---
ہماری گفتگو مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں ہے، جنہوں نے اسلام کے کئی بنیادی اصولوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے ختم نبوت کا انکار کیا، جہاد کی غلط تشریح کی، اور ان کی تعلیمات واضح طور پر انگریز استعمار کے مفاد میں تھیں، جیسا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں بیان کیا۔
### مہدویت کے عقیدے پر حملہ
ایک بڑا انحراف ان کا مہدویت کا جھوٹا دعویٰ تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں کہا کہ وہ وہی مہدی ہیں جس کی بشارت پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی، جب کہ اسلام زوال کا شکار ہو رہا ہوگا۔ یہ دعویٰ 1891 میں کیا گیا اور ان کی کتاب *روحانی خزائن* میں موجود ہے۔
انہوں نے قرآن کی آیات کو اپنے اوپر منطبق کرنے کی کوشش کی، خاص طور پر آیت "ہو الذی ارسل رسولہ"۔
### علمائے اسلام کا رد عمل
تمام اسلامی علماء، چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ، نے ان کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ حدیثوں میں جو علامات اور صفات امام مہدی (علیہ السلام) کی بیان کی گئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس شخص میں موجود نہیں تھیں۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو نشانات بیان کیے، وہ اس کے اندر نہیں تھے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ جھوٹا تھا۔
امام مہدی (علیہ السلام) کی چند خصوصیات یہ ہیں:
1. وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بی بی فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی نسل سے ہوں گے۔
2. وہ پوری زمین کے حاکم بنیں گے، جبکہ قادیانی نے ایک چھوٹے سے شہر میں زندگی گزاری۔
3. وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، لیکن قادیانی نے تو ظلم و ستم کی حمایت کی۔
4. امام مہدی (علیہ السلام) کی علامات میں سے ایک دجال کا خروج ہے، جبکہ قادیانی خود اس کا چہرہ بن گیا۔
5. امام مہدی (علیہ السلام) کی مدد کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے، مگر قادیانی نے خود کو مہدی اور عیسیٰ دونوں کا دعویٰ کیا۔
### نتیجہ
یہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ لوگ واضح حقائق کے باوجود کیوں گمراہ ہو جاتے ہیں۔ علم حاصل کرنا اور اپنے دین کی صحیح تفہیم ضروری ہے تاکہ ہم اپنے وقت کے امام (علیہ السلام) کی معرفت حاصل کر سکیں۔
---
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
# *موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی*
*درس 7*
*# نکات : میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہانت ،ریبر معظم کی نگاہ میں ایسے افسانوں کی حقیقت*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 18 ربیع الثانی 1446( 22 اکتوبر ، 2024)**
**خلاصہ**
ہماری گفتگو کا موضوع قادیانیت ہے، جو ایک باطل مذہب ہے۔ میرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے جھوٹے مہدی اور عیسیٰ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، پھر ختم نبوت کا انکار کیا اور اسلام کے کئی اصولوں میں تبدیلی کی۔ اس نے نبی ہونے کا بھی دعویٰ کیا، مختلف اصطلاحات جیسے "نبی ظلی" وغیرہ پیش کیں، اور نئی کتاب اور دین کا تعارف کرایا۔
عالم اسلام کے تمام شیعہ اور سنی علماء نے اس کی تکفیر کی اور اس کے پیروکاروں کو خارج از اسلام قرار دیا۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق، غلام احمد نے حضرت عیسیٰ کی توہین کی، جو اسلام میں ایک محترم نبی ہیں۔ اس نے عیسیٰؑ پر بے بنیاد الزامات لگائے، حالانکہ قرآن ان کی شخصیت کو با برکت قرار دیتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قادیانیت میں نہ صرف نئے دین کا دعویٰ کیا گیا بلکہ سابقہ انبیاءؑ کی توہین بھی کی گئی۔ اس لیے یہ دعوے باطل ہیں، اور قادیانی پیروکار مسلمان نہیں ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ہمیں ان گمراہ نظریات سے محفوظ رکھے اور ہمیں دین اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: قادیانیت سے آشنائی*
*درس 8*
*# نکات : میرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے اصل اسلام اور سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے، آنحضرت ص کے سارے اوصاف و کمالات کو اپنے اندر بیان کرنا، علامہ اقبال رح اور رھبر معظم انقلاب کی رائے*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 23 ربیع الثانی 1446( 27 اکتوبر ، 2024)**
**موضوع: قادیانیت کا تجزیہ اور اس کے اثرات**
ہماری گفتگو کا موضوع باطل فرقے ہیں جو اسلام کے اندر سے ابھرے اور لوگوں میں گمراہی پھیلائی۔ ان میں قادیانی فرقہ ایک اہم فرقہ ہے، جس نے دین اسلام کو کافی نقصان پہنچایا۔
**قادیانی فرقے کے دعوے:**
میرزا غلام احمد قادیانی نے پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں عجیب اصطلاحات متعارف کروائیں، جیسے کہ "ظلی نبی"۔ وہ کہتا تھا کہ پیغمبر کے کمالات اس میں بھی موجود ہیں، اور وہ خود کو "ظل محمد" قرار دیتا تھا۔
**قادیانی عقائد:**
قادیانی اپنے نبی کے القابات کو پیغمبر کے اوصاف سے منسوب کرتے ہیں، جیسے خاتم الانبیاء اور صاحب کوثر۔ ان کے عقیدے کے مطابق، زمین و زمان کا وجود صرف غلام احمد کی وجہ سے ہے۔
**توہین کا پہلو:**
قادیانی دعوے اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میرزا کا دور پیغمبر کے دور سے بہتر تھا۔ اس طرح، وہ پیغمبر کی توہین کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ نے تمام انبیاء سے یہ وعدہ لیا کہ وہ غلام احمد پر ایمان لائیں۔
**علامہ اقبال اور دیگر علماء کی رائے:**
علامہ اقبال نے فرمایا کہ اگر قادیانیوں کے عقائد درست ہیں تو باقی مسلمان غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے قادیانیت کو زیادہ خطرناک قرار دیا کیونکہ یہ اسلام کا لباس اوڑھ کر اس کی روح کے خلاف ہیں۔
**نوآبادیاتی پس منظر:**
قادیانیت کا ابھار برطانوی نوآبادیاتی دور کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ مغربی طاقتوں نے اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کی، اور قادیانیت اس کا ایک حصہ ہے۔
**خلاصہ:**
قادیانیت نے ختم نبوت، مہدویت اور دیگر بنیادی اسلامی عقائد پر حملہ کیا ہے۔ تمام علمائے کرام کا متفقہ نظریہ ہے کہ یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں ان فتنوں سے محفوظ رکھے اور اسلام کی صحیح تعلیمات کا دفاع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی*
*درس9*
*نکات : فرقہ گوھر شاھی اور اسکے بانی کا تعارف ، ریاض گوھر شاھی کے جھوٹے دعوے اور نظریات*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 👘
اتوار 30 ربیع الثانی 1446( 3 نومبر ، 2024)**
## موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
### موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی
### نکات:
1. **فرقہ گوھر شاہی کا تعارف**:
- گوھر شاہی ایک جدید روحانی تحریک ہے جس کے بانی کا نام "ریاض گوھر شاہی" ہے۔
- یہ فرقہ اپنے آپ کو تصوف اور روحانیت کا علمبردار سمجھتا ہے۔
2. **بانی کا پس منظر**:
- ریاض گوھر شاہی کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک روحانی معلم ہیں، جنہیں خاص طور پر "خود کو" تسلیم کیا گیا ہے۔
- ان کے مطابق، ان کی تعلیمات میں الہیٰ علوم کی دستیابی کا وعدہ شامل ہے۔
3. **جھوٹے دعوے**:
- گوھر شاہی خود کو "مسیح موعود" اور "مہدی" قرار دیتے ہیں، جو کہ اسلامی عقائد کے مطابق مبہم اور متنازعہ ہے۔
- ان کا یہ دعویٰ کہ وہ روحانی طور پر تمام مذاہب کی حقیقت کو بیان کر سکتے ہیں، انتہائی بے بنیاد ہے۔
4. **نظریات**:
- گوھر شاہی کے نظریات میں کثرت سے "آفاقی محبت" اور "روحانی علم" کی بات کی جاتی ہے، جو کہ بظاہر خوبصورت لگتے ہیں لیکن ان کے اندر کئی تضادات ہیں۔
- وہ انسانی روح کی نجات کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی تعلیمات میں شرک کی آمیزش موجود ہے۔
5. **انحرافی عناصر**:
- گوھر شاہی کے پیروکاروں میں سے کئی نے دیگر مذہبی تعلیمات کے خلاف بیانات دیے ہیں، جو فرقہ واریت کو بڑھاتے ہیں۔
- ان کے پیروکار بعض اوقات روایتی مذہبی لوگوں کے ساتھ تنازع میں پڑ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرتی امن متاثر ہوتا ہے۔
6. **مقابلہ کرنے کی اہمیت**:
- اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان جھوٹے دعووں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کی جا سکیں۔
- عوامی سطح پر آگاہی پھیلانا، اور سچائی کو بیان کرنا، اس فرقے کی فتنہ انگیزی کے خلاف ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔
7. **اختتام**:
- جھوٹے انحرافی فرقوں کے مقابلے کے لیے ضرورت ہے کہ ہم اپنی اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور روحانیت کی صحیح راہنمائی فراہم کریں۔
- طلباء اور عوام کو صحیح علم فراہم کر کے، ہم ان فتنوں کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔
یہ نکات ہمیں گوھر شاہی کے جھوٹے دعووں اور نظریات کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گے، تاکہ ہم اس کے خلاف مؤثر طور پر بات کر سکیں۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 30 ربیع الثانی 1446(2 نومبر ، 2024)**
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی*
*درس9*
*نکات : فرقہ گوھر شاھی اور اسکے بانی کا تعارف ، ریاض گوھر شاھی کے جھوٹے دعوے اور نظریات*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
ہماری گفتگو ان جھوٹے انحارفی مکاتب میں ہورہی ہے جو مہدویت کے نام سے دنیا میں شہرت پائی اور گمراہ ہوئے اور بہت سارے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنے۔اس میں سب سے پہلے قادینیت پر تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔آج سے ہم ایک اور *جھوٹا مکتب* *جو پاکستان سے اٹھا* ہے اور اس وقت بھی ان کے ماننے والے دنیا میں کافی حد تک موجود ہے، وہ *مکتب گوہر شاہی* ہے۔
اس مکتب کا جو *بانی* ہے *ریاض احمد گوہر شاہی* ، اس نے *1980* میں حیدر آباد میں *جھوٹے مہدی* ہونے کا *دعویٰ* کیا تھا۔
یہ شخص *بذات خود* مذہبی اعتبار سے اہل سنت اور *بریلوی فرقہ* سے تعلق رکھتا ہے اور صوفی مشہور ہے۔اسی شخص نے ایک انجمن بنائی تھی ، انجمن اسلام ، یہ اس کا بانی بھی ہے۔ *2001* میں یہ شخص *فوت* ہو چکا ہے لیکن اس کا نائب یعنی اس مکتب کا دوسرا سربراہ *یونس الگوہری* وہ اب اس _مکتب گوہر شاہی_ کو آگے بڑھا رہا ہے۔اور اس نے *مہدی فاونڈیشن* بھی بنائی ہوئی ہے۔جو بین الاقوامی سطح پر کام کر رہی ہے اور یہ خود بھی دینا میں مختلف جگہوں پر آن لائن لکچر دیتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے ماننے والے موجود ہے۔
اسی طرح یہ جو *مہدی فاونڈیشن* ہے ان کا ایک اخبار بھی ہے *ہاتف مہدی* اس کو یہ بین الاقوامی سطح پر نشر کرتے ہیں۔ اور یہ رسالہ یا اخبار چھپتا ہے اور بہت سے ادارے کام کرتے ہیں۔
اب ہم۔اس کے بانی کے بارے میں تھوڑا سا بیان کرتے ہیں کہ یہ ریاض احمد گوہر شاہی جو ہے *1941* میں *راوپنڈی* کے پاس کسی گاوں میں *پیدا* ہوتے ہیں اور یہ وہاں کا ایک بہت بڑا صوفی جس کا دربار ہے گوہر شاہ،یہ اس کی نسل سے ہے۔اسی لیے اس نسل کا نام گوہر شاہی وہاں مشہور تھا ۔اب جب یہ *24 سال* کے ہوئے تو انہوں نے مختلف صوفی اور درویشوں کے ساتھ رابطہ بڑھائے لیکن ان کو کوئی اچھا مرشد نہیں ملا کہ جس کے ذریعہ یہ ریاضت کرے۔اسی دوران انہوں نے شادی بھی کی اور ان کے تین بچے بھی پیدا ہوئے ۔ *1975* میں اس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ مجھے *جُسہ مل گیا* ہے۔ *صوفیت* کی *اصطلاح* میں *جُسہ* ایک *خاص الہی مقام* ہے اور یہ پیر، مرشد، صوفی لوگ جو ہیں ، ان کا جسہ سے مراد یہ ہوتا ہے کہ " جب انسان اپنے اندر ایک ایسی قوت پیدا کرلیں کہ جس سے وہ اپنے اور دیگر لوگوں کے جسموں سے *شیطانوں کو نکال سکیں اور اس قوت کے ذریعے انسان مومن اور ولی نب جاتا ہے تو وہ اس قوت کو جُسہ کہتے ہیں۔*
اس کے بعد *1980* میں اس شخص نے *حیدر آباد* اور کوٹری سے اپنے *تبلیغ کا آغاز* کیا اور اس کے مرید کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے اندر جو بری امام ہے ان سے ، اس قبر سے یہ حکم ملا ہے کہ تم اب اپنا کام شروع کرو۔شروع میں اس خود کو صوفی کے عنوان سے بیان کیا۔اور اس کے پیروکار یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے امام مہدی ہے اور جب اس کے سامنے بھی کہا جاتا تھا تو اس نے انکار نہیں کیا ۔بلکہ تائید کرتا تھا۔
*1999* میں اس کے خلاف *عدالت* میں *شکایت* ہوئی کہ یہ اسلام کے خلاف باتیں کر رہا ہے اور پاکستان کے مختلف مکاتب کے علماء کی طرف سے اس کی تکفیر ہوئی اور اسے کافر ، گمراہ اور ضال کے لقب دیئے گئے۔پھر یہ *انگلینڈ چلا گیا* اور وہاں جا کر اس نے یہ *تبلیغی کام شروع* کیااور اسی دوران یورپ اور امریکا میں بھی اس نے سفر کیے۔یہ *انگلینڈ* میں *25 نومبر 2001 میں فوت* ہوگیا اور اس کے پیروکار جو ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ غیبت صغریٰ میں ہے ، یعنی فوت نہیں ہوا ۔اس شخص کے جسد خاکی کو انگلینڈ سے پاکستان لایا گیا اور کوٹڑی کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔
خود ریاض احمد گوہر شاہی کی کتابیں موجود ہیں ۔
اب ہم اس کے اس *عقائد* اور جو *دعوے* ہیں ان کی طرف ایک اشارہ کرتے ہیں ۔
سب سے پہلی بات جو اس کے کتابوں کے مطالعے سے سامنے آئی اور اس کی جو گفتگو یوٹیوب وغیرہ پر موجود ہے اس سے۔یہ تناسبب کا قائل ہے یعنی مرنے کے بعد روح دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہے۔اسی طرح تحریف قرآن کا بھی قائل ہے اور اس کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اسلام صرف دین نجات نہیں ہے بلکہ اگر آپ روحانیت ، صوفیت اس کو سمجھ لیں تو آپ صوفی بن جائیں گے۔چاہے آپ جس مذہب کے بھی ہوں آپ جہنم میں داخل نہیں ہونگے ۔ہر مذہب کا روحانی، بانی ہے وہ جنت میں جائے گا۔
اسی طرح اس نے *مہدی* ہونے کا *دعویٰ* کیا اور اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نے عیسیٰ مسیح کو امریکہ میں دیکھا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نے نی پاک ؐ سے بھی ملاقات کی ہے اور انہوں ؐ نے جو کچھ مجھے کہا ہے میں وہ لوگوں کو بیان کر رہا ہوں ۔
اس کی *پیش گوییاں* :-
1998 میں انہوں نے پاکستان کے مشہور غازی منجم کے ساتھ جو انٹرویو کیا اس میں یہ پیش گویی کی کہ پاکستان اصل میں امام مہدی کے لیے بنا ہے اور وہ اکر اسے مکمل کریں گے ۔ابھی ان کے پاس باطنی امور ہے اور جب ظاہری امور انبکے ہاتھ میں آئے گا تو وہ اسے مکمل کریں گے۔اور یہ دو یا چار سال بعد مکمل ہوگا اور پاکستان پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔
پھر انہوں نے کہا کہ پچیس یا چھبیس سال بعد ایک سیارہ زمیں سے ٹکرئے گا اور قیامت پرپا ہو جائے گا۔
اور تیسری پیشن گوئی یہ کی کہ دنیا کی تیسری جنگ عظیم عراق سے شروع ہو گی ۔
یہ ان کی پیش گوئیا ں ہیں جو انٹرنیٹ وغیرہ پہ موجود ہے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی*
*درس10*
*نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات ، تحریف قرآن ، عقیدہ تناسخ،دین اسلام کو بری شکل میں پیش کرنا ، انبیاء کی توہین، امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ اور عجیب دلائل*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 2 جمادی الاول 1446( 5 نومبر ، 2024)**
*ہماری گفتگو کا موضوع فتنہ گوہر شاہی ہے۔*
یہ فتنے کا بانی ریاض گوہر شاہی ہے۔ حالانکہ وہ مر چکا ہے، اس کا نائب یونس الگوہر اب اس فتنے کو پھیلانے میں مصروف ہے۔ چونکہ ان کے پیروکار موجود ہیں اور یہ دعویٰ امام زمانہؑ (علیہ السلام) کے نام پر جھوٹا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تجزیہ کیا جائے اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔
یہاں کچھ ایسے اہم نکات ہیں جن کے ذریعے گوہر شاہی اور اس کے پیروکاروں نے لوگوں کے ایمان کو نقصان پہنچایا:
### *1. گوہر شاہی کی کتابیں:*
*دین الہی، روحانی سفر*
### *2. تحریف قرآن:*
گوہر شاہی اور اس کے پیروکار قرآن کی تحریف کے قائل ہیں۔ ریاض گوہر شاہی کہتا ہے کہ قرآن کے ظاہری طور پر 30 پارے ہیں، لیکن باطن میں مزید 10 پارے ہیں، اور ان 10 پاروں کا انکشاف اس پر عبادت اور ریاضت کی بنا پر ہوا۔
*استغفراللہ!*
یہ بات قرآن کی واضح آیات کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی، اور اس بات پر تمام مسلم علما کا اجماع ہے کہ جو شخص قرآن کی تحریف کا قائل ہو، وہ دین سے خارج ہے۔
### *3. عقیدہ تناسخ:*
ریاض گوہر شاہی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ انسان کی روح مرنے کے بعد دوسرے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے، جو کہ ہندو مت کا عقیدہ ہے۔ اس نے اسے ایک اسلامی عقیدہ بنا کر پیش کیا، حالانکہ قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اسلام میں عقیدہ معاد ہے، جس کے مطابق انسان کی روح برزخ میں منتقل ہوتی ہے۔
### *4. دین اسلام کو بدنام کرنا:*
ریاض گوہر شاہی نے دین اسلام کو ایک عجیب و غریب شکل میں پیش کیا۔ اس نے چند اہم اسلامی موضوعات میں توہین کی، جیسے:
- **توہین پروردگار عالم:**
وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجبور ہے، حالانکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
*إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ* (بیشک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے)
*إِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ* (اللہ بندوں کو دیکھتا ہے)
- **توہین انبیاء:**
گوہر شاہی کہتا ہے کہ حضرت آدمؑ حسد میں مبتلا تھے اور حضرت موسیؑ کی قبر خالی ہے۔ اس نے حضرت خضرؑ کو قاتل قرار دیا۔ *نعوذ باللہ!*
### *5. امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ:*
ریاض گوہر شاہی نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، اور اس کے نائب یونس الگوہر نے اس دعوے کو مزید پھیلایا۔ وہ یہ کہتا ہے کہ 1994 میں چاند پر امام مہدی کا چہرہ ظاہر ہوا، جو ریاض گوہر شاہی کا تھا۔ اس کے مطابق، گوہر شاہی کی علامتیں چاند، سورج، اور دیگر مقامات پر ظاہر ہوئی تھیں، اور یہ علامتیں اس کے امام مہدی ہونے کی دلیل ہیں۔
*نعوذ باللہ!*
### *6. جھوٹے دعووں کا رد:*
یونس الگوہر یہ کہتا ہے کہ گوہر شاہی نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر جب وہ سعودی عرب سے انگریزوں کے پاس گیا، اس پر حملے کیے گئے۔ اس نے اس سب کو امام مہدی کے ظہور کی علامات قرار دیا۔
یہ سب جھوٹے دعوے ہیں جو مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے کیے گئے۔
### *خلاصہ:*
ان تمام نکات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے دل و دماغ کی آنکھیں کھولیں اور ان جھوٹے دعووں کا مقابلہ کریں۔ یہ فتنے اس لیے پھیلائے جا رہے ہیں تاکہ امام مہدیؑ کا ظہور روک دیا جائے اور ان کے آنے میں تاخیر ہو۔
ہم سب کو اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں امام مہدیؑ کے سچے پیروکار اور فکری سپاہی بنائے تاکہ ہم ان جھوٹے عقائد کا مقابلہ کر سکیں۔
*انشاءاللہ!*
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی*
*درس11*
*نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے،نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 7 جمادی الاول 1446( 10 نومبر ، 2024)*
*نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے،نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب*
مہدویت کے موضوع پہ جتنے بھی باطل فرقے بنے جو اپنے ساتھ دوسروں کی بھی گمراہی کا باعث بنے ان میں قادیانیت کے بعد ایک اور اہلِ سنت کاصوفی گروہ ریاض گوھر شاہی کا ہے ۔جس نے نہ صرف مہدویت کا دعویٰ کیا بلکہ قرآن میں تحریف کا بھی قائل ہوا اور انبیاء کی اہانت کا بھی باعث بنا۔۔
اسلام کے اندر انحراف کئے یہ خود تو فی النار ہو چکا ہے لیکن اسکا نمائندہ یونس الگوہری دنیا میں موجود ہے۔۔جو ایک سائٹ کے ذریعے گوہر شاہی کی کتابوں اور تعلیماتِ باطل کو لوگوں تک پہنچا کر انکی گمراہی کا باعث بن رہا ہے۔
امام مہدی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن میں تمام گوہر شاھی کی کتابیں جمع کی ہوئی ہیں اپنی ایک کتاب میں امام صادق ع کا فرمان نقل کیا ہے جس میں لکھا ہے ک امام ع کے فرمان کے مطابق امام مہدی ع کا چہرہ چاند میں دیکھا جائیگا۔۔گوہر شاھی کی تصویر بھی واضح طور پہ چاند میں دکھائی دی ہے لہزا یہ ہی مہدی ہے۔۔(ن۔ب)
امام علی ع نے فرمایا کہ امام مہدی ع کی پشت پہ مہرِ نبوت ہو گی ۔۔۔گوہر شاھی کی پشت پہ بھی ایسا نشان موجود تھا اور اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پہ رسول ص کا نام اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں پہ خدا کا نام درج تھا۔۔۔رسول ص کی حدیث ہے کہ مہدی ع کعبہ میں ظاہر ہونگے حجرِ اسود ان کی شناخت میں مدد کرے گا۔۔۔گوہر شاھی کی تصویر بھی حجرِ اسود میں ظاہر ہوئی ہے۔۔۔اپنی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں کہ امام مہدی ع تمام فرقوں کو اللّٰہ کے نام پہ جمع کرینگے۔۔۔گوہر شاھی نے بھی اسکی ترویج کی ہے تمام مذاہب کے لوگ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اس نے پوری دنیا کو اللّٰہ کے ذکر اور عشقِ الہٰی سے سر شار کیا ہے۔۔
اس نے کہا کہ تمام دریا اور سمندر جب مل جاتے ہیں تمام دینی مذاہب جب جمع ہو جاتے ہیں تو جو چیز اس میں گم ہو جاتی ہے وہ عشقِ الہٰی ہے اور میں اسے زندہ کرنے آیا ہوں۔۔۔اس نے دعویٰ کیا کہ میرے پاس علمِ لدنی ہے ۔جو جاننا چاہے وہ اسکی کتاب دینِ الٰہی پڑھے۔۔۔امام احمد رضا نے کہا تھا کہ امام مہدی ع براہِ راست نبی ص سے حکمت لیں گے۔۔۔گوہر شاہی نے بھی دعویٰ کی کہ میں نے باالمشافہ رسول ص سے ملاقات کی ہےجو کچھ وہ مجھے دیتے ہیں میں لوگوں کو بیان کرتا ہوں۔۔۔ان کا کہنا ہے کہ گوہر 27 نومبر 2001 کو اس دنیا سے غائب ہوگئے اب حضرت عیسٰی ع کے ساتھ ظہور کرینگے۔شیعہ کتب میں امام مہدی ع کی روایات میں کوئی بھی گوہر شاھی سے نہیں ملتی اس کے تمام دعوے جھوٹے ہیں جنکی کوئی حقیقت نہیں ہے۔۔۔امام ع تو اولادِ پیعمبر ص سے ہیں۔ جبکہ یہ گوہر تو سید بھی نہیں خود کو مغل کہلواتاتھا۔۔30 سالہ آلودہ زندگی گزاری حلال و حرام کی تمیز بھی نہیں تھی۔حضرت عیسٰی ع امام مہدی ع کے ساتھ آئینگے۔۔۔
تمام علماء نے شاھی کے دعووں کو جھوٹاقرار دیا اور سخت ردِ عمل دکھایا ہے۔
اس نے کلمے میں بھی تحریف کی ہے۔۔۔بظاہر تو مسلمان ہے لیکن علی الاعلان اسلام کے خلاف کام کیا۔۔یہ کہتا ہے کہ نماز روزے سب روحانیت سے خالی ہیں ۔۔روحانیت و تصوّف انسان کے دل میں ہوتا ہے۔۔
یہ سب مغربی سازش کا ایک حصّہ ہے ہمیں چاہیے کہ ان تمام دعوؤں کو رد کرتے ہوئے حقیقی معرفتِ امام ع حاصل کریں اور اپنے بچوں کو بھی امام ع سے روشناس کروائیں خدا ہمیں امام ع کے سپاہ میں قرار دے آمین ۔۔ان شاء اللّٰہ۔۔
والسلام
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
**موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ**
**درس 11: گوہر شاہی سے آشنائی**
**نکات: گوہر شاہی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے، نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب**
**استاد درس: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب**
**عالمی مرکز مہدویت قم**
**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
**اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ**
آج کے درس میں ہم گوہر شاہی کے باطل نظریات اور دعووں کا جائزہ لیں گے، جو ہمارے عقیدے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ گوہر شاہی کا دعویٰ خود کو امام مہدی (علیہ السلام) اور اللہ کے ولی ہونے کا ہے، جو کہ مکمل طور پر جھوٹ اور گمراہی ہے۔
### گوہر شاہی کے دعوے اور ان کا رد:
1. **گوہر شاہی کا دعویٰ امام مہدی (علیہ السلام) ہونے کا**
گوہر شاہی نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ امام مہدی (علیہ السلام) ہیں، جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور باطل عقیدہ ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، امام مہدی (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے منتخب فرد ہیں، جن کا ظہور قیامت کے قریب ہوگا اور وہ عالمگیر عدل قائم کریں گے۔ ان کا یہ ظہور ایک مخصوص وقت اور مخصوص علامات کے ساتھ ہوگا، جو کہ گوہر شاہی کے دعوے سے قطعی طور پر مختلف ہے۔
**جواب**: امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور اللہ کی مشیت سے ہوگا اور اس کا وقت فقط اللہ کی علم میں ہے۔ ہمارے عقیدے کے مطابق، امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور سے پہلے کوئی بھی دعویٰ کہ کوئی شخص امام مہدی ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
2. **گوہر شاہی کا دعویٰ اللہ سے ملاقات کا**
گوہر شاہی نے دعویٰ کیا کہ وہ اللہ سے براہ راست ملاقات کرتے ہیں اور اللہ سے ان کی خصوصی تعلقات ہیں۔ یہ دعویٰ بھی شدید غلط ہے اور قرآن و حدیث کے برخلاف ہے۔ قرآن میں صاف کہا گیا ہے کہ اللہ کا دیدار دنیا میں ممکن نہیں۔
**جواب**: امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا: "اللہ کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے، بلکہ ایمان کے ذریعے جانا جا سکتا ہے"۔ کوئی بھی شخص اللہ سے ملاقات کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اس بات کو جھوٹ بول رہا ہوتا ہے۔
3. **گوہر شاہی کا دعویٰ روحانیت میں کمال کا**
گوہر شاہی نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پاس روحانیت کا اعلیٰ علم ہے اور وہ لوگوں کو اس علم میں بلند مقام تک پہنچا سکتے ہیں۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، روحانیت کا صحیح راستہ قرآن اور اہل بیت (علیہ السلام) کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
**جواب**: صحیح روحانیت اور علم کا منبع صرف قرآن مجید اور اہل بیت (علیہ السلام) کی تعلیمات ہیں، جو اسلام کا اصل پیغام ہیں۔ کوئی بھی دعویٰ جو ان ذرائع سے ہٹ کر روحانیت کی نئی راہوں کا پیش کرے، وہ ایک فریب ہے۔
### گوہر شاہی کے دیگر باطل نظریات:
- **دعا اور عبادات کی تحریف**: گوہر شاہی نے دعاؤں کو مخصوص طریقوں اور مخصوص افراد کے ذریعے حل کرنے کی بات کی، جو کہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے۔
- **غیر اسلامی تصوف کی ترویج**: گوہر شاہی نے صوفی ازم کا غلط مفہوم پیش کیا اور اسے دین کی اصل تعلیمات کے طور پر پیش کیا، حالانکہ تصوف کا اصل مقصد اہل بیت (علیہ السلام) کی محبت اور تقویٰ کا حصول ہے۔
### نتیجہ:
ہمیں گوہر شاہی اور اس جیسے انحرافی فرقوں سے بچنا چاہیے اور ہمیشہ اسلام کی صحیح تعلیمات اور عقائد کو اپنا کر گمراہی سے بچنا چاہیے۔ امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور اللہ کی طرف سے ہوگا، اور ہمیں ان کے ظہور کے منتظر رہنا چاہیے۔
اللہ ہمیں اپنی ہدایت دے اور گمراہی سے بچائے، آمین۔
**والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ**🌹🌹🌹
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
**اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ** 🌿🌿
میں اللہ کے بے شمار انعامات کا شکر ادا کرتی ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے شمار رحمتیں ہوں۔ پروردگار کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ وہ یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں ان کے حقیقی پیروکاروں میں شامل کرے، آمین۔ 🤲❤️
**منگل، 9 جمادی الاول 1446 (12 نومبر، 2024)**
**موضوع: جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ**
**موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی**
**درس 12**
**نکات:**
- انحرافی گروہ "جمن شاہی" سے آشنائی
- اس گروہ کے بانی کا تعارف
- اس گروہ کے باطل افکار کا اجمالی جائزہ
**استاد درس: علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب**
**🌐 عالمی مرکز مہدویت، قم 🌐**
---
**درس کی تفصیل:**
اس درس میں انحرافی گروہ "جمن شاہی" کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی، جو ایک خطرناک فرقہ ہے جس نے اسلام کے اصل عقائد سے انحراف کیا اور جھوٹے افکار و نظریات کو اپنایا۔ اس گروہ کا بانی اپنے آپ کو امام مہدی علیہ السلام کا نمائندہ اور امام کا منصب رکھنے والا سمجھتا ہے، جو کہ ایک سنگین غلط فہمی اور دینی انحراف ہے۔
1. **جمن شاہی گروہ کا تعارف:**
جمن شاہی فرقہ کا آغاز 20ویں صدی کے آغاز میں ہوا، جب ایک شخص نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں غلط بیانی کی اور دعویٰ کیا کہ وہ امام کا نمائندہ ہے۔ اس گروہ نے اپنے آپ کو اہل بیت کے عقائد سے منحرف قرار دیا اور ایک علیحدہ سوچ اور عمل اختیار کیا۔
2. **گروہ کے بانی کا تعارف:**
جمن شاہی فرقے کے بانی کا نام جمن شاہی تھا، اور اس نے اپنے آپ کو دینی رہنما اور امام کا نمائندہ سمجھا۔ اس کا یہ دعویٰ مسلمانوں کے عقائد سے متصادم تھا کیونکہ اس نے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اور ان کی قیادت کے اصولوں کو غلط طریقے سے پیش کیا۔
3. **باطل افکار کا جائزہ:**
جمن شاہی گروہ کے عقائد میں کئی غلط اور باطل پہلو ہیں:
- انہوں نے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں غلط تشریحات پیش کیں۔
- اس فرقے کے عقائد میں اہل بیت کے احترام کی کمی تھی اور وہ اسلامی اصولوں سے منحرف تھے۔
- اس گروہ کے نظریات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کا ظہور جلدی ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ ان کے عقائد کی بنیاد سچائی پر نہیں تھی۔
**نتیجہ:**
یہ فرقہ نہ صرف اسلام کی حقیقت سے منحرف ہے بلکہ اس کے افکار مسلمانوں کے درمیان فتنہ اور تفرقہ پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں۔ ہمیں ان جھوٹے انحرافی فرقوں سے بچنے کی ضرورت ہے اور اسلام کے صحیح عقائد اور اصولوں پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔ 💡
**دعا:**
ہم سب کو اللہ کی ہدایت کی توفیق دے، اور ہمیں ان فتنوں سے بچائے جو دین میں انحراف اور تفرقہ پیدا کرتے ہیں، آمین۔ 🙏
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی*
*درس12*
*نکات : انحرافی گروہ جمن شاھی سے آشنائی ، اس گروہ کے بانی کا تعارف اور اس گروہ کے باطل افکار کا اجمالی جائزہ*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 9 جمادی الاول 1446( 12 نومبر ، 2024)**
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی*
*درس12*
*نکات : انحرافی گروہ جمن شاھی سے آشنائی ، اس گروہ کے بانی کا تعارف اور اس گروہ کے باطل افکار کا اجمالی جائزہ*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
آج ہم ایک گروہ جو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے عنوان سے قائم ہوا اور انہوں نے بھی انحراف کا راستہ اختیار کیا اور بہت سارے باطل نظریات پھیلائے وہ ہے گروہ *"جمن شاہی"*۔
یہ پاکستان کے اندر جنوبی پنجاب میں، یہ گروہ وجود میں آیا اور وہاں لیہ کے قریب ایک چھوٹا سا شہر سمجھ لیں *"جمن شاہ"*
وہاں ان کی بہت بڑی بارگاہ بنی ہوئی ہیں۔ اس کا بانی *"سید طالب حسین نقوی بخاری"* ہے۔
اس گروہ کی جو خصوصیات ہیں کہ انہوں نے امام زماں سے ملاقات کے یہاں دعوے ہوتے ہیں اور یہ جو اس گروہ کا بانی ہے وہ اپنے آپکو امام زمانہ کا نائب مشہور کیا اسی طرح یہ فقہا کی تقلید کے قائل نہیں ہیں بلکہ فقہا کی توہین ہوتی ہے یہاں.
آئمہ کے حوالے سے بالخصوص امام زماں عج کے حوالے سے بہت زیادہ غلو کا عقیدہ ہے ان کا، ان یعنی (امام زمان عج) کو الوہیت سے ملاتے ہیں پاکستان و انڈیا اسی طرح دیگر ممالک میں ان کے ماننے والے موجود ہیں۔
تھوڑا سا ذکر ہم سب پہلے اس گروہ کا جو بانی ہے *"سید طالب حسین نقوی"* اگرچہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور جس وقت فوت ہوئے ہیں ان کی عمر 75 سال تھی۔ یہ شخص ظاہرا 2004 کو فوت ہوا ہے اور 1940 یا 1941 میں یہ پاکستان کے ایک دینی مدارس میں پڑھنے کے بعد جب نجف اشرف گئے وہاں کن اساتذہ کے پاس پڑھتے رہے معلوم نہیں صرف یہ معلوم ہے کہ کوئی *شیخ الجبل نامی* کسی شخصیت سے ان کا رابطہ تھا جو صوفی ٹائپ لوگ تھے اپنا زیادہ تر وقت ریاضت اور عبادت میں بسر کرتے تھے.
اب اس شخص کی جو خصوصیات تھیں ایک تو یہ پاکستانی آئے اور جمن شامیوں نے اپنی بارگاہ بنائی اور یہ سارا انحرافی نظام بنایا ان کا جو طریقہ کار تھا اس گروپ کا وہ یہ تھا کہ یہ ہر روز مجلس عزا برپا کرنی اور ز نجیر زنی کرنی سرو سینے پر۔ اسی طرح ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد 10 دن کا اور اضافہ کرنا یعنی 40 دن یہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔ان کا مسلک احورای ہے یہ ہر چیز کے اندر اصل حرام اور اصل نجاست کے قائل ہیں یعنی سب چیزیں حرام ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل ہو وہ حلال ہے سب چیزیں نجس ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل ہو یہ پاک ہے یہ ان کا مسلک ہے۔
اسی طرح ان کی خصوصیت ہے کہ یہ بہت زیادہ دعائے فرج امام زمان عج پڑھتے ہیں اور ان کا یہ نظریہ ہے کہ اگر 40 نفل دعائے امام زمانہ عج پڑھیں تو جلدی قبول ہوگی اگر یہ ہر 40 دن چلے تو پھر آپ کی حاجت قبول ہو گی اور اگر چالیس دن روزے کے ساتھ پڑھیں تو اس سے جلدی وہ قبول ہوگی۔
طالب شاہ صاحب نے 1961 میں باقاعدہ اپنے جمن شاہ کے علاقے کے چالیس کے قریب کسانوں کا گروہ تشکیل دیا تھا تاکہ مل کے دعائے فرج امام زماں پڑھیں اور انہوں نے تعلق سے نجفی کی بیعت بھی کی اور اپنے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے ان کا خمس ادا کیا اور پھر یہ عہد بھی باندھا کہ کسی اور کے گھر سے کھانا نہیں کھائیں گے۔
اب ان کا دعوی ہے کہ یہ 40 جو کسان ہیں ان سب کو امام زمانہ عج م سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اس گروہ کی جودوسری بڑی شخصیت اسی طالب حسین کا بیٹا *"سید جعفر الزمان"* ہے۔ یہ دوسرا بانی ہے اس گروہ نے تقریبا 30 کے قریب کتابیں لکھی ہیں اور 2003 میں یہ شخص بظاہر مسموم ہوا ہے اور فوت ہو گیا۔
جعفر الزمان نے امام زمانہ سے ملاقات کا ایک طریقہ ایجاد کیا اور یہ اس گروہ میں بہت زیادہ مشہور بھی ہوا۔
اب ہم ان کے جو انحرافات ہیں وہ آپ کی خدمت میں بیان کرتے ہیں میں صرف ان کی آج ایک فہرست آپ کی خدمت میں بیان کروں گا۔
ایک اس گروہ کا یہ دعوی ہے کہ ہم جب بھی چاہے امام زمان سے ملاقات کر سکتے ہیں اور ہم نے بار بار یہ ملاقات کی ہے یہ ایک انحرافی دعوا ہے حالانکہ یہ ناممکن ہے جیسا کہ آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ تو امام خود جب چاہتے ہیں تو ہوتی ہے خیر یہ پہلا انحراف۔
*دوسرا انحراف*"
جو ہے یہ امام زماں کی غیبت میں شادی کے نہ ہونے کے قائل ہیں یہ کہتے ہیں کہ جب امام زمانہ ظہور کریں گے اس وقت ہم شادیاں کریں گے اس سے پہلے جو ہے وہ شادی نہیں ہونی چاہیے خود یہ *"جعفر الزماں"* اور *"باقر الزماں"* یہ جو دو بھائی ہیں اس بانی کے جو بیٹے ہیں انہوں نے بھی شادی نہیں کی اسی طرح دنیا سے چلے گئے اسی طرح یہ لوگ غیر خدا کو سجدہ کرنے کے جواز کے قائل ہیں اسی طرح حیوان جب ذبح کرتے تھے تو بجائے اللہ کا نام دینے کے امام زماں کا نام دیتے تھے تقلید کے حرام ہونے کا انہوں نے فتوی دیا اسی طرح یہ اپنی لڑکیوں کا خمس نکالتے تھے مثلا پانچویں لڑکی جو ہے یا جس کی پانچ لڑکیاں ہو تو ایک لڑکی بعنوان خمس،یہ جو انکی خانقاہ بنی ہوئی ہے، دری پاک جب منشا میں وہاں یہ رکھی جاتی تھی اب یہ کیوں رکھی جاتی تھی یہ ان کا جو نظریہ تھا وہ یہی تھا کہ یہ لڑکی ہم اس خانقاہ کو ہدیہ کریں گے اور یہ امام زمانہ کے ظہور کے منتظر رہیں گی یہاں تک کے حضرت آئیں اور ان سے شادی کریں۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس گروہ نے قرآن مجید کی بہت ساری آیات کی تفسیر بالرائے کی ہے یعنی عجیب و غریب تفسیر کہ انسان تعجب کرتا ہے وہ آیات جو پروردگار غیر کے بارے میں وہ امام زمانہ کے بارے میں بیان کی یعنی الویت جیسے میں نے پہلے بھی کہا انہوں نے جو اپنے لوگوں پر ظلم کیا کہ لوگوں کو فقہاء سے دور کر دیا کہتے ہیں کہ ہمیں فقہاء کی ضرورت نہیں ہے امام زمانہ جو کہ ہمارے دین اور شریعت کے مالک ہیں۔
ہم ان سے سوال پوچھیں گے ہمیں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں اور یہ کہتے ہیں بڑا آسان طریقہ ہے آپ دو رکعت نماز پڑھیں غسل توبہ اوع وضو کریں اور ایک خالی جگہ پر بیٹھیں اور گریا کریں مولا کا نام لے کر پکاریں امام زمان آئیں گے آپ کے سوال کا جواب دے دیں گے۔
اگر پھر بھی کوئی مشکل ہے تو طالب حسین شاہ صاحب سے جا کر پوچھے یہ طالب حسین شاہ انکے نزدیک یہ سمجھیں کہ مولا امام زمان عج کا نائب تھا یہ باقاعدہ اسکی زندگی میں لوگ اسکو سجدہ کرتے تھے جب وہ اپنے حجرہ سے باہر آتا تھا تو یہ سارے سجدے میں گر جاتے تھے اور وہ انہیں منع بھی نہیں کرتا تھا کہ آپ مجھے سجدہ نہ کریں سجدہ صرف خدا کے لیے ہے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک مختصر سی آشنائی اور بہت ہی برے اثرات مرتب ہوئے خود مکتب تشیع پر اور اسکی وجہ سے۔
امام زمانہ عج کے موضوع پر انہوں نے جو انحراف پیدا کیا اس پر انشاء اللہ بیان کریں گے۔
اللہ تعالی توفیق دیں کہ اس قسم کے بے شعور لوگوں سے،اس قسم کے انحرافی عقائد سے ہم سب محفوظ رہے۔ مولا کے سچے اور مخلص سرباز بنیں۔🤲
آمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ*
*# موضوع درس: جمن شاہی سے آشنائی*
*درس13*
*نکات : انحرافی گروہ جمن شاھی سے آشنائی ، اس گروہ کے باطل انحرافات اور اسکا جواب*
*#استاد درس : علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 14 جمادی الاول 1446( 17 نومبر ، 2024)**
جمن شاہی گروہ ایک انحرافی فرقہ ہے جس نے دین اسلام اور مکتبہ اہلبیتؑ کی بنیادوں سے انحراف کیا ہے۔ اس گروہ کی تعلیمات میں کئی ایسے عقائد اور عمل ہیں جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں اور جو مسلمان معاشرتی اور مذہبی نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
### جمن شاہی گروہ کے انحرافات:
1. **غیر خدا کو سجدہ کرنا**
جمن شاہی گروہ کے عقائد میں ایک سنگین انحراف یہ ہے کہ وہ غیر خدا کو سجدہ کرنے کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ تمام اسلامی مکاتب فکر کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سجدہ صرف اور صرف اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے۔
2. **جانور کو ذبح کرتے وقت امام زمانہؑ کا نام لینا**
اس گروہ کا عقیدہ ہے کہ ذبح کے وقت امام زمانہؑ عج کا نام لیا جائے، جس سے جانور نجس ہو جاتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہو جاتا ہے۔ یہ ایک واضح انحراف ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں صرف اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی اجازت ہے۔
3. **تقلید کا انکار**
جمن شاہی گروہ تقلید کے بارے میں امام زمانہؑ عج کے حکم کا انکار کرتا ہے اور اس گروہ کے پیروکار کسی مرجع تقلید کی پیروی نہیں کرتے، حالانکہ دین اسلام میں تقلید کا حکم دیا گیا ہے۔
4. **قرآن کی تفسیر بلرائے**
یہ گروہ قرآن کی آیات کی اپنی مرضی سے تفسیر کرتا ہے اور ان آیات کو اپنی خواہشات کے مطابق آل محمدؑ سے منسلک کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو ایک غلو آمیز عمل ہے۔
5. **بچیوں کو خمس کے طور پر لینا**
اس گروہ کے پیروکار بعض اوقات لوگوں کی بچیوں کو خمس کے نام پر لے کر اپنی خانقاہوں میں رکھتے ہیں، جو دین اسلام اور مکتب تشیع کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔
6. **امام زمانہؑ سے ملاقات کے دعوے**
جمن شاہی گروہ کے بعض افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ امام زمانہؑ عج سے ملاقات کر سکتے ہیں، اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ امام کی رہنمائی حاصل کرتے ہیں، جو کہ غیر شرعی ہے۔
7. **مہدویت پر غلط نظریات**
اس گروہ کے عقائد میں امام زمانہؑ عج کو "علویت" کے مقام پر پیش کیا گیا ہے، اور یہ کہتے ہیں کہ امام زمانہؑ کے ظہور کے بعد تمام مومنین معصوم ہو جائیں گے، جو کہ ایک غلط عقیدہ ہے۔
8. **آئمہؑ کا مقام**
اس گروہ کے پیروکار آئمہؑ کو اللہ کی تخلیق میں شریک سمجھتے ہیں، جیسے کہ حضرت علیؑ آدمؑ کی تخلیق میں اللہ کے ساتھ شریک تھے، جو کہ اسلامی توحید کے اصول کے خلاف ہے۔
### خلاصہ:
جمن شاہی گروہ نے اپنے عقائد میں کئی انحرافات پیدا کیے ہیں جو نہ صرف اسلام بلکہ شیعہ عقائد سے بھی متصادم ہیں۔ ان کے عقائد میں توحید، نبوت، اور امام علیؑ اور دیگر آئمہؑ کی تعلیمات کا غلط مفہوم پیش کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ گروہ دین اسلام اور مکتب اہلبیتؑ سے خارج ہو چکا ہے۔
یہ گروہ نہ صرف مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرتا ہے بلکہ اپنی غلط عقائد کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اس گروہ کا مقصد امام مہدیؑ عج کے ظہور کے بعد ان کے مقابل آنا ہے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ دین اسلام اور مکتب اہلبیتؑ کے خلاف ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اس گروہ کی گمراہی سے بچائے اور ہمیں اپنے عقائد کی صحیح فہمی عطا فرمائے۔🤲
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
**سوال نمبر 1:**
**قادیانیت کے بانی کا تعارف کیا ہے اور اس کے کیا دعوے ہیں؟**
**جواب:**
قادیانی تحریک کے بانی **مرزا غلام احمد قادیانی** 1835 میں پیدا ہوئے اور 1908 میں وفات پا گئے۔ ابتدا میں انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور مختلف مذاہب کے ساتھ مناظرے کیے۔ لیکن بعد میں انہوں نے کئی دعوے کیے:
- **ملہم** ہونے کا دعویٰ: مرزا نے خود کو ایک الہامی شخص قرار دیا۔
- **محدث** ہونے کا دعویٰ: اس نے یہ کہا کہ فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔
- **مجدد** ہونے کا دعویٰ: مرزا نے دعویٰ کیا کہ وہ دین میں تجدید کر رہا ہے۔
- **مسیح موعود اور امام مہدیؑ** ہونے کا دعویٰ: اس نے خود کو حضرت عیسیٰؑ اور امام مہدیؑ کا مظہر قرار دیا۔
- **نبوت** کا دعویٰ: آخرکار مرزا نے خود کو نبی قرار دیا، حالانکہ اسلام میں پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا ناجائز ہے۔
---
**سوال نمبر 2:**
**اس کے دعویٰ مہدویت پر دلیل اور رد بیان کریں؟**
**جواب:**
مرزا قادیانی نے امام مہدیؑ ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے لیے **کتاب الاستفتاء** کا حوالہ دیا، جس میں اس نے ایک ضعیف حدیث کو بنیاد بنایا:
"لا المہدی الا عیسیٰ" (یعنی مہدیؑ صرف عیسیٰؑ ہیں)۔
اس نے قرآن کی بعض آیات جیسے **سورہ صف: 9** کو اپنے اوپر لاگو کیا۔ تاہم، اسلامی عقیدہ کے مطابق امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ مختلف شخصیات ہیں، اور مرزا کا دعویٰ ان حقیقتوں کے خلاف ہے۔
---
**سوال نمبر 3:**
**اس کے دعویٰ مسیح پر اس کی دلیل اور رد بیان کریں؟**
**جواب:**
مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کی وفات کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے، بلکہ وہ خود حضرت عیسیٰؑ کا شبیہ ہیں۔ اس نے **سورہ مائدہ** کی آیت 117 کا حوالہ دیا، مگر اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کا نزول قیامت سے پہلے ہوگا، اور مرزا کا یہ دعویٰ غلط ہے۔
---
**سوال نمبر 4:**
**اس کے دعویٰ نبوت کو رد کریں؟**
**جواب:**
مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور "خاتم النبیین" کے مفہوم کو غلط سمجھا۔ اس نے کہا کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ نہیں کہ نبی کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔ اس کا یہ دعویٰ اسلامی عقیدے کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن اور صحیح احادیث میں پیغمبر اکرم ﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی قرار دیا گیا ہے۔
---
**سوال نمبر 5:**
**علامہ اقبال نے قادیانیوں کے بارے میں کیا کہا؟**
**جواب:**
علامہ اقبالؒ نے قادیانی تحریک کے بانی مرزا قادیانی کو "منافق" اور "کافر سے بھی بدتر" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں وہ مرزا کو محب اسلام سمجھتے تھے، مگر بعد میں انہیں یہ واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا مقصد اسلام میں تحریف کرنا اور جھوٹے دعوے کرنا تھا۔
---
**سوال نمبر 6:**
**قادیانیت نے اسلام پر کہاں کہاں ضرب لگائی؟**
**جواب:**
قادیانیت نے پانچ اہم جگہوں پر اسلام کو نقصان پہنچایا:
1. مسلمانوں کے عقائد میں انحراف پیدا کیا۔
2. اسلام کو دنیا کے سامنے بدنام کیا۔
3. خود اصل دین پر ضرب لگائی۔
4. مسلمانوں کے اندر اختلاف پیدا کیا۔
5. عقیدہ مہدویت میں انحراف پیدا کیا۔
---
**سوال نمبر 7:**
**رہبر معظم انقلاب کی رائے قادیانیت پر کیا ہے؟**
**جواب:**
رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمن ہمیشہ اسلام کے عقائد پر حملہ کرتا ہے، خاص طور پر عقیدہ مہدویت پر۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم عقیدہ مہدویت کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی تبلیغ کریں تاکہ دشمن کے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
---
**سوال نمبر 8:**
**قادیانیت نے استعمار انگلینڈ کی کیا خدمت کی؟**
**جواب:**
قادیانیت نے برطانوی استعمار کی خدمت کی اور برطانوی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دیا۔ مرزا قادیانی نے ایک کتاب "حقیقت مہدی" لکھی، جس میں اس نے کہا کہ اگر برطانوی حکومت کا خوف نہ ہوتا تو لوگ اسے ختم کر دیتے۔ قادیانی تحریک نے برطانوی استعمار کی حمایت سے اسلام کے عقائد کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔
### سوالنمبر 9. **قادیانی نے کن انبیاء کی توہین کی اور کیا دعوے کئے؟**
**جواب:**
مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ متعدد عظیم انبیاء کی توہین بھی کی۔ اس کے دعوے اسلامی عقائد کے خلاف تھے۔
1. **تمام انبیاء میں میں ہوں:** مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ حضرت آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، اور محمدؐ کے "ظل" اور "مظہر" ہیں، یعنی ان تمام انبیاء کی روحانی تجلیات کا مجموعہ۔
2. **حضرت محمدؐ کا مظہر:** اس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حضرت محمدؐ کا "ظل" ہیں، اور ان کی روح اس میں موجود ہے۔
3. **حضرت عیسیٰؑ کی توہین:** مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں توہین آمیز باتیں کیں اور ان کے بارے میں کہا کہ وہ ناقص تھے اور ان کی پیشین گوئیاں غلط تھیں۔ اس نے حضرت عیسیٰؑ کی آسمان پر جانے کے بعد ان کے پیغامات کی تردید کی۔
یہ تمام دعوے اسلامی عقیدے کی نفی کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کو کذاب قرار دیتے ہیں۔
---
### سوال نمبر 10. **غلام احمد قادیانی نے مہدویت کی تخریب اور انکار پر کیا باطل آراء دیں اور اس کا جواب کیا ہے؟**
**جواب:**
مرزا قادیانی نے امام مہدیؑ کے عقیدے کا انکار کیا اور اس میں تحریف کرنے کی کوشش کی۔
1. **مہدیؑ کا انکار:** قادیانیوں کے بانی نے امام مہدیؑ کے آنے کا انکار کیا اور کہا کہ یہ ایک افسانہ ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ امام مہدیؑ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اور وہ خود امام مہدی ہیں۔
2. **جھوٹے دعوے:** مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ امام مہدیؑ کی پیشین گوئیاں اور حدیثیں جعلی ہیں، اور یہ کہ امام مہدیؑ کا تعلق کسی خاص نسل سے نہیں ہوتا۔
3. **مہدی کا تخریب:** اس نے یہ بھی کہا کہ امام مہدیؑ حضرت فاطمہؑ کی نسل سے نہیں آئیں گے، حالانکہ اسلامی عقیدہ کے مطابق امام مہدیؑ کا تعلق حضرت فاطمہؑ کی نسل سے ہوتا ہے۔
اسلامی علماء نے ان دعووں کی تردید کی اور مرزا قادیانی کو جھوٹا اور کذاب قرار دیا۔
---
###سوال نمبر 11. **یہ کس کا جملہ ہے کہ اگر قادیانی مسلمان ہیں تو سب مسلمان غیر مسلم ہو جائیں گے؟**
**جواب:**
یہ جملہ معروف شاعر اور مفکر **علامہ اقبالؒ** کا ہے۔
انہوں نے فرمایا تھا:
"اگر قادیانی یہ تمام باطل اور فاسق عقائد رکھنے کے ساتھ ساتھ اگر مسلمان ہیں تو پھر اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم جو سب مسلمان ہیں وہ غیر مسلم ہیں؟"
علامہ اقبالؒ کا مقصد یہ تھا کہ قادیانیوں کا عقیدہ اسلامی عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتا اور اگر وہ مسلمان ہیں، تو ان کے باطل عقائد کی بنا پر مسلمانوں کا عقیدہ متاثر ہو سکتا ہے۔
---
###سوال نمبر 12. **فتنہ گوہر شاہی کے بانی کا تعارف اور اس کے باطل دعوے کیا تھے؟**
**جواب:**
**ریاض احمد گوہر شاہی** 1941 میں پاکستان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور انہوں نے خود کو ایک روحانی رہنما ثابت کرنے کی کوشش کی۔
1. **روحانیت کے دعوے:** گوہر شاہی نے دعویٰ کیا کہ اس کو "جُسہ" یعنی روحانی مقام حاصل ہے، اور وہ دوسروں کے اندر سے شیاطین نکال سکتے ہیں۔
2. **مہدی ہونے کا دعویٰ:** گوہر شاہی نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ امام مہدی ہیں، اور ان کے پیروکاروں نے انہیں امام مہدی کا روپ مانا۔
3. **عیسیٰؑ کے ساتھ ملاقات کا دعویٰ:** گوہر شاہی نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کو امریکہ میں دیکھ چکے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے رسول اللہؐ سے بھی ملاقات کی۔
یہ دعوے جھوٹے ہیں اور اسلام کے عقائد کے مخالف ہیں۔ گوہر شاہی نے دین اسلام کو تحریف کرنے کی کوشش کی۔
---
###سوال نمبر 13. **گوہر شاہی کی پیشن گوئیاں کیا تھیں اور ان کا انجام کیا ہوا؟**
**جواب:**
گوہر شاہی نے کچھ پیشن گوئیاں کی تھیں، جن کی حقیقت بعد میں بے نقاب ہوئی:
1. **پاکستان کا مکمل ہونا:** گوہر شاہی نے کہا کہ پاکستان امام مہدی کے لیے بنایا گیا تھا اور وہ جب آئیں گے تو پاکستان مکمل ہو جائے گا۔
2. **قیامت کا آنا:** اس نے دعویٰ کیا کہ قیامت 25 یا 26 سال بعد آئے گی اور ایک سیارہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔
3. **تیسری جنگ عظیم:** اس نے یہ پیشین گوئی کی کہ تیسری جنگ عظیم عراق سے شروع ہوگی۔
یہ تمام پیشن گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔
---
### سوال نمبر 14. **دین اسلام کو گوہر شاہی نے کیا نقصان پہنچایا؟**
**جواب:**
گوہر شاہی نے اسلام کو مختلف طریقوں سے نقصان پہنچایا:
1. **توہینِ اللہ:** اس نے اللہ کے بارے میں غلط باتیں کیں اور کہا کہ اللہ قادر نہیں ہے کہ وہ سب کچھ دیکھ سکے، حالانکہ قرآن میں اللہ کا ذکر ہے کہ وہ ہر چیز کا دیکھنے والا ہے۔
2. **انبیاء کی توہین:** اس نے حضرت آدمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے بارے میں توہین کی اور ان کی عظمت کو کم کرنے کی کوشش کی۔
3. **اسلامی عقائد میں تحریف:** گوہر شاہی نے تحریف قرآن کا عقیدہ اپنایا اور یہ دعویٰ کیا کہ مختلف مذاہب کی روحانیت جنت میں جانے کے لیے کافی ہے، جو کہ ایک نیا اور باطل عقیدہ تھا۔
یہ سب باتیں اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف تھیں اور دین کو گمراہ کن راستے پر لے جانے کی کوششیں تھیں۔
---
###سوال نمبر 15. **دعویٰ مہدویت پر گوہر شاہی کی دلیل اور رد عمل بیان کریں۔**
**جواب:**
گوہر شاہی نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، اور اس کے پیروکاروں نے دعویٰ کیا کہ اس کے چہرے کی علامتیں چاند، سورج، حجرہ اسود اور دیگر جگہوں پر ظاہر ہوئیں، جو کہ اس کے امام مہدی ہونے کا ثبوت ہیں۔
**رد عمل:**
یہ تمام دعوے جھوٹے اور فریب ہیں۔ امام مہدی کا آنا ایک خاص حقیقت ہے جو اللہ کی مشیت سے ہو گا، نہ کہ کسی فرد کے دعووں سے۔ اسلامی علماء نے گوہر شاہی کو کذاب قرار دیا اور اس کے دعووں کو مسترد کر دیا۔
---
### سوال نمبر 16. **جمن شاہی فتنہ کے بانیان کا تعارف اور ان کی کتابوں کے نام کیا ہیں؟**
**جواب:**
**جمن شاہی** ایک فتنہ ہے جس کا بانی **سید طالب حسین نقوی بخاری** تھا۔ یہ گروہ پاکستان کے جنوبی پنجاب کے علاقے جمن شاہ میں قائم ہوا۔
**کتابیں:**
یہ گروہ مخصوص عقائد پر مبنی تھا اور اس کے پیروکاروں نے اس کے بارے میں کتابیں لکھیں، جن میں ان کے انحرافات اور باطل عقائد پر زور دیا گیا تھا۔ ان کا عقیدہ دعائے فرج
1. **سوال نمبر 17: جمن شاہی کے عقائد و نظریات میں سے پانچ بیان کریں**
- **جواب:**
1. **مطلق الوہیت**: جمن شاہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا واحد ہے لیکن اس کا ظہور مختلف شکلوں میں ہو سکتا ہے۔
2. **روحانیت اور تقدس**: روح کو اہمیت دی جاتی ہے اور انسان کا مقصد خدا کے قریب پہنچنا ہے۔
3. **تناسخ**: جمن شاہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ روح کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ وہ مختلف جسموں میں دوبارہ جنم لیتی ہے۔
4. **تقدیر اور آزادی**: انسان کو اپنے اعمال کے نتائج کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے، لیکن تقدیر خدا کے ہاتھ میں ہے۔
5. **تمام مذاہب کا احترام**: جمن شاہی تمام مذاہب کو یکساں اہمیت دیتے ہیں اور خدا تک پہنچنے کے مختلف راستے ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
---
2. **سوال نمبر 18: مکتب تشیع و اسلام کو جمن شاہیوں سے کیا نقصان پہنچا؟ تشریح کریں**
- **جواب:**
جمن شاہی عقائد نے اسلام اور تشیع کو نقصان پہنچایا کیونکہ ان کے بعض نظریات جیسے **تناسخ** اور **مطلق الوہیت** اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم تھے۔ اسلام میں عقیدۂ توحید اور قیامت کے دن جزا و سزا پر یقین ہے، جو جمن شاہیوں کے عقیدے سے متضاد ہے۔ جمن شاہیوں کا عقیدہ تناسخ، اسلام کی ایک زندگی اور قیامت کے تصور کو چیلنج کرتا ہے، جو کہ ایک اہم بنیادی اصول ہے۔ اس کے علاوہ، جمن شاہی عقیدہ مختلف مذاہب کو یکساں اہمیت دینے کا ہے، جس سے اسلامی ایمان اور اس کی مخصوص حقیقت پر سوال اٹھتا ہے۔
---
3. **سوال نمبر 19: جمن شاہی کا سب سے بڑا انحراف کیا ہے اور اس کا رد بیان کریں**
- **جواب:**
جمن شاہی کا سب سے بڑا انحراف **تناسخ** کا عقیدہ ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ روح کا کوئی اختتام نہیں ہوتا اور یہ مختلف جسموں میں دوبارہ جنم لیتی رہتی ہے۔
**اس کا رد**: اسلام اور تشیع میں عقیدۂ قیامت ہے، جس کے مطابق ہر انسان کی زندگی ایک ہی ہے اور اس کا حساب قیامت کے دن ہوگا۔ قرآن اور حدیث میں واضح طور پر ذکر ہے کہ روح کا دوبارہ جنم نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جاتی ہے۔ اس لیے جمن شاہیوں کا تناسخ کا عقیدہ غلط ہے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں