Course 2 Book 13 Me

 Book 13 𝔽𝕒𝕣𝕙𝕒𝕥 (𝕄𝕖)





🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*📆 بدھ  13 ذیقعد 1445 ( 22 مئی ، 2024)*
 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن

 *درس* 1

# *کتابچہ 13*

# *نکات: کلچر مہدویت کے دو اہم دشمن : جہالت اور تعصب کا جائزہ*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*


🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،


 📖گفتگو کا موضوع:  کلچر مہدویت کے دو اہم دشمن : جہالت اور تعصب کا جائزہ









 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍ 🎤🎤





🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*📆 ہفتہ 16 ذیقعد 1445 ( 25 مئی ، 2024)*
 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن

 *درس* 2


# *نکات: عقیدہ مہدویت کے مخالف دو اسباب(دنیاوی مفادات کے پیچھے فقط بھاگنا اور عالمی استعمار)کا جائزہ*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*


🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،

 📖گفتگو کا موضوع:  عقیدہ مہدویت کے مخالف دو اسباب(دنیاوی مفادات کے پیچھے فقط بھاگنا اور عالمی استعمار)کا جائزہ





ہمارا موضوع مولا امام زماں عج الشریف کے مدمقابل دشمنی کے اسباب ہیں۔ گذشتہ درس میں ہم نے جہالت اور تعصب پر گفتگو کی۔ آج کے درس میں ہم مزید دو اسباب پر گفتگو ہوگی۔ ایک دنیاوی لذتیں اور مفادات اور دوسرا عالمی سامراج اور عالمی ظلم و ستم جو فقط لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی فکر میں ہیں۔ 
💫💫 

3۔ 🔹 *منفعت طلبی، حب دنیا:* 
جہاں تک دنیاوی لذتوں میں صرف منحصر ہونا یا دنیاوی مفادات یہ ہوسکتا ہے کہ انفرادی سطح پر بھی ہو اور اجتماعی سطح پر بھی۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ دنیا میں صرف لذتیں اٹھانے کے لیے آئے ہیں۔ وہ اپنی دنیاوی زندگی کا مقصد صرف شہوات کو پورا کرنا اور دنیاوی زندگی کا لطف اور لذت لینے کو سمجھتے ہیں۔ انہیں  اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کون سے لوگ حق سے جدا ہورہے ہیں۔ *باطل کیا ہے؟ ہمارے فرائض کیا ہیں؟ دین کیا ہے؟ اور خدا کیا ہے؟* 

اگر وہ دین اور امام ؑ کا نام بھی لیتے ہیں تو اس لیے لیتے ہیں کہ ان کی دنیاوی زندگی اور معاش اس سے وابستہ ہے۔ یعنی وہ دین کا نام لے کر کما رہے ہیں اور اگر ان کی یہ کمائی چھوٹ جائے تو وہ دین کو بھی چھوڑ دیں گے۔ 

 تو بس بہت سارے لوگ اس لیے دین سے وابستہ ہیں کہ یہاں ان کی دنیاوی خواہشات پوری ہو رہی ہیں۔ 

جیسے  کربلا کے سفر میں بہت سارے لوگ امام حسینؑ کے ساتھ ملنے شروع ہوئے لیکن جب سید الشہداؑء نے کہا کہ یہ سفر شہادت کا سفر ہے تو بہت سارے لوگ انہیں چھوڑ گئے کیونکہ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ امام حسینؑ کوفہ جا رہے ہیں تو وہاں کے حاکم بنیں گے اور یزید کے خلاف ایک لشکر بنائیں گے اس کو شکست دیں گے اور اس طرح پوری حکومت اسلامیہ پر امام حسینؑ حاکم ہو جائیں گے۔ اور ہم جو آغاز میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں تو ہم اس حکومت میں اہم منصب اور اہم عہدوں پر قابض ہو جائیں گے اور دنیا کا لطف خوب اٹھائیں گے۔ لیکن جب مولاؑ نے بتایا کہ یہ تو شہادت کا سفر ہے تو پھر فقط بہترۤ(72) ہی رہ 

 *سید الشہداء امام حسینؑ فرماتے ہیں :* 🌹
 *ان الناس عبید الدنیا والدین لعق علی السنتھم یحوطونہ مادرت معایشھم فاذا محصوا بالبلاء قل الدیانون۔* 

لوگ دنیا کے غلام ہیں دین کا ورد فقط ان کی زبانوں پر جاری ہے اور امتحان کے وقت حقیقی دیندار کم ہیں۔ 

 *اسی چیز کو امام  📚

امام صادقؑ محبت اہلبیت رکھنے کا دعوا کرنے والوں کی اس طرح سے تعریف کرتے ہیں:
 
 *افترق الناس فینا علی ثلاث فرق،* 
ہماری نسبت سے لوگوں کے تین گروہ 
ایک گروہ اس امید کی بنا پر ہمیں دوست رکھتا ہے تاکہ ہماری دنیا سے فائدہ اٹھائے، ہمارے اقوال کو نقل کرتے ہیں اور حفاظت کرتے ہیں لیکن ہمارے عمل کے متعلق احکام پر عمل کرنے سے کوتاہی برتتے ہیں۔ خدا انہیں جہنم رسید کرے، 

 ** 
ایک فرقہ ہمیں دوست رکھتا ہے، ہمارے اقوال کو سنتے ہیں اور عمل میں بھی کوتاہی نہیں کرتے لیکن اس سے ان کا ہدف صرف دنیا اور شکم ہے۔ خدا ان کے شکم کو آتش سے بھر دے گا اور بھوک و پیاس کو ان پر * 
تیسرا گروہ ہم سے محبت رکھتا ہے ہمارے اقوال کو سنتے ہیں ہمارے فرمان کی اطاعت کرتے ہیں اور عمل میں ہماری مخالفت نہیں کرتے۔ یہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے۔
 

یہ ہمارے معاشرے کی ایک حقیقت ہے جس کی تصویر امام صادقؑ نے بنائی اور اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ اگر دینداری میں ہمارا ہدف دنیا داری ہے تو پھر دنیاداری ملے گی لیکن آخرت میں کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن اگر دینداری میں ہمارا ہدف خدا، رسولؐ اور امام زماںؑ عج ہیں اور ایک ہدف ہے کہ ہم نے مولاؑ عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنی ہے تو انشاءاللہ یہ ہدف ہمیں دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی *انشاءاللہ* ہم محمدؐ و آل محمدؑ کے ساتھ ہونگے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر آزمائش آتی ہے تو پھر یہ لوگ اپنا سب کچھ راہ خدا میں قربان کرتے ہیں لیکن یہ جو پہلے والے لوگ ہیں یہ دنیا سے فقط لذتیں لیتے ہیں اور آزمائش کے وقت ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کوفہ میں کتنے ہی لوگوں نے خط لکھے تھے لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو وہی لوگ مارنے کے لیے پہنچ گئے کیونکہ ان کی دنیا اب دشمنان کی طرف مل رہی تھی۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💫💫

4۔🔹  *آمرانہ، عالمی استعمار:* 
ہمارے آئمہؑ کیوں گھروں میں محصور ہوگئے؟
کیونکہ اس زمانے کے ظالم حکمرانوں نے اپنی طاقت کے زور پر دین خدا کا اور دین کے ھادی جو ہیں ان کو محصور کر دیا کسی کو زہر سے مارا کسی کو تلوار سےمارا۔ کیونکہ وہ اس فکر اور عقیدے کو اپنے لیے نابودی اور ہلاکت سمجھتے 
 *ایران کے عظیم رہبر اور آج کی بہت بڑی شخصیت حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اس حوالے سے بہت خوبصورت کلام ہے فرماتے ہیں کہ:* 

"عقیدہ مہدویت اور حضرت حجت عج اللہ فرجہ الشریف کے سب سے بڑے دشمن، دنیا کے بڑے ظالم لوگ ہیں۔ آپؑ کی غیبت کے دن سے بلکہ آپؑ کی ولادت کے دن سے آج تک یہ ستمگر طبقہ اور ظالم لوگ آپؑ یعنی نور الہیٰ اور شمشیر الہیٰ سے دشمنی میں مصروف ہیں۔ آج بھی دنیا کے مستکبر ، ظالم اور ستمگر لوگ اس فکر اور عقیدے کے مخالف اور دشمن ہیں اور اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ عقیدہ اور عشق جو کہ مسلمانوں کے دلوں میں خصوصاً شیعوں کے دلوں میں ہے ، ظالموں اور ستمگروں کے ظالمانہ اہداف کے لیے رکاوٹ ہے۔ 

یہ مولاؑ عج اور ہم شیعوں کے کیوں  خلاف ہیں کہ جن کے دلوں میں مولاؑ عج کی محبت ہے ۔ 
وہ اس لیے خلاف ہیں کیونکہ ہمارا عقیدہ ان کے مدمقابل ہے۔  

سابقہ مآخز، ش2، ص37📚
اسی بنا پر ، عقیدہ مہدویت اور نظریہ مہدویت کے دشمن کہ جو اس فکر کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں ہمیشہ سے اس کوشش میں رہے ہیں کہ اس عقیدہ کو لوگوں کے دلوں سے نکال دیا جائے یا اس فکر کے مضامین کو تحریف کریں۔ 
پاکستان میں مرزائی اور ایران میں بہائی انہیں انگریزوں کی سازش ہے اسی طرح آج بھی امام مہدیؑ عج کے جھوٹے بیٹے اور جھوٹے نائب اور ملاقاتوں کے جھوٹے دعویدار بنے ہوئے ہیں یہ اسی لیے ہیں کہ لوگوں کو ان کے اصلی اہداف سے دور کیا جا سکے۔ ان سب کے پیچھے یہی یہود، ہنود اور مسیحی اور عالم استعمار ہیں۔ یہ مختلف کتابیں اور فلمیں بناتے ہیں اور حتکہ یہ لوگ مجالس میں ممبر تک پہنچ گئے ہیں اور مولاؑ عج کا ایسا ظالمانہ چہرہ بناتے ہیں کہ لوگ پریشان ہوں اور مولاؑ سے عشق نہ کریں۔ 

رہبر معظم فرماتے ہیں کہ: 🌹
اس طرح یہ  یہ عالمی سامراج اور ھھیونیزم اس کوشش میں ہے کہ ان کے زیر تحت ملتیں تحمیلی حالت کی عادی بنیں۔ اور ان کی غلامی کو اپنا مقدر کا لکھا ہوا شمار کریںَ 

کیونکہ مہدویت لوگوں کو حریت یعنی آزادی دے گا اورلوگوں کو عزت بخشے گا اور یہ ان سامراجوں کے عزائم کے خلاف ہیں۔ یہ ملتوں کو غلام رکھنا چاہتے ہیں اس لیے یہ مہدویت اور عقیدہ مہدویت رکھنے والوں کے خلاف ہیں۔ 

استکباری قوتیں، اقوام اور ملتوں کو غفلت، خواب آلود اور غیر متحرک دیکھنے کی خواہاہیں اور اس صورتحال کو اپنی جنت خیال کرتے ہیں۔* 🌏


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤






🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*📆 جمعہ المبارک 22 ذیقعد 1445 ( 31 مئی ، 2024)*
 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن


 *درس* 3


# *نکات: فقیہ و مرجع کے بعنوان نائب امام اثرات اور دشمنان مہدویت کا خوف ، مہدویت کے دشمنوں کا ہمارے بارے جائزہ*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*

🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،



 📖گفتگو کا موضوع: فقیہ و مرجع کے بعنوان نائب امام اثرات اور دشمنان مہدویت کا خوف ، مہدویت کے دشمنوں کا ہمارے بارے جائزہ






مہدویت اور اس کے متعلقہ مسائل پر بات کرتے ہوئے، فقیہ اور مرجع کے بعنوان نائب امام کی حیثیت اور ان کے اثرات کا تجزیہ اہم ہے۔ ان کے تصورات اور روایات کا اثر بھی معتبر ہوتا ہے، جو مہدویت کی تصورات کو سپورٹ کرتے ہیں یا ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کی تشریعات اور فتاویٰ مہدویت کے سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح، مہدویت کے دشمنوں کے بارے میں بھی ہمیں ان کی نظریات اور دلائل کو سمجھنا اہم ہے۔ ان کے احتمالی مواقف اور دلائل کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ہم ان کی حجیت کو بہتر طور پر پیش کر سکیں۔ مہدویت کے حوالے سے فقیہ اور مرجع کے بعنوان نائب امام کی رائے اور ان کے اثرات پر غور کرنا علمی اور فکری تجزیہ کا حصہ ہے۔ ان کی تشریعات اور فتاویٰ مہدویت کی معمولیت کو بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔  


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤




🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*

*📆 اتوار 24 ذیقعد 1445 ( 2 جون ، 2024)*
 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن


 *درس* 4


# *نکات: اسلام دشمنی اور امام مہدی عج کی دشمنی کے وسائل اور انکے ہمارے بچوں جوانوں پر اثرات نیز ہمارا وظیفہ*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*



🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،



 📖گفتگو کا موضوع: اسلام دشمنی اور امام مہدی عج کی دشمنی کے وسائل اور انکے ہمارے بچوں جوانوں پر اثرات نیز ہمارا وظیفہ

جیسا کہ عرض کیا تھا کہ سب سے پہلے تو دشمنوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کی روش اور طریقہ کار کو جاننا چاہیے۔ مثلاً ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دشمن مہدویت اور اسلام کے خلاف کن چیزوں اور  وسائل سے استفادہ کر رہا ہے۔ 

 *دشمنی کے وسائل:

آج کے دور میں جتنے بھی دشمنان اسلام ہیں وہ  بلخصوص جو یہودی صھیونیزم کی شکل میں ہیں وہ منجی اسلام، منجی بشریت کے خلاف دولت، منفی پروپیگنڈا کے ذریعے بہت زیادہ استفادہ کر رہے ہیں کیونکہ دنیا کا پیسہ ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ پروپیگینڈا والے سارے وسائل ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر چہ وہ حقوق بشر ، حقوق خواتین اور ملتوں کے حقوق کے نعرے لگارہے ہیں لیکن دراصل وہ ملتوں پر ظلم کر رہے ہیں اور انسانی معاشروں میں فساد، منافقت، ریاکاری اور دھوکا دہی کےلیے کوشش کر رہے ہیں اور اس کام کے لیے متعدد وسائل کے ذریعے مدد دے رہے ہیں۔ 

 *اور رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بھی یہی فرمایا کہ بظاہر نعرے اچھے ہیں لیکن ان کے اندر ان کے وہی منحوس اہداف ہیں اور وہ یہ ہیں کہ لوگوں کو دین سے جدا کیا جائے۔*


 *نیل پسٹمن:* یہودی یا عیسائی مفکر
اپنی کتاب (زندگی در عیش مردان در خوشی) میں لکھتا ہے معلومات کے منتقل ہونے کے تین دور ہیں 
1۔ گفتار، 2۔ توشتار (لکھنے) 3۔ تصویر۔
شفیعی سرستانی، بلخاری و پیش گوبھاآخرالزمان 

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن اپنی سوش کو منتقل کرنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کر رہا ہے مثلاً دنیا میں سب سے زیادہ آج جو میگزین شائع ہوتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لکھے اور چھاپے جاتے ہیں۔ اور مختلف کتب، اور  سیمنار اور کانفرنسیں اسی حوالے سے ہوتی ہیں اور اسی طرح ریڈیو، ٹیلی ویثرن کے بہت سارے چینلز، سٹلائیٹ کے چینلز، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں فیسبک، ٹیلیگرام، واٹس ایپ اور جتنے بھی ایپس ہیں جو ذرائع ابلاغ کے عنوان سے کام  ہو رہا ہے وہ دین دشمنی پر ہورہا ہے۔ یعنی لوگوں کے اپنے علاقوں کےاخلاق و آداب ختم ہو رہے ہیں فحاشی بڑھ رہی ہے۔  بے احترامی، دین سے اور خدا سے دوری بڑھ رہی ہے اور مختلف قسم کی زیادیتاں ظلم و تجاوز کے طریقے سیکھائے جا رہے ہیں اور دشمن اپنی من پسند نسل کو مسلمانوں کے درمیان تیار کر رہے ہیں کہ جو ان کو پسند کرتے ہ
اسی طرح  گیمز کی شکل میں جو کہ کمپوٹرز اور موبائیلز میں ایسے وسائل ہیں کہ وہ ایک انسان کو ایک لحظہ بھی تنہا نہیں رہنے دیتے۔ اور جو ان گیمز کے ذریعے ہمارے اندر ایک پیغام براہ راست یا کسی اور ذریعے سے ہمارے اندر کیا منتقل کر رہا ہے جبکہ اس کے اندر خواتین  اور مردوں کی فحش قسم کی تصاویر ہوتی ہیں اور فحش گفتگو اور جو بے گناہ لوگوں کو گاڑیوں کے ذریعے قتل کیا جاتا ہے یہ ہمارے بچوں میں کیا پیغام منتقل کر رہا ہے؟

بچہ ہمارا ہوتا ہے ہمارے گھر میں رہتا ہے ہم اس کی پرورش کرتے ہیں لیکن دشمن ہمارے ہی بچے کو کس انداز سے روحی اور فکری پرورش دے رہا ہے۔ ہمارا بچہ  ہمارا ہوتے ہوئے بھی ان کے کلچر اور سوچ پر پروان چڑھ رہا ہےاور یہ ایک عجیب بات ہے۔ 

 *بچوں میں آج جو ذہنی، نفسیاتی اور اعصابی بیماریاں آگئی ہیں اور جوانوں میں جو غیض و غضب والے رویے ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہیں۔* 

آج انٹرنیٹ نے بہت تباہی مچا دی ہے۔ اس سے پہلے ہمارے اندر بہت سارے اصول، احترام اور آداب باقی تھے۔ آج انسان بہت کم قیمت میں انٹرنیٹ کی سہولت کو حاصل کر لیتا ہے لیکن پھر وہ ایک بہت بڑے سوشل میڈیا کے جہان میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر وہ ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ اور اب ایک بچہ اور جوان ان کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے اور ان کی من پسند چیزیں دیکھ رہا ہے۔ یعنی تحریف اور تخریب دین۔ اور دین کے چہرے کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور مختلف قسم کے شک و شہبات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دکھائے جاتے ہیں اور محرم رشتوں کی توہین کی جاتی ہے۔ فحاشی اس حد تک پہنچ کہ محرم رشتے بھی اس کا شکار ہیں یہاں تک کہ حیوانات بھی۔ یعنی انسان سوچ بھی نہیں سکتا جو کچھ اس انٹرنیٹ کی دنیا میں دکھایا جاتا ہے۔ 

بلآخر نہ حیا باقی رہی اور نہ دین باقی رہا۔ البتہ اچھی چیزیں بھی ہیں اس کا انکار نہیں لیکن بری چیزیں کثرت سے ہیں۔ اور اچھی چیزوں کو اس لیے رکھا گیا تاکہ ایک جواز فراہم ہو کہ اچھی چیزیں بھی ہیں۔ لیکن برائی نے اچھی چیزوں کو چھپا دیا ہے اور اس کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ 

انٹرنیٹ سے قبل ہی غربی استعمار نے اس پر کام شروع ہو گیا تھا یعنی فلموں کے ذریعے اور جو فلمیں آخرالزماں کے موضوع پر بنی بلخصوص ستر اور اسی کی دھائی میں جو فلمیں بنیں اس میں لوگوں کو اسلام اور آخری امامؑ عج سے متنفر کیا گیا۔ اور خوفزدہ کیا گیا۔ مثلاً فلم 
اور 
 
ان فلموں میں کس طریقے سے انہوں نے مہدویت کو نشانہ بنایا اور اسی طرح انہوں نے بہت ساری فلموں میں دکھایا کہ مشرق کے اندر دجال یعنی برائی ہے۔ اور مشرق کے اندر وحشی گری ہے اور مغربی لوگ یعنی امریکی یہودی اور عیسائی نجات دہندہ کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ یعنی وہ ہیں جو دنیا کو نجات دیں گے۔ اور انہیں ہی فقط دنیا کی فکر ہے۔ یعنی وہ فقط منجی ہیں اور باقی دنیا کو تباہ کرنے والے ہیںَ 

 *ہمارا اس پرآشوب دور میں کیا فریضہ ہے؟

🔹ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں اور جوانوں کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیں۔ اور ان کی ہر چیز پر نظر رکھیں جیسے ہم ان کی پرورش میں ان کا خیال رکھیں اور موبائل کا غیرضروری استعمال سے روکیں۔ اور اس کے موبائل کے کام پر نظارت کریں اور اس کی موبائل سے محدودیت پیدا کریں۔ یعنی وہ فقط سکول کے کام کے لیے موبائل کا استعمال کرے۔ 

اگر ہمیں اپنی آئیندہ نسلوں کی نجات کی فکر ہے اور امام زماں عج کی فوج  اور ناصرین کو تیار کرنے کی اگر ہمیں فکر ہے تو پھر ہمیں یہ سخت گیری پیدا کرنی پڑے گی۔ اور ہم نے اپنی مرضی سے جوان کو پروان چڑھانا ہے نہ کہ دشمن کی مرضی سے۔ تاکہ ہمارے بچےامام زمانہؑ عج کی نسل بنیں نہ کہ دجال کی نسل بنیں۔ 

 *ہمارے جوانوں اور بچوں کی روحی اور ذہنی پرورش کے بارے میں ہم والدین سے سوال ہوگا۔*
مثال کے طور پر اگر ایک بچے کو سانپ یا درندہ پسند ہے اور آدمی اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اگر وہ گھر لے آئے تو وہ سانپ یا درندہ اس کے لیے باعث پریشانی ہی ہوگا۔ اور وہ شخص اس خوف سے کہ یہ درندہ کہیں میرے بچے پر حملہ نہ کردے وہ اس سے چوکنا رہے گا اور اپنے بچے کی حفاظت کرے گا۔ 

🕸️  ایسے ہی ہے جیسے کوئی غیر آدمی ہمارے گھر میں آکر رہنے لگے۔  اور وہ کسی بھی وقت ایک بچے اور جوان کی روح اور فکر پر مہلک حملہ کر سکتا 

 


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤




🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*📆 بروز جمعرات 28 ذیقعد 1445 ( 6 جون ، 2024)*
 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن

 *درس*  5

# *نکات: دشمنان مہدویت کا طریقہ ، دشمنی کے چار مراحل ، انکار،تخریب، تحریف اور جھوٹا مدعی،انکار کی تشریح*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*



🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،



 📖گفتگو کا موضوع: دشمنان مہدویت کا طریقہ ، دشمنی کے چار مراحل ، انکار،تخریب، تحریف اور جھوٹا مدعی،انکار کی تشریح




دشمنان مہدیؑ عج کا طریقہ دشمنی:
ہماری گفتگو امام مہدی عج کے دشمنوں میں جاری ہے اور آج ہم دیکھیں گے کہ دشمنان مہدویت مولا امام زماں عج کے مدمقابل ان کے پاس کیا طریقہ کار اور روشیں ہے اور وہ کس طریقے سے مدمقابل آرہے ہیں اور آئیں گے؟ 

اگر ہم شروع ہی سے دیکھیں جب بھی پروردگار کی طرف سے کوئی دین آیا اور حجت الہیٰ آئے، پیغمبرؑ ، اوصیاء ، اولیاء آئے۔ دشمن نے ان کے مدمقابل چار طریقے استعمال کئے۔ جیسا کہ دشمن ابلیس ہے جو ان  کو سیکھاتا ہے لہذا چاروں طریقے ایک جیسے ہی ہیں۔ 

 *دشمنی کے چار مراحل:* 

1۔🔹 *پہلے مرحلے میں دشمن انکار کرتا ہے:* 

ایک پیغمبرؐ یا ایک امامؑ کی امامت کا انکار کرتا ہے۔ 
مثلاً جب رسولؐ اللہ تشریف لائے اور آغاز اسلام ہوا تو دشمن اسلام نے پہلے مرحلے میں جہاں تک ممکن ہو سکا آنحضرتؐ کی رسالت کا انکار کیا:

 *سورہ الانعام* 91
اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ
"مگر یہ کیسے ممکن ہے کسی بشر پر وحی نازل ہو؟"  
اگر خدا نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا تھا تو کوئی فرشتہ بھیجے یہاں انکار ہے اور ہمیشہ جب بھی نبیؑ آئے تو شیطانی لوگوں نے پہلے مرحلےمیں شیطان ان کو اس مقام پر لے آتا ہے کہ انکار کریں یعنی یہ خدا کی جانب سے نہیں ہے۔

 
2۔ 🔹 *دوسرے مرحلے میں دشمن تخریب کرتا ہے:👉* 

یعنی پیغمبروںؑ کی شخصیت کی توہین ہوتی ہے۔ اور شیطانی دشمن ان کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔ ان کو ستایا جاتا ہے ان کو مارا جاتا ہے۔ ان کو مختلف نام دیے جاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
 
 ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کی مختلف سورتوں میں اس جانب اشارہ ہے کہ کفار ہمارے پیغمبرؐ کو کبھی شاعر کہتے ہیں کبھی ساحر کہتے ہیں کوئی کذاب کہتا ہے اور کوئی مجنون کہہ رہا ہے۔ 

 *سورہ انبیاء آیت 5* 
بَلْ قَالُـوٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ بَلِ افْتَـرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۚ فَلْيَاْتِنَا
بلکہ کہتے ہیں کہ یہ بیہودہ خواب ہیں بلکہ اس نے جھوٹ بنایا ہے بلکہ وہ شاعر ہے، پھر چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے پیغمبر بھیجے گئے تھے۔

 *سورہ طور  
کیا وہ کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے، ہم اس پر گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔

 *سورہ صفات* 36
وَيَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُـوٓا اٰلِـهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُـوْنٍ
اور وہ کہتے تھے کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ کے کہنے سے چھوڑ دیں گے۔

  
کیا اس بات سے لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائے اور جو ایمان لائیں انہیں یہ خوشخبری سنائے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا، کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص صریح جادوگر ہے۔

 *سورہ ص آیت* 4
وَعَجِبُـوٓا اَنْ جَآءَهُـمْ مُّنْذِرٌ مِّنْـهُـمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُوْنَ هٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ 
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ڈرانے والا آیا، اور منکروں نے کہا کہ یہ تو ایک بڑا جھوٹا جادوگر ہے۔

یہ جو مختلف الفاظ کہے جاتے تھے یعنی یہ توہین کرتے تھے کہ پیغمبرؐ کا احترام ختم ہو اور ان کی حرمت پامال ہو اور پھر یہ عملاً بھی ہوتا تھا۔  پیغمبرؐ پر کوڑا پھیکا جانا، ان کو پتھر مارنا اور جانوروں کا فضلا نعوذ باللہ ان پر پھینکنا یعنی ان کی شخصیت کے اثر کو ختم کرنے کے لیے تخریب کرتے تھے۔  

3۔  *تیسرے مرحلے میں تحریف ہوتی ہے* 

 یعنی جو حقائق پیغمبرؐ یا امامؑ بیان کریں، دشمن ان میں تبدیلیاں کرتا ہے اور دشمن اس پر بہت کام کرتا ہے۔ بسا اوقات دشمن کئی سال کام کرتا ہے تاکہ دین کے ایک نکتہ پر لوگوں کی توجہ کم ہو جائے۔ یہ ہمارے آئمہؑ کے دور میں بھی ہوتا رہا۔ 

آئمہؑ کے دو قسم کے دشمن تھے: 
۔۔ *مخالفین* : 
 وہ تحریف کرتے تھے۔ یعنی جو دین حق اماموںؑ کے ذریعے بیان ہوتا تھا مخالفین نے ان کے مدمقابل جھوٹے دین بنائے۔ مثلاً مختلف مکتب جیسے حنفیہ، مالکیہ، شافیہ یہ تمام مکتب جعفریہ کے مدمقابل آئے۔ 

دین حق آزادی کو بیان کرتا ہے اور مخالفین کے مکتب نے اسے جبر بیان کیا۔ دین حق کہتا ہے کہ انسان خودمختار ہے اور اپنے ارادے سے جنت یا جہنم میں جائے گا۔ اور یہ کہتے ہیں کہ نہیں اللہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ خدا جسم و جسمانیت سے پاک ہے یہ کہتے ہیں کہ خدا کا جسم ہے۔ جسطرح رسولؐ اللہ نے نماز بتائی آج نماز میں کئی طرح کی تحریف ہے۔  اور قرآن کی طرح طرح کی تحریف ہے۔ 

ایک دشمنوں نے تحریف کی اور ایک ہمارے تشیہو کے اندر تحریف ہے۔ یعنی مختلف قسم کے غالی گروپ کام کر رہے ہے جو قلندی ہیں ، آئمہؑ کی الوہیت کے قائل ہیں ان کو رب مانتے ہیں۔ خدا کی عبودیت کو چھوڑ کر علی رب  کے نعرے لگتے ہیں۔ آیا مولا علیؑ اس سے خوش ہونگے۔ مولاؑ نے تو اس چیز کی سخت مذمت کی ہے۔ ہمارے باقی آئمہؑ نے بھی اس کی سخت مذمت کی۔ 

امام علی نقیؑ نے اور امام حسن عسکریؑ نے ایسےفاسق لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

امام رضاؑ اور امام صادقؑ نے فرمایا ہے کہ
 ایسے لوگوں سے تعلقات نہ رکھے یہ شیعہ تو کیا مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہے۔ اور اگر مر جائیں تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کریں جو ہماری ربوبیت کی باتیں کرتے ہیں یہ تو ہم سے بھی مخلص نہیں ہیں جو ہماری ربوبیت کی باتیں کرتے ہیں۔ 


4۔🔹 *چوتھے مرحلے میں دشمن اپن مرضی کے شخص کو لے کر آتا ہے۔ * 

بعض مرتبہ دشمن پچاس سال کام کرتا ہے تاکہ نظریہ حق کا ایک نقطہ ختم ہوجائے۔  جیسے آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل ، برطانوی استعمار کتنا کام کر رہا ہے کہ تشیہو کے اندر مرجیعت ختم ہو جائے۔ اور اپنے بنائے مرجع لانا چاہ رہا ہے۔ امام حسنؑ کو ہٹا کر معاویہ کو لے آتا ہے۔ امیرالمومنینؑ کو ہٹا کر ابوبکر کو لے آتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ نجف و قم کے مراجع کو ہٹا کر امریکی اور برطانوی طرز کے بنے ہوئے مشتبوں کو لایا جا رہا ہے اور ان کو بعنوان مجتہد بتایا جا رہا ہے۔ مثلاً شیرازی گروپ، عراق ایران میں جو احمد یمانی بصری والا فتنہ۔ یعنی اصلی امام زمانہؑ عج کی جگہ ایک نقلی لایا جارہا ہے۔ قادیانیوں میں اصلی امام زمانہؑ عج کی جگہ ایک نقلی  مہدی لایا گیا ہے۔ دشمن شروع سے یہ کام کر رہا ہے اور چاہے سنی ہوں یا شعیہ سب میں دشمن یہ کام کر رہا ہے۔ 

 *لہذا سب سے خطرناک مرحلہ چوتھا ہے۔ لیکن   دشمن اپنا کام ترتیب وار کرتا ہے۔* 


 *پہلا 
مہدویت کے حوالے سے اگر ہم دیکھتے کہ خود مہدویت کے مسئلے میں سب سے بڑا مسئلہ جو آرہا ہے کہ امام مہدیؑ عج سے انکار ہو رہا ہے حتہ شعیوں کے اندر بھی۔ ایک تو دشمن ہے۔ 

اہلسنت کے اندر بھی ایک گروپ ہے جو کہتا ہے لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم  (مہدی نے نہیں آنا فقط حضرت عیسیٰ ؑ نے آنا ہے) یہ جھوٹی روایت ہے۔ پھر یہود و نصارا اور عالمی استعمار وہ بھی امام مہدیؑ عج کے منکر ہیں مثلا ہم اگر بڑے بڑے انسائکلوپیڈیا (دایرہ المعارف)📚 دیکھے اگر ہم اس میں لفظ مہدی دھونڈیں گے تو جواب یہ ہی آئے گا کہ یہ کوئی حقیقت نہیں ہے اور ہم کسی ایسے شخص کے منتظر نہیں ہیں۔ دایرہ المعارف،  دین و اخلاق، حتہ کہ عربی کے اندر موصوعہ طرز کی بڑی کتابیں جن کے اندر ساری معلومات ہیں ان کے اندر جو لفظ مہدی کی تشریح ہے اس پر غور کریں۔ 

یہ کوئی آج سے کام نہیں ہو رہا بلکہ آئمہؑ کے زمانہ سے ہی جو یہود و نصارا مسلمان ہو رہے تھے وہ آہستہ آہستہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ ہمارے بنی اسرائیل کے نبی الیاس غائب ہیں اور وہ واپس پلٹیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو نجات دیں گے۔ 

ہمارے اندر جو نبی الیاؑس کا عقیدہ ہے 🫴یہ انہیں بظار مسلمان یہود ونصارا کا عقیدہ ہے ایسا کوئ نبی زندہ نہیں۔  صرف ایک نبی حضرت عیسٰیؑ ابن مریمؑ زندہ ہیں جو آئیں گے اور ہمارے امامؑ مہدیؑ عج کے ظہور کے وقت آئیں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔  *یہ بنی اسرائیل نے ہماری کتابوں میں ڈالیں ہیں جنہیں ہم  اسرائیلات کہتے ہیں* یہ تو باہر سے ہیں جو منکر مہدی ہیں اور کچھ ہمارے اندر سے ہیں یعنی اہل تشیہو میں سے جو کہتے ہیں کہ یہ سب افسانہ ہے اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جیسے کراچی میں ایک شخصیت موجود ہے جو کسی زمانے میں مہدویت پر کام بھی کرتے رہے آج سب سے بڑے مہدویت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔  اور وہ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ کوئی  ایسے شخص نہیں بلکہ وہ اماموںؑ کی عصمت اور ان کے عدد کے بھی منکر ہیں۔

ایک احمد القادر جو شعیوں کا ایک بہت بڑا عالم تھا۔  جو آہستہ آہستہ منکر ہوگیا۔  دشمن ایسے لوگوں پر دسیوں سال کام کرتا ہے اور ایک اہم عقیدے کا انکار کرواتا ہے۔  

 **ایک اہم ترین مسئلہ انکار  ہے جو پہلا مرحلہ ہے* ۔ 
یعنی
🔸 *یہود نصارا کی  
اس سے عبرت یہ ہے کہ ہم مولاؑ عج کی حقیقی معنوں میں معرفت کو حاصل کریں اور اردگرد کی دنیا کو سمجھیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ امامؑ عج کیوں غائب ہیں،  وہ کیا چاہتے ہیں اور کن کے منتظر ہیں یعنی وہ اپنے 


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤



🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*

*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*

*📆 منگل 4  ذوالحجہ 1445( 11 جون ، 2024)*

 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن
 *درس* 6
# نکات: دشمنان مہدویت کی تخریب ،تحریف اور جھوٹی شخصیات لانے کی مثالیں ، ہمارا وظیفہ کیا ہونا چاھئیے
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹



🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،

 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،

 📖گفتگو کا موضوع: 

دشمنان مہدویت کی تخریب ،تحریف اور جھوٹی شخصیات لانے کی مثالیں ، ہمارا وظیفہ کیا 





ہماری گفتگو دشمنان مہدی کی روشوں اور سازشوں پر جاری ہے۔ پچھلی مرتبہ عرض کیا تھا کہ دشمن کا سب سے پہلا وار یہ ہے کہ دشمن انکار کرتا ہے اور اس حوالے سے دشمنوں نے جو عالمی سطح پر سیمنارز کئے حتکہ جو عالمی سطح پر انسائکلوپیڈیا سامنے آئے ہیں ان میں مہدویت کا انکار ہوا ہے کہ ایسا کوئی شخص مشرق سے نمودار نہیں ہوگا اور ہمیں کسی ایسی شخصیت کا منتظر نہیں رہنا چاہیے جو کچھ بھی ہوگا ہمیں خود کرنا ہے۔ 

 *دوسرا حملہ* 
 *تخریب*
یعنی وہ عصر اسلام، عقیدہ امامت، اور عقیدہ مہدویت پر حملہ کرتا ہے اور ان میں شک پیدا کرتا ہے اور پھر تنفر یعنی نفرت پیدا کرتا ہے۔ 

 *مثلاً ذرائع ابلاغ اور میڈیا دشمن کے ہاتھ میں ہے اصل میں وہ گیمز اور فلمیں بناتا ہے ہم ان کے اس میڈیا کو استعمال کرنے والے ہیں۔ مغربی ثکافت تیزی سے ہمارے اندر آ رہی ہے اور سب سے پہلا حملہ اسلام پر ہے۔* کئی ایسی فلمیں بنتی ہیں کہ جس میں اسلام اور مسلمانوں کو دکھایا جاتا ہے کہ ان کے اندر حقوق انسانی اور انسانیت نہیں ہے۔ ان کے اندر خواتین کے حقوق اور آزادی نہیں ہے۔ 

 *The sword of Islam* 🤺
جیسے فیلم  اسلام کی تلوار ہے کہ دشمن نے اس میں دکھایا کہ اسلام طاقت کے زور پر پھیلا۔ 

اسی طرح گیمز بناتے ہیں کہ مسلمان اسی قابل ہیں کہ انہیں مارا جائے جیسے ان کی گیم ہے آئی جی ٹی۔  اس گیم کے اندر دشمن اسلامی چیزیں لے کر آ رہا ہے کہیں تلاوتِ قرآن ہے کہیں اسلامی عمارات ہیں کہیں ایران کے فارسی ریڈیو کے بارے میں الفاظ ہیں یعنی پہلے دشمن  نے شک پیدا کیا اور اب تنفر ہے کہ ان کو نفرت سے مارو۔ 

 *DELTA FORCE* 
اسی طرح ڈیلٹا فورس ہے اس گیم میں امریکہ ان مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے جو عربی یا فارسی بولتے ہیں۔ یا جن کے ماتھوں پر مہدویت کی پٹی بندھی ہے یا لا الہ الا اللہ لکھا ہے یا امام رضاؑ کے روزے کے ھال کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ یعنی دشمن پہلے شک پیدا کرو پھر نفرت پیدا کرو۔ 

 *THE MAN WHO SATOM1981
یا نوسٹر اڈیموس کی پیشن گائیاں اس نے اس زمانے میں دنیا کے مختلف حالات یا پھر جو امریکہ پر حملے ہوئے اس حوالے سے پیشن گوئیاں ہوئی ہیں۔ اور اس کی پیشن گوئیوں کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے ایسے کام کئے ہیں تاکہ ثابت ہو سکے کہ اس کی پیشن گوئیاں درست تھیں۔ ان پیشن گوئیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ مشرق سے ایک شخص نکلے گا اور وہ پوری دنیا پہ حملے کرے گا اور اس کی فوج میں عرب ، ایرانی اور پاکستانی مسلمان ہونگے اور اس کی فوج پوری دنیا کو خطرے میں ڈالے گی۔ اور امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ اس سے مقابلے کے لیے آگے بڑھیں گے اور اسے شکست دیں گے اور پوری دنیا کو دوبارہ امن کی حالت میں لائیں گے۔ 

دشمن اس طرح کام کرتا ہے ایک شخص سے پیشن گوئیاں کرواتے ہیں پھر ان پر عمل کر کے ثابت کرتے ہیں کہ یہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ 

 *THE PERSIAN GULF* 
یہ گیم مسلمان بچے کھیلتے ہیں یعنی مسلمان بچہ اس گیم میں امریکی ہوتا ہے۔ اور جو بھی اللہ اکبر یا  پھر یا مہدیؑ کہے گا اس کو مارنا ہے اور پھر اس پر گیم میں پوائنٹس ملتے ہیں۔ 

یہ بچہ جو ابھی سے اللہ اکبر یا پھر یا مہدی کہنے والے پر ایک گیم کے ذریعے حملہ آور ہو رہا ہے ۔ یہ بچہ کل کو دجالی یا سفیانی کے لشکر میں قرار پائے گا نہ کہ امام مہدی کے لشکر سے ہوگا۔ 

 *ناآگاہ بچہ اور جوان جو ہمارا ہے وہ ان گیمز اور فیلموں کے ذریعے ذہنی اور فکری  لحاظ سے دشمن کے کلچر کا حصہ بن رہا ہے۔*  

 *تحریف* :
نفرت کے ساتھ ساتھ دشمن تحریف کر رہا ہے۔ یعنی عقیدہ مہدویت کے اندر ایسی روایات شروع سے ہی  یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے تحریف کی جارہی ہے۔ یعن امام مہدیؑ عج کا چہرہ رحمت والا نہیں بلکہ غضب والا دیکھایا جا رہا ہے۔ ایسی روایات ممبروں پر پڑھی جاتی ہیں۔  اور امام ؑ جو کہ رحمت پروردگار ہیں جن کے بارے میں رسولؐ اللہ فرماتے ہیں کہ:
 *مہدیؑ عج مجھ (رسولؐ اللہ) جیسا ہے ۔ مہدیؑ کے اندر میری سیرت ہے۔* 

دشمن ان کو کس طرح خطرناک انداز سے پیش کرتا ہے اور تحریف کے بعد اپنے تیار کردہ مہدی سامنے لاتا ہے۔ جیسے فرقہ قادیانی میں میرزا غلام احمد قادیانی جس کو وہ جھوٹا مہدی بنا کر سامنے لائے۔  اسی طرح  ایران کے اندر سید علی محمد باب، حسین علی بہا (فرقہ بہائی)، سید محمد نور بخشی وغیرہ مثلاً آج کل کے دور کے اندر عراق سے احمد یمانی بصری جس کو امام مہدیؑ عج کے بیٹے کے طور پر سامنے لے کر آئے۔ ایران اور دوسرے ممالک  مثلاً یورپ، پاکستان اور انڈیا میں ایسے نمونے دشمن کے حربوں میں سے ہیں۔ جیسے کراچی کے اندر ایک فتنہ اٹھا تھا ایک شخص نے جھوٹے مہدی  ہونے کا دعوٰی کیا (گوہر شاہی فتنہ) اور کچھ لوگوں کو گمراہ کیا۔  اگرچہ وہ مر چکا ہے لیکن اس کی تنظیم امام مہدی فاؤنڈیشن کام کر رہی ہے۔    

 *یہ ساری چیزیں یہ بتا رہی ہیں کہ دشمن کہاں کہاں تک پہنچ چکا ہے۔* 
 
جب دشمن جھوٹے مہدیوں کو لانے کے بعد اور اسلام میں تحریف کرنے کے بعد اپنے یورپی  کلچر جس کے اندر لبرل، ڈیموکریسی، فحاشی اور بظار جس کلچر کے اندر مساوات ہے دشمن ان کو پیش کرتا ہے۔ 

 *Martrix in 1999* 🇮🇱
برادران چوضکی کی پیشکش
اس فیلم میں صراحت کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ عالم خیال اور واقع میں تنہا راہ نجات صیھونزم ہے۔ 

 *Independence 

اس فیلم میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا ایک تھالی نما پرندے کے خطرے سے دوچار ہے اور چار جولائی جو کہ امریکہ کا یوم استقلال ہے اس دن امریکی صدر یہودیوں کے مشورے سے جہاں کو نجات دلاتا ہے۔ 

 *Godzilla 1988* 🦖
اس فیلم میں ڈائنوسورس سے ملتی چلتی ایک مخلوق جو کہ صدیوں سے مری ہوئی تھی اچانک سے بیدار ہوتی ہے یہ  دنیا کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اور آزادی کے مجسمہ (لیبرل ڈیموکریسی کی علامت) کو منہدم کر دیتی ہے اس کو دیکھ ر وہ ہوائی جہاز نیویار کے جڑواں برجوں سے ٹکرا جاتے ہیں اور آخر میں غرب کی حکمت عملی کی وجہ سے بشریت نجات حاصل کرلیتی ہے۔ 

 *یا آجکل جو *زومبی فیلمیں* *بنتی ہیں اور عجیب و غریب آسمانی مخلوق دکھائی جاتی ہے۔** 


جبکہ ہمارے مہدوی کلچر میں امام مہدیؑ عج کےساتھ فرشتے مدد کے لیے آئیں گے۔ اور یہ دنیا کو یہ چیز کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کہ دنیا میں عجیب و غریب فضائی مخلوقات آئیں گی اور مغرب یعنی یہودی اور امریکہ ان سے مقابلہ کر کے دنیا کو نجات دے گا۔  

 *دشمن  ہمارے تمام عقائد کو پڑھتے ہیں اور پھر ان پر کام کرتے ہیں یعنی ان کے اندر شک،  تحریب اور تحریف  کیسے پیدا کریں اور پھر ان کے اندر جو مسلمان بچے اور جوان ہیں وہ دشمن کے بن جائیں۔  یعنی بدنی لحاظ سے وہ مسلمان ہوں لیکن فکری لحاظ سے وہ دشمن کے ہوں۔* 

بے حجابی، میک اپ اور سٹائل سب سے زیادہ ہمارے مسلمان ممالک میں فروخت ہو رہے ہیں اسی طرح مذہبی گھرانوں میں اجتماعی پارٹیاں جس میں حیا اور شرم ختم ہو چکا ہے اور جس کی وجہ سے ذہنی اور نفسیاتی اور فکری آلودگیاں سامنے آرہی ہیں جس کی وجہ سے دینی احساسات، رویے ، جذبات کمزور ہو رہے ہیں۔ دینداروں کی حوصلہ شکنی اور شکست ہو رہی ہے۔ 

 **یہ سارے کام تو دشمن کر رہا ہ

 *سوال یہ ہے کہ :
 *ہم کیا کر رہے ہیں؟* 

ہم نے کب کچھ کرنا ہے؟

ہم نے کب مولاؑ عج کا سپاہی بننا ہے؟ 

کب ہم نے اپنے بچوں اور خود پر سختی کرنی ہے

کب ہم نے اسلامی وظائف پر عمل کرنا ہے؟  
 
کب ہم نے امربالمعروف کرنا ہے؟

کب ہم نے اپنے خاندان ، گھر اور ان پارٹیوں میں امام مہدی ؑ عج کی آواز بننا ہے؟

 *امام مہدیؑ عج تو کل بھی تنہا تھے اور آج بھی تنہا ہیں کیونکہ جنہوں نے ان کا ساتھ دینا تھا وہ تو دشمن کا حصہ بن رہے ہیں۔ ہمیں ان چیزوں پر توجہ کرنے کی ضرورت   


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍ 🎤🎤



🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*

*بدھ 12 ذوالحجہ 1445 ( 19 جون ,2024)*

 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن
# *درس 7*
# *نکات: دشمنان مہدویت کی سازشوں کا مقابلہ ، جہالت سے جنگ ، شیعوں میں امام کی ضرورت کا احساس پیدا کرنا ، دیگر مکاتب و مذاھب کو مہدویت کے مشترکہ پلیٹ فارم پر دعوت فکر*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*






🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،



 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،




 📖گفتگو کا موضوع: 

دشمنان مہدویت کی سازشوں کا مقابلہ ، جہالت سے جنگ ، شیعوں میں امام کی ضرورت کا احساس پیدا کرنا ، دیگر مکاتب و مذاھب کو مہدویت کے مشترکہ پلیٹ فارم پر دعوت فکر*



1 دشمن کے مدمقابل مقابل اپنے مکتبہ کا دفاع  
2 اسباب دشمنی کی شناخت 
3 جہالت کا خاتمہ 
4 امام رضا نے اباصلت سے فرمایا 
خدا اس پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زند ہ کرے
ابا صلت نے پوچھا امر زندہ کرنے سے کیا مراد ہے 
آپ نے فرمایا 
ہمارے علوم کا سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا 
عصر ظہور کی خوبیاں بیان کریں 
شکوک وشبھات کو دور کریں 
مہدویت کی ایک 
پلیٹ فارم پر انسانیت اور بشریت کہ آگاہی 
دینا 
امام زمان کی معرفت حاصل کرنا اور دوسروں کو آگاہی دینا 
امام عالم ترین 
حکیم ترین تقوی بردبار اور شجاع ہستی ہے 
امام کی حکومت کی راہ ہموار کرنا 
اللہ ہمیں بہترین منتظر بناے 


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو ✍ 🎤🎤




🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹

*سوموار 17 ذوالحجہ 1445 ( 24 جون ,2024)*

*شہر بانو*🤷🏽‍♀️


 *مہدویت کورس 2 خواہران*
 # *کتابچہ 13*
# *امام مہدی عج کے دشمن*
# *درس 8*
# *نکات: انحرافات و بدعات کا مقابلہ ، اپنی اخلاقی تربیت ، اپنی ملت کو دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ کرنا اور انکے مقابلے کے لیے تیار کرنا*
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم🌐*





🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،

 📖گفتگو کا موضوع: 

اخلاقی تربیت ، اپنی ملت کو دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ کرنا اور انکے مقابلے کے لیے تیار کرنا*




خود مکتب تشیعہ
خرافات کا شکار ہے 
 اس وجہ سے بھی ظہور تاخیر کا شکار ہے 
شیطانی ہتھکنڈے انسان کو پستی کی جانب لے جا رہے ہیں 
ہمیں اخلاقی اصلاح کی ضرورت ہے 
حق کا ساتھ دینا 
اور  باطل کو رد کرنا ہے 
اخلاقی رشد پڑھانے کی ضرورت ہے 
اسوہ رسول ص 
کی درست پیروی ہیں خدا شناسی سکھاتی ہے 
اور دین میں بدعات ظہور میں تاخیر کی وجہ ہے 
ہمیں حق پرستوں کا ساتھ دینا ہے 
اور باطل کو ریجیکٹ کرنا ہے 
تاکہ وقت کے امام کی تائید حاصل ہو اور ہم 
حقیقی منتظر بنیں 


 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍ 🎤🎤





🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*
*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*
*📆 جمعہ المبارک 22 ذیقعد 1445 ( 31 مئی ، 2024)*

 *مہدویت کورس 2 خواہران*

 *کتابچہ*📖 13 امام مہدی عج کے دشمن

 *درس* 





🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،

 📖گفتگو کا موضوع: 









 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍ 🎤🎤









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات