوگا۔ ❌*❓


*اس کا جواب استاد محترم نے دیا کہ:* 🌹
قرآن مجید سے دوری خلاف عقل اور خلاف قرآن بھی ہے۔ 

سورہ طہ 134
*وَلَوْ اَنَّـآ اَهْلَكْنَاهُـمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِـهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِــعَ اٰيَاتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى (134)*✨
اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو کہتے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیرے حکموں پر چلتے۔

اور یہ خلاف عقل بھی ہے کیونکہ عقل ایک عام آدمی کو کہتی ہیں کہ اگر آپ نے کسی چھوٹے بچے کو بھی تنبیع کرنی ہے تو پہلے اسے بتائیں کہ یہ چیز غلط ہے۔  یعنی پہلے منع کرو پھر تنبیع کرو۔  یہ ظلم ہے اور کجا وہ ہمارا پروردگار کہ ہم اس کی طرف ظلم کی نسبت دیں۔ 

*اس زمانے میں اور ہمارے زمانےمیں فرق ہے۔* 🫴
آج کے دور میں ہم کسی پیغمبرؑ کو نہیں دیکھ رہے اور کاغذ پر الفاظ دیکھتے ہیں اور حقائق کو دریافت کرتے ہیں  ان کا اجر زیادہ ہے بانسبت ان لوگوں کے جو پیغمبر کے زمانے میں تھے۔ 
اور اسی زمانے میں جب پیغمبرؐ تھے تو وہ ایک جزیرہ العرب میں تھے ۔ جبکہ دنیا دور دور تک تھی۔ یزاروں ملتیں عرب کے علاوہ زندگی گذار رہے تھے تو ان تک ہمارے پیغمبرؐ کا پیغام یا تو نہیں پہنچا یا بعد میں پہنچا ہے تو اگر وہ اسی زمانے میں مر گئے ہوں تو ان کی بعد والی نسلوں کو پہنچا ہو۔ 

*اب ان ملتوں کا انجام کیا ہوگ ا؟ جن تک پیغام اسلام نہیں پہنچا۔ اور جب پہنچا تو پیغام اسلام پہنچانے والوں نے اس کے اندر اتنی تحریف کی تو اب ان کا کیا بنے گا۔* 
تو یہاں پر قرآن پاک کی ایک اور آیت ہے کہ پروردگار فرماتا ہے : 
کہ میں جب کسی پر عذاب کروں گا تو بینہ کی وجہ سے کروں گا۔ کیونکہ اس پر دلائل واضح ہو چکے تھے۔ 

یعنی کسی بھی ہستی کو یہ اللہ کے عدل کے خلاف ہے کہ وہ کسی کو بغیر اپنا رہنما بھیجے ان کو عذاب کرے۔ اور اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ عذاب خدا حجت کے تمام ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ اور بغیر رہنما (انبیاؑء) کے کسی پر عذاب نہیں ہوگا۔ اور معیار عقل اور عرف ہوگا اور دین معیار نہ ہوگا۔ اور یہ سارے بخشے جائیں گے۔ 🫴

*آج اہل ممبر اور عمومی طور پر ہمارے شیعہ جس چیز سے دور ہیں وہ قرآن ہے* 📖
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے عقائد میں بلخصوص قرانی آیات کی تلاوت اور ان کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دین کو سمجھنے اور دین کا دفاع کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ 
آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز 
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌏

درس امامت (3)
نکات: ِامامت کے لطف الہی ہونے پر اعتراضات کے جوابات اورعصمت کی تشریح

*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمارے مدمقابل مخالفین نصب امام کو نہیں مانتے انہوں نے ہماری اس دلیل پر کچھ اشکالات وارد کئے ہیں۔ 

پہلا اعتراض کبریٰ پر:
 اللہ تعالیٰ پر لطف اس صورت میں واجب ہوتا ہے کہ جب کوئی رکاوٹیں یا کوئی نامناسب جہات اس میں موجود نہ ہوں۔ مثلاً مقتضی موجود، مانع مفقود ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے لطف کرنے کی راہ ہموار ہو اور آگے کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ یا آگے کوئی مفسدات نہ ہوں۔  یا آگے کوئی نامناسب چیز نہ ہو تو پھر لطف ہوگا۔ 

مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں شرعی ذمہ داریاں دیں۔ یہ اللہ کا لطف ہے۔ ہم باعقل تھے اور بے عقل نہ تھے ، ہم بااختیار تھے بے اختیار نہ تھے یہ سب لطف تھا۔ اسی طرح پروردگار نے رسولؐ بھیجے جو رکاوٹیں نہ تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ہر وہ چیز کہ جس پر اللہ کا لطف ہے اس میں رکاوٹ نہیں دیکھتے۔ 

رکاوٹ کا نہ ہونا کافی ہے یا جہات کبیہ یا مفسدات کا نہ ہونے کا علم رکھنا: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا لطف ہونا یعنی ہمیں یقین ہو کہ اب وہاں مفسدات نہیں ہیں اور کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ 

امامت کے مسئلے میں ہم نے جہاں تک سوچا رکاوٹ نہیں ہے لیکن ہمیں یقین بھی نہیں ہے۔  کیونکہ ہوسکتا ہے کہ درواقع کوئی رکاوٹ ہو اور ہمیں معلوم بھی نہ ہو۔ 
مثلاً شریعت کہتی ہے کہ یہ پانی جو ہمارے سامنے ہے جب تک آپ کو ظاہراً یہ احتمال نہ کہ یہ نجس ہے یا آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ یہ نجس نہیں ہے۔ 

یا ہم کسی کے گھر دعوت پر گئے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ یہ شخص مومن ہے اور اس کا کھانا حلال ہےیا ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اس کا کھانا حرام نہیں ہے۔ 

وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ آپ کو یقین ہونا چاہے کہ رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں امامت کے مسئلے پر بظاہر تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اللہ کسی کو بھی امام بنا سکتا ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی نہ کوئی معنیٰ ہو کہ جس کا ہمیں پتہ نہ ہو۔ کہا کہ جب تک ہم یقین تک نہیں پہنچ جاتے اسوقت تک آپ کا یہ کبریٰ درست نہیں ہے۔ 

علامہ حلی فرماتے ہیں کہ وہ جو ظاہر میں تو کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے۔ اور اگر کوئی فلواقع مفسدات ہو تو وہ خدا کو بہتر پتہ ہے  تو ہمیں معلوم نہیں ہے اور ہم اس کے مکلف نہیں ہیں  اگر ہم اس کے مکلف ہوجائیں تو ہم پر کوئی تکلیف ہمیں معلوم ہی  نہیں ہے۔  

علامہ حلیؒ فرماتے ہیں کہ یہ جو آپ مفسد بتا رہے ہیں یہ دو حال سے خارج  نہیں ہے ۔ یا تو یہ امامت کے موضوع کا لازمہ ہے یا پھر اسے باہر سے عارض ہوگی کیونکہ اس کا جز تو ہے نہیں۔ 

اگر لازمہ ہے تو پھر قرآن میں خود اللہ نے کچھ ہستیوں کو امام بنایا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیمؑ کو خود امام بنایا ہے اور اگر اس کے اندر کوئی مفسد ہوتا  تو پھر اللہ کیوں خود کسی کو امام بناتا۔  اور اگر بعد میں کوئی عارض ہو رہی ہے تو وہ کیا ہو سکتی ہے۔ کہ اللہ کسی شخص کو امام بنائے اور وہ بعد میں فاسق  و فاجر ہو جائے اور لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کردے۔  تو ہم نے تو شروع میں ہی شق عصمت لگا دی ہے ۔ لہذا ایسا شخص جو امام بن ہی نہیں سکتا۔ تو پس دور دور تک ایسا کوئی مفسد نظر نہیں آرہا جہاں آپ کا یہ اشکال وارد ہو۔ 

یہ اعتراض اور جواب کشف المراد کے اندر علامہ حلیؒ نے بیان کیا ہے۔ 


دوسرا اعتراض صغریٰ پر:
انہوں نے کہا کہ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ امام کا کسی ملت پر نصب کرنا  لطف ہے تو یہ آپ نے منحصر کیوں کر دیا اللہ تو کچھ اور طریقوں سے بھی اپنا لطف کر سکتا تھا کیا یہ لازمی ہے کہ امام کو منسوب کرے۔ 
مثلاً
اللہ سب کو مجبور کرتا کہ برائیوں سے دور رہیں اور نیک کام کریں جیسے اللہ نے فرشتوں کو لطف کیا ہوا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ ہر انسان پر ایک فرشتہ معین کرتا کہ یہ شخص جب گناہ کرے تو اس پر سختی کرو تاکہ یہ خوف سے گناہ نہ کرے۔ 

جیسے زمانہ قدیم میں کسی نبیؑ کے دور میں جب انسان کوئی گناہ کرتا تھا تو اس کی پیشانی پر لکھا جاتا تھا۔ وہ آدمی اس خوف سے کہ میری پیشانی پر میرا گناہ لکھا جائے گا تو اب وہ اس ڈر سے گناہ نہیں کرتے تھے یا اگر کرتے تھے تو اپنی پیشانی چھپاتے تھے۔ یہ ایک خاصہ مسئلہ تھا۔  تو بلآخر اللہ نے یہ کیوں ایک مختصر مدت کے لیے کیا اس کے پیچھے وجوہات ہوں گی ۔ لیکن اللہ نے بعد میں حکم بدلا اور لوگوں کی پیشانیوں پر ان کے گناہ لکھے جانے بند ہوگئے اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا یعنی پروردگار انسانوں کے لیے ستار العیوب بنا۔ 

اب اگر ایسی بھی بات ہو تو پھر وہ انسان اپنے اختیار سے نیکی کی جانب نہیں آئے گا بلکہ وہ خوف کی وجہ سے نیکی کرے گا۔  تو یہ بھی اللہ کو نہیں چاہیے۔ 

تو اعتراض کرنے والوں نے کہا کہ آپ یہ کیوں کہہ رہے ہی کہ حتماً امامت ہی لطف ہے اللہ فرشتے کو بھی تو کھڑا کر سکتا تھا اور پیشانی پر بھی لکھ سکتا تھا، فرشتوں کی طرح مجبور بھی کر سکتا تھا یعنی کئی راستے ہیں انسانوں پر لطف کرنے کےلیے۔ کیوں آپ نے یہی کہا ہے کہ پیغمبرؐ کے بعد امام ہی انسانوں پر لطف کی شکل ہے اور کوئی اور شکل نہیں ہے۔ 

جواب: 
علامہ حلیؒ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جناب آپ یہ کون سے مفروضے لے کر بیٹھ گئے ہیں اور کن انسانوں کی بات کر رہے ہیں آیا خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں۔ زمین پر جو انسان ہیں اللہ نے ان کو نہ تو مجبور خلق کیا اور نہ یہ فرشتوں کی طرح تکوینی طور پر  معصوم ہیں یہ انسان وہ ہےکہ جسے اللہ نے پورے اختیار کے ساتھ زمین پر چھوڑ دیا ہے۔ اور اس کے لیے رسولؐ اور شریعت بھیج دی ہے اور اب اسے پورا اختیار دیا ہے کہ: 
سورہ دھر 2
ارشاد پروردگار ہو رہا ہے۔ 
اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا
بیشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا
تو یہاں پر آپ کے مفروضوں کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ اللہ نے ارادہ کر لیا تھا کہ میں نے کیسا انسان بنانا ہے۔ 

اور اب اس صورت میں سوائے نصب امام کے کوئی راہ باقی رہی ہی نہیں۔ آپ کی راہ اس صورت میں ہوتے کہ اللہ نے ویسا ارادہ کیا ہوتا۔ 

اللہ نے ہمارے لیے جنت اور جہنم کا حق دیا اور یہاں آزادی انتخاب دی اور اب یہاں ایک لطف کرنا تھا اور وہ  یہ تھا کہ ہر دور میں ایک رہنما ہو جو مسلسل ہماری رہنمائی اور ہدایت کرے۔ اور یہ رہمنائی بغیر امام کے حاصل نہیں ہوسکتی اور امام بھی کون جو اللہ خود بنائے کیونکہ اگر ہم امام بنائیں گے تو وہ ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔ 

3۔ 
تیسرا اعتراض:
آپ کا یہ کہنا ہے کہ کسی بھی ملت میں امام کا ہونا بہت ضروری ہے اور وہ لوگوں کو راہ ہدایت کی جانب لے کر جائے اور وہ امرونہی کرے ، معصیت کاروں کو روکے ، ان کی تربیت کرے، اور تصرف کرے یعنی آپ شیعہ لوگ امام کو بعنوان حاکم کے پیش کرتے ہیں۔  حالانکہ آپ کے آئمہؑ بطور حاکم نہ تھے بلکہ وہ ایک استاد تھے وہ پڑھاتے تھے۔ تو پھر کیا ضرورت ہے آپ کو اس عقیدہ امامت کی؟ جبکہ امام اس وقت اچھا لگتا ہے اس وقت لطف ہے جب وہ لوگوں کی تربیت کر سکے ، تصرف کر سکے یعنی راہ خیر کو کھولے اور راہ شر کو روکے۔  تو آپ شیعہ حضرات کے سوائے ایک دو آئمہؑ کے باقی تو کوئی ایسا امام نہ تھا اور موجودہ امامؑ تو ویسے ہی غائب ہیں اور وہ تو کسی قسم کا تصرف نہیں کر رہے بظاہر نہ تو آپ کو پڑھا رہے ہیں اور نہ ہی بظاہر آپ کی کوئی ہدایت کر رہے ہیں۔ اور آپ اگران سے کوئی سوال کرنا بھی چاہیں تو وہ آپ کو جواب نہیں دیتے۔ 
توآپ کا ہدف واقع نہیں ہوا۔ 
جو کچھ باہر ہے وہ ویسا نہیں جو آپ کہتے ہیں اور جو آپ کہتے ہیں ہم اس کو عملی طور پر نہیں دیکھ رہے۔ 

جواب: جناب علامہ حلیؒ کہتے ہیں کہ ہماری گفتگو اصل امام میں ہے جبکہ آپ بات کو امامؑ کے افعال میں لے گئے ہیں۔  افعال یعنی جیسے جیسے لوگ امام کو فرصت دیں گے تو امام کام کریں گے۔ اصل وجود امام ضروری ہے۔ 

مثال کے طور پر اللہ نےہمں آنکھیں ہاتھ پاؤں دیے تاکہ ہم اس کی عبادت کریں لیکن ایک ظالم نے آکر یہ تمام اعضا باندھ دیے کہ ہم عبادت نہیں کرسکتے تو یہ  اعضا ظالم نے باندھے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمیں یہ اعضا ہی نہ دے۔ یہاں اصل امام پر گفتگو ہے نہ کہ افعال امام پر۔ 

اگر آئمہؑ حکومت نہیں کر سکے یا حاضر امامؑ عج غیبت میں ہیں تو یہ ہمارے اپنے مسائل ہیں اور ہماری گفتگو اصل امام میں ہے کہ دنیا میں  امام ہونا چاہیے کہ اس کا وجود لطف ہے اور اب جیسے جیسے اس کو وسعت ملتی جائے گی تو وہ لطف شامل حال ہوتا جائے گا۔ 

پھر علامہ حلیؒ نے فرمایا کہ آپ نے بطور قلی ہمارے آئمہؑ کی نفی کر دی ہے آپ نہیں جانتے کہ ہمارے آئمہؑ کا بڑا لطف یہ ہے کہ وہ حافظ شریعت تھے اگرچہ حکومت ان کے پاس نہیں تھی۔ لیکن شریعت کو انہوں نے بغیر نقصان کے محفوظ رکھا اور پہنچایا۔ جسا کہ امام باقرؑاور امام جعفر صادقؑ کے زمانے میں ہے۔ 

درست ہے کہ وہ حدود الہیٰ کو اجراء نہیں کر سکے لیکن حدود الہیٰ کو بیان کیا۔ درست ہے کہ احکام الہیٰ کو عملاً اجراء نہ کر سکے لیکن انہیں بیان کیا۔ 
اور اگر وہ نہ ہوتے تو آج ہمارا مذہب بھی گمراہیوں کا شکار ہوتا اور ہم بھی قیاس کا شکار ہوتے۔ 

اور جہاں تک امام غائب کی بات ہے تو امام زمانؑ عج موجود ہیں اور ان کے موجود کے اعتبار سے جو لطف ہمیں حاصل ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ مثلاً امامؑ عج کے ہونے سے کائنات کا نظام جاری ہے۔  اور دوسرا یہ کہ وہ کسی بھی وقت ظہور کر سکتے ہیں اور یہ ظہور ہماری خود کی اصلاح کے لیے بھی کافی ہے اس سے ہم اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ سوال کیا جاتا ہے کہ امام زمانؑ کے ظہور کا وقت کیوں مقرر نہیں کیا گیا۔ تو جواب یہ ہے کہ اگر وقت مقرر کیا جاتا تو پھر بعد والی امتیں بلکل غافل ہوجاتیں۔ کہ ہمارے زمانے میں تو ظہور ہونا نہیں تو ہم کیوں اپنی تربیت کریں اور ہم کیوں ناصر بنیں۔ 

یہ جو ظہور کا وقت مقرر نہیں تو اس سے ہر امت یہی سمجھتی ہے کہ ہم ہی وہ ملت ہیں کہ جن کے زمانے میں ظہور ہو سکتا ہے۔ اوراس وجہ سے وہ اپنی تیاری کرتے ہیں۔ اور اس کے اثرات یہ مرتب ہوتے ہیں کہ اگر ظہور نہ ہو تو یہ نیک بندے بننے سے جنت کے راہی تو بن ہی جائیں گے۔ اوران کے نیک بننے سے لوگوں کو فوائد تو حاصل ہوں گے اور راہ خیر تو کھلی رہے گی۔ 

فرماتے ہیں کہ: 
درست ہے کہ امامؑ زمان ؑ عج بظاہر غائب ہیں لیکن ان کے وجود کی برکات سے
زمین اور اہل زمین قائم ہیں۔
زمانہ غیبت میں امامؑ عج کچھ نہ کچھ تصرفات بھی کر رہے ہیں اور بے پناہ اتنے لوگوں کی مدد ہو رہی ہے۔ کتنے ہی علماء اور فقہا کے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ لیکن بس ہم ہی دیکھ نہیں پارہے۔ جبکہ امامؑ عج کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ 

امام کا اسی طرح غائب رہتے ہوئے لوگوں کی مدد کرنا یعنی کوئی مشکلات بھی پیدا نہیں ہو رہی ہیں۔ بلکہ مشکلات حل ہو رہی ہیں۔ 

ہمارے عقیدے کے مطابق لطف افعال پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ لطف وجود امام میں ہے۔ اب اگر لطف وجود امامؑ میں ہے تو ایک اہلسنت یہ سوال کر سکتا ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہے؟ 

جواب : اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ کام اللہ کی طرف سے ہیں اورکچھ ہماری طرف سے ہیں اللہ جب کسی چیز کو پیدا کرتا ہے تو وہ مصلحت سے خالی نہیں ہوتی اب اگر اس سے استفادہ کرنا ہے تو وہ ہم نے کرنا ہے۔  

اللہ نے امامؑ کو خلق کیا تو اب اس کے وجود سے استفادہ اگر کرنا ہے تو وہ ہم نے کرنا ہے۔ اس کا وجود، افعال، سیرت اللہ کی طرف سے لطف تھا۔ لیکن ہم نے اپنے لیے خود دروازے بند کئے اور ہم اس کے افعال اور سیرت تک نہیں پہنچ پا رہے۔ جبکہ اللہ کی جانب سے دروازے بند نہیں ہوئے۔ 

اللہ نے امام کو اس کے وجود ، افعال ، سیرت کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیا۔ اللہ کی جانب سے لطف مکمل ہوگیا اب یہ ہم ہیں کہ جو وجہ ہیں کہ امام کے ظاہر اور ان کے افعال کو نہیں دیکھ رہے نہ کہ اللہ۔ 

ہم اہلسنت سے بھی یہی کہیں گے کہ اگر آپ کے پاس کوئی پیغمبرؑ ہے اور آپ نے اسے گھر میں بند کیا ہوا ہے اور آپ اسے تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے اور اس کو جان کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے کہ کیا خدا پیغمبرؑ نہ بھیجے ۔  خدا نے تو تب بھی بھیجنا ہے اور ایک پیغمبرؑ کے بعد دوسرا پیغمبرؑ بھیجنا ہے۔ اللہ کی جانب سے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے لطف ہمیشہ سے جاری ہے اور اگر اسے کوئی بند کرتا ہے تو وہ ہم خود بند کرتے ہیں۔ 

اگر آئمہؑ کو حکومت کرنے اور احکام الہیٰ اجراء کرنے کا اگر موقع نہیں ملا تو آپ لوگوں نے نہیں کرنے دیا۔  یہاں  ہم شیعوں کا قصور نہیں بلکہ آپ کا ہے اور آپ کے وہ ظالم حکمران کہ جن کا آپ اتباع کرتے تھے اور انہیں اولامر کے طور پر دیکھتے تھے وہ ظالم حکمران باعث بنے ۔ اور آج جو امام زمانؑ عج ظہور نہیں فرما رہے تو اس کی وجہ ظلم ہے اور لوگ مکمل طور پر امام غائب کی نصرت کے لیے تیار نہیں ہو رہے تو اس میں بھی لوگ باعث ہیں کہ وہ غائب ہیں اور ہم امامؑ عج کے تصرفات سے محروم ہیں۔ ورنہ اللہ نے انہیں تصرفات کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اب جو امام تصرف  کرتا ہے تو اس کے لیے شرط ہے کہ لوگ اس کی مدد کریں۔ 

مثلاً ہمارے پیغمبرؐ آغاز اسلام میں مکہ میں بطور مبلغ بطور استاد تبلیغ کر رہے تھے اور بہت تھوڑے لوگ تھے جو راہ حق کی طرف آئے لیکن  لیکن جب مدینہ کے لوگوں نے مدد کی اور  پیغمبرؐ نے جب حکومت الہیٰ شروع کی تو اس میں اسلام کی کتنی تبلیغ ہوئی اور اسلام کو شان و شوکت حاصل ہوئی اور کتنے وسیع تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے اور جیسے جیسے پیغمبرؐ کا زمانہ حکومت گذرا تو اسلام پھیلتا گیا کیونکہ لوگوں نے تیاری کی اور نصرت کی۔ 

امیرالمومنینؑ ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ جب ظالموں کے خلاف اٹھے تو یہ لوگ ہیں کہ جو اپنے امام کے لیے باعث بنے کہ وہ اپنے مقاصد کو پورا کر لے اور یہ لوگ ہیں جو باعث بنے کہ ایک امامؑ کے مقاصد میں رکاوٹ بنیں۔ اور امامؑ پیچھے ہٹیں۔ یہ لوگ ہیں جو باعث بن رہے ہیں کہ امام مظلومانہ شہید ہوں ۔ یہ لوگ ہیں جو باعث بنے کہ امام نظربند رہیں۔  یعنی یہ لوگ ہیں جو ظالم کے ظلم کے خلاف نہیں اٹھ رہے اور اپنے امام کی مدد نہیں کر رہے ۔ تو یہاں اللہ کی طرف عضر نہیں۔ خدا نے اپنی جانب سے ایک کامل شخصیت کو کہ جسے اپنے تمام علم اور ضروری صفات کے ساتھ مزین کر کے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ لیکن یہ ہم ہیں جو اس کے مدمقابل اپنا فریضہ انجام نہیں دے رہے۔  یا جیسے پیغمبرؐ اصحاب کے ساتھ بیٹھتے تھے اور سوال و جواب سے اصحاب استفادہ کرتے تھے، اپنی تربیت کرتے تھے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے تھے۔ اور مبلغ بنتے تھے اور دور دور تبلیغ کے لیے جاتے تھے لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے تھے جو آتے تھے اور چلے جاتے تھے اور جب کوئی فتنہ و فساد ڈالنا ہوتا تھا تو پیغمبرؐ سے ابحاث لڑائی اور فتنہ کرتے تھے۔ تو پیغمبرؐ تو سب کے لیے لطف ہیں لیکن پھر کیوں کچھ لوگ استفادہ نہیں کرتے تھے۔ جیسے خدا بارش تو ساری زمین کے لیے برساتا ہے اور بارش سے سبزہ اور پھل اگتے ہیں لیکن پھر کیوں کچھ زمینیں بارش سے کیچڑ اور بدبو کرتی ہے۔ اور وہاں کے لوگ بارش سے پناہ مانگتے ہیں۔  

یہ چیزیں ، ظرفیت اور لوگ ہیں جو رکاوٹ ہیں وگرنہ پروردگار کے لطف میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ 

پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ان موضوعات پر زیادہ غوروفکر کریں اور موجودہ حالات کے مطابق خود کو تیار کریں۔ 
آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز 
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌏

درس امامت 4
فلسفہ وجوب عصمت اہل سنت کے نظریہ کی رد

 *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

*امام کے لیے عصمت کا وجوب ہے*
موضوع سخن  امام کے لیے عصمت کا وجوب ہے اور  ہم اس سے پہلے کشف المراد کی روح سے خود امامت کا فلسفہ اور امامؑ عج کے ہونے پر جو دلائل ہیں اور اس میں مختلف فرقوں کی اراء کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔ آج موضوع ہے کہ امامؑ کی جو صفات ہونی چاہیے اور اس میں سے اہم ترین صفت جو ہے وہ عصمت ہے۔ 

پچھلے درس میں عصمت کی تعریف بیان ہوئی تھی کہ
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ: 
عصمت  امرِ وہبی ہے یعنی خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے لیکن موجودہ علماء کہتے ہیں کہ نہیں عصمت امرِکسبی ہے۔ امام خود عصمت کو کسب کرتے ہیں۔ اور پھر وہ مقامِ امامت  کے اہل ہوتے ہیں۔ 

*عصمت کی تعریف:* 
عصمت ایک ملکہ ہے ۔ ملکہ صفت راسخ کو کہتے ہیں (جو واجبات کو ترک کرنے اور گناہ و اشتباہ او نسیان میں پڑنے سے روک دیتی ہے) اور یہ علم اور اللہ کی بارگاہ میں ارادہ اور عزم کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ یعنی فقط خدا کی اطاعت کروں گا اور نافرمانی سے بچوں گا۔ 

یہ دو چیزیں مل کر عصمت کو تشکیل دیتی ہیں 
*۔۔  ▪️امام کا علم ہے یعنی تمام حقائق کا علم، حلال و حرام کا علم،* 
*۔۔  ▪️پروردگار کی اطاعت کا ارادہ*

*تمام اسلامی مکاتب کا نقطہ نظر:* 🫴
آج جو مسئلہ موردِ بحث ہے وہ یہ ہے کہ تمام اسلامی مکاتب کا نقطہ نظر کیا ہے؟
 اسلامی مکاتب کے اندر شیعہ اثنا عشری اور اسماعیلیہ یہ دو ہیں کہ جو آئمہؑ کی عصمت کے قائل ہیں۔ باقی کوئی مکتب حتیٰ باقی شیعہ مکاتب جیسے زیدی ہے یا پھر اہلسنت مکاتب جیسے فرتہ اشاعرہ، ماتریدیہ ، معتزلہ وغیرہ ہیں۔ وہابی، اہل حدیث یعنی یہ سب امام کے لیے عصمت کے قائل نہیں ہیں۔

موضوع امامت میں  بحث ہم شعیہ اثنا عشری سے ہوتی ہے۔ اسماعیلیہ اس پر  اس بحث و مناظرہ سے خارج ہیں اثناہ عشری اور باقی مسلمان فرقوں کے اندر بنیادی طور پر زیادہ بحث ہوتی ہے۔ 

*دلائل* :🫴

یہاں کچھ دلائل ہیں جو علامہ حلیؒ اور خود صاحب تجرید نے پیش کئے ہیں :
*1۔ عصمت کے وجوب پر پہلی دلیل:* 🔹🔹
خواجہ نصر الدین طوسیؒ نے اور علامہ حلیؒ عصمت کے وجوب پر جو سب سے پہلی دلیل دی ہے وہ یہ ہے کہ: 
اگر ہم امام کے لیے عصمت کے قائل نہ ہوں  تو تسلسل لازم آئے گا۔ 

اب ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ تسلسل کیسے لازم آئے گا؟
وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی امت کے اندر امام کے وجود کا جو فلسفہ ہے وہ یہ ہے کہ: 
لوگوں کے اندر احتمال خطا ہے۔ اور لوگ اپنے امور اور کردار و گفتار میں معصوم نہیں ہیں  چاہے کوئی کتنا ہی نیک ہو لیکن احتمال خطا تو ہے اور اس کی ہم نفی نہیں کر سکتے۔ اب یہ جو عالم بشریت کسی وقت بھی احتمال خطا کے سبب ذلالت کا شکار ہو سکتا ہے تو یہاں ایک ھادی ہونا چاہیے جو فوراً ان کی اصلاح کرے اور انہیں درست راہ بتائے۔ 

*اب سوال یہ ہے کہ :*❓❓
آیا ھادی انہیں کی مانند ایک شخص ہے جس میں احتمال خطا پایا جائے یا پھر کوئی معصوم ہے۔ اور اگر وہ کوئی معصوم ہیں یعنی ہر طرح کی خطا سے پاک ہے پھر تو ہمارا مسئلہ حل ہے۔ لیکن اگر امام معصوم نہیں تو پھر وہ بھی خطا کر سکتا ہے اور اس کے لیے بھی ایک آدمی کی ضرورت ہے جو اس کی اصلاح کر سکتا ہو (ھادی 2)۔ ❓

اب ہم اس سوال کرتے ہیں کہ آیا وہ آدمی (ھادی 2) معصوم ہے اگر وہ معصوم ہے تو پھر ہمارا مسئلہ حل ہے کیونکہ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ امت کا ھادی معصوم ہونا چاہیے چاہے وہ نبی ہے یا امام۔ لیکن اگر وہ عام لوگوں کی مانند ہے  یعنی صاحب عدالت و تقویٰ ہے لیکن احتمال خطا ہے تو اگر وہ خطا کرے تو پوری امت کو انحراف کی طرف لے جائے گا اور اس کے لیے پھر ایک ھادی ہونا ضروری ہے تو یہ ہے تسلسل جو لازم آئے گا۔ یعنی اماموں کا ایک لامحدود سلسلہ کہ جس کا کوئی اختتام نہیں ہے۔ اور نتیجتاً اس طرح کا تسلسل شریعی اور عقلی اعتبار سے باطل ہے۔ بس آپ کو قائل ہونا پڑے گا کہ چاہے پیغمبرؑ ہو یا اس کا وصیؑ اس کے لیے معصوم ہونا ضروری ہے۔ تاکہ امت خطا اور انحراف سے بچ جائے۔ 

*کہتے ہیں کہ امام حسن عسکریؑ کے زمانے میں قم کے ایک فقہی تھے کہ جن کا نام سعد بن عبداللہ تھا۔  یہ امام عسکریؑ سے ایک سوال کرتے ہیں اور اتفاق سے امام مہدیؑ بھی وہاں موجود  ہیں اور اپنے بچپن کے زمانے میں ہیں۔ تو امام عسکریؑ نے فرمایا کہ یہ سوال میرے فرزند سے کرو۔* 


*اب سعد بن عبداللہ نے امام زمانؑ عج سے سوال کیا :*🌷
پروردگار ہمارے لیے کیوں امامؑ معین کرتا ہے اور ہم کیوں اپنے لیے امام مقرر نہیں کر سکتے تو وہاں امام زمانؑ عج نے عصمت کی بحث کو بیان فرمایا: 
*فرمایا* : 
تم جس شخص کو بھی امام بناؤ گے وہ اپنی طرف سے نیک عادل اور پاک و پاکیزہ ہو۔ تو آیا احتمال دیتے ہو کہ ممکن ہے کہ  یہ جو بظاہر پاک و پاکیزہ ہے یہ باطنی طور پر اتنا  پاک و پاکیزہ نہ ہو جتنا نظر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اپنے کوئی مقاصد اور اہداف ہو جنہیں وہ چھپاتا ہے۔ اور پھر یہ امت کو گمراہ کر دے۔ 

*کہا* ؛ مولاؑ عج احتمال تو ہے اور ہم اس کی نفی نہیں کرسکتے۔ 

*فرمایا* : اسی وجہ سے اللہ خود امام معین کرتا ہے کیونکہ وہ ظاہر کو بھی دیکھتا ہے اور باطن کو بھی۔ 

*دوسری دلیل:* 🔹🔹
*2۔ امام محافظ شریعت ہے:* 
دوسری دلیل جو علامہ حلیؒ اور صاحب تجرید نے پیش کی وہ یہ ہے کہ امام ؑ محافظ شریعت ہے۔ پیغمبرؐ وحی لانے والے ہیں اور امامؑ پر وحی نہیں آتی اور امام محافظ وحی و شریعت ہیں۔ اور محافظ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہو۔ اسی لیے نتیجہ یہ ہے کہ امام معصوم ہونا چاہیے۔ 

امامت چونکہ عقائد سے مربوط ہے اور عقائد کے حوالے سے گمراہی کا تصور سب سے بڑی گمراہی ہے جو پورے عمل کو فاسد کر دیتی ہے۔ 
مثلاً جنگ سفین، جنگ جمل ، جنگ نہروان میں امام کے تبدیل ہونے سے یعنی جن لوگوں نے جس کو اپنا امام بنایا تھا اس کے ایک فیصلے سے کچھ لوگ مرنے کے بعد جہنم جارہے ہیں اور کچھ لوگ مرنے کے بعد جنت۔  

یعنی ان جنگوں میں جو مقاتلہ ہوا تھا اور چاہے کوئی کتنا ہی پرہیزگار اور متقی تھا لیکن جسے اپنا امام  اور پیشوا بنایا تو یہ جنگ اسے جہنم میں کھینچنے کے لیے کافی ہے۔ 

*اب یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ شریعت کے محافظ کون کون ہیں؟*❓
یہاں اہلسنت کہتے ہیں کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ محافظ شریعت امام ہیں جبکہ قرآن ، سنت پیغمبرؐ اور اجماع مسلمین بھی محافظ شریعت ہے۔ 

*اب جواب یہ ہے کہ:* 
*قرآن محافظ شریعت نہیں :* 🫴
یہ شریعت کا ایک منبہ ہے لیکن محافظ شریعت نہیں ہے کیونکہ قرآن کے اندر کلیات بیان ہوئے ہیں جزیات بیان نہیں ہوئے ہیں۔ 
قرآن نے کچھ چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن وہ کیسے کرنا ہے اور کیسے انجام دینا ہے وہ سنت نبؐوی اور فرامین معصومینؑ بیان کرتے ہیں۔ 

اس کی جزیات اور تفصیلات آئمہ معصومینؑ عترت پیغمبرؐ بیان کرتے ہیں اسی لیے تو رسولؐ اللہ نے اپنے بعد فرمایا کہ قرآن اور اہلبیتؑ سے متمسک رہو۔ 

مثلاً اہلسنت کہتے ہیں کہ سنت بیان کی لیکن ہم کہتے ہیں کہ عترت بیان کی کیونکہ ایک قرآن ہے اور دوسرے اہلبیتؑ رسولؐ جو اس کے شاعرے ہیں۔ اس کی تشریح کرنے والے ہیں۔ 

*سنت نبویؐ محافظ شریعت نہیں ہے۔* 🫴
اہلسنت کہتے ہیں کہ سنت نبویؐ محافظ شریعت ہے۔ لیکن ہم کہیں گے کہ یہ جو سنت نبویؐ بیان ہوئی ہے یہ اسی دور کے تقاضوں کے لیے بیان ہوئی ہے  یا قیامت تک کے لیے عالم اسلام کو پیش آنے والی مشکلات اور انحرافات کے لیے بیان کی۔ 

یقیناً پیغبرؐ اکرم نے اس دور کے مطابق بیان کی اور باقی بیان  نہیں کی۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ پر  دین کامل ہوا ہے لیکن کامل بیان نہیں ہوا چونکہ صدر اسلام میں جتنی ضرورت تھی اتنا بیان ہوا۔ باقی رسولؐ اللہ نے اپنے خلفائے حقیقی کے لیے حصہ چھوڑا کہ وہ بیان کریں۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ امامت کا فلسفہ ایک یہ بھی ہے کہ دین بیان کرے۔ 

*دلیل* : 🫴
اگر ہم کہیں کہ سنت کافی تھی تو کیوں مسلمانوں کے اندر سو سال کے بعد حنفی، مالکی ، حنبلی ، شافعی نے کیوں قیاس کی طرف رجوع کیا اور کہا کہ ایسے ایسے مسائل پیش آرہے ہیں کہ جن کا حل نہ قرآن میں ہے اور نہ سنت نبویؐ میں ہے۔ نتیجتاً فقیہ جو ہے وہ اپنے قیاس سے فقہی مسائل کو حل کر رہا ہے اور پھر ان کے اندر اختلاف پڑ گیا کہ اس نے یہ فتویٰ دے دیا اور فلاں نے وہ فتویٰ دے دیا اور نتیجتاً ایک شریعت کی جگہ چار شریعت بن گئیں۔ 

*مثال* : ✨
ہاتھ کھول کر نماز پڑھیں یا باندھ کر اس پر چاروں فقہی متفق نہیں ہیں۔ 

اگر ساری چیزیں بیان ہوئی ہوتیں تو پھر قیاس و استحسان کی طرف جانے کی کیا ضرورت تھی اور پھر انہوں نے یہ کیوں لکھنا تھا کہ اگر ایک مسئلہ کا حل قرآن اور سنت میں نہیں ہے اور اجماع بھی نہیں ہوسکتا تو پھر فقہی اپنے ذہن سے اور قیاس و استحسان سے بیان کریں

جبکہ دین مکمل ہے تو پھر آپ کو ضرورت نہیں کہ آپ اپنی ناقص عقل سے دین کا مسئلہ حل کریں۔  یعنی دین کو لینے کے لیے امام ضروری ہے اور جس مولاؑ سے باقی ماندہ دین لینا تھا اس کی طرف یہ لوگ نہیں گئے اور اپنے ذہن سے دینی فیصلے کرنے لگے۔ نتیجہ انحراف پیدا ہوا۔ 

سنت ہمارے پاس دو شکلوں میں موجود ہے۔
باقی مکاتب اسلام میں دین 23 سالہ بیان ہوا ہے اور شیعہ مکتب کے پاس سلسلہ امامت 260 ھج تک رہا اور اتنا دین بیان ہوا کہ سارے مسائل حل ہو گئے۔ کیونکہ ہمارے پاس جو احادیث کا ذخیرہ ہے وہ دوسرے مکاتب سے کہیں زیادہ ہے۔ 

*ہمارے پاس  11 آئمہؑ نے بعنوان وصی پیغمبرؐ انہوں نے دین بیان کیا چاہے انہیں حکومت ملی یا نہیں ملی۔*
مثلاً جب بھی لوگ سوال کرتے تھے تو مولاؑ انہیں حل بتاتے تھے ۔ بعض مرتبہ راوی پوچھتے تھے کہ یہ جواب آپ کہاں سے دے رہے ہیں تو قرآن کی آیت بیان کرتے تھے یا فرماتے تھے کہ میں نے اپنے بابا سے انہوں نے اپنے جد بزرگوار سے انہوں نے رسولؐ خدا سے سنا
یعنی سلسلہ روایت میں دین بیان ہو رہا ہے۔ 

یعنی اگر ہم شعیہ احادیث کو اور اہلسنت احادیث کو جمع کریں تو شیعہ احادیث دس برابر زیادہ ہے۔ ان کے فقہا کا اور ہمارے فقہا کا  یہی فرق  ہے۔ ان کے فقہاء کا مسئلہ احادیث کا نہ ہونا ہے لہذا وہ اپنے قیاس سے مسئلہ کا حل کر رہا ہے۔ ہمارے فقہا کا مسئلہ احادیث کی کثرت ہے کہ ایک ایک موضوع پر اتنی کثرت سے احادیث موجود ہیں   وہ کئی کئی سال اس پر بحث کرتا ہے کہ ہم کس حدیث سے موجودہ دور میں استدلال کریں۔ 

*درس خارج میں اگر ہم جائیں کہ ایک فقہی مسئلہ میں ایک فقیہ کتنا عرصہ معصومینؑ کی روایات بیان کر رہا ہے اور آخرکار ایک روایت پرسند اور متن کے اعتبار سے اکتفا کریں گے اور اس پر وہ فتویٰ دے گا۔* 🌷

*مکتب تشیہو کے اندر کوئی فقیہ یہ جرت نہیں کرتا کہ اپنے قیاس سے کوئی فتویٰ دے کہ مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے بلکہ ہمارے پاس اتنے فرامین معصومینؑ ہیں اور احادیث ہیں کہ جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔* 

*اجماع* :🫴
تیسری دلیل اہلسنت کے علماء کہتے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ بن گیا تو ہم اجماع کے ذریعے حل کریں گے۔ اب سوال ہے کہ اجماع آپ کے اندر کون کرے گا آیا سارے غیر معصوم کریں گے تو پھر فرق کیا ہے؟ 

ایک غیر معصوم کی رائے یا مجموعہ امت غیر معصوم کی رائے ہو تو کوئی فرق نہیں دونوں گمراہ کرنے والی ہے۔ اور امت کہیں بھی جمع نہیں ہوتی۔ کیونکہ امت کا اطلاق ایک مکتب پر نہیں ہوتا تمام مکاتب پر ہوتا ہے۔ جو بھی کلمہ گو ہے امت ہے۔ 

 تو گروہ علماء  کا یہاں اجماع ہوا اور یہ غیر معصوم ہیں ان سے خطا ہو سکتی ہے۔ خطا جیسے فردی ہوتی ہے اسی طرح اجتماعی بھی ہوتی ہے۔ تو محافظ شریعت وہ بنے جو خطا سے پاک ہو۔ 

*نتیجہ : اجماع محافظ شریعت نہیں۔* 🫴

*قیاس* : 🤔
چوتھی چیز قیاس ہے بعض علمائے اہلسنت نے کہا کہ  اگر کسی مسئلے کا حل قرآن سے نہیں تو سنت سے سنت سے نہیں تو اجماع سے قیاس و استحسان سے حل کرو۔ جبکہ دین کا مسئلہ کوئی بھی اپنی رائے سے نہیں کر سکتا۔ اور قیاس کرنے والا سب سے پہلا شیطان تھا اور جتنے قیاس کرنے والے ہیں وہ ابلیس کے پیروکار ہیں۔ کیونکہ جب خدا نے ابلیس کو سجدہ کرنےکو کہا تو اس نے قیاس کیا کہ وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے یعنی اس نے مقائسہ کیا اور اپنے ذہن سے بہتر پا رہا ہے اور اپنی ذہنی رائے کو اللہ کے مد مقابل لایا۔ 

*اللہ تعالیٰ نے دین کامل بھیجا ہے جو لوح محفوظ پر بھی ہے اور پیغمبرؐ لائے اور ان کے بعد معصومینؑ کے پاس ہے۔* ✨

*قیاس ہمارے نزدیک حق نہیں ہے۔*

**اصول عملیہ:*🫴*
کچھ لوگوں نے اس کو دلیل بنایا کہ: 
 اصل بَرَات یعنی جب حکم شریعہ نہ ملیں تو آپ بری الذمہ ہیں۔ تو یہ تو حکم ثانوی ہے اور حکم ثانوی تب ہوتا ہے کہ جب حکم اولی کی گنجائش نہ ہو۔ یا ہم حکم اولی سے کلی طور پر لا علم ہوں۔ اور احکام ثانوی محافظ دین  نہیں ہیں اور پیغمبرؐ اکرم دین بیان کر گئے ہیں اب ہم نے ان ہستیوں سے دین لینا ہے جو معصوم امامؑ ہیں۔ 

قیاس اور اصول عملیہ میں فرق یہ ہے کہ وہ قیاس سے حکم اولیہ بناتے ہیں۔ اور اس کو واقیعت قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اللہ کا ایک حکم تھا لیکن چونکہ ہمارے فقیہ نے قرآن اور سنت میں تحقیق کی اور اس کو پتہ نہیں چلا اب اس نے جو سوچا اور جاری کیا خدا اپنا حکم مٹا دے گا  اس فقہی کا حکم لوح محفوظ پر لکھ دے گا۔  یعنی ایک ناقص العقل فقہی کا حکم اللہ کےحکم پر نافذ ہے۔ 
*نعوذ باللہ!*

*امیرالمومنینؑ سے لیکر امام حسن عسکریؑ تک جن ہستیوں نے دین کی حفاظت کی وہ آئمہ معصومینؑ ہیں۔* 🌷

*فلسفہ امامت دین اور اصل دین بیان کرنا ہے۔*

 *ہوسکتا ہے کہ یہاں اہلسنت سوال کریں کہ:* ❓❓
260 ھ تک آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد تو آپ ہم جیسے ہوگئے ہیں۔ آپ کے بھی فقہا ہیں اور ہمارے بھی اور ابھی آپ کو مسائل پیش آتے ہیں تو آپ فقہاء سے رجوع کرتے ہیں؟

جواب: ہمارے پاس اصل دین 99 فیصد بیان ہوچکے ہیں ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایک در صد مسئلہ رہ گیا ہو کہ جس میں ہمیں اصول عملیہ کی ضرورت پڑتی ہو  لیکن آپ کے پاس تو بے پناہ مسائل ہیں کہ جس میں آپ نے قیاس سے کام لیا ہے ۔ ہمارے پاس جو 260 ھ تک احادیث کا سلسلہ جاری رہا ہے اس سے ہمیں اتنی احادیث مل گئی ہیں کہ جو ہمارے لیے تا زمانہ ظہور کافی ہیں۔ کجا 23 سالہ احادیث کا ذخیرہ اور کجا ڈھائی صدیوں کا احادیث کا ذخیرہ۔ اور جب عصر ظہور ہوگا تو یہ ایک در صد مسائل بھی بیان ہونگے اور اس زمانے کے مسائل اور باقی ماندہ دین بھی امام مہدیؑ کے ذریعے بیان ہوگا۔ 
*انشاءاللہ* ۔🌷

والسلام🤲
تحریر و پیشکش:✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران 🌏*


درس عقائد (امامت):9📚

آئمہ علیہم السلام کی افضلیت


*🎤استاد محترم حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیقی صاحب*🌹



امامؑ کی عصمت پر سیر حاصل بحث ہو چکی ہے اور آج ہمارا موضوع گفتگو امامؑ کی افضلیت ہے۔

 
🌀 *آئمہؑ کی افضلیت* :🌀
ہو سکتا ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ آئے کہ امام کو افضل ہونا چاہیے لیکن اکثر مکاتب ہمارے مکاتب امام کی افضلیت کے قائل ہی نہیں اور کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ ایک امام، ایک جانشین پیغمبرؐ باقی لوگوں کی نسبت علم ، ایمان ، دین میں ناقص ہوسکتا ہے۔  ہم اکثر اس چیز کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ ان کی مجبوری تھی۔ 

اگر ہم غور اور تحقیق کریں تو اکثر علمائے اہلسنت کہتے ہیں کہ افضلیت ایک اچھی بات ہے لیکن معتبر نہیں ہے۔ مفضول یعنی افضل سے نیچے والا درجہ بھی خلیفہ ہو سکتا ہے۔ اور بعض ان کے علماء نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ خلفائے ثلاثہ امیرالمومنینؑ کی نسبت مفضول تھے اور مولا علیؑ کی فضیلت سب پر غالب ہے۔ البتہ آج کل تو تعصب اتنا بڑھ گیا ہے کہ جو بھی مولا علیؑ کی افضلیت کا قائل ہے وہ اسے رافضی کہنا شروع کر  دیتے ہیں۔ جبکہ پہلے ان کے اندر انصاف تھا اور وہ کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام تمام اصحاب سے افصل تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مولا علیؑ افضل تھے اور پیغمبرؐ اسلام کے بھائی تھے اور در علم اور ولی قرار پائے لیکن ان ساری چیزوں کے باوجود امت نے چونکہ خلفائے ثلاثہ پر اجماع کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ مفضول افضل کا حاکم بن سکتا ہے۔ 

ابن ابی الحدید معتزلی جس نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی ہے وہ خود اپنی اس شرح کے اندر لکھتا ہے کہ  📙

*"میں اس اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں جس نے مفضول کو افضل پر ترجیح دی۔"*🤔

یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی منشاء بھی اس میں شامل ہے جو امت کا انتخاب کیا ہوا ہے۔ (عقیدہ جبریہ)

*اب یہاں ہمارے اہلبیتؑ کے ماننے والے تین احتمال یہاں دیتے ہیں۔* 

1۔ 🌀جانشین پیغمبرﷺ کا رتبہ یا تو امت کے باقی لوگوں سے کم ہے۔
2۔ 🌀جانشین پیغمبر ﷺکا رتبہ یا تو امت کے باقی لوگوں سے مساوی ہے۔ 
3۔ 🌀 جانشین پیغمبر ﷺ کا رتبہ یا تو امت کے باقی لوگوں سے برتر ہے۔ 

*لیکن* !
وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو پہلا احتمال ہے یہ دو دلیل کی بنا پر باطل ہے:

1️⃣ *جانشین پیغمبرؐ کا رتبہ یا تو امت کے باقی لوگوں سے کم ہے۔:* 

مفضول کی فاضل پر تقدیم یا مرجوع کی راجع پر تقدیم  قوی ہے۔
(یہ ایک علمی اصطلاح ہے) یعنی وہ شخص جو افضل ہے شجاعت، علم اور دیگر لحاظ سے اس سے جو افضل نہیں ہے اس کو ترجیع دینا خود عقل بھی اس بات کی قائل نہیں ہے۔ 

یہ ایسے ہی مثال ہے کہ 👈ایک شاگرد اور ایک استاد جماعت میں بیٹھے ہوں اور آپ علمی مسئلے میں شاگرد کو استاد پر ترجیع دیں۔ دنیا کا کوئی بھی عقلمند انسان ایسا نہیں کرے گا۔ یہ بات خلاف فطرت ہے۔ 
 
اسی طرح👈 ایک جگہ پہ ایک بہت بڑا سکالر ہے اور اسی جگہ پہ اسی شعبے کا ایک چھوٹا سا عالم بیٹھا ہوا ہے  آپ آئیں اور اس ادارے کا سربراہ  بنا دیں تو ساری دنیا اس پر اعتراض کرے گی یہ دینی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قدرتی مسئلہ ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے پر سب کہیں گے کہ قبیح کام ہوا ہے اور جسے سب قبیح کہیں کیسے ممکن ہے کہ اللہ اسے پسند کرے۔ 

 *سورہ یونس کی آیت نمبر 35  میں پروردگار نے اصول بیان کر دیا ہے*🌸

 *اَفَمَنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَـهِدِّىٓ اِلَّآ اَنْ يُّـهْدٰى ۖ (35)*
تو اب جو صحیح راستہ بتلائے اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو خود راہ نہ پائے جب کوئی اور اسے راہ بتلائے۔
  
یعنی اب کس کی پیروی کرنی چاہیے آیا جو حق کا ھادی ہے اسی کی پیروی کی جائے یا جسے خود  ہدایت ہدایت کی ضرورت ہو اس کی پیروی کی جائے؟

خدا یہ خود سوال کرنے کے بعد فرماتا ہے: 🌸
*فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ    35*
سو تمہیں کیا ہوگیا کیسا انصاف کرتے ہو۔

یہ تو ایک سادہ سا مسئلہ ہے۔ یعنی خدا نے قرآن مجید میں اس چیز کی مذمت کی ہے یہ علمائے اہلسنت کا تعصب اور جہالت ہے کہ وہ پروردگار کی حمد وثنا کر رہے ہیں کہ خدا نے فلاں کو امیرالمومنینؑ پر مقدم کر دیا۔ خدا کیسے مقدم کر سکتا ہے۔ یہ تو تمھارا منتخب شدہ ہے اگر خدا کی مانتے تو امیرالمومنینؑ نے ہی خلیفہ بننا تھا ۔ جب تم نے خدا کی مانی ہی نہیں بلکہ خدا کے مدمقابل اپنا منتخب کیا ہوا لے آئے۔ 

یہاں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مکتب تشیہو عین فطرت ہے۔ اور ہمارے دشمن  کس طرح خلاف صداقت اور خلاف فطرت ہیں۔ 

بہت سارے لوگ جو ہدایت کے متلاشی ہیں کہ مذہب حق کیا ہے، مکتب حق کیا ہے؟ وہ اس کی تحقیق میں کوشاں ہیں۔ ان کے لیے اگر اس طرح کے نکات بیان کئے جائیں تو ان کے لیے یہ نکات بہت اہم ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان مکاتب کے اندر وہ کونسا مکتب ہے جو عقل اور فطرت کے مطابق ہے تو وہ فقط مکتب تشیہو ہے۔ 


2️⃣ *دوسرا احتمال بھی باطل ہے کہ مساوی ہونا چاہیے:* 

کچھ کہتے ہیں کہ امامؑ امت کے ساتھ مساوی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ 
*سوال یہ ہے* :
*جب دونوں مساوی ہیں تو آپ کو کیا حق ہے کہ آپ ایک کو دوسرے پر ترجیع دے رہے ہیں؟*❓❓

جبکہ اگر آپ نے کسی کو رہبر بنانا ہے تو کوئی نہ کوئی امتیاز تو ہونا چاہیے اور بغیر کسی امتیاز اور ترجیع کے یہ عقلاً قبیح محال ہے۔ 

قرآن مجید کے اندر اس دلیل کی حمایت میں مشہور آیت ہے: 🫴
فرمان پروردگار ہو رہا ہے کہ:

*سورہ الحجرات: 13*🌸
 *اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ* 
ے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، 
 
خدا نہ نسل، نصب، صحابی ہونے کو ، ملت ، جغرافیہ کسی بھی چیز کو کچھ اہمیت نہیں دے رہے ہے۔

خدا فرما رہا ہے کہ بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ وہ عزت والا ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ جو سب سے زیادہ خوف خدا رکھتا ہے، سب سے زیادہ لائق ہے۔ یعنی   پروردگار بھی جب خود جزا دے گا تو اس وقت بھی ایک ادمی کی صلاحیت اور اس کا عمل دیکھے گا ۔ 

*سورہ مومنون کی آخری آیات:*🌸
*فَاِذَا نُفِـخَ فِى الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَئِذٍ وَّلَا يَتَسَآءَلُوْنَ* (101) ↖
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان میں نہ رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔
*فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٝ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ* (102) ↖
پھر جن کا پلہ بھاری ہوا تو وہی فلاح پائیں گے۔
 *وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٝ فَاُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ خَسِرُوٓا اَنْفُسَهُـمْ فِىْ جَهَنَّـمَ خَالِـدُوْنَ* (103) ↖
اور جن کا پلہ ہلکا ہوگا تو وہی یہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کیا، ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔

اب یہ خوبیاں  کس لحاظ سے ہوں یعنی، نسلی، نسبی، روحی، خلقی ، اخلاقی تمام اعتبار سے ہونی چاہیے یعنی جس طرح نبیؐ کو تمام لحاظ سے افضل ہونا چاہیے اسی طرح ایک امام کو بھی ہر لحاظ سے افضل ہونا چاہیے۔ 


یہاں اہلسنت کے ایک مشہور اعتراض کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ:🫴

*اہلسنت کا ایک اشکال ہے کہ آپ کے سارے کے سارے آئمہؑ بنی ہاشم سے کیوں ہیں اور سارے باپ بیٹا ہیں؟ یہ تو خلاف جموریت اور خلاف عقل ہے؟ اور آپ جیسے امام صادقؑ کے کے فلاں بیٹے کو امام بنا رہے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ یہ ملت میں اس سے بڑا ایک شخص ہو یا آپ نے ایک ہی خاندان سے امام کا انتخاب کیوں کیا؟ یعنی جیسے آپ کی شرط ہے کہ امام کو سب پر فضیلت حاصل ہے تو ہوسکتا ہے کہ خاندان میں دو چار آدمیوں کے سوا کو قابل ہی نہ ہو؟ لیکن آپ نے تو جو کڑی چلائی ہے یعنی باپ کے بعد اس کا بیٹا تو یہ تو سلطانیت ہے اور یہ تو بادشاہت ہے؟*

*جواب* 🌟
 اس کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ امام ہر اعتبار سے افضل ہو حتہ نسب کے اعتبار سے بھی افضل ہو کل کوئی یہ نہ کہے کہ ہاں ادمی تو بڑا لائق ہے لیکن دنیاوی اعتبار سے اس کا نسب پست تھا۔

 اگرچہ خدا کے نزدیک روز اخرت نسب کی اہمیت نہیں ہے۔  لیکن! دنیا میں اہمیت ہے کیونکہ لوگ ظاہربین ہیں اور خدا اس چیز کا بھی خیال رکھتا ہے اس نے ہمیشہ انبیاؑء کا انتخاب بھی کیا تو اچھے خاندانوں سے کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کے اندر سب سے بہترین قبیلہ قریش کا تھا۔ اور قریش کے اندر سب سے شریف ترین ، مکرم ترین خاندان بنی ہاشم کا تھا اور پروردگار عالم آخری نبیؐ اسی خاندان سے لائے تو کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ اوصیاؑ کو کسی اور خاندان سے لائے۔ اور گھرانوں میں سے بھی سب سے افضل ترین گھرانہ نبیﷺ کا گھرانہ تھا۔ چونکہ ان کی اولاد میں فقط ایک ہی بیٹی تھیں۔ اگر جوچار بیٹیوں کے قائل ہیں تو بھی پیغمبرﷺ کی نسل ایک ہی بیٹی جناب سیدۃ انساالعالمین شہزادی فاطمۃ الزہرا علیہ السلام سے چلی ہے۔ اور جو پیغمبرﷺ کی نسل ہے وہ سب سے افضل ہے اور پوری روئے زمین پر اگر نسبی لحاظ سے کوئی افضل ترین خاندان تھا تو وہ عترت اہلبیتؑ تھی اسی لیے اللہ نے سارے امام عترت اہلبیتؑ سے قرار دیے۔ نہ کہ یہاں معیار کی مخالفت ہوئی ہے۔ آئمہؑ نسل، نسب اور اپنے امور کے لحاظ سے بھی سارے لوگوں سے افضل ہیں۔ 

*ایک مثال سے اس کو واضح کرتے ہیں:* 🫴
مثلاً امام رضاؑ کے زمانے میں امام رضاؑ کی مانند اور شخصیات بھی ہوں جو ان کے علم و شجاعت اور ہر چیز میں برابر ہوں ، تو بھی امام رضاؑ کو ایک فوقیت حاصل تھی اور وہ یہ کہ امام رضاؑ فرزند رسولﷺ ہیں۔ البتہ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ امام رضاؑ سے بڑھ کر کوئی اور صلاحیتوں میں ہو لیکن دنیا نے اس کودیکھ لیا اور اس حوالے سے بڑے بڑے مناظرے بھی ہوئے۔ یہ قانونِ پروردگار ہے کہ نبیؐ یا امامؑ کا انتخاب اول صلاحیتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور پھر نسب بھی اس کے اندر ہوتا ہے تاکہ کوئی اعتراض یا انگلی نہ اٹھائے کہ یہ کہاں سے آپ نے منتخب کیا۔  اس لیے یہ اللہ نے یہ سارے اشکال دور کئے  تاکہ لوگ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پڑ کر اصل ہدف یعنی ہدایت سے ہٹ نہ جائیں۔ اس لیے اولیت کے لحاظ سے نسب افضلیت ہےالبتہ قیامت والے دن کوئی نسب نہیں رہے گا اور وہاں معیار انسان کے اعمال ہیں۔ 

*سوال* : ❓❓
*کیا تمام سادات بنی ہاشم ہیں؟*
جواب: فقہی اعتبار سے تمام بنی ہاشم سادات ہیں۔ لہذا فقہی احکام میں سارے بنی ہاشم ہیں۔ لیکن اسی بنی ہاشم میں بنی فاطمہؑ کو فضیلت حاصل ہے۔ اس اعتبار سے کہ وہ اولاد پیغمبر ﷺ ہیں۔ 

*اس حوالے سے مناظرہ بھی ہوا تھا:*
روایت:🌟
 ایک مرتبہ ایک مناظرہ میں خلیفہ ہارون  نے امام موسیٰ کاظمؑ سے کہا کہ: 
 
اور بعض روایات میں ہے کہ  مامون نے امام علی ابن موسیٰ رضاؑ سے کہا کہ آپ بھی سادات ہیں ہم بھی سادات ہیں آپ بھی رسول اللہ ﷺ کے قرابت دار ہیں اور ہم بھی قرابت دار ہیں تو پھرکیا فرق ہے؟  ❓

امامؑ نے فرمایا کہ فرق یہی ہے کہ آج اگر رسول اللہ زندہ ہوں تو وہ تیری بیٹی سے تو شادی کر سکتے ہیں کیونکہ تو ان کے چچا کی اولاد میں سے ہے ۔
 *لیکن!*
 میری بیٹی سے شادی نہیں کرینگے کیونکہ وہ ان کی اولاد میں سے ہے۔ 

اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ان چیزوں سے درس حاصل کریں اور اپنے عقائد پہ غور و فکر کریں اور اپنے مذہب کی حقانیت پر انشاءاللہ خود بھی یقین پیدا کریں اور دوسروں کے لیے بھی یقین کی راہیں کھولیں۔ 
الہیٰ آمین۔🤲
والسلام
تحریر و پیشکش:✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍


درس عقائد
امامت: 10
پہلا حصہ 
امام پر نص اور الہیٰ تعیین کی ضرورت

*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹

عقائد شیعہ میں موضوع امامت ہے اور آج جو مسئلہ مورد بحث ہے وہ امام کا منصوص ہونا ہے۔ ہم اپنے دروس کو کتاب کشف المراد کی رو سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ ایک بہترین کتاب ہے جو صدیوں پہلے لکھی گئی۔ اور علامہ حلیؒ نے اپنے استاد خواجہ نصیر الدین طوسیؒ کہ جن کو بو علی سیناؒ کے بعد عالم اسلام میں دوسرا بڑا عالم اور محقق مانا گیا ہے۔ اور ان کے جو دروس تھے وہ کتاب تجرید العتقاد کی شکل میں سامنے آئے کہ جس کی شیعہ اور سنی مختلف علماء نے شروعات لکھیں ہیں۔ 

اس کتاب کی رو سے عصمت اور افضلیت کے بعد امامت کے حوالے سے جو اہم ترین مسئلہ ہے وہ امام کا منصوص ہونا ہے یعنی اللہ کی جانب سے تعیین ہونا ہے جس طرح ہم کہتے ہیں کہ نبیؑ اللہ کی جانب سے منصوص ہو یعنی اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ہو اور کوئی بھی شخص جو دعویٰ نبوت کرتا ہے لوگ اس کا دعویٰ فوری طور پر  قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ دلیل ہونی چاہیے کہ واقعی نبیؑ ہے یا نہیں۔ 

اس پر تع تمام عالم اسلام متفق ہے کہ نبیؑ منصوص اللہ ہوتے ہیں لیکن آیا امام بھی منصوص ہوتے ہیں یا نہیں تو اس پر مختلف مکاتب فکر ہیں جن کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہیں۔:

*عباسیہ:*
جناب علامہ حلیؒ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ہے عباسیہ جو کہتے ہیں کہ امام کا تعیین دو طریقے سے ہوتا ہے
1۔ نص (یعنی خدا اور رسولﷺ کی جانب سے ہو)
2 وراثت

عباسیہ کہتے ہیں کہ نص تو ہے نہیں لیکن وراثت تھی۔ اور چونکہ ان کی کوئ اولاد (بیٹا) نہیں تھا اس لیے اب امامت کے مسئلے میں ان کے چچا جناب عباس ان کے وارث ہوگئے۔ اب یہ ایک عجیب بات ہے کہ کس طرح امامت کہ جو ایک الہیٰ منصب ہے اسے انہوں نے وراثت میں تبدیل کر دیا۔ اور پھر چچا کو وارث بنا دیا۔ یہ ایک مفروضہ ہے کہ جس کو شیعہ اور سنی سب باطل قرار دیتے ہیں۔ 

یہ ایک غیر منتقی بات تھی کہ جس پر بحث فضول تھی اور فرقہ عباسیہ بھی ختم ہوگیا۔ 

*فرقہ زیدیہ:*
یہ فرقہ خود کو  شعیت سے منسوب کرتا ہے اور امام سید سجادؑ کے فرزند جناب زید کی نسل میں سے ہے۔ زیدیہ یہ کہتے ہیں کہ انتخاب کے  دو راستے ہیں۔ 
1۔ نص
2۔ وہ خود اپنی جانب دعوت دے

لہذا وہ یہ کہتے ہیں کہ نص تو ہے نہیں لہذا اگر کوئی سید خود اپنی جانب دعوت دے اور سیدہ فاطمہؑ کے گھرانے سے ہو اور وہ تلوار کے ساتھ قیام کرے اور لوگوں کے درمیان امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرے اور دین کے اجراء کی ذمہداری بھی لیتا ہو تو لوگوں کو چاہیے کہ اسے امام مان لیں۔ 

اب اس نظریہ پر بھی دلائل ہونے چاہیے کہ اگر ایک ہی وقت میں پچاس آدمی کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ ہم یہ سب کر سکتے ہیں تو کیا امت پچاس آدمیوں کو امام مان لے گی؟

اور پھر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے آیا قران اور حدیث میں ثابت ہوتا ہے ۔ اسی لیے یہ ایک فضول بات تھی ااور دلیل نہ ہونے کی وجہ سے یہ رد ہو گئی۔

*اہلسنت:*
اسی طرح اہلسنت بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر نص ہے تو ہم مانتے ہیں ۔ کیونکہ یہ خدا اور رسولﷺ کی جانب سے ہے لیکن اگر نہیں تو پھر اس کو لوگوں پر چھوڑا جائے کہ وہ اسے مل کر ایک اکثریت آراء سے یا اجماع سے اور شوریٰ کی شکل میں اپنے لیے امام مقرر کریں۔ جیسا کہ مسلمانوں نے اپنے لیے ابوبکر بن کہافہ کو بطور خلیفہ مقرر کیا۔ 

رسول خداﷺ نے امت کو  ہر مسئلہ سے روشناس کروایا ہے۔ یہاں تک کہ طہارت کے مسئلہ کو بھی بتایا ۔ کہ بیت الخلاء میں سب سے پہلے کون سا قدم رکھنا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول خداﷺ نے یہ نہ بتایا ہو کہ میرے بعد امت  کا امام کون ہوگا۔ اور دین کو کس نے جاری رکھنا ہے۔ 

*شعیہ اثنا عشری:*
شعیہ اثنا عشری کہتے ہیں کہ امام کے حوالے سے تنہا ترین راستہ نص ہے۔ امام اللہ کی جانب سے تعیین ہو اور اس کا اعلان پیغمبرﷺ کریں اور یہ جو آپ اہلسنت کہتے ہیں کہ امام کا انتخاب ہونا چاہیے یہ دو جہت سے باطل ہے 

1۔ ہم نے پہلے سے ثابت کیا کہ امام ؑ معصوم ہو۔ اور جب ہم نے کہا کہ امامؑ کی عصمت شرط ہے تو ہم نے یہ بھی ثابت کیا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی امام کی عصمت سے آگاہ نہیں ہے کیونکہ عصمت ظاہری نہیں بلکہ باطنی مسئلہ ہے تو پھر جب اللہ کے سوا کوئی بھی افراد امام کی عصمت کے بارے میں اطلاع نہیں رکھتے تو پھر غیر خدا یہ لیاقت ہی نہیں رکھتا کہ کسی کو بھی امام بنائے۔ 

ہمارے پاس سیرت نبویﷺ ہے۔ 

ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبرﷺ اسلام نے ہر چیز کے اندر حکم بیان کیا ہے کہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس میں سنت بیان نہ ہوئی ہو۔ اس حوالے سے قرآن کا حکم ہے یا سنت نبویﷺ کا حکم ہے۔

دین میں الف سے ی تک تمام مسائل بیان ہوئے ہیں کہ جن میں واجبات ، مستحبات، اور مکروہات کو بیان کیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امامت جیسے اہم مسئلے کو بیان نہ کیا گیا ہو۔ کہ وہ ہستی کہ جس نے دین کو جاری رکھنا ہے اور دین کا دفاع کرنا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ نے اسے کے لیے کچھ نہ بیان کیا ہو۔ اور پیغمبر ﷺ اتنے اہم مسئلے کو بیان نہ کریں۔ 

برھان لمی اور برھان انی:
لہذا علامہ کہتے ہیں کہ سیرت نبویﷺ جو علمی اصطلاح میں ہمارے لیے برھان لمی کا درجہ رکھتی ہے۔ 

*برھان لمی:*
یعنی معلول سے علت تک پہنچنا 
اور 
*برھان انی:* 
یعنی علت سے معلول تک پہنچنا 


والسلام
تحریر و پیشکش:
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌏

درس عقائد
امامت: 10
دوسرا حصہ:
امام علیؑ کی خلافت بلافصل پر علامہ حلی کے دلائل


*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹

پانچواں مسئلہ جو علامہ حلیؒ نے بیان کیا وہ مولا علیؑ کی امامت بلافصل پر ہے۔ اہلسنت کے اندر بھی بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ خصوصاً ان کے جدید دانشور جو آج کل سوشل میڈیا پہ خود کو اہلبیتؑ کا بڑا حامی ثابت کرتے ہیں اور شیعہ بھی ان کی جانب بڑے مائل ہو رہے ہیں۔  لیکن ! ان کی چالاکی یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ مولا علیؑ کو ہم صحابہ میں افضل بھی مانتے ہیں اور خلیفہ بھی مانتے ہیں لیکن بلافصل نہیں مانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بلا فصل یہ نہیں بلکہ وہ ہے کہ جس کو لوگوں نے بنایا ہے۔ 

*پیغمبرﷺ کا حقیقی معنوں میں بلافصل خلیفہ کون ہے؟*
علامہ حلیؒ نے چند سو سال قبل اس سوال کا جواب دیا 
کہتے ہیں کہ:
" ہمارے عقیدے کے مطابق حضرت علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے بارہ دلائل دیے۔ "

اہل ممبر اور خطیب ممبر پر لفاظی کرتے ہیں تاکہ لوگوں سے داد وصول کر سکیں۔ لیکن ! علمی مقام پر اگر کسی مخالف سے گفتگو کرنی ہو تو ہو سکتا ہے کہ وہ دلیل نہ ہو۔ دلائل دینی مدارس میں جو ماہرین بیٹھے ہوئے ہیں اور جو ان کی اس موضوع پر کتابیں ہیں ان سے لینے چاہیے۔ 

علامہ حلیؒ جو ایک جامعہ اور جمیع شخصیت ہیں کہ جو فقہی بھی ہیں اور ایک بہترین متعلم بھی ہیں۔ عقائد کے ماہر ہیں۔ وہ محدث بھی ہیں اور واقعاً علامہ تھے۔ 

*امیرالمومنینؑ کی خلافت بلافصل پر علامہ حلیؒ کے 12 دلائل:*🫴

*1 دلیل*
ہم نے پچھلی گفتگو میں ثابت کیا کہ امام معصوم اور منصوص ہو اب ہم آپ کے لیے واضح کریں گے کہ عصمت اور نص مولا علیؑ کے ساتھ خاص ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:

اسلامی امت دو حصوں میں تقسیم ہوئی:
1۔ اہلسنت اور زیدیہ:
جو عصمت اور نص کو شرط نہیں جانتے
2۔ شیعہ اثنا عشری:
جو عصمت اور نص کو شرط جانتے ہیں۔
 
جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اور اس کا بتلان ثابت ہو چکا ہے کہ وہ لوگ جو نص اور عصمت کو شرط نہیں جانتے ان کا نظریہ باطل ہے۔ 

جب ہم یہ پہلے بیان ہو چکا ہے تو قول حق ثابت ہو جاتا ہے کہ گروہ دوم یعنی امامیہ حق پر ہیں۔ اس لیے کہ وہ نص اور عصمت کو معتبر جانتے ہیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ پس اگر پیغمبرﷺ کے بعد کوئی امام ہیں تو وہ امام علیؑ ہیں کیونکہ امام علیؑ سے ہٹ کر اصحاب میں سے کوئی بھی شخص چاہے جن کو آپ خلیفہ مانتے ہیں وہ نہ تو معصوم ہے اور نہ ہی منصوص ہے۔  

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اہلسنت بھی یہی کہتے ہیں کہ خلفاء راشدین نہ معصوم ہیں اور نہ ہی منصوص ہیں۔

*علامہ حلیؒ فرماتے ہیں* 
اس سے یہ ثابت ہوا کہ واحد امام کہ جس کے نص اور منصوص ہونے پر شعیہ دلائل ہیں وہ مولا علیؑ ہیں۔ 

اب ہو سکتا ہے کہ کوئی اہلسنت یہ کہے کہ امام کی عصمت کو تو ہم مان گئے لیکن آپ نص پر دلائل قائم کریں۔ 

*2 دلیل:*
علامہ حلیؒ مولا علیؑ کی امامت پر بعنوان نص دلائل پیش کرتے ہیں۔ 
شعیہ کے نزدیک جو نصوص ہیں وہ تواتر کی حد تک ہیں یعنی بہت زیادہ ہیں۔ ( تواتر یعنی موضوع پر کثرت کے ساتھ آیات ، احادیث اور روایات ہوں کہ ہم یقین پر پہنچ جائیں)۔
*1۔ آیت عشیرہ:*
*وَاَنْذِرْ عَشِيْـرَتَكَ الْاَقْـرَبِيْـنَ (214)*
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: 
پیغمبرﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے

اب یہاں تاریخ اور سیرت نبویﷺ کی کتابیں ہماری مدد کریں گی کہ رسولؐ اللہ نے حضرت ابوطالبؑ اور مولا علیؑ کے ساتھ مل کر خاندان عبدالمطلب کے لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا اور سب جب اکھٹے ہو گئے اور کھانا کھا لیا تو آپؐ نے فرمایا کہ: 

کون ہے جو میرا وزیر اور مددگار بنے تاکہ میں اسے اپنے بعد جانشین اور اپنا خلیفہ اور وصی قرار دوں تو وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ علیؑ نے فرمایا کہ میں آپ کا مددگار اور وصی ہوں اور رسولؐ خدا نے بھی قبول کیا کہ علیؑ ہیں جو میرے بعد میرے وصی اور خلیفہ ہیں۔ اور میں آپ سب پر یہ واجب قرار دیتا ہوں کہ میرے بعد آپ سب لوگ ان کی گفتگو کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ 

یعنی دعوت ذوالعشیرہ کہ جس میں رسولؐ اللہ نے پہلے اپنا دین بیان کیا پھر  اپنی بعثت اور نبوت کا مقصد بیان کیا اور پھر فوراً اپنے خاندان سے اپنا ناصر اور مددگار مانگا کہ جو ان کا وزیر بنے اور اس وقت کوئی کھڑا نہیں ہوا سوائے مولا علیؑ کے کہ جنہوں نے لبیک کہا اور فرمایا کہ یا رسولؐ اللہ میں آپؐ کی بیعت کرتا ہوں اور میں حاضر ہو کہ آپ کی مدد کروں۔ اور پھر پیغمبرﷺ نے اسی وقت مولا علیؑ  کو اپنا وزیر ، وصی اور جانشین مقرر کیا۔ 

دعوت ذوالعشیرہ کا یہ واقعہ شیعہ اور سنی دونوں تاریخ نے لکھا ہے۔ 🫴

تو جناب علامہ حلیؒ کہتے ہیں کہ آغازِ نبوت تھا اور پیغمبرﷺ نے آغاز نبوت میں ایک ہستی یعنی مولا علیؑ کو بطور جانشین مقرر کیا۔ اور یہ مولا علیؑ کی خلافت بلافصل پر پہلی تعیین ہے۔ 

*دوسرا انہوں نے کہا کہ ہم سنی شیعہ کتابوں میں ایسی روایات کثرت سے دیکھ رہے ہیں کہ جس میں رسول اللہ نے  کئی بار کہا کہ:*

" اے علی تو میرا بھائی ہے میرا وصی اور خلیفہ ہے اور دین میں قضاوت کرنے والا ہے۔  
*فَقالَ وَالْمَلَاُ أَمامَہُ مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعادِ مَنْ عَادَاہُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ*
پس فرمایا آپ نے جماعت صحابہ سے کہ جسکا میں مولا ہوں پس علیؑ بھی اسکے مولا ہیں اے معبود محبت کراس سے جو اس سے محبت کرے دشمنی کر اس سے جو اس سے دشمنی کرے مدد کر اسکی جو اسکی مدد کرے خوار کر اسکو جو اسے چھوڑے

*وَقالَ أَنَا وَعَلِیٌّ مِنْ شَجَرَةٍ واحِدَةٍ وَسائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتَّیٰ*
فرمایا میں اور علیؑ ایک درخت سے ہیں اور دوسرے لوگ مختلف درختوں سے پیدا ہوئے ہیں

*وَأَحَلَّہُ مَحَلَّ ھَارُونَ مِنْ مُوسی فَقال لَہُ أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ ہارُونَ مِنْ مُوسی إلَّا أَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی*
اور علیؑ کو اپنا جانشین بنایا جیسے ہارونؑ موسیٰؑ کے جانشین ہوئے پس فرمایااے علیؑ تم میری نسبت وہی مقام رکھتے ہو جو ہارونؑ کو موسیٰؑ کی نسبت تھا مگر میرے بعد کوئی نبیؐ نہیں
( دعائے ندبہ )📚

اس طرح کے جملے ہم بار بار دیکھتے ہیں اور اس سے بھی مولاؑ کی بلافصل خلافت ثابت ہوتی ہے۔ 

*اِنَّ ھٰذَا اَخِیْ وَ وَصِیِّیْ وَ خَلِیْفَتِیْ فِیْکُمْ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَ اَطِیْعُوْا*
’’بیشک یہی میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ ہے۔ پس اس کی بات غور سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘ [تاریخ طبری، ج ۲، ص۳۱۹-۳۲۱]📚

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ 12 ذوالحجہ کو جب مسلمانوں کے درمیان اخوت برقرار کی گئی اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی قرار دیے گئے تو مولا علیؑ نے عرض کی کہ یا رسولؐ اللہ آپ نے سب مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا لیکن میں کس سے اب اپنا عقد اخوت برقرار کروں: 

*آپﷺ نے فرمایا کہ:*
یا علیؑ کیا تو اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میرا بھائی قرار پائے اور میرے بعد خلیفہ بنے اور پھر رسولؐ اللہ نے مولا علیؑ کے ساتھ عقد اخوت کو برقرار کیا۔ اور یہ جملہ کہا کہ 
*انت خلیفتی من بعد*
ایسا کیوں کہا؟ تاکہ لوگوں کو واضح ہو کہ میرے بعد میرا بھائی علیؑ ہی خلیفہ ہے۔ 
📒
اسی طرح سنی شعیہ کتابوں میں یہ بھی روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے مولا علیؑ کو امیرالمومنینؑ کا لقب دیا۔ اور فرمایا: 
تم امیرالمومنینؑ ہو تم امام المتقین ہو۔ تم روز محشر ان لوگوں کے آگے آگے ہوگے کہ جن کے چہرے سفید ہونگے۔

اسی طرح یہ بھی روایت موجود ہے: 
میرے بعد علیؑ ہی ہر مرد و زن کا ولی ہے۔ 


آخری اعلان خلافت–غدیر خم: زید بن ارقم سے روایت ہے کہ جب حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت حضرت رسول اللہﷺمقام غدیر خم پر پہنچے تو انہوں نے وہاں تمام حاجیوں کو اپنے عنقریب دنیا کو الوداع کہنے کی خبر دی اور وصیت کے طور پر مسلمانوں کو ثقلین یعنی قرآن مجید اور ان کے اہل بیت� سے متمسک رہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ میرا مولا ہے اور میں تمام مومنین کا مولا ہوں۔‘‘ پھرآپ نے امام علی  کا ہاتھ تھام کر ارشاد فرمایا
*مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ*
’جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علیؑ مولا ہیں۔‘ [فضائل الصحابہ، امام  نسائی، ص ۱۵] 

(ابھی کچھ نصوص بیان کی گئی ہیں۔)

یہ ساری نصوص کو علامہ حلیؒ ایک فکر پر لا رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر آپ ساری  نصوص کو ایک ایک کر کے پڑھیں تو آپ خود تواتر کی حد تک پہنچ جائیں گے۔ کہ اگر کوئی ہستی جو رسولؐ خدا کے بعد بلافصل خلیفہ ہے تو وہ مولا علیؑ ہیں۔  

نبیﷺ نے یہ چیز ایک بار نہیں بلکہ بارھا اور کئی انداز سے کہی ہے۔ جیسے کبھی شب ہجرت اپنے بستر پر امام علیؑ کو سلا کر، کبھی مختلف غزوات میں انہیں علمبردار بنا کر ، کبھی اپنے اور ان کے درمیان موسیٰؑ اور ہارونؑ کی نسبت کو دے کر، کبھی نصاریٰ نجران کے خلاف مباہلہ کے وقت انہیں اپنا نفس و جان بنا کر۔

جاری ہے۔ 📝

والسلام،
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌏




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات