آخری پانچ PDFs اور ان کے سوالات اور ان کے جوابات

 


آخری پانچ PDFs سوالات اور ان کے جوابات

 دسویں پی ڈی ایف:  👈 شرائط و علائم ظہور



سوال نمبر 1: یہ کہ منتظرین کا اہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر شمار کیا گیا ہے اس کی دلیل کی وضاحت کریں؟

جواب 
حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ہو رہا ہے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، ہوا و ہوس کی بنا پر تفسیر کی جا رہی ہے، اہل باطل، حق پرستوں پر سبقت لے رہے ہیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ہو رہے ہیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رہی ہے، نیکیوں کا راستہ خالی ہو رہا ہے اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، حلال، حرام ہو رہا ہے اور حرام، حلال شمار کیا جا رہا ہے، بہت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناہوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جا رہا ہے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ہے، نا درست کھیل اس قدر رائج ہو چکے ہوں کہ کوئی بھی انکی روک تھام کی جرا ت نہیں کرتا، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ہے، ریاکاری کےلئے خانہ خدا کا حج کیا جا رہا ہے، لوگ سنگدل ہو رہے ہیں، (محبت کا جنازہ نکل رہا ہے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، ہر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ہو رہی ہے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ہو رہے ہیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا کہ ظہور کا زمانہ نزدیک ہے۔ (کافی، ج ۷، ص ۸۲)

البتہ ظہور سے پہلے کی یہ سیاہ تصویر اکثر لوگوں کی ہو گی، کیونکہ اس زمانہ میں بھی بعض مومنین ایسے ہوں گے جو خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پیمان پر باقی ہوں گے اور اپنے دینی عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوں گے وہ زمانہ کے رنگ میں نہیں رنگے جائیں گے اور اپنی زندگی کا انجام برا نہیں کریں گے، یہ افراد خداوند عالم کے بہترین بندے اور آئمہ علیہم السلام کے سچے شیعہ ہوں گے جن کے بارے میں روایات میں مدح و تعریف ہوئی ہے، یہ لوگ خود بھی نیک ہوں گے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوں گے، کیونکہ وہ اس بات میں بہتری سمجھتے ہیں کہ نیکیوں اور خوبیوں کو رائج کرنے اور ایمان کے عطر سے ماحول کو خوشگوار بنانے سے نیکیوں کے امام کا ظہور جلد ہو سکتا ہے اور ان کے قیام اور حکومت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ برائیوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب مصلح اور موعود کے ناصر و مددگار ہوں۔

اور ہمارا پیش کردہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل برعکس ہے جس میں برائیوں کے پھیلانا ظہور میں جلدی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ کیا واقعاً یہ بات قابل قبول ہے کہ مومنین برائیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کریں تاکہ معاشرہ میں برائیاں پھیلتی رہیں اور اس طرح امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا راستہ فراہم ہو؟ کیا نیکیوں اور فضائل کا رائج کرنا امام علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کا سبب نہیں قرار پائے گا؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فرض ہے جو ہر مسلمان پر یقینی طور پر واجب ہے جس کو کسی بھی زمانہ میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لئے برائیوں اور ظلم و ستم کو پھیلانا کس طرح سبب بن سکتا ہے؟جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:”اس (مسلمان) اُمت کے آخر میں ایک ایسی قوم آئے گی جن کا اجر و ثواب صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہو گا، وہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیتے ہوں گے اور فتنہ و فساد اور برائیوں کا مقابلہ کرتے ہوں گے“۔ (معجم احادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج۱، ص ۹۴)


جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ دُنیا ظلم و ستم سے بھر جائےگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان ظالم بن جائیں گے بلکہ خدائی راستہ پر چلنے والے موجود ہوں گے اور مختلف معاشروں میں اخلاقی فضائل کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہٰذا ظہور سے قبل کا زمانہ اگرچہ ایک تلخ زمانہ ہوگا لیکن ظہور کے شیرین زمانہ پر ختم ہو گا، اگرچہ وہ ظلم و ستم اور برائیوں کا زمانہ ہو گا لیکن اس زمانہ میں پاک رہنا اور دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا منتظرین کا لازمی فریضہ ہو گا، اور قائم آل محمد علیہم السلام کے ظہور میں براہ راست مو ثر ہو گا۔ اس حصہ کو حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے کلام پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:”ہمیں اپنے شیعوں سے کوئی چیز دور نہیں رکھتی مگر ان کے (برے) اعمال جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہم ان اعمال کو پسند نہیں کرتے اور ان کے لئے ایسا مناسب بھی نہیں سمجھتے ہیں“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۲۰۶)


سوال نمبر 2: روایت کی رو سے ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق بیان کریں؟


جواب:


شرائط اور علامات میں فرق کیا ہے شرائط تو وہ ہیں کہ جس پر ظہور موقوف ہو یعنی جب تک یہ شرط یہ سبب نہیں وجود میں آئے پہلا ظہور بھی نہیں ہوگا بس شرائط یعنی جس پر ظہور موقوف ہے پہلے شرط پھر مشروط پہلے سبب پھر مسبب اور علامات ظہور سے مراد ایسے واقعات ہیں کہ جن کے ذریعے ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ جس ہستی نے ظہور کیا ہے یہ مہدی حق ہے یعنی علامہ جو ہیں یہ صحیح ظہور صحیح مہدی اور جھوٹے مہدی کے درمیان تشخیص کا ذریعہ ہے پوری تاریخ میں کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے جھوٹے دعوے کیے اس وقت علماء نے جو ہیں وہ علامات جو ہیں پوچھیں اور علامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رد کیے تو اج بھی جو ہے اگر کوئی مہدی ہونے کا دعوی کرے تو ہم دیکھیں گے علامات تو نہیں ائی بس یہ جھوٹا ہے تو مولا کے ظہور سے پہلے یہ علامہ ظاہر ہوں گے ہوں گے تو یہ ڈیڑھ سال کے ہی دورانیہ میں لیکن اس سے پتہ چلے گا کہ اب جس نے انا ہے وہ حقیقی مہدی پس اگر ہم بطور کلی اپنی گفتگو کو سمیٹیں تو یوں کہیں گے کہ علامات ظہور کی کاشف ہے لیکن شرائط جو ہیں یہ ظہور کو وجود میں لانے والی ہیں پھر علامت لازم نہیں ہے ایک ہی زمانے میں ہو کوئی اول میں ہوگی وہ درمیان میں ہوگی کوئی اخر میں ہوگی لیکن شرائط ساری اکٹھی ہوں گی تو ضرور ہوگا سب اسباب اکٹھے ہوں گے تو مسبب ہوگا تیسری چیز جو ہے ممکن ہے علامتوں کا اپس میں تعلق نہ ہو ایک صوفیانی کا خروج ہے ایک یمنی کا پی ہم ان کا پس میں تعلق نہیں ایک اسمانی اواز ہے ایک حسب ڈاٹا لیکن شرائط اپس میں جڑی ہوئی ہیں وہ اکٹھی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایک علامت ظاہر نہ ہو مثلا پانچ علامتیں ہیں ممکن ہے چار ظاہر اور پانچویں ظاہر نہ ہو ایک علامت ختم ہو جائے لیکن شرائط ساری ہوں گی تو ظہور ہوگا اور یہ بھی ہے کہ علامتیں جو ہیں یہ ساری کابل شناخت ہیں ہم ان کو سمجھیں گے ان کا پتہ چلے گا لیکن شرائط ممکن ہے ابھی ہوں لیکن ہمیں پتہ نہ ہو مثلا جیسے ممکن ہے مولا کے 313 ناصر ہوں ہمیں پتہ نہ ہو تو یہ چند ایک بنیادی فرق ہے ان کو اگر ہم اپنے ذہن نشین کریں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہم بس ہر چیز علامت نہیں ہے علامتیں وہی ہیں جو روایات میں ہیں اور ان کی یہ صورتحال ہے کہ یہ لازمی نہیں ہے اکٹھی ائی پی در پہ ائیں گے ہو سکتا ہے باز ائیں باز نہ ائیں لیکن اصل وہ چیز جو ہے جس پہ ظہور موقوف ہے وہ علامتیں نہیں ہیں علامتیں اسی وقت ظاہر ہوں گی جب ظہور ہونے والا ہوگا ظہور ہماری تیاری پہ یا شرائط پہ اس میں ایک ناصروں کا وجود ہے مسئلہ 313 جو ناصر ہیں خاص ان کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے



سوال نمبر 3: ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟

جواب: 
رہبری


ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند ہونا چاہیے۔

عالمی پیمانہ پر ظلم و ستم سے مقابلہ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار کرنے کے لئے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے کہ جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کر سکے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام جو انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کے ماحصل ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اورموجود ہیں۔ صرف وہی ایک ایسے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابطہ کی وجہ سے کائنات کی ہر شئے اور اس کے تمام روابط سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانہ کے سب سے عظیم عالم ہیں۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”آگاہ ہو جاﺅ کہ مہدی علیہ السلام تمام علوم کا وارث ہو گا، اور تمام علوم پر احاطہ کئے ہو گا“۔ (نجم الثاقب، ص ۳۹۱)

وہ ایسے واحد رہبر ہیں جو ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوں گے اور صرف ان کا دل پروردگار عالم کی مرضی کے تحت ہو گا۔ لہٰذا آپعلیہ السلام عالمی انقلاب اور حکومت کے رہبر اور قائد کے لحاظ سے بھی بہترین شرائط کے حامل ہوں گے۔


سوال نمبر 4: ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟

جواب 




عام طور پر تیاری،عام لام بندی


آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں مختلف مواقع پر اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوگ امام کے حضور سے بہتر فائدہ اُٹھانے کے لئے لازمی تیاری نہیں رکھتے تھے، کسی بھی زمانہ میں امام معصوم علیہ السلام کے پرنور حضور کے فیض کی قدر نہیں کی گئی اور ان کے چشمہ ہدایت سے مناسب فیض حاصل نہیں کیا لہٰذا خداوند عالم نے اپنی آخری حجت کو پردہ غیب میں بھیج دیا تاکہ جب ان کو قبول کرنے کے لئے سب تیار ہو جائیں گے تو امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اوراس وقت الٰہی تعلیمات کے سرچشمہ سے سب سیراب ہوں گے۔ اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ اور تیار رہنا اہم شرائط میںسے ہے کیونکہ اسی تیاری کی وجہ سے امام علیہ السلام کی اصلاحی تحریک مطلوبہ مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔

قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں جو اپنے زمانہ کے ظالم و جابر حاکم ”جالوت“ کے ظلم و ستم سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا تھا، اس نے اپنے زمانہ کے بنی سے درخواست کی کہ ان کے لئے ایک طاقتور سردار لشکر کا انتخاب کریں تاکہ اس کے فرمان کے تحت جالوت سے جنگ کر سکیں۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

﴾اَلَم تَرَ اِلَی ال مَلَائِ مِن بَنِی اِس رَئِیلَ مِن بَع دِ مُو سٰی اِذ قَالُو الِنَبِی لَہُم ابعَث لَنَا مَلِکاً نُقَاتِل فِی سَبِی لِ اللّٰہِ قَالَ ہَل عَسَب تُم اِن کُتِبَ عَلَی کُم الَقِتَالُ اَلاِّ تُقَاتِلُو ا وَ مَا لَنَا اَلاَّ تُقَاتِلَ فِی سَبِی لِ اللّٰہِ وَ قَد اُخ رِج نَا مِن دِیَارِنَا وَ اَب نَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَی ہِم ال قِتَالُ تَوَلَّو اِلاَّ قَلِیلاً مِن ہُم وَ اللّٰہُ عَلِی م بِالظَّالِمِی نَ۔﴿ (سورہ بقرہ، آیت ۶۴۲)

”کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطہ ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہاد واجب ہو جائے اور تم جہاد نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیونکر جہاد نہ کریں گے جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوں سے ہمیںالگ نکال باہر کر دیا گیا اس کے بعد جب جہاد واجب کر دیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور اﷲ ظالمین کو خوب جانتا ہے“۔

جنگ کے لئے سردار منتخب کرنے کی درخواست ایک طرح سے اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ وہ آمادہ اور تیار ہیں اگرچہ راستہ میں ایک کثیر تعداد سست پڑ گئی اور بہت کم لوگ میدان جنگ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی اسی وقت ہو گا جب سب لوگوں میں اجتماعی عدالت،۱خلاقی اور نفسیاتی امنیت اور معنویت کے رشد و نمو کے طلبگار پیدا ہو جائیں گے، جب لوگ ناانصافی اور قبیلہ پرستی سے تھک جائیں گے، جب ضعیف اور کمزور لوگوں کے حقوق صاحب قدرت اور صاحب مال و دولت کے ذریعہ پامال ہوتا دیکھیں گے اور مال و دولت صرف کچھ خاص لوگوں کے قبضہ میں دیکھیں گے، جبکہ اسی موقع پر کچھ لوگوں کے پاس رات میں کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ہو گی، ایک دوسرا گروہ اپنے لئے محل بناتا ہوا نظر آتا ہو گا اور اپنی محافل میں بہت زیادہ خرچ اور ایسے ایسے کھانے اور آرام و سکون کے ایسے ایسے سامان مہیا کئے جائیں گے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہوتی ہوںگی، تو ایسے موقع پر عدالت طلبی کی پیاس اپنے عروج پر ہو گی۔

جب مختلف برائیاں معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہوں اور برائی انجام دینے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہو بلکہ اپنے بُرے کاموں پر فخر کیا جا رہا ہو، یا انسانی اور الٰہی اصول سے اس طرح دُوری اختیار کی جار رہی ہو کہ غفلت اور پاکدامنی کے بعض مخالف کاموں کو قانونی شکل دی جا رہی ہو جس کے نتیجہ میں گھریلو نظام درہم برہم ہو جاتا ہو، اور بے سرپرست بچے معاشرہ کے حوالہ کئے جاتے ہو تو اس موقع پر ایسے رہبر کے ظہور کا اشتیاق بہت زیادہ ہو جائے گا جس کی حکومت اخلاقی اور نفسیاتی امنیت اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور جس وقت انسان تمام مادی لذتوں سے ہمکنار ہو لیکن اپنی زندگی سے راضی نہ ہو اور ایسی دُنیا کی تلاش میں ہو جو معنویت سے لبریز ہو، تو ایسے موقع پر انسان لطف امام کے آبشار کا پیاسا ہو گا۔

ظاہر سی بات ہے کہ امام علیہ السلام کے حصور کو سمجھنے کا شوق اس وقت عروج پر ہو گا کہ جب بشریت اپنے ذاتی تجربہ سے مختلف انسانی حکومتوں کے کارناموں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائے گی کہ دُنیا کو ظلم و ستم، تباہی اور برائیوں سے نجات دینے والا زمین پر الٰہی خلیفہ اور جانشین حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور انسانیت کے لئے پاک و پاکیزہ اور بہترین زندگی عطا کرنے والا منصوبہ صرف اور صرف الٰہی قوانین میں ہے لہٰذا اس موقع پر انسانیت اپنے پورے وجود سے امام علیہ السلام کی ضرورت احساس کرے گی اور اس احساس کی وجہ سے اس کے ظہور کے لئے راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرے گی نیز اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرے گی اور یہ اسی وقت ہو گا جب فرج اور ظہور کا موقع پہنچ جائے گا۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) آخر الزمان اور ظہور سے قبل کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومن کو جائے پناہ نہیں ملے گی تاکہ ظلم و ستم اور تباہی سے نجات مل جائے، پس اس وقت خداوند عالم میری نسل سے ایک شخص کو بھیجے گا“۔

(عقد الدرر، ص ۳۷)


سوال نمبر 5: روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات میں سے کوئی چار علامات کو روایات کے ساتھ بیان کریں؟


جواب



ظهور امام مهدی ؑکی حتمی علامات


منجیٔ عالم مهدئ آخر زمان(عج)
 

ظهور امام مهدی ؑکی حتمی علامات
جب حضرت بقیة الله الاعظم امام زمان ؑغیب کے پرده سے تشریف لائیں گے تو اس وقت کے علائم اور نشانیاں جو ائمۀ معصومین علیهم السلام کی طرف سے بیان هوئی هیں وه درج ذیل هیں ۔ ان علامات کے ساتھ جو هم ترتیب وار بیان کریں گے، قدرت ومنشاء الٰهی بھی شامل هے اور مرضیئ الٰهی یه هے که جب اس کی مرضی هوگی انکا ظهور هوگا۔
بعض علامات اپنے طبیعی مسیر کے مطابق خود بخود واقع هوئی هیں جن میں خدا وند متعال کا کوئی دخل نهیں هے مثلاً انحرافات فکری، انحرافات ثقافتی اور انحرافات عملی وغیره ، یه طبق مرور زمان خود بخود واقع هوتی هیں ۔
جو امام زمان ؑکے ظهور کی علامات سمجھی جاتی هیں ۔ ان میں چاند کا مهینے کی آخری تواریخ میں گرهن لگنا اور سورج کا وسط ماه میں گرهن لگنا وغیره شامل هیں ۔مگر وه علائم جو ظهور پر نور کے نزدیک واقع هوں گی ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا هے۔
مثال کے طور پر ظهور کے بالکل نزدیک اور ظهور سے متصل قتل نفس ذکیه کا واقع هونا۔
دوسری علامات حضرت امام مهدی ؑکے ظهور سے کافی عرصه پهلے بنی عباس کے درمیان اختلاف وجود میں آنا وغیره۔
تیسری تقسیم بندی کچھ اس طرح هے:۔
وه علائم جن کا واقع هو نا حتمی هے یا جن کے واقع هونے میں کوئی خدشه وارد نهیں هو سکتا هے یه وه حوادث هیں جو احادیث کے ذریعه هم تک پهنچے هیں ممکن هے که بداء حاصل هو جائے یا بداء حاصل نه هو ۔(1)
هماری بحث ان علائم میں هو رهی هے جو حتمی هیں جو روایات کی روشنی میں پانچ یا چھے علائم میں منحصر هیں ۔
حضرت امیر المؤمنین ؑنے فرمایا:۔
(قال مولانا امير المؤمنين عليه السلام: من المحتوم الذی لا بُدّ منه ان يکون قبل القائم: خروج السفيانی، وخسف با لبيداء وقتل الذ کيه والمنادی من السماء و خُرُجُ اليمانی)
مولا امیرالمؤمنین ؑنے فرمایا: وه نشانیاں جو قائم سے پهلے ظاهر هوں گی اور جن کے واقع هونے میں کوئی شک و شبه نهیں ( یه وه بات هے جو قطع و یقین پر مبنی هے) وه یه هیں : خروج سفیانی، زمین کا دھنس جانا ، قتل نفس ذکیه ، نداء آسمانی اور یمانی کا خروج ۔
..............
(1) یہ سورہ رعد کی آیۃ 49کی طرف اشارہ ہے


١۔ خروج سفیانی


سفیانی ان لوگوں میں سے هے جو حضرت امام زمان ؑکے ظهور کے موقع پر باطل کے طور پر سامنے آئے گا جو خون آشام اور قتل و غارت میں مشهور هو گا۔ وه حق و حقیقت کی مکمل طور پر مخالفت کرے گا اس سے خداوند عالم نے قرآن مجید میں لوگوں کو خبردار کیا هے۔ یه بات محققین اور محدّثین کے درمیان یقینی هے که اس شخص کا نام اس لئے سفیانی رکھا گیا هے که یه شقاوت و بدبختی اور پلیدی کے لحاظ سے ابو سفیان جیسا هو گا۔ سفیانی کی نسبت ابو سفیان ملعون و پلید اور اس کی بیوی ھنده جگر خوارۀ حضرت حمزه سید الشهداء سے هے اسی لئے اس ملعون اور بدبخت انسان کا نام سفیانی رکھا گیا هے۔حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے هیں : یه شخص حد سے زیاده انسانوں کے جگر کھائے گا اوراس کے بعدصحرا کی طرف نکل جائے گا۔
(1)اس کا اصلی نام عثمان اور باپ کا نام عتبه هو گا اور وه ابوسفیان کی اولاد میں سے هے۔ جب بھی کسی ایسی سرزمین پر پهنچے گاجو هموار اور اس کا پانی صاف و شفاف هوگا وهاں پر ٹھهرے گا ۔
یه ملعون ابتداء میں شهر دمشق ، حمص ، فلسطین ، اردن اور قنسرین کو اپنے قبضه میں لے لے گا، لوگوں کا قتل عام کرنے کے بعد کوفه، بغداد، نجف اور مدینه پر حمله کرے گا اور یه ملعون شیعوں کا اس قدر سخت ترین دشمن هے که جو کوئی بھی کسی شیعه کا سر تن سے جدا کر کے لائے گا اسے بڑے بڑے انعامات سے نوازے گا۔ آخر کار سرزمین بیداء جو (مکه و مدینه کے درمیان هے) میں سفیانی کے لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ اور خود سفیانی حضرت امام زمان ؑکے لشکر کے هاتھوں بیت المقدس میں قتل هو جائے گا۔
..............
(1) کمال الدین ؛ج2، ص 651 ، اعلام الوری ، ص 421
٢۔ لشکر سفیانی کا سرزمین بیداء میں دھنس جان


٣۔ صیحۀ آسمانی


صیحه اس وقت واقع هو گی جب پوری دنیا اختلاف اور جھگڑوں میں گھر جائے گی، تفرقه و جدائی نے سایه کیا هو گا اسوقت ایک آسمانی آواز سب کے کانوں سے ٹکرائے گی اس کے بعد ایک پنجه ظاهر هوگا۔اس طرح پورے طور پر صیحۀ آسمانی پھیل جائے گي۔
حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے هیں :۔
( ثُمَّ لا يستقم امر الناس علی شیء ولا يکون لهم جماعة، حتیٰ ينادیَ منادٍ من السماء عليکم بغلان وتطلع کفّ تشير)(1)
..............
(1)اللام ولافتن ؛ص 48، روزگار ھائی؛ ج2، ص 867
اس وقت لوگوں کی اصلاح هر گز نهیں هو گی اور مسلمان هر گز ایک مرکز پر جمع نهیں هو سکیں گے۔ اس وقت منادی آسمان سے آواز دے گی۔ اس کی طرف دوڑئے اس سے د ور نه هو جائیں اس وقت ایک پنجه آسمان سے ظاهر هو جائے گا اور امام زمان ؑکی طرف کرے گا اس طرح صیحه کے وقوع کو سب مان لیں گے۔
اس صیحه کا مطلب کیا هے؟ کیا بے مقصد آواز هو گی؟
یه ایک ایسا پیغام هے جس میں حکم الٰهی پوشیده هے!
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
(اذا کان عنده خروجِ القائمِ ينادی من السماء!)
(ايهاالنّاس، قطع ، عنکم مدّه الجبارين و ولی الامر خير امّة محمدٍ ، فالحقوا مکّة ) (1)
جب قائم کا ظهور هوگا اس وقت آسمان سے نداء دی جائے گی : اے لوگو! خداوند عالم نے ستمگروں کی مهلت کو آخر تک پهنچا دیا هے اور امت محمدؐ کو بهترین امام عنایت کیا هے اپنے آپ کو جلد از جلد مکۀ مکرمه میں اس کے پاس پهنچا دو!
یه واقعه شب جمعه، نماز صبح کے بعد ماه مبارک رمضان کی 23تاریخ کو رونما هو گا۔
..............
(1) بحار الانوار جلد 52 ،ص404


٤۔ نفس ذکیه


١۔ نفس ذکیه کا قتل اور حضرت امام مھدی عجل الله فرجه الشریف کے ظهور میں صرف 15دن کا فاصله هو گا۔
٢۔ نفس ذکیه وهی هے جو رکن و مقام کے درمیان قتل هو گا۔
٣۔ نفس ذکیه بعنوان سفیر امام زمان ؑمکه میں جائیں گے۔ تاکه حضرت امام زمان ؑکے پیغام کو مکه والوں تک پهنچائیں مگر انهیں اسی وقت رکن و مقام کے درمیان کو شهید کیا جائے گا۔
٤۔ نفس ذکیه رکن و مقام کے درمیان حضرت امام زمان ؑکے ظهور سے پندره (15)دن پهلے شهید هو جائیں گے آپ کا نام محمدؑ اور والد گرامی کا اسم گرامی حسنؑ هو گا آپؑ حضرت امام حسین ؑکی نسل سے هونگے۔


5. خروج یمانی


حضرت امام صادق ؑخروج یمانی کے بارے میں یوں فرماتے هیں :۔
(خروجُ رجل من ولد عمّی زيد با ليمن) (1)
یه وه شخص هو گا جو همارے چچا زاد بھائی زید شهید کی اولاد میں سے هو گا جو یمن میں خروج کریں گے۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
(خروج الثلاثه:السفيانیّ ُ والخراسانیُّ واليمانیُّ فی سنة واحدة ، فی شهر واحدٍ ، فی يوم واحد ، وليس فيها من راية اھدایٰ من راية اليمانی ، لانّه يدعو الیٰ الحق) (2)
تین جھنڈے ایک هی سال ایک هی مهینه، ایک هی دن میں خروج کریں گے۔ سفیانی ، خراسانی ، یمانی. ان کے درمیان میں سے صالح اور صحیح تر یمانی کے علاوه کوئی نهیں هو گا وه لوگوں کو حق کی طرف بلائے گا۔
روایات کهتی هیں :۔ـیمانی، سفیانی سے لڑتے هوئے عراق میں داخل هو گا یمانی، خراسانی کی فوج کی مدد سے سفیانی کی فوج سے لڑے گا۔
روایات اس بات پر دلالت کرتی هیں که یمانی کا لشکر خراسانی کے لشکر کو اپنی کمانڈ میں رکھے گا ۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سپاه خراسان کی تعریف میں فرماتے هیں :
(فتخرج راية هدي من الکوفة، فتلحق ذٰلک الجيش فيقتلونهم لا يفلِتَ منهم مُخبِرُ ويستنقذون مافی ايديهم من اسّبی ولغنائم) (3)
هدایت کا پرچم کوفه سے خارج هو گا اور اس سپاه (سفیانی )کا پیچھا کر کے سبھی افراد کو قتل کرے گا۔ یها ن تک که ان کا ایک فرد بھی نهیں بچے گااورجوکچھ بھی ان کے پاس هوگا غنیمت کے طور پر اپنے قبضه میں لے لے گا اور لوگوں کو اسیر بنا لے گا۔
..............
(1) نور الابصار؛ ص 179 ، بشارالاسلام ؛ص 175
(2) بحارالانوار؛ ج52، ص210
(3) مجمع البیان ؛ ج 8،ص498


خروج سید حسنی


روایات میں هے که سید حسنی وه شخص هے که جو شهر ری سے خراج کرے گا اس کا اصل نام شعیب بن صالح هے اصالتاً قبیله بنی تتمیم سے تعلق رکھتا هو گا۔
یه شخص گندمی رنگ اور تنومند هوگا، بنام شعیب بن صالح ،وه چا رهزار افراد کے ساتھ اس حالت میں نکلیں گے که انکے لباس سفید اور جھنڈا سیاه رنگ کا هوگا۔ درحقیقت ان کا خروج ظهورِ امام مهدی ؑکے لئے مقدمه الجیش کی حیثیت رکھتا هوگا ،جوبھی ان کے سامنے آئے گا ماراجائے گا ۔
شعیب بن صالح کی تعریف میں حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :
(يخرج علی لواء المهدی غلام حديث السنَّ خفيف الحيه، اصفر ، لو قاتل الجبال لهزَّ ها حتیّٰ ينزل ايليا)(1)
یه ایک نوجوان هوگا هلکی داڑھی ، گندمی رنگ کا حامل هو گا۔ اگر پهاڑ بھی اس کے مقابل آجائیں تو پاش پاش هو جائے گا یه سید حسن آگے بڑھتے هوئے بیت المقدس تک پهنچ جائیں گے۔
یه شخص حضرت امام مهدی عجل الله تعالیٰ فرجه الشریف کا علمبردار هو گا۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم ان کے بارے فرماتے هیں :۔
(ورود الرايات السود مِن خراسان ، حتّيٰ تنزل ساحلَ دجله)
اس کا لشکر کا اصل مقصد اور هدف ارض مقدس کو دشمنوں سے پاک اور صاف کرنا هے۔
خراسانی لشکر اپنے اصل هدف سے کبھی غافل نهیں هوگا۔ یهاں تک که وه بیت المال مقدس کو دشمنوں سے پاک کرنے کے بعد دجله اور فرات تک پهنچ جائے گا۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
سیاه پرچم خراسان سے برآمد هو کر دجله اور فرات میں داخل هو گا۔
حضرت امام محمد باقر ؑفرماتے هیں :۔
اس مقدس لشکر کے ساتھ ایرانی شیعه اور مستضعف افراد خروج کریں گے اور هدایت کے پرچم کو لے کر نخیله کی طرف جائیں گے، اس دن لوگ حق پر جمع هو ں گے اور تیس لاکھ افراد مارے جائیں گے۔
حضرت امیر المؤمنین ؑاس وقت کے حالات سے لوگوں کو باخبر کرتے هوئے فرماتے هیں :
(اذا رأيتم الريات السود فالز مواالارض لا تحرکوا ايديکم ولا ارجلکم ثم يظهر قوم صغارٌ لا يوبه لهم)
جب تم سیاه پرچم دیکھو تو اس وقت زمین پر لیٹ جاؤ اور اپنے هاتھ پاؤں بالکل نه هلاؤ پھر ایک چھوٹا سا گروه ظاهر هوگا جو بالکل مورد اعتماد اور توجه کے قابل نهیں هوگا۔
..............
(1) والملاح و الفتن؛ ص 53


جواب سوال نمبر 5



 

علامات ظہور



وہ نشانیاں یا امور جو دنیا میں امام زمان علیہ السلام کے ظہور کو بیان کریں انہیں علائمِ ظہور یا علامات ظہور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


فہرست مندرجات
۱ - ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
۲ - علاماتِ ظہور کی اقسام
       ۲.۱ - حتمی نشانیاں
              ۲.۱.۱ - آسمانی گونج دار پکار
              ۲.۱.۲ - سفیانی کا خروج
              ۲.۱.۳ - زمین کا دھنس جانا
              ۲.۱.۴ - نفس زکیہ کا قتل ہونا
              ۲.۱.۵ - یمانی کا آنا
       ۲.۲ - دجال
       ۲.۳ - غیر حتمی نشانیاں
۳ - علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
۴ - حوالہ جات
۵ - مأخذ

ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
[ترمیم]

ظہورِ امام زمان ؑ کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق ہے۔ ذیل میں چند اہم فرق پیش خدمت ہیں:
۱۔ ظہور کا شرائط سے ایک حقیقی و منطقی اور واقعی ربط و تعلق ہے؛ یعنی ظہور اس وقت ہو گا جب ظہور کی شرائط اور اسباب فراہم ہو جائیں۔ جبکہ علاماتِ ظہور اس طرح سے نہیں ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ ظہور کی علامات آشکار نہ ہوں لیکن ظہور ہو جائے جبکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ظہور کی شرائط مہیا نہ ہو اور ظہور ہو جائے۔ بعض علاماتِ ظہور جیسے نفس زکیہ کا قتل ظہور سے پہلے واقع ہو گا اور یہ شرائطِ ظہور کے مہیا ہونے میں مؤثر ہے؛ لیکن اس معنی میں نہیں کہ یہ امام زمان ؑ کے ظہور کی شرط ہے۔

۲۔ جب ظہور کی تمام شرائط فراہم ہو جائیں اور شرائط مکمل ہو جائیں تو امام زمان کا ظہور ہو گا۔ لہذا ظہور کے وقت تمام شرائط موجود ہوں گی۔ جبکہ علاماتِ ظہور میں ایسا ہونا ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ بعض علامات امام زمان ؑ کے ظہور سے پہلے آشکار ہوں گی اور بعض علامات ان کے ظہور کے بعد نمودار ہوں گی۔ [۱]

علاماتِ ظہور کی اقسام
[ترمیم]

آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات علاماتِ ظہور دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ حتمی علامات و نشانیاں
۲۔ غیر حتمی نشانیاں

← حتمی نشانیاں

حتمی نشانیوں سے مراد وہ علامات و نشانیاں ہیں جو ظہور سے پہلے نمودار ہوں گی اور یہ کسی قید و شرط کی پابند نہیں ہیں؛ جبکہ غیر حتمی نشانیاں بعض شرائط کے ساتھ وابستہ ہیں جو موجودہ ہوں تو یہ غیر حتمی نشانیاں ہوں گی۔ ظہور امام زمانؑ کی حتمی علامات کا بیان متعدد روایات میں آیا ہے جن میں سے بعض میں پانچ حتمی علامات کا تذکرہ ہے اور بعض میں تقریبا دس (۱۰) سے کچھ زائد حتمی علامات بیان کی گئی ہیں۔

امام جعفر صادق ؑ سے صحیح السند روایت میں پانچ (۵) حتمی علامات کا تذکرہ وارد ہوا ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں: خَمْسُ‌ عَلَامَاتٍ‌ قَبْلَ‌ قِيَامِ‌ الْقَائِمِ: الصَّيْحَةُ وَالسُّفْيَانِيُّ وَالْخَسْفُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الزَّكِيَّةِ وَالْيَمَانِي‌؛ قائم کے قیام سے پہلے پانچ (۵) علامات ظاہر ہوں گی: اونچی پکار، سفیانی کا خروج، زمین کا (بیداء کے مقام پر ) دھنس جانا، نفسِ زکیہ کا قتل کر دیا جانا اور یمانی کا آنا۔ [۲] یہ روایت چونکہ صحیح السند ہے اور اس مضمون پر مشتمل متعدد احادیث ہیں اس لیے ان پانچ نشانیوں کے حتمی ہونے پر علماء کا اتفاق ہے۔ علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی ۵۲ نمبر جلد میں ان تمام روایات کو جمع کیا ہے جو ظہور کی علامات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان روایات کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ حتمی علامات تقریبا ۱۰ ہیں جن میں سے پانچ (۵) علامات پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ وہ صحیح السند روایات میں وارد ہوئی ہیں۔[۳][۴] بعض روایات کے مطابق یہ پانچ علامات امام مہدی ؑ کے قیام سے پہلے ظاہر ہوں گی۔ [۵] ذیل میں ہم ان پانچ حتمی علامات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جن کا تذکرہ امام جعفر صادق کی روایت میں وارد ہوا ہے:

←← آسمانی گونج دار پکار

بعض روایات کے مطابق صَیۡحہ ایک آسمانی گونج دار نداء ہو گی جس میں امام مہدیؑ کا نام لیا جائے گا اور مشرق سے لے کر مغرب تک پوری دنیا کے لوگ اس آواز کو سنیں گے۔ یہ آسمانی نداء ماہِ مبارک رمضان میں دی جائے گی اور اس مخلوق کی طرف یہ جناب جبرئیل ؑ کی گونج دار آواز ہو گی۔ [۶][۷]

←← سفیانی کا خروج

ان نشانیوں میں سے اہم ترین علامت سفیانی کا خروج ہے۔ روایات کے مطابق سفیانی ابو سفیان کی نسل سے ایک شخص ہے جو شام سے خروج کرے گا اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کر ڈالے گا۔ [۸] اسی طرح وہ کوفہ و نجف میں شیعوں کو قتل کرے گا اور شیعوں کی مخبری کرنے والے اور ان کو قتل کرنے والے کو انعامات سے نوازے گا۔ روایات کے مطابق سفیانی آٹھ ()۸ مہینے حکومت کرے گا جبکہ بعض میں نو (۹) مہینے کا تذکرہ بھی وارد ہوا ہے۔ علامہ مجلسی نے احتمال دیا ہے کہ اس اختلاف کی بنیادی وجہ تقیہ یا بداء ہے۔[۹] بعض علماء کا کہنا ہے کہ سفیانی کسی ایک فرد کا نام نہیں ہے؛ بلکہ ہر وہ شخص جو اعلانیہ طور پر امام مہدی ؑ کے خلاف خروج کرے وہ سفیانی ہے اور جو اخلاف و اعمال میں ابو سفیان سے مشابہ ہو۔ [۱۰] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی ایک فرد نہیں دو افراد ہیں: ۱۔ ایک زوراء کے علاقے میں قیام کرے گا جوکہ بعض احادیث کے مطابق بغداد کا علاقہ بنتا ہے اور اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا، ۲۔ دوسرا شام میں خروج کرے گا۔[۱۱]

←← زمین کا دھنس جانا

روایات کے مطابق مکہ میں بیداء کے مقام میں سفیانی کا لشکر زمین میں دھنس جائے گا جوکہ حتمی علامات میں سے ہے۔ [۱۲]

←← نفس زکیہ کا قتل ہونا

معتبر روايات میں نفسِ زکیہ کے قتل ہونے کو حتمی علامات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفس زکیہ کون ہے؟ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ ایک پاک و پاکیزہ سید ہے جس کو مکہ مکرمہ میں رکن و مقام کے درمیان شہید کر دیا جائے گا۔ نفس زکیہ کا قتل ہونا حتمی علامات میں سے ہے۔[۱۳][۱۴] ایک روایت کے مطابق نفسِ زکیہ کی شہادت کے پندرہ دن بعد امام زمان ؑ ظہور فرمائیں گے۔ [۱۵] بعض جگہ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ امام زمان ؑ کے سفیر ہوں گے اور ان کی طرف سے مکہ کے لوگوں کی طرف سفیر بنا کر بھیجے جائیں گے۔[۱۶] کچھ روایات میں وارد ہوا ہے کہ وہ امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے ہوں گے اور کچھ روایات میں مطابق وہ امام حسین ؑ کی نسل سے ہوں گے۔ جب سفیانی مدینہ کی طرف خروج کرے گا اور لوگوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرے گا تاکہ لشکرِ سفیانی مدینہ پہنچ سکے تو نفس زکیہ مکہ جائیں گے اور لوگوں کو دعوتِ ہدایت دیں گے جس کے نتیجے میں ذی الحج کے مہینے میں مراسمِ حج کے بعد بیت اللہ اور حرمِ امن میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے انہیں قتل کر دیا جائے گا۔[۱۷]

←← یمانی کا آنا

یمانی کا آنا حتمی علامات میں سے ہے۔ یمانی ایک مومن شخص ہے جس کا تعلق یمن سے ہے اور یہی سے وہ خروج کریں گے۔ روایات کے مطابق جس سال اور مہینے میں سفیانی خروج کرے گا اسی سال، مہینے اور اسی دن یمانی کا بھی خروج ہو گا۔ [۱۸] یمانی حق کا پرچم بلند کرے گا اور لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف بلائے گا اور روایات میں یمانی کی حمایت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [۱۹]

← دجال

بعض روایات کے مطابق دجال کا خروج بھی ظہور کی علامات میں سے ہے جبکہ بعض کے مطابق اسے قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح امام مہدی ؑ کا ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اسی طرح قیامت کی دیگر علامات میں سے ایک دجال کا خروج ہے۔[۲۰][۲۱] البتہ دجال کے موضوع پر وارد ہونے والی اکثر روایات ضعیف ہیں یا اہل سنت طریق سے وارد ہوئی ہیں۔ اس لیے بعض محققین نے دجال کے وجود پر شک کا اظہار کیا ہے۔ اہل سنت طریق سے کثیر روایات دجال کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جوکہ رسول اللہ ؐ سے منقول ہیں۔ ان میں سے بعض روایات بالاتفاق جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ [۲۲]

لغت میں دجال کا مطلب فریب کار، دھوکہ باز انسان کے ہیں جو حق کو اختیار نہیں کرتا اور معاشرے میں باطل کی ترویج کرتا ہے۔ [۲۳] ظاہرِ روایات کے مطابق دجال ایک ظالم جابر سنگ دل انسان ہے جو لوگوں کو دھوکہ و فریب دیتا ہے اور معاشرے میں برائیاں پھیلاتا ہے۔ ظہور کے وقت دجال بہت سے لوگوں کو فریب دے کر حق سے دور کر دے گا۔ بعض محققین قائل ہیں کہ دجال ایک شخص نہیں ہے بلکہ روایات میں جس کا تذکرہ آیا ہے اس کے مطابق ہزاروں دجال ہیں جن میں دجالی صفات پائی جاتی ہیں۔ جب امامؑ کا ظہور ہو گا تو تقریبا ستر (۷۰) دجال خروج کریں گے۔ البتہ اکثر و بیشتر روایات جن میں دجال کا ذکر آیا ہے ضعیف اور غیر معتبر روایات ہیں۔ [۲۴][۲۵] بعض معاصر علماء معتقد ہیں کہ دجال دنیا بھر میں کفر اور مادی ثقافت کے تسلط سے کنایہ ہے جس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں فکری، سیاسی اور اقتصادی انحراف پھیل جائے اور دنیا شیطانی تسلط کے مکمل کنٹرول میں آ جائے۔[۲۶]

← غیر حتمی نشانیاں

بعض علامات غیر حتمی ہیں جن کا واقع ہونا ممکن بھی ہے اور ہو سکتا ہے وہ برپا نہ ہوں۔ روایات میں غیر حتمی علامات کی طویل فہرست وارد ہوئی ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں: یاجوج و ماجوج کا آنا، ماہِ رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا لگنا،[۲۷] آسمان میں آگ کا ظاہر ہونا، [۲۸] شام میں بڑے زلزلے کا آنا،[۲۹] دنیا بھر کا جنگ کی لپیٹ میں آنا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا قتل ہونا [۳۰] قم میں وسیع پیمانے میں علم و دانش پھیل جائے گا یہاں تک وہ علم کا خزانہ اور معدن بن جائے گا،[۳۱] ظلم و فساد کا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا۔ [۳۲]

علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
[ترمیم]

ظہورِ امام مہدیؑ کی شرائط اور علامات میں فرق ہے۔ اگر شرائط مہیا نہ ہوں تو ظہور نہیں ہو گا جبکہ علامات کے بغیر ظہور ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علاماتِ ظہور کا اصلًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا تو روایات میں اس کا اس قدر طویل تذکرہ وارد نہ ہوتا۔ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو درج ذیل فوائد ہمارے سامنے اجاگر ہوتے ہیں:
۱۔ یہ علامات اور نشانیاں امام زمانؑ کی عظمت و جلالت اور بلند و بزرگ اہداف کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالی نے قرار دیئے ہیں۔ ایک ذات کے آنے سے پہلے پوری کائنات میں اس کے لیے آمادگی اور تیاری اس ذات کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔
۲. ان علامات کے ذریعے دشمنانِ اسلام کے دلوں پر رعب و دبدبہ اور وحشت طاری ہو جائے گی۔
۳. امام زمانؑ کے ماننے والوں کے لیے یہ علامات بشارت کا بیغام بن جائیں گے اور ان کے دلوں کی قوت کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے وہ بآسانی اپنے آپ کو امام زمانؑ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔


 
 

نوٹ یہ نیٹ سے لیا ہے 




علامات ظہور امام مہدی علیہ السلام

 ظہور کی کچھ علامات مخصوص انداز میں اور مخصوص لوگوں میں خاص اشارے کے ساتھ کرسٹلائز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی احادیث میں مذکور ہے کہ امام زمان علیہ السلام کا ظہور طاق سال اور طاق دن میں ہوگا۔   دجال  اور  سفیانی نامی لوگوں کا  خروج   اور یمانی اور سید خراسانی جیسے نیک لوگوں کے  قیام  کو خاص نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔


 روایات میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی مختلف نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو ظہور کی علامات کے نام سے مشہور ہیں۔ اس مقالے میں ان علامات کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی عام علامات:

وہ علامات جن میں عمومی خصوصیات ہوتی ہیں، یعنی وہ کسی خاص مظہر کی شکل میں، ایک خاص وقت اور مخصوص لوگوں میں نہیں ہوتیں، انہیں "عمومی علامات" کہتے ہیں۔ جیسے کہ وہ احادیث اور روایات جو آخر زمانہ کے لوگوں کے حالات کے بارے میں بتاتی ہیں اور اس دور میں رونما ہونے والے انحرافات کے بارے میں بتاتی ہیں جو دراصل امام کے ظہور کی علامات ہیں۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم پر یہ باتیں نازل ہوئیں کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیں اور اپنے بعد کے ائمہ کے بارے میں انہیں آگاہ کریں۔ جو اس کے بچوں میں سے ہیں؛ ان میں سے آخری نشانیاں ہیں۔ یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ وہ زمین کو عدل سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی... میں نے کہا: اے اللہ! یہ کب ہو گا خدا نے مجھ پر وحی کی: جب علم دور ہو جائے اور جہالت ظاہر ہو جائے۔ قرآن کی تلاوت زیادہ ہوگی لیکن عمل کم ہوگا۔ قتل و غارت بڑھے گی، حقیقی فقہا اور رہنما کم ہوں گے۔ آپ کی امت کو چاہیے کہ وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ ( اثباة الهداة، ج ۷، ص ۳۹۰)

امام علی علیہ السلام نے دجال اور اس کے نکلنے اور امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی نشانیوں کے بارے میں "صعصعہ بن صوحان" کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ : دجال کے نکلنے اور خروج کی نشانی یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے۔ امانتوں میں خیانت کریں گے؛ جھوٹ کو حلال سمجھیں گے۔ سود کھانا رشوت لینا عام ہوگا؛ مضبوط عمارتیں بنائیں گے اور دنیا کیلئے دین کو بیچیں گے؛ ایک دوسرے کے ساتھ قطع تعلقی کریں گے؛ قتل اور خون کو عام سمجھا جائے گا۔ (بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۱۹۳)

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے خاص علامات:

ظہور کی کچھ علامات مخصوص انداز میں اور مخصوص لوگوں میں خاص اشارے کے ساتھ کرسٹلائز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی احادیث میں مذکور ہے کہ امام زمان علیہ السلام کا ظہور طاق سال اور طاق دن میں ہوگا۔ دجال اور سفیانی نامی لوگوں کا خروج اور یمانی اور سید خراسانی جیسے نیک لوگوں کے قیام کو خاص نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ احادیث میں ان کے ناموں اور رسم و رواج کے ساتھ اور ان کی خاص خصوصیات بھی ذکر کی گئی ہیں۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے اور کوفہ کی طرف بڑھیں گے۔ چنانچہ جب مہدی کا ظہور ہوتا ہے تو وہ اسے بیعت کی دعوت دیں گے۔( بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۲۱۷)
نیز امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے مہدی کے لیے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد سے نظر نہیں آئیں: ایک رمضان المبارک کی پہلی رات کا چاند گرہن اور دوسرا اسی مہینے کے درمیان میں سورج گرہن کا ہونا۔ جب سے خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ (منتخب الاثر، ص ۴۴۴)

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کےحتمی علامات:

وہ علامات جو یقیناً امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے واقع ہوں گی۔ جن کے رونما ہونے میں کوئی شرط شامل نہیں کی گئی ہے۔ ان نشانیوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جو بھی ظہور کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: قائم کا ظہور خدا کی طرف سے یقینی ہے اور سفیانی کا خروج بھی خدا کی طرف سے یقینی ہے اور سفیانی کے بغیرکوئی قائم نہیں ہے۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: یمانی کا قیام ظہور کے حتمی علامات میں سے ہے۔ (بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۸۲)
فضل بن شازان ابو حمزہ ثمالی سے روایت کرتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا: کیا سفیانی کا خروج یقینی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آسمانی ندا بھی حتمی نشانیوں میں سے ہے اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی یقینی ہے۔ حکومت کے حوالے سے بنی عباس کا اختلاف یقینی ہے۔ نفس ذکیہ کا قتل بھی یقینی ہے۔ قائم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قیام بھی یقینی ہے۔( الارشاد، شیخ مفید، ج ۳، ص ۳۴۷)
مندرجہ بالا روایات کے مطابق سفیانی کا خروج، یمانی کا قیام، ندائے آسمانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور نفس ذکیہ کا قتل ظہور امام مہدی علیہ السلام کے حتمی علامات میں سے ہیں۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب رونما ہونے والے علامات:

بعض احادیث میں آیا ہے کہ امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے سال بعض علامات ظاہر ہوں گی۔ یعنی ظہور سے پہلے اور حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر یہ نشانیاں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی، اس دوران امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین لوگوں کا خروج: قیام خراسانی، سفیانی اور یمانی ، ایک سال، ایک مہینے اور ایک دن میں ہوگا، اور اس دوران کوئی بھی حق و ہدایت کی طرف اتنا نہیں بلائے گا جتنا کہ یمانی۔ (کتاب غیبت نعمانی، ص ۲۵۲)
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: مہدی علیہ السلام کے ظہور اور نفس ذکیہ کے قتل کے درمیان پندرہ راتوں سے زیادہ کا فاصلہ نہیں ہے۔( ارشاد مفید، ج ۲، ص ۳۷۴؛ اعلام الوری، ص ۴۲۷)
ان روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب رونما ہونے والی علامات میں سے خراسانی، سفیانی اور یمانی کا قیام اور نفس ذکیہ کا قتل ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قدرتی اور زمینی علامات:

ظہور امام مہدی علیہ السلام کی علامات میں سے زیادہ تر قدرتی اور زمینی علامات ہیں اور ان میں سے ہر ایک حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور قیامت کے صحیح ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: میرے خاندان کا ایک آدمی ارض مقدس میں قیام کرے گا جس کی خبر سفیانی تک پہنچ جائے گی۔ وہ اپنے سپاہیوں کا ایک لشکر اس سے لڑنے کے لیے بھیجے گا اور ان کو شکست دے گا، پھر خود سفیانی اور اس کے ساتھی اس سے لڑنے کے لیے جائیں گے اور جب وہ بیداء کی سرزمین سے گزر رہے ہوں گے تو زمین انھیں نگل جائے گی، سوائے ایک شخص کے کوئی زندہ نہیں بچے گا اور وہ ایک شخص اس واقعہ کی خبر دوسروں تک پہنچائے گا۔
سفیانی کا بیداء میں زمین کے اندر چلے جانا (خسف بیداء)، یمانی ، خراسانی، سفیانی اور دجال کا خروج کرنا، نفس ذکیہ کا قتل، خونی جنگیں وغیرہ جیسی علامات زمینی اور قدرتی علامات میں سے ہیں۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے آسمانی علامات:

امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی اہمیت کے پیش نظر زمینی اور قدرتی علامات کے علاوہ کچھ آسمانی نشانیاں بھی امام علیہ السلام کے ظہور کے وقت ظاہر ہوں گی تاکہ لوگ اپنے آسمانی رہنما اور نجات دہندہ کو بہتر طریقے سے پہچان سکیں۔ اور ان کے مشن اور اہداف اور مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں ان کا ساتھ دیں۔

آسمانی پکار:

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کوئی منادی آسمان سے پکارے گا کہ حق آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے ساتھ ہے تو سب امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا ذکر کریں گے اور ہر کوئی ان کی دوستی اور محبت میں گرفتار ہوگا ان کے علاوہ کسی کو یاد نہیں کیا جائے گا۔

سورج گرہن:

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامات میں سے ایک رمضان کے مقدس مہینے کی 13 یا 14 تاریخ کو سورج گرہن ہے۔( غیبت نعمانی، ص ۲۷۰)
ان احادیث کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی آسمانی علامات میں ندائے آسمانی یعنی آسمانی پکار اور رمضان المبارک میں سورج گرہن کا واقع ہونا ہے۔

حرف آخر:

اکثر محققین اور مجتہدین کے مطابق ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں یہ ظہور امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ اب تک ظہور کے عام علامات تقریبا مکمل طور پر رونما ہوچکی ہیں جبکہ بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس وقت ظہور امام مہدی علیہ السلام کے خاص علامات بھی رونما ہورہی ہیں یا عنقریب رونما ہونے والی ہیں۔ تمام محبین اہل بیت علیہ السلام اور منتظرین امام مہدی علیہ السلام کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال اور کردار کے ذریعے معاشرے میں حقیقی منتظر امام مہدی علیہ السلام ہونے کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے حقیقی اعوان و انصار میں سے قرار دے۔



گیارھویں پی ڈی ایف:   👈 آنحضرت علیہ السلام کا ظہور اور آپ کی عالمی حکومت کے مقاصد 




### سوالات کے جوابات:

1. **زمانہ ظہور کا مخفی رہنا کیسے ان کے ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے کے احساسات کو باقی رکھ سکتا ہے؟**
   - زمانہ ظہور کا مخفی رہنا شیعوں میں ہمیشہ امید کی کرن روشن رکھتا ہے، جس سے وہ ہر وقت اپنے امام کے ظہور کے لیے تیاری اور دعا میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ احساس انہیں ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے میں سرگرم عمل رکھتا ہے اور ایک معنوی و دینی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

2. **روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟**
   - روایات میں وقت معین کرنے سے منع کرنے کا فلسفہ یہ ہے کہ وقت کی معینیت سے ممکن ہے کہ لوگ غفلت میں پڑ جائیں یا وقت آنے پر ناامید ہو جائیں۔ اس کے علاوہ، امام کے ظہور کا وقت خدا کی مرضی پر مبنی ہے، اور وقت کی مخفی رکھنے سے امید، دعا، اور تیاری کا ماحول قائم رہتا ہے۔

3. **روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟**
   - روایات کے مطابق، امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب دنیا ظلم و جبر سے بھری ہوگی۔ امام کا ظہور عدالت، انصاف، اور دینی قدروں کی بالادستی کا باعث بنے گا۔ وہ دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں گے اور انسانیت کو ایک نئے دور میں لے جائیں گے جہاں عدل و انصاف حکمرانی کرے گا۔

4. **کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟**
   - دینی و معنوی حالت کو احیاء اور وسعت دینا امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ دین اسلام کی اصلی تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے کا باعث بنتا ہے۔ اس سے انسانیت کو خدا کے قریب تر کرنے، معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے، اور زندگی کے ہر شعبے میں عدالت و انصاف کو قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

5. **امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام کیا ہے؟ وضاحت کریں؟**

امام مہدی علیہ السلام کی متوقع عالمی حکومت کا تصور اسلامی عقیدے کے مطابق ایک اہم مقام رکھتا ہے، خاص طور پر شیعہ اسلامی تعلیمات میں جہاں امام مہدی کو آخری امام مانا جاتا ہے۔ امام مہدی کی حکومت کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کا قیام ہے، جو کہ دنیا بھر میں امن و امان اور انصاف کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

### عدل و انصاف کا قیام
اسلامی روایات کے مطابق، امام مہدی کی حکومت میں عدل و انصاف کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب دنیا ظلم و جبر سے بھری ہوگی۔ امام مہدی کے ظہور کے بعد، وہ عدل و انصاف کے سچے اصولوں کو قائم کریں گے، جو کہ ہر انسان کو بلا امتیاز مذہب، نسل، یا جنس کے برابر حقوق فراہم کرے گا۔

### عالمی حکومت کی خصوصیات
امام مہدی کی حکومت کو عالمی حکومت کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا دائرہ کار دنیا بھر میں پھیل جائے گا، جس میں ان کے زیر انتظام تمام انسانوں کے لیے عدالتی نظام مساوی اور شفاف ہوگا۔ اس حکومت میں کوئی بھی شخص امتیازی سلوک کا شکار نہیں ہوگا اور ہر ایک کو انصاف دلایا جائے گا۔

### معاشرتی تبدیلیاں
امام مہدی کی حکومت کی ایک اور خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ معاشرتی برائیوں اور ناانصافیوں کو ختم کرکے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں گے اور ہر شخص عدل و انصاف کی بنیاد پر زندگی گزارے گا۔ 

### دینی تعلیمات کا احیاء
عدل و انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ، امام مہدی اسلامی تعلیمات کو بھی پوری دنیا میں احیاء کریں گے، جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔ اس سے دنیا بھر میں اخوت، محبت اور امن کا ماحول قائم ہوگا۔



نوٹ یہ سوالات کے جوابات سبق سے لئے 



سوال نمبر 2: روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟

جواب: ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا فلسفہ 


ہمیشہ سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال یہ پیدا ہوتارہا اور اب بھی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کب ظہور فرمائیں گے اور کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ اس سوال کا جواب معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ ہے کہ ظہور کا وقت معلوم نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم نے نہ تو پہلے ظہور کے لئے کوئی وقت معین کیا ہے اور نہ ہی آئندہ وقت معین کریں گے“۔

(غیبت طوسی، فصل ۷، ح ۲۱۴، صفحہ ۶۲۴)

اس بنا پر جو لوگ ظہور کے لئے کوئی زمانہ معین کریں تو ایسے افراد فریب کار اور جھوٹے ہیں، جیسا کہ مختلف روایات میں اس بات کی تاکید ہوئی ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپعلیہ السلام سے ظہور کے بارے میں سوال کیا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جولوگ ظلم کے خاتمہ کا وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں“۔

(غیبت طوسی، فصل ۷، ح ۱۱۴، صفحہ ۵۲۴)

لہٰذا اس طرح کی روایات سے اچھی طرح یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں کے تحت امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے رہتے تھے اور ایسے افراد آئندہ بھی پائے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ظہور کے وقت معین کرنے والوں کے سامنے خاموش نہ رہیں بلکہ ان کی تکذیب کی جائے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں : ”ظہور کے لئے وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانے میں کسی بھی طرح کی کوئی پرواہ نہیں کرو، کیونکہ ہم نے کسی کے سامنے ظہور کا وقت معین نہیں کیا “۔ (غیبت طوسی، فصل۷، ح ۴۱۴، صفحہ ۶۲۴)


سوال نمبر 3: روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟

جواب:  لَہُ بِال ہُدَی وَ دِی نِ ال حَقِّ لِیُظہِرَہ عَلَی الدِّی نِ کُلِّہِ وَ لَو کَرِہَ ال مُش رِکُو نَ۔﴿ (سورہ توبہ، آیت ۳۳)

”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔

قارئین کرام! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی مذکورہ تصویر کشی کے پیش نظر صرف ظالم اور ہٹ دھرم لوگ ہی باقی بچیں گے جو حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور یہ گروہ بھی مومنین کی اکثریت اور اس انقلاب کے مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا اور عدالت مہدیعلیہ السلام کی تلوار سے اپنے شرمناک اعمال کی سزا پائیں گے اور زمین اور اس پر رہنے والے ہمیشہ کے لئے شر و فساد سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جب تاریکی اور ظلمت کے بادل چھٹ جائیں گے تو کائنات کو منور کرنے والا سورج طلوع ہو گا اور دشت و بیابان کی منتظر آنکھوں کو روشنی ملے گی۔جی ہاں! ظلم و ستم، برائیوں، تباہیوں اور بزدلی سے مکمل مقابلہ کے بعد عدل و انصاف کی حکومت تشکیل پائے گی اور عدالت مسند حکومت پر جلوہ افروز ہو گی تاکہ ہر چیز اور ہر شخص کو اس کی معین جگہ پر قرار دیا جائے اور ہر چیز کو اس کے حق کے لحاظ سے قرار دیا جائے گا چنانچہ یہ کائنات اور اس میں رہنے والے افراد ایک ایسی حکومت کا مشاہدہ کریں گے جو مکمل طور پر حق و عدالت پر مبنی ہو گی اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ ایسی حکومت جو خداوند عالم کے صفات جمال و جلال کی مظہر ہو گی اور اس کے زیر سایہ انسان اپنی تمام بھولی ہوئی آرزﺅں کو حاصل کر لے گا۔

قارئین کرام! ہم اس فصل میں چار موضوعات پر بحث کریں گے۔(۱)امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے اغراض و مقاصد(۲) امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی دستور العمل(۳) اس عدل و انصاف کی حکومت کے ثمرات(۴) اس حکومت کی خصوصیات۔


سوال نمبر 4: کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟

جواب: چونکہ اس کائنات کی غرض خلقت، کمال کے درجات پر فائز ہونا اور تمام کمالات کے مرکز یعنی خداوند عالم سے قریب سے قریب تر ہونا ہے۔ اس عظیم تمنا تک پہنچنے کے لئے اس کے ضروری اسباب و وسائل فراہم ہونا چاہیے۔ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعلیٰ فرجہ الشریف) کی اس عالمی حکومت کا مقصد قرب الٰہی تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرنا اور اس راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے۔اگرچہ انسان جسم و رُوح سے مرکب ہے اور اسکی ضرورتین بھی مادی اور معنوی دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں لہٰذا کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف حساب و کتاب سے قدم بڑھایا جائے اور ”عدالت“ چونکہ الٰہی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت ہے لہٰذا اس کے زیرِ سایہ انسان مادی اور معنوی لحاظ سے ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی معنوی اورمادی ترقی یافتہ ہوگی اورپورے معاشرہ میں عدالت قائم ہونے کے لحاظ سے قابل ذکر ہے۔

سوال نمبر 5: امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام کیا ہے؟ وضاحت کریں؟


جواب: امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام 


 عدالت کے بٍغیر ایسے مردہ اور بے رُوح ہیں جن کو زندہ شمار کیا جاتا ہے۔وہ زندہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی تفسیر میںبیان کیا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی الَاَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا﴿ ( سورہ حدید، آیت ۷۱)

”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے........“۔

”مقصد یہ نہیں کہ زمین کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا جائے بلکہ خداوند عالم کچھ مردوں (انسانوں) (دیگر روایات کے پیش نظر یہ آیت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور کے بارے میں تفسیر ہوئی ہے یہاں انسانوں سے مراد امام کے انصار و اصحاب ہیں) کو تحریک کرے گا جو عدالت کو زندہ (اور قائم) کریں گے پس (معاشرہ میں) عدل و انصاف کی رُوح کے ذریعہ زمین زندہ ہو جائے گی“۔”زمین کا زندہ ہونا“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی (ع) کی عدالت عام عدالت ہو گی جو سب جگہ قائم ہو گی، نہ کہ بعض علاقوں میں اور بعض لوگوں کے لئے۔ دوسری روایات کے پیش نظر جن میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ناصرین مراد لئے گئے ہیں ان میں ”مَردوں“ سے مراد آپ کے ناصر و مددگار مراد ہیںکہ انہیں اٹھایا جائے گا۔






  





  
بارہویں پی ڈی ایف:  👈 آنحضرت کی عالمی حکومت کے پروگرام


### زمانہ ظہور میں حضرت کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاء سے کیا مراد ہے؟


زمانہ ظہور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاء سے مراد یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور اہل بیت کی سنتوں کو پوری طرح زندہ کرنا اور انہیں معاشرتی، ثقافتی، اقتصادی اور معاشرتی امور میں بنیاد بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی احکامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور سوسائٹی کو ان اصولوں پر استوار کیا جائے گا جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔


### امام باقر علیہ السلام کی حدیث مبارک میں جملہ "وضع یدہ علی رو ¿س العباد...." سے کیا مراد ہے؟


اس حدیث میں "وضع یدہ علی رو ¿س العباد...." سے مراد یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کے دلوں اور عقلوں پر اثر انداز ہوں گے، ان کی ہدایت اور روحانی بصیرت کو بڑھائیں گے۔ اس عمل سے ان کی فکری اور اخلاقی حالت بہتر ہوگی، اور وہ ایک معاشرتی اور روحانی تجدید کا سبب بنے گا۔


### جملہ "تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز" کا معنی بیان کریں؟


"تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز" کا معنی ہے کہ زمین اپنے خزانے امام مہدی علیہ السلام کے لئے ظاہر کر دے گی اور زمینی فاصلے ان کے لئے سمٹ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے طبیعی وسائل کا استعمال اور تقسیم ان کی قیادت میں بہترین اور موثر طریقے سے ہوگا۔


### امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز کی ان کے موارد کے تذکرہ کے ساتھ وضاحت کریں؟


امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز میں شامل ہیں: 

1. **طبیعی منابع سے مستفید ہونا**: امام زمانہ زمین کے طبیعی وسائل کو فعال طور پر استعمال کریں گے، جیسے زراعت اور معدنیات۔

2. **دولت کی عادلانہ تقسیم**: معاشرے میں دولت کو عادلانہ طور پر تقسیم کرنا، تاکہ ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور معاشرتی عدل قائم ہو۔

3. **ویرانوں کی آبادکاری**: زمین کے وسیع حصوں کو آباد کرنا، جس سے معاشرتی و اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔


### امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے اہم ترین اصلاحی اور معاشرتی پروگرامز میں سے تین کی مثالیں بیان کریں؟


بالکل، ایک مختصر جواب کے مطابق:


زمانہ ظہور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اہم ترین پروگراموں میں ثقافتی، اقتصادی، اور معاشرتی منصوبے شامل ہیں، جو کہ دنیا بھر میں عدل و انصاف کی استقراری کے لئے نہایت اہم ہیں۔


**ثقافتی پروگرامز** میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا احیاء، اخلاقی ترقی، اور علم کی وسعت شامل ہیں۔


**اقتصادی پروگرامز** میں زمینی وسائل کا موثر استعمال، دولت کی عادلانہ تقسیم، اور معاشی ترقی کو فروغ دینا شامل ہیں۔


**معاشرتی پروگرامز** میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فعال نفاذ، حدود الٰہی کا قیام، اور منصفانہ فیصلے شامل ہیں، جس سے معاشرہ میں اخلاق و انصاف مضبوط ہوں گے۔


یہ پروگرامز عدل و انصاف کی حکومت کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہیں اور ظہور کے بعد کے لیے معاشرتی اور اخلاقی ہدایت فراہم کرتے ہیں۔


تیرہویں پی پی ڈی ایف:  👈 حکومت امام کی وسعت اور ثمرات

سوال نمبر 1: انسان کے اپنے حقیقی اور اصولی مقصد کو پانے اور اپنی آرزوﺅں تک پہنچنے میں ناکامی کے اسباب کیا ہیں؟


جواب 

جی ہاں! آج کے معاشرہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام اور ان کی حکومت کے بغیر عقل پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہے اور گروہوں اور پارٹیوں پر سرکش نفس حکومت کئے جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں دوسروں کے حقوق پامال اور الٰہی اقدار کو بھلایا جا رہا ہے لیکن ظہور کے زمانہ میں اور حجت خدا (جو عقل کامل ہیں) کی حکومت کے زیر سایہ عقل حکم کرنے والی ہو گی اور جب انسان کی عقل کمال کی منزل پر پہنچ جائے گی تو پھر نیکیوں اور خوبیوں کے علاوہ کوئی حکم نہیں کرے گی۔

سوال نمبر 2: زمانہ ظہور میں اتحاد و وحدت سے مراد آیا عالمی طور پر جغرافیائی سرحدوں کا ختم ہونا ہے؟

۳۔ اتحاد اور محبت

متعدد روایات کے پیش نظر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں زندگی بسر کرنے والے افراد آپس میں متحد اور محبوب ہوں گے اور آپعلیہ السلام کی حکومت کے مومنین کے دلوں میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی جگہ نہ ہو گی۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ﴾وَلَو قَد قَامَ قَائِم نَا.... لَذَہَبَتِ الشَّح نَائُ مِن قُلُوبِ ال عِبَاد....﴿

”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو بندگان خدا کے دلوں میں کینہ (اور دشمنی) نہیں رہے گی“۔

اس زمانہ میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا کیونکہ وہ زمانہ عدل و انصاف کا ہو گا جس میں کسی کا کوئی حق پامال نہیں ہو گا، اور وہ زمانہ خردمندی اور غور و فکر کا ہو گا نہ کہ مخالفت عقل اور شہوت پرستی کا۔ ( اس سے پہلے دو حصوں میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عدالت اور عقلی کمال کے بارے میںگفتگو ہو چکی ہے)

لہٰذا بغض و حسد اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ نہیں رہ جائے گا، اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں انس اور اُلفت پیدا ہو جائے گی جیسا کہ اس سے پہلے اختلاف اور انتشار پایا جائے گا اور سب قرآنی اخوت اور برادری کی طرف پلٹ جائیں گے۔ (سورہ حجرات کی آیت نمبر ۰۱ کی طرف اشارہ ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے انما المومنون اخوة مومنین آپس میںبھائی ہیں) اور آپس میں دو بھائیوں کی طرح ہمدل اور مہربان ہوں گے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے سنہرے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”(اس زمانہ میں) خداوند عالم، پریشان اور منتشر لوگوں میں وحدت اور اُلفت ایجاد کر دے گا“۔ (کمال دین، ج ۲، باب ۵۵، ح ۷، ص ۸۴۵)

اور اگر خدا کی مدد اس وقت رہے گی تو پھر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس مادّی کشمکش کے بحران میں اس ہمدلی، اُلفت اور دلی محبت کا اندزہ لگانا مشکل ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو واقعی دوستی اور حقیقی ہمدلی (اس حد تک) ہو گی کہ ضرورت مند اپنے برادر ایمانی کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق پیسہ نکال لے گا اور اس کا (دینی) بھائی اسے نہیں روکے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۴۶۱، ص ۲۷۳)


سوال نمبر 3: احادیث و روایات کی رو سے امام مہدی علیہ السلام عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف سے لوگوں میں ماہانہ اور سالانہ عطایت کتنی دفعہ ملیں گے؟

جواب 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ”........ (امام مہدی علیہ السلام) سال میں دو بار لوگوں کو بخشش وعطیہ دیا کریں گے، اور مہینہ میں دو دفعہ کی روزی (اور معاش زندگی) عطا فرمایا کریں گے، (اور اس کام میں) لوگوں کے درمیان مساوات قائم کریں گے، یہاں تک کہ (لوگ ایسے بے نیاز ہو جائیں گے کہ) زکوٰة لینے والا کوئی نیازمند نہیں مل پائے گا........“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۲۱۲، ص ۰۹۳)

مختلف روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے درمیان غربت کے احساس کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہو گی کہ ان کے یہاں روحانی طور پر بے نیازی اور قناعت کا احساس پایا جاتا ہو گا، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ قبل اس کے کہ کوئی ان کو مال و دولت عطا کرے خود ان کے باطن میں بے نیازی کا احساس پیدا ہو جائے گا اور جو کچھ خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے عنایت کیا ہو گا اس پر وہ راضی اور خشنود رہیں گے لہٰذا دوسروں کے مال کی طرف آنکھ بھی نہیں اُٹھائیں گے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا: ”........ خداوند عالم بے نیازی (کا احساس) اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کر دے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۲۹)

جبکہ ظہور سے پہلے انسان میں خودغرضی اور مال و دولت جمع کرنے اور غریبوں پر خرچ نہ کرنے کی عادت ہوگی۔


سوال نمبر 4: روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت کتنے سالوں پر محیط ہے؟ 

جواب 

حکومت کی مدت

جب عالم بشریت ایک طولانی زمانہ تک ظلم و ستم کی حکومت کو برداشت کرلے گا تو خداوند عالم کی آخری حجت کے ظہور سے پوری دُنیا نیکیوں (اور عدل و انصاف) کی حکومت کے استقبال کے لئے آگے بڑھے گی اور حکومت نیک اور صالح افراد کے ہاتھوں میںہو گی، اور یہ خدا کا یقینی وعدہ ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حاکمیت کے تحت نیک اور اور صالح افراد کی اس حکومت کی شروعات ہوں گی اور دُنیا کے خاتمہ تک یہ حکومت باقی رہے گی اور پھر ظلم اور ظالموں کا زمانہ نہیں آئے گا۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول مذکورہ روایت میں نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم نے اس آخری معصوم کی حکومت کی بشارت ا پنے رسول کو دی ہے جس کے آخر میں ارشاد فرمایا:

”جب امام مہدی علیہ السلام حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو ان کی حکومت کا سلسلہ جاری رہے گا اور قیامت کے لئے زمین کی حکومت کو اپنے اولیاءاور محبوں کے ہاتھوں میں دیتا رہوں گا“۔ (کمال الدین، ج۱،باب۳۲،ح۴،ص۷۷۴)

اس بنا پر حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ذریعہ قائم کردہ عادلانہ نظام کے بعد کوئی دوسرا حکومت نہیںکر سکے گا، درحقیقت حیات انسانی کے لئے ایک نئی تاریخ شروع ہو گی جو تمام تر حکومت الٰہی کے زیر سایہ ہو گی۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

”ہماری حکومت آخری حکومت ہو گی اور کوئی بھی صاحب حکومت یاخاندان ایسا باقی نہیں بچے گا جو ہماری حکومت سے پہلے حکومت نہ کر لے تاکہ جب ہماری حکومت قائم ہو اور اسکے نظام اور طور و طریقہ کو دیکھ کر یہ نہ کہے کہ اگر ہم بھی حکومت کرتے تو اسی طرح عمل کرتے“۔

(غیبت طوسی، فصل ۸، ح ۳۹۴، ص ۲۷۴)

لہٰذا ظہور کے بعد الٰہی حکومت کی مدت حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت سے الگ ہے کہ روایات کے مطابق آپ اپنی باقی عمر میں حاکم رہیں گے اور آخرکار اس دُنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا زمانہ اتنا ہو گا کہ جس میں اتنا عظیم عالمی انقلاب اور دنیا کے ہر گوشہ میں عدالت قائم ہونے کا امکان پایا جاتا ہو لیکن یہ کہنا کہ یہ مقصد چند سال میں پورا ہو سکتا ہے تو ایسا صرف گمان اور اندازہ کی بنا پر ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں (بھی) آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات کی طرف رجوع کیا جائے البتہ اس الٰہی رہبر کی لیاقت اور آپ اور آپ کے اصحاب کے لئے غیبی امداد اور ظہور کے زمانہ میں عالمی پیمانہ پر دینی اقدار اور نیکیوں کو قبول کرنے کی تیاری کے پیش نظر ممکن ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی یہ ذمہ داری نسبتاً کم مدت میں پوری ہو جائے اور جس انقلاب کو برپا کرنے کے لئے تاریخ بشریت صدیوں سے عاجز ہو وہ ۰۱ سال سے کم میں ہی تشکیل پا جائے۔

جن روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کو بیان کیا گیا ہے وہ باہم اختلاف رکھتی ہیں۔ ان میں سے بعض روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت ۵ سال ہے اور بعض میں ۷ سال اور بعض میں ۸ سال اور بعض میں ۰۱ سال بیان ہوئی ہے۔ چند روایتوں میں اس حکومت کی مدت ۹۱ سال اور چند مہینے اور کچھ روایات میں ۰۴۱ اور ۹۰۳ سال بھی بیان کئے گئے ہیں۔ (روایات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب چشم اندازی بہ حکومت مہدی علیہ السلام تالیف نجم الدین طبسی، ص ۳۷۱ تا ۵۷۱ کی طرف رجوع فرمائیں)

روایات میں اس اختلاف کی علت معلوم نہ ہونے کے علاوہ ان روایات کے درمیان سے آپ کی حکومت کی حقیقی مدت کا پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے لیکن بعض شیعہ علماءنے بعض روایات کی شہرت اور کثرت کی بنا پر ۷ سال والے نظریہ کو منتخب کیا ہے( المہدی، سید صدر الدین صدر، ص ۹۳۲، تاریخ ما بعد الظہور سید محمد صدر) جبکہ بعض افراد نے یہ بھی کہا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت ۷ سال ہو گی لیکن اس کا ایک سال ہمارے دس سال کے برابر ہو گا جیسا کہ بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے:

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روای نے امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت کے سلسلہ میں سوال کیا تو فرمایا: ”(حضرت امام مہدی علیہ السلام) سات سال حکومت کریں گے جو تمہارے ۰۷ سال کے برابر ہوں گے“۔ ( غیبت طوسی، فصل ۸، ح ۷۹۴، ص ۴۷۴)

مرحوم مجلسیؒ فرماتے ہیں:حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں بیان ہونے والی روایات میں چند درج ذیل احتمالات دینا چاہیے، بعض روایات میں حکومت کی پوری مدت کی طرف اشارہ ہوا ہے جبکہ بعض دوسری روایات میں حکومت کے استحکام اور ثبات کی طرف اشارہ ہوا ہے بعض روایات میں ہمارے زمانہ کے سال اور دنوں کے مطابق ہے اور بعض امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ کی گفتگو ہوئی ہے جبکہ خداوند عالم حقیقت سے زیادہ آگاہ ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۳۵، ص ۰۸۲)

رہبر اسلام آقای سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی نے اس بارے فرمایا ہے کہ جس عادلانہ حکومت کے قیام واسطے ہزاروں سال انسانوں نے انتظار کیا وہ خراسان میں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ آپ کی آمد سے انسان کے لئے انسانیت کی شب براہ اعظم کا افتتاح ہوگا اور اس کا اختتام قیامت ہے جیسا کہ بعض روایات سے بھی یہ بات ثابت ہے۔

سوال نمبر 5: انتظامی اور قضاوت کے امور میں امام زمانہ کی حکومتی سیرت کو وضاحت سے بیان کریں؟

جواب 


ہر حاکم اپنی حکومت اور اس کے مختلف شعبوں میں ایک مخصوص طریقہ کار اپناتا ہے جو اس کی حکومت کا امتیاز ہوتا ہے۔ امام منتظر امام مہدی علیہ السلام بھی جب پوری دُنیا کی حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو اس عالمی نظام کی تدبیر ایک خاص روش کے تحت ہو گی لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہے کہ آپ کی کارکردگی کے طریقہ کی طرف اشارہ کیا جائے اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے طور و طریقہ کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث کو پیش کیا جائے۔

اس بات پر تاکید کرتے ہوئے روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومتی سیرت کے سلسلہ میں ایک کلی تصویر پیش کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا طریقہ کار وہی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا طریقہ کار ہوگا اور جس طرح پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے زمانہ میں تمام پہلوﺅں کے اعتبار سے جاہلیت کا مقابلہ کیا اور اس ماحول میں اسلام حقیقی کو نافذ کیا کہ جو انسان کی دنیاوی اور اُخروی سعادت کا ضامن ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر بھی اس زمانہ کی نئی جاہلیت سے مقابلہ کیا جائے گاجبکہ اس زمانہ کی جاہلیت آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ کی جاہلیت سے کہیں زیادہ دردناک ہو گی اور ماڈرن جاہلیت کے ویرانوں پر اسلامی و الٰہی اقدار کی عمارت تعمیر ہو گی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی انداز کیا ہو گا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:﴾یَص نَع کَمَا صَنَعَ رَسُو ل اللّٰہِ (ص) یَھ دِم مَا کانَ قَب لَہُ کَمَا ہَدَمَ رَسُو لُ اللّٰہِ (ص) امرَ ال جَاہِلِیَةِ وَ یَس تِانِف الااِس لاٰمَ جَدِی داً﴿ (غیبت نعمانی، باب ۳۱، ح ۳۱، ص ۶۳۲)

”(امام مہدی علیہ السلام) پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح عمل کریں گے، (اور) جس طرح آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے (لوگوں کے درمیان رائج) جاہلیت کی رسومات کو ختم کیا اسی طرح آپعلیہ السلام بھی اپنے ظہور سے پہلے موجود جاہلیت کی رسومات کو نابود کردیں گے اور اسلام کی نئے طریقہ سے بنیاد رکھیں گے“۔

امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے زمانہ میں ایک عام سیاست رہے گی، اگرچہ مختلف حالات کے پیش نظر حکومتی انداز میں تبدیلی کرنا پڑے گی جیسا کہ روایات میں بھی بیان ہوا ہے اور ہم اس سلسلہ میں بعد میں بحث کریں گے۔ 


نوٹ یہ سبق سے سوالات کے جوابات 

سوال نمبر 1:

جواب 
جواب 

قرآن کریم ہر زمانہ میں غریب اور بالائے طاق رہا ہے اور انسانی زندگی میں اس کو بھلا دیا گیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں قرآن کریم کی حیات بخش تعلیمات پر انسانی زندگی میں عمل درآمد ہو گا اور معصومین علیہم السلام کی سنت زندگی کے ہر موڑ پر انسانی حیات کے لئے نمونہ عمل قرار پائے گی اور سب کے اعمال قرآن و عترت کے پاک و پاکیزہ معیار کے ترازو میں تولے جائیں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے عظیم الشان کلام میں امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں کہ جب انسان کی ہوائے نفس (انسان پر) حکومت کرے گی، امام مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور ہوائے نفس کی جگہ ہدایت اور فلاح کی حکومت قرار پائے گی اور جس زمانہ میں اپنی ذاتی رائے قرآن پر مقدم ہو چکی ہو گی اس موقع پر افکار قرآن کی طرف متوجہ ہوں گے اور معاشرہ میں قرآن ہی کی حکومت ہو گی“۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۸۳۱)
نیز ایک دوسری جگہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں انسانی معاشرہ میں قرآن پر عمل درآمد ہونے کے سلسلہ میں یہ بشارت دیتے ہیں:
”گویا میں اسی وقت اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں جو مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے بیٹھے ہیں اور قرآن جس طرح سے نازل ہوا بالکل اسی طرح لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں........“۔(غیبت نعمانی، باب ۱۲، ح ۳، صفحہ ۳۳۳)
اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کی تعلیم دینا، قرآنی ثقافت کے رائج ہونے دراصل انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن و اسلامی احکام کی حکمرانی کا نقطہ ¿ آغاز ہے۔


جواب 2

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رُو ¿وسِ ال عِبَادِ فَجَمَعَ بِہِ عَقُو لُہُم وَاَک مَلَ بِہَ اَخ لَاقُہُم ۔﴿ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۳۳)
”جب ہمارا قائم (علیہ السلام) قیام کرے گا تو مومنین کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھیں گے جس سے ان کی عقل جمع ہو جائے گی اور ان کا اخلاق کامل ہو جائے گا“۔
یہ اشارہ اور کنایہ پر مشتمل بہترین جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کہ جو اخلاق اور معنویت کی حکومت ہوگی، عقلی کمال اور انسانی اخلاق کی تکمیل کا راستہ فراہم کرے گی کیونکہ انسان میں برائیاں اس کی کم عقلی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور جب انسان کی عقل کامل ہو جائے گی تو پھر انسان میں اخلاق حسنہ پیدا ہو جائے گا۔


سوال نمبر 3


جواب 



سوال نمبر 4

جواب 



ب۔ اقتصادی منصوبہ
ایک صحیح و کامل معاشرہ کی پہچان صحیح اقتصاد ہے۔ اگر معاشرہ میں مال و دولت سے صحیح فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع کسی خاص گروہ کے اختیار میں نہ ہوں بلکہ حکومت معاشرہ کے ہر فرد پر توجہ رکھے سب کے لئے ذریعہ معاش فراہم ہو تو ایسے معاشرہ میں انسان کے لئے معنوی ترقی اور رشد کا راستہ مزید ہموار ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی اقتصادی پہلو اور لوگوں کے معاشی نظام پر توجہ کی گئی ہے۔ اس بنا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت اور عالمی اقتصاد اور عوام الناس کے لئے خاص منصوبہ ہو گا جس کی بنیاد پر زراعتی، طبیعی اور خدادادی نعمتوں سے بہتر طور پر فائدہ اُٹھایا جائے گااور اس سے حاصل ہونے والے سرمایہ کو عدل و انصاف کے مطابق معاشرہ کے ہر طبقہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ مناسب ہے کہ ہم ان روایات کا مختصر جائزہ لیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اقتصادی منصوبہ بندی کے بارے میں جان سکیں۔

>
۱۔ طبیعی منابع سے مستفید ہونا
اقتصادی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ خداداد نعمتوں سے صحیح اور بجا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے نہ تو زمین کی تمام خوبیوں سے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی پانی سے زمین کی آبادکاری کے لئے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اور حکومت حق کی برکت سے آسمان سخی ہو کر بارش برسائے گا اور زمین بغیر چون و چرا کے فصل اُگائے گی۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
﴾وَ لَو قَد قَامَ قَائِمُنَا لَاَن زَلَتِ السَّمَائُ قَط رَہَا، وَ لَاَخ رَجَتِ ال اَر ضَ نَبَاتَہٰا۔۔۔۔۔﴿ (بحارالانوار، ج ۰۱، ص ۴۰۱، خصال شیخ صدوق، ص ۶۲۶)
”اور جب قائم آل محمد علیہ السلام قیام کریں گے تو آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین دانہ اُگائے گی........“۔
آخری حجت حق کی حکومت کے زمانہ میں زمین اور اس کے ذرائع امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے اختیار میں ہوں گے تاکہ مکمل اقتصاد کے لئے ایک عظیم سرمایہ جمع ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾........تقویٰ لہ الارض و تظہر لہ الکنوز........﴿ ( کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”زمین ان کے لئے سمٹ جایا کرے گی، (اور وہ پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائیں گے) اور تمام خزانے ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے“۔

۲۔ دولت کی عادلانہ تقسیم
نادرست اقتصاد کی سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ دولت ایک خاص گروہ کے قبضہ میں جمع ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتارہا ہے کہ بعض افراد یا بعض گروہ جو اپنے لئے ( کسی بھی دلیل کے تحت) خاص امتیاز کے قائل تھے اُنہوں نے عمومی مال و دولت پر قبضہ کر لیا اور اس کو ذاتی مفاد یا کسی خاص گروہ کے لئے استعمال کرتے رہے۔ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ایسے لوگوں سے مقابلہ کریں گے اور عمومی مال و دولت کو عام لوگوں کے اختیار میں دیں گے اور ”عدالت علوی“ سب کے سامنے پیش کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اَہ لَ ال بَی تِ قَسَّمَ بِالسَّوِیَّةِ وَ عَدَلَ فِی الرَّع یَةِ﴿ (نعمانی، باب ۳۱، ح ۶۲، ص ۲۴۳)
”جب ہم اہل بیت کا قائم قیام کرے گا تو (مال و دولت کو) برابر تقسیم کرے گا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مساوات اور برابری کے قانون کو نافذ کیا جائے گا اور سب کو انسانی اور الٰہی حقوق دیئے جائیں گے۔اور مال و دولت کی عادلانہ تقسیم ہو گی۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں قیام کرے گا ........ وہ مال و دولت کو صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے سوال کیا: اس کا کیا مقصد ہے؟ تو فرمایا: یعنی لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۱۸)
اور معاشرہ میں اس مساوات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی فقیر یا محتاج نہیں ملے گا اور طبقاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”تمہارے درمیان امام مہدی علیہ السلام ایسی مساوات قائم کریں گے کہ کوئی بھی زکوٰة کا مستحق نہیں مل پائے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۰۹۳)

۳۔ ویرانوں کی آبادکاری
آج کل کی حکومتوں میں صرف انہی لوگوں کی زمین آباد ہوتی ہے جو حکام اور ان کے گرد و نواح والوں اور ان کے ہم فکر لوگ یا بڑے صاحب قدرت لوگ ہوتے ہیں لیکن دوسروں طبقوں کو بھلا دیا جاتا ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام کی کو حکومت میں چونکہ پیداوار اور تقسیم کا مسئلہ حل ہو جائے گا لہٰذا ہر جگہ نعمتیں اور آبادکاری ہو گی اور سب کی زندگی خوشحالی ہوگی سب کے لئے زمین آباد ہوں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہی:﴾.... فلا یبقیٰ فی الارض خزاب الا عمَّ........﴿ (کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”پوری زمین میں کوئی ویرانہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ اس کو آباد کر دیا جائے گا“۔



سوال نمبر 5



۔ معاشرتی منصوبہ بندی
انسانی معاشرہ کی اصلاح کا ایک پہلو صحیح معاشرتی منصوبہ بندی ہے۔ دُنیا کے سب سے بڑے منصف کی حکومت میں معاشرہ کو صحیح ڈگر پر لگانے کے لئے قرآن اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے گی جس کے نافذ ہونے سے انسانی زندگی میں رشد و نمو اور بلند مقام تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ حکومت الٰہی کے تحت اس دُنیا میں نیکیوں کو رائج کیا جائے گا اور برائیوں سے روکا جائے گا اور بدکاروں کے ساتھ قانونی مقابلہ کیا جائے گا، نیز لوگوں کے معاشرتی حقوق مساوات اور عدالت کی بنیاد سے دیئے جائیں گے اور اجتماعی عدالت حقیقی طور پر قائم کی جائے گی۔
قارئین کرام! یہاں پر مناسب ہے کہ ایک نظر ان روایات پر ڈالیں جن میں اس حسین دُنیا کے جلوو ¿ں کا اچھی طرح نظارہ ہو سکے۔

۱۔ وسیع پیمانہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر بہت وسیع پیمانہ پر عمل ہو گا جس کے بارے میں قرآن کریم نے بھی بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اسی بنا پر اُمت اسلامیہ کو منتخب اُمت کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ (سورہ ¿ آل عمران آیت ۰۱۱) جس کے ذریعہ تمام واجبات الٰہی پر عمل ہوںا ہے (اس اہم واجب کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الامر بالمعروف و النہی عن المنکر.... فریضة عظیمة بہا تقام الفرائض، (امر بالعمروف اور نہی عن المنکر ایسے واجبات ہیں کہ جن کے سبب تمام واجبات کا قیام ہے)۔ (میزن الحکمة مترجم، ج ۸، ص ۴۰۷۳) اور اس کا ترک کرنا ہلاکت کا بنیادی رکن، نیکیوں کی نابودی اور معاشرہ میں برائیوں کا پھیلنے کا اصلی سبب ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بہترین اور بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ حکومت کا رئیس اور اس کے عہدے دار نیکیوں کی ہدایت کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اَل مَہ دِیَ وَ اَص حَابُہُ.... یَامُرُو نَ بِال مَع رُو فِ وَیَن ہَو نَ عَنِ ال مُن کِر﴿ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۷۴)
”امام مہدی علیہ السلام اور آپ کے ناصر و مددگار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہوں گے“۔

۲۔ برائیوں کا مقابلہ کرنا
برائیوں سے روکنا جو الٰہی حکومت کا ایک امتیاز ہے صرف زبانی طور پر نہیں ہو گا بلکہ برائیوں سے عملی طور پر مقابلہ ہو گا یہاں تک کہ برائی اور اخلاقی پستی کا معاشرہ میں کوئی وجود نہ ہو گا اور انسانی زندگی برائیوں سے پاک ہو جائے گی۔
جیسا کہ دُعائے ندبہ میں بیان ہوا ہے کہ جو محبوب غائب کے فراق کا درِ دل ہے:
﴾اَی نَ قَاطِع حَبَائِلِ ال کِذ بِ وَال اَف تَرَائِ، اَی نَ طَامِس آثَارِ الزَّی غِ وَال اَہَوَائِ۔﴿(مفاتیح الجنان، دُعائے ندبہ)
”کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رسیوں کا کاٹنے والا ہے؟ اور کہاں ہے جو گمراہی اور ہوا و ہوس کے آثار کو نابود کرنے والا ہے؟“۔

۳۔ حدود الٰہی کا نفاذ
معاشرہ کے شرپسند اور مفسد لوگوں سے مقابلہ کے لئے مختلف راستے اپنائے جاتے ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ایک طرف تو فاسقوں اور شرپسندوں کو ثقافتی پروگرام کے تحت اور تعلیمات الٰہی کے ذریعہ عقائد اور ایمان کی طرف پلٹا دیا جائے گا اور دوسری طرف ان کی زندگی کی جائز اور معقول ضرورتوں کو پورا کرنے اور اجتماعی عدالت نافذ کرنے سے ان کےلئے برائی اور فساد کے راستہ کوبند کر دیا جائے گا لیکن جو لوگ اس کے باوجود بھی دوسروں کے حقوق اور احکام الٰہی کو پامال کر دیں گے اور قوانین کی رعایت نہیں کریں گے تو ان سے سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا تاکہ ان کے راستے بند ہو جائیں اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کی روک تھام ہو سکے جیسا کہ مفسدوں کی سزا کے بارے میں اسلام کے جزائی قوانین میں بیان ہوا ہے۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت (ص) نے امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات بیان کی ہیں، فرماتے ہیں:
”وہ الٰہی حدود کو قائم (اور ان کو نافذ) کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۷۲، ح ۴)

۴۔ منصفانہ فیصلے
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ایسا اہم پروگرام معاشرہ کے ہر پہلو میں عدالت کو نافذ کرنا ہو گا، اور آپ ہی کے ذریعہ پوری دُنیا عدالت اور انصاف سے بھر جائے گی جیسا کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ قضاوت اور فیصلوں میں عدالت کا نافذ ہونا ایک حیاتی ضرورت ہے کیونکہ اسی سلسلہ میں سب سے زیادہ ظلم اور حق تلفی ہوتی ہے کسی کا مال کسی اورکو مل جاتا ہے اور ناحق خون بہانے والے ظالم کو سزا نہیں ملتی، بے گناہ لوگوں کی عزت و آبرو پامال ہوتی ہے ۔ دُنیا بھر کی عدالتوں میں سے سب سے زیادہ ظلم معاشرہ کے کمزور لوگوں پر ہوا ہے اور صاحبان قدرت اور ظالم حکمرانوں کے زیر اثر ان عدالتی فیصلوں میں بہت سے لوگوں کی جان و مال پر ظلم ہوا ہے۔ دُنیا پرست ججوں نے اپنے ذاتی مفاد اور قوم و قبیلہ پرستی کی بنا پر بہت سے غیر منصفانہ فیصلہ کئے ہیں اور ان کو نافذ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کتنے ایسے بے گناہ لوگ ہوں گے جن کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور کتنے ایسے مجرم اور فسادی لوگ ہوں گے جن کے بارے میں قانون جاری نہیں ہوا ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت، تمام ظلم و ستم اور ہر حق تلفی کا خاتمہ کر دے گی۔ آپ کی ذات گرامی جو عدالت پروردگار کی مظہر ہے انصاف کے محکمے قائم کرے گی اور اپنی عدلیہ میں اپنے نیک و صالح قاضی مقرر کرے گی کہ جو خوف خدا رکھنے والے نیز دقیق طور پر حکم نافذ کرنے والے ہوں گے تاکہ دُنیا کے کسی گوشہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ کیاجائے۔حضرت امام رضا علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے سنہرے موقع کی توصیف میں ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
﴾فَاِذَا خَرَجَ اَش رَقَتِ ال اَر ضِ بِنُو رِ رَبَّہَا، وَ وَضَعَ مِی زَانَ ال عَد لِ بَی نَ النَّاسِ فَلَا یَظ لِم اَحَد اَحَداً﴿(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۱۲۳)
جب وہ ظہور کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی میزان قائم کریں گے، پس وہ (ایسی عدالت جاری کریں گے کہ) کوئی کسی دوسرے ر ذرّہ بھی ظلم و ستم نہیں کرے گا“۔
قارئین کرام! اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی حکومت میں محکمہ عدل و انصاف مکمل طور پر نافذ ہو گا جس سے ظالم اور خودغرض انسانوں کے لئے راستے بند ہو جائیں گے اور ظلم و ستم کی تکرار اور دوسرے کے حقوق پر تجاوز کرنے سے روک تھام کی جائے گی۔








چودھویں پی ڈی اف:  👈  مہدویت سے مربوط انحرافات کی نشان دہی




درس کے سوالات اوران کے جوابات:

سوال نمبر 1: مہدویت کے متعلقہ ابحاث میں غلط فہم و ادراک کی تین مثالیں بیان کریں؟


جواب: غیر ضروری بحث کرنا


مہدوی ثقافت میں بہت سے معارف اور تعلیمات ایسی ہیں جن کے سلسلہ میں کوشش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز شیعوں میں مزید علم و آگاہی کے لئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور غیبت کے زمانہ میں ہمارے لئے ایک اہم دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ یا بعض گروہ اپنی گفتگو، مضامین، جرائد اور کانفرنسوں میں غیر ضروری بحث کرتے ہیں کہ جن کی وجہ سے کبھی کبھی منظرین کے ذہنوں میں بعض غلط شبہات اور سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ”امام زمانہ (ع) سے ملاقات“ کی بحث کرنا اور لوگوں کو آپٍعلیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں بہت زیادہ رغبت دلانا جس کے بہت سے غلط اثرات پیدا ہوجاتے ہیں اور نااُمیدی کا سبب اور کبھی تو امام علیہ السلام کے انکار کا باعث ہوتا ہے جبکہ روایات میں اس چیز کی تاکید ہوئی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی مرضی کے مطابق قدم بڑھایا جائے اور رفتار و کردار میں آپعلیہ السلام کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا اہم یہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں انتظار کرنے والوں کے فرائض کو بیان کیا جائے تاکہ اگر امام علیہ السلام سے ملاقات ہو جائے تو اس موقع پر امام علیہ السلام ہم سے راضی اور خوشنود ہیں۔اسی طرح امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی شادی کا مسئلہ، یا آپ کی اولاد کے بارے میں گفتگو، یا آپ کہاں رہتے ہیں وغیرہ، یہ تمام غیر ضروری بحثیں جن کی جگہ ایسی موثر اور مفید بحثوں کو بیان کرنا چاہیے جو منتظرین کے لئے مفید ثابت ہوں، اسی وجہ سے ظہور کی شرائط اور ظہور کی نشانیوں کی بحث مقدم ہے، کیونکہ امام علیہ السلام کے ظہور کے مشتاق افراد کا شرائط سے آگاہ ہونا ان شرائط کو پیدا کرنے میں ترٍغیب کا باعث بنتا ہے۔

امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہدویت کی بحث میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے یعنی کسی ایک موضوع پر بحث کرتے وقت مہدویت کے سلسلہ میں تمام چیزوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ کچھ لوگ بعض روایات کے مطالعہ کے بعد غلط تفسیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دوسری روایات پر نہیںہوتی، مثال کے طور پر بعض روایات میں طولانی جنگ اور قتل و غارت کی خبر دی گئی ہے چنانچہ بعض لوگ صرف انہی روایات کی بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی بہت خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں اور جن روایات میں امام علیہ السلام کی محبت اور مہربانی کا ذکر ہوا ہے اور آپعلیہ السلام کے اخلاق و کردار کو رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کی طرح بیان کیا گیا ہے، ان سے غافل رہتے ہیں ظاہر ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ امام علیہ السلام تمام ہی حق طلب انسانوں سے (اپنے شیعہ اور دوستوں کی بات تو الگ ہے) مہر و محبت اور رحم و کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس آخری ذخیرہ الٰہی کی شمشیر انتقام صرف ظالم و ستمگر اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سروں پر قہر بن کر برسے گی۔
اس گفتگو کی بنا پر مہدویت کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے کافی علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اور جن کے یہاں یہ صلاحیت نہ پائی جاتی ہو تو ان کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے کیونکہ ان کا اس میدان میں وارد ہونا ”مہدوی ثقافت“ کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 2: وقت معین کرنے، جلدی ظہور کی خواہش کرنے، اور ظہورِ کا وقت معین کرنے  کی وضاحت کریں؟

جواب: ظہور کے بارے جلد بازی 

مہدوی ثقافت کے لئے ایک نقصان دہ چیز ”ظہور میں جلد بازی“ ہے، جلد بازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے وقت سے پہلے یا اس کے لئے راستہ ہموار ہونے سے پہلے اس کو طلب کیا جائے، جلد باز انسان نفس کی کمزوری اور کم ظرفیت کی وجہ سے اپنی سنجیدگی اور چین و سکون کو کھو بیٹھتا ہے اور کسی چیز کے شرائط اور حالات پیدا ہونے سے پہلے اس چیز کا خواہاں ہوتا ہے۔
مہدوی ثقافت کے پیش نظر ”امام غائب کے مسئلہ میں“ سب منتظرین ظہور مہدی علیہ السلام کے مشتاق ہیں اور اپنے پورے وجود کے ساتھ ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، اور آپ کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن پھر بھی جلد بازی سے کام نہیں لیتے، اور غیبت کا زمانہ جس قدر طولانی ہوتا جاتا ہے ان کا انتظار بھی طولانی ہوتا رہتا ہے، لیکن پھر بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیںچھوٹتا، بلکہ ظہور کے بہت مشتاق ہونے کے بعد بھی خداوند عالم کے مرضی اور اس کے ارادہ کے سامنے سر تسلیم ختم کرتے ہیں، اور ظہور کے لے لازمی شرائط پیدا کرنے اور راستہ ہموار کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔عبد الرحمن بن کثیر کہتے ہیں: میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ”مہرم“ آئے اور عرض کی: میں آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ جس چیز کے انتظار میں ہم ہیں اس انتظار کی گھڑیاں کب پوری ہوں گی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ”مہرم“ ظہور کے لئے وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں اور جلد بازی کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، اور (اس سلسلہ میں) تسلیم ہونے والے نجات یافتہ ہیں“۔ (اصول کافی، ج ۲، ص ۱۹۱)
ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی سے ممانعت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے انسان میں یاس اور نااُمیدی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے سکون اور اطمینان ختم ہو جاتا ہے اور تسلیم کی حالات، شکوہ اور شکایت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ظہور میں تاخیر کی وجہ سے بےقراری پیدا ہوتی ہے اور یہ بیماری دوسروں تک بھی پہنچ جاتی ہے اور کبھی کبھی ظہور میں جلد بازی کی وجہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود سے انکار کر دیتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کی وجہ یہ ہے کہ انسان یہ نہیں جانتا کہ ظہور الٰہی سنتوں میں سے ایک ہے اور تمام سنتوں کی طرح اس کےلئے بھی شرائط اور حالات ہموار ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کرتا ہے۔

ظہور کے لئے وقت معین کرنا
مہدوی ثقافت کے لئے نقصان دہ ایک چیز یہ ہے کہ انسان امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرے جبکہ ظہور کا زمانہ لوگوں کے کے لئے مخفی ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے لئے وقت معین کرنے سے سخت ممانعت کی گئی ہے اور وقت معین کرنے والوں کو جھوٹا شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت (معین) ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:
”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، (اور امام علیہ السلام نے اس جملہ کی تین بار تکرار فرمائی)“ (غیبت طوسی، ح ۱۱۴، ص ۶۲۴) لیکن پھر بھی بعض لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے ہیں، جس کا کم سے کم (منفی) اثر یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ اس طرح کے جھوٹے وعدوں پر یقین کر لیتے ہیں اور جب وہ پورے نہیں ہوتے تو ان کے اندر یاس اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔
لہذا سچے منتظرین کا فریضہ ہے کہ نادان اور (خود غرض) شکاریوں کے جال سے اپنے کو محفوظ رکھیں اور ظہور کے سلسلہ میں صرف مرضی پروردگار کے منتظر رہیں۔

ظہور کی نشانیوں کو خاص مصادیق پر منطبق کرنا
متعدد روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے بہت سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں لیکن ان کی دقیق اور صحیح کیفیت نیز ان کی خصوصیات روشن نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بعض لوگ اپنے ذاتی نظریات اور احتمالات کو بروئے کار لاتے ہیں اور بعض اوقات ظہور کی نشانیوں کو خاص واقعات پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ذریعہ ظہور کے نزدیک ہونے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی مہدوی ثقافت کے لئے ایک آفت ہے جس کی بنا پر (بھی) انسان یاس اور نااُمیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ”سفیانی“ نام کو کسی علاقہ کے رہنے والے پر صادق مانیں اور ”دجال“ کے بارے میں بغیر دلیل کے گفتگو کی جائے، جس کے بعد سب لوگوں کو یہ بشارت دی جائے کہ اب ظہور امام کا زمانہ نزدیک ہے اور سالوں بعد بھی امام علیہ السلام کا ظہور نہ ہوتو بہت سے لوگ غلط فہمی اور انحراف کے شکار ہو جائیں گے اور اپنے صحیح عقائد میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔

سوال نمبر3: انطباق کے اہم ترین منفی نتائج کیا ہیں؟


جواب: امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا



یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہدویت کی بحث میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے یعنی کسی ایک موضوع پر بحث کرتے وقت مہدویت کے سلسلہ میں تمام چیزوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ کچھ لوگ بعض روایات کے مطالعہ کے بعد غلط تفسیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دوسری روایات پر نہیںہوتی، مثال کے طور پر بعض روایات میں طولانی جنگ اور قتل و غارت کی خبر دی گئی ہے چنانچہ بعض لوگ صرف انہی روایات کی بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی بہت خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں اور جن روایات میں امام علیہ السلام کی محبت اور مہربانی کا ذکر ہوا ہے اور آپعلیہ السلام کے اخلاق و کردار کو رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کی طرح بیان کیا گیا ہے، ان سے غافل رہتے ہیں ظاہر ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ امام علیہ السلام تمام ہی حق طلب انسانوں سے (اپنے شیعہ اور دوستوں کی بات تو الگ ہے) مہر و محبت اور رحم و کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس آخری ذخیرہ الٰہی کی شمشیر انتقام صرف ظالم و ستمگر اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سروں پر قہر بن کر برسے گی۔
اس گفتگو کی بنا پر مہدویت کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے کافی علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اور جن کے یہاں یہ صلاحیت نہ پائی جاتی ہو تو ان کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے کیونکہ ان کا اس میدان میں وارد ہونا ”مہدوی ثقافت“ کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 4: امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ رابطے یا نیابت کے جھوٹے دعویداروں کے مدمقابل امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی توقیع کو مدنظر رکھتے ہوئے شیعوں کا کیا فریضہ ہے؟


جواب: 

انتظار کرنے والے شیعہ کو چاہیے کہ مہدوی ثقافت سے لازمی معرفت حاصل کرنے کے ذریعہ خود کو مکار اور حیلہ باز لوگوں سے محفوظ رکھے اور مومن اور متقی شیعہ علماءکی پیروی کرتے ہوئے مکتب اسلام کے روشن راستہ پر قدم بڑھاتا رہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات