Course 2 Book 5 Me
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*بدھ 12 ذوالحجہ 1445 ( 19 جون ,2024)*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
*درس* 1
وجوب امام زمانہ عج شیعہ اثنا عشریہ کے رو سے
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،
📖گفتگو کا موضوع:
وجوب امام زمانہ عج شیعہ اثنا عشریہ کے رو سے ،
بحث امامت میں دو قسم کے بحثیں موجود ہے۔
1: امامت عامہ
2: امامت خاصہ ،
1: امامت عامہ : یعنی امام کی تعریف کیا ہے؟
امام کی ضرورت کیا ہے،
امام کے صفات کیا ہے؟
امام کے ہونے سے اسلامی معاشرے کو کیا کیا فوائد حاصل ہونگے ؟
*امامت خاصہ،*
یعنی کسی خاص امام کے امامت کو موضوع بحث قرار دینا ، اس امام کے امامت پر کیا دلائل ہیں موافقین کیا کہتے ہیں ،منافقین کہتے ہیں، خاص امام جیسے کہ امام علی ع یا اور کوٸی امام ،
شیعہ اور سنی کتب اور مکاتب میں امام اور امام زمانہ عج کے وجود مبارک پر کوٸی اختلافی راٸے نہیں لیکن امام کے انتخاب اور خدا کے طرف سے معین ہونے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
اہلسنت کے نظر میں مسٸلہ امامت وجوب فقہی ہے۔
اور تشیع کے نظر میں مسٸلہ امام وجوب کلامی ہے۔
تشیع کا یے عقیدہ ہے کہ امام پروردگار کے طرف سے نصب ہوتا ہے ،،
امامیہ کا نظریہ یہ ہے کہ پروردگار کی حکمت لطف الٰہی کا یہ تقاضا ہے کہ خدا امام کو ہماری لیے نصب کرے تاکہ ہم گمراہی میں نہ پڑیں،
شیعہ عالم دین خواجہ نصیر الدین طوسی ،اپنے کتاب میں لکهتے ہیں،
امام کا منصوب ہونا لطف پروردگار ہے کیونکہ امام لوگوں کو اطاعت پروردگار کے قریب کرتا ہے ،اور گناہ سے دور کرتا ہے اور یہ لطف پروردگار پر واجب ہے،
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*سوموار 17 ذوالحجہ 1445 ( 24 جون ,2024)*
*شہر بانو*🤷🏽♀️
*مہدویت کورس 2 خواہران*
# *پانچویں کتاب :امام مہدی عقل و منطق کی رو سے*
# *دوسرا درس*
# *موضوع :وجوب امام اسماعیلیہ اور زیدیہ کی رو سے*
# استاد معظم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب 🌹
# عالمی مرکز مہدویت🌐
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،
📖گفتگو کا موضوع:
وجوب امام اسماعیلیہ اور زیدیہ کی رو سے
پچهلے درس میں ہم نے شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ بیان کیا ، اس کے علاوہ دو اور شیعہ فرقے اس وقت موجود ہیں اور معروف ہیں،
1: اسماعیلیہ یہ جس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں آغاخانی فرقہ اور بہرے ہیں،
اسماعیلی انہوں نے امام موسیٰ کاظم ع کے امامت کا انکار کیا، تو یہ فرقہ امام صادق علیہ السلام کے بیٹے جناب اسماعیل کے نام پر قائم ہوا ہے کیونکہ اس وقت کچھ لوگ اس بات پر عقیدہ رکھتے تھے کہ امام کا بڑا بیٹا ہی امام بنے گا جو کہ جناب اسماعیل سب سے بڑے تھے امام صادق علیہ السلام کے تمام بیٹوں میں سے تو ان کی زندگی میں ہی ان کی امامت کے قائل تھے لیکن جناب اسماعیل جو ہیں وہ امام صادق علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پاگئے امام جو ہے وہ امام موسی کاظم علیہ السلام بنے،
اسماٸیل کے بعد لوگوں کا اس طرح کا عقیدہ تھا وہ قائل تھے اسماعیل کے بیٹے محمد کے امام کا عقیدہ رکھا اور امام کاظم علیہ السلام کی امامت کا انکار کیا تو اس طرح ان کے اندر مختلف لوگ امام کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے رہے اور یہ باطل فرقہ جو ہے مختلف ادوار میں موجود رہا پھر اس سے کوئی فرقہ نکلا اس نے افریقہ کے ممالک میں فاطمی حکومت کو بھی قائم کیا اسی طرح ان سے ایک فرقہ نکلا جس نے بہت زیادہ تباہی مچائی حجاج کرام کا قتل عام کیا اور بے گناہ مسلمانوں کو کو اذیت دی اسی طرح ان سے حسن بن صباح اور جنہوں نے دنیا میں جنت بنائی گئی تھی اور عالم اسلام کی اہم شخصیات کو قتل کرواتے تھے،
ایک اور فرقہ جو آغا خانی جو گلگت بلتستان کراچی کراچی اور بھی کچھ شہروں میں موجود ہیں ،
اس طرح بوھرے ہیں جو کراچی میں ہیں انڈیا گجرات میں ہیں،
بوھرے وہ پھر بھی ظاہر اسلام کی رعایت کرتے ہیں نماز روزہ حج لیکن یہ جو آغا خانی جوں ہیں بہت سارے اسلامی ارکان کو چھوڑ چکے ہیں اور یہ پچھتر باطنی روح کی پاکیزگی کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ظواہر کی رعایت نہیں کرتے ظاہری ارکان اسلام کی ادا نہیں کرتے،
ان کا جو امامت کے حوالے سے اسماعیلیہ کا عقیدہ ہے وہ ہماری ہے طرح ہے یہ کہتے ہیں خدا جو ہے وہ امام کو معین کرتا ہے لیکن فلسفہ یہ بتاتے ہیں کہ اس لیے امام کا معین کرتا ہے کہ تمام انسان کو خدا کی معرفت کی تعلیم دے ،جیسے معروف المقداد اسماعیلی فرقے کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اسماعیلی امام کو ذات خدا پر واجب قرار دیتے ہیں،
تاکہ انسان کو خدا کی معرفت حاصل ھو،
اب اپنا نظریہ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عالم امکان ہے اس کے دو حصے ہیں یعنی جس میں یہ مخلوقات ہیں اور شہادت یہ ظاہر میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ،
اور پھر یہ اسماعیلیہ لوگ ہیں وہ امام کے مرتبہ کو پیغمبر سے بھی بلند سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام کے بغیر خدا کی معرفت ممکن ہی نہیں اور امام جو ہے وہ خدا اور اس کی مخلوق کے درمیان مقام رکھتا ہے ، امام جلوہ ہے پروردگار کا، اب یہ اس طرح کی جو بے بنیاد باتیں ہیں کہ جن پر کوئی دلیل کوئی حدیث نہیں اور یہ فرقہ باعث بنا ہمارے اندر مختلف قسم کے غل پھیلنے کا اس وقت دیکھیں تو شیعوں کے اندر جو بعض امام کا مقام پیغمبر سے بڑھا دیتے ہیں اور بعض ہیں اور غیب کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ امام کی شکل میں خدا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی اسماعیلیہ لوگ ہیں اور ان کے اندر جو آغا خانی تھے ان کی وجہ سے افسوس ہوتا ہے،
کہ شیعہ اثنا عشریہ لوگوں کے اندر بھی اس طرح کے فرقہ سمجھا جاتا ہے،،
دوسرا وہ فرقہ زیدیہ ہے یہ وہ ہے کہ جو امام سجاد علیہ السلام کے بعد حضرت زید کی امامت کے قائل ہوئے اور امام باقراور امام صادق علیہ السلام کے امامت کے منکر ہیں، اور انکے بعد ان کا بیٹا یحییٰ بن زید اور اس طرح اس نسل سے آنے والے اور امام حسن علیہ السلام کی نسل سے آنے والے حسنی سادات میں جن لوگوں نے امامت کے جھوٹے دعوے کیے یا مہدویت کے دعوے کیے یہ ان کی امامت اور مسجد کے قائل ہیں ابھی تک ان کے اندر 110 سے زیادہ امام جو ہیں وہ گزر چکے ہیں،
یہ لوگ جو ہیں بظاہر شیعہ فرقہ کھلاتے ہیں پر اہلسنت کی فقہ پر عمل کرتے ہیں ابو حنیفہ کے ماننے والے ہیں اور ادھر جو ہے جناب آپ کو بھی یہ مانتے ہیں کہ عجیب مخلوق ہیں ان کا مذہب میں فرق یہ بھی اہل سنت کو شیعہ فرقہ کہتے ہیں،
توحید کے اندر امامت کے موضوع پر ہماری گفتگو ہو رہی ہے تو یہ بھی امامت کے موضوع پر دو طرح کے نظریات میں تقسیم ہو چکے ہیں اس کے بعد جو ہے وہ کہتے ہیں کہ امامت خدا پر واجب ہے خدا ہمارے لئےاما کو معین کرے لیکن اکثر انکے کہتے ہیں کہ نہیں اس کا اہل سنت کے طرح ہے ان کی مانند ہیں یہاں پر واجب ہے کہ وہ اپنے لئے امام معین کریں،
تو یہ کہتے ہیں کہ امام جو ہے وہ سید ہونا چاہیے علم ہونا چاہیے اور جنگ کرنے والا نہیں چاہیے تعلیم دینے والا بنانے والا ہدایت کرنے والا نہیں ہونا چاہیے،
شیعہ اثنا عشری فرقے کے ساتھ ان کے اختلافات ہیں انہیں بھی پوری دنیا میں تاریخ کے مختلف ادوار میں کئی حکومتیں قائم کیں اس وقت بھی یہ پچھتر جو ہیں وہ سامنے ہیں اور وہ ان ممالک میں موجود ہیں تو بظاہر یہ ہے کہ شیعہ فرقہ کے کہلاتا ہے لیکن اصل میں بیشتر جو ہیں اہلسنت کے ساتھ جو ہیں وہ مشابہ ہیں یہ فرقہ زیدیہ کی ہماری بات ہوئی ہے۔
پھر اس کے بعد ہم جو ہیں وہ اہلسنت کے عقیدو کے اندر گفتگو شروع کریں گے کہ ان کا امامت کے بارے میں کیا نظریہ ہے ،،،
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
*مہدویت کورس 2* ۔
*درس نمبر 3*
*کتابچہ نمبر 5*
*امام مہدی عقل و منطق کی رو سے*
*موضوع_ اہل سنت کے کلامی اور عقائدی مقاتب فکر کا نظریہ*۔
السلام علیکم۔
*خلاصہ درس*
اس درس میں استاد صاحب آغا علی اصغر سیفی صاحب نے اہل سنت کے مختلف مکاتب فکر کے حوالے سے گفتگو کی ہے کہ وجوب امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں ان کے کیا عقائد ہیں۔
اس سے پہلے ہم مکتب تشیع اور دیگر مکاتب جیسے *اسماعیلیہ* ۔۔ *زیدیہ*وغیرہ ۔۔ان کے عقائد کے بارے میں جان چکے ہیں۔
⬅️ اب اہل سنت کے عقائد کے حوالے سے جو مکتب ہیں جیسے معتزلہ اشعارہ وغیرہ۔۔ان کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
⬅️ اہل سنت کے کچھ تو مذاہب فقہی ہیں جیسے *حنفی شافعی مالکی حنبلی* اور کچھ ان کے مکاتب عقائد کے اعتبار سے ہیں ۔
*معتزلہ*
ان کے پیروکار بہت کم ہیں اور یہ پہلی صدی کے دوسرے حصے یعنی دوسرے 50 سال کے درمیان شروع ہوا تھا یہ لوگ عقل کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں. ان کے مد مقابل اہل حدیث تھے کہ جو حدیث کو مطلقا حجت سمجھتے تھے اور اگر حدیث اور عقل کا تعارض ہو تو معتزلہ کہتے تھے کہ عقل مقدم ہے۔۔۔
جبکہ اہل حدیث کہتے تھے نہیں حدیث مقدم ہے۔
معتزلہ کا بانی حسن بصری کا شاگرد تھا اور معتزلی شروع میں قدریہ کہلاتے تھے اور یہ عبدالمالک مروان کی حکومت کے دوران یہ مکتب ظاہر ہوا ۔
اس کی تاریخ ہے 65 ہجری سے 86 ہجری کے درمیان ہے یہ اپنے عقائد کے اعتبار سے کافی حد تک تشیع کے نزدیک شمار ہوتے ہیں ان کو اصحاب العدل یا عدلیہ کا بھی نام دیا گیا ہے۔
⬅️ تشیع کی طرح یہ بھی پروردگار کے عدل کے قائل ہیں ۔ ان کے عقائد میں بھی عدل ہے۔
*اشاعرہ*
مکتب اہل سنت کا ایک اور مکتب فکر اشاعرہ ہے۔اس کے بہت زیادہ پیروکار ہیں اور یہ اعتقادی یا کلامی مکتب ہے ۔اسے ابو الحسن علی ابن اسماعیل الشعری نے شروع کیا اور یہ عام طور پر اہل سنت والجماعت کہلاتے ہیں۔
مکتب معتزلہ مامون کے زمانے میں عروج پہ تھا مامون اور اس کے بعد کے دو حاکموں نے اس مکتب کی کافی ترویج کی ۔۔۔پھر اہل حدیث دوبارہ غالب ا گئے ۔
ان کے علاوہ اسی زمانے میں ایک اور مکتب بھی سامنے ایا مکتب ماتریدی یہ بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عقلی طور پر
ہم پر واجب ہے کہ ہم انسان خود امام کو معین کریں ۔۔اور معتزلہ بھی تقریبا یہی نظریہ رکھتے ہیں ان کے اندر بھی اکثر لوگ وجوب امام کے قائل ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ بندوں پر واجب ہے اسی طرح ماتریدی جو ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ امام کا وجوب ہم بندوں پر ہے اور یہ ایک فقہی مسئلہ ہے کہ امور زندگی کو چلانے کے لیے ایک امام ہونا چاہیے۔
ماتریدی اور اشعارہ کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ
( کہ انتخاب امام بندوں پر واجب ہے) یہ قران و حدیث سے سمجھا گیا ہے.
جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ یہ عقلی طور پر واجب ہے
*وہابی*
اس وقت بڑی تعداد میں ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ امامت اور خلافت واجب ہے لیکن واجب کفائی ہے ۔اور اس حوالے سے ان کی ایک شخصیت ابن قدامہ ہے۔ جو ان کے مقدسات میں سے ہے ۔ ان کے مطابق خلافت ایک عظیم منصب ہے بہت بڑی ذمہ داری ہے۔۔ کیونکہ اس کے اندر مسلمانوں کے امور کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوتا ہے۔ لوگوں کے امور خلافت کے بغیر ممکن نہیں ہیں ۔
اس اعتبار سے کوئی بھی ایک شخص یا گروہ اگے بڑھے اور امت کے امور کو اپنے ہاتھ میں لے لے تو بس ٹھیک رہے گا
*وجوب امام کے حوالے سے عالم تشیع اور اہل سنت کے عقائد میں بنیادی فرق*
عالم تشیع اور اہل سنت کے جتنے بھی فرقے ہیں ۔۔
ان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ شیعہ کہتے ہیں کہ یہ خدا پر ضروری ہے کہ امام کو منتخب کرے اور بندوں میں بھیجے کیونکہ امام کا معصوم عن الخطا ہونا ضروری ہے ۔۔یعنی اہل تشیع کے نزدیک امام منصوص من اللہ ہوتا ہے۔
*جبکہ*
اہل سنت کہتے ہیں یہ ہم انسانوں پر ضروری ہے کہ اپنے امام یا خلیفہ کا انتخاب کریں ۔
یعنی امام کے وجود کے سب قائل ہیں صرف امام کا منتخب کرنا (اللہ یا بندوں کی طرف سے) ایک بنیادی فرق ہے۔
پروردگار عالم ہم سب کو اپنے وقت کے امام کی معرفت عطا فرمائے اور اپنے وقت کے امام کی معرفت اور نصرت کی راہ میں اگے بڑھنے کے لیے استقامت عطا فرمائے الہی امین ۔
الھم عجل لولیک الفرج 🤲
شہر بانو✍️
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*📆 اتوار 17 ربیع الاول 1446( 22 ستمبر ، 2024)*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
*درس* 3 # *:اہل سنت کے کلامی و عقائدی مکاتب کا نظریہ*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع:
# *موضوع :اہل سنت کے کلامی و عقائدی مکاتب کا نظریہ*
گفتگو کا موضوع اہل سنت کے عقائد کے حوالے سے مقدم ہے جیسے معتزلہ اشاعرہ اور ماتریدیہ ان کی رو سے ہم ایک مختصر سے گفتگو کریں گے،
اہل سنت کے کچھ مزاھب فقھی ہیں جیسے حنفی شافعی مالکی حنبلی اور کچهہ ان کے مذاہب وہ عقائد کے اعتبار سے جو قدیم ترین مذہب جو ہے وہ متزلہ ہیں البتہ ان کے پیروکار بہت کم ہیں اور یہ پہلی صدی کے دوسرے حصے یعنی دوسرے پچاس سال کے درمیان یہ مذہب شروع ہوا تھا یہ لوگ جو ہیں وہ عقل کو بہت زیادہ اہميت دیتے ہیں،
ان کے مد مقابل اہل حدیث تھے کہ جو حدیث کو مطلقًا حجت سمجهتے تھے، اور اگر حدیث اور عقل کا تعارض ھو آپس میں تو معتزلہ کھتے تھے کہ عقل پر مقدم ہے،
جبکہ وہ کہتے تھے نہیں حدیث مقدم ہے انکا موسسہ معتل بن عطا ہے جو کہ،
حسن بصری کا شاگرد تھا اور یہ معتزلی شروع میں قدریہ کہلاتے تھے یہ عبدالملک بن مروان کی حکومت کے دوران یہ مکتب ظاہر ہوا،
اس کی تاریخ ہے وہ 65 ھہ سے 86 ہجری کے درمیان ہے یہ اپنے عقائد کے اعتبار سے کافی حد تک تشیع کے نزدیک شمار ہوتے ہیں ان کو اصحاب عدلیہ کا بھی نام دیا گیا ،
ہماری طرح یہ بھی یہ پروردگار کے عدل کے قائل ان کے عقائد میں بھی بحث عدل ہے جسے ہم کہتے ہیں توحید عدل نبوت امامت قیامت لیکن پھر بھی ظاہر ہے یہ اہل سنت ہیں اور ان کی جو ہے نگاہ ہے،
*وجوب امامت*
والے موضوع پر اس کو انشاءاللہ بعد میں بیان کریں گے ابھی صرف جو ہے کچھ حد تک ان مذاہب کا جو ہے وہ تعارف آپ کی خدمت میں بیان کر رہے ہیں ان کے مدمقابل کلامی یا عقائد کے اعتبار سے جو فرقہ ہے وہ اشعارہ جو اس وقت دنیا میں جس کے بہت زیادہ پیروکار ہیں،
اور یہ ابو الحسن علی بن اسماٸیلے اشعرے نے شروع کیا، یعنی وہ موسسہ ہے اور یہ عام طور پر اہل سنت والجماعت کہلاتے ہیں،
اب یہ بہت بعد میں آئے ہیں کہ مکتب معتزلہ جو ہے مامون کے زمانے میں اس کا عواج تھا مامون اور اس کے بعد آپ کے دو حاکموں نے اس مکتب کے کافی ترویج کی،
پھر دوبارہ اہل حدیث غالب آگٸے متوکل کے زمانے سے تو تقریبا جو ہے تیسری صدی کے آخر اور چوتھی صدی کے تقریبا شروع میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں جو ہے وہ شروع ہوتا ہے وہ دوبارہ مکتب اشعری ہیں، اوالحسن اشعری پھلے یے معتزلے تھے بعد میں اہل حدیث کی طرف ماٸل ھوگٸے ،
اور ایک نیا مکتب نکالا اہل حدیث مطلقاً عقل کے مخالف ہیں ،
جبکہ اشعری مطلقاً عقل کے مخالف نہیں ہیں،
لیکن بالآخر قرآن و سنت کو جو ہے وہ ترجیح دیتے ہیں اور موجودہ بحث ہے عقائد کے معاملے میں سے جائز شمار کرتے ہیں ،
جبکہ اہل حدیث جو امام احمد بن حنبل کے ماننے والے ہیں تو مطلقا حرام سمجھتے تھے کلامی ابحاث کو یہ اس وقت دنیا میں بہت بڑی تعداد میں ہیں ان کے علاوہ اسی زمانے میں ایک اور مکتب سامنے آیا مکتب ماتریدی یہ بھی اہلسنت کے اندر ہیں ،
ابو منصور ماتریدی اس کا موسسہ ہے یہ بھی اسی زمانے سے سامنے آٸے،
پاکستان اور انڈیا میں ماتریدی کافی تعداد میں ہیں،
یہ کافی حد تک مشابہ ہیں اشعریوں کے ،
*وجوب امامت* شیعہ اور سنت میں وجوب امامت کا فرق یہ ھے شیعہ کھتے ھیں کہ خدا امام کو معین کرتا ہے،
اہلسنت کہتے ہیں یے بندوں پر واجب ہے لوگوں پر واجب ہے،،،،،،
*اشاعرہ*
مثلاً اہلسنت کے اشاعرہ اپنے کتاب میں لکهتے ھیں،
امام کا ھونا واجب ہے لیکن یہ لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے امور کو چلانے کے لیے ایک شخص کو امام معین کریں،
ان کے ایک بہت عالم کاضی الدین ایجی جو ہیں ،
وہ لکھتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہم پر واجب ہیں امام کو منصوب کرنا کہ ہم پر واجب ہے نا کہ یہ خدا پر واجب ہے،
تو جناب قاضی عضد الدین ایجی اشارہ کے کتنے واجب ہے ہم پر کہ ہم خود امام کو معین کرے،
اب معتزلہ جو ہیں وہ بھی تقریبا یہی نظریہ رکھتے ہیں،
ان کے اندر بھی اکثر لوگوں وجوب امام کے قائل ہیں،
لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ بندوں پر واجب ہے اسی طرح ماتریدیہ جو ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ امام کا وجوب جو ہے ہم بندوں پر ہے اور یہ ایک فقھی مسئلہ ہے کہ وہ امور زندگی کو چلانے کے لیے کہ ایک امام ہونا چاہے،
ماتریدیہ اور اشاعرہ جو ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو بندوں پر واجب ہے ،
یہ قرآن وحدیث سے سمجھا گیا ہے جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ یہ عقلی طور پر واجب ہے ،
اس کے علاوہ ایک بہت بڑا اہل سنت کے اندر ایک فرقہ شیعہ وہابی اس وقت بڑی تعداد میں ہے یہ جو ہے یہ بھی کہتے ہیں کہ امامت اور خلافت واجب ہے لیکن واجب کفائی ہے ،
خلافت ایک عظیم منصب خلافت ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے اندر مسلمانوں کے امور کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو ھوالمسٸول اول یہ پہلا شخص ہے جو اس سے سوال بھی ہوگا جس پر یہ ذمہ داری ہے اور لیکن یہ کھتے ھیں کہ یہ واجب کفائی ہے،
کیوں کہ لوگوں کے امور خلافت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس اس اعتبار سے کوئی بھی شخص یا گروہ آگے بڑے اس کو امور کو اپنے ہاتھ میں لے،
تو بس ٹھیک ہے اب یہاں دیکھیں کہ ہم بنیادی طور پر عالمی تشیو اور اہل سنت کے جتنے بھی فرقے ہیں ان میں ہم ایک بنیادی فرق جو خود دیکھ رہے ہیں کہ شیعہ یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا پر ضروری ہے اور اہل سنت کہتے ہیں انسانوں پر ضروری ہے ،
یہاں تک واضح ہو گیا کہ امامت کا مسئلہ جو ہے سب فرقوں میں اسلام کے واجب ہے صرف فرق وہ کہتے ہیں خدا اور یہ کہتے ہیں بندوں پر،
سب سے پہلے ہی دیکھتے ہیں کہ اس کے وجوب کی دلیلیں کیا ہے ،
اب ہماری بحث جو ہے ایک آشنائی کے بعد دلائل میں آ رہی ہیں ان شاء اللہ اس حوالے سے سب سے پہلے جو دلیل ہے وہ قاعدہ لطف انشاءاللہ آئندہ درس میں بیان ہوگا ،
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
# *درس4*
# *موضوع : وجوب امامت پردلیل عقلی قاعدہ لطف کی تشریح*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
{ یعنی } یہ وجوب کلامی ہے عقائد کے رو سے خدا پر واجب ہے ،
جبکہ اہلسنت کے نزدیک یہ وجوب فقھی ہے { یعنی } یہ وجوب بندوں پر ھے کہ وہ اپنے لیے خود ایک امام منتخب کریں ،
جب ہم یے کہتے ہیں کہ
اس کے دلیل کیا ہے ؟
دلائل کے دنيا میں جب ہم جاتے ہیں کہ کچهہ دلائل عقلی ہیں،
کچھ دلائل شرعی ہیں یعنی قرآن حدیث سے ثابت ہوتے ہیں ۔
دلائل عقلی بہت زیادہ ہیں پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں ہیں کیونکہ اس میں پہر دوسرا احتمال نہیں ہوتا ۔
مثلاً جب عقل ھمارے لئے کھہ دے کہ 2۔ 4 ۔ہے تو کوئی بھی "5" نہیں کہے گا ۔
جیسے ہم پروردگار کے وجود پر عقلی دلائل دیتے ہیں
نبوت کے ضرورت پر عقلی دلائل دیتے ہیں،
اسی طرح امام کے ہونے پر بھی عقلی دلائل دیتے ہیں۔
1: سب سے پہلے دلیل علماء وجوب امامت پر دیتے ہیں وہ قائدہ لطف ہے ٫
قاٸدہ لطف کے حوالے سے ھمارے متکلمین نے بہت زیادہ استدلال کیا ہے یے ایک مظبوط اور اہم دلیل شمار ہوتے ہے امامت کے ابحاث میں ،
*لطف ہوتا کیا ہے ،*
علامہ شیخ طوسی ؒ فرماتے ہیں کہ ;
لطف الٰہی عنایت ہے جو انسان کو ایسے عمل کے ترغیب دلاتا ہے جسے انجام دینا ضروری ہو ،
پھر اس عمل کے انجام دینے میں یے لطف انسان کے مدد کرتا ہے ،
اور اگر یے مدد نا ہو تو انسان کے لیے ممکن ہے نہیں کہ وہ عمل انجام دے ،
اور اگر انسان کچهہ غلط کرتا ہے تو یے لطف اس غلط عمل سے روکتا ہے ،
*لطف کے 3 مراحل ہیں*
1: *مرحلہ توفیق ،*
( یعنی ) وسائل فراہم ہوں عبادت سے پہلے وضو ضروری اور تیمم سے پھلے خاک ضروری ہے ،
2: *مرحلہ رھبری، راہ بتانا ،*
3: *مرحلہ ایصال الی المطلوب ،*
کام کے انجام دینے میں رہنمائی کرے،
*علامہ حلی ؒ* جو ہمارے بڑے بزرگان میں سے ہیں وہ فرماتے ھیں کہ،
امامت جو ہے دینی اور دنياوی منصب میں الٰہی منصب ہے جو کسی شخص کے لیے پیغمبر کے جانشینی کے عنوان سے ہے ،
لطف اللہ تعالیٰ کے صفات ذات میں نہیں بلکہ صفات افعال میں ہے ،
لطف سے مراد ہر وہ فعل ہے پروردگار کا جسے وہ مکلفین کے طرف نسبت دیتے ہوٸے انجام دیتا ہے،
جیسا کہ نعمتیں دیتا ہے احسانات کرتا ہے ،
جنکے ذریعہ بندوں کو اطاعت کے قریب کرتا ہے معصیت سے دور کرتا ہے،
والسلام ورحمة اللہ ،
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
*درس* 5
لطف کی اقسام اور امامت کے وجوب پر کونسا لطف ہے*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 بدھ 20 ربیع الاول 1446( 25 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع: لطف کی اقسام اور امامت کے وجوب پر کونسا لطف ہے*
**لطف کے اقسام اور امامت کے وجوب پر کون سا لطف ہے**
لطف کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: **لطف محصل** اور **لطف مقرب**۔
### 1. لطف محصل
لطف محصل سے مراد وہ اسباب ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو عبادت اور اس کے مقاصد کی ادائیگی کے لئے ضروری چیزیں فراہم کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ عبادت کے طریقے اور اس کی طاقت انسانوں میں پیدا نہ کرتا تو انسان کی تخلیق بے مقصد ہو جاتی۔ اس کا بنیادی مقصد عبادت ہے، اور اللہ کی طرف سے بیان کردہ تکالیف اس کا حصہ ہیں۔ یہ لطف محصل انسان کو ہدایت دینے کے لئے ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے پیدا ہونے کا مقصد سمجھ سکے۔
### 2. لطف مقرب
لطف مقرب ان عوامل کو کہتے ہیں جو انسان کو اطاعت کے قریب کرتے ہیں اور نافرمانی سے دور کرتے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے انعامات اور عذاب کی دھمکیوں کی صورت میں آتا ہے۔ یہ وہ ترغیبات ہیں جو انسان کے اندر نیک اعمال کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور برے اعمال سے بچنے کی ہمت دیتی ہیں۔
### امامت کا مقام
علماء علم کلام کے مطابق، امامت بھی لطف مقرب کی ایک مثال ہے۔ نبیوں کی رسالت کو لطف محصل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ نبی نے شریعت کو واضح کیا۔ جبکہ امام کی ہدایت ہمیں نیک عمل کی طرف راغب کرتی ہے اور معاشرتی اصلاح کی رہنمائی کرتی ہے۔
### نتیجہ
امامت کا قیام اور اس کی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں امام مقرر کیا ہے تاکہ وہ ہمیں رہنمائی فراہم کرے۔ اگر کوئی شخص ہدایت کے بغیر رہ جائے تو اس کے لئے اپنی عبادت اور شریعت کی پیروی میں مشکلات پیش آئیں گی۔ لہذا، امام کا وجود اللہ کی طرف سے ایک لازمی لطف ہے، جو ہمیں اپنے ہدف کی طرف بڑھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
کورس مہدویت 2
کتاب نمبر 5
درس نمبر۔ 5
موضوع : *لطف کی اقسام اور امامت کے وجوب پر کون سا لطف ہے*
*خلاصہ*
لطف کی دو اقسام ہیں
⬅️لطف محصل
⬅️لطف مقرب
اہل زمین کے لیے امام کے وجود کا ضروری ہونا لطف کی دونوں اقسام کا مصداق ہے۔
*لطف محصل*
لطف محصل سے مراد یہ ہے کہ ذات باری تعالی ان اسباب کو فراہم کرے کہ جن کے ذریعے خلقت کے اہداف کو پورا کرنے میں مدد ملے مثلا اللہ نے ہمیں عبادت کے لیے پیدا کیا ہے تو اس نے اپنی مخلوق کے دل میں عبادت کا جذبہ ڈالا ہے اگر وہ عبادت کا جذبہ نہ ڈالے تو نہ ہم عبادت کریں اور نہ ہمیں معلوم ہو کہ کوئی ہمارا رب ہے۔ عبادت کی یہ قدرت لطف محصل ہے۔
⬅️ *لطف مقرب*
لطف مقرب سے مراد یہ ہے کہ جن امور کو انجام دینا اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے
لطف مقرب ان امور کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔
یعنی لطف محصل ہدف کو بیان کرتا ہے اور لطف مقرب اس ہدف کو پورا کرنے میں رہنمائی کرتا ہے۔
اگر اللہ تعالی ہمارے لیے لطف مقرب انجام نہ دے تو بہت سارے لوگ اس کی عبادت سے محروم رہ جائیں انہیں پتہ ہی نہ چلے کہ اللہ کی اطاعت کیسے کرنی ہے لطف مقرب ہمیں رہنمائی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔لطف مقرب کی رہنمائی کے ذریعے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فرمانبرداری اور اطاعت الہی کیا ہے۔۔۔
یہ ہمیں فرمانبرداری اور اطاعت الہی سے قریب کرتا ہے ۔۔۔ یہ ہمارے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو واضح کرتا ہے۔
لطف مقرب کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کن اعمال کے انجام دینے سے جنت ملے گی اور کن اعمال کے انجام دینے سے جہنم۔
*علامہ حلی کی نظر میں لطف مقرب کی تعریف* :
لطف مقرب ان امور پر مشتمل ہے جو بندوں کو اللہ کی اطاعت کے قریب اور معصیت سے دور کرتے ہیں۔
مکلفین کے اندر ان تکالیف شرعیہ کو انجام دینے کی قدرت پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی امور مکلفیین سے اختیار کو سلب کر تے ہیں۔
ہمارے اندر عبادت اور اطاعت الہی کی طاقت لطف محصل کی وجہ سے ہے۔
⬅️*لطف محصل اور لطف مقرب میں فرق*
اس بیان سے ہمیں معلوم ہوا کہ لطف مقرب اور محصل میں یہ فرق ہے کہ لطف محصل توفیق الہی ہے۔ جذبہ ہے۔ اگر لطف محصل نہ ہو تو ہمیں معلوم ہی نہ ہو کہ تکالیف شرعیہ کیا ہیں۔ہمیں معلوم ہی نہ ہو کہ کیا عبادت ہے کیا رہبری ہے۔۔۔۔لیکن اگر لطف مقرب نہ ہو تو لوگ احکام شریعہ پر عمل نہ کریں وہ عمل کا طریقہ ہی نہ جان سکیں۔
آسان الفاظ میں یہ کہ اگر جنت کا وعدہ اور ترغیب نہ ہو تو کوئی امر بالمعروف انجام نہ دے اور اگر جہنم کا خوف نہ ہو تو کوئی معصیت سے پرہیز نہ کرے۔۔
*امامت سے لطف محصل اور لطف مقرب کا تعلق*
علماء کہتے ہیں کہ امامت لطف مقرب کے اسالیب میں سے ہے۔ لطف مقرب یہ ہے کہ امام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ بتائے ہوئے درس توحید اور طریقہ عبادت کو بیان کرتے ہیں۔اور ان پر عمل کر کے بھی دکھاتے ہیں یعنی عملی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ امامت ہمیں اقتدا کی طرف لے جاتی ہے ۔
اللہ تعالی نے ہمارے لیے کچھ شرعی ذمہ داریاں قرار دی ہیں اللہ کی اطاعت ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ہے ۔ ان واجبات کو ادا کرنا ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔اور جن کاموں سے اللہ نے منع کیا ہے اور جن کو حرام قرار دیا ہے ان پر عمل کرنا جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔
*امام ان امور کی طرف رہنمائی اور عمل کے ذریعے مثال پیش کرتے ہیں*
یہاں استاد صاحب نے ایک بہت اچھی اور اسان مثال بھی پیش کی۔
*مثال* اگر ایک شخص کچھ لوگوں کو کھانے پر بلاتا ہے۔ انہیں دعوت نامہ بھیجتا ہے۔گھر میں کھانے تیار کرتا ہے۔مہمانوں کے بیٹھنے کا بہترین انتظام کرتا ہے۔لیکن دعوت نامے پر جگہ کا پتہ یعنی ایڈریس موجود نہیں۔۔مہمانوں کو معلوم ہی نہیں کہ کہاں جانا ہے۔۔۔تو یہ ساری محنت عبث اور بے فائدہ قرار پائے گی۔
*ماحصل* بس اس ساری بحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ خدا اپنے لطف مقرب کے ذریعے امامت کو لاگو کرتا ہے ۔خدا پر ضروری ہے کہ اپنے احکامات کو سمجھنے کے لیے ہم پر امام کو لازمی بھیجے تاکہ ہم امام کی پیروی اور تقلید کرتے ہوئے اس کے احکامات کو اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوں۔
پروردگار عالم ہمیں امام وقت کی معرفت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے انصار و امان میں سے قرار دے۔ امین ثم امین
الھم عجل لولیک الفرج ۔
شہر بانو✍️
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
*درس* 📖 6
*
امام بعنوان لطف مقرب ، لوگوں کی دنیاوی آزمائش کا فلسفہ*
*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 منگل 26 ربیع الاول 1446( 1 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️:
موضوع
*
امام بعنوان لطف مقرب ، لوگوں کی دنیاوی آزمائش کا فلسفہ*
*
اس کا فیض لیتے ہیں،
لیکن دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ جو لطف *محصل* ہے
ایک مقرب محصل یعنی خدا نے یہ ساری چیزیں جو ہماری طرف بھیجی احکام شریعت اور اس حوالے سے انبیا۶ بھیجی اور کتابیں بیجھنا یے محصل ہے۔۔
*مقرب*
یعنی اب ان کو انجام دینا ہے ان کو بجا لانا ہے اس کے لیے کچھ رہنمائی کی ضرورت ہے کہا کہ امامت جو ہے وہ اس عنوان سے واجب ہے کہ یہ لطف مقرب ہے۔
واضح سے بات ھے کہ اللہ نے جتنے بھی احکام شریعہ بھیجی اس کا ہدف صرف یہ نہیں تھا خدا بیان کر دے اور ہم ذہنی اور فکری طور پر جان لیں ،
بلکہ ہدف یہ تھا کہ ہم اطاعت کریں ان کو بجا لاٸیں خود ہماری عقل بھی یہ کہتی ہے کہ صرف جاننے سے راہ کمال طے نہیں ہوتا،
پہنچنے سے ہوتا ہے اور انسان جو ہے وہ جس طرح اللہ کے لطف کے بغیر ان احکام کو جان نہیں سکا اپنے ہدف تک پہنچ بھی نہیں سکتا جب تک خدا مزید اس پر لطف نہ کرے اس لیے یہ لطف اللہ پر واجب ہے ،
اور ہمیں ایک ایسا شخص عطا کرے کہ جس کی ماہیت اور ہمراہی میں ہم حدف تک پہنچیں،
ہم نے انسانوں کو خوشیوں سے اور سختیوں سے آزمایا تاکہ انسان کمال تک پہنچ سکے،
لوٹ آئیں ۔
*آیة اللہ سبحانی* جو مفسر قرآن بھی ھیں ماہرین کلام میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اندر حسنات اور سیآت سے مراد نعمتیں اور دنیاوی نقصانات ہیں پروردگار کا اس امتحان سے ہدف یہ ہے کہ لوگوں کو اطاعت پر لایا جائے حق محور بنایا جائے۔
ہم نے جب بھی کسی بستی کے اندر نبی کو بھیجا لوگوں نے اس کی تکذیب کی پھر ہم نے اس قریہ بستی والو کو سختیوں سے بیماریوں سے تکلیفوں سے دوچار کیا تاکہ یہ لوگ بالآخر پروردگار کی طرف پلٹیں۔
اللہ تعالی کا سب سے بڑا لطف جو ہے وہ امام ہے،
امام کا نبی کے بعد سب سے بڑا رتبہ امام کا ھے،
نبی بانی شریعت ھے امام ناٸب نبی ھوتا ھے،
امام ایک حکومت الٰہی کو تشکیل دیتا ہے لوگوں کے اصلاح پر کام ھوتا ہے امر بالمعرف نھی عن المنکر کرتا ہے جرائم سے گناہوں سے لوگ کو پاک کیا جاٸے گا،
*نتیجا کیا حاصل ہوتا ہے ،?*
لوگ راہ کمال پر آجاٸیں گیں ،صراط مستقیم پر آجاٸیں گیں ،
ہر دور میں ایک محافظ شریعت ایک اسوہ ھونا چاھیٸے ،
اگر اسکو حکومت مل جاٸے پھر تو یہ پورے دنيا کو عدل انصاف سے بھر دیگا،
پھر یے لطف مقرب مکمل طور پر فیض دیگا ،
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
*مہدویت کورس* 2
*کتاب* # 5
*درس* # 6
*موضوع* *امام بعنوان لطف مقرب۔۔۔لوگوں کی دنیاوی ازمائش کا فلسفہ*
⬅️ **خلاصہ**
اس درس میں بھی استاد صاحب نے امامت کے موضوع کے حوالے سے لطف محصل اور لطف مقرب کی تشریح بیان کی ہے ۔
کہ امام کا تعین پروردگار پر واجب ہے اور اس حوالے سے عقلی دلائل بیان کیے گئے ہیں۔جس میں سے ایک دلیل پروردگار عالم کا اپنے بندوں پر *لطف* ہے.
برہان (یعنی دلیل) برہان لطف دو قسم کا ہے۔۔
⬅️لطف محصل
⬅️لطف مقرب
انبیاء بھیجنا۔۔ان کے ذریعے احکام شریعہ ۔۔اور آسمانی کتابیں بھیجنا یہ لطف محصل ہے ۔
لطفِ مقرب یعنی اب ان احکام کو انجام دینا ہے ان کو بجا لانا ہے ۔۔
واضح سی بات ہے کہ اللہ نے جتنے بھی احکام شرعی بھیجے ہیں اس کا ہدف صرف یہ نہیں تھا کہ خدا اور انبیاء نے بیان کر دیا اور ہم نے سن لیا۔۔ اور ہم نے ذہنی طور پہ مان بھی لیا۔ *بلکہ ہدف یہ تھا کہ ہم اطاعت کریں ان کو بجا لائیں*
*خود ہماری عقل بھی یہ کہتی ہے کہ صرف جاننے سے راہ کمال طے نہیں ہوتی بلکہ منزل پہ پہنچنے سے کمال ملتا ہے*
⬅️*گویا اگر لطف محصل ایک تھیوری ہے تو
لطف مقرب ایک demonstration یا اس تھیوری کا عملی نمونہ ہے*۔
⬅️یہ لطف مقرب کا تقاضہ ہے کہ اللہ ہمیں ایک ایسا شخص عطا کرے کہ جس کی رہنمائی اور ہمراہی میں ہم ہدف تک پہنچیں ۔
*سورہ اعراف میں ایت نمبر 168* میں پروردگار کریم فرما رہا ہے
(ترجمہ) ہم نے ان انسانوں کو خوشیوں سے اور سختیوں سے آزمایا .
یعنی یہ جو تمام نعمتیں جن سے خوشی ملتی ہے اور تکلیفیں جن سے رنج یا سختی ملتی ہے۔۔ اللہ کی طرف سے اتی ہیں۔ یہ خدا کی طرف سے ازمائش ہے۔۔
اور یہ ازمائش کیوں ہے؟؟ تاکہ وہ لوگ جو ابھی تک کمال تک نہیں پہنچ سکے وہ درجہ کمال تک پہنچیں۔ لوٹ ائیں اپنے رب کی طرف۔۔
*آیت اللہ سبحانی* مفسر قران بھی ہیں اور عقائد میں بھی ماہرین کلام میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اندر حسنات اور سیات سے مراد نعمتیں اور دنیاوی نقصانات ہیں یعنی پروردگار کا اس امتحان سے ہدف یہ ہے کہ لوگوں کو اطاعت پر لایا جائے۔
⬅️ *سورہ اعراف کی آیت نمبر 94* میں پروردگار فرما رہا ہے کہ ہم نے جب بھی کسی بھی بستی کے اندر نبی کو بھیجا لیکن جب لوگوں نے نبی کی تکذیب کی اور پیغام الہی کو نہیں مانا تو پھر ہم نے اس قریہ والوں کو ۔۔اس بستی والوں کو سختیوں سے بیماریوں سے تکلیفوں سے دوچار کیا۔۔
کیوں کہ جب لوگ پریشان ہوتے ہیں تکلیف میں اتے ہیں تب ہی انہیں خدا کی یاد اتی ہے اور وہ خدا کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہیں۔۔ خدا کی بارگاہ میں التجائیں کرتے ہیں۔ تو یہ ساری ازمائشیں خدا کی طرف کی طرف پلٹانے کا بہانہ ہے۔ لیکن لوگ پھر بھی دنیا میں غرق ہو جاتے ہیں غفلتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔تو اب خدا کی حکمت کا یہ تقاضہ کہ سختیوں سے دوچار کرے تاکہ وہ اللہ کی طرف پلٹیں یہ ایک لطف پر لطف ہے۔۔
حالانکہ جب انبیاء ائے تو انہوں نے پیغام الہی کے دلائل کے ساتھ ساتھ معجزات بھی دکھائے تاکہ لوگ راہ حق اختیار کریں۔۔ لیکن کچھ لوگ پھر بھی نہیں مانے اور اللہ کے احکامات سے روگردانی کرتے رہے ۔۔ پھر اللہ نے سب سے بڑا لطف فرمایا کہ امام ہمارے درمیان بھیجے۔۔ کیونکہ اگر ہم امام کی تعریف دیکھیں
امام کے وظائف دیکھیں امام کے اوصاف دیکھیں تو یہ نبوت کے قریب ترین مرتبہ ہے ۔۔
*فرق یہ ہے کہ پیغمبر بانی شریعت ہے اور امام اس کا نائب ہے محافظ شریعت ہے*
امام جب ایک حکومت الہی کو تشکیل دیتا ہے لوگوں کے اصلاح پہ کام کرتا ہے عدالتیں قائم ہوتی ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی شکل میں آئینی ادارے ، فوج یا بالاخر ایک سپاہ جو لوگوں کے اوپر کنٹرول یا نگرانی کرنے کے لیے قائم ہوتے ہیں۔
جب ہمارے وقت کے امام حضرت بقیۃ اللہ علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو ایسے ادارے بنیں گے جہاں لوگوں کی تربیت ہوگی، جرائم سے، گناہوں سے، ظلم سے معاشرے کو پاک کیا جائے گا ۔لوگوں کو انصاف کی طرف دعوت دی جائے گی ۔انسانوں کی تربیت ہوگی۔ یوں نتیجتا لوگ راہ کمال پر آ جائیں گے ۔
*اگر حکومت امام قائم نہ بھی ہو جیسا کہ ماضی میں تھا تب بھی جب لوگ امام کی محفل میں اتے ہیں امام علیہ السلام سے بات چیت کرتے ہیں،اپنے مسائل کا حل دریافت کرتے ہیں، امام کے فیوض کو درک کرتے ہیں تو امام اپنی عملی عصمت سے لوگوں کو بتاتا ہے کہ اللہ کا اچھا عبد کیسے بنا جاتا ہے*
یہ خود بخود ایک تربیت ہے۔۔۔جو وجود امام سے ہو رہی ہے۔۔
⬅️تو ہر دور میں ایک محافظ شریعت ۔۔ایک اسوہ کامل کا ہونا ضروری ہے اور یہ پروردگار کا لطف مقرب ہے کہ اس نے ہمارے لیے امام معین کیے۔
بس کہ ہمارے اخری امام جو ابھی پردہ غیبت میں ہے جب وہ ظہور فرمائیں گے اور بحکم الہی اس دنیا پر حکومت کریں گے تو اس دنیا سے تمام ظلم و ستم کے اندھیرے مٹ جائیں گے اور ہر طرف احکام الہی شریعت الہی کا نور چھا جائے گا اور عدل و انصاف اور امن و سکون کا دور دورہ ہوگا۔
ان شاءاللہ🤲
رب کریم ہمیں حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اطاعت گزار اعوان و انصار میں سے قرار دے۔۔۔اور اپ حضرت عج کے ظہور میں اسانی و تعجیل عطا فرمائے آمین امین یا رب العالمین۔
*الھم عجل لولیک الفرج*۔
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
# *درس7*
# *موضوع :وجوب امامت پر دیگر دلائل ، دین کے ماہر کی ضرورت ، سیرت مسلمین ، حدود شرعیہ کا اجراء اور اسلامی مملکت کی حفاظت اور وجوب دفع ضرر*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 اتوار 2 ربیع الثانی 1446( 6 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*
# *موضوع :وجوب امامت پر دیگر دلائل ، دین کے ماہر کی ضرورت ، سیرت مسلمین ، حدود شرعیہ کا اجراء اور اسلامی مملکت کی حفاظت اور وجوب دفع ضرر*:
*خلاصہ*
اس درس میں استاد صاحب نے وجوب امامت کے حوالے سے دیگر دلائل پر گفتگو کی ہے۔
اس سے پہلے دلیل اول *قاعدہ لطف*ہم پڑھ چکے ہیں۔
*دلیل #2* :: *دین کے ماہر کی ضرورت*
دنیاوی معاملات کی طرح دینی معاملات میں بھی انسان کو ایک ماہر یا سپیشلسٹ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ ایک عقلی تقاضہ ہے کیونکہ ایک عام شخص ہر چیز کا ماہر نہیں ہو سکتا۔
دین اسلام اخری دین ہے اور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کسی نبی نے نہیں انا۔
نبی پاک کا دور تبلیغ 23 سال رہا ہے اس دور میں دین مکمل نازل ہو چکا تھا لیکن مکمل بیان نہیں کیا گیا تھا۔
اس دور کی ضروریات کے مطابق دین بیان کیا گیا تھا اور قیامت تک انے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے دین کی ذمہ داری اپنے اوصیاء اور جانشینوں کے سپرد کر دی تھی۔
ایک مشہور علمی شخصیت *جعفر سبحانی* امامت کی دلیلوں میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم کی حیات طیبہ میں بہت ساری ذمہ داریاں تھیں جن کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
⬅️1 * *ایات الہی کی تلاوت تشریح اور تفسیر بیان کرنا*۔
⬅️2 *اللہ کی طرف سے انے والے احکام پہنچانا*
⬅️3 *اہل کتاب یعنی توریت اور انجیل کے ماننے والوں کے شبہات اور سوالوں کا جواب دینا*
⬅️4 *دین اسلام کو تحریف سے محفوظ رکھنا*۔
اب ان ذمہ داریوں کے ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی اخر الزماں اس دنیا سے پردہ فرما گئے تو 1- کیا اللہ نے دین کو لوگوں کے حال پر چھوڑ دیا ؟؟؟
یا
2 - کیا خدا تعالی خود یا فرشتوں کے ذریعے دین کی ذمہ داری کو پورا کرے گا؟؟
3 - یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نائب مقرر کریں گے جو کہ معصوم عن الخطا ہوں اور علم نبی کو مکمل طور سے جانتے ہوں اور دین کو پورا پورا پہنچا دیں۔؟؟
پس واضح ہوا کہ اس میں تیسرا نکتہ ہی عقلی دلیل کے لحاظ سے قابل قبول ہے۔
*دلیل* # *3*
امامت کی تیسری دلیل *سیرت مسلمین* ہے.
اسلامی معاشرے کو ایک امام اور رہبر کی ضرورت رہتی ہے اور امور مسلمین چلانے کے لیے امام یا خلیفہ کا وجود بہت ضروری ہے۔ اسکی دلیل کو عالم اسلام کے کامل اور اعتقادی ماہرین جیسے *نصیر الدین طوسی* نے بھی بیان کیا ہے ۔اسی طرح اہل سنت *عالم سعد الدین تفتازانی* شرح عقائد شہرستانی اور مخالت الحرام میں اس دلیل کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی سیرت میں ہے کہ مسلمان امام کے وجود کو ایک مسلم امر سمجھتے ہیں۔ حتی کہ جو لوگ سقیفہ میں تھے انہوں نے بھی کہا تھا کہ امور مملکت چلانے کے لیے امام اور خلیفہ کی ضرورت ہے ۔
*دلیل*# *4*
*حدود شریعہ کا اجراء کرنا*۔
اسلام میں حدود شریعہ نافذ ہیں ۔ ان کو صحیح طور پر عمل میں لانے کے لیے بھی ایسے مدبر شخص کی ضرورت ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہی دین الہی کا جاننے والا ہو تاکہ ان احکام شریعہ کے نافذ کرنے میں کسی کے ساتھ بھی کسی قسم کی غلطی یا زیادتی کا امکان نہ رہے۔اور تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب امیر المومنین علی علیہ السلام نے خلیفہ وقت کو مشکل سے نکالا اور مسئلے کا صحیح فیصلہ کرایا اور بے گناہ کی جان بچائی اور حقدار کو اس کا حق دلایا۔۔۔ یہاں تک کہ وہ خلیفہ وقت یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا۔
*دلیل *5* *دفع ضرر ہے*
اس کی دلیل میں فخر الدین رازی ، سعد الدین تفتازانی نے ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ امامت عظیم اجتماعی مفادات پر مشتمل ہے جس کی طرف توجہ نہ کرنا معاشرے کو بڑے بڑے نقصانات سے دوچار کرانے کے مترادف ہے اور معاشرے کو بچانا شرعاً واجب ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ
وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے نظریات اور ضروریات میں تبدیلی اتی ہے۔۔اس کے مطابق لوگ اپنے دینی نظریات میں بھی تبدیلی لا سکتے ہیں ۔۔ ایسی صورت میں دین اس کے اصل شکل میں قائم نہیں رہتا ۔۔ لہذا دین کو بدلتے زمانے کے ساتھ پیش انے والے ضرر اور نقصان سے بچانے کے لیے بھی ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے کہ جس کا وجود قیامت تک دین کی حفاظت کرتا رہے۔
مندرجہ بالا تمام دلائل کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ امام کا وجود قیامت تک کے مسلمانوں اور دین کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے ۔ ۔ اور اللہ تعالی نے اس کا انتظام بھی کیا ہے ۔ *ہمارے اور اہل سنت کے عقیدے میں یہی فرق ہے کہ امام اور ہادی انہیں بھی چاہیے لیکن ان کے عقیدے کے مطابق یہ مسلمانوں کا چنا ہوا اور ان کے درمیان سے ہی ہوتا ہے* جب کہ
*اثنا عشری عقیدے میں امام منصوص من اللہ ہوتا ہے*
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ایمان پر ثابت قدم رکھے ہمارے عقائد کو اور اعمال کو صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ہمارے امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں آسانی و تعجیل عطا فرمائے امین یا رب العالمین۔
*
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
وجوب امامت کے عقلی دلائل
دین کے ماہر کی ضرورت
انسان مشکلات میں چاہے دینی ہوں یا
دنیاوی اس کے ماہر کی طرف رجوع کرتا ہے
جو کہ عقلی تقاضہ ہے ۔ نبی صل
کی زندگی میں ۲۳ سال دین بیان ہوا اور اس
زمانے کی ضرورت کے حساب سے نفاق ہوا
باقی دین ہمارے عقیدے کےمطابق آپ صل
نے اپنے اوصیا کے سپرد کیا۔اس صورت
میں ہمیں ایسے ماہرین کی ضرورت تھی جو نبی
صل کی طرح معصوم ہوں اور قیامت تک
انسانوں کو پیش آنے والے مسائل کے ماہر
ہوں۔ایسے نائب کی ضرورت ہے جو
رَسُول صل کی طرح جانتا ہو۔حدود شریعہ کا
نفاذ کرنا جانتا ہو ورنہ معاشرے میں بد نظمی
اور جرم بڑھ جائے گا۔
شہر بانو✍️
مہدویت کورس؛2
کتابچہ؛ 5
امام مہدی علیہ السلام عقل و منطق کی رو سے
درس؛7
موضوع؛ وجوب امامت پر دیگر دلائل
دنیاوی معاملات کی طرح دینی معاملات میں بھی انسان کو ایک ماہر ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے
یہ بات ہم سب جانت ہے کہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کسی نبی نے نہیں انا ہے۔
نبی پاک کا دور تبلیغ 23 سال رہا ہے اس دور میں دین مکمل نازل ہو چکا تھا۔ قیامت تک انے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے دین کی ذمہ داری اپنے اوصیاء اور جانشینوں کے سپرد کر دی گئی تھی۔
ایک مشہور علمی شخص جعفر سبحانی امامت کی دلیلوں میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم کی حیات طیبہ میں بہت ساری ذمہ داریاں تھیں جن کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1ایات الہی کی تلاوت تشریح اور تفسیر بیان کرنا
2 اللہ کی طرف سے انے والے احکام پہنچانا
3 اہل کتاب یعنی توریت اور انجیل کے ماننے والوں کے شبہات اور سوالوں کا جواب دینا
4 دین اسلام کو تحریف سے محفوظ رکھنا
اب ان ذمہ داریوں کے ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی اخر الزماں اس دنیا سے پردہ فرما گئےتھے تو
1- کیا اللہ نے دین کو لوگوں کے حال پر چھوڑ دیا ؟؟؟
2 - کیا خدا تعالی خود یا فرشتوں کے ذریعے دین کی ذمہ داری کو پورا کرے گا؟؟
3 - یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نائب مقرر کریں گے جو کہ معصوم عن الخطا ہوں اور علم نبی کو مکمل طور سے جانتے ہوں اور دین کو پورا پورا پہنچا دیں۔؟؟
اس بات سے یہ واضح ہوا کہ اس میں تیسرا نکتہ ہی عقلی دلیل کے لحاظ سے قابل قبول ہے۔
امامت کی تیسری دلیل سیرت مسلمین ہے.
اسلامی معاشرے کو ایک امام اور رہبر کی ضرورت رہتی ہے اور امور مسلمین چلانے کے لیے امام یا خلیفہ کا وجود بہت ضروری ہے۔ اسکی دلیل کو عالم اسلام کے کامل اور اعتقادی ماہرین جیسے نصیر الدین طوسی نے بھی بیان کیا ہے ۔اسی طرح اہل سنت عالم سعد الدین تفتازانی شرح عقائد شہرستانی اور مخالت الحرام میں اس دلیل کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی سیرت میں ہے کہ مسلمان امام کے وجود کو ایک مسلم امر سمجھتے ہیں۔ حتی کہ جو لوگ سقیفہ میں تھے انہوں نے بھی کہا تھا کہ امور مملکت چلانے کے لیے امام اور خلیفہ کی ضرورت ہے ۔
حدود شریعہ کا اجراء کرنا
اسلام میں حدود شریعہ نافذ ہیں ۔ ان کو صحیح طور پر عمل میں لانے کے لیے بھی ایسے مدبر شخص کی ضرورت ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہی دین الہی کا جاننے والا ہوتاکہ ان احکام شریعہ کے نافذ کرنے میں کسی کے ساتھ بھی کسی قسم کی غلطی یا زیادتی کا امکان نہ رہے۔اور تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب امیر المومنین علی علیہ السلام نے خلیفہ وقت کو مشکل سے نکالا اور مسئلے کا صحیح فیصلہ کرایا اور بے گناہ کی جان بچائی اور حقدار کو اس کا حق دلایا۔۔۔ یہاں تک کہ وہ خلیفہ وقت یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا۔
اس کی دلیل میں فخر الدین رازی ، سعد الدین تفتازانی نے ذکر کیا ہے
وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے نظریات اور ضروریات میں تبدیلی اتی ہے۔۔اس کے مطابق لوگ اپنے دینی نظریات میں بھی تبدیلی لا سکتے ہیں ۔۔ ایسی صورت میں دین اس کے اصل شکل میں قائم نہیں رہتا۔
مندرجہ بالا تمام دلائل کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ امام کا وجود قیامت تک کے مسلمانوں اور دین کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے ۔
پروردگار🤲🏻 امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل فرمائیں الہی امین۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
طالب علم:
شہر بانو ✍
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ
اللہ ھم صل علٰی محمد وآل محمد و عجل فرجہ،
گفتگو کا عنوان وجوب امامت
عقلی دلائل قائدہ لطف پر گفتگو ہو چکی ھے اسکے علاوہ بھی دلائل ہیں۔ جن میں نمبر
2 پر دین کے ماہر کی ضرورت ہے
دین اور دنیا دونوں کی مشکلات اور مسائل میں انسان ماہر اور
اسپیشلسٹ کی طرف رجوع کرتا ہے کیونکہ یہ ایک عقلی تقاضہ ہے
دین اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم آخری دین اور آخری نبی ہیں جبکہ مسلمان قیامت تک رہیں گے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ نے 23 سالہ دور میں قیامت تک کہ مسائل اور ضروریات بیان کر دی تھیں تو ایسا ہرگز نہیں ہے رسو اکرم نے حکم الٰہی سے دین مکمل پہنچا دیا تھا اور قیامت تک کہ دین کی ذمہ داری اور مسائل کے حل کے لیے اپنے اوصیا اور جا نشینوں کے سپرد کی ہے
آج کے دور کہ مشہور علمی شخصیت جعفر سبحانی امامت کی دلیلوں میں بیان کرتے کہ نبی کی حیات طیبہ میں بہت ساری ذمہ داریاں تھیں جن کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
1 آیات الٰہی کی تفسیر بیان کرنا اور قرآن کے اسرار و رموز بتانا
2 اللہ کی طرف سے آنے والے جدید احکام پہنچانا
3 اہل کتاب یعنی توریت اور انجیل کے شبہات اور سوالوں کا جواب دینا
4 دین کو تحریف سے محفوظ رکھنا
اب ان ذمہ داریوں کے ساتھ احتمالات بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں تین قابل ذکر ہیں
1 دین کو لوگوں کے حال پر چھوڑ دیا ہے
2 خدا فرشتوں کہ ذریعہ پورا کرے
3 زات مقدس رسول اللہ ایسے نائب کو مقرر کریں جو ان جیسا ہو
اور نائب مقرر کرنا ہی عقلی دلیل ہے کیونکہ ہر پیغمبر کے ساتھ ولی اور اوصیا ساتھ آیا ہے
پہلی دلیل قائدہ لطف دوسری دلیل دین کے ماہر کی ضرورت اور تیسری دلیل سیرت مسلمین ہے
عالم اسلام کے ماہرخواجہ نصیرالدین طوسی اور تفتازانی اور دیگر اہل سنت کی کتب میں یہاں تک کہ ثقیفہ میں بھی بیان ہوا ہے کہ امام کی ضرورت ہے اور امام یا خلیفہ کا وجود عالم اسلام کے لیے بہت ضروری ہے
4 دلیل۔ حدود شرعیہ کا اجراء ہونا ضروری ہے
5 دلیل دفع ضرر ھے یعنی آنے والے ضرر اور نقصان کوپہلے ہی روک دیں
ان تمام دلائل اور احتمالات کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ امام کا وجود قیامت تک کہ مسلمانوں اور دین کی حفاظت کہ لیےبہت ضروری ھے اور اللہ نے اسکا انتظام بھی کیا ہے جس طرح مادی جسم کے لیے آکسیجن کی نعمت زمین پر اتاری اسی طرح اپنے نبی کے اوصیا
کو بھی روشناس کرایا اور یہی فرق اہل سنت اور ہمارے عقیدے میں ہے امام اور ہادی انھیں بھی چاہیے لیکن یہ ان کا چنا ہوا اور ان میں سے ہی ہوتا ہے
اللہ ہم سب کہ ایمان کو ثابت قدم رکھے اور جلد سے جلد یوسف زہرا کا ظہور ہو آمین یا ربالعالمین 🤲🏼
شہر بانو✍️
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
# *درس8*
# *موضوع :امام کے اوصاف ، آیا عصمت امام کے لیے ضروری ہے؟ عصمت کا معنی اور تعریف*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع: امام کے اوصاف ، آیا عصمت امام کے لیے ضروری ہے؟ عصمت کا معنی اور تعریف*
*مہدویت کورس* 2
*کتابچہ* 5
*درس* 8
*موضوع : امام کے اوصاف*
*خلاصہ*
اس درس میں امام ع کے جو اوصاف بیان کیۓ گئے ہیں ان میں سے کچھ دونوں فرقوں اہل سنت اور اہل تشیع میں مانے جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ اوصاف کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
*مشترکہ صفات*۔
امام کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع علماء کا متفق نظریہ ہے کہ امام کو *مسلمان ، عادل اور ازاد* ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں جو اختلافی صفات ہیں ان میں سے پہلے فقہ جعفریہ کے نظریات کے بارے میں بیان کیا گیا۔
امام کی پہلی صفت *عصمت* ہے۔ یعنی ہر امام معصوم عن الخطا ہوتا ہے۔
*عصمت کی تعریف*
ابن فارس۔۔ راغب اصفہانی اور دیگر علماء کے نزدیک عصمت کے لغوی معنی ہیں پرہیز کرنا،
بچے رہنا یا منع کرنا کے ہیں۔
بزرگ عالم *سید مرتضی کے مطابق عصمت خدا کی طرف سے بندے پر ایک لطف ہے۔ عصمت بندے کو بلند مقام تک پہنچاتی ہے*
علم کلام کے ماہرین کے نزدیک عصمت سے مراد ترک گناہ ہے۔
عصر حاضر کے علماء کے نزدیک عصمت کے معنی مزید وسیع ہیں۔ان کے مطابق۔۔۔
عصمت سے مراد نہ صرف عملی طور پہ معصیت سے بچے رہنا بلکہ *غلط فکر اور غلط خیال سے بچے رہنا* بھی عصمت ہے۔
⬅️امام لوگوں کے تمام امور سے واقف ہوتا ہے اور ان کے امور میں غلطی نہیں کرتا۔
⬅️امام لوگوں کے تمام مسائل سے واقف ہوتے ہیں اور ان کے حل میں غلطی نہیں کرتے۔
⬅️امام خدا کے حکم کو سمجھنے اور اس کو جاری کرنے میں کسی قسم کا سہو نہیں کرتے۔
⬅️امام کبھی کسی بات کے بارے میں غلط حکم جاری نہیں کرتے۔
المختصر کہ امام نہ صرف عملی طور پہ بلکہ فکری لحاظ سے بھی دین اور دنیا کے تمام معاملات میں ہر قسم کی سہو۔۔بھول چوک اور غلطی سے پاک ہیں اور معصوم عن الخطا ہوتے ہیں۔
دعا ہے کہ پروردگار ہمیں ہمارے امام کی زیادہ سے زیادہ معرفت حاصل کرنے اور ان کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ ۔آمین ثم آمین ۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
*
# *درس9*
# *موضوع :عصمت کی عقلی دلیل ، برھان امتناع تسلسل کی تشریح*
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع:
#
# *موضوع :عصمت کی عقلی دلیل ، برھان امتناع تسلسل کی تشریح*
*خلاصہ*
⬅️ اس درس میں استاد صاحب نے امام کے معصوم ہونے پر دو قسم کے دلائل کے بارے میں بیان کیا۔
1 *عقلی دلائل*
2 *قران و حدیث کی رو سے دلائل*
*برہان امتناع تسلسل* عقلی دلیل ہے۔
برہان امتناع تسلسل کی
تشریح یوں بیان کی گئی کہ امام کے لیے عصمت ضروری ہے۔ امام کو ہر خطا سے پاک ہونا چاہیے۔
⬅️ اہل سنت کے تمام فرقے یہ کہتے ہیں کہ معصوم ہونا امام کے لیے ضروری نہیں۔۔ امام کے لیے عدالت ضروری ہے ۔ جبکہ بعض لوگ تو عدالت کی شرط بھی نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں کہ امام کے لیے مسلمان ہونا کافی ہے۔
⬅️ لیکن مکتب تشیع کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ امام کا معصوم ہونا قران و حدیث کی رو سے اور عقلی دلائل کی رو سے بھی مانتے ہیں۔
اس درس میں ایک عقلی دلیل پر گفتگو کی گئی جس کا نام ہے *برہان امتناع تسلسل*
اسکا معنی ہے کہ تسلسل کا محال ہونا۔۔۔ یا تسلسل کا ناممکن ہونا ۔
تسلسل سے مراد کیا ہے یعنی ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جس کا کہ اختتام ہی نہ ہو ۔یہ ناممکن ہے دنیا کے اندر ہر سلسلہ جو شروع ہوا ہے اس کا کبھی نہ کبھی اختتام ہونا ہے ما سوائے خدائے واحد کی ذات کے کہ اس کے لیے بقا ہے ۔۔ باقی ہر شے کو ایک نہ ایک دن فنا ہونا ہے۔
اور اس کی مخلوقات کو تو ضرور ہی فنا ہونا ہے۔ ان کے لیے تو بالکل تسلسل نہیں ہے لہذا جو چیز یا جو سلسلہ بھی آغاز ہوتا ہے اس کا انجام بھی ہے ۔۔۔ تو اس دلیل کی تشریح عصمت امام کے حوالے سے یوں کی گئی کہ امتیوں کو ایک معصوم امام کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امتی لوگوں میں خطا اور گناہ کا احتمال موجود ہے سو کوئی تو ہو جو ان کی رہنمائی کرے۔۔ ان کو راہ حق دکھائے۔۔ ان کی اصلاح کرے۔۔
لہذا ضروری ہے کہ امام
بہ عنوان ولی اور رہبر معصوم ہو اور علم پیغمبر کا وارث ہو۔۔
دیکھیے اگر کوئی ایسا شخص جو معصوم نہیں ہے اس کو رہبر بنایا جائے تو وہ شخص اگر لوگوں پر حدود شرعی کا اجرا کرے تو ممکن ہے کہ اس سے غلط فیصلہ سرزد ہو ۔۔ قران و حدیث کی جو تشریح کرے تو اس میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے۔۔ اب جو شخص امتیوں کی رہنمائی کر رہا ہے ان کے جان و مال پر حکومت قائم کیے ہوئے ہے یہ خود معصوم نہیں ہے۔۔ اگر معصوم ہے تو ہماری بات مکمل ہو جاتی ہے کہ امام کو معصوم ہونا ہے، ہمارا مطلوب حاصل ہے لیکن اگر یہ معصوم نہیں ہے اور اس سے خطا کا احتمال ہے تو پھر اس کی اصلاح کے لیے ایک اور امام چاہیے۔۔
⬅️ *ایسا امام کہ جس سے غلطی کا۔۔ جھوٹ کا احتمال نہ ہو* ،
*گناہ یا خواہشات نفسانی کے تحت حکومت نہ کر رہا ہو* ،
*اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کی وجہ سے حاکمیت نہ کر رہا ہو* ،
*لہذا ضروری ہے کہ حاکم معصوم ہو رہبر معصوم ہو*
لہذا ہمارا نظریہ ثابت ہو گیا کہ اگر وہ غیر معصوم ہے اور غلطی کر سکتا ہے تو اس کی اصلاح کے لیے پھر ایک امام معصوم کی ضرورت ہے ۔۔۔ لہذا یہ تسلسل جاری رہے گا اور یہ سلسلہ پھر آ کر ایک امام معصوم پر ہی ختم ہوگا۔۔
⬅️یہ وہ عقلی دلیل ہے جو ہم امام کی عصمت کے ضروری ہونے پر پیش کرتے ہیں ۔پس اس اہم ترین عقلی دلیل کی رو سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اگر ہم امام کا معصوم ہونا نہ مانیں اور یہ عقیدہ نہ رکھیں تو امام معصوم کی احتیاج کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لہذا ضروری ہے کہ امام معصوم ہو تاکہ امت کے فیصلوں اور معاملات میں کسی خطا کا احتمال نہ رہے۔
🤲 دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے امام کی بہتر سے بہترین معرفت حاصل کر سکیں اور اپنے امام کے خدمت گزار انصار میں شامل ہوں۔ آمین ثم آمین *
🤲🏻اللّٰھم عجلفرجل الولیک ،
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کورس 2 # پانچویں کتاب
*امام مہدی عقل و منطق کی رو سے # درس نمبر 9
*موضوع " عصمت کی عقلی دلیل
برھان امتناع تسلسل کی تشریح
# امام کے لیے عصمت ضروری ھے امام کا معصوم ہونا ضروری ہے
یہ مکتب تشیع کا عقیدہ ہے جبکہ بعض مکاتب فکر اور شیعوں میں زیدی فرقہ امام علیہ السلام کے معصوم ہونے کو ضروری نہیں کہتے ان میں سے بعض عدالت کی شرط بھی نہیں لگاتے
مکتب تشیع کے پاس دو قسم کے دلائل ہیں
# عقلی دلائل اور قرآن و حدیث کے دلائل
عقلی دلیل میں برھان امتناع و تسلسل *اسکا ترجمہ یہ ہے کہ تسلسل کا ماحول ہونا یا تسلسل کے نا ممکن ہونے والی دلیل
تسلسل کے معنی ایک ایسا سلسلہ جس کا اختتام ہی نہ ہو
دنیا کے ہر سلسلے کا آغاز اور انجام ہے لیکن اگر کوئ ایسا سلسلہ جس کا آغاز تو ہو لیکن انجام نہ ہو تو یہ خدا کے حوالے سے تو ممکن ہے مگر انسان و بشر کے لیے نا ممکن ہے
کیوں کہ یہاں حدود اور آغاز و انجام معیّن ہے
امتیوں کوامام کی ضرورت ہے اسلیے کہ ان میں احتمال خطا اور گناہ ہے اسلیے کوئ راہ حق دکھانےوالا ہو یعنی امام جو حدود شرعی کا اجراء، گناہ گاروں کی سزا جو قرآن و حدیث سے ہو رائج کرے اب اس امام کا معصوم ہونا بھی تو ضروری ہے ایسا امام جو خطا اور نسیان کا شکار نہ ہو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے معصوم ہونے کی شرط تمام اہل ایمان کو قبول ہے اسی طرح امام کا معصوم اور عن الخطا ہونا بھی ضروری ہے اب اگر امام معصوم ہے تو ہمارا ہدف اور نظریہ صحیح ثابت ہو گا اگر امام معصوم نہ ہو تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور امام کی احتیاج کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ بیچ والے غیر معصوم ہیں
امام معصوم ہو گا جب ہی وہ قرآن کی رو سے تمام احکامات جاری کرے گا
اللہ ہم سب کو امام کی معرفت عطا فرمائے آمین ثم آمین
شہر بانو✍️
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
# *درس10*
# *موضوع :عصمت کی قرآن و حدیث کی رو سے دلیل*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 سوموار 18 ربیع الاول 1446( 23 ستمبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع:
*
# *موضوع :عصمت کی قرآن و حدیث کی رو سے دلیل*
*خلاصہ*
آئمہ کرام ع کی عصمت پر دروس کے سلسلے میں
درس 9 میں عقلی دلیل *برہان امتناع و تسلسل* بیان کی گئ تھی ۔
*درس #10 میں قرآن و حدیث کی رو سے امام کا معصوم ہونا بیان کیا گیا ہے* ۔
⬅️ *سورہ بقرہ ۔۔ایت 124 میں ارشاد ہوتا ہے کہ ( مفہوم) جب پروردگار نے حضرت ابراہیم ع کی آزمائش کر لی تو انہیں خوشخبری دی کہ تمھیں امام بنایا جاے گا اور اس پر حضرت ابراہیم نے اپنی ذریت میں بھی امامت مانگی تو ارشاد ہوا کہ یہ عہدہ ظالموں کو نہیں مل سکتا ۔۔ پس جو بھی فسق و فجور کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے یا خطا کا احتمال رکھے تو اسے امامت نہیں مل سکتی ۔۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 124 امام کی عصمت کی دلیل دے رہی ہے*
ا
⬅️ *نیز یہ کہ امام منصوب من اللہ ہوتا ہے*۔
*سورہ نساء کہ آیت #59 کا تذکرہ ہوا کہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو* ۔
ہمارے آئمہ کرام علیہم السلام صاحبان امر ہیں۔ جب اولی الامر پیغمبر کی طرح پاک اور معصوم ہو گا۔۔۔پیغمبر کی طرح علم شریعت کو جانے گا اور اس کے نفاذ پر عدالت سے کام لے گا۔ ۔ تب ہی تو امت اس پر پیغمبر ص کی طرح اعتماد کر پائے گی ۔۔
⬅️ *اس کے علاوہ استاد صاحب نے آیہ تطہیر سورہ احزاب آیت 33۔۔۔ اور آیہ مباہلہ کی مثال بھی پیش کی کہ جس میں اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا ذکر ہے ۔ ( اہل بیت علیہم السلام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر قسم کی غلطی،ا نجاست، سہو ، بھول چوک سے بھی پاک رکھا ہے )
*⬅️ احادیث مبارکہ میں بھی متعدد احادیث میں امام کی عصمت کا ذکر ہے کہ جن میں حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ بہت مشہور ہیں ۔
پس واضح ہوا کہ امام معصوم اور من جانب اللہ ہوتا ہے اور لوگوں کے بنانے سے امام نہیں بنتا بلکہ یہ ایک الہی عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔
🤲رب کریم ہم سب کو مقام امامت سمجھنے کی توفیق اور ہمارے وقت کے امام حضرت بقیۃ اللہ علیہ السلام کی معرفت عطا فرمائے۔۔۔ اور انصار امام میں شامل ہونے کا شرف عطا فرمائے آمین ثم آمین
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مہدویت کورس 2 پانچویں کتاب
امام مہدی عقل ومنطق کی رو سے
درس ،10 موضوع # عصمت کی قرآن وحدیث کی رو سے دلیل
# گفتگو آیمہ کی عصمت پر جاری ہے برھان امتناع و تسلسل عصمت کی عقلی دلیل تھی
قرآن و حدیث کی رو سے بے پناہ دلائل ہیں
# سورہ بقرہ کی آیت 24 " میں آپ کو امام قرار دیتا ہوں "
اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان کچھ کلمات کے ذریعہ لے کر یہ فرمایا
ثابت ہوا کہ امام من جانب اللہ ہوتا ہے پھر جب ابراہیم ع نے اپنی زریت میں امامت کی خواہش کی تو پھر ار شاد خدا وندی ہوتا ہے کہ" یہ عہدہ امامت ظالموں کو یعنی گناہ اور فسق و فجور کرنے والوں کو نہیں مل سکتا "
ثابت ہوا کہ ایسا شخص جو اپنے نفس پر ظلم اور سرکشی کرتا ہے وہ امامت کے عہدے کا حقدار نہیں ہے # سورہ نساء کی آیت 59 میں ارشاد پروردگار ہے
اللہ کی اطاعت، رسول کی اطاعت، صاحب امر کی اور اولی الامر کی اطاعت لازم ھے
اسے آیت اولی الامر بھی کہتے ہیں
صاحبان امر آیمہ معصومین ہیں اولی الامر پیغمبر کی طرح پاک اور معصوم ہو گا جب ہی ا مت اللہ اور رسول کی طرح اسکی اطاعت کرے گی ،اسکے علاوہ قرآن میں متعدد آیات جن میں آیت تطہیر اور مباہلہ وغیرہ شامل ہیں موجود ہیں
# احادیث میں بھی متعدد احادیث ہیں جن میں حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ بہت مشہور ہیں
بس ثابت ہوا کہ امام معصوم اور من جانب اللہ ہونا چاہیے
اللہ ہم سب کو آیمہ کے مقام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
والسلام
شہر بانو✍️
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 اتوار 16 ربیع الثانی 1446( 20 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع:
ایک اور عقلی دلیل جو علماء کرام اسلام کے درمیان معروف ہے اس کا نام برھان سبر و تقسیم ہے۔ یعنی آج ہم ایک ایک کر تمام اسلامی فرقوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ حقیقی امام کہاں موجود ہیں وہ امام جو صاحب عصمت ہو وہ امام جو اللہ کی جانب سے منسوب ہو ۔ وہ امام جع علم لدنی رکھتے ہیں وہ کہاں ہیں۔
تو اب سب سے پہلے ہم اہلسنت کے فرقوں کی جانب دیکھتے ہیں تو اہلسنت تو اس چیز کے قائل نہیں کہ خدا کی جانب سے کوئی امام منسوب ہو اور نہ ہی اس چیز کہ قائل ہیں کہ امام معصوم ہوتا ہے۔ اس میں بحث کی ضرورت نہیں تو ہم اب شیعہ فرقوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور ایک ایک کر کے ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔
ہم کیوں اس دلیل کے ذریعے ڈھونڈ رہے ہیں ایک تو یہ کہ اسلام آخری مذہب ہے جو بھی پروردگار عالم کی جانب سے حق ہے۔ اسی اسلام کے اندر ہے اور اسلام فرقوں میں بٹا ہوا ہے اور وہ امام حقیقی انہیں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کا عقیدہ ہے۔
فرقہ کسانیہ:
جناب امیر مختار کی جانب منسوب ہے ۔ اب یہ بات اپنی جگہ قابل غور ہے کہ آیا امیر مختار نے کوئی فرقہ بنایا ہے یا نہیں یا بعد میں کچھ لوگوں نے ان کے نام پر فرقہ بنایا ہے یہ بذات خود تاریخی اعتبار سے ایک اہم مسئلہ ہے جس پر بہت سارے نظریات ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جناب امیر مختار نے یہ فرقہ بنایا اور بعض کا خیال ہے کہ بعد والے لوگوں نے بنایا اور امیر مختار کی جانب منسوب کر دیا۔
امیر مختار کا سب سے عظیم کام یہ ہے کہ انہوں نے قاتلین امام حسین ؑ و شہدائے کربلا سے انتقام لیا۔ اسلئے میں تشیہو میں ایک شجاع شخصیت سے جانے جاتے ہیں۔ اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔
لیکن وہ غیر معصوم ہیں اور ان سے خطا یہ ہوئی کہ جب انہوں نے تحریک شروع کی تو انہوں نے امام سید سجاد ؑ کو بعنوان امام پیش نہیں کیا بلکہ جناب محمد حنفیہ کو بعنوان امام وقت بلکہ امام مہدی ؑ کے نام سے پیش کیا۔
اب یہ فرقہ بھی ہمارے مد مقابل نہیں ہے کہ اس میں ایک ایسے شخص کو بطور امام پیش کیا گیا جو نہ تو خدا کی جانب سے منسوب ہے اور نہ ہی معصوم ہے۔ البتہ یہ فرقہ بعد میں ختم ہوگیا۔
فرقہ زیدیہ :
یہ امام زین العبابدین کے بیٹے زید ابن علی کو اپنا امام سمجھتے ہیں اور ان کے بعد آنے والے ان کے اولاد میں سے امام قرار دیتے ہیں۔
تاریخ کی رو سے ابھی بھی یہ فرقہ موجود ہے۔ اور ان کے اندر امام وہ ہے جو شجاع ہو ،عادل ہو، ہاشمی ہو ، فاطمی ہو۔ لیکن یہ لوگ بھی امام کی عصمت کے قائل نہیں ہیں ۔ اور جس شخصیت کو بطور امام پیش کیا انہوں نےتو خود کھبی بھی امامت کا دعوہٰ نہیں کیا تھا۔ اور نہ ہم ان کی عصمت کے قائل ہیں اور نہ ہی فرقہ زیدیہ یہ کہتا ہے کہ وہ معصوم تھے۔
تو یہ فرقہ بھی زیر بحث نہیں۔ ہم تمام فرقوں کا آہستہ آہستہ تجزیہ کریں گے تاکہ بلا آخر ہم ایک ایسے فرقے تک پہنچیں جہاں وہ امام موجود ہو جو قرآن و احادیث اور عقل کی رو سے ہے ۔ کہ جو اللہ کی جانب سے منسوب بھی ہو اور معصوم بھی ہو۔ اورہدایت پر
سرفراز ہو
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
# *درس12*
# *موضوع :برھان سبر و تقسیم کے ذریعے حقیقی امام تک پہنچنا, فرقہ ناوسیہ اور واقفیہ پر تجزیہ*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 منگل 18 ربیع الثانی 1446( 22 اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع: برھان سبر و تقسیم کے ذریعے حقیقی امام تک پہنچنا, فرقہ ناوسیہ اور واقفیہ پر تجزیہ*
ہم نے یہ دیکھنا کہ کس مذہب اور فرقے کے اندر وہ امام عج موجود ہے جو اللہ کی طرف سے منسوب ہے لازم ہے اور پروردگار کی طرف سے تمام علوم سے بہرہ مند ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے پروردگار اپنی حجت کو عطا کرتا ہے۔۔۔
عرض کیا تھا کہ اہل سنت کے جو فرق ہے وہ تو اس موضوع سے خارج ہیں،
شیعہ فرقوں میں ہم ایک ایک کر کے سب کا تنزیہ کریں گے،
1: سب سے پہلا فرقہ جو شیعوں کا بنا وہ یعنی مذہب شیعہ اثنا عشری سے ہٹ کر فرقہ کیسانیہ تھا جسکا تاریخ میں ذکر ہے یہ لوگ امیرالمومنین کے بعد اور امام حسن اور حسین علیہ السلام کے بعد محمد حنفیہ کی امامت کے قائل ہوئے۔۔۔
لہذا ان کو ہم نہیں مانیں گے کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کی امامت کے قائل ہوئے جو محترم تو ہیں لیکن خدا کی طرف سے منسوب نہیں تھے۔۔۔
اور ہماری کتابوں میں ذکر ہے کہ محمد حنفیہ کو کافی عرصہ تک اس بات کا گمان تھا کہ شاید میں امام ہوں ،
کیونکہ میں تنہا بیٹا ہوں امیرالمومنین ع کا واقعً اس وقت وہ اکیلے بیٹے رہ گٸے تھے،
ان کے بھتیجے تھے لیکن مولا علی کے تنہا بیٹھے وہی تھے،،
تو امام سجاد علیہ السلام نے ان کا یہ شق گمان دور کیا فرمایا آپ میرے محترم چاچا ہیں ،،، لیکن آپ امام نہیں ہیں اور پھر حجر اسود کو مولا ع نے گواہ قرار دیا ہے کہ حجر اسود امام وقت کو سلام کا جواب دیتا ہے ،
آپ سلام کریں محمد حنفیہ نے سلام کیا حجر اسود نے جواب نہیں دیا ،
لیکن جب امام زین العابدین ع نے سلام کیا تو حجر اسود نے جواب دیا کھا کہ،
*اے حجت خدا آپ پر بھی سلام ،*
تو پھر یہاں سے محمد حنفیہ شک گمان دور ہوا کہ یہ وراثتی بات نہیں ہے کہ اب میں بیٹا رھہ گیا ہوں بلکہ یہ خدا کا دیا ہوا منسب ہے،
2: *فرقہ زیدیہ*
فرقہ کسانیہ کے بعد دوسرا جو فرقہ بنتا ہے زیدیہ ہے اس پر بھی گفتگو ھوچکی ہے کہ وہ جناب زید ابن علی کو امام سجاد علیہ السلام کے بیٹے زید کو امام مانتے ہیں امام باقر امام صادق علیہ السلام کو امام نہیں مانتے یہ بھی ہماری موضوع سے خارج ہیں زیدیہ کھتے ہیں امام ہم خود منتخب کرتے ہیں ،
3: *فرقہ ناٶسیہ*
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان میں ایک شخص امام صادق ع کے ماننے والوں میں سے عبداللہ ابن ناٶس جس نے یہ دعوی کیا کہ امام صادق ع وہ شہید نہیں ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں حکم خدا سے غائب ہے اور وہ امام مہدی ہیں امام قائم ہے وہ غیب میں ہیں بلکہ دوبارہ پلٹنے اور دنیا میں حکومت الہیہ برقرار کریں یے فرقہ ختم ھوگیا اور یہ فرقہ باطل ہے کیونکہ امام صادق علیہ السلام نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ میں امام مھدی عج ہوں یا امام قاٸم ہوں بلکہ جب بھی ان سے پوچھا گیا تو آپ ع نے فرمایا میں مھدی ع نہیں ہوں،
💚 *امام مھدی عج* میری نسل میں سے چھٹی امام ہیں،
وہ امام قائم ہیں، اسی طرح دوسری چیز جو ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی امام معصوم نے امام صادق علیہ السلام کی مہدی قائم ہونے کی تصدیق نہیں کی اور امام صادق علیہ السلام کی شہادت سب پر واضح ہے کہ امام صادق شہید ہوئے اور ان کے بعد ان کے بیٹے امام موسیٰ کاظم امام بنے امام صادق ع کا باقاعدہ جنازہ ہوا ان کا مدفن مبارک جنت البقیع ہے ،
تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور وہ قائم ہیں اور وہی قیام کریں گے تو یہ باتیں بعد میں رد ہو گئی،
4: *فرقہ واقفیہ ،*
اس کے بعد جو ہے فرقہ واقفیہ آتا ہے یہ امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد وجود میں آیا اس کا پس منظر یہ ہے جہاں جہاں بھی مسلمانوں حکومتیں تھے جہاں جہاں بھی شیعہ تھے وہاں مولا کی طرف سے وکلا۶ مقرر تھے ،
جو مولا کے طرف سے سوالات کے جواب دیتے تھے، جو لوگ مال دیتے اسی امام تک لاتے تھے
امام کی خدمت میں کے لئے تو اسے امام خرچ کراتے تھے اور فرماتے کہ وہاں وہاں خرچ کریں جہاں ضرورت ہوتی،
تو امام کاظم ع صلوات اللہ علیہ السلام کچھ عرصہ زندان میں رہے،
کچهہ وکلا۶ وہ اپنی اپنی مرضی کرنے لگ گئے اور امام کاظم صلوات اللہ علیہا کی شہادت کے بعد ان کے پاس جو مال جمع ہوا تھا وہ مال انکو دھوکا دے گیا بجائے کہ وہ سارہ مال امام رضا علیہ السلام کی تحویل میں دیتے انہوں نے امام رضا علیہ السلام کی امامت کا انکار کر دیا اور کہا کہ ہم توقف کرتے ہیں امام کاظم پر وہی امام مہدی ہیں وہ شہید نہیں ہوئے بلکہ وہ غائب ہیں اور رجعت کریں گے اور وہ دنیا کا نظام سنبھالیں گے،
یہ تین وکیل تھی امام کاظم ع کے سینکڑوں وکیل تھے باقی سب امام رضا علیہ السلام کی امامت کے قاٸل ہوئی یہ تین تھے جنہوں نے انکار کیا،
1: ضیاد بن مروان کندی ،
2: علی بن ابی حمزہ بطائنی ہے،
3: عیسٰی بن محمد رواسی ہے ،
ان تینوں نے جو ہے یہ شوشہ چھوڑا اور کچھ لوگ بھی گمراہ فرقہ وجود میں آیا خود امام رضا علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اور ان کے نظریات کو رد کیا اور فرمایا میرے والد شہید ہوچکے ہیں وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر طے ہوتا کہ اللہ نے کسی کو قیامت تک زندہ رکھنا ہوتا تو پھر
*سرکار حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم*
🌹 *اللّٰھم صل علیٰ محمد وآل محمد ،*
پھر انکو اللہ زندہ رکہتا،
ہر آدمی کے عمر معین ہے اور اس نے اس کے بعد اس نے جانا ہے تو وہ ہستی جس نے لمبی عمر پانی ہے وہ
💚 *امام قائم عج* ہے باقی ہر امام نے ایک مدت کے بعد اس دنیا سے جانا ہے،
( *خلاصہ* )
یہ فرقہ واقفیہ جو ہے جو کہ ساتویں امام پر توفق کرتے ہیں ،
اور رسول اللہ صہ کا فرمان یہ ہے کہ میرے بعد بارہ اوصیا۶ ہیں،
اس بات سے یہ فرقہ بھی ہمارے موضوع سے خارج ہے ،
اور ان لوگوں نے رسول اللہ کی حدیث کے خلاف عمل کیا اور وقت کی حقیقی حجت کو بھی نہیں پہچانا اور بعد میں یہ لوگ بالکل ختم ہوگٸی ان شاء اللہ اس موضوع کو آگے بڑھائیں گے اور بھی ایسے باطل فرقے وجود میں آئے اور بالآخر حق جو ہے وہ فرقہ اثنا عشریہ کے ساتھ ثابت ہے اور یہیں سے حق ظاہر ہے ان شاء اللہ اس کو دلائل سے آپ کی خدمت میں بیان کریں گے، ان شاء اللہ
🤲🏻اس دعا کے ساتھ کے پروردگار توفیق دے کہ امام حق امام زمانہ عج کے نصرت ان کی زیارت انکی خدمت کا ہم سب کو شرف حاصل ہو ۔۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*مہدویت کورس 2 خواہران*
*کتابچہ*📖* 5 " امام مہدی عقل و منطق کی رو سے"*
# *درس13*
# *موضوع :برھان سبر و تقسیم کے ذریعے حقیقی امام تک پہنچنا, فرقہ اسماعیلیہ اور اثناعشریہ پر تجزیہ*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
*📆 اتوار 23 ربیع الثانی 1446( 27صغ اکتوبر ، 2024)*
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
📖گفتگو کا موضوع:
* :برھان سبر و تقسیم کے ذریعے حقیقی امام تک پہنچنا, فرقہ اسماعیلیہ اور اثناعشریہ پر تجزیہ*
اسماعیلیہ 💫
۔ایک مشہور فرقہ جو ہے وہ اسماعیلیہ ہیں۔یہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے سب سے بڑھے فرزند (جناب اسماعیل) جو کہ 110 ھجری میں پیدا ہوئے اور 138 ھجری میں وفات پا گئے 28 سال کی عمر میں وفات پائی امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں ہی انکو اپنا امام سمجھتے تھے۔
امام صادق علیہ السلام کے بعد
اس لیے ہم اسماعیلی لوگوں کو شیش امام بھی کہتے ہیں ۔
یعنی پہلے چھ امام کو ساتھ مانتے ہیں ۔
ساتویں امام ۔یعنی ہم امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنا امام مانتے ہیں لیکن یہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے جو بڑے بیٹے تھے جناب اسماعیل جو کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے انکو اپنا امام مانتے ہیں ۔
اصل میں شیعوں کا اک تصور تھا کہ امامت ہمیشہ بڑے بیٹے کو ملتی ہے ۔اس لیے امام صادق علیہ السلام کی زندگی میں ہی جناب اسماعیل کو امام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انکا احترام کرتے تھے ۔اور خود جنابِ اسماعیل نہایت متقی اور پاک انسان تھے ۔لیکن امامت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اک منسب ہے اور وہ تو خدا نے دینا ہے ۔
یقیناً امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا مکام سب سے بلند تھا اس لیے اللّٰہ نے انکو امامت دی ۔
جنابِ اسماعیل خود امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں وفات پا گئے تھے ۔
بہر حال اک گروہ ایسا تھا جنہوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت کو قبول نہ کیا اور اسماعیل اور انکے فر زندگی کی امامت کے قائل ہوئے ۔
1-جنابِ اسماعیل معصوم نہیں تھے ۔
2-جنابِ اسماعیل نے ہذات خود کبھی بھی امامت کا دعویٰ نہیں کیا ۔اگر بعض افراد نے انکی امامت کا دعویٰ کیا بھی ہے تو اسکی مختلف وجوہات تھیں ۔
3-جناب اسماعیل امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پا گئے.
کس طرح ممکن ہے کہ ایک حی و زندہ امام سے امامت ایک ایسے شخص کی طرف منتقل ہو جائے جو اس زندہ امام سے پہلے وفات پا گیا ہو۔
شیخ مفید فرماتے ہیں:💫
جنابِ اسماعیل کی امامت کا مسئلہ اس صورت میں پیش آتا جب اسماعیل امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد زندہ رہے ہوتے ۔
حالانکہ: اسماعیل امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات سے قبل چل بسے اور تمام لوگوں کے سامنے انکی تجہیز و تکفین کے امور انجام دیئے گئے ۔
یہاں تک امام جعفر صادق علیہ السلام کے حکم پر کئی مرتبہ ان کا تابوت زمین پر رکھا گیا ۔
امام نے انکے چہرے سے کفن ہٹا کر ان کی صورت پر نگاہ ڈالی تاکہ انکی موت کے بارے میں کسی کے دل میں شک و شبہ باقی نہ رہے ۔
4۔جناب اسماعیل کی امامت کے بارے میں صادق آل محمد علیہ السلام سے کوئی روایت نقل نہیں ہوئی ۔
ان نظریوں کو بیان کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان افراد میں سے کوئی بھی امام موعود کا مصداق نہیں بن سکتا ۔
اثنا عشریہ:💫
تحقیق و تجزیہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ کے علاوہ کسی دوسرے فرقہ میں معصوم امام نہیں پایا جاتا بلکہ تمام قرائن و شواھد معصوم امام کو صرف شیعہ اثنا عشری میں منحصر کرتے ہیں ۔
1- ہر زمانے میں امام کے وجود کو ضروری سمجھتا ہے ۔
2-امام کی عصمت کا عقیدہ رکھتا ہے ۔
3-امام مہدی علیہ السلام کی ولادت پر ایمان رکھتا ہے اور انہیں اپنے زمانے کا امام تسلیم کرتے ہیں ۔
نکتہ:
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نہ اپکی بات اور نہ ہماری تو اس سے کیا ہو جائے گا ؟
-اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ حق دائرہ اسلام سے خارج ہو حالانکہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ حق دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہے ۔پس اس تیسری تمہید میں بیان کئے گئے منطقی طریقہ کار کے سامنے سر تسلیم خم کر نے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
*مہدویت کورس* 2
*کتابچہ نمبر* 5
(امام مہدی عقل و منطق کی رو سے)۔
*درس نمبر* 13
موضوع : *برہان سبر و تقسیم کے ذریعے حقیقی امام تک پہنچنا*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 23 ربیع الثانی 1446( 27 اکتوبر ، 2024)**
فرقہ اسماعیلیہ اور اثنا عشری پر تجزیہ۔
اس سے پہلے فرقہ کیسانیہ، زیدیہ اور واقفیہ کا تجزیہ کیا جا چکا ہے اور ہم نے دیکھا کہ کسی بھی فرقے میں امام معصوم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔یہاں فرقہ اسماعیلیہ اور اثنا عشری یعنی 12 امام فرقے کے بارے میں گفتگو کی گئی۔
💫 *فرقہ اسماعیلیہ*۔
یہ لوگ چھ اماموں کو مانتے ہیں شش امامی بھی کہلاتے ہیں۔یہ لوگ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت کے قائل نہیں بلکہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو اپنا امام مانا حضرت اسماعیل 110 ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور 138 ہجری میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ اپ بہت متقی اور پرہیزگار تھے۔۔ اس زمانے میں لوگوں میں یہ نظریہ تھا کہ امام کا بڑا بیٹا ہی امام ہوگا۔ لیکن یہ نظریہ درست نہیں۔۔
⬅️ *شیخ مفید* رح اس بارے میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایک امام کی زندگی میں دوسرا امام نہیں ہو سکتا اور ان کو جب امام مانا جا سکتا تھا کہ اگر وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی زندہ ہوتے جب کہ جناب اسماعیل ۔۔ ۔۔ امام جعفر صادق کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہی ان کی تہجیز و تکفین کی تھی اور بار بار کفن ہٹا کر ان کا چہرہ بھی دکھایا تھا تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
2- دوسرے وہ معصوم بھی نہیں تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے بعد انے والے اوصیاء کے جو نام بتاۓ ہیں اس میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔۔
3- جناب اسماعیل نے 28 سال کی عمر تک خود بھی کبھی دعویٰ امامت نہیں کیا تھا۔
💫 *شیعہ اثنا عشری*
مندرجہ بالا تمام تحقیق و تجزیہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ وہ فرقہ ہے جو ان 12 اماموں کو مانتا ہے جن کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بتائے۔
⬅️یہی فرقہ اس بات کا قائل ہے کہ امام منصوب من اللہ ہوتا ہے اور ہم انسان اپنے لیے امام کو خود منتخب نہیں کر سکتے۔
(حتی کہ جو لوگ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ امام پیدا ہوں گے اور پھر دنیا کے نجات دہندہ ہونے کا دعویٰ کریں گے , وہ بھی اس بات پر قائل ہیں کہ امام مہدی کو اللہ کسی خاص گھرانے میں پیدا کرے گا اور ہم خود کسی شخص کو بطور امام مہدی منتخب نہیں کر سکتے۔)
⬅️شیعہ اثنا عشری فرقہ امام مہدی علیہ السلام کے وجود کا قائل ہے۔
⬅️یہ ہر زمانے میں امام کی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امام کی ولادت ہو چکی ہے اور امام غیبت میں ہیں۔
⬅️💫یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میں امام مہدی علیہ السلام کی ولادت پر یقین نہیں رکھتا۔۔۔اور نہ اپ کی بات نہ ہماری بات۔ تو پھر اس بات سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔۔
💫لہذا قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ
⬅️شیعہ اثنا عشری امام مہدی علیہ السلام
کو اپنا بارہواں معصوم امام مانتے ہیں اور یہی حق ہے ۔اور انہی کی امامت کے بارے میں گیارہویں امام۔۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے کئی بار اپنے خاص اصحاب اور خاندان کے دیگر افراد کو ہدایت کی تھی۔۔
🤲دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی اطاعت گزار اعوان و انصار میں شامل فرمائے آمین ثم آمین 🤲 ۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں