آخری پانچ PDFs اور ان کے سوالات اور ان کے جوابات
علامات ظہور
وہ نشانیاں یا امور جو دنیا میں امام زمان علیہ السلام کے ظہور کو بیان کریں انہیں علائمِ ظہور یا علامات ظہور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
فہرست مندرجات
۱ - ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
۲ - علاماتِ ظہور کی اقسام
۲.۱ - حتمی نشانیاں
۲.۱.۱ - آسمانی گونج دار پکار
۲.۱.۲ - سفیانی کا خروج
۲.۱.۳ - زمین کا دھنس جانا
۲.۱.۴ - نفس زکیہ کا قتل ہونا
۲.۱.۵ - یمانی کا آنا
۲.۲ - دجال
۲.۳ - غیر حتمی نشانیاں
۳ - علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
۴ - حوالہ جات
۵ - مأخذ
ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
[ترمیم]
ظہورِ امام زمان ؑ کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق ہے۔ ذیل میں چند اہم فرق پیش خدمت ہیں:
۱۔ ظہور کا شرائط سے ایک حقیقی و منطقی اور واقعی ربط و تعلق ہے؛ یعنی ظہور اس وقت ہو گا جب ظہور کی شرائط اور اسباب فراہم ہو جائیں۔ جبکہ علاماتِ ظہور اس طرح سے نہیں ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ ظہور کی علامات آشکار نہ ہوں لیکن ظہور ہو جائے جبکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ظہور کی شرائط مہیا نہ ہو اور ظہور ہو جائے۔ بعض علاماتِ ظہور جیسے نفس زکیہ کا قتل ظہور سے پہلے واقع ہو گا اور یہ شرائطِ ظہور کے مہیا ہونے میں مؤثر ہے؛ لیکن اس معنی میں نہیں کہ یہ امام زمان ؑ کے ظہور کی شرط ہے۔
۲۔ جب ظہور کی تمام شرائط فراہم ہو جائیں اور شرائط مکمل ہو جائیں تو امام زمان کا ظہور ہو گا۔ لہذا ظہور کے وقت تمام شرائط موجود ہوں گی۔ جبکہ علاماتِ ظہور میں ایسا ہونا ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ بعض علامات امام زمان ؑ کے ظہور سے پہلے آشکار ہوں گی اور بعض علامات ان کے ظہور کے بعد نمودار ہوں گی۔ [۱]
علاماتِ ظہور کی اقسام
[ترمیم]
آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات علاماتِ ظہور دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ حتمی علامات و نشانیاں
۲۔ غیر حتمی نشانیاں
← حتمی نشانیاں
حتمی نشانیوں سے مراد وہ علامات و نشانیاں ہیں جو ظہور سے پہلے نمودار ہوں گی اور یہ کسی قید و شرط کی پابند نہیں ہیں؛ جبکہ غیر حتمی نشانیاں بعض شرائط کے ساتھ وابستہ ہیں جو موجودہ ہوں تو یہ غیر حتمی نشانیاں ہوں گی۔ ظہور امام زمانؑ کی حتمی علامات کا بیان متعدد روایات میں آیا ہے جن میں سے بعض میں پانچ حتمی علامات کا تذکرہ ہے اور بعض میں تقریبا دس (۱۰) سے کچھ زائد حتمی علامات بیان کی گئی ہیں۔
امام جعفر صادق ؑ سے صحیح السند روایت میں پانچ (۵) حتمی علامات کا تذکرہ وارد ہوا ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں: خَمْسُ عَلَامَاتٍ قَبْلَ قِيَامِ الْقَائِمِ: الصَّيْحَةُ وَالسُّفْيَانِيُّ وَالْخَسْفُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الزَّكِيَّةِ وَالْيَمَانِي؛ قائم کے قیام سے پہلے پانچ (۵) علامات ظاہر ہوں گی: اونچی پکار، سفیانی کا خروج، زمین کا (بیداء کے مقام پر ) دھنس جانا، نفسِ زکیہ کا قتل کر دیا جانا اور یمانی کا آنا۔ [۲] یہ روایت چونکہ صحیح السند ہے اور اس مضمون پر مشتمل متعدد احادیث ہیں اس لیے ان پانچ نشانیوں کے حتمی ہونے پر علماء کا اتفاق ہے۔ علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی ۵۲ نمبر جلد میں ان تمام روایات کو جمع کیا ہے جو ظہور کی علامات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان روایات کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ حتمی علامات تقریبا ۱۰ ہیں جن میں سے پانچ (۵) علامات پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ وہ صحیح السند روایات میں وارد ہوئی ہیں۔[۳][۴] بعض روایات کے مطابق یہ پانچ علامات امام مہدی ؑ کے قیام سے پہلے ظاہر ہوں گی۔ [۵] ذیل میں ہم ان پانچ حتمی علامات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جن کا تذکرہ امام جعفر صادق کی روایت میں وارد ہوا ہے:
←← آسمانی گونج دار پکار
بعض روایات کے مطابق صَیۡحہ ایک آسمانی گونج دار نداء ہو گی جس میں امام مہدیؑ کا نام لیا جائے گا اور مشرق سے لے کر مغرب تک پوری دنیا کے لوگ اس آواز کو سنیں گے۔ یہ آسمانی نداء ماہِ مبارک رمضان میں دی جائے گی اور اس مخلوق کی طرف یہ جناب جبرئیل ؑ کی گونج دار آواز ہو گی۔ [۶][۷]
←← سفیانی کا خروج
ان نشانیوں میں سے اہم ترین علامت سفیانی کا خروج ہے۔ روایات کے مطابق سفیانی ابو سفیان کی نسل سے ایک شخص ہے جو شام سے خروج کرے گا اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کر ڈالے گا۔ [۸] اسی طرح وہ کوفہ و نجف میں شیعوں کو قتل کرے گا اور شیعوں کی مخبری کرنے والے اور ان کو قتل کرنے والے کو انعامات سے نوازے گا۔ روایات کے مطابق سفیانی آٹھ ()۸ مہینے حکومت کرے گا جبکہ بعض میں نو (۹) مہینے کا تذکرہ بھی وارد ہوا ہے۔ علامہ مجلسی نے احتمال دیا ہے کہ اس اختلاف کی بنیادی وجہ تقیہ یا بداء ہے۔[۹] بعض علماء کا کہنا ہے کہ سفیانی کسی ایک فرد کا نام نہیں ہے؛ بلکہ ہر وہ شخص جو اعلانیہ طور پر امام مہدی ؑ کے خلاف خروج کرے وہ سفیانی ہے اور جو اخلاف و اعمال میں ابو سفیان سے مشابہ ہو۔ [۱۰] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی ایک فرد نہیں دو افراد ہیں: ۱۔ ایک زوراء کے علاقے میں قیام کرے گا جوکہ بعض احادیث کے مطابق بغداد کا علاقہ بنتا ہے اور اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا، ۲۔ دوسرا شام میں خروج کرے گا۔[۱۱]
←← زمین کا دھنس جانا
روایات کے مطابق مکہ میں بیداء کے مقام میں سفیانی کا لشکر زمین میں دھنس جائے گا جوکہ حتمی علامات میں سے ہے۔ [۱۲]
←← نفس زکیہ کا قتل ہونا
معتبر روايات میں نفسِ زکیہ کے قتل ہونے کو حتمی علامات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفس زکیہ کون ہے؟ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ ایک پاک و پاکیزہ سید ہے جس کو مکہ مکرمہ میں رکن و مقام کے درمیان شہید کر دیا جائے گا۔ نفس زکیہ کا قتل ہونا حتمی علامات میں سے ہے۔[۱۳][۱۴] ایک روایت کے مطابق نفسِ زکیہ کی شہادت کے پندرہ دن بعد امام زمان ؑ ظہور فرمائیں گے۔ [۱۵] بعض جگہ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ امام زمان ؑ کے سفیر ہوں گے اور ان کی طرف سے مکہ کے لوگوں کی طرف سفیر بنا کر بھیجے جائیں گے۔[۱۶] کچھ روایات میں وارد ہوا ہے کہ وہ امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے ہوں گے اور کچھ روایات میں مطابق وہ امام حسین ؑ کی نسل سے ہوں گے۔ جب سفیانی مدینہ کی طرف خروج کرے گا اور لوگوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرے گا تاکہ لشکرِ سفیانی مدینہ پہنچ سکے تو نفس زکیہ مکہ جائیں گے اور لوگوں کو دعوتِ ہدایت دیں گے جس کے نتیجے میں ذی الحج کے مہینے میں مراسمِ حج کے بعد بیت اللہ اور حرمِ امن میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے انہیں قتل کر دیا جائے گا۔[۱۷]
←← یمانی کا آنا
یمانی کا آنا حتمی علامات میں سے ہے۔ یمانی ایک مومن شخص ہے جس کا تعلق یمن سے ہے اور یہی سے وہ خروج کریں گے۔ روایات کے مطابق جس سال اور مہینے میں سفیانی خروج کرے گا اسی سال، مہینے اور اسی دن یمانی کا بھی خروج ہو گا۔ [۱۸] یمانی حق کا پرچم بلند کرے گا اور لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف بلائے گا اور روایات میں یمانی کی حمایت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [۱۹]
← دجال
بعض روایات کے مطابق دجال کا خروج بھی ظہور کی علامات میں سے ہے جبکہ بعض کے مطابق اسے قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح امام مہدی ؑ کا ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اسی طرح قیامت کی دیگر علامات میں سے ایک دجال کا خروج ہے۔[۲۰][۲۱] البتہ دجال کے موضوع پر وارد ہونے والی اکثر روایات ضعیف ہیں یا اہل سنت طریق سے وارد ہوئی ہیں۔ اس لیے بعض محققین نے دجال کے وجود پر شک کا اظہار کیا ہے۔ اہل سنت طریق سے کثیر روایات دجال کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جوکہ رسول اللہ ؐ سے منقول ہیں۔ ان میں سے بعض روایات بالاتفاق جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ [۲۲]
لغت میں دجال کا مطلب فریب کار، دھوکہ باز انسان کے ہیں جو حق کو اختیار نہیں کرتا اور معاشرے میں باطل کی ترویج کرتا ہے۔ [۲۳] ظاہرِ روایات کے مطابق دجال ایک ظالم جابر سنگ دل انسان ہے جو لوگوں کو دھوکہ و فریب دیتا ہے اور معاشرے میں برائیاں پھیلاتا ہے۔ ظہور کے وقت دجال بہت سے لوگوں کو فریب دے کر حق سے دور کر دے گا۔ بعض محققین قائل ہیں کہ دجال ایک شخص نہیں ہے بلکہ روایات میں جس کا تذکرہ آیا ہے اس کے مطابق ہزاروں دجال ہیں جن میں دجالی صفات پائی جاتی ہیں۔ جب امامؑ کا ظہور ہو گا تو تقریبا ستر (۷۰) دجال خروج کریں گے۔ البتہ اکثر و بیشتر روایات جن میں دجال کا ذکر آیا ہے ضعیف اور غیر معتبر روایات ہیں۔ [۲۴][۲۵] بعض معاصر علماء معتقد ہیں کہ دجال دنیا بھر میں کفر اور مادی ثقافت کے تسلط سے کنایہ ہے جس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں فکری، سیاسی اور اقتصادی انحراف پھیل جائے اور دنیا شیطانی تسلط کے مکمل کنٹرول میں آ جائے۔[۲۶]
← غیر حتمی نشانیاں
بعض علامات غیر حتمی ہیں جن کا واقع ہونا ممکن بھی ہے اور ہو سکتا ہے وہ برپا نہ ہوں۔ روایات میں غیر حتمی علامات کی طویل فہرست وارد ہوئی ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں: یاجوج و ماجوج کا آنا، ماہِ رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا لگنا،[۲۷] آسمان میں آگ کا ظاہر ہونا، [۲۸] شام میں بڑے زلزلے کا آنا،[۲۹] دنیا بھر کا جنگ کی لپیٹ میں آنا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا قتل ہونا [۳۰] قم میں وسیع پیمانے میں علم و دانش پھیل جائے گا یہاں تک وہ علم کا خزانہ اور معدن بن جائے گا،[۳۱] ظلم و فساد کا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا۔ [۳۲]
علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
[ترمیم]
ظہورِ امام مہدیؑ کی شرائط اور علامات میں فرق ہے۔ اگر شرائط مہیا نہ ہوں تو ظہور نہیں ہو گا جبکہ علامات کے بغیر ظہور ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علاماتِ ظہور کا اصلًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا تو روایات میں اس کا اس قدر طویل تذکرہ وارد نہ ہوتا۔ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو درج ذیل فوائد ہمارے سامنے اجاگر ہوتے ہیں:
۱۔ یہ علامات اور نشانیاں امام زمانؑ کی عظمت و جلالت اور بلند و بزرگ اہداف کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالی نے قرار دیئے ہیں۔ ایک ذات کے آنے سے پہلے پوری کائنات میں اس کے لیے آمادگی اور تیاری اس ذات کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔
۲. ان علامات کے ذریعے دشمنانِ اسلام کے دلوں پر رعب و دبدبہ اور وحشت طاری ہو جائے گی۔
۳. امام زمانؑ کے ماننے والوں کے لیے یہ علامات بشارت کا بیغام بن جائیں گے اور ان کے دلوں کی قوت کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے وہ بآسانی اپنے آپ کو امام زمانؑ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
علامات ظہور امام مہدی علیہ السلام
### زمانہ ظہور میں حضرت کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاء سے کیا مراد ہے؟
زمانہ ظہور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاء سے مراد یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور اہل بیت کی سنتوں کو پوری طرح زندہ کرنا اور انہیں معاشرتی، ثقافتی، اقتصادی اور معاشرتی امور میں بنیاد بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی احکامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور سوسائٹی کو ان اصولوں پر استوار کیا جائے گا جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔
### امام باقر علیہ السلام کی حدیث مبارک میں جملہ "وضع یدہ علی رو ¿س العباد...." سے کیا مراد ہے؟
اس حدیث میں "وضع یدہ علی رو ¿س العباد...." سے مراد یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کے دلوں اور عقلوں پر اثر انداز ہوں گے، ان کی ہدایت اور روحانی بصیرت کو بڑھائیں گے۔ اس عمل سے ان کی فکری اور اخلاقی حالت بہتر ہوگی، اور وہ ایک معاشرتی اور روحانی تجدید کا سبب بنے گا۔
### جملہ "تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز" کا معنی بیان کریں؟
"تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز" کا معنی ہے کہ زمین اپنے خزانے امام مہدی علیہ السلام کے لئے ظاہر کر دے گی اور زمینی فاصلے ان کے لئے سمٹ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے طبیعی وسائل کا استعمال اور تقسیم ان کی قیادت میں بہترین اور موثر طریقے سے ہوگا۔
### امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز کی ان کے موارد کے تذکرہ کے ساتھ وضاحت کریں؟
امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز میں شامل ہیں:
1. **طبیعی منابع سے مستفید ہونا**: امام زمانہ زمین کے طبیعی وسائل کو فعال طور پر استعمال کریں گے، جیسے زراعت اور معدنیات۔
2. **دولت کی عادلانہ تقسیم**: معاشرے میں دولت کو عادلانہ طور پر تقسیم کرنا، تاکہ ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور معاشرتی عدل قائم ہو۔
3. **ویرانوں کی آبادکاری**: زمین کے وسیع حصوں کو آباد کرنا، جس سے معاشرتی و اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔
### امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے اہم ترین اصلاحی اور معاشرتی پروگرامز میں سے تین کی مثالیں بیان کریں؟
بالکل، ایک مختصر جواب کے مطابق:
زمانہ ظہور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اہم ترین پروگراموں میں ثقافتی، اقتصادی، اور معاشرتی منصوبے شامل ہیں، جو کہ دنیا بھر میں عدل و انصاف کی استقراری کے لئے نہایت اہم ہیں۔
**ثقافتی پروگرامز** میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا احیاء، اخلاقی ترقی، اور علم کی وسعت شامل ہیں۔
**اقتصادی پروگرامز** میں زمینی وسائل کا موثر استعمال، دولت کی عادلانہ تقسیم، اور معاشی ترقی کو فروغ دینا شامل ہیں۔
**معاشرتی پروگرامز** میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فعال نفاذ، حدود الٰہی کا قیام، اور منصفانہ فیصلے شامل ہیں، جس سے معاشرہ میں اخلاق و انصاف مضبوط ہوں گے۔
یہ پروگرامز عدل و انصاف کی حکومت کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہیں اور ظہور کے بعد کے لیے معاشرتی اور اخلاقی ہدایت فراہم کرتے ہیں۔
نوٹ یہ سبق سے سوالات کے جوابات
حضرت علی علیہ السلام اپنے عظیم الشان کلام میں امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں کہ جب انسان کی ہوائے نفس (انسان پر) حکومت کرے گی، امام مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور ہوائے نفس کی جگہ ہدایت اور فلاح کی حکومت قرار پائے گی اور جس زمانہ میں اپنی ذاتی رائے قرآن پر مقدم ہو چکی ہو گی اس موقع پر افکار قرآن کی طرف متوجہ ہوں گے اور معاشرہ میں قرآن ہی کی حکومت ہو گی“۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۸۳۱)
نیز ایک دوسری جگہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں انسانی معاشرہ میں قرآن پر عمل درآمد ہونے کے سلسلہ میں یہ بشارت دیتے ہیں:
”گویا میں اسی وقت اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں جو مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے بیٹھے ہیں اور قرآن جس طرح سے نازل ہوا بالکل اسی طرح لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں........“۔(غیبت نعمانی، باب ۱۲، ح ۳، صفحہ ۳۳۳)
اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کی تعلیم دینا، قرآنی ثقافت کے رائج ہونے دراصل انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن و اسلامی احکام کی حکمرانی کا نقطہ ¿ آغاز ہے۔
ایک صحیح و کامل معاشرہ کی پہچان صحیح اقتصاد ہے۔ اگر معاشرہ میں مال و دولت سے صحیح فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع کسی خاص گروہ کے اختیار میں نہ ہوں بلکہ حکومت معاشرہ کے ہر فرد پر توجہ رکھے سب کے لئے ذریعہ معاش فراہم ہو تو ایسے معاشرہ میں انسان کے لئے معنوی ترقی اور رشد کا راستہ مزید ہموار ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی اقتصادی پہلو اور لوگوں کے معاشی نظام پر توجہ کی گئی ہے۔ اس بنا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت اور عالمی اقتصاد اور عوام الناس کے لئے خاص منصوبہ ہو گا جس کی بنیاد پر زراعتی، طبیعی اور خدادادی نعمتوں سے بہتر طور پر فائدہ اُٹھایا جائے گااور اس سے حاصل ہونے والے سرمایہ کو عدل و انصاف کے مطابق معاشرہ کے ہر طبقہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ مناسب ہے کہ ہم ان روایات کا مختصر جائزہ لیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اقتصادی منصوبہ بندی کے بارے میں جان سکیں۔
>
۱۔ طبیعی منابع سے مستفید ہونا
اقتصادی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ خداداد نعمتوں سے صحیح اور بجا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے نہ تو زمین کی تمام خوبیوں سے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی پانی سے زمین کی آبادکاری کے لئے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اور حکومت حق کی برکت سے آسمان سخی ہو کر بارش برسائے گا اور زمین بغیر چون و چرا کے فصل اُگائے گی۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
﴾وَ لَو قَد قَامَ قَائِمُنَا لَاَن زَلَتِ السَّمَائُ قَط رَہَا، وَ لَاَخ رَجَتِ ال اَر ضَ نَبَاتَہٰا۔۔۔۔۔﴿ (بحارالانوار، ج ۰۱، ص ۴۰۱، خصال شیخ صدوق، ص ۶۲۶)
”اور جب قائم آل محمد علیہ السلام قیام کریں گے تو آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین دانہ اُگائے گی........“۔
آخری حجت حق کی حکومت کے زمانہ میں زمین اور اس کے ذرائع امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے اختیار میں ہوں گے تاکہ مکمل اقتصاد کے لئے ایک عظیم سرمایہ جمع ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾........تقویٰ لہ الارض و تظہر لہ الکنوز........﴿ ( کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”زمین ان کے لئے سمٹ جایا کرے گی، (اور وہ پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائیں گے) اور تمام خزانے ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے“۔
۲۔ دولت کی عادلانہ تقسیم
نادرست اقتصاد کی سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ دولت ایک خاص گروہ کے قبضہ میں جمع ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتارہا ہے کہ بعض افراد یا بعض گروہ جو اپنے لئے ( کسی بھی دلیل کے تحت) خاص امتیاز کے قائل تھے اُنہوں نے عمومی مال و دولت پر قبضہ کر لیا اور اس کو ذاتی مفاد یا کسی خاص گروہ کے لئے استعمال کرتے رہے۔ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ایسے لوگوں سے مقابلہ کریں گے اور عمومی مال و دولت کو عام لوگوں کے اختیار میں دیں گے اور ”عدالت علوی“ سب کے سامنے پیش کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اَہ لَ ال بَی تِ قَسَّمَ بِالسَّوِیَّةِ وَ عَدَلَ فِی الرَّع یَةِ﴿ (نعمانی، باب ۳۱، ح ۶۲، ص ۲۴۳)
”جب ہم اہل بیت کا قائم قیام کرے گا تو (مال و دولت کو) برابر تقسیم کرے گا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مساوات اور برابری کے قانون کو نافذ کیا جائے گا اور سب کو انسانی اور الٰہی حقوق دیئے جائیں گے۔اور مال و دولت کی عادلانہ تقسیم ہو گی۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں قیام کرے گا ........ وہ مال و دولت کو صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے سوال کیا: اس کا کیا مقصد ہے؟ تو فرمایا: یعنی لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۱۸)
اور معاشرہ میں اس مساوات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی فقیر یا محتاج نہیں ملے گا اور طبقاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”تمہارے درمیان امام مہدی علیہ السلام ایسی مساوات قائم کریں گے کہ کوئی بھی زکوٰة کا مستحق نہیں مل پائے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۰۹۳)
۳۔ ویرانوں کی آبادکاری
آج کل کی حکومتوں میں صرف انہی لوگوں کی زمین آباد ہوتی ہے جو حکام اور ان کے گرد و نواح والوں اور ان کے ہم فکر لوگ یا بڑے صاحب قدرت لوگ ہوتے ہیں لیکن دوسروں طبقوں کو بھلا دیا جاتا ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام کی کو حکومت میں چونکہ پیداوار اور تقسیم کا مسئلہ حل ہو جائے گا لہٰذا ہر جگہ نعمتیں اور آبادکاری ہو گی اور سب کی زندگی خوشحالی ہوگی سب کے لئے زمین آباد ہوں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہی:﴾.... فلا یبقیٰ فی الارض خزاب الا عمَّ........﴿ (کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”پوری زمین میں کوئی ویرانہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ اس کو آباد کر دیا جائے گا“۔
انسانی معاشرہ کی اصلاح کا ایک پہلو صحیح معاشرتی منصوبہ بندی ہے۔ دُنیا کے سب سے بڑے منصف کی حکومت میں معاشرہ کو صحیح ڈگر پر لگانے کے لئے قرآن اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے گی جس کے نافذ ہونے سے انسانی زندگی میں رشد و نمو اور بلند مقام تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ حکومت الٰہی کے تحت اس دُنیا میں نیکیوں کو رائج کیا جائے گا اور برائیوں سے روکا جائے گا اور بدکاروں کے ساتھ قانونی مقابلہ کیا جائے گا، نیز لوگوں کے معاشرتی حقوق مساوات اور عدالت کی بنیاد سے دیئے جائیں گے اور اجتماعی عدالت حقیقی طور پر قائم کی جائے گی۔
قارئین کرام! یہاں پر مناسب ہے کہ ایک نظر ان روایات پر ڈالیں جن میں اس حسین دُنیا کے جلوو ¿ں کا اچھی طرح نظارہ ہو سکے۔
۱۔ وسیع پیمانہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر بہت وسیع پیمانہ پر عمل ہو گا جس کے بارے میں قرآن کریم نے بھی بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اسی بنا پر اُمت اسلامیہ کو منتخب اُمت کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ (سورہ ¿ آل عمران آیت ۰۱۱) جس کے ذریعہ تمام واجبات الٰہی پر عمل ہوںا ہے (اس اہم واجب کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الامر بالمعروف و النہی عن المنکر.... فریضة عظیمة بہا تقام الفرائض، (امر بالعمروف اور نہی عن المنکر ایسے واجبات ہیں کہ جن کے سبب تمام واجبات کا قیام ہے)۔ (میزن الحکمة مترجم، ج ۸، ص ۴۰۷۳) اور اس کا ترک کرنا ہلاکت کا بنیادی رکن، نیکیوں کی نابودی اور معاشرہ میں برائیوں کا پھیلنے کا اصلی سبب ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بہترین اور بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ حکومت کا رئیس اور اس کے عہدے دار نیکیوں کی ہدایت کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اَل مَہ دِیَ وَ اَص حَابُہُ.... یَامُرُو نَ بِال مَع رُو فِ وَیَن ہَو نَ عَنِ ال مُن کِر﴿ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۷۴)
”امام مہدی علیہ السلام اور آپ کے ناصر و مددگار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہوں گے“۔
۲۔ برائیوں کا مقابلہ کرنا
برائیوں سے روکنا جو الٰہی حکومت کا ایک امتیاز ہے صرف زبانی طور پر نہیں ہو گا بلکہ برائیوں سے عملی طور پر مقابلہ ہو گا یہاں تک کہ برائی اور اخلاقی پستی کا معاشرہ میں کوئی وجود نہ ہو گا اور انسانی زندگی برائیوں سے پاک ہو جائے گی۔
جیسا کہ دُعائے ندبہ میں بیان ہوا ہے کہ جو محبوب غائب کے فراق کا درِ دل ہے:
﴾اَی نَ قَاطِع حَبَائِلِ ال کِذ بِ وَال اَف تَرَائِ، اَی نَ طَامِس آثَارِ الزَّی غِ وَال اَہَوَائِ۔﴿(مفاتیح الجنان، دُعائے ندبہ)
”کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رسیوں کا کاٹنے والا ہے؟ اور کہاں ہے جو گمراہی اور ہوا و ہوس کے آثار کو نابود کرنے والا ہے؟“۔
۳۔ حدود الٰہی کا نفاذ
معاشرہ کے شرپسند اور مفسد لوگوں سے مقابلہ کے لئے مختلف راستے اپنائے جاتے ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ایک طرف تو فاسقوں اور شرپسندوں کو ثقافتی پروگرام کے تحت اور تعلیمات الٰہی کے ذریعہ عقائد اور ایمان کی طرف پلٹا دیا جائے گا اور دوسری طرف ان کی زندگی کی جائز اور معقول ضرورتوں کو پورا کرنے اور اجتماعی عدالت نافذ کرنے سے ان کےلئے برائی اور فساد کے راستہ کوبند کر دیا جائے گا لیکن جو لوگ اس کے باوجود بھی دوسروں کے حقوق اور احکام الٰہی کو پامال کر دیں گے اور قوانین کی رعایت نہیں کریں گے تو ان سے سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا تاکہ ان کے راستے بند ہو جائیں اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کی روک تھام ہو سکے جیسا کہ مفسدوں کی سزا کے بارے میں اسلام کے جزائی قوانین میں بیان ہوا ہے۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت (ص) نے امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات بیان کی ہیں، فرماتے ہیں:
”وہ الٰہی حدود کو قائم (اور ان کو نافذ) کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۷۲، ح ۴)
۴۔ منصفانہ فیصلے
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ایسا اہم پروگرام معاشرہ کے ہر پہلو میں عدالت کو نافذ کرنا ہو گا، اور آپ ہی کے ذریعہ پوری دُنیا عدالت اور انصاف سے بھر جائے گی جیسا کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ قضاوت اور فیصلوں میں عدالت کا نافذ ہونا ایک حیاتی ضرورت ہے کیونکہ اسی سلسلہ میں سب سے زیادہ ظلم اور حق تلفی ہوتی ہے کسی کا مال کسی اورکو مل جاتا ہے اور ناحق خون بہانے والے ظالم کو سزا نہیں ملتی، بے گناہ لوگوں کی عزت و آبرو پامال ہوتی ہے ۔ دُنیا بھر کی عدالتوں میں سے سب سے زیادہ ظلم معاشرہ کے کمزور لوگوں پر ہوا ہے اور صاحبان قدرت اور ظالم حکمرانوں کے زیر اثر ان عدالتی فیصلوں میں بہت سے لوگوں کی جان و مال پر ظلم ہوا ہے۔ دُنیا پرست ججوں نے اپنے ذاتی مفاد اور قوم و قبیلہ پرستی کی بنا پر بہت سے غیر منصفانہ فیصلہ کئے ہیں اور ان کو نافذ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کتنے ایسے بے گناہ لوگ ہوں گے جن کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور کتنے ایسے مجرم اور فسادی لوگ ہوں گے جن کے بارے میں قانون جاری نہیں ہوا ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت، تمام ظلم و ستم اور ہر حق تلفی کا خاتمہ کر دے گی۔ آپ کی ذات گرامی جو عدالت پروردگار کی مظہر ہے انصاف کے محکمے قائم کرے گی اور اپنی عدلیہ میں اپنے نیک و صالح قاضی مقرر کرے گی کہ جو خوف خدا رکھنے والے نیز دقیق طور پر حکم نافذ کرنے والے ہوں گے تاکہ دُنیا کے کسی گوشہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ کیاجائے۔حضرت امام رضا علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے سنہرے موقع کی توصیف میں ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
﴾فَاِذَا خَرَجَ اَش رَقَتِ ال اَر ضِ بِنُو رِ رَبَّہَا، وَ وَضَعَ مِی زَانَ ال عَد لِ بَی نَ النَّاسِ فَلَا یَظ لِم اَحَد اَحَداً﴿(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۱۲۳)
جب وہ ظہور کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی میزان قائم کریں گے، پس وہ (ایسی عدالت جاری کریں گے کہ) کوئی کسی دوسرے ر ذرّہ بھی ظلم و ستم نہیں کرے گا“۔
قارئین کرام! اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی حکومت میں محکمہ عدل و انصاف مکمل طور پر نافذ ہو گا جس سے ظالم اور خودغرض انسانوں کے لئے راستے بند ہو جائیں گے اور ظلم و ستم کی تکرار اور دوسرے کے حقوق پر تجاوز کرنے سے روک تھام کی جائے گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں