Book 13 Complete Sadia
کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس اول
# نکات: کلچر مہدویت کے دو اہم دشمن : جہالت اور تعصب کا جائزہ
# استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
🔹ہماری گفتگو کا موضوع مولا امام زماں عج الشریف کے دشمن ہیں۔ امام زماں عج کے دشمن پوری دنیا میں موجود ہیں۔ حتکہ کہ ہم یہ بھی کہہ سکتے کہ وہ لوگ بھی جو بظاہر مسلمان ہیں یا بظاہر مومن اور شیعہ ہیں۔ ان کے اندر بھی دشمن موجود ہیں۔
اب یہ لازمی نہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ ہم دشمن ہیں مگر ان کی روش، ان کا عمل ، ان کا طریقہ کاراور ان کا کلچر اور وہ جہالت اور معرفت نہ رکھنے کی وجہ سے، اگاہی نہ رکھنے کی وجہ سے، ہوائے نفس کی وجہ سے بلآخر مختلف چیزوں کی وجہ سے وہ امام زماں عج کی دشمنی پر قائم ہیں یعنی وہ ایک ایسے کلچر کا حصہ بن چکے ہیں کہ جو امامؑ عج کی حمایت میں نہیں کر رہا ان کے ظہور راہ کو ہموار نہیں کر رہا بلکہ ان کی دشمنی کا باعث ہے۔ مولاؑ عج کے ظہور میں تاخیر کا باعث ہے۔ 🫴
اس حوالے سے ہم سب سے پہلے ان اسباب اور وجوہات کو جاننے کی کوشش کریں گے کہ جو امام زماں عج کے کلچر جو کہ ثکافت انتظار ہے اور جو کہ امامؑ عج کے ظہور کو ہموار کرنے کا کلچر ہے ہم سب سے پہلے اس کے مدمقابل دشمنی کے اسباب کو جاننے کی کوشش کریں گے۔
حضرت صاحب الزمان عج اللہ سے دشمنی کی نسبت دو طرح کے اسباب ہیں۔
1۔ 🔹جہالت اور ناآگاہی:
سب سے پہلا سبب خود جہالت ہے۔
یعنی دین سے جہالت ، خود امام زماںؑ عج کی عظمت سے اور ان کی امامت کے فرائض اور حقوق سے جہالت:
جہالت خدا، انبیاءؑ اور آئمہؑ کا سب سے بڑا دشمن رہا ہے۔
نہج البلاغہ میں امیرالمومنین کا فرمان ہے کہ: 🌺
کلمات قصار: 172📚
الناس اعداء ما جھلوا
لوگ جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہیں اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔
کیونکہ لوگ اس کی عظمت اور حقانیت کو نہیں جانتے اس سے دشمنی کرتے ہیں اور یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ آئمہؑ سے دشمنی اس وجہ سے رکھتے تھے کیونکہ وہ ان کی حقانیت اور عظمت سے ناواقف تھے۔
پیغمبرؐ اکرمؔ دشمنوں کی عداوت اور دشمنی کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح مناجات کرتے ہیں:🌺
اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون
پروردگار میری اس قوم کو تو ھدایت دے کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ اور جہالت کی وجہ سے مجھ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
انبیاءؑ اور آئمہؑ کی دشمنی کی پوری تاریخ ایسے دشمنوں سے بھری ہوئی ہے کہ جن کی دشمنی کی وجہ ان کی جہالت ہے۔ کیونکہ اگر یہ لوگ آگاہی رکھتے تو یہ عاشق ہو جاتے۔ اور ایسا ہوا ہے کہ جن جن لوگوں کو اپنے زمانے کی نبیؑ یا حجتؑ کا ادراک ہوا ہے وہ ان کے معتقد ہوگئے ان سے وابستہ ہو گئے اور ان کے ہمراہ ہوگئے۔
ہماری تاریخ میں یہ واقع موجود ہے 📖 کہ جب اسیران کربلا کا قافلہ جب شام میں داخل ہوا تو لوگ ناواقف تھے کہ یہ آل محمدؐ ہیں۔
وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی باغی لوگ ہیں کوئی دشمنان خدا ہیں کہ جن سے یزید کا لشکر جا کر لڑا ہے اور ان کو اسیر کر کے لایا ہے۔ تو لوگ ان کو باغی سمجھ کر ، دشمنان خدا سمجھ کر جشن منا رہے تھے۔
کہتے ہیں کہ جب اسیروں کا قافلہ شام میں داخل ہوا ہے تو ایک بوڑھے شامی شخص نے خدا کا شکر ادا کیا کہ دشمنان اسلام کو ذلت دیکھنی پڑ رہی ہے۔ تو جب امام سید سجادؑ نے اپنا تعارف کرایا کہ میں نواسہ رسولؐ کا بیٹا ہوں۔ میں حسینؑ ابن علیؑ ہوں۔ اور جب بیبیوں کا تعارف کرایا اور بتایا کہ یزید کے لشکر نے کن کو شہید کیا ہے تو اس وقت وہ شامی بوڑھا شرمندہ ہوا اور اس نے شرمندگی سے گریہ کیا۔
اور ایسا ہوا ہے کہ جب آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ تو آل رسولؐ ہیں کہ جن کے نانا کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو اس وقت شام کے حالات بدل گئے۔ لوگ اعتراض کرنے لگ گئے بلکہ لوگوں نے گریہ و عزاداری کی اور یزید مجبور ہوگیا کہ آل نبیؐ کو رہائی دے۔ لوگوں نے یزید کے خلاف فضا قائم کر دی۔
تو جیسے جیسے جہالت ختم ہوئی تو لوگوں کا رویہ، لوگوں کا کلچر اور لوگوں کا طریقہ تبدیل ہوگیا۔
امام زماں عج کے حوالے سے اور غیبت کے طولانی ہونے اور ظہور میں تاخیر ہونے کا یہی سب سےبڑا مسئلہ ہے۔
روایات کی رو سے جو ہم نتیجہ نکالتے ہیں وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ امامؑ عج کی نسبت جہالت اور ناآگاہی دو طرح کی ہے۔
پہلا گروہ:۔👉
بعض صرف امامؑ عج کی شناخت نہیں رکھتے۔ یعنی ان کی عظمت، مہربانی، حکمت اور ان کے قیام کے موقف کو نہیں جانتے۔
دوسرا گروہ:۔👉
وہ لوگ عاشق دنیا ہیں اور دوسرے جہان اور آخرت کے قائل نہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بس دنیا اسی کو کہتے ہیں کہ کھاؤ پیو، زندگی گذارو اور مر جاؤ کوئی آخرت نہیں ہے۔ بس یہی نظام اور جہان ہے اور اس کے پیچھے کچھ بھی نہیں۔ بظاہر مسلمان ہیں اور دل سے اسلام اور آخرت کے قائل نہیں اور ان کی زندگی حیوانی ہے اور وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم کمیونیسٹ ہیں اور لبرل ہیں۔
فرق یہ ہے کہ پہلا گروہ بظاہر مسلمان اور مومن ہیں لیکن معرفت امام وقتؑ عج نہ رکھنے کی وجہ سے امامؑ عج کے مدمقابل کھڑے ہونگے۔ اور جیسے دیگر فرقے اور دیگر مکاتب اس لیے امامؑ عج کے مد مقابل ہو نگے کیونکہ ان کی معرفت نہیں رکھتے۔
جبکہ دوسرا گروہ بطور قلی بھی ان جاہل ہے۔ یہ نظام خلقت سے جاہل ہے اور وجہ خلقت انسان سے بھی جاہل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کہیں گے کہ ہمیں کسی دین اور امامؑ کی ضرورت نہیں۔
حوالہ: طوسی الغیبتہ، فصل 5، ص 341📚
امیرالمومنینؑ نے امام مہدیؑ عج کی غیبت کے دوران جو لوگوں کے نظریات ہیں ان کی جانب لوگوں کے نظریات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
حضرت مہدی عج غائب ہوں گے تو جاہل کہیں گے کہ آل محمدؑ کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں اور یہی زندگی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ 🔹بے جا تعصب:
دوسری چیز جو امامؑ عج شریف کے مد مقابل کھڑی ہوگی یا ابھی بھی امامؑ عج کے ناصرین کے مدمقابل کھڑی ہے وہ بے منتق تعصب ہے۔ یعنی آپ دیکھیں کہ کچھ لوگ تو اپنے عقائد پر تحقیق کرتے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور حق کو پاتے ہیں اور حق سے متمسک ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ تحقیق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کا مذہب ہی ہمارا ہے۔
سورہ زغرف 22🌺
بَلْ قَالُـوٓا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَآءَنَا عَلٰٓى اُمَّةٍ وَّّاِنَّا عَلٰٓى اٰثَارِهِـمْ مُّهْتَدُوْنَ (22)
بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور انہیں کے ہم پیرو ہیں۔
یعنی ہم بھی وہی کریں گے جو ہمارے آباؤ اجداد نے کیا جیسے انہوں نے شرک کیا ہم بھی کریں گے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمارے اردگرد یہی مذہب ہے اگر غور کریں جو جس گھر میں پیدا ہوا ہے اور اس گھر میں جو انحرافات اور بدعات ہیں اور ایسے کام ہیں جو باطل ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا نے کیا ہے۔ اس کا غم و ہم اور ہدف فقط کمانا اور دنیا میں پیسوں کے پیچھے دوڑنا ہے۔ عقائد، دینداری کو چھوڑ چکا ہے۔ وہ کی بات سننے کو تیار نہیں اور اپنے باپ دادا کے نقش پا پر چلنے پر آمادہ ہے۔ وہ دنیا کی چند روزا زندگی کو مستقل سمجھتا ہے اور مختلف کورس اور مضامین کی جانب توجہ رکھتا ہے تاکہ اس کی کمائی اچھی ہو جائے۔ اس کے منصوبے اچھا گھر، گاڑی اور اچھی کمائی تو ہوتے ہے۔ لیکن عقائد اور دیداری اور اخلاقیات کو چھوڑ دیا ہے۔ جن پر اس کی آخرت اور قبر اور بعد والی زندگی منحصر کرتی ہے وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے۔
اس قسم کا تعصب رکھنے والے لوگ رسولؐ اللہ کے زمانےمیں بھی تھے اور ایسے لوگ امیرالمومنینؑ کے مدمقابل بھی تھے جو اپنےباپ دادا کے طریقے کو نہیں چھوڑتے تھے۔ کہتے تھےکہ جس جانب ہمارا قبیلہ جائے گا ہم اس جانب جائیں گے۔
اگر ہم غور کریں کہ روز غدیر ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے امیرالمومنینؑ کی بیعت کی تھی تو وہ بعد میں کہاں گئے؟
عرب کے لوگوں کی قبائلی زندگی تھی تو جس طرف قبیلے کا رئیس جاتا تھا لوگ اسی جانب جاتے تھے۔ اور رحلت پیغمبرؐ اکرمؔ کے بعد قبائل کے جو روسا ذاتی مفادات اور مسائل کی وجہ سے مسلمانوں کے بنائےگئے خلیفہ کی جانب چلے گئے تو ان کے قبیلے کے لوگ اپنے قبیلے کے رئیس کے پیچھے ادھر ہی چلے گئے۔ یہ بےجا تعصب ہے۔ یعنی ان کی اپنی کوئی عقل نہیں اپنی کوئی منتطق نہیں اپنی کوئی قبر نہیں۔ ظاہر ہے جب عدالت الہیٰ میں جائیں گے تو کیا اسوقت ان کے قبیلے کے سردار ان کے کام آئیں گے۔ اس وقت وہ اپنی زندگی کا دفاع کر لیں تو بڑی بات ہے۔
بلآخر یہ تعصب امامؑ عج کے ظہور تک بھی رہے گا خود امامؑ عج کے مدمقابل بھی لوگ اس لیے کھڑے ہونگے کہ ہمارا قبیلہ ،ہمارے آباؤ اجداد تو یہ کہتے ہیں حتہ شیعوں میں بھی ایسے گروہ اس لیے امام ؑ عج کے مدمقابل کھڑے ہونگے کہ انہوں یہ انحرافات، بدعات یہ ساری برائیں نہیں چھوڑنی کیونکہ ہم شروع سے ایسا ہی کرتے آرہے ہیں۔
اسی طرح دنیا میں دوسرے ادیان کے لوگ بھی ہوں گے جو اپنا شرک اور کفر نہیں چھوڑیں گے۔ اور اس پر باقی رہیں گے اور ان کو مولاؑ عج کا ظہور برا لگ رہا ہوگا۔ اور اس حوالے سے روایات بھی ہیں۔
مجلسی، بحارالانوار، ج52، ص346 باب 27📚
تفسیر عیاشی ، ج 2 ص 73📚
امام صادقؑ فرماتے ہیں 🌺🌺
اذا خرج القائم لم یبق مشرک باللہ العظیم ولا کافر االا کرہ خروجہ
کوئی بھی کافر اور مشرک ایسا دنیا میں نہیں بچے گا جب مولاؑ عج کا ظہور ہوگا مگر یہ کہ اسے یہ ظہور پسند نہیں ہوگا اور وہ مولاؑ عج سے دشمنی رکھے گا۔
کیونکہ یہ ظہور ان کی مرضی ، ان کے فرقے اور ان کے اباؤ اجداد اور رسومات کے مطابق نہیں تھا۔
خلاصہ: ⭐
آج دو اہم نکات بیان کئے گئے۔
۔ جہالت
۔ بے تعصب
جہالت اور تعصب دو اہم اسباب تھے جو انبیاءؑ کے مدمقابل ، شیطان کی حمایت میں خدا اور خدا والوں، اللہ کے اوصیاء کی مخالفت میں اس وقت بھی موجود تھے اور اسی طرح امام زمانہؑ عج کے مدمقابل بھی کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کے جاہلانہ اور متعصبانہ رویے باعث بنیں گے۔ اور بلآخر فنار ہوں گے۔ (انشاءاللہ)
اگر ہم چاہتے ہیں کہ مولاؑ عج کے ظہور میں ان کے ہمرکاب کھڑے ہوں تو ہمیں چاہیے کہ جہالت کو ختم کریں۔ علم حاصل کریں۔ بلخصوص علم دین اور اپنے زمانے کے امامؑ عج کی معرفت اور ان کی منشاء کو جانیں۔ تعصب امامؑ عج کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ تعصب حق کے ساتھ ہونا چاہیے اور باطل کے خلاف ہونا چاہیے۔
تعصب حق یعنی⭐⭐ محمدؐ و آل محمدؑ کی حمایت کا تعصب، امام کی پیروی کا تعصب ہو۔ ناکہ اپنے آباؤ اجداد کا تعصب ہو۔
پروردگار ہمیں مخلصین امام زمانہؑ عج میں سے قرار دے جو اہل علم ہیں اور اطاعت گذار ہیں۔
الہیٰ آمین🤲
والسلام
شہربانو: ✍️
کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس دوم
# نکات: عقیدہ مہدویت کے مخالف دو اسباب(دنیاوی مفادات کے پیچھے فقط بھاگنا اور عالمی استعمار)کا جائزہ
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہمارا موضوع مولا امام زماں عج الشریف کے مدمقابل دشمنی کے اسباب ہیں۔ گذشتہ درس میں ہم نے جہالت اور تعصب پر گفتگو کی۔ آج کے درس میں ہم مزید دو اسباب پر گفتگو ہوگی۔ ایک دنیاوی لذتیں اور مفادات اور دوسرا عالمی سامراج اور عالمی ظلم و ستم جو فقط لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی فکر میں ہیں۔
💫💫
3۔ 🔹 *منفعت طلبی، حب دنیا:*
جہاں تک دنیاوی لذتوں میں صرف منحصر ہونا یا دنیاوی مفادات یہ ہوسکتا ہے کہ انفرادی سطح پر بھی ہو اور اجتماعی سطح پر بھی۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ دنیا میں صرف لذتیں اٹھانے کے لیے آئے ہیں۔ وہ اپنی دنیاوی زندگی کا مقصد صرف شہوات کو پورا کرنا اور دنیاوی زندگی کا لطف اور لذت لینے کو سمجھتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کون سے لوگ حق سے جدا ہورہے ہیں۔ *باطل کیا ہے؟ ہمارے فرائض کیا ہیں؟ دین کیا ہے؟ اور خدا کیا ہے؟*
اگر وہ دین اور امام ؑ کا نام بھی لیتے ہیں تو اس لیے لیتے ہیں کہ ان کی دنیاوی زندگی اور معاش اس سے وابستہ ہے۔ یعنی وہ دین کا نام لے کر کما رہے ہیں اور اگر ان کی یہ کمائی چھوٹ جائے تو وہ دین کو بھی چھوڑ دیں گے۔
تو بس بہت سارے لوگ اس لیے دین سے وابستہ ہیں کہ یہاں ان کی دنیاوی خواہشات پوری ہو رہی ہیں۔
جیسے کربلا کے سفر میں بہت سارے لوگ امام حسینؑ کے ساتھ ملنے شروع ہوئے لیکن جب سید الشہداؑء نے کہا کہ یہ سفر شہادت کا سفر ہے تو بہت سارے لوگ انہیں چھوڑ گئے کیونکہ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ امام حسینؑ کوفہ جا رہے ہیں تو وہاں کے حاکم بنیں گے اور یزید کے خلاف ایک لشکر بنائیں گے اس کو شکست دیں گے اور اس طرح پوری حکومت اسلامیہ پر امام حسینؑ حاکم ہو جائیں گے۔ اور ہم جو آغاز میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں تو ہم اس حکومت میں اہم منصب اور اہم عہدوں پر قابض ہو جائیں گے اور دنیا کا لطف خوب اٹھائیں گے۔ لیکن جب مولاؑ نے بتایا کہ یہ تو شہادت کا سفر ہے تو پھر فقط بہترۤ(72) ہی رہ گئے۔
💫💫
بحار الانوار، ض 44، ص283📚
*سید الشہداء امام حسینؑ فرماتے ہیں :* 🌹
*ان الناس عبید الدنیا والدین لعق علی السنتھم یحوطونہ مادرت معایشھم فاذا محصوا بالبلاء قل الدیانون۔*
لوگ دنیا کے غلام ہیں دین کا ورد فقط ان کی زبانوں پر جاری ہے اور امتحان کے وقت حقیقی دیندار کم ہیں۔
*اسی چیز کو امام صادقؑ نے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان فرمایا:* 🌹
حسن بن شعبہ حرانی، تحف العقول، ص 622 📚
امام صادقؑ محبت اہلبیت رکھنے کا دعوا کرنے والوں کی اس طرح سے تعریف کرتے ہیں:
*افترق الناس فینا علی ثلاث فرق،*
ہماری نسبت سے لوگوں کے تین گروہ ہیں:
*فرقتہ احبونا انتظار قائمنا لیصیبوا من دنیانا، فقالو ا و حفظو ا کلامنا و قصروا عن فعلنا، فسیحشرھم اللہ الی النار*
ایک گروہ اس امید کی بنا پر ہمیں دوست رکھتا ہے تاکہ ہماری دنیا سے فائدہ اٹھائے، ہمارے اقوال کو نقل کرتے ہیں اور حفاظت کرتے ہیں لیکن ہمارے عمل کے متعلق احکام پر عمل کرنے سے کوتاہی برتتے ہیں۔ خدا انہیں جہنم رسید کرے،
*و فرقتہ احبونا و سمعوا کلامنا ولم یقصروا عن فعلنا، لیستا کلو الناس بنا فیملا اللہ بطونھم نارا ویسلط علیھم الجوع والعطش*
ایک فرقہ ہمیں دوست رکھتا ہے، ہمارے اقوال کو سنتے ہیں اور عمل میں بھی کوتاہی نہیں کرتے لیکن اس سے ان کا ہدف صرف دنیا اور شکم ہے۔ خدا ان کے شکم کو آتش سے بھر دے گا اور بھوک و پیاس کو ان پر مسلط کر دے گا۔
*و فرقتہ احبونا و حفظو ا قولنا و اطاعوا امرنا و لم یخالفو ا فعلنا فاولئک منا و نحن منھم*
تیسرا گروہ ہم سے محبت رکھتا ہے ہمارے اقوال کو سنتے ہیں ہمارے فرمان کی اطاعت کرتے ہیں اور عمل میں ہماری مخالفت نہیں کرتے۔ یہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے۔
*اللہ اکبر!* 🌹
یہ ہمارے معاشرے کی ایک حقیقت ہے جس کی تصویر امام صادقؑ نے بنائی اور اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ اگر دینداری میں ہمارا ہدف دنیا داری ہے تو پھر دنیاداری ملے گی لیکن آخرت میں کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن اگر دینداری میں ہمارا ہدف خدا، رسولؐ اور امام زماںؑ عج ہیں اور ایک ہدف ہے کہ ہم نے مولاؑ عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنی ہے تو انشاءاللہ یہ ہدف ہمیں دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی *انشاءاللہ* ہم محمدؐ و آل محمدؑ کے ساتھ ہونگے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر آزمائش آتی ہے تو پھر یہ لوگ اپنا سب کچھ راہ خدا میں قربان کرتے ہیں لیکن یہ جو پہلے والے لوگ ہیں یہ دنیا سے فقط لذتیں لیتے ہیں اور آزمائش کے وقت ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کوفہ میں کتنے ہی لوگوں نے خط لکھے تھے لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو وہی لوگ مارنے کے لیے پہنچ گئے کیونکہ ان کی دنیا اب دشمنان کی طرف مل رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💫💫
4۔🔹 *آمرانہ، عالمی استعمار:*
ہمارے آئمہؑ کیوں گھروں میں محصور ہوگئے؟
کیونکہ اس زمانے کے ظالم حکمرانوں نے اپنی طاقت کے زور پر دین خدا کا اور دین کے ھادی جو ہیں ان کو محصور کر دیا کسی کو زہر سے مارا کسی کو تلوار سےمارا۔ کیونکہ وہ اس فکر اور عقیدے کو اپنے لیے نابودی اور ہلاکت سمجھتے تھے۔
مقام معظم رھبری فصل نامہ انتظار، ش 2 ص 32۔ 📚
*ایران کے عظیم رہبر اور آج کی بہت بڑی شخصیت حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اس حوالے سے بہت خوبصورت کلام ہے فرماتے ہیں کہ:*
"عقیدہ مہدویت اور حضرت حجت عج اللہ فرجہ الشریف کے سب سے بڑے دشمن، دنیا کے بڑے ظالم لوگ ہیں۔ آپؑ کی غیبت کے دن سے بلکہ آپؑ کی ولادت کے دن سے آج تک یہ ستمگر طبقہ اور ظالم لوگ آپؑ یعنی نور الہیٰ اور شمشیر الہیٰ سے دشمنی میں مصروف ہیں۔ آج بھی دنیا کے مستکبر ، ظالم اور ستمگر لوگ اس فکر اور عقیدے کے مخالف اور دشمن ہیں اور اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ عقیدہ اور عشق جو کہ مسلمانوں کے دلوں میں خصوصاً شیعوں کے دلوں میں ہے ، ظالموں اور ستمگروں کے ظالمانہ اہداف کے لیے رکاوٹ ہے۔
یہ مولاؑ عج اور ہم شیعوں کے کیوں خلاف ہیں کہ جن کے دلوں میں مولاؑ عج کی محبت ہے ۔
وہ اس لیے خلاف ہیں کیونکہ ہمارا عقیدہ ان کے مدمقابل ہے۔
سابقہ مآخز، ش2، ص37📚
اسی بنا پر ، عقیدہ مہدویت اور نظریہ مہدویت کے دشمن کہ جو اس فکر کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں ہمیشہ سے اس کوشش میں رہے ہیں کہ اس عقیدہ کو لوگوں کے دلوں سے نکال دیا جائے یا اس فکر کے مضامین کو تحریف کریں۔
پاکستان میں مرزائی اور ایران میں بہائی انہیں انگریزوں کی سازش ہے اسی طرح آج بھی امام مہدیؑ عج کے جھوٹے بیٹے اور جھوٹے نائب اور ملاقاتوں کے جھوٹے دعویدار بنے ہوئے ہیں یہ اسی لیے ہیں کہ لوگوں کو ان کے اصلی اہداف سے دور کیا جا سکے۔ ان سب کے پیچھے یہی یہود، ہنود اور مسیحی اور عالم استعمار ہیں۔ یہ مختلف کتابیں اور فلمیں بناتے ہیں اور حتکہ یہ لوگ مجالس میں ممبر تک پہنچ گئے ہیں اور مولاؑ عج کا ایسا ظالمانہ چہرہ بناتے ہیں کہ لوگ پریشان ہوں اور مولاؑ سے عشق نہ کریں۔
رہبر معظم فرماتے ہیں کہ: 🌹
اس طرح یہ یہ عالمی سامراج اور ھھیونیزم اس کوشش میں ہے کہ ان کے زیر تحت ملتیں تحمیلی حالت کی عادی بنیں۔ اور ان کی غلامی کو اپنا مقدر کا لکھا ہوا شمار کریںَ
کیونکہ مہدویت لوگوں کو حریت یعنی آزادی دے گا اورلوگوں کو عزت بخشے گا اور یہ ان سامراجوں کے عزائم کے خلاف ہیں۔ یہ ملتوں کو غلام رکھنا چاہتے ہیں اس لیے یہ مہدویت اور عقیدہ مہدویت رکھنے والوں کے خلاف ہیں۔
استکباری قوتیں، اقوام اور ملتوں کو غفلت، خواب آلود اور غیر متحرک دیکھنے کی خواہاہیں اور اس صورتحال کو اپنی جنت خیال کرتے ہیں۔
لیکن انتظار فرج اس چیز کا موجب ہے کہ انسان اپنی موجودہ صورتحال پر قانع نہ ہو اور اس سے بہتر اور برتر حالت تک رسائی حاصل کرنے کو چاہے۔
اب ہمارا ہدف یہ ہے ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے اندر مہدوی شعور پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمارے ان عظیم مقاصد میں کامیاب فرمائے
الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام
شہربانو: ✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
# کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس سوم
# نکات: فقیہ و مرجع کے بعنوان نائب امام اثرات اور دشمنان مہدویت کا خوف ، مہدویت کے دشمنوں کا ہمارے بارے جائزہ
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے کہ جو امام مہدیؑ عج کے مدمقابل کھڑے ہیں اور دشمنی کر رہے ہیں۔ زمانہ ظہور میں تو یقیناً مولاؑ عج کے دشمن ان کے مدمقابل صف آرا ہونگے لیکن اب بھی دشمنان مہدی عج میدان عمل میں موجود ہیں۔ اور غیبت کا طولانی ہونے اور ظہور میں تاخیر کی وجہ بھی یہی ہے کہ دشمن تیار ہے کام کر رہا ہے لیکن مولاؑ عج کے اپنے تیار نہیں۔
*اگر مولاؑ عج کے دشمنوں کی تاریخ کی جانب توجہ کریں تو وہ بہت عرصے سے مہدویت کی راہ کو روکنے کے لیے بڑے عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اس بات کو درک کر چکے ہیں کہ عقیدہ مہدویت کے ثمرات اور آثار بہت گہرے ہیں۔*
اس کی اہم مثال مرجیعت ہے یعنی تقلید کا نظام ہے۔ اور دنیائے تشہیو ایک مرجع کی تقلید بعنوان نائب امامؑ عج کرتی ہے۔ اس کے فتاویٰ پر عمل کرتی ہے اور یہ چیز دشمن کو پریشان کئے ہوئے ہے۔
*عقیدہ مہدویت کے ثمر بخش نمونے:*
*تحریک تمباکو:* 🫴
آج سے 120 سال پہلے ایران کے اندر ناصر الدین بادشاہ جو ایران کا بہت طاقتور بادشاہ گذرا ہے اس کا شہنشاہی نظام تھا۔ اس نے انگلینڈ سے باقاعدہ تمباکو کا معائدہ کیا، پیسہ لیا اور ایران کا جتنا بھی تمباکو کی خرید و فروخت انگلستان کی کمپنی کے حوالے کی۔ اس طرح ایران کا تمباکو انگریزوں کے قبضے میں آگیا اور انہوں نے اسے اپنے نام اور مہنگے ریٹ پر بیچنا شروع کر دیا۔ اب یہ آغاز تھا اور انہوں نے آہستہ آہستہ ایران کی باقی اجناس پر بھی قبضہ کرنا تھا۔ تو یہاں لوگوں نے فقیہ کی جانب رجوع کیا۔
*اس زمانے میں میرزا شیرازی بزرگ بہت بڑی شخصیت اور فقیہ تھے۔ وہ اس وقت عراق میں تھے اور پوری دنیا تشیہو ان کی تقلید کرتی تھی۔*
انہوں نے اس زمانے میں تمباکو حرام کا فتوی دیا کہ آج کے بعد اگر کوئی شخص تمباکو استعمال کرے گا تو وہ ایسا ہی ہے جو امام زماں عج سے جنگ کرے گا۔
اب یہ فتویٰ آنا تھا تو لوگوں نے تمباکو کا استعمال ترک کر دیا اب جو کمپنی تھی اس کا تمباکو خریدنے والا کوئی نہ تھا یہاں تک کہ محل میں درباریوں نے اپنے حقے توڑ دیے حتہ کہ بیگمات نے بھی بادشاہ کے حقے کو توڑ دیا۔🤴
اب شہنشاہ نے جب بیگمات سے پوچھا کہ کس کے حکم پر تم نے میرا حقہ توڑا تو بیگمات نے کہا کہ جس نے ہم کو تم پر حلال کیا ہے اسی کے حکم پر ہم نے توڑا۔
یہاں سے ایک فقیہ کے حکم کی قوت طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اسی زمانے سے ہی عالمی استعمار فقہاء کے خلاف ہوگیا اور آج تک فقہاء کے خلاف اپنی کاروائیوں میں سرگرم ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تشہیو کے اندر بھی اور باہر بھی جتنے منافقین ہیں یہ اس لیے بول رہے ہیں کہ ان کے پیچھے عالمی استعمار ہے۔
فقہاء کو یہ عظمت کس نے دی تو یہ ہمارے آئمہؑ ہیں انہوں نے اس نظام تقلید کو شروع کیا اور فقہاء کے ذریعے جو دین کے امور چلانے تھے تو اسی لیے فقہاء کو یہ مقام بخشا۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں:🌹
۔۔ کافی، ج1 ص 67📚
ترجمہ:
*میں انہیں (علماء) کو تم پر حاکم قرار دیتا ہوں، جب وہ ہمارے فرامین کے مطابق حکم کریں تو جو ان سے قبول نہ کرے گویا اس نے اللہ کے حکم کو حقیر جانا اور ہمیں رد کیا اور جس نے ہمیں رد کیا دراصل اللہ کو رد کیا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کی حد تک ہے۔*
چونکہ فقہاء پابند ہیں کہ وہ آئمہؑ کے حکم کے مطابق فتویٰ جاری کریں ورنہ ان کی عدالت ختم اور ان کے فتاویٰ باطل ہیں۔ اور ایک فقیہ محمدؐ و آل محمدؑ کے مطابق اگر فتویٰ جاری کرتا ہے تو معصومؑ فرماتے ہیں کہ اس کے فتویٰ پر عمل کرنا واجب ہے۔
معصومؑ فرما رہے ہیں کہ میں اسے حاکم شرح قرار دے رہا ہوں۔ اور اسے رد کرنا گویا ہمیں رد کرنا ہے اور ہمیں رد کرنا گویا خدا کو رد کرنا ہے۔
*موجودہ دور میں ایران کا اسلامی انقلاب رہبر کبیر امام خمینیؒ کی کامیابی ہے اور آج رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت جو کہ ایک ولی فقیہ کی حکومت ہے یہ اسی نظام مرجعیت کی وجہ سے ہے۔* یہ بعنوان نائب امامؑ یہ طاقت درحقیقت مہدویت کا اثر ہے۔ کیونکہ لوگ امام مہدیؑ عج پر عقیدہ رکھتے ہیں تو اس وجہ سے ان کے نائب کو اہمیت دیتے ہیں۔
لیکن اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بسا اوقات نائب یا ولایت فقیہ کے مسئلے میں اتنا خود کو مشغول کر لیں کہ اصل مہدویت کو بھول جائیں۔
*ولایت فقیہ غیبت کبرٰی کے اندر بعنوان نائب امام زماں عج عظمت رکھتا ہے* ۔ لیکن اصل میں امام زماں ؑ عج کو ہماری توجہ کا حامل ہونا چاہیے اور یہ ساری چیزیں ان کے ظہور کی راہ کو ہموار کرنے کے لیے ہیں۔
*اصل امام زماں علیہ السلام عج الشریف ہیں۔* 🌹
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
📚📚
ہمارے دشمن جب اپنی کتابیں لکھتے ہیں تو وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ عقیدہ مہدویت کو سمجھتے ہیں۔
جیمزڈار مسٹر کہتا ہے :
*ایسی قوم ( کہ جو ہر لحظہ منتظرِ ظہور امامؑ ہے) کا قتل و کشتار تو کیا جا سکتا ہے مگر ان کو مطیع نہیں بنایا جاسکتا۔*
(ڈار مسٹر، مہدی از صدر اسلام تا قرآن سیز دھم ہجری ترجمہ محسن جھان سوز ص 38،39📚
حتکہ یہ جو مسیحی مبلغ ہیں جو دنیائے عیسائیت کی تبلیغ کے لیے ہر جگہ پر جاتے ہیں تو ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود تشیہو ہیں اور تشیہو کے اندر عقیدہ مہدویت یعنی امام مہدی ؑ عج کا آنا اور پوری دنیا میں اسلام کو حاکم کرنا ہے۔
*یہ اپنی رپورٹس میں لکھتے ہیں کہ عقیدہ مہدویت تبلیغ عیسائیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے* ۔ چونکہ مسلمان کیسے مسیحی بن سکتا ہے کہ جو عقیدہ مہدویت رکھتا ہے اور مانتا ہے کہ امام مہدیؑ عج پوری دنیا میں اسلام کو حاکم کریں گے۔
دشمنوں کی بہت ساری کانفرنسیں اور سیمنار ہوئے اور اس کے اندر شیعہ کی کامیابی اور انقلاب اسلام کی کامیابی سب کی وجہ ابتدا میں امام حسینؑ اور بعد میں امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف بیان ہوئی ہے۔
*اور ہر دو کو شیعوں کی پائداری کا سبب شمار کیا سرخ نگاہ اور سبز نگاہ۔*
*سرخ نگاہ*🚩 امام حسینؑ سے بنی ہے اور سبز نگاہ💚 امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی وہ عالم گیر حکومت جو پوری دنیا پہ پھیل جائے گی اور دنیا کو عدل سے بھرے گی۔ یہ تشیہو کا رمز حیات ہے۔
*دشمن ہمارا مطالعہ کر رہا ہے ہماری کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہے ہمیں اتنے دقیق انداز سے سمجھ چکا ہے تو ہم کہاں ہیں؟* 🫴
۔ ہم کب اپنے رمز حیات کو سمجھیں گے اور اس پر کام کرتے ہوئے مولاؑ عج کے ظہور کی راہ کو ہموار کریں گے اور انتظار کے کلچر کو اپنے اردگرد حاکم قرار دیں گے۔ 🫴
ہم نے ہی کام کرنا ہے اور جب ہم میں ہی حرکت آئے گی تو حجت خدا ظاہر ہوگی۔ اور دشمن اس چیز کو سمجھ چکا ہے لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اب خواب غفلت میں ہیں۔
*پروردگار ہمیں ایسا بنائے جو دشمنان مہدیؑ عج کے عزائم کو ناکام بنائیں اور مولاؑ عج کے ظہور کی راہ کو ہموار کریں۔*
آمین۔ 🤲
والسلام
شہربانو: ✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
# کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس 4
# نکات: اسلام دشمنی اور امام مہدی عج کی دشمنی کے وسائل اور انکے ہمارے بچوں جوانوں پر اثرات نیز ہمارا وظیفہ
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے کہ جو امام مہدیؑ عج کی دشمنی میں کھڑے ہیں اور دشمنی کر رہے ہیں۔ اور اب ہمیں ان دشمنوں کے مدمقابل کون سے وظائف انجام دینے ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا تھا کہ سب سے پہلے تو دشمنوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کی روش اور طریقہ کار کو جاننا چاہیے۔ مثلاً ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دشمن مہدویت اور اسلام کے خلاف کن چیزوں اور وسائل سے استفادہ کر رہا ہے۔
*دشمنی کے وسائل:*
📚 📱📲🕹️💽📺📹📽️📡📠📟
🔹🔹🔹🔹🔹🔹
آج کے دور میں جتنے بھی دشمنان اسلام ہیں وہ بلخصوص جو یہودی صھیونیزم کی شکل میں ہیں وہ منجی اسلام، منجی بشریت کے خلاف دولت، منفی پروپیگنڈا کے ذریعے بہت زیادہ استفادہ کر رہے ہیں کیونکہ دنیا کا پیسہ ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ پروپیگینڈا والے سارے وسائل ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر چہ وہ حقوق بشر ، حقوق خواتین اور ملتوں کے حقوق کے نعرے لگارہے ہیں لیکن دراصل وہ ملتوں پر ظلم کر رہے ہیں اور انسانی معاشروں میں فساد، منافقت، ریاکاری اور دھوکا دہی کےلیے کوشش کر رہے ہیں اور اس کام کے لیے متعدد وسائل کے ذریعے مدد دے رہے ہیں۔
*اور رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بھی یہی فرمایا کہ بظاہر نعرے اچھے ہیں لیکن ان کے اندر ان کے وہی منحوس اہداف ہیں اور وہ یہ ہیں کہ لوگوں کو دین سے جدا کیا جائے۔* 💐
*نیل پسٹمن:* یہودی یا عیسائی مفکر
اپنی کتاب (زندگی در عیش مردان در خوشی) میں لکھتا ہے معلومات کے منتقل ہونے کے تین دور ہیں
1۔ گفتار، 2۔ توشتار (لکھنے) 3۔ تصویر۔
شفیعی سرستانی، بلخاری و پیش گوبھاآخرالزمان ص127📚
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن اپنی سوش کو منتقل کرنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کر رہا ہے مثلاً دنیا میں سب سے زیادہ آج جو میگزین شائع ہوتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لکھے اور چھاپے جاتے ہیں۔ اور مختلف کتب، اور سیمنار اور کانفرنسیں اسی حوالے سے ہوتی ہیں اور اسی طرح ریڈیو، ٹیلی ویثرن کے بہت سارے چینلز، سٹلائیٹ کے چینلز، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں فیسبک، ٹیلیگرام، واٹس ایپ اور جتنے بھی ایپس ہیں جو ذرائع ابلاغ کے عنوان سے کام ہو رہا ہے وہ دین دشمنی پر ہورہا ہے۔ یعنی لوگوں کے اپنے علاقوں کےاخلاق و آداب ختم ہو رہے ہیں فحاشی بڑھ رہی ہے۔ بے احترامی، دین سے اور خدا سے دوری بڑھ رہی ہے اور مختلف قسم کی زیادیتاں ظلم و تجاوز کے طریقے سیکھائے جا رہے ہیں اور دشمن اپنی من پسند نسل کو مسلمانوں کے درمیان تیار کر رہے ہیں کہ جو ان کو پسند کرتے ہیں۔
🕹️📱📲
اسی طرح گیمز کی شکل میں جو کہ کمپوٹرز اور موبائیلز میں ایسے وسائل ہیں کہ وہ ایک انسان کو ایک لحظہ بھی تنہا نہیں رہنے دیتے۔ اور جو ان گیمز کے ذریعے ہمارے اندر ایک پیغام براہ راست یا کسی اور ذریعے سے ہمارے اندر کیا منتقل کر رہا ہے جبکہ اس کے اندر خواتین اور مردوں کی فحش قسم کی تصاویر ہوتی ہیں اور فحش گفتگو اور جو بے گناہ لوگوں کو گاڑیوں کے ذریعے قتل کیا جاتا ہے یہ ہمارے بچوں میں کیا پیغام منتقل کر رہا ہے؟
بچہ ہمارا ہوتا ہے ہمارے گھر میں رہتا ہے ہم اس کی پرورش کرتے ہیں لیکن دشمن ہمارے ہی بچے کو کس انداز سے روحی اور فکری پرورش دے رہا ہے۔ ہمارا بچہ ہمارا ہوتے ہوئے بھی ان کے کلچر اور سوچ پر پروان چڑھ رہا ہےاور یہ ایک عجیب بات ہے۔
*بچوں میں آج جو ذہنی، نفسیاتی اور اعصابی بیماریاں آگئی ہیں اور جوانوں میں جو غیض و غضب والے رویے ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہیں۔*
آج انٹرنیٹ نے بہت تباہی مچا دی ہے۔ اس سے پہلے ہمارے اندر بہت سارے اصول، احترام اور آداب باقی تھے۔ آج انسان بہت کم قیمت میں انٹرنیٹ کی سہولت کو حاصل کر لیتا ہے لیکن پھر وہ ایک بہت بڑے سوشل میڈیا کے جہان میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر وہ ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ اور اب ایک بچہ اور جوان ان کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے اور ان کی من پسند چیزیں دیکھ رہا ہے۔ یعنی تحریف اور تخریب دین۔ اور دین کے چہرے کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور مختلف قسم کے شک و شہبات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دکھائے جاتے ہیں اور محرم رشتوں کی توہین کی جاتی ہے۔ فحاشی اس حد تک پہنچ کہ محرم رشتے بھی اس کا شکار ہیں یہاں تک کہ حیوانات بھی۔ یعنی انسان سوچ بھی نہیں سکتا جو کچھ اس انٹرنیٹ کی دنیا میں دکھایا جاتا ہے۔
بلآخر نہ حیا باقی رہی اور نہ دین باقی رہا۔😭 البتہ اچھی چیزیں بھی ہیں اس کا انکار نہیں لیکن بری چیزیں کثرت سے ہیں۔ اور اچھی چیزوں کو اس لیے رکھا گیا تاکہ ایک جواز فراہم ہو کہ اچھی چیزیں بھی ہیں۔ لیکن برائی نے اچھی چیزوں کو چھپا دیا ہے اور اس کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ 😭
انٹرنیٹ سے قبل ہی غربی استعمار نے اس پر کام شروع ہو گیا تھا یعنی فلموں کے ذریعے اور جو فلمیں آخرالزماں کے موضوع پر بنی بلخصوص ستر اور اسی کی دھائی میں جو فلمیں بنیں اس میں لوگوں کو اسلام اور آخری امامؑ عج سے متنفر کیا گیا۔ اور خوفزدہ کیا گیا۔ مثلاً فلم (شمشیر اسلام *The sword of islam*
اور
*The man who saw tommorrow*
Hollywood 📽️📹
ان فلموں میں کس طریقے سے انہوں نے مہدویت کو نشانہ بنایا اور اسی طرح انہوں نے بہت ساری فلموں میں دکھایا کہ مشرق کے اندر دجال یعنی برائی ہے۔ اور مشرق کے اندر وحشی گری ہے اور مغربی لوگ یعنی امریکی یہودی اور عیسائی نجات دہندہ کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ یعنی وہ ہیں جو دنیا کو نجات دیں گے۔ اور انہیں ہی فقط دنیا کی فکر ہے۔ یعنی وہ فقط منجی ہیں اور باقی دنیا کو تباہ کرنے والے ہیںَ
*ہمارا اس پرآشوب دور میں کیا فریضہ ہے؟* 🫴
🔹ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں اور جوانوں کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیں۔ اور ان کی ہر چیز پر نظر رکھیں جیسے ہم ان کی پرورش میں ان کا خیال رکھیں اور موبائل کا غیرضروری استعمال سے روکیں۔ اور اس کے موبائل کے کام پر نظارت کریں اور اس کی موبائل سے محدودیت پیدا کریں۔ یعنی وہ فقط سکول کے کام کے لیے موبائل کا استعمال کرے۔
اگر ہمیں اپنی آئیندہ نسلوں کی نجات کی فکر ہے اور امام زماں عج کی فوج اور ناصرین کو تیار کرنے کی اگر ہمیں فکر ہے تو پھر ہمیں یہ سخت گیری پیدا کرنی پڑے گی۔ اور ہم نے اپنی مرضی سے جوان کو پروان چڑھانا ہے نہ کہ دشمن کی مرضی سے۔ تاکہ ہمارے بچےامام زمانہؑ عج کی نسل بنیں نہ کہ دجال کی نسل بنیں۔ 😭
*ہمارے جوانوں اور بچوں کی روحی اور ذہنی پرورش کے بارے میں ہم والدین سے سوال ہوگا۔*🫴
🦖🐍
مثال کے طور پر اگر ایک بچے کو سانپ یا درندہ پسند ہے اور آدمی اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اگر وہ گھر لے آئے تو وہ سانپ یا درندہ اس کے لیے باعث پریشانی ہی ہوگا۔ اور وہ شخص اس خوف سے کہ یہ درندہ کہیں میرے بچے پر حملہ نہ کردے وہ اس سے چوکنا رہے گا اور اپنے بچے کی حفاظت کرے گا۔
🕸️ *انٹرنیٹ اور موبائل کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے کوئی غیر آدمی ہمارے گھر میں آکر رہنے لگے۔ اور وہ کسی بھی وقت ایک بچے اور جوان کی روح اور فکر پر مہلک حملہ کر سکتا ہے* ۔ 😭
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے بچوں اور جوانوں کو ان تمام خطرات سے محفوظ رکھیں اور ان کی پرورش پر بھرپور توجہ دیں۔
الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام
شہربانو:✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس 5
# نکات: دشمنان مہدویت کا طریقہ ، دشمنی کے چار مراحل ، انکار،تخریب، تحریف اور جھوٹا مدعی،انکار کی تشریح
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
دشمنان مہدیؑ عج کا طریقہ دشمنی:
ہماری گفتگو امام مہدی عج کے دشمنوں میں جاری ہے اور آج ہم دیکھیں گے کہ دشمنان مہدویت مولا امام زماں عج کے مدمقابل ان کے پاس کیا طریقہ کار اور روشیں ہے اور وہ کس طریقے سے مدمقابل آرہے ہیں اور آئیں گے؟
اگر ہم شروع ہی سے دیکھیں جب بھی پروردگار کی طرف سے کوئی دین آیا اور حجت الہیٰ آئے، پیغمبرؑ ، اوصیاء ، اولیاء آئے۔ دشمن نے ان کے مدمقابل چار طریقے استعمال کئے۔ جیسا کہ دشمن ابلیس ہے جو ان کو سیکھاتا ہے لہذا چاروں طریقے ایک جیسے ہی ہیں۔
*دشمنی کے چار مراحل:*
1۔🔹 *پہلے مرحلے میں دشمن انکار کرتا ہے:*
ایک پیغمبرؐ یا ایک امامؑ کی امامت کا انکار کرتا ہے۔
مثلاً جب رسولؐ اللہ تشریف لائے اور آغاز اسلام ہوا تو دشمن اسلام نے پہلے مرحلے میں جہاں تک ممکن ہو سکا آنحضرتؐ کی رسالت کا انکار کیا:
*سورہ الانعام* 91
اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ🌻
"مگر یہ کیسے ممکن ہے کسی بشر پر وحی نازل ہو؟"
اگر خدا نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا تھا تو کوئی فرشتہ بھیجے یہاں انکار ہے اور ہمیشہ جب بھی نبیؑ آئے تو شیطانی لوگوں نے پہلے مرحلےمیں شیطان ان کو اس مقام پر لے آتا ہے کہ انکار کریں یعنی یہ خدا کی جانب سے نہیں ہے۔
2۔ 🔹 *دوسرے مرحلے میں دشمن تخریب کرتا ہے:👉*
یعنی پیغمبروںؑ کی شخصیت کی توہین ہوتی ہے۔ اور شیطانی دشمن ان کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔ ان کو ستایا جاتا ہے ان کو مارا جاتا ہے۔ ان کو مختلف نام دیے جاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کی مختلف سورتوں میں اس جانب اشارہ ہے کہ کفار ہمارے پیغمبرؐ کو کبھی شاعر کہتے ہیں کبھی ساحر کہتے ہیں کوئی کذاب کہتا ہے اور کوئی مجنون کہہ رہا ہے۔
*سورہ انبیاء آیت 5*
بَلْ قَالُـوٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ بَلِ افْتَـرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۚ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ🌻(5)
بلکہ کہتے ہیں کہ یہ بیہودہ خواب ہیں بلکہ اس نے جھوٹ بنایا ہے بلکہ وہ شاعر ہے، پھر چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے پیغمبر بھیجے گئے تھے۔
*سورہ طور آیت* 30
اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَـرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُـوْنِ🌻
کیا وہ کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے، ہم اس پر گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔
*سورہ صفات* 36
وَيَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُـوٓا اٰلِـهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُـوْنٍ🌻
اور وہ کہتے تھے کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ کے کہنے سے چھوڑ دیں گے۔
*سورہ یونس آیت* 2
اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَـآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْـهُـمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنَّ لَـهُـمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسَاحِرٌ مُّبِيْنٌ 🌻
کیا اس بات سے لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائے اور جو ایمان لائیں انہیں یہ خوشخبری سنائے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا، کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص صریح جادوگر ہے۔
*سورہ ص آیت* 4
وَعَجِبُـوٓا اَنْ جَآءَهُـمْ مُّنْذِرٌ مِّنْـهُـمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُوْنَ هٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ 🌻
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ڈرانے والا آیا، اور منکروں نے کہا کہ یہ تو ایک بڑا جھوٹا جادوگر ہے۔
یہ جو مختلف الفاظ کہے جاتے تھے یعنی یہ توہین کرتے تھے کہ پیغمبرؐ کا احترام ختم ہو اور ان کی حرمت پامال ہو اور پھر یہ عملاً بھی ہوتا تھا۔ پیغمبرؐ پر کوڑا پھیکا جانا، ان کو پتھر مارنا اور جانوروں کا فضلا نعوذ باللہ ان پر پھینکنا یعنی ان کی شخصیت کے اثر کو ختم کرنے کے لیے تخریب کرتے تھے۔
3۔ 🔹 *تیسرے مرحلے میں تحریف ہوتی ہے ۔☘️*
یعنی جو حقائق پیغمبرؐ یا امامؑ بیان کریں، دشمن ان میں تبدیلیاں کرتا ہے اور دشمن اس پر بہت کام کرتا ہے۔ بسا اوقات دشمن کئی سال کام کرتا ہے تاکہ دین کے ایک نکتہ پر لوگوں کی توجہ کم ہو جائے۔ یہ ہمارے آئمہؑ کے دور میں بھی ہوتا رہا۔
آئمہؑ کے دو قسم کے دشمن تھے: 👉
۔۔ *مخالفین* : 👉
وہ تحریف کرتے تھے۔ یعنی جو دین حق اماموںؑ کے ذریعے بیان ہوتا تھا مخالفین نے ان کے مدمقابل جھوٹے دین بنائے۔ مثلاً مختلف مکتب جیسے حنفیہ، مالکیہ، شافیہ یہ تمام مکتب جعفریہ کے مدمقابل آئے۔
دین حق آزادی کو بیان کرتا ہے اور مخالفین کے مکتب نے اسے جبر بیان کیا۔ دین حق کہتا ہے کہ انسان خودمختار ہے اور اپنے ارادے سے جنت یا جہنم میں جائے گا۔ اور یہ کہتے ہیں کہ نہیں اللہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ خدا جسم و جسمانیت سے پاک ہے یہ کہتے ہیں کہ خدا کا جسم ہے۔ جسطرح رسولؐ اللہ نے نماز بتائی آج نماز میں کئی طرح کی تحریف ہے۔ اور قرآن کی طرح طرح کی تحریف ہے۔
ایک دشمنوں نے تحریف کی اور ایک ہمارے تشیہو کے اندر تحریف ہے۔ یعنی مختلف قسم کے غالی گروپ کام کر رہے ہے جو قلندی ہیں ، آئمہؑ کی الوہیت کے قائل ہیں ان کو رب مانتے ہیں۔ خدا کی عبودیت کو چھوڑ کر علی رب کے نعرے لگتے ہیں۔ آیا مولا علیؑ اس سے خوش ہونگے۔ مولاؑ نے تو اس چیز کی سخت مذمت کی ہے۔ ہمارے باقی آئمہؑ نے بھی اس کی سخت مذمت کی۔ ❌❌
امام علی نقیؑ نے اور امام حسن عسکریؑ نے ایسےفاسق لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ 🌻
امام رضاؑ اور امام صادقؑ نے فرمایا ہے کہ🌻
ایسے لوگوں سے تعلقات نہ رکھے یہ شیعہ تو کیا مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہے۔ اور اگر مر جائیں تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کریں جو ہماری ربوبیت کی باتیں کرتے ہیں یہ تو ہم سے بھی مخلص نہیں ہیں جو ہماری ربوبیت کی باتیں کرتے ہیں۔
4۔🔹 *چوتھے مرحلے میں دشمن اپن مرضی کے شخص کو لے کر آتا ہے۔ 👺*
بعض مرتبہ دشمن پچاس سال کام کرتا ہے تاکہ نظریہ حق کا ایک نقطہ ختم ہوجائے۔ جیسے آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل ، برطانوی استعمار کتنا کام کر رہا ہے کہ تشیہو کے اندر مرجیعت ختم ہو جائے۔ اور اپنے بنائے مرجع لانا چاہ رہا ہے۔ امام حسنؑ کو ہٹا کر معاویہ کو لے آتا ہے۔ امیرالمومنینؑ کو ہٹا کر ابوبکر کو لے آتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ نجف و قم کے مراجع کو ہٹا کر امریکی اور برطانوی طرز کے بنے ہوئے مشتبوں کو لایا جا رہا ہے اور ان کو بعنوان مجتہد بتایا جا رہا ہے۔ مثلاً شیرازی گروپ، عراق ایران میں جو احمد یمانی بصری والا فتنہ۔ یعنی اصلی امام زمانہؑ عج کی جگہ ایک نقلی لایا جارہا ہے۔ قادیانیوں میں اصلی امام زمانہؑ عج کی جگہ ایک نقلی مہدی لایا گیا ہے۔ دشمن شروع سے یہ کام کر رہا ہے اور چاہے سنی ہوں یا شعیہ سب میں دشمن یہ کام کر رہا ہے۔
*لہذا سب سے خطرناک مرحلہ چوتھا ہے۔ لیکن دشمن اپنا کام ترتیب وار کرتا ہے۔*
*پہلا مرحلہ:☘️ انکار☘️*
*امام مہدیؑ عج سے انکار:* 👉
مہدویت کے حوالے سے اگر ہم دیکھتے کہ خود مہدویت کے مسئلے میں سب سے بڑا مسئلہ جو آرہا ہے کہ امام مہدیؑ عج سے انکار ہو رہا ہے حتہ شعیوں کے اندر بھی۔ ایک تو دشمن ہے۔
اہلسنت کے اندر بھی ایک گروپ ہے جو کہتا ہے لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم (مہدی نے نہیں آنا فقط حضرت عیسیٰ ؑ نے آنا ہے) یہ جھوٹی روایت ہے۔ پھر یہود و نصارا اور عالمی استعمار وہ بھی امام مہدیؑ عج کے منکر ہیں مثلا ہم اگر بڑے بڑے انسائکلوپیڈیا (دایرہ المعارف)📚 دیکھے اگر ہم اس میں لفظ مہدی دھونڈیں گے تو جواب یہ ہی آئے گا کہ یہ کوئی حقیقت نہیں ہے اور ہم کسی ایسے شخص کے منتظر نہیں ہیں۔ دایرہ المعارف، دین و اخلاق، حتہ کہ عربی کے اندر موصوعہ طرز کی بڑی کتابیں جن کے اندر ساری معلومات ہیں ان کے اندر جو لفظ مہدی کی تشریح ہے اس پر غور کریں۔
یہ کوئی آج سے کام نہیں ہو رہا بلکہ آئمہؑ کے زمانہ سے ہی جو یہود و نصارا مسلمان ہو رہے تھے وہ آہستہ آہستہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ ہمارے بنی اسرائیل کے نبی الیاس غائب ہیں اور وہ واپس پلٹیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو نجات دیں گے۔
ہمارے اندر جو نبی الیاؑس کا عقیدہ ہے 🫴یہ انہیں بظار مسلمان یہود ونصارا کا عقیدہ ہے ایسا کوئ نبی زندہ نہیں۔ صرف ایک نبی حضرت عیسٰیؑ ابن مریمؑ زندہ ہیں جو آئیں گے اور ہمارے امامؑ مہدیؑ عج کے ظہور کے وقت آئیں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ *یہ بنی اسرائیل نے ہماری کتابوں میں ڈالیں ہیں جنہیں ہم اسرائیلات کہتے ہیں* یہ تو باہر سے ہیں جو منکر مہدی ہیں اور کچھ ہمارے اندر سے ہیں یعنی اہل تشیہو میں سے جو کہتے ہیں کہ یہ سب افسانہ ہے اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جیسے کراچی میں ایک شخصیت موجود ہے جو کسی زمانے میں مہدویت پر کام بھی کرتے رہے آج سب سے بڑے مہدویت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اور وہ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ کوئی ایسے شخص نہیں بلکہ وہ اماموںؑ کی عصمت اور ان کے عدد کے بھی منکر ہیں۔
ایک احمد القادر جو شعیوں کا ایک بہت بڑا عالم تھا۔ جو آہستہ آہستہ منکر ہوگیا۔ دشمن ایسے لوگوں پر دسیوں سال کام کرتا ہے اور ایک اہم عقیدے کا انکار کرواتا ہے۔
**ایک اہم ترین مسئلہ انکار ہے جو پہلا مرحلہ ہے* ۔
یعنی
🔸 *یہود نصارا کی جانب سے انکار*
🔹 *اہل تسنن کی جانب سے انکار اور*
🔸 *شعیوں کے اندر سے انکار*
*جاری ہے۔* (تخریب، تحریف، جھوٹے مہدی) ☘️☘️☘️
اس سے عبرت یہ ہے کہ ہم مولاؑ عج کی حقیقی معنوں میں معرفت کو حاصل کریں اور اردگرد کی دنیا کو سمجھیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ امامؑ عج کیوں غائب ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اور کن کے منتظر ہیں یعنی وہ اپنے آگاہ اور بابصیرت منتظرین کے منتظر ہیں اور یہ صرف ہمارا فریضہ نہیں بلکہ ہم اس معرفت کو خود بھی حاصل کریں اور اسے اپنی اگلی نسلوں میں منتقل کریں۔
*ہمارا فریضہ بابصیرت نسل انتظار کو تحقق میں لانا ہے* 🌺🌺🌺🌺🌺
والسلام
شہربانو:✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
# کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس 6
# نکات: دشمنان مہدویت کی تخریب ،تحریف اور جھوٹی شخصیات لانے کی مثالیں ، ہمارا وظیفہ کیا ہونا چاھئیے
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو دشمنان مہدی کی روشوں اور سازشوں پر جاری ہے۔ پچھلی مرتبہ عرض کیا تھا کہ دشمن کا سب سے پہلا وار یہ ہے کہ دشمن انکار کرتا ہے اور اس حوالے سے دشمنوں نے جو عالمی سطح پر سیمنارز کئے حتکہ جو عالمی سطح پر انسائکلوپیڈیا سامنے آئے ہیں ان میں مہدویت کا انکار ہوا ہے کہ ایسا کوئی شخص مشرق سے نمودار نہیں ہوگا اور ہمیں کسی ایسی شخصیت کا منتظر نہیں رہنا چاہیے جو کچھ بھی ہوگا ہمیں خود کرنا ہے۔
*دوسرا حملہ*
*تخریب* : 🫴
یعنی وہ عصر اسلام، عقیدہ امامت، اور عقیدہ مہدویت پر حملہ کرتا ہے اور ان میں شک پیدا کرتا ہے اور پھر تنفر یعنی نفرت پیدا کرتا ہے۔
*مثلاً ذرائع ابلاغ اور میڈیا دشمن کے ہاتھ میں ہے اصل میں وہ گیمز اور فلمیں بناتا ہے ہم ان کے اس میڈیا کو استعمال کرنے والے ہیں۔ مغربی ثکافت تیزی سے ہمارے اندر آ رہی ہے اور سب سے پہلا حملہ اسلام پر ہے۔* کئی ایسی فلمیں بنتی ہیں کہ جس میں اسلام اور مسلمانوں کو دکھایا جاتا ہے کہ ان کے اندر حقوق انسانی اور انسانیت نہیں ہے۔ ان کے اندر خواتین کے حقوق اور آزادی نہیں ہے۔
*The sword of Islam* 🤺
جیسے فیلم اسلام کی تلوار ہے کہ دشمن نے اس میں دکھایا کہ اسلام طاقت کے زور پر پھیلا۔
اسی طرح گیمز بناتے ہیں کہ مسلمان اسی قابل ہیں کہ انہیں مارا جائے جیسے ان کی گیم ہے آئی جی ٹی۔ اس گیم کے اندر دشمن اسلامی چیزیں لے کر آ رہا ہے کہیں تلاوتِ قرآن ہے کہیں اسلامی عمارات ہیں کہیں ایران کے فارسی ریڈیو کے بارے میں الفاظ ہیں یعنی پہلے دشمن نے شک پیدا کیا اور اب تنفر ہے کہ ان کو نفرت سے مارو۔
*DELTA FORCE* 👮♂️👮♂️
اسی طرح ڈیلٹا فورس ہے اس گیم میں امریکہ ان مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے جو عربی یا فارسی بولتے ہیں۔ یا جن کے ماتھوں پر مہدویت کی پٹی بندھی ہے یا لا الہ الا اللہ لکھا ہے یا امام رضاؑ کے روزے کے ھال کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ یعنی دشمن پہلے شک پیدا کرو پھر نفرت پیدا کرو۔
*THE MAN WHO SAW TOMMORROW 1981* 🤨
یا نوسٹر اڈیموس کی پیشن گائیاں اس نے اس زمانے میں دنیا کے مختلف حالات یا پھر جو امریکہ پر حملے ہوئے اس حوالے سے پیشن گوئیاں ہوئی ہیں۔ اور اس کی پیشن گوئیوں کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے ایسے کام کئے ہیں تاکہ ثابت ہو سکے کہ اس کی پیشن گوئیاں درست تھیں۔ ان پیشن گوئیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ مشرق سے ایک شخص نکلے گا اور وہ پوری دنیا پہ حملے کرے گا اور اس کی فوج میں عرب ، ایرانی اور پاکستانی مسلمان ہونگے اور اس کی فوج پوری دنیا کو خطرے میں ڈالے گی۔ اور امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ اس سے مقابلے کے لیے آگے بڑھیں گے اور اسے شکست دیں گے اور پوری دنیا کو دوبارہ امن کی حالت میں لائیں گے۔
دشمن اس طرح کام کرتا ہے ایک شخص سے پیشن گوئیاں کرواتے ہیں پھر ان پر عمل کر کے ثابت کرتے ہیں کہ یہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔
*THE PERSIAN GULF*
یہ گیم مسلمان بچے کھیلتے ہیں یعنی مسلمان بچہ اس گیم میں امریکی ہوتا ہے۔ اور جو بھی اللہ اکبر یا پھر یا مہدیؑ کہے گا اس کو مارنا ہے اور پھر اس پر گیم میں پوائنٹس ملتے ہیں۔
یہ بچہ جو ابھی سے اللہ اکبر یا پھر یا مہدی کہنے والے پر ایک گیم کے ذریعے حملہ آور ہو رہا ہے ۔ یہ بچہ کل کو دجالی یا سفیانی کے لشکر میں قرار پائے گا نہ کہ امام مہدی کے لشکر سے ہوگا۔ 🫴
*ناآگاہ بچہ اور جوان جو ہمارا ہے وہ ان گیمز اور فیلموں کے ذریعے ذہنی اور فکری لحاظ سے دشمن کے کلچر کا حصہ بن رہا ہے۔*
*تحریف* :🫴
نفرت کے ساتھ ساتھ دشمن تحریف کر رہا ہے۔ یعنی عقیدہ مہدویت کے اندر ایسی روایات شروع سے ہی یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے تحریف کی جارہی ہے۔ یعن امام مہدیؑ عج کا چہرہ رحمت والا نہیں بلکہ غضب والا دیکھایا جا رہا ہے۔ ایسی روایات ممبروں پر پڑھی جاتی ہیں۔ اور امام ؑ جو کہ رحمت پروردگار ہیں جن کے بارے میں رسولؐ اللہ فرماتے ہیں کہ:🌹
*مہدیؑ عج مجھ (رسولؐ اللہ) جیسا ہے ۔ مہدیؑ کے اندر میری سیرت ہے۔*
دشمن ان کو کس طرح خطرناک انداز سے پیش کرتا ہے اور تحریف کے بعد اپنے تیار کردہ مہدی سامنے لاتا ہے۔ جیسے فرقہ قادیانی میں میرزا غلام احمد قادیانی جس کو وہ جھوٹا مہدی بنا کر سامنے لائے۔ اسی طرح ایران کے اندر سید علی محمد باب، حسین علی بہا (فرقہ بہائی)، سید محمد نور بخشی وغیرہ مثلاً آج کل کے دور کے اندر عراق سے احمد یمانی بصری جس کو امام مہدیؑ عج کے بیٹے کے طور پر سامنے لے کر آئے۔ ایران اور دوسرے ممالک مثلاً یورپ، پاکستان اور انڈیا میں ایسے نمونے دشمن کے حربوں میں سے ہیں۔ جیسے کراچی کے اندر ایک فتنہ اٹھا تھا ایک شخص نے جھوٹے مہدی ہونے کا دعوٰی کیا (گوہر شاہی فتنہ) اور کچھ لوگوں کو گمراہ کیا۔ اگرچہ وہ مر چکا ہے لیکن اس کی تنظیم امام مہدی فاؤنڈیشن کام کر رہی ہے۔
*یہ ساری چیزیں یہ بتا رہی ہیں کہ دشمن کہاں کہاں تک پہنچ چکا ہے۔* 🤨
جب دشمن جھوٹے مہدیوں کو لانے کے بعد اور اسلام میں تحریف کرنے کے بعد اپنے یورپی کلچر جس کے اندر لبرل، ڈیموکریسی، فحاشی اور بظار جس کلچر کے اندر مساوات ہے دشمن ان کو پیش کرتا ہے۔
*Martrix in 1999* 🇮🇱
برادران چوضکی کی پیشکش
اس فیلم میں صراحت کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ عالم خیال اور واقع میں تنہا راہ نجات صیھونزم ہے۔
*Independence day*
*فیلم روز استقلال رولنڈار کی پیشکش:* *1996* 🇲🇾
اس فیلم میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا ایک تھالی نما پرندے کے خطرے سے دوچار ہے اور چار جولائی جو کہ امریکہ کا یوم استقلال ہے اس دن امریکی صدر یہودیوں کے مشورے سے جہاں کو نجات دلاتا ہے۔
*Godzilla 1988* 🦖
اس فیلم میں ڈائنوسورس سے ملتی چلتی ایک مخلوق جو کہ صدیوں سے مری ہوئی تھی اچانک سے بیدار ہوتی ہے یہ دنیا کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اور آزادی کے مجسمہ (لیبرل ڈیموکریسی کی علامت) کو منہدم کر دیتی ہے اس کو دیکھ ر وہ ہوائی جہاز نیویار کے جڑواں برجوں سے ٹکرا جاتے ہیں اور آخر میں غرب کی حکمت عملی کی وجہ سے بشریت نجات حاصل کرلیتی ہے۔
*یا آجکل جو *زومبی فیلمیں* *بنتی ہیں اور عجیب و غریب آسمانی مخلوق دکھائی جاتی ہے۔**
جبکہ ہمارے مہدوی کلچر میں امام مہدیؑ عج کےساتھ فرشتے🧚♂️ مدد کے لیے آئیں گے۔ اور یہ دنیا کو یہ چیز کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کہ دنیا میں عجیب و غریب فضائی مخلوقات آئیں گی اور مغرب یعنی یہودی اور امریکہ ان سے مقابلہ کر کے دنیا کو نجات دے گا۔
*دشمن ہمارے تمام عقائد کو پڑھتے ہیں اور پھر ان پر کام کرتے ہیں یعنی ان کے اندر شک، تحریب اور تحریف کیسے پیدا کریں اور پھر ان کے اندر جو مسلمان بچے اور جوان ہیں وہ دشمن کے بن جائیں۔ یعنی بدنی لحاظ سے وہ مسلمان ہوں لیکن فکری لحاظ سے وہ دشمن کے ہوں۔*
👩🦰🎻🪗🥂👠
❌❌❌❌❌
بے حجابی، میک اپ اور سٹائل سب سے زیادہ ہمارے مسلمان ممالک میں فروخت ہو رہے ہیں اسی طرح مذہبی گھرانوں میں اجتماعی پارٹیاں جس میں حیا اور شرم ختم ہو چکا ہے اور جس کی وجہ سے ذہنی اور نفسیاتی اور فکری آلودگیاں سامنے آرہی ہیں جس کی وجہ سے دینی احساسات، رویے ، جذبات کمزور ہو رہے ہیں۔ دینداروں کی حوصلہ شکنی اور شکست ہو رہی ہے۔
**یہ سارے کام تو دشمن کر رہا ہے👿*
*لیکن* ❗
*سوال یہ ہے کہ :*
❓❓
*ہم کیا کر رہے ہیں؟* 🫴
ہم نے کب کچھ کرنا ہے؟🫴
ہم نے کب مولاؑ عج کا سپاہی بننا ہے؟ 🫴
کب ہم نے اپنے بچوں اور خود پر سختی کرنی ہے؟🫴
کب ہم نے اسلامی وظائف پر عمل کرنا ہے؟ 🫴
کب ہم نے امربالمعروف کرنا ہے؟
کب ہم نے حق کی آواز بلند کرنی ہے؟ 🫴
کب ہم نے اپنے خاندان ، گھر اور ان پارٹیوں میں امام مہدی ؑ عج کی آواز بننا ہے؟🫴
کب ہم نے برائی سے لڑنا ہے؟🫴
کب ہم نے عالمی سطح پر مولاؑ عج کے ہمراہ بڑی بڑی برائیوں سے لڑنا ہے؟🫴
*ہم کب اٹھیں گے؟* 🫴
*امام مہدیؑ عج تو کل بھی تنہا تھے اور آج بھی تنہا ہیں کیونکہ جنہوں نے ان کا ساتھ دینا تھا وہ تو دشمن کا حصہ بن رہے ہیں۔ ہمیں ان چیزوں پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 😭😭*
پروردگار ہمیں ان میں سے قرار دے جو مولاؑ کے لشکر کے سپاہی بنیں۔
الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش:✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
کتابچہ 13
امام مہدی عج کے دشمن
درس 7
نکات:
دشمنان مہدویت کی سازشوں کا مقابلہ جہالت سے جنگ، شیعوں میں امام کی ضرورت کا احساس پیدا کرنا، دیگر مکاتب و مذاہب کو مہدویت کے مشترکہ پلیٹ فارم پر دعوت فکر
*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*دشمن کے حربوں سے مقابلہ کرنے کی راہ:✨*
دشمن جو بھی عالم اسلام کے خلاف، عالم ایمان کے خلاف اور محور کائنات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اب ہمارا بعنوان منتظر یہ وظیفہ ہے کہ ہم اس زمانہ غیبت میں دشمن کے مدمقابل ہم اپنے امامؑ عج کا اپنے مکتب کا اور راہ انتطار کا دفاع کریں۔
*دشمنی کے اسباب سے مقابلہ:* 🫴
1۔ 🔹 *جہالت اور بے شعوری کا مقابلہ:*
الف:✨✨
عمومی طور پر ہم شیعوں کی یعنی ہم عام لوگ اور حتکہ اہل علم بھی ہیں کہ جن کی مختلف دینی موضوعات پر جو جہالت ہے دشمن اس سے بہت استفادہ کرتا ہے۔ ہمیں اس جہالت اور بے شعوری کا مقابلہ کرنا ہے۔
مثلاً عام لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ہمیں امامؑ عج کی کس حد تک ضرورت ہے انہیں معلوم ہی نہیں کہ خدا کی بارگاہ ، کمال اوران سب چیزوں تک پہنچنے کا تنہا راستہ امام ہے۔ تو اب ہمارا یہاں فرض یہ ہے کہ لوگوں کو ضرورت امام کی طرف توجہ دلائیں۔ اور یہاں آئمہ ؑ کے فرامین ہیں کہ جن کے اندر توحید سے لیکر قیامت تک اور نماز سے لیکر امربالمعروف تک کامل دین ہے۔ ضروری ہے کہ انہیں ان فرامین سے آشنا کیا جائے اور اصل دین سے آشنا کیا جائے تاکہ انہیں امامؑ عج کی اہمیت ، ان کی عظمت اور ان کی ضرورت کا احساس اور ادراک ہو۔
۔۔ *حرعاملی، وسائل الشیعہ، ج 14، باب 98، ص587📚*
رحم اللہ عبد احیا امرنا قلت: کیف یحیٰی امرکم؟ قال: یتعلم علومنا علمھاالناس فان الناس لو علموامحاسن کلامنا لا تبعونا۔
امام رضاؑ نے اباصلت سے فرمایا:🌷
خدا ان پر رحمت کرے جو ہمارے امر کو زندہ کرتے ہیں۔
اباصلت کہتے ہیں میں نے عرض کی: *وہ کیسے؟* 🫴
فرمایا: 🌷
علوم کو حاصل کرنا اور پھر دوسروں کو تعلیم دینا کیونکہ لوگ اگر ہمارے کلام کی خوبصورتی اور اہمیت کو جان جائیں تو ہماری پیروی کریں گے۔
۔۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جب ہم لوگوں کا علم و آگاہی بڑھائیں گے تو جو مختلف نظریہ دینے والے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے عالم بشریت کی نجات کا نظریہ ہے اور ہم مدعی ہیں ہم دعویدار ہیں ان پر بھی تنقید کریں اور ان کے جو عیب اور جو ان کے نظریات میں ہم جو کوتاہیاں دیکھ رہے ہیں ان کو بھی لوگوں کے سامنے بیان کرنا چاہیے اور لوگوں کو واضح کرنا چاہیے کہ تنہا راہ نجات اور دنیا اور آخرت کی سعادت کی تنہا راہ یہ ہے کہ ہم امامؑ عج کی جانب توجہ کریں۔
اب یہاں ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم امام زمانہؑ عج کی رحمت، مہربانی، عدالت اور ان کی بے پناہ اخلاقی صفات جو عصر ظہور میں ظاہر ہونگی وہ لوگوں کو بیان کریں۔ یعنی عصر ظہور کی حکومت کی خوبصورتیاں بیان کی جائیں۔ کیونکہ مولاؑ عج کے حوالے سے جو تحریف ہوئی ہے جو اکثر ہمارے خطیب ممبروں سے بیان کرتے ہیں کہ لوگ شکوک و شہبات میں مبتلا ہیں۔ تو یہاں چاہیے کہ ان کو دور کیا جائے اور حقائق بیان کیے جائیں۔ اور لوگوں کو بیان کیا جائے کہ امام رحمت پروردگار کا مظہر ہیں۔
حتکہ کہ ہمارے اردگرد جو دیگر مکاتب فکر کے لوگ ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ پروگرام رکھ سکتے ہیں۔ یعنی دیگر مکاتب فکر کے ساتھ مل کر مہدویت ایک مشترکہ پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔
ارشاد پروردگار ہے:
*سورہ آل عمران:* 64🌻
*قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّـٰهَ*
کہہ اے اہلِ کتاب! ایک بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کی بندگی نہ کریں
یعنی حتکہ کہ ہم دیگر مکاتب فکر اہل کتاب ہیں ہم ان کو مہدویت کے موضوع پر دعوت دے سکتے ہیں۔ کیونکہ مہدویت ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے تمام انسانیت اور بشریت کے لیے کہ جو ایک آسمانی نجات دہندہ کے منتظر ہیں۔
*ہماری احادیث میں موجود ہے کہ:🫴🌹🌹*
*کلینی، کافی، جلد1، باب فی الغیبتہ، ص 335📚*
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں :
*یملاالارض عدلا و قسطا کماملئت جورا وظلما*
امام مہدیؑ عج زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کریں گے جیسا کہ ظلم و جور سے پر ہوئی ہو گی۔
یہی باتیں تورات و انجیل میں بھی ہیں لہذا ہم تمام مذاہب کو مہدویت کے پلیٹ فارم پر بلا سکتے ہیں کیونکہ تمام مذاہب ایک نجات دہندہ کے انتظار میں ہیں۔
*صدوق خصال ض2، ص 528📚*
امام رضاؑ امام زمانہؑ عج کے اوصاف کے بارے میں فرماتے ہیں:
*یکون اعلم الناس واحکم الناس و اتقی الناس واحلم الناس و احلم الناس واشحع الناس*
امام عالم ترین، حکیم ترین، با تقویٰ ترین، بردبار ترین، اور شجاع ترین ہستی ہے۔
*عماد الدین طبری بشارۃ المصطفیٰ207📚*
*المہدی جواد بلمال رحیم بالمساکین شدید علی العمال*
مہدی عج مال کو بخشنے والے، مساکین سے مہربان اور اپنی حکومت کے لوگوں سے سخت گیری کرنے والے ہیں۔
*علی بن یوسفی نباطی بیاضی، صراط المستقیم ج 2، ص147📚*
*یرضی عنہ ساکن السماء والحیتان فی البحر والطیر فی الھوا،*
مہدی ؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے آسمان پر رہنے والے اور سمندروں میں پائی جانے والی مچھلیاں اور ہوا میں اڑنے والے پرندے خوش ہوں گے۔
🐋🐬🕊️
اس وقت اگر ہم دیکھیں تو انسان ہے جو ہواؤں میں رہنے والے پرندوں اور پانی کی مچھلیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ آج انسان فضا میں جو آلودگی پھیلا رہا ہے اور جو کچھ سمندروں کے ساتھ کر رہا ہے تو وہ اللہ کی بنائی گئی مخلوق کو نابود کر رہا ہے۔
جب امامؑ عج تشریف لائیں گے تو ایسی حکومت تشکیل دیں گے کہ فقط انسان خوشحال نہ ہونگے بلکہ باقی بے زبان چیزیں بھی راضی ہونگی بلخصوص آسمانی مخلوق۔🧚🧚
*جاری ہے۔۔۔۔۔۔* 🔹🔹🔹🔹
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم حکومت کی تیاری کرنے والوں میں سے قرار دے۔ اور ان میں سے قرار دے جو اس عظیم حکومت کو درک کریں اور اس کا حصہ بنیں۔
الہیٰ آمین۔🤲
والسلام
تحریر و پیشکش:✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
# کتابچہ 13
# امام مہدی عج کے دشمن
# درس 8
# نکات: انحرافات و بدعات کا مقابلہ ، اپنی اخلاقی تربیت ، اپنی ملت کو دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ کرنا اور انکے مقابلے کے لیے تیار کرنا
# *استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو مولا امام زماں عج کے دشمنوں کے مدمقابل مہدویت کا دفاع اور ان دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔🫴
بلآخر یہ زمانہ غیبت کے شیعہ ہی ہیں جو مولاؑ امام زمانہ عج کے ظہور کا باعث ہونگے۔ اور ظہور میں تعجیل ان کی فعالیت اور حرکت سے ہوگی۔
انشاءاللہ❗
پچھلے درس میں بھی کچھ امور بیان ہوئے اور ہم اسی بحث کو مذید آگے بڑھاتے ہیں۔
🔹خود اپنے دین کے اندر مکتب تشیع میں ایک اصلاحی حرکت کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے ہاں بہت سارے بدعات اور انحرافات پھیلے ہوئے ہیں اور لوگوں کا ان میں مشغول رہنا بھی ظہور میں تاخیر کا باعث ہے۔ یہ سارے شیطانی کام ہیں اور شیطان روکے ہوئے ہے کہ لوگ امام وقت کی معرفت اور ان کی اقتدا میں نہ جائیں۔
ہمارے لیے اس سلسلے میں اہم ترین موضوع یہ ہے کہ *دین کی جو حقیقی ماہیت ہے جو قرآن ، سنت پیغمبرؐ اور فرامین محمدؐ و آل محمدؑ سے سامنے آتی ہے اس کو اجتماعی اور انفرادی سطح پر احیاء کریں اور ہر طرح بدعت اور تحریف جو کہ دین کا حصہ نہیں تھی اس کا مقابلہ کریں* ۔
مجلسی ، بحار الانوار، ض 54، 71، 78📚
*یمحوکل ضلالتہ و یحییٰ کل سنتہ*
حضرت حجت ہر گمراہی کو ختم کرکے ہر سنت کو زندہ کریں گے۔
*رجل اشبہ الناس بر رسولؐ اللہ خلقا و خلقا و حسنا و جمالا* 💐۔
خلقت، اخلاق، نیکی اور جمال کے لحاظ سے امام زماںؑ عج لوگوں میں سے رسولؐ اکرمؐ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔
عماد الدین طبری بشارۃ الاسلام ص297📚
*یعز اللہ بہ الاسلام بعد ذلہ و یحیہ بعد موتہ*
خدا وند اس (امام زماںؑ عج) کے ذریعے سے اسلام کو ذلت کے بعد عزت اور موت کے بعد زندہ کرے گا۔
المہدی، 221 منقول از عقد الدرر📚
*المہدی اذا خرج یفرح بہ جمیع المسلمین خاصتھم وعامتھم*
جب امام مہدی عج اللہ قیام کریں گے تو آپؑ کے وسیلہ سے تمام مسلمان خاصہ اور عامہ شاد ہوں گے۔
🫴 یعنی امام جب قیام کریں گے تو حقیقی اسلام لوگوں کے سامنے آئے گا۔ جس میں کو بدعت، انحراف اور فرقہ نہیں۔ حضرت جبرائیل تو ایک دین لے کر آئے تھے تو آج ہر کوئی یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم صحیح دین پر ہیں اور باقی سب کافر ہیں۔
*جب امام مہدیؑ عج ظہور فرمائیں گے تو اس ایک حقیقی دین کو روشن کریں گے جو حضرت جبرائیلؑ لے کر آئے اور نتیجتاً جو فرقے بنے ہوئے ہیں سب ختم ہو جائیں گے۔* 🫴
آج بھی ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم بدعات کو روکیں اور بسا اوقات جو انحرافات ہمارے ممبر سے پھیلائے جاتے ہیں ہم ان کے مدمقابل کھڑے ہوں اور ان کو روکیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کریں۔ اور اگر ہم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کا اظہار کریں اور لوگوں کو بتائیں۔
🔹مولا کے ظہور کی تیاری کے حوالے سے اہم ترین مقابلہ یہ ہے کہ شیطانی وسوسہ جو انسان کو فقط دنیا سے ظاہری مزہ لینے کی حد تک محدود رکھے ہوئے ہیں اور دنیا پرست لوگ جو لوگوں کی توجہ صرف انہی چیزوں کی جانب کر رہے ہیں۔ ان سب سے ہم نے لڑنا ہے تاکہ انہیں حقیقی سعادت تک پہنچائیں اور سب سے پہلے خود حقیقی سعادت تک پہنچیں۔
اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مولاؑ عج کے دشمنوں سے جنگ کے حوالے سے سب سے پہلے ہمیں چاہیے کہ اپنا اخلاقی رشد بڑھائیں۔ درس اخلاق سنیں ۔ معلمین اخلاق سے رابطے میں رہیں اور روزانہ کچھ نہ کچھ اخلاقی نکات کا مطالعہ کریں اور سنیں تاکہ ہم اپنے اندر اپنے ہوائے نفس سے مقابلے میں قوی رہیں۔ اور شیعہ کی نشانی یہی تو ہے کہ جب امام صادقؑ سے انتظار کے حوالے سے پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ:💐
*"جو شخص مہدی ؑ عج کا انتظار کرنا چاہتا ہے وہ تقویٰ اور محاسن اخلاق پیدا کرے۔* "
ایک اور مقام پر امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ: 🪷
ہمارے شیعوں میں ایک گروہ ایسا ہے کہ ان کی آواز ان کے کانوں سے بڑھتی نہیں ہے، ان کا گریہ و زاری ان کے وجود سے نہیں بڑھتی اور وہ کبھی بھی ہمارے محبین سے دشمنی نہیں کرتے اور کبھی بھی ہمارے دشمنوں سے صلح نہیں کرتے، ہمارے حقوق کے منکریں کے لیے ہمارے فضائل بیان نہیں کرتے ۔ ہمارے دشمنوں کی محبت کو اپنے دلوں میں نہیں آنے دیتے اور ہمارے محب کا کینہ اپنے دل میں نہیں رکھتے۔
🫴 *یہ ہے ایک شیعہ کی نشانی* یعنی اپنی گفتگو میں متواضع ہیں اور اپنی اجتماعی اور ظاہری زندگی میں محبین اہلبیتؑ ہیں اور خلوتوں میں بارگاہِ خداوندی میں گریہ کرنے والے ہیں اور لوگوں کے اندر محبان اہلبیتؑ سے محبت کرنے والے ہیں اور ان کے دشمنوں کے مد مقابل کھڑے ہیں۔
🔹 ہم نے چھوٹی چھوٹی سطح پر اپنے اندر تبدیلیاں کرنی ہیں اور بڑی سطح پر ہم نے معاشرے میں تبدیلیاں کرنی ہیں۔ آج سوشل میڈیا کی شکل میں پوری دنیا ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہے۔ اور ہم نے دشمنوں کی بڑی بڑی سازشوں کے مدمقابل لوگوں کو آگاہ کرنا ہے اور انہیں ان سازشوں کے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے اور دشمن جو امام زمانہؑ عج کے چہرے کو تخریب کر رہا ہے اور اسے مسخ کر رہا ہے اس کے مد مقابل لوگوں کو آگاہ و بیدار کرنا ہے۔ اور ان کا اصلی چہرہ پیش کرنا ہے۔
۔ 🔹بدعات کے مدمقابل محمدؐ و آل محمدؑ کی سنت اور ان کے خصائل کو زندہ کرنا ہے اور یہ جو غلط قسم کے فرقہ اور ہم شیعوں کے اندر گروپ ہیں جو بعض مرتبہ جو امام مہدیؑ کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں لوگوں کو ان سے آگاہ کریں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ان لوگوں کا باطل ہونا ثابت کریں۔ تاکہ لوگ گمراہی میں نہ پڑیں۔
آج ہم شیعوں میں بہت سے لوگ مرشد اور قلندر بنے ہوئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ علماء کرام اور فقیہ سے رابطے میں رہتے ہوئے ان فاسق لوگوں کو رسوا کریں اور عام لوگوں کو ان کی باطل اور خباثتوں سے آگاہ کریں تاکہ لوگ ان کے چکروں میں پھنس کر دین و آخرت و دنیا تباہ نہ کریں۔
*خلاصہ* : ✨✨
دو طرف مورچے ہیں ۔ 🛕
🔹 ایک باطل پرستوں کا جس پر بڑا رش ہے۔👬👬👬
🔹 دوسرا مورچہ حق پرستوں کا ہے جس پر ابھی کم لوگ ہیں 🧍♂️🧍♂️جس کی وجہ سے غیبت طولانی ہو رہی ہے۔
*حق پرستوں کے مورچے کو بااخلاص مومنین سے بھرنا چاہیے جس کے لیے اپنی نسلوں کی تربیت اور دیگر اپنے ارد گرد کے لوگوں کی تربیت کرنی ہے اور بالخصوص اپنی ذات کی تربیت تاکہ اپنے نفس سے لیکر باہر ابلیس تک تمام باطل قوتوں کا مقابلہ کر سکیں۔اور سب کے مقابلے میں قوی ہوں اور اتنی کثرت سےآگے بڑھیں کہ ہمارے مولاؑ عج کا ظہور یقینی ہو جائے۔*
*انشاءاللہ* ❗
الہیٰ آمین۔🤲
والسلام
تحریر و پیشکش:✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں