اخلاق منتظرین سعدیہ شہباز

 










*💫درس اخلاق منتظرین*


*✨اپنے لمحات خیر کو ضائع نہ کریں*


*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹



*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.* 

پروردگار قرآن مجید میں سورہ البقرہ کی 148 نمبر آیہ مجید میں ارشاد فرما رہا ہے۔ 

*فَاسْتَبِقُوا الْخَيْـرَاتِ ۚ* 🌷

*کار خیر کی جانب سبقت کرو۔* 


ہماری زندگی میں بسا اوقات ایسے لحظات آتے ہیں کہ جن کو ہم کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہم پر خاص لطف و کرم ہے۔ کہ اگر ہم ان لحظات سے استفادہ کریں اور وہ کار خیر انجام دے دیں تو یہ بہت بڑی سعادت ہے یعنی ہم گویا چند لحظوں میں سینکڑوں سالوں کا سفر کر لیتے ہیں اور یہ لحظات ہر شخص کی زندگی میں آتے ہیں اور وہ متوجہ ہو جاتا ہے لیکن تھوڑی سی سستی اور غفلت باعث بنتی ہے کہ وہ فرصت ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ 


انسان کو چاہیے کہ کوشش کرتا رہے اور ان  لحظات کو تلاش کرتا رہے۔ ہمارے اردگرد بہت سے مسائل ہیں کہ جہاں ہم اگر تھوڑا سا کارخیر کریں تو اس کے بڑے بڑے ثمرات حاصل کرسکتے ہیں۔ 


خود ہمارے خاندان والے ہیں اور ہمارے اردگرد کے مومنین ہیں اور ان کی تھوڑی سی مدد اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتوں کو ہمارے شامل حال کر دیتی ہے اور بہت سارے گناہوں کی بخشش کا باعث بن جاتی ہے۔ ہماری باقی ساری عبادتوں کی قبولیت کا باعث بنتی ہے۔ 


*یہاں ایک دلچسپ واقعہ  آپ کی خدمت میں بیان کرتے ہیں جو ہوسکتا ہے کہ ہمارے اردگرد کے بہت سارے مسائل کو حل کرنے کا باعث بنے۔* 🫴


ایران کے ایک مشہور  *خطیب حجت الاسلام و مسلمین استاد مسعود عالی* اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ ایک بہت بڑی شخصیت دور حاضر میں گذری ہے *آیت اللہ آقا محمد تقی بہلول* جو بہت بڑے عالم ، عارف فقیہ اور مجاہد تھے۔ 


بہت پہلے جب ان کا انتقال ہوا تو رہبر انقلاب نے ان کی وفات پر فرمایا تھا عجوبہ روزگار کہ یہ زمانے کی حیرت انگیز شخصیت تھے اور ان کی بے پناہ تعریف کی۔ جناب بہلول کو اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادات اور زحمتوں کا جو صلہ دیا تھا پروردگار نے انہیں حی الارض قرار دیا ہوا تھا۔ وہ چند لحظوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے تھے۔ ✨


ان کے حوالے سے بہت کچھ بیان ہوا ہے۔ ہم یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ پیش کرتے ہیں جو حوزہ علمیہ کے اس استاد نے اپنی تقریر میں بیان کیا۔ 


کہتے ہیں کہ میرے ایک دوست اصفہان میں ہیں کہتے ہیں کہ آیت اللہ بہلول جب بھی اصفہان آتے تھے میرے گھر میں ٹھہرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب ان کو اصفہان میں ایک مجلس کی دعوت تھی۔ 


اس  زمانےمیں میں نے اپنے لیے ایک بہت ہی نفیس اور قیمتی ٹوپی خریدی تھی تو جب وہ مجلس میں ممبر پر تشریف فرما تھے اور میں ان کے بلکل سامنے فرش عزا پر بیٹھا تھا۔ اور وہ تقریر کر رہے تھے تو دوران تقریر  ان کو چھینک آئی اور بعض اوقات چھینک کے دوران انسان کی ناک سے مواد نکل کر منہ پر آجاتا ہے چونکہ وہ آخری ایام میں بہت بوڑھے اور ضعیف تھے تھے۔ تو وہ اصفہانی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک دم اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا کہ کوئی رومال یا ٹشو مل جائے تو وہ نہیں تھا۔ وہ ذرا سے پریشان سے ہوئے۔  تو میں نے فوراً اپنی ٹوپی ان کو دے دی اور انہوں نے اپنا چہرہ اس سے صاف کیا اور بعد میں وہ متوجہ ہوئے کہ یہ کوئی رومال نہیں بلکہ ٹوپی ہے تو جب انہوں نے وہ مجھے واپس کی تو مجھے ایک خاص نظر سے دیکھا۔ ✨


*وہ اصفہانی کہتے ہیں کہ جب وہ میرے ساتھ گھر آئے تو مجھے کہنے لگے کہ تمھاری کوئی آرزو ہے تو مجھے بیان کرو۔ میں نے کہا کہ میری کوئی آرزو نہیں میرے لیے یہی کافی ہے کہ آپ کی خدمت کرتا ہوں ۔* 


کہا کہ نہیں اگر کوئی آرزو ہے تو بتاؤ۔ کہتے ہیں کہ ان دنوں میں جنگ تھی اور کربلا اور نجف جانے کے راستے بند تھے تو وہ اصفہانی کہنے لگا آغا محترم میری آرزو ہے کہ کاش میں کربلا جاتا اور سید الشہداء کی زیارت کرتا لیکن افسوس راستے بند ہیں۔ 


تو انہوں نے فرمایا کہ ا *ٹھو غسل زیارت کرو*

میں نے غسل زیارت کیا۔ 

*انہوں نے کہا 70 مرتبہ استغفار کرو۔ میں نے 70 مرتبہ استغفار کیا*


پھر انہوں نے کہا کہ *سورہ حدید کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرو*✨✨

پھر فرمایا: 

*سورہ حشر کی آخری چند آیات کی تلاوت کرو کہ جن میں اللہ کے اسماء حسنہ کا ذکر ہے اور اس میں پروردگار کی علویت اور عظمت کا ذکر ہے* میں نے اس کی تلاوت کی ۔ فرمایا صحن میں آجاؤ۔ جب ہم صحن میں گئے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ابھی ہم چند قدم ہی چلے تھے تو مجھے ایسے لگا جیسے میرے سامنے ایک حرم ہے اور میں مدہوش سا ہوگیا۔ مجھے لگا میں خواب میں ہوں میں نے پوچھا قبلہ یہ کون سی جگہ ہے کہا یہ حرم امام حسین ؑ ہے۔ 😭😭

میں حیران ہوا میں حرم میں داخل ہو اس وقت حرم میں کوئی نہ تھا ۔ 

مجھ سے کہا نماز زیارت پڑھیں ۔ وہاں ہم نے نماز زیارت پڑھی۔ 

کچھ دیر وہاں عبادت کی۔ پھر ہم وہاں سے چلے ابھی چند قدم چلے تھے کہ ایک اور حرم دیکھا۔ میں نے پوچھا قبلہ یہ کون سا حرم ہے فرمایا۔ 


یہ امیرالمومنینؑ کا حرم ہے۔😭


 مجھ پر حالت خواب طاری تھا میں حیران تھا۔ اور عجیب سا سما تھا اور فضا میں عجیب سی نورانیت تھی۔ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنینؑ کی زیارت کریں نماز ادا کریں۔ کچھ دیر ہم نے وہاں عبادت کی پھر کہا کہ اب کیا پروگرام ہے۔ میں نے کہا آقا اب اصفہان چلیں۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ابھی چند قدم چلے ہی تھے کہ لگا کہ اپنےگھر کے صحن میں ہوں جب صحن سے کمرے میں داخل ہوا تو ایک خواب کی حالت مجھ پر ختم ہوئی۔ تو میں نے کہا کہ ہم کیا واقعاً کربلا و نجف گئے تھے تو کہا کہ ہاں کیا تمھاری یہ آرزو نہیں تھی کہ ہم کربلا و نجف جائیں۔ 


*اصفہانی کہتے ہیں* کہ میں نے پوچھا کہ قبلہ پھر مجھے سامرا اور کاظمین کیوں نہیں لے کر گئے تو کہنے لگے کہ تم نے سامرا ء اور کاظمین کی خواہش کا ذکر تو نہیں کیا تھا۔ 


عرض خدمت ہے کہ🫴 ایک عظیم شخصیت کے لیے ایک چھوٹا سا کام جو اس وقت انتہائی ضروری تھا۔  اصفہانی نے یہ نہیں دیکھا کہ میری ٹوپی اتنی مہنگی اور قیمتی ہے اور آغا کس لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ صرف ایک بزرگ عالم کو مولا امام زمانہؑ کا ایک سپاہی سمجھ کر ان کی خدمت میں اپنی ایک قیمتی چیز دے دی۔ اور یہ وہ لحظے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کتنے قیمتی لحظات سے گذارا۔ 


*امام زمانہؑ عج کی راہ میں ہمارا کوئ ایک قدم ہماری پوری کایا کو پلٹ سکتا ہے۔* ✨


آپ نے کیا کربلا میں جناب حرؑ کو نہیں دیکھا کہ جو جنہم کے آخری گڑھے میں تھے اور ایک دم بہشت کے عروج پر پہنچ گئے۔ اور بہشتیوں میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا۔  


*امام صادقؑ جناب حرؑ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:* 🌷

یہ ان شہداء میں سے ہیں کہ جن کے بارے میں ہم آئمہؑ بھی کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے ماں باپ قربان۔ 


*جناب حرؑ کو یہ مقام کیسے ملا کہ جب ایک لحظہ انہوں نے توجہ کی۔* 🫴

جب حر نے سید الشہداءؑ کا راستہ روکا تو آپؑ نے فرمایا اے حر تیری ماں تیرے غم میں  رویئ۔ 

مولاؑ حسین ؑ  یہی چاہتے تھے کہ حر میرے  کہنے سے میری ماں فاطمہؑ زہرا کی جانب متوجہ ہو۔ تاکہ اس کی ہدایت ہو۔ کیونکہ مولا جانتے تھے کہ حر میں یہ صلاحیت ہے کہ جہمنی سے جنتی بن سکے۔ اور اس کی کایا پلٹ جائے اور مولاؑ کا یہ کہنا۔


کہ *اے فرزند رسولؐ آپ نے تو کہہ دیا لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ آپؑ کی ماں زہراؑ ہیں اور سیدہ النساء العالمین ہیں۔*😭 بس یہ جو حر نے توجہ کی اور یہی سوچ باعث بنی کہ صبح عاشور اپنے لشکر کو چھوڑ کرے اپنے زمانے کے امامؑ کے قدموں میں آجاتے ہیں۔ اور چند لحظوں میں جناب حر نے جہنم سے جنت کے اعلیٰ ترین درجوں کا سفر کیا۔ اور شہدائے کربلا میں انہیں جگہ ملی۔ 😭😭


اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اپنے بزرگوں، اپنے عزیزوں، اپنے اردگرد لوگوں میں بسا اوقات کسی مرکز کی خدمت ، کسی ہستی کی خدمت یا وہ ہستیاں کہ جن کی خدمت ہم پر واجب ہے۔ یا وہ عزیز جن کی کفالت ہم پر ضروری ہے ان کے حوالے سے قدم اٹھانا باعث بنے کہ پروردگار کی نگاہ لطف اور امامؑ کی دعا اور کرم ہمارے شامل حال ہو جائے۔ 😭🤲


اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے لحظات عطا فرمائے۔ 

الہیٰ آمین۔ 🤲😭

والسلام

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز۔ 

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔  🌏*


*💫درس اخلاق منتظرین*

درس 12

 ✨صفتِ وفا ، کریم اور سلام میں سبقت 


*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹


*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

ہماری گفتگو ایک منتظر کے اخلاق میں جاری ہے۔ ہماری گفتگو ایک شخصیت اخلاق کہ جن کو ہم نے اپنی زندگی میں اسوہ قرار دینا ہے اور اپنی زندگی میں اس عظیم شخصیت سے ہم نے درس لینا ہے۔ اور اس حوالے سے کائنات کی سب سے عظیم ترین ہستی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآل وسلمؐ کی صفات حسنہ کو ہم نے موضوع بحث قرار دیا۔ اب تک صفت احسان ، اخلاص پیغمبرؐ، ادب استقامت، اسی طرح پیغمبرؐ کی امانت داری  بیان ہوئی


ذات نبیؐ اکرم ؔ بے پناہ صفات حسنہ ہیں اور یہ سب ہماری درس زندگی ہیں ۔ ہماری تربیت ہماری روح کی پرورش کے لیے آپؐ کی ذات مبارک کاملاً بعنوان ھادی اور بعنوان مربی آپؐ نے جس انداز سے حق ادا کیا وہ کرنا چاہیے تھا کہ قرآن بھی آپ کو مختلف انداز سے پکارتا ہے۔ جیسے خلق عظیم جو بہت بڑی صفت ہے جو قرآن نےآپ کے حوالے سے بیان کی کہ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔ 


*سورہ قلم* 

آیت نمبر 4

ارشاد پروردگار ہو رہا ہے:

*وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِـيْمٍ (4)*🌷

اور آپؐ بلند ترین اخلاق کے درجہ پر ہیں۔


خلق عظیم یعنی پیغمبرؐ اکرم کا مزاج کریمانہ ہے۔ آپؐ کی ذات اقدس میں وہ تمام اخلاق حسنہ درجہ اکمل و اتم یعنی آخری درجہ تک موجود ہیں۔ آپؐ دنیا والوں کے لیے صرف اور صرف ایثار و اکرام کرنے والے یعنی لوگوں کو احترام دیتے ہیں اور لوگوں کے لیے فداکاری کرتے ہیں۔ 


یہ عظیم ترین ہستی کہ جنہیں قرآن اتنا بڑا اکرام دے رہا ہے یعنی پروردگار اتنے عظیم القاب سے یاد کر رہا ہے تو ہمارے لیے یہی ہستیاں ہیں کہ جنہیں ہم نے اپنے لیے اسوہ قرار دینا ہے۔ اور نبیؐ اکرم کی ذات وہ ذات ہے کہ جنہیں آئمہؑ نے اپنے لیے اسوہ قرار دیا اور ہم بھی اپنے آئمہؑ کے اتباع میں نبیؐ اکرم کو اپنے لیے اسوہ قرار دیں گے۔ 


اور آج ہم جس امامؑ عج کی امت ہیں وہ بھی نبیؐ اکرم کو اپنے لیے اسوہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :

*اسیر بسیرۃ جدیؐ*🌷

کہ میں اپنے جد نبیؐ اکرمؔ کی سیرت پر چلتا ہوں۔ 

خود پیغمبرؐ بھی یہی فرماتے تھے کہ مہدیؑ عج کی سیرت میری سیرت ہے۔


جب ہمارے امامؑ عج کے لیے رسولؐ اللہ کی ذات اسوہ ہے تو ہم بھی اپنے امامؑ عج کی اقتدا میں ذات رسولؐ خدا کو اپنے لیے اسوہ قرار دیں گے۔ 


*صفات رسولؐ اکرمؔ*

*✨وفاداری* :

اہم ترین صفت جو ہمیں آپؐ کی ذات اقدس سے بعنوان درس زندگی حاصل ہوتی ہے وہ وفاداری ہے۔ 


وفاداری نہ کہ صرف اسلامی تعلیمات میں ہے بلکہ دنیا کے اندر جو اصول اخلاق ہیں اور جس کے پابند دنیا کے تمام عاقل انسان ہیں وہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے کئے گئے عہد و پیمان کے ساتھ وفا کرے اور اسے نہ توڑے۔ 


سورہ رعد کی آیت نمبر  19 اور 20 ہمیں اسی جانب توجہ دلاتی ہے۔🌷

*اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۚ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُو الْاَلْبَابِ (19)*✨

بھلا جو شخص جانتا ہے کہ تیرے رب سے تجھ پر جو کچھ اترا ہے حق ہے اس کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھا ہے، سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں۔


*اَلَّـذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّـٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ (20)*✨

*وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پوراکرتے ہیں اور اس عہد کو نہیں توڑتے۔*


تقاضہ عقل اور شریعت یہی ہے کہ ہم وعدے کی پاسداری کریں۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے پیغمبرؐ سے وعدہ لیا کہ آپ فلاں مقام پر کل تشریف لائیں تو آپؐ  وہاں پہنچ گئے لیکن وہ شخص وہاں نہیں آیا اور آپؐ وہاں بہت لمبی مدت تک اس کا انتظار میں رہے۔ کہ بلآخر اصحاب نے پیغمبرؐ کی خدمت میں عرض کی کہ اب تو بہت وقت گذر چکا ہے لیکن نبیؐ اکرم اتنی دیر تک اس کے انتظار میں رہے۔ اور یہ وعدے کا تقاضا تھا اور فقط کئی گھنٹے انتظار نہیں کیا بلکہ پورا دن انتظار میں رہے۔ 


*تو یہ درس ہمیں نبی اکرم نے دیا کہ جب وعدہ کریں تو وفا کریں کیونکہ یہ وفا جو ہے یہ ہماری روح کی تربیت بھی کرتی ہے اور اس میں ہمارے لیے بے پناہ اجر و ثواب بھی ہے۔* 


سورہ المائدہ کی آیت نمبر 2 بھی ہمیں اسی  موضوع وفا کی جانب توجہ دلاتی ہے۔ کہ ہم نبیؐ اکرمؔ سے درس وفا لیں۔:

*۔۔۔ ۘ وَتَعَاوَنُـوْا عَلَى الْبِـرِّ وَالتَّقْوٰى ۖ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (2)*

*✨۔۔۔۔ آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔*

کسی سے وفا کرنا وہی نیک کام میں تعاون ہے 

*ساتویں صفت:* 

*پیغمبرؐ کا کریمانہ مزاج:*🌷

کسی بھی شخص کو پیغمبرؐ سے دکھ یا درد یا ناراضگی نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے آپ کے ساتھ برا بھی کیا تھا تو آپ ان کے ساتھ نہایت ہی بزرگواری اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ یہ کریمانہ مزاج دراصل پرورگار سے حاصل ہوتا ہے۔ جیسے اگر ہم سوچیں تو ہم بارگاہ خداوندی میں اس کی کتنی ہی سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں۔ اور اپنے بعض کاموں سے خدا کو غضب دلاتے ہیں۔ جیسے کسی کے حق پہ تجاوز کرتے ہیں کسی کے حق میں ظلم اور برا کرتے ہیں تو اس سے خدا کی ذات کو غضب ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود خدا کریم ہے اور وہ ہمارا رزق بند نہیں کرتا۔ وہ پھر بھی ہمیں کثیر نعمتیں دیتا ہے تو یہ صفت کریمانہ ہمارے نبیؐ اور ہمارے آئمہؑ میں تھی۔ اور اس میں ہمارے لیے درس ہے۔ 


اگرچی ہم انتقام لے سکتے ہیں لیکن نہیں بلکہ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بزرگواری اور کریمانہ انداز سے پیش آنا چاہیے جنہوں نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ 

 

اسی لیے تو پروردگار نے نبیؐ اکرم کو سورہ قلم میں فرمایا تھا کہ : 

*وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِـيْمٍ (4)*🌷

*اور آپؐ بلند ترین اخلاق کے درجہ پر ہیں۔*


اور تفسیرمجمع البیان📚 میں اس آیت کے ذیل میں خلق عظیم کا جو معنیٰ کیا گیا ہے وہ یہی پیغمبرؐ کی طبیعت کریمانہ ہے۔  کہ پیغمبرؐ فقط ان کے ساتھ اچھے نہیں تھے کہ جو پیغمبرؐ کے حق میں اچھے تھے بلکہ پیغمبرؐ اپنے دشمنوں کے حق میں بھی اچھے تھے۔ 


انسان کے ساتھ اگر کوئی نیکی کرے تو انسان ہمیشہ اس کے ساتھ نیکی کرتا ہے یہ تو بڑا کوئی بدبخت ہو گا جو نیکی کرنے والے کے ساتھ برا سلوک کرے۔ اچھائی کا جواب اچھائی سے دینا ایک عقلی تقاضا ہے۔ لیکن کریم وہ ہوتا ہے کہ جو اپنے حق میں برائی کرنے والے سے بھی اچھائی سے پیش آئے۔ اور یہ صفت کریمانہ ذات اقدس پیغمبرؐ میں تھی۔ 


جیسے کہ ایک مشہور روایت ہےکہ: 🫴

ایک عورت ہر روز گھر کا کوڑا کرکٹ آپؐ پر پھینکتی تھی اور آپ اس موضوع کو بڑے تحمل سے برداشت کرتے تھے۔ لیکن ایک روز جب اس نے کوڑا نہیں پھینکا تو آپؐ کو پوچھنے پر بتایا گیا کہ وہ بیمار ہے تو آپ اس کے گھر میں اس کی خدمت میں مشغول ہوگئے اور اس کی تیمارداری کی۔ یعنی آپؐ نے اس کی برائی کا جواب اچھائی سے دیا۔ تو یہ وہ صفت کریمانہ ہے کہ جس کی بدولت وہ خاتون بھی مسلمان ہوئی اور آپؐ کی شیدائی اور اہل حق میں آگئیں۔ 


یعنی ایک صفت کریمانہ دوسروں کی روح و قلب میں بھی تحمل پیدا کر دیتی ہے۔ یہ انسان کی اپنی روح کی بھی پرورش کرتی ہے اور دوسروں کی روح کی میل کو بھی دھو دیتی ہے۔ 


*آٹھویں صفت:* 

*سلام میں سبقت:* 

سلام میں سبقت سنت رسولؐ خدا ہے کہ آج جب کوئی مومن مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دیکھتا ہے تو سب سے پہلے سلام کرتا ہے۔ 


یہ درس ہمیں نبیؐ اکرم نے دیا ہے۔ کہ جب ہم کسی محفل میں جائیں یا کسی سے کلام کریں تو اپنی گفتگو کا آغاز سلامتی کے ساتھ کریں۔ یعنی سلام دوسرے کے لیے امنیت اور سلامتی طلب کرنا اور یہ بہت بڑی دعا ہے۔ 


*لفظ سلام میں بے پناہ معنیٰ ہیں۔* 

آپ مدمقابل کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں اور اس کی بیماریاں اور مشکلات دور ہونے کی دعا ہے ، طول عمر کی دعا ہے۔ خوف سے دوری کی دعا ہے۔ غرض لفظ سلام اپنے اندر بے پناہ نکات رکھتا ہے۔  یہ معمولی چیز نہیں بلکہ ایک بہت بڑی دعا ہے۔ 


پیغمبرؐ جب بھی کسی کا سامنا کرتے تھے تو سلام میں پہل کرتے تھے اور فرماتے تھے اس میں سبقت کرو۔ اس میں ہمارے لیے بھی درس ہے کہ جب بھی ہم کسی مومن مسلمان کو دیکھیں تو اس سے اپنی گفتگو کا آغاز سلام سے کریں۔ 


یہ دوسرے کے لیے دعائے رحمت ہے۔ اور اس میں ایک اور بھی نکتہ ہے کہ ہم دوسرے کی ہدایت کے لیے بھی دعا کرتے ہیں۔ مثلاً اگر وہ خطا پر ہے اور نافرمان پروردگار ہو چکا ہے۔ تو ہمارا یہ سلام اس کے لیے دعا ہے کہ پروردگار اسے دوبارہ راہ مستقیم پر لائے۔ اسے ہدایت دے۔ 


لفظ سلام کے اندر دعائیں۔ 🤲

۔ زندگی کی دعا

۔ روح کی تربیت کی دعا

۔ خوف دور ہونے کی دعا

۔ بلاؤں ، مصیبتوں اور بیماریوں کے رد ہونے کی دعا


اس حوالے سے سورہ انعام کی آیت نمبر 54 میں ارشاد پروردگار ہو رہا ہے کہ: 

*وَاِذَا جَآءَكَ الَّـذِيْنَ يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْـمَةَ ۖ اَنَّهٝ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوٓءًا بِجَهَالَـةٍ ثُـمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ فَاَنَّهٝ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (54)*🌷

اور ہماری آیتوں کو ماننے والے جب تیرے پاس آئیں تو کہہ دو کہ تم پر سلام ہے، تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت لازم کی ہے، جو تم میں سے ناواقفیت سے برائی کرے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہو جائے تو بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔


سورہ نمل آیت نمبر 59 میں ارشاد پروردگار ہو رہا ہے:

*قُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّـذِيْنَ اصْطَفٰى ۗ آللَّـهُ خَيْـرٌ اَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (59)*🌷

کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے، بھلا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک بناتے ہیں۔



ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ سلام میں سبقت کریں کیونکہ اس دعا کا بے پناہ ثواب ہے اور اگر کوئی دوسرا اس دعا میں سبقت کرے یعنی وہ کہتا ہے کہ سلام علیکم تو اسے اچھے انداز میں جواب دیں۔ وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ بار بار ایک دوسرے پر سلامتی  بھیجئیں


اور یہ سلام ہی ہے کہ جس نے دنیا میں مسلمان کا تعارف کروایا اور روح مسلم کی بھی خبر دے رہا ہے کہ مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے امن و سلامتی کا آرزو مند ہے ۔ مسلمان صلح پسند ہے اور کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے اور دوسری کی ہدایت اور طول عمر کا طالب ہے۔ اس میں انا نہیں رکھنی چاہیے بلکہ خود سلام میں پہل کرنی چاہیے یہ سنت رسولؐ ہے۔ 


روایات میں تکبر کی مذمت کی گئی ہے۔ اس لیے ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ پہلے کوئی دوسرا ہمیں سلام کرے۔  سلام میں پہل کرنے سے ہمارے کتنے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ اور ہماری روح کی تربیت ہوتی ہے اور بلخصوص ایسے لوگوں کو سلام کرنا کہ جن سے ہم ناراض ہیں۔  یہاں سلام کرنا وہ چیز ہے کہ جو ہمارے قلب و روح کی تربیت اور انسان کے اندر خصوع و خشوع اور انکساری اور اس کے دل کو کتنا وسیع کر دیتا ہے کہ پھر روز محشر خدا بھی ہمارے بہت سارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کر دے گا۔ خدا کہے گا کہ تو نے میرے بندے کو معاف کیا آج میں نے بھی تجھے معاف کر دیا۔ تو سلام جیسی عظیم خصلت جو ہمیں نبیؐ اکرم کی ذات اقدس سے یہ سنت حسنہ حاصل ہوئی ہے اس سے ہمیں کبھی بھی محروم نہیں کرنا چاہیے۔ 


پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ نبیؐ اکرمؔ کی ذات ہمارے لیے ہمیشہ اسوہ رہے۔ اور پروردگار عالم ہماری روح کو پرورش دے اور سنت رسولؐ اللہ کے مطابق ہمارے اخلاق کامل ہوں۔ اورپروردگار ہمیں روحی معنوی اور ہر لحاظ سے سنت نبویہؐ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور یہ عظیم اخلاقی صفات ہمیں حاصل ہوں جو ہمیں امام زمانہؑ  عج کا بااخلاق منتظر بننے میں مدد کرتی ہیں۔ ✨🤲✨

آمین۔ 🤲

والسلام

تحریر و پیشکش:✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌏





درس اخلاق منتظرین:18

💫کیسے گناہ سے بچیں

*🎤استاد اخلاق حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی صاحب*🌹



آج کا ہمارا موضوع نفس امارہ ہے اور یہ برائیاں اور خطائیں جو ہم سے ہوتی ہیں اور ختم ہی نہیں ہوتیں۔ 

اس حوالے سے قرآن تو ہمیں ڈرا رہا ہے لیکن ہمارے اندر یہ خوف کیوں نہیں پیدا ہوتا جو کہ دنیاوی  لحاظ سے ہمارے اندر بسا اوقات پیدا ہوتا ہے اور ہم اس خوف کی وجہ سے اپنے دنیاوی معاملات ٹھیک کرتے ہیں۔ لیکن جہاں قرآن مجید ہمیں ہمارے اخروی معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے بار بار خبردار کر رہا ہے ہم اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتے۔ 

مثلاً سورہ یونس میں آیت نمبر 27 میں ارشاد رب العزت ہو رہا ہے کہ: 

*وَالَّـذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَـرْهَقُهُـمْ ذِلَّـةٌ  ۖ مَّا لَـهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ مِنْ عَاصِـمٍ ۖ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُهُـمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (27)*🌸
اور جنہوں نے برے کام کیے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا کہ ان پر ذلت چھائے گی، اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا کہ ان کے مونہوں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں، یہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

گناہگار انسان کی عزت لوگ بظاہر کرتے ہیں وگرنہ دلی طور پر ایسے انسان کی کوئی عزت نہیں کرتا۔ اور قیامت والے دن بھی یہ گناہگار شخص ذلیل ہوگا۔ اور پروردگار فرماتا ہے کہ: مَّا لَـهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ مِنْ عَاصِـمٍ ۖ ایسے لوگوں کو پھر اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ یعنی جب خدا ان کو سزا دے گا تو پھر کوئی ان کو بچانے والا نہیں اور پھر بھلا پروردگار کے مدمقابل کون ہو سکتا ہے جو ہمیں خدا کے عذاب سے بچائے۔ 

*نظریہ شفاعت:*🌟🌟🌟
شفاعت کے نظریے کی اپنی شرائط ہیں۔ یعنی شفاعت کی صلاحیت، شائستگی یا شرائط رکھتے ہیں۔ اور وہ  بھی کچھ حد تک ہمارے ایسے اعمال ہوں کہ جن کی شفاعت ملے لیکن جس شخص کی ساری زندگی ہی گناہوں میں گذری ہو اور اگر اس نے کبھی کوئی اچھا عمل کیا ہو اور وہ بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے ضائع کر بیٹھا ہو تو ایسے لوگوں کو اب اللہ کے عذاب سے کون بچا سکتا ہے۔ 

*خلاصہ* یہ ہے کہ اس آیت میں پروردگار فرما رہا ہے کہ ایسے لوگوں کے چہرے تاریک راتوں کے ٹکڑوں کی مانند سیاہ ہیں۔ اور یہ لوگ اہل جہنم ہیں  اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ 

اسی طرح اور بھی آیات ہیں کہ جن میں پروردگار ہمارے نفس کی کارستانیوں کے حوالے گفتگو فرماتا ہے کہ جن کی وجہ سے ہم  مختلف قسم کے گناہوں میں مبتلا ہیں اور یہ دنیاوی مختصر سی زندگی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی تاکہ ہم رشد و کمال تک پہنچیں اور اپنے آپ کو بہشتی لوگوں میں سے قرار دیں لیکن ہم بلآخر کہاں سے کہاں پہنچے۔ 

پروردگار اچھے لوگوں کی صفات اور اعمال بھی بیان کر رہا ہے۔ 🫴

اللہ نے ہمیں تمام راہیں قرآن میں دکھائیں ہیں اور ان قرآنی نکات کی جو  تفسیر و تشریح فرامین اور احادیث محمدؐ و آل محمدؑ میں ہوئی ہے۔ اس کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے۔ 

حتکہ پروردگار گناہگار لوگوں سے فرما رہا ہے کہ اگر آپ توبہ اور استغفار کریں تو آپ لوگوں کے لیے راہیں کھلیں ہوئی ہیں۔ صرف آپ صِدق دل سے اپنے رب کی جانب آئیں۔ 

ہم لوگ چونکہ پروردگار کو بھول چکے ہیں اور بلخصوص قرآن مجید جو کلام پروردگار ہے اس کو بھول چکے ہیں۔ 

سورہ ہود کی آیت نمبر 3 میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو امید دی ہے اور پروردگار کس طرح سے ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ فرما رہا ہے کہ:  
*وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُـمَّ تُوْبُـوٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِىْ فَضْلٍ فَضْلَـهٝ ۖ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّـىٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْـرٍ (3)*🌟
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو تاکہ تمہیں ایک وقت مقرر تک اچھا فائدہ پہنچائے اور جس نے بڑھ کر نیکی کی ہو اس کو بڑھ کر بدلہ دے، اور اگر تم پھر جاؤ گے تو میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

*اجل مسمی* یعنی موت تک اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو اچھے اثرات دے گا اور آپ کی بہت ساری آرزوئیں پوری ہونگی ۔ اور اللہ ایسے لوگوں و اچھی صفات اور اچھے اعمال کی توفیق دے۔ بلآخر یہ لوگ اپنے اچھے اعمال کی بدولت لوگوں میں بھی عزت پائیں گے اور بارگاہِ خداوندی میں بھی عزت پائیں گے۔ 

*لیکن ❗*
اگر ہم دوبارہ یہ نعمات پروردگار چھوڑ کر نفس امارہ اور شیطان کی راہ پر چل پڑیں تو پھر ظاہر ہے کہ وہی عذاب والی آیات ہمیں خبردار کرتی ہیں۔ 

*اب یہاں عام طور پر ایک سوال ہے کہ ہم گناہ کیوں کرتے ہیں اور گناہ کی وجہ کیا ہے ؟* 🫴

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے گناہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان ہمیں بار بار بھٹکاتا ہے۔ اور ابلیس نے یہ کہا تھا کہ میں تیرے بندوں کو راہ حق سے گمراہ کروں گا۔ لہذا دن رات شیطان پر بھی لعنتیں ہوتی ہیں اور ہم شیطان پر اپنے سارے گناہوں کا بار ڈال دیتے ہیں۔ 

 *لیکن* ❗
اگر ہم غور کریں تو یہ شیطان بھی کسی زمانے میں اللہ کا بندہ تھا۔ اور اس نے بڑی عبادات کئیں کہ جن کی وجہ سے فرشتوں کی صف میں شامل ہوا اور ان میں سے بھی ممتاز قرار پایا۔ یہ ایک جن تھا اس نے سینکڑوں اور ہزاروں سال عبادت کی اور کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ یعنی فرشتوں میں بھی بلند مقام تک پہنچ گیا۔  لیکن پھر بھی چونکہ اس کے اندر بھی نفس امارہ تھا یعنی نفس امارہ انسان اور جنات دونوں میں ہے۔ اور اسی نفس امارہ کی بدولت یہ ابلیس تکبر میں مبتلا ہو گیا۔ اور چونکہ یہ اپنے تکبر سے ہٹا نہیں اور توبہ نہیں کی لہذا یہ بارگاہ پروردگار سے دھتکارا گیا۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت آدمؑ کو بعنوان قبلہ سجدہ کریں تو یہاں اس نے تکبر اور خود پسندی کا ثبوت دیا۔ اور یہ نہیں دیکھا کہ یہ حکم مجھے میرا پروردگار دے رہا ہے اور نتیجتاً اس کے نفس نے اس کو بغاوت پر ابھارا اور اس نے بغاوت کی۔ اور پھر اس نے توبہ بھی نہیں کی جس کی وجہ سے اللہ نے اس کو اپنی خصوصی بارگاہ سے نکال دیا اور یہ دشمن خدا بن گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے توبہ نہیں کی اور ڈٹا رہا یہاں تک کہ کچھ انبیاؑء کے زمانے میں اسے خیال آیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں توبہ قبول کرتا ہوں کیونکہ جب تک زندگی ہے اللہ توبہ قبول کرتا ہے لیکن! میری شرط یہی ہے کہ جاؤ اور قبر آدمؑ کو بعنوان قبلہ سجدہ کرو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا تکبر ختم کرنا چاہتا تھا اس کا علاج کرنا چاہتا تھا لیکن شیطان علاج پر آمادہ نہ ہورہا تھا اور جب کوئی مریض علاج پر آمادہ نہ ہو تو پھر اس کا مرض بڑھتا جاتا ہے اور اس کا انجام ہلاکت ہے۔  

شیطان کی  ہلاکت یہی ہے کہ جب امام زمانہؑ عج ظہور فرمائیں گے تو جس طرح اور ظالمیں مارے جائیں گے اس وقت اس کو بھی اور اس کے لشکر شیاطین کو بھی حاضر کیا جائے گا اور ان کو بھی سزا دی جائے گی اور وہ بھی مارے جائیں گے اور یہ جو قرآن کے اندر شیطان نے وقت معلوم تک مہلت مانگی ہے اس حوالے سے ہمارے آئمہؑ نے فرمایا کہ یہ وہی وقت ظہور ہے۔ 

**گناہوں کے اسباب:* 🫴
شیطان ہمارے گناہوں کا ایک سبب ہے۔ لیکن سارے گناہوں کا سبب نہیں ہے۔ اور انسانوں اور جنات میں جتنے بھی شیاطین ہیں انہیں ان کے نفس نے گمراہ کیا ہوا ہے ۔ 

 *فرض کریں کہ یہ سارے شیاطین امام مہدیؑ عج کے وقت ظہور میں مارے جائیں گے تو آیا پھر بھی انسان گناہ نہیں کرے گا؟*

تب بھی انسان گناہ کرے گا کیونکہ یہ نفس امارہ ہمیں گناہ کی جانب ابھارے گا لیکن مولاؑ عج کی جانب سے ایسے اعلیٰ ترین تربیت کی انتظام ہونگے اور وہاں عدالت ہوگی اور امر بلمعروف اور نہی عنل منکر کے حوالے سے دنیا میں بہت زیادہ کام ہوگا تو دنیا میں برائیاں کم ہونگی۔ لیکن ہونگی۔ کیونکہ اس کی وجہ یہی نفس امارہ ہوگا۔ درست ہے کہ شیطان باہر سے وسوسے کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مختلف لوگوں کو ابھارتا ہے اور ہمارے پاس بھیجتا ہے اور وسوسے ڈالتا ہے اور سارے کام کر رہا ہے۔ 

*لیکن* *❗
پھر ہمارے اندر کا نفس اس کے ہمراہ ہو جاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ ہمیں ابھارتا ہے اسی لیے نفس امارہ کی اصلاح ہونی چاہیے۔ 

*نفس امارہ یعنی وہ نفس جو گناہوں پر ابھارے۔ اور اس نفس کی اصلاح کے اندرسب سے پہلا نقطہ:


*۔۔ عزم تربیت کی پہلی سیڑھی ہے:* 🪜

لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں وظائف تعلیم کریں تو جتنے مرضی وظائف کریں اور چلے کاٹیں گناہ اسی وقت ہم سے چھوٹے گا کہ جب ہم عزم کریں گے کیونکہ دنیا میں ہم تبھی کامیاب ہوتے ہیں کہ جب ہم عزم مسمم کریں اور کوئی بھی کام عزم اور کوشش کے بغیر ممکن نہیں۔ 🫴

اسی طرح تربیت اور گناہ سے دوری اور آخرت کو بہتر بنانے کے لیے بھی عزم ضروری ہے۔ کہ ہم یہ پکا ارادہ کریں کہ ہم نے گناہ نہیں کرنا ہے۔ لیکن اس عزم کے مدمقابل نفس امارہ ہمیں ابھارے گا کہ ہم نے گناہ نہیں کرنا ہے۔ 

نفس امارہ سے اپنے اندر مقابلہ کرنا ایک جہاد اکبر ہے کہ جس سے ہماری اپنی نجات بھی وابستہ ہے اور بہت سارے لوگوں کی نجات ہے۔ کیونکہ نفس امارہ ایک انسان کی ایسی حالت کر سکتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔ 

*۔۔ واجبات کی جانب توجہ کرنا۔* 🌸

واجبات ہمیں قوت عطا کرتے ہیں۔ مثلاً اپنی نمازیں درست کرنا اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا اپنے مالی حقوق پورے ادا کرنا اور جو حقوق العباد ہیں وہ سارے ادا کرنا۔ 

واجبات کی ادائیگی عزم کو قوت بخشتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم مستحبات بھی انجام دینے شروع کردیں ۔ جس طرح آئمہ معصومینؑ نے فرمایا کہ کم از کم پچاس آیات قرآن پاک کی تلاوت کریں اور اس کے علاوہ نوافل پڑھیں۔ صدقہ ، خیرات وغیرہ اس نیت سے دیں کہ خدا ہمیں گناہوں سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ ہمیں یہ شائستگی عطا فرمائے کہ ہم گناہوں سے پاک رہیں تو اب یہ نفس امارہ ضعیف ہونا شروع ہو جائے گا اور اس کی جگہ پر نفس مطمعئنہ بلآخر آنے شروع ہو جائے گا۔ جو کہ اللہ کے نیک بندوں کی نشانی ہے کہ نفس مطمعئنہ کی بدولت نہ ان پر کو حزن طاری ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خوف سے دوڑتے ہیں بلکہ  صبر کرتے ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں اور دنیا میں بھی اللہ ان کو اپنے لطف و کرم میں رکھتا ہے اور آخرت میں بھی ان کا بلند مقام ہے۔ 
*انشاءاللہ*❗

جیساکہ ہم نے آئمہؑ معصومین کی عصمت کے بارے میں بھی یہی پڑھا ہے کہ ان کی عصمت کی بنیادی وجہ بھی یہی عزم تھا کہ اگر انسان عزم کرلے اور پکا ارادہ کرلے کہ میں گناہ کبھی نہیں کروں گا تو یہ وہ چیز ہے کہ انسان کو عصمت تک پہنچا دیتی ہیں۔ اورپروردگار عالم ہماری گذشتہ زندگی کے سارے گناہ اس عزم ، استغفار اور توبہ کے ذریعے نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔
**سبحان اللہ ❗*

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ آج سے ہی ہم خدا کی بارگاہ میں ارادہ کریں کہ عزم کرتے ہیں کہ گناہ نہیں کریں گے تاکہ تیرے پاک بندوں میں سے شمار ہوں اور تیرے ولیؑ عج کے پاک ناصرین میں سے شمار ہوں کیونکہ جب تک ہم اپنے اندر سے جنگ کا آغاز نہیں کریں گے تب تک باہر سے اچھے سپاہی نہیں بن سکتے۔ ہمیں پہلے اندر کی جنگ جیتنی ہے تاکہ اللہ کے ولیؑ کے مخلص ناصرین اور مددگاروں میں شمار ہو سکیں۔ 
*انشاءاللہ* ❗

آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز 
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌍


دروس مہدویت بروز جمعہ ، علماء و طلاب پردیسان قم مقدس
 
17 جنوری ، 2025 کونسی آگ ظہور سے پہلے بڑھکے گی؟

 آمریکا کی آگ کا ظہور سے کیا تعلق؟ آیا امام مہدی عج کے ظہور سے پہلے زمین ظلم سے بھرے گی ؟

 امام مہدی عج کن کا انتظار کررہے ہیں؟ 

بہت سے اہم نکات پر مشتمل درس امام مہدی عج کا حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر گریہ ‏‏

*استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فقال رسول اللہ ﷺ
یملأ اﷲ بہ الارض عدلاً وقسطاً کما ملئت جوراً و ظلماً
اللًّهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍ وَ آلِ مُحَمَّــَد و عَجِّــلّ فَّرَجَهُــم

اب دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور روز کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے اور لوگ اسے ظہور سے ربط دیتے ہیں۔ اور اس کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔

مہدوی احادیث کے حوالے سے ایک سب سےبڑا مسئلہ درپیش ہے اور بلخصوص خواص میں اور وہ غلط تطبیق ہے جو ہمیشہ ہر دور میں رہی ہے اور ہم اسے اشتباہ کہہ لیں یا خطا کہہ لیں۔ چونکہ عوام الناس کا اس میں قصور نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تو علماء سے پوچھنا ہے۔ 

امریکہ میں لگنے والی آگ؟
حال ہی میں کیلوفورنیا اور لاس ایجلس میں لگنے والی آگ کو بعض لوگوں نے قبل از ظہور لگنے والی آگ سے جوڑ دیا۔ چونکہ روایات میں قبل از ظہور ایک آگ کا ذکر ہے لیکن وہ آگ جو قبل از ظہور ہوگی وہ مشرق سے شروع ہوگی۔ اس میں تو شیعہ سنی دونوں طرف روایات موجود ہیں جس میں ایک عظیم آگ کا ذکر ہے کہ جسے روایات میں عمود الاحمر کہا گیا ہے۔

اذا رایتم عمودا احمر من قبل المشرق، فی شھر رمضان

ایک آگ کا ستون کھڑا ہو گا  لیکن مشرق کی جانب سے اور موجود لگنے والی آگ کا تعلق مغرب سے ہے۔ اس کے بعد معصومؑ فرماتے ہیں کہ ایک بہت بڑا قحط ہے اور پھر امام زمانہؑ عج کا ظہور ہے۔ 

یہ چیزیں ترتیب سے بیان ہوئیں لیکن ! وہ آگ مشرق سے ہے۔ 

اس حوالےسےروایات پر نظر ڈالنی چاہیے۔ 
یہ روایت 3 اسناد سے ہماری کتابوں میں موجود ہے اور صحیح السند روایت ہے۔ اور شیعہ اور سنی دونوں میں اس روایت کا ذکر ہے۔ 

امام صادقؑ سے جب راوی نے اس حوالے سےسوال کیا تو اس وقت مولاؑ حجاز میں تھے۔ 
آپؑ نے فرمایا :  من قبل المشرق۔ 
چونکہ مولاؑ اسوقت مدینہ میں تھے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت حجاز کا مشرق کون سا ہے۔ 

مختلف علماء کے اس حوالے سے تجزیے ہیں ۔ علماء کے مطابق عرب کے اندر ایک آگ بھڑکے گی۔ 
بعض روایات کہ جن کی سند البتہ صحیح نہیں ہے وہ ذکر کرتی ہیں کہ معصومؑ فرماتے ہیں کہ تم  حجاز میں آگ کو دیکھو گے۔
جو کہ سند کے اعتبار سے درست نہیں۔ 

بعض علماء کہتے ہیں کہ یہاں تیل کے ذخائر کو آگ لگے گی۔ جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں قحط شروع ہوگا۔ چونکہ تیل منبہ حیاتی ہے اور تیل کے بڑے بڑے ذخائر مشرق کے اندر ہیں۔  

خدا نہ کرے کہ ان کو آگ لگے۔ اب یہ دشمن کی شرارت ہے یا خدائی راز ہے اب یہ خدائی بھی بعید نہیں ہے کیونکہ بعض روایات ایسی بھی دیکھیں ہیں کہ جو کہتی ہیں کہ یہ آگ آسمان سے بلند ہوگی۔ اور بعض ہمارے علماء شہاب ثاقب کی بات بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ بعض روایات میں معصومؑ کہتے ہیں کہ مشرق سے آسمان میں دیکھو گے۔ کیونکہ آسمان سے کوئی چیز زمین سے ٹکرائے گی۔ بعض علماء اسے اس لیے اللہ کے عذاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ 

مگر!
بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی جنگ کا نتیجہ ہے۔ عرب کے اندر آگ جنگ پر بھی اطلاق ہوتی ہے اور اسی جنگ کا نیجہ ہے کہ عرب کے اندر تیل کے ذخائر کو آگ لگ سکتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں پوری دنیا کی معیشت پر اثر پڑے گا۔  اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا کا سارا نظام اقتصادی ہے اور جنگیں بھی اپنی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ 
وگرنہ جنگوں کا کوئی اور فلسفہ نہیں ہے۔ چونکہ عرب کے اندر تیل کے ذخائز سب سے زیادہ ہیں تو اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔ 

لیکن!
اگر اس میں مذید دقت کی جائے تو معصومؑ اس وقت مدینہ میں تشریف فرما تھے۔ تو اب دیکھتے ہیں کہ مدینہ کا مشرق کیا ہے؟

اس لیے بیشتر جو قوی ترین اس حوالے سے احتمال ہے وہ یہ ہے کہ: 
حجاز کا مشرق ایران ، عراق اور یہ ممالک بن رہے ہیں کہ ایک آگ ہے جو ایران و عراق سے اٹھے گی اور خود ایران کے بیشتر علماء  ایران کو ترجیع دیتے ہیں۔ اور اب یہ آگ کیسی ہے کہ علماء فرماتے ہیں کہ مشرق اس آگ کا آغاز کرنے والا ہے۔ 

اول تو مراد جنگ ہے کہ جس کا آغاز ایران سے ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ دشمن حملہ کرے گا اور بعض کہتے ہیں کہ ایران دشمن کا جواب دے گا اور اس کے بعد ایک بڑی جنگ کی خبر ہے اور اس کے بعد وہی دنیا پر قحط کا زمانہ آئے گا اور پھر معصومؑ عج نے فرمایا کہ

پھر آپ سب امامؑ قائم عج کے مبارک قدموں کے منتظر رہیں اور اس کے بعد قائمؑ عج کا قیام ہے۔ 
انشاءاللہ!
اللًّهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍ وَ آلِ مُحَمَّــَد و عَجِّــلّ فَّرَجَهُــم

مولاؑ عج کے ظہور سے قبل کے سال کو بھوک اور خوف کا سال کہا گیا ہے۔ 

یہاں گفتگو ہے کہ ہم دنیا میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعے کو اس سے تطبیق نہ دیں اور یہ جو واقعہ رونما ہوا ہے اس کے پس پردہ محرکات آہستہ آہستہ معلوم ہوں گے کہ یہ خدائی عذاب تھا کہ غزہ کے مظلومین پر جو شر اور ظلم ڈھایا گیا تو خدا ہمیشہ ظالمین پر انہی کا شر ڈھاتا ہے اور انہیں نابود کرتا ہے۔ اور یہ سنت الہیٰ ہے کہ اللہ نے ظالموں پر ہی ظالمین کو مسلط کیا اور یہ ان کے اپنے ہی عمل کا نتیجہ ہے اور بعض اسے کچھ اور ملا رہے ہیںَ ہمیں چونکہ اس کے پیچھے کے محرکات کے بارے میں نہیں معلوم چنانچہ نہ تو ہمیں ان کو دینی مفاہیم کے ساتھ تطبیق دینی چاہیے اور نہ ہی اس پر مطمئن ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ہمارے جوان جو ایک پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ سرد ہوجاتا ہے کہ جب ان کو حقائق معلوم ہوتے ہیں۔ 

مثلاً بعض کہتے ہیں کہ یہ آگ خود جان بوجھ کر لگائی گئی ہے کیونکہ امریکنز نے وہاں پر ایک نیا اے۔آئی شہر بنانا تھا اور وہاں لوگوں کے بنے بنائے گھر خرید کے گرانا ایک اور مسئلہ تھا اسی لیے آگ لگا دی گئی تاکہ اب حکومت کے لیے  آسان ہوجائے گا کہ جلی ہوئی زمین کو لوگوں سے خریدا جا سکے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کورونا بیماری بنائی گئی تاکہ اتنے عمر رسیدہ لوگ جو پینشن لے رہے تھے وہ دنیا سے چلے جائیں۔ یعنی یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن میں دینی مفاہیم کے ساتھ تطبیق نہیں دینی چاہیے اور بلخصوص مہدویت میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ 

مثلاً جو ہمارا سرنامہ کلام ہے ۔ 
امامؑ عج کے حوالے سے 

مباحثہ:
چونکہ اب بات تطبیق کی شروع ہو گئی ہے۔ تو ایک مشہور مسئلہ جو ہمارے ہاں غلط بیان ہوتا ہے ہم اس پر بحث کرتے ہیں۔ 

ہم سب نے اس کو سنا ہے اور بیان بھی کرتے ہوں گے۔ کہ امامؑ عج کے حوالے سے ایک جملہ ہے جو شیعہ اور سنی دونوں کتابوں میں مشترکہ اور مستند ہے کہ: 
یملأ اﷲ بہ الارض عدلاً وقسطاً کما ملئت جوراً و ظلماً
اب اس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ مولاؑ عج زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے کہ جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ 

نتیجہ:
اور اس کا یہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مولاؑ عج کے آنے سے قبل زمین نے ظلم و جور سے بھرنا ہے پھر امام آئیں گے   

اور اگلا نتیجہ: 
اگلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پس زمین کو ظلم و جور سے بھریں پھر کئی فاسد گروہ فعال ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امامؑ عج کے ظہور کی تیاری کی ضرورت نہیں اب بس گناہ کرو تاکہ جلد ظہور ہو جائے۔ یعنی قول معصومؑ کا غلط ترجمہ ہوتا ہے اور پھر آگے انحرافات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ 

وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۖ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَـهُـمْ دِيْنَهُـمُ الَّـذِى ارْتَضٰى لَـهُـمْ وَلَيُـبَدِّلَـنَّـهُـمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِـمْ اَمْنًا ۚ يَعْبُدُوْنَنِىْ لَا يُشْرِكُـوْنَ بِىْ شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْفَاسِقُوْنَ (55)
اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔


یعنی معنی زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ معصومؑ نے ان ادوار سے تشبیہ دی ہے کہ جن میں لوگ کہتے تھے کہ پوری زمین ظلم سے بھر گئی ہے۔ زمانہ ظہور میں لوگوں کو اس طرح عدل نظر آئے گا۔ 
نہ کہ یہاں معصومؑ نے کہا ہے کہ ان کے آنے سے پہلے زمین ظلم سے بھرے گی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور ہلاکو اور چینگیز خان کے حملے اور ان جنگوں میں کڑوڑوں لوگ مارے گئے۔ اور زمین ظلم و ستم سے بھر چکی تھی۔ اس وقت بھی دنیا میں کئی مقام میں خون ریزی ہوگی۔ 


اور جب الہیٰ حکومت دنیا میں شرق و غرب میں بپا ہوگی اور امام زمین کو علم و حکمت اور عدل سے بھریں گے۔ اور سورہ نور کی آیت 55 میں جو چار صفات بیان ہوئی ہیں۔ جن کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ 

1۔ صالحین کی خلافت 
2۔ دین اسلام کا پوری زمین پر نافذ ہونا 
3۔ زمین سے خوف کا ہٹ جانا اور امن میں بدل جانا
4۔ پوری زمین کا اللہ کی عبادت کرنا

اور امامؑ عج کے زمانے میں جو لوگ آرام اور آرائش محسوس کریں گے اور ہر ظالم اور جابر کا خاتمہ ہوگا حتہ کہ ابلیس کا خاتمہ ہوگا۔ اس وقت دنیا یہ محسوس کرے گی کہ عدل سے بھر چکی ہے۔ 


اب جو ناصرین نے تیاری کرنی ہے اور مولاؑ عج کے ظہور کے لیے قدم اٹھانے ہیں اور جنہوں نے منارہ ہدایت بنانا ہے اور امام ؑ عج کے آنے سے قبل اہل انحراف اور اہل بدعت سے جنگ کرنی ہے اور ظالمین کا مقابلہ کرنا ہے ان کا بھی ذکر کرنا ہے۔ 

ہمیشہ خیر و شر کی جنگ رہی ہے جس میں شر غالب نظر آتا ہے لیکن خیر بڑا قوی ہے۔ 


زمین کا تقسیم ہونا:
امام کے آنے سے پہلے زمین دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ اہل ممبر اور میڈیا لوگوں کو سیاہ نمائی کر رہے ہیں۔ یعنی لوگوں کو مایوس کر رہے ہیں کہ یہ کون سا نتیجہ ہے ظہور کا کہ دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ ہمیشہ حرام سے حلال ظاہر نہیں ہوتا اور یہ منبہ خیر کو شر سے ظاہر کر رہے ہیں۔ 

میڈیا اور اہل ممبر کی غلط بیانی کی وجہ سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ گناہ کریں ۔ جبکہ قرآن و احادیث و روایات گناہ سے منع کرتی ہیں۔ یہ ہمارے ہی غلط ترجمہ  تطبیق اور تجزیہ ہے جس کی وجہ سے غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ 


ہمارے لیے ضروری ہے کہ جب بھی کسی موضوع پر بات کرنی ہو تو چاہیے کہ روایات کو اکھٹا کریں۔ جیسا کہ اساتذہ کہتے ہیں کہ خانوادہ روایت اکھٹا ہو پھر ہم تجزیہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں کبھی بھی ایک دو یا چار روایات سے تجزیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کا پورا باب جس جس کتاب میں ہو اس سے روایات اکھٹی کریں اور پھر اس میں علم اصول کے مطابق نتیجہ لیں گے۔ 

جب ہم ساری روایات کو اکھٹا کریں گے تو نتیجہ سمجھ میں آجائے گا کہ یوسف زہراؑ عج کی تنہائی کی وجہ کیا ہے۔ 

مولاؑ عج کا ظہور دشمنوں  اور باہر کے حوادث کی وجہ سے نہیں رکا ہوا۔ کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ مہدیؑ عج کا مقابلہ کر سکیں۔  


مولاؑ عج کے ظہور کو اپنوں نے روکا ہوا ہے اپنوں نے تیاری نہیں کی وہ ملت ظاہر نہیں ہو رہی کہ جس کا انتظار مہدیؑ زہرا کر رہے ہیں۔ 

والسلام
تحریر و پیشکش
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌎

درس مہدویت بروز جمعہ
تہذیب نفس کرو خود ملنے آؤں گا۔ امام مہدیؑ عج
زمانہ غیبت کے ناصرین ابدال کون ہیں؟


*استاد محترم علامہ آقا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹



قال اللہ تعالیٰ فی کتاب المجید والفرقان الحمید
سورہ الاعراف 96
*وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓى اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْـهِـمْ بَـرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنَاهُـمْ بِمَا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ (96)*
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے نعمتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پھر ہم نے ان کے اعمال کے سبب سے گرفت کی۔

پروردگار نے سورہ الاعراف کی آیت نمبر 96 میں سنت الہیٰ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ  اگر  آپ چاہتے ہیں کہ آسمان اور زمین کی ساری برکات آپ کے حق میں ہوں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ اہل قرآن کہ جو خدا کی ان سعادتوں کا انتظار کر رہے ہیں وہ حقیقتاً ایمان لائیں اور عمل صالح انجام دیں۔ پروردگار نے جب بھی لطف فرمایا تو وہ لوگوں کے عمل صالح اور ایمان کی وجہ سے اور اصل  میں یہ ہمارا ایمان اور عمل صالح ہے جو ان عظیم سعادتوں کی وجہ بنتے ہیں جو طول تاریخ میں دنیائے بشر کو حاصل ہوئیں۔ 

ابھی بھی ہمارے ہاں بعض ایسے لوگ ہیں کہ جو اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولاؑ عج اس وقت آئیں گے کہ جب زمین ظلم سے بھرے گی۔ 

کچھ لوگوں نے یہ نظریہ بھی اپنا لیا کہ گناہ کرو  اور زمین کو ظلم سے بھرو۔  اور یہ وہی چیز ہے کہ جو قرآن و احادیث کے خلاف ہے۔ احادیث یہی کہہ رہی ہیں کہ امام تب ظہور فرمائیں گے جب ناصرین تیاری کریں گے۔ اور قرآن کہتا ہے کہ پروردگار اس وقت لطف فرماتا ہے کہ جب لوگ ایمان اور عمل صالح کی سعادت حاصل کریں گے۔ 

*لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ امام کیوں نہیں ظہور فرما رہے تو ہوسکتا ہے کہ یہی سوال امام وقتؑ عج کا ہم سے ہو کہ آپ سب کیوں تیاری نہیں کر رہے۔* 

اور ہماری احادیث یہ بتاتی ہیں کہ مولاؑ عج کو تین سو تیرہ ناصر اور جوانوں میں سے دس یا بارہ ہزار چاہیے۔ یعنی یہی پہلے مرحلے کے ناصر امامؑ عج کو ظہور کے لیے چاہیے اور عجیب بات نہیں کہ اس وقت کڑوڑوں شیعہ ہیں اور ہم اپنے زمانے کے امام عج کی یہ امید اور توقع کہ جو ان کے ظہور کا باعث ہے اسے پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ جیسا کہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ حوضات میں سینکڑوں کی تعداد  میں طلاب ہیں لیکن! ان میں سے ابھی تک تین سو تیرہ ناصر تیار نہیں ہوئے۔ اور واقعاً ہمارے لیے بھی باعث شرم ہے یہ بات کہ ابھی تک ہم میں سے بھی نہیں ہوسکے۔ 

*کانال: قانع الیہ تشرف یافتگان*
(کانال فارسی میں چینل کو کہتے ہیں)

ایک ویب سائٹ ہے قانع الیہ تشرف یافتگان یعنی وہ لوگ کہ جن کو مولاؑ عج کے حضور پہنچنے کی سعادت حاصل ہوئی۔  انہوں نے ان لوگوں کے واقعات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔ جیسے آیت اللہ مراعشی نجفیؒ کا تشرف اور دیدار ،اسی طرح اور بھی بڑی ہستیاں ہیں حتہ بہت بڑے مرجع جہان تشہیو آیت اللہ سیستانی حفظ اللہ کے والد کہ جو خود بہت بڑے مرجع تھے ان کا  دیدارِ مشہد اور تقریباً اس طرح کے واقعات اس ویب سائٹ میں جمع ہیں۔  

*آیت اللہ العظمیٰ بہجت رضوان اللہ:*
ایک واقعہ آیت اللہ العظمیٰ بہجتؒ سے نقل فرماتے ہیں اور شائد ان کے کسی شاگرد سے نقل ہوا کہ جب آیت اللہ بہجتؒ سے پوچھا کہ امام زمانہؑ عج کا سب سے بڑا رنج کیا ہے۔ 
 
امام کے لیے سب سے بڑا رنج یہ حوادث نہیں ہیں یا باہر کا دشمن نہیں ہے اور ان میں سے کوئی بھی قابلیت نہیں رکھتا کہ حجت خدا کے سامنے ٹھر سکے کیونکہ امامؑ عج ظہور کے بعد آٹھ مہینے میں زمین کو قانع کر دیں گے اور پوری زمین کو ایک سلطنت میں بدل دیں گے۔ چاہے کتنی ہی بڑی سپر پاؤرز ہوں کیونکہ امام زماںؑ عج  فرزند حیدر کرار ہیں کہ جن کے سامنے خیبر کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ کہ اُس زمانے کے یہودیوں نے طاقت کا ایک بہت بڑا قلعہ بنایا ہوا کہ بعض روایات کے مطابق جس کے در کہ جس کو 300 لوگ یا 100 لوگ اٹھاتے تھے۔ جب مولا علیؑ سے پوچھا گیا کہ آپ نے قلعہ خیبر کا وہ دروازہ کیسے اکھاڑا تو واضح فرمایا: 

*" یہ میری کوئ جسمی قوت نہیں تھی بلکہ یہ قوت پروردگار ہے"۔* 

یعنی خدا اپنی حجت کو قوت رحمانیہ عطا فرماتا ہے اور جب امام مہدیؑ عج تشریف لائیں گےتو خدا کی بے پناہ قوتوں کے ساتھ آئیں گے۔ انشاءاللہ!

لیکن! ہمیشہ ایک غم جو پوری تاریخ میں ان الہیٰ ہستیوں یعنی انبیاءؑ اور ہمارے آئمہؑ کا ہے وہ یہ ہے کہ یاران اور ناصرین کی کمی ہے۔ جو اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ بالآخر دنیا دارالامتحان ہے۔ سارے کام اللہ نے نہیں کرنے کیونکہ ہم تو بس اسی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ سارے کام اللہ نے کرنے ہیں بلکہ ہم نے حرکت میں آنا ہے۔  

*امام صادقؑ علیہ السلام:*
سوال:
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام صادقؑ سے پوچھا گیا کہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں بھی ہے۔ پوچھا گیا کہ جب قائمؑ عج آئیں گے تو اللہ ایک ہی رات میں سب کام کردے گا؟

جواب:
*آج ہمارا بھی یہی تصور ہے کہ سارے کام تو اللہ نے کرنے ہیں۔ تو چھٹے مولاؑ نے فرمایا کہ:* 

خدا کی قسم  ہرگز نہیں! 
 اگر خدا نے سارے کام کرنے ہوتے تو پھر کیوں ہمارے پیغمبرؐﷺ کے دانت شہید غزوہ احد میں اور کیوں انہوں نے اپنے یاران اور انصاروں کی شہادتوں کے صدمے دیکھے۔ 

ہرگز ایسا نہیں ہوگا بلکہ ! یہ ناصرین مہدیؑ عج ہیں کہ جنہیں میں دیکھ رہا ہوں۔ 

میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ناصرین سواریوں پہ ہیں اور وہ جنگ کر رہے ہیں۔ مشرق سے مغرب تک سلطنت مہدیؑ عج قائم کرنے کے لیے یہ تسبیح کی مانند ہیں اور جسم سے پسینے کی طرح خون بہائیں گے۔ یعنی نصرت امامؑ عج شہادتوں اور قربانیوں کا سفر ہے۔ یہ ایسے لشکر اور ایسے خالصین کا گروہ کا لشکر ہے۔ 

*آیت اللہ بہجت فرماتے ہیں کہ :*

تہران میں  ایک عالم دین تھے جو بہترین استاد تھے تو ایک مرتبہ ان کا ایک قلم یا کوئی چیز گم ہوگئی جو ان کے لیے بہت اہم تھی۔ تو ان کو اپنے شاگردوں پر شک پڑ گیا۔ اور وہ  تھوڑا سا ناراض ہوگئے۔ 

ایک دن درس پڑھانے آئے تو  تو ایک شاگرد نے کہا کہ قبلہ ہم پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم نے آپ کی وہ چیز نہیں اٹھائی بلکہ  وہ چیز آپ کی پرانی عبا یا قبا کی فلاں جیب میں موجود ہے ۔  وہ واپس گئے اور اس چیز کو وہیں اسی مقام پر پایا کہ جو شاگرد نے بتائی تھی۔

 وہ بہت حیران ہوئے اور پھر انہوں نے محسوس کیا کہ یہ جو میرا شاگرد ہے یہ کسی مقام پر پہنچا ہوا ہے وگرنہ علم غیب کی خبر کیسے دے سکتا ہے؟

انہوں نے پوچھا کہ بالآخر آپ تشرف یافتہ ہیں تو شاگرد نے انکار نہیں کیا اور استاد اس سے ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر ممکن ہو تو مولاؑ عج سے میری بھی ملاقات یا زیارت کروا دیں۔ جب بہت زیادہ اصرار کیا تو اس شاگرد نے کہا کہ میں نے مولاؑ عج کی بارگاہ میں عرض کیا کہ آپ مولاؑ عج سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے اندر تہذیب نفس پیدا کرو میں خود تمھیں ملنے کی لیے آؤں گا۔ 
*سبحان اللہ!*
*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ*

اس طرح کے واقعات ہیں کہ بہت سے لوگ یہ چاہتے تھے کہ تشرف یافتگان میں شمار ہوں ۔ قم میں بہت سے واقعات تھے جیسے ایک فروٹ فروش تھا کہ جس سے ملنے کے لیے مولا ؑ عج خود تشریف لاتے تھے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے ملاقات کے واقعات ہیں کہ جن میں فرمایا کہ میرے لیے چلے اور وظیفے نہ کاٹو بلکہ اپنا عمل اس فروٹ فروش (دکاندار) کی طرح کر لو۔ اگرچہ وہ شخص تجارت میں بے پناہ پرافٹ لے سکتا تھا لیکن! اس نے خود کو شرعی پرافٹ تک محدود کیا اور مولاؑ نے فرمایا کہ اس طرح کا عمل دکھاؤ میں خود تمھاری ملاقات کے لیے آؤں گا۔ 

*ہم نے کچھ عرصہ قبل ایک گفتگو شروع کی تھی "لطف ناصرین"*

درست ہے کہ ابھی ظہور نہیں ہوا اور پروردگار ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جو باعث ظہور بنیں۔ الہیٰ آمین!

*لیکن!*
*نصرت  فقط ظہور پر منحصر نہیں بلکہ ! غیبت کے زمانے میں ہم زمانہ غیبت کے ناصرین بھی بن سکتے ہیں اور زمانہ غیبت کے ناصرین کا مقام زمانہ ظہور کے ناصرین سے کم نہیں ہے بلکہ زیادہ ہے۔* 

اگر ہم تمام تر مہدوی روایات کو اکھٹا کریں تو ہماری آئمہؑ کی سب سے زیادہ روایات غیبت اور غیبت میں آنے والے واقعات ، پریشانیاں اور اس میں وہ لوگ جو یہ سب زحمتیں اٹھانے کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہیں گے اور اپنے امام وقت عج سے متمسک رہیں گے ان کی فضیلت اور عظمت ہے۔ 

مثلاً وہ علماء کہ جنہوں نے زمانہؑ غیبت میں لوگوں کے امور کی اصلاح اور لوگوں کے دین کی حفاظت کرنی ہے کہ *امام ھادی* ؑ ان لوگوں کا کس طرح ذکر فرماتے ہیں کہ
فرمایا: 
*اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِﭤ*
وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ 

اور فرماتے ہیں کہ یہ وہ ہوں گے کہ جو امت کی کشتی کے ناخدا ہونگے۔ پھر فرماتے ہیں کہ کہ یہ وہ ہونگے کہ فقط یہ ہم سے راضی نہیں بلکہ ہم بھی ان سے راضی ہونگے اور روز قیامت جس جگہ پر ہم ہونگے یہ لوگ وہیں ہونگے۔ 

*حالانکہ! زمانہ غیبت کے عام مومنین جو ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنی تہذیب نفس پر توجہ رکھتے ہیں۔* 

نبیؐ کریم ﷺ نے اس زمانے میں فرمایا: 
یہ ان لوگوں (اصحاب رسولﷺ) کی مانند ہیں کہ جو نہ صرف میرے اصحاب کی مانند ہیں بلکہ میرے یاران اور ان کو یہ مقام اللہ کی جانب سے حاصل ہے کہ وہ میں محمدؐﷺ کے بھائی ہیں۔ کیونکہ انہیں نے سفید کاغذ پر سیاہ تحریریں پڑھ کر (قرآن مجید) مجھ پر ایمان لایا ہوگا۔ "

یعنی اے اصحاب! تم تو مجھے دیکھتے ہو اور میرے معجزات دیکھتے ہو۔ لیکن! وہ مجھ پر بغیر دیکھے ایمان لائیں گے۔ 
*سبحان اللہ!*
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️

*رجال الغیب کی گفتگو:*
ضمنً رجال الغیب کو ابدال بھی کہا جاتا ہے۔ اور ماہ رجب میں ایک دعا ہے دعائے ام داؤد کہ جس کے اندر امام صادقؑ کا یہ فرمان ہے کہ :
*اللهُمَّ صَلِّ عَلى ‌الأبدالِ وَالأوتادِ وَالسُّياحِ وَالعُبّادِ وَالمُخلِصينَ وَالزُّهّادِ وَأهلِ الجِدِّ وَالاجتِهادِ،*
 
اس دعا سے ایک گروہ سامنے آرہا ہے کہ جس پر امام صادقؑ درود بھیج رہے ہیں اور یہ گروہ کون ہے یہ ابدال، اوتاد، سُیاح ، عُباد ، مخلصین، زُھاد اہل جد والاجتھاد ہیں۔ 

*ابدال* :
ابدال کے بارے میں ایک مشہور روایت بحارالنوار میں موجود ہے اور ہمارے پانچویں مولاؑ امام محمد باقرؑ کی ایک روایت ہے اور یہ روایت بحارالنوار، کافی اور علامہ طوسیؒ نے کتاب الغیبہ میں لکھا۔ 📚

*امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ:* 
امام قائمؑ عج کے لیے حتماً غیبت ہوگی۔ اور اس غیبت میں حتماً وہ تنہا رہ جائیں گے۔ اسوقت بہترین جگہ جہاں مولاؑ سکونت اختیار کریں گے وہ مقام طیبہ ہے۔ 

جیسا کہ ہم دعائے ندبہ میں ایک جملہ پڑھتے ہیں۔ کہ: 
*لَیْتَ شِعْرِی أَیْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّویٰ بَلْ أَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّکَ أَوْ ثَریٰ أَبِرَضْویٰ أَوْ غَیْرِھَا أَمْ ذِی طُویٰ*
اے کاش میں جانتا کہ اس دوری نے آپ کو کہاں جا ٹھہرایااور کس زمین میں اور کس خاک نے آپکو اٹھا رکھا ہے آپ مقام رضویٰ میں ہیں یا کسی اور پہاڑ پر ہیں یا وادی طویٰ میں

یہاں دو مقامات کا ذکر ہوا 
*1۔ وادی رضویٰ* 
*2۔ وادی ذی طویٰ*

یہ دونوں مقامات مدینہ کے اطراف میں موجود ہیں اور بار بار روایات میں ذکر ہوا ہے کہ زمانہ غیبت میں حجت خدا کی جائے سکونت مدینہ منورہ ہے۔ 

*جزیرہ خضرا اور برمودہ ٹرائینگل افسانے  ہیں* اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ علامہ مجلسیؒ نے ایک شخص کا سفر نامہ لکھا ہے اور اس کی کوئی سند یا روایت نہیں ہے۔ اور لکھنے والا ایک مجلولعال شخص ہے علی بن فاضل مازندرانی ۔ اور اس نے جو کچھ لکھا وہ خلاف تشہیو اور خلاف حقیقت ہے، اور خلاف اسلام ہے۔ یہ لوگ تحریف قرآن کے قائل ہیں اس سفرنامے میں نیابت خاصہ بتائی جارہی ہے کہ جو کہ عقیدہ تشہیو کے مطابق ختم ہو چکی ہے اور ہم غیبت کبرٰی میں ہیں۔ وہ قصہ جزیرہ خضرا جو لوگوں میں بڑا مشہور ہے اس کو ابھی بھی چھاپہ جارہا ہے۔ 

انگلستان کے مطابق ایک جزیرا ہے جس میں باقاعدہ لوگ رہ رہے ہیں اور ایسے کئی افسانے بنے ہوئے ۔ لیکن! آج کے زمانے میں تحقیق کرنا کوئی مشکل نہیں ہم آسانی سے برمودہ ٹرائینگل کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہمارے پاس انٹرنیٹ اور سرچ آپشن نہیں تھے۔ 

*احادیث کہتی ہیں کہ امام زماںؑ عج اگرچہ پوری دنیا میں نقل و حرکت فرماتے ہیں لیکن! جس جگہ کو آپ نے اپنی سکونت کے لیے اختیار کیا ہوا ہے وہ مدینہ منورہ ہے۔* 

اسی لیے ہم ظہور کی روایات میں دیکھتے ہیں کہ جب سفیانی لشکر بھیجے گا کہ امام ظہورسے پہلے اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے نکل کر مکہ پہنچیں گے اور ظہور کا اعلان کریں گے۔ تو راستے میں سفیانی لشکر گھر کر شہید کرے۔ لہذا یہ لشکر امام کے پیچھے پیچھے چلے گا لیکن حکم الہیٰ سے وادی بیدا میں (وادی جن) میں دھنس جائے گا۔ (خسف بیدا)۔

*یعنی امام مہدیؑ عج اپنے یاران کے ساتھ مدینہ سے نکلیں گے۔* 

*امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں* کہ اس عالم تنہائی میں یعنی غیبت کبریٰ میں امام زمانہؑ عج کے ساتھ 30 ایسے اصحاب ہیں کہ جو مولاؑ عج کو اس وحشت اور تنہائی کو دور کرتے ہیں۔ ابدال کے بارے میں بہت سی روایات ہیں کہ یہ لوگ پوری دنیا میں امام کے امور کو انجام دیتے ہیں۔ البتہ روایات میں ابدال کی تعداد 40 تک بتائی گئی ہے اور اہلسنت میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے یعنی وہ ابدال کو 80 تک بتاتے ہیں۔ 

*احمد بن حنبل سے روایت ہے اور جناب عبادہ بن صامت پیغمبرؐﷺ سے نقل کرتے ہیں:* 

روایت: 
نبیؐ اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ :
اس امت میں ابدال تیس ہیں اور ان کی مثال حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی مانند ہے۔ 

اس کے بعد فرماتے ہیں:
جب ان میں سے ایک شخص جاتا ہے تو خدا دوسرے کو اس کی جگہ پہ بدل دیتا ہے۔ 

اسی طرح *طبرانی نے معجم کبیر میں جناب ابن مسعود* کی روایت ہے جو پیغمبرؐ ﷺ سے نقل ہوئی فرماتے ہیں کہ : 

"ابدال چالیس ہیں اور ابراہیمؑ کی مانند ہیں"
اسی طرح اہلسنت میں 60 اور 80 کی تعداد بتائی گئی ہے۔ لیکن! ہماری روایات میں 30 کی تعداد بتائی گئی ہے۔ لہذا اب تیس ہو یا چالیس ہوں یہ وہ صالح لوگ ہیں کہ جو مولا کی تنہائیوں میں ان کے مددگار اور ناصر ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جو پوری زمین سے ہیں اور امام زمانہؑ عج انہیں اپنی خدمت کے لیے انتخاب کرتے ہیں۔ 
*سبحان اللہ!*

اسی طرح کا ایک واقعہ آیت اللہ وحید خراسانی حفظہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے۔ اپنے درس میں کسی اپنے عزیز دوست سے نقل کر رہے تھے کہ انہوں نے تہران میں ایک واقعہ دیکھا کہ کس طرح امام اپنے خدمت گذاروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ 

 *ابدال کی خصوصیات:* 
یہ لوگ جو امامؑ عج کی نصرت کے لیے انتخاب ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد مہم نہیں بلکہ مہم یہ ہے کہ کن خصوصیات کو اختیار کریں کہ جن کی وجہ سے امامؑ عج ہمیں اپنی خدمت کے لیے انتخاب کریں۔ 

یعنی روایات میں اشارہ ہوا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کا دل حضرت ابراہیمؑ کی مانند ہے۔ اگر مثلاً علما میں سے بھی انتخاب ہوا ہے تو وہ کون سے لوگ ہیں یعنی توحید اور معرفت الہیٰ میں مانند حضرت ابراہیمؑ ہیں۔ 
*سبحان اللہ!*

حضرت ابراہیمؑ کے بہت بڑے چیلنج شرک و الہاد، سورج پرستی، چاند پرستی، انسانوں کو خدا بنایا ہوا تھا۔ تو حضرت ابراہیمؑ نے شرک کے تمام مظاہر کے ساتھ جنگ کی حتہ اپنے عبودیت کو جذبے کو بارگاہ خداوندی میں آخری حد تک آزمایا اور وہ اس آزمائش میں پورے اترے۔ کہ اپنے لخطے جگر اسمائیل کو اللہ کے ایک اشارے پر بارگاہ خدا میں قربان کرنے لگے تھے۔ اور یہ ہے توحید۔ 

ابدال میں پہلی صفت یہ ہے کہ یہ توحید اور معرفت الہیٰ میں اس مقام تک پہنچے ہوئے ہیں کہ جس کے بارے میں 
امیرالمومنینؑ سے پوچھا گیا کہ مہدیؑ عج کے ناصران کیسے ہونگے۔ 

*فرمایا* : 
اس طرح توحید پروردگار رکھتے ہوں گے کہ جس طرح رکھنے کا حق ہے۔ اور یہ حق تو امامؑ کو ہی پتہ ہے۔ اور فرمایا کہ:  

ان کے دل فولاد کے ٹکڑوں کی مانند ہیں اور اب کوئی بھی شیطانی وسوسہ ان میں سوراخ نہیں کر سکتا۔ 

والسلام
تحریر و پیشکش:✒️ 
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🇮🇷🌍


*دولت کریمہ امام زمان عج*

*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹

آج روز جمعہ ہے اور نیمہ شعبان ہے اور آپ سب عزیزان ، اہل انتظار، اہل ایمان اور بلخصوص ہمارے ادارے کے جتنے طلباء اور طالبات ہیں سب کی خدمت میں آج کے دن کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ 

یہ دن اس ہستی کے ساتھ خاص ہے کہ جس ہستی کا انتظار تبھی سے ہو رہا ہے جب سے یہ عالم تخلیق ہوا ہے۔ مولاؑ عج کا انتظار حضرت آدمؑ سے ہوا اور تمام نبیوں نے آپؑ کے ظہور اور دنیا میں آپؑ عج کے ذریعے الہیٰ حکومت کے بپا ہونے کی خبریں اپنی امتوں کو دیں۔ اور سب امتوں کے صالحین، اولیاء اور انبیاءؑ مولاؑ عج کے ظہور کے مشتاق بھی ہیں اور ہماری کتابوں میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ جب مولاؑ عج کا ظہور ہوگا تو گذشتہ امتوں سے صالحین اور انبیاءؑ بھی تشریف لائیں گے اور مولاؑ عج کا زمانہ ظہور دیکھیں گے۔ 

یہ اشتیاق خود ہمارے پیغمبرﷺ اور ان کے اوصیاءؑ کے دلوں میں بھی تھا اور انہوں نے بار بار اس کا اظہار کیا۔اور اسی لیے رجعت میں یہ ہستیاں بھی تشریف لائیں گی۔ 

*تو یہ تمام ہستیاں کس چیز کو دیکھنے کے لیے آئیں گے؟*
ماہ رمضان میں دعائے افتتاح کا یہ جملہ کہ جو ہمیشہ ہمارا ورد ہونا چاہیے اور ہماری ہر نماز کے بعد اللہ کی بارگاہ میں یہ بات ضرور مانگنی چاہیے کہ یہ ہر مومن شیعہ کی دعا کا حصہ ہونا چاہیے۔ 
معصومؑ فرماتے ہیں۔ 
*اَللّٰھُمَّ إنَّا نَرْغَبُ إلَیْکَ فِی دَوْلَةٍ کَرِیمَةٍ،*
اے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں 
*تُعِزُّ بِھَا الْاِسْلامَ وَأَھْلَہُ وَتُذِلُّ بِھَا النِّفاقَ وَأَھْلَہُ،*
جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت دے اور نفاق و اہل نفاق کو ذلیل کرے

اور اس کے بعد فرمایا:
*وَتَجْعَلُنا فِیھَا مِنَ الدُّعاةِ إلٰی طاعَتِکَ، وَالْقادَةِ إلٰی سَبِیلِکَ، وَتَرْزُقُنا بِھَا کَرامَةَ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ*
اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کیطرف بلانے والے اور اپنے راستے کیطرف رہنمائی کرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت دے

یہ دعا ہمارا ورد ہونی چاہیے کیونکہ یہ دعا ایک معصومؑ کی خواہش ہے اور اشتیاق ہے اور یہ ہمارے لیے درس ہے کہ ایک منتظر مومن کے اندر بھی اسی طرح کا اشتیاق اور تڑپ ہونی چاہیے۔ 

*دولت کریمہ:* 
امام زمانؑ عج کی حکومت کو کیوں دولت کریمہ کہا گیا ہے اور اُس عظیم الہیٰ حکومت میں کیا ایسے وصف ہیں؟

*پہلی خصوصیت:* 
*پوری دنیا پہ عظیم الہیٰ حکومت:*
اگر مولاؑ عج کی عظیم الہیٰ حکومت کے بارے میں تمام آیات مجیدہِ قرآن اور احادیثِ شریفہ محمدؐ و آل محمدؑ کا مطالعہ فرمائیں تو ہمیں یہ  کچھ نظر آتا ہے کہ جب یہ حکومت قائم ہوگی تو اس وقت پوری دنیا کا نظام ایک امامؑ کی رہبری میں آجائے گا اور پوری دنیا پہ ایک معصومؑ ہستی حکومت کرے گی۔  یعنی ابھی تک کسی معصومؑ کی پوری دنیا پہ حکومت قائم نہیں ہوئی۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا کے کچھ حصے پر تو قائم ہوئی ہے جیسے حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ ،  اور ذولقرنینؑ جیسے عظیم الہیٰ سلطان کی حکومت دنیا کے کچھ حصے پر تھی۔ اور پیغمبرؐ اسلامﷺ کی حکومت جزیرۃ العرب کے کچھ حصے پر تھی اسی طرح یوشع بن نون جو حضرت موسیٰؑ  کے وصی ہیں ان کی حکومت زمین کے کچھ حصے پر تھی اسی طرح مولا علیؑ کی حکومت دنیا کے کچھ حصے پر تو تھی لیکن! ابھی تک کوئی معصوم ہستی جس نے مشرق  سے مغرب تک پوری زمین پر حکومت کرنی ہو تو ایسا نظام ابھی برقرار نہیں ہوا اور اللہ نے اس حکومت کے لیے اپنی ساری مخلوقات اور اپنے برگزیدہ بندوں میں ایک ہستی کو منتخب کیا اور وہ یوسف زہراؑ ہیں۔ کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کیا کہ ووہ پوری زمین پر الہیٰ حکومت کو نافذ کریں اور وہ اللہ کے ایسے وصی ہیں کہ جن کے قبضہ قدرت میں پوری زمین ہوگی۔ 

*روایت* :
*معصومؑ فرماتے ہیں کہ؛* 
*پروردگار مہدیؑ عج اور ان کے ناصرین کے اختیار میں فقط زمین کو نہیں دے گا بلکہ آسمانوں کو بھی دے گا۔* 🌷
 
یعنی اللہ ان کے سپرد آسمانوں اور زمین کا اختیار دے دے گا۔ اور وہ صرف زمین پہ اختیار نہیں رکھیں گے بلکہ ان کی حکومت آسمانوں پر بھی ہوگی۔ 

*دوسری خصوصیت:*
*عقلوں کا کامل ہونا:*
معصومؑ فرماتے ہیں کہ اس حکومت میں لوگوں کی عقلیں کامل ہو جائیں گی۔ 

ہمارے ہاں بہت سارے جرائم،  لوگوں کے عقلی اور فکری لحاظ سے جو نقائص اور حماقتیں ہیں اور بہت ساری برائیاں اور جہالتیں ہیں یہ ان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یا پھر جب عقلیں مغلوب ہو جاتیں ہیں تو یہ ان کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن! امام مہدیؑ عج کی دولت کریمہ میں مشرق سے مغرب تک سارے رعایا کی عقلیں کامل ہو جائیں گی۔  یعنی امامؑ عج ایسے انتظامات کریں گے۔ 

*تیسری خصوصیت:* 
*دین اسلام کی حاکمیت:*
دین اسلام برتر ہوگا اور دنیا پر حاکم ہوگا۔ اور سارے باطل دین اور باطل مکتب ختم ہو جائیں گے۔ 

*چوتھی خصوصیت:* 
*نفس امارہ پر قابو اور شیطان کا خاتمہ:*
انسان کے سب سے بڑے دشمن شیطان کا خاتمہ ہو جائے گا اور نفس امارہ کو قابو کرنے کے لیے مولاؑ عج  لوگوں کی تربیت فرمائیں گے اسی لیے پھر دنیا پاک و پاکیزہ اور نوارنی ہوجائے گی اور پھر نفس انسان کو دھوکا نہیں دے سکے گا۔ یعنی مولاؑ عج لوگوں کے لیے اتنی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا انتظام فرمائیں گے۔ 

*پانچویں خصوصیت:* 
*بغض اور کینہ کا خاتمہ*
لوگوں کے دلوں سے کینہ اور بغض ختم ہو جائے گا۔ اور لوگوں کے دلوں میں صرف محبت اور ایک دوسرے کی خدمت رہ جائے گی۔ 

*چھٹی خصوصیت:* 
*زمین پر کوئی گناہ نہیں رہے گا:*
اس دولت کریمہ میں زمین پر فقط اور فقط اللہ کی عبادت ہوگی 

*ساتویں خصوصیت:* 
*دنیا کے غریب و نادار سب بے نیاز ہو جائیں گے:*
اتنا زیادہ مال ہوگا کہ جو بھی مولاؑ عج کے پاس آئے گا امام اسے فراوانی سے مال عطا فرمائیں گے۔ 

*آٹھویں خصوصیت:* 
*لوگ طاقتور ہو جائیں گے:*
اس زمانے میں لوگوں کے بدنوں سے ناتوانی اور ضعف ختم ہوجائے گی اور لوگ طاقتور ہو جائے گے اور قوی ہوجائیں گے اور روایات کہتی ہیں کہ اس زمانے میں ایک انسان چالیس کے برابر قوی ہوگا۔ لہذا عمریں بھی طولانی ہو جائیں گی۔ 

*نویں خصوصیت:* 
*نابینا بینا ہو جائیں گے:*
اس زمانے میں نابینا بینا ہو جائیں گے۔ یعنی جسمانی اور روحانی دونوں آنکھیں ملیں گی۔ 

*دسویں خصوصیت:* 
*لاعلاج مریض شفا پائیں گے۔* 
ایسے مریض جو ایک مدت سے بستر پر ہونگے شفایاب ہو جائیں گے اور ان کی عمریں طولانی ہو جائیں گی۔ دنیا سے بیماریاں دکھ اور پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔ 

*گیارویں خصوصیت:*
*طولانی عمر*
لوگوں کی عمریں طولانی ہو جائیں گی۔ کیونکہ نہ بیماریاں رہیں گی نہ پریشانیاں نہ ہی دکھ رہیں گے۔ 

*بارویں خصوصیت:* 
*کمال تک پہنچنا*
اس زمانے میں انسان علم و دانش کے اعتبار سے کمال تک پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک اپنے علوم کا کچھ حصہ ہمیں دیا ہے لیکن! اللہ کے کامل ترین علوم امام مہدیؑ عج کے زمانے میں ملیں گے۔ 

اسی لیے ہماری بعض احادیث یہ کہتی ہیں کہ اس زمانے میں زمین فقط عدل سے نہیں بلکہ علم سے بھی بھرے گی۔ 

*تیرویں خصوصیت:* 
لوگوں کو ایسی ایسی نعمات ملیں گی کہ جن کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ 
سبحان اللہ!

*آخری خصوصیت:* 
امامؑ لوگوں کے ساتھ اتنی خوبیاں اور نیکیاں کریں گے اور لوگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ اتنے مہربان ہونگے کہ زمین اتنی نورانی ہو جائے گی کہ زندہ لوگ اپنے مرحومین کے لیے یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی زندہ ہوتے اور یہ زمانہ دیکھتے۔  یہ وہ حکومت ہے کہ جس کی تجلی احادیث میں بیان ہوئی ہے اور ہم اس حکومت کے منتظر ہیں۔ 
*لیکن* !

*عام طور پر ہمارے ذہنوں میں یہی سوال آتا ہے کہ یہ حکومت کیوں نہیں شروع ہو رہی جبکہ اب تو گیارہ سو سال ہو چکے ہیں ؟ کیوں غیبت طولانی ہو رہی ہے اور ظہور میں تاخیر ہو رہی ہے؟*

*جواب* : 
بہت بڑی ہستی عالمِ جلیل القدر علامہ نصیر الدین طوسیؒ فرمایا کرتے تھے کہ " اگر یہ حکومت برقرار نہیں ہورہی تو اس کی وجہ ہم خود ہیں۔"
کیونکہ ہم نے مولاؑ عج کے ظہور کی کوئی تیاری نہیں کی ہوئی۔ ہم اہل نماز بھی ہیں اہل زکوۃٰ بھی ہیں۔ اچھے اچھے کام بھی کرتے ہیں۔ عزاداری و میلاد کرتے ہیں، حج عمرہ زیارات سب کام کرتے ہیں مگر! اپنی نجات کے لیے۔ ابھی تک ہماری فکریں شخصی ہیں اور ابھی تک ہم نے ملت اور امامِ مِلت کے بارے میں نہیں سوچا۔ 

امام زمانؑ عج کے ناصروں کی سوچ یہ ہے کہ وہ اجتماعی سوچ رکھتے ہیں اور اجتماعی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ اگر وہ کسی کو خیر پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ فقط اپنی ذات یا اپنے رشتہدار نہیں بلکہ مخلوق خدا تک ان کی سوچ ہوتی ہے۔ یعنی ان کی سوچ اپنے امامؑ عج کی طرح ہے کہ امامؑ عج پوری زمین کے لیے امان ہیں اسی طرح ناصرین مہدیؑ عج بھی پوری زمین کے لیے امان ہیں۔ اور سب کے لیے خیر و برکت ہیں۔ 

امامؑ عج  وہ ہیں جو کافروں کے بھی مددگار ہیں۔ تو یہ ظہور اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ ہم اجتماعی طور پر حرکت میں نہیں آتے اور قرآن مجید بارھا یہ کہہ چکا ہے۔ 

*سورہ رعد 11*
*اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُغَيِّـرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّـٰى يُغَيِّـرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِـمْ*
*اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔* 

ہمیں چاہیے کہ خود قدم تو اٹھائیں خود کوشش تو کریں۔ بنی اسرائیل کے مہدی اور مسیحا حضرت موسیٰؑ تھے کہ جنہوں نے انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دلائی تو وہ کیوں ظاہر ہوئے، کیونکہ قوم بنی اسرائیل نے بے پناہ ظلم برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ظہور کے لیے کوششیں کیں۔ انہوں نے اشتیاق کا اظہار کیا اور جناب موسیٰؑ کی راہ کو ہموار کیا۔ 

مثلاً اگر ہم قلی طور پر دیکھیں تو پچاس یا ساٹھ سال قبل کے چین اور آج کے چائینہ میں کتنا فرق ہے انہوں نے کس قدر ترقی کی ہے۔ اسی طرح دیگر ممالک ہیں کہ جنہوں نے جس نہج میں محنت اور کوشش کی تو اللہ نے ان کو ترقی دی۔ 

*یہ تو کافروں کی مثالیں ہیں لیکن! اگر مسلمان کوشش کریں تو اللہ انہیں کئی گناہ ترقی دیتا ہے کیونکہ مسلمان اہل ایمان ہیں۔* 

مکتب تشیہو میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی اجتماعی حرکت سامنے آئی تو اس کی کتنی برکات ظاہر ہوئیں۔ مثلاً لبنان میں شعیوں کا ایک گروہ ایک عظیم قیام کی صورت میں سامنے آیا اور بڑی بڑی شخصیات ظاہر ہوئیں اور انہوں نے بڑے بڑے ظالمین ، استمعاری اور استکباری ممالک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور باطل نظام  ان چند افراد کی ہیبت سے لرز گیا۔ 

؎ تم نے مولاؑ عج کی محبت کا نظارہ دیکھا
لشکر کفر زیادہ تھا مگر! ہار گیا
چند افراد نے لبنان کا نقشہ بدلا 
بھاگنے والے ذرا دیکھ تو پیچھے مڑ کر
ایسے ہوتے ہیں مہدیؑ عج کے نوکر

اسی طرح ایران میں شعیہ قوم حرکت میں آئی اور پوری دنیا کا باطل نظام لرز گیا۔ ساری قوم نہیں بلکہ چند لوگوں نے ایران میں انقلاب بپا کر دیا اور باطل کی نیندیں حرام کر دیں۔ اور اس انقلاب کے اثرات کہاں سے کہاں پہنچے۔ اسی طرح یمن میں چند لوگ ہیں لیکن! یمن میں کتنا ظلم ہورہا ہے۔ لیکن! یمن کو پوری دنیا کے مظلوموں کی فکر ہے۔ جبکہ یمن خود سخت اقتصادی اور دیگر مسائل کا شکار ہے اور بمباری ہونے کے باوجود بھی دنیا کے مظلوم فلسطنیوں کے لیے کھڑا ہے۔ مگر! پھر بھی اسرائیل کے حملوں کا ڈٹ کر جواب دے رہا ہے۔ یمنیوں کی سوچ الہیٰ سوچ ہے۔   دنیا کے ظالموں نے یمن کی انقلابی حکومت کو ختم کرنے کی بہت کوشش کی لیکن! ناکام ہو گئے۔ اور یمن آگے بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں یمن عالم اسلام اور عالم تشہیو کا نجات دہندہ ہوگا۔ 

*ہمارے آئمہؑ فرماتے ہیں* 
کہ : آخرالزمان میں بڑے بڑے پرچم بلند ہونگے لیکن تم نے یمانی اور اہل یمن کے پرچم کی جانب دیکھنا ہے۔ کیونکہ وہ خیر و برکت کا پرچم ہے اور اس میں ظہور امامؑ عج کی نوید اور بشارت ہے لہذا اس پرچم کا ساتھ دیں کیونکہ یہ یمنی تمھارے مولاؑ عج کے ظہور کے لیے حرکت میں آئیں گے۔ 

اہل یمن ابھی زیدی ہیں ابھی انہوں نے شیعہ ہونا ہے اور انہوں نے امام زماں عج کے لیے کوششیں کرنی ہیں ۔ یمن آہستہ آہستہ دنیائے تشیہو کا ایک عظیم اور طاقتور ملک بن جائے گا۔ اس وقت ہم سب کا فریضہ ہے کہ جہاں بھی اہلبیت ؑ کے مکتب کی آواز بلند ہو تو ہم سب اس کا ساتھ دیں۔ 

*دنیائے تشہیو کی دھڑکن یمن ہے۔ یہ روایات میں آیا ہے۔* 🌷

اس وقت ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں۔ اور سورہ نجم میں ارشاد رب العزت ہو رہا ہے کہ: 
*وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39) ↖*
*اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو کرتا ہے۔*

اگر ہم اس طرح فردی طور پر اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اسی طرح ہم اجتماعی طور پر بھی ظہور کے لیے کوشش کر سکتے ہیں اور ہم سب کا ایک ہی ہدف اور مشن ہو کہ ہم مولاؑ کی ہمراہی کریں اور امامؑ عج کا ظہور ہماری زندگیوں میں ہو۔ *انشاءاللہ* !

یہ سلسلہ دروس اسی لیے ہے کہ ہمیں آگاہی حاصل ہو اور ہم ان مہدوی معلومات کو آگے نشر کریں ۔ ہم موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کی سوچ کو بدل سکتے ہیں اور کتنے ہی لوگ اس حرکت انتظار میں آ سکتے ہیں۔ اور کتنے لوگوں کے دلوں میں امامؑ عج کے لیے اخلاص اور محبت بڑھ جائے گی۔ ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کریں اور اپنی تمام تر نیکیوں اور کاموں کو امامؑ عج کے ساتھ منسوب کریں کیونکہ ابھی راہ امامؑ عج میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ یعنی تمام پروگرام، حتی خیرات سب امام سے نسبت دیں۔ 

دعائے عہد، دعائے ندبہ زیارت آل یٰسین کے پروگرام رکھیں۔ بچوں کے لیے کتابیں بنائیں۔ اور اصل مرکزی کردار خواتین کا ہے لہذا خواتین کا بڑا کردار ہے۔ روایت ہے کہ جب ماہ رمضان میں ندائے آسمانی آئے گی (۔ اور خدا کرے کہ اسی ماہ رمضان میں ندائے آسمانی آجائے۔ انشاءاللہ!)           تو اس وقت خواتین اپنے گھر کے مردوں کو خود امامؑ عج کی مدد کے لیے بھیجیں گی۔ اور کہیں گی کہ آپ جائیں اور ہماری فکر نہ کریں۔  حتی خود ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر بھیج رہی ہونگی کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب عالم اسلام عالم کفر کے مدمقابل کھڑا ہو رہا ہے اب آپ جائیں اور امامؑ عج کی مدد کریں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو پہلے سے کام کر رہی ہوں گی۔ ہمیں منتظر سوسائیٹیاں چاہیے جو راہ امام میں کام کریں۔ جب ہم یہ چھوٹے چھوٹے کام کریں گے تو پھر وہ بڑا کام ہوگا۔ اور دولت کریمہ بپا ہوگی۔ انشاءاللہ! 

والسلام،
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌏🇮🇷


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات