فصل پنجم : آئمہ طاہرین کی سیرت کا حماسی پہلو
فصل پنجم : آئمہ طاہرین کی سیرت کا حماسی پہلو
سوال نمبر 1 موضوع تشنہ رہ گیا سے کیا مراد ہے؟
جواب
موضوع تشنہ رہ گیا " موضوع کبھی بھی تشنہ نہیں ہوتا ، انسان تشنہ ہوتا ہے، مقصود یہ نہیں تھا کہ یہاں پر تھوڑی بہت لگی ہوئی پیاس بھی بجھادوں ، مقصود یہ تھا کہ تھوڑی بہت لگی ہوئی پیاس کو بھڑکا دوں اور نہ لگی پیاس کو لگادوں میں بارہا کہتا ہوں کہ ہما را درد یہ نہیں ہے کہ ہماری پیاس بجھانے والا کوئی نہیں.
سوال نمبر 2 آئمہ معصومین کا خدا سے کیا شکوہ تھا؟
جواب
آئمہ معصومین علیھم السلام کا شکوہ خدا سے یہی تھا کہ ان لوگوں کے اندر تو پیاس ہی نہیں ہے، ہمیں چشمہ بنا کر روانہ کر دیا لیکن جن گلیوں میں روانہ کیا وہاں کے رہنے والوں کو پیاس ہی نہیں ہے
سوال نمبر 3 ہیروئن و شراب اور چرس کے علاوہ کون سائشہ خطرناک ہے؟
جواب
منشیات صرف ہیروئن ، شراب پر منحصر نہیں ہے یہ تو معمولی منشیات ہیں، جو کچھ لحظوں کے لیے انسان کو نشہ دے دیتی ہیں کچھ نشے ایسے ہیں جو عمر بھر انسان کو نشے میں مست کر دیتے ہیں، وہ اعتقاد، افکار اور نظریات کے نشے ہیں جو پلا دیئے جاتے ہیں، یہ نشے ہیں جو قوموں کو بیدار نہیں ہونے دیتے ہیں اور انہی نشوں کو اتارنے کے لیے واقعہ کربلا بر پا ہوا ہے۔
سوال نمبر 4 اس صورت میں ہمارا فریضہ کیا ہے؟
جواب
کربلا کو یقین کے راستے سے دیکھنا چاہیئے
ہمارا فریضہ ہے کہ کر بلا کو سمجھیں ، جماسہ کر بلا اگر درست سمجھ آجائے تو ہمیں تمام ائمہ کا حماسہ بھی سمجھ آجائیں گا جو کر بلا کا ہی تسلسل ہے۔
سوال نمبر 5 اللہ انبیاء اور آئمہ معصومین علیھم السلام کو پہل کرنے کیلئے بھیجا رد عمل کیلئے ؟
جواب
خدا نے ان کو بھیجا ہے پہل کرنے کے لیے نہ کہ رد عمل دکھانے کے لیے۔
سید الشہداری کا یہ قیام مقدس حماسہ اور انتخابی راستہ تھا اور اختیاری راستہ تھا اور یہی فریضہ تھا، اگر یزید بیعت کا مطالبہ نہ بھی کرتا تو بھی امام قیام کرتے کیونکہ یزید مامور نہیں ہے سید الشہداء کو چھیڑنے پر بلکہ سید الشہد اس مین مامور ہیں یزید کو چھیٹر نے پر۔ خدا نے کوئی بت پیدا نہیں کیے جو ابراہیم کو چھیڑیں بلکہ ابراہیم کو پیدا کیا کہ جا کر بتوں کو چھیڑیں۔ خدا نے فرعون کو نہیں بھیجا کہ جا کر موسی کو ستائے بلکہ موسی کو بھیجا کہ فرعون کو راہ راست پر لائے ۔ پس ثابت ہوا کہ خدا نے ان کو بھیجا ہے پہل کرنے کے لیے نہ کہ رد عمل دکھانے کے لیے
سوال نمبر 6۔ امام حسین علیہ السلام کے علاوہ باقی معصومین نے کیوں قیام نہ کیا ؟
جواب
امام حسین علیہ السلام کے علاوہ باقی معصومین نے کیوں قیام نہ کیا
کیوں یہ سوال ذہن میں , اٹھتا ہے کہ باقی آئمہ معصومین علیہم السلام نے کچھ نہیں کیا ، حماسی روح سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تھی کیا باقی ائمہ ہی کی نہیں تھی ؟ جواب یہ ہے کہ وہ امام نہیں ہو سکتا ہے جو حماسی نہ ہو، جس کے اندر روح حماسی نہ ہو، خدا نے جن صفات سے آئمہ معصومین علیھم السلام کو نوازا ہے سب سے پہلی شرط ہے ہے کہ امام میں شجاعت ، دلیری اور بہادری ہوتی ہے۔ لیکن کیوں پھر ہمیں کر بلا جیسا معرکہ نظر نہیں آتا وہ خود سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ جیسے انصار مجھے ملے ہیں ایسے کسی اور کو نہیں ملے۔
پیس فرق آئمہ معصومین علیھم السلام کا نہیں سے فرق امتوں میں ہے، یوں نہیں ہے کہ آئمہ معصومین علیھم السلام مختلف تھے ۔
سوال نمبر 7۔ امام حسین اہل جنگ تھے اور امام حسن اہل صلح و د دونوں بھائیوں میں یہ فرق کیوں؟
جواب
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام
کیوں یہ سوال ذہن میں , اٹھتا ہے کہ باقی آئمہ معصومین علیہم السلام نے کچھ نہیں کیا ، حماسی روح سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تھی کیا باقی ائمہ ہی کی نہیں تھی ؟ جواب یہ ہے کہ وہ امام نہیں ہو سکتا ہے جو حماسی نہ ہو، جس کے اندر روح حماسی نہ ہو، خدا نے جن صفات سے آئمہ معصومین علیھم السلام کو نوازا ہے سب سے پہلی شرط ہے ہے کہ امام میں شجاعت ، دلیری اور بہادری ہوتی ہے۔ لیکن کیوں پھر ہمیں کر بلا جیسا معرکہ نظر نہیں آتا وہ خود سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ جیسے انصار مجھے ملے ہیں ایسے کسی اور کو نہیں ملے۔
پیس فرق آئمہ معصومین علیھم السلام کا نہیں ہے فرق امتوں میں ہے، یوں نہیں ہے کہ آئمہ معصومین علیھم السلام مختلف تھے ۔
حسن اور حسین مختلف نہیں تھے بلکہ حسن و حسین علیہ السلام کے ساتھی مختلف
تھے۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھی وہ تھے جنہوں نے چاہا کہ امام کو قید کر کے دشمن کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ امام کو
خیمے میں شہید کریں گے یا شامی فوج کے امام کو کر کے ان سے اشرفیاں وصول کریں گے ۔
جبکہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے انصار سے چراغ بجھا کر فرمایا یہاں سے چلے جاؤ جنت مل جائے گی لیکن کوئی جانے کو تیار نہیں تھا۔
سوال نمبر 8 معرفت امام کے متعلق حدیث بیان کریں؟
164
﴿دعائے معرفت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ﴾
شیخ کلینی (علیہ الرحمہ)اور دیگر بزرگان نے امام جعفر صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ آپ (ع)نے زرارہ کو یہ دعا تعلیم فرمائی کہ ہمارے شیعہ امام العصر (ع) کی غیبت میں اور پھر ان کی کشائش کے وقت یہ دعا پڑھا کریں:
اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِیَّکَ اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی
رَسُولَکَ، فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَک اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ
فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی۔
اے معبود تو مجھے اپنی معرفت عطا کر کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں تیرے نبی کو نہ پہچان پاؤ نگا اے معبود مجھے اپنے رسول کی
معرفت عطاکر کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ کرائی تو میں تیری حجت (ع)کو نہ پہچان پاؤنگا اے معبود مجھے اپنی حجت کی معرفت
عطا کر کہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمرا ہ ہو جاؤں گا۔
سوال نمبر 9۔ امام کی تصوراتی اور خیالی تصویر بنانے سے کیا حرج لازم آتی ہے؟
ااگر امیر المومنین علیہ السلام اپنے حقیقی روپ میں آئیں یعنی اپنی زندگی میں جس حلیے میں تھے ہ وہی لباس پہن کر آ جائیں اور جس طرح کا جوتا پہنتے تھے وہ پہن کر ہماری مجلس میں آجا ئیں تو ہم انہیں اپنی مجلس میں آنے بھی نہیں دیں گے۔
جنگ صفین کے راستے میں امام کا جوتا پھٹ گیا اس جوتے کو پیوند لگا ہوا تھا اور اس پیوند کو بھی پیوند لگا ہوا تھا۔ اس پیوند کا پیوند پھٹ گیا۔ خلیفہ مسلمین خود اپنا جوتا ٹانک رہے تھے۔
آپ اپنی عظیم جنگ اسی جوتے کے ساتھ لڑنے جا رہے تھے۔ ابن عباس سے پوچھا اس جوتے کی قیمت کیا ہے ؟ ابن عباس کو بہت شرم محسوس ہوئی کہ میں کیسے بتاؤں اس کی قیمت کہا کہ اس کو آپ ایسے ہی پھینک دیں اور ایک برہنہ پا آدمی جس کو بہت شدید ضرورت ہو جوتے کی وہ بھی اس کو
نہیں پینے کا کیونکہ برہنہ چلنا کہیں بہتر ہے اس جوتے سے جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔ اگر یہ جوتا پہن کر امیر المومنین ہماری مجلس میں آجائیں تو کیا ہم مانیں گے کہ یہی میں امیر المومنین علیہ السلام؟ چونکہ ہمارے تحلیل کی تصویر کچھ اور ہے۔ ہم نے انہیں تاج اور زربفت کے لباس میں تصور کیا ہوا ہے۔
امیر المومنین کا گھوڑا کیسا تھا؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ بہت ہی براق تھا جو پلک جھپکتے شرق سے غرب تک پہنچ جاتا تھا۔ حضرت کو کسی نے کہا بھی کہ یہ گھوڑا جس سے چلا بھی نہیں جاتا کیوں رکھا ہے؟ آپ جانے جان بوجھ کے ایسا گھوڑا رکھا ہوا تھا جو مشکل سے میدان تک پہنچتا تھا، دوڑ نا تو دور کی بات۔ پوچھا گیا آپ عرب کے سدھائے ہوئے جنگی گھوڑے کیوں نہیں رکھتے تو حضرت نے فرمایا کہ اچھا گھوڑا بھاگنے کے لیے یا پیچھا کرنے کے لیے ہوتا ہے اور میں جنگ میں یہ دونوں کام نہیں کرتا نہ بھاگتا ہوں ، نہ پیچھا کرتا ہوں ، مجھے ایسا گھوڑا چاہیے جو بس خیمے سے میدان تک لے آئے ۔
سوال نمبر 10 ہمیں تخیلاتی چیزیں کیوں اچھی لگتی ہیں ؟
جواب
ہمیں تخیلاتی چیزیں اچھی لگتی ہیں کیونکہ تخیل کا عالم بہت میٹھا، شیریں اور حسین پوتا ہے خواب
تخیل کا ایک کرشمہ ہے۔ اور ظاہر ہے خواب بیداری سے زیادہ شیریں ہوتا ہے بعض تو سوتے ہی اس لیے ہیں کہ خواب دیکھنے کے لیے ہیں اگر خواب نہ آئیں تو سوئیں کے بھی نہیں ۔ عموما خواب کا منظر بیداری سے زیادہ مناسب ہوتا ہے چونکہ بیداری میں واقعات اور حقائق تھوڑے تلخ ہوتے ہیں لیکن عالم خواب میں اپنی بنائی ہوئی تخیل کی تصویر سے سروکار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ عالم بڑا شیریں اور حسین لگتا ہے ۔
سوال نمبر 11 امام علی کی حقیقی تصویر کہاں ملے گی ؟
جواب
اگر ہم امیرالمومنین کی حقیقی تصویر دیکھنا چاہیں تو نہج البلاغہ میں آپ کو ملے گی لیکن وہ حقیقی تصویر ہے اور ہم حقیقت پسند نہیں ہیں۔ خیال پرواز کے لیے قرآن نے محتال کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
إن الله لا يحب كل مختال فخور ۔۔۔ا
بے شک اللہ کی خیال پرواز فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔۔
خدا خیال بافوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو تخیل کی دنیا اور سپنوں کی دنیا میں ہمیشہ رہتے ہیں ، یہ سپنوں کا دین اللہ تعالی کو بالکل پسند نہیں ہے۔ دین کی حقیقی تصویر نہج البلاغہ میں موجود ہے، حضرت حضرت علی علیہ السلام نے اس میں ہر چیز کا ذکر کیا، اپنے لباس ، غذا اور اپنے شب وروز کا ذکر کیا ہے۔
سوال نمبر 12 امام علی حقیقی صورت و جسم میں ہمارے سامنے آجائیں تو ہمارا رویہ کیا ہو گا ؟
جواب
امیر المومنین علی ام کی سادہ زیستی اور موجود نسل کی ذہنیت عامہ
ااگر امیر المومنین علیہ السلام اپنے حقیقی روپ میں آئیں یعنی اپنی زندگی میں جس حلیے میں تھے ہ وہی لباس پہن کر آ جائیں اور جس طرح کا جوتا پہنتے تھے وہ پہن کر ہماری مجلس میں آجا ئیں تو ہم انہیں اپنی مجلس میں آنے بھی نہیں دیں گے۔
جنگ صفین کے راستے میں امام کا جوتا پھٹ گیا اس جوتے کو پیوند لگا ہوا تھا اور اس پیوند کو بھی پیوند لگا ہوا تھا۔ اس پیوند کا پیوند پھٹ گیا۔ خلیفہ مسلمین خود اپنا جوتا ٹانک رہے تھے۔
آپ اپنی عظیم جنگ اسی جوتے کے ساتھ لڑنے جا رہے تھے۔ ابن عباس سے پوچھا اس جوتے کی قیمت کیا ہے ؟ ابن عباس کو بہت شرم محسوس ہوئی کہ میں کیسے بتاؤں اس کی قیمت کہا کہ اس کو آپ ایسے ہی پھینک دیں اور ایک برہنہ پا آدمی جس کو بہت شدید ضرورت ہو جوتے کی وہ بھی اس کو
نہیں پینے کا کیونکہ برہنہ چلنا کہیں بہتر ہے اس جوتے سے جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔ اگر یہ جوتا پہن کر امیر المومنین ہماری مجلس میں آجائیں تو کیا ہم مانیں گے کہ یہی میں امیر المومنین علیہ السلام؟ چونکہ ہمارے تحلیل کی تصویر کچھ اور ہے۔ ہم نے انہیں تاج اور زربفت کے لباس میں تصور کیا ہوا ہے۔
امیر المومنین کا گھوڑا کیسا تھا؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ بہت ہی براق تھا جو پلک جھپکتے شرق سے غرب تک پہنچ جاتا تھا۔ حضرت کو کسی نے کہا بھی کہ یہ گھوڑا جس سے چلا بھی نہیں جاتا کیوں رکھا ہے؟ آپ جانے جان بوجھ کے ایسا گھوڑا رکھا ہوا تھا جو مشکل سے میدان تک پہنچتا تھا، دوڑ نا تو دور کی بات۔ پوچھا گیا آپ عرب کے سدھائے ہوئے جنگی گھوڑے کیوں نہیں رکھتے تو حضرت نے فرمایا کہ اچھا گھوڑا بھاگنے کے لیے یا پیچھا کرنے کے لیے ہوتا ہے اور میں جنگ میں یہ دونوں کام نہیں کرتا نہ بھاگتا ہوں ، نہ پیچھا کرتا ہوں ، مجھے ایسا گھوڑا چاہیے جو بس خیمے سے میدان تک لے آئے ۔
سوال نمبر 13 مفتی جعفر حسین کی سادگی کی مثال بیان کریں؟
167 to 168
سوال نمبر 14 یک امامی اور دو امامی طبقے سے کیا مراد ہے؟
170
سوال نمبر 15 کس دعا کی تلاوت کے وقت پتہ چلتا کہ 12 امام ہیں؟
171
دعائے توسل کی تلاوت سے
سوال نمبر 16 عراقی اور ایرانی کس ہستی کے معتقد ہیں ؟
جواب
عراقی اور حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کے معتقد ہیں
حضرت عباس علیہ السلام کے معتقد ہیں
سوال نمبر 17 معصومین علیہم السلام کی سیرت سے پسند کی توجہات گھڑنے سے کیا مراد ہے؟
جواب
172 اور 178
یعنی یہ سوال گمان، حقیقت سے دوری کا سبب پر بھی لکھا جا سکتا ہے
سوال نمبر 18 : مفاد پسندانہ تو جیہات سے غیروں نے کیا فائدہ اٹھایا ؟
جواب
174
سوال نمبر 19 کلمات الہی کو بدلا کیوں جاتا ہے؟
176
جواب
کلمات الہی میں تحریف مت کرو!
قرآن صراحت سے کہہ رہا ہے:
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ .
الفاظ کو ان کے محل سے پھیر ( بگاڑ ) دیتے ہیں۔
یہ کلمات الہی کواپنے محفل سے تبدیل کرتے تھے تا کہ اپنے غلط کاموں کا جواز ڈھونڈ سکیں۔
سوال نمبر 20 : امام علی نے حضرت عمار کو مغیرہ سے بولنے سے کیوں منع کیا ؟
176
جواب
امام علیہ السلام نے حضرت عمار کو مغیرہ سے بولنے سے اس لیے منع فرمایا کہ اس نے دین کو اس لیے نہیں سیکھا کہ حق کو پہچانن سکے بلکہ اس نے دین کو اس لیے سیکھا کہ وہ اپنے گناہوں پر پردہ ڈال سکے۔
سوال نمبر 21 کربلا کو یقین کے راستے سے کیوں دیکھنا چاہیئے ؟
جواب
کربلا کو یقین کے راستے سے دیکھنا چاہیئے
ہمارا فریضہ ہے کہ کر بلا کو سمجھیں ، حماسہ کربلا کو سمجھیں۔ خرافات، تخیلات،ثقافت، رسومات اور آبائی دین کی دیواریں گرا کر دیواروں کے پیچھے چھپے حقائق کو دیکھنا چاہتے جماسہ کر بلا اگر درست سمجھ آجائے تو ہمیں تمام ائمہ کا حماسہ بھی سمجھ آجائیں گا جو کر بلا کا ہی تسلسل ہے۔
سوال نمبر 22۔ یہودیت اور عیسائیت نے حضرت عیسی پہ کیسا ظلم کیا ؟
جواب
یہودیت اور مسیحیت کا حضرت مسیح علیہ السلام پر ظلم
حضرت مسیح علیہ السلام پر ایک بڑا ظلم مسیحیت نے کیا اور ایک بڑا ظلم یہودیت نے کیا ، یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ ظلم کیا کہ اپنے گمان کے مطابق ان کو صلیب پر لٹکادیا، مسیحیت نے یہ ظلم کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جیسے بہادر اور شجاع و حماسی نبی کو ایک راہب ولا تعلق اور بے حس انسان ثابت کر کے پیش کیا
سوال نمبر 23 : جب حضرت عیسی کو کفر پھیلنے کا احساس ہوا تو کون کی صدا لگائی؟
جواب
فَلَمَّا أَحْشَ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرِ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ .
جب عیسیٰ نے ان کا کفر محسوس کیا تو کہا کہ اللہ کی راہ میں میرا کون مددگار ہے؟
جب حضرت عیسی نے احساس کیا کہ کفر معاشرے میں پھیل گیا ہے فورا اهل من ناصر کی صدا دی۔ وہی حماستہ کر بلا حضرت مسیح علیہ السلام سے قرآن نے نقل کیا ہے چونکہ سید الشہداء وارث عیسی ہیں :
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عَيسَى رُوحِ الله .
یہ وارث عیسی حماسہ میں وارث عیسی ہیں ، سب سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام نے صدا لگائی کہ مَنْ أَنصَارِي إِلَى الله ؟ کون ہے جو راہ خدا میں میری مدد کرے۔ کربلا میں وہی وارث عیسی گھڑے ہو کر ندادے رہا ہے کہ
هَلْ مِنْ نَاصِرِ يَنْصُرُني
تصویر قرآنی کے مطابق ہر نبی حماسی نبی ہے اپنے اپنے حالات کے مطابق لیکن یہی حماسی نبی کبھی قوموں کے ہاتھوں صلیب پر نظر آتا ہے کبھی اسی حماسی نبی کی گردن قوموں کے ہاتھوں کٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی حماسی نبی کبھی زندان میں بند نظر آتا ہے، امتوں نے انبیاء پر بہت ظلم کئے ہیں۔
سوال نمبر 24: آئمہ طاہرین کا حقیقی چہرہ دیکھنے کیلئے کسی چیز کی ضرورت ہے؟
جواب
اگر ہم امیرالمومنین کی حقیقی تصویر دیکھنا چاہیں تو نہج البلاغہ میں آپ کو ملے گی لیکن وہ حقیقی تصویر ہے اور ہم حقیقت پسند نہیں ہیں۔ خیال پرواز کے لیے قرآن نے محتال کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
إن الله لا يحب كل مختال فخور ۔۔۔ا
بے شک اللہ کی خیال پرواز فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔۔
خدا خیال بافوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو تخیل کی دنیا اور سپنوں کی دنیا میں ہمیشہ رہتے ہیں ، یہ سپنوں کا دین اللہ تعالی کو بالکل پسند نہیں ہے۔ دین کی حقیقی تصویر نہج البلاغہ میں موجود ہے، حضرت حضرت علی علیہ السلام نے اس میں ہر چیز کا ذکر کیا، اپنے لباس ، غذا اور اپنے شب وروز کا ذکر کیا ہے
سوال نمبر 25 امام خمینی نے اسلام کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب
"اسلام گمشدہ است پیدایش کنید" (اسلام تمہارے ہاتھوں گم ہو چکا ہے لہذا آس کو ڈھونڈو)
سوال نمبر 26۔ امام جعفر صادق کے کتنے شاگرد تھے۔ دو کے نام بتائیں۔
183
جواب
امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے 4000 شاگرد تھے، جن میں سے دو مشہور ناموں میں:
1. **ابو حنیفہ** - اسلامی فقہ میں معروف امام اور اہل سنت کے فقہاء میں سے ایک۔
2. **جعفر بن محمد بن جابر** - معروف فقیہ اور علمی شخصیت، جنہیں عام طور پر امام جعفر صادق کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
سوال نمبر 27 : امام علی علیہ السلام نے خلافت کے زمانے میں اچھل کود کرنے والے جوانوں کو کیا کہا ؟
185
سوال نمبر 28 صدیر صیروفی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کیا سوال کیا کہ آپ قیام کیوں نہیں کرتے تو امام نے اسے کیسے سمجھایا ؟
جواب
184
سوال نمبر 29 امام حسین علیہ السلام علاوہ باقی آئمہ نے قیام کیوں نہ کیا؟
جواب
کیوں یہ سوال ذہن میں , اٹھتا ہے کہ باقی آئمہ معصومین علیہم السلام نے کچھ نہیں کیا ، حماسی روح سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تھی کیا باقی ائمہ ہی کی نہیں تھی ؟ جواب یہ ہے کہ وہ امام نہیں ہو سکتا ہے جو حماسی نہ ہو، جس کے اندر روح حماسی نہ ہو، خدا نے جن صفات سے آئمہ معصومین علیھم السلام کو نوازا ہے سب سے پہلی شرط ہے ہے کہ امام میں شجاعت ، دلیری اور بہادری ہوتی ہے۔ لیکن کیوں پھر ہمیں کر بلا جیسا معرکہ نظر نہیں آتا وہ خود سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ جیسے انصار مجھے ملے ہیں ایسے کسی اور کو نہیں ملے۔
پیس فرق آئمہ معصومین علیھم السلام کا نہیں سے فرق امتوں میں ہے، یوں نہیں ہے کہ آئمہ معصومین علیھم السلام مختلف تھے ۔
سوال نمبر 30 : امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے انصار میں فرق بیان کریں ؟
جواب
حسن اور حسین مختلف نہیں تھے بلکہ حسن و حسین علیہ السلام کے ساتھی مختلف
تھے۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھی وہ تھے جنہوں نے چاہا کہ امام کو قید کر کے دشمن کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ امام کو
خیمے میں شہید کریں گے یا شامی فوج کے امام کو کر کے ان سے اشرفیاں وصول کریں گے ۔
جبکہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے انصار سے چراغ بجھا کر فرمایا یہاں سے چلے جاؤ جنت مل جائے گی لیکن کوئی جانے کو تیار نہیں تھا۔
پیس فرق آئمہ معصومین علیھم السلام کا نہیں ہے فرق امتوں میں ہے، یوں نہیں ہے کہ آئمہ معصومین علیھم السلام مختلف تھے ۔
سوال نمبر 31 : امام علی رضا علیہ السلام نے علی ابن حمزہ کو کیا کہا۔ پھر اس نے امام کو کیا کہا ؟
جواب
علی این حمزہ جو بہت عالم اور فاضل تھا حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام وکیل تھا، چند علاقوں کا خمس اس کے پاس اکٹھا ہوتا تھا ، امام کی شہادت کے بعد امام بشتم نے اس سے کہا کہ خود بھی آؤ اور جو مال ہمارا پڑا ہوا ہے وہ بھی لے کر آؤ، اس نے کہا کہ میں آپ کو امام ہی نہیں مانتا کہا کہ موسیٰ کاظم ۔ شہید ہی نہیں ہوئے بلکہ پردہ غیبت میں چلے گئے ہیں اور میں ابھی تک ان کا وکیل ہوں
سوال نمبر 32 : ہر امام کی حماسی زندگی کو سمجھنے کیلئے ہمیں کیا کرنے کی ضرورت
ہے؟
جواب
کربلا کو یقین کے راستے سے دیکھنا چاہیئے
ہمارا فریضہ ہے کہ کر بلا کو سمجھیں ، حماسہ کربلا کو سمجھیں۔ خرافات، تخیلات،ثقافت، رسومات اور آبائی دین کی دیواریں گرا کر دیواروں کے پیچھے چھپے حقائق کو دیکھنا چاہتے جماسہ کر بلا اگر درست سمجھ آجائے تو ہمیں تمام ائمہ کا حماسہ بھی سمجھ آجائیں گا جو کر بلا کا ہی تسلسل ہے۔
حجت خدا کو حماسی ہونا چاہیے ہر حجت میں حماسی روح موجود ہوتی ہے کیونکہ جو حجت خدا حماسی نہ ہو وہ حجت خدا ہی نہیں ہوتا۔
سوال نمبر 33 : آئمہ کے اوپر تہمت کو ختم کرنے کا نقطہ اور محور بیان کریں؟
جواب
189
آئمہ کے اوپر تہمت کو ختم کرنے کا نقطہ اور محور یہ ہے کہ کوئی ایسا امام نہیں جس کو شہید نہ کیا گیا ہو۔ یہ شہادتیں بتاتی ہیں کہ دشمن کو۔ معلوم تھا کہ وہ حماسی ہیں آگر ان کو معلوم نہیں ہوتا تو وہ اقدام نہ کرتے۔
سوال نمبر 34.حماسہ کربلا تک پہنچنے میں کیا مشکل در پیش ہے؟
جواب
ہماری مشکل یہ ہے کہ ہمیں پیاسا کرنے والا کوئی نہیں ہے، ہم پیاسے نہیں ہیں، پیاسے ہو جائیں پھر سب کچھ مل جائے گا ، ہم اپنے آپ کو مصنوعی پیاس لگاتے ہیں، بسا اوقات ہوتا ہے انسان پیاسا نہیں ہوتا لیکن شربت دیکھ کر مصنوعی پیاس کا اظہار کرتا ہے کہ مجھے پیاس لگی ہے پھر دو گھونٹ بھر کر رکھ دیتا ہے کہ یہ مجھے نہیں چاہتے ، آپ پہلے نہیں ہیں چونکہ پیاسا شربتوں کے پیچھے نہیں جاتا، پیاسا چشموں کے پیچھے جاتا ہے اور خدا نے چشمے اس لیے بنائے ہیں کہ وہاں پر پیاسے آئیں۔
یہ شکوہ
سب کو تھا جس نے بھی آکر کسی قوم کو ببدار کرنا چاہا اسے سب سے بڑی مشکل جو پیش آئی کہ لوگوں
کے اندر پیاس نہیں تھی، لوگوں کے اندر تڑپ نہیں تھی۔
سوال نمبر 35۔ .اطمینان کہاں سے آتا ہے؟
جواب
اطمینان دو جگہوں سے آتا ہے۔
.1 ایک یقین سے آتا ہے۔
2. غفلت سے آتا ہے۔
سوال نمبر 36۔ .ہادئ حق کا کیا فریضہ ہے؟
جواب
خدا نے ان کو بھیجا ہے پہل کرنے کے لیے نہ کہ رد عمل دکھانے کے لیے۔
سید الشہداری کا یہ قیام مقدس حماسہ اور انتخابی راستہ تھا اور اختیاری راستہ تھا اور یہی فریضہ تھا، اگر یزید بیعت کا مطالبہ نہ بھی کرتا تو بھی امام قیام کرتے کیونکہ یزید مامور نہیں ہے سید الشہداء کو چھیڑنے پر بلکہ سید الشہد اس مین مامور ہیں یزید کو چھیٹر نے پر۔ خدا نے کوئی بت پیدا نہیں کیے جو ابراہیم کو چھیڑیں بلکہ ابراہیم کو پیدا کیا کہ جا کر بتوں کو چھیڑیں۔ خدا نے فرعون کو نہیں بھیجا کہ جا کر موسی کو ستائے بلکہ موسی کو بھیجا کہ فرعون کو راہ راست پر لائے ۔ پس ثابت ہوا کہ خدا نے ان کو بھیجا ہے پہل کرنے کے لیے نہ کہ رد عمل دکھانے کے لیے۔
سوال نمبر 37.جب امت یزید جیسے حکمرانوں میں مبتلا ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب
جب امت یزید جیسے حکمرانوں میں مبتلا ہو جائے تو اسلام کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے
سوال نمبر 38. خیال پرواز لوگوں کے بارے میں قرآن پاک کیا فرماتا ہے؟
جواب
إن الله لا يحب كل مختال فخور ۔۔۔ا
بے شک اللہ کی خیال پرواز فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔۔
خدا خیال بافوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو تخیل کی دنیا اور سپنوں کی دنیا میں ہمیشہ رہتے ہیں ، یہ سپنوں کا دین اللہ تعالی کو بالکل پسند نہیں ہے۔ دین کی حقیقی تصویر نہج البلاغہ میں موجود ہے، حضرت حضرت علی علیہ السلام نے اس میں ہر چیز کا ذکر کیا، اپنے لباس ، غذا اور اپنے شب وروز کا ذکر کیا ہے۔
سوال نمبر 39. جنگِ صفین میں مولا علی علیہ السلام کا جوتا کیسا تھا؟
جواب
جنگ صفین کے راستے میں امام کا جوتا پھٹ گیا اس جوتے کو پیوند لگا ہوا تھا اور اس پیوند کو بھی پیوند لگا ہوا تھا۔ اس پیوند کا پیوند پھٹ گیا۔ خلیفہ مسلمین خود اپنا جوتا ٹانک رہے تھے۔
آپ اپنی عظیم جنگ اسی جوتے کے ساتھ لڑنے جا رہے تھے۔ ابن عباس سے پوچھا اس جوتے کی قیمت کیا ہے ؟ ابن عباس کو بہت شرم محسوس ہوئی کہ میں کیسے بتاؤں اس کی قیمت کہا کہ اس کو آپ ایسے ہی پھینک دیں اور ایک برہنہ پا آدمی جس کو بہت شدید ضرورت ہو جوتے کی وہ بھی اس کو
نہیں پینے کا کیونکہ برہنہ چلنا کہیں بہتر ہے اس جوتے سے جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔ اگر یہ جوتا پہن کر امیر المومنین ہماری مجلس میں آجائیں تو کیا ہم مانیں گے کہ یہی میں امیر المومنین علیہ السلام؟ چونکہ ہمارے تحلیل کی تصویر کچھ اور ہے۔ ہم نے انہیں تاج اور زربفت کے لباس میں تصور کیا ہوا ہے
ااگر امیر المومنین علیہ السلام اپنے حقیقی روپ میں آئیں یعنی اپنی زندگی میں جس حلیے میں تھے ہ وہی لباس پہن کر آ جائیں اور جس طرح کا جوتا پہنتے تھے وہ پہن کر ہماری مجلس میں آجا ئیں تو ہم انہیں اپنی مجلس میں آنے بھی نہیں دیں گے۔
سوال نمبر ،40. حضرت امیر المومنین ع کا گھوڑا کیسا تھا؟
جواب
امیر المومنین کا گھوڑا کیسا تھا؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ بہت ہی براق تھا جو پلک جھپکتے شرق سے غرب تک پہنچ جاتا تھا۔ حضرت کو کسی نے کہا بھی کہ یہ گھوڑا جس سے چلا بھی نہیں جاتا کیوں رکھا ہے؟ آپ جانے جان بوجھ کے ایسا گھوڑا رکھا ہوا تھا جو مشکل سے میدان تک پہنچتا تھا، دوڑ نا تو دور کی بات۔ پوچھا گیا آپ عرب کے سدھائے ہوئے جنگی گھوڑے کیوں نہیں رکھتے تو حضرت نے فرمایا کہ اچھا گھوڑا بھاگنے کے لیے یا پیچھا کرنے کے لیے ہوتا ہے اور میں جنگ میں یہ دونوں کام نہیں کرتا نہ بھاگتا ہوں ، نہ پیچھا کرتا ہوں ، مجھے ایسا گھوڑا چاہیے جو بس خیمے سے میدان تک لے آئے ۔
ااگر امیر المومنین علیہ السلام اپنے حقیقی روپ میں آئیں یعنی اپنی زندگی میں جس حلیے میں تھے ہ وہی لباس پہن کر آ جائیں اور جس طرح کا جوتا پہنتے تھے وہ پہن کر ہماری مجلس میں آجا ئیں تو ہم انہیں اپنی مجلس میں آنے بھی نہیں دیں گے۔
سوال نمبر 41. جب حضرت امیر المومنین ع سے جنگی گھوڑے نہ رکھنے کا پوچھا گیا تو آپ علیہ السلام نے کیا جواب دیا؟
جواب
حضرت کو کسی نے کہا بھی کہ یہ گھوڑا جس سے چلا بھی نہیں جاتا کیوں رکھا ہے؟ آپ جانے جان بوجھ کے ایسا گھوڑا رکھا ہوا تھا جو مشکل سے میدان تک پہنچتا تھا، دوڑ نا تو دور کی بات۔ پوچھا گیا آپ عرب کے سدھائے ہوئے جنگی گھوڑے کیوں نہیں رکھتے تو حضرت نے فرمایا کہ اچھا گھوڑا بھاگنے کے لیے یا پیچھا کرنے کے لیے ہوتا ہے اور میں جنگ میں یہ دونوں کام نہیں کرتا نہ بھاگتا ہوں ، نہ پیچھا کرتا ہوں ، مجھے ایسا گھوڑا چاہیے جو بس خیمے سے میدان تک لے آئے ۔
ااگر امیر المومنین علیہ السلام اپنے حقیقی روپ میں آئیں یعنی اپنی زندگی میں جس حلیے میں تھے ہ وہی لباس پہن کر آ جائیں اور جس طرح کا جوتا پہنتے تھے وہ پہن کر ہماری مجلس میں آجا ئیں تو ہم انہیں اپنی مجلس میں آنے بھی نہیں دیں گے۔
سوال نمبر 42. ملتِ جعفریہ کے پہلے قائد کون بنے؟
جواب
مفتی جعفر حسین
۔یوں تو ملت تشیع نے قیام پاکستان کے بعد انفرادی سطح پر اس ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جزوی طور پرتشیع اور مذہب جعفریہ کو در پیش مسائل کے حل کے لیے بھر پور سعی کی۔ مختلف تنظیموں، انجمنوں، شیعہ کانفرنس اور ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان وغیرہ کے نام سے کوششیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد مرحوم علامہ سید محمد دہلوی کی قیادت میں شیعہ مطالبات کمیٹی کا وجود عمل میں آیا۔ لیکن 12 آپریل 1979ء سے باقاعدہ جماعتی سطح پر منظم انداز میں قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی قیادت میں کا م کا آغاز کیا۔
سوال نمبر 43. اثناء عشری کسے کہتے ہیں؟
جواب
170
سوال نمبر 44. اہلِ مدرسہ کے کتنے اور کونسے امام ہیں؟
جواب
اہل مدرسہ کے دو امام ہیں
170
سوال نمبر 45. اہلِ مدرسہ نے دو اماموں کا انتخاب کیوں کیا؟
جواب
170
کیونکہ انہوں نے زیادہ حدیثیں بیان کی کی ہیں ال مدرسہ کو حدیثیں زیادہ پسند تھیں ۔
سؤال نمبر 46. آئمہ کرام ع کے مخالفین غیبتِ امام ع کی تشریح کس طرح کرتے ہیں؟
جواب
175
سوال نمبر 47. کلماتِ الہی میں تحریف کے بارے ایک قرآنی آیت لکھیں۔
جواب
176
سوال نمبر 48. آئمہ معصومین ع کی حقیقی تصویر بدلنے کا کیا نتیجہ نکلا؟
جواب
185
سوال نمبر 49.مولانا روم نےسیرتِ معصوم ع کی تحریف کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب
178
سوال نمبر 50. گمان کے متعلق ایک قرآنی آیت بیان کریں۔
جواب
179
سوال نمبر 51. یہود نے حضرت مسیح ع کے ساتھ کیا ظلم کیا؟
جواب
یہودیت نے کیا ، یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ ظلم کیا کہ اپنے گمان کے مطابق ان کو صلیب پر لٹکادیا،
سوال نمبر 52. امتوں نے انیباء کرام ع پر کونسے ظلم ڈھائے؟
جواب
190
سوال نمبر 53. امام صادق ع سے قیام نہ کرنے کا سوال کس نے کیا؟
جواب
184
سدیر صروفی نے
سوال نمبر 54. امام صادق ع نے قیام نہ کرنے پر کیا جواب دیا؟
جواب
خدا کی قسم اے سدیر اگر میرے پاس ان بکریوں کی تعداد کے مطابق شیعہ ہوتے تو تؤ میں ضرور قیام کرتا۔
سوال نمبر 55. حضرت موسیٰ کاظم ع کا وکیل کون تھا؟
جواب
علی این حمزہ جو بہت عالم اور فاضل تھا حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام وکیل تھا،
سوال نمبر 56. حضرت موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعد آپ علیہ السلام کے وکیل نے کیا کیا؟
جواب
علی این حمزہ جو بہت عالم اور فاضل تھا حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام وکیل تھا، چند علاقوں کا خمس اس کے پاس اکٹھا ہوتا تھا ، امام کی شہادت کے بعد امام بشتم نے اس سے کہا کہ خود بھی آؤ اور جو مال ہمارا پڑا ہوا ہے وہ بھی لے کر آؤ، اس نے کہا کہ میں آپ کو امام ہی نہیں مانتا کہا کہ موسیٰ کاظم ۔ شہید ہی نہیں ہوئے بلکہ پردہ غیبت میں چلے گئے ہیں اور میں ابھی تک ان کا وکیل ہوں
سوال نمبر 57. کونسا معصوم حجتِ خدا نہیں ہو سکتا؟
جواب
190
وہ معصوم حجتِ خدا نہیں ہو سکتا جس میں حماسی روح نہ ہو۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں