Course 2 All Books Exam Question And Answers

  Book 4, Book 10, Book 12, 



🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*

*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*

*📆 اتوار 2  ذوالحجہ 1445( 9 جون ، 2024)*



 *کتابچہ*📖  4  " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے*"


 



🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،



 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،




 📖گفتگو کا موضوع: 


کتابچہ گیارھواں  " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*


 *سوالات*
کوئی سے پانچ سوال حل کریں
سوال نمبر1: لفظ سنت ، صحیح اور متواتر کا معنی بیان کریں
جواب 

لفظ "سنت" کا مطلب ہے وہ عمل یا طریقہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی میں اپنایا اور مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔ سنت میں شامل احادیث، اقوال، افعال اور تقریرات شامل ہیں جو اسلامی شریعت کے اصولوں کو واضح کرتے ہیں۔

لفظ "صحیح" کا مطلب ہے کہ کوئی چیز ایسی ہے جس کی صحت اور اصل پر کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ حدیث کی اصطلاح میں، صحیح حدیث وہ ہے جس کی سند اور متن دونوں صحیح ہوں، اور اس کی اسناد میں تمام راویوں کی درستگی اور عدالت ثابت ہو۔

لفظ "متواتر" کا مطلب ہے وہ حدیث جو ایک سے زیادہ راویوں کے ذریعے مسلسل اور بے شمار افراد کے ذریعے نقل کی گئی ہو، جس کا مضمون یا مضمون کے مفہوم کی صحت پر کوئی شک نہ ہو۔ متواتر حدیث ایسی ہے جو اس قدر زیادہ راویوں سے منقول ہو کہ ان کے جھوٹا ہونے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ 




سوال نمبر2: امام زمانہ عج کے موضوع پر خاص کوئی تین کتابوں کے نام اور ایک کتاب کی تشریح کریں
جواب 

امام زمانہ (علیہ السلام) کے موضوع پر چند مشہور اور معتبر کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:


 اہلسنت کے راویوں کی تعداد 160 ہے جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے متعلق کام کیا ہے۔ 

مختصراًتین مرحلوں میں جائزہ:

امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کی کتابوں میں ذکر:

کتاب الجامع 151 ہجری
کتاب الرسالہ (امام شافعی رہ)
السنن سنانی
الفتن
السنن فی الاحادیث ابن شیبہ
مسند ابن حنبل 

آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کی کتابوں میں ذکر:
سنن ابن داؤد
سنن ابن ماجہ
سنن ترمذی
کتاب الفتن والملائن 

غیبت کبریٰ کے دوران کتابوں میں میں بھی آپ علیہ السلام کا  ذکر موجود ہے مثلاً المستدرک

اہلسنت کی امام مہدی علیہ السلام پر مختص کتابیں:
الاربعین
البیان فی الاخبار صاحب الزمان عجل
البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان۔۔۔ متقی ہندی 
موسوعہ ...
الفصول المہممہ

اس سے ظاہر ہے کہ اہلسنت نے بھی احادیث کے مجموعے کو اہتمام کے ساتھ جمع کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر بھی ان کی نظر ہمیشہ سے رہی ہے۔

یہ کتابیں امام مہدی (علیہ السلام) کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور اسلامی روایات کی روشنی میں ان کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔





سوال نمبر3: احادیث مہدویت کے راوی اصحاب کی تعداد کتنی ہے کوئی سے پانچ اصحاب کے نام بیان کریں 
جواب 

آپ نے منتخب الاثر کی فہرست کو بیان کیا ہے۔ ہمارے ماہرین نے احادیث کو عام طور پر اور خاص طور پر احادیث مہدویت کو چار گروپس میں تقسیم کیا ہے:

1. **تفسیر روایات**: یہ روایات قرآن کی آیات کے ذیل میں ہیں جو امام مہدی علیہ السلام کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان میں دو سو سے زائد آیات شامل ہیں۔

2. **اخباری روایات**: ان میں ماضی، حال، اور مستقبل کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ روایات غیبت، اس کے اسباب، علامات ظہور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، اور امام مہدی علیہ السلام کی سیرت و اوصاف پر مشتمل ہیں۔

3. **تشریحی روایات**: ان میں غیبت کے فلسفے، انتظار کے مفہوم، منتظرین کی ذمہ داریوں، اور امام مہدی علیہ السلام کا نام لینے سے منع کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

4. **تاریخی روایات**: ان میں امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت، معجزات، اور پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔

آپ نے معجم الاحادیث کا ذکر کیا، جو امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تقریباً 1941 احادیث پر مشتمل ہے۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے 560، امام علی علیہ السلام سے 130، امام حسن علیہ السلام سے 9، امام حسین علیہ السلام سے 10، امام زین العابدین علیہ السلام سے 22، امام باقر علیہ السلام سے 60، امام صادق علیہ السلام سے 297، امام کاظم علیہ السلام سے 9، امام رضا علیہ السلام سے 30، امام محمد تقی علیہ السلام سے 9، امام نقی علیہ السلام سے 13، امام عسکری علیہ السلام سے 42، اور امام زمانہ عج اللہ فرجہ الشریف سے 130 توقیعات شامل ہیں۔

آپ نے صحابہ سے متعلق احادیث کا ذکر کیا، جن میں تقریبا ساٹھ صحابہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بلاواسطہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث نقل کیں۔ یہ صحابہ صحابہ کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہیں جنہوں نے اس عقیدے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ 

خلاصہ یہ کہ تقریباً ساٹھ صحابہ نے اس موضوع پر احادیث بیان کیں، جس سے مہدویت کی اہمیت اور اس کے عظیم مقام کی تصدیق ہوتی ہے۔

 سوال نمبر4: حدیث من مات کے کتنے مضمون ہیں اسکی تشریح میں مہدویت پر دو نکات بیان کریں 
جواب 

 معروف عمومی حدیث من مات۔۔۔ یعنی جس میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر مبارک باقی آئمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ ہے:
جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا ، اس کی موت گویا جاہلیت کی موت ہے۔
 اہلسنت کی صحاح ستہ میں یہ حدیث سات صحابہ کے ریفرنس سے بیان ہوئی ہے زید بن ارقم، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر و غیر۔۔۔ اہلسنت نے اپنی ستر دیگر کتب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
 مکتب اہلبیت علیہ السّلام میں علامہ مجلسی نے اس حدیث کو چالیس شیعہ اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے۔
 اہلسنت میں ابن حدید نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعوا کیا ہے۔ تشیع میں شیخ مفید رہ، شیخ بہائی رہ، علامہ مجلسی رہ 
اس حدیث کے مضامین میں معنی ایک ہی بنتا ہے لیکن تعبیرات میں فرق ہے۔ مثلاً جاہلیت کی موت کی بجائے یہودی نصرانی ہو کر مرنے کی طرف اشارہ ہے بہرحال سب کا مفہوم عاقبت خراب ہونا ہے۔
 پس امام زمانہ ایسا وجود مبارک جن کی معرفت واجب، اس کے بغیر عاقبت خراب ، جہالت میں زندگی و موت کا واقع ہونا ہے۔
پس یہ وجود مبارک منصوص من اللہ اور الہی شرائط کے حامل امام و رہبر ہیں۔
 اہم نکات
*بلند علمی مقام کی حامل شخصیت کہ آپ کی معرفت کی بغیر ہم جاہل رہ جائیں گے۔
* پاک و پاکیزہ امام کہ آپ ع کی مطلق اطاعت کا حکم ہے۔ کبھی اپنے علم و عمل میں اشتباہ نہیں کرتے۔ جنت کی طرف لے جانے والی ہدایت اور جہنم سے بچانے والے امام 
* ایسی شخصیت کا انتخاب انسان نہیں کر سکتے۔ پس آپ ع من اللہ امامت و ولایت کے حامل ہیں۔
ورنہ اپنے بنائے ہوئے امام کی پیروی منطقی بات نہیں لگتی۔
 نتیجہ 
پس جو لوگ امامت کے دعوے کرتے ہیں ان کی زندگیوں پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہ خطا سے محفوظ نہیں ہیں۔
جاہلیت سے مراد سادہ جاہلیت نہیں بلکہ شرک کا راستہ ہے۔
صرف تشیع کے پاس بارہ امام واضح ہیں جو رسول اللہ ص نے اعلان کئے۔ جب کہ باقی مکاتب کے پاس آج تک بارہ کی تعداد نہ مکمل ہے اور نہ متفق ہیں۔  
سوال نمبر5: شیعہ و سنی میں مہدویت پر مشترکات کتنے ہیں کوئی سے پانچ کا نام لیں 
حدیث ثقلین:

یہ حدیث سنی شیعہ  کتب میں بہت کثرت سے بیان ہوئی ہے  رسول خدا ص کے تقریبا 34 اصحاب نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور اہل سنت کے 187 علماء نے جن میں احمد حنبل اور احمد ترمذی نے بیان کی ہیں۔۔۔

کتاب صحیح مسلم میں زید بن ارقم سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا ص ایک دن پانی کے کنارے جس کا نام خم(غدیر خم) جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے خطبہ ارشاد فرمایا اس خطبے میں حمدوثناء پروردگار اور لوگوں کی واعظ نصیحت کرنے کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی۔۔۔۔۔

مسلم اور ترمذی جوکہ صحاح اور سنن کے مؤلف ہیں نے لفظ اہل بیت پر تاکید کی ہے۔۔۔۔۔

☆ حدیث ثقلین میں اہل بیت ع:

لفظ"اہل بیت ع" قرآن مجید میں موجود ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:

بےشک میں نے اہل بیت ع کو ہر رجس سے دور اور  پاک و پاکیزہ کر دیا ہے۔۔۔۔(مفہوم)

سنن ترمذی،مسند احمد اور مسند عبد بن حمید میں یوں منقول ہے کہ:

اہل بیت ع کون افراد ہیں؟

 6 ماہ تک ہر روز صبح جب نماز کے لیے مسجد جاتے تو فرماتے کہ: اے اہل بیت ع نماز، بےشک خداوندعالم نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ تم سے رجس کو دور رکھے اور پاک و پاکیزہ رکھے جو حق ہے پاکیزہ رکھنے کا ۔۔۔اور اہل بیت وہی افراد ہیں جو مباہلہ میں موجود تھے



سوال نمبر6: شیعہ و سنی میں مہدویت پر اختلاف کیا ہے کسی ایک اختلاف کی تشریح کریں

جواب 

شیعہ سنی اعتقادات میں اختلاف پایا جاتا ھے .

اہلسنت کھتے ہیں امام مھدی عج ابھی تک پیدا نھیں ھوٸی آخر زمانہ میں پیدا ھونگے ،


جبکہ ھمارہ اھل تشیع کا یے عقیدہ ھے کہ امام مھدی ع 255 ھہ اس دنيا میں تشریف لاچکے ہیں اور 260 ھہ میں اپنے والد کی شہادت کے وقت پردہ غیبت میں چلے گٸی۔


امام ع کے والد کیاکہتے ہیں ? وہ آیا اپنے فرزند کے وجود کو ثابت کر رھے ہیں یا نہیں ۔

 وہ دایا جو موجود ہوتی ہیں جنہوں نے مولود کو دیکها ہوتا ہے آیا ان سے کوٸی بات ھوٸے۔

 


" *سب سے پھلے انکے دادا امام علی نقی علیہ السلام نے* بشارت دی تھی کہ :

میری بیٹے حسن ع ان سے ھمارہ وہ بیٹا وہ پوتا اس دنيا میں آٸے گا جو دنيا کو عدل انصاف سے بھر دے گا ۔

 

 *احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ* 

 انہوں نے امام حسن عسکری ع سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے کہ :

"میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس دنيا سے نہیں اٹهایا یہاں تک کہ مجھے میرا جانشین دکهایا.....







 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.


التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔


اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 


🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو ✍ 🎤🎤



🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


*🍃 ‏اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍﷺ وَّآلِ مُحَمَّدﷺٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🍃*

*🌹السلام عليك يا أبا القاسم یا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌹*

*📆اتوار 24 ذیقعد 1445 ( 2 جون ، 2024)*


 *کتابچہ*📖  10 شرائط و علامات ظہور


 



🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،



 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،




 📖گفتگو کا موضوع: 


کتابچہ دسواں شرائط و علامات ظہور امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات



*سوالات امتحان*



👈 *کوئی سے پانچ سوال حل کریں*



سوال نمبر1: شرائط اور علامات میں کوئی تین فرق بیان کریں؟



جواب:  علامات اور شرائط میں فرق



انسانی تاریخ میں عدل کی تلاش ایک دائمی مسلسل رہی ہے۔ انسانیت نے ہمیشہ عدل کو اپنا مقصد قرار دیا ہے، اور انسانیت کی فطرت میں ہی عدل کا تعلق پایا جاتا ہے۔ عدل کی تلاش ایک ہدف ہے جو انسانیت کو اپنی بنیادوں پر مضبوط کرتا ہے۔



دینی مواقعہ بھی ایک بہت اہم پیشگوئی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مختلف مذاہب کی تاریخ میں انبیاء اور اولیاء کی تعلیمات میں عدل اور انصاف کی باتیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کے لئے بھی قرآن اور حدیث میں عدل کی اہمیت اور عدلیہ کی اہمیت کی باتیں شامل ہیں۔



آخری دنوں میں ایک الہی عادلانہ حکومت کی بشارت دی گئی ہے جو کہ انسانیت کو بنیادی انصاف فراہم کرے گی۔ اس عدلانہ حکومت کی بشارت کے ساتھ ساتھ مختلف علامات بھی ظاہر ہو رہی ہیں، جو عدل کی اور قریبی ہیں۔



معمول کی طرح، انسانیت کے انجام تک پہنچنے کے لئے محنت، اجتہاد اور ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانیت کو عدل اور انصاف کی فہم کو بنیاد بنا کر زندگی گزارنا چاہئے تاکہ ایک بہتر معاشرت کی تشکیل ممکن ہو۔




سوال نمبر2: شرائط ظہور کونسی ہیں؟ کسی ایک کی تشریح کریں؟




جواب: علامات کو جاننے کا فائدہ



اسباب کیا ہیں 




پہلے سبب  (علامات کو جاننے کا فائدہ) کی تشریح




امام زمانہ کے ظہور کی علامات اور شرائط بات کرتے ہوئے، علامات کی شناخت اور شرائط کا تجزیہ اہم ہے۔ علامات کو جاننے سے انسان کو معصوم مہدی اور جھوٹے مہدی کا تمیز کرنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ علامات کی شروعات انسان کو تیاری میں مدد دیتی ہے اور منکرانِ مہدویت کو ہٹا دینے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ شرائط کی تعبیر، معیاریں، اور انتظامات کا تعین کرتی ہے جو امام زمانہ کے ظہور کیلئے ضروری ہیں۔ انتظار کے دوران، انسان کو امام کے ظہور کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں علم، عبادت، اور عمل کا تربیتی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ امام زمانہ کے ظہور کی شرائط میں انقلابی، معاشرتی، اور دینی ترقی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے، جو مولا کا پروگرام اور اہداف کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔



 


سوال نمبر 3:حضرت کے لشکر میں کتنی قسم کے لوگ ہونگے؟ 



جواب: انصار کی اقسام 



 امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے ظہور کے اسباب کی بات کرتے ہوئے انصار و امان کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انصار ان کے اصحاب ہیں، جن کے دلوں میں اللہ تعالی کے لئے مکمل ایمان ہے۔ ان کے حالات کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ان کے دل شمع کی مانند روشن ہیں اور اللہ کے خوف سے محتاط رہتے ہیں۔ ان کے ناصر کا تعلق معصوم فرماتے ہیں، جو کہ 10 ہزار جوان ہوں گے، اور ان کے گرد 313 افراد جمع ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالی کی اذن قیام ہوگی اور مولا کے ظہور کا وقت آئے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولا کے ناصر اور انصار کی شناخت اور ان کی تیاری امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے ظہور کے لئے بہت اہم ہے۔




سوال نمبر 4:علامات متصل اور منفصل کی تشریح مثال کے ساتھ کریں؟




جواب:



علامات متصل اور منفصل اصطلاحات ہیں جو کسی بھی عمل یا حالت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ ان کو سمجھنے کے لئے، آئیے ایک مثال کے ذریعے یہ مفہوم سمجھیں۔



مثال کے طور پر، فرض کریں کہ آپ کو ایک ٹیم کی بنیادیاتی ساخت میں دلچسپی ہے۔ آپ ایک انسانی جسم کو دیکھتے ہوئے دو نظر آتے ہیں: جسم کے حصے جو متصل ہیں اور جنہیں آپ منفصل کر سکتے ہیں۔



جسم کے متصل حصے عموماً عضلات، ہڈیاں، اور نسیج ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء جسم کو ایک متماسک اور مستحکم ساخت فراہم کرتے ہیں۔ عضلات اور ہڈیاں بھی ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، جس سے حرکت ممکن ہوتی ہے۔



جسم کے منفصل حصے وہ حصے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں، مثلاً ہاتھ، پاؤں، یا سر. یہ اجزاء آزادانہ حرکت کر سکتے ہیں اور ان کی الگ الگ پہچان کی جا سکتی ہے۔



متصل اور منفصل حصوں کی علامتوں کو عموماً "+" اور "-" کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ اگر دو عضلات ایک دوسرے سے جڑی ہوں تو ان کو "متصل" کہا جائے گا، جبکہ اگر کسی عضو کو بدلے بغیر الگ کیا جا سکے تو اسے "منفصل" کہا جائے گا۔



اس مثال کے ذریعے، آپ اب علامات متصل اور منفصل کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے استعمال کا طریقہ بھی سیکھ سکتے ہیں۔




سوال نمبر 5: قاعدہ بداء کی تشریح کریں؟ 




جواب:




بداء قاعدہ:



1. **تعریف:**


   بداء قاعدہ ایک منطقی اصول ہے جو موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان تعلق کی معیاری پیشگوئی کرتا ہے۔



2. **اصول:**


   اس قاعدہ کے مطابق، اگر کوئی بات ممکن نہ ہو تو وہ واجب نہیں ہو سکتی، اور اگر کوئی بات واجب ہو تو وہ ممکن ہونا ضروری ہے۔



3. **تاریخچہ:**


   بداء قاعدہ کی تاریخچہ مدنظر قرار دیا جاتا ہے، جس کے مقامیں میں فلاسفہ اور منطقیات دان اس کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔



4. **مثالیں:**


   بداء قاعدہ کے مختلف مثالوں کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ اس کا استعمال سمجھنے میں آسانی ہو۔



5. **فلسفی اور علمی استعمالات:**


   اس قاعدہ کی فلسفی اور علمی علوم میں کیسے استعمال ہوتا ہے، اس پر غور کیا جاتا ہے۔



6. **موازنہ باطل اور موازنہ صحیح:**


   بداء قاعدہ کے استعمال میں صحیح اور غلط کی معیاری پیشگوئی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔



7. **اختتام:**


   بداء قاعدہ کے اہمیت اور اس کے استعمال کا اختتامی بیان۔




سوال نمبر 6: علامات ظہور کا نام لیں اور کسی ایک کی تشریح کریں؟




جواب:



 ہمیں مختلف حیثیتوں اور پہلووں کو شامل کرنا ہوگا۔ علامات ظہور اسلامی تعلیمات میں اہم موضوع ہیں، جن پر تفصیل سے غور کیا جاتا ہے۔ حتمی اور غیر حتمی، متصل اور منفصل، عادی اور غیر عادی، زمینی اور آسمانی علامات کے مختلف پہلووں پر غور کرتے ہوئے، ان کی تشریح کو سمجھنا اہم ہوتا ہے۔ 



حتمی علامات وہ ہیں جن کا وقوع ہر صورت مسلمہ ہوگا، جیسے کہ سفیانی کا خروج۔ جبکہ غیر حتمی علامات کا وقوع ممکن ہے مگر یہ یقینی نہیں، مثلاً دجال کا خروج۔ متصل علامات وہ ہیں جو ظاہری طور پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ نفس زکیہ کی شہادت۔ جبکہ منفصل علامات کا وقوع فاصلے کے ساتھ ہوتا ہے، مثلاً صوفیانی کا خروج۔ 



عادی علامات قدرتی طور پر ظاہر ہوتے ہیں، جیسے کہ زمینی لشکر سفیانی کا دھنسنا۔ جبکہ غیر عادی علامات کا وقوع عام طریقے سے نہیں ہوتا، مثلاً اسمانی اواز۔ زمینی علامات زمین سے متعلق ہوتے ہیں، جیسے کہ وادی بیدام کا دھنسنا۔ جبکہ آسمانی علامات آسمان سے متعلق ہوتے ہیں، مثلاً چاند گرہن۔ 



ان تمام اقسام کے علامات ظہور اسلامی اعتقادات اور توقعات کی اہم جزو ہیں، جن کا تفصیلی مطالعہ انسان کو اپنے دینی علم میں مزید پیشرفت کرتا ہے۔



 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.


التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔


اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 


🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو ✍ 🎤🎤



🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻*

 *کورس* 2

 *کتابچہ 12 رجعت امتحان*  

🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،

 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،

*سوالات رجعت*

*کوئی سے چار سوالات حل کریں*

1: رجعت کا معنی اور روایات کی رو سے فلسفہ رجعت بیان کریں

جواب،: رجعت کا معنی و مفہوم اور فلسفہ 

رجعت: 

عقیدہ رجعت اسلام کے شیعہ مکتب فکر میں ایک خاص عقیدہ ہے جو قیامت سے پہلے بعض مخصوص شخصیات کے دنیا میں دوبارہ آنے کا عقیدہ ہے۔ یہ شخصیات میں انبیاء، ائمہ، چند خالص مومنین اور کچھ منافقین و کفار شامل ہیں۔

**معنی و مفہوم:**

رجعت کا لفظی معنی ہے "پلٹنا" یا "واپس آنا"۔ اس عقیدہ کے مطابق، قیامت سے پہلے بعض اہم شخصیات کو خاص مقاصد کے تحت دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا۔

**فلسفہ:**

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام رجعت کے بارے میں ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:

”مومنین پلٹ جائیں گے تاکہ عزت پائیں، ان کی آنکھیں روشن ہوں گی اور ظالم لوگ بھی پلٹیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کرے“۔(بحارالانوار ج۵۳ص۴۶)

اس عقیدہ کا مقصد یہ ہے کہ مظلومین کو عزت اور ظالمین کو ذلت دکھائی جائے۔ مومنین کی دوبارہ واپسی سے انہیں عزت دی جاتی ہے جبکہ ظالمین و کفار کو دنیا میں ہی ان کے ظلم کی سزا دی جاتی ہے۔

**روایات و احادیث:**

اس عقیدے کی تائید میں بہت سی روایات اور احادیث موجود ہیں جو کہ انبیاء و ائمہ سے منقول ہیں۔

**عملی اثر:**

یہ عقیدہ شیعہ مکتب فکر کے افراد کے لیے امید اور عدل کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ یہ ان کے دینی عقائد کا اہم جزو ہے اور اس کے ذریعے انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ ہر ظلم کا حساب کتاب ہوگا۔

عقیدہ رجعت کے تفصیلی جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیعہ اسلام کے دینی عقائد میں گہری جڑیں رکھتا ہے

2: مکتب تشیع میں رجعت کی اہمیت بیان کریں

جواب::  مکتب تشیع میں رجعت کی اہمیت

رجعت کا عقیدہ اسلامی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے، خاص طور پر شیعہ مسلمانوں کے عقائد میں۔ اس کے بارے میں غور کرتے ہوئے، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ رجعت کا عقیدہ یقین دہانی کے دوران انسان کے بعد کی زندگی کا احیاء اور دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ ہے۔ اس کے مطابق، موت کے بعد انسانوں کو قیامت کے دن پھر زندہ کیا جائے گا اور وہ دوبارہ زمین پر آئیں گے تاکہ ان کا احتساب ہو۔

شیعہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق، امام حسین اور امام مہدی (عج) کی ظہور کے بعد ایسا زمانہ آئے گا جب انصاف و عدل کی فتح ہو گی اور ان کے قائم ہونے سے دنیا کو نوازا جائے گا۔ ان کا ظہور انصاف اور فیض کے لیے ہو گا اور ظالموں کو سزا دی جائے گی۔ رجعت کا عقیدہ انسانوں کو امید دیتا ہے کہ انصاف کے دن آئیں گے اور خیر کی فتح ہو گی۔

رجعت کا عقیدہ شیعہ مسلمانوں کی معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس عقیدہ کے تحت، انسانوں کو زندگی میں اخلاقی اور انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کی زمہ داری ہوتی ہے، اور وہ ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس عقیدہ کا مفہوم بھی ایک بہت بڑا اور پر جاوید اثر ہے جو انسانوں کو امید دیتا ہے اور ان کو اپنے عملوں کے ذریعے انصاف اور امن کی تلاش میں مدد فراہم کرتا ہے۔ 

3: قرآن کی دو آیات سے رجعت کو ثابت کریں

جواب: قرآن کی دو آیات سے رجعت

ایک قرآنی آیت میں کہا گیا ہے: "ہر چیز کو وہ واپس کرنے والا ہے"۔ (الرعد: ۳۱) یہ آیت رجعت کا ایک اصول ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اس کے حالتِ اولیہ میں واپس لے سکتا ہے۔

دوسری آیت میں کہا گیا ہے: "تم میں سے جو کوئی موت کے بعد اپنی ایمان لائے ہوں اور نیکی کا عمل کرتا ہو، ہم اس کو زندہ کریں گے اور اسے جوز کی مزیدی دیں گے"۔ (الأنکبوت: ۱۰) یہ آیت بھی رجعت کا ایک ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد ایمان لانے والوں کو زندہ کر سکتا ہے اور انہیں جزا دے سکتا ہے۔ 

4: رجعت کی کوئی پانچ خصوصیات بیان کریں

جواب: : رجعت کی خصوصیات

رجعت

زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔

ہماری گفتگو آج رجعت کی خصوصیات موضوع پر مرکوز ہے 

رجعت کی خصوصیات:

1. رجعت ایک عظیم دن ہے، جس میں خدائے قہار کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔

2. رجعت پر ایمان اہل بیت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔

3. صادقین اور منافقین کی معاملات کا حساب رجعت میں دیا جائے گا۔

4. رجعت میں انبیاء، ائمہ، اور مومنین شامل ہوں گے۔

5. مومنین کی رجعت اختیاری ہوگی، جبکہ کافر اور منافقین کی اجباری ہوگی۔

6. رجعت کے دوران مومنین کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ دوبارہ دنیا میں لوٹیں یا برزخی حیات میں رہیں۔

انشاءاللہ ہمیں مومنین کی صفات میں قرار دے کہ وہ رجعت کی حقیقت پر عمل کریں اور وقت کے امام کی نصرت کے لیے محنت کریں۔

5: کون رجعت کریں گے اور سب سے پہلے کس نے رجعت کرنی ہے

جواب: کون رجعت کریں گے

رجعت

زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔

ہماری گفتگو آج رجعت کے موضوع پر مرکوز ہے، جس میں احادیث کے مطابق مختلف شخصیات بشمول انبیاء، آئمہ معصومین، اور اصحاب معصومین شامل ہیں۔ ہم نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ دو طرح کے لوگ رجعت کریں گے۔

پہلا گروہ

پہلا گروہ وہ ظالمین ہیں جنہوں نے دنیا میں بےپناہ ظلم کیا لیکن انہیں ان کی سزا نہیں ملی۔ قیامت سے پہلے، امام زمان عج کے زمانے میں ایک عالمی عدالت قائم ہوگی جہاں یہ ظالم دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔ مظلوموں کو بھی زندہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے ظالموں کو سزا ہوتے دیکھ سکیں۔

دوسرا گروہ

دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام قائم عج کے زمانے میں زندہ رہنے کی آرزو کی تھی۔ ان میں انبیاء، آئمہ، اور ان کے اصحاب شامل ہیں جنہوں نے اپنی موت سے پہلے اس دور کو دیکھنے کی دعائیں کی۔

امام صادقؑ کے مطابق، سورہ مومن کی آیت "ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کے دنیا کی زندگی میں بھی مددگار ہیں اور اس دن جب کہ گواہ کھڑے ہوں گے" رجعت کے مفہوم کو سمجھاتی ہے۔ امام کہتے ہیں کہ جن پیغمبروں اور آئمہ کو دنیا میں نصرت نہیں ملی، وہ رجعت کے وقت اس نصرت کو پائیں گے۔

روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ بہت سے صالح اور تقویٰ والے لوگ بھی رجعت کریں گے، جیسے اصحاب کہف اور مومن آل فرعون۔ یہ سب رجعت کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں، جسے قرآنی آیات اور حدیثی روایات سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس عظیم زمانے کو دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں اور رجعت کرنے والوں میں سے بنائے۔ آمین۔

 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات