آخری پانچ PDFs مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

 کورس ون 


مہدوی معارف پر ابتدائی کورس (مہدویت نامہ)

دسویں پی ڈی ایف:  👈 شرائط و علائم ظہور



نوٹ: کتابچہ 10 شرائط و علامات ظہور ( کورس ٹو) اور دسواں درس شرائط و علائم ظہور (کورس)



مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

مہدویت نامہ
 

دسواں درس

شرائط و علائم ظہور

مقاصد:

۱۔ظہور کے اسباب کی معرفت
۲۔ حضرت (عج) کے ظہور کی نشانیوں سے آگاہی

فوائد:

۱۔ ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے انسان کے رویہ اورکردار پر توجہ
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی علامات کے بارے آگاہی
۳۔ مہدی ہونے کے جھوٹے دعویداروں کی تکذیب کرن

تعلیمی مطالب:

۱۔ مقدمہ
ظہور سے پہلے کی دُنیا کے حالات پر ایک نگاہ
۲۔ شرائط اور علامات سے مراد اور ان دونوں میں فرق
۳۔ ظہور کی شرائط اور اسباب (وہ چیزیں جو ظہور کے متحقق ہونے میں دخالت رکھتی ہیں)
۴۔ ظہور کی علامات اور نشانیاں (یقینی اور غیر یقینی نشانیاں)

دُنیا کے حالات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے

قارئین کرام! ہم نے گذشتہ ابحاث میں امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت اور اس کے فلسفہ کے بارے بیان کیا ہے، کہ خدا کی آخری حجت غائب ہے یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا راستہ ہموار ہو جائے گا تو وہ ظہور فرمائیں گے اور دُنیا کو براہ راست ہدایت سے فیضیاب فرمائیں گے اگرچہ غیبت کے زمانہ میں بشریت اس طرح عمل کر سکتی ہے جس سے امام علیہ السلام کے ظہور کا راستہ جلد از جلد ہموار ہو جائے لیکن شیطان اور ہوائے نفس کی پیروی اور قرآن کی صحیح تربیت سے دور رہنے نیز معصومین علیہم السلام کی ولایت اور رہبری کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے غلط راستہ پر چل پڑی ہے اور ہر روز دُنیا میں ظلم و ستم کی نئی بنیاد رکھی جاتی ہے اور دُنیا بھر میں ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے، بشریت اس راستہ کے انتخاب سے ایک بہت بُرے انجام کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، ظلم و جور سے بھری دُنیا، جس میں فساد اور تباہی، اخلاقی و نفسیاتی امن و امان سے خالی زمانہ، معنویت اور پاکیزگی سے خالی زندگی، ظلم و ستم سے لبریز معاشرہ کہ جس میں ماتحت لوگوں کے حقوق کی پامالی وغیرہ نہ ہو۔ یہ چیزیں غیبت کے زمانہ میں انسان کا نامہ اعمال ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں صدیوں پہلے معصومین علیہم السلام نے پشین گوئی فرمائی تھی اور اس زمانہ کی سیاہ تصویر پیش کی تھی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ہو رہا ہے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، ہوا و ہوس کی بنا پر تفسیر کی جا رہی ہے، اہل باطل، حق پرستوں پر سبقت لے رہے ہیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ہو رہے ہیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رہی ہے، نیکیوں کا راستہ خالی ہو رہا ہے اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، حلال، حرام ہو رہا ہے اور حرام، حلال شمار کیا جا رہا ہے، بہت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناہوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جا رہا ہے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ہے، نا درست کھیل اس قدر رائج ہو چکے ہوں کہ کوئی بھی انکی روک تھام کی جرا ت نہیں کرتا، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ہے، ریاکاری کےلئے خانہ خدا کا حج کیا جا رہا ہے، لوگ سنگدل ہو رہے ہیں، (محبت کا جنازہ نکل رہا ہے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، ہر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ہو رہی ہے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ہو رہے ہیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا کہ ظہور کا زمانہ نزدیک ہے۔ (کافی، ج ۷، ص ۸۲)
البتہ ظہور سے پہلے کی یہ سیاہ تصویر اکثر لوگوں کی ہو گی، کیونکہ اس زمانہ میں بھی بعض مومنین ایسے ہوں گے جو خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پیمان پر باقی ہوں گے اور اپنے دینی عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوں گے وہ زمانہ کے رنگ میں نہیں رنگے جائیں گے اور اپنی زندگی کا انجام برا نہیں کریں گے، یہ افراد خداوند عالم کے بہترین بندے اور آئمہ علیہم السلام کے سچے شیعہ ہوں گے جن کے بارے میں روایات میں مدح و تعریف ہوئی ہے، یہ لوگ خود بھی نیک ہوں گے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوں گے، کیونکہ وہ اس بات میں بہتری سمجھتے ہیں کہ نیکیوں اور خوبیوں کو رائج کرنے اور ایمان کے عطر سے ماحول کو خوشگوار بنانے سے نیکیوں کے امام کا ظہور جلد ہو سکتا ہے اور ان کے قیام اور حکومت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ برائیوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب مصلح اور موعود کے ناصر و مددگار ہوں۔
اور ہمارا پیش کردہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل برعکس ہے جس میں برائیوں کے پھیلانا ظہور میں جلدی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ کیا واقعاً یہ بات قابل قبول ہے کہ مومنین برائیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کریں تاکہ معاشرہ میں برائیاں پھیلتی رہیں اور اس طرح امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا راستہ فراہم ہو؟ کیا نیکیوں اور فضائل کا رائج کرنا امام علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کا سبب نہیں قرار پائے گا؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فرض ہے جو ہر مسلمان پر یقینی طور پر واجب ہے جس کو کسی بھی زمانہ میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لئے برائیوں اور ظلم و ستم کو پھیلانا کس طرح سبب بن سکتا ہے؟جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:”اس (مسلمان) اُمت کے آخر میں ایک ایسی قوم آئے گی جن کا اجر و ثواب صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہو گا، وہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیتے ہوں گے اور فتنہ و فساد اور برائیوں کا مقابلہ کرتے ہوں گے“۔ (معجم احادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج۱، ص ۹۴)
جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ دُنیا ظلم و ستم سے بھر جائےگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان ظالم بن جائیں گے بلکہ خدائی راستہ پر چلنے والے موجود ہوں گے اور مختلف معاشروں میں اخلاقی فضائل کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہٰذا ظہور سے قبل کا زمانہ اگرچہ ایک تلخ زمانہ ہوگا لیکن ظہور کے شیرین زمانہ پر ختم ہو گا، اگرچہ وہ ظلم و ستم اور برائیوں کا زمانہ ہو گا لیکن اس زمانہ میں پاک رہنا اور دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا منتظرین کا لازمی فریضہ ہو گا، اور قائم آل محمد علیہم السلام کے ظہور میں براہ راست مو ثر ہو گا۔ اس حصہ کو حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے کلام پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:”ہمیں اپنے شیعوں سے کوئی چیز دور نہیں رکھتی مگر ان کے (برے) اعمال جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہم ان اعمال کو پسند نہیں کرتے اور ان کے لئے ایسا مناسب بھی نہیں سمجھتے ہیں“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۲۰۶)

ظہور کا راستہ ہموار کرنے کے اسباب اور ظہور کی نشانیاں

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کچھ نشانیاں اور شرائط ہین جن کو ظہور کے اسباب اور ظہور کی نشانیوں کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اسباب کا مہیا ہونا ظہور میں واقعی طور پر اثر رکھتا ہے اس طرح کہ ان اسباب کے ہموار کرنے سے امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا اور ان کے بغیر ظہور نہیں ہو سکتا لیکن علامات اور نشانیاں ظہور میں کوئی اثر نہیں رکھتی بلکہ صرف ظہور کی نشانی ہیں جن کے ذریعہ ظہور کے زمانہ یا ظہور کے قریب ہونے کو پہچانا جا سکتا ہے۔
مذکورہ فرق کے پیش نظر بخوبی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ظہور کی شرائط اور اسباب کا مہیا ہونا نشانیوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا نشانیوں کو تلاش کرنے سے پہلے ان شرائط پر توجہ کریں اور اپنی طاقت کے لحاظ سے ان شرائط کے پیدا کرنے کے لئے کو شش کریں، اسی وجہ سے ہم پہلے ظہور کے اسباب مہیا ہونے اور ظہور کی شرائط کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں اور آخر میں ظہور کی نشانیوں کو مختصر طور پر بیان کریں گے۔

ظہور کی شرائط اور اسباب

کائنات کی ہر چیز اپنی شرائط اور اپنے اسباب مہیا ہونے سے وجود میں آ جاتی ہے۔ اور ان کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آتی، ہر زمین دانہ کی پروش کی لیاقت نہیں رکھتی اور ہر طرح کی آب و ہوا ہر گل و سبزہ کی رشد و نمو کے لئے مناسب نہیں ہے، ایک کاشتکار زمین سے اسی وقت اچھی فصل کاٹنے کا منتظر ہو سکتا ہے جب اس نے فصل کاٹنے کی لازمی شرائط کو پورا کیا ہو۔
اسی بنیاد پر ہر انقلاب اور اجتماعی واقعہ بھی شرائط اور اسباب کے مہیا ہونے پر موقوف ہوتا ہے، جس طرح سے ایران کا اسلامی انقلاب بھی شرائط اور اسباب کے ہموار ہونے کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عالمی انقلاب کہ جو دُنیا کا سب سے بڑا انقلاب ہو گا، بھی اسی قانون کے تحت ہے اور جب تک اس کے اسباب اور شرائط پورے نہ ہو جائیں اس وقت تک واقع نہیں ہو سکتا۔
اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ تصور نہ آئے کہ قیام اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا مسئلہ نظام خلقت سے الگ ہے اور آپ کی اصلاحی تحریک ہی معجزہ کی بنا پر اور اسباب و علل کے بغیر واقع ہو گی، بلکہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سنت الٰہی یہ ہے کہ کائنات کے تمام امور عموماً اسباب و عمل کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”خداوند عالم تمام چیزوں کو فقط اسباب و علل کے تحت انجام دیتا ہے“۔ (میزان الحکمة، ج۵، ح ۶۶۱۸)
ایک روایت میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ کسی شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کیا:
”کہتے ہیں کہ جب امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا ظہور ہو گا تو تمام امور ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے“۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر طے یہ ہو کہ ہر کسی کا کام خود بخود ہو جایا کرتا تو پھر ایسا رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے ہونا چاہیے تھا“۔ (غےبت نعمانی، باب ۵۱، ح ۲)
البتہ مذکورہ گفگتو کے یہ معنی نہیں ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت غیبی اور آسمانی امداد نہیں ہو گی بلکہ مقصد یہ ہے کہ غیبی امداد کے ساتھ ساتھ عام شرائط اور حالات کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔
اس تمہید کے پیش نظر ضروری ہے کہ پہلے ظہور کی شرائط کو پہچانا جائے اور پھر ان کو ہموار کرنے کے لئے کوشش کریں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قیام اور عالمی انقلاب کی اہم ترین شرائط اور اسباب میں سے درج ذیل چار چیزیں ہیں جن کے بارے میں الگ الگ بحث کی جاتی ہے۔

الف: منصوبہ بندی

یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہر اصلاحی تحریک میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے:
۱۔ معاشرہ میں موجود برائیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک مکمل منصوبہ بندی۔
۲۔ معاشرہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مکمل اور مناسب قوانین جو حکومت کے عادلانہ نظام میں تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کا ضامن ہو اور اس کی بنا پر معاشرہ ترقی کرکے اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے۔ قرآن کریم کی تعلیمات اور سنت معصومین علیہم السلام کہ جو حقیقی اسلامی ہے، بہترین قانون کے عنوان سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے پاس ہو گی اور آپ اس الٰہی جاویدانہ دستور العمل کی بنیاد پر عمل کریں گے ( حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴾یعمل بکتاب اللّٰہ، لا یری نکرا الا انکرہ﴿ ”وہ کتاب خدا (یعنی قرآن) کے مطابق عمل کریں گے اور کسی برائی کو نہیں دیکھیں گے مگر اس کا انکار کریں (یعنی ہر برائی کا مقابلہ کریں گے)“۔ بحارالانوار، ج ۱۵، ۱۴۱) قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات کا مجموعہ اس خداوند عالم کی طرف سے نازل ہوا جو انسان کے تمام پہلوﺅں اور اس کی مادی و معنوی ضرورتوں سے واقف ہے، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کا عالمی انقلاب منصوبہ بندی اور حکومتی قوانین کے لحاظ سے بے نظیر بنیاد پر استوار ہو گا، اور کسی بھی دوسری اصلاحی تحریک سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ اس دعویٰ پر گواہ یہ ہے کہ آج کی دنیا نے تجربہ کرتے ہوئے ان بشری قوانین کے ضعیف اور کمزور ہونے کا اعتراف کیا ہے اور آہستہ آہستہ آسمانی قوانین کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتی جا رہی ہے۔
”آلوین ٹافلر“ امریکی سیاسی مشاور، عالمی معاشرہ کو بحرانی حالت سے نکالنے اور اس کی اصلاح کے لئے ”تیسری موج“ (اس کا کہنا ہے کہ اب تک زمانہ میں دو بڑے انقلاب رونما ہوئے ہیں ایک زراعتی انقلاب، اور دوسرا صنعتی انقلاب، جس نے دُنیا میں ایک عظیم انقلاب ایجاد کیا ہے۔ تیسرا انقلاب آنے ولا ہے جو الیکٹرونک اور صنعتی انقلاب سے بلند تر ہے۔) کا نظریہ پیش کرتا ہے لیکن اس سلسلہ میں حیرت انگیز باتوں کا اقرار کرتا ہے۔ہمارے (مغربی) معاشرہ میں مشکلات اور پریشانیوں کی فہرست اتنی طولانی ہے جس کی کوئی انتہاءنہیں ہے۔ مسلسل صنعتی کلچر (اور کاروباری نظام) کے متزلزل ہونے اور فساد بے کفایتی کی کشمکش کی وجہ سے اخلاقی تنزل اور برائیوں کی بومشام انسانیت کو آزار دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں غم و غصہ کا اظہار اور تبدیلی کے لئے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے، چنانچہ ان دباﺅ کے جواب میں ہزاروں ایسے منصوبہ پیش کئے جا چکے ہیں کہ جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ یہ بنیادی یا انقلابی ہیں، لیکن متعدد بار نئے قوانین اور مقرارات، منصوبے اور دستور العمل جن کو مشکلات کے حل کے لئے پیش کیا گیا ہے، ہماری مشکلات میں روز بروز اضافہ کرتے جا رہے ہیں اور مایوسی اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ کوئی فائدہ نہیں ہے، کسی کا کوئی اثر نہیں ہے اور یہ احساس ڈیموکریسی نظام کے لئے خطرناک ہے۔ جس کے پیش نظر مثالوں میں بیان ہونے والے ”سفید گھوڑے پر سوار مرد“ کی ضرورت کا انتظار شدت سے کیا جا رہا ہے ۔
( فصلنامہ انتظار، سال دو، ش ۳، ص ۸۹ (نقل از بہ سوی تمدن جدید، ٹالفر، محمد رضا جعفری)

ب: رہبری

ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند ہونا چاہیے۔
عالمی پیمانہ پر ظلم و ستم سے مقابلہ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار کرنے کے لئے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے کہ جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کر سکے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام جو انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کے ماحصل ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اورموجود ہیں۔ صرف وہی ایک ایسے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابطہ کی وجہ سے کائنات کی ہر شئے اور اس کے تمام روابط سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانہ کے سب سے عظیم عالم ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”آگاہ ہو جاﺅ کہ مہدی علیہ السلام تمام علوم کا وارث ہو گا، اور تمام علوم پر احاطہ کئے ہو گا“۔ (نجم الثاقب، ص ۳۹۱)
وہ ایسے واحد رہبر ہیں جو ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوں گے اور صرف ان کا دل پروردگار عالم کی مرضی کے تحت ہو گا۔ لہٰذا آپعلیہ السلام عالمی انقلاب اور حکومت کے رہبر اور قائد کے لحاظ سے بھی بہترین شرائط کے حامل ہوں گے۔

ج: ناصرین

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے ضروری شرائط میں سے آپ کے شائستہ، کارآمد اور لائق انصار یا مددگاروں کا وجود ہے جو اس انقلاب کی پشت پناہی اور حکومتی عہدوں پر رہ کر امام علیہ السلام کی نصرت کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب ایسا عالمی انقلاب کہ جو آسمانی رہبر کے ذریعہ برپا ہو گا تو پھر اسی لحاظ سے ان کے ناصر و مددگار بھی ہونے چاہئیں، ایسا نہیں ہے کہ جس نے بھی نصرت کا دعویٰ کر لیا وہ ان کی نصرت کے لئے حاضر ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل واقعہ پر توجہ فرمائیں:
حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ”سہل بن حسن خراسانی“ نامی شیعہ عرض کرتا ہے:
”کیا چیز مانع ہے کہ آپ اپنے مسلم حق (حکومت) کے لئے قیام نہیں کرتے، جبکہ آپ کے ایک لاکھ شیعہ، تلوار چلانے والے اور آپ کی خدمت کے لئے تیار وموجود ہیں؟ امام علیہ السلام نے حکم دیاکہ تنور روشن کیا جائے اور جب اس سے آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے تو آپ نے سہل سے فرمایا: اے خراسانی! اُٹھو اور تنور میں کود جاﺅ۔ سہل کا گمان تھا کہ امام علیہ السلام اس کی باتوں سے ناراض ہو گئے ہیں چنانچہ اُنہوں نے معافی طلب کرتے ہوئے عرض کیا: آقا مجھے معاف فرما دیں مجھے آگ میںڈال کر سزا نہ دیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: تم سے درگزر کرتا ہوں۔ اسی موقع پر ہارون مکی آ پہنچے جو امام علیہ السلام کے حقیقی شیعہ تھے، امام علیہ السلام کو سلام کیا، امام نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا: اس تنور میں کود جاﺅ! ہارون مکی فوراً چوں و چرا کے اس تنور میں کود پڑے اور امام علیہ السلام اس خراسانی سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے اور خراسان کے واقعات بیان کرنے لگے جیسا کہ خود امام علیہ السلام وہاں موجود ہوں کچھ دیر بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے خراسانی اُٹھو اور تنور کے اندر جھانک کر دیکھو! سہل اُٹھے اور تنور کے اندر ہارون کو دیکھا کہ جو آگ کے شعلوں کے درمیان چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر امام علیہ السلام نے ان سے سوال کیا: خراسان میں ہارون کی طرح کتنے لوگوں کو پہچانتے ہو؟ خراسانی نے جواب دیا: خدا کی قسم! میں تو ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: یاد رکھو! جب تک ہمیں پانچ ناصر و مددگار نہ مل جائیں اس وقت تک قیام نہیں کرتے ہم بہتر جانتے ہیں کہ کب قیام (اور انقلاب) کا وقت ہے!“۔
( سفینة البحار، ج ۸، ص ۱۸۶)
لہٰذا مناسب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انصار کی صفات اور خصوصیات کو روایات کی روشنی میں پہچانیں تاکہ اس ذریعے سے ہم صحیح طور پر اپنے آپ کو پہچان لیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔

۱۔ معرفت اور اطاعت

امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگار خداوند عالم اور اپنے امام کی عمیق شناخت رکھتے ہیں اور مکمل آگاہی کے ساتھ میدان حق میں حاضر ہوتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ ایسے اشخاص ہیں جو خدا کو اس طرح پہچانتے ہیں جو پہچاننے کا حق ہے“۔ (منتخب الاثر، فصل ۸، باب۱، ح ۲، ص ۱۱۶)
امام کی شناخت اور امام کے بارے عقیدہ بھی ان کے وجود کی گہرائیوں میں جڑیں مضبوط کر چکا ہے اور ان کے پورے وجود پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور یہ شناخت امام علیہ السلام کے نام و نشان اور نسب جاننے سے بالاتر ہے۔ معرفت یہ ہے کہ امام کے حق ولائت اور کائنات میں ان کے بلند مرتبہ کو پہچانیں اور یہ وہی معرفت ہے جس سے انکے دل میں محبت کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور ان کی اطاعت کےلئے ہمہ تن تیار رہتے ہیں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ امام علیہ السلام کا حکم، خدا کا حکم ہے اور ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی توصیف میں فرمایا: ”وہ لوگ اپنے امام کی اطاعت میں کوشش کرتے ہیں“۔

۲۔ عبادت اور استحکام

امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے یار و مددگار عبادت میں اپنے امام کو نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور شب و روز اپنے خدا کے کی رضایت میں گزارتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:
”رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں “۔ (یوم الخلاص ص ۴۲۲)
اور ایک دوسرے کلام میں فرماتے ہیں: ”گھوڑوں (یا سوار ہونے والی چیز) پر سواری کی حالت میں بھی خدا کی تسبیح کرتے ہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳) یہی ذکر خدا ہے جس سے فولادی مرد بنتے ہیں، جس کے استحکام اور مضبوطی کو کوئی بھی چیز ختم نہیں کر سکتی۔ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ ایسے مرد ہوں گے کہ گویا ان کے دل لوہے کے ٹکڑے ہیں“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳)

۳۔ جانثاری اور شہادت کی تمنا

امام مہدی علیہ السلام کے انصار کی معرفت ان دلوں کو اپنے امام کے عشق سے لبریز کرتی ہے لہٰذا جنگ کے میدان میں نگینہ کی طرح آپ کو درمئیان میں لے کر اپنی جان ڈھال قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”امام مہدی کے ناصر و مددگار جنگ کے میدان میں آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے ہوں گے اور اپنی جان کو سپر بنا کر اپنے امام کی حفاظت کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳)
اور آپعلیہ السلام نے ہی فرمایا: ”وہ راہِ خدا میں شہادت پانے کی تمنا کریں گے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳)

۴۔ شجاعت اور دلیری

امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگار اپنے مولا کی طرح شجاع، بہادر اور فولادی مرد ہوں گے۔ حضرت علی السلام ان کی توصیف میں فرماتے ہیں: وہ ایسے شیر ہیں جو اپنے بن سے باہر نکل آئے ہیں اور اگر چاہیں تو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں“۔( یوم الخلاص، ص ۴۲۲)

۵۔ صبر و بردباری

واضح ہے کہ عالمی ظلم و ستم سے مقابلہ کرنے اور عالمی پیمانہ پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے میں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہو گا۔ اور امام علیہ السلام کے ناصر و مددگار اپنے امام کے عالمی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مشکلات اور پریشانیوں کو برداشت کریں گے لیکن اخلاص اور تواضع کی بنا پر اپنے کام کو معمولی اور ناچیز شمار کریں گے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ”وہ ایسا گروہ ہے جو راہ خدا میں صبر اور بردباری کی وجہ سے خدا پر احسان نہیں جتائیں گے اور چونکہ اپنی جان کو حضرت حق کے حضور میں پیش کر دیں گے اپنے اوپر فخر نہیں کریں گے اور اس چیز کو اہمیت نہیں دیں گے“۔ (یوم الخلاص، ص ۴۲۲)

۶۔ اتحاد اور ہمدلی

حضرت علی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگاروں کے اتحاد اور ہمدلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ لوگ ایک دل اور ہم آہنگ (یعنی متحد) ہوں گے“۔
(یوم الخلاص، ص ۳۲۲)
اس ہمدلی اور اتحاد کا سبب یہ ہے کہ خود خواہی اور ذاتی مفاد ان کے وجود میں نہیں سمائے گا۔ وہ صحیح عقیدہ کے ساتھ ایک پرچم کے نیچے اور ایک مقصد کے تحت قیام کریں گے اور یہ خود دشمن کے مقابلہ میں ان کی کامیابی کا ایک راز ہے۔

۷۔ زہد و تقویٰ

حضرت علی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے یاد و مددگاروں کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ اپنے یار و مددگاروں سے بیعت لیں گے کہ سونا اور چاندی جمع نہ کریںگے اور گیہوں اور جو کا ذخیرہ نہ کریںگے“۔ ( منتخب الاثر، فصل ۶، باب ۱۱، ح ۴، ص ۱۸۵)
وہ بلند مقاصد رکھتے ہیں اور ایک عظیم مقصد کے لئے قیام کریں گے لہٰذا دُنیا کی مادیات ان کو اس عظیم مقصد سے دُور نہیں کر سکتی، لہٰذا جن لوگوں کی آنکھیں دُنیا کی زرق و برق دیکھ کر خیرہ ہو جاتی ہیں اور ان کا دل پانی پانی ہو جاتا ہے، تو ایسے لوگوں کے لئے امام مہدی علیہ السلام کے خاص ناصر و مددگاروں میں کوئی جگہ نہ ہو گی۔
قارئین کرام! یہاں تک امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگاروں کی کچھ خصوصیات بیان ہوتی ہیں اور انہیں صفات اور خصوصیات کی وجہ سے روایات میں ان کو احترام سے یاد کیا گیا ہے اور معصومین علیہم السلام نے اپنی لسان مبارک پر مدح و ستائش کے جملہ جاری کئے ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی توصیف میں فرمایا:
﴾اُو لَئِکَ ہُم خِیَارُ ال اُمَّةِ﴿ (یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
”وہ لوگ (میری) اُمت کے بہترین افراد ہیں“۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
﴾فَبِاَبِی وَ اُمّی مِن عِدّةِ قَلِی لَةٍ اَس مَائُہُم فِی ال اَر ضِ مَج ہُو لَة۔﴿ (معجم الاحادیث، الامام المہدی علیہ السلام، ج ۳، ص ۱۰۱)
”میرے ماں باپ اس چھوٹے گروہ کے قربان جو زمین پر ناشناختہ ہیں“۔
البتہ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ناصر و مددگار اپنی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف درجات میں تقسیم ہوں گے۔ اور روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ان خاص ۳۱۳ ناصرین (کہ جو اس انقلاب کی ریڑھ کی ہڈی کہلائیں گے، ان کے علاوہ دس ہزار کا لشکر بھی ہو گا اور ان کے علاوہ انتظار کرنے والے مومنین کی ایک عظیم تعداد آپ کی مدد کے لئے دوڑ پڑے گی۔

و۔ عام طور پر تیاری،عام لام بندی

آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں مختلف مواقع پر اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوگ امام کے حضور سے بہتر فائدہ اُٹھانے کے لئے لازمی تیاری نہیں رکھتے تھے، کسی بھی زمانہ میں امام معصوم علیہ السلام کے پرنور حضور کے فیض کی قدر نہیں کی گئی اور ان کے چشمہ ہدایت سے مناسب فیض حاصل نہیں کیا لہٰذا خداوند عالم نے اپنی آخری حجت کو پردہ غیب میں بھیج دیا تاکہ جب ان کو قبول کرنے کے لئے سب تیار ہو جائیں گے تو امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اوراس وقت الٰہی تعلیمات کے سرچشمہ سے سب سیراب ہوں گے۔ اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ اور تیار رہنا اہم شرائط میںسے ہے کیونکہ اسی تیاری کی وجہ سے امام علیہ السلام کی اصلاحی تحریک مطلوبہ مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں جو اپنے زمانہ کے ظالم و جابر حاکم ”جالوت“ کے ظلم و ستم سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا تھا، اس نے اپنے زمانہ کے بنی سے درخواست کی کہ ان کے لئے ایک طاقتور سردار لشکر کا انتخاب کریں تاکہ اس کے فرمان کے تحت جالوت سے جنگ کر سکیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾اَلَم تَرَ اِلَی ال مَلَائِ مِن بَنِی اِس رَئِیلَ مِن بَع دِ مُو سٰی اِذ قَالُو الِنَبِی لَہُم ابعَث لَنَا مَلِکاً نُقَاتِل فِی سَبِی لِ اللّٰہِ قَالَ ہَل عَسَب تُم اِن کُتِبَ عَلَی کُم الَقِتَالُ اَلاِّ تُقَاتِلُو ا وَ مَا لَنَا اَلاَّ تُقَاتِلَ فِی سَبِی لِ اللّٰہِ وَ قَد اُخ رِج نَا مِن دِیَارِنَا وَ اَب نَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَی ہِم ال قِتَالُ تَوَلَّو اِلاَّ قَلِیلاً مِن ہُم وَ اللّٰہُ عَلِی م بِالظَّالِمِی نَ۔﴿ (سورہ بقرہ، آیت ۶۴۲)
”کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطہ ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہاد واجب ہو جائے اور تم جہاد نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیونکر جہاد نہ کریں گے جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوں سے ہمیںالگ نکال باہر کر دیا گیا اس کے بعد جب جہاد واجب کر دیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور اﷲ ظالمین کو خوب جانتا ہے“۔
جنگ کے لئے سردار منتخب کرنے کی درخواست ایک طرح سے اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ وہ آمادہ اور تیار ہیں اگرچہ راستہ میں ایک کثیر تعداد سست پڑ گئی اور بہت کم لوگ میدان جنگ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی اسی وقت ہو گا جب سب لوگوں میں اجتماعی عدالت،۱خلاقی اور نفسیاتی امنیت اور معنویت کے رشد و نمو کے طلبگار پیدا ہو جائیں گے، جب لوگ ناانصافی اور قبیلہ پرستی سے تھک جائیں گے، جب ضعیف اور کمزور لوگوں کے حقوق صاحب قدرت اور صاحب مال و دولت کے ذریعہ پامال ہوتا دیکھیں گے اور مال و دولت صرف کچھ خاص لوگوں کے قبضہ میں دیکھیں گے، جبکہ اسی موقع پر کچھ لوگوں کے پاس رات میں کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ہو گی، ایک دوسرا گروہ اپنے لئے محل بناتا ہوا نظر آتا ہو گا اور اپنی محافل میں بہت زیادہ خرچ اور ایسے ایسے کھانے اور آرام و سکون کے ایسے ایسے سامان مہیا کئے جائیں گے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہوتی ہوںگی، تو ایسے موقع پر عدالت طلبی کی پیاس اپنے عروج پر ہو گی۔
جب مختلف برائیاں معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہوں اور برائی انجام دینے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہو بلکہ اپنے بُرے کاموں پر فخر کیا جا رہا ہو، یا انسانی اور الٰہی اصول سے اس طرح دُوری اختیار کی جار رہی ہو کہ غفلت اور پاکدامنی کے بعض مخالف کاموں کو قانونی شکل دی جا رہی ہو جس کے نتیجہ میں گھریلو نظام درہم برہم ہو جاتا ہو، اور بے سرپرست بچے معاشرہ کے حوالہ کئے جاتے ہو تو اس موقع پر ایسے رہبر کے ظہور کا اشتیاق بہت زیادہ ہو جائے گا جس کی حکومت اخلاقی اور نفسیاتی امنیت اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور جس وقت انسان تمام مادی لذتوں سے ہمکنار ہو لیکن اپنی زندگی سے راضی نہ ہو اور ایسی دُنیا کی تلاش میں ہو جو معنویت سے لبریز ہو، تو ایسے موقع پر انسان لطف امام کے آبشار کا پیاسا ہو گا۔
ظاہر سی بات ہے کہ امام علیہ السلام کے حصور کو سمجھنے کا شوق اس وقت عروج پر ہو گا کہ جب بشریت اپنے ذاتی تجربہ سے مختلف انسانی حکومتوں کے کارناموں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائے گی کہ دُنیا کو ظلم و ستم، تباہی اور برائیوں سے نجات دینے والا زمین پر الٰہی خلیفہ اور جانشین حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور انسانیت کے لئے پاک و پاکیزہ اور بہترین زندگی عطا کرنے والا منصوبہ صرف اور صرف الٰہی قوانین میں ہے لہٰذا اس موقع پر انسانیت اپنے پورے وجود سے امام علیہ السلام کی ضرورت احساس کرے گی اور اس احساس کی وجہ سے اس کے ظہور کے لئے راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرے گی نیز اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرے گی اور یہ اسی وقت ہو گا جب فرج اور ظہور کا موقع پہنچ جائے گا۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) آخر الزمان اور ظہور سے قبل کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومن کو جائے پناہ نہیں ملے گی تاکہ ظلم و ستم اور تباہی سے نجات مل جائے، پس اس وقت خداوند عالم میری نسل سے ایک شخص کو بھیجے گا“۔
(عقد الدرر، ص ۳۷)

علاماتِ ظہور

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب اور قیام کے لئے کچھ نشانیاں بتائی گئی ہیں اور ان نشانیوں کی پہچان بہت سے مثبت آثار رکھتی ہیں، چونکہ یہ ”مہدی آل محمد“ علیہ السلام کے ظہور کی نشانی ہے جن میں سے ہر ایک کے ظاہر ہونے سے منتظرین کے دلوں میں اُمید کے نور میں اضافہ ہو گا اور دشمنوں اور گمراہیوں کے لئے یاد دہانی اور خطرہ کی گھنٹی ہو گی تاکہ اخدا کی نافرمانیوںاور برائیوں سے باز آجائیں۔ جس طرح انتظار کرنے والوں میں امام علیہ السلام کی ہمراہی اور نصرت کی لیاقت حاصل کرنے کے لئے ترغیب اور شوق کا سبب ہو گا ویسے بھی مستقبل میں پیش آنے ولے واقعات سے باخبر ہونا انسان کے لئے مناسب منصوبہ بندی میں مددگار ہوتا ہے اور یہ نشانیاں مہدویت کے سچے اور جھوٹے دعویداروں کے لئے بہترین معیارِ فرق میںہے، لہٰذا اگر کوئی مہدویت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کے قیام میں یہ مخصوص نشانیاں نہ پائی جاتی ہوں تو اسکے جھوٹا ہونے کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایت میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بہت سی نشانیان ذکر ہوئی ہیں جن میں بعض طبیعی اور عام واقعات ہیں جبکہ بعض غیر طبیعی اور معجز نما ہیں۔ ہم ان نشانیوں میں سے پہلے ان برجستہ اور ممتاز نشانیوں کو بیان کرتے ہیں جو معتبر کتابوں اور معتبر روایات میں بیان ہوئی ہیں اور آخر میں کچھ دیگر نشانیاں اختصار کے طور پر بیان کریں گے۔حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت کے ضمن میں فرمایا: ”قائم علیہ السلام کے ظہور کی پانچ نشانیاں ہیں: سفیانی کا خروج، یمنی کا قیام، آسمانی آواز، نفس زکیہ کا قتل اور خسف بیداء(غیبت نعمانی، باب ۴۵۱، ح ۹، ص ،۱۶۲)“ ( خسف بیداءکی وضاحت چند سطروں بعد ملاحظہ فرمائیں)قارئین کرام! اب ہم مذکورہ پانچوں نشانیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں جو دوسری متعدد روایات میں بھی تکرار ہوئی ہی، اگرچہ ان واقعات سے متعلق تمام تفصیل ہمارے لئے یقینی طور پر ثابت نہیں ہے۔

الف: سفیانی کا خروج

سفیانی کا خروج متعد روایات میں بیان ہونے والی نشانیوں میں سے ہے، سفیانی، ابوسفیان کی نسل سے ہو گا جو ظہور سے کچھ مدت پہلے سرزمین شام سے خروج کرے گا، وہ ظالم و جابر ہو گا اور قتل و غارت میں کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا، اور اپنے مخالفین سے بہت ہی بُرا سلوک کرے گا۔حضرت امام صادق علیہ السلام اس کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:
”اگر تم سفیانی کو دیکھو گے تو تم نے (گویا) سب سے پلید اور بُرے انسان کو دیکھ لیا “۔
(کمال الدین، ج ۳، باب ۷۵، ح ۰۱، ص ۷۵۵)
اس کا خروج ماہ رجب سے شروع ہو گا، وہ شام اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد عراق پر حملہ کرے گا اور وہاں وسیع پیمانہ پر قتل و غارت کرے گا۔
بعض روایات کی بنا پر اس کے خروج اور اس کے قتل ہونے تک کی مدت پندرہ مہینہ ہو گی۔
(غیبت نعمانی، باب ۸۱، ح ۱، ص ۰۱۳)

ب: خسف بیدائ

خسف کے معنی پھٹنے اور گرنے کے ہیں اور ”بیدائ“ مکہ و مدینہ کے درمیان ایک علاقہ کا نام ہے۔
خسف بیداءسے مراد یہ ہے کہ جب سفیانی، امام مہدی علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک لشکر مکہ کی طرف بھیجے گا اور جب یہ بیداءنامی علاقے میں پہنچے گا تو معجزہ نما صورت میں زمین پھٹ جائے گی اور وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:”لشکر سفیانی کے سردار کو خبر ملے گی کہ (امام) مہدی (علیہ السلام) مکہ کی طرف روانہ ہیں، چنانچہ وہ ان کے پیچھے ایک لشکر روانہ کرے گا لیکن ان کو نہیں پائے گا، ........ اور جب سفیانی کا لشکر سرزمین بیداءپر پہنچے گا تو ایک آسمانی آواز آئے گی ”اے سرزمین بیداءان کو نابود کر دے“ جس کے بعد وہ سرزمین سفیانی کے لشکر کو اپنے اندر کھینچ لے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۷۲، ص ۹۸۲)

ج: یمنی کا قیام

سرزمین یمن میں ایک سردار کا قیام امام علیہ السلام کے ظہور کی ایک نشانی ہے جو آپ کے ظہور سے کچھ ہی دنوں پہلے ظاہر ہو گی، وہ ایک ایسا صالح اور مومن شخص ہو گا، جو انحرافات اور برائیوں کے خلاف قیام کرے گا اور اپنی تمام تر طاقت سے برائیوں اور فساد کا مقابلہ کرے گا البتہ اس کے قیام اور تحریک کی تفصیل ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔امام محمد باقر علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام کے قیام سے پہلے بلند ہونے والے پرچموں کے درمیان یمنی کا پرچم تمام ہدایت کرنے والے پرچموں میں سب سے بہتر ہو گا کیونکہ وہ تمہارے آقا (امام مہدی علیہ السلام) کی طرف دعوت دے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۳۱، ص ۴۶۲)

د: آسمانی آواز

امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آواز آئے گی، یہ آسمانی آواز بعض روایات کی بنا پر جناب جبرئیل کی آواز ہو گی جو ماہ رمضان میں سنائی دے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ص ۲۶۲)
اور چونکہ مصلح کل کا انقلاب ایک عالمی انقلاب ہو گا، اور سب کو اس کا انتظار ہو گا، لہٰذا دُنیا بھر کے لوگوں کو اسی آسمانی آواز کے ذریعہ ظہور کی خبر دی جائے گی۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد علیہ السلام کا ظہور اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک آسمان سے آواز نہ دی جائے جس کو تمام اہل مشرق ومغرب سن لیں گے“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۴۱، ص ۵۶۲)
اور یہ آواز جس طرح سے مومنین کےلئے باعث خوشی ہو گی اسی طرح بدکاروں کےلئے خطرہ کی گھنٹی ہو گی تاکہ ابھی بھی اپنے بُرے کاموں سے باز آجائیں اور امام علیہ السلام کے انصار میں شامل ہو جائیں۔اس آواز کی تفصیل کے بارے میں مختلف روایات بیان ہوئی ہیں مثلاً
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”آسمان سے آواز دینے والا حضرت امام مہدی علیہ السلام کو آپ کے نام اور آپ کی ولدیت کے ساتھ پکارے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۰۱، ح ۹۲، ص ۷۸۱)

ج: نفس زکیہ کا قتل

نفس زکیہ کے معنی ایسے شخص کے ہیں جو رُشد و کمال کے بلند درجہ پر پہنچا ہوا ہو یا ایسا پاک و پاکیزہ اور بے گناہ انسان ہو جس نے کسی کو قتل نہ کیا ہو اور نفس زکیہ کے قتل سے مراد یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے کچھ پہلے ایک برجستہ اور ممتاز شخصیت یا ایک بے گناہ شخصیت امام علیہ السلام کے مخالفوں کے ذریعہ قتل کی جائے گی۔بعض روایات کی بنا پر یہ واقعہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے 15 دن پہلے رونما ہو گا۔اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد( ص) کے ظہور اور نفس زکیہ کے قتل میں صرف ۵۱ دن کا فاصلہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۷۵، ح ۲، ص ۴۵۵)
قارئین کرام! مذکورہ نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں بھی ذکر ہوئی ہیں جن میں بعض کچھ اس طرح ہی: دجّال کا خروج، (دجال ایک ایسا مکّار اور حیلہ باز آدمی ہو گا جس نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہو گا)، ماہ مبارک رمضان میں سورج گرہن لگنا، چاند گرہن لگنا، فتنوں کا ظاہر ہونا اور خراسانی کا قیام۔قابل ذکر ہے کہ ان نشانیوں کی توضیح اور تفصیل مفصل کتابوں میں بیان ہوئی ہیں۔ (بحار الانوار، ج ۲۵، ص ۱۸۱ تا ۸۷۲)

ة....ة....ة....ة....ة

درس کا خلاصہ:

ظہور سے پہلے اگرچہ دُنیا میں بیشتر ظلم و ستم اور تباہی ہو گی لیکن اس سے مراد سب لوگوں کا ظالم ہونا نہیں ہے۔
زمانہ غیبت اور ظہور کے نزدیکی دور میں لوگوں کا فریضہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے تاکہ ظہور کی شرائط پوری ہوں۔
حضرت کے قیام کے اہم اسباب و شرائط مندرجہ ذیل ہیں: منصوبہ بندی، رہبری، یار و مددگار کا ہونا اور عام طور پر تیاری۔
حضرت کے یار و انصار کی اہم ترین خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں: معرفت و اطاعت، عبادت و استحکام، شہادت کی طلب، شجاعت، صبر و بردباری، اتحاد و زہد۔ روایات کی رو سے حضرت کے ظہور کی حتمی علامات مندرجہ ذی ہیں: سفیانی کا خروج، یمنی کا قیام، خسف بیدائ، آسمانی آواز اور نفس زکیہ کا قتل۔

درس کے سوالات:

۱۔ یہ کہ منتظرین کا ہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر شمار کیا گیا ہے اس کی دلیل کی وضاحت کریں؟
۲۔ روایت کی رو سے ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق بیان کریں؟
۳۔ عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لیے اہم شرائط میں سے رہبری کی اہمیت کو بیان کریں؟
۴۔ ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟
۵۔ روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات میں سے کوئی چار علامات کو روایات کے ساتھ بیان کریں؟
ة....ة....ة....ة....ة

ChatGPT

### 1. منتظرین کا ہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر
اسلام میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو بہت اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ یہ دین کے ارکان میں سے ہے۔ منتظرین، جو امام مہدی (عج) کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، کے لئے یہ وظیفہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اخلاقی اور دینی اصولوں کو فروغ دیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جب تک امام مہدی (عج) ظاہر نہیں ہوتے، تب تک معاشرے کو اخلاقی طور پر بہتر بنایا جائے۔

### 2. ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق
روایات کے مطابق، ظہور کی شرائط وہ حالات یا واقعات ہیں جو ظہور سے قبل پوری ہونی چاہئیں، جیسے عالمی افراتفری اور دین سے دوری کا بڑھنا۔ دوسری طرف، علامات ظہور سے متعلق خاص پیشینگوئیاں ہیں جو ظہور کے وقت خاص طور پر ظاہر ہوتی ہیں، جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ 

### 3. عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لیے رہبری کی اہمیت
عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لئے رہبری کی اہمیت نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک مؤثر اور عادل رہبر معاشرے کو انصاف اور برابری کی بنیاد پر چلا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، امام مہدی (عج) وہ حقیقی رہبر ہیں جو انصاف پر مبنی عالمی حکومت قائم کریں گے۔

### 4. ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی
ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی میں شامل ہیں: دینی علوم کا سیکھنا، اخلاقی اقدار کو اپنانا، اور معاشرتی برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنا۔ یہ تمام اقدامات معاشرے کو ظہور کے لئے زمینہ سازی میں مدد دیتے ہیں۔

### 5. روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات
روایات میں بیان کردہ کچھ یقینی اور حتمی علامات میں شامل ہیں:
- دجال کا ظہور
- سفیانی کا ظہور
- یمانی کا ظہور
- آسمانی صداؤں کا سنائی دینا

یہ تمام علامات اس بات کی نشانی ہیں کہ ظہور قریب ہے اور ان علامات کا ظہور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔


نوٹ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات ( نیٹ سے لئے)

سوال نمبر 1: یہ کہ منتظرین کا اہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر شمار کیا گیا ہے اس کی دلیل کی وضاحت کریں؟

جواب 
حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ہو رہا ہے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، ہوا و ہوس کی بنا پر تفسیر کی جا رہی ہے، اہل باطل، حق پرستوں پر سبقت لے رہے ہیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ہو رہے ہیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رہی ہے، نیکیوں کا راستہ خالی ہو رہا ہے اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، حلال، حرام ہو رہا ہے اور حرام، حلال شمار کیا جا رہا ہے، بہت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناہوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جا رہا ہے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ہے، نا درست کھیل اس قدر رائج ہو چکے ہوں کہ کوئی بھی انکی روک تھام کی جرا ت نہیں کرتا، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ہے، ریاکاری کےلئے خانہ خدا کا حج کیا جا رہا ہے، لوگ سنگدل ہو رہے ہیں، (محبت کا جنازہ نکل رہا ہے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، ہر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ہو رہی ہے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ہو رہے ہیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا کہ ظہور کا زمانہ نزدیک ہے۔ (کافی، ج ۷، ص ۸۲)

البتہ ظہور سے پہلے کی یہ سیاہ تصویر اکثر لوگوں کی ہو گی، کیونکہ اس زمانہ میں بھی بعض مومنین ایسے ہوں گے جو خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پیمان پر باقی ہوں گے اور اپنے دینی عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوں گے وہ زمانہ کے رنگ میں نہیں رنگے جائیں گے اور اپنی زندگی کا انجام برا نہیں کریں گے، یہ افراد خداوند عالم کے بہترین بندے اور آئمہ علیہم السلام کے سچے شیعہ ہوں گے جن کے بارے میں روایات میں مدح و تعریف ہوئی ہے، یہ لوگ خود بھی نیک ہوں گے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوں گے، کیونکہ وہ اس بات میں بہتری سمجھتے ہیں کہ نیکیوں اور خوبیوں کو رائج کرنے اور ایمان کے عطر سے ماحول کو خوشگوار بنانے سے نیکیوں کے امام کا ظہور جلد ہو سکتا ہے اور ان کے قیام اور حکومت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ برائیوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب مصلح اور موعود کے ناصر و مددگار ہوں۔

اور ہمارا پیش کردہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل برعکس ہے جس میں برائیوں کے پھیلانا ظہور میں جلدی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ کیا واقعاً یہ بات قابل قبول ہے کہ مومنین برائیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کریں تاکہ معاشرہ میں برائیاں پھیلتی رہیں اور اس طرح امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا راستہ فراہم ہو؟ کیا نیکیوں اور فضائل کا رائج کرنا امام علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کا سبب نہیں قرار پائے گا؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فرض ہے جو ہر مسلمان پر یقینی طور پر واجب ہے جس کو کسی بھی زمانہ میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لئے برائیوں اور ظلم و ستم کو پھیلانا کس طرح سبب بن سکتا ہے؟جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:”اس (مسلمان) اُمت کے آخر میں ایک ایسی قوم آئے گی جن کا اجر و ثواب صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہو گا، وہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیتے ہوں گے اور فتنہ و فساد اور برائیوں کا مقابلہ کرتے ہوں گے“۔ (معجم احادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج۱، ص ۹۴)


جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ دُنیا ظلم و ستم سے بھر جائےگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان ظالم بن جائیں گے بلکہ خدائی راستہ پر چلنے والے موجود ہوں گے اور مختلف معاشروں میں اخلاقی فضائل کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہٰذا ظہور سے قبل کا زمانہ اگرچہ ایک تلخ زمانہ ہوگا لیکن ظہور کے شیرین زمانہ پر ختم ہو گا، اگرچہ وہ ظلم و ستم اور برائیوں کا زمانہ ہو گا لیکن اس زمانہ میں پاک رہنا اور دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا منتظرین کا لازمی فریضہ ہو گا، اور قائم آل محمد علیہم السلام کے ظہور میں براہ راست مو ثر ہو گا۔ اس حصہ کو حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے کلام پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:”ہمیں اپنے شیعوں سے کوئی چیز دور نہیں رکھتی مگر ان کے (برے) اعمال جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہم ان اعمال کو پسند نہیں کرتے اور ان کے لئے ایسا مناسب بھی نہیں سمجھتے ہیں“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۲۰۶)


سوال نمبر 2: روایت کی رو سے ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق بیان کریں؟


جواب:


شرائط اور علامات میں فرق کیا ہے شرائط تو وہ ہیں کہ جس پر ظہور موقوف ہو یعنی جب تک یہ شرط یہ سبب نہیں وجود میں آئے پہلا ظہور بھی نہیں ہوگا بس شرائط یعنی جس پر ظہور موقوف ہے پہلے شرط پھر مشروط پہلے سبب پھر مسبب اور علامات ظہور سے مراد ایسے واقعات ہیں کہ جن کے ذریعے ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ جس ہستی نے ظہور کیا ہے یہ مہدی حق ہے یعنی علامہ جو ہیں یہ صحیح ظہور صحیح مہدی اور جھوٹے مہدی کے درمیان تشخیص کا ذریعہ ہے پوری تاریخ میں کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے جھوٹے دعوے کیے اس وقت علماء نے جو ہیں وہ علامات جو ہیں پوچھیں اور علامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رد کیے تو اج بھی جو ہے اگر کوئی مہدی ہونے کا دعوی کرے تو ہم دیکھیں گے علامات تو نہیں ائی بس یہ جھوٹا ہے تو مولا کے ظہور سے پہلے یہ علامہ ظاہر ہوں گے ہوں گے تو یہ ڈیڑھ سال کے ہی دورانیہ میں لیکن اس سے پتہ چلے گا کہ اب جس نے انا ہے وہ حقیقی مہدی پس اگر ہم بطور کلی اپنی گفتگو کو سمیٹیں تو یوں کہیں گے کہ علامات ظہور کی کاشف ہے لیکن شرائط جو ہیں یہ ظہور کو وجود میں لانے والی ہیں پھر علامت لازم نہیں ہے ایک ہی زمانے میں ہو کوئی اول میں ہوگی وہ درمیان میں ہوگی کوئی اخر میں ہوگی لیکن شرائط ساری اکٹھی ہوں گی تو ضرور ہوگا سب اسباب اکٹھے ہوں گے تو مسبب ہوگا تیسری چیز جو ہے ممکن ہے علامتوں کا اپس میں تعلق نہ ہو ایک صوفیانی کا خروج ہے ایک یمنی کا پی ہم ان کا پس میں تعلق نہیں ایک اسمانی اواز ہے ایک حسب ڈاٹا لیکن شرائط اپس میں جڑی ہوئی ہیں وہ اکٹھی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایک علامت ظاہر نہ ہو مثلا پانچ علامتیں ہیں ممکن ہے چار ظاہر اور پانچویں ظاہر نہ ہو ایک علامت ختم ہو جائے لیکن شرائط ساری ہوں گی تو ظہور ہوگا اور یہ بھی ہے کہ علامتیں جو ہیں یہ ساری کابل شناخت ہیں ہم ان کو سمجھیں گے ان کا پتہ چلے گا لیکن شرائط ممکن ہے ابھی ہوں لیکن ہمیں پتہ نہ ہو مثلا جیسے ممکن ہے مولا کے 313 ناصر ہوں ہمیں پتہ نہ ہو تو یہ چند ایک بنیادی فرق ہے ان کو اگر ہم اپنے ذہن نشین کریں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہم بس ہر چیز علامت نہیں ہے علامتیں وہی ہیں جو روایات میں ہیں اور ان کی یہ صورتحال ہے کہ یہ لازمی نہیں ہے اکٹھی ائی پی در پہ ائیں گے ہو سکتا ہے باز ائیں باز نہ ائیں لیکن اصل وہ چیز جو ہے جس پہ ظہور موقوف ہے وہ علامتیں نہیں ہیں علامتیں اسی وقت ظاہر ہوں گی جب ظہور ہونے والا ہوگا ظہور ہماری تیاری پہ یا شرائط پہ اس میں ایک ناصروں کا وجود ہے مسئلہ 313 جو ناصر ہیں خاص ان کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے



سوال نمبر 3: ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟

جواب: 
رہبری


ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند ہونا چاہیے۔

عالمی پیمانہ پر ظلم و ستم سے مقابلہ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار کرنے کے لئے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے کہ جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کر سکے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام جو انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کے ماحصل ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اورموجود ہیں۔ صرف وہی ایک ایسے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابطہ کی وجہ سے کائنات کی ہر شئے اور اس کے تمام روابط سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانہ کے سب سے عظیم عالم ہیں۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”آگاہ ہو جاﺅ کہ مہدی علیہ السلام تمام علوم کا وارث ہو گا، اور تمام علوم پر احاطہ کئے ہو گا“۔ (نجم الثاقب، ص ۳۹۱)

وہ ایسے واحد رہبر ہیں جو ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوں گے اور صرف ان کا دل پروردگار عالم کی مرضی کے تحت ہو گا۔ لہٰذا آپعلیہ السلام عالمی انقلاب اور حکومت کے رہبر اور قائد کے لحاظ سے بھی بہترین شرائط کے حامل ہوں گے۔


سوال نمبر 4: ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟

جواب 




عام طور پر تیاری،عام لام بندی


آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں مختلف مواقع پر اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوگ امام کے حضور سے بہتر فائدہ اُٹھانے کے لئے لازمی تیاری نہیں رکھتے تھے، کسی بھی زمانہ میں امام معصوم علیہ السلام کے پرنور حضور کے فیض کی قدر نہیں کی گئی اور ان کے چشمہ ہدایت سے مناسب فیض حاصل نہیں کیا لہٰذا خداوند عالم نے اپنی آخری حجت کو پردہ غیب میں بھیج دیا تاکہ جب ان کو قبول کرنے کے لئے سب تیار ہو جائیں گے تو امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اوراس وقت الٰہی تعلیمات کے سرچشمہ سے سب سیراب ہوں گے۔ اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ اور تیار رہنا اہم شرائط میںسے ہے کیونکہ اسی تیاری کی وجہ سے امام علیہ السلام کی اصلاحی تحریک مطلوبہ مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔

قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں جو اپنے زمانہ کے ظالم و جابر حاکم ”جالوت“ کے ظلم و ستم سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا تھا، اس نے اپنے زمانہ کے بنی سے درخواست کی کہ ان کے لئے ایک طاقتور سردار لشکر کا انتخاب کریں تاکہ اس کے فرمان کے تحت جالوت سے جنگ کر سکیں۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

﴾اَلَم تَرَ اِلَی ال مَلَائِ مِن بَنِی اِس رَئِیلَ مِن بَع دِ مُو سٰی اِذ قَالُو الِنَبِی لَہُم ابعَث لَنَا مَلِکاً نُقَاتِل فِی سَبِی لِ اللّٰہِ قَالَ ہَل عَسَب تُم اِن کُتِبَ عَلَی کُم الَقِتَالُ اَلاِّ تُقَاتِلُو ا وَ مَا لَنَا اَلاَّ تُقَاتِلَ فِی سَبِی لِ اللّٰہِ وَ قَد اُخ رِج نَا مِن دِیَارِنَا وَ اَب نَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَی ہِم ال قِتَالُ تَوَلَّو اِلاَّ قَلِیلاً مِن ہُم وَ اللّٰہُ عَلِی م بِالظَّالِمِی نَ۔﴿ (سورہ بقرہ، آیت ۶۴۲)

”کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطہ ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہاد واجب ہو جائے اور تم جہاد نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیونکر جہاد نہ کریں گے جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوں سے ہمیںالگ نکال باہر کر دیا گیا اس کے بعد جب جہاد واجب کر دیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور اﷲ ظالمین کو خوب جانتا ہے“۔

جنگ کے لئے سردار منتخب کرنے کی درخواست ایک طرح سے اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ وہ آمادہ اور تیار ہیں اگرچہ راستہ میں ایک کثیر تعداد سست پڑ گئی اور بہت کم لوگ میدان جنگ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی اسی وقت ہو گا جب سب لوگوں میں اجتماعی عدالت،۱خلاقی اور نفسیاتی امنیت اور معنویت کے رشد و نمو کے طلبگار پیدا ہو جائیں گے، جب لوگ ناانصافی اور قبیلہ پرستی سے تھک جائیں گے، جب ضعیف اور کمزور لوگوں کے حقوق صاحب قدرت اور صاحب مال و دولت کے ذریعہ پامال ہوتا دیکھیں گے اور مال و دولت صرف کچھ خاص لوگوں کے قبضہ میں دیکھیں گے، جبکہ اسی موقع پر کچھ لوگوں کے پاس رات میں کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ہو گی، ایک دوسرا گروہ اپنے لئے محل بناتا ہوا نظر آتا ہو گا اور اپنی محافل میں بہت زیادہ خرچ اور ایسے ایسے کھانے اور آرام و سکون کے ایسے ایسے سامان مہیا کئے جائیں گے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہوتی ہوںگی، تو ایسے موقع پر عدالت طلبی کی پیاس اپنے عروج پر ہو گی۔

جب مختلف برائیاں معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہوں اور برائی انجام دینے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہو بلکہ اپنے بُرے کاموں پر فخر کیا جا رہا ہو، یا انسانی اور الٰہی اصول سے اس طرح دُوری اختیار کی جار رہی ہو کہ غفلت اور پاکدامنی کے بعض مخالف کاموں کو قانونی شکل دی جا رہی ہو جس کے نتیجہ میں گھریلو نظام درہم برہم ہو جاتا ہو، اور بے سرپرست بچے معاشرہ کے حوالہ کئے جاتے ہو تو اس موقع پر ایسے رہبر کے ظہور کا اشتیاق بہت زیادہ ہو جائے گا جس کی حکومت اخلاقی اور نفسیاتی امنیت اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور جس وقت انسان تمام مادی لذتوں سے ہمکنار ہو لیکن اپنی زندگی سے راضی نہ ہو اور ایسی دُنیا کی تلاش میں ہو جو معنویت سے لبریز ہو، تو ایسے موقع پر انسان لطف امام کے آبشار کا پیاسا ہو گا۔

ظاہر سی بات ہے کہ امام علیہ السلام کے حصور کو سمجھنے کا شوق اس وقت عروج پر ہو گا کہ جب بشریت اپنے ذاتی تجربہ سے مختلف انسانی حکومتوں کے کارناموں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائے گی کہ دُنیا کو ظلم و ستم، تباہی اور برائیوں سے نجات دینے والا زمین پر الٰہی خلیفہ اور جانشین حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور انسانیت کے لئے پاک و پاکیزہ اور بہترین زندگی عطا کرنے والا منصوبہ صرف اور صرف الٰہی قوانین میں ہے لہٰذا اس موقع پر انسانیت اپنے پورے وجود سے امام علیہ السلام کی ضرورت احساس کرے گی اور اس احساس کی وجہ سے اس کے ظہور کے لئے راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرے گی نیز اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرے گی اور یہ اسی وقت ہو گا جب فرج اور ظہور کا موقع پہنچ جائے گا۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) آخر الزمان اور ظہور سے قبل کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومن کو جائے پناہ نہیں ملے گی تاکہ ظلم و ستم اور تباہی سے نجات مل جائے، پس اس وقت خداوند عالم میری نسل سے ایک شخص کو بھیجے گا“۔

(عقد الدرر، ص ۳۷)


سوال نمبر 5: روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات میں سے کوئی چار علامات کو روایات کے ساتھ بیان کریں؟


جواب



ظهور امام مهدی ؑکی حتمی علامات


منجیٔ عالم مهدئ آخر زمان(عج)
 

ظهور امام مهدی ؑکی حتمی علامات
جب حضرت بقیة الله الاعظم امام زمان ؑغیب کے پرده سے تشریف لائیں گے تو اس وقت کے علائم اور نشانیاں جو ائمۀ معصومین علیهم السلام کی طرف سے بیان هوئی هیں وه درج ذیل هیں ۔ ان علامات کے ساتھ جو هم ترتیب وار بیان کریں گے، قدرت ومنشاء الٰهی بھی شامل هے اور مرضیئ الٰهی یه هے که جب اس کی مرضی هوگی انکا ظهور هوگا۔
بعض علامات اپنے طبیعی مسیر کے مطابق خود بخود واقع هوئی هیں جن میں خدا وند متعال کا کوئی دخل نهیں هے مثلاً انحرافات فکری، انحرافات ثقافتی اور انحرافات عملی وغیره ، یه طبق مرور زمان خود بخود واقع هوتی هیں ۔
جو امام زمان ؑکے ظهور کی علامات سمجھی جاتی هیں ۔ ان میں چاند کا مهینے کی آخری تواریخ میں گرهن لگنا اور سورج کا وسط ماه میں گرهن لگنا وغیره شامل هیں ۔مگر وه علائم جو ظهور پر نور کے نزدیک واقع هوں گی ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا هے۔
مثال کے طور پر ظهور کے بالکل نزدیک اور ظهور سے متصل قتل نفس ذکیه کا واقع هونا۔
دوسری علامات حضرت امام مهدی ؑکے ظهور سے کافی عرصه پهلے بنی عباس کے درمیان اختلاف وجود میں آنا وغیره۔
تیسری تقسیم بندی کچھ اس طرح هے:۔
وه علائم جن کا واقع هو نا حتمی هے یا جن کے واقع هونے میں کوئی خدشه وارد نهیں هو سکتا هے یه وه حوادث هیں جو احادیث کے ذریعه هم تک پهنچے هیں ممکن هے که بداء حاصل هو جائے یا بداء حاصل نه هو ۔(1)
هماری بحث ان علائم میں هو رهی هے جو حتمی هیں جو روایات کی روشنی میں پانچ یا چھے علائم میں منحصر هیں ۔
حضرت امیر المؤمنین ؑنے فرمایا:۔
(قال مولانا امير المؤمنين عليه السلام: من المحتوم الذی لا بُدّ منه ان يکون قبل القائم: خروج السفيانی، وخسف با لبيداء وقتل الذ کيه والمنادی من السماء و خُرُجُ اليمانی)
مولا امیرالمؤمنین ؑنے فرمایا: وه نشانیاں جو قائم سے پهلے ظاهر هوں گی اور جن کے واقع هونے میں کوئی شک و شبه نهیں ( یه وه بات هے جو قطع و یقین پر مبنی هے) وه یه هیں : خروج سفیانی، زمین کا دھنس جانا ، قتل نفس ذکیه ، نداء آسمانی اور یمانی کا خروج ۔
..............
(1) یہ سورہ رعد کی آیۃ 49کی طرف اشارہ ہے


١۔ خروج سفیانی


سفیانی ان لوگوں میں سے هے جو حضرت امام زمان ؑکے ظهور کے موقع پر باطل کے طور پر سامنے آئے گا جو خون آشام اور قتل و غارت میں مشهور هو گا۔ وه حق و حقیقت کی مکمل طور پر مخالفت کرے گا اس سے خداوند عالم نے قرآن مجید میں لوگوں کو خبردار کیا هے۔ یه بات محققین اور محدّثین کے درمیان یقینی هے که اس شخص کا نام اس لئے سفیانی رکھا گیا هے که یه شقاوت و بدبختی اور پلیدی کے لحاظ سے ابو سفیان جیسا هو گا۔ سفیانی کی نسبت ابو سفیان ملعون و پلید اور اس کی بیوی ھنده جگر خوارۀ حضرت حمزه سید الشهداء سے هے اسی لئے اس ملعون اور بدبخت انسان کا نام سفیانی رکھا گیا هے۔حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے هیں : یه شخص حد سے زیاده انسانوں کے جگر کھائے گا اوراس کے بعدصحرا کی طرف نکل جائے گا۔
(1)اس کا اصلی نام عثمان اور باپ کا نام عتبه هو گا اور وه ابوسفیان کی اولاد میں سے هے۔ جب بھی کسی ایسی سرزمین پر پهنچے گاجو هموار اور اس کا پانی صاف و شفاف هوگا وهاں پر ٹھهرے گا ۔
یه ملعون ابتداء میں شهر دمشق ، حمص ، فلسطین ، اردن اور قنسرین کو اپنے قبضه میں لے لے گا، لوگوں کا قتل عام کرنے کے بعد کوفه، بغداد، نجف اور مدینه پر حمله کرے گا اور یه ملعون شیعوں کا اس قدر سخت ترین دشمن هے که جو کوئی بھی کسی شیعه کا سر تن سے جدا کر کے لائے گا اسے بڑے بڑے انعامات سے نوازے گا۔ آخر کار سرزمین بیداء جو (مکه و مدینه کے درمیان هے) میں سفیانی کے لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ اور خود سفیانی حضرت امام زمان ؑکے لشکر کے هاتھوں بیت المقدس میں قتل هو جائے گا۔
..............
(1) کمال الدین ؛ج2، ص 651 ، اعلام الوری ، ص 421
٢۔ لشکر سفیانی کا سرزمین بیداء میں دھنس جان


٣۔ صیحۀ آسمانی


صیحه اس وقت واقع هو گی جب پوری دنیا اختلاف اور جھگڑوں میں گھر جائے گی، تفرقه و جدائی نے سایه کیا هو گا اسوقت ایک آسمانی آواز سب کے کانوں سے ٹکرائے گی اس کے بعد ایک پنجه ظاهر هوگا۔اس طرح پورے طور پر صیحۀ آسمانی پھیل جائے گي۔
حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے هیں :۔
( ثُمَّ لا يستقم امر الناس علی شیء ولا يکون لهم جماعة، حتیٰ ينادیَ منادٍ من السماء عليکم بغلان وتطلع کفّ تشير)(1)
..............
(1)اللام ولافتن ؛ص 48، روزگار ھائی؛ ج2، ص 867
اس وقت لوگوں کی اصلاح هر گز نهیں هو گی اور مسلمان هر گز ایک مرکز پر جمع نهیں هو سکیں گے۔ اس وقت منادی آسمان سے آواز دے گی۔ اس کی طرف دوڑئے اس سے د ور نه هو جائیں اس وقت ایک پنجه آسمان سے ظاهر هو جائے گا اور امام زمان ؑکی طرف کرے گا اس طرح صیحه کے وقوع کو سب مان لیں گے۔
اس صیحه کا مطلب کیا هے؟ کیا بے مقصد آواز هو گی؟
یه ایک ایسا پیغام هے جس میں حکم الٰهی پوشیده هے!
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
(اذا کان عنده خروجِ القائمِ ينادی من السماء!)
(ايهاالنّاس، قطع ، عنکم مدّه الجبارين و ولی الامر خير امّة محمدٍ ، فالحقوا مکّة ) (1)
جب قائم کا ظهور هوگا اس وقت آسمان سے نداء دی جائے گی : اے لوگو! خداوند عالم نے ستمگروں کی مهلت کو آخر تک پهنچا دیا هے اور امت محمدؐ کو بهترین امام عنایت کیا هے اپنے آپ کو جلد از جلد مکۀ مکرمه میں اس کے پاس پهنچا دو!
یه واقعه شب جمعه، نماز صبح کے بعد ماه مبارک رمضان کی 23تاریخ کو رونما هو گا۔
..............
(1) بحار الانوار جلد 52 ،ص404


٤۔ نفس ذکیه


١۔ نفس ذکیه کا قتل اور حضرت امام مھدی عجل الله فرجه الشریف کے ظهور میں صرف 15دن کا فاصله هو گا۔
٢۔ نفس ذکیه وهی هے جو رکن و مقام کے درمیان قتل هو گا۔
٣۔ نفس ذکیه بعنوان سفیر امام زمان ؑمکه میں جائیں گے۔ تاکه حضرت امام زمان ؑکے پیغام کو مکه والوں تک پهنچائیں مگر انهیں اسی وقت رکن و مقام کے درمیان کو شهید کیا جائے گا۔
٤۔ نفس ذکیه رکن و مقام کے درمیان حضرت امام زمان ؑکے ظهور سے پندره (15)دن پهلے شهید هو جائیں گے آپ کا نام محمدؑ اور والد گرامی کا اسم گرامی حسنؑ هو گا آپؑ حضرت امام حسین ؑکی نسل سے هونگے۔


5. خروج یمانی


حضرت امام صادق ؑخروج یمانی کے بارے میں یوں فرماتے هیں :۔
(خروجُ رجل من ولد عمّی زيد با ليمن) (1)
یه وه شخص هو گا جو همارے چچا زاد بھائی زید شهید کی اولاد میں سے هو گا جو یمن میں خروج کریں گے۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
(خروج الثلاثه:السفيانیّ ُ والخراسانیُّ واليمانیُّ فی سنة واحدة ، فی شهر واحدٍ ، فی يوم واحد ، وليس فيها من راية اھدایٰ من راية اليمانی ، لانّه يدعو الیٰ الحق) (2)
تین جھنڈے ایک هی سال ایک هی مهینه، ایک هی دن میں خروج کریں گے۔ سفیانی ، خراسانی ، یمانی. ان کے درمیان میں سے صالح اور صحیح تر یمانی کے علاوه کوئی نهیں هو گا وه لوگوں کو حق کی طرف بلائے گا۔
روایات کهتی هیں :۔ـیمانی، سفیانی سے لڑتے هوئے عراق میں داخل هو گا یمانی، خراسانی کی فوج کی مدد سے سفیانی کی فوج سے لڑے گا۔
روایات اس بات پر دلالت کرتی هیں که یمانی کا لشکر خراسانی کے لشکر کو اپنی کمانڈ میں رکھے گا ۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سپاه خراسان کی تعریف میں فرماتے هیں :
(فتخرج راية هدي من الکوفة، فتلحق ذٰلک الجيش فيقتلونهم لا يفلِتَ منهم مُخبِرُ ويستنقذون مافی ايديهم من اسّبی ولغنائم) (3)
هدایت کا پرچم کوفه سے خارج هو گا اور اس سپاه (سفیانی )کا پیچھا کر کے سبھی افراد کو قتل کرے گا۔ یها ن تک که ان کا ایک فرد بھی نهیں بچے گااورجوکچھ بھی ان کے پاس هوگا غنیمت کے طور پر اپنے قبضه میں لے لے گا اور لوگوں کو اسیر بنا لے گا۔
..............
(1) نور الابصار؛ ص 179 ، بشارالاسلام ؛ص 175
(2) بحارالانوار؛ ج52، ص210
(3) مجمع البیان ؛ ج 8،ص498


خروج سید حسنی


روایات میں هے که سید حسنی وه شخص هے که جو شهر ری سے خراج کرے گا اس کا اصل نام شعیب بن صالح هے اصالتاً قبیله بنی تتمیم سے تعلق رکھتا هو گا۔
یه شخص گندمی رنگ اور تنومند هوگا، بنام شعیب بن صالح ،وه چا رهزار افراد کے ساتھ اس حالت میں نکلیں گے که انکے لباس سفید اور جھنڈا سیاه رنگ کا هوگا۔ درحقیقت ان کا خروج ظهورِ امام مهدی ؑکے لئے مقدمه الجیش کی حیثیت رکھتا هوگا ،جوبھی ان کے سامنے آئے گا ماراجائے گا ۔
شعیب بن صالح کی تعریف میں حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :
(يخرج علی لواء المهدی غلام حديث السنَّ خفيف الحيه، اصفر ، لو قاتل الجبال لهزَّ ها حتیّٰ ينزل ايليا)(1)
یه ایک نوجوان هوگا هلکی داڑھی ، گندمی رنگ کا حامل هو گا۔ اگر پهاڑ بھی اس کے مقابل آجائیں تو پاش پاش هو جائے گا یه سید حسن آگے بڑھتے هوئے بیت المقدس تک پهنچ جائیں گے۔
یه شخص حضرت امام مهدی عجل الله تعالیٰ فرجه الشریف کا علمبردار هو گا۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم ان کے بارے فرماتے هیں :۔
(ورود الرايات السود مِن خراسان ، حتّيٰ تنزل ساحلَ دجله)
اس کا لشکر کا اصل مقصد اور هدف ارض مقدس کو دشمنوں سے پاک اور صاف کرنا هے۔
خراسانی لشکر اپنے اصل هدف سے کبھی غافل نهیں هوگا۔ یهاں تک که وه بیت المال مقدس کو دشمنوں سے پاک کرنے کے بعد دجله اور فرات تک پهنچ جائے گا۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
سیاه پرچم خراسان سے برآمد هو کر دجله اور فرات میں داخل هو گا۔
حضرت امام محمد باقر ؑفرماتے هیں :۔
اس مقدس لشکر کے ساتھ ایرانی شیعه اور مستضعف افراد خروج کریں گے اور هدایت کے پرچم کو لے کر نخیله کی طرف جائیں گے، اس دن لوگ حق پر جمع هو ں گے اور تیس لاکھ افراد مارے جائیں گے۔
حضرت امیر المؤمنین ؑاس وقت کے حالات سے لوگوں کو باخبر کرتے هوئے فرماتے هیں :
(اذا رأيتم الريات السود فالز مواالارض لا تحرکوا ايديکم ولا ارجلکم ثم يظهر قوم صغارٌ لا يوبه لهم)
جب تم سیاه پرچم دیکھو تو اس وقت زمین پر لیٹ جاؤ اور اپنے هاتھ پاؤں بالکل نه هلاؤ پھر ایک چھوٹا سا گروه ظاهر هوگا جو بالکل مورد اعتماد اور توجه کے قابل نهیں هوگا۔
..............
(1) والملاح و الفتن؛ ص 53


جواب سوال نمبر 5



 

علامات ظہور



وہ نشانیاں یا امور جو دنیا میں امام زمان علیہ السلام کے ظہور کو بیان کریں انہیں علائمِ ظہور یا علامات ظہور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


فہرست مندرجات
۱ - ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
۲ - علاماتِ ظہور کی اقسام
       ۲.۱ - حتمی نشانیاں
              ۲.۱.۱ - آسمانی گونج دار پکار
              ۲.۱.۲ - سفیانی کا خروج
              ۲.۱.۳ - زمین کا دھنس جانا
              ۲.۱.۴ - نفس زکیہ کا قتل ہونا
              ۲.۱.۵ - یمانی کا آنا
       ۲.۲ - دجال
       ۲.۳ - غیر حتمی نشانیاں
۳ - علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
۴ - حوالہ جات
۵ - مأخذ

ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
[ترمیم]

ظہورِ امام زمان ؑ کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق ہے۔ ذیل میں چند اہم فرق پیش خدمت ہیں:
۱۔ ظہور کا شرائط سے ایک حقیقی و منطقی اور واقعی ربط و تعلق ہے؛ یعنی ظہور اس وقت ہو گا جب ظہور کی شرائط اور اسباب فراہم ہو جائیں۔ جبکہ علاماتِ ظہور اس طرح سے نہیں ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ ظہور کی علامات آشکار نہ ہوں لیکن ظہور ہو جائے جبکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ظہور کی شرائط مہیا نہ ہو اور ظہور ہو جائے۔ بعض علاماتِ ظہور جیسے نفس زکیہ کا قتل ظہور سے پہلے واقع ہو گا اور یہ شرائطِ ظہور کے مہیا ہونے میں مؤثر ہے؛ لیکن اس معنی میں نہیں کہ یہ امام زمان ؑ کے ظہور کی شرط ہے۔

۲۔ جب ظہور کی تمام شرائط فراہم ہو جائیں اور شرائط مکمل ہو جائیں تو امام زمان کا ظہور ہو گا۔ لہذا ظہور کے وقت تمام شرائط موجود ہوں گی۔ جبکہ علاماتِ ظہور میں ایسا ہونا ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ بعض علامات امام زمان ؑ کے ظہور سے پہلے آشکار ہوں گی اور بعض علامات ان کے ظہور کے بعد نمودار ہوں گی۔ [۱]

علاماتِ ظہور کی اقسام
[ترمیم]

آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات علاماتِ ظہور دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ حتمی علامات و نشانیاں
۲۔ غیر حتمی نشانیاں

← حتمی نشانیاں

حتمی نشانیوں سے مراد وہ علامات و نشانیاں ہیں جو ظہور سے پہلے نمودار ہوں گی اور یہ کسی قید و شرط کی پابند نہیں ہیں؛ جبکہ غیر حتمی نشانیاں بعض شرائط کے ساتھ وابستہ ہیں جو موجودہ ہوں تو یہ غیر حتمی نشانیاں ہوں گی۔ ظہور امام زمانؑ کی حتمی علامات کا بیان متعدد روایات میں آیا ہے جن میں سے بعض میں پانچ حتمی علامات کا تذکرہ ہے اور بعض میں تقریبا دس (۱۰) سے کچھ زائد حتمی علامات بیان کی گئی ہیں۔

امام جعفر صادق ؑ سے صحیح السند روایت میں پانچ (۵) حتمی علامات کا تذکرہ وارد ہوا ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں: خَمْسُ‌ عَلَامَاتٍ‌ قَبْلَ‌ قِيَامِ‌ الْقَائِمِ: الصَّيْحَةُ وَالسُّفْيَانِيُّ وَالْخَسْفُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الزَّكِيَّةِ وَالْيَمَانِي‌؛ قائم کے قیام سے پہلے پانچ (۵) علامات ظاہر ہوں گی: اونچی پکار، سفیانی کا خروج، زمین کا (بیداء کے مقام پر ) دھنس جانا، نفسِ زکیہ کا قتل کر دیا جانا اور یمانی کا آنا۔ [۲] یہ روایت چونکہ صحیح السند ہے اور اس مضمون پر مشتمل متعدد احادیث ہیں اس لیے ان پانچ نشانیوں کے حتمی ہونے پر علماء کا اتفاق ہے۔ علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی ۵۲ نمبر جلد میں ان تمام روایات کو جمع کیا ہے جو ظہور کی علامات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان روایات کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ حتمی علامات تقریبا ۱۰ ہیں جن میں سے پانچ (۵) علامات پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ وہ صحیح السند روایات میں وارد ہوئی ہیں۔[۳][۴] بعض روایات کے مطابق یہ پانچ علامات امام مہدی ؑ کے قیام سے پہلے ظاہر ہوں گی۔ [۵] ذیل میں ہم ان پانچ حتمی علامات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جن کا تذکرہ امام جعفر صادق کی روایت میں وارد ہوا ہے:

←← آسمانی گونج دار پکار

بعض روایات کے مطابق صَیۡحہ ایک آسمانی گونج دار نداء ہو گی جس میں امام مہدیؑ کا نام لیا جائے گا اور مشرق سے لے کر مغرب تک پوری دنیا کے لوگ اس آواز کو سنیں گے۔ یہ آسمانی نداء ماہِ مبارک رمضان میں دی جائے گی اور اس مخلوق کی طرف یہ جناب جبرئیل ؑ کی گونج دار آواز ہو گی۔ [۶][۷]

←← سفیانی کا خروج

ان نشانیوں میں سے اہم ترین علامت سفیانی کا خروج ہے۔ روایات کے مطابق سفیانی ابو سفیان کی نسل سے ایک شخص ہے جو شام سے خروج کرے گا اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کر ڈالے گا۔ [۸] اسی طرح وہ کوفہ و نجف میں شیعوں کو قتل کرے گا اور شیعوں کی مخبری کرنے والے اور ان کو قتل کرنے والے کو انعامات سے نوازے گا۔ روایات کے مطابق سفیانی آٹھ ()۸ مہینے حکومت کرے گا جبکہ بعض میں نو (۹) مہینے کا تذکرہ بھی وارد ہوا ہے۔ علامہ مجلسی نے احتمال دیا ہے کہ اس اختلاف کی بنیادی وجہ تقیہ یا بداء ہے۔[۹] بعض علماء کا کہنا ہے کہ سفیانی کسی ایک فرد کا نام نہیں ہے؛ بلکہ ہر وہ شخص جو اعلانیہ طور پر امام مہدی ؑ کے خلاف خروج کرے وہ سفیانی ہے اور جو اخلاف و اعمال میں ابو سفیان سے مشابہ ہو۔ [۱۰] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی ایک فرد نہیں دو افراد ہیں: ۱۔ ایک زوراء کے علاقے میں قیام کرے گا جوکہ بعض احادیث کے مطابق بغداد کا علاقہ بنتا ہے اور اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا، ۲۔ دوسرا شام میں خروج کرے گا۔[۱۱]

←← زمین کا دھنس جانا

روایات کے مطابق مکہ میں بیداء کے مقام میں سفیانی کا لشکر زمین میں دھنس جائے گا جوکہ حتمی علامات میں سے ہے۔ [۱۲]

←← نفس زکیہ کا قتل ہونا

معتبر روايات میں نفسِ زکیہ کے قتل ہونے کو حتمی علامات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفس زکیہ کون ہے؟ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ ایک پاک و پاکیزہ سید ہے جس کو مکہ مکرمہ میں رکن و مقام کے درمیان شہید کر دیا جائے گا۔ نفس زکیہ کا قتل ہونا حتمی علامات میں سے ہے۔[۱۳][۱۴] ایک روایت کے مطابق نفسِ زکیہ کی شہادت کے پندرہ دن بعد امام زمان ؑ ظہور فرمائیں گے۔ [۱۵] بعض جگہ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ امام زمان ؑ کے سفیر ہوں گے اور ان کی طرف سے مکہ کے لوگوں کی طرف سفیر بنا کر بھیجے جائیں گے۔[۱۶] کچھ روایات میں وارد ہوا ہے کہ وہ امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے ہوں گے اور کچھ روایات میں مطابق وہ امام حسین ؑ کی نسل سے ہوں گے۔ جب سفیانی مدینہ کی طرف خروج کرے گا اور لوگوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرے گا تاکہ لشکرِ سفیانی مدینہ پہنچ سکے تو نفس زکیہ مکہ جائیں گے اور لوگوں کو دعوتِ ہدایت دیں گے جس کے نتیجے میں ذی الحج کے مہینے میں مراسمِ حج کے بعد بیت اللہ اور حرمِ امن میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے انہیں قتل کر دیا جائے گا۔[۱۷]

←← یمانی کا آنا

یمانی کا آنا حتمی علامات میں سے ہے۔ یمانی ایک مومن شخص ہے جس کا تعلق یمن سے ہے اور یہی سے وہ خروج کریں گے۔ روایات کے مطابق جس سال اور مہینے میں سفیانی خروج کرے گا اسی سال، مہینے اور اسی دن یمانی کا بھی خروج ہو گا۔ [۱۸] یمانی حق کا پرچم بلند کرے گا اور لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف بلائے گا اور روایات میں یمانی کی حمایت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [۱۹]

← دجال

بعض روایات کے مطابق دجال کا خروج بھی ظہور کی علامات میں سے ہے جبکہ بعض کے مطابق اسے قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح امام مہدی ؑ کا ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اسی طرح قیامت کی دیگر علامات میں سے ایک دجال کا خروج ہے۔[۲۰][۲۱] البتہ دجال کے موضوع پر وارد ہونے والی اکثر روایات ضعیف ہیں یا اہل سنت طریق سے وارد ہوئی ہیں۔ اس لیے بعض محققین نے دجال کے وجود پر شک کا اظہار کیا ہے۔ اہل سنت طریق سے کثیر روایات دجال کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جوکہ رسول اللہ ؐ سے منقول ہیں۔ ان میں سے بعض روایات بالاتفاق جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ [۲۲]

لغت میں دجال کا مطلب فریب کار، دھوکہ باز انسان کے ہیں جو حق کو اختیار نہیں کرتا اور معاشرے میں باطل کی ترویج کرتا ہے۔ [۲۳] ظاہرِ روایات کے مطابق دجال ایک ظالم جابر سنگ دل انسان ہے جو لوگوں کو دھوکہ و فریب دیتا ہے اور معاشرے میں برائیاں پھیلاتا ہے۔ ظہور کے وقت دجال بہت سے لوگوں کو فریب دے کر حق سے دور کر دے گا۔ بعض محققین قائل ہیں کہ دجال ایک شخص نہیں ہے بلکہ روایات میں جس کا تذکرہ آیا ہے اس کے مطابق ہزاروں دجال ہیں جن میں دجالی صفات پائی جاتی ہیں۔ جب امامؑ کا ظہور ہو گا تو تقریبا ستر (۷۰) دجال خروج کریں گے۔ البتہ اکثر و بیشتر روایات جن میں دجال کا ذکر آیا ہے ضعیف اور غیر معتبر روایات ہیں۔ [۲۴][۲۵] بعض معاصر علماء معتقد ہیں کہ دجال دنیا بھر میں کفر اور مادی ثقافت کے تسلط سے کنایہ ہے جس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں فکری، سیاسی اور اقتصادی انحراف پھیل جائے اور دنیا شیطانی تسلط کے مکمل کنٹرول میں آ جائے۔[۲۶]

← غیر حتمی نشانیاں

بعض علامات غیر حتمی ہیں جن کا واقع ہونا ممکن بھی ہے اور ہو سکتا ہے وہ برپا نہ ہوں۔ روایات میں غیر حتمی علامات کی طویل فہرست وارد ہوئی ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں: یاجوج و ماجوج کا آنا، ماہِ رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا لگنا،[۲۷] آسمان میں آگ کا ظاہر ہونا، [۲۸] شام میں بڑے زلزلے کا آنا،[۲۹] دنیا بھر کا جنگ کی لپیٹ میں آنا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا قتل ہونا [۳۰] قم میں وسیع پیمانے میں علم و دانش پھیل جائے گا یہاں تک وہ علم کا خزانہ اور معدن بن جائے گا،[۳۱] ظلم و فساد کا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا۔ [۳۲]

علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
[ترمیم]

ظہورِ امام مہدیؑ کی شرائط اور علامات میں فرق ہے۔ اگر شرائط مہیا نہ ہوں تو ظہور نہیں ہو گا جبکہ علامات کے بغیر ظہور ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علاماتِ ظہور کا اصلًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا تو روایات میں اس کا اس قدر طویل تذکرہ وارد نہ ہوتا۔ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو درج ذیل فوائد ہمارے سامنے اجاگر ہوتے ہیں:
۱۔ یہ علامات اور نشانیاں امام زمانؑ کی عظمت و جلالت اور بلند و بزرگ اہداف کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالی نے قرار دیئے ہیں۔ ایک ذات کے آنے سے پہلے پوری کائنات میں اس کے لیے آمادگی اور تیاری اس ذات کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔
۲. ان علامات کے ذریعے دشمنانِ اسلام کے دلوں پر رعب و دبدبہ اور وحشت طاری ہو جائے گی۔
۳. امام زمانؑ کے ماننے والوں کے لیے یہ علامات بشارت کا بیغام بن جائیں گے اور ان کے دلوں کی قوت کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے وہ بآسانی اپنے آپ کو امام زمانؑ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔


 
 

نوٹ یہ نیٹ سے لیا ہے 




علامات ظہور امام مہدی علیہ السلام

 ظہور کی کچھ علامات مخصوص انداز میں اور مخصوص لوگوں میں خاص اشارے کے ساتھ کرسٹلائز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی احادیث میں مذکور ہے کہ امام زمان علیہ السلام کا ظہور طاق سال اور طاق دن میں ہوگا۔   دجال  اور  سفیانی نامی لوگوں کا  خروج   اور یمانی اور سید خراسانی جیسے نیک لوگوں کے  قیام  کو خاص نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔


 روایات میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی مختلف نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو ظہور کی علامات کے نام سے مشہور ہیں۔ اس مقالے میں ان علامات کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی عام علامات:

وہ علامات جن میں عمومی خصوصیات ہوتی ہیں، یعنی وہ کسی خاص مظہر کی شکل میں، ایک خاص وقت اور مخصوص لوگوں میں نہیں ہوتیں، انہیں "عمومی علامات" کہتے ہیں۔ جیسے کہ وہ احادیث اور روایات جو آخر زمانہ کے لوگوں کے حالات کے بارے میں بتاتی ہیں اور اس دور میں رونما ہونے والے انحرافات کے بارے میں بتاتی ہیں جو دراصل امام کے ظہور کی علامات ہیں۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم پر یہ باتیں نازل ہوئیں کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیں اور اپنے بعد کے ائمہ کے بارے میں انہیں آگاہ کریں۔ جو اس کے بچوں میں سے ہیں؛ ان میں سے آخری نشانیاں ہیں۔ یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ وہ زمین کو عدل سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی... میں نے کہا: اے اللہ! یہ کب ہو گا خدا نے مجھ پر وحی کی: جب علم دور ہو جائے اور جہالت ظاہر ہو جائے۔ قرآن کی تلاوت زیادہ ہوگی لیکن عمل کم ہوگا۔ قتل و غارت بڑھے گی، حقیقی فقہا اور رہنما کم ہوں گے۔ آپ کی امت کو چاہیے کہ وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ ( اثباة الهداة، ج ۷، ص ۳۹۰)

امام علی علیہ السلام نے دجال اور اس کے نکلنے اور امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی نشانیوں کے بارے میں "صعصعہ بن صوحان" کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ : دجال کے نکلنے اور خروج کی نشانی یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے۔ امانتوں میں خیانت کریں گے؛ جھوٹ کو حلال سمجھیں گے۔ سود کھانا رشوت لینا عام ہوگا؛ مضبوط عمارتیں بنائیں گے اور دنیا کیلئے دین کو بیچیں گے؛ ایک دوسرے کے ساتھ قطع تعلقی کریں گے؛ قتل اور خون کو عام سمجھا جائے گا۔ (بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۱۹۳)

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے خاص علامات:

ظہور کی کچھ علامات مخصوص انداز میں اور مخصوص لوگوں میں خاص اشارے کے ساتھ کرسٹلائز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی احادیث میں مذکور ہے کہ امام زمان علیہ السلام کا ظہور طاق سال اور طاق دن میں ہوگا۔ دجال اور سفیانی نامی لوگوں کا خروج اور یمانی اور سید خراسانی جیسے نیک لوگوں کے قیام کو خاص نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ احادیث میں ان کے ناموں اور رسم و رواج کے ساتھ اور ان کی خاص خصوصیات بھی ذکر کی گئی ہیں۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے اور کوفہ کی طرف بڑھیں گے۔ چنانچہ جب مہدی کا ظہور ہوتا ہے تو وہ اسے بیعت کی دعوت دیں گے۔( بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۲۱۷)
نیز امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے مہدی کے لیے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد سے نظر نہیں آئیں: ایک رمضان المبارک کی پہلی رات کا چاند گرہن اور دوسرا اسی مہینے کے درمیان میں سورج گرہن کا ہونا۔ جب سے خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ (منتخب الاثر، ص ۴۴۴)

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کےحتمی علامات:

وہ علامات جو یقیناً امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے واقع ہوں گی۔ جن کے رونما ہونے میں کوئی شرط شامل نہیں کی گئی ہے۔ ان نشانیوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جو بھی ظہور کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: قائم کا ظہور خدا کی طرف سے یقینی ہے اور سفیانی کا خروج بھی خدا کی طرف سے یقینی ہے اور سفیانی کے بغیرکوئی قائم نہیں ہے۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: یمانی کا قیام ظہور کے حتمی علامات میں سے ہے۔ (بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۸۲)
فضل بن شازان ابو حمزہ ثمالی سے روایت کرتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا: کیا سفیانی کا خروج یقینی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آسمانی ندا بھی حتمی نشانیوں میں سے ہے اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی یقینی ہے۔ حکومت کے حوالے سے بنی عباس کا اختلاف یقینی ہے۔ نفس ذکیہ کا قتل بھی یقینی ہے۔ قائم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قیام بھی یقینی ہے۔( الارشاد، شیخ مفید، ج ۳، ص ۳۴۷)
مندرجہ بالا روایات کے مطابق سفیانی کا خروج، یمانی کا قیام، ندائے آسمانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور نفس ذکیہ کا قتل ظہور امام مہدی علیہ السلام کے حتمی علامات میں سے ہیں۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب رونما ہونے والے علامات:

بعض احادیث میں آیا ہے کہ امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے سال بعض علامات ظاہر ہوں گی۔ یعنی ظہور سے پہلے اور حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر یہ نشانیاں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی، اس دوران امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین لوگوں کا خروج: قیام خراسانی، سفیانی اور یمانی ، ایک سال، ایک مہینے اور ایک دن میں ہوگا، اور اس دوران کوئی بھی حق و ہدایت کی طرف اتنا نہیں بلائے گا جتنا کہ یمانی۔ (کتاب غیبت نعمانی، ص ۲۵۲)
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: مہدی علیہ السلام کے ظہور اور نفس ذکیہ کے قتل کے درمیان پندرہ راتوں سے زیادہ کا فاصلہ نہیں ہے۔( ارشاد مفید، ج ۲، ص ۳۷۴؛ اعلام الوری، ص ۴۲۷)
ان روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب رونما ہونے والی علامات میں سے خراسانی، سفیانی اور یمانی کا قیام اور نفس ذکیہ کا قتل ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قدرتی اور زمینی علامات:

ظہور امام مہدی علیہ السلام کی علامات میں سے زیادہ تر قدرتی اور زمینی علامات ہیں اور ان میں سے ہر ایک حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور قیامت کے صحیح ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: میرے خاندان کا ایک آدمی ارض مقدس میں قیام کرے گا جس کی خبر سفیانی تک پہنچ جائے گی۔ وہ اپنے سپاہیوں کا ایک لشکر اس سے لڑنے کے لیے بھیجے گا اور ان کو شکست دے گا، پھر خود سفیانی اور اس کے ساتھی اس سے لڑنے کے لیے جائیں گے اور جب وہ بیداء کی سرزمین سے گزر رہے ہوں گے تو زمین انھیں نگل جائے گی، سوائے ایک شخص کے کوئی زندہ نہیں بچے گا اور وہ ایک شخص اس واقعہ کی خبر دوسروں تک پہنچائے گا۔
سفیانی کا بیداء میں زمین کے اندر چلے جانا (خسف بیداء)، یمانی ، خراسانی، سفیانی اور دجال کا خروج کرنا، نفس ذکیہ کا قتل، خونی جنگیں وغیرہ جیسی علامات زمینی اور قدرتی علامات میں سے ہیں۔

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے آسمانی علامات:

امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی اہمیت کے پیش نظر زمینی اور قدرتی علامات کے علاوہ کچھ آسمانی نشانیاں بھی امام علیہ السلام کے ظہور کے وقت ظاہر ہوں گی تاکہ لوگ اپنے آسمانی رہنما اور نجات دہندہ کو بہتر طریقے سے پہچان سکیں۔ اور ان کے مشن اور اہداف اور مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں ان کا ساتھ دیں۔

آسمانی پکار:

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کوئی منادی آسمان سے پکارے گا کہ حق آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے ساتھ ہے تو سب امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا ذکر کریں گے اور ہر کوئی ان کی دوستی اور محبت میں گرفتار ہوگا ان کے علاوہ کسی کو یاد نہیں کیا جائے گا۔

سورج گرہن:

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامات میں سے ایک رمضان کے مقدس مہینے کی 13 یا 14 تاریخ کو سورج گرہن ہے۔( غیبت نعمانی، ص ۲۷۰)
ان احادیث کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی آسمانی علامات میں ندائے آسمانی یعنی آسمانی پکار اور رمضان المبارک میں سورج گرہن کا واقع ہونا ہے۔

حرف آخر:

اکثر محققین اور مجتہدین کے مطابق ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں یہ ظہور امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ اب تک ظہور کے عام علامات تقریبا مکمل طور پر رونما ہوچکی ہیں جبکہ بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس وقت ظہور امام مہدی علیہ السلام کے خاص علامات بھی رونما ہورہی ہیں یا عنقریب رونما ہونے والی ہیں۔ تمام محبین اہل بیت علیہ السلام اور منتظرین امام مہدی علیہ السلام کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال اور کردار کے ذریعے معاشرے میں حقیقی منتظر امام مہدی علیہ السلام ہونے کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے حقیقی اعوان و انصار میں سے قرار دے۔



گیارھویں پی ڈی ایف:   👈 آنحضرت علیہ السلام کا ظہور اور آپ کی عالمی حکومت کے مقاصد 


مہدوی معارف پر ابتدائی کورس


مہدویت نامہ
 

گیارہواں درس

آنحضرت علیہ السلام کا ظہور اور آپ کی عالمی حکومت کے مقاصد 
مقاصد:
۱۔ زمانہ ظہور میں حضرت کی حکومت کے مقاصد سے آگاہی
۲۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں سے زمانہ غیبت میں الہام لین

فوائد:
۱۔ ظہور کے وقت کو معین کرنے سے پرہیز اور وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانا
۲۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں کی معرفت
۳۔ ظہور کے لئے میلان اور اشتیاق پیدا ہون

تعلیمی مطالب:
۱۔ ظہور کا زمانہ اور وقت متعین کرنے سے منع کیا جانا
۲۔ زمانہ ظہور کے مخفی ہونے کا فلسفہ
۳۔ حضرت کے ظہور کے وقت کیا ہو گا
۴۔ زمانہ ظہور میں حضرت کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی مقاصد


آنحضرت علیہ السلام کا ظہور اور آپ کی عالمی حکومت کے مقاصد 

جس وقت ظہور کی باتیں ہوتی ہیں تو انسان کے دل میں ایک بہترین احساس پیدا ہوتا ہے گویا کسی نہر کے کنارے سرسبز و شاداب باغ میں بیٹھا ہوا ہے اور شیرین سخن بلبلوں کی آواز سن رہا ہے، جی ہاں خوبیوں کا ظہور، خوبیوں کی نشر و اشاعت، تھکی ماندی رُوح کو نشاط بخشتا ہے اور اُمیدواروں کی آنکھوں میں بجلی سی چمک اُٹھتی ہے۔ ہم یہاں حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور اور آپعلیہ السلام کے عینی حضور کے موقع پر ہونے والے واقعات کو بیان کریں گے اور اس بے مثال جمال کو غیبت کا پردہ اُٹھاتے ہوئے نظارہ کریں گے۔

ظہور کا زمانہ
ہمیشہ سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال یہ پیدا ہوتارہا اور اب بھی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کب ظہور فرمائیں گے اور کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ اس سوال کا جواب معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ ہے کہ ظہور کا وقت معلوم نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم نے نہ تو پہلے ظہور کے لئے کوئی وقت معین کیا ہے اور نہ ہی آئندہ وقت معین کریں گے“۔
(غیبت طوسی، فصل ۷، ح ۲۱۴، صفحہ ۶۲۴)
اس بنا پر جو لوگ ظہور کے لئے کوئی زمانہ معین کریں تو ایسے افراد فریب کار اور جھوٹے ہیں، جیسا کہ مختلف روایات میں اس بات کی تاکید ہوئی ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپعلیہ السلام سے ظہور کے بارے میں سوال کیا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جولوگ ظلم کے خاتمہ کا وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں“۔
(غیبت طوسی، فصل ۷، ح ۱۱۴، صفحہ ۵۲۴)
لہٰذا اس طرح کی روایات سے اچھی طرح یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں کے تحت امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے رہتے تھے اور ایسے افراد آئندہ بھی پائے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ظہور کے وقت معین کرنے والوں کے سامنے خاموش نہ رہیں بلکہ ان کی تکذیب کی جائے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں : ”ظہور کے لئے وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانے میں کسی بھی طرح کی کوئی پرواہ نہیں کرو، کیونکہ ہم نے کسی کے سامنے ظہور کا وقت معین نہیں کیا “۔ (غیبت طوسی، فصل۷، ح ۴۱۴، صفحہ ۶۲۴)

وقت ظہور کے مخفی رہنے کا راز
جیسا کہ عرض ہو چکا ہے کہ خداوند حکیم کی مشیت کے پیش نظر ظہور کا وقت ہمارے لئے مخفی ہے، بے شک یہ بات کچھ حکمتوں کی بنا پر ہے جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

اُمید کی کرن
جب ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو تو انتظار کرنے والوں کے دلوں میں ہر وقت اُمید رہتی ہے اور اس اُمید کے ساتھ وہ ہمیشہ غیبت کے زمانہ کی پریشانیوں کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں۔ واقعاً اگر گزشتہ صدیوں کے شیعوں سے کہا جاتا کہ تمہارے زمانہ میں امام علیہ السلام کا ظہور نہیں ہو گا بلکہ چند صدیوں کے بعد ظہور ہو گا تو پھر وہ کس اُمید کے ساتھ اپنے زمانہ کی مشکلات کا مقابلہ کرتے اور کس طرح زمانہ غیبت کے تنگ و تاریک راستہ کو صحیح و سالم طے کرتے؟
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور واسطے حالات کا ہموار کرنا
بے شک ”انتظار“ اسی صورت میں بہترین فعالیت اور کارکردگی کا باعث ہو سکتا ہے کہ جب ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو، کیونکہ اگر ظہور کا وقت معین ہو جائے تو پھر جن لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم ظہور کے زمانہ تک نہیں رہیں گے تو پھر ان کے اندر راستہ ہموار کرنے کا شوق نہیں رہے اور وہ (برائیوں کے سامنے) ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے،جبکہ ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو تو انسان ہر وقت اس اُمید میں رہتا ہے کہ وہ ظہور کے زمانہ کو درک کرلے گا اور پھر اسی حوالے سے کوشش کرتا ہے تاکہ ظہور کے لئے راستہ ہموار ہو جائے اور پھر اپنے معاشرے کو صالح اور نیک معاشرہ میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتاہے۔ اس کے علاوہ وقت ظہور کے معین ہونے کی صورت میں اگر بعض مصلحتوں کی وجہ سے معین وقت پر ظہور نہ ہو، تو پھر بعض لوگ امام مہدی علیہ السلام کے اصل عقیدہ میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں (اور اس جملہ کی تکرار فرمائی) جس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام خدا کے بلانے پر تیس دن کے لئے اپنی قوم کے درمیان سے غیبت میںچلے گئے اوروقت بتا کر گئے بعد میں خداوند عالم نے ان تیس دن میں دس دن کا اضافہ کر دیاتو اس موقع پر جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا: موسیٰ نے اپنے وعدہ کو وفا نہیں کیا، لہٰذا ان کاموں کو انجام دینے لگے جن کو انجام نہیں دینا چاہیے تھا، (اور دین سے پھر گئے اور گوسالہ پرستی شروع کر دی) ۔
(غیبت نعمانی، باب۶۱، ح ۳۱، صفحہ ۵۰۳)

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کا آغاز
سب لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب میں کیا کیا واقعات رونما ہوں گے، امامعلیہ السلام کی تحریک کہاں سے اور کیسے شروع ہو گی؟ امام مہدی علیہ السلام اپنے مخالفوں سے کیسا سلوک کریں گے اور آخرکار آپ کسطرح پوری دُنیا پر غلبہ کریں گے اور تمام اہم امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میںکیسے لیں گے۔ یہ سوالات اور اسی طرح کے دوسرے سوالات ظہور کے مشتاق انسان کے ذہن میں آتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخری اُمیدِ بشریت کے ظہور کے واقعات کے بارے میں گفتگو کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات جو ابھی پیش نہیں آئے ہیں عام طور پر ان کے بارے میں مکمل اور دقیق اطلاع حاصل نہیں کی جا سکتی۔
لہٰذا ہم اس حصہ میں جو کچھ بیان کریں گے وہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ کے وہ واقعات ہیں جو متعدد کتابوں میں نقل ہوئے ہیں اور جن میں امام علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ کے واقعات کی ایک جھلک بیان ہوئی ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کےقیام کی کیفیت
جب ظلم و ستم اور تباہی دنیا کی صورت کو تاریک اور سیاہ کر دے گی اور جب ظالم و ستمگر لوگ اس وسیع زمین کو بُرائی کا میدان بنا دیں گے اور دُنیا بھر کے مظلوم ظلم و ستم سے پریشان ہو کر مدد کے لئے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کریں گے، اچانک آسمانی آواز رات کی تاریکیون کو کافور کر دے گی اور ماہِ خدا رمضان میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بشارت دے دی جائے گی۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۷۱)
دل دھڑکنے لگیں گے اور آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی، رات بھر عیاشی کرنے والے صبح ایمان کے طلوع ے مضطرب اور پریشان راہ نجات تلاش کرتے ہوںگے اور امام مہدی علیہ السلام کے منتظرین اپنے محبوب امام کی تلاش اور آپ کے ناصر و مددگاروں کے زمرے میں شامل ہونے کے لئے بے چین ہوں گے۔
اس موقع پر سفیانی جو کئی ملکوں پر قبضہ کرچکا ہو گا جیسے شام (سوریہ)، اردن، فلسطین، وہ امام سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر تیار کرلے گا۔ سفیانی کا لشکر جو امام علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے مدینہ سے مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہو گا لیکن جیسے ہی ”بیدائ“ نامی جگہ پر پہنچے گا تووہ لشکر زمین میں دھنس کر نابود ہو جائے گا۔ (بحارالانوار، جلد ۳۵، ح ۰۱) اور نفس زکیہ کے قتل ہو جانے کے کچھ ہی مدت بعد امام مہدی علیہ السلام ایک جوان مرد کی صورت میں مسجد الحرام میں ظہور فرمائیں گے۔ اس حال میں کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پیراہن زیب تن ہو گا اور رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)کا پرچم لئے ہوں گے اور خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے رکن و مقام کے درمیان ظہور کا ترانہ زمزمہ کرتے ہوں گے اور خداوند عالم کی حمد و ثنا اور محمد و آل محمد پر دَرُود و سلام کے بعد خطاب فرمائیں: ”اے لوگو! ہم خداوند قدیر سے مدد طلب کرتے ہیں اور جو شخص دُنیا کے کسی بھی گوشے میں ہماری آواز پر لبیک کہے تو اسے نصرت و مدد کے لئے پکارتے ہیں، اور پھر اپنی اور اپنے خاندان کی پہچان کراتے ہوئے فرمائیں گہے: ﴾فَاللّٰہ اللّٰہ فِی نَا لاٰ تَخ دُلونَا وَ انصرُونا یَن صُرکُم اللّٰہ تعالیٰ﴿ ”ہمارے حقوق کی رعایت کے سلسلہ میں خدا کو نظر میں رکھو، اور ہمیں (عدالت قائم کرنے اور ظلم کرنے میںمقابلہ کا) تنہا نہ چھوڑو، ہماری مدد کرو اور خداوند عالم تمہاری مدد فرمائے گا“۔
امام علیہ السلام کی گفتگو تمام ہونے کے بعد اہل آسمان اہل زمین پر سبقت کریں گے اور گروہ در گروہ آ کر امام علیہ السلام کی بیعت کریں گے حالانکہ ان سے پہلے فرشتہ وحی جناب جبرئیل امام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے اور اس کے بعد ۳۱۳ زمین کے ستارے مختلف مقامات سے سرزمین وحی (یعنی مکہ معظمہ) میں جمع ہو کر امامت کے پُرنور سورج کے چاروں طرف حلقہ بنا لیں گے اور وفاداری کا عہد و پیمان باندھیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ دس ہزار جاں بکف سپاہیوں کا لشکر امام علیہ السلام کے لشکر گاہ میں جمع ہو جائے گا اور فرزند رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔
(غیبت نعمانی، باب ۴۱، صفحہ ۷۶)
امام علیہ السلام اپنے انصار اور مومنین کے عظیم لشکر کے ساتھ پرچم قیام لہراتے ہوئے بہت تیزی سے مکہ اور قرب و جوار کے علاقوں پر مسلط ہو جائیں گے تاکہ انکے درمیان مہر و محبت اور عدالت قائم کریں اوران شہروں کے سرکش لوگوں کو مغلوب کریں گے، اس کے بعدمدینہ پہنچیں گے اور پھر وہاںسے عراق کا رُخ فرمائیں گے اور شہر کوفہ کو اپنی عالمی حکومت کا مرکز قرار دیں گے اور وہاں سے اس عظیم انقلاب کو ہدایت فرمائیںگے اور دُنیا والوں کو اسلام اور قوانین قرآن کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیں گے اور ظلم و ستم کے خاتمہ کی دعوت دیں گے اور اپنے نورانی ایمان کے پیکر سپاہیوں کو دُنیا کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ فرمائیں گے۔ امام علیہ السلام ایک ایک کرکے ظالموں کے عظیم مورچوں کو فتح کر لیں گے کیونکہ مومن اور وفادار انصار کے علاوہ ملائکہ بھی آپ کی مدد کریں گے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح اپنے لشکر کے رعب و ودبدبہ سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ خداوند قدیر امام علیہ السلام اور آپٍعلیہ السلام کے لشکر کا خوف اس قدر دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا کہ کوئی بھی سرکش آپ کا مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرمایا:
”قائم آل محمد (علیہ السلام) کی دشمنوں کے دل میںخوف و وحشت او ررعب ودبدبہ کے ذریعہ مدد ہو گی“۔ (کمال الدین، ج۱، باب ۲۳، ح ۶۱، صفحہ ۳۰۶)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کے ذریعہ فتح ہونے والے علاقوں میں سے ”بیت المقدس“‘ بھی ہے ( روزگار رھائی، ج ۱، صفحہ ۴۵۵) جس کے بعد ایک بہت ہی مبارک واقعہ رونما ہو گا جس سے امام مہدی علیہ السلام کا انقلاب ایک اہم موڑ پر پہنچ جائے گا جس سے آپ کے محاذ انقلاب کو استحکام ملے گا، اور وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے تشریف لانا۔ کیونکہ قرآن کریم کے فرمان کے مطابق حصرت مسیح زندہ ہیں اور آسمان میں رہتے ہیں لیکن اس موقع پر زمین پر تشریف لائیں گے اور امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس طرح وہ سب کے سامنے اپنے اوپر شیعوں کے بارہویں امام علیہ السلام کی فضیلت اور برتری نیز امام مہدی علیہ السلام کی پیروی کا اعلان کریں گے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: ”قسم اس خدا کی جس نے مجھے مبعوث کیا اور مجھے رحمة للعالمین بنایا، اگر دُنیا کی عمر کا ایک دن بھی بناقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ جس میں میرا فرزند مہدی علیہ السلام قیام کرے گا، اس کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) آئیں گے اور (امام) مہدی (علیہ السلام) کے پیچھے نماز پڑھیں گے“۔(بحارالانوار، ج ۱۵، صفحہ ۱۷) اس کام کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہت سے عیسائیوں کو کہ جن کی تعداد دُنیا میں بہت ہو گی آخری ذخیرہ الٰہی اور شیعوں کے امام پر ایمان لانے کی ترغیب دیں گے، گویا خداوند عالم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے ہی دن کے لئے زندہ رکھا ہے تاکہ حق طلب لوگوں کے لئے چراغ ہدایت قرار پا سکیں، البتہ ہادی برحق حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ معجزات ظاہر ہونے اور بشریت کی رہنمائی کے لئے فکری اور عمیق علمی گفتگو کے مواقع فراہم کرنا امام علیہ السلام کے عظیم الشان انقلاب کے منصوبوں میں سے ہے تاکہ لوگوں کی ہدایت کا راستہ ہموار ہو جائے۔
اس کے بعد امام علیہ السلام تحریف سے محفوظ (یہودیوں کی کتاب) توریت کی تختیوں کو زمین سے نکالیں گے ( روزگار رھائی، ج ۱، صفحہ ۲۲۵) اور جب یہودی ان تختیوں میں آپعلیہ السلام کی امامت کی نشانیاں دیکھیں گے اور عظیم الشان انقلاب کو دیکھنے، نیز امام علیہ السلام کے پیام حق کو سننے اور آپ کے معجزات کو دیکھ کروہ بھی گروہ در گروہ آپ کے ساتھ ملحق ہو جائین گے اور اس طرح خداوند عالم کا یقینی وعدہ پورا ہو جائے گا اور اسلام پوری دُنیا کو اپنے پرچم کے نیچے جمع کر لے گا۔﴾ہُوَ الَّذِی اَر سَلَ رَسُو لَہُ بِال ہُدَی وَ دِی نِ ال حَقِّ لِیُظہِرَہ عَلَی الدِّی نِ کُلِّہِ وَ لَو کَرِہَ ال مُش رِکُو نَ۔﴿ (سورہ توبہ، آیت ۳۳)
”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔
قارئین کرام! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی مذکورہ تصویر کشی کے پیش نظر صرف ظالم اور ہٹ دھرم لوگ ہی باقی بچیں گے جو حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور یہ گروہ بھی مومنین کی اکثریت اور اس انقلاب کے مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا اور عدالت مہدیعلیہ السلام کی تلوار سے اپنے شرمناک اعمال کی سزا پائیں گے اور زمین اور اس پر رہنے والے ہمیشہ کے لئے شر و فساد سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جب تاریکی اور ظلمت کے بادل چھٹ جائیں گے تو کائنات کو منور کرنے والا سورج طلوع ہو گا اور دشت و بیابان کی منتظر آنکھوں کو روشنی ملے گی۔جی ہاں! ظلم و ستم، برائیوں، تباہیوں اور بزدلی سے مکمل مقابلہ کے بعد عدل و انصاف کی حکومت تشکیل پائے گی اور عدالت مسند حکومت پر جلوہ افروز ہو گی تاکہ ہر چیز اور ہر شخص کو اس کی معین جگہ پر قرار دیا جائے اور ہر چیز کو اس کے حق کے لحاظ سے قرار دیا جائے گا چنانچہ یہ کائنات اور اس میں رہنے والے افراد ایک ایسی حکومت کا مشاہدہ کریں گے جو مکمل طور پر حق و عدالت پر مبنی ہو گی اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ ایسی حکومت جو خداوند عالم کے صفات جمال و جلال کی مظہر ہو گی اور اس کے زیر سایہ انسان اپنی تمام بھولی ہوئی آرزﺅں کو حاصل کر لے گا۔
قارئین کرام! ہم اس فصل میں چار موضوعات پر بحث کریں گے۔(۱)امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے اغراض و مقاصد(۲) امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی دستور العمل(۳) اس عدل و انصاف کی حکومت کے ثمرات(۴) اس حکومت کی خصوصیات۔

اغراض و مقاصد
چونکہ اس کائنات کی غرض خلقت، کمال کے درجات پر فائز ہونا اور تمام کمالات کے مرکز یعنی خداوند عالم سے قریب سے قریب تر ہونا ہے۔ اس عظیم تمنا تک پہنچنے کے لئے اس کے ضروری اسباب و وسائل فراہم ہونا چاہیے۔ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعلیٰ فرجہ الشریف) کی اس عالمی حکومت کا مقصد قرب الٰہی تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرنا اور اس راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے۔اگرچہ انسان جسم و رُوح سے مرکب ہے اور اسکی ضرورتین بھی مادی اور معنوی دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں لہٰذا کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف حساب و کتاب سے قدم بڑھایا جائے اور ”عدالت“ چونکہ الٰہی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت ہے لہٰذا اس کے زیرِ سایہ انسان مادی اور معنوی لحاظ سے ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی معنوی اورمادی ترقی یافتہ ہوگی اورپورے معاشرہ میں عدالت قائم ہونے کے لحاظ سے قابل ذکر ہے۔

معنوی ترقی
مذکورہ اہم اہداف و مقاصد کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم طاغوت اور ظالم بادشاہوں کی حکومت میں انسانی زندگی کی تاریخ کا ایک مختصر سا جائزہ لیں۔
تاریخ بشریت میں (حجت الٰہی کی حکومت سے قطع نظر) معنویت اور معنوی اقدار کی کیا اہمیت ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ بشریت بھٹکی ہوئی ہے اور ہمیشہ برائیوں کے راستے پر گامزن ہے اور اپنے نفس اور شیطانی وسوسوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ہر خوبصورتی اور خوبیوں کو بھلا بیٹھی ہے اور ان کو خود اپنے ہی ہاتھوں شہوتوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے؟ پاکیزگی اور عفت، صداقت، تعاون اور نصرت، ایثار و بخشش اور نیکی و احسان کی جگہ ہوا پرستی، شہوت پرستی، جھوٹ، دھوکہ بازی، خود پرستی، عیب جوئی، خیانت، ظلم و ستم، زیادہ کی ہوس اور زیادہ طلبی ہے۔ ایک جملہ میں یوں کہا جائے کہ انسانی زندگی میں معنویت دم توڑتی جا رہی ہے بلکہ بہت سے مقامات پر اور بہت سے نام نہاد لوگوں کے اندر معنویت کے اثرات بھی ختم ہو چکے ہیں۔حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت انسان کے وجود میں اسی چیز کو زندہ کرنے کے لئے قدم اُٹھائیںگے اور مردہ انسان کو ایک نئی حیات عطا کرےں گے تاکہ مسجود ملائکہ کو حقیقی زندگی اور واقعی حیات کی شرینی مل جائے اور سب کو یہ یاد دہانی کرائےں کہ شروع ہی سے تقدیر یہی تھی کہ تم ایسے زمانہ میں زندگی بسر کرو گے اور پاکیزگی اور نیکیوں کے عطر کی خوشبو اپنی رُوح میں پاﺅ گے۔﴾یَا اَیَُّہَا الَّذِی نَ آمَنُو ا استَجِی بُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُو لِ اِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحِییکُم....﴿ (سورہ انفال، آیت ۴۲)
”اے ایمان والو! اﷲ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے........“۔لہٰذا یہ معنوی حیات جس کی وجہ سے انسان حیوان سے الگ ہوتا ہے دراصل انسان کا اصلی وجود اور اہم حصہ ہے کیونکہ انسان اسی زندگی کی وجہ سے ”آدمی“ کہا جاتا ہے اور یہی زندگی انسان کو خداوند خالق سے نزدیک کرتی ہے اور اس کو ”مقام قرب“ پہنچا دیتی ہے۔ اس وجہ سے حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں انسان کا یہ پہلو اُجاگر ہو گا اور زندگی کے تمام پہلوﺅں میں انسانی اقدار کی رونق اور شادابی ہو گی۔ صفا اور محبت، ایثار و وفا صدق و صداقت اور ہر اس چیز کا بول بالا ہو گا جس پر ”خوبی اور نیکی“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگرچہ اس عظیم الشان اور مقدس مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک گہرے منصوبہ کی ضرورت ہے کہ جس کو ہم آئندہ بیان کریں گے۔

عدالت میں وسعت دینا
ہر انسانی معاشرہ میں ظلم و ستم سب سے بڑا زخم رہا ہے۔ بشریت ہمیشہ مختلف مسائل میں اپنے حقوق تک پہچننے سے محروم رہی ہے اور کبھی بھی عالم بشریت میں مادی اور معنوی نعمتیں عدل و انصاف کے مطابق تقسیم نہیں ہوئی ہیں ہمیشہ شکم سیر لوگوں کے ساتھ ایک گروہ بھوکا رہا ہے، ہمیشہ بڑے بڑے محلوں کے آس پاس بہت سے لوگ راستوں اور فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرتے رہے ہیں، مال و دولت کی طاقت نے غریب اور محتاج لوگوں کو غلامی کی زنجیر میں کھینچا ہے اور گورو نے کالوں پر (صرف کالے ہونے کے جرم میں) ظلم و ستم کئے ہیں۔ ایک جملہ میں یوں کہیں کہ ہمیشہ اور ہر جگہ غریب اور کمزوروں کے حقوق، طاقتوروں اور مکاروں کے ذریعہ پامال ہوتے رہے ہیں، جبکہ انسان کی ہمیشہ سے یہ دلی تمنا رہی ہے کہ ایک روز آئے کہ جب عدالت اور مساوات کا بولا بالا ہو، لہٰذا انسان ہمیشہ سے عدالت کی حکومت کے انتظار میں ہے۔ اس انتظار کی آخری حد امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا سبز زمانہ ہے، وہ سب سے عظیم عادل رہبر اور انصاف کرنے والے ہادی کے عنوان سے پوری دُنیا میں عدالت کو نافذ فرمائیں گے، چنانچہ اسی شیریں حقیقت کی بشارت متعدد روایات میں بیان ہوئی ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:”اگر دُنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ ظلم وستم سے بھری ہو گی اور یہ بات میں نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے سنی ہے“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۰۳، ح ۴، صفحہ ۴۸۵)
اس کے علاوہ دوسری دسیوں روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عالمی عدالت برقرار ہونے اور ظلم و ستم کے خاتمہ کی خبر دی گئی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ عدالت اور انصاف امام مہدی علیہ السلام کی وہ ممتاز خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بعض دُعاﺅں میں آپ کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے:﴾اَللّٰہُمَّ وَ صل عَلٰی ولی امرک القائم المومل والعدلِ المنتظر﴿ (مفاتیح الجنان، دُعائے افتتاح)
”خداوندا! تیرا درود و سلام ہو تیرے ولی پر جو سب انتظار کرنے والوں کے لئے آرزو اور عدالت قائم کرنے والا ہے“۔جی ہاں! وہ عدالت و انصاف کو اپنے انقلاب کا عنوان قرار دے گا کیونکہ عدالت، ذاتی اور اجتماعی زندگی میں حیات حقیقی کے راستہ کو ہموار کرتی ہے، کیونکہ زمین اور اس پر زندگی بسر کرنے والے عدالت کے بٍغیر ایسے مردہ اور بے رُوح ہیں جن کو زندہ شمار کیا جاتا ہے۔وہ زندہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی تفسیر میںبیان کیا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی الَاَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا﴿ ( سورہ حدید، آیت ۷۱)
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے........“۔
”مقصد یہ نہیں کہ زمین کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا جائے بلکہ خداوند عالم کچھ مردوں (انسانوں) (دیگر روایات کے پیش نظر یہ آیت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور کے بارے میں تفسیر ہوئی ہے یہاں انسانوں سے مراد امام کے انصار و اصحاب ہیں) کو تحریک کرے گا جو عدالت کو زندہ (اور قائم) کریں گے پس (معاشرہ میں) عدل و انصاف کی رُوح کے ذریعہ زمین زندہ ہو جائے گی“۔”زمین کا زندہ ہونا“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی (ع) کی عدالت عام عدالت ہو گی جو سب جگہ قائم ہو گی، نہ کہ بعض علاقوں میں اور بعض لوگوں کے لئے۔ دوسری روایات کے پیش نظر جن میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ناصرین مراد لئے گئے ہیں ان میں ”مَردوں“ سے مراد آپ کے ناصر و مددگار مراد ہیںکہ انہیں اٹھایا جائے گا۔
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
حضرت کازمانہ ظہور الٰہی ارادہ ظہور کی شرائط کے فراہم ہونے کے ساتھ مشروط ہے اسی لئے روایات میں اس کا وقت معین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
زمانہ ظہور کا مخفی رہنا بہت سی حکمتوں کا باعث ہے مثلاً اُمید افزاءاحساسات کا باقی رہنا اور ان کے ظہور کے شرائط فراہم کرنے کا عزم و ارادہ کا موجود رہتا بلکہ مسلسل بڑھتے رہنا۔
زمین پر ظلم و تباہی کا غلبہ ہوجانے کے بعد امام مہدی علیہ السلام الٰہی حکم سے ظہورفرمائیں گے اور سرزمین مکہ سے اپنی عالمی دعوت کا آغاز کریں گے۔
حضرت کی حکومت کے اہم ترین مقاصد میں سے دُنیا میں باطنی نورانیت کا بڑھنا اور ہر جہت سے عدالت کو وسعت دینا ہے۔

درس کا سوالات:
۱۔زمانہ ظہور کا مخفی رہنا کیسے ان کے ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے کے احساسات کو باقی رکھ سکتا ہے؟
۲۔ روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟
۳۔ روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟
۴۔ کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟
5_ امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام کیا ہے؟ وضاحت کریں؟



ة....ة....ة....ة....ة  

### سوالات کے جوابات:

1. **زمانہ ظہور کا مخفی رہنا کیسے ان کے ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے کے احساسات کو باقی رکھ سکتا ہے؟**
   - زمانہ ظہور کا مخفی رہنا شیعوں میں ہمیشہ امید کی کرن روشن رکھتا ہے، جس سے وہ ہر وقت اپنے امام کے ظہور کے لیے تیاری اور دعا میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ احساس انہیں ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے میں سرگرم عمل رکھتا ہے اور ایک معنوی و دینی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

2. **روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟**
   - روایات میں وقت معین کرنے سے منع کرنے کا فلسفہ یہ ہے کہ وقت کی معینیت سے ممکن ہے کہ لوگ غفلت میں پڑ جائیں یا وقت آنے پر ناامید ہو جائیں۔ اس کے علاوہ، امام کے ظہور کا وقت خدا کی مرضی پر مبنی ہے، اور وقت کی مخفی رکھنے سے امید، دعا، اور تیاری کا ماحول قائم رہتا ہے۔

3. **روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟**
   - روایات کے مطابق، امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب دنیا ظلم و جبر سے بھری ہوگی۔ امام کا ظہور عدالت، انصاف، اور دینی قدروں کی بالادستی کا باعث بنے گا۔ وہ دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں گے اور انسانیت کو ایک نئے دور میں لے جائیں گے جہاں عدل و انصاف حکمرانی کرے گا۔

4. **کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟**
   - دینی و معنوی حالت کو احیاء اور وسعت دینا امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ دین اسلام کی اصلی تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے کا باعث بنتا ہے۔ اس سے انسانیت کو خدا کے قریب تر کرنے، معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے، اور زندگی کے ہر شعبے میں عدالت و انصاف کو قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

5. **امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام کیا ہے؟ وضاحت کریں؟**

امام مہدی علیہ السلام کی متوقع عالمی حکومت کا تصور اسلامی عقیدے کے مطابق ایک اہم مقام رکھتا ہے، خاص طور پر شیعہ اسلامی تعلیمات میں جہاں امام مہدی کو آخری امام مانا جاتا ہے۔ امام مہدی کی حکومت کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کا قیام ہے، جو کہ دنیا بھر میں امن و امان اور انصاف کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

### عدل و انصاف کا قیام
اسلامی روایات کے مطابق، امام مہدی کی حکومت میں عدل و انصاف کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب دنیا ظلم و جبر سے بھری ہوگی۔ امام مہدی کے ظہور کے بعد، وہ عدل و انصاف کے سچے اصولوں کو قائم کریں گے، جو کہ ہر انسان کو بلا امتیاز مذہب، نسل، یا جنس کے برابر حقوق فراہم کرے گا۔

### عالمی حکومت کی خصوصیات
امام مہدی کی حکومت کو عالمی حکومت کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا دائرہ کار دنیا بھر میں پھیل جائے گا، جس میں ان کے زیر انتظام تمام انسانوں کے لیے عدالتی نظام مساوی اور شفاف ہوگا۔ اس حکومت میں کوئی بھی شخص امتیازی سلوک کا شکار نہیں ہوگا اور ہر ایک کو انصاف دلایا جائے گا۔

### معاشرتی تبدیلیاں
امام مہدی کی حکومت کی ایک اور خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ معاشرتی برائیوں اور ناانصافیوں کو ختم کرکے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں گے اور ہر شخص عدل و انصاف کی بنیاد پر زندگی گزارے گا۔ 

### دینی تعلیمات کا احیاء
عدل و انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ، امام مہدی اسلامی تعلیمات کو بھی پوری دنیا میں احیاء کریں گے، جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔ اس سے دنیا بھر میں اخوت، محبت اور امن کا ماحول قائم ہوگا۔

### خلاصہ
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت اس بنا پر ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایک عادلانہ نظام قائم کریں گے جو کہ ظلم، ناانصافی، اور تعصب کو ختم کر دے گا۔ ان کی حکومت کا مقصد دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانا ہے جہاں ہر انسان کے لئے امن، عدل، اور مساوات ہو۔




نوٹ یہ سوالات کے جوابات سبق سے لئے 



سوال نمبر 2: روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟

جواب: ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا فلسفہ 


ہمیشہ سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال یہ پیدا ہوتارہا اور اب بھی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کب ظہور فرمائیں گے اور کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ اس سوال کا جواب معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ ہے کہ ظہور کا وقت معلوم نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم نے نہ تو پہلے ظہور کے لئے کوئی وقت معین کیا ہے اور نہ ہی آئندہ وقت معین کریں گے“۔

(غیبت طوسی، فصل ۷، ح ۲۱۴، صفحہ ۶۲۴)

اس بنا پر جو لوگ ظہور کے لئے کوئی زمانہ معین کریں تو ایسے افراد فریب کار اور جھوٹے ہیں، جیسا کہ مختلف روایات میں اس بات کی تاکید ہوئی ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپعلیہ السلام سے ظہور کے بارے میں سوال کیا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جولوگ ظلم کے خاتمہ کا وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں“۔

(غیبت طوسی، فصل ۷، ح ۱۱۴، صفحہ ۵۲۴)

لہٰذا اس طرح کی روایات سے اچھی طرح یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں کے تحت امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے رہتے تھے اور ایسے افراد آئندہ بھی پائے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ظہور کے وقت معین کرنے والوں کے سامنے خاموش نہ رہیں بلکہ ان کی تکذیب کی جائے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں : ”ظہور کے لئے وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانے میں کسی بھی طرح کی کوئی پرواہ نہیں کرو، کیونکہ ہم نے کسی کے سامنے ظہور کا وقت معین نہیں کیا “۔ (غیبت طوسی، فصل۷، ح ۴۱۴، صفحہ ۶۲۴)


سوال نمبر 3: روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟

جواب:  لَہُ بِال ہُدَی وَ دِی نِ ال حَقِّ لِیُظہِرَہ عَلَی الدِّی نِ کُلِّہِ وَ لَو کَرِہَ ال مُش رِکُو نَ۔﴿ (سورہ توبہ، آیت ۳۳)

”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔

قارئین کرام! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی مذکورہ تصویر کشی کے پیش نظر صرف ظالم اور ہٹ دھرم لوگ ہی باقی بچیں گے جو حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور یہ گروہ بھی مومنین کی اکثریت اور اس انقلاب کے مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا اور عدالت مہدیعلیہ السلام کی تلوار سے اپنے شرمناک اعمال کی سزا پائیں گے اور زمین اور اس پر رہنے والے ہمیشہ کے لئے شر و فساد سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جب تاریکی اور ظلمت کے بادل چھٹ جائیں گے تو کائنات کو منور کرنے والا سورج طلوع ہو گا اور دشت و بیابان کی منتظر آنکھوں کو روشنی ملے گی۔جی ہاں! ظلم و ستم، برائیوں، تباہیوں اور بزدلی سے مکمل مقابلہ کے بعد عدل و انصاف کی حکومت تشکیل پائے گی اور عدالت مسند حکومت پر جلوہ افروز ہو گی تاکہ ہر چیز اور ہر شخص کو اس کی معین جگہ پر قرار دیا جائے اور ہر چیز کو اس کے حق کے لحاظ سے قرار دیا جائے گا چنانچہ یہ کائنات اور اس میں رہنے والے افراد ایک ایسی حکومت کا مشاہدہ کریں گے جو مکمل طور پر حق و عدالت پر مبنی ہو گی اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ ایسی حکومت جو خداوند عالم کے صفات جمال و جلال کی مظہر ہو گی اور اس کے زیر سایہ انسان اپنی تمام بھولی ہوئی آرزﺅں کو حاصل کر لے گا۔

قارئین کرام! ہم اس فصل میں چار موضوعات پر بحث کریں گے۔(۱)امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے اغراض و مقاصد(۲) امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی دستور العمل(۳) اس عدل و انصاف کی حکومت کے ثمرات(۴) اس حکومت کی خصوصیات۔


سوال نمبر 4: کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟

جواب: چونکہ اس کائنات کی غرض خلقت، کمال کے درجات پر فائز ہونا اور تمام کمالات کے مرکز یعنی خداوند عالم سے قریب سے قریب تر ہونا ہے۔ اس عظیم تمنا تک پہنچنے کے لئے اس کے ضروری اسباب و وسائل فراہم ہونا چاہیے۔ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعلیٰ فرجہ الشریف) کی اس عالمی حکومت کا مقصد قرب الٰہی تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرنا اور اس راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے۔اگرچہ انسان جسم و رُوح سے مرکب ہے اور اسکی ضرورتین بھی مادی اور معنوی دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں لہٰذا کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف حساب و کتاب سے قدم بڑھایا جائے اور ”عدالت“ چونکہ الٰہی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت ہے لہٰذا اس کے زیرِ سایہ انسان مادی اور معنوی لحاظ سے ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی معنوی اورمادی ترقی یافتہ ہوگی اورپورے معاشرہ میں عدالت قائم ہونے کے لحاظ سے قابل ذکر ہے۔

سوال نمبر 5: امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام کیا ہے؟ وضاحت کریں؟


جواب: امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عدالت اور انصاف کی اہمیت و مقام 


 عدالت کے بٍغیر ایسے مردہ اور بے رُوح ہیں جن کو زندہ شمار کیا جاتا ہے۔وہ زندہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی تفسیر میںبیان کیا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی الَاَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا﴿ ( سورہ حدید، آیت ۷۱)

”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے........“۔

”مقصد یہ نہیں کہ زمین کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا جائے بلکہ خداوند عالم کچھ مردوں (انسانوں) (دیگر روایات کے پیش نظر یہ آیت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور کے بارے میں تفسیر ہوئی ہے یہاں انسانوں سے مراد امام کے انصار و اصحاب ہیں) کو تحریک کرے گا جو عدالت کو زندہ (اور قائم) کریں گے پس (معاشرہ میں) عدل و انصاف کی رُوح کے ذریعہ زمین زندہ ہو جائے گی“۔”زمین کا زندہ ہونا“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی (ع) کی عدالت عام عدالت ہو گی جو سب جگہ قائم ہو گی، نہ کہ بعض علاقوں میں اور بعض لوگوں کے لئے۔ دوسری روایات کے پیش نظر جن میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ناصرین مراد لئے گئے ہیں ان میں ”مَردوں“ سے مراد آپ کے ناصر و مددگار مراد ہیںکہ انہیں اٹھایا جائے گا۔






  




  
بارہویں پی ڈی ایف:  👈 آنحضرت کی عالمی حکومت کے پروگرام

مہدوی معارف پر ابتدائی کورس


مہدویت نامہ
 

بارہواں درس
آنحضرت کی عالمی حکومت کے پروگرام


مقاصد:
۱۔ حضرت علیہ السلام کے پروگراموں سے آشنائی
۲۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں سے الہام لین

فوائد:
۱۔ دُنیا کے مستقبل کے بارے معرفت بڑھانا
۲۔ شخصی زندگی کو زمانہ ظہور سے ہم آہنگ کرن

تعلیمی مطالب:
۱۔ حضرت کے ثقافتی پروگرامز (الٰہی سنت کا احیائ، اخلاق، علم کی وسعت....)
۲۔ حضرت کے اقتصادی پروگرامز (قدرتی منابع، تقسیم، آبادانی........)
۳۔ حضرت کے معاشرتی پروگرامز (امر بالمعروف کا احیاءکرنا، الٰہی حدود کا اجراء....)


آنحضرت کی عالمی حکومت کے پروگرام


حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عدل و انصاف کی حکومت کے اہداف و مقاصد سے آگاہی کے بعد اس حکومت کے منصوبوں اور پروگراموں کے بارے بیان کیا جاتا ہے تاکہ ظہور کے زمانہ میں فعالیت اور کارکردگی کے طریقہ کار کی شناخت کے ساتھ ساتھ ظہور سے پہلے کے لئے دستور العمل طے کیا جائے کہ اس سے عظیم منجی عالم بشریت کے انتظار میں رہنے والے افراد امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت کے طریقہ کار اور منصبوبوں سے آگاہ ہو جائیں جن کے پیش نطر وہ خود اور معاشرہ کو اس راہ پر چلنے کے لئے ہدایت کریں۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے سلسلہ میں بیان ہونے والی متعدد روایات میں آپؑ کے حکومت کے لئے تین اصلی محور ذکر ہوئے ہیں: ثقافتی منصوبے، اجتماعی منصوبے اور اقتصادی منصوبے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انسانی معاشرہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے دُورہونے کی وجہ سے ثقافتی میدان میں بحران کا شکار ہو گیا ہے، لہٰذا اس کو ایک عظیم الشان ثقافتی انقلاب کی صورت میں قرآن و عترت کی طرف پلٹانا ضروری ہے۔جس طرح اس وقت ثقافتی یلغار ہے اور غیر الٰہی ثقافت ہر جگہ سایہ فگن ہے اسے تبدیل کر کے صحیح انسانی اور الٰہی ثقافت کو رائج کیا جائے گا۔
اس کے ایک ”اجتماعی جامع منصوبہ“ کا بھی ہونا ضروری ہے کیونکہ انسانی معاشرہ میں مختلف قسم کے زخم موجود ہیں لہٰذا ایک ایسے صحیح منصوبہ کی ضرورت ہے جو معاشرہ کی واقعی حیات کا ضامن ہو، جس میں تمام انسانوں کے انسانی اور الٰہی حقوق کا خیال رکھا جائے اور ظالمانہ طریقہ کار کو ختم کیا جائے کہ جس نے معاشرہ میں افراتفری اور ظلم و فساد پیدا کر دیا ہے، نیز کمزور اور غریبوں کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں لہٰذا ایسے ماحول میں ایک صحیح اور انصاف کی بنیاد پر بنائے جانے والے منصوبہ کی ضرورت ہے۔
ثقافتی ترقی اور اجتماعی رشد و نمو کا راستہ ہموار ہونے کے لئے اقتصادی دستور العمل بھی ضروری ہے تاکہ زمین پر موجود تمام مادی امکانات سے سب لوگ عادلانہ طور پر فیضیاب ہو سکیں اور ہر جگہ اور ہر طبقہ کے لئے معاش زندگی حاصل کرنا ممکن ہو۔
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے منصوبوں سے مختصر آگاہی کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں بیان ہونے والی تفصیل کو بیان کرتے ہیں اور ہرایک پہلو بارے اہم منصوبوں کو بیان کرتے ہیں:

(الف) ثقافتی پروگرام
امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں تمام ثقافتی پروگرامز لوگوں کی علمی اور عملی رشد و نمو اور ترقی کے لئے ہوں گے اور ہر لحاظ سے جہل و نادانی کا مقابلہ کیا جائے گا۔
حکومتِ حق میں ثقافتی جہاد کے اہم محور کچھ اس طرح ہوں گے:۔

۱۔کتاب و سنت کو زندہ کرنا
قرآن کریم ہر زمانہ میں غریب اور بالائے طاق رہا ہے اور انسانی زندگی میں اس کو بھلا دیا گیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں قرآن کریم کی حیات بخش تعلیمات پر انسانی زندگی میں عمل درآمد ہو گا اور معصومین علیہم السلام کی سنت زندگی کے ہر موڑ پر انسانی حیات کے لئے نمونہ عمل قرار پائے گی اور سب کے اعمال قرآن و عترت کے پاک و پاکیزہ معیار کے ترازو میں تولے جائیں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے عظیم الشان کلام میں امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں کہ جب انسان کی ہوائے نفس (انسان پر) حکومت کرے گی، امام مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور ہوائے نفس کی جگہ ہدایت اور فلاح کی حکومت قرار پائے گی اور جس زمانہ میں اپنی ذاتی رائے قرآن پر مقدم ہو چکی ہو گی اس موقع پر افکار قرآن کی طرف متوجہ ہوں گے اور معاشرہ میں قرآن ہی کی حکومت ہو گی“۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۸۳۱)
نیز ایک دوسری جگہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں انسانی معاشرہ میں قرآن پر عمل درآمد ہونے کے سلسلہ میں یہ بشارت دیتے ہیں:
”گویا میں اسی وقت اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں جو مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے بیٹھے ہیں اور قرآن جس طرح سے نازل ہوا بالکل اسی طرح لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں........“۔(غیبت نعمانی، باب ۱۲، ح ۳، صفحہ ۳۳۳)
اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کی تعلیم دینا، قرآنی ثقافت کے رائج ہونے دراصل انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن و اسلامی احکام کی حکمرانی کا نقطہ ¿ آغاز ہے۔

۲۔ معرفت اور اخلاقیات میں وسعت
قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں انسان کے اخلاقی رشد اور معنویت کی طرف بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے کیونکہ انسانی خلقت کے بلند و بالا مقصد کے رشد و کمال کی سب سے بڑی وجہ اخلاق حسنہ ہے۔ خود پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی بعثت کا مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل قرار دیا ہے ۔ (پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:انما بعثتم لاتمم مکارم الاخلاق۔ بے شک میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔
(میزان الحکمة، مترجم، ج ۴، ص ۰۳۵۱)
اور قرآن کریم نے بھی آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کو مومنین کے لئے بہترین نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ (قرآن کریم کے سورہ ¿ احزاب کی آیت نمبر ۱۲ کی طرف اشارہ ہے: لقد کان فی رسول اللّٰہ اسوة حسنة، بے شک رسول خد (ص) تمہارے لے اسوہ ¿ حسنہ ہیں)
لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ انسان کے قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی ہدایت اور ارشادات سے دُوری کی وجہ سے معاشرہ خصوصاً مسلمانی معاشرہ برائیوں اور پستیوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اخلاقی اقدار سے یہی انحراف انسان کی انفرادی اور اجتماعی حیات کی تباہی کا باعث بنا ہے۔
حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت جو کہ الٰہی حکومت اور الٰہی اقدار کی حکومت ہو گی اس میں اخلاقی اقدار کے رواج منصوبہ سب سے اہم قرار دیا جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رُو ¿وسِ ال عِبَادِ فَجَمَعَ بِہِ عَقُو لُہُم وَاَک مَلَ بِہَ اَخ لَاقُہُم ۔﴿ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۳۳)
”جب ہمارا قائم (علیہ السلام) قیام کرے گا تو مومنین کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھیں گے جس سے ان کی عقل جمع ہو جائے گی اور ان کا اخلاق کامل ہو جائے گا“۔
یہ اشارہ اور کنایہ پر مشتمل بہترین جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کہ جو اخلاق اور معنویت کی حکومت ہوگی، عقلی کمال اور انسانی اخلاق کی تکمیل کا راستہ فراہم کرے گی کیونکہ انسان میں برائیاں اس کی کم عقلی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور جب انسان کی عقل کامل ہو جائے گی تو پھر انسان میں اخلاق حسنہ پیدا ہو جائے گا۔
دوسری طرف قرآن اور سنت الٰہی کی ہدایت سے لبریز ماحول انسان کو نیکی اور اچھائی کی طرف ے جائے گا، لہٰذا ظاہر و باطن دونوں طرف سے انسان میں اخلاقی فضائل کی طرف قدم بڑھانے کی کشش پائی جائے گی، چنانچہ اس طرح دُنیا بھر میں انسان اور الٰہی اقدار نافذ ہو جائیں گی۔

۳۔ علم کی ترقی
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ثقافی پروگرام ”علم کی ترقی اور انسانی دانش کی عظیم پیشرفت ہے“ اور یہ حکومت بذات خود علوم کا مرکز اور اس زمانہ کے علماءکی سرمشق ہو گی۔
جس وقت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے امام مہدی علیہ السلام کے آنے کی بشارت دی تو اسی موقع پر آپ نے اس موضوع کی طرف اشارہ فرمایا: (امام حسین علیہ السلام کی نسل سے) نویں امام (حضرت) قائم ہیں، جن کے دست مبارک سے دُنیا میں نور اور روشنی پھیل جائے گی، جبکہ اس سے پہلے ظلمت و تاریکی میں گرفتار ہو گی اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی اور پوری دُنیا کو علم و دانش کی دولت سے مالامال کر دے گا جیسا کہ جہل و نادانی سے بھری ہو گی....“ (حضرت علی علیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کی توصیف میں فرمایا: کہ ان کا علم، دانش تم سب سے زیادہ ہو گی، (غیبت نعمانی، باب ۳۱، ح۱) اور یہ علمی اور فکری تحریک معاشرہ کے ہر طبقہ کے لئے ہو گی۔ اس ترقی اور شکوفائی میں عورت و مرد میں کوئی فرق نہیں ہو گا بلکہ عورتیں بھی علم اور دینی معرفت میں بلند مقام پر پہنچ جائیں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں تمہیں حکمت (اور علم) عطا ہو گا، یہاں تک کہ عورتیں اپنے گھروں میں کتاب خدا اور سنت رسول( صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے مطابق فیصلہ کیا کریں گی‘۔ ( نعمانی، ص ۹۳۲، بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۲۵۳)
یہ چیز لوگوں کو قرآنی آیات اور اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے نہایت ہی عمیق اور معرفت و شناخت کی طرف اشارہ دیتی ہیں۔

۴۔ بدعتوں سے مقابلہ
بدعت ”سنت“ کے مقابلہ ہوتی ہے جس کے معنی دین میں کسی نئی چیز کو داخل کرنے اور اپنی ذاتی رائے اور نظریات کو دین اور دینداری میں شامل کرنے کے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام بدعت ایجاد کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بدعت ایجاد کرنے والے وہ لوگ ہیں جو حکم خدا اور کتاب خدا نیز پیغمبر خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی مخالفت کرتے ہیں، اور اپنے نفس کی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں، اگرچہ ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو“۔ (میزان الحکمة، ح ۳۲۶۱)
لہٰذا بدعت کے معنی خدا، اس کی کتاب اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے اور ہوائے نفسانی کو نافذ کرنے اور اپنی ذاتی خواہشات کے مطابق عمل کرنے کے ہیں اور یہ چیز اس کے علاوہ ہے جو الٰہی معیار کی بنیاد اور قرآن و سنت سے الہام لیتے ہوئے کوئی نئی تحقیق کے عنوان سے پیش کی جائے، چنانچہ بدعت ایک ایسی چیز ہے جو حکم خدا و سنت رسول کو ختم کر دیتی ہے حالانکہ دین کےلئے اس سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
﴾مَا ہَدَمَ الدِّی نَ مِث ل البِدَعِ﴿ (بحارالانوار، ج ۷۸، ص ۱۹)
”بدعت کی طرح کسی بھی چیز نے دین کو تباہ و برباد نہیں کیا ہے“۔
اور اسی دلیل کی وجہ سے بدعت گزاروں کے مقابلہ کرنے کے لئے سنت پر عمل کرنے والوں کو قیام کرنا چاہیے اور ان کی سازشوں اور دھوکہ بازیوں سے پردہ اُٹھا دینا چاہیے اور ان کے غلط راستہ کو لوگوں کے سامنے واضح کر دینا چاہیے اور اس طرح سے لوگوں کو گمراہی سے نجات دینا چاہیے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”جب میری اُمت میں بدعتیں ظاہر ہونے لگیں تو علماءکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم و دانش کے ذریعہ میدان میں آئیں (اور ان بدعتوں کا مقابلہ کریں) اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو اس پر خدا کی لعنت اور نفرین ہو!“۔ (میزان الحکمة، ح ۹۴۶۱)
لیکن افسوس کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اسلام میں کیا کیا بدعتیں ایجاد نہیں کی گئیں، اور دینداری کے راستہ میں کیا کیا انحرافات نہیں کئے گئے اور کتنے ہی لوگوں کو گمراہ نہیں کیا گیا ہے اور اس طرح دین کا مقدس چہرہ اُلٹا کر پیش کیا گیا ہے اور دین کی خوبصورت تصویر کو ہوائے نفس اور ذاتی طور و طریقہ کے بادلوں سے ڈھک دیا گیا ہے۔ اگرچہ ائمہ معصومین علیہم السلام جو دین کے جاننے والے تھے اُنہوں نے بے انتہاءکوشش کی لیکن بدعت کا راستہ اور سنت نبوی کی نابودی اسی طرح جاری رہی اور غیبت کے زمانہ میں اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اور اب دُنیا انتظار میں ہے کہ صاحب مکتب اور منجی بشریت اور قرآنی موعود (حضرت امام مہدی علیہ السلام) تشریف لائیں اور ان کی حکومت کے زیر سایہ سنت نبوی زندہ ہو اور بدعتوں کا بستر لپیٹ دیا جائے۔ بے شک امام علیہ السلام کی حکومت کا ایک اہم منصوبہ بدعت اور گمراہی سے مقابلہ تاکہ ہدایت اور انسانی رشد و ترقی کا راستہ ہموار ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، حضرت امام مہدی علیہ السلام کی توصیف کرتے ہوئے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:﴾وَ لَار یَتر کُ بِدَعَةً اِلاَّ اَزَالَہَا وَ لَا سُنَّةً اِلاِّ اَقَامَہَا........﴿ (بحارالانوار، ج ۸۵، ح ۱۱، ص ۱۱)
”کوئی بھی بدعت ایسی نہیں ہو گی جس کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھنکیں گے اور کوئی بھی سنت ایسی نہ ہو گی جس کو قائم نہ کریں گے“۔

ب۔ اقتصادی منصوبہ
ایک صحیح و کامل معاشرہ کی پہچان صحیح اقتصاد ہے۔ اگر معاشرہ میں مال و دولت سے صحیح فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع کسی خاص گروہ کے اختیار میں نہ ہوں بلکہ حکومت معاشرہ کے ہر فرد پر توجہ رکھے سب کے لئے ذریعہ معاش فراہم ہو تو ایسے معاشرہ میں انسان کے لئے معنوی ترقی اور رشد کا راستہ مزید ہموار ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی اقتصادی پہلو اور لوگوں کے معاشی نظام پر توجہ کی گئی ہے۔ اس بنا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت اور عالمی اقتصاد اور عوام الناس کے لئے خاص منصوبہ ہو گا جس کی بنیاد پر زراعتی، طبیعی اور خدادادی نعمتوں سے بہتر طور پر فائدہ اُٹھایا جائے گااور اس سے حاصل ہونے والے سرمایہ کو عدل و انصاف کے مطابق معاشرہ کے ہر طبقہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ مناسب ہے کہ ہم ان روایات کا مختصر جائزہ لیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اقتصادی منصوبہ بندی کے بارے میں جان سکیں۔

>
۱۔ طبیعی منابع سے مستفید ہونا
اقتصادی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ خداداد نعمتوں سے صحیح اور بجا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے نہ تو زمین کی تمام خوبیوں سے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی پانی سے زمین کی آبادکاری کے لئے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اور حکومت حق کی برکت سے آسمان سخی ہو کر بارش برسائے گا اور زمین بغیر چون و چرا کے فصل اُگائے گی۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
﴾وَ لَو قَد قَامَ قَائِمُنَا لَاَن زَلَتِ السَّمَائُ قَط رَہَا، وَ لَاَخ رَجَتِ ال اَر ضَ نَبَاتَہٰا۔۔۔۔۔﴿ (بحارالانوار، ج ۰۱، ص ۴۰۱، خصال شیخ صدوق، ص ۶۲۶)
”اور جب قائم آل محمد علیہ السلام قیام کریں گے تو آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین دانہ اُگائے گی........“۔
آخری حجت حق کی حکومت کے زمانہ میں زمین اور اس کے ذرائع امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے اختیار میں ہوں گے تاکہ مکمل اقتصاد کے لئے ایک عظیم سرمایہ جمع ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾........تقویٰ لہ الارض و تظہر لہ الکنوز........﴿ ( کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”زمین ان کے لئے سمٹ جایا کرے گی، (اور وہ پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائیں گے) اور تمام خزانے ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے“۔

۲۔ دولت کی عادلانہ تقسیم
نادرست اقتصاد کی سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ دولت ایک خاص گروہ کے قبضہ میں جمع ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتارہا ہے کہ بعض افراد یا بعض گروہ جو اپنے لئے ( کسی بھی دلیل کے تحت) خاص امتیاز کے قائل تھے اُنہوں نے عمومی مال و دولت پر قبضہ کر لیا اور اس کو ذاتی مفاد یا کسی خاص گروہ کے لئے استعمال کرتے رہے۔ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ایسے لوگوں سے مقابلہ کریں گے اور عمومی مال و دولت کو عام لوگوں کے اختیار میں دیں گے اور ”عدالت علوی“ سب کے سامنے پیش کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اَہ لَ ال بَی تِ قَسَّمَ بِالسَّوِیَّةِ وَ عَدَلَ فِی الرَّع یَةِ﴿ (نعمانی، باب ۳۱، ح ۶۲، ص ۲۴۳)
”جب ہم اہل بیت کا قائم قیام کرے گا تو (مال و دولت کو) برابر تقسیم کرے گا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مساوات اور برابری کے قانون کو نافذ کیا جائے گا اور سب کو انسانی اور الٰہی حقوق دیئے جائیں گے۔اور مال و دولت کی عادلانہ تقسیم ہو گی۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں قیام کرے گا ........ وہ مال و دولت کو صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے سوال کیا: اس کا کیا مقصد ہے؟ تو فرمایا: یعنی لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۱۸)
اور معاشرہ میں اس مساوات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی فقیر یا محتاج نہیں ملے گا اور طبقاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”تمہارے درمیان امام مہدی علیہ السلام ایسی مساوات قائم کریں گے کہ کوئی بھی زکوٰة کا مستحق نہیں مل پائے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۰۹۳)

۳۔ ویرانوں کی آبادکاری
آج کل کی حکومتوں میں صرف انہی لوگوں کی زمین آباد ہوتی ہے جو حکام اور ان کے گرد و نواح والوں اور ان کے ہم فکر لوگ یا بڑے صاحب قدرت لوگ ہوتے ہیں لیکن دوسروں طبقوں کو بھلا دیا جاتا ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام کی کو حکومت میں چونکہ پیداوار اور تقسیم کا مسئلہ حل ہو جائے گا لہٰذا ہر جگہ نعمتیں اور آبادکاری ہو گی اور سب کی زندگی خوشحالی ہوگی سب کے لئے زمین آباد ہوں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہی:﴾.... فلا یبقیٰ فی الارض خزاب الا عمَّ........﴿ (کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”پوری زمین میں کوئی ویرانہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ اس کو آباد کر دیا جائے گا“۔

ج۔ معاشرتی منصوبہ بندی
انسانی معاشرہ کی اصلاح کا ایک پہلو صحیح معاشرتی منصوبہ بندی ہے۔ دُنیا کے سب سے بڑے منصف کی حکومت میں معاشرہ کو صحیح ڈگر پر لگانے کے لئے قرآن اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے گی جس کے نافذ ہونے سے انسانی زندگی میں رشد و نمو اور بلند مقام تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ حکومت الٰہی کے تحت اس دُنیا میں نیکیوں کو رائج کیا جائے گا اور برائیوں سے روکا جائے گا اور بدکاروں کے ساتھ قانونی مقابلہ کیا جائے گا، نیز لوگوں کے معاشرتی حقوق مساوات اور عدالت کی بنیاد سے دیئے جائیں گے اور اجتماعی عدالت حقیقی طور پر قائم کی جائے گی۔
قارئین کرام! یہاں پر مناسب ہے کہ ایک نظر ان روایات پر ڈالیں جن میں اس حسین دُنیا کے جلوو ¿ں کا اچھی طرح نظارہ ہو سکے۔

۱۔ وسیع پیمانہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر بہت وسیع پیمانہ پر عمل ہو گا جس کے بارے میں قرآن کریم نے بھی بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اسی بنا پر اُمت اسلامیہ کو منتخب اُمت کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ (سورہ ¿ آل عمران آیت ۰۱۱) جس کے ذریعہ تمام واجبات الٰہی پر عمل ہوںا ہے (اس اہم واجب کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الامر بالمعروف و النہی عن المنکر.... فریضة عظیمة بہا تقام الفرائض، (امر بالعمروف اور نہی عن المنکر ایسے واجبات ہیں کہ جن کے سبب تمام واجبات کا قیام ہے)۔ (میزن الحکمة مترجم، ج ۸، ص ۴۰۷۳) اور اس کا ترک کرنا ہلاکت کا بنیادی رکن، نیکیوں کی نابودی اور معاشرہ میں برائیوں کا پھیلنے کا اصلی سبب ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بہترین اور بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ حکومت کا رئیس اور اس کے عہدے دار نیکیوں کی ہدایت کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اَل مَہ دِیَ وَ اَص حَابُہُ.... یَامُرُو نَ بِال مَع رُو فِ وَیَن ہَو نَ عَنِ ال مُن کِر﴿ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۷۴)
”امام مہدی علیہ السلام اور آپ کے ناصر و مددگار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہوں گے“۔

۲۔ برائیوں کا مقابلہ کرنا
برائیوں سے روکنا جو الٰہی حکومت کا ایک امتیاز ہے صرف زبانی طور پر نہیں ہو گا بلکہ برائیوں سے عملی طور پر مقابلہ ہو گا یہاں تک کہ برائی اور اخلاقی پستی کا معاشرہ میں کوئی وجود نہ ہو گا اور انسانی زندگی برائیوں سے پاک ہو جائے گی۔
جیسا کہ دُعائے ندبہ میں بیان ہوا ہے کہ جو محبوب غائب کے فراق کا درِ دل ہے:
﴾اَی نَ قَاطِع حَبَائِلِ ال کِذ بِ وَال اَف تَرَائِ، اَی نَ طَامِس آثَارِ الزَّی غِ وَال اَہَوَائِ۔﴿(مفاتیح الجنان، دُعائے ندبہ)
”کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رسیوں کا کاٹنے والا ہے؟ اور کہاں ہے جو گمراہی اور ہوا و ہوس کے آثار کو نابود کرنے والا ہے؟“۔

۳۔ حدود الٰہی کا نفاذ
معاشرہ کے شرپسند اور مفسد لوگوں سے مقابلہ کے لئے مختلف راستے اپنائے جاتے ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ایک طرف تو فاسقوں اور شرپسندوں کو ثقافتی پروگرام کے تحت اور تعلیمات الٰہی کے ذریعہ عقائد اور ایمان کی طرف پلٹا دیا جائے گا اور دوسری طرف ان کی زندگی کی جائز اور معقول ضرورتوں کو پورا کرنے اور اجتماعی عدالت نافذ کرنے سے ان کےلئے برائی اور فساد کے راستہ کوبند کر دیا جائے گا لیکن جو لوگ اس کے باوجود بھی دوسروں کے حقوق اور احکام الٰہی کو پامال کر دیں گے اور قوانین کی رعایت نہیں کریں گے تو ان سے سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا تاکہ ان کے راستے بند ہو جائیں اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کی روک تھام ہو سکے جیسا کہ مفسدوں کی سزا کے بارے میں اسلام کے جزائی قوانین میں بیان ہوا ہے۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت (ص) نے امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات بیان کی ہیں، فرماتے ہیں:
”وہ الٰہی حدود کو قائم (اور ان کو نافذ) کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۷۲، ح ۴)

۴۔ منصفانہ فیصلے
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ایسا اہم پروگرام معاشرہ کے ہر پہلو میں عدالت کو نافذ کرنا ہو گا، اور آپ ہی کے ذریعہ پوری دُنیا عدالت اور انصاف سے بھر جائے گی جیسا کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ قضاوت اور فیصلوں میں عدالت کا نافذ ہونا ایک حیاتی ضرورت ہے کیونکہ اسی سلسلہ میں سب سے زیادہ ظلم اور حق تلفی ہوتی ہے کسی کا مال کسی اورکو مل جاتا ہے اور ناحق خون بہانے والے ظالم کو سزا نہیں ملتی، بے گناہ لوگوں کی عزت و آبرو پامال ہوتی ہے ۔ دُنیا بھر کی عدالتوں میں سے سب سے زیادہ ظلم معاشرہ کے کمزور لوگوں پر ہوا ہے اور صاحبان قدرت اور ظالم حکمرانوں کے زیر اثر ان عدالتی فیصلوں میں بہت سے لوگوں کی جان و مال پر ظلم ہوا ہے۔ دُنیا پرست ججوں نے اپنے ذاتی مفاد اور قوم و قبیلہ پرستی کی بنا پر بہت سے غیر منصفانہ فیصلہ کئے ہیں اور ان کو نافذ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کتنے ایسے بے گناہ لوگ ہوں گے جن کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور کتنے ایسے مجرم اور فسادی لوگ ہوں گے جن کے بارے میں قانون جاری نہیں ہوا ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت، تمام ظلم و ستم اور ہر حق تلفی کا خاتمہ کر دے گی۔ آپ کی ذات گرامی جو عدالت پروردگار کی مظہر ہے انصاف کے محکمے قائم کرے گی اور اپنی عدلیہ میں اپنے نیک و صالح قاضی مقرر کرے گی کہ جو خوف خدا رکھنے والے نیز دقیق طور پر حکم نافذ کرنے والے ہوں گے تاکہ دُنیا کے کسی گوشہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ کیاجائے۔حضرت امام رضا علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے سنہرے موقع کی توصیف میں ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
﴾فَاِذَا خَرَجَ اَش رَقَتِ ال اَر ضِ بِنُو رِ رَبَّہَا، وَ وَضَعَ مِی زَانَ ال عَد لِ بَی نَ النَّاسِ فَلَا یَظ لِم اَحَد اَحَداً﴿(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۱۲۳)
جب وہ ظہور کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی میزان قائم کریں گے، پس وہ (ایسی عدالت جاری کریں گے کہ) کوئی کسی دوسرے ر ذرّہ بھی ظلم و ستم نہیں کرے گا“۔
قارئین کرام! اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی حکومت میں محکمہ عدل و انصاف مکمل طور پر نافذ ہو گا جس سے ظالم اور خودغرض انسانوں کے لئے راستے بند ہو جائیں گے اور ظلم و ستم کی تکرار اور دوسرے کے حقوق پر تجاوز کرنے سے روک تھام کی جائے گی۔
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
امام مہدی علیہ السلام کے اہم ترین ثقافتی پروگرامز مندرجہ ذیل ہیں:
کتاب و سنت کا احیائ، اسلامی اخلاق کا پھیلاﺅ، علم و دانش کی شگوفائی، بدعتوں کا مقابلہ۔
اقتصادی اعتبار سے امام کا پروگرام یہ ہے کہ قدرتی ذخائر سے مکمل فائدہ اُٹھایا جائے گا اور الٰہی رزق و نعمات لوگوں میں تقسیم کی جائیں گی اور دُنیا کی آبادانی کو وسعت دی جائے گی۔ویرانوں کو آباد کیا جائے گا۔
معاشرتی امور میں حضرت کا حکومتی پروگرام یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا احیاءاور الٰہی حدود کا اجرا کیا جائے۔

درس کے سوالات
۱۔ زمانہ ظہور میں حضرت کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاءسے کیا مراد ہے؟
۲۔ زمام باقر علیہ السلام کی حدیث مبارک میں جملہ ”وضع یدہ علی رو ¿س العباد....“ سے کیا مراد ہے؟
۳۔ جمہ ”تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز“ کا دقیق معنی بیان کریں؟
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز کی ان کے مثالوں کے تذکرہ کے ساتھ وضاحت کریں؟
۵۔ امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف اہم ترین اصلاحی اور معاشرتی پروگرامز میں سے تین کی مثالیں بیان کریں؟

ة....ة....ة....ة....ة


### زمانہ ظہور میں حضرت کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاء سے کیا مراد ہے؟


زمانہ ظہور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاء سے مراد یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور اہل بیت کی سنتوں کو پوری طرح زندہ کرنا اور انہیں معاشرتی، ثقافتی، اقتصادی اور معاشرتی امور میں بنیاد بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی احکامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور سوسائٹی کو ان اصولوں پر استوار کیا جائے گا جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔


### امام باقر علیہ السلام کی حدیث مبارک میں جملہ "وضع یدہ علی رو ¿س العباد...." سے کیا مراد ہے؟


اس حدیث میں "وضع یدہ علی رو ¿س العباد...." سے مراد یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کے دلوں اور عقلوں پر اثر انداز ہوں گے، ان کی ہدایت اور روحانی بصیرت کو بڑھائیں گے۔ اس عمل سے ان کی فکری اور اخلاقی حالت بہتر ہوگی، اور وہ ایک معاشرتی اور روحانی تجدید کا سبب بنے گا۔


### جملہ "تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز" کا معنی بیان کریں؟


"تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز" کا معنی ہے کہ زمین اپنے خزانے امام مہدی علیہ السلام کے لئے ظاہر کر دے گی اور زمینی فاصلے ان کے لئے سمٹ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے طبیعی وسائل کا استعمال اور تقسیم ان کی قیادت میں بہترین اور موثر طریقے سے ہوگا۔


### امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز کی ان کے موارد کے تذکرہ کے ساتھ وضاحت کریں؟


امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز میں شامل ہیں: 

1. **طبیعی منابع سے مستفید ہونا**: امام زمانہ زمین کے طبیعی وسائل کو فعال طور پر استعمال کریں گے، جیسے زراعت اور معدنیات۔

2. **دولت کی عادلانہ تقسیم**: معاشرے میں دولت کو عادلانہ طور پر تقسیم کرنا، تاکہ ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور معاشرتی عدل قائم ہو۔

3. **ویرانوں کی آبادکاری**: زمین کے وسیع حصوں کو آباد کرنا، جس سے معاشرتی و اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔


### امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے اہم ترین اصلاحی اور معاشرتی پروگرامز میں سے تین کی مثالیں بیان کریں؟


بالکل، ایک مختصر جواب کے مطابق:


زمانہ ظہور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اہم ترین پروگراموں میں ثقافتی، اقتصادی، اور معاشرتی منصوبے شامل ہیں، جو کہ دنیا بھر میں عدل و انصاف کی استقراری کے لئے نہایت اہم ہیں۔


**ثقافتی پروگرامز** میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا احیاء، اخلاقی ترقی، اور علم کی وسعت شامل ہیں۔


**اقتصادی پروگرامز** میں زمینی وسائل کا موثر استعمال، دولت کی عادلانہ تقسیم، اور معاشی ترقی کو فروغ دینا شامل ہیں۔


**معاشرتی پروگرامز** میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فعال نفاذ، حدود الٰہی کا قیام، اور منصفانہ فیصلے شامل ہیں، جس سے معاشرہ میں اخلاق و انصاف مضبوط ہوں گے۔


یہ پروگرامز عدل و انصاف کی حکومت کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہیں اور ظہور کے بعد کے لیے معاشرتی اور اخلاقی ہدایت فراہم کرتے ہیں۔


نوٹ یہ سبق سے سوالات کے جوابات 

سوال نمبر 1:

جواب 
جواب 

قرآن کریم ہر زمانہ میں غریب اور بالائے طاق رہا ہے اور انسانی زندگی میں اس کو بھلا دیا گیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں قرآن کریم کی حیات بخش تعلیمات پر انسانی زندگی میں عمل درآمد ہو گا اور معصومین علیہم السلام کی سنت زندگی کے ہر موڑ پر انسانی حیات کے لئے نمونہ عمل قرار پائے گی اور سب کے اعمال قرآن و عترت کے پاک و پاکیزہ معیار کے ترازو میں تولے جائیں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے عظیم الشان کلام میں امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں کہ جب انسان کی ہوائے نفس (انسان پر) حکومت کرے گی، امام مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور ہوائے نفس کی جگہ ہدایت اور فلاح کی حکومت قرار پائے گی اور جس زمانہ میں اپنی ذاتی رائے قرآن پر مقدم ہو چکی ہو گی اس موقع پر افکار قرآن کی طرف متوجہ ہوں گے اور معاشرہ میں قرآن ہی کی حکومت ہو گی“۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۸۳۱)
نیز ایک دوسری جگہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں انسانی معاشرہ میں قرآن پر عمل درآمد ہونے کے سلسلہ میں یہ بشارت دیتے ہیں:
”گویا میں اسی وقت اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں جو مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے بیٹھے ہیں اور قرآن جس طرح سے نازل ہوا بالکل اسی طرح لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں........“۔(غیبت نعمانی، باب ۱۲، ح ۳، صفحہ ۳۳۳)
اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کی تعلیم دینا، قرآنی ثقافت کے رائج ہونے دراصل انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن و اسلامی احکام کی حکمرانی کا نقطہ ¿ آغاز ہے۔


جواب 2

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رُو ¿وسِ ال عِبَادِ فَجَمَعَ بِہِ عَقُو لُہُم وَاَک مَلَ بِہَ اَخ لَاقُہُم ۔﴿ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۳۳)
”جب ہمارا قائم (علیہ السلام) قیام کرے گا تو مومنین کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھیں گے جس سے ان کی عقل جمع ہو جائے گی اور ان کا اخلاق کامل ہو جائے گا“۔
یہ اشارہ اور کنایہ پر مشتمل بہترین جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کہ جو اخلاق اور معنویت کی حکومت ہوگی، عقلی کمال اور انسانی اخلاق کی تکمیل کا راستہ فراہم کرے گی کیونکہ انسان میں برائیاں اس کی کم عقلی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور جب انسان کی عقل کامل ہو جائے گی تو پھر انسان میں اخلاق حسنہ پیدا ہو جائے گا۔


سوال نمبر 3


جواب 



سوال نمبر 4

جواب 



ب۔ اقتصادی منصوبہ
ایک صحیح و کامل معاشرہ کی پہچان صحیح اقتصاد ہے۔ اگر معاشرہ میں مال و دولت سے صحیح فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع کسی خاص گروہ کے اختیار میں نہ ہوں بلکہ حکومت معاشرہ کے ہر فرد پر توجہ رکھے سب کے لئے ذریعہ معاش فراہم ہو تو ایسے معاشرہ میں انسان کے لئے معنوی ترقی اور رشد کا راستہ مزید ہموار ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی اقتصادی پہلو اور لوگوں کے معاشی نظام پر توجہ کی گئی ہے۔ اس بنا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت اور عالمی اقتصاد اور عوام الناس کے لئے خاص منصوبہ ہو گا جس کی بنیاد پر زراعتی، طبیعی اور خدادادی نعمتوں سے بہتر طور پر فائدہ اُٹھایا جائے گااور اس سے حاصل ہونے والے سرمایہ کو عدل و انصاف کے مطابق معاشرہ کے ہر طبقہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ مناسب ہے کہ ہم ان روایات کا مختصر جائزہ لیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اقتصادی منصوبہ بندی کے بارے میں جان سکیں۔

>
۱۔ طبیعی منابع سے مستفید ہونا
اقتصادی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ خداداد نعمتوں سے صحیح اور بجا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے نہ تو زمین کی تمام خوبیوں سے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی پانی سے زمین کی آبادکاری کے لئے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اور حکومت حق کی برکت سے آسمان سخی ہو کر بارش برسائے گا اور زمین بغیر چون و چرا کے فصل اُگائے گی۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
﴾وَ لَو قَد قَامَ قَائِمُنَا لَاَن زَلَتِ السَّمَائُ قَط رَہَا، وَ لَاَخ رَجَتِ ال اَر ضَ نَبَاتَہٰا۔۔۔۔۔﴿ (بحارالانوار، ج ۰۱، ص ۴۰۱، خصال شیخ صدوق، ص ۶۲۶)
”اور جب قائم آل محمد علیہ السلام قیام کریں گے تو آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین دانہ اُگائے گی........“۔
آخری حجت حق کی حکومت کے زمانہ میں زمین اور اس کے ذرائع امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے اختیار میں ہوں گے تاکہ مکمل اقتصاد کے لئے ایک عظیم سرمایہ جمع ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾........تقویٰ لہ الارض و تظہر لہ الکنوز........﴿ ( کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”زمین ان کے لئے سمٹ جایا کرے گی، (اور وہ پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائیں گے) اور تمام خزانے ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے“۔

۲۔ دولت کی عادلانہ تقسیم
نادرست اقتصاد کی سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ دولت ایک خاص گروہ کے قبضہ میں جمع ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتارہا ہے کہ بعض افراد یا بعض گروہ جو اپنے لئے ( کسی بھی دلیل کے تحت) خاص امتیاز کے قائل تھے اُنہوں نے عمومی مال و دولت پر قبضہ کر لیا اور اس کو ذاتی مفاد یا کسی خاص گروہ کے لئے استعمال کرتے رہے۔ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ایسے لوگوں سے مقابلہ کریں گے اور عمومی مال و دولت کو عام لوگوں کے اختیار میں دیں گے اور ”عدالت علوی“ سب کے سامنے پیش کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اَہ لَ ال بَی تِ قَسَّمَ بِالسَّوِیَّةِ وَ عَدَلَ فِی الرَّع یَةِ﴿ (نعمانی، باب ۳۱، ح ۶۲، ص ۲۴۳)
”جب ہم اہل بیت کا قائم قیام کرے گا تو (مال و دولت کو) برابر تقسیم کرے گا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مساوات اور برابری کے قانون کو نافذ کیا جائے گا اور سب کو انسانی اور الٰہی حقوق دیئے جائیں گے۔اور مال و دولت کی عادلانہ تقسیم ہو گی۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں قیام کرے گا ........ وہ مال و دولت کو صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے سوال کیا: اس کا کیا مقصد ہے؟ تو فرمایا: یعنی لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۱۸)
اور معاشرہ میں اس مساوات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی فقیر یا محتاج نہیں ملے گا اور طبقاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”تمہارے درمیان امام مہدی علیہ السلام ایسی مساوات قائم کریں گے کہ کوئی بھی زکوٰة کا مستحق نہیں مل پائے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۰۹۳)

۳۔ ویرانوں کی آبادکاری
آج کل کی حکومتوں میں صرف انہی لوگوں کی زمین آباد ہوتی ہے جو حکام اور ان کے گرد و نواح والوں اور ان کے ہم فکر لوگ یا بڑے صاحب قدرت لوگ ہوتے ہیں لیکن دوسروں طبقوں کو بھلا دیا جاتا ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام کی کو حکومت میں چونکہ پیداوار اور تقسیم کا مسئلہ حل ہو جائے گا لہٰذا ہر جگہ نعمتیں اور آبادکاری ہو گی اور سب کی زندگی خوشحالی ہوگی سب کے لئے زمین آباد ہوں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہی:﴾.... فلا یبقیٰ فی الارض خزاب الا عمَّ........﴿ (کمال الدین، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”پوری زمین میں کوئی ویرانہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ اس کو آباد کر دیا جائے گا“۔



سوال نمبر 5



۔ معاشرتی منصوبہ بندی
انسانی معاشرہ کی اصلاح کا ایک پہلو صحیح معاشرتی منصوبہ بندی ہے۔ دُنیا کے سب سے بڑے منصف کی حکومت میں معاشرہ کو صحیح ڈگر پر لگانے کے لئے قرآن اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے گی جس کے نافذ ہونے سے انسانی زندگی میں رشد و نمو اور بلند مقام تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ حکومت الٰہی کے تحت اس دُنیا میں نیکیوں کو رائج کیا جائے گا اور برائیوں سے روکا جائے گا اور بدکاروں کے ساتھ قانونی مقابلہ کیا جائے گا، نیز لوگوں کے معاشرتی حقوق مساوات اور عدالت کی بنیاد سے دیئے جائیں گے اور اجتماعی عدالت حقیقی طور پر قائم کی جائے گی۔
قارئین کرام! یہاں پر مناسب ہے کہ ایک نظر ان روایات پر ڈالیں جن میں اس حسین دُنیا کے جلوو ¿ں کا اچھی طرح نظارہ ہو سکے۔

۱۔ وسیع پیمانہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر بہت وسیع پیمانہ پر عمل ہو گا جس کے بارے میں قرآن کریم نے بھی بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اسی بنا پر اُمت اسلامیہ کو منتخب اُمت کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ (سورہ ¿ آل عمران آیت ۰۱۱) جس کے ذریعہ تمام واجبات الٰہی پر عمل ہوںا ہے (اس اہم واجب کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الامر بالمعروف و النہی عن المنکر.... فریضة عظیمة بہا تقام الفرائض، (امر بالعمروف اور نہی عن المنکر ایسے واجبات ہیں کہ جن کے سبب تمام واجبات کا قیام ہے)۔ (میزن الحکمة مترجم، ج ۸، ص ۴۰۷۳) اور اس کا ترک کرنا ہلاکت کا بنیادی رکن، نیکیوں کی نابودی اور معاشرہ میں برائیوں کا پھیلنے کا اصلی سبب ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بہترین اور بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ حکومت کا رئیس اور اس کے عہدے دار نیکیوں کی ہدایت کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
﴾اَل مَہ دِیَ وَ اَص حَابُہُ.... یَامُرُو نَ بِال مَع رُو فِ وَیَن ہَو نَ عَنِ ال مُن کِر﴿ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۷۴)
”امام مہدی علیہ السلام اور آپ کے ناصر و مددگار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہوں گے“۔

۲۔ برائیوں کا مقابلہ کرنا
برائیوں سے روکنا جو الٰہی حکومت کا ایک امتیاز ہے صرف زبانی طور پر نہیں ہو گا بلکہ برائیوں سے عملی طور پر مقابلہ ہو گا یہاں تک کہ برائی اور اخلاقی پستی کا معاشرہ میں کوئی وجود نہ ہو گا اور انسانی زندگی برائیوں سے پاک ہو جائے گی۔
جیسا کہ دُعائے ندبہ میں بیان ہوا ہے کہ جو محبوب غائب کے فراق کا درِ دل ہے:
﴾اَی نَ قَاطِع حَبَائِلِ ال کِذ بِ وَال اَف تَرَائِ، اَی نَ طَامِس آثَارِ الزَّی غِ وَال اَہَوَائِ۔﴿(مفاتیح الجنان، دُعائے ندبہ)
”کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رسیوں کا کاٹنے والا ہے؟ اور کہاں ہے جو گمراہی اور ہوا و ہوس کے آثار کو نابود کرنے والا ہے؟“۔

۳۔ حدود الٰہی کا نفاذ
معاشرہ کے شرپسند اور مفسد لوگوں سے مقابلہ کے لئے مختلف راستے اپنائے جاتے ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ایک طرف تو فاسقوں اور شرپسندوں کو ثقافتی پروگرام کے تحت اور تعلیمات الٰہی کے ذریعہ عقائد اور ایمان کی طرف پلٹا دیا جائے گا اور دوسری طرف ان کی زندگی کی جائز اور معقول ضرورتوں کو پورا کرنے اور اجتماعی عدالت نافذ کرنے سے ان کےلئے برائی اور فساد کے راستہ کوبند کر دیا جائے گا لیکن جو لوگ اس کے باوجود بھی دوسروں کے حقوق اور احکام الٰہی کو پامال کر دیں گے اور قوانین کی رعایت نہیں کریں گے تو ان سے سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا تاکہ ان کے راستے بند ہو جائیں اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کی روک تھام ہو سکے جیسا کہ مفسدوں کی سزا کے بارے میں اسلام کے جزائی قوانین میں بیان ہوا ہے۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت (ص) نے امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات بیان کی ہیں، فرماتے ہیں:
”وہ الٰہی حدود کو قائم (اور ان کو نافذ) کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۷۲، ح ۴)

۴۔ منصفانہ فیصلے
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ایسا اہم پروگرام معاشرہ کے ہر پہلو میں عدالت کو نافذ کرنا ہو گا، اور آپ ہی کے ذریعہ پوری دُنیا عدالت اور انصاف سے بھر جائے گی جیسا کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ قضاوت اور فیصلوں میں عدالت کا نافذ ہونا ایک حیاتی ضرورت ہے کیونکہ اسی سلسلہ میں سب سے زیادہ ظلم اور حق تلفی ہوتی ہے کسی کا مال کسی اورکو مل جاتا ہے اور ناحق خون بہانے والے ظالم کو سزا نہیں ملتی، بے گناہ لوگوں کی عزت و آبرو پامال ہوتی ہے ۔ دُنیا بھر کی عدالتوں میں سے سب سے زیادہ ظلم معاشرہ کے کمزور لوگوں پر ہوا ہے اور صاحبان قدرت اور ظالم حکمرانوں کے زیر اثر ان عدالتی فیصلوں میں بہت سے لوگوں کی جان و مال پر ظلم ہوا ہے۔ دُنیا پرست ججوں نے اپنے ذاتی مفاد اور قوم و قبیلہ پرستی کی بنا پر بہت سے غیر منصفانہ فیصلہ کئے ہیں اور ان کو نافذ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کتنے ایسے بے گناہ لوگ ہوں گے جن کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور کتنے ایسے مجرم اور فسادی لوگ ہوں گے جن کے بارے میں قانون جاری نہیں ہوا ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت، تمام ظلم و ستم اور ہر حق تلفی کا خاتمہ کر دے گی۔ آپ کی ذات گرامی جو عدالت پروردگار کی مظہر ہے انصاف کے محکمے قائم کرے گی اور اپنی عدلیہ میں اپنے نیک و صالح قاضی مقرر کرے گی کہ جو خوف خدا رکھنے والے نیز دقیق طور پر حکم نافذ کرنے والے ہوں گے تاکہ دُنیا کے کسی گوشہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ کیاجائے۔حضرت امام رضا علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے سنہرے موقع کی توصیف میں ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
﴾فَاِذَا خَرَجَ اَش رَقَتِ ال اَر ضِ بِنُو رِ رَبَّہَا، وَ وَضَعَ مِی زَانَ ال عَد لِ بَی نَ النَّاسِ فَلَا یَظ لِم اَحَد اَحَداً﴿(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۱۲۳)
جب وہ ظہور کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی میزان قائم کریں گے، پس وہ (ایسی عدالت جاری کریں گے کہ) کوئی کسی دوسرے ر ذرّہ بھی ظلم و ستم نہیں کرے گا“۔
قارئین کرام! اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی حکومت میں محکمہ عدل و انصاف مکمل طور پر نافذ ہو گا جس سے ظالم اور خودغرض انسانوں کے لئے راستے بند ہو جائیں گے اور ظلم و ستم کی تکرار اور دوسرے کے حقوق پر تجاوز کرنے سے روک تھام کی جائے گی۔



تیرہویں پی پی ڈی ایف:  👈 حکومت امام کی وسعت اور ثمرات


مہدوی معارف پر ابتدائی کورس


مہدویت نامہ
 

تیرھواں درس
حکومت امام کی وسعت اور ثمرات
مقاصد:
۱۔ حضرت کی حکومت کی وسعت اور اس کے ثمرات سے آگاہی۔
۲۔ حضرت کے دورانیہ حکومت بارے آگاہی۔
۳۔ حضرت کی شخصی اور حکومتی سیرت سے آشنائی۔

فوائد:
۱۔ عصر ظہور کے درخشاں دور سے آگاہی
۲۔ زمانہ ظہور کے پروگرامز کی جذابیت کو درک کرنا
۳۔ زمانہ ظہور کے آپہنچنے کے حوالے سے عشق و اشتیاق

تعلیمی مطالب:
۱۔ حضرت کی وسیع عدالت کے نتائج
۲۔ حضرت کے اخلاقی اور تربیتی پہلوﺅں کے نتائج
۳۔ معاشرتی اور دینی امور میں حضرت کے اقدامات
۴۔ حضرت کے علمی اور اقتصادی اقدامات
۵۔ حضرت کی حکومت کی حدود اور مدت


حکومت امام کی وسعت اور ثمرات

آپ حضرات نے بھی دیکھا ہو گا کہ جو لوگ حکومتی دائرہ میں جانا چاہتے ہیں یا قدرت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے سے ہی اپنی حکومت کے لئے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو ان مقاصد تک پہنچنے کے لئے اپنے منصوبوں کو بھی بیان کر دیتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ حکومت اور قدرت تک پہنچتے ہیں تو پھر کچھ ہی دنوں بعد وہ اپنے مقاصد میں ناکام رہ جاتے ہیں یا بعض اوقات اپنی کی ہوئی باتوں سے پلٹ جاتے ہیں، یا اپنے بیان کردہ اہداف اور مقاصد کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں!!
لیکن پہلے سے معین ان اہداف و مقاصد تک نہ پہنچنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ”اہداف“ واقعی اور اصولی نہیں ہوتے یا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان اہداف تک پہنچنے کے لئے حکومت کے پاس جامع اور صحیح منصوبہ بندی نہیں ہوتی، اور بہت سے مقامات پر اس ناکامی کا سبب قوانین جاری کرنے والوں کی نااہلی ہوتی ہے۔پھر ان کی خیانت ہوتی ہے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے اغراض و مقاصد واقعی اور اصولی ہیں جن کی جڑیں انسان کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں موجود ہیں، جن تک پہنچنے کی سب آرزو رکھتے ہیں اور وہ پروگرام بھی قرآن کریم اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی بنیاد پر ہوں گے اور ہر شعبہ میں اس کے نفاذ کی ضمانت موجود ہو گی۔
لہٰذا اس عظیم الشان انقلاب کے نتائج اور ثمرات بہت ہی زیادہ ہوں گے جس کو ایک جملہ میں خلاصہ کیا جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انسان کی تمام مادی اور معنوی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی جن کو خداوند عالم نے انسان کے لئے کائنات میں امانت رکھا ہے۔ ہم یہاں پر روایات کی روشنی میں بعض نتائج اور ثمرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ زندگی کے ہر موڑ پر عدالت کا وجود
بہت سی روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کے نتائج اور ثمرات میں سب سے اہم چیز دُنیا میں عدل و انصاف کا عام ہونا بیان ہوا ہے جس کے بارے میں ”آپعلیہ السلام کی حکومت کے اہداف“ کے تحت گفتگو ہو چکی ہے۔ لیکن اس حصہ میں مذکورہ مطالب کے علاوہ اس مطلب کا اضافہ کرتے ہیں کہ قائم آل محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی حکومت میں معاشرہ کے ہر سطح میں عدالت عام ہو جائے گی اور عدالت معاشرہ کی شہ رگوں میں رچ بس جائے گی اور کوئی بھی ایسا چھوٹا بڑا گروہ نہیں ہو گا جس میں عدالت قائم نہ ہو، نیز آپس میں انسانوں کا رابطہ اسی عدالت کی بنیاد پر ہو گا۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:
”خدا کی قسم! لوگوں کے گھروں میں عدالت کو اس طرح پہنچا دیا جائے گا جیسے گھروں میں سردی اور گرمی پہنچتی ہے“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۲۶۳)
جب معاشرہ کا سب سے چھوٹا شعبہ یعنی انسان کا گھر عدالت کا مرکز بن جائے گا اور گھر کے افراد ایک دوسرے سے عادلانہ سلوک کریں گے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی عالمی اور عدل و انصاف کی حکومت نہ تو طاقت اور قانون کے بل بوتے پر ہو گی بلکہ قرآنی تربیت کی بنیاد پر ہو گی کہ جو عدالت اور احسان کا حکم دیتی ہے۔ (قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان یعنی بے شک خداوند عالم نیکی اور عدالت کا حکم دیتا ہے۔ (سورہ نحل آیت۰۹) لوگوں کی تربیت کرے گی اور ایسے (بہترین) ماحول میں یقیناً سب لوگ اپنے انسانی اور الٰہی فریضہ پر عمل کریں گے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کریں گے (اگرچہ کسی عہدہ اور مقام پر بھی فائز نہ ہوں)۔ انتظار کرنے والے مہدوی معاشرہ میں قرآنی اور حکومتی پشت پناہی کے ذریعہ ” عدالت“ ایک اصلی ثقافتی انقلاب ہو گا جس سے ان انگشت شمار لوگوں کے علاوہ کوئی سرپیچی نہیں کرے گا جو خود غرض اور مفاد پرست ہوں گے اور قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے دُور ہوں گے، جن کے ساتھ حکومت عدل سخت کارروائی کرے گی اور اُن کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خصوصاً حکومتی شعبوں میں شامل ہونے سے روک تھام کی جائے گی۔
جی ہاں! ایسی وسیع اور عام عدالت میں حضرت امام منتظر علیہ السلام کی حکومت کا ثمرہ ہو گا اور اس طرح امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کا بلند ترین مقصد پورا ہو جائے گا کہ دُنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی اور ظلم و ستم اور حقوق کی پامالی نہیں ہو گی یہاں تک کہ گھریلو زندگی میں بھی ایک دوسرے سے تعلقات میں بھی کوئی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔

۲۔ ایمانی، اخلاقی اور فکری رشد
قارئین کرام! ہم نے گزشتہ صفحات میں یہ عرض کیا ہے کہ معاشرہ میں عدل و انصاف کے عام ہونے سے معاشرہ میں رہنے والوں کی صحیح تربیت اور قرآن و عترت کی ثقافت رائج ہو جائے گی، جیسا کہ آئمہ علیہم السلام سے منقول روایات میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے زمانہ میں ایمانی، اخلاقی اور فکری رشد و نمو کی وضاحت کی گئی ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جب ہمارے قائم (آل محمد) ظہور کریں گے تو وہ اپنا دست کرم خدا کے بندوں کے سروں پر رکھیں گے جس کی برکت سے ان کی عقل و خرد اپنے کمال پر پہنچ جائے گی“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۱۷، ص ۶۳۳)
اور جب انسان کی عقل کمال پر پہنچ جاتی ہے تو تمام خوبیاں اور نیکیاں خود بخود اس میں پیدا ہونے لگتی ہیں کیونکہ عقل انسان کے لئے باطنی پیغمبر ہے کہ اگر جسم و روح کے ملک پر اس کی حکومت ہو جائے تو پھر انسان کی فکر اور عمل راہ خیر و اصلاح پر چل پڑتے ہیں اور خدا کی بندگی اور سعادت کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ عقل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: عقل وہ (حقیقت) ہے جس کے ذریعہ خدا کی عبادت کی جائے اور اس کی (رہنمائی کی) وجہ سے جنت حاصل کی جائے“۔ (اصول کافی، ج ۱، ح ۳، ص ۸۵)
جی ہاں! آج کے معاشرہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام اور ان کی حکومت کے بغیر عقل پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہے اور گروہوں اور پارٹیوں پر سرکش نفس حکومت کئے جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں دوسروں کے حقوق پامال اور الٰہی اقدار کو بھلایا جا رہا ہے لیکن ظہور کے زمانہ میں اور حجت خدا (جو عقل کامل ہیں) کی حکومت کے زیر سایہ عقل حکم کرنے والی ہو گی اور جب انسان کی عقل کمال کی منزل پر پہنچ جائے گی تو پھر نیکیوں اور خوبیوں کے علاوہ کوئی حکم نہیں کرے گی۔

۳۔ اتحاد اور محبت
متعدد روایات کے پیش نظر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں زندگی بسر کرنے والے افراد آپس میں متحد اور محبوب ہوں گے اور آپعلیہ السلام کی حکومت کے مومنین کے دلوں میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی جگہ نہ ہو گی۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ﴾وَلَو قَد قَامَ قَائِم نَا.... لَذَہَبَتِ الشَّح نَائُ مِن قُلُوبِ ال عِبَاد....﴿
”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو بندگان خدا کے دلوں میں کینہ (اور دشمنی) نہیں رہے گی“۔
اس زمانہ میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا کیونکہ وہ زمانہ عدل و انصاف کا ہو گا جس میں کسی کا کوئی حق پامال نہیں ہو گا، اور وہ زمانہ خردمندی اور غور و فکر کا ہو گا نہ کہ مخالفت عقل اور شہوت پرستی کا۔ ( اس سے پہلے دو حصوں میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عدالت اور عقلی کمال کے بارے میںگفتگو ہو چکی ہے)
لہٰذا بغض و حسد اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ نہیں رہ جائے گا، اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں انس اور اُلفت پیدا ہو جائے گی جیسا کہ اس سے پہلے اختلاف اور انتشار پایا جائے گا اور سب قرآنی اخوت اور برادری کی طرف پلٹ جائیں گے۔ (سورہ حجرات کی آیت نمبر ۰۱ کی طرف اشارہ ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے انما المومنون اخوة مومنین آپس میںبھائی ہیں) اور آپس میں دو بھائیوں کی طرح ہمدل اور مہربان ہوں گے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے سنہرے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”(اس زمانہ میں) خداوند عالم، پریشان اور منتشر لوگوں میں وحدت اور اُلفت ایجاد کر دے گا“۔ (کمال دین، ج ۲، باب ۵۵، ح ۷، ص ۸۴۵)
اور اگر خدا کی مدد اس وقت رہے گی تو پھر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس مادّی کشمکش کے بحران میں اس ہمدلی، اُلفت اور دلی محبت کا اندزہ لگانا مشکل ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو واقعی دوستی اور حقیقی ہمدلی (اس حد تک) ہو گی کہ ضرورت مند اپنے برادر ایمانی کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق پیسہ نکال لے گا اور اس کا (دینی) بھائی اسے نہیں روکے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۴۶۱، ص ۲۷۳)

۴۔ جسمانی اور نفسیاتی سلامتی
آج کل انسان کی ایک بڑی مشکل ”لاعلاج اور خطرناک بیماریاں“ ہیں جو مختلف چیزوں کی بنا پر پیدا ہو رہی ہیں جیسے ہمارے رہنے کی فضا آلودہ ہونا اور کیمائی اور ایٹمی اسلحوں کا استعمال، اسی طرح انسانوں کے درمیان آپس میں ناجائز رابطہ، نیز درختوں کا کاٹ ڈالنا اور دریاﺅں کا پانی نابود کرنا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں مختلف خطرناک بیماریوں کی وجوہات ہیں جیسے جذام، طاعون، فلج، سکتہ اور دیگر بہت سی بیماریاں جن کا آج کے زمانہ میں کوئی علاج نہیں ہے اور جسمانی بیماریوں کے علاوہ رُوحی اور نفسیاتی بیماریاں بھی جس کی وجہ سے دُنیا بھر میں انسان کی زندگی بدمزہ اور ناقابل برداشت ہو گئی ہے البتہ یہ سب دُنیا اور انسان پر غلط چیزوں کے استعمال کی وجہ سے ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں کہ جو عدل و انصاف اور نیکیوں کا زمانہ ہو گا اور تعلقات برادری اور برابری کی بنیاد پر ہوں گے، انسان کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور انسان کی بدنی اور روحانی طاقت تعجب آور شکل میں بڑھ جائے گی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”جب حضرت قائم امام مہدی علیہ السلام قائم کریں گے تو خداوند عالم مومنین سے بیماریوں کو دُور فرما دے گا اور صحت و تندرستی عنایت کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۸۳۱، ص ۴۶۳)
آپ کی حکومت میں جب علم و دانش کی بہت زیادہ ترقی ہو گی تو کوئی لاعلاج بیماری باقی نہیں رہے گی، علم طب اور ڈاکٹری میں بہت زیادہ ترقی ہو گی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی برکت سے بہت سے بیماروں کو شفا مل جائے گی۔
حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”جو شخص ہم اہل بیت کے قائم کا زمانہ دیکھے گااگر اس کو کوئی بیماری ہو جائے گی تواسے شفا مل جائے گی اور اگر کمزوری کا شکار ہو جائے گا تو صحت مند اور طاقتور ہو جائے گا“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۸۶، ص ۵۳۳)

۵۔ بہت زیادہ خیر و برکت
قائم آل محمد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک عظیم ثمرہ یہ ہو گا کہ اس زمانہ میں خیر و برکت اس قدر ہو گی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔ آپ کی حکومت کی بہار میں ہر جگہ سبز و شاداب اور حیات بخش ماحول ہو گا، آسمان سے بارشین ہوں گی اور زمین میں اچھی فصلیں ہوں گی اور ہر طرف خدا کی برکت دکھائی دیتی ہوئی نظر آئے گی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”........ خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی وجہ سے زمین و آسمان سے برکتوں کی بارش کرے گا (اور ان کے زمانہ میں) آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین میں اچھی فصلیں ہوں گی“۔ (غیبت طوسی، ح ۹۴۱، ص ۸۸۱)
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں کوئی زمین بنجر نہیں ملے گی اور ہر جگہ ہریالی اور شادابی ہو گی۔ یہ عظیم الشان اور بے نظیر تبدیلی اس وجہ سے پیدا ہو گی کہ امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں تقویٰ اور پاکیزگی اور ایمان کے پھول کھلنے لگیں گے، معاشرہ کے تمام لوگ الٰہی تربیت کے تحت اپنے تعلقات کو اسلامی اور الٰہی اقدار کے سانچے میں ڈھال لیں گے اور جیسا کہ خداوند عال نے وعدہ فرمایا ہے کہ ایسے پاک و پاکیزہ ماحول کوخیر و برکات سے سیراب کر دُوں گا۔
قرآن مجید نے اس سلسلہ میں فرمایا:
﴾وَ لَو اَنَّ اَہ لَ القُرَی آمَنُو ا وَاتَّقَوا لَفَتَح نَا عَلَی ہِم بَرَکاتٍ مِن السَّمَائِ وَال اَر ضِ....﴿ (سورہ اعراف، آیت ۶۹)
”اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کر لیتے تو ہم ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔
۶۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دور میںفقر و ناداری کی نابودی
جس وقت امام مہدی علیہ السلام کے لئے زمین کے تمام خزانے ظاہر ہو جائیں گے اور زمین و آسمان سے مسلسل برکتیں ظاہر ہوں گی اور مسلمانوں کا بیت المال عدالت کی بنیاد پر تقسیم ہو گا تو پھر فقر اور تنگدستی کا کوئی وجود نہیں رہے گا، اور آپعلیہ السلام کی حکومت میں ہر انسان فقر و ناداری کے دلدل سے آزاد ہو جائے گا۔ (منتخب الاثر، فصل ۷، باب ۴، ۳، ص ۹۸۵ تا ۳۹۵)
آپعلیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں اقتصادی اور کاروباری مسائل، برادری اور برابری کی بنیاد پر ہوں گے اور خود غرضی اور ذاتی مفاد کی جگہ اپنے دینی بھائیوں سے دلسوزی، ہمدردی اور غمخواری کا احساس پیدا ہو گا، اس موقع پر سب آپس میں ایک دوسرے کو گھر کے ایک ممبرکے عنوان سے دیکھیں گے اور سب کو اپنا تصور کریں گے اور محبت و ہمدردی کی خوشبو ہر جگہ پھیلی ہو گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ”........ (امام مہدی علیہ السلام) سال میں دو بار لوگوں کو بخشش وعطیہ دیا کریں گے، اور مہینہ میں دو دفعہ کی روزی (اور معاش زندگی) عطا فرمایا کریں گے، (اور اس کام میں) لوگوں کے درمیان مساوات قائم کریں گے، یہاں تک کہ (لوگ ایسے بے نیاز ہو جائیں گے کہ) زکوٰة لینے والا کوئی نیازمند نہیں مل پائے گا........“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۲۱۲، ص ۰۹۳)
مختلف روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے درمیان غربت کے احساس کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہو گی کہ ان کے یہاں روحانی طور پر بے نیازی اور قناعت کا احساس پایا جاتا ہو گا، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ قبل اس کے کہ کوئی ان کو مال و دولت عطا کرے خود ان کے باطن میں بے نیازی کا احساس پیدا ہو جائے گا اور جو کچھ خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے عنایت کیا ہو گا اس پر وہ راضی اور خشنود رہیں گے لہٰذا دوسروں کے مال کی طرف آنکھ بھی نہیں اُٹھائیں گے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا: ”........ خداوند عالم بے نیازی (کا احساس) اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کر دے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۲۹)
جبکہ ظہور سے پہلے انسان میں خودغرضی اور مال و دولت جمع کرنے اور غریبوں پر خرچ نہ کرنے کی عادت ہوگی۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں انسان اندرونی اور بیرونی لحاظ سے بے نیاز ہو جائے گا، اس کے علاوہ ایک طرف بہت سی دولت عادلانہ طور پر تقسیم ہو گی اور دوسری طرف انسانوں کے درمیان قناعت پیدا ہو جائے گی۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے مومنین پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بخشش کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے اضافہ فرمایا: ”اور خداوند عالم میری اُمت کو بے نیاز کر دے گا اور عدالت مہدوی سب پر اس طرح نافذ ہو گی کہ (حضرت امام مہدی علیہ السلام) حکم فرمائیں گے کہ منادی یہ اعلان کر دے: کون ہے جس کو مال کی ضرورت ہے؟ لیکن اس اعلان کو سُن کر کوئی قدم نہیں بڑھائے گا سوائے ایک شخص کے! اس موقع پر امام علیہ السلام (اس سے) فرمائیں گے: خزانہ دار کے پاس جاﺅ اور اس سے کہنا کہ امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے تمہارے لئے حکم یہ ہے کہ مجھے مال و دولت دے دو۔ یہ سُن کر خزانہ دار کہے گا کہ اپنی چادر پھیلاﺅ اور اس کی چادر کو بھر دیا جائے گا اور جب وہ کمر پر لاد کر چلے گا تو پشیمان ہو جائے گا اور کہے گا: اُمت محمدی (ص) میں صرف تو ہی اتنا لالچی ہے........ جس کے بعد وہ مال واپس کرنے کے لئے جائے گا لیکن اس سے قبول نہیں کیا جائے اور اس سے کہا جائے گا: ہم جو کچھ عطا کر دیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے“۔
(سورہ توبہ، آیت ۳۳، سورہ فتح، آیت ۸۲، سورہ صف، آیت ۹)

۷۔ اسلام کی حکومت اور کفر کی نابودی
قرآن کریم نے تین مقامات پر وعدہ دیا ہے کہ خداوند عالم دین مقدس اسلام کو پوری دُنیا پر غالب کرے گا:
﴾ہُوَ الَّذِی اَر سَلَ رَسُو لَہُ بِال ہُدیٰ وَ دِی نِ ال حَقِّ لِیُظ ہِرَہُ عَلَی الدِّی نِ کُلِّہِ وَ لَو کَرِة ال مُش رِکُو نَ۔﴿ (سورہ توبہ، آیت ۳۳، سورہ فتح آیت ۸۲، سورہ صف آیت ۹)
”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔
جبکہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوند عالم کا وعدہ پورا ہونے والا ہے وہ کبھی بھی خلاف وعدہ عمل نہیں کرتا جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا ہے: ﴾اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخ لِفُ ال مِی عَادِ﴿ (سورہ آل عمران، آیت ۹)
”........ بے شک اﷲ خلاف وعدہ عمل نہیں کرتا“۔ لیکن یہ بات روشن ہے کہ مسلسل سعی و کوشش کے باوجود بھی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اولیائے خدا علیہم السلام اب تک ایسی مبارک تاریخ نہیں دیکھ پائے ہیں۔ (یہ گفتگو صرف دعویٰ کی حد تک نہیں ہے بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور شیعہ و سنی مفسرین نے اس سلسلہ میں گفتگو کی ہے جیسے فخر رازی نے تفسیر کبیر ج ۶۱، ص ۰۴ اور قرطبی نے تفسیر قرطبی ج ۸، ص ۱۲۱ میں اور علامہ طبرسی نے مجمع البیان ج ۵، ص ۵۳ میں)
اور تمام مسلمان ایسے دن کا انتظار کر رہے ہیں، البتہ یہ ایک ایسی حقیقی آرزو ہے جو ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں موجود ہے، لہٰذا اس ولی پروردگار کی حکومت کے زیر سایہ ”اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ“ کا نعرہ بلند ہو گا جو توحید کا پرچم ہے اور ”اشہد ان محمد رسول اللّٰہ“ کی آواز جو اسلام کا علم ہے ہر جگہ لہراتا ہوا نظر آئے گا اور کسی بھی جگہ کفر و شرک کا وجود باقی نہ بچے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی وضاحت میں فرمایا:﴾وَ قَاتِلُو ہُم حَتّٰی لَا تَکُو نَ فِت نَةَ وَ یَکُو نَ الدِّی ن کُلَُّہُ لِلّٰہِ ....﴿ (سورہ انفال، آیت ۹۳)
”اور تم لوگ ان کفار سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے“۔
”اس آیت کی تاویل ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور جو شخص آپ کے زمانہ کو درک کرے گا وہی اس کی تاویل کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا، بے شک (اس زمانہ میں) دین محمدی (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) جہاں تک رات کا اندھیرا پہنچتا ہے پہنچ جائے گا اور پوری دُنیا میں پھیل جائے گا اور اس طرح سے زمین سے شرک کا نام و نشان مٹ جائے گا ، جیسا کہ خداوند عالم نے وعدہ فرمایا“! (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۵۵)
البتہ پوری دُنیا میں اسلام کا پھیل جانا ”اسلام“ کی حقانیت اور واقعیت کی وجہ سے ہو گا کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے گی اور سب کو اپنی طرف راغب کرلے گا صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو بغض و عناد واور سرکشی کے شکار ہوںگے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شمشیر عدالیت ان کے سامنے آئے گی اور یہی خداوند عالم کا انتقام ہو گا۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میںاعتقادی وحدت
اس سلسلہ کا آخری نکتہ یہ ہے کہ یہ اعتقادی وحدت (یعنی سب کا اسلام کے دائرہ میں آجانا) حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں پیش آئے گی اور یہ موقع عالمی معاشرہ کی تشکیل کے لئے بہت مناسب ہو گا جبکہ پوری دُنیا اسی اتحاد و ہمدلی اور توحیدی نظام اور قانون کو قبول کرے گی اور اس کے زیرِ سایہ اپنے انفرادی اور اجتماعی تعلقات اسی ایک عقیدہ سے حاصل شدہ معیار کی بنا پر مرتب کریں گے اور اس بیان کے مطابق وحدت عقیدتی اور دین واحد کے پرچم کے نیچے جمع ہونا ایک حقیقی ضرورت ہو گی جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں حاصل ہو گی۔

۸۔ عمومی امن و آسائش
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں کہ جب زندگی کے ہر پہلو میں خوبیاں اور نیکیاں عام ہو جائیں گی تو امنیت حاصل ہو جائے کہ جو الٰہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اور انسان کی سب سے بڑی تمنا ہے۔
جس وقت انسان ایک عقیدہ اور اسلامی کی پیروی کریں گے اور معاشرہ کے درمیان بلند اخلاقی اصول نافذ ہوں اور عدالت ہر انسان پر حاکم ہو تو پھر زندگی کے کسی بھی حصہ میں بدامنی اور خوف و وحشت کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ جس معاشرہ میں ہر شخص کو اس کا حق مل رہا ہو گا تو پھر وہ کسی دوسرے پر ظلم و ستم اور انسانی و الٰہی حقوق پامال نہیں کرے گا اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے گی لہٰذا ایسے موقع پر ہر طرف امن و اماں اور چین و سکون سے رہے گا۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:”ہمارے ذریعہ ایک سخت زمانہ گزار ہے.... اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور دلوں سے دشمنی اور کینہ نکل جائے گا، حیوانوں میں بھی آپس میں اتفاق ہو گا، (اس کے زمانہ میں ایسا امن و امان قائم ہو گا کہ) عورتیں اپنے زیورات پہن کر عراق سے شام تک کا سفر کریں گی........ لیکن ان کے دل میں کسی طرح کا خوف نہیں ہوگا“۔ (خصال شیخ صدوق، ج ۲، ص ۸۱۴)
قارئین کرام! ہم چونکہ بے عدالتی، لالچ اور بغض و کینہ کے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں لہٰذا ہمارے لئے اس سبز و شاداب دُنیا کا تصور بہت مشکل ہے لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا اگر ہم اپنی برائیوں اور گناہوں کے اسباب کے بارے میں غور و فکر کریں اور یہ تصور کریں کہ یہ تمام برائیاں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ختم ہو جائیں گی تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ معاشرہ میں امن و امان قائم ہونے کا الٰہی وعدہ یقینی ہے۔
خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴾وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِی نَ آمَنُو ا مِن کُم وَعَمِلُو الصّالِحَاتِ لَیَس تَخ لِفَنَّہُم فِی ال اَر ضِ کَمَا اس تَخ لَفَ الّذِی نَ مِن قَب لِہِم وَلَی مَکَّنَنَّ لَہُم دِی نَہُم الَّذِی ارتَضَی لَہُم وَ لَی بَدُّلَنَّہُم مِن بَع دِ خَو فِہِم اَمنّاً۔۔۔﴿(سورہ نور، آیت ۵۵)
”اﷲ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین پراسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کر دے گا........“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ آیہ شریفہ (امام) قائم علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے“۔
( غیبت نعمانی، ح ۵۳، ص ۰۴۲)

۹۔ علم کی ترقی
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں اسلامی اور انسانی علوم کے بہت سے اسرار واضح ہو جائیں گے اور انسان کا علم ناقابل تصور طریقہ سے ترقی کرے گا۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”علم و دانش ۷۲ حروف ہیں، اور جو کچھ بھی تمام انبیاءعلیہم السلام لے کر آئے ہیں وہ صرف ۲ حرف ہیں جبکہ عوام الناس صرف دو حرفوں کو بھی نہیں جانتے، جس وقت ہمارے قائم کا ظہور ہو گا تو ان ۵۲ حروف کے علم کو بھی لوگوں کو تعلیم دیں گے اور ان دو حرفوں کو بھی ان میں اکٹھا کر دیں گے جس کے بعد تمام ۷۲ حروف کا علم نشر فرمائیں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۳۳)
ظاہر سی بات ہے کہ انسان علم کے ہر پہلو میں ترقی کرےگا، متعدد روایات میں ہونے والے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں صنعتی علم آج کے زمانہ سے کہیں زیادہ ہو گا“۔ ( البتہ ممکن ہے کہ مذکورہ روایات میں معجزہ کی طرف اشارہ ہو؟)
جیسا کہ اس وقت کی صنعت صدیوں پہلی صنعت سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ قارئین کرام! ہم یہاں پر اس سلسلہ میں بیان ہونے والی چند روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت میں رابطہ کی کیفیت کے بارے میں فرمایا: ”قائم آل محمد (ص) کی حکومت کے زمانہ میں مشرق میں رہنے والا مومن اپنے مغرب میں رہنے والے بھائی کو دیکھتا ہو گا........“۔ (بحارالانوار، ج۲۵، ص ۱۹۳)
اسی طرح امام علیہ السلام نے فرمایا: ”جس وقت ہم اہل بیت (علیہم السلام) کا قائم ظہور کرے گا تو خداوند عالم ہمارے شیعوں کی آنکھوں اور کانوں کی طاقت میں اضافہ فرمائے گا اس طرح سے امام مہدی علیہ السلام چار فرسخ کے فاصلہ سے اپنے شیعوں سے گفتگو کریں گے اور وہ آپ کی باتوں کو سنیں گے ، نیز وہ آپ کو دیکھتے ہوں گے حالانکہ اپنے مقام پر کھڑے ہوں گے“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۳۳) حضرت امام مہدی علیہ السلام کا حکومت کے رئیس اور حکم صادر کرنے والے کے عنوان سے لوگوں کے حالات سے باخبر ہونے کے بارے میں روایت کہتی ہے: ”اگر کوئی شخص اپنے گھر میں گفتگو کرے گا تو اسے اس چیز کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کے گھر کی دیواریں اس کو باتوں کو (امام علیہ السلام تک) نہ پہنچا دیں“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۰۹۳)
آج کل کے مواصلاتی نظام کی ترقی مدنظر ان روایات کو سمجھنا آسان ہے لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا یہی وسائل مزید ترقی کے ساتھ استعمال کئے جائیں گے یا کوئی اس سے زیادہ پیچیدہ دوسرا نظام استعمال کیا جائے گا۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کیحکومت کے امتیازات
اس سے قبل صفحات میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے اہداف، پروگرام اور نتائج کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے، اس آخری حصہ میں آپ کی حکومت کے امتیازات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں مثلاً حکومت کی حدود اور اس کا مرکز حکومت کی مدت اور کارکنوں کاطریقہ کار کی پہچان اور حکومت کے عظیم الشان رہبر (امام مہدی علیہ السلام) کی سیرت۔

آپ کیحکومت کی حدود اور اس کا مرکز
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت ایک عالمی حکومت ہو گی، کیونکہ آپ عالم بشریت کے موعود اور ہر انسان کی آرزوﺅں کو پورا کرنے والے ہیں، لہٰذا آپ کی حکومت کے زیر سایہ معاشرہ میں جس قدر خوبیاں اور نیکیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ پوری دُنیا میں پھیل جائیں گی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں متعدد روایات گواہ ہیں جن میں سے چند روایات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
الف: وہ متعدد روایات جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ”ارض“ (زمین) کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم و جور سے بھری ہو گی (کمال الدین، باب ۵۲، ح ۴، باب ۴۲، ح ۱،۷)
اور ”زمین“ تمام کرہ خاکی کو شامل ہے لہٰذا اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ”ارض“ کے معنی کو زمین کے کسی ایک حصہ سے محدود کیا جائے۔
ب: وہ روایات جن میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مختلف علاقوں پر تسلط کی خبر دی گئی ہے ان علاقوں کی وسعت اور اہمیت کے پیش نظر اس بات کی حکایت ہوتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام پوری دُنیا پر مسلط ہو جائیں گے لہٰذا بعض شہروں اور ملکوں کا نام مثال اور نمونہ کے طور پر لیا گیا ہے اور ان روایات کو سمجھنے والوں کے ادراک کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
مختلف روایات میں روم، چین، دیلم یا دیلم کے پہاڑ، ترکی، سندھ، ہند، قسطنطنیہ، کابل شاہ اور خزر کا نام آیا ہے کہ جن پر امام مہدی علیہ السلام کا قبضہ ہو گا اور امام علیہ السلام ان تمام مذکورہ مقامات کو فتح کریں گے۔ (غیبت نعمانی اور احتجاج طبرسی)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ علاقے ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں آج کل کے علاقوں سے کہیں زیادہ وسیع تھے، مثال کے طور پر ”روم“ یورپ اور امریکہ کو شامل ہوتا تھا اور چین سے مشرقی ایشیاءمراد ہوتا تھا جن میں جاپان بھی شامل تھا جیسا کہ اُس وقت ”ہندوستان“ پاکستان کو بھی شامل تھا۔
شہر قسطنطنیہ وہی استنبول ہے جس کو اس زمانہ میں طاقتور شہر کے عنوان سے یاد کیا جاتاتھا کہ اگر اس شہر کو فتح کر لیا جاتا تھا تو ایک بہت بڑی کامیابی شمار کیا جاتا تھا کیونکہ یورپ میں جانے والے راستوں میں سے ایک یہی راستہ تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا دُنیا کے اہم اور حساس علاقوں پر مسلط ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپعلیہ السلام کی حکومت پوری دُنیا پر ہو گی۔
ج: پہلے اور دوسرے حصہ کی گزشتہ روایات کے علاوہ بہت سی ایسی روایات موجود ہیں جن میں پوری دُنیا پر حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت کی وضاحت کی گئی ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول ہے کہ خداوند عالم نے فرمایا: ”میں اپنے دین کو ان (بارہ آئمہ) کے ذریعہ تمام ادیان پر غالب کر دُوں گا اور انہیں کے ذریعہ اپنے حکم کو (سب پر) نافذ کروں گا، اور ان میں سے آخری (امام مہدی علیہ السلام) کے (قیام کے) ذریعہ پوری دُنیا کو اپنے دشمنوں سے پاک کروں گا اور اس کو مشرق و مغرب پر حاکم قرار دُوں گا“۔(کمال الدین، ج ۱، باب ۳۲، ح ۴، ص ۷۷۴)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:﴾اَل قَائِم مِنَّا یَب لُغُ سُل طَانَہُ ال مش رِق وَال مَغ رِبَ وَیَظ ہَر اللّٰہُ عَزَّوَجَل بِہِ دِی نہُ عَلَی الدِّی نِ کلہ وَ لو کرہَ ال مش رِکُو ن۔﴿ (کمال الدین، ج ۱، باب ۲۲، ح ۶۱، ص ۳۰۶)
”قائم آل محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) (وہ ہیں جو دُنیا کے) مشرق و مغرب پر حکومت کریں گے اور خداوند عام اپنے دین کو ان کے ذریعہ دنیا کے تمام ادیان پر مغلوب کرے گا، اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار لگے“۔
اور امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا مرکز تاریخی شہر ”کوفہ“ رہے گا جو اس زمانہ میں بہت وسیع ہو جائے گا، جس میں نجف اشرف بھی شامل ہو گا کہ جو چند کلوم میٹر کے فاصلہ پر ہو گا، اسی وجہ سے بعض روایات میں کوفہ اور بعض روایات میں نجف اشرف کو امام مہدی علیہ السلام کا مرکز حکومت قرار دیا گیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرمایا:
”(مہدی علیہ السلام) کی حکومت کا مرکز شہر کوفہ ہو گا اور مسند قضاوت کوفہ کی (عظیم الشان) مسجد میں ہو گی“۔ (بحارالانوار، ج ۳۵، ص ۱۱)
قابل ذکر ہے کہ قدیم زمانہ سے شہر کوفہ پر اہل بیت علیہم السلام کی توجہ رہی ہے اور یہی شہر اور حضرت علی علیہ السلام کا مرکز حکومت رہا ہے اور شہر کوفہ کی مسجد عالم اسلام کی مشہور و معروف مسجدوں میں سے ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام نے نماز پڑھی ہے اور خطبے ارشاد فرمائے ہیں، نیز اسی مسجد میں مسند قضاوت پر بیٹھ کر لوگوں کے فیصلے کئے ہیں اور آخر میں اسی مسجد کی محراب میں شہید ہوئے ہیں۔

حکومت کی مدت
جب عالم بشریت ایک طولانی زمانہ تک ظلم و ستم کی حکومت کو برداشت کرلے گا تو خداوند عالم کی آخری حجت کے ظہور سے پوری دُنیا نیکیوں (اور عدل و انصاف) کی حکومت کے استقبال کے لئے آگے بڑھے گی اور حکومت نیک اور صالح افراد کے ہاتھوں میںہو گی، اور یہ خدا کا یقینی وعدہ ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حاکمیت کے تحت نیک اور اور صالح افراد کی اس حکومت کی شروعات ہوں گی اور دُنیا کے خاتمہ تک یہ حکومت باقی رہے گی اور پھر ظلم اور ظالموں کا زمانہ نہیں آئے گا۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول مذکورہ روایت میں نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم نے اس آخری معصوم کی حکومت کی بشارت ا پنے رسول کو دی ہے جس کے آخر میں ارشاد فرمایا:
”جب امام مہدی علیہ السلام حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو ان کی حکومت کا سلسلہ جاری رہے گا اور قیامت کے لئے زمین کی حکومت کو اپنے اولیاءاور محبوں کے ہاتھوں میں دیتا رہوں گا“۔ (کمال الدین، ج۱،باب۳۲،ح۴،ص۷۷۴)
اس بنا پر حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ذریعہ قائم کردہ عادلانہ نظام کے بعد کوئی دوسرا حکومت نہیںکر سکے گا، درحقیقت حیات انسانی کے لئے ایک نئی تاریخ شروع ہو گی جو تمام تر حکومت الٰہی کے زیر سایہ ہو گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ہماری حکومت آخری حکومت ہو گی اور کوئی بھی صاحب حکومت یاخاندان ایسا باقی نہیں بچے گا جو ہماری حکومت سے پہلے حکومت نہ کر لے تاکہ جب ہماری حکومت قائم ہو اور اسکے نظام اور طور و طریقہ کو دیکھ کر یہ نہ کہے کہ اگر ہم بھی حکومت کرتے تو اسی طرح عمل کرتے“۔
(غیبت طوسی، فصل ۸، ح ۳۹۴، ص ۲۷۴)
لہٰذا ظہور کے بعد الٰہی حکومت کی مدت حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت سے الگ ہے کہ روایات کے مطابق آپ اپنی باقی عمر میں حاکم رہیں گے اور آخرکار اس دُنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا زمانہ اتنا ہو گا کہ جس میں اتنا عظیم عالمی انقلاب اور دنیا کے ہر گوشہ میں عدالت قائم ہونے کا امکان پایا جاتا ہو لیکن یہ کہنا کہ یہ مقصد چند سال میں پورا ہو سکتا ہے تو ایسا صرف گمان اور اندازہ کی بنا پر ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں (بھی) آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات کی طرف رجوع کیا جائے البتہ اس الٰہی رہبر کی لیاقت اور آپ اور آپ کے اصحاب کے لئے غیبی امداد اور ظہور کے زمانہ میں عالمی پیمانہ پر دینی اقدار اور نیکیوں کو قبول کرنے کی تیاری کے پیش نظر ممکن ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی یہ ذمہ داری نسبتاً کم مدت میں پوری ہو جائے اور جس انقلاب کو برپا کرنے کے لئے تاریخ بشریت صدیوں سے عاجز ہو وہ ۰۱ سال سے کم میں ہی تشکیل پا جائے۔
جن روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کو بیان کیا گیا ہے وہ باہم اختلاف رکھتی ہیں۔ ان میں سے بعض روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت ۵ سال ہے اور بعض میں ۷ سال اور بعض میں ۸ سال اور بعض میں ۰۱ سال بیان ہوئی ہے۔ چند روایتوں میں اس حکومت کی مدت ۹۱ سال اور چند مہینے اور کچھ روایات میں ۰۴۱ اور ۹۰۳ سال بھی بیان کئے گئے ہیں۔ (روایات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب چشم اندازی بہ حکومت مہدی علیہ السلام تالیف نجم الدین طبسی، ص ۳۷۱ تا ۵۷۱ کی طرف رجوع فرمائیں)
روایات میں اس اختلاف کی علت معلوم نہ ہونے کے علاوہ ان روایات کے درمیان سے آپ کی حکومت کی حقیقی مدت کا پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے لیکن بعض شیعہ علماءنے بعض روایات کی شہرت اور کثرت کی بنا پر ۷ سال والے نظریہ کو منتخب کیا ہے( المہدی، سید صدر الدین صدر، ص ۹۳۲، تاریخ ما بعد الظہور سید محمد صدر) جبکہ بعض افراد نے یہ بھی کہا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت ۷ سال ہو گی لیکن اس کا ایک سال ہمارے دس سال کے برابر ہو گا جیسا کہ بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے:
حضرت امام صادق علیہ السلام سے روای نے امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت کے سلسلہ میں سوال کیا تو فرمایا: ”(حضرت امام مہدی علیہ السلام) سات سال حکومت کریں گے جو تمہارے ۰۷ سال کے برابر ہوں گے“۔ ( غیبت طوسی، فصل ۸، ح ۷۹۴، ص ۴۷۴)
مرحوم مجلسیؒ فرماتے ہیں:حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں بیان ہونے والی روایات میں چند درج ذیل احتمالات دینا چاہیے، بعض روایات میں حکومت کی پوری مدت کی طرف اشارہ ہوا ہے جبکہ بعض دوسری روایات میں حکومت کے استحکام اور ثبات کی طرف اشارہ ہوا ہے بعض روایات میں ہمارے زمانہ کے سال اور دنوں کے مطابق ہے اور بعض امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ کی گفتگو ہوئی ہے جبکہ خداوند عالم حقیقت سے زیادہ آگاہ ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۳۵، ص ۰۸۲)
رہبر اسلام آقای سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی نے اس بارے فرمایا ہے کہ جس عادلانہ حکومت کے قیام واسطے ہزاروں سال انسانوں نے انتظار کیا وہ خراسان میں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ آپ کی آمد سے انسان کے لئے انسانیت کی شب براہ اعظم کا افتتاح ہوگا اور اس کا اختتام قیامت ہے جیسا کہ بعض روایات سے بھی یہ بات ثابت ہے۔

امام علیہ السلام کی نجی زندگی
ہر حاکم اپنی حکومت اور اس کے مختلف شعبوں میں ایک مخصوص طریقہ کار اپناتا ہے جو اس کی حکومت کا امتیاز ہوتا ہے۔ امام منتظر امام مہدی علیہ السلام بھی جب پوری دُنیا کی حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو اس عالمی نظام کی تدبیر ایک خاص روش کے تحت ہو گی لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہے کہ آپ کی کارکردگی کے طریقہ کی طرف اشارہ کیا جائے اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے طور و طریقہ کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث کو پیش کیا جائے۔
اس بات پر تاکید کرتے ہوئے روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومتی سیرت کے سلسلہ میں ایک کلی تصویر پیش کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا طریقہ کار وہی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا طریقہ کار ہوگا اور جس طرح پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے زمانہ میں تمام پہلوﺅں کے اعتبار سے جاہلیت کا مقابلہ کیا اور اس ماحول میں اسلام حقیقی کو نافذ کیا کہ جو انسان کی دنیاوی اور اُخروی سعادت کا ضامن ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر بھی اس زمانہ کی نئی جاہلیت سے مقابلہ کیا جائے گاجبکہ اس زمانہ کی جاہلیت آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ کی جاہلیت سے کہیں زیادہ دردناک ہو گی اور ماڈرن جاہلیت کے ویرانوں پر اسلامی و الٰہی اقدار کی عمارت تعمیر ہو گی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی انداز کیا ہو گا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:﴾یَص نَع کَمَا صَنَعَ رَسُو ل اللّٰہِ (ص) یَھ دِم مَا کانَ قَب لَہُ کَمَا ہَدَمَ رَسُو لُ اللّٰہِ (ص) امرَ ال جَاہِلِیَةِ وَ یَس تِانِف الااِس لاٰمَ جَدِی داً﴿ (غیبت نعمانی، باب ۳۱، ح ۳۱، ص ۶۳۲)
”(امام مہدی علیہ السلام) پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح عمل کریں گے، (اور) جس طرح آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے (لوگوں کے درمیان رائج) جاہلیت کی رسومات کو ختم کیا اسی طرح آپعلیہ السلام بھی اپنے ظہور سے پہلے موجود جاہلیت کی رسومات کو نابود کردیں گے اور اسلام کی نئے طریقہ سے بنیاد رکھیں گے“۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے زمانہ میں ایک عام سیاست رہے گی، اگرچہ مختلف حالات کے پیش نظر حکومتی انداز میں تبدیلی کرنا پڑے گی جیسا کہ روایات میں بھی بیان ہوا ہے اور ہم اس سلسلہ میں بعد میں بحث کریں گے۔

جہاد اورمخالفین سے مقابلہ میں آپ کارویہ
حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنے عالمی انقلاب کے ذریعہ زمین سے کفر و شرک کا خاتمہ کر دیں گے اور سب کو مقدس دین اسلام کی دعوت کریں گے۔
اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے:
”(امام مہدی علیہ السلام) کا طریقہ میرا طریقہ ہو گا اور لوگوں کو میری شریعت اور میرے اسلام کی طرف لے آئیں گے“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۹۳، ح ۶، ص ۲۲۱) البتہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر حق واضح ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے دُنیا والوں پر حجت تمام ہو جائے گی۔ اس موقع پر بعض روایات کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام حقیقی اور تحریف سے محفوظ توریت و انجیل کو ”غارانطاکیہ“ سے باہر نکالیں گے اور انہیں کے ذریعہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سامنے دلائل پیش کریں گے کہ ایک کثیر تعداد مسلمان ہو جائے گی (الفتن، ص ۹۴۲، تا ۱۵۲) اور جو چیز اس موقع پر مختلف قوم و ملت کے لوگ اسلام کی طرف مزید مائل ہونےکی باعث ہو گی وہ انبیاءعلیہم السلام کی نشانیاں جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا، جناب سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پرچم، ان کی تلوار اور زرہ آپعلیہ السلام کے پاس ہو گی۔ ( اثبات الھداة، ج ۳، ص ۹۳۴ تا ۴۹۴)
اور انبیاءعلیہم السلام کے مقاصد کو پورا کرنے اور عالمی عدالت کو برقرار کرنے کے لئے آپ قیام کریں گے۔ روشن ہے کہ ایسے موقع پر کہ جب حق و حقیقت واضح ہو جائے گی صرف ایسے ہی لوگ باطل کے مورچہ پر باقی رہیں گے جو اپنے انسانی اور الٰہی اقدار کو بالکل بھلا بیٹھے ہوں گے اور یہ ایسے لوگ ہوں گے جن کا کام صرف فساد و تباہی اور ظلم و ستم ہو گا۔ چنانچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایسے لوگوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ ایسے ہی موقع پر عدالت مہدوی کی چمکدار تلوار نیام سے باہر نکلے گی اور اپنی پوری طاقت سے ہٹ دھرم ستمگروں پر گرے گی جس سے کوئی نہ بچ سکے گا اور یہی طور و طریقہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المومنین علیہ السلام کا بھی تھا۔
( اثباة الھداة، ج ۳، ص ۰۵۴)

امام علیہ السلام کے فیصلے
چونکہ مہدی منتظر پوری دُنیا میں عدل و انصاف برقرار کرنے کےلئے پردہ غیب میں ہیں اور اپنی ذمہ ادری کو پورا کرنے کے لئے ان کو ایک مستحکم عدلیہ محکمہ کی ضرورت ہے لہٰذا امام مہدی علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے جد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کے طریقہ پر عمل کریں گے اور اپنی پوری طاقت سے لوگوں کے پامال شدہ حقوق کو حاصل کرکے صاحبان حق کو واپس کر دیں گے۔ اور عدل و انصاف کا ایسا مظاہرہ کریں گے کہ زندہ لوگ یہ تمنا کریں گے کہ اے کاش مردہ لوگ بھی زندہ ہو جاتے اور امام علیہ السلام کے عدل و انصاف سے بہرہ مند ہوتے۔ (الفتن، ص ۹۹)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض روایات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام مقام قضاوت میں حضرت سلیمان علیہ السلام اورحضرت داﺅد علیہ السلام کی طرح عمل کریں گے اور انہیں کی طرح علم الٰہی کے ذریعہ فیصلہ کریں گے نہ کہ دلیل اور گواہوں کی گواہی کی بنا پر۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو وہ جناب داﺅد اور سلیمان کی طرح فیصلے کریں گے، (یعنی) شاہد اور گواہ طلب نہیں کریں گے۔ ( اثبات الھداة، ج ۳، ص ۷۴۴) اور شاید اس طرح کے فیصلوں کا راز یہ ہو کہ علم الٰہی پر اعتماد کرتے ہوئے حقیقی عدالت قائم ہو گی جبکہ اگر گواہوں کی باتوں پر بھروسہ کیا جائے تو ظاہری عدالت قائم ہوتی ہے کیونکہ بہرحال انسان گواہ ہوں تو ان میں غلطی کا امکان پایا جاتا ہے۔
البتہ امام مہدی علیہ السلام کا مذکورہ طریقہ سے فیصلے کرنے کی کیفیت کو سمجھنا ایک مشکل کام ہے لیکن اتنا تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ یہ طریقہ کار اس زمانہ کے لے مناسب ہوگا۔

امام علیہ السلام کا حکومتی انداز
حکومتی عہدہ دار حکومت کے اہم رکن ہوتے ہیں جب کسی حکومت میں قابل اور شائستہ لوگ عہدہ دار ہوں تو پھر حکومت اور قوم کا نظام صحیح ہو جاتا ہے اور حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام عالمی حکومت کے سربراہ کے عنوان سے دنیا کے مختلف مقامات کے لئے عہدہ داروں کو اپنے بہترین ناصروں میں سے انتخاب فرمائیں گے جن کے اندر اسلامی حاکم کے تمام اوصاف پائے جاتے ہوں جیسے حکومتی اصول و قوانین میں مہارت، عہد و پیمان میں ثبات قدم، نیت و عمل میں پاکیزگی، ارادوں میں استحکام اور شجاعت۔ ان حالات میں حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) بزرگ حاکم اور دنیا کے مرکزی منتظم کے عنوان سے اپنے ماتحت عہدہ دارون پر نظر رکھیں گے اور چشم پوشی کے بغیر پوری سختی اور وقت کے ساتھ ان کا حساب و کتاب کریں گے جبکہ حاکم کی کئی ایک خصوصیات حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت سے پہلے بھلا دی گئی ہیں جس کو روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
﴾عَلَامَة ال مَہ دِی اَن یَکُو نَ شَدِی داً عَلَی ال ع مَّالِ جَوَاداً بِال مَالِ رَحِی ماً بِالمَسَاکِی نِ۔﴿ (معجم الاحادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج۱، ح ۲۵۱، ص ۶۴۲)
”(امام) مہدی علیہ السلام کی نشانی یہ ہے کہ اپنے عہدہ داروں کے ساتھ سخت ہوں گے اور مسکینوں (اور غریبوں) کے ساتھ بہت زیادہ بخشش و کرم سے پیش آئیں گے“۔

امام علیہ السلام کی حکومت میںاقتصادی نظام
حکومت کے مالی مسائل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا طریقہ کار مساوات اور برابری اور عدالت پر مبنی قانون ہو گا اور یہ وہی طریقہ کار ہو گا جو خود پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں تھا لیکن آپ کے بعد یہ طریقہ کار بدل گیا اور جھوٹے معیار اس کی جگہ لائے گئے جن کی وجہ سے بعض لوگوں کو بے حساب مال و دولت دی گئی۔ اسی وجہ سے اسلامی معاشرہ طبقاتی ہو گیا۔ اگرچہ حضرت علی علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام اپنی خلافت کے زمانہ یں بیت المال کو برابر تقسیم کرنے پر پابند رہے لیکن ان حضرات سے پہلے بنی اُمیہ نے مسلمانوں کے بیت المال کو اپنی ذاتی مال کی طرح اپنی مرضی سے رشتہ داروں اور دوستوں میں بانٹا، اور اپنی غیر شرعی حکومت کو استحکام بخشا، اُنہوں نے کاشتکاری کے لئے زمینی یا دوسرے وسائل دولت اور بیت المال کو اپنے رشتہ داروں کو بخش دی اور یہ کام بنی اُمیہ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں نے ایسے انداز سے کیا کہ مالی انحر۵افات اسلامی معاشرہ میں عام ہو گئے اور بے عدالتی کی بنیاد رکھ دی گئی جس کے اثراب آج تک اسلامی دنیا میں موجود ہیں۔حضرت امام مہدی علیہ السلام جو عدل و انصاف کا مظہر ہیں آپعلیہ السلام مسلمانوں کے بیت المال میں سب کو شریک قرار دیں گے، جس میں کسی کا کوئی امتیاز نہیں ہوگا اور مال و دولت اور زمین کی ناجائز بخشش بالکل بند کر دی جائے گی۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
﴾اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اض مَحَلَّت ال قَظائِع فَلِا قَطائِعَ﴿ (یعنی وہ زمینیں جو ظالم حکام دوسروں کی زمینوں پر ناجائز طریقہ سے قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر دوسروں کو بخش دیتے ہیں)
”جس وقت ہمارا قائم قیام کرے گا، قطائع (۳) کا سلسلہ نہیں ہو گا،یعنی زمینوں کی بندرباٹ کاطریقہ ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد سے یہ سلسلہ بالکل بند ہو جائے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مالی طریقہ کار یہ ہوگا کہ آپعلیہ السلام تمام لوگوں کی ضرورتوں کے لحاظ سے ان کی آسائش کے لئے مال و دولت بخشا کریں گے اور آپعلیہ السلام کی حکومت میں جو ضرورتمند شخص آپعلیہ السلام سے کچھ طلب کرے گا اس کو بہت زیادہ عطا کیا کریں گے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
﴾فَہُوَ یَح شُوا ال مَالَ حَثواً﴿ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۹۰۳)
”وہ (امام مہدی علیہ السلام) بہت زیادہ مال بخشا کریں گے“۔
اور یہ طریقہ کار انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ہو گا جو آئمہ معصومین کا عظیم ہدف ہے، حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا لوگوں کو مادی لحاظ سے بے نیاز کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ ان کے لئے خداوند عالم کی عبادت اور اطاعت کا راستہ ہموار ہو جائے جس کو ”حکومت کے اغراض و مقاصد“ کی بحث میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

امام علیہ السلام کااندازِحکومت
امام مہدی علیہ السلام کی ذاتی رفتار میں آپعلیہ السلام کی سیرت اور لوگوں سے آپعلیہ السلام کا رابطہ، اسلامی حکام کے لئے نمونہ ہے کیونکہ آپعلیہ السلام کی نگاہ میں حکومت لوگوں کی خدمت اور انسانیت کو کمال کی بلندیوں پر پہنچانے کا ذریعہ ہے، نہ کہ مال و دولت جمع کرنے اور لوگوں پر ظلم و ستم کرنے اور خدا کے بندوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا وسیلہ!!
واقعاً وہ صالحین کا امام جب مسند حکومت پر ہو گا تو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت کی یاد تازہ ہو جائے گی، حالانکہ آپ کے پاس بہت سا مال و دولت ہو گا لیکن ان کی اپنی ذاتی زندگی معمولی ہو گی اور کم ہی چیزوں پر قناعت کریں گے۔
امام علی علیہ السلام آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں:
”امام (مہدی علیہ السلام) یہ عہد و پیمان کریں گے کہ (اگرچہ پورے انسانی معاشرہ کے رہبر اور حاکم ہوں گے لیکن) اپنی رعایا کی طرح راستہ چلیں اور ان کی طرح لباس پہنیں اوران کی سواری کی طرح سواری کریں.... اور کم پر ہی قناعت کریں“۔(معجم الاحادیث، الامام المہدی علیہ السلام، ج ۱، ص ۲۳۲، ح ۳۴۱)
حضرت علی علیہ السلام خود بھی اسی طرح تھے، ان کی زندگی، خوراک اور لباس میں انبیاءکی طرح زہد تھا اور حضررت امام مہدی علیہ السلام اس سلسلہ میں (بھی) آپعلیہ السلام کی اقتدا کریں گے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:﴾اِنَّ قَائِمَنَا اِذَا قَامَ لَبِسَ لِبَاسَ عَلِیّ وَ سَارَ بِسِی رَتِہِ۔﴿ (منتخب الاثر، فصل ۶، باب ۱۱، ح ۴، ص ۱۸۵)
”جب ہمارے قائم ظہور کریں گے تو حضرت علی علیہ السلام کی طرح لباس پہنیں گے اور آپ ہی کے طریقہ کار کو اپنائیں گے“۔
وہ خود اپنے بارے میں سخت رویہ کا انتخاب کریئن گے، لیکن اُمت کے ساتھ ایک مہربان باپ کی طرح پیش آئیں گے اور ان کے سکون اور آرام کے بارے میں سوچیں گے یہاں تک کہ حضرت امام رضا علیہ السلام آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں:
﴾اَل اِمَامُ الاَنِی س الرَّفِی قِ وَالوَالِدُ الشَفِیق وَالاخ الشَقِی ق وَالام البِرَّةِ بِالوَلَدِ الصَّغِی ر مَفزِغُ ال عِبَادِ فِی الدَّاہِیةِ النَّادِ﴿ ( وسائل الشیعہ، ج ۳، ص ۸۴۳)
”وہ امام مونس و ہمدم، دوست، مہربان باپ اور حقیقی بھائی کی طرح ہوں گے نیز اس ماں کی طرح جو اپنے چھوٹے بچے پر مہربان ہوتی ہے اور خطرناک واقعات میں بندوں کے لئے پناہ گاہ ہوں گے“۔
جی ہاں! وہ (اپنے نانا کی) اُمت کے ساتھ اس قدر قریب اور مخلص ہوں گے کہ سب آپعلیہ السلام کو اپنی پناہ گاہ مانتے ہوں گے۔ پیغمبراکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپعلیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ”اُمت ان کی پناہ حاصل کرے گی جس طرح شہد کی مکھی اپنی ملکہ کی پناہ حاصل کرتی ہیں“۔ (اصول کافی، ج ۱، ح۱، ص ۵۲۲)
وہ رہبری کا مکمل مصداق ہوں گے جن کو لوگوں کے درمیان سے منتخب کیا گیا ہے اور ان کے درمیان انہیں کی طرح زندگی کریں گے اسی وجہ سے ان کی مشکلات کو اچھی طرح جانتے ہوں گے اور ان کی پریشانیوں کے علاج کو بھی جانتے ہوں گے اور ان کی فلاح و بہبودی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس سلسلہ میں صرف رضائے الٰہی کو مدنظر رکھیں گے تو پھر امت کے افراد بھی ان کے نزدیک کیوں نہ آرام اور امنیت میں ہوں گے اور کس وجہ سے کسی غیر سے وابستہ ہوں گے؟!

عام مقبولیت
حکومت کے لئے ایک پریشانی عام لوگوں کی ناراضگی ہے لیکن مختلف اداروں میں چونکہ بہت کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس کی بنا پر عوام ناراضی رہتی ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی بنیادی خصوصیت یہی ہے کہ ہر شخص اور ہر معاشرہ آپعلیہ السلام کی حکومت کو قبول کرے گا اور راضی رہے گا اور نہ صرف اہل زمین بلکہ اہل آسمان بھی اس الٰہی حکومت کی نسبت اور اس کے عادل اور منصف حاکم سے مکمل طور پر راضی ہوں گے۔
پیغمبر اکرم ( صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں .... اہل زمین اور اہل آسمان ان (کی حکومت) سے راضی رہیں گے، یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی امام مہدی علیہ السلام کی حاکمیت سے ناراضی ہو حالانکہ پوری دُنیا والوں پر یہ روشن ہو جائے گا کہ امام مہدی کی الٰہی حکومت کے زیر سایہ انسانی امور کی اصلاح اور تمام مادی اور معنوی پہلوﺅں میں سعادت حاصل ہو گی“۔(منتخب الاثر، فصل ۷، باب ۷، ح ۲، ص ۸۹۵)
مناسب ہے کہ اس حصہ کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام کے جاویدانہ کلام کو حُسن ختام کے طور پر بیان کیا جائے:
”خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی تائید اپنے فرشتوں کے ذریعہ فرمائیں گے اور ان کے ناصروں کی حفاظت کرے گا اور اپنی نشانیوں کے ذریعہ مدد کرے گا اور ان کو تمام اہل زمین پر غالب کر دے گا، اس طرح کہ (تمام لوگ) اپنی مرضی اور رغبت سے یا مجبوراً آپعلیہ السلام کے پاس جمع ہو جائیں گے، وہ زمین کو عدل و انصاف اور دلائل کے نور سے بھر دیں گے، شہروں (کے لوگ) ان پر ایمان لائیں گے یہاں تک کہ کوئی کافر باقی نہیں بچے گا، مگریہ کہ ایمان لائے اور برے کام انجام نہ دے اور صرف نیک کام کرے اور ان کی حکومت میں درندوں میں صلح ہو گی (یعنی وہ آپس میں محبت کے ساتھ رہیں گے) اور زمین اپنی برکتوں کو نکالے گی، آسمان اپنے خیر کو نازل کرے گا اور آپ کےلئے زمین میں چھپے ہوئے خزانے ظاہر ہو جائیں گے........پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ کو درک کرے اور ان کی اطاعت کرے“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۱۸)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے ثمرات ان کے حقیقی مقاصد اور انسان کی واقعی و فطری ضرورتوں کے مطابق ہوں گے۔
حضرت کی حکومت کے اہم ترین ثمرات یہ ہیں: وسیع سطح پرعدالت، اخلاقیات اور ایمانیات کا غلبہ، اتحاد ویکجہتی، معاشرہ کی جسمانی و روحانی سلامتی، برکات کا عام ہونا، غربت و فقر کا دور ہونا، عمومی سطح پر امن و آسائش، علم کی ترقی، کفر کی تباہی اور اسلام کی عالمی حاکمیت، امام زمانہ کی حکومت مملکت کی حدود کے اعتبار سے ایک عالمی حکومت ہو گی۔
امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا مرکز کوفہ شہر ہو گا کہ جو امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت کا دارالحکومت تھا۔
روایات میں امام کی حکومت کی مدت مختلف نقل ہوئی ہے لیکن وہ جو مسلم سی بات ہے وہ یہ ہے کہ حضرت کی حکومت اس قدر طولانی ہو گی کہ پوری دُنیا پر عالمی عادلانہ حکومت کا غلبہ ہو جائے گا اور دنیا عدالت سے پر ہو جائے گی۔
حضرت کی حکومتی سیرت، انتظامی و اقتصادی جہات اور دین و عدالت کے اجراءاور انسانیت کے پھلنے پھولنے کے حوالے سے قابل توجہ ہے۔

درس کے سوالات:
۱۔ انسان کے اپنے حقیقی اور اصولی مقصد کو پانے اور اپنی آرزوﺅں تک پہنچنے میں ناکامی کے اسباب کیا ہیں؟
۲۔ زمانہ ظہور میں اتحاد و وحدت سے مراد آیا عالمی طور پر جغرافیائی سرحدوں کا ختم ہونا ہے؟
۳۔ احادیث و روایات کی رو سے امام مہدی علیہ السلام عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف سے لوگوں میں ماہانہ اور سالانہ عطایت کتنی دفعہ ملیں گے؟
۴۔ روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت کتنے سالوں پر محیط ہے؟
۵۔ انتظامی اور قضاوت کے امور میں امام زمانہ کی حکومتی سیرت کو وضاحت سے بیان کریں؟
ة....ة....ة....ة....ة
 
سوات اور ان کے جوابات 

سوال نمبر 1: انسان کے اپنے حقیقی اور اصولی مقصد کو پانے اور اپنی آرزوﺅں تک پہنچنے میں ناکامی کے اسباب کیا ہیں؟


جواب 

جی ہاں! آج کے معاشرہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام اور ان کی حکومت کے بغیر عقل پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہے اور گروہوں اور پارٹیوں پر سرکش نفس حکومت کئے جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں دوسروں کے حقوق پامال اور الٰہی اقدار کو بھلایا جا رہا ہے لیکن ظہور کے زمانہ میں اور حجت خدا (جو عقل کامل ہیں) کی حکومت کے زیر سایہ عقل حکم کرنے والی ہو گی اور جب انسان کی عقل کمال کی منزل پر پہنچ جائے گی تو پھر نیکیوں اور خوبیوں کے علاوہ کوئی حکم نہیں کرے گی۔

سوال نمبر 2: زمانہ ظہور میں اتحاد و وحدت سے مراد آیا عالمی طور پر جغرافیائی سرحدوں کا ختم ہونا ہے؟

۳۔ اتحاد اور محبت

متعدد روایات کے پیش نظر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں زندگی بسر کرنے والے افراد آپس میں متحد اور محبوب ہوں گے اور آپعلیہ السلام کی حکومت کے مومنین کے دلوں میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی جگہ نہ ہو گی۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ﴾وَلَو قَد قَامَ قَائِم نَا.... لَذَہَبَتِ الشَّح نَائُ مِن قُلُوبِ ال عِبَاد....﴿

”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو بندگان خدا کے دلوں میں کینہ (اور دشمنی) نہیں رہے گی“۔

اس زمانہ میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا کیونکہ وہ زمانہ عدل و انصاف کا ہو گا جس میں کسی کا کوئی حق پامال نہیں ہو گا، اور وہ زمانہ خردمندی اور غور و فکر کا ہو گا نہ کہ مخالفت عقل اور شہوت پرستی کا۔ ( اس سے پہلے دو حصوں میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عدالت اور عقلی کمال کے بارے میںگفتگو ہو چکی ہے)

لہٰذا بغض و حسد اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ نہیں رہ جائے گا، اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں انس اور اُلفت پیدا ہو جائے گی جیسا کہ اس سے پہلے اختلاف اور انتشار پایا جائے گا اور سب قرآنی اخوت اور برادری کی طرف پلٹ جائیں گے۔ (سورہ حجرات کی آیت نمبر ۰۱ کی طرف اشارہ ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے انما المومنون اخوة مومنین آپس میںبھائی ہیں) اور آپس میں دو بھائیوں کی طرح ہمدل اور مہربان ہوں گے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے سنہرے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”(اس زمانہ میں) خداوند عالم، پریشان اور منتشر لوگوں میں وحدت اور اُلفت ایجاد کر دے گا“۔ (کمال دین، ج ۲، باب ۵۵، ح ۷، ص ۸۴۵)

اور اگر خدا کی مدد اس وقت رہے گی تو پھر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس مادّی کشمکش کے بحران میں اس ہمدلی، اُلفت اور دلی محبت کا اندزہ لگانا مشکل ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو واقعی دوستی اور حقیقی ہمدلی (اس حد تک) ہو گی کہ ضرورت مند اپنے برادر ایمانی کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق پیسہ نکال لے گا اور اس کا (دینی) بھائی اسے نہیں روکے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۴۶۱، ص ۲۷۳)


سوال نمبر 3: احادیث و روایات کی رو سے امام مہدی علیہ السلام عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف سے لوگوں میں ماہانہ اور سالانہ عطایت کتنی دفعہ ملیں گے؟

جواب 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ”........ (امام مہدی علیہ السلام) سال میں دو بار لوگوں کو بخشش وعطیہ دیا کریں گے، اور مہینہ میں دو دفعہ کی روزی (اور معاش زندگی) عطا فرمایا کریں گے، (اور اس کام میں) لوگوں کے درمیان مساوات قائم کریں گے، یہاں تک کہ (لوگ ایسے بے نیاز ہو جائیں گے کہ) زکوٰة لینے والا کوئی نیازمند نہیں مل پائے گا........“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۲۱۲، ص ۰۹۳)

مختلف روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے درمیان غربت کے احساس کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہو گی کہ ان کے یہاں روحانی طور پر بے نیازی اور قناعت کا احساس پایا جاتا ہو گا، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ قبل اس کے کہ کوئی ان کو مال و دولت عطا کرے خود ان کے باطن میں بے نیازی کا احساس پیدا ہو جائے گا اور جو کچھ خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے عنایت کیا ہو گا اس پر وہ راضی اور خشنود رہیں گے لہٰذا دوسروں کے مال کی طرف آنکھ بھی نہیں اُٹھائیں گے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا: ”........ خداوند عالم بے نیازی (کا احساس) اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کر دے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۲۹)

جبکہ ظہور سے پہلے انسان میں خودغرضی اور مال و دولت جمع کرنے اور غریبوں پر خرچ نہ کرنے کی عادت ہوگی۔


سوال نمبر 4: روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت کتنے سالوں پر محیط ہے؟ 

جواب 

حکومت کی مدت

جب عالم بشریت ایک طولانی زمانہ تک ظلم و ستم کی حکومت کو برداشت کرلے گا تو خداوند عالم کی آخری حجت کے ظہور سے پوری دُنیا نیکیوں (اور عدل و انصاف) کی حکومت کے استقبال کے لئے آگے بڑھے گی اور حکومت نیک اور صالح افراد کے ہاتھوں میںہو گی، اور یہ خدا کا یقینی وعدہ ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حاکمیت کے تحت نیک اور اور صالح افراد کی اس حکومت کی شروعات ہوں گی اور دُنیا کے خاتمہ تک یہ حکومت باقی رہے گی اور پھر ظلم اور ظالموں کا زمانہ نہیں آئے گا۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول مذکورہ روایت میں نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم نے اس آخری معصوم کی حکومت کی بشارت ا پنے رسول کو دی ہے جس کے آخر میں ارشاد فرمایا:

”جب امام مہدی علیہ السلام حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو ان کی حکومت کا سلسلہ جاری رہے گا اور قیامت کے لئے زمین کی حکومت کو اپنے اولیاءاور محبوں کے ہاتھوں میں دیتا رہوں گا“۔ (کمال الدین، ج۱،باب۳۲،ح۴،ص۷۷۴)

اس بنا پر حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ذریعہ قائم کردہ عادلانہ نظام کے بعد کوئی دوسرا حکومت نہیںکر سکے گا، درحقیقت حیات انسانی کے لئے ایک نئی تاریخ شروع ہو گی جو تمام تر حکومت الٰہی کے زیر سایہ ہو گی۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

”ہماری حکومت آخری حکومت ہو گی اور کوئی بھی صاحب حکومت یاخاندان ایسا باقی نہیں بچے گا جو ہماری حکومت سے پہلے حکومت نہ کر لے تاکہ جب ہماری حکومت قائم ہو اور اسکے نظام اور طور و طریقہ کو دیکھ کر یہ نہ کہے کہ اگر ہم بھی حکومت کرتے تو اسی طرح عمل کرتے“۔

(غیبت طوسی، فصل ۸، ح ۳۹۴، ص ۲۷۴)

لہٰذا ظہور کے بعد الٰہی حکومت کی مدت حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت سے الگ ہے کہ روایات کے مطابق آپ اپنی باقی عمر میں حاکم رہیں گے اور آخرکار اس دُنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا زمانہ اتنا ہو گا کہ جس میں اتنا عظیم عالمی انقلاب اور دنیا کے ہر گوشہ میں عدالت قائم ہونے کا امکان پایا جاتا ہو لیکن یہ کہنا کہ یہ مقصد چند سال میں پورا ہو سکتا ہے تو ایسا صرف گمان اور اندازہ کی بنا پر ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں (بھی) آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات کی طرف رجوع کیا جائے البتہ اس الٰہی رہبر کی لیاقت اور آپ اور آپ کے اصحاب کے لئے غیبی امداد اور ظہور کے زمانہ میں عالمی پیمانہ پر دینی اقدار اور نیکیوں کو قبول کرنے کی تیاری کے پیش نظر ممکن ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی یہ ذمہ داری نسبتاً کم مدت میں پوری ہو جائے اور جس انقلاب کو برپا کرنے کے لئے تاریخ بشریت صدیوں سے عاجز ہو وہ ۰۱ سال سے کم میں ہی تشکیل پا جائے۔

جن روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کو بیان کیا گیا ہے وہ باہم اختلاف رکھتی ہیں۔ ان میں سے بعض روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت ۵ سال ہے اور بعض میں ۷ سال اور بعض میں ۸ سال اور بعض میں ۰۱ سال بیان ہوئی ہے۔ چند روایتوں میں اس حکومت کی مدت ۹۱ سال اور چند مہینے اور کچھ روایات میں ۰۴۱ اور ۹۰۳ سال بھی بیان کئے گئے ہیں۔ (روایات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب چشم اندازی بہ حکومت مہدی علیہ السلام تالیف نجم الدین طبسی، ص ۳۷۱ تا ۵۷۱ کی طرف رجوع فرمائیں)

روایات میں اس اختلاف کی علت معلوم نہ ہونے کے علاوہ ان روایات کے درمیان سے آپ کی حکومت کی حقیقی مدت کا پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے لیکن بعض شیعہ علماءنے بعض روایات کی شہرت اور کثرت کی بنا پر ۷ سال والے نظریہ کو منتخب کیا ہے( المہدی، سید صدر الدین صدر، ص ۹۳۲، تاریخ ما بعد الظہور سید محمد صدر) جبکہ بعض افراد نے یہ بھی کہا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت ۷ سال ہو گی لیکن اس کا ایک سال ہمارے دس سال کے برابر ہو گا جیسا کہ بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے:

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روای نے امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت کے سلسلہ میں سوال کیا تو فرمایا: ”(حضرت امام مہدی علیہ السلام) سات سال حکومت کریں گے جو تمہارے ۰۷ سال کے برابر ہوں گے“۔ ( غیبت طوسی، فصل ۸، ح ۷۹۴، ص ۴۷۴)

مرحوم مجلسیؒ فرماتے ہیں:حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں بیان ہونے والی روایات میں چند درج ذیل احتمالات دینا چاہیے، بعض روایات میں حکومت کی پوری مدت کی طرف اشارہ ہوا ہے جبکہ بعض دوسری روایات میں حکومت کے استحکام اور ثبات کی طرف اشارہ ہوا ہے بعض روایات میں ہمارے زمانہ کے سال اور دنوں کے مطابق ہے اور بعض امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ کی گفتگو ہوئی ہے جبکہ خداوند عالم حقیقت سے زیادہ آگاہ ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۳۵، ص ۰۸۲)

رہبر اسلام آقای سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی نے اس بارے فرمایا ہے کہ جس عادلانہ حکومت کے قیام واسطے ہزاروں سال انسانوں نے انتظار کیا وہ خراسان میں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ آپ کی آمد سے انسان کے لئے انسانیت کی شب براہ اعظم کا افتتاح ہوگا اور اس کا اختتام قیامت ہے جیسا کہ بعض روایات سے بھی یہ بات ثابت ہے۔

سوال نمبر 5: انتظامی اور قضاوت کے امور میں امام زمانہ کی حکومتی سیرت کو وضاحت سے بیان کریں؟

جواب 


ہر حاکم اپنی حکومت اور اس کے مختلف شعبوں میں ایک مخصوص طریقہ کار اپناتا ہے جو اس کی حکومت کا امتیاز ہوتا ہے۔ امام منتظر امام مہدی علیہ السلام بھی جب پوری دُنیا کی حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو اس عالمی نظام کی تدبیر ایک خاص روش کے تحت ہو گی لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہے کہ آپ کی کارکردگی کے طریقہ کی طرف اشارہ کیا جائے اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے طور و طریقہ کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث کو پیش کیا جائے۔

اس بات پر تاکید کرتے ہوئے روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومتی سیرت کے سلسلہ میں ایک کلی تصویر پیش کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا طریقہ کار وہی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا طریقہ کار ہوگا اور جس طرح پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے زمانہ میں تمام پہلوﺅں کے اعتبار سے جاہلیت کا مقابلہ کیا اور اس ماحول میں اسلام حقیقی کو نافذ کیا کہ جو انسان کی دنیاوی اور اُخروی سعادت کا ضامن ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر بھی اس زمانہ کی نئی جاہلیت سے مقابلہ کیا جائے گاجبکہ اس زمانہ کی جاہلیت آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ کی جاہلیت سے کہیں زیادہ دردناک ہو گی اور ماڈرن جاہلیت کے ویرانوں پر اسلامی و الٰہی اقدار کی عمارت تعمیر ہو گی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی انداز کیا ہو گا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:﴾یَص نَع کَمَا صَنَعَ رَسُو ل اللّٰہِ (ص) یَھ دِم مَا کانَ قَب لَہُ کَمَا ہَدَمَ رَسُو لُ اللّٰہِ (ص) امرَ ال جَاہِلِیَةِ وَ یَس تِانِف الااِس لاٰمَ جَدِی داً﴿ (غیبت نعمانی، باب ۳۱، ح ۳۱، ص ۶۳۲)

”(امام مہدی علیہ السلام) پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح عمل کریں گے، (اور) جس طرح آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے (لوگوں کے درمیان رائج) جاہلیت کی رسومات کو ختم کیا اسی طرح آپعلیہ السلام بھی اپنے ظہور سے پہلے موجود جاہلیت کی رسومات کو نابود کردیں گے اور اسلام کی نئے طریقہ سے بنیاد رکھیں گے“۔

امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے زمانہ میں ایک عام سیاست رہے گی، اگرچہ مختلف حالات کے پیش نظر حکومتی انداز میں تبدیلی کرنا پڑے گی جیسا کہ روایات میں بھی بیان ہوا ہے اور ہم اس سلسلہ میں بعد میں بحث کریں گے۔ 



چودھویں پی ڈی اف:  👈  مہدویت سے مربوط انحرافات کی نشان دہی


مہدویت نامہ
 

چودھواں درس مہدویت سے مربوط انحرافات کی نشان دہی


مقاصد:
۱۔ امام مہدیعلیہ السلام کے موضوع کو لاحق خطرات سے آگاہی
۲۔ انحرافات اور خطاﺅں سے بچنے اور ان سے مقابلہ کرنے کی روش

فوائد:
۱۔ خرافات سے بچنے کے معیاروں سے بیشتر آگاہی
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے موضوع سے غلط لئے گئے مفاہیم کے خطرات پر توجہ
۳۔ ان کی نیابت کے جھوٹے دعویداروں کی تکذیب

تعلیمی مطالب:
۱۔ مقدمہ
الف: خطرات کو پہچاننے کا معنی
ب: امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر لاحق خطرات کو پہچاننے کی ضرورت
۲۔ موضوع مہدی علیہ السلام کے مفاہیم کی غلط تفسریں اور وضاحتیں
۳۔ جلد بازی سے کام لینا اور حضرت کے ظہور کا وقت معین کرنا
۴۔ ظہور کی علامات کو خاص افراد پر مطابقت دینا
۵۔ مہدیعلیہ السلام یا ان کی نیابت کے جھوٹے دعویدار



مہدویت سے مربوط انحرافات کی نشان دہی

کسی بھی ثقافت اور معرفت کے مجموعہ کے لئے ممکن ہے کہ کچھ چیزیں نقصان دہ ہوں جو اس ثقافت کے رشد اور ترقی میں مانع ہوں، کبھی کبھی دینی ثقافت بھی آفتوں کا شکار ہو جاتی ہے جس سے اس کی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ ”مہدویت کے لئے نقصان دہ امور کی پہچان“ کی بحث میں ان مشکلات کی پہچان اور ان سے مقابلہ کا طریقہ کار بیان کیا جائے گا۔ اس آخری فصل میں مناسب ہے کہ عقیدہ مہدویت کے سلسلہ میں پیش آنے والی مشکلات میں بیان کریں تاکہ ان کی پہچان کے بعد ان سے بچا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مہدوی ثقافت کے لئے نقصان دینے والے امور کہ اگر ان سے غفلت برتی جائے تو مومنین خصوصاً جوانوں میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود یا آپٍعلیہ السلام کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کی پہچان کا عقیدہ سست ہو جائے گا اور وہ کبھی بھی منحرف افراد یا منحرف فرقوں کی طرف مائل ہو جائیں گے لہٰذا ان نقصان دہ مشکلات کی پہچان امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے منتظروں کے عقیدہ و عمل میں انحراف سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہم یہاں عقیدہ مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں کی الگ الگ عنوان سے بحث کرتے ہیں:

غلط نتیجہ گیری
مہدویت ثقافت کے لئے ایک اہم آفت اور مشکل، اسلامی ثقافت کے غلط معنی کرنا اور غلط نتیجہ لینا ہے۔ روایات کی غلط یا ناقص تفسیر کرنے سے نتیجہ بھی غلط حاصل ہوتا ہے جن کے چند نمونے ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔
۱۔ ”انتظار“ کے غلط معنی کرنا اس بات کا باعث بنا کہ بعض لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ یہ دُنیا صرف حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ برائیوں سے پاک ہو سکتی ہے، لہٰذا برائیوں، فساد اور تباہیوں کے مقابلہ میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے نزدیک ہونے کے لئے معاشرہ میں برائیوں اور گناہوں کو رائج کرنا چاہئے!! یہ غلط نظریہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام کے نظریات کے بالکل مخالف ہے کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہر مسلمان کا مسلّم فریضہ ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایرن کے بانی حضرت امام خمینی اس نظریہ کی رِد میں فرماتے ہیں:
”اگر ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ پوری دُنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر دیں تو یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہو گی، لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اگرچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے اورہم اپنی ذمہ داری پر عمل نہ کریں“۔ (صحیفہ نور، ج ۰۲، ص ۶۹۱)
اس کے بعد موصوف اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ”(کیا) ہم قرآن مجید کی تلاوت کے برخلاف قدم اُٹھائیں اور نہی عن المنکر انجام نہ دیں؟ اور امر بالمعروف نہ کریں؟ اور اس وجہ سے گناہوں میں زیادتی کریں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو جائے؟! (صحیفہ نور، ج ۰۲، ص ۶۹۱)
قارئین کرام! ہم نے ”انتظار“ کی بحث کے شروع میں انتظار کے صحیح معنی بیان کئے ہیں۔
کچھ لوگوں نے بعض روایات کے ظاہر سے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ہونے والا ہر انقلاب غلط اور باطل ہے لہٰذا ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب (جو طاغوت اور استکبار کے خلاف اور احکام الٰہی قائم کرنے کے لئے تھا) کے مقابلہ میں غلط فیصلے کئے گئے۔
جس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ بہت سے اسلامی احکام جیسے اسلامی حدود، قصاص اور دشمنوں سے جہاد نیز برائیوں سے مکمل مقابلہ صرف اسلامی حکومت کے زیر سایہ ہی ممکن ہے لہٰذا اسلامی حکومت کی تشکیل ایک پسندیدہ اور قابل قبول کام ہے، جبکہ بعض روایات میں قیام کرنے سے اس لے نہیں کی گئی تاکہ باطل اور غیر اسلامی انقلاب میں شرکت نہ کی جائے، یا ایسے انقلاب جن میں شرائط اور حالات کو پیش نظر نہ رکھا جائے، یا ایسا قیام جو ”قیام مہدی“ کے عنوان سے شروع کیا جائے نہ یہ کہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے برپا کیا جانے والا ہر انقلاب مذموم اور باطل ہو۔ (اس موضوع سے مزید آگاہی کے ئے کتاب ”دادگستر جہاں“ مولفہ ابراہیم امینی، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳ کا مطالعہ فرمائیں)
ثقافت مہدویت سے غلط نتیجہ حاصل کرنے کا ایک نمونہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے چہرہ کو خطرناک شکل میں پیش کرنا ہے بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام شمشیر عدالت کے ذریعہ خون کا دریا بہائیں گے اور بہت سے لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالیں گے لیکن یہ تصور باکل غلط ہے کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی رحمت اور مہربانی کا مظہر ہیں اور پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح پہلے سب لوگوں کے سامنے اسلام کے واضح دلائل پیش کریں گے جس سے لوگوں کی اکثریت اسلام قبول کرکے آپعلیہ السلام کے ہمراہ ہو جائے گی، لہٰذا امام مہدی علیہ السلام صرف اپنے ان ہٹ دھرم مخالفوں کےلئے شمشیر اور اسلحہ کا استعمال کریں گے جو حق واضح ہونے کے بعد بھی حق قبول نہیں کریں گے، وہ لوگ تلوار کی زبان کے علاوہ کوئی زبان نہیں سمجھتے ہوں گے۔

ظہور کے بارے جلد بازی
مہدوی ثقافت کے لئے ایک نقصان دہ چیز ”ظہور میں جلد بازی“ ہے، جلد بازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے وقت سے پہلے یا اس کے لئے راستہ ہموار ہونے سے پہلے اس کو طلب کیا جائے، جلد باز انسان نفس کی کمزوری اور کم ظرفیت کی وجہ سے اپنی سنجیدگی اور چین و سکون کو کھو بیٹھتا ہے اور کسی چیز کے شرائط اور حالات پیدا ہونے سے پہلے اس چیز کا خواہاں ہوتا ہے۔
مہدوی ثقافت کے پیش نظر ”امام غائب کے مسئلہ میں“ سب منتظرین ظہور مہدی علیہ السلام کے مشتاق ہیں اور اپنے پورے وجود کے ساتھ ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، اور آپ کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن پھر بھی جلد بازی سے کام نہیں لیتے، اور غیبت کا زمانہ جس قدر طولانی ہوتا جاتا ہے ان کا انتظار بھی طولانی ہوتا رہتا ہے، لیکن پھر بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیںچھوٹتا، بلکہ ظہور کے بہت مشتاق ہونے کے بعد بھی خداوند عالم کے مرضی اور اس کے ارادہ کے سامنے سر تسلیم ختم کرتے ہیں، اور ظہور کے لے لازمی شرائط پیدا کرنے اور راستہ ہموار کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔عبد الرحمن بن کثیر کہتے ہیں: میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ”مہرم“ آئے اور عرض کی: میں آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ جس چیز کے انتظار میں ہم ہیں اس انتظار کی گھڑیاں کب پوری ہوں گی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ”مہرم“ ظہور کے لئے وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں اور جلد بازی کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، اور (اس سلسلہ میں) تسلیم ہونے والے نجات یافتہ ہیں“۔ (اصول کافی، ج ۲، ص ۱۹۱)
ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی سے ممانعت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے انسان میں یاس اور نااُمیدی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے سکون اور اطمینان ختم ہو جاتا ہے اور تسلیم کی حالات، شکوہ اور شکایت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ظہور میں تاخیر کی وجہ سے بےقراری پیدا ہوتی ہے اور یہ بیماری دوسروں تک بھی پہنچ جاتی ہے اور کبھی کبھی ظہور میں جلد بازی کی وجہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود سے انکار کر دیتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کی وجہ یہ ہے کہ انسان یہ نہیں جانتا کہ ظہور الٰہی سنتوں میں سے ایک ہے اور تمام سنتوں کی طرح اس کےلئے بھی شرائط اور حالات ہموار ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کرتا ہے۔

ظہور کے لئے وقت معین کرنا
مہدوی ثقافت کے لئے نقصان دہ ایک چیز یہ ہے کہ انسان امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرے جبکہ ظہور کا زمانہ لوگوں کے کے لئے مخفی ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے لئے وقت معین کرنے سے سخت ممانعت کی گئی ہے اور وقت معین کرنے والوں کو جھوٹا شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت (معین) ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:
”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، (اور امام علیہ السلام نے اس جملہ کی تین بار تکرار فرمائی)“ (غیبت طوسی، ح ۱۱۴، ص ۶۲۴) لیکن پھر بھی بعض لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے ہیں، جس کا کم سے کم (منفی) اثر یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ اس طرح کے جھوٹے وعدوں پر یقین کر لیتے ہیں اور جب وہ پورے نہیں ہوتے تو ان کے اندر یاس اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔
لہذا سچے منتظرین کا فریضہ ہے کہ نادان اور (خود غرض) شکاریوں کے جال سے اپنے کو محفوظ رکھیں اور ظہور کے سلسلہ میں صرف مرضی پروردگار کے منتظر رہیں۔

ظہور کی نشانیوں کو خاص مصادیق پر منطبق کرنا
متعدد روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے بہت سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں لیکن ان کی دقیق اور صحیح کیفیت نیز ان کی خصوصیات روشن نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بعض لوگ اپنے ذاتی نظریات اور احتمالات کو بروئے کار لاتے ہیں اور بعض اوقات ظہور کی نشانیوں کو خاص واقعات پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ذریعہ ظہور کے نزدیک ہونے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی مہدوی ثقافت کے لئے ایک آفت ہے جس کی بنا پر (بھی) انسان یاس اور نااُمیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ”سفیانی“ نام کو کسی علاقہ کے رہنے والے پر صادق مانیں اور ”دجال“ کے بارے میں بغیر دلیل کے گفتگو کی جائے، جس کے بعد سب لوگوں کو یہ بشارت دی جائے کہ اب ظہور امام کا زمانہ نزدیک ہے اور سالوں بعد بھی امام علیہ السلام کا ظہور نہ ہوتو بہت سے لوگ غلط فہمی اور انحراف کے شکار ہو جائیں گے اور اپنے صحیح عقائد میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔

غیر ضروری بحث کرنا
مہدوی ثقافت میں بہت سے معارف اور تعلیمات ایسی ہیں جن کے سلسلہ میں کوشش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز شیعوں میں مزید علم و آگاہی کے لئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور غیبت کے زمانہ میں ہمارے لئے ایک اہم دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ یا بعض گروہ اپنی گفتگو، مضامین، جرائد اور کانفرنسوں میں غیر ضروری بحث کرتے ہیں کہ جن کی وجہ سے کبھی کبھی منظرین کے ذہنوں میں بعض غلط شبہات اور سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ”امام زمانہ (ع) سے ملاقات“ کی بحث کرنا اور لوگوں کو آپٍعلیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں بہت زیادہ رغبت دلانا جس کے بہت سے غلط اثرات پیدا ہوجاتے ہیں اور نااُمیدی کا سبب اور کبھی تو امام علیہ السلام کے انکار کا باعث ہوتا ہے جبکہ روایات میں اس چیز کی تاکید ہوئی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی مرضی کے مطابق قدم بڑھایا جائے اور رفتار و کردار میں آپعلیہ السلام کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا اہم یہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں انتظار کرنے والوں کے فرائض کو بیان کیا جائے تاکہ اگر امام علیہ السلام سے ملاقات ہو جائے تو اس موقع پر امام علیہ السلام ہم سے راضی اور خوشنود ہیں۔اسی طرح امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی شادی کا مسئلہ، یا آپ کی اولاد کے بارے میں گفتگو، یا آپ کہاں رہتے ہیں وغیرہ، یہ تمام غیر ضروری بحثیں جن کی جگہ ایسی موثر اور مفید بحثوں کو بیان کرنا چاہیے جو منتظرین کے لئے مفید ثابت ہوں، اسی وجہ سے ظہور کی شرائط اور ظہور کی نشانیوں کی بحث مقدم ہے، کیونکہ امام علیہ السلام کے ظہور کے مشتاق افراد کا شرائط سے آگاہ ہونا ان شرائط کو پیدا کرنے میں ترٍغیب کا باعث بنتا ہے۔

امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہدویت کی بحث میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے یعنی کسی ایک موضوع پر بحث کرتے وقت مہدویت کے سلسلہ میں تمام چیزوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ کچھ لوگ بعض روایات کے مطالعہ کے بعد غلط تفسیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دوسری روایات پر نہیںہوتی، مثال کے طور پر بعض روایات میں طولانی جنگ اور قتل و غارت کی خبر دی گئی ہے چنانچہ بعض لوگ صرف انہی روایات کی بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی بہت خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں اور جن روایات میں امام علیہ السلام کی محبت اور مہربانی کا ذکر ہوا ہے اور آپعلیہ السلام کے اخلاق و کردار کو رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کی طرح بیان کیا گیا ہے، ان سے غافل رہتے ہیں ظاہر ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ امام علیہ السلام تمام ہی حق طلب انسانوں سے (اپنے شیعہ اور دوستوں کی بات تو الگ ہے) مہر و محبت اور رحم و کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس آخری ذخیرہ الٰہی کی شمشیر انتقام صرف ظالم و ستمگر اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سروں پر قہر بن کر برسے گی۔
اس گفتگو کی بنا پر مہدویت کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے کافی علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اور جن کے یہاں یہ صلاحیت نہ پائی جاتی ہو تو ان کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے کیونکہ ان کا اس میدان میں وارد ہونا ”مہدوی ثقافت“ کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

جھوٹا دعویٰ کرنے والے
عقیدہ مہدویت کے لئے ایک نقصان دہ چیز اس سلسلہ میں ”جھوٹا دعویٰ کرنے والے“ ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں بعض لوگ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم امام علیہ السلام سے ایک خاص رابطہ رکھتے ہیں یا انکی طرف سے خاص نائب ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام اپنے چوتھے نائب (خاص) کے نام آخری خط میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں:
”چھ دن بعد آپ کی وفات ہو جائے گی، اپنے کاموں کو اچھی طرح دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کے لئے کسی کو وصیت نہ کرنا کیونکہ مکمل غیبت کا زمانہ شروع ہونے والا ہے........ آنے والے زمانہ میں ہمارے بعض شیعہ مجھ سے ملاقات (اور مجھ سے رابطہ کا) دعویٰ کریں گے، خبردار! کہ جو شخص سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے ہمیں دیکھنے کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ح ۵۴، ص ۴۹۲)
امام علیہ السلام کے اس کلام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر شیعہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امام علیہ السلام سے رابطہ رکھنے اور خاص نیابت کے سلسلہ میں دعویٰ کرنے والوں کو جھٹلائے اور اس طرح کے خود غرض اور دنیا پرست لوگوں کے نفوذ کا سدباب کریں۔
اس طرح کے بعض جھوٹا دعویٰ کرنے والوں نے ایک قدم اس سے بھی آگے بڑھایا اور امام علیہ السلام کی نیابت کے دعویٰ کے بعد ”مہدویت“ کے دعویدار بن بیٹھے اور اپنے اس باطل دعویٰ کی بنیاد پر ایک گمراہ فرقہ کی بنیاد ڈال دی اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا راستہ ہموا کر دیا۔
( فرقہ بابیت بھی اس طرح کا ایک گمراہ فرقہ ہے جس کا رہبر ”علی محمد باب“ ہے، جس نے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی نیابت کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد مہدی موعود کا دعویٰ کر بیٹھا اور آخرکار اس نے پیغمبری کا بھی دعویٰ کیا اور اسی طرح گمراہ فرقہ نے بہائیت جیسے گمراہ فرقہ کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا۔یہ تو ایران میں تھے اور برصغیرمیں غلام احمد قادیانی نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا اپنا فرقہ بناڈالا)
چنانچہ ان گروہوں کی تاریخ کے مطالعہ کے بعد یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ استعمار کی حمایت اور اس کے اشارہ پر پیدا ہوئے ہیں اور اپنے وجود کوباقی رکھے ہوئے ہیں۔
روشن ہے کہ اس طرح کے منحرف فرقے اور گروہوں کی تشکیل اور ان کا مہدویت یا امام زمانہ علیہ السلام کی نیابت کا دعویٰ کرنے والوں پر اعتماد کرنا ان کی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کی معرفت کے بٍغیر آپعلیہ السلام کے دیدار کا بہت زیادہ شوق، یا آپعلیہ السلام کے سلسلہ میں کم معلومات اور اس سلسلہ میں مکاروں کے وجودسے غافل رہنا، جھوٹے دعویداروں کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے۔
لہٰذا انتظار کرنے والے شیعہ کو چاہیے کہ مہدوی ثقافت سے لازمی معرفت حاصل کرنے کے ذریعہ خود کو مکار اور حیلہ باز لوگوں سے محفوظ رکھے اور مومن اور متقی شیعہ علماءکی پیروی کرتے ہوئے مکتب اسلام کے روشن راستہ پر قدم بڑھاتا رہے۔
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
امام مہدی علیہ السلام کے معارف کو لاحق اہم خطرات میں سے اس کی غلط تشریح اور ان تعلیمات سے نادرست فہم ہے۔
مفہوم انتظار نادرست فہم، زمانہ غیبت میں قیام کو باطل سمجھنا اور امام کو ایک سخت حاکم بتانا وغیرہ........ یہ سب امام مہدی علیہ السلام کے عظیم معارف کی غلط فہم و تفسیر کی واضح مثالیں ہیں۔
ظہور کے وقت کو معین کرنا، علامات ظہور کو خود ہی خاص امور پر منطبق کرنا، حضرت سے رابطہ یا ان کی نیابت کے حوالے سے جھوٹے دعوے وغیرہ یہ سب امام مہدی علیہ السلام کے متعلقہ ابحاث کو لاحق اہم خطرات میں سے ہیں۔

درس کے سوالات:
۱۔ مہدویت کے متعلقہ ابحاث میں غلط فہم و ادراک کی تین مثالیں بیان کریں؟
۲۔ وقت معین کرنے، جلدی ظہور کی خواہش کرنے، اور ظہورِ کا وقت معین کرنے  کی وضاحت کریں؟
۳۔انطباق کے اہم ترین منفی نتائج کیا ہیں؟
۴۔ امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ رابطے یا نیابت کے جھوٹے دعویداروں کے مدمقابل امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی توقیع کو مدنظر رکھتے ہوئے شیعوں کا کیا فریضہ ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة

 

درس کے سوالات اوران کے جوابات:

سوال نمبر 1: مہدویت کے متعلقہ ابحاث میں غلط فہم و ادراک کی تین مثالیں بیان کریں؟


جواب: غیر ضروری بحث کرنا


مہدوی ثقافت میں بہت سے معارف اور تعلیمات ایسی ہیں جن کے سلسلہ میں کوشش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز شیعوں میں مزید علم و آگاہی کے لئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور غیبت کے زمانہ میں ہمارے لئے ایک اہم دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ یا بعض گروہ اپنی گفتگو، مضامین، جرائد اور کانفرنسوں میں غیر ضروری بحث کرتے ہیں کہ جن کی وجہ سے کبھی کبھی منظرین کے ذہنوں میں بعض غلط شبہات اور سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ”امام زمانہ (ع) سے ملاقات“ کی بحث کرنا اور لوگوں کو آپٍعلیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں بہت زیادہ رغبت دلانا جس کے بہت سے غلط اثرات پیدا ہوجاتے ہیں اور نااُمیدی کا سبب اور کبھی تو امام علیہ السلام کے انکار کا باعث ہوتا ہے جبکہ روایات میں اس چیز کی تاکید ہوئی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی مرضی کے مطابق قدم بڑھایا جائے اور رفتار و کردار میں آپعلیہ السلام کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا اہم یہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں انتظار کرنے والوں کے فرائض کو بیان کیا جائے تاکہ اگر امام علیہ السلام سے ملاقات ہو جائے تو اس موقع پر امام علیہ السلام ہم سے راضی اور خوشنود ہیں۔اسی طرح امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی شادی کا مسئلہ، یا آپ کی اولاد کے بارے میں گفتگو، یا آپ کہاں رہتے ہیں وغیرہ، یہ تمام غیر ضروری بحثیں جن کی جگہ ایسی موثر اور مفید بحثوں کو بیان کرنا چاہیے جو منتظرین کے لئے مفید ثابت ہوں، اسی وجہ سے ظہور کی شرائط اور ظہور کی نشانیوں کی بحث مقدم ہے، کیونکہ امام علیہ السلام کے ظہور کے مشتاق افراد کا شرائط سے آگاہ ہونا ان شرائط کو پیدا کرنے میں ترٍغیب کا باعث بنتا ہے۔

امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہدویت کی بحث میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے یعنی کسی ایک موضوع پر بحث کرتے وقت مہدویت کے سلسلہ میں تمام چیزوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ کچھ لوگ بعض روایات کے مطالعہ کے بعد غلط تفسیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دوسری روایات پر نہیںہوتی، مثال کے طور پر بعض روایات میں طولانی جنگ اور قتل و غارت کی خبر دی گئی ہے چنانچہ بعض لوگ صرف انہی روایات کی بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی بہت خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں اور جن روایات میں امام علیہ السلام کی محبت اور مہربانی کا ذکر ہوا ہے اور آپعلیہ السلام کے اخلاق و کردار کو رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کی طرح بیان کیا گیا ہے، ان سے غافل رہتے ہیں ظاہر ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ امام علیہ السلام تمام ہی حق طلب انسانوں سے (اپنے شیعہ اور دوستوں کی بات تو الگ ہے) مہر و محبت اور رحم و کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس آخری ذخیرہ الٰہی کی شمشیر انتقام صرف ظالم و ستمگر اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سروں پر قہر بن کر برسے گی۔
اس گفتگو کی بنا پر مہدویت کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے کافی علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اور جن کے یہاں یہ صلاحیت نہ پائی جاتی ہو تو ان کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے کیونکہ ان کا اس میدان میں وارد ہونا ”مہدوی ثقافت“ کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 2: وقت معین کرنے، جلدی ظہور کی خواہش کرنے، اور ظہورِ کا وقت معین کرنے  کی وضاحت کریں؟

جواب: ظہور کے بارے جلد بازی 

مہدوی ثقافت کے لئے ایک نقصان دہ چیز ”ظہور میں جلد بازی“ ہے، جلد بازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے وقت سے پہلے یا اس کے لئے راستہ ہموار ہونے سے پہلے اس کو طلب کیا جائے، جلد باز انسان نفس کی کمزوری اور کم ظرفیت کی وجہ سے اپنی سنجیدگی اور چین و سکون کو کھو بیٹھتا ہے اور کسی چیز کے شرائط اور حالات پیدا ہونے سے پہلے اس چیز کا خواہاں ہوتا ہے۔
مہدوی ثقافت کے پیش نظر ”امام غائب کے مسئلہ میں“ سب منتظرین ظہور مہدی علیہ السلام کے مشتاق ہیں اور اپنے پورے وجود کے ساتھ ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، اور آپ کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن پھر بھی جلد بازی سے کام نہیں لیتے، اور غیبت کا زمانہ جس قدر طولانی ہوتا جاتا ہے ان کا انتظار بھی طولانی ہوتا رہتا ہے، لیکن پھر بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیںچھوٹتا، بلکہ ظہور کے بہت مشتاق ہونے کے بعد بھی خداوند عالم کے مرضی اور اس کے ارادہ کے سامنے سر تسلیم ختم کرتے ہیں، اور ظہور کے لے لازمی شرائط پیدا کرنے اور راستہ ہموار کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔عبد الرحمن بن کثیر کہتے ہیں: میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ”مہرم“ آئے اور عرض کی: میں آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ جس چیز کے انتظار میں ہم ہیں اس انتظار کی گھڑیاں کب پوری ہوں گی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ”مہرم“ ظہور کے لئے وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں اور جلد بازی کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، اور (اس سلسلہ میں) تسلیم ہونے والے نجات یافتہ ہیں“۔ (اصول کافی، ج ۲، ص ۱۹۱)
ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی سے ممانعت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے انسان میں یاس اور نااُمیدی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے سکون اور اطمینان ختم ہو جاتا ہے اور تسلیم کی حالات، شکوہ اور شکایت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ظہور میں تاخیر کی وجہ سے بےقراری پیدا ہوتی ہے اور یہ بیماری دوسروں تک بھی پہنچ جاتی ہے اور کبھی کبھی ظہور میں جلد بازی کی وجہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود سے انکار کر دیتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کی وجہ یہ ہے کہ انسان یہ نہیں جانتا کہ ظہور الٰہی سنتوں میں سے ایک ہے اور تمام سنتوں کی طرح اس کےلئے بھی شرائط اور حالات ہموار ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کرتا ہے۔

ظہور کے لئے وقت معین کرنا
مہدوی ثقافت کے لئے نقصان دہ ایک چیز یہ ہے کہ انسان امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرے جبکہ ظہور کا زمانہ لوگوں کے کے لئے مخفی ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے لئے وقت معین کرنے سے سخت ممانعت کی گئی ہے اور وقت معین کرنے والوں کو جھوٹا شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت (معین) ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:
”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، (اور امام علیہ السلام نے اس جملہ کی تین بار تکرار فرمائی)“ (غیبت طوسی، ح ۱۱۴، ص ۶۲۴) لیکن پھر بھی بعض لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے ہیں، جس کا کم سے کم (منفی) اثر یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ اس طرح کے جھوٹے وعدوں پر یقین کر لیتے ہیں اور جب وہ پورے نہیں ہوتے تو ان کے اندر یاس اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔
لہذا سچے منتظرین کا فریضہ ہے کہ نادان اور (خود غرض) شکاریوں کے جال سے اپنے کو محفوظ رکھیں اور ظہور کے سلسلہ میں صرف مرضی پروردگار کے منتظر رہیں۔

ظہور کی نشانیوں کو خاص مصادیق پر منطبق کرنا
متعدد روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے بہت سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں لیکن ان کی دقیق اور صحیح کیفیت نیز ان کی خصوصیات روشن نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بعض لوگ اپنے ذاتی نظریات اور احتمالات کو بروئے کار لاتے ہیں اور بعض اوقات ظہور کی نشانیوں کو خاص واقعات پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ذریعہ ظہور کے نزدیک ہونے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی مہدوی ثقافت کے لئے ایک آفت ہے جس کی بنا پر (بھی) انسان یاس اور نااُمیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ”سفیانی“ نام کو کسی علاقہ کے رہنے والے پر صادق مانیں اور ”دجال“ کے بارے میں بغیر دلیل کے گفتگو کی جائے، جس کے بعد سب لوگوں کو یہ بشارت دی جائے کہ اب ظہور امام کا زمانہ نزدیک ہے اور سالوں بعد بھی امام علیہ السلام کا ظہور نہ ہوتو بہت سے لوگ غلط فہمی اور انحراف کے شکار ہو جائیں گے اور اپنے صحیح عقائد میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔

سوال نمبر3: انطباق کے اہم ترین منفی نتائج کیا ہیں؟


جواب: امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا



یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہدویت کی بحث میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے یعنی کسی ایک موضوع پر بحث کرتے وقت مہدویت کے سلسلہ میں تمام چیزوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ کچھ لوگ بعض روایات کے مطالعہ کے بعد غلط تفسیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دوسری روایات پر نہیںہوتی، مثال کے طور پر بعض روایات میں طولانی جنگ اور قتل و غارت کی خبر دی گئی ہے چنانچہ بعض لوگ صرف انہی روایات کی بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی بہت خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں اور جن روایات میں امام علیہ السلام کی محبت اور مہربانی کا ذکر ہوا ہے اور آپعلیہ السلام کے اخلاق و کردار کو رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کی طرح بیان کیا گیا ہے، ان سے غافل رہتے ہیں ظاہر ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ امام علیہ السلام تمام ہی حق طلب انسانوں سے (اپنے شیعہ اور دوستوں کی بات تو الگ ہے) مہر و محبت اور رحم و کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس آخری ذخیرہ الٰہی کی شمشیر انتقام صرف ظالم و ستمگر اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سروں پر قہر بن کر برسے گی۔
اس گفتگو کی بنا پر مہدویت کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے کافی علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اور جن کے یہاں یہ صلاحیت نہ پائی جاتی ہو تو ان کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے کیونکہ ان کا اس میدان میں وارد ہونا ”مہدوی ثقافت“ کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 4: امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ رابطے یا نیابت کے جھوٹے دعویداروں کے مدمقابل امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی توقیع کو مدنظر رکھتے ہوئے شیعوں کا کیا فریضہ ہے؟


جواب: 

انتظار کرنے والے شیعہ کو چاہیے کہ مہدوی ثقافت سے لازمی معرفت حاصل کرنے کے ذریعہ خود کو مکار اور حیلہ باز لوگوں سے محفوظ رکھے اور مومن اور متقی شیعہ علماءکی پیروی کرتے ہوئے مکتب اسلام کے روشن راستہ پر قدم بڑھاتا رہے۔





ChatGPT


مہدویت کی معنوی اور عقائدی مبادیوں پر مبنی درسوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگ مہدی کے ظہور کے معنوی اثرات اور انحرافات کو درستی سے سمجھ سکیں۔ مہدویت کے معیاروں کو پہچاننے کے لئے ایک موضوع کے تحت انحرافات اور ان کے اثرات پر تفصیلی تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام مہدی کے ظہور کے موضوع کی درست تفسیر اور ان کے معیاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، غلط تفسیریں اور خرافات کو تصحیح کیا جا سکتا ہے۔

مہدویت سے مربوط انحرافات کو پہچاننے کے لئے، غلط تصورات اور نادرست معانی کو درست کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظہور کے بارے میں غلط فہمیوں اور جلد بازی کے نتائج پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس طرح کے درسوں کی مدد سے لوگوں کو مہدویت کے موضوع میں صحیح علم اور فہم فراہم کیا جا سکتا ہے۔

مہدویت سے مربوط انحرافات کی نشان دہی کی عملی مثالوں کے ذریعے، لوگوں کو ایسی غلطیوں سے بچانے کی راہ دکھائی جا سکتی ہے جو ان کے عقائد کو متاثر کرتی ہیں۔ اس طرح کے مطالب سے لوگوں کو صحیح راہ دکھایا جا سکتا ہے اور غلط مفہومیوں کو درست کیا جا سکتا ہے۔


ChatGPT

مہدویت، ایک عظیم عقائدی موضوع ہے جس پر انسانیت میں بے لوث دلچسپی ہے۔ یہ ایک مذہبی اعتقاد ہے جو مختلف دینوں اور مذاہب میں موجود ہے۔ مہدی یا امام مہدی کو عموماً ایک مسلمان اعتقاد کیا جاتا ہے، جو انسانیت کے آخری دورانیہ میں ظاہر ہونے والے ایک مقدس شخصیت ہوگا۔ اس کے ظہور کا موضوع مختلف دینوں اور مذاہب میں مختلف ہے، لیکن عموماً یہ انصاف، امن اور انسانیت کی خاتمہ نبوت اور انسانیت کے بہتر حالات کیلئے آئے گا۔

مہدویت کے موضوع پر مختلف دینی اور عقائدی نظریات ہیں۔ اس کے بارے میں مختلف مذہبی کتب، تفاسیر، اور روایات میں اس کی بہت سی گفتگوئیں اور تفسیریں موجود ہیں۔ مسلمان عقیدہ ہے کہ امام مہدی ظاہر ہونے والے ہیں تاکہ دنیا کو انصاف اور امن کی راہ دکھائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، مختلف مسیحی، یہودی، اور دیگر دینوں کی بھی اپنی مخصوص تفسیریں ہیں جو مہدویت کے موضوع پر گفتگو کرتی ہیں۔

مہدویت کے موضوع پر گہری تحقیقات اور مطالعے ہوتے آ رہے ہیں۔ اس کے موضوع پر مختلف علماء اور محققین نے اپنی ریاستیں و فہم کو پیش کیا ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مہدویت کے موضوع کو اہمیت دینے والے تمام دلائل اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس کی سمجھ میں اضافہ کریں۔ ان کے تحقیقات اور مطالعات کے نتائج نے مہدویت کے موضوع کو عمومی اور عمیق فہم کی طرف ایک اہم قدم بنایا ہے۔

ChatGPT



 






تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات