Course 2 Book 9 Me

 [




: درس نمبر 1
کتابچہ نمبر 9
امام زمان سے غیبت کبری میں ملاقات ہوسکتی ہے اس کا مطلب امام ہمارے درمیان موجود ہے ۔
وہی ملاقات کریں گے جو اہل تقوی ہیں۔اور اچھے اعمال انجام دینے والے ہیں
امام سے ملاقات کے لیے خود سازی کریں گناہوں سے دروی کریں۔
جھوٹی ملاقات کے لیے لوگ غلط وظائف بتاتے ہیں اور لوگوں کو مہدویت سے دور کرتے ہیں۔
ملاقات کی 3اقسام ہیں
زمانے کے حساب سے کس زمانے میں امام سے ملاقات ہوئی ہے 
نواب اربعہ کے ذریعہ غیبت صغریٰ میں ملاقات ممکن تھی۔


 درس نمبر 3
امام سے ملاقات ہوئی ہے ان لوگوں سے جو عادل تھے  اور متواتر روایات ہیں۔
دینی محافل میں مجتھد امام سے توسل کرتے ہیں اور وہ فقہی کتابوں میں لکھتے ہیں۔
اجماع ہوا ہے بعض مجتھدین امام کے حضور پہنچے ہیں
لیکن بحث ہے کہ مجتھد کی امام سے ملاقات کیا دوسرے مجتھد کے لیے حجت ہے۔
فتویٰ قرآن حدیث سے دے گا یا اس کی ملاقات خود امام سے ہوئی ہو۔


: کتابچہ 9 
ملاقات امام زمان عج
درس 3
ملاقات کے اثبات پر دلائل
حکایات _ اجماع تشرفی

کیا ہم غیبت کبری امام عج سے ملاقات کرسکتے ہیں
  اور اس کے ساتھ ہم جانتے ہوں کہ جس ہستی سے ملاقات کررہے ہیں یہ وقت کے امام ہیں ؟
اگر یہ ثابت ہوتی ہے تو اس سے مالا کا وجود ہر دور کے لئے ثابت ہوگا اور پھر اس سے مولا کی فعالیت بھی سامنے آئے گی ویسے تو مولا کی فعالیت دنیا میں جاری و ساری ہے لیکن ایک فعالیت جس سے لوگوں کو توقع ہوتی کہ انکی مشکلات دور ہوتی ہیں   اس سے وہ فعالیت ثابت ہوتی ہے 
پہلا مرحلہ ان کا ہے جو دلائل دیتے ہیں کہ ملاقات ہوتی ہے سب سے پہلے ان کے دلائل دیکھیں 
ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ غیبت کبری میں ملاقات ممکن ہی نہیں
واقعات و حکایات پہلی دلیل ہے
بڑے بڑے بزرگ شیخ طوسی شیخ مفید محدث نوری علامہ مجلسی وغیرہ جن کی کتابوں میں واقعات درج ہیں اور ہر صدی میں دیکھتے ہیں کہ مختلف لوگوں کی صالحین علماء فقہاء حتی کہ عام لوگوں کی امام عج سے ملاقات ہوئ ہے 
اب یہ ملاقاتیں ہوئیں ہیں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب جھوٹ ہے اگر یہ چند واقعات ہوتے تو انسان یہ تصور کرلیتا کہ ممکن ہے یہ غلط ہو لیکن ہر دور میں یہ بارہ سو سال سے ہر صدی میں کثرت سے ملاقاتیں ہوئیں کتابوں میں لکھی گئیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ تواتر ہے 
ہوسکتا ہے ان میں سے بعض درست ہوں اس سے ایک چیز ثابت ہوتی ہے کہ ملاقاتیں ہوتی۔ ہیں 
دوسری چیز یہ کہ ان میں سے بعض ملاقاتیں سند کے اعتبار سے قوی ہیں مثلا ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کہ جو مرجع تھے
ہم جب عادل مجتہد کا فتویٰ قبول کرلیتے ہیں تو وہ جب ملاقات کا ذکر کرتے ہیں تو ہم کیسے کہیں کہ یہ جھوٹ ہے
یا ہر دور میں صالحین تھے جو مورد اعتماد تھے جن کی گفتگو میں ہم باقی موادو میں اعتبار کرتے ہیں تو اس موارد میں کیوں نہیں اعتماد کرسکتے
بس اہم دلیل یہی واقعات ہیں 
اور پھر دیکھتے ہیں کہ اکثر علماء ان ملاقات کے واقعات کو قبول کرتے ہیں کوئ عالم نہیں کہتا کہ یہ سب واقعات غلط ہیں ممکن ہیں بعض علماء  بعض واقعات نہیں مانتے لیکن بطور کلی علماء کہتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں ہوئیں تو یہاں جو علاء نہیں مانتے وہ بھی خاموش ہوجاتے ہیں 
تو خلاصہ یہ کہ واقعات و حکایات کا وسعت کے ساتھ بیان ہونا یہ ایک اہم ترین قرار دیتا ہے

ایک دوسری دلیل کہ عام طور پر دینی مراکز اور حوزات میں دینی علاء بیان کرتے ہیں کہ یہ اجماع تشرفی ہے یعنی بعض علماء علمی مشکلات کے لئے امام زمان عج سے توسل کرتے ہیں اور انہیں مولا سے ملاقات کا شرف ملتا ہے وہ مولا سے سوال کرتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے وہ اس جواب کو اپنی فقہی کتابوں میں درج کرتے ہیں اور اس کو عنوان دیتے ہیں    اجماع کا  کہ اس مسئلے میں اجماع ہے اور کہتے ہیں یہ اجماع تشرفی ہے
یہ عنوان بتاتا ہے کہ ان کی مولا سے ملاقات ہوئ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ باہر اجماع نہیں ہوا کہ لوگ اکھٹے ہوئے ہیں یہ جو کہہ رہے ہیں مطلب یہ سن کی ملاقات ہوئ ہے 
یہ اجماع تشرفی خود ہمارے علماء کے لئے قابل قبول ہے بعض مجتہدین امام عج تک پہنچے ہیں لیکن ایک بحث ہےکہ ایس ایک عالم دین کا امام تک پہنچنا آیا یہ دوسرے مجتہد کے لئے بھی حجت ہے کہ نہیں وہ بھی اس کے مطابق فتویٰ دے سکتا ہے کہ نہیں 
اس بحث کو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ دوسرا مجتہد سنے گا لیکن فتویٰ نہیں دے گا فتویٰ اس نے قرآن یا احادیث کی رو سے دینا ہے یا اس کی خود ملاقات ہوئ ہو 
اب اس بحث سے قطع نظر ان واقعات کا ہونا اس بات کی دلیل ہےکہ امام عج سے غیبت کبری میں ملاقات ہوسکتی ہے ملاقات کرنے والے عام لوگ نہیں ہیں علماء فقہاء مجتہدین ہیں حتی کہ اس ملاقات کے نتائج فقہی اور دینی ہیں جو کتابوں میں درج ہیں 
بس ہم نے جان لیا کہ مولا ملاقات کرتے ہیں




 سلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
خلاصہ آج کے درس کا 
جو حکایت پے درس میں بھی بیان ہو چکی ہیں واقعات ان ہی کے ذریعے امام کی طرف سے دعائیں ملی جو کتابوں میں امام سے منصوب ہیں مسجد جمکران امام کے حکم سے بنی امام زمانہ علیہ السلام نے نماز بتائی اور علماء نے انکو رخ نہں کیا یعنی انکی نفی نہں کی کے جھوٹے ہیں ممکن ہے کوئی حکایت سچ نہ ہو لیکن زیادہ تر قبول کیا ہے ملاقات کو 
اور جو رد کرتے وہ آخری نائب امام کو جو توقعی دی کے چھ دن ہیں آپکے جانے میں دنیا سے کام نمٹا لو 
انھوں نے اس میں لفظ مشاہدہ جو آیا ہے اس کے لیے کہتے کے یہ ملاقات ممکن نہں تو آنے والے درس میں اسکی دلیل مانع پیش ہونگے کے مشاہدہ اردو فارسی میں اور معنی ہیں اس کے اور وضاحت ہوگی اصل مشاہدہ کا مطلب کیا ہے 

امبر سیما شھر کراچی















: درس نمبر 5
وہ لوگ جو منکر ملاقات ہیں ان کے پاس دلیل امام کا قول ہے سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے میرے مشاہدہ کا دعویٰ کریں وہ جھوٹا ہے۔
امام نے علی بن محمد سمری وفات کا اعلان کیا اور تا علامات ظہور اگر کوئی مشاہدہ کا دعویٰ کریں تو جھوٹا ہے۔
عرب لوگ مشاہدہ کا معنی کرتے ہیں دعویٰ کے ساتھ دیکھنا
اب کوئی سفیر کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
رابطہ کی نفی نہیں ہورہی۔
وہ اپنے علم و فضل سے اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ امام کو اپنے ہمراہ محسوس کریں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات