*فصلِ اول: قیام امام حسین علیہ السلام حماسی زاویہ نگاہ سے*

 


*فصلِ اول: قیام امام حسین علیہ السلام حماسی زاویہ نگاہ سے*






کتاب : *حماسہ کربلا* 


                   اہم سوالات 

 *فصلِ اول* 

قیام امام حسین علیہ السلام حماسی زاویہ کی نگاہ سے

*فصلِ اول: قیام امام حسین علیہ السلام حماسی زاویہ نگاہ سے*


1.حقائق کو اصلی حالت میں دیکھنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب Exact

بہت ضروری ہے کہ انسان ایک حقیقت کو اسی طرح سے دیکھے جس طرح وہ ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اس مقام تک پہنچ جائے کہ حقائق اس کو اپنی اصلی حالت میں دکھائی دینا شروع ہو جائیں اور حقائق اس کے سامنے اس طرح سے رونما اور جلوہ گر ہوں ، جس طرح سے وہ ہیں۔ نبی اکرم سلام سے ایک دعا مروی ہے ، اس دعا شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خداوند تبارک و تعالی سے یہی طلب کیا ہے :


رب أرنا الأشياء كماهي .

اے رب مجھے حقائق ویسے دکھلا جیسے ہیں۔

یوں نہ ہو کہ حقائق کچھ ہوں اور مجھے دکھائی کچھ اور دیں۔ گمراہی کا آغاز یہیں سے ہو جاتا ہے کہ انسان حقائق کو اس طرح سے دیکھے جس طرح وہ نہیں ہیں، اور انسان اپنے ذہن میں حقائق





2.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقائق کے متعلق کیا دعا فرمائی؟


جواب Exact

 یہاں اس دعا کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خداوند تبارک کی بارگاہ سے طلب کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

رب أرنا الأشياء كماهي ..

مجھے حقائق دیسے دکھلا جیسے ہیں۔

اس طرح سے حقائق نظر نہ آئیں جس طرح سے ان کے چہرے پہ غبار چڑھا ہوا ہو اس طرح تو سمجھ 

ہی نہیں آتا ہے کہ کس حقیقت اور کس چیز سے میرا سروکار ہے، کس انسان سے میرا واسطہ ہے۔ میری یہ تمنا ہے کہ میں صاف ، شفاف، واضح اور روشن حقائق دیکھوں ۔ یہ بہت بڑی توفیق ہے انسان کے لیے اور وہ انسان با کمال انسان ہوتے ہیں جو حقائق کو واضح اور شفاف شکل میں دیکھتے ہیں، پردے

کے پیچھے سے ان کی اصلی شکل دیکھ لیتے ہیں۔


3.حقائق کچھ ہوتے ہیں اور ہمیں کچھ اور دکھائی دیتے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں ؟

جواب Exact

اس کی دو وجوہات ہیں

1. حقیقت کے اوپر غبار چڑھا ہوتا ہے یعنی ہوتی کچھ ہے اور نظریہ کچھ آتی ہے۔

2. حقائق ہر کوئی پردہ یا غبار نہیں ہوتا لیکن دیکھنے والے اپنی آنکھوں پر عینک لگا لیتے ہیں۔ دھوپ کی عینک لگا لیتے ہیں یا طبی عینک لگا لیتے ہیں۔ یعنی اگر انسان دھوپ کی عینک چڑھا لے تو سفید چیزیں سیاہ نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر طبی عینک چڑھا لے تو چھوٹی چیزیں بڑی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ 

اس وجہ سے جب حقیقت دکھائی نہیں دیتی تو ہمارا عکس العمل بھی حقیقت کے خلاف پوتا ہے۔


 یہاں اس دعا کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خداوند تبارک کی بارگاہ سے طلب کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

رب أرنا الأشياء كماهي ..

مجھے حقائق دیسے دکھلا جیسے ہیں۔

اس طرح سے حقائق نظر نہ آئیں جس طرح سے ان کے چہرے پہ غبار چڑھا ہوا ہو اس طرح تو سمجھ 

ہی نہیں آتا ہے کہ کس حقیقت اور کس چیز سے میرا سروکار ہے، کس انسان سے میرا واسطہ ہے۔ میری یہ تمنا ہے کہ میں صاف ، شفاف، واضح اور روشن حقائق دیکھوں ۔ یہ بہت بڑی توفیق ہے انسان کے لیے اور وہ انسان با کمال انسان ہوتے ہیں جو حقائق کو واضح اور شفاف شکل میں دیکھتے ہیں، پردے

کے پیچھے سے ان کی اصلی شکل دیکھ لیتے ہیں۔


4.سیکولرازم کیا ہے؟


جواب. Ok

سیکولرازم کا کام یہ ہے کہ دین جو انسان سے جدا کردے

سیکولرازم کا مطلب ہے کہ حکومت مذہب سے دوری رکھے۔ یعنی کوئی مذہبی جماعت یا عقائد پر حکومتی اثر نہیں ہونا چاہئے۔ ہر شخص کو اپنے مذہبی یا غیر مذہبی اعتقادات کے بارے میں آزادی حاصل ہونی چاہئے۔


5.انسان اپنے متعلق چیز پر کون سے غبار چڑھاتا ہے؟

جواب Exact

جو  چیز انسان سے متعلق ہو جائے وہ انسانی وجود سے  غبار آلود ہوتی ہے۔ انسانی غبار اس کے اوپر چڑھتا ہے۔ انسان کے افکار ، آداب ، تہزیب، تحریف, خرافات، بدعات، اور خواہشات وغیرہ کے غبار انسان کی طرف سے ہر اس چیز پر چڑھ سکتے ہیں اور دین پر ان سارے غباروں نے آلودگی کی تہ چڑھائی ہوئی ہے ہمارے پاس دین کا موجودہ چہرہ غبار آلود ہے۔ کبھی سفر کرتے ہوئے انسان کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار چڑھ جاتا ہے اور بعض غباررا نسان جان بوجھ کر ا پنے چہرے پر چڑھاتا ہے مثلاً دوسروں کو دھوکے میں رکھنے کے لیے چہرے پر غبار مل کے آئینہ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اس معاملے میں صنعتی ترقی نے بھی مدد کی ہے اور ایسی مصنوعات بنائی ہیں جن کی مدد سے انسان انسان کو دھوکا دیتا ہے۔ یہ وہ غبار ہے جو ہم خود اپنے اوپر چڑھاتے ہیں۔ اسی طرح دین بھی ایسی چیز ہے جو غبار آلود ہو گئی ہے۔ اس کے چہرے پر بھی غبار چڑھا دیا گیا ہے چونکہ پہلے دن ہی سے غبار آلود چہرہ دیکھا اس لیے ہمیں معلوم نہیں کہ دین کا اصلی چہرہ کیسا ہے؟ ثقافتی ،  تہذیبی اور خرافات کے غبار انسانوں کے دین کو تحفے ہیں۔ اسی طرح کربلا جیسا واقعہ اور حادثہ جس کا انسانی معاشرہ اور اجتماع سے سروکار ہے وہ بھی انسان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ لہذا انسانی تخیل ، رسومات اور کلچر کا غبار بھی اس قیام پر اور حادثہ پر چڑھا ہوا ہے۔

 یہاں اس دعا کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خداوند تبارک کی بارگاہ سے طلب کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

رب أرنا الأشياء كماهي ..

مجھے حقائق دیسے دکھلا جیسے ہیں۔

اس طرح سے حقائق نظر نہ آئیں جس طرح سے ان کے چہرے پہ غبار چڑھا ہوا ہو اس طرح تو سمجھ 

ہی نہیں آتا ہے کہ کس حقیقت اور کس چیز سے میرا سروکار ہے، کس انسان سے میرا واسطہ ہے۔ میری یہ تمنا ہے کہ میں صاف ، شفاف، واضح اور روشن حقائق دیکھوں ۔ یہ بہت بڑی توفیق ہے انسان کے لیے اور وہ انسان با کمال انسان ہوتے ہیں جو حقائق کو واضح اور شفاف شکل میں دیکھتے ہیں، پردے کے پیچھے سے ان کی اصلی شکل دیکھ لیتے ہیں۔






6.انسانوں نے وقعہ کربلا پر کون سے غبار چڑھاتے ہیں؟

جواب Exact

 دین بھی ایسی چیز ہے جو غبار آلود ہو گئی ہے۔ اس کے چہرے پر بھی غبار چڑھا دیا گیا ہے چونکہ پہلے دن ہی سے غبار آلود چہرہ دیکھا اس لیے ہمیں معلوم نہیں کہ دین کا اصلی چہرہ کیسا ہے؟ ثقافتی ،  تہذیبی اور خرافات کے غبار انسانوں کے دین کو تحفے ہیں۔ اسی طرح کربلا جیسا واقعہ اور حادثہ جس کا انسانی معاشرہ اور اجتماع سے سروکار ہے وہ بھی انسان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ لہذا انسانی تخیل ، رسومات اور کلچر کا غبار بھی اس قیام پر اور حادثہ پر چڑھا ہوا ہے۔

 یہاں اس دعا کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خداوند تبارک کی بارگاہ سے طلب کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

رب أرنا الأشياء كماهي ..

مجھے حقائق دیسے دکھلا جیسے ہیں۔

اس طرح سے حقائق نظر نہ آئیں جس طرح سے ان کے چہرے پہ غبار چڑھا ہوا ہو اس طرح تو سمجھ 

ہی نہیں آتا ہے کہ کس حقیقت اور کس چیز سے میرا سروکار ہے، کس انسان سے میرا واسطہ ہے۔ میری یہ تمنا ہے کہ میں صاف ، شفاف، واضح اور روشن حقائق دیکھوں ۔ یہ بہت بڑی توفیق ہے انسان کے لیے اور وہ انسان با کمال انسان ہوتے ہیں جو حقائق کو واضح اور شفاف شکل میں دیکھتے ہیں، پردے

کے پیچھے سے ان کی اصلی شکل دیکھ لیتے ہیں۔



7.کربلا کے متعلق سہل انگاری سے کیا مراد ہے؟

جواب. Ok


کربلا کے متعلق "سہل انگاری" سے مراد ہے کہ اس اہم واقعے یا حادثے کو آسانی سے حل اور سمجھایا جا رہا ہے، یا اس کی اہمیت کو کم کر دیا جا رہا ہے۔ اسے واقعہ کربلا کے بارے میں بات کرتے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب کوئی شخص یا جماعت اس واقعے کی حقیقتی اہمیت کو نظر انداز کر کے، اس کو صرف ایک تاریخی واقعہ یا ایک دینی جنگ کے طور پر ہدف کرے۔ اس طرح کی سہل انگاری کی وجہ سے اس واقعے کی گہرائی، اس کے سیاسی، عدلیہ، اخلاقی اور دینی ابعاد کو نہیں سمجھا جاتا۔

کربلا کے واقعے کی سہل انگاری کا موضوع انتہائی حساس ہے، کیونکہ یہ امام حسین اور ان کے ہمراہیوں کے قربانی کا واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ میں عمیق عقائدی اور فردی اثرات ڈالے۔ اس لئے اس واقعے کو صحیح سمجھنے کے لیے ہمیں عقلی، علمی اور فکری کوشش کرنی چاہیے۔



8.کربلا فہمی کے سامنے حائل سب سے بڑی دیوار کونسی ہے؟

جواب

.کربلا فہمی کے سامنے حائل سب سے بڑی دیوار ہماری تہذیب، ہمارے رسم و رواج اور ہمارے کلچر کی ہے۔ یہ دیوار ہمارے اور کربلا کے درمیان حائل ہے۔ یہ دیوار آن لوگوں نے کھڑی کی ہے جو کربلا کا دم بھرنے ہیں۔

Extra

 کربلا فہمی کے سامنے حائل دیواریں

ہم نے نہ صرف کربلا کو سمجھنے کے لیے دروازے نہیں کھوٹے ہیں بلکہ جو تھوڑے بہت دروازے کھلے ہوئے تھے ان دروازوں کے سامنے بھی دیواریں چن دی ہیں تا کہ اس طرف کسی کا گزر ہی نہ ہو۔ ہمیں ان بنی ہوئی دیواروں کو گرا کر مکتب کربلا کی طرف دروازے کھولنے کی اور ان میں لوگوں کو لے جانے کی ضرورت ہے تاکہ ان دیواروں کے پیچھے جا کر دیکھیں کہ اصل ماجرا کیا ہے ؟ سب سے بڑی دیوار جو مکتب کربلا کی راہ میں حائل کی گئی ہے اور متاسفانہ یہ ان کی طرف سے ہے جو لوگ کر بلا کا دم بھرتے ہیں۔ نہ ان لوگوں کی طرف سے جو اپنی ذہنی کمزوری، تعصب یا

کسی اور وجہ سے سرے سے کربلا اور عاشورا اسے محروم ہیں۔ ان سے شکوہ کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تعصب یا کسی وجہ سے اصلا ضرورت ہی نہیں سمجھی,  آنکھوں پر پٹی باندھی ہوتی ہے۔ ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی  ہے۔ اب ان کی جو بھی وجوہات ہیں اور اپنی جگہ پر لیکن جن کو خدا تعالی نے توفیق دی ہے اور وہ عاشورا کی طرف آئے ہیں اور ان کے دل میں عاشورا اور کربلا کے لیے ایک جگہ ہے۔ جن کے دلوں میں تنگی ہے انہوں نے خود ہی اپنے سامنے دیواریں خود ہی  اپنے سامنے دیواریں بنالی ہیں اور اپنے لیے کھلے
ہوئے دروازے بند کر دیے ہیں۔

یہاں تک


9.روزنِ دیوار سے کیا مراد ہے ؟

جواب 



*روزن سے مراد*. 

Exact

روزن اس سوراخ کو کہتے ہیں جو دیوار میں دراڑ ہونے سے پیدا ہو جاتا ہے جس سے انسان آنکھ لگا کر اندر کا پس منظر دیکھتا ہے

یہاں روزن دیوار سے مراد ہماری تہذیب، ہمارے رسم و رواج اور ہمارے کلچر کی دیوار ہے


 لفظ حماسہ جو ہے اس کے بارے میں ہے کہ شہید مطہری نے کس کی طرف اشارہ کیا ہے شہید مطہری نے یوم عاشورا  کربلا عاشورا کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انہوں نے حماسہ کربلا کو کلچر کی دیوار سے دیکھا ہے

ذات خدا لوگوں کو توفیق دیتی ہے بعض
 اس توفیق کو ضائع کر دیتے ہیں اور بعض قدردان ہوتے ہیں۔ جو توفیق خدا کے قدردان ہوتے ہیں وہ
اس کلچرل دیوار کے روزن (سوراخ) سے بہت دور تک دیکھ لیتے ہیں۔ خود شہید مطہری ان لوگوں میں سے

ہیں جو روزن دیوار میں سے دور کے افق دیکھنے والی شخصیت ہے۔

وہ بصیرت دیکھی، وہ حماسہ کربلا دیکھا، وہ پیغام کربلا دیکھا، فلسفہ کربلا دیکھا  اور بیان کیا ہے کہ فلسفہ کربلا پیغام کربلا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام اس طریقے سے ہے

یعنی کلچر کی دیوار سے عاشورا کا منظر دیکھا پھر ہمیں منتقل کر دیا

آگر ہم اس روزن دیوار سے دیکھیں گے تو ہمیں کربلا کا پیغام، کربلا کا فلسفہ اور امام حسین علیہ السلام کا پیغام نظر آتے گا 



10. علامہ اقبال نے جوانان عجم سے کیا فرمایا ؟

جواب Exact
اقبال ایرانی جوانوں کو کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک جوان مرد تمہاری طرف آرہا ہے۔ آکر غلامی کی زنجیریں تمہارے پاؤں سے توڑے گا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ آ رہا ہے۔ کہاں سے رکھا علامہ اقبال نے ؟ جس زندان میں سب بند تھے اس دیوار زندان کے روزن سے علامہ اقبال نے دیکھا کہ ایک ایسا انسان آرہا ہے جو تمہارے پاؤں سے تمہاری زنجیریں کھول دے گا شہید مرتضی مطہری کے بارے میں کہا
 
سے ایک تھے۔

11. اقبال نے روزن دیوار سے کیا دیکھا ؟
جواب Exact

ذات خدا لوگوں کو توفیق دیتی ہے بعض
 اس توفیق کو ضائع کر دیتے ہیں اور بعض قدردان ہوتے ہیں۔ جو توفیق خدا کے قدردان ہوتے ہیں وہ
اس کلچرل دیوار کے روزن (سوراخ) سے بہت دور تک دیکھ لیتے ہیں۔ خود اقبال ان لوگوں میں سے

ہیں جو روزن دیوار میں سے دور کے افق دیکھنے والی شخصیت ہے۔ اسی طرح امام خمینی ان عظیم

انسانوں میں سے ہیں، جو بصیرت ان کو حاصل تھی اس کے ذریعے سے آپ نے روزن دیوار سے بہت دور افق تک دیکھا اور اس افق تک لوگوں کی رہنمائی کی کہ اقبال کا ایک معروف شعر امام راحل

امام خمینی  کے بارے میں تھا۔ جوانان جم" کے نام سے ایک فارسی نظم ہے جو اقبال کی بہت حسین و خوبصورت نظم ہے:



چوں چراغِ لالہ سوزم در خیابانِ شما
اے جوانانِ عجم جانِ من و جانِ شما
اے جوانانِ عجم! مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں تمہارے چمن میں لالہ کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں۔​
اس نظم سے روح اقبال کا پتہ چلتا ہے جو روزن دیوار سے دور کا افق دیکھتے ہیں ۔ جب صحابہ کرام  خندق کھود رہے تھے، اس دوران رسول اللہ اس لیے ہم نے پتھر پر ضرب لگائی اور فرمایا کہ یہ فتح ایران و روم ہے۔ یہ وہی  کہ ایک چنگاری و شرر سے بہت بڑا انقلاب دیکھنا، ایک شعاع نوری سے درخشاں افق اور ایک نور عظیم دیکھنا یہ خدائی رہبروں کو اللہ کا ایک ہدیہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس یہ قوت موجود ہوتی ہے 




اسی نظم کے آخر میں علامہ اقبال نے فرمایا کہ


حلقہ گردِ من زنید اے پیکرانِ آب و گل
آتشے در سینہ دارم از نیاکانِ شما
اے آب و گل کے بنے ہوئے لوگو! آؤ میرے گرد حلقہ بناؤ، میرے سینے میں جو آگ جل رہی ہے وہ میں نے تمہارے ہی اجداد سے لی ہے۔​





12. رسول اللہ ﷺ نے خندق کے دوران پتھر پہ ضرب لگاتے ہوئے کیا فرمایا ؟

جواب Exact


جب صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پر ضرب لگائی اور فرمایا کہ یہ فتح ایران و فتح روم ہے۔ 



13. بنو امیہ کربلا کے متعلق کونسا کام نہیں کر سکے جو ہم نے کر دیکھایا ؟

جواب exact 

کربلا کے سامنے عقیدت و احترام اور محبت کی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں ۔ یہ دیواریں کوئی

 نفرت سے نہیں بنائی گئیں ۔ بنوامیہ نے تو دشمنی کی دیواریں قائم کیں جنہیں آسانی سے مسمار کردیا گیا، بنو امیہ کی بنی ہوئی دیواروں نے اصلا کر بلا کو پنہان نہیں کیا۔ بنوامیہ نے بہت کوشش کی کہ عاشور کے دن جشن و عید کا سماں ہو، یہ دیوار انہوں نے بنانے کی کوشش کی لیکن ان سے نہیں بن سکی۔ بنوامیہ نے بہت کوشش کی کہ عاشور کو بدل ڈالیں اور ایک ایسا دن قرار دیں جس میں پیغام یزید لوگوں تک پہنچے لیکن یہ نہیں ہو سکا۔ بنوامیہ حکومت ، اقتدار اور قابض ہوتے ہوئے اس بات پر قادر نہیں تھے کیونکہ نفرت کی بنیاد پر یہ سب کر رہے تھے۔ نفرت کی دیوار عاشورا کے سامنے تعمیر کر رہے تھے جو گرادی گئی بلکہ ان سے یہ دیوار بن ہی نہیں سکی لیکن وہی دیوار جو بنوامیہ سے نہیں بن سکی وہ دوسروں نے آکر محبت کے گارے سے بنادی۔ عاشورا نفرت کی دیوار کے پیچھے نہیں چھپ سکا لیکن محبت کی دیوار کے پیچھے اسے چھپادیا گیا۔ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کسی کو نفرت کے ساتھ پنہان کر دیں یا محبت کے ذریعے، دشمنی کے ساتھ پنیان کر دیں یا ہمدردی کی بنا پر ۔ بسا اوقات ہوتا ہے کسی سے نفرت ہے ہم اسے نہیں دیکھتے۔ اسی طرح بعض اوقات ہمدردی کے تحت کہتے ہیں کہ یہ گھر میں میں رہے اور باہر نہ آئے۔ یہی ہمدردی کربلا کے ساتھ کی کہ جس کا نتیجہ وہ نکلا جو بنو امیہ  چاہتے تھے یعنی فلسفہ
کربلا و مقصد کربلا کو ان دیواروں کے پیچھے پنہان کر دیاگیا۔

14. شہید مطہری نے روزن دیوار سے کربلا کا کیا منظر دیکھا؟

جواب۔ Exact


 شہید مطہری نے بھی ایک روزن سے کر بلا و عاشورا کا منظر دیکھ لیا۔ کتنی عمیق نگاہ تھی کہ ایک  سوراخ سے سب کچھ دیکھ لیا اور دیکھ کر پھر ہمیں منتقل کیا اور اس کا نام رکھا 'حماسہ حسینی" ۔ شہید کو کر بلا میں حماسہ نظر آیا۔ کر بلا یعنی "حماسہ" کلچر کی دیوار کے پیچھے سے دیکھیں یا دیوار پہ لگے ہوئے کلچرل آئینوں میں دیکھیں تو مکمل ہندوستانی تہذیب کربلا میں نظر آتی ہے۔ لیکن اگر آپ اس روزن دیوار

سے دیکھیں تو وہاں حقیقی کربلائے حسین ابن علی علیہ السلام نظر آتی ہے۔


15. حماسہ کربلا کے متعلق ذہنیت کو بدلنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب. Exact

. حماسہ کربلا کے متعلق ذہنیت کو بدلنا کیوں ضروری ہے ؟

حماسہ کربلا کے متعلق ذہنیت کو بدلنا اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کو ان کی اصلی حالت میں دیکھ سکیں کیونکہ حماسہ کربلا کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط نظریات ہیں:

1. امت کے گناہوں کا کفارہ

2. تقدیر کا لکھا ہونا

3. حصول ثواب کے لئے


فصل اول

 سوال نمبر 16۔ قرآن مجید نے بنی اسرائیل کے اچھے اور برے دنوں کو کیسے یاد
کیا؟

32  to 33

سوال نمبر 17 قرآن اور کلچر میں لکر اؤ ختم کرنے کی کتنی صورتیں ہیں؟ 

34

سوال نمبر 18۔ نسبی آباء و اجداد  کے علاوہ اور کون سی چیزیں اجداد میں شامل
ہیں؟

35

سوال نمبر 19 کربلا کو سمجھنے کیلئے خود کو بدلنا کیوں ضروری ہے؟

حماسہ کربلا کے متعلق ذہنیت کو بدلنا اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کو ان کی اصلی حالت میں دیکھ سکیں کیونکہ حماسہ کربلا کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط نظریات ہیں:

1. امت کے گناہوں کا کفارہ

2. تقدیر کا لکھا ہونا

3. حصول ثواب کے لئے



سوال نمبر 20 : قیام امام حسین کی تین باطل تفاسیر بتا ئیں۔

جواب


1. امت کے گناہوں کا کفارہ

2. تقدیر کا لکھا ہونا

3. حصول ثواب کے 

36  to 38

سوال نمبر 21 نظریے کو بے وقعت کرنے کے طریقے اور اس کا حل لکھیں۔

جواب

کسی بھی نظریے کو بے وقعت کرنے کا طریقہ



کسی بھی چیز کو لا یعنی بنانے کے لیے اس کی ایک ایسی غیر معقول تفسیر کر دیں تو وہ خود ہی لوگوں کی نظر سے گر جاتی ہے مثلا نمونے کے طور پر ہمارے ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے، قانون نامی چیز کتابوں میں تو ہے لیکن عملاً معاشرے میں نہیں ہے، کوئی بھی اس کا احترام نہیں کرتا ، نہ متند یقین قانون کا احترام کرتے ہیں نہ غیر متدین کرتے ہیں نہ قانون نافذ کرنے والے قانون کا احترام کرتے ہیں اور نہ جن پر نافذ ہوتا ہے وہ قانون کا احترام کرتے ہیں ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ بے معنی چیز قانون ہے، باقی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی حیثیت ہے لیکن قانون کی کوئی حیثیت نہیں یعنی بلا امتیاز سب کے نزدیک حتی قانون بنانے والے بھی اس جرم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں ۔ قانون کی جتنی بے احترامی قانون بنانے والے کرتے ہیں اتنی دوسرے نہیں کرتے ، جس کو بھی فرصت ملتی ہے، جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ قانون کی بے حرمتی سے دریغ نہیں کرتا ۔


سوال نمبر 22 گریہ کی اقسام لکھیں۔

46 to 38

کے سوال نمبر 23 شعیت کے خلاف عالمی طاقتیں کیسے سازشیں کر سکتی ہیں؟ مثال لکھیں۔

50 to 51








تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات