𝔹𝕠𝕠𝕜 14 𝕊𝕒𝕕𝕚𝕒

 *کتابچہ* :14📖✨

*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ* 

# موضوع درس 1: قادیانیت سے آشنائی

# نکات:  قادیانیت کا مختصر تاریخچہ ، علامہ اقبال کا جہاد، رہبر انقلاب اسلامی کا تبصرہ


*#استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہماری گفتگو کا موضوع تین انحرافی مکاتب ہیں کہ جنہوں نے عالم اسلام کو بلخصوص پاک و ہند کے مسلمانوں کو فکری، دینی اور اعتقادی اعتبار سے  کافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ 


*پہلا جھوٹا دین قادیانیت:*

سب سے پہلا انحرافی مکتب،  اعتقادی فرقہ اور جھوٹا دین قادیانیت ہے۔  قادیانی ، احمدی یا مرزائی یہ تینوں نام جھوٹے دین کے ہیں جو انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوا۔ 


*دوسرا جھوٹا دین گوہر شاہی ہے:*

انہوں نے البتہ آغاز میں پاکستان کے اندر کام کیا اور اب اس کا نمائیندہ مغربی دنیا میں بیٹھا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ 


تمام عالم اسلام کہ شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے ان دونوں جھوٹے فرقوں نے سب پر  فکری اور نظریاتی اعتقادات یعنی اسلام کے بنیادی اصولوں پر ضرب لگانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ 


*تیسرا جھوٹا دین جمن شاہی ہے:*

یہ ایک خاص مکتب یا گروہ ہے جو پاکستانی شعیوں کے درمیان ہے ۔ بلخصوص یہ لوگ جنوبی پنجاب سے سامنے آئے۔ 


ان تینوں گروہوں میں جو چیز مشترک ہے کہ ان تینوں نے مہدویت کا عنوان غلط استعمال کیا ۔ 


قادیانی اور گوہر شاہی وہ جھوٹے گروہ ہیں کہ جنہوں نے دین کی شکل اخیتار کی اور جھوٹا مھدی  پیش کیا۔  اور جمن شاہی فرقے نے نیابت کے سلسلے میں لوگوں کو کافی گمراہ کیا۔ 

اب ہم ان تینوں پر تفصیلات اور ان کا رد بیان کرتے ہیں۔ 


**قادیانیت کا مختصر تاریخچہ:*🫴*

قادیانیت یا احمدیہ یہ وہ منحرف دین یا فرقہ ہے جو انیسویں صدی کے آخر میں اختراء ہوا۔ ان کو قادیانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے بنانے والے کا تعلق ہندوستان کے ایک دیھات قادیان جو ہندوستان کے پنجاب سے ہے۔ اور اس کو احمدیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے مؤسِس کا نام غلام حیدر ہے۔ اس لیے اسے احمدیہ بھی کہا جاتا ہے۔ 


کذاب احمد قادیانی 1835 میں پیدا ہوا اور 1908 میں واصل جہنم ہوا۔🖐🏼

 شروع میں یہ بعنوان مبلغ اسلام ہندوؤں ، عیسائیوں اور بدھ مت کے لوگوں کے ساتھ باقاعدہ مناظرے کیا کرتا تھا۔  اور1884 تک اس نے چار جلد کتاب بھی لکھی " براہین احمدیہ"

یہاں تک اس کی افعالیت اسلام کے دفاع میں تھی البتہ براہین احمدیہ میں کچھ اشارے مل رہے تھے کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ گمراہی کی راہ پر چل رہا ہے۔  اسی براہین احمدیہ کو لکھنے کے بعد اس نےملہم ہونے کا دعوٰی کیا کہ اس پر الہام ہوتا ہے۔ اور  پھر محدث ہونے کا دعویٰ کیا کہ فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں اورپھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا کہ  دین کے اندر اصلاح اوردین کی  نئے سرے سے تجدید کر رہا ہوں۔ یعنی اس نے تین دعوے کیے

ملہم، محدث اور مجدد


اس زمانے میں لوگ اسے ایک بہت بڑا عالم اسلام سمجھتے تھے تو لوگوں نے اتنی توجہ نہیں کہ اور اس کے عاشق رہے لیکن کچھ عرصے بعد اس نےمسیرِ مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ کہ میں مسیح کی مثل ہوں۔ کیونکہ یہ کہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ہیں اور کچھ عرصے بعد یہ دعویٰ کیا کہ یہ مسیح موعود بھی ہے اور امام مھدیؑ بھی۔ یعنی یہ دونوں ہستیاں ایک ہیں اور اس کی شکل میں جمع ہو چکی ہیں۔ اب جب اس نے اس قسم کے دعوے کیئے تو علمائے اسلام نے اس پر سخت تنقید کی تو پھر اس نے تھوڑی سی عقل نشینی کی اور کہا کہ نہیں میں تو مامور من اللہ ہوں۔ میں تو محدث من اللہ ہوں اور میں تو اللہ کی طرف سے وظیفے کو انجام دے رہا ہوں اور مجھ پر یہ الہام ہیں۔ 


اس کے بعد اس نے کہا کہ یہ نبی امتی ہوں  یعنی پیغمبرؐ اصل نبی ہیں اور میں ان کی امت کا ایک نبی ہوں۔  اور بعد میں اس نے نبی شریعتی کا دعویٰ کیا اور ایک نئی شریعت کا اختراء کیا۔ 


اب جب یہاں تک آن پہنچا علمائے کرام نے اس کے مدمقابل اس کےتمام کذبیہ (جھوٹے) دعووں کو رد کیا اور اس وقت علامہ اقبالؒ جیسی ہستی نے سب سے زیادہ اس فتنے کا مقابلہ کیا اور پیغمبر اسلام کی نبوت کے بعد کسی بھی دعویٰ نبوت کو کفر اور شرک قرار دیا۔ 


*ایک مرتبہ خود علامہ اقبالؒ نے اپنی تقریر کا عنوان بھی یہی قرار دیا کہ:* 

*"اے وہ ہستی پیغمبرؐ کہ آپؐ کے بعد نبوت مفہوم شرک میں بدل گئی" یعنی اب آپ کےبعد اب نبوت کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔* 🌷


*اس حوالے مطالعے کے لیے ایک بہترین کتاب ہے:* 📗

*کتاب علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت مصنف محمد متین خالد ہیں۔* 📙📖


اس کتاب میں اس فتنے کے مدمقابل علامہ اقبالؒ کی جو کوششیں ہیں اس کو بہت خوبصورت انداز سے بیان کیا گیا۔ 

اب یہاں جو قابل توجہ بات ہے کہ جب مرزا احمد قادیانی نے اس طرح کے دعوے کئے تو ہندوستان میں جو استعماری حکومتِ برطانیہ نے اس کی مکمل حمایت کی۔ 


اس لیے اس شخص نے انگلستان کے ساتھ جہاد کو جائز نہیں جانا اور ہمیشہ اس کے ساتھ اس برطانوی حکومت کا شکر گذار رہا اور اس نے ایک کتاب لکھی "حقیقت مھدی" اور اس کتاب میں اس نے دعویٰ کیا کہ:


 *اگر حکومت برطانیہ کی تلوار کا لوگوں پرخوف نہ ہوتا تو لوگ اسے ختم کر دیتے" ۔* 


اس لیے وہ برطانوی حکومت کا ہمیشہ شکر گذار رہا۔ اور یہی برطانیہ اور قادیانیت کا ربط اس کے بعد بھی جاری ہے۔ 


جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ کاذب دین  کا دوسرا خلیفہ بشیر الدین محمود نے  "تحفہ شہزادہ ویلز" کتاب لکھی ہے 

*A Present to this Royal Highness The Prince of Wales📘*

By: Mirza Bashir- ud- Din Mahmud Ahmad🖐🏼😡

اور یہ اس نے جورج پنجم کے لیے یہ کتاب لکھی اور اسے باقاعدہ ہدیہ بھی کی۔ 


علامہ اقبال نے یہاں ایک بہت خوبصورت تبصرہ کیا : 

کہتے ہیں کہ: 


ایران کے اندر جو ایک *فرقہ بابیہ* بنا تھا اور وہ بھی مہدویت کے حوالے سے ایک انحرافی فرقہ تھا اور اس فرقے کی استعمار روس نے سب سے پہلے پشت پناہی کی اور اس کا سب سے پہلا مرکز  اس زمانے میں سویت یونین کے اندر عشق آباد میں تعصیص ہوا۔ 


*دوسرا انحراف یعنی قادیانیت جو پاک و ہند میں شروع ہوا تھا* اس کی پشت پناہی برطانوی استعمار نے کی تھی۔ اس زمانے میں دو استعمار تھے روس اور برطانیہ کہ جنہوں نے اسلام کے اندر انحراف کی پشت پناہی کی۔ 


اس لیے برطانیہ نےاجازت دی کہ قادیانیت کا پہلا مرکز ان کے ملک میں تحصیص ہو۔ 


اب یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی اسلام کے اندر کوئی انحراف شروع ہوا ہے اور اسلامی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو اس دور میں جو بھی عالمی استعمار یا استکبار ہیں انہوں نے فوراً وہاں اپنا کردار ادا کیا۔ 🫴     


*بنی امیہ سے لے کر اب تک یہی صورت حال موجود ہے۔* 

اس حوالے سے ہمارے رہبر معظم رہبر انقلابی اسلام فرماتے ہیں کہ: 

" یہ جو ہمارے دشمن ہیں یہ خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقت رکھتے ہیں۔"


*ہمیشہ پوری تاریخ کے اندر ظالم حکومتوں یعنی طاغوت کی روش یہی رہی ہا اور تا از ظہور ان کی یہی روش رہے گی۔ ظالم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہمیشہ اسلام پر قاری ضرب لگائیں اور اس کے لیے یہ اپنے تمام وسائل سے استفادہ کرتے ہیں۔* 


اب عجیب بات یہ ہے کہ عقیدہ مہدویت در حقیقت ظالموں کے مد مقابل تھا لیکن قادیانیت نے مہدویت کا دعویٰ کر کے اس عقیدے کو ظالموں کی خدمت میں پیش کیا یعنی اس زمانے میں جو برطانیہ کی استعماری حکومت تھی اس کے سامنے پیش کیا۔ 


*رہبر معظم فرماتے ہیں کہ :* ✨🌹

"ہمیشہ ظالموں کے لیے جو رکاوٹ تھی اور ہے وہ عقیدہ مہدویت ہے۔"


اس لیے یہ ظالم حکومتیں اس کوشش میں رہیں کہ ہم کوئی ایسا کام کریں کہ عقیدہ مہدویت لوگوں میں سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اور یہی کام فرانس، انگلینڈ جیسی استعماری حکومتوں نے کیا اور آج استعمار امریکہ کی شکل میں ہے کہ آج بھی اس کی یہی کوشش ہے کہ اگر ہم عقیدہ مہدویت کو کہ جو آج بھی اسلام میں لوگوں میں  رائج ہے اس کو اپنے اختیار میں نہیں لے سکتے تو اس کو لوگوں کے ذہنوں سے زائل کر دیں۔ 


*غلام احمد قادیانی نے  تقریباً 70 کے قریب اردو، عربی اور فارسی میں کتابیں لکھیں اور یہ سب کتابیں روحانی خزائن کے عنوان سے تقریباً ہیں اور تقریباً 22 جلدوں میں ہیں* 📚اور پاکستان میں چھپی۔ اب جب یہ مر گیا تو اس کے بعد اس کے خلیفے شروع ہوگئے۔ 


*اس نے خود اپنے لیے اپنے بعد اوائل اسلام کو دیکھتے ہوئے چار خلیفہ بنائے اور انہیں امیرالمومنین کا لقب دیا۔ 😡*

پہلا *حکیم نور الدین* 🖐🏼:

یہ 1841 کو پیدا ہوا اور 1914 کو واصل جہنم ہوا اور اس کے مرنے کے بعد قادیانی دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ 

ایک *محمد علی قادیانی*🖐🏼 جو کوئی مفسر قرآن تھا ایک گروہ اس کی قیادت میں جدا ہو گیا۔ یہ لوگ احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ فقط مجدد تھا۔  اور دوسرا  گروہ خلیفہ *میزا بشیر الدین محمود*🖐🏼 کہ جو احمد قادیانی کا بیٹا تھا اس کے ساتھ ملحق ہو گئے۔ 


*تیسرا مرزا ناصر احمد ہے* 🖐🏼جو بشیر الدین کا بیٹا ہے ۔ چوتھا *مرزا طاہر احمد* 🖐🏼یہ بھی بشیر الدین کا بیٹا ہے اور پھر پانچواں *مرزا امسرور احمد* 🖐🏼اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ 


گفتگو جاری ہے۔ 


پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم امام زمانہؑ عج کے فکری اور علمی سپاہی بنیں اور اس جیسے فتنوں کا مقابلہ کریں انشاءاللہ۔ 🤲

والسلام۔ 🤲

*تحریر و پیشکش:* ✒️

سعدیہ شہباز۔ 

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌏



*کتابچہ* : 14

موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی

درس دوم

# نکات:  میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوے اور انکے باطل احکام اور انکی ساری دنیا میں فعالیت


#استاد مہدویت محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹



*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

ہماری گفتگو کا موضوع وہ باطل فرقے اور گروہ جو مہدویت سے مربوط ہیں جنہوں نے جھوٹے دعوے کئے اپنے انحرافات دنیا میں پھیلائے اور دین اسلام سے خارج ہوئے۔ 


ہماری گفتگو کا موضوع سب سے پہلے قادیانیت ہے جسے درس اول میں تاریخی اعتبار سے بیان کیا گیا۔ 


*# میرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوے اور انکے باطل احکام اور انکی ساری دنیا میں فعالیت*


*1۔ مہدویت اور عیسیٰ مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ*😡

سب سے پہلے اس نے مہدویت اور عیسیٰ مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا اور یہ واضح  طور پر دعویٰ کیا کرتا تھا کہ میں وہی مہدی ہوں کہ جس کے بارے میں ابن سیرین سے سوال ہوا۔ 

یہ بات اسی کی لکھی ہوئی کتاب *الاستفتاء* 📙میں بیان ہوئی ہے۔ 

یہ کتاب 1897 میں انگلینڈ میں شائع ہوئی ہے ۔ 


اور امام مہدیؑ کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں اور امام مہدیؑ عج کو جو سیدہ فاطمہ زہراؑ سلام اللہ علیہا کی نسل سے بیان کیا گیا ہے یہ ان تمام احادیث کو ضعیف قرار دیتا ہے۔ اوراہلسنت کی کتاب سنن ابن ماجہ اس کے اندر ایک ضعیف حدیث ہے 

*لا المھدی الا عیسیٰ*

یہ اس حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مھدی اور مسیح ایک ہی ہیں اور میں وہ ہوں۔ اور مھدیؑ عج کا اولاد پیغمبرؐ اور اولاد فاطمہ زہراؑ سے ہونا ضعیف ہے اور اتنی ساری صحیح و سند روایات کو یہ ضعیف سمجھتا ہے اور ایک ضعیف روایت سے یہ جھوٹا دعویٰ بناتا ہے کہ اس روایت میں چونکہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہیں تو میں وہی مہدی اور عیسیٰ ہوں۔ 

*استغفراللہ* !😡


اس کے علاوہ یہ بھی کہتا تھا کہ جو علامات مہدیؑ عج احادیث میں بیان ہوئیں ہیں وہ  میرے زمانے پر طتبیق کرتی ہیں یعنی اب وہی زمانہ ہے۔ اور ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی وہ آیات جو شان امام مھدیؑ میں نازل ہوئیں انہیں اس نے اپنے اوپر طتبیق کیا ۔ مثلاً اس کی جو کتاب ہے اعجاز احمدی اس میں واضح طور پر کہتا ہے : 

مثلاً یہ جو آیت ہے : 

سورہ صف : 9

*هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُـدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ* 

وہی تو ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا


اس آیت کو واضح طور پر اپنے اوپر طتبیق کرتا تھا کہ یہ میں ہوں۔ 


اسی طرح میرزا غلام احمد کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ وفات پاچکے ہیں اور وہ نہیں پلٹیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰؑ کی وفات کی خبر دی ہے۔ 


مثلاً سورہ مائدہ کی آیت 117 

*فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْـهِـمْ ۚ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ* 

 پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا پھر تو ہی ان کا نگران تھا، اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔


اس آیت سے وہ یہ دلیل پیش کرتا تھا کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ کی وفات پر دلالت کرتی ہے۔ لہذا اب اس کا یہ دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غلام احمد قادیانی کو یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں اور جس ہستی نے آسمان سے نازل ہونا ہے وہ میں ہوں یعنی غلام احمد قادیانی۔ اور میں لوگوں کے درمیان ہوں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر سرینگر کشمیر میں موجود ہے۔ 

*استغفراللہ* !😡


وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مسلمانوں کا جو حضرت عیسیٰؑ کے نزول پر جو عقیدہ ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ اور وہ ساری احادیث جو حضرت عیسیٰؑ کے پلٹنے کی خبر دیتی ہیں ان کی تاویل کرنی چاہیے کہ یہاں خود عیسیٰ ؑ  مراد نہیں بلکہ ایک شخص شبیہ عیسیٰ مراد ہے اور وہ میں ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یعنی غلام احمد قادیانی کو حضرت عیسیٰؑ کی نیابت اور شبیہ کے طور پر انتخاب کیا ہے تاکہ وہ صلیب جس کی عیسائی لوگ عبادت کرتے ہیں اور اس کی تکریم کرتے ہیں میں اس کو توڑوں اور خنزیر کو بھی ماروں۔ 


بلکہ بعد میں تو یہ شخص خود کو حضرت عیسیٰؑ سے بھی افضل سمجھتا تھا۔ اس کی کتاب *روحانی* *خزائن* اور *الاستفتاء* 📚اس کے اندر یہ ساری باتیں موجود ہیں۔ 

*استغفراللہ* !😡

اب بات فقط یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔ 🫴


*دوسرا دعویٰ نبوت کا کیا:*😡😡

یہ اپنے آپ کو مہدیؑ موعود ، مظہر عیسیٰؑ اور مظہر پیغمبرؐ اکرم بھی سمجھنا شروع کر دیا۔ یہ اس کا ایک نیا دعویٰ تھا کہ مجھ پر ایک فرشتہ وحی لے کر آتا ہے اور میرا وحی کا زمانہ اتنا ہی ہے جتنا رسولؐ خدا  پر زمانہ نزول وحی ہے۔ 

*نعوذ باللہ!*😡


اب یہاں پر جو ایک مسئلہ پیش آنا تھا وہ یہ تھا کہ پیغمبرؐ اکرم خاتم الانبیاؑ ہیں اور ان کے بعد کسی نبیؐ نے نہیں آنا تو یہ خاتمیت کا معنیٰ تبدیل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ : 

یہ جو کہا گیا ہے کہ رسولؐ خدا خاتم الانبیاؑ  ہیں یہاں خاتم سے مراد ہے کہ آپ بالا ترین  مراتب کمال تک پہنچ چکے ہیں یعنی نبوت کے سب سے آخری مرتبے پر۔ یہاں ختم بمعنیٰ  سب سے بلند مرتبے پر پہنچنا ہے نہ کہ خاتم سے مراد ختم ہونا ہے۔ 

*نعوذ باللہ!*😡


پس پیغمبرؐ اسلام کے بعد بھی انبیا کا سلسلہ ہوسکتا ہے۔ پیغمبرؐ سب سے بلند والے مقام پر پہنچے ہیں لیکن بعد والے نبیؐ ان سے نور لیں گے اور ان کے زیر سایہ دین میں اصلاح کریں گے اور وحی بھی جاری رہے گی اور دین بھی آتا رہے گا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک چلے گا۔ 


یعنی کہتا تھا کہ نبیؐ اکرم کے زیر سایہ نبی ہوں اور میرے درجے اور کمال ان کی مانند ہیں  اور جس طرح وہ افضل الانبیاؑ تھے اسی طرح میں بھی تمام انبیاؑ سے افضل ہوں 

*نعوذباللہ!*😡


حتیٰ کہ اس نے ایک اور جگہ جو دعویٰ کیا جو اس کی کتاب حقیقت الوحی میں کہتا ہے کہ : 

سارے نبیؑ میں ہی ہوں۔ میں ہی آدمؑ و شیثؑ ، و نوؑح و اسحؑاق و اسمؑاعیل و یوسؑف و موسیٰؑ ، داوؑد اور عیسیٰؑ ہوں ۔ میں محمدؐ کا مظہر ہوں یعنی میں ہی محؑمد ہوں، میں ہی احؑمد ہوں   

*نعوذ باللہ!*😡


ایسے کذب اس نے کیے ہیں۔ 🖐🏼


کتاب : *روحانی خزائن، القادیانی والقادیانیہ*📚

اب جب یہ جھوٹا قادیانی مذہب بنا تو انہوں نے اپنے احکام بنائے اور کہتے تھے کہ جہاد صدر اسلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں مسلمان کم تھے اور اپنی جان بچانے کے لیے مجبور تھے اس لیے مخالفین کو قتل کرتے تھے لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے اور اب حکم جہاد نہیں ہے۔ اب قلم اور دعوت اسلام کے ساتھ جہاد ہے۔ اور امام مہدیؑ بھی جب ظہور کریں گے تب وہ کفار کے ساتھ تلوار سے نہیں بلکہ فکر اور قلم سے لڑیں گے۔ 


جب یہ فرقہ قادیانی بنا اس وقت انگریز برصغیر پر حاکم تھے۔ اور مسلمان انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے تو یہاں یہ کذاب حکم جہاد کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آج کے دور میں انگریزوں کے خلاف جہاد جائز نہیں ہے وہ فقط صدر اسلام میں تھا۔ 


یعنی یہ کذاب بعنوان مہدی بن کر انگریزوں کی خدمت کر رہا تھا اور مسلمانوں کو جہاد سے روک رہا تھا۔ 


*اس کے علاوہ یہ کذاب یہ بھی کہتا ہے کہ:* 🫴

۔ ▪️ اگر کوئی شخص اس کذاب غلام احمد یا اس کے پیروکاروں کو کافر سمجھتا ہے تو وہ خود کافر ہے 

۔  ▪️وہ مسلمان جو اب تک اس پر ایمان نہیں لائے لیکن ہمیں کافر نہیں کہتے وہ منافق ہیں۔ 

۔ ▪️ کسی بھی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا حرام ہے۔ 

۔▪️ ایسا مسلمان جو احمدی نہیں ہے اس کا جنازہ پڑھنا ممنوع ہے۔ یعنی باقی گویا تمام مسلمان خارج الاسلام ہو گئے اور فقط احمدی ہیں جو مسلمان ہیں۔ 


اب ہم ایک چھوٹی سی نگاہ ڈالیں 🫴 تو یہ عقائد قادیانی دو کتابوں میں ہیں جو روحانی خزائن اور القادیانی والقادیانیہ ہے۔ یہ کتاب دمشق سے عربی زبان میں چھپی ہے اور ان کا ایک میگزین ہے التقویٰ اس کے اندر بھی یہ احکام چھپے ہیں۔ 


*اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس جھوٹے مذہب کی فعالیت کیا ہے؟* 🫴

ایک اگر اجمالی سی نگاہ ڈالیں تو انہوں نے پوری دنیا میں ہزاروں مساجد بنائی ہیں اور اپنےمبلغین جو ان کے جھوٹے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں انہیں پوری دنیا میں بھیج دیا ہے۔ 


اسی طرح سٹلائیٹ کے ذریعے ان کے پروگرامز لندن سے  مختلف زبانوں میںنشر ہوتے ہیں 


بہت سارے میگزینزاور ویب سائٹس ہیں اور ان کی کتابیں ہیں جو کام کر رہی ہیں اور بلآخر ان کے اس تمام عقائد اور انحرافی باتوں کے خلاف بھی الحمد وللہ مسلمانوں نے بہت کام کیا ہے۔ اور اس کے تمام جھوٹے عقائد کو رد کیا ہے یعنی اس کا مہدی و عیسیٰ بننا۔ الہام و وحی کا آنا اور اس کا نبی بننا۔ یہ سب رد کیا گیا ہے۔ 


*یہ ساری چیزیں چونکہ مسلمانوں کے اجماع کے خلاف تھیں لہذا سب مذاہب اسلامی جاہے وہ شیعہ سنی، وھابی ، دیوبندی ، بریلوی سبھی نے ان کو رد کیا ہے۔ اور سیکڑوں کتابیں ، مکالے اور فتوے ہمارے علمائے اسلام نے ان کے خلاف لکھے اور یہ صادر ہوئے۔* ✨



*قادیانی خارج الاسلام ہے اور یہ کافر ہیں اور اس میں کوئ  شک نہیںَ* 🫴



*جاری ہے۔۔۔۔*▪️▪️▪️


پروردگار ہم سب کو ایسے باطل فرقوں اور گروہوں سے بچنے کی اور اپنے امام وقتؑ عج کے حقیقی فکری سرباز ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

آمین۔ 🤲

*الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّکینَ بِوِلایَۃِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْاَئِمَّۃ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ* 🌹🤲


والسلام۔ 

تحریر و پیشکش: 

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌏



کتابچہ 14📖

موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی

درس 5

نکات : میرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا دعویٰ اور علمائے اسلام کا ردعمل


*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹


ہماری گفتگو مکتب قادیانی میں جاری ہے اور عرض کیا تھا کہ میرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے بہت سارے اصولوں پر حملہ کیا تھا۔ 


اس نے پہلے ختم ِنبوت کا انکار کیا اور اسی طرح جہاد کی ممنویت کا غلط فتویٰ صادر کیا اور جس قسم کے اسلام اور فرقے کا وہ بانی تھا وہ صرف اور صرف انگریز استعمار کی خدمت میں تھا اور اس بات کو اس نے اپنی کتابوں میں بہت ہی واضح انداز سے بیان کیا۔ 


*مہدویت پر حملہ:* 🫴

میرزا غلام احمد قادیانی کا ایک بہت بڑا انحراف مہدویت پر حملہ تھا اور جھوٹا مہدی ہونے کا دعویٰ تھا۔ 


یہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے🫴 کہ وہ شخص کہ جس کی بشارت اوائل اسلام میں دی گئی تھی وہ میں ہوں (میرزا غلام  احمد) یعنی یہ وہ شخص ہے وہ آخری مہدیؑ کہ جب اسلام زوال کا شکار ہوگا اور مسلمان گمراہی میں پڑ جائیں گے اور یہ مہدی اللہ سے براہ راست ہدایت لے گا اور انسانوں کے لیے نئے انداز سے دسترخوان الہیٰ بچھائے گا اور جس کی بشارت رسولؐ اللہ نے تیرہ سو سال قبل کی تھی وہ میں ہوں۔ اسطرح اس نے اپنی مہدویت کا جھوٹا دعویٰ 1891 میں کیا۔ 


یہ دعویٰ اس کی کتاب *روحانی خزائن* میں موجود ہے۔ 📚

پھر اس نے قرآن مجید کی آیہ مھدویہ

*هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ(9*

وہی تو ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے، اگرچہ مشرک نا پسند کریں۔

سورہ الصف 9

*میرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کو اپنے اوپر تطبیق دی ہے۔* 😡


اب یہاں ہمارے جو علمائے اسلام ہیں  چاہے وہ سنی ہیں یا شیعہ سب نے اس کے اس جھوٹے دعوے کو رد کیا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس جو سنی اور شیعہ مکتب میں جواحادیث ہیں ان میں امام مھدیؑ کی علامات ہیں۔ اور اس شخص میں ان میں سے کوئی علامت موجود نہ تھی۔ 


رسولؐ اللہ نے امام مھدیؑ کے بارے میں جو  پیشن گوئی  فرمائی تھی اور یہ پیشن گوئی ایک معجزہ ہے۔ یہ ساری پیشن گوئیاں ہمیں جھوٹے مہدیوں سے بچانے والی ہیں۔ چونکہ جب وہ علامات اور پیشن گوئیاں جو رسولؐ اللہ نے بتائیں ہیں اور وہ اس کے اندر نہیں ہیں تو نعوذ باللہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسولؐ اللہ کی بات جھوٹی تھی۔ بلکہ یہ شخص جھوٹا تھا۔ 🫴


*اگر ہم شیعہ سنی کتابوں میں مشترکہ چیز دیکھیں تو چند چیزیں ہمارے لیے واضح ہیں۔*


1۔ ▪️امام مھدیؑ عج رسولؐ اللہ کی عترت میں سے ہیں اور سیدہ فاطمہ زہراؑ کی نسل سے ہیں اور میرزا غلام احمد قادیانی میں یہ چیز نہیں تھی۔ 


2۔ ▪️امام مھدیؑ عج خلیفہ خدا ہیں اور پوری زمین کے حاکم بنیں گے۔ اور یہ شخص قادیان میں ہی مر گیا اور ایک چھوٹے سے شہر کی حکومت بھی اس کے پاس نہ تھی کجا پوری زمین کی حکومت۔


3۔▪️ امام مھدیؑ عج زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور ظلم و ستم کو ختم کریں گے۔ اور یہ شخص وہ تھا کہ جو ظالمین کا خدمتگار تھا۔ استعماری حکومت برطانیہ کی خدمت کرتا رہا۔ 


4۔▪️ امام مھدیؑ عج کے ظہور کی حتمی علامات کہ جن میں ندائے آسمانی ہے سفیانی کا خروج ہے ایسی کوئی علامات اس شخص میں نہ تھیں۔ 


5۔ ▪️امام مھدیؑ عج نصارا سے جنگ کریں گے جبکہ یہ شخص ان کی خدمت کرتا رہا اور ان کی شان میں کتابیں لکھتا رہا۔ اور ان کا شکرگزار رہا


6۔ ▪️امام مھدیؑ عج کے دور میں دجال ظاہر ہوا اور یہ شخص بذات خود ایک فتنہ بنا رہا۔ 


7۔ ▪️حضرت عیسیٰؑ نازل ہونگے اور امام مھدیؑ عج کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔ اور یہ شخص وہ کذاب ہے جو خود کو مھدی اور عیسیٰ دونوں کہتا تھا۔ 


8۔ ▪️ امام مھدیؑ عج جب ظہور فرمائیں گے تو چالیس سال تک زمین پر رہیں گے۔ دوسرے الفاظ میں امام مھدیؑ جب خروج کریں گے تو چالیس سال کے سن میں ظہور کریں گے۔ اور یہ شخص کہ جب اس نے مھدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اس کی عمر اس حدیث کی مطابقت نہیں رکھتی تھی۔  


تو کسی بھی علامت اور صفت نے یہاں تحقق پیدا نہیں کیا کہ جو شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود ہیں۔ لیکن اس نے انگلیسی استعمار کی پشت پناہی سے کہ جو اس کو بچا رہے تھے اس طرح مسلسل جھوٹے وحی اور الہام کے دعوے کرتا رہا کہ آخرکار کچھ سادہ لوح لوگ گمراہ ہوگئے۔  اب وہ خود گمراہ ہوئے یا اس کے پیچھے کوئی اور شیطانی علامات تھیں۔ آخرکار یہ فرقہ زالہ بنا کہ جس کو علمائے اسلام نے خارج السلام قرار دیا۔ 


*یہاں اہلسنت کی ایک بڑی مشہور شخصیت کہ جس کو مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی بیان فرماتے ہیں کہ:*

یہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قیامت کی جو علامات ہیں کہ جن کی خبر صادقؑ  یعنی پیغمبرؐ اکرمؔ نے دی وہ حق ہیں اور اس میں کسی بھی قسم کے اختلاف کا احتمال نہیں۔ 📚


*جیسے مغرب سے طلوع آفتاب ہونا ، امام مھدیؑ عج کا ظہور، روح اللہ حضرت عیسیٰؑ ابن مریمؑ کا نزول، دجال کا خروج، یاجوج ماجوج کا ظہور، دابتہ الارض کا خروج اور آسمان سے ایک دھوئیں کا نکلنا اور لوگوں پر عذاب کا ہونا اور لوگ اضطراب میں آئیں گے اور کہیں گے کہ پروردگار اس عذاب کو ہم سے دور کر اور اسی طرح عدن سے نکلنے والی آگ ہے۔* ✨


*اس کے بعد جناب سرہندی صاحب فرماتے ہیں کہ:*✨

ہمارا یہ معاشرہ اپنی بے وقوفی سے یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ جو شخص ہے کہ جو ہندوستان سے ہے اور جس نے مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے یہ شائد وہی مھدی موعود ہے۔ اب یہ شخص جو یہ دعویٰ کر چکا ہے اور اب مر چکا ہے آیا یہ وہی شخص ہے کہ جس کا صحاح ستہ کی احادیث کےاندر ذکر ہوا ہے؟ اور یہ احادیث تواتر معنی تک پہنچی ہیں اور ہمارے پیغمبرؐ نے جو علامات مھدیؑ بیان کی ہیں اس کے اندر یہ ساری علامات موجود نہ تھیں ۔ 


پھر فرماتے ہیں کہ جب امام مھدیؑ عج ظہور فرمائیں گے تو ان کے سر پر ایک بادل کا ٹکڑا ہو گا جو تمام لوگوں کو آواز دے گا کہ یہ مہدیؑ عج ہیں اور ان کی اطاعت کرو۔ اور مہدی ساری زمین پر حاکم ہونگے ۔ اور اس سے پہلے پوری زمین پر چار حاکم تھے۔ دو مومن اور دو کافر۔ یعنی ذوالقرنینؑ اور سلیمان مومن تھے جنہوں نے پوری زمین پر حکومت کی اور نمرود اور بخت نصر کافر تھے۔ 🫴


*اور رسولؐ اکرم فرماتے ہیں کہ:* 🌷

کہ پانچواں شخص میرے اہلبیتؑ میں سے ہے۔  میرا بیٹا مہدیؑ ہے اور جس کا نام میرے نام جیسا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام جیسا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔ اور پھر حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اصحاب کہف امام مہدیؑ عج کے انصار ہونگے اور حضرت عیسیٰؑ ان کے زمانے میں نزول کریں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور دجال کے قتل میں امام مہدیؑ عج کی مدد کریں گے۔ اور ان کی حکومت میں ماہ رمضان چودھویں کو سورج گرہن لگے گا اور اسی ماہ کے آغازمیں چاند گرہن ہوگا۔  اور یہ قوانین کے خلاف ہیں۔ 


اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی علامات تھیں کہ جن کو نبیؐ صادقؔ نے ارشاد فرمایا تھا۔ 🌷اس حوالے سے ایک رسالہ بھی لکھا گیا ہےاور اسمیں امام  مھدیؑ منتظر کی دو سو کے قریب علامات لکھیں ہیں۔ اور یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے کہ اتنی بڑی علامات کے باوجود کوئی شخص اس کذاب کو مہدی سمجھے ار ذلالت اور گمراہی میں پڑ جائے۔ 


*یہ تجزیہ جناب سرہندی کی کتاب مکتوب امام ربانی دفتر دوم میں لکھا ہوا ہے۔* 📚


یہاں اہلسنت کی ایک بہت بڑی شخصیت کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قادیانی نے جو یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا یہ جھوٹ اتنا واضح تھا کہ اس زمانے کے شیعہ سنی تمام علمائے کرام نے اس کو رد کیا اور آج تک رد کر رہے ہیںَ 


*اور تعجب کی بات ہے کہ جب اس میں ایک بھی صفت موجود نہیں تو پھر کیوں اتنی بڑی تعداد میں یہ گمراہ لوگ اس کے تابع ہیں اور اس نظریے کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں انسان اتنی نعمات الہیٰ کو دیکھنے کے باوجود اللہ کا ناشکرا بنتا ہے۔ اور دین حق اور راہ حق سے کیوں اور کسیے گمراہی کی جانب آجاتا ہے۔ اب یہ جہالت ہے، ہوائےنفس ہے یا پھر استعمار کی سازشیں ہیں۔ جو بھی ہیں ان کا راہ حل موجود ہے اور اسی لیے حکم ہے کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کریں۔ اپنے دینی مطالعے کے لیے وقت نکالیں۔ کیونکہ ہمارے قلب مانند شکم ہیں اگر انہیں حقائق سے نہ بھرا جائے پھر یہ ذلالتیں اور گمراہی میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔* 🫴


اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم راہ حق پر چلیں اور اپنے امام وقت ؑ کی معرفت حاصل کریں اور ان کے خدمت گذار ناصر بنیں۔ 


والسلام🤲

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز 

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌏



*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*


*⚪ موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*

 

⬅️ *# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی*


🔘 *درس 5*


🌼 *# نکات : مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا دعویٰ اور علماء اسلام کا ردعمل*



✍️ہماری گفتگو مکتبِ قادیانیت میں جاری ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے بہت سارے اصولوں پر حملہ کیا، ختمِ نبوت کا انکار کیا ،جہاد کی ممنوعیت کا غلط فتویٰ صادر کیا اور وہ جس قسم کے اسلام کا یا جس قسم کے فرقے کا وہ بانی تھا وہ صرف اور صرف انگریز استعمار کی خدمت میں تھا،  اور اس بات کو اُس نے اپنی کتابوں میں بہت ہی واضح انداز سے بیان کیا ۔ 



💠 *مہدویت کے عقیدے پر حملہ* 

ایک بہت بڑا انحراف اس شخص کا مہدویت کے عقیدے پر حملہ اور اپنا جھوٹا مہدویت کا دعویٰ ـــــــــ 


یہ اپنی کتاب میں لکھتا ھے کہ 

"کہ وہ شخص جس کی بشارت اوائلِ اسلام میں دی گئی تھی وہ میں ہوں"

یعنی وہ آخری مہدی کہ جب اسلام زوال کا شکار ہوگا اور مسلمان گمراہی میں پڑ جائیں گے اور یہ مہدی اللہ سے براہ راست ھدایت لے گا اور انسانوں کے لیے نئے انداز سے دسترخوانِ الٰہی بچھائے گا اور رسول اللہ ص نے اُس کی 1300 سال قبل بشارت دی تھی وہ میں ہوں ۔ اپنی مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور یہ دعویٰ اس نے 1891 میں کیا ۔ 


اُس کی کتاب *روحانی خزائن* کے اندر یہ دعویٰ موجود ہے۔ 


⬅️پھر اُس نے آیہ مہدویت قرآن مجید میں جو ھے کہ ۔۔۔۔ 


 *ھُوَالَ٘ذِی اَرْسَلَا رَسُو٘لَہٗ* 

اس مشہور آیت کو اپنے اوپر تطبیق دیا۔ 


 🌺 *علمائے اسلام کا ردِ عمل* 

اب یہاں ہمارے جو علماء ہیں چاہے وہ شیعہ ھو یا سنی سب نے اُس کے جھوٹے دعوے کو رد کیا، کیونکہ ہمارے پاس جو احادیث ہیں وہ چاہے شیعہ کتابوں میں یا سنی کتابوں میں اس کے اندر امام مہدی علیہ السلام کی علامات اور صفات ہیں ۔ ان میں سے کوئی صفت اس شخص میں موجود نہیں تھی اور نہ کوئی علامت ۔


رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی ع کے بارے میں جو پیشنگوئی فرمائی تھی اور یہ پیشنگوئی خود ایک معجزہ ہے ۔ یہ ساری پیشگوئیاں ہمیں سارے جھوٹے مہدویوں سے بچائے والی ہے ۔ چونکہ جب وہ پیشنگوئی ، علامات اور صفات رسول اللہ ( ص) نے بتائیں وہ جب اس کے اندر موجود نہیں ہیں تو نعوذباللہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات جھوٹ تھی بلکہ یہ جھوٹا تھا۔ 


مثلاً شیعہ سنی کتابوں میں اگر ہم مشترکہ طور پر دیکھیں تو چند چیزیں ہمارے لیے واضح ہیں ۔ 

1ـ پہلی چیز یہ کہ امام مہدی ع رسولِ خدا (ص) کی عترت سے اور  بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نسل سے ہیں۔ 


2ـ دوسری چیز یہ کہ امام مہدی ع خلیفہ خدا ہے اور پوری زمین کے حاکم بنیں گے۔ یہ شخص قادیان میں اسی طرح مر گیا ہے ایک چھوٹے سے شہر کی حکومت اس کے پاس نہیں ہے کجا پوری زمین کی۔ 


3ـ تیسری چیز یہ کہ امام مہدی ع زمین کو عدل وانصاف سے بھریں گے، ظلم و ستم کو ختم کریں گے۔ تو اب اس شخص کی حالت دیکھ لیں کہاں زمین کو اس نے عدل و انصاف سے بھرا ہے یہ تو ظالموں کی خدمت کرتا رہا۔ 


4ـ چوتھی چیز یہ ھے کہ امام مہدی ع کی علامات میں سے ایک سفیانی کا خروج ، آسمانی آواز لیکن اب یہاں کوئی بھی علامت موجود نہیں ہے ۔ 


5ـ پانچویں چیز یہ کہ امام مہدی ع نصاریٰ سے مسیحوں سے جنگ کریں گے لیکن یہ مسیحوں کی خدمت کرتا رہا۔ اور اُن کی شان میں کتابیں لکھتا رہا اور ان کا شکریہ ادا کرتا رہا ۔ 


6ـ چھٹی چیز یہ کہ امام مہدی ع کے زمانے میں فتنہ دجال ظاہر ھوگا۔ اب یہ بذاتِ خود دجال بنا ہوا تھا اسلام کے خلاف کوئی فتنہ ظاہر ہی نہیں ہوا اس کے علاؤہ ۔ 


7ـ ساتویں چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونگے اور امام مہدی ع کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے ۔ اب اس نے خود ہی مہدی اور عیسیٰ کا اکٹھا دعویٰ کیا ہوا تھا۔ اتنا تضاد ہے۔


8ـ آٹھویں چیز یہ کہ امام مہدی ع جب خروج کریں گے چالیس سال تک زمین پر رہیں گے۔ دوسرے لفظوں میں امام مہدی ع جب خروج کریں گے چالیس سال کے سن (عمر ) میں ظہور کریں گے۔ 


اب اس شخص نے جب یہ جھوٹا دعویٰ کیا اس کی عمر اس حدیث کے مطابق مطابقت نہیں کرتی۔ تو کوئی بھی علامت یا صفت یہاں تحقق پیدا نہیں کرتی جو شیعہ سنی کتابوں میں موجود یے۔ لیکن اس نے استعمار کی پشت پناہی سے کہ وہی اس کو بچا رہے تھے اس طرح مسلسل جھوٹے دعوے کرتا رہا اور الہام اور وحی کی باتیں کرتا رہا کہ کچھ سادہ لوگ گمراہ ہوئے۔ اب وہ خود گمراہ ہوئے یا پیچھے کوئی اور شیطانی کام بھی تھے لیکن آہستہ آہستہ بالآخر یہ فرقہ ایسا فرقہ بنا کہ جس کو عالم اسلام نے خارج الاسلام قرار دیا۔ 


⏺️میں یہاں اہل سنت کی ایک بہت مشہور شخصیت مجدد، شیخ احمد سرہندی کی بات کو آپ کی خدمت میں بیان کرتا ہوں۔ تاکہ اس سے پتہ چلے کہ اس کے مدمقابل  کس طرح شیعہ سنی علماء نے سٹینڈ لیا اور اس شخص کو باطل قرار دیا اور اس کے جتنے بھی دعوے ہیں وہ سارے کذب (جھوٹ) پر مبنی تھے ۔ یہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔قیامت کی جو علامات ہیں کہ جس کی خبر صادق  یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہیں وہ حق ہیں اور اس میں تھوڑا سا بھی اختلاف کا احتمال نہیں ۔


🔘جیسے مغرب سے طلوع آفتاب ہے ، جو کہ خلافِ روٹین ہوگا۔ 


🔘اور امام مہدی ع کا ظہور اور روح اللہ عیسیٰ ابنِ مریم ع کا ظہور 


🔘دجال کا خروج 


🔘یاجوج ، ماجوج کا ظہور 


🔘 دابتہ الارض  کا خروج 


🔘 آسمان سے ایک دھویں کا نکلنا اور پوری دنیا میں پھیل جانا۔ اور لوگوں کو عذاب ہوگا لوگ اس طرح اضطراب میں آئیں گے اور کہیں گے یا اللہ اس عذاب کو ہم سے دور کر ۔ 


🔘اور اسی طرح ایک عدن سے نکلنے والی آگ ۔ 


اس کے بعد جناب سرہندی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارا یہ معاشرہ بیوقوفی سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ جس شخص نے مہدویت کا دعویٰ کیا ہے جو کہ ہندوستان سے ہے یہ شاید وہی مہدی موعود ہے۔ اب یہ شخص جو یہ دعویٰ کرچکا ھے اور خود فوت بھی ہوگیا ہے آیا یہ وہی شخص ہے ؟؟؟ جس کا صحاح ستہ کی احادیث کے اندر ذکر ہوا ہے اور یہ احادیث تواترِ معنوی تک پہنچی ہیں ۔ اور ہمارے پیغمبر نے جو امام مہدی ع کی علامات بیان کی ہیں آیا یہ علامت اس میں تھی ؟؟؟ اس میں تو کوئی علامت موجود نہیں تھی ، ساری علامت یہاں مفقود ہیں۔ 


پھر لکھتے ہیں کہ احادیثِ نبوی میں تو یہ آیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام جب ظہور کریں گے اُن کے سر پر ایک بادل کا ٹکڑا ہوگا۔ اور اس بادل کے ٹکڑے میں ایک فرشتہ ہوگا جو لوگوں کو آواز دے گا یہ مہدی ع ہے اس کی اطاعت کرو۔ اور یہ مہدی ع پوری زمین پر حاکم ہونگے چونکہ اس سے پہلے پوری زمین پر چار حاکم تھے دو مومن اور دو کافر ۔ ذوالقرنین اور سلیمان مومن تھے جنہوں نے پوری زمین پر حکومت کی اور نمرود اور بخت نصر یہ کافر تھے۔ 


رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پانچواں شخص میری اہل بیت ع میں سے ہے ، 

یعنی ۔۔۔۔۔ 

 ((میرا بیٹا مہدی ع ھے اور جس کا نام میرے نام جیسا ، جس کا باپ میرے باپ کے نام جیسا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا جیسے کہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو۔)) 


 *اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ـــــــــــــ*

(( اصحابِ کہف امام مہدی ع کے اصحاب و انصار ہونگے جو حضرت عیسیٰ ان کے زمانے میں  نزول کریں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور عیسیٰ ع امام مہدی ع کی دجال کے قتل میں مدد کریں گے۔ اور اُن کی سلطنت حکومت میں ماہ رمضان کی چودھویں کو سورج گرہن لگے گا اور اسی ماہ کے شروع میں چاند گرہن لگے گا اور یہ روٹین کے خلاف ہے۔ 


اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ یہ علامات اس مردہ شخص یعنی قادیانی جو مر چکا ہے اس میں تھیں یا نہیں ۔ اس کے علاؤہ اور بھی بہت ساری علامت ہیں کہ جس کو نبی صادق علیہ السّلام نے فرمایا تھا اور اس علامات کے حوالے سے شیخ ابن حجر۔۔۔ نے ایک رسالہ بھی لکھا ہے اور اس میں امام مہدی منتظر  کی 200 علامات لکھی ہیں اور  یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے کہ اتنی واضح علامت کے باوجود کوئی شخص اس شخص کو مہدی سمجھے اور ضلالت اور گمراہی میں پڑ جائے۔ یہ ان کی کتاب "مکتوب امامِ ربانی دفترِ دوم"اس میں جناب سرہندی کا یہ تجزیہ لکھا ہوا ہے۔ 

اب یہ تجزیہ اہل سنت کی ایک بہت بڑی شخصیت کا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قادیانی نے جو جھوٹا دعویٰ کیا تھا یہ جھوٹ اتنا واضح تھا کہ اُس زمانے کے تمام شیعہ سنی علماء اس کو رد کر رہے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ کوئی ایک بھی علامت اور صفت اس میں موجود نہیں ہے پھر بھی پتہ نہیں کیوں اتنی بڑی تعداد میں یہ گمراہ لوگ اس کے تابع ہیں اور اس نظریے کی پیروی کررہے ہیں ۔ 


👆👆اس سے پتہ چلتا ھے کہ انسان کیوں اتنی زیادہ نعمات دیکھنے کے باوجود خدا کا ناشکرا بنتا ہے اور دین حق اور راہ حق سے کیوں اور کیسے گمراہی کی طرف آجاتا ہے۔ اب یہ جہالت ہے یا ہوائے نفس ہے یا استعمار کی سازشیں ہیں جو بھی ہیں ان کا رائے حل موجود ہے۔ اسی لیے حکم ہے کہ اپنے زمانے کے امام ع کی معرفت حاصل کریں اور دین کو پڑھیں دین کے لیے ٹائم نکالیں اپنے مطالعے کو بڑھائیں کیونکہ ہمارے ذہن اور قلب شکم کی مانند ہیں اگر انہیں حقائق سے نہ بھرا جائے تو پھر یہ ضلاتیں اور گمراہی اُس میں آنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ 


🤲🤲اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم راہِ حق پر چلیں اور اپنے وقت کے امام ع کی معرفت حاصل کریں اور ان کے خدمت گزار ناصر بنیں ۔ 



🤲 *التماسِ دعا* 

 *استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 

 *عالمی مرکز مہدویت قم*


کتابچہ 14📖

موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی

درس 6

# نکات: میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے عقیدہ مہدویت کا انکار و تخریب ،ریبر معظم کی نگاہ میں ہمارا وظیفہ


*#استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹


قادیانیت ایک گمراہ دین ہے اور انہوں نے اصل اسلام، ختم نبوت، عقیدہ نبوت اور مہدویت پر جو قاری ضربیں لگائیں اور اسے تخریب کیا اور اس سے انکار کیا اس پر ہماری گفتگو جاری ہے۔ 


ان لوگوں کی جانب سے عقیدہ مہدویت کے حوالے سے جو ایک بہت بڑا انحراف سامنے آیا وہ میرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا امام مہدیؑ کے حوالے سے اپنی جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کرنا تھا اور نہ کہ فقط اس نے مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا بلکہ مہدویت کا انکار بھی کیا اور اس کو تخریب بھی کیا یعنی اس کی بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنے کی اس نے مذموم کوشش بھی کی۔ 


**جب اس نے شروع میں یہ دعویٰ کیا کہ میں ہی مہدی اور عیسیٰ ہوں اور پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کرنا شروع کیا اور پھر وحی الہیٰ کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ اب یہاں اس کے مدمقابل عالم اسلام کے بزرگ تمام شیعہ سنی علماء کرام نےاس کو کذاب کہا اور اس کی تکفیر کی۔*🫴*  


مثلاً بعنوان مثال گذشتہ درس میں اہلسنت کی ایک بہت بڑی شخصیت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی کا ذکر کیا تھا۔ اور آج جس شخصیت کا ذکر کرنا ہے وہ علامہ یوسف لدھیانوی ہیں۔ 


*علامہ یوسف لدھیانوی* اس کے اس جھوٹے دعوے کے بارے میں اپنی کتاب تحفہ قادیانیت میں بیان فرماتے ہیں کہ: 🫴


غلام احمد نے مہدویت کا دعویٰ کیا۔ عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور ساتھ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹا مہدی ہے اور اس نے اصل مہدویت پر ضرب لگائی ہے۔ کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جب امام مہدیؑ ظہور کریں گے تو وہ نبوت کا دعویٰ نہیں کریں گے اور یہ شخص جو مہدویت اور نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ کذاب ہے اور عقیدہ مہدویت کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ 


اور یہ بات درست ہے کیونکہ عقیدہ مہدویت کے حوالے سے غلام احمد کی جو باطل آراء سامنے آئیں ہیں اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ان قرآنی آیات اور احادیث مہدویت  کا کتنا بڑا دشمن تھا اور اس کے مدمقابل اپنےباطل دعوے پر کتنا اصرار کرتا تھا۔ 


*نکات* : 

*کشف لغطاء  (روحانی خزائن)*📚

۔۔ جب اس نے خود اپنی جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کیا اور جب علمائے کرام نے اس کو کذاب کہا تو اس نے پھر کہا


*۔   اصل مہدیؑ ہیں ہی نہیں اور یہ فقط ایک افسانہ ہے*😡

۔  آپ اس بات پر توجہ رکھیں کہ اسلام کے تمام قدیم فرقے ایک ایسے مہدیؑ کے منتظر ہیں کہ جو کہ مادر حسینؑ سیدہ فاطمہ زہراؑ کی نسل سے ایک مہدیؑ دنیا میں آئے گا۔ اور اسی طرح ایک عیسیٰؑ کے منتظر ہیں کہ جو اس مہدیؑ کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جنگ کرے گا۔ 


یہا ں تک لکھنے کے بعد وہ آگے یہ بات لکھتا ہے کہ: 🖊️

یہاں پر میں تاکید کروں گا کہ یہ سارے فضول خیالات ہیں اور باطل اور جھوٹ ہے *نعوذ باللہ* !😡


اور جو یہ خیالات رکھتے ہیں وہ سختی میں ہیں کیونکہ یہ مہدیؑ خیالی ہے اور  اس مہدی کے حوالے سے مسلمانوں کو جہالت اور دھوکہ دیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے اولاد فاطمہؑ سے کوئ مہدی نہیں آئے گا اور اس حوالے سے ساری احادیث جعلی ہیں۔ *نعوذ باللہ* !😡


اور یہ ساری جعلیاحادیث عباسی حکومت کے دوران بنائی گئیں۔ یعنی اس نے مہدویت کا انکار ہی کر دیا اور تمام متواتر اور صحیح احادیث کو اس نے جعالی قرار دیا۔ 


*کتاب البریہ (روحانی خزائن)*📚

یہ اپنی کتاب "کتاب البریہ (روحانی خزائن) میں لکھتا ہے کہ: 

میں کسی خونی مہدی کا عقیدہ نہیں رکھتا :


لکھتا ہے کہ یہ درست ہے کہ میں خاندان بنی ہاشم قریش میں سے کسی خونی مہدیؑ کا عقیدہ نہیں رکھتا کہ جو کہ دیگر مکاتب اسلام کی رو سے فرزند فاطمہؑ ہوگا اور جب ظاہر ہوگا تو زمین کو کفار کے خون سے پُر کرے گا اور یہ تمام احادیث صحیح نہیں اور تمام کتاب کو فضول میں ان احادیث سے بھرا ہوا ہے۔ 

*نعوذباللہ!*😡


اور میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ جیسے جیسے میرے مرید اور ماننے والے بڑھیں گے تو ہم سب کا یہ عقیدہ ہے کہ جہاد کم ہونا چاہیے۔ اور میری جو مسحیت اور مہدویت ہے وہ درواقع اس مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔ 

*نعوذ باللہ!*😡


پھر اپنی کتاب روحانی خزائن 📚میں ایک اور مقام پر لکھتا ہے کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں وہ مہدی ہوں جو عترت رسولؐ میں سے ہے اور فرزند فاطؑمہ ہےاور یہ احادث جعلی ہیں۔ 


*👈اب یہاں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ فقط جھوٹی مہدویت کا دعویٰ ہی نہیں کرت بلکہ ان امام مہدیؑ کا انکار بھی کرتا ہے کہ جن کا ذکر احادیث میں ہوا ہے یہ ان  احادیث کو بھی جعلی قرار دے رہا ہے۔* 


*اب اس کے پاس نہ تو اپنے جھوٹے مہدی ہونے پر کوئی دلیل ہے اور نہ ہی اصلی امام مہدیؑ  کے عقیدے کے انکار پر کوئی دلیل ہے۔ اور نہ ہی ان احادیث کو جھوٹا کہنے پر اس کے پاس کوئی دلیل ہے🫴 ماسوائے اس کے اپنے الفاظ اور جھوٹے دعووں کے۔* ❌


اب ہمارا یہاں فریضہ یہ ہے کہ قادیانیت کہ جس نے اصل مہدویت کا ہی انکار کیا اور اس میں تخریب کی ہم اس کے مدمقابل متوجہ رہیں اور بصیرت کے ساتھ موضوع امام زمانؑ عج کا مطالعہ کریں اور اس پر کام کریں تاکہ اس قسم کی خرافات اور تخریب کا مقابلہ کر سکیں۔ 🫴


*رہبر معظم انقلاب کا قیمتی فرمان ہے۔* 🌷

*فرماتے ہیں کہ:* ✨

ہمارے جتنے بھی ایسے عقائد ہیں کہ جو ہماری روحانی اور اسلامی زندگی کو بنانے والے ہیں سب پر دشمن حملہ کر رہا ہے۔ اور دشمن ہمارے تمام عقائد اور اسلام کا مطالعہ کرتا ہے انہیں دیکھتا ہے اور کبھی دشمن دسیوں سال کام کرتا ہے کہ اہمار اسلام کے ایک نورانی نقطے کے نور کو کم کرے اور اس کے اندر تاریکی پیدا کرے۔ اور یہ جو ہمارا عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ موعود وہ شخصیت ہیں کہ جو آخری زمانے میں رسولؐ اللہ کے خاندان سے ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور یہ تمام ظلم ختم ہو جائیں گے۔ اس پر دشمن کام کرتا ہے۔ 


*رہبر معظم  فرماتے ہیں کہ:* 🌷

ہمارا یہ وظیفہ ہے کہ ہم بھی دشمنوں کے مدمقابل اس سے بڑھ کر کام کریں۔ اور اس عقیدہ مہدویت پر عمل کریں اور اس  عقیدہ مہدویت کی تبلیغ اور تشریح پر کام کریں اور لوگوں کو حقائق بیان کریں۔ 


اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم ان باطل فرقوں اور دین کے مدمقابل کام کریں دین حق کو بیان کریں اور حقائق کو بیان کریں اور انہیں نشرکریں۔ 🤲


والسلام

تحریر و پیشکش✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌏



کتابچہ: 14📖

موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی

*درس 7*

# نکات : میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہانت ،ریبر معظم کی نگاہ میں ایسے افسانوں کی حقیقت



*استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹


*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*✨✨✨✨✨


ہماری گفتگو کا موضوع ایک باطل مذہب قادیانیت ہے اور اس سلسلے کا آخری درس ہے۔ میرزا غلام احمد قادیانی کذاب سب سے پہلے جھوٹا مہدی اور عیسیٰ مسیح ہونے کا  دعویٰ کیا تھا پھر اس نے ختم نبوت کا انکار کیا اور اس کے بعد اسلام کے بہت سے اصولوں کو تخریب کیا۔ 


اور پھر نبی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ شروع میں *نبی ظلی، نبی مجازی، نبی بروزی* ❓❓جیسے غیر متعارف نامانوس الفاظ اور اصطلاحات اس نے لوگوں میں پیش کیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ نئی کتاب اور نبی کا دعویٰ اور نئے دین کا تعارف کرایا۔ 


*اس کے مدمقابل عالم اسلام کے تمام شیعہ اور سنی علمائے کرام نے اس سے برائت کا اظہار کیا، اس کی تکفیر کی اور اس دین اور اس کے نظریے پر چلنے والوں کو خارج الاسلام قرار دیا۔* 🫴


*ظلی نبی:*😡

کہتا ہے کہ جو کمالات پیغمبرؐ میں ظلی شکل میں موجود ہیں اور چونکہ میں انکا ظل ہوں تو وہ کمالات مجھ میں بھی موجود ہیں۔ اور چونکہ پیغمبرؐ میں یہ کمالات دیگر انبیاؑ سے آئے تھے تو یہ سب میرے اندر بھی ان کی وجہ سے منتقل ہوئے ہیں۔


نعوذ باللہ ! 😡😡 یعنی پیغمبرؐ کی  کوئی اپنی شخصیت نہیں تھی 😭اور انہوں نے یہ کمالات دیگر انبیاءؑ سے بطور ظلی لیے۔ اور ان سے پیغمبرؐ کی ذات میں منعقس ہوئے اور پھر اس شخص میں آتے ہیں۔ یعنی پیغمبرؐ جو گذشتہ انبیاءؑ کا آئینہ ہیں اور یہ پیغمبرؐ کا آئینہ ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب چیز ہے کہ جس کا نہ ہی دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عقل سے کوئی تعلق ہے۔ 


ایک اور بڑی خرابی جو اس شخص کی وجہ سے سامنے آئی کہ اس کذاب نے حضرت عیسیٰؑ کی توہین شروع کر دی۔ حضرت عیسیٰؑ  اولوالعزم پیغمبرؑ، صاحب شریعت ہیں اور دنیا کے جتنے بھی ادیان ہیں سب کے نزدیک قابل احترام ہیں اور خود اسلام میں وہ ایک قابل احترام پیغمبرؑ ہیں اور ہم ان کی نبوت کے اور صاحب انجیل اور صاحب شریعت ہونے کے قائل ہیں۔ 


*اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں اور آسمان چہارم پر ہیں اور جب امام مہدیؑ عج آئیں گے تو وہ نازل ہونگے اور امام مہدیؑ عج کے ناصر بنیں گے۔* ✨✨✨✨✨


اب اس نے چونکہ جھوٹا عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو اس نے حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریمؑ کی توہین شروع کر دی۔ مثلاً *براہین احمدیہ* میں یہ لکھتا ہے کہ: 📚

*" عیسیٰؑ مسیح نے انجیل کو ناقص چھوڑ دیا اور آسمانوں میں جا کر بیٹھ گئے۔ "*

*نعوذ باللہ!*😡


*پھر اعجاز احمدیہ کے اندر لکھتا ہے کہ:* 📚

*عیسیٰؑ کی تین پیشن گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں۔ اور زمین میں کون ہے جو اس جھوٹ کو درست کرے۔* 

*نعوذ باللہ!*😡


*پھر ایک کتاب دافعی البلاء میں لکھتا ہے کہ :* 📚

*عیسیٰؑ اپنے زمانے میں کوئی زیادہ سچا نہیں تھا (نعوذ باللہ)*😡

*یحییٰ نبیؑ کو اس پر فضیلت تھی کیونکہ یحییٰ نبی نہ تو شراب پیتے تھے اور نہ ہی بدکار عورت کے پیسوں سے خوشبو خریدتے تھے اور نہ ہی کسی نامحرم عورت کے ہاتھوں اور بالوں سے  ان کا کوئی لمس ہوا تھا۔* 

*نعوذ باللہ!*😡


یعنی گویا یہ کہنے کا مطلب ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰؑ میں یہ چیزیں تھیں اس طرح اس شخص نے جناب عیسیٰ ؑ کی کتنی توہین کی۔ کہ جن کے بارے میں قرآن کیا کہہ رہا ہے۔ 

قرآن حضرت عیسیٰؑ کو ایک با برکت شخصیت قرار دے رہا ہے۔ 


قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ:

سورہ مریم 31

*وَجَعَلَنِىْ مُبَارَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ ۖ وَاَوْصَانِىْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31)*✨

اور مجھے با برکت بنایا ہے جہاں کہیں ہوں، اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ ہوں۔


قرآن گواہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی زبان مبارک سے کیا کلمات ہیں اور یہ شخص جو ہے وہ کس انداز سے حضرت عیسیٰؑ کی توہین کر رہا ہے اور وہ باتیں کہ جن کا حضرت عیسیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی کسی کتاب میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 


اس حوالے سے م *قام معظم رہبری حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ* 🌷فرماتے ہیں کہ اس نے یہ جتنے بھی افسانے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بنائے ہیں یہ کچھ غربی لوگوں نے بنائے ہیں اور کچھ مشرق کے لوگوں نے بنائے ہیں۔ (یہاں غربی سے مراد لبرل نیٹورک اور مشرق سے مراد یہ فاسد مذاہب)


فرماتے ہیں کہ: 🌷

یہ تمام داستانیں جو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت اور دیگر ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ جو جعلی انجیلیں بنی ہیں یہ اس کے بعد بنا ہے۔ اور یہ جعلی انجیلیں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے 100 یا 150 سال بعد وجود میں آئی ہیں۔ اصلی انجیل تو موجود ہی نہیں۔ 


*خلاصہ* : 🌟

دین قادیانیت میں نہ کہ صرف ایک نئے دین کا دعویٰ کیا گیا بلکہ گذشتہ انبیاءؑ جیسے حضرت عیسیٰؑ پر حملہ کیا اور خود حضرت محمدؑ کی شخصیت کی بھی توہین کی اس لیے ہمارے نزدیک یہ کذاب ہے اور ان کے تمام دعوے باطل ہیں اور ان کی کوئی دلیل نہیں اور اس دین پر چلنے والے پراسلام یا مسلمان ہونا صادر نہیں۔ 


پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو ان گمراہ نظریات سے محفوظ رکھے۔ اور ہمیں علمی فکری اور عملی اعتبار سے دین اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ 

آمین۔ 

والسلام🤲

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران*🌏



*موضوع : جھوٹے انحرافی* *فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ* 

*# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی*

درس 8

# نکات: میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے اصل اسلام اور سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے، آنحضرت ص کے سارے اوصاف و کمالات کو اپنے اندر بیان کرنا، علامہ اقبال رح اور رھبر معظم انقلاب کی رائے


 *استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


ہماری گفتگو کا موضوع یہ باطل فرقے ہیں کہ جو اسلام کے اندر سے اٹھے اور جنہوں نے لوگوں کے اندر گمراہی پھیلائی اور دین سے خارج ہوئے۔ ان میں سے ایک اہم ترین فرقہ میرزائی یا قادیانی فرقہ ہے۔ آج اس موضوع پر آخری گفتگو ہے۔ 


قادیانی فرقے نے دین اسلام کو کافی نقصان پہنچایا۔ ہمارے بہت سارے عقائد پر حملہ ہوا ، شخصیت پیغمبرؐ اور شخصیت عیسیٰؑ پر حملہ ہوا۔ 


میرزا غلام احمد کذاب نے نبیؐ اکرمؔ کے بارے میں عجیب و غریب اصطلاحات رائج کیں جیسے کبھی انہیں پیغمبر ظلی تو کبھی انہیں پیغمبر بیروزی اور کئی قسم کے عجیب و غریب عنوانات رائج کئے۔ 

وہ کذاب کہتا تھا کہ جو کمالات پیغمبرؐ کے اندر موجود ہیں وہ بطور ظلی میرے اندر بھی موجود ہیں اور میں ظل محمد ہوں۔ 

 *نعوذ باللہ!* 


کہتا تھا کہ پیغمبرؐ ظل تمام انبیاؑء ہیں یا مثلاً یہ کہتا تھا کہ پیغمبرؐ ظل ہیں ابراہیمؑ کے۔ اور یہ اس کتابوں میں موجود ہے یعنی نعوذ باللہ یہ پیغمبرؐ کی مستقل شخصیت کا قائل نہیں تھا۔ بلکہ یہ کہتا تھا کہ ابراہیمؑ اصل ہیں اور رسولؐ اللہ ان کا آئینہ۔ 


 *خطبہ الہامیہ:* 

اسی طرح اس نے دعویٰ کذب کیا اور اس کے اندر اس نے اپنا ایک خطبہ الہامیہ بیان کیا۔ 


یہ کہتا ہے کہ حضرت محمدؐ پہلی مرتبہ  دنیا میں مکہ میں آئے اور دوسری مرتبہ  اسی ظلی شکل میں  میرزا غلام مرتضیٰ یعنی اس کے باپ کا نام تھا اس کے گھر میں میرزا غلام احمد کذاب کی شکل میں آئے *نعوذ باللہ* !


اسی لیے قادیانی لوگ اس کو عین محمدؐ عقیدہ رکھتے ہیں اور جو ہمارے پیغمبرؐ کے القابات اور اوصاف ہیں وہ اس کو دیتے ہیں اور میرزا  کو خاتم الانبیا، امام الرسل، رحمت العالمین، صاحب کوثر، صاحب معراج اور صاحب مقام محمود کہتے ہیں۔ 

 *نعوذ باللہ!* 


حتی کہ ان کے عقیدے میں غلام احمد کذاب کی وجہ سے زمین و زمان، کون و مکاں ہے۔ یعنی اسی کی وجہ سے وجود میں آیا اور اسی کی وجہ سے باقی ہے۔ 

نعوذ باللہ!


 *کتاب: فتنہ قادیانیت* 📖

 *مصنف : محمد طاہر عبد الرزاق* 

یہ کتاب عالمی مجلس ختم نبوت کی طرف سے چھپی ہے۔ 


حتی کہ ان کی توہین یہاں تک پہنچی۔ یہ قادیانی کہتے ہیں کہ:


۔  میرزا کا دور رسولؐ اللہ کے زمانے سے بہتر ہے کیونکہ رسولؐ اللہ کا زمانہ روحانیت کی ابتداء تھی اور میرزا کا زمانہ روحانیت کی انتہا ہے۔ 


۔  رسولؐ اللہ کے زمانے میں الہیٰ امداد آتی تھی خدا کی طرف سے مشکلات حل ہوتی تھیں اور میرزا کے زمانے میں برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ 


 پیغمبرؐ کے زمانے میں اسلام پہلی رات کی مانند تھا اور میرزا کے زمانے میں اسلام چودھویں رات کی مانند تھا یعنی مکمل تھا۔ 

 *نعوذباللہ* !


 حتکہ کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ! اس نے نبیؐ اکرم کی اتنی توہین کی کہ بہت سارے اسرار و رموز جو ہمارے پیغمبؐر پر منکشف نہیں ہوئے وہ نعوذباللہ میرزا کذاب پر منکشف ہوگئے۔ *نعوذ باللہ* !


حتی کہ کہ اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر رسولؐ اللہ تک یہ سب سے وعدہ لیا تھا کہ وہ میرزا پر ایمان لائیں۔ نعوذ باللہ! اور جو میرزا کا منکر ہے وہ گویا پیغمبر کا منکر ہے۔ 😡


 *علامہ اقبال رح اور رھبر معظم انقلاب کی رائے* 🌟


 *کتاب علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت* 📖

 *مصنف : محمد متین خالد* 

لکھتے ہیں کہ یہی وہ باتیں تھیں کہ جن کو سن کر علامہ اقبالؒ نے یہ فرمایا: 

"اگر قادیانی یہ تمام باطل اور فاسق عقائد رکھنے کے ساتھ ساتھ اگر مسلمان ہیں تو پھر اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم جو سب مسلمان ہیں وہ غیر مسلم ہیں؟"🫴

 *بس یہاں سے واضح ہوگیا کہ اس قسم کے باطل عقائد  رکھنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔* 


 *پھر علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:* 

میرے نزدیک فتنہ بہائیت ،  قادیانیت سے بہتر تھا ان میں اخلاص زیادہ تھا کیونکہ انہوں نے کھل کر اسلام سے دوری کا اظہار کیا تھا۔ وہ کھل کے اسلام مخالف تھے اور انہوں نے اپنا ایک الگ دین بنا لیا۔ لیکن! قادیانیت نے اپنا ظاہر اسلام رکھا اور اندرونی طور پر وہ غیر مسلم ہیں اور روحِ اسلام کو اور اہداف اسلام کو سب سے زیادہ ضربیں لگائیں۔ 


اب جو کچھ بھی میرزا غلام احمد کذاب نے کہا یا تو اس کو پیغمبر کی شناخت نہیں یا پھر اس کی منافقت ہے یا اسی قادیانی کے پیچھے اس زمانے کی استعماری طاقتیں ہیں یعنی اس زمانے میں برصغیر پر حاکم انگریز سرکار تھے۔  یہ ان کی سازش ہے کہ انہوں نے مکمل طریقے سے اسلام کو نشانہ بنایا ہوا تھا۔ اور اسلام زمینی، دینی  اور معنوی تمام ثروتیں انہوں نے غارت کیں۔ 


 *رہبر معظم اس حوالے سے فرماتے ہیں:* ✨

اس عالمی استعمار کے بارے میں ہمارا جو تجربہ ہے وہ یہ ہے کہ ان کا یہ ہدف ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اسلام سے مکمل طور پر جنگ کریں۔ اور جب سے یہ اہل مغرب جب سے بعنوان استعمار بن کر تقریباً سترھویں یا اٹھارویں صدی میں اسلامی ممالک میں داخل ہوئے ہیں۔ اور مختلف کمپنیوں کی شکل میں یہ اسلامی ممالک میں داخل ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے کلیسے بنائے اور پھر جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے مدمقابل ایک اسلامی معاشرہ  ہے جو ان کے استعماری اہداف کو پورا نہیں ہونے دیتا اس وقت پھر انہوں نے اسلام کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ 


 *فرماتے ہیں کہ:* 

جب انگریز ہندوستان میں تھے تو اس وقت ہندوستان تو گویا انگریز گورنمنٹ کا ایک صوبہ بن چکا تھا۔  انگلستان ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور وہاں سے اٹھ کر دنیا کے اِس جانب یہ آئے اور ایک پورے برصغیر کو انہوں نے اپنے قبضے میں لیا اور اس کے تمام مال پر انہوں نے تصرف کیا اور اس کے ذرے ذرے پر قابض ہوگئے۔ 


 *فرماتے ہیں کہ:* 

یہ ایک بہت ہی غمگین داستان ہے اور اس زمانے میں انہوں نے اپنی استعماری کوششوں سے اتنی بڑی زمین اور اتنے بڑے خطے کو اپنے چھوٹے سے خطے انگلستان کے ساتھ ملحق کیا۔ 


*خلاصہ* : 🌹

 *قادیانیت نے اصل اسلام، شخصیت رسولؐ اللہ، ختم نبوتؐ ، عقیدہ مہدویت اور عقیدہ انبیاؑ سب پر اس نے کاری ضربیں لگائیں ہیں۔  اور علامہ اقبالؒ اور ہمارے تمام شیعہ اور اہلسنت علمائے کرام کا یہ نظریہ ہے کہ یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں۔* 


پروردگار عالم سے یہ دعا ہے کہ ہمیں ایسے تمام فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں تیار کریں اور اپنے امامؑ عج کے فکری مدافع بنیں۔

الہیٰ آمین۔ 🤲

والسلام

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز 

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌏


موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی

درس9

نکات : فرقہ گوھر شاھی اور اسکے بانی کا تعارف ، ریاض گوھر شاھی کے جھوٹے دعوے اور نظریات



*استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہماری گفتگو ان جھوٹے انحرافی مکاتب میں ہورہی ہے کہ جنہوں نے مہدویت کے نام سے دنیا میں شہرت پائی اور گمراہ ہوئے اور بہت سارے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنے۔اس میں سب سے پہلے قادینیت پر تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔


آج سے ہم ایک اور جھوٹا مکتب جو پاکستان سے اٹھا ہے اور اس وقت بھی دنیا میں ان کے گمراہ ماننے والے کافی حد تک موجود ہیں۔  مکتب گوہر شاہی ہے۔ اس مکتب کا جو بانی ہے ریاض احمد گوہر شاہی ، اس نے *1980* میں حیدر آباد میں جھوٹے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔


یہ شخص بذات خود مذہبی اعتبار سے اہل سنت اور بریلوی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے اور صوفی مشہور تھا۔ اسی شخص نے ایک انجمن بنائی تھی کہ جس کا نام *انجمن سرفروشانِ اسلام* تھا ۔  یہ اس کا بانی بھی ہے۔ 


*مہدی فاونڈیشن* (کذاب)

۔ 2001 میں یہ شخص فوت ہو چکا ہے لیکن اس کا نائب یعنی اس مکتب کا دوسرا نفر جو اب سربراہ ہے اس کا نام یونس الگوہرہے۔  اب اس مکتب گوہر شاہی کو آگے بڑھا رہا ہے اور اس نے مہدی فاونڈیشن بھی بنائی ہوئی ہے۔ جو بین الاقوامی سطح پر کام کر رہی ہے اور یہ خود بھی دنیا میں مختلف جگہوں پر آن لائن لکچر دیتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان سے ہٹ کر دنیا کے مختلف ممالک جیسے ہندوستان، عرب امارات، انگلینڈ، امریکہ  میں ہمارے ماننے والے موجود ہیں۔


*ھاتف مہدی اخبار*📰

اسی طرح یہ جو مہدی فاونڈیشن ہے ان کا ایک اخبار بھی ہے ھاتف مہدی اس کو یہ بین الاقوامی سطح پر نشر کرتے ہیں۔ اور یہ رسالہ یا اخبار چھپتا ہے اور بہت ساری سائٹس ہیں جو اس مہدی فاونڈیشن کے زیر نظر کام کر رہی ہیں۔


*ریاض احمد گوہرشاہی:*

*تعارف*

ریاض احمد گوہر شاہی 1941 میں راوپنڈی کے پاس کسی گاؤں میں پیدا ہوتا ہے۔  اور ایک بہت بڑا صوفی گوہر شاہ ہے جس کی نسل سے یہ ہے۔ اوراسی لیے اس نسل کا نام گوہر شاہی مشہور تھا ۔اب جب یہ 24 سال کا ہوا تو اس کا رابطہ  مختلف صوفی اور درویشوں کے ساتھ بڑھا۔ اور مختلف درباروں پر جانا شروع کردیا۔ یعنی مرشد پیری فقیری۔ 


 لیکن! اس کو کوئی اچھا مرشد نہیں ملا کہ جس کے ذریعہ یہ ریاضت کرے۔ اسی دوران اس نے شادی بھی کی  اور اس کے تین بچے بھی پیدا ہوئے ۔ 


*صوفی جُسہ:*

1975 میں  اس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ مجھے جُسہ مل گیا ہے۔ 

صوفیت کی اصطلاح میں جُسہ ایک خاص الہی مقام ہے اور یہ  درویش ، پیرو مرشد اور یہ صوفی لوگ جو ہیں اور ان کا جسہ سے مراد یہ ہوتا ہے کہ " جب انسان اپنے اندر ایک ایسی قوت پیدا کر لے کہ جس سے وہ اپنے اور دیگر لوگوں کے جسموں کے اندر سے شیاطین کو نکال سکے اور اس قوت کے ذریعے انسان مومن اور ولی بن جاتا ہے تو وہ اس قوت کو جُسہ کہتے ہیں۔

 

اس کے بعد *1980* میں اس شخص نے *حیدر آباد اور کوٹری* سے اپنی تبلیغ کا پروگرام شروع کیا اور اس کے مرید کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے اندر جو بری امام ہیں ان کی قبر سے یہ حکم ملا ہے کہ تم اب اپنا کام شروع کرو۔


شروع میں اس خود کو صوفی کے عنوان سے بیان کیا۔ اور اس کے پیروکار یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے امام مہدی ہے اور جب اس کے سامنے بھی کہا جاتا تھا تو اس نے انکار نہیں کیا بلکہ تائید کرتا تھا۔

*استغفراللہ* !


*1999* میں اس کے خلاف شکایت ہوئی کہ یہ اسلام کے خلاف باتیں کر رہا ہے اور باطل دعوے کر رہا ہے اور پھر پاکستان کے مختلف مکاتب کے علماء  کی جانب سے اس کی  تکفیر ہوئی اور اسے کافر ، گمراہ اور ضال (گمراہ کرنے والا) کا لقب ملا اور پھر  جس کے بعد یہ انگلینڈ چلا گیا اور وہاں جا کر اس نے یہ تبلیغی کام شروع کیا اور پھر یورپ اور امریکا میں بھی اس نے سفر کیے۔یہ انگلینڈ میں 25 نومبر *2001* میں فوت ہوگیا اور اس کے پیروکار جو ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ غیبت صغریٰ میں ہے۔ یعنی وہ یہ مانتے ہیں کہ یہ فوت نہیں ہوا بلکہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ ہے۔

*استغفراللہ!*


اب اس شخص کے جسد خاکی کو انگلینڈ سے پاکستان لایا گیا اور کوٹری  کے اندر ان کے مرکزی دفتر انجمن سرفروشان اسلام میں اسے دفن کیا۔


ریاض احمد گوہر شاہی کی کتابیں موجود ہیں ۔👈📚

جیسے :

 📘مینار نور 

روشناس  📙

📗تحفتہ المجالس 

روحانی سفر 📙

📘تریاق قلب 

دین الہیٰ📗


*عقائد اور دعووؑں کی جانب اشارہ:* 🫴

سب سے پہلی بات جو اس کے کتابوں کے مطالعے سے سامنے آئی اور اس کی جو گفتگو یوٹیوب وغیرہ پر موجود ہے  وہ یہ ہے کہ یہ تناسخ کا قائل ہے۔ 


 یعنی مرنے کے بعد روح دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہے جو کہ  ہندوؤں کا عقیدہ ہے 

۔اسی طرح تحریف قرآن کا بھی قائل ہے 

اس کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اسلام صرف تنہا دین نجات نہیں ہے بلکہ اگر آپ روحانیت ، صوفیت اس کو سمجھ لیں تو آپ صوفی بن جائیں تو چاہے آپ جس مذہب کے بھی ہوں آپ جہنم میں داخل نہیں ہونگے ۔ ہر مذہب کا روحانی، بانی  ہے وہ جنت میں جائے گا۔

اسی طرح اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا 

اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نے عیسیٰ مسیح کو امریکہ میں دیکھا ہے

 یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نے رسولؐ اللہ سے بلمشافہ ملاقات کی ہے اور انہوں ؐ نے جو کچھ مجھے کہا ہے میں وہ لوگوں کو بیان کر رہا ہوں ۔

*نعوذ باللہ!*


*پیشن گوئیاں:*

*پاکستان مکمل کب ہوگا۔* 

1998 میں پاکستان کے مشہور منجم تھے جن کا نام غازی منجم ہے۔ انہوں نے اس کا انٹرویو لیا جس میں اس نے پیشن گوئیاں کئیں وہ یہ تھیں کہ پاکستان اصل میں امام مہدیؑ عج کے لیے بنا ہے اور جب وہ آئیں گے تو اسے مکمل کریں گے۔ اور یہ کہ امام مہدیؑ ابھی موجود ہیں اور ان کے پاس ابھی باطنی امور ہیں۔ اور جب ان کے ہاتھ میں ظاہری امور آئیں گےتو پاکستان مکمل ہو جائے گا لیکن ابھی یہ نامکمل ہے۔ 


کہا کہ دو یا چار سال بعد ایسا ہوگا پاکستان مکمل ہو جائے گا اور پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ یعنی اس نے یہ پیشن گوئی 1998 میں کی تھی۔ 



*قیامت کب برپا ہوگی:*

اس نے1998 میں  کہا کہ پچیس یا چھبیس سال بعد ایک سیارہ زمین سے ٹکرئے گا اور قیامت پرپا ہو جائے گا۔


*تیسری جنگ عظیم:*

اور تیسری پیشن گوئی یہ کی کہ دنیا کی تیسری جنگ عظیم عراق سے شروع ہو گی ۔


*یہ ان کی پیش گوئیا ں ہیں جو ویب سائٹ اور خود انجمن سرفروشان اسلام کی ویب سائٹ پر یہ انٹرویو موجود ہے۔ اور اس کے دعوے اور اس کی کتاب دین الہیٰ کی پی ڈی ایف  اور اس کی تقاریر انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔* 🫴


*دارلعلوم* کی ویب سائٹ اس میں باقاعدہ ایک *ماہنامہ* ہے کہ جس پہ عبدالغنی صاحب نے فرقہ گوہر شاہی پر کافی کام کیا ہے۔ 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔


پروردگار عالم سے دعا ہے کہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم مولاؑ عج کے سچے پیروکار اور فکری سپاہی بنیں تاکہ اس قسم کے جھوٹے مکاتب کا مقابلہ کریں۔ 

*انشاءاللہ* !🤲


والسلام۔

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران* 🌏



موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی

درس10

نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات ، تحریف قرآن ، عقیدہ تناسخ، دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا ، انبیاء کی توہین، امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ اور عجیب دلائل



*#استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


*ہماری گفتگو کا موضوع فتنہ گوہر شاہی ہے۔* 

اس فتنے کا بانی ریاض گوہر شاہی ہے۔ گذشتہ درس میں اس حوالے سے کچھ نکات بیان ہوئے۔ اگرچہ ریاض گوہر شاہی مر چکا ہے لیکن اس کا نائب یونس الگوہر اس فتنے کو آگے بڑھا رہا ہے اور چونکہ ان کے ماننے والے موجود ہیں اور یہ امام زمانؑ عج کے نام پہ اٹھنے والا ایک جھوٹا دعویٰ ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تجزیہ کیا جائے اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ 


ایسے چند ایک موارد ہیں کہ جن کے ذریعے انہوں نے لوگوں کے ایمان کو نقصان پہنچایا۔ 


 *گوہر شاہی کتابیں:*📚

 دین الہی، روحانی سفر


*۔ تحریف قرآن* 👉

یہ لوگ تحریف قرآن کے قائل ہیں۔ ریاض گوہر شاہی کہتا ہے کہ بظاہر قرآن کے تیس پارے ہیں لیکن! باطن میں دس پارے اور بھی ہیں۔ اور کہتا ہے کہ گویا قرآن چالیس سپاروں پر مشتمل ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ جو دس سپارے ہیں ان کے بارے میں مجھ پر عبادت اور ریاضت میں انکشاف ہوا۔ 

*استغفراللہ!*


یہ وہ چیز ہے کہ جو خود قرآن کی آیات کے خلاف ہے اور یہ وہ چیز ہے جس پر تمام احادیث اور علمائے کرام کے اجماعات اور تمام عالم اسلام کا جس بات پر اجماع ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور جو اس بات کا قائل ہے گویا وہ دین سے ہی خارج ہے۔ 


*عقیدہ تناسخ:*👉

یہ کہتا ہے کہ سب لوگوں کی روحیں ایک جسم سے مرنے کے بعد دوسرے  جسم میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امام مہدیؑ نے آنا ہے تو اس وقت تک یہ ساری روحیں بار بار دوسرے جسموں میں آ رہی ہیں اور وہ واپس خدا کی جانب اور برزخ کی طرف نہیں جاتیں۔ یہ وہی ہندوؤں والا عقیدہ تناسخ ہے جسے اس نے ایک اسلامی اور دینی عقیدہ بنا کر پیش کیا کہ جس پر کوئی قرآن اور احادیث سے کوئی دلیل نہیں دی۔ بلکہ برعکس عقیدہ معاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کہ انسان مرنے کے بعد عالم برزخ کی جانب منتقل ہو جاتا ہے اور اس سلسلے میں کتنی ہی آیات قرآنی اور احادیث موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ شخص تناسخ کا قائل ہے۔ 


 دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا:

اس نے دین اسلام کو عجیب شکل میں پیش کیا۔ دین اسلام کے اہم موضوعات میں اس نے کس انداز میں گستاخیاں کئیں۔ 

جیسے: 


*توہین پروردگار عالم:*😭

نعوذ باللہ!

یہ کہتا ہے کہ اللہ مجبور ہے اگرچہ وہ لوگوں کی شہ رگ کے قریب ہے لیکن وہ نہیں دیکھ سکتا۔

 نعوذ باللہ!

بھلا خدا سے بڑھ کر کون دیکھ رہا ہے۔ خدا قرآن میں جو کہتا ہے۔ میں ہر چیز کا عالم ہوں۔ میں بصیر ہوں۔

*إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ*🌷

بےشک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔


*اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ*🌷

بےشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔


 *انبیاء کی توہین:*😭

نعوذ باللہ!

یہ کہتا ہے کہ حضرت آدمؑ حسد میں مبتلا تھے اور اپنے نفس کی بیماری میں مبتلا تھے۔  یا مثلاً ایک جگہ پر یہ لکھتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی قبر خالی ہے اور وہ مرکز شرک ہے اور حضرت خضرؑ قاتل ہیں۔ 

*نعوذ باللہ!*


 *امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ :*👉

*گوہر شاہی ویب سائٹ: مہدی فاؤنڈیشن*

 

اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو امام مہدیؑ کے حوالے اس نے جو انحرافات ایجاد کئے۔ اس کا نائب یونس الگوہر کہتا ہے کہ ریاض گوہرشاہی نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ہمیں لال باغ سیون شریف سندھ پاکستان میں اللہ کی جانب سے ایک وحی ہوئی تھی کہ ہم امام مہدی ہیں۔ 

*نعوذ باللہ!*


کہتا ہے کہ اسی وجہ سے عبدالقادر جیلانی کا پوتا حیات الامیر ایک دن میری ملاقات کو آیا اور اس نے مجھے غوث الاعظم کا سلام پہنچایا۔ 


*اہلسنت صوفیوں میں یہ بات مشہور ہے کہ :*

عبدالقادر جیلانی غوث اعظم نے اپنے پوتے حیات الامیر کو کہا تھا کہ تو ایک دن مہدی کو دیکھے گا اور جب دیکھے تو میرا سلام کہنا۔ اور یہ حیات الامیر سینکڑوں سال طولانی عمر رکھتا ہے اور منتظر ہے کہ کب امام مہدی آئیں اور وہ انہیں غوث الاعظم کا سلام پہنچائے۔ 


*عجیب دلائل:* 🤔

یہ ایک عجیب  سا عقیدہ اہلسنت کے صوفیہ میں ہے اور گوہر شاہی یہاں یہ کہتا ہے کیونکہ حیات الامیر آئے تھے اور انہوں نے مجھے سلام پہنچایا تو بس میں امام مہدی ہوں۔ 


ایک اور جگہ پر کہتا ہے کہ تقریباً 20 سال قبل اسے اللہ کی جانب سے اشارہ ہوا تھا کہ جب بھی تمھیں حالات مناسب لگیں تو مہدی ہونے کا اعلان کر دینا۔  اور ہم نے اب حالات کو مناسب سمجھا اور آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے نور کو روشن کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ لوگ مہدی کی شناخت کو پا لیں۔ 


ایک اور جگہ پر یہ شخص کہتا ہے کہ جب اللہ سے پوچھا جات اہے کہ کیوں یہ شخص ریاض گوہر شاہی  فاسق اور فاجر لوگوں سے محبت کرتا ہے تو اللہ کہتا ہے کہ چونکہ یہ امام مہدی ہے اسی لیے یہ محبت کرتا ہے۔ 


*استغفراللہ! یہ شخص کتنی چالاکی سے لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ یہی امام مہدی ہے (نعوذ باللہ!)*😡

یہ کہتا ہے کہ :  


1994 میں پوری دنیا میں لوگوں کو بشارت دی گئی تھی کہ چاند پہ امام مہدی کا چہرہ  ظاہر ہوگا اور پھر یہ چہرہ دیکھا گیا اور سب نے تائید کی کہ یہ چہرہ ریاض گوہر شاہی کا ہے۔ پھر یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ کچھ نے اس کا چہرہ حجرہ اسود میں دیکھا کچھ نے مندروں میں کچھ نے مسجدوں میں دیکھا کسی نے کلیسا میں دیکھا کسی نے سورج میں دیکھا اور کسی نے مریخ پر دیکھا اور پھر دنیا میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہونا شروع ہوگیا جو دلیل تھی کہ گوہر شاہی امام مہدی ہے کیونکہ اس کی علامت ہر جگہ پر ظاہر ہوگئی اور اس نے اپنا فیض دین الہیٰ کی شکل میں جاری کیا اور وہ یہ تھا کہ جو اس کی کتاب دین الہیٰ ہے۔ 



یونس گوہری لکھتا ہے کہ جب کتاب دین الہیٰ جب ظاہر ہوئی تو وہ ساری پیشن گوئیاں محقق ہوگئیں کہ جو ریاض گوہر شاہی بیان کر رہا تھا کہ ایک دن دین الہیٰ ظاہر ہونا ہے۔ ( *کتاب دین الہیٰ* )📙


*تمام تصویریں جو ویب سائٹ پر موجود ہیں یعنی چاند اور دیگر مقامات پر جو اس کی تصویریں ہیں وہ ایک دھوکا ہے اور خود ساختہ تصاویر ہیں۔* 


اس کے بعد یہی یونس الگوہری کہتا ہے کہ گوہر شاہی نے کہا تھا کہ جب امام مہدی ظاہر ہونگے تو تمام علمائے سو اس کی مخالفت کریں گے۔ اور پھر یہ دنیا کی طاقتیں اور پولیس اس کے پیچھے چل پڑے گی اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی اور اسلامی حکومتں اس کے مخالف ہوجائیں گی کیونکہ جیسا کہ پیشن گوئی آرہی ہے کہ جب امام مہدیؑ عج آئیں گے تو ساری حکومتوں کو ہاتھ میں لیں گے اس لیے ساری اسلامی حکومتیں اسے قتل کرنا چاہیں گی۔ 


*نتیجہ کیا ہوا کہ یہ یونس الگوہری کذاب کہتا ہے کہ :* 👈

جب ریاض گوہر شاہی نے دعویٰ مہدویت کیا تو تمام علمائے سو اس کے خلاف ہو گئے اور بلخصوص وہابی فرقے نے اس کے خلاف عدالت میں شکایت کی اور پولیس اس کو گرفتار کرنے کے لیے چل پڑی اور سعودی عرب نے اس کے قتل کے لیے کرائے کے قاتل اس کے پیچھے بھیجے۔ دیوبندیوں اور وھابیوں نے اس کے سر کی قیمت لگائی اور پاکستان میں اس کے گھر پر بم پھینکے گئے۔ اور پھر جب یہ انگلینڈ چلا گیا تو وہاں بھی اس کے گھر پر بم پھینکے گئے اور اس کا گھر جل گیا۔ 


*اب یہ واقعات تو اس کے ساتھ ہوئے ہیں جنہیں وہ اس انداز میں بیان کر رہا ہے۔ چونکہ اس نے جھوٹا دعویٰ مہدویت کیا تھا تو مسلمانوں نے اس کے خلاف اقدامات کئے۔ لیکن یونس الگوہر نے اس کو اس کی علامات قرار دیا ۔🫴* 


پھر یہ یونس الگوہری کذاب کہتا ہے کہ امام مہدی نے کبھی اپنی زبان سے نہیں کہنا کہ میں مہدی ہوں یہ لوگوں کے روشن ضمیر ہیں جو اسے پہچانیں گے اور امر حق کا اعلان ہوگا۔ اور آج ایسا ہی ہوا ہے۔  ہر شخص جو روشن ضمیر ہے وہ جانتا ہے کہ ریاض گوہر شاہی کذاب ہی مہدی ہے اور وہ اسی کی پیروی کرے گا۔ اور اگر کسی کے لیے دشوار ہو کہ اسے امام مہدی تسلیم کرے تو آئے اور اس کی تصاویر کو دیکھے کہ کس طرح چاند کے اندر اور حجر اسود، اور سورج میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہوا تھا اور پھر وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرے تاکہ اس کے دل میں وہ نور پیدا ہو کہ اللہ اسے توفیق دے کہ وہ گوہر شاہی کے امام مہدی ہونے پر ایمان لائے اور یہ ایک بہت بڑی توفیق ہوگی جو اسے نصیب ہوگی۔ 

*نعوذ باللہ!*


*خلاصہ* : ✨✨

ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کس چالاکی سے ان لوگوں نے اس شخص کو بطور امام مہدی پیش کیا جس کی دلیل ان کے پاس فقط یہ ہے کہ اس کی شکل چاند اور سورج پر ظاہر ہوئی۔ 

۔ حکومتیں اور علما خلاف ہو جائیں گے۔  یعنی اس طرح کے بیانات سے انہوں نے کتنی عوام کو بےوقوف بنایا۔ 


*ان چیزوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے دل و دماغ کی آنکھیں کھولیں اور آگاہ و بیدار ہوں ۔ کیونکہ مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے اس لیے جاری ہیں تاکہ اصلی امام مہدیؑ عج کو روکا جائے اور ان کے ظہور میں تاخیر ہو۔* 🫴


ایسے کذاب مہدیوں کی پناہ گاہیں انہیں استعماری حکومتوں اور انگلینڈ میں ہوتی ہیں۔ ریاض گوہر شاہی بھی انگلینڈ میں مرا۔ 🫴


پروردگار عالم سے دعا ہے کہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم مولاؑ عج کے سچے پیروکار اور فکری سپاہی بنیں تاکہ اس قسم کے جھوٹے مکاتب کا مقابلہ کریں۔ 

انشاءاللہ!🤲


والسلام

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔ 🌏


موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی

درس11

نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے،نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب



*استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


موضوع گفتگو مہدویت کے موضوع پر جو باطل مہذہب، باطل گروہ اور باطل فرقے تشکیل پائے ہیں کہ جو خود بھی گمراہ ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کی گمراہی کا باعث بنے۔ اس حوالے سے موضوع قادیانیت پر بحث مکمل ہو چکی ہے اور قادیانیت کے بعد اہلسنت کے اندر ایک اور صوفی فرقہ ہے کہ جنہوں نے مہدویت کو موضوع بنایا اور گمراہ ہوئے وہ ریاض احمد گوہر شاہی کا گروہ ہے کہ جس نے مہدویت کا دعویٰ کیا اور قرآن کی تحریف کا قائل ہوا اور پروردگار عالم، گذشتہ انبیاؑء اور پیغمبرؐ کی نعوذ باللہ اِہانت کی اور اسلام کے اندر بہت ساری گمراہیوں اور انحرافات کا باعث بنا۔ 


اس حوالے سے کچھ مطالب بیان ہو چکے ہیں اور آج ہم اس گفتگو کو مکمل کریں گے۔ 


ریاض احمد گوہر شاہی خود تو فنار ہو چکا ہے لیکن اس کا نمائندہ یونس الگوہری ہے جو کہ دنیا کے اندر اسی کے مکتب کو بڑھا رہا ہے اور ان لوگوں نے امام مہدیؑ کے نام سے ایک بہت بڑی ویب سائٹ امام مہدی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے نام سے بنائی  اور اس میں گوہر شاہی کے دعوے اور کتابوں کو اس ویب سائٹ پر جمع کی ہوئی ہیں۔ 


ریاض احمد گوہر شاہی کے مہدی ہونے کی دلیل یہ لوگ یہ دیتے ہیں کہ چاند، سورج، حجراسود میں اس کی تصویر نظر آئی ہے۔


 *گوھر شاھی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے، نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب* 🫴



*کچھ اور دلائل جو گوہر شاہی کے مہدی ہونے کے حوالے سے ان کی ویب سائٹ پر ذکر ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لکھتے ہیں کہ :*

امام صادقؑ نے یہ فرمایا تھا کہ مہدیؑ  عج کا چہرہ چاند میں دیکھا جائے گا اور اسی لیے گوہر شاہی کی تصویر چاند میں قابل رویت ہے۔ 


اب یہ روایت کس کتاب میں لکھی ہوئی ہے یہ انہیں معلوم نہیں۔ 


*اسی طرح یہ لکھتے ہیں* کہ مولا علیؑ نے یہ لکھا تھا کہ مہدی کی پشت پر مہر مہدویت ہو گی اور گوہر شاہی کی پشت پر بھی اسی طرح کی مہر تھی اور اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر پیغمبرؐ اسلام کا نام تھا اور اس کی بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر خدا کا نام تھا۔ (نعوذ باللہ) اب یہ خرافات بھی انہوں نے گوہر شاہی کے حوالے سے بیان کیں ہیں اور وہ انہیں پھیلا رہے ہیں۔ 


*اس کے بعد یہ لکھتے ہیں* کہ رسولؐ اللہ کی یہ حدیث ہے کہ مہدیؑ عج کعبہ میں ظاہر ہونگے (یہاں تک تو بات درست ہے) لیکن آگے اپنی خرافات کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ حجرہ اسود اس کی شناخت میں مدد کرے گا اور کعبہ میں حجرہ اسود میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہوا تھا۔ نعوذ باللہ۔


*امام زمانہؑ عج کا ظہور:* 🌸

🪻 مولاؑ عج نے کعبہ میں ظہور کرنا ہے۔ 

🪻 انصار نے ان کی بیعت کرنی ہے

🪻 مولاؑ عج نے اپنی حرکت اور قیام کا آغاز کرنا ہے۔

🪻پوری دنیا پر حکومت قائم کرنی ہے۔ 


جبکہ گوہر شاہی فرقہ کہتا ہے کہ  یہ کعبہ میں ظہور یعنی حجرہ اسود میں گوہر شاہی کی تصور ظاہر ہوگی ۔ 


اس کے بعد اپنی کتاب *ارجع المطالب* 📚 میں لکھتے ہیں کہ : 

امام مہدیؑ عج تمام مذاہب اور فرقوں کو اللہ کے نام پر جمع کریں گے اور گوہر شاہی بھی پوری دنیا کے فرقوں اور مذاہب  میں اللہ کے نام کی ہی تبلیغ کرتا رہا۔ اور اسکے ماننے والے بھی پوری دنیا کے فرقوں اور مذاہب میں سے ہیں۔ تو بس یہی امام مہدی ہے ( *نعوذ باللہ !* )


*یہ مذید لکھتے ہیں* کہ گوہر شاہی نے پوری دنیا کے لوگوں کو اللہ کے عشق اور اس کے مذہب کی جانب دعوت دی ہے اور عشق الہیٰ ہدیہ کیا ہے۔ یہی کام امام مہدیؑ عج نے کرنا تھا اور یہی کام گوہر شاہی کر رہا ہے۔  *نعوذ باللہ* !


*اسی طرح کہتے ہیں کہ:* 

گوہر شاہی نے یہ کہا کہ جتنے بھی دریا اور سمندر آپس میں مل جاتے ہیں اور اسی طرح جب دنیا کے تمام ادیان اور فرقے آپس میں مل جاتے ہیں تو وہ چیز جو اس میں گم ہو جاتی ہے وہ عشق اور دین الہیٰ ہے اور میں اس کو زندہ کرنے آیا ہوں۔ 

نعوذ باللہ!


*اسی طرح لکھتے ہیں کہ:* 

امام مہدیؑ عج کے پاس علم لدنی ہے اور اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ گوہر شاہی کے علم لدنی کو پہچانے تو چاہیے کہ کہ گوہر شاہی کی کتاب الہیٰ کو پڑھے۔ نعوذ باللہ!


اس طرح انہوں نے امام مہدیؑ کے ساتھ گوہر شاہی کا موازنہ کر رہے ہیں۔ 


پھر اسی طرح لکھتے ہیں کہ بریلویوں کے امام احمد رضا نے لکھا تھا کہ امام مہدی نبیؐ اکرم سے براہ راست حکم لیں گے اور اجراء کریں گے اور ہمارے گوہر شاہی نے 1998 میں کوٹری کے مقام پر گوہر شاہی مرکز کی ایک نشست میں یہ کہا تھا کہ میں نے نبیؐ اکرم سے بلمشافہ ملاقات کی ہے اور وہ جو کہتے ہیں میں وہ لوگوں سے کہتا ہے۔ یہ ایک باطل دعویٰ ہے کہ جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ 


اس کا نائب یونس الگوہری اپنی سائٹ میں بیان کرتا ہے کہ ریاض احمد گوہر شاہی  امام مہدی ہے، کالکی ہے، اوتار ہے، مسیح ہے کہ جس کا ذکر آسمانی کتابوں میں آیا ہے یعنی وہ سارے عالمی نجات دہندہ کے حوالے سے خبریں جو دیگر ادیان میں موجود تھیں وہ انہوں نے گوہر شاہی کے بارے میں تتبیہ کر دیں۔ اور پھر یہ لکھتا ہے کہ گوہرشاہی 27 نومبر 2001 کو غائب ہو گیا اور اب یہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ مل کر دوبارہ ظہور کرے گا۔ یہی امام مہدی ہے یہ اللہ کے حکم سے غیبت میں چلے گئے ہیں اور معین مدت میں ظہور کرے گا۔ 


یعنی اس کی موت، جنازے اور اس کی قبر کو انہوں نے غیبت قرار دے دیا ہے۔ *نعوذ باللہ* !


امام مہدیؑ کے حوالے سے شعیہ اور سنی میں جتنی بھی روایات موجود ہیں ان کے اندر امام مہدیؑ عج کے ظہور کی علامات بیان ہوئی ہیں ان میں سے کوئی بھی گوہر شاہی کے حوالے سے تطبیق نہیں کرتی نہ ہی اس کا نسب ملتا ہے، نہ ہی اس کی ظاہری صفات اور نہ ہی معنوی صفات ملتی ہیں۔ 


* *امام مہدیؑ عج اولاد پیغمبرؐ اکرم اور اولاد سیدہ فاطمہ زہراؑ ہیں۔* 🌺🌺

اور گوہر شاہی سید نہیں بلکہ مغل ہے۔


اس کی تیس سالہ زندگی گناہوں سے آلودہ ہے، کاروباری ہے، حلال و حرام کا کوئی خیال نہیں اور نہ ہی نماز اور نہ ہی عبادت ہے اور خود یہ اپنی کتاب روحانی سفر میں لکھتا ہے کہ میں تو کمائی میں حلال و حرام کی بھی رعایت نہیں کرتا تھا۔ تو اب یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ امام مہدی ہو۔ 


اس کے احمقانہ دلائل اور جھوٹے دعوؤں پر کوئی  انسان بحث ہی نہیں کر سکتا یہ تو واضح طور پر بچگانہ گفتگو ہے۔ یہ کہتا ہے کہ گوہر شاہی نے حضرت عیسیٰ سے امریکہ میں ملاقات کی ہے۔ یہ عجیب اور کذب دعویٰ ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ  جب حضرت عیسیٰؑ امام مہدیؑ عج کے دور میں آئیں گے تو بلآخر ان کے معجزات واضح ہونگے اور ساری دنیا پہچان لے گی کہ یہ حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ 


ریاض احمد گوہر شاہی نے خود ہی کسی شخص کو امریکہ میں عیسیٰ بنا لیا اور یہ دعویٰ کر دیا۔ 



*گوہر شاہی کے کافر ہونے پر دلیل:*


غرض کہ گوہر شاہی کے یہ جھوٹے دعوے کچھ لوگوں کی گمراہی کا باعث بن گئے لیکن علمائے اسلام نے  یہاں سخت ردعمل دکھایا اور اس کے تمام جھوٹے دعوؤں کو باطل قرار دیا۔ اور اس کی تخفیف کی۔ 


*اس وقت اس کے پیروکار ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مھدی تھا اور اب مھدی کا زمانہ  ہے لیکن تمام سنی شیعہ علمائے کرام نے انہیں ایک گمراہ فرقہ قرار دیا ہے اور خود گوہر شاہی بھی  فتنہ تھا اور یہ کافر ہیں۔* 🫴


گوہر شاہی اگرچہ بظاہر مسلمان ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس نے اسلام کے خلاف الاعلان کام کیا اور جھوٹے دعوؤں کے ساتھ یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ اسلام فقط نجات کی تنہا راہ نہیں جبکہ قرآن اسلام کو راہ نجات قرار دے رہا ہے۔ لیکن اس نے کہا کہ اسلام واحد راہ نجات نہیں بلکہ آپ اپنے اندر روحانیت اور تصوف پیدا کر لیں جس مذہب میں ہونگے چاہے جس مذہب سے بھی ہوں آپ جنت میں جائیں گے۔ ( *📚 کتاب مینارہ نور* )  


👈 ایک اور جگہ پر کہتا ہے کہ اگر کوئی عیسائی، ہندو، سکھ اور یہودی یہی روحانیت اور تصوف یاد کر لے اگرچہ وہ شہادتین اسلام نہ بھی پڑھے تو وہ خدا تک پہنچ جائے گا۔ (نعوذ باللہ!)


👈 پھر ایک مقام پر کہتا ہے کہ نماز، روزہ، حج ، زکوۃٰ تمام عبادات روحانیت سے خالی ہیں اور روحانیت انسان کے دل کے اندر ہے کہ جو انسان کا دل حرکت کرتا ہے اور اس دل سے جو دھک دھک کی آواز آتی ہے روحانیت اس کے اندر ہے۔ نعوذ باللہ!


*جعلی کلمہ*❌

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گوہر شاہی کے پیروکاروں کا کلمہ جو وہ پڑھتے ہیں   لا الا الہ اللہ  کے بعد کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا۔( *نعوذ باللہ* !)۔


اگرچہ اس گمراہ فرقے کے ماننے والے محدود ہیں لیکن یہ بھی مغربی سازشوں میں سے ایک سازش اور ایک فتنہ ہے جو امام مہدیؑ کے نام سے اٹھا جو کتنے ہی لوگوں کی گمراہی کا باعث بھی بنا اور آج بھی بن رہا ہے۔ 


اس ضمن میں ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ان کے باطل دعوے اور جھوٹی بے اساسی دلیلیں کہ جن کا کوئی سر پاؤں نہیں ان کے مدمقابل لوگوں کو آگاہی دیں اور ان جیسے لوگوں کی خرافات کو واضح کر کے پیش کریں تاکہ ہمیں بچے اور جوان ان حقائق سے آشنا ہوں  تاکہ انہیں معلوم ہو کہ حقائق کے دفاع اور پرچار کے لیے ہماری ذمہداری کیا ہے اور وہ اس ذمہداری کو احسن طریقے سے نبھا سکیں۔ 🤲


والسلام

تحریرو پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔*🌍



موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی

درس12

نکات : انحرافی گروہ جمن شاھی سے آشنائی ، اس گروہ کے بانی کا تعارف اور اس گروہ کے باطل افکار کا اجمالی جائزہ



*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


ہم قادیانی اور گوہر شاہی اور ان کے باطل نظریات پر گفتگو کر چکے ہیں اور آج کا ہمارا موضوع گفتگو ایک اور گروہ جمن شاہی سے آشنائی ہے۔ 


جمن شاہی ایک گروہ ہے جو امام زمانہؑ عج کے عنوان سے قائم ہوا اور انہوں نے بھی انحراف کا راستہ اختیار کیا اور بہت سارے باطل نظریات پھیلائے۔   


 یہ گروہ پاکستان کے اندر جنوبی پنجاب میں لیہ کے قریب ایک چھوٹے سے شہر جمن شاہ میں وجود میں آیا۔  اور وہی ان کی ایک بہت بڑی بارگاہ بھی بنی ہوئی ہے اور اس کا بانی "سید طالب حسین نقوی بخاری" ہے۔


*جمن شاہی گروہ کی خصوصیات:* 

 ۔ اس گروہ نے امام زمانؑ عج سے ملاقات کے یہاں دعوے کئے ہیں۔ 


 ۔ جمن شاہی گروہ کے بانی نے خود کو امام زمانہ کا نائب کہتا ہے۔ 


۔ اسی طرح یہ فقہاء کی تقلید کے قائل نہیں ہیں بلکہ یہ فقہا توہین ہوتی ہے


 جمن شاہی گروہ کا آئمہؑ کے حوالے سے بالخصوص امام زماںؑ عج کے حوالے سے بہت زیادہ غلو کا عقیدہ ہے اور امام زمانہؑ عج کو الوہیت سے ملاتے ہیں۔ 


پاکستان ، انڈیا اور اسی طرح دیگر ممالک میں ان کے ماننے والے موجود ہیں۔


سید طالب حسین نقوی کا تعارف:


سید طالب حسین نقوی اس گروہ جمن شاہی کا بانی ہے۔  اگرچہ 75 سال کی عمر میں 2004 میں  فوت ہو چکا ہے۔  1940 یا 1941 میں یہ پاکستان کے ایک دینی مدارس میں پڑھنے کے بعد جب نجف اشرف گیا  اور وہاں کن اساتذہ کے پاس پڑھتا رہا معلوم نہیں؟ صرف یہ معلوم ہے کہ کوئی شیخ الجبل نامی کسی شخصیت سے ان کا رابطہ تھا جو صوفی قسم کا انسان تھا اور اپنا زیادہ تر وقت ریاضت اور عبادت میں بسر کرتا تھا۔ 


*خصوصیات* :

جب سید طالب حسین نقوی  پاکستان آیا اور جمن شاہ میں نے اپنی بارگاہ بنائی اور یہ سارا انحرافی نظام بنایا اس گروہ کا جو طریقہ کار تھا وہ یہ تھا کہ یہ ہر روز مجلس عزا برپا کرنی اور سر و سینہ پر زنجیر زنی کرنی  ہے۔ اسی طرح ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد 10 دن کا اور اضافہ کرنا یعنی 40 دن یہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔ 


ان کا مسلک اخباری ہے اور یہ ہر چیز کے اندر اصل حرام اور اصل نجاست کے قائل ہیں۔  یعنی سب چیزیں حرام ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل ہو وہ حلال ہے سب چیزیں نجس ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل ہو یہ پاک ہے یہ ان کا مسلک ہے۔


 ۔ 👈اسی طرح ان کی خصوصیت ہے کہ یہ بہت زیادہ دعائے فرج امام زمان عج پڑھتے ہیں اور ان کا یہ نظریہ ہے کہ اگر 40 نفر دعائے امام زمانہ عج پڑھیں تو جلدی قبول ہوگی اگر یہ دعا 40 دن چلے تو پھر آپ کی حاجت قبول ہو گی اور اگر چالیس دن روزے کے ساتھ پڑھیں تو اس سے جلدی وہ قبول ہوگی۔


۔ 👈طالب شاہ صاحب نے 1961 میں باقاعدہ اپنے جمن شاہ کے علاقے کے چالیس کے قریب کسانوں کا گروہ تشکیل دیا تھا کہ مل کے دعائے فرج امام زماں پڑھیں اور انہوں نے تعلق سے نجفی کی بیعت بھی کی اور اپنے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے ان کا خمس ادا کیا اور پھر یہ عہد بھی باندھا کہ کسی اور  کے گھر سے کھانا نہیں کھائیں گے۔


 ۔👈 اب ان کا دعوی ہے کہ یہ جو 40 کسان ہیں ان سب کو امام زمانؑہ عج  سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔


۔ اس گروہ کی جو دوسری بڑی شخصیت اسی طالب حسین کا بیٹا " *سید جعفر الزمان* " ہے۔ یہ دوسرا بانی ہے اس گروہ نے تقریبا 30 کے قریب کتابیں لکھی ہیں اور 2003 میں یہ شخص بظاہر مسموم ہوا ہے اور فوت ہو گیا۔


 جعفر الزمان نے امام زمانہؑ عج سے ملاقات کا ایک طریقہ ایجاد کیا اور یہ اس گروہ میں بہت زیادہ مشہور بھی ہوا۔



*جمن شاہی گروہ کے انحرافات کی فہرست:* 


*پہلا انحراف:* 

اس گروہ کا یہ دعوی ہے کہ ہم جب بھی چاہیں امام زمانؑ عج  سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اور ہم نے بار بار یہ ملاقات کی ہے۔ یہ ایک انحرافی دعویٰ ہے۔ حالانکہ یہ ناممکن ہے۔ 


 جیسا کہ آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ یہ ملاقات تو تب ہوتی ہے جب امامؑ عج خود چاہتے ہیں۔ 



 *دوسرا انحراف*🫴

 یہ امامؑ عج کی غیبت میں شادی کے نہ ہونے کے قائل ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ جب امام زمانہؑ عج ظہور فرمائیں گے اس وقت  ہم شادیاں کریں گے۔ اس سے پہلے جو ہے وہ شادی نہیں ہونی چاہیے۔


 *خود یہ "جعفر الزماں" اور "باقر الزماں" یہ جو دو بھائی ہیں اس بانی کے جو بیٹے ہیں انہوں نے بھی شادی نہیں کی اسی طرح دنیا سے چلے گئے۔* 


 ۔ 👈یہ لوگ غیر خدا کو سجدہ کرنے کے جواز کے قائل ہیں۔


 ۔ 👈حیوان جب ذبح کرتے تھے تو بجائے اللہ کا نام لینے کے امام زماںؑ عج کا نام لیتے تھے۔


 ۔ 👈تقلید کے حرام ہونے کا انہوں نے فتوی دیا۔ 


۔ 👈یہ اپنی لڑکیوں کا خمس نکالتے تھے۔ مثلا پانچویں لڑکی جو ہے یا جس کی پانچ لڑکیاں ہوں تو ایک لڑکی بعنوان خمس ہے اور انکی خانقاہ بنی ہوئی ہے  دری پاک جمن شاہ میں رکھی جاتی تھی۔ اور اب یہ وہاں کیوں  رکھی جاتی تھی ؟

 اس حوالے سے  ان کا جو نظریہ تھا وہ یہی تھا کہ یہ لڑکی ہم اس خانقاہ کو ہدیہ کریں گے اور یہ امام زمانہؑ عج کے ظہور کے منتظر رہیں گی یہاں تک کے حضرت آئیں اور ان سے شادی کریں۔ ( *نعوذ باللہ* !)


۔ 👈اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس گروہ نے قرآن مجید کی بہت ساری آیات کی تفسیر بالرائے کی ہے یعنی عجیب و غریب تفسیر کہ انسان تعجب کرتا ہے۔ 


 👈 وہ آیات جو پروردگار کے بارے میں وہ امام زمانؑہ کے بارے میں بیان کی ہیں۔  یعنی الویت جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا تھا۔ اور انہوں نے جو اپنے لوگوں پر ظلم کیا کہ لوگوں کو فقہاء سے دور کر دیا کہتے ہیں کہ ہمیں فقہاء کی ضرورت نہیں ہے امام زمانہؑ عج جو کہ ہمارے دین اور شریعت کے مالک ہیں۔  ہم ان سے سوال پوچھیں گے۔ اور ہمیں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں ہے۔ 


یہ کہتے ہیں  کہ بڑا آسان طریقہ ہے آپ دو رکعت نماز پڑھیں غسل توبہ اور وضو کریں اور ایک خالی جگہ پر بیٹھیں اور گریہ کریں مولا کا نام لے کر پکاریں امام زمانہؑ عج آئیں گے آپ کے سوال کا جواب دے دیں گے۔ اگر پھر بھی کوئی مشکل ہے تو طالب حسین شاہ صاحب سے جا کر پوچھیں۔ 


 یہ طالب حسین شاہ انکے نزدیک یہ سمجھیں کہ مولا امام زمان عج کا نائب تھا یہ باقاعدہ اسکی زندگی میں لوگ اسکو سجدہ کرتے تھے جب وہ اپنے حجرہ سے باہر آتا تھا تو یہ سارے سجدے میں گر جاتے تھے اور وہ انہیں منع بھی نہیں کرتا تھا کہ آپ مجھے سجدہ نہ کریں سجدہ صرف خدا کے لیے ہے۔


*خلاصہ* :

 خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک مختصر سی آشنائی ہے اور اس کے  بہت ہی برے اثرات مرتب ہوئے خود مکتب تشیع پر اور اسکی وجہ سے امام زمانہ عج کے موضوع پر انہوں نے جو انحراف پیدا کیا اسے انشاء اللہ بعد والے دروس میں بیان کریں گے۔ 


*اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس قسم کے بے شعور لوگوں سے اوراس قسم کے انحرافی عقائد سے ہم سب محفوظ رہیں اور مولا کے سچے اور مخلص سرباز بنیں۔*

آمین۔ 

والسلام

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍


موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی

درس13

نکات : انحرافی گروہ جمن شاھی سے آشنائی ، اس گروہ کے باطل انحرافات اور اسکا جواب



*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹





بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


*انحرافی گروہ جمن شاہی سے آشنائی:*


موضوع گفتگو انحرافی گروپ جمن شاہی ہے۔ 


*باطل انحرافات اور اس کا جواب:* 

*غیر خدا کو سجدہ کرنا:* 🫴

انہوں نے لوگوں کے عقائد کے اندر انحراف پیدا کیا۔ یہ اس جواز کے قائل ہیں کہ غیر خدا کو سجدہ کیا جائے۔ حالانکہ دین اسلام میں سب مکاتب فکر کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سجدہ صرف اور صرف خدا کو ہے۔ 


*جانور کو ذبح کرتے ہوئے امام زمانؑ عج کا نام لینا:*❌

یہ ایک بہت بڑا انحراف ہے۔ اس سے جانور نجس ہو گیا کیونکہ جب بھی جانور ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام لیں گے تو ایسا ذبح شدہ جانور کھانا حرام ہے۔ 


*تقلید نہ کرنے کا فتویٰ:*🫴

انہوں نے تقلید نہ کرنے کا فتویٰ دیا یعنی ان کے ماننے والے کسی بھی مرجع کی تقلید نہیں کرتے۔ یعنی یہ بھی انحراف ہے۔ امام زمانہؑ عج نے تقلید کا حکم دیا ہے اور یہ امام ؑ عج کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔ 


*قرآنی آیات کی تفسیر بلرائے کرنا:* 🫴

یہ سب سے بڑا انحراف ہے۔ یعنی اپنی رائے کے مطابق قرآن پاک کی آیات کی تفسیر کرنا اور جو آیات پروردگار کے حوالے سے ہیں ان کو محمدؐ و آل محمدؑ پر تطبیق دیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ گروپ پاکستان کے اندر غلو کا مرکز قرار پایا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں شخیت والا گروپ غلو آمیز افکار کو نشر کرتا تھا اور اب شاہی گروپ اس قسم کے افکار کا مرکز ہے۔ 


*بچیوں کو بعنوان خمس لینا:*😭

یہ لوگ دین اسلام اور مکتب تشیہو کی بدنامی کا باعث ہیں۔  

یہ لوگوں کی بچیوں کو بعنوان خمس لیتے ہیں اور لیہ میں اپنی خانقاہ دری پاک میں رکھتے ہیں۔ 


*غیبت امامؑ زمان میں شادی کرنا ممنوع ہے:*😵‍💫

یہ کہتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں شادی کرنا ممنوع ہے۔ 


*طہارت کے حوالے سے انحراف* :🫴

یہ طہارت کے مسائل میں اتنا وسوسہ کرتے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے نہ کوئی چیز کھانی ہے اور نہ ہی کوئی چیز لینی ہے۔ حتکہ مسلمان بازار سے بھی کوئی چیز نہیں لیتے اور سب چیزیں اپنے گھر میں ہی تیار کرتے ہیں یعنی پودوں اور جانوروں سے حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ کس قسم کا اسلام اور شیعت ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں


*مہدویت پر کاری ضرب:* 🫴

۔ انہوں نے مہدویت کے اندر علویت کو پیش کیا۔ 

اس گروہ کی دوسری بڑی شخصیت جعفر الزمان ہے اور اس نے جو کتابیں لکھیں ہیں وہ سب کی سب خرافات اور تفسیربلرائے اور غلط نظریات سے بھری پڑی ہیںَ 


*کتاب عصمت الامم:📚*

جعفر الزمان کہتا ہے کہ جب امام زمانؑ عج ظہور فرمائیں گے تو تمام مومنین معصوم ہوجائیں گے اور امام زماں علویت کے مقام پر ظاہر ہونگے اور ان کی امت سب کی سب نبیوں والا مقام رکھے گی اور امام زمان سب کو عصمت اور نبوت والا مقام عطا کریں گے۔ 

*استغفراللہ* !


یہ ایک اورکتاب افکار المنتظرین میں یہ لکھتا ہے کہ: 

یہ جو آیہ مجیدہ ہے کہ: 

سورہ الفجر:

*وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا (22)*

اور آپ کے رب کا (تخت) آجائے گا اور فرشتے بھی صف بستہ چلے آئیں گے۔


کہتا ہے کہ یہاں رب سے مراد امام مہدیؑ عج ہیں ( *نعوذ باللہ* !)



سورہ طہ

*اَلرَّحْـمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى (5) ↖*

رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے۔


یہاں پر یہ لکھتا ہے کہ یہاں رحمان سے مراد امام زمان ہیں جو عرش پر قرار پائیں گے اور قربیان، قدسیان، مومنین ، منتظرین اور اولین و آخرین خواص سے بیعت لیں گے۔ اور امام زمان ؑ عج کا ایک نام رحمٰن ہے۔ ( *استغفر اللہ* !)


اس نے ایک اور کفر جو بکا ہے وہ یہ ہے کہ: 🫴

ہم خدا کو صرف اس لیے مانتے ہیں کہ ہمیں اہلبیتؑ نے بتایا ہے کہ خدا ہے اگر کوئی امام زمان ظہور کرے اور کہے کہ ہمارے سوا کوئی خدا نہیں تو جب سب سے پہلے اہلبیتؑ کی خدائی پر ایمان لائے گا وہ میں ہوں گا اور بغیر دلیل کے اس بات کو قبول کروں گا۔ 

*نعوذ باللہ!*



*امام زمانؑ عج سے ملاقات کے دعوے:* 🫴

*انتصار مظلوم:📚*

یہ کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں امام زمانؑ عج سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اس کی کتاب انتصار مظلوم میں یہ دعوے کئے ہیں کہ یہ خود بھی ملاقات کرتے ہیں اور لوگوں کی بھی رہمنائی کرتے ہیں۔ 


*شعیت کے اندر دو فرقے بنا دیے۔* 🫴


👈شیعہ حقیقی: 

*👈جمن شاہی:*

یعنی دوسروں کو نجس سمجھنا۔ دوسرے مسلمان بھائیوں اور شعیوں سے خریداری نہیں کرنا، نماز جمعہ حرام ہے، تقلید حرام ہے وغیرہ۔ 


*خلاصہ* : 🗒️

جمن شاہی دائرہِ اسلام سے خارج ہیں اور تشیہو سے بھی خارج ہیں کیونکہ انہوں نے توحید کو چھوڑ دیا اور آئمہ کو مقام علویت دے دیا تو پھر یہ کس اعتبار سے ہم انہیں مسلمان کہیں۔ کیونکہ اس کا بہت سخت حملہ توحید پر حملے کئے۔ 

افکار منتظرین:


جعفر الزمان کہتا ہے کہ دو قسم کی توحید ہے ایک نظر آنے والی اور دوسری نظر نہ آنے والی۔ اور آل محمدؑ اس مقام توحید پر فائز ہیں جو نظر آنے والی ہے اور یہ بھی توحید کا جز ہیں اور ان سے توحید جدا نہیں ہوسکتی۔ یہ سب جز لا ینفک ہیں۔ 


*اللہ کی خالقیت میں آئمہؑ کو شریک قرار دینا:* 🫴

افکار المنتظرین میں جعفر لکھتا ہے کہ :

حضرت علیؑ آدمؑ کی تخلق میں اللہ کے ساتھ شریک تھے۔ (*نعوذ باللہ!)* *


*ولادت آئمہؑ کے بارے میں ان کا عقیدہ:* 🫴

آئمہؑ کی ولادت کے اعتبار سے مصباح الشعیہ میں لکھتا ہے: 

ان کا یہ عقیدہ ہے کہ معصومینؑ نہ ہی انسانوں کی مانند اور نہ ہی حیوانوں کی مانند دنیا میں آتے ہیں اور پرورش پاتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ پیدا ہوتے ہی نہیں یا تو نازل ہوتے ہیں یا پھر ظہور کرتے ہیں۔ 


اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ معصومینؑ کی ولادت کے میلادوں کے حوالے سے جو پوسٹ اور پوسٹرز بنتے ہیں کہ جن میں نزول اور ظہور امام لکھا ہوتا ہے یہ وہی جمن شاہی گروپ اور لوگ ہیں۔ 


*اسماالقائم کتاب:* 📚

یہ لکھتا ہے کہ معصومینؑ تو انسان ہی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی نوع ، نوع انسان ہے۔ بلکہ کوئی اور چیز ہیںَ 


یہ غالی گروپ پاکستان میں بڑی وسعت سے غلو پھیلا رہا ہے اور کام کر رہا ہے۔ اور اس کے ماننے والے شروع میں بتاتے بھی نہیں کہ یہ لوگ غالی جمن شاہی ہیں۔ یہ بڑی تیزی سے وٹس ایپ فیس بک اور نیٹ پر سائٹیں اور گروپ ہیں اور کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بہت سارے لوگ جو دین فہمی نہیں رکھتے وہ ان کے ہمنوا ہو جاتے ہیں۔ 


❌❌❌👇

یہ گروپ جمن شاہی جو بھی عقائد بیان کرتے ہیں ان کا شعیت سے اور دین اسلام سے کوئ تعلق نہیں ہے جو دین رسولؐ اللہ لے کر آئے اور جس دین کی رو سے امام مہدیؑ عج کی بشارت ہوئی اور جس دین کو امام مہدیؑ نافذ کریں گے۔ یہ امام مہدیؑ کا نام تو لیتے ہیں لیکن جب مولاؑ عج کا ظہور ہو گا تو یہ لوگ ان کے مدمقابل آئیں گے۔ اور ان کے اس انحرافات اور غلط عقائد کی وجہ سے مولاؑ عج سے دشمنی کریں گے۔ 


*اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اس قسم کے انحرافی غالی گروپس سے محفوظ اور بیدار رہیں اور اپنے بچوں اور جوانوں کو اس حوالے سے آگاہی دیں اور دنیا کو بتائیں کہ یہ مکتب اہلبیتؑ نہیں ہیں بلکہ یہ مکتب خارج المکتب اہلبیتؑ اور خارج المکتب اسلام ہیں۔* 🫴


اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے مولاؑ عج کے فکری معنوی اور ہر اعتبار سے سرباز قرار دے اور ان کے ناصرین اور سپاہی ہونے کی توفیق دے۔ 

الہیٰ آمین!🤲Yy

والسلام

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍


موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ 

# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی

درس13

نکات : انحرافی گروہ جمن شاھی سے آشنائی ، اس گروہ کے باطل انحرافات اور اسکا جواب



*استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹





بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


*انحرافی گروہ جمن شاہی سے آشنائی:*


موضوع گفتگو انحرافی گروپ جمن شاہی ہے۔ 


*باطل انحرافات اور اس کا جواب:* 

*غیر خدا کو سجدہ کرنا:* 🫴

انہوں نے لوگوں کے عقائد کے اندر انحراف پیدا کیا۔ یہ اس جواز کے قائل ہیں کہ غیر خدا کو سجدہ کیا جائے۔ حالانکہ دین اسلام میں سب مکاتب فکر کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سجدہ صرف اور صرف خدا کو ہے۔ 


*جانور کو ذبح کرتے ہوئے امام زمانؑ عج کا نام لینا:*❌

یہ ایک بہت بڑا انحراف ہے۔ اس سے جانور نجس ہو گیا کیونکہ جب بھی جانور ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام لیں گے تو ایسا ذبح شدہ جانور کھانا حرام ہے۔ 


*تقلید نہ کرنے کا فتویٰ:*🫴

انہوں نے تقلید نہ کرنے کا فتویٰ دیا یعنی ان کے ماننے والے کسی بھی مرجع کی تقلید نہیں کرتے۔ یعنی یہ بھی انحراف ہے۔ امام زمانہؑ عج نے تقلید کا حکم دیا ہے اور یہ امام ؑ عج کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔ 


*قرآنی آیات کی تفسیر بلرائے کرنا:* 🫴

یہ سب سے بڑا انحراف ہے۔ یعنی اپنی رائے کے مطابق قرآن پاک کی آیات کی تفسیر کرنا اور جو آیات پروردگار کے حوالے سے ہیں ان کو محمدؐ و آل محمدؑ پر تطبیق دیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ گروپ پاکستان کے اندر غلو کا مرکز قرار پایا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں شخیت والا گروپ غلو آمیز افکار کو نشر کرتا تھا اور اب شاہی گروپ اس قسم کے افکار کا مرکز ہے۔ 


*بچیوں کو بعنوان خمس لینا:*😭

یہ لوگ دین اسلام اور مکتب تشیہو کی بدنامی کا باعث ہیں۔  

یہ لوگوں کی بچیوں کو بعنوان خمس لیتے ہیں اور لیہ میں اپنی خانقاہ دری پاک میں رکھتے ہیں۔ 


*غیبت امامؑ زمان میں شادی کرنا ممنوع ہے:*😵‍💫

یہ کہتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں شادی کرنا ممنوع ہے۔ 


*طہارت کے حوالے سے انحراف* :🫴

یہ طہارت کے مسائل میں اتنا وسوسہ کرتے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے نہ کوئی چیز کھانی ہے اور نہ ہی کوئی چیز لینی ہے۔ حتکہ مسلمان بازار سے بھی کوئی چیز نہیں لیتے اور سب چیزیں اپنے گھر میں ہی تیار کرتے ہیں یعنی پودوں اور جانوروں سے حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ کس قسم کا اسلام اور شیعت ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں


*مہدویت پر کاری ضرب:* 🫴

۔ انہوں نے مہدویت کے اندر علویت کو پیش کیا۔ 

اس گروہ کی دوسری بڑی شخصیت جعفر الزمان ہے اور اس نے جو کتابیں لکھیں ہیں وہ سب کی سب خرافات اور تفسیربلرائے اور غلط نظریات سے بھری پڑی ہیںَ 


*کتاب عصمت الامم:📚*

جعفر الزمان کہتا ہے کہ جب امام زمانؑ عج ظہور فرمائیں گے تو تمام مومنین معصوم ہوجائیں گے اور امام زماں علویت کے مقام پر ظاہر ہونگے اور ان کی امت سب کی سب نبیوں والا مقام رکھے گی اور امام زمان سب کو عصمت اور نبوت والا مقام عطا کریں گے۔ 

*استغفراللہ* !


یہ ایک اورکتاب  افکار المنتظرین میں  یہ لکھتا ہے کہ: 

یہ جو آیہ مجیدہ ہے کہ: 

سورہ الفجر:

*وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا (22)*

اور آپ کے رب کا (تخت) آجائے گا اور فرشتے بھی صف بستہ چلے آئیں گے۔


کہتا ہے کہ یہاں رب سے مراد امام مہدیؑ عج ہیں ( *نعوذ باللہ* !)



سورہ طہ

*اَلرَّحْـمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى (5) ↖*

رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے۔


یہاں پر یہ لکھتا ہے کہ یہاں رحمان سے مراد امام زمان ہیں جو عرش پر قرار پائیں گے اور قربیان، قدسیان، مومنین ، منتظرین اور اولین و آخرین خواص سے بیعت لیں گے۔ اور امام زمان ؑ عج کا ایک نام رحمٰن ہے۔ ( *استغفر اللہ* !)


اس نے ایک اور کفر جو بکا ہے وہ یہ ہے کہ: 🫴

ہم خدا کو صرف اس لیے مانتے ہیں کہ ہمیں اہلبیتؑ نے بتایا ہے کہ خدا ہے اگر کوئی امام زمان ظہور کرے اور کہے کہ ہمارے سوا کوئی خدا نہیں تو جب سب سے پہلے اہلبیتؑ کی خدائی پر ایمان لائے گا وہ میں ہوں گا اور بغیر دلیل کے اس بات کو قبول کروں گا۔ 

*نعوذ باللہ!*



*امام زمانؑ عج سے ملاقات کے دعوے:* 🫴

*انتصار مظلوم:📚*

یہ کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں امام زمانؑ عج سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اس کی کتاب انتصار مظلوم میں یہ دعوے کئے ہیں کہ یہ خود بھی ملاقات کرتے ہیں اور لوگوں کی بھی رہمنائی کرتے ہیں۔ 


*شعیت کے اندر دو فرقے بنا دیے۔* 🫴


👈شیعہ حقیقی: 

*👈جمن شاہی:*

یعنی دوسروں کو نجس سمجھنا۔ دوسرے مسلمان بھائیوں اور شعیوں سے خریداری نہیں کرنا، نماز جمعہ حرام ہے، تقلید حرام ہے وغیرہ۔ 


*خلاصہ* : 🗒️

جمن شاہی دائرہِ اسلام سے خارج ہیں اور تشیہو سے بھی خارج ہیں کیونکہ انہوں نے توحید کو چھوڑ دیا اور آئمہ کو مقام علویت دے دیا تو پھر یہ کس اعتبار سے ہم انہیں مسلمان کہیں۔ کیونکہ اس کا بہت سخت حملہ توحید پر حملے کئے۔ 

افکار منتظرین:


جعفر الزمان کہتا ہے کہ دو قسم کی توحید ہے ایک نظر آنے والی اور دوسری نظر نہ آنے والی۔ اور آل محمدؑ اس مقام توحید پر فائز ہیں جو نظر آنے والی ہے اور یہ بھی توحید کا جز ہیں اور ان سے توحید جدا نہیں ہوسکتی۔ یہ سب جز لا ینفک ہیں۔ 


*اللہ کی خالقیت میں آئمہؑ کو شریک قرار دینا:* 🫴

افکار المنتظرین میں جعفر لکھتا ہے کہ :

حضرت علیؑ آدمؑ کی تخلق میں اللہ کے ساتھ شریک تھے۔ (*نعوذ باللہ!)* *


*ولادت آئمہؑ کے بارے میں ان کا عقیدہ:* 🫴

آئمہؑ کی ولادت کے اعتبار سے مصباح الشعیہ میں لکھتا ہے: 

ان کا یہ عقیدہ ہے کہ معصومینؑ نہ ہی انسانوں کی مانند اور  نہ ہی حیوانوں کی مانند دنیا میں آتے ہیں اور پرورش پاتے ہیں بلکہ  کہتے ہیں کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ پیدا ہوتے ہی نہیں یا تو نازل ہوتے ہیں یا پھر ظہور کرتے ہیں۔ 


اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ معصومینؑ کی ولادت کے میلادوں کے حوالے سے جو پوسٹ اور پوسٹرز بنتے ہیں کہ جن میں نزول اور ظہور امام لکھا ہوتا ہے یہ وہی جمن شاہی  گروپ اور لوگ ہیں۔ 


*اسماالقائم کتاب:* 📚

یہ لکھتا ہے کہ معصومینؑ تو انسان ہی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی نوع ، نوع انسان ہے۔ بلکہ کوئی اور چیز ہیںَ 


یہ غالی گروپ پاکستان میں بڑی وسعت سے غلو پھیلا رہا ہے اور کام کر رہا ہے۔ اور اس کے ماننے والے شروع میں بتاتے بھی نہیں کہ یہ لوگ غالی جمن شاہی ہیں۔ یہ بڑی تیزی سے وٹس ایپ فیس بک اور نیٹ پر سائٹیں اور گروپ ہیں اور کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بہت سارے لوگ جو دین فہمی نہیں رکھتے وہ ان کے ہمنوا ہو جاتے ہیں۔ 


❌❌❌👇

یہ گروپ جمن شاہی جو بھی عقائد بیان کرتے ہیں ان کا شعیت سے اور دین اسلام سے کوئ تعلق نہیں ہے جو دین رسولؐ اللہ لے کر آئے اور جس دین کی رو سے امام مہدیؑ عج کی بشارت ہوئی اور جس دین کو امام مہدیؑ نافذ کریں گے۔ یہ امام مہدیؑ کا نام تو لیتے ہیں لیکن جب مولاؑ عج کا ظہور ہو گا تو یہ لوگ ان کے مدمقابل آئیں گے۔ اور ان کے اس انحرافات اور غلط عقائد کی وجہ سے مولاؑ عج سے دشمنی کریں گے۔ 


*اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اس قسم کے انحرافی غالی گروپس سے محفوظ اور بیدار رہیں اور اپنے بچوں اور جوانوں کو اس حوالے سے آگاہی دیں اور دنیا کو بتائیں کہ یہ مکتب اہلبیتؑ نہیں ہیں بلکہ یہ مکتب خارج المکتب اہلبیتؑ اور خارج المکتب اسلام ہیں۔* 🫴


اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے مولاؑ عج کے فکری معنوی اور ہر اعتبار سے سرباز قرار دے اور ان کے ناصرین اور سپاہی ہونے کی توفیق دے۔ 

الہیٰ آمین!🤲

والسلام

تحریر و پیشکش: ✒️

سعدیہ شہباز

*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔* 🌍

*تیاری کے لیے سوالات امتحان* 

👇👇



1۔ *قادیانیت کے بانی کا تعارف کیا ہے اور اس کے کیا دعوے ہیں۔*


کذاب احمد قادیانی 1835 میں پیدا ہوا اور 1908 میں واصل جہنم ہوا۔ 


شروع میں یہ بعنوان مبلغ اسلام ہندوؤں ، عیسائیوں اور بدھ مت کے لوگوں کے ساتھ باقاعدہ مناظرے کیا کرتا تھا۔  اور1884 تک اس نے چار جلد کتاب بھی لکھی " براہین احمدیہ"

یہاں تک اس کی افعالیت اسلام کے دفاع میں تھی البتہ براہین احمدیہ میں کچھ اشارے مل رہے تھے کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ گمراہی کی راہ پر چل رہا ہے۔ 


 اسی براہین احمدیہ کو لکھنے کے بعد اس نےملہم ہونے کا دعوٰی کیا کہ اس پر الہام ہوتا ہے۔ اور  پھر محدث ہونے کا دعویٰ کیا کہ فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں اورپھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا کہ  دین کے اندر اصلاح اوردین کی  نئے سرے سے تجدید کر رہا ہوں۔ یعنی اس نے تین دعوے کیے

ملہم، محدث اور مجدد


اس زمانے میں لوگ اسے ایک بہت بڑا عالم اسلام سمجھتے تھے تو لوگوں نے اتنی توجہ نہیں کہ اور اس کے عاشق رہے لیکن کچھ عرصے بعد اس نےمسیرِ مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ کہ میں مسیح کی مثل ہوں۔ کیونکہ یہ کہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ہیں اور کچھ عرصے بعد یہ دعویٰ کیا کہ یہ مسیح موعود بھی ہے اور امام مھدیؑ بھی۔ یعنی یہ دونوں ہستیاں ایک ہیں اور اس کی شکل میں جمع ہو چکی ہیں۔ اب جب اس نے اس قسم کے دعوے کیئے تو علمائے اسلام نے اس پر سخت تنقید کی تو پھر اس نے تھوڑی سی عقل نشینی کی اور کہا کہ نہیں میں تو مامور من اللہ ہوں۔ میں تو محدث من اللہ ہوں اور میں تو اللہ کی طرف سے وظیفے کو انجام دے رہا ہوں اور مجھ پر یہ الہام ہیں۔ 


اس کے بعد اس نے کہا کہ یہ نبی امتی ہوں  یعنی پیغمبرؐ اصل نبی ہیں اور میں ان کی امت کا ایک نبی ہوں۔  اور بعد میں اس نے نبی شریعتی کا دعویٰ کیا اور ایک نئی شریعت کا اختراع کیا۔ 


📖


2۔ *اس کے دعوی مہدویت پر دلیل اور رد  بیان کریں۔* 

سب سے پہلے اس نے مہدویت اور عیسیٰ مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا اور یہ واضح  طور پر دعویٰ کیا کرتا تھا کہ میں وہی مہدی ہوں کہ جس کے بارے میں ابن سیرین سے سوال ہوا۔ 

یہ بات اسی کی لکھی ہوئی کتاب الاستفتاء میں بیان ہوئی ہے۔ 

یہ کتاب 1897 میں انگلینڈ میں شائع ہوئی ہے ۔ 


اور امام مہدیؑ کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں اور امام مہدیؑ عج کو جو سیدہ فاطمہ زہراؑ سلام اللہ علیہا کی نسل سے بیان کیا گیا ہے یہ ان تمام احادیث کو ضعیف قرار دیتا ہے۔ اوراہلسنت کی کتاب سنن ابن ماجہ اس کے اندر ایک ضعیف حدیث ہے 

لا المھدی الا عیسیٰ

یہ اس حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مھدی اور مسیح ایک ہی ہیں اور میں وہ ہوں۔ اور مھدیؑ عج کا اولاد پیغمبرؐ اور اولاد فاطمہ زہراؑ سے ہونا ضعیف ہے اور اتنی ساری صحیح و سند روایات کو یہ ضعیف سمجھتا ہے اور ایک ضعیف روایت سے یہ جھوٹا دعویٰ بناتا ہے کہ اس روایت میں چونکہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہیں تو میں وہی مہدی اور عیسیٰ ہوں۔ 


اس کے علاوہ یہ بھی کہتا تھا کہ جو علامات مہدیؑ عج احادیث میں بیان ہوئیں ہیں وہ  میرے زمانے پر تطبیق کرتی ہیں یعنی اب وہی زمانہ ہے۔ اور ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی وہ آیات جو شان امام مھدیؑ میں نازل ہوئیں انہیں اس نے اپنے اوپر تطبیق کیا ۔ مثلاً اس کی جو کتاب ہے اعجاز احمدی اس میں واضح طور پر کہتا ہے : 

مثلاً یہ جو آیت ہے : 

سورہ صف : 9

هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُـدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ 

وہی تو ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا


اس آیت کو واضح طور پر اپنے اوپر تطبیق کرتا تھا کہ یہ میں ہوں۔ 



3۔ *اس کے دعوی مسیح پر اس کی دلیل اور رد بیان کریں؟* 


میرزا غلام احمد کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ وفات پاچکے ہیں اور وہ نہیں پلٹیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰؑ کی وفات کی خبر دی ہے۔ 


مثلاً سورہ مائدہ کی آیت 117 

فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْـهِـمْ ۚ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ 

 پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا پھر تو ہی ان کا نگران تھا، اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔


اس آیت سے وہ یہ دلیل پیش کرتا تھا کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ کی وفات پر دلالت کرتی ہے۔ لہذا اب اس کا یہ دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غلام احمد قادیانی کو یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں اور جس ہستی نے آسمان سے نازل ہونا ہے وہ میں ہوں یعنی غلام احمد قادیانی۔ اور میں لوگوں کے درمیان ہوں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر سرینگر کشمیر میں موجود ہے۔ 


وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مسلمانوں کا جو حضرت عیسیٰؑ کے نزول پر جو عقیدہ ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ اور وہ ساری احادیث جو حضرت عیسیٰؑ کے پلٹنے کی خبر دیتی ہیں ان کی تاویل کرنی چاہیے کہ یہاں خود عیسیٰ ؑ  مراد نہیں بلکہ ایک شخص شبیہ عیسیٰ مراد ہے اور وہ میں ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یعنی غلام احمد قادیانی کو حضرت عیسیٰؑ کی نیابت اور شبیہ کے طور پر انتخاب کیا ہے تاکہ وہ صلیب جس کی عیسائی لوگ عبادت کرتے ہیں اور اس کی تکریم کرتے ہیں میں اس کو توڑوں اور خنزیر کو بھی ماروں۔ 


بلکہ بعد میں تو یہ شخص خود کو حضرت عیسیٰؑ سے بھی افضل سمجھتا تھا۔ اس کی کتاب روحانی خزائن اور الاستفتاء اس کے اندر یہ ساری باتیں موجود ہیں۔ 

استغفراللہ!


📖

4۔ *اس کے دعوی نبوت کو رد کریں۔* 

اس نے خود کو مہدیؑ موعود ، مظہر عیسیٰؑ اور مظہر پیغمبرؐ اکرم بھی سمجھنا شروع کر دیا۔ یہ اس کا ایک نیا دعویٰ تھا کہ مجھ پر ایک فرشتہ وحی لے کر آتا ہے اور میرا وحی کا زمانہ اتنا ہی ہے جتنا رسولؐ خدا  پر زمانہ نزول وحی ہے۔ 

نعوذ باللہ!


اب یہاں پر جو ایک مسئلہ پیش آنا تھا وہ یہ تھا کہ پیغمبرؐ اکرم خاتم الانبیاؑ ہیں اور ان کے بعد کسی نبیؐ نے نہیں آنا تو یہ خاتمیت کا معنیٰ تبدیل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ : 

یہ جو کہا گیا ہے کہ رسولؐ خدا خاتم الانبیاؑ  ہیں یہاں خاتم سے مراد ہے کہ آپ بالا ترین  مراتب کمال تک پہنچ چکے ہیں یعنی نبوت کے سب سے آخری مرتبے پر۔ یہاں ختم بمعنیٰ  سب سے بلند مرتبے پر پہنچنا ہے نہ کہ خاتم سے مراد ختم ہونا ہے۔ 

نعوذ باللہ!


پس پیغمبرؐ اسلام کے بعد بھی انبیاء کا سلسلہ ہوسکتا ہے۔ پیغمبرؐ سب سے بلند والے مقام پر پہنچے ہیں لیکن بعد والے نبیؐ ان سے نور لیں گے اور ان کے زیر سایہ دین میں اصلاح کریں گے اور وحی بھی جاری رہے گی اور دین بھی آتا رہے گا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک چلے گا۔ 


یعنی کہتا تھا کہ نبیؐ اکرم کے زیر سایہ نبی ہوں اور میرے درجے اور کمال ان کی مانند ہیں  اور جس طرح وہ افضل الانبیاؑ تھے اسی طرح میں بھی تمام انبیاؑ سے افضل ہوں 

نعوذباللہ!


حتیٰ کہ اس نے ایک اور جگہ جو دعویٰ کیا جو اس کی کتاب حقیقت الوحی میں کہتا ہے کہ : 

سارے نبیؑ میں ہی ہوں۔ میں ہی آدمؑ و شیثؑ ، و نوؑح و اسحؑاق و اسمؑاعیل و یوسؑف و موسیٰؑ ، داوؑد اور عیسیٰؑ ہوں ۔ میں محمدؐ کا مظہر ہوں یعنی میں ہی محؑمد ہوں، میں ہی احؑمد ہوں   

نعوذ باللہ!



5۔ *علامہ اقبال نے قادیانیوں کے بارے میں کیا کہا؟* 

کتاب: علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت

فرماتے ہیں کہ: 

جب میرزائیت اور قادیانیت کی تحریک شروع ہوئی ہے تو اس وقت میں یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ شخص بھی دین اسلام کا ایک شیدائی اور محب اسلام ہے اور عاشق رسولؐ ہے اور یہ مجدد ہے اور چاہتا ہے کہ اصلاح کرے۔ لیکن اب مجھے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس تحریک کا بانی غلام احمد قادیانی ایک منافق ہے اور کافر سے بھی بدتر ہے اسی لیے  میں اس تحریک سے بیزار ہوں۔ کیونکہ ان کے اندر محض تحریف اور جھوٹے دعوے ہیں اور اصل اسلام اور اس کے عقائد پر ضرب ہے۔ 




6۔ *قادیانیت نے اسلام پر کہاں کہاں ضرب لگائی:* 

قادیانیت نے پانچ مقام پر اسلام و مسلمانوں پر ضرب لگائی


1۔  مسلمانوں کے عقائد میں انحراف پیدا کیا۔ 

2۔  اسلام کو دنیا کے سامنے برے انداز میں پیش کیا کیونکہ قادیانیت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اصل اسلام ہیں۔ 

3۔   خود اصل دین پر ضرب لگائی۔ 

4۔  مسلمانوں کے اندر اختلاف پیدا کیا۔

5۔  عقیدہ مہدویت اور اس سے منسلک جتنے بھی موضوعات ہیں ان میں قادیانیت نے انحراف پیدا کیا۔ 



7۔ *رہبر معظم انقلاب کی رائے قادیانیت پر کیا ہے؟* ✨

رہبر معظم انقلاب کا قیمتی فرمان ہے۔ 

فرماتے ہیں کہ: 

ہمارے جتنے بھی ایسے عقائد ہیں کہ جو ہماری روحانی اور اسلامی زندگی کو بنانے والے ہیں سب پر دشمن حملہ کر رہا ہے۔ اور دشمن ہمارے تمام عقائد اور اسلام کا مطالعہ کرتا ہے انہیں دیکھتا ہے اور کبھی دشمن دسیوں سال کام کرتا ہے کہ اہمار اسلام کے ایک نورانی نقطے کے نور کو کم کرے اور اس کے اندر تاریکی پیدا کرے۔ اور یہ جو ہمارا عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ موعود وہ شخصیت ہیں کہ جو آخری زمانے میں رسولؐ اللہ کے خاندان سے ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور یہ تمام ظلم ختم ہو جائیں گے۔ اس پر دشمن کام کرتا ہے۔ 


رہبر معظم  فرماتے ہیں کہ: 

ہمارا یہ وظیفہ ہے کہ ہم بھی دشمنوں کے مدمقابل اس سے بڑھ کر کام کریں۔ اور اس عقیدہ مہدویت پر عمل کریں اور اس  عقیدہ مہدویت کی تبلیغ اور تشریح پر کام کریں اور لوگوں کو حقائق بیان کریں۔ 



8۔ *قادیانیت نے استعمار انگلینڈ کی کیا خدمت کی اور انہوں نے قادیانیوں کی کیا حمایت کی* ۔ 

کتاب علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت مصنف محمد متین خالد ہیں۔ 


اس کتاب میں اس فتنے کے مدمقابل علامہ اقبالؒ کی جو کوششیں ہیں اس کو بہت خوبصورت انداز سے بیان کیا گیا۔ 

اب یہاں جو قابل توجہ بات ہے کہ جب مرزا احمد قادیانی نے اس طرح کے دعوے کئے تو ہندوستان میں جو استعماری حکومتِ برطانیہ نے اس کی مکمل حمایت کی۔ 


اس لیے اس شخص نے انگلستان کے ساتھ جہاد کو جائز نہیں جانا اور ہمیشہ اس کے ساتھ اس برطانوی حکومت کا شکر گذار رہا اور اس نے ایک کتاب لکھی "حقیقت مھدی" اور اس کتاب میں اس نے دعویٰ کیا کہ:

 اگر حکومت برطانیہ کی تلوار کا لوگوں پرخوف نہ ہوتا تو لوگ اسے ختم کر دیتے" ۔ 


اس لیے وہ برطانوی حکومت کا ہمیشہ شکر گذار رہا۔ اور یہی برطانیہ اور قادیانیت کا ربط اس کے بعد بھی جاری ہے۔ 


جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ کاذب دین  کا دوسرا خلیفہ بشیر الدین محمود نے  "تحفہ شہزادہ ویلز" کتاب لکھی ہے 

A Present to this Royal Highness The Prince of Wales

By: Mirza Bashir- ud- Din Mahmud Ahmad

اور یہ اس نے جورج پنجم کے لیے یہ کتاب لکھی اور اسے باقاعدہ ہدیہ بھی کی۔ 


علامہ اقبال نے یہاں ایک بہت خوبصورت تبصرہ کیا : 

کہتے ہیں کہ: 


ایران کے اندر جو ایک فرقہ بابیہ بنا تھا اور وہ بھی مہدویت کے حوالے سے ایک انحرافی فرقہ تھا اور اس فرقے کی استعمار روس نے سب سے پہلے پشت پناہی کی اور اس کا سب سے پہلا مرکز  اس زمانے میں سویت یونین کے اندر عشق آباد میں تعصیص ہوا۔ 


دوسرا انحراف یعنی قادیانیت جو پاک و ہند میں شروع ہوا تھا اس کی پشت پناہی برطانوی استعمار نے کی تھی۔ اس زمانے میں دو استعمار تھے روس اور برطانیہ کہ جنہوں نے اسلام کے اندر انحراف کی پشت پناہی کی۔ 


اس لیے برطانیہ نےاجازت دی کہ قادیانیت کا پہلا مرکز ان کے ملک میں تحصیص ہو۔ 


اب یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی اسلام کے اندر کوئی انحراف شروع ہوا ہے اور اسلامی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو اس دور میں جو بھی عالمی استعمار یا استکبار ہیں انہوں نے فوراً وہاں اپنا کردار ادا کیا۔ 


بنی امیہ سے لے کر اب تک یہی صورت حال موجود ہے۔ 

اس حوالے سے ہمارے رہبر معظم رہبر انقلابی اسلام فرماتے ہیں کہ: 

" یہ جو ہمارے دشمن ہیں یہ خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقت رکھتے ہیں۔"


ہمیشہ پوری تاریخ کے اندر ظالم حکومتوں یعنی طاغوت کی روش یہی رہی ہا اور تا از ظہور ان کی یہی روش رہے گی۔ ظالم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہمیشہ اسلام پر قاری ضرب لگائیں اور اس کے لیے یہ اپنے تمام وسائل سے استفادہ کرتے ہیں۔ 


اب عجیب بات یہ ہے کہ عقیدہ مہدویت در حقیقت ظالموں کے مد مقابل تھا لیکن قادیانیت نے مہدویت کا دعویٰ کر کے اس عقیدے کو ظالموں کی خدمت میں پیش کیا یعنی اس زمانے میں جو برطانیہ کی استعماری حکومت تھی اس کے سامنے پیش کیا۔ 


رہبر معظم فرماتے ہیں کہ : 

"ہمیشہ ظالموں کے لیے جو رکاوٹ تھی اور ہے وہ عقیدہ مہدویت ہے۔"


اس لیے یہ ظالم حکومتیں اس کوشش میں رہیں کہ ہم کوئی ایسا کام کریں کہ عقیدہ مہدویت لوگوں میں سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اور یہی کام فرانس، انگلینڈ جیسی استعماری حکومتوں نے کیا اور آج استعمار امریکہ کی شکل میں ہے کہ آج بھی اس کی یہی کوشش ہے کہ اگر ہم عقیدہ مہدویت کو کہ جو آج بھی اسلام میں لوگوں میں  رائج ہے اس کو اپنے اختیار میں نہیں لے سکتے تو اس کو لوگوں کے ذہنوں سے زائل کر دیں۔ 



9۔ **قادیانی نے کن انبیاء کی توھین کی اور کیا دعوے کئے* 

یہ کتاب حقیقت الوحی میں کہتا ہے کہ : 

سارے نبیؑ میں ہی ہوں۔ میں ہی آدمؑ و شیثؑ ، و نوؑح و اسحؑاق و اسمؑاعیل و یوسؑف و موسیٰؑ ، داوؑد اور عیسیٰؑ ہوں ۔ میں محمدؐ کا مظہر ہوں یعنی میں ہی محؑمد ہوں، میں ہی احؑمد ہوں   

نعوذ باللہ!


کہتا ہے کہ جو کمالات پیغمبرؐ میں ظلی شکل میں موجود ہیں اور چونکہ میں انکا ظل ہوں تو وہ کمالات مجھ میں بھی موجود ہیں۔ اور چونکہ پیغمبرؐ میں یہ کمالات دیگر انبیاؑ سے آئے تھے تو یہ سب میرے اندر بھی ان کی وجہ سے منتقل ہوئے ہیں۔


یعنی پیغمبرؐ کی نعوذ باللہ کوئی اپنی شخصیت نہیں تھی اور انہوں نے یہ کمالات دیگر انبیاءؑ سے بطور ظلی لیے۔ اور ان سے پیغمبرؐ کی ذات میں منعقس ہوئے اور پھر اس شخص میں آتے ہیں۔ یعنی پیغمبرؐ جو گذشتہ انبیاءؑ کا آئینہ ہیں اور یہ پیغمبرؐ کا آئینہ ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب چیز ہے کہ جس کا نہ ہی دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عقل سے کوئی تعلق ہے۔ 


ایک اور بڑی خرابی جو اس شخص کی وجہ سے سامنے آئی کہ اس کذاب نے حضرت عیسیٰؑ کی توہین شروع کر دی۔ حضرت عیسیٰؑ  اولوالعزم پیغمبرؑ، صاحب شریعت ہیں اور دنیا کے جتنے بھی ادیان ہیں سب کے نزدیک قابل احترام ہیں اور خود اسلام میں وہ ایک قابل احترام پیغمبرؑ ہیں اور ہم ان کی نبوت کے اور صاحب انجیل اور صاحب شریعت ہونے کے قائل ہیں۔ 


اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں اور آسمان چہارم پر ہیں اور جب امام مہدیؑ عج آئیں گے تو وہ نازل ہونگے اور امام مہدیؑ عج کے ناصر بنیں گے۔ 


اب اس نے چونکہ جھوٹا عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو اس نے حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریمؑ کی توہین شروع کر دی۔ مثلاً براہین احمدیہ میں یہ لکھتا ہے کہ: 


" عیسیٰؑ مسیح نے انجیل کو ناقص چھوڑ دیا اور آسمانوں میں جا کر بیٹھ گئے۔ "

نعوذ باللہ!


پھر اعجاز احمدیہ کے اندر لکھتا ہے کہ: 

عیسیٰؑ کی تین پیشن گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں۔ اور زمین میں کون ہے جو اس جھوٹ کو درست کرے۔ 

نعوذ باللہ!


پھر ایک کتاب دافعی البلاء میں لکھتا ہے کہ : 

عیسیٰؑ اپنے زمانے میں کوئی زیادہ سچا نہیں تھا (نعوذ باللہ)

یحییٰ نبیؑ کو اس پر فضیلت تھی کیونکہ یحییٰ نبی نہ تو شراب پیتے تھے اور نہ ہی بدکار عورت کے پیسوں سے خوشبو خریدتے تھے اور نہ ہی کسی نامحرم عورت کے ہاتھوں اور بالوں سے  ان کا کوئی لمس ہوا تھا۔ 

نعوذ باللہ!

یعنی گویا یہ کہنے کا مطلب ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰؑ میں یہ ہ چیزیں تھیں اس طرح اس شخص نے جناب عیسیٰ ؑ کی کتنی توہین کی۔ کہ جن کے بارے میں قرآن کیا کہہ رہا ہے۔ 

قرآن حضرت عیسیٰؑ کو ایک با برکت شخصیت قرار دے رہا ہے۔ 

قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ:

سورہ مریم 31

وَجَعَلَنِىْ مُبَارَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ ۖ وَاَوْصَانِىْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31)

اور مجھے با برکت بنایا ہے جہاں کہیں ہوں، اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ ہوں۔


قرآن گواہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی زبان مبارک سے کیا کلمات ہیں اور یہ شخص جو ہے وہ کس انداز سے حضرت عیسیٰؑ کی توہین کر رہا ہے اور وہ باتیں کہ جن کا حضرت عیسیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی کسی کتاب میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 


اس حوالے سے مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ فرماتے ہیں کہ اس نے یہ جتنے بھی افسانے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بنائے ہیں یہ کچھ غربی لوگوں نے بنائے ہیں اور کچھ مشرق کے لوگوں نے بنائے ہیں۔ (یہاں غربی سے مراد لبرل نیٹورک اور مشرق سے مراد یہ فاسد مذاہب)


فرماتے ہیں کہ: 

یہ تمام داستانیں جو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت اور دیگر ہیں ان کی  کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ جو جعلی انجیلیں بنی ہیں یہ اس کے بعد بنا ہے۔ اور یہ جعلی انجیلیں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے 100 یا 150 سال بعد وجود میں آئی ہیں۔ اصلی انجیل تو موجود ہی نہیں۔ 



10۔  *غلام احمد قادیانی نے مہدویت کی تخریب اور انکار پر کیا باطل آراء دیں اور اس کا جواب کیا ہے۔* 


ان لوگوں کی جانب سے عقیدہ مہدویت کے حوالے سے جو ایک بہت بڑا انحراف سامنے آیا وہ میرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا امام مہدیؑ کے حوالے سے اپنی جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کرنا تھا اور نہ کہ فقط اس نے مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا بلکہ مہدویت کا انکار بھی کیا اور اس کو تخریب بھی کیا یعنی اس کی بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنے کی اس نے مذموم کوشش بھی کی۔ 


جب اس نے شروع میں یہ دعویٰ کیا کہ میں ہی مہدی اور عیسیٰ ہوں اور پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کرنا شروع کیا اور پھر وحی الہیٰ کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ اب یہاں اس کے مدمقابل عالم اسلام کے بزرگ تمام شیعہ سنی علماء کرام نےاس کو کذاب کہا اور اس کی تکفیر کی۔ 


نکات: کشف لغطاء  (روحانی خزائن)

۔۔ جب اس نے خود اپنی جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کیا اور جب علمائے کرام نے اس کو کذاب کہا تو اس نے پھر کہا


۔   اصل مہدیؑ ہیں ہی نہیں اور یہ فقط ایک افسانہ ہے

۔  آپ اس بات پر توجہ رکھیں کہ اسلام کے تمام قدیم فرقے ایک ایسے مہدیؑ کے منتظر ہیں کہ جو کہ مادر حسینؑ سیدہ فاطمہ زہراؑ کی نسل سے ایک مہدیؑ دنیا میں آئے گا۔ اور اسی طرح ایک عیسیٰؑ کے منتظر ہیں کہ جو اس مہدیؑ کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جنگ کرے گا۔ 


یہاں تک لکھنے کے بعد وہ آگے یہ بات لکھتا ہے کہ: 

یہاں پر میں تاکید کروں گا کہ یہ سارے فضول خیالات ہیں اور باطل اور جھوٹ ہے نعوذ باللہ!

اور جو یہ خیالات رکھتے ہیں وہ سختی میں ہیں کیونکہ یہ مہدیؑ خیالی ہے اور  اس مہدی کے حوالے سے مسلمانوں کو جہالت اور دھوکہ دیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے اولاد فاطمہؑ سے کوئ مہدی نہیں آئے گا اور اس حوالے سے ساری احادیث جعالی ہیں۔ نعوذ باللہ!


اور یہ ساری جعالی احادیث عباسی حکومت کے دوران بنائی گئیں۔ یعنی اس نے مہدویت کا انکار ہی کر دیا اور تمام متواتر اور صحیح احادیث کو اس نے جعالی قرار دیا۔ 


کتاب البریہ (روحانی خزائن)

یہ اپنی کتاب "کتاب البریہ (روحانی خزائن) میں لکھتا ہے کہ: 

میں کسی خونی مہدی کا عقیدہ نہیں رکھتا :


لکھتا ہے کہ یہ درست ہے کہ میں خاندان بنی ہاشم قریش میں سے کسی خونی مہدیؑ کا عقیدہ نہیں رکھتا کہ جو کہ دیگر مکاتب اسلام کی رو سے فرزند فاطمہؑ ہوگا اور جب ظاہر ہوگا تو زمین کو کفار کے خون سے پُر کرے گا اور یہ تمام احادیث صحیح نہیں اور تمام کتاب کو فضول میں ان احادیث سے بھرا ہوا ہے۔ 

نعوذباللہ!


اور میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ جیسے جیسے میرے مرید اور ماننے والے بڑھیں گے تو ہم سب کا یہ عقیدہ ہے کہ جہاد کم ہونا چاہیے۔ اور میری جو مسحیت اور مہدویت ہے وہ درواقع اس مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔ 

نعوذ باللہ!


پھر اپنی کتاب روحانی خزائن میں ایک اور مقام پر لکھتا ہے کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں وہ مہدی ہوں جو عترت رسولؐ میں سے ہے اور فرزند فاطؑمہ ہےاور یہ احادث جعلی ہیں۔ 


اب یہاں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ فقط جھوٹی مہدویت کا دعویٰ ہی نہیں کرت بلکہ ان امام مہدیؑ کا انکار بھی کرتا ہے کہ جن کا ذکر احادیث میں ہوا ہے یہ ان  احادیث کو بھی جعلی قرار دے رہا ہے۔ 


اب اس کے پاس نہ تو اپنے جھوٹے مہدی ہونے پر کوئی دلیل ہے اور نہ ہی اصلی امام مہدیؑ  کے عقیدے کے انکار پر کوئی دلیل ہے۔  اور نہ ہی ان احادیث کو جھوٹا کہنے پر اس کے پاس کوئی دلیل ہے ماسوائے اس کے اپنے الفاظ اور جھوٹے دعووں کے۔ 


اب ہمارا یہاں فریضہ یہ ہے کہ قادیانیت کہ جس نے اصل مہدویت کا ہی انکار کیا اور اس میں تخریب کی ہم اس کے مدمقابل متوجہ رہیں اور بصیرت کے ساتھ موضوع امام زمانؑ عج کا مطالعہ کریں اور اس پر کام کریں تاکہ اس قسم کی خرافات اور تخریب کا مقابلہ کر سکیں۔ 


رہبر معظم انقلاب کا قیمتی فرمان ہے۔ 

فرماتے ہیں کہ: 

ہمارے جتنے بھی ایسے عقائد ہیں کہ جو ہماری روحانی اور اسلامی زندگی کو بنانے والے ہیں سب پر دشمن حملہ کر رہا ہے۔ اور دشمن ہمارے تمام عقائد اور اسلام کا مطالعہ کرتا ہے انہیں دیکھتا ہے اور کبھی دشمن دسیوں سال کام کرتا ہے کہ اہمار اسلام کے ایک نورانی نقطے کے نور کو کم کرے اور اس کے اندر تاریکی پیدا کرے۔ اور یہ جو ہمارا عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ موعود وہ شخصیت ہیں کہ جو آخری زمانے میں رسولؐ اللہ کے خاندان سے ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور یہ تمام ظلم ختم ہو جائیں گے۔ اس پر دشمن کام کرتا ہے۔ 


رہبر معظم  فرماتے ہیں کہ: 

ہمارا یہ وظیفہ ہے کہ ہم بھی دشمنوں کے مدمقابل اس سے بڑھ کر کام کریں۔ اور اس عقیدہ مہدویت پر عمل کریں اور اس  عقیدہ مہدویت کی تبلیغ اور تشریح پر کام کریں اور لوگوں کو حقائق بیان کریں۔ 




11: *یہ کس کا جملہ ہے کہ اگر قادیانی مسلمان ہیں تو سب مسلمان غیر مسلم ہو جائیں گے۔* 

علامہ اقبالؒ نے یہ فرمایا: 

"اگر قادیانی یہ تمام باطل اور فاسق عقائد رکھنے کے ساتھ ساتھ اگر مسلمان ہیں تو پھر اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم جو سب مسلمان ہیں وہ غیر مسلم ہیں؟"



12۔ *فتنہ گوہر شاہی کے بانی کا تعارف اور اس کے باطل دعوے کیا تھے بیان کریں۔* 


ریاض احمد گوہرشاہی:

ریاض احمد گوہر شاہی 1941 میں راوپنڈی کے پاس کسی گاؤں میں پیدا ہوتا ہے۔  اور ایک بہت بڑا صوفی گوہر شاہ ہے جس کی نسل سے یہ ہے۔ اوراسی لیے اس نسل کا نام گوہر شاہی مشہور تھا ۔اب جب یہ 24 سال کا ہوا تو اس کا رابطہ  مختلف صوفی اور درویشوں کے ساتھ بڑھا۔ اور مختلف درباروں پر جانا شروع کردیا۔ یعنی مرشد پیری فقیری۔ 


 لیکن! ان کو کوئی اچھا مرشد نہیں ملا کہ جس کے ذریعہ یہ ریاضت کرے۔ اسی دوران اس نے شادی بھی کی  اور اس کے تین بچے بھی پیدا ہوئے ۔ 


صوفی جُسہ:

1975 میں  اس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ مجھے جُسہ مل گیا ہے۔ 

صوفیت کی اصطلاح میں جُسہ ایک خاص الہی مقام ہے اور یہ  درویش ، پیرو مرشد اور یہ صوفی لوگ جو ہیں اور ان کا جسہ سے مراد یہ ہوتا ہے کہ " جب انسان اپنے اندر ایک ایسی قوت پیدا کر لے کہ جس سے وہ اپنے اور دیگر لوگوں کے جسموں کے اندر سے شیاطین کو نکال سکے اور اس قوت کے ذریعے انسان مومن اور ولی بن جاتا ہے تو وہ اس قوت کو جُسہ کہتے ہیں۔

 

اس کے بعد 1980 میں اس شخص نے حیدر آباد اور کوٹری سے اپنی تبلیغ کا پروگرام شروع کیا اور اس کے مرید کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے اندر جو بری امام ہیں ان کی قبر سے یہ حکم ملا ہے کہ تم اب اپنا کام شروع کرو۔


شروع میں اس خود کو صوفی کے عنوان سے بیان کیا۔ اور اس کے پیروکار یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے امام مہدی ہے اور جب اس کے سامنے بھی کہا جاتا تھا تو اس نے انکار نہیں کیا بلکہ تائید کرتا تھا۔


1999 میں اس کے خلاف شکایت ہوئی کہ یہ اسلام کے خلاف باتیں کر رہا ہے اور باطل دعوے کر رہا ہے اور پھر پاکستان کے مختلف مکاتب کے علماء  کی جانب سے اس کی  تکفیر ہوئی اور اسے کافر ، گمراہ اور ضال (گمراہ کرنے والا) کا لقب ملا اور پھر  جس کے بعد یہ انگلینڈ چلا گیا اور وہاں جا کر اس نے یہ تبلیغی کام شروع کیا اور پھر یورپ اور امریکا میں بھی اس نے سفر کیے۔یہ انگلینڈ میں 25 نومبر 2001 میں فوت ہوگیا اور اس کے پیروکار جو ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ غیبت صغریٰ میں ہے۔ یعنی وہ یہ مانتے ہیں کہ یہ فوت نہیں ہوا بلکہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ ہے۔


اب اس شخص کے جسد خاکی کو انگلینڈ سے پاکستان لایا گیا اور کوٹری  کے اندر ان کے مرکزی دفتر انجمن سرفروشان اسلام میں اسے دفن کیا۔



باطل دعوے:

سب سے پہلی بات جو اس کے کتابوں کے مطالعے سے سامنے آئی اور اس کی جو گفتگو یوٹیوب وغیرہ پر موجود ہے  وہ یہ ہے کہ یہ تناسبب کا قائل ہے۔ 


 یعنی مرنے کے بعد روح دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہے جو کہ  ہندوؤں کا عقیدہ ہے 


۔اسی طرح تحریف قرآن کا بھی قائل ہے 


اس کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اسلام صرف تنہا دین نجات نہیں ہے بلکہ اگر آپ روحانیت ، صوفیت اس کو سمجھ لیں تو آپ صوفی بن جائیں تو چاہے آپ جس مذہب کے بھی ہوں آپ جہنم میں داخل نہیں ہونگے ۔ ہر مذہب کا روحانی، بانی  ہے وہ جنت میں جائے گا۔


اسی طرح اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا 


اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نے عیسیٰ مسیح کو امریکہ میں دیکھا ہے


 یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نے رسولؐ اللہ سے بلمشافہ ملاقات کی ہے اور انہوں ؐ نے جو کچھ مجھے کہا ہے میں وہ لوگوں کو بیان کر رہا ہوں ۔




13۔ *گوھر شاہی کی پیشن گوئیاں کیا تھیں اور ان کا انجام کیا ہوا* 

پیشن گوئیاں:

پاکستان مکمل کب ہوگا۔ 

1998 میں پاکستان کے مشہور منجم تھے جن کا نام غازی منجم ہے۔ انہوں نے اس کا انٹرویو لیا جس میں اس نے پیشن گوئیاں کئیں وہ یہ تھیں کہ پاکستان اصل میں امام مہدیؑ عج کے لیے بنا ہے اور جب وہ آئیں گے تو اسے مکمل کریں گے۔ اور یہ کہ امام مہدیؑ ابھی موجود ہیں اور ان کے پاس ابھی باطنی امور ہیں۔ اور جب ان کے ہاتھ میں ظاہری امور آئیں گےتو پاکستان مکمل ہو جائے گا لیکن ابھی یہ نامکمل ہے۔ 


کہا کہ دو یا چار سال بعد ایسا ہوگا پاکستان مکمل ہو جائے گا اور پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ یعنی اس نے یہ پیشن گوئی 1998 میں کی تھی۔ 



قیامت کب برپا ہوگی:

اس نے1998 میں  کہا کہ پچیس یا چھبیس سال بعد ایک سیارہ زمین سے ٹکرائے گا اور قیامت پرپا ہو جائے گی جو کہ ایک باطل دعوی ہے



تیسری جنگ عظیم:

اور تیسری پیشن گوئی یہ کی کہ دنیا کی تیسری جنگ عظیم عراق سے شروع ہو گی ۔




14۔ *دین اسلام کو گوہر شاہی نے کیا نقصان پہنچایا* 

اس نے دین اسلام کو عجیب شکل میں پیش کیا۔ دین اسلام کے اہم موضوعات میں اس نے کس انداز میں گستاخیاں کئیں۔ 

جیسے: 

توہین پروردگار عالم:

نعوذ باللہ!

یہ کہتا ہے کہ اللہ مجبور ہے اگرچہ وہ لوگوں کی شہ رگ کے قریب ہے لیکن وہ نہیں دیکھ سکتا۔

 نعوذ باللہ!

بھلا خدا سے بڑھ کر کون دیکھ رہا ہے۔ خدا قرآن میں جو کہتا ہے۔ میں ہر چیز کا عالم ہوں۔ میں بصیر ہوں۔

إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

بےشک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔


اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ

بےشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔


 انبیاء کی توہین:

نعوذ باللہ!

یہ کہتا ہے کہ حضرت آدمؑ حسد میں مبتلا تھے اور اپنے نفس کی بیماری میں مبتلا تھے۔  یا مثلاً ایک جگہ پر یہ لکھتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی قبر خالی ہے اور وہ مرکز شرک ہے اور حضرت خضرؑ قاتل ہیں۔ 

نعوذ باللہ!


15۔ *دعوی مہدویت پر گوہر شاہی کی دلیل اور رد عمل بیان کریں* 


امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ :

گوہر شاہی ویب سائٹ: مہدی فاؤنڈیشن


 

اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو امام مہدیؑ کے حوالے اس نے جو انحرافات ایجاد کئے۔ اس کا نائب یونس الگوہر کہتا ہے کہ ریاض گوہرشاہی نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ہمیں لال باغ سیون شریف سندھ پاکستان میں اللہ کی جانب سے ایک وحی ہوئی تھی کہ ہم امام مہدی ہیں۔ 

نعوذ باللہ!


کہتا ہے کہ اسی وجہ سے عبدالقادر جیلانی کا پوتا حیات الامیر ایک دن میری ملاقات کو آیا اور اس نے مجھے غوث الاعظم کا سلام پہنچایا۔ 


اہلسنت صوفیوں میں یہ بات مشہور ہے کہ :

عبدالقادر جیلانی غوث اعظم نے اپنے پوتے حیات الامیر کو کہا تھا کہ تو ایک دن مہدی کو دیکھے گا اور جب دیکھے تو میرا سلام کہنا۔ اور یہ حیات الامیر سینکڑوں سال طولانی عمر رکھتا ہے اور منتظر ہے کہ کب امام مہدی آئیں اور وہ انہیں غوث الاعظم کا سلام پہنچائے۔ 


عجیب دلائل: 

یہ ایک عجیب  سا عقیدہ اہلسنت کے صوفیہ میں ہے اور گوہر شاہی یہاں یہ کہتا ہے کیونکہ حیات الامیر آئے تھے اور انہوں نے مجھے سلام پہنچایا تو بس میں امام مہدی ہوں۔ 


ایک اور جگہ پر کہتا ہے کہ تقریباً 20 سال قبل اسے اللہ کی جانب سے اشارہ ہوا تھا کہ جب بھی تمھیں حالات مناسب لگیں تو مہدی ہونے کا اعلان کر دینا۔  اور ہم نے اب حالات کو مناسب سمجھا اور آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے نور کو روشن کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ لوگ مہدی کی شناخت کو پا لیں۔ 


ایک اور جگہ پر یہ شخص کہتا ہے کہ جب اللہ سے پوچھا جات اہے کہ کیوں یہ شخص ریاض گوہر شاہی  فاسق اور فاجر لوگوں سے محبت کرتا ہے تو اللہ کہتا ہے کہ چونکہ یہ امام مہدی ہے اسی لیے یہ محبت کرتا ہے۔ 


استغفراللہ! یہ شخص کتنی چالاکی سے لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ یہی امام مہدی ہے (نعوذ باللہ!)

یہ کہتا ہے کہ :  

1994 میں پوری دنیا میں لوگوں کو بشارت دی گئی تھی کہ چاند پہ امام مہدی کا چہرہ  ظاہر ہوگا اور پھر یہ چہرہ دیکھا گیا اور سب نے تائید کی کہ یہ چہرہ ریاض گوہر شاہی کا ہے۔ پھر یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ کچھ نے اس کا چہرہ حجرہ اسود میں دیکھا کچھ نے مندروں میں کچھ نے مسجدوں میں دیکھا کسی نے کلیسا میں دیکھا کسی نے سورج میں دیکھا اور کسی نے مریخ پر دیکھا اور پھر دنیا میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہونا شروع ہوگیا جو دلیل تھی کہ گوہر شاہی امام مہدی ہے کیونکہ اس کی علامت ہر جگہ پر ظاہر ہوگئی اور اس نے اپنا فیض دین الہیٰ کی شکل میں جاری کیا اور وہ یہ تھا کہ جو اس کی کتاب دین الہیٰ ہے۔ 



یونس گوہری لکھتا ہے کہ جب کتاب دین الہیٰ جب ظاہر ہوئی تو وہ ساری پیشن گوئیاں محقق ہوگئیں کہ جو ریاض گوہر شاہی بیان کر رہا تھا کہ ایک دن دین الہیٰ ظاہر ہونا ہے۔ (کتاب دین الہیٰ)


تمام تصویریں جو ویب سائٹ پر موجود ہیں یعنی چاند اور دیگر مقامات پر جو اس کی تصویریں ہیں وہ ایک دھوکا ہے اور خود ساختہ تصاویر ہیں۔ 


اس کے بعد یہی یونس الگوہری کہتا ہے کہ گوہر شاہی نے کہا تھا کہ جب امام مہدی ظاہر ہونگے تو تمام علمائے سو اس کی مخالفت کریں گے۔ اور پھر یہ دنیا کی طاقتیں اور پولیس اس کے پیچھے چل پڑے گی اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی اور اسلامی حکومتں اس کے مخالف ہوجائیں گی کیونکہ جیسا کہ پیشن گوئی آرہی ہے کہ جب امام مہدیؑ عج آئیں گے تو ساری حکومتوں کو ہاتھ میں لیں گے اس لیے ساری اسلامی حکومتیں اسے قتل کرنا چاہیں گی۔ 


نتیجہ کیا ہوا کہ یہ یونس الگوہری کذاب کہتا ہے کہ : 

جب ریاض گوہر شاہی نے دعویٰ مہدویت کیا تو تمام علمائے سو اس کے خلاف ہو گئے اور بلخصوص وہابی فرقے نے اس کے خلاف عدالت میں شکایت کی اور پولیس اس کو گرفتار کرنے کے لیے چل پڑی اور سعودی عرب نے اس کے قتل کے لیے کرائے کے قاتل اس کے پیچھے بھیجے۔ دیوبندیوں اور وھابیوں نے اس کے سر کی قیمت لگائی اور پاکستان میں اس کے گھر پر بم پھینکے گئے۔ اور پھر جب یہ انگلینڈ چلا گیا تو وہاں بھی اس کے گھر پر بم پھینکے گئے اور اس کا گھر جل گیا۔ 


اب یہ واقعات تو اس کے ساتھ ہوئے ہیں جنہیں وہ اس انداز میں بیان کر رہا ہے۔ چونکہ اس نے جھوٹا دعویٰ مہدویت کیا تھا تو مسلمانوں نے اس کے خلاف اقدامات کئے۔ لیکن یونس الگوہر نے اس کو اس کی علامات قرار دیا ۔ 


پھر یہ یونس الگوہری کذاب کہتا ہے کہ امام مہدی نے کبھی اپنی زبان سے نہیں کہنا کہ میں مہدی ہوں یہ لوگوں کے روشن ضمیر ہیں جو اسے پہچانیں گے اور امر حق کا اعلان ہوگا۔ اور آج ایسا ہی ہوا ہے۔  ہر شخص جو روشن ضمیر ہے وہ جانتا ہے کہ ریاض گوہر شاہی کذاب ہی مہدی ہے اور وہ اسی کی پیروی کرے گا۔ اور اگر کسی کے لیے دشوار ہو کہ اسے امام مہدی تسلیم کرے تو آئے اور اس کی تصاویر کو دیکھے کہ کس طرح چاند کے اندر اور حجر اسود، اور سورج میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہوا تھا اور پھر وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرے تاکہ اس کے دل میں وہ نور پیدا ہو کہ اللہ اسے توفیق دے کہ وہ گوہر شاہی کے امام مہدی ہونے پر ایمان لائے اور یہ ایک بہت بڑی توفیق ہوگی جو اسے نصیب ہوگی۔ 

نعوذ باللہ!





16 *جمن شاہی فتنہ کے بانیان کا تعارف اور ان کی کتابوں کے نام کیا ہیں* 


جمن شاہی ایک گروہ ہے جو امام زمانہؑ عج کے عنوان سے قائم ہوا اور انہوں نے بھی انحراف کا راستہ اختیار کیا اور بہت سارے باطل نظریات پھیلائے۔   


 یہ گروہ پاکستان کے اندر جنوبی پنجاب میں لیہ کے قریب ایک چھوٹے سے شہر جمن شاہ میں وجود میں آیا۔  اور وہی ان کی ایک بہت بڑی بارگاہ بھی بنی ہوئی ہے اور اس کا بانی "سید طالب حسین نقوی بخاری" ہے۔


سید طالب حسین نقوی اس گروہ جمن شاہی کا بانی ہے۔  اگرچہ 75 سال کی عمر میں 2004 میں  فوت ہو چکا ہے۔  1940 یا 1941 میں یہ پاکستان کے ایک دینی مدارس میں پڑھنے کے بعد جب نجف اشرف گیا  اور وہاں کن اساتذہ کے پاس پڑھتا رہا معلوم نہیں؟ صرف یہ معلوم ہے کہ کوئی شیخ الجبل نامی کسی شخصیت سے ان کا رابطہ تھا جو صوفی قسم کا انسان تھا اور اپنا زیادہ تر وقت ریاضت اور عبادت میں بسر کرتا تھا۔ 


خصوصیات:

جب سید طالب حسین نقوی  پاکستان آیا اور جمن شاہ میں نے اپنی بارگاہ بنائی اور یہ سارا انحرافی نظام بنایا اس گروہ کا جو طریقہ کار تھا وہ یہ تھا کہ یہ ہر روز مجلس عزا برپا کرنی اور سر و سینہ پر زنجیر زنی کرنی  ہے۔ اسی طرح ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد 10 دن کا اور اضافہ کرنا یعنی 40 دن یہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔ 

ان کا مسلک اخباری ہے اور یہ ہر چیز کے اندر اصل حرام اور اصل نجاست کے قائل ہیں۔  یعنی سب چیزیں حرام ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل ہو وہ حلال ہے سب چیزیں نجس ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل ہو یہ پاک ہے یہ ان کا مسلک ہے۔


 ۔ اسی طرح ان کی خصوصیت ہے کہ یہ بہت زیادہ دعائے فرج امام زمان عج پڑھتے ہیں اور ان کا یہ نظریہ ہے کہ اگر 40 نفر دعائے امام زمانہ عج پڑھیں تو جلدی قبول ہوگی اگر یہ دعا 40 دن چلے تو پھر آپ کی حاجت قبول ہو گی اور اگر چالیس دن روزے کے ساتھ پڑھیں تو اس سے جلدی وہ قبول ہوگی۔


۔ طالب شاہ صاحب نے 1961 میں باقاعدہ اپنے جمن شاہ کے علاقے کے چالیس کے قریب کسانوں کا گروہ تشکیل دیا تھا کہ مل کے دعائے فرج امام زماں پڑھیں اور انہوں نے تعلق سے نجفی کی بیعت بھی کی اور اپنے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے ان کا خمس ادا کیا اور پھر یہ عہد بھی باندھا کہ کسی اور  کے گھر سے کھانا نہیں کھائیں گے۔


 ۔ اب ان کا دعوی ہے کہ یہ جو 40 کسان ہیں ان سب کو امام زمانؑہ عج  سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔


۔ اس گروہ کی جو دوسری بڑی شخصیت اسی طالب حسین کا بیٹا "سید جعفر الزمان" ہے۔ یہ دوسرا بانی ہے اس گروہ نے تقریبا 30 کے قریب کتابیں لکھی ہیں اور 2003 میں یہ شخص بظاہر مسموم ہوا ہے اور فوت ہو گیا۔


 *کتابیں* : 

قلندر نامہ، کلیات جعفر الزمان، زمان پامسٹری، مصباح القیافہ، گہر روحانیات، اسرار العبدیات، نہج المعرفت فی اسماء القائم، عرفان امامت، دین نصرت، صحیفہ نصرت، عرفان حجت، طریق المنتظرین، دعائے تعجیل فرج، شرح دعائے عہد، مصباح شیعت، انتصار ولائت عصر ، انتصار مظلوم ، وغیرہ


17: *جمن شاہی کے عقائد ، نظریات میں سے کوئی 5 بیان کریں* 

غیر خدا کو سجدہ کرنا:

انہوں نے لوگوں کے عقائد کے اندر انحراف پیدا کیا۔ یہ اس جواز کے قائل ہیں کہ غیر خدا کو سجدہ کیا جائے۔ حالانکہ دین اسلام میں سب مکاتب فکر کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سجدہ صرف اور صرف خدا کو ہے۔ 


جانور کو ذبح کرتے ہوئے امام زمانؑ عج کا نام لینا:

یہ ایک بہت بڑا انحراف ہے۔ اس سے جانور نجس ہو گیا کیونکہ جب بھی جانور ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام لیں گے تو ایسا ذبح شدہ جانور کھانا حرام ہے۔ 


تقلید نہ کرنے کا فتویٰ:

انہوں نے تقلید نہ کرنے کا فتویٰ دیا یعنی ان کے ماننے والے کسی بھی مرجع کی تقلید نہیں کرتے۔ یعنی یہ بھی انحراف ہے۔ امام زمانہؑ عج نے تقلید کا حکم دیا ہے اور یہ امام ؑ عج کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔ 


قرآنی آیات کی تفسیر بلرائے کرنا: 

یہ سب سے بڑا انحراف ہے۔ یعنی اپنی رائے کے مطابق قرآن پاک کی آیات کی تفسیر کرنا اور جو آیات پروردگار کے حوالے سے ہیں ان کو محمدؐ و آل محمدؑ پر تطبیق دیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ گروپ پاکستان کے اندر غلو کا مرکز قرار پایا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں شخیت والا گروپ غلو آمیز افکار کو نشر کرتا تھا اور اب شاہی گروپ اس قسم کے افکار کا مرکز ہے۔ 


بچیوں کو بعنوان خمس لینا:

یہ لوگ دین اسلام اور مکتب تشیہو کی بدنامی کا باعث ہیں۔  

یہ لوگوں کی بچیوں کو بعنوان خمس لیتے ہیں اور لیہ میں اپنی خانقاہ دری پاک میں رکھتے ہیں۔ 


غیبت امامؑ زمان میں شادی کرنا ممنوع ہے:

یہ کہتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں شادی کرنا ممنوع ہے۔






تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات