Book 4 Sadia

 







 💠🩵💠 
 *امام مہدی شیعہ و سنی احادیث کی رو سے* 

*درس 1*
 *استاد مہدویت محترم آغا علی سیفی صاحب* 🎤🌹


9 Missing 


 *خلاصہ* ۔
ہماری گفتگو کا موضوع امام مہدی علیہ السلام احادیث کی رو سے ہے ۔اسلام کے اندر کسی بھی موضوع کو جاننے کے لئے قرآن مجید کے بعد ایک اہم ترین ماخذ اور منبع احادیثِ محمد ﷺ و آل محمد ہیں۔اس لئے ہم اسلام کے اندر جو دیگر ہمارے فرامین اور احکامات،شریعت کے مسائل اور اخلاق اور عقائد ان سب چیزوں کے اندر ہم قرآن کے بعد پیغمبر اور اُن کی آل علیہ السلام کے فرامین سے ہی ہم استفادہ کرتے ہیں۔امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اُن کے متعلق جتنے بھی مسائل ہیں جیسے ان کی سیرت ہے۔اسی طرح غیبت ہے۔انتظار ہے علامات  ظہور ہیں اور مولا نے زمانہ ظہور میں کیا کچھ کرنا ہے۔اس کو احادیث کے اندر بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔اگر کوئی یہ پوچھے کہ سب سے زیادہ احادیث کس شخصیت کے بارے میں ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ امام مہدی علیہ السلام ہیں۔کہ جن کے بارے میں سب سے زیادہ احادیث ہیں۔
اہل سنت میں پیامبر اسلام ﷺ کے علاوہ اصحاب اور تابعین نے بھی بہت کچھ بیان کیا اور ہمارے مذہب اور مکتب کے اندر نبی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اُن کی آل سے نقل ہونے والے یعنی گیارہویں امام تک کے،سب کے فرامین کا جو مجموعہ ہے اس کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔
احادیث نے مہدویت کو بہت کھول کر بیان کیا ہے۔ہر ہر پہلو کو بیان کیا ہے۔جتنے بھی ہمارے سوال ہیں سب کا جواب احادیث میں موجود ہے۔
لہٰذا ہم بھی احادیث سے بہت وُسعت سے استفادہ کریں گے۔ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں جتنے موضوعات ہیں یہ سارے احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ہمیں اب آئندہ اپنے مستقبل کا جو نقشہ  معلوم ہے یہ احادیث کی وجہ سے معلوم ہے
لیکن ہم احادیث کے اندر جانے سے پہلے کچھ احادیث کے متعلق جو الفاظ ہیں یا اصطلاحات ہیں اُن کو جان لیں پھر ہم ان احادیث پر گفتگو کریں گے۔

*حدیث*
 سب سے پہلے ہم یہ دیکھیں  کہ خود *حدیث* کسے کہتے ہیں۔لغت کے اعتبار سے حدیث اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپی ہوئی تھی اور ظاہر ہو گئی ہے۔ظاہر ہونے والی چیز۔
اصطلاح کے اندر یعنی علمی جو تعریف ہے اس میں حدیث سے مراد معصوم ع کا قول ہے،اسی طرح فعل معصوم نیز  معصوم کے سامنے کسی نے کوئی کام کیا ہے ،امام اس کی تائید کر رہے ہیں۔یعنی معصوم ع کا اپنا قول یا وہ چیز جو معصوم ع کے قول کو اُن کے فعل کو یا ان کی تائید کو بیان کرے۔
ہمارے ہاں پیغمبر ﷺ اُن کی آل سے یعنی بارہ آئمہ ع سے نقل ہونے والی قول معصوم یا فعل معصوم یا دیگر کے عمل کی تائید معصوم ع کو  ہم حدیث کہتے ہیں۔
اہل سنت کے اندر پیغمبر اسلام ﷺ،اصحاب اور تابعین،تابعین وہ لوگ جنہوں نے اصحاب کو دیکھا ہے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا۔ان کے قول اور فعل اور تائید کو حدیث کہتے ہیں۔

*سنت* 
ایک لفظ *سنت* استعمال ہوتا ہے تو سنت سے مراد کیا ہے؟یعنی خود معصوم کا قول،فعل اور تائید۔اسے سنت کہتے ہیں۔حدیث کے اندر یہ نقل ہونے والے کو کہتے ہیں۔یعنی وہ جو نقل کرے اسے حدیث کہتے ہیں۔جو قول معصوم،فعل معصوم،تائید معصوم کو نقل کرے
 لیکن سنت میں خود قول جو ہے فعل اور معصوم اور  پیامبر کا مثلاً اُن کا خود کا جو فرمان ہے،فعل ہے یا ان کی تائید یہ سنت ہے۔

 *صحیح* 
 جب ہم احادیث میں گفتگو کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔ حدیث صحیح سے مراد یہ ہے کہ وہ حدیث جس کی تمام طبقوں میں، کیوں کہ جب حدیث نقل ہوتی ہے تو اس کے کئی طبقے ہیں۔مثلاً جس نے سب سے پہلے نقل کیا وہ پہلا طبقہ ہے۔اس سے جس نے نقل کیا وہ دوسرا طبقہ ،پھر اس سے جس نے نقل کیا یہ سارے طبقات ہیں۔تو صحیح حدیث وہ ہوتی ہے جس کے تمام طبقات میں شیعہ اور عادل راوی ہوں۔اسے ہم صحیح کہتے ہیں۔
شیعہ  بھی ہوں اور عادل بھی یعنی گناہوں سے بچنے والے۔
اور اہل سنت کہتے ہیں
کہ وہ روایت صحیح ہے جس کی سند میں عادل اور ضابط ہوں۔ ضابط سے مراد دقیق ،دقّت کرنے والے اور یہ حدیث صحیح ہے ۔مشہور احادیث کی مخالف نہ ہوں۔اور اس کے اندر ایک عادل کم از کم ہونا چاہئے۔یہ اہل سنت کہتے ہیں مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ نہیں ،سارے طبقوں میں عادل اور شیعہ۔

 *حَسَن* 
ایک اصطلاح حدیث کے اعتبار سے حسن ہے۔حسن  وہ روایت ہے جس کی سند میں سوائے ایک یا چند راویوں کے باقی تمام راوی عادل ہوں اور شیعہ ہوں۔وہ جو ایک یا چند ہوں وہ ایسے ہیں جن کی عدالت تو بیان نہیں ہوئی مگر اُن کا قابلِ اعتماد ہونا بیان ہوا ہے اور ان کی تعریف بھی ہوئی ہے۔مدح ہوئی ہے۔
اہل سنت کہتے ہیں وہ روایت حسن ہے جس کی سند میں عادل ہوں اور کم دقّت والے لوگ ہوں اور یہ مشہور اور صحیح حدیث کے مخالف نہ ہوں۔

 *متواتر*  
ایک اصطلاح اور ہے جسے خبرِ متواتر کہتے ہیں۔ مطلب وہ روایت جس کے تمام طبقوں میں راویوں کی تعداد بہت زیادہ ہو مثلاً عام طور پر ایک حدیث کو ایک شخص نقل کرتا ہو لیکن اگر پچاس سے سو کے قریب لوگ نقل کرنے والے ہوں تو یہ خبر متواتر ہے۔ چوں کہ اسے اتنے لوگوں نے نقل کیا ہے کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا نا ممکن ہے۔لہٰذا عام طور پر خبرِ متواتر بہت بڑی دلیل سمجھى جاتی ہےحدیث میں اور یہ ہر صورت میں حجت ہے۔اس کے مد مقابل میں خبر واحد ہوتی ہے جس کے اندر ہر طبقے میں نقل کرنے والے راوی جو ہیں وہ کم ہوں۔وہاں ایک احتمال رہتا ہے کہ شاید کہ یہ ٹھیک نہ ہو مگر خبر متواتر میں ایسا احتمال نہیں ہوتا۔


 *صحاح ستہ*
 اہل سنت کے اندراحادیث کی جو اہم ترین کتابیں ہیں۔وہ صحاح ستہ ہے، جیسے صحیح بُخاری ہے، صحیح مسلم ہے،سنن ابن ماجہ ہے سنن ابی داؤد ہے، سنن ترمذی ہے، سنن نسائی ہے۔جب کہ شیعوں کے اندر احادیث کی جو اہم ترین کتابیں ہیں وہ  4 کتابیں ہیں جنہیں ہم *کتب اربعہ* کہتے ہیں جن میں *اصول الکافی، مَن لایَحضُرُہ الفقیہ، تہذیب الاحکام اور الاِستِبصار*
👈 جاری ہے
والسلام 
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم 🌏* 

🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷







 *" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
 *دوسرا درس* 

*احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو*

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹🌹

 *خلاصہ* ۔
شیعہ حدیثی ماخذات کا تعارف
جب سے  اسلام میں احادیث کی جمع آوری کا کام شروع ہوا ۔ 
اسی وقت سے موضوع ِ مہدویت پر احادیث کے بہت بڑے  بڑے خزانے جمع ہوئے۔ جنہیں شیعہ سنی محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں ابواب کی شکل میں  بھی لکھا ہے۔ اور اس موضوع پر جدا جدا کتابیں سامنے آئیں۔ 

 *شیعہ  ماخذات:* ✨
_1۔ تاریخی اعتبار سےامام زمانہؑ عج کی ولادت سے پہلے تحریر شدہ احادیثی کتب:۔_

امام زمانہؑ عج شریف کی ولادت سے قبل جو کتابیں آئمہ ؑ کے ادوار میں لکھیں گئیں ان میں سے اہم ترین *کتاب  سلیم ابن قیس* ہے جو اسرار آل محمدؑ کے نام سے معروف  ہے۔ اس کے اندر بھی مہدویت پر احادیث جمع ہوئی ہیں۔ یہ کتاب 76 ھ سے قبل لکھی گئ۔ 

اسی طرح  ایک کتاب *الغیبہ للحجۃ* جو  جناب عباس ابن  ہشام ابوالفضل  الناشیری (وفات 220 ھج) نے  قبل از ولادت  امام لکھی۔ 

 *کتاب اخبار المھدیؑ عج۔*  ابو سعید عباد بن یعقوب الرواجنی الکوفی (ؐ 250 ھ ق)  یہ مکمل طور پر مہدوی احادیث پر مشتمل ہے۔ 
*کتاب القائم الصغیر*، حسن بن علی بن ابی حمزہ البطائنی نے  مہدویت کے موضوع پر لکھی اور یہ بھی قبل از ولادت امام زمانہؑ ہے۔ 

*کتاب الغیبۃ*، ابو اسحاق ابراہیم، بن صالح الانماطی نے لکھی اور یہ کتاب بھی مکمل طور پر موضوع امام زمانہؑ عج قبل از ولادت صاحب الزمانؑ عج لکھی گئیں۔ 

*2۔✨ امام مہدیؑ عج کی ولادت کے بعد تحریر شدہ احادیثی کتب:*
کچھ کتابیں جو احادیث  کے ماخذات کے عنوان سے ہیں یہ امام زمانہؑ کی ولادت کے بعد  لکھی گئی ہیں اور یہ کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ 

 *اول* : وہ کتب جن میں امام زمانہؑ کے بارے میں بحث ہوئی لیکن وہ منابع و ماخذ عمومی ہیں

اور *دوم* : وہ ماخذ ہے جو امام ؑ کی ولادت کے  بعد  لکھا گیا۔ لیکن مکمل طور پر امامؑ پر ہی لکھا گیا۔  یہ منابع خاص ہے۔ 

*منابع عام:*

1۔ *الکافی* :   جو کہ محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی الرازی ( م 329 ھ ق) نے لکھی۔  ان کی  وفات اسی سال میں ہوئی جس سال میں چوتھے نائب  خاص جناب علی بن محمد سمری رح  کی وفات ہوئی۔  یہ ہمارے پاس قدیمی ترین اور معتبر ترین شیعہ احادیث کا منبع ہے۔  اس کی مشہور شروحات میں سے " مراۃ العقول" اور "وافی" قابل ذکر ہیں۔ 

اس کتاب کے اندر 16 ہزار احادیث ہیں ۔ اور اس فقہی احادیثِ کی تعداد اہل سنت کی صحاح ستہ میں موجود تمام احادیث فقہی سے زیادہ ہے۔ 

2۔ *دوسری کتاب قرب الاسناد ہے :* یہ ابو العباس عبد اللہ بن جعفر بن حسین بن مالک حمیری نے لکھی ہے جو شیخ کلینی کے استاد تھے۔  اور ان کی امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ سے خط و کتابت بھی جاری تھی اور آپ امام زمانہؑ عج کے خاص نائب دوم محمد بن عثمان عمری کے ذریعہ بھی خط و کتابت کرتے رہے ۔  یہ کتاب الکافی سے پہلے کی کتاب ہے۔ یہ کتاب شیعہ کے پہلے چار سو معتبر ماخذات میں اہم ترین شمار ہوتی ہے۔ اور اس میں 1404 احادیث موجود  ہیں۔ 

3۔ *تیسری کتاب   بصائر الدرجات:* ابو جعفر محمد بن حسن بن فروخ الصفار (م 290 ھ ق) نے لکھی ہے۔  وہ امام حسن عسکری ؑ کے اصحاب اور احمد برقی کے شاگرد اور شیخ کلینی رح کے استاد تھے۔ یہ کتاب اہل بیت ؑ کے فضائل کے بارے میں لکھی گئی ہے اور مکتب شیعہ کے قدیم اور عظیم علماء کے معتبر ترین ماخذات میں سے شمار ہوتی ہے۔ 

4۔  *المحاسن*  ایک اہم کتاب ہے جو ابو جعفر احمد بن محمد بن خالد بن عبد الرحمان بن محمد بن علی برقی رح (م 274 یا 280 ھ ق)  کی لکھی گئی ہے اور اہم ترین کتاب شمار ہوتی ہے۔  اور  بعض علما ء اسے کتب اربعہ کے ہم وزن سمجھتے ہیں۔ یہ کتاب بہت مفصل تھی جس کا کچھ حصہ ہم تک پہنچا ہے۔ 

5۔ *کفایۃ الا ثر فی النص علی الآئمۃ الاثنی عشر* : اس کے مصنف بزرگوار ابو القاسم علی بن محمد بن علی خزاز قمی رازی ہیں  ۔ کہ آپ چوتھی صدی کے دوسرے حصے کے نامور شیعہ فقیہ اور محدث تھے۔ آپ قم میں پیدا ہوئے اور شیخ صدوق کے شاگرد تھے۔  ان کی کتاب میں بھی امام زمانہؑ عج کا ذکر موجود ہے۔

6۔ *الا رشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد* : شیخ مفید محمد بن محمد بن نعمان عکبری بغدادی  (م 413 ھ ق) ہیں آپ شیخ طوسی رح ، سید مرتضٰی اور سید رضی کے استاد تھے اور ا س کتاب میں آئمہ  معصومین  ؑ کی تاریخ اور فضائل بیان کئے گئے ہیں۔  اور امام زمانہؑ عج پر احادیث موجود ہیں۔ 

یہ سب وہ شیعہ کتابیں ہیں جس میں تمام احادیث موجود ہیں اور امام زمانہؑ عج پر بھی احادیث موجود ہیں۔ 

 *دوم : امام عصرؑ کے عنوان پر خاص کتب:*
 *منابع خاص*
یہ وہ کتابیں ہیں جو امام زمانہؑ کی ولادت کے بعد لکھی گئی یہاں تمام کتاب فقط امام مہدیؑ عج کے موضوع پر لکھی گئیں ہیں۔ یہ کتابیں احادیث کا ذخیرہ ہے اور ساری کی ساری امام ؑ پر لکھی گئی ہیں۔ 

1۔ *پہلی کتاب کمال الدین و تمام النعمۃ ہے* : یہ کتاب محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی نے لکھی آپ شیخ صدوق رح کے نام سے مشہور ہیں۔(تولد  305 ھ ق) آپ امام زمانہؑ عج  کی دعا سے پیدا ہوئے اور اس کتاب کو آپؑ نے امام عصر ؑ کے حکم پر لکھا  ۔ یہ کتاب ا س موضوع پر قیمی ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔  یہ کتاب دو جلدوں پر مبنی ہے اور مکمل طور  پر امام زمانہؑ عج کے بارے میں ہے۔ 

2۔  *الغیبتہ* :
ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر کاتب نعمانی  (نعمان ایک شہر تھا) کہ جو ابن ابی زینب  کے نام سے مشہور ہیں اور چوتھی صدی کے اوائل میں بڑے شیعہ محدثین میں شمار ہوتے ہیں ، یہ کتاب 342 ح ق میں شہر حلب میں لکھی گئ کہ جس میں 500 سے زائد  احادیث موجود ہیں۔

3 ۔ *الفصول العشرہ فی الغیبتہ:* 
ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن نعمان کہ آپ شیخ مفید کے نام سے مشہور ہیں۔ اس کتاب کا اصلی موضوع جناب شیخ مفید کے زمانہ میں امام عصر ؑ کے بارے میں ہونے والے سوالات اور اعتراضات کے جوابات ہیں اس کتاب کے دوسرا نام " الاجوبتہ عن المسائل العشرۃ اور المسائل  العشرہ فی الغیبتہ ہیں۔ 

4۔ *اربع رسالات فی الغیبۃ* 
اس کتاب کے مصنف بھی شیخ مفید ہیں یہ کتاب سوال و جواب کی صورت میں لکھی گئی کہ جس میں غیبت قیام اور امام عصر ؑ کی امامت کے حوالے سے کئے گئے اعتراضات کے جوابات ہیں۔  یہ ایک اہم ترین کتاب شمار ہوتی ہے۔ 

5۔ *کتاب الغیبتہ للحجۃ:* 
اس کتاب کے مصنف شیخ طوسی ہیں یہ کتاب مسئلہ غیبت امام مہدی عج پر شیعہ مصادر و ماخذات میں سے اہم ترین کتاب ہے اس میں امام زمانہؑ عج  کے وجود مسعود پر عقلی اور منقول دلائل پیش کئے گئے ہیں نیز اس کی غیبت ، ظہور، ظہور کی علامات ، فضائل مہدی اور آپ سیرت بھی بیان کی گئ ہے ۔ یہ کتاب  شیعہ مرکز بغداد میں دو بڑے شیعہ کتاب خانوں کی مدد سے تحریر کی گئی ہے اور اس کے مصنف کئ قدیمی محدثین کے ماخذات پر بھی دستر سی رکھتے تھے  لہٰذا اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔  افسوس کہ ان کتاب خانوں کو ایک معتصب فرقے نے جلا دیا اور شیعہ ایک  اہم ترین ذخیرے سے محروم ہو گئے۔ 

6۔ *معجم الا حادیث الام المہدی (عج):* 
روایات کا یہ نفیس اور قیمتی مجموعہ کچھ محقیین کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ حدالامکان امام مہدی ؑ سے متعلق شیعہ اور سنی مصادر و ماخذات میں پائی جانے والی احادیث کی جمع آوری کریں اور صاحبان فکر و تحقیق کو پیش کریں۔  یہ کتاب پانچ جلدوں میں موجود ہے۔ 
7 ۔  *منتخب الاثر* 
آج کے دور میں جو  اہم ترین کتاب  لکھی گئی  جو آیت اللہ  العظمی صافی گلپایگانی رح نے لکھی جو مہدویت کے موضوع پر بہترین شاہکار ہے۔ 
👈جاری ہے 
والسلام
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
❄️❄️






 🌷🌷🌷🌷🌷
 *" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
 *تیسرا درس.* 
5 فروری، 2022
🥀احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* ۔
سنی حدیثی ماخذات کا تعارف
اہل سنت کے محدثین نے امام مہدیؑ عج کے موضوع پر خاص توجہ کی۔
اس حوالے سے بہت ساری کتابیں لکھی گئیں۔
بعض محققین نے ان افراد کی تعداد 160 بتائی ہے کہ جنہوں نے مستقل طور پر امام مہدیؑ کے موضوع پر کام کیا۔ 

❄️اہل سنت محدثین کی کتابوں کا جائزہ ہم تین مرحلو ں میں لیں گے۔ 

 *پہلا مرحلہ:* 
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے لکھی جانے والی کتب:۔

👈1۔ کتاب  الجامع : معمر بن راشدازدی (م151 ھ ق) اور  اس کتاب  کا متن مصنف صنعانی کے آخر میں موجود ہے۔ 

👈2۔ الرسالتہ: محمد بن ادریس شافعی (م 204 ھ ق) نے لکھا ہے۔

👈3۔ المصنف صنعانی (م 211 ھ ق )۔

👈4۔ الفتن ، نعیم بن حماد بن معاویہ بن الحارث الخراعی المروزی (م 229 ھ ق)

👈5۔ المصنف: ابی بکر عبد اللہ بن  محمد بن ابی  شیبہ الکوفی  العبسی (م 235 ھ ق ) اس کی آخری سولہ احادیث امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ 

👈6۔ مسند احمد: احمد بن حنبل ابو عبداللہ الشیبانی  (م 241 ھ ق) اس کتاب کے مختلف حصوں میں امام مہدیؑ عج سے متعلق احادیث ذکر کی گئی ہیں۔ 

❄️2۔  امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بعد تحریر کی جانے والی کتب۔ 

 اہلسنت میں امام مہدیؑ کی ولادت یعنی 255 ھ کے بعد جو کتابیں لکھی گئیں ہیں ان میں   بھی باقاعدہ مہدویت کے موضوع پر ابواب موجود ہیں۔ 

👈1۔ سنن ابن داؤد: سلیمان بن اشعث ابن داؤد السجستانی الازدی (م 275 ھ ق ) ۔ یہ کتاب صحاح ستہ میں میں شمار ہوتی ہے اور ایک معتبر کتاب ہے۔ ۔ اس کتاب کی چوتھی جلد میں کتاب المہدی کے نام سے ایک حصہ موجود ہے جس میں آنحضرت ع کے بارے میں بارہ احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کتاب المہدی میں بارہ خلفاء کی حدیث کو بھی بیان کیا گیاہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی نظر میں امام مہدی ؑ پیغبر اکرم ﷺ  کے بتائے گئے بارہ خلفا ء میں سے ایک ہیں۔   

👈2۔ سنن ابن ماجہ: محمد بن یزید  ابو عبد اللہ القزوینی ( م 275 ھ ق) بھی صحاح ستہ میں سے ہے۔ 

👈3۔ سنن ترمزی: محمد بن عیسی ابو عیسی الترمزی السلمی (م 279 ھ ق) بھی صحاح ستہ میں سے ہے۔ 
 ان کتابوں کے اندر جو مہدویت کا ذکر ہے۔ وہ  اسطرح سے ہے کہ وہ فتنے اور  واقعات جو  آخری زمانے میں آئیں گے۔ 
یہ زمانہ غیبت صغریٰ کا ہے۔ 
❄️3۔ عصر غیبت کبریٰ میں تحریر کی جانے والی کتب: ( 329 ھ ق کے بعد)

👈1 صحیح ابن حبان : 

👈2۔ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان۔

👈3۔ المعجم الاوسط:  ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی  کی کتاب ہے جو دس جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ چونکہ اس کی ترتیب راویان حدیث کی ترتیب پر ہے لہذا امام مہدی ؑ سے متعلق احادیث پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہیں۔ 

👈4۔ المستدرک علی الصحیحین : 

👈5۔ السنن الواردة فی الفتن و غوائلها و الساعة و اشراطها: یہ کتاب سنن دانی کے نام سے معروف ہے اس کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر 1029 سے باب " ماجائ فی المہدی" شروع ہوتا ہے جو 40 احادیث پر مشتمل ہے۔ 

👈6۔ بغیۃ الرائد فی تحقیق مجمع الزوائد و منبع الفوائد:  نور الدین علی بن ابی بکر ھیثمی۔ اس نے اپنی کتابے کے باب " ماجاء فی المہدی" میں 22 احادیث نقل کی ہیں۔ 

❄️4۔ حضرت مہدی علیہ السلام سے مختص کتب: 

 *اہل سنت کے درج ذیل کتابوں میں صرف مہدویت کے موضوع پر ہی بحث کی گئی۔* 

👈1۔ الاربعین۔  ابو نعیم اصفہانی (م 430 ھ ق) ۔

👈2۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان: ابو عبد اللہ محمد بن  یوسف بن محمد کنجی شافعی  (م 658 ھ ق) کی کتاب ہے۔

👈3۔ البرھان فی علامات مہدی آخر الزمان: علاء الدین علی بن حسام الدین جو متقی ھندی کے نام سے مشہور  تھے  (م 975 ھ ق)

👈4۔ موسوعۃ المہدی المنتظر: ڈاکٹر عبد العلیم عبد العظیم البستوی اس نے دو جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں 388 احادیث کہ جو امام مہدی علیہ السلام سے متعلق ہیں ان پر تجزیہ و تحلیل پیش کیا ہے۔ 

👈5۔ الفصول المہتہ: علی بن محمد ابن احمد مالکی ( م 855 ھ ق) جو ابن صباغ کے نام سے مشہور تھے۔ 

👈6۔ الصواعق المحرقہ: ابو العباس شہاب الدین احمد بن محمد  بن علی بن حجر ھیثمی شافعی (م 974 ھ ق)
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اہلسنت ؔ علماء کرام نے بھی شیعہ علماء کی طرح اپنی معتبر ترین کتابوں میں امام مہدیؑ کے موضوع پر کام کیا۔  باقاعدہ اس موضوع پر ابواب اور احادیث کی کتابیں بھی  لکھی گئیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ  سے جو احادیث کا ایک ذخیرہ ہے  ان  کو اہلسنت علماء نے بڑے اہتمام سے جمع کیا اور شیعہ علماء کی  کے ساتھ ساتھ اہلسنت علماء نے  بھی اس موضوع پر تفصیل سے احادیث بیان کیں۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔ 
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏* 
🌷🌷






 ✨🌹✨
*" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

 *چوتھا درس* 
مہدوی احادیث کے موضوعات
کتاب منتخب الاثر کی فہرست پر ایک نظر

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* ۔
عصر حاضر  کی مشہور کتاب "منتخب الاثر"جو آیت اللہ  صافی گلپایگانی رح جس میں انہوں نے سنی شیعہ احادیث کو اکٹھا کر کے ایک مجموعہ لکھا ہے۔  اس کتاب کے اندر قبلہ نے بہت محنت کے ساتھ ایک سو ستاؤن شیعہ سنی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ اور تقریباً 6 ہزار احادیث ان کی نگاہوں کے سامنے سے گذری اور تقریبا 1 ہزار  احادیث سے زیادہ کو جمع کیا ہے۔ 
احادیث کے عناوین: 

کتاب کے اس حصہ میں معروف کتاب " منتخب الاثر" کو سامنے رکھتے ہوئے ان عناوین کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے ۔ جن کی تعداد 99 ہے۔ 

سب سے پہلے انہوں نے بارہ اماموں والی حدیث کو شیعہ سنی کتابو ں سے بیان کیا ہے۔  جن کی کل تعداد 271 ہے۔ 
دوسرا موضوع امام بنی اسرائیل کے  نقباء کی تعداد کے مطابق ہے۔ جن کی کل تعداد 40 ہیں۔ 

آئمہ کی تعداد بارہ ہے اور ان میں سے پہلے حضرت علی ع ہیں۔ جن کی کل تعداد 133 ہیں۔
پھر آئمہ کی تعداد بارہ ہے اور ان میں سے نو امام حسین ؑ کے فرزند ہیں ان کی کل تعداد 91 ہے۔ 

آئمہ کے تعداد بارہ ہے اور میں سے نو امام  حسینؑ کی اولاد ہیں  ان  میں سے بارہویں امام مہدی ؑ قائم ہیں ان کی تعداد 94 ہے

بارہ امام اپنے ناموں کے ساتھ 139ہیں  

خروج مہدی ؑ کی خوشخبری ، 50 احادیث ہیں 

آپ ؑ عترت پیغمبر اور آپ ؐ  کی ذریت و اہل بیت سے ہیں 50

امام مہدی ؑ کے خروج کی بشارت 657

آپ کا نام پیغمبرؐ والا اور کنیت پیغمبر جیسی اور لوگوں میں سے سب سے زیادہ پیغمبر سے مشابہت رکھنے والے اور پیغمبر کی سنت پر عمل کرنے والے ہونگے۔ 389 

حضرت مہدی ؑ کے شمائل مبارک: 48

آپ مولا علیؑ کی اولاد میں سے ہیں 21 احادیث

آپ حضرت زہراؑ کی اولاد میں سے ہیں 214 احادیث

آپ اولاد حسن و حسین ؑ میں سے ہیں 192 احادیث

آپ امام حسینؑ کی اولاد میں سے ہیں 107 احادیث

آپ ان نو اماموں ؑ میں سے ہیں جو امام حسینؑ کی اولاد ہیں 185 احادیث

امام حسینؑ کی نسل میں سے نویں امام ہیں 160 احادیث

حضرت سجاد ؑ کی اولاد سے ہیں 148 احادیث

حضرت امام باقر ؑ کی اولاد سے ہیں 158 احادیث

اسی طرح امام صادق ؑ کی اولاد سے چھٹے ہیں۔ امام کاظم ؑ کی اولاد میں سے پانچویں ہیں امام رضا ؑ کے چوتھے فرزند ہیں۔ امام تقی ؑ کے تیسرے فرزند ہیں ۔ امام تقی ؑ کے اولاد سے ہیں۔  آپ کے والد کا نام حسن ہے 14 احادیث بیان کیں

آپ کی والدہ کنیزوں میں سے بہترین کنیز کی اولاد ہیں 147 احادیث بیان کیں

جب بھی تین نام محمد ،علی اور حسن یکے بعد دیگرے آئیں تو ان میں سے چوتھے قائم ہیں 9 احادیث ہیں۔ 

بارہویں اور خاتم الائمہ ہیں۔ 2 احادیث

زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے 136 احادیث

ان کی دو غیبتیں ہوں گی ایک مختصر اور ایک طولانی 123 احادیث

وہ طولانی غیبت میں چلے جائیں گے یہاں تک کہ خدا انہیں خروج کا اذن دے گا 10 احادیث

 ان کی غیبت کی علت 91 احادیث

امام غائب  ؑ کے فوائد اور ان سے کیسے فیض لیا جائے 7 احادیث

حضرت ؑ کی طولانی عمر 318 احادیث

وہ جو ان کے چہرے پر بڑھاپے کے آثار نہیں ہیں 8 احادیث

ان کی ولادت مخفی ہے 14 احادیث

ان پر کسی کی بیعت نہیں ہے 10 احادیث

وہ خدا کے دشمنوں کو قتل کریں گے اور زمین کو شر ک سے پاک کریں گے نیزظالموں کی حکومت کا خاتمہ کریں گے اور قرآن  کی تاویل پر جنگ کریں گے۔  19 احادیث

وہ خدا کے امر کو آشکار اور دین خدا کو ظاہر کریں گے، ملائکہ کی طرف سے انہیں تائید اور نصرت حاصل ہو گی اور زمین کو زندہ کریں گے ۔ 47 آحادیث 

یہ بہترین مہدوی کتاب  ہے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مولاؑ کے حوالے سے کتنے موضوعات ہیں۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏




 ❄️❄️
*" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

 *درس* 5
احادیث مہدویت کی تقسیم اور ان اصحاب کی تعداد و نام جنہوں نے مہدوی احادیث کو نقل کیا ہے

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* ۔۔۔✨۔۔
ہمارے ماہرین احادیث کو عمومی طور اور بلخصوص احادیث مہدویت کو چار گروہ میں تقسیم کرتے ہیںَ جس میں سب سے
📢 پہلا گروہ تفسیری روایات ہیں یعنی وہ روایات جو قرآن مجید کے ذیل میں نقل ہوئی ہیں ۔ چونکہ قرآن کے اندر 200 زائد  آیات امام ؑ کی شان میں ہیں اور ہر آیت کے ذیل میں جو روایت نقل ہوئی وہ بتاتی ہے کہ یہ آیت امام مہدیؑ اور ان کے انصار کے لیے نازل ہوئی ہے۔  یا ان کی غیبت یا دور حکومت کے بارے میں ہیں۔ 
📢دوسرا گروہ اخباری روایات ہیں۔  آئمہؑ نے آئندہ کی خبر دی۔  دور غیبت کی خبر دی، ظہور سے پہلے کیا  حالات  یا علامات ہونگی۔  یا ظہور کی بشارت اور امامؑ کے دور حکومت میں ان کی سیرت، ان کی حکومت ، جنگیں اور حضرت عیسیٰ کا نزول۔
📢تیسرا گروہ  تشریحی روایات۔ یعنی فلسفہ غیبت کیا ہے۔  انتظار کا مطلب کیا ہے۔ اور یہ کیوں اہم ہے ۔ منتظرین کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ۔ ہم کیوں ظہور کا وقت متعین نہیں کر سکتے۔  ظہور سے قبل امام ؑ کا نام کیوں نہیں لے سکتے۔ ، 
📢چوتھا گروہ تاریخی روایات۔:  امام ؑ پر  تاریخی نظر ڈالی گئی ہے۔ امام ؑ کی ولادت۔ امامؑ کا سلسلہ نصب۔آپ ؑ کی کرامات بیان ہوئی ہیں۔  امام عسکریؑ  کے زمانہ میں جب آپ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے تھے تو کون کون سے حالات پیش آئے ۔ 
اب  ہم بطور کلی دیکھیں کہ معصومینؑ سے خود امام زمانہؑ پر کتنی احادیث نقل ہوئیں۔ 
اب اس کے اندر  مختلف ماخدات ہیں۔  اور ہر ماخذ میں  اپنی اپنی تحقیق سے ان روایات کو پیش کیا۔ اب اس کے اندر  معجم الاحادیث الامام المہدی عج جو  علمائے کرام کے ایک  گروہ نے لکھا ہے۔  اور اس کے اندر مصنفین نے 1941 احادیث بیان کی۔ 
اس میں پیغمبر ؐ گرام سے 560 احادیث ہیں۔ امام علی ؑ سے 130 احادیث ہیں۔ امام حسن ؑ سے  9 احادیث ہیں۔ امام حسینؑ سے 10 احادیث ہیں۔ امام سجاد ؑ سے 22 احادیث ہیں۔ امام باقر ؑ سے 60 احادیث ہیں۔ امام صادقؑ سے 297 احادیث ہیں۔ امام کاظمؑ سے 19 احادیث ہیں امام رضا ؑ سے  30 احادیث ہیں۔ امام تقی ؑ سے 9 احادیث ہیں۔ امام نقی ؑ  سے 13 احادیث ہیں۔ اور  عسکریؑ سے 42 احادیث ہیں۔ اس کے بعد امام زمانہؑ سے 130 مواقع پر دعا اور توقیع نقل کی گئی ہیں اس کے علاوہ پانچویں جلد میں امام مہدیؑ سے متعلق ایسی آیات جن کی تاویل امام مہدیؑ اور آپ کی صفات سے کی گئی ہے ان کے ذیل میں 500 احادیث بیان کی گئی ہیں۔ 
*صحابہ سے احادیث مہدویت کے راوی حضرات:*
ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام  میں سے مہدوی احادیث کے راوی کون ہیں اور ان کی کیا تعداد ہے۔  ان پر تجزیہ و تحقیق کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ کے کم از کم ساٹھ صحابہ نے بلاواسطہ پیغمبر اسلام سے امام مہدیؑ کے متعلق احادیث تقل کی ہیں۔  ہم ان میں سے چند اصحاب کا نام درج کرتے ہیں جن میں مرد و زن کے نام موجود ہیں۔ یہاں یہ چیز بتاتی ہے کہ مہدویت کتنا محکم عقیدہ اسلام ہے۔ کہ 60 اصحاب کی روایات ہیں جو شیعہ سنی کتابوں میں موجود ہیں۔ 
1۔  امیر المونین علی ؑ ابن ابی طالبؑ 
2۔ سیدہ فاطمتہ الزھراء ؑ
3۔ امام حسن ؑ
4 ۔ امام حسینؑ 
5۔  جناب عباس ابن عبد المطلب
6۔ عبد اللہ ابن عباس
7 ۔ عبداللہ ابن جعفر طیاؔر
8۔  جناب ابو ذر غفاری
9۔ سلمان فارسی
10 عبد الرحمان بن عوف۔ 
11۔ حذیفہ بن یمان
12 ۔ عمار  بن یاسر
13۔ ابو ھریرہ ۔ 
14 ۔ عمر بن خطاب
15. ابو ایوب انصاری۔
16۔  ازواج رسول ؐ اللہ  جناب عائشہ
17 جناب ام سلمہ
 18۔ جناب ام حبیبہ 
19 عبداللہ بن عمر 
20۔  اب امامہ باہلی
21  جابر ابن عبد اللہ انصاری
22 عبداللہ بن حارث
23۔ ابو الطفیل 
24 عبد اللہ بن ابی اوفی
25۔ انس بن مالک
26۔ ابو سلمی 
27۔ زرارۃ بن عبداللہ
یعنی تقریباً 60 کے قریب اصحاب ہیں . جنہوں نے مہدویت کے موضوع  پر احادیث بیان کئیں۔ اگر ہم اس کا تجزیہ کریں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ 
🌸پہلی:  موضوع مہدویت کی اہمیت  واضح ہوتی ہے۔ جس سے محقیقن اور راہ سعادت کے متلاشی افراد کو مدد ملتی ہے۔۔
🌸🌸دوسری:  اس عظیم حقیقت کے منکرین اور مخالفین کے لیے راستہ بند ہو جاتا ہے۔ 
👈 جاری ہے
والسلام
سعدیہ شہباز✒️
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏



❄️🌷❄️

 *امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے* 
 *درس* 6
احادیث مہدویت کا متواتر اور صحیح ہونا 


 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹* 

 *خلاصہ* ۔
*اہل سنت کے علماء کا اظہار:*
حدیث متواتر اس حدیث  کو کہتے ہیں کہ ہر دور میں اسے اتنے لوگ نقل کریں کہ پھر یہاں جھوٹ کا احتمال نہیں رہتا۔  اور احادیث متواتر کسی بھی موضوع کے اندر متواتر اور حتمی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی  اگر کسی موضوع پر حدیث متواتر موجود ہے تو وہ ہمارا مسلم عقیدہ ہے۔ 

اور اگر فقہی مسئلہ ہے تو پھر اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ عالم اسلام کے اندر ہر وہ موضوع جس کے اندر  حدیث متواتر موجود ہے ان میں سے ایک مہدویت ہے۔
 شیعہ اور اہلسنت کے حدیثی ماخذات کے اندر  علمائے اہلسنت نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس موضوع پر ہمارے پاس متواتر حدیث موجود ہے۔ 

اہلسنت کی ایک بہت بڑی شخصیت محمد بن عمر رازی شافعی ۔ وہ اپنی کتاب مناقب الشافعی میں یو ں بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ خدا سے امام مہدی ؑ عج  کی آمد پر بشارت  دیتے والی احادیث راویوں کے  بنا پر تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ 

 اسی طرح دیگر تواتر کی قائل شخصیات:
جناب قرطبی مالکی   (متوفی  761 ھج)

ابن قیم (م 751 ھج)

ابن حجر عسقلانی م 852 ھ 

سیوطی  م 911 ھ

ابن حجر ھیثمی (م 911 ھ) انہوں نے کئی مرتبہ مسلمانوں کے ظہور امام مہدی عج پر عقیدہ کا دفاع کیا ہے اور ان احادیث کے تواتر کی تصریح کی ہے ۔

محمد رسول برزنجی (م 1103 ھ) وہ لکھتے  ہیں  :
 ایسی احادیث جو امام مہدی عج کے وجود اور ان کے آخر الزمان میں قیام اور ان کے خاندان رسولؐ خدا اور اولاد فاطمہ ؑ  سے ہونے پر دلالت کرتی ہیں  وہ  تواتر تک  پہنچی ہوئی  ہیں اور ان کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 

اسی طرح شیخ محمد بن علی صبان ( م 1026 ھ) بھی تواتر کے قائل ہیں

*احادیث امام مہدی عج کا صحیح ہونا*۔ 

احادیث صحیح، تواتر کے بعد سب سے بلند مقام رکھتی ہیں۔  مہدویت پر صحیح احادیث کا ہونا فقط تشییع کا دعویٰ نہیں بلکہ اہل سنت نے بھی اسے قبول کیا  اور اپنی  تصانیف میں  صحیح احادیث اور ان کی تعداد کو بھی بیان کیا ۔  مثلاً :

جناب ترمذی اپنی کتاب سنن (ج 4 ص 505 میں احادیث 2230،2231،2232،2233  احادیث صحیحہ  بیان کرتے ہیں۔ 

 حافظ ابو جعفر عقیلی نے اپنی کتاب الضعفاء الکبیر  (ج 3 ص 253 حدیث 1257 میں بیان کی ہے۔ 

حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب مستدرک (ج 4 احادیث 429، 465، 553، 558 میں بیان کی ہے۔

بہیقی نے اپنی کتاب الاعتقاد ص 127 میں بیان کیا ہے ۔

امام بغوی نے اپنی کتاب مصابیح السنتہ ص 448 ، حدیث  4199 میں بیان کی ہے۔

ابن اثیر نے نہایۃ (ج 5، ص 254 میں بیان کیا ہے۔ 

قرطبی مالکی نے التزکرہ ص 704 میں  بیان کیا ہے۔

ناصر الدین البانی نے حول المہدی (ص 644 میں  بیان کیا ہے ۔

عبد العلیم عبد العظیم البستوی نے المھدی المتظر میں بیان کیا ہے۔ 
👈جاری ہے
والسلام 🌸🌺
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏*






 ❄️❄️❄️❄️❄️
*" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
 *درس* 7
احادیث عام اور خاص ،حدیث ثقلین کا بیان ، لفظ اھل بیت سے قرآن کی رو سے مراد  


 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹* 


احادیث کی دو قسمیں ہیں:
 کچھ عمومی ہیں جن میں اہلبیؑت اور امام زمانہ ؑ کا ذکر ہے مثلاً حدیث ثقلین ،  حدیث  من مات اور خلفائے اثنا عشر اور کچھ احادیث خاص ہیں جو فقط مہدویت پر بیان ہوئی ہیں۔ 

1۔ حدیث ثقلین : یہ شیعہ سنی تمام احادیث  ماخدات میں کثرت سے بیان ہوئی ہے۔  تقریباً 34 اصحاب رسولؐ خدا  نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔ اہل سنت کے187 بزرگ علمائے کرام جیسے ترمزی ، احمد حنبل وغیرہ  نے بھی اس حدیث کو اپنی کتب میں بیان کیا ہے۔
 پیغمبر ؐ اسلام نے مختلف مواقع پر اس حدیث کو بیان فرمایا ہے۔ 
اہلسنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم میں زید بن ارقم اس انداز میں اس حدیث کو نقل کرتے ہیں۔ : پیغمبر ؐ اکرم ایک دن پانی کے کنارے۔۔ جس کا نام خم (غدیر خم) جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔۔ خطبہ ارشاد فرمایا: اس خطبے میں حمد و ثناء پروردگار اور لوگوں کو واعظ و نصیحت کرنے کے بعد فرمایا: 

میں بشر ہو ں اور میں نے پروردگار عالم کی بارگاہ میں لوٹ کر جانا ہے۔ میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں  ایک  کتاب اللہ  جس میں  ہدایت اور نور ہے۔ اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اس سے تمسک کرو۔ اور دوسری چیز میرے اہلبیتؑ ہیں اور اپنے اہلبؑیت کے بارے میں میں تمھیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ۔ پھر تین بار دھرایا اپنے اہلبؑیت کے بارے میں میں تمھیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ۔ اپنے اہلبؑیت کے بارے میں میں تمھیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ۔ اپنے اہلبؑیت کے بارے میں میں تمھیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ۔ 

اسی طرح جناب ترمذی اپنی کتاب سنن میں اس متن کو ان الفاظ کےساتھ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا " میں تمھارے درمیان دو چیزیں  چھوڑ کر جا رہا  کہ اگر تم ان سے تمسک کرو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ان دونوں میں ہرایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ پہلی کتاب اللہ جو آسمان سے زمین تک کھینچی گئی رسی ہے۔
اور دوسری میری عترت اور یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہونگے حتی کہ  یہ دونوں حوض کوثر پر  آئیں گے اور تم دیکھو گے کہ تم ان دونوں کے بارے میں کیسے خلاف ورزی کرتے ہو۔ 

یہ حدیث بہت سی اہلسنت کی کتابوں میں بیان ہوئی۔  اور اس حدیث میں لفظ اہلبیت  اور عترت آیا۔ ۔ اس کے مد مقابل وہ حدیث جس میں اہل بیتی کی جگہ سنتی کا لفظ آیا ہے وہ 
مجہول حدیث ہے جس کی سند ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے جعلی ہونے کا احتمال بھی موجود ہے۔ 

حدیث ثقلین میں اہلبیؑت کا لفظ قرآن مجید میں موجود ہے۔ (آیہ تطہیر)

سنن ترمذی ، مسند احمد، اور دیگر ماخذات میں جناب انس سے یوں منقول ہے کہ پیغمبرؐ اکرم  چھ ماہ تک ہر روز  جب صبح کی نماز کے لئے مسجد جاتے تو حضرت زہراؑ کے بیت الشرف کے قریب پہنچ کر ارشاد فرمایا کرتے کہ  اے اہلبیؑت   نماز    اور پھر آیہ تطہیر کی تلاوت کرتے تھے۔ 

بعض اہلسنت کے علماء لفظ اہلبیت ؑ کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن  اس کی تشریح میں ہر کسی کو شامل کر لیتے ہیں حتی کہ ازواج مطہرات کو بھی۔  لیکن آیہ تطہیر کے ذیل میں جو روایات اور احادیث آئی ہیں جن سے پتہ چل رہا ہے کہ رسولؐ اللہ  کس مقام پر کس کے دروازے پر  آیہ تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔ کہ چھ ماہ تک رسول ؐ خدا نے در بتولؑ پر آیہ تطہیر کی تلاوت فرمائی۔ اور بتا دیا کہ اہلبیت ؑ وہ کون سی ہستیاں ہیں جن سے پروردگار عالم نے رجس کو دور رکھا ہے ۔ اور  انہیں پاک رکھا۔ 
مسلم نیشاپوری نے سعد بن وقاص سے نقل کیا ہے کہ جب  یہ آیہ مباہلہ نازل ہوئی تو رسولؐ اللہ نے علیؑ ، فاطمہ ؑ ، حسنؑ و حسینؑ کو بلایا اور فرمایا" پروردگارا ! یہ میرے اہل بیت ؑ ہیں'۔
اور بعض روایات میں اہلبیؑت کی جگہ لفظ عترت آیا ہے۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
🌺🌺









 ❄️❄️❄️❄️❄️
*سلسلہ دروس" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 8
حدیث ثقلین میں لفظ عترت سے مراد، قرآن و عترت کی ہمراہی سے پانچ نکات کی وضاحت 

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* : 
حدیث  ثقلین کی ایک تعبیر جس میں لفظ اہلبیت ؑ آیا ہے  جس کے بارے میں وضاحت کی گئی کہ یہاں اہلبیت ؑ سے مراد رسولؐ اللہ کے تما م اقرباء نہیں بلکہ یہاں اس سے مراد مخصوص افراد ہیں جو آیہ مباہلہ کی رو سے بھی اور حدیث کساء کی رو سے بھی ہمارے لیے ثابت ہوتے ہیں۔۔ 
ایک اور تعبیر جو حدیث  ثقلین کی ہے جو شیعہ سنی کے مآخذات میں سامنے آتی ہے جس میں اہلبیت ؑ کے بجائے لفظ عترت استعمال ہوا ہے۔  یعنی رسولؐ اللہ نے یوں فرمایا کہ میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں  چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک کتاب الہیٰ اور ایک میری عترت۔ یہ دونوں ہرگز آپس میں جدا نہ ہو نگے یہاں تک کہ  حوض کوثر پر میرے پاس تشریف لائیں گے۔ یہ حدیث  صحیح مسلم میں بھی ہے اور دیگر اہل سنن کی کتابوں میں بھی ہے۔ 

یہاں لفظ عترت اہلبیت ؑ سے خاص ہے ۔ علمائے حدیث اور اہل لغت کہ جنکا  کا حدیث اور لغت فہمی پر خاص کام ہے ان کے نزدیک عترت اولاد ہے۔  اور وہ سیدہ فاطمہ ؑ زہراؔ اور ان کی اولاد مراد لیتے ہیں۔

پس یہاں واضح ہوا کہ لفظ اہلبیت ؑ سے مراد عترت رسولؐ اللہ ہیں۔ اور ایک اور چیز جو  یہاں بیان ہوئی کہ یہ وہ اہلبیت ؑ  قرآن کے ہم پلہ ہیں اور باعظمت ہیں۔
 
البتہ تعبیرات میں قرآن کو ثقل اکبر اور اہلبیت ؑ کو ثقل اصغر کہا گیا ہے۔ 

پس یہاں اہلبیت ؑ وہ افراد ہیں جن سے تمسک انسان کو ہدایت دے گا جیسے قرآن سے تمسک انسان کو ہدایت یافتہ بناتا ہے۔ 
اسی لیے اہلسنتؔ کے ایک بہت بڑے عالم علامہ مناوی نے کہاکہ " عترت پیغمبر ؐ  سے مراد صرف وہ افراد ہیں کہ جو آپ ؐ کے خاندان کے عالم با عمل افراد ہیں کیونکہ وہ قرآن سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔ 

 *چند نکات:* ✨
1۔ جس طرح کتاب خدا  " ابدی " ہے اور دنیا کے خاتمے تک باقی ہے اسی طرح اہلبیت ؑ  سے ایک فرد بھی ہمیشہ قرآن کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔  ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں کہا کہ: ایسی احادیث جو لوگوں کو اہل بیت ؑ سے تمسک کی دعوت کرتی ہیں۔ وہ اس طرف بھی اشارہ کرتی ہیں اور اہلبیتؑ سے کوئی فرد قیامت تک ہمیشہ ضرور موجود ہوگا  جو تمسک کی لیاقت رکھتا ہو۔ جیسا کہ کتاب خدا ہے اسی وجہ سے وہ اہل زمین کی بقا اور امان کا سبب ہیں۔ اہل بیت ؑ میں سب سے زیادہ شائستہ  ترین فرد علیؑ ابن ابی طالب ؑ ہیں۔  کہ جن کے پاس علم کثیر اور استنباط کی دقت اور گہرائی موجود ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے کہا کہ علی ؑ عثرت رسول ؐ خدا میں سے ہیں ۔ یعنی  وہ ان  افراد میں سے ہیں کہ جن کے بارے میں پیغمبر ؐ نے لوگوں کو تمسک کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ 

2 ۔ جس طرح قرآن حجت ہے اور لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں اسی طرح اہلبیتؑ کی اطاعت اور پیروی بھی ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر اہلبیتؑ ہی وہ عظیم افراد ہیں جو لوگوں کے امور کی سرپرستی و امامت اور رہبری کا حق رکھتے ہیں یہی ثقل اکبر  اور ثقل اصغر ہے۔ 

3۔ قرآن میں کسی قسم کی لغزش خطا نہیں ہے، قرآن کے حقیقی پیروکار کسی زمانے میں بھی خطاکار نہیں ہوتے ۔ کبھی بھی گمراہی اور ضلالت ان کا نصیب نہیں ہو گی۔ رسولؐ اللہ نے اہلبیت ؑ  کو قرآن کے ساتھ قرار دے کر فرمایا کہ : اگر  آپ دونوں سے تمسک کریں تو ہر گز خطا کے مرتکب نہ ہو ں گے۔ اس سے معلوم ہو ا کہ اہلبیت ؑ کبھی بھی خطا سے دوچار  نہیں ہوتے ( وہ معصوم  ہیں)۔ کیونکہ اگر وہ خطا کریں تو یقیناً گمراہی کا باعث بنیں گے۔

4۔ قرآن  اور اہلبیت ؑ  کا ایک ساتھ ایک اور بھی نتیجہ دیتا ہے کہ صرف اہلبیتؑ ہی ہیں جو قرآنی آیات کے حقائق  دقائق بطور  کامل اور درست سمجھ کر لوگوں کو پیش کر سکتے ہیں ۔ لہٰذا قرآن سے صحیح مستفید ہونے کے لیے بھی ضروری  کہ اہلبیت  ؑ کی رہنمائی حاصل کی جائے۔ 

5۔ قرآن معرفت کا عظیم اور بیکراں دریا ہے اہلبیت ؑ کا قرآن سے متصل ہونا اس بات کی علامت کہ وہ علم و معرفت کے عظیم مراتب پر فائز ہیں۔ 
ان تمام نکات کی روشنی میں ہمیں اہلبیتؑ کی اہمیت اور امام زمانہ ؑ کی معرفت و اہمیت کے بارے میں  معلوم ہوا۔ 
والسلام
👈جاری ہے
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏* 
❄️❄️




 *بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*سلسلہ دروس امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی روشنی میں*
درس 9
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب 
➖➖➖➖
خلاصہ درس:
▪️ سورہ اسرا آیت 71
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا
ہر قوم کو اس کے امام کے ساتھ اٹھایا جائے گا
جس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ہو گا وہ اپنے نامہ اعمال کو پڑھیں گے ان پر زرا سا بھی ستم نہیں ہوگا

*تفسیر آیت*
امامت و رہبری کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ انسان کی شناخت، ہدایت اور تقدیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امام، یعنی جس کی اقتدا کی جائے۔
ہر عمل کسی نہ کسی امام کی پیروی میں انجام پاتا ہے۔ اب امام اگر پروردگار کی طرف سے ہے
 یا انسان اگر گناہوں میں مبتلا ہے تو اس کا امام شیطان ہے۔
اگر امام ہدایت کو اپنا امام قرار دیتے ہیں تو روز قیامت ہم انہیں کے ساتھ محشور ہونگے اور نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اور یہی گروہ ہدایت یافتہ ہیں۔
ایسا شخص جو امام رحمت کی اقتدا میں ہو وہ سب کے لئے باعث رحمت ہے۔
لیکن گمراہی کے راستے پر گامزن خود کو بھی ضرر پہنچا رہا ہے اور دوسروں کے لئے بھی باعث زحمت ہے۔ 

▪️ *تاویل آیت*
ہر دور میں نور ہدایت موجود ہے۔ جن کی اطاعت گویا صراط مستقیم ہے۔
شیعہ سنی دونوں طریق سے ثابت ہے کہ اس زمانے میں ہمارے امام من جانب اللہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں۔ 
پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ آپ ع کی معرفت حاصل کر کے اقتدا کریں۔
اگر یہ دونوں کام کریں گے تو اصحاب یمین سے قرار پائی گے۔ ورنہ ہماری سوچ، ہمارا عمل یہ بتائے گا کہ ہمارا رہبر کون ہے، اسی کے ساتھ پھر ہم محشور ہوں گے۔ 

*محقق کلینی رہ نے امام صادق علیہ السلام کا کلام نقل کیا :*
یوم ندعو۔۔۔ کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ اپنے امام کو پہچان ، اگر پہچان لیا تو نہ دنیا میں کوئی نقصان ہے نہ آخرت میں۔
معرفت و اقتدا کے بعد انسان کے لئے فرق نہیں کرتا کہ ظہور کب ہو کیونکہ وہ امام کی امامت میں معرفت کے ساتھ زندگی گذار رہا ہے۔
فرمایا: اگر کوئی شخص اپنے امام کو پہچان لے اور قائم کے قیام سے پہلے مر جائے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ ع کے لشکر میں ہو بلکہ آپ ع کے پرچم کے نیچے ہو۔
یعنی یہ موضوع اتنا اہم ہے جو امام وقت ع کے لشکر کا حصہ بنا دیتی ہے۔

▪️ *اہم نکتہ*
امام کی معرفت بہت اہم ہے۔ کیونکہ  ہم ایک امام کے دور میں زندگی گذار رہے ہیں۔
امام پیغمبر ص و خدا کی طرف پہنچنے کا دروازہ ہیں۔ آپ کی اطاعت گویا رسول (ص) و خدا کی اطاعت ہے۔

*اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*

*عالمی مرکز مہدویت قم 💚* 

*





🌷🌷

*" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 10
حدیث من مات کی روشنی میں امام مہدی عج

 *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* : 
حدیث رسوؐل اللہ ہے۔
 " جو بھی اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کے بغیر مر جائے وہ جاھلیت کی موت مرا۔ " 
یہ حدیث شیعہ سنی کتابو ں میں موجود ہے۔ شیعہ اور سنی محدثین میں سے صحاح ستہ کے مولفین نے اس حدیث کو سات صحابہ سے نقل کیا ہے۔ 
ا۔ زید بن ارقم، 2۔ عمر بن ربیعہ، 3۔ عبد اللہ  بن عمر ، 4 ۔ عبداللہ ابن عباس ، 5،  ابو الد رداء ، 6۔ معاذ بن جبل، 7: معاویہ بن ابی سفیان
ان سات افراد کے علاوہ  اسی  سے ملتی جلتی احادیث کو  ابو ھریرہ اور انس بن مالک  نے بھی نقل کیا۔ 
اہل تشیع میں علامہ مجلسی علیہ الرحمتہ نے اس حدیث کو چالیس شیعہ اسناد کے ساتھ بحار الانوار میں ذکر کیا ہے۔ 
 علمائے اہل سنت نے اس حدیث کو ستر کتابوں سے زائد کتب احادیث  میں بیان کیا ہے جن میں چند یہ ہیں۔ 
1۔ سنن ابی داؤد، 2 مصنف حافظ عبد  الرزاق بن ھمام صنعانی۔ 3 ۔  سنن سعید بن منصور خراسانی، 4۔ طبقات الکبری 5۔ محمد بن سعد کاتب واقدی، 5۔ مسند حافظ ابو الحسن علی جوہری، 6۔ مصنف ابی شیبہ ۔ 7، صحیح بخاری، 8۔ صحیح مسلم وغیرہ۔ 
ایک محقق نے اس حدیث کے 33 مضمونوں میں سے 30 مضمون جمع کر کے انہیں مرتب کیا ہے کہ جس میں سے 10 مضمونوں کا تعلق اہل سنت سے اور 13 کا تعلق شیعہ سے ہے باقی سات ایسے ہیں جو شیعہ اور سنی دونوں کے قابل اعتماد ماخذات میں ذکر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے ایسے  لوگوں کے ناموں کا بھی ذکر کیا ہے جو اس حدیث کے متواتر ہونے کے دعوے دار ہیں  جن میں بعض کے نام یہ ہیں۔ شیخ مفید، شیخ بہائی، علامہ مجلسی، قندوزی  حنفی، قاضی بہلول ، بہجت آفندی ،  اور ابن ابی الحدید۔ 
اس حدیث کے مضمون کی تعبیرات مختلف ہیں۔ اکثر مقام پر میتۃ جاھلیۃ اور کبھی مات یہودیا اور نصرانیا کی عبارت کے ساتھ بیان ہوئی کہ جن سے شخص کی بری عاقبت کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ امؑام صاحب شرائط ہیں  امر الہی کی جانب راغب کرنے والے ہیں یہ عام شخص  نہیں بلکہ معصوم ہیں   یہ وہ امام ؑ ہیں کہ جن کو نہ پہچاننا جہالیت ہے اور جن کے احکام کی نافرمانی کرنے کا نتیجہ جہنم ہے۔  

پس اگر ہم اس حدیث کی جانب توجہ کریں تو چند ایک نکات کی طرف ہماری توجہ ہونی چاہیے کہ یہ امام ؑ کہ جن کی فرمابرداری اتنی واجب ہے کہ جن کے احکامات کو نہ ماننا جہنم کا سبب ہے۔ یہ امام علم کے اعلٰی ترین مقام  پر فائز ہے۔  سب سے زیادہ عالم ہے اس لیے امت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے فرامین اور احکامات کو مانیں تاکہ جاہلیت سے بچیں۔ یہ معصوم ہے۔ رہنمائی کرنے والے ہیں ان کی ہدایت اور معرفت جنت تک لے جانے والی ہے۔ 
رسول ؐ اللہ نے اپنی نبوت کے آغاز اور بعثت کے پہلے دن سے ہی فرما دیا تھا کہ کوئی شخص یا گروہ حتی آنحضرت  ؐ  خود اپنے بعد خلیفہ اور حاکم معین کرنے میں آزاد نہیں ہیں بلکہ اس کے انتخاب کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے  ہاتھ میں ہے۔ مثال کے طور پر قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ نے رسوؐل اللہ سے عرض کیا: اگر ہم آپؐ کی اطاعت کریں اور آپؐ کے مخالفین پر کامیاب ہو جائیں تو کیا آپ اپنے بعد اقتدار ہمارے ہاتھ میں دیں گے۔؟ 
تو رسول ؐ اللہ نے فرمایا : اقتدار خدا کے ہاتھ میں ہے جس طر ح وہ چاہے گا عمل کرے گا۔ 
لہٰزا  پیغمبر اکرمؐ کے بعد امامت اور خلافت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے لوگوں پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ 
اگر اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اس کام کا اختیار امت پر چھوڑ دیا  گیا ہے تو پھر اس بات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ کہ مسمانوں کو اپنے امام  کی معرت کی ترغیب دلائی جائے کہ کہیں امام کی معرفت سے دوری سے وہ جاہلیت کی موت  نہ مر جائیں۔ اور ان کا انجام جہنم ہو۔ 

 *اہم نکات:* 
1۔ اسلام کے نظریاتی  اور فکری  نظام میں شرائط کی حامل امامت اور رہبریت کی ضرورت
2۔ ہر عصر  میں امامت کا استمرار اور امام کا وجود ضروری ہے۔ 

3۔ عصری تقاضوں کے مطابق امام کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے نہ ممالک اور اقوام کے اعتبار سے 

4۔ ہر عصر میں اپنے وقت کے امام کی معرفت نہ رکھنے والا انسان جاہلیت کی موت مر جاتا ہے۔ 

5۔ علم اور تقوٰی میں سب سے بڑھ کر ہونا ضروری ہے۔

 6۔ امامت اور خلافت کے ایسے دعوےدار وں  کی نفی ہے جو امامت کی شرائط سے عاری ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کے راستے امام زمانہؑ کے راستہ سے مختلف ہیں اور کوئی بھی شخص ایسے لوگوں کی معرفت نہ رکھنے کو جاہلیت  کی موت کا سبب نہیں جانتا

7۔ امام زمانہ عج کی معرفت کے راستوں کا انحصار صرف پیغمبؐر یا سابق امام کی طرف سے اعلان یا معجزے کے اظہار پر ہے۔
 
8۔ جو شخص بھی اپنے امام زمانہ ؑ کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہ رکھتا ہوگا وہ اگر مر جائے تو جاہلیت کی موت مرا

9 ۔ حدیث من مات" کے یقینی ہونے کی صورت میں صرف شیعہ اثنا عشری ایسے مسلمان ہیں کہ جو بارہ اماموں  کی امامت پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہ جن کے آخری امام حضرت مہدی عج اور ہیں جو اس حدیث کے لاریب مصداق ہیں (امام کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں وہ صرف شیعہ کے بارہ اماموں میں موجود ہیں)

10۔ اس حدیث اور کئی دوسری حدیثوں کی بنیاد پر پیغمبر اکرم ؐ  کے خلفاء اور آئمہ ؑ کے تعداد بارہ ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔  کہ رسوؐل آللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں  خلیفہ اور آخری امام حضرت مہدی موعود عج ہیں۔۔ 

👈جاری ہے
والسلام۔ 
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
❄️❄️



🌷🌷
 *" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

 *درس* 11
حدیث "اثنا عشر"   کی روشنی میں امام مہدی عج

 *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹* 

یہ حدیث اثنا عشر اہل سنت اور اہل تشیع کے ماخذات میں  نہایت معروف حدیث ہے ۔ اہلسنت ؔ  میں تقریباً  چالیس سے زیادہ  مضامین ہے  حدیث اثنا عشر کے۔ 

 *صحیح بخاری   : جابر بن سمرہ کہتے ہیں:* 

" میں نے پیغمبرؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیشہ اسلام میرے بارہ خلفاء کے ذریعہ عزت پائے گا اس کے بعد آپ ؐ نے کوئی لفظ کہا جسے میں  نہ سن سکا لہٰذا میں نے اپنے والد سے کہا کہ رسول ؐ اللہ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ نبیؐ نے فرمایا ہے : وہ سب قریش میں سے  ہونگے۔ "

یہ ایک مشہور حدیث ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ رسول ؐ اللہ نے اپنے بارہ خلفاء کو کبھی خلیفہ سے تعبیر کیا کبھی امام سے ،کبھی والی ،کبھی حاکم سے تعبیر کیا کبھی امیر اور کبھی نقیب سے تعبیر کیا کبھی فرمایا یہ سارے قریش سے ہیں کبھی فرمایا یہ سارے بنی ہاشم سے ہیں کبھی فرمایا یہ سارے میری عترت اور میرے اہلبیتؑ سے ہیں اور  یہ بھی فرمایا کہ یہ سارے پے در پے آئیں گے اور ان کے بعد قیامت ہے۔ 

اہلسنتؔ کے اندر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان سے یہ طے نہیں ہو سکا کہ یہ بارہ کون ہیں۔  عام طور پر وہ خلفاء راشدین سے آغاز کرتے ہیں اور پھر بنو امیہ  کے کچھ حکمرانوں کو ملاتے ہیں۔  بعض جو ہیں وہ بنی عباس  کو ملا تے ہیں پھر بھی پورے نہیں ہوتے اور اگر وہ پورے کر بھی لیں تو پھر قیامت نہیں ہے اور وہ سارے بنی ہاشم بھی نہیں ہیں۔   اور بعض نے فقط  بنوامیہ کو ملایا۔  اور بعض نے  کہا کہ خلفاء راشدین کے بعد بنوامیہ سے عمر بن عبدالعزیز ہیں اور بنو عباس سے ہارون الرشید اور مامون ہیں۔  اور باقی آئیں گے۔ آج تک ان سے یہ عدد مصداق کے اعتبار سے پورا نہ ہوا۔ جبکہ اہل تشیع میں یہ واضح ہے۔  

 *روایات پر تحقیقی نگاہ:* 🔬
محمد بن ابراہیم حموئی شافعی" عبد اللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ  " رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: میرے بعد میرے خلفاء اوصیاء اور مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی حجتیں بارہ (افراد) ہیں ان میں سے پہلا میرا بھائی ہے اور ان میں سے آخری میرا بیٹا ہے کہا یا رسولؐ اللہ  آپ کا بھائی کون ہے تو فرمایا علی ابن ابی طالب ، پھر سوال کیا گیا کہ آپؑ کا بیٹا کون ہے تو فرمایا مہدی عج اور وہ ہی ہیں کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔ جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔ 

اس حدیث میں پیغمبر اکرمؐ نے بارہ خلفاء سے مراد کو واضح کرنے کے لئے پہلے امام اور آخری یعنی بارہویں امام کو بیان کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
ینابیع المودۃ میں روایت ہے: 
" پیغمبرؐ نے ارشاد فرمایا:  " میرے بعد میرا خلیفہ اور جانشین علی ابن ابی طالب ہیں اور ان کے بعد میرے دو نواسے حسؑن پھر حسینؑ ہیں اس  کے بعد حسینؑ کے نو بیٹے امام ہوں گے ۔ (نعثل ) نے کہا: اے محمد ؐ ان نو اماموں کے نام بھی بتائیے؟ پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا: جب حسینؑ اس دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کے بیٹے علی  امام ہوں گے۔ اور جب علی اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے محمد امامت پر فائز ہوں گے اور جب محمد اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے جعفر امام ہوں گے۔ اور جب جعفر چلے جائیں گے تو ان کے بیٹے موسیٰ امام ہوں گے۔  اور جب موسیٰ اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے علی امام ہوں گے اور جب وہ اس دنیا سے جائیں گے تو ان کے بیٹے محمد اور پھر علی امام ہوں گے اور جب علی اس جہان فانی سے آنکھیں بند کریں گے تو پھر انکے بیٹے حسن تو ان کے بعد حجۃ ابن  الحسن امام ہوں گے یہ بارہ امام بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے برابر ہیں۔ 

ان حدیثوں اور شیعہ و سنی  کی دوسری حدیثوں پر توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا تا ہے کہ پیغمبر اکرم ص کے بارہ خلفاء سے یہی بارہ امام مراد ہیں۔ 

 *تاریخی پس منظر:* 📖
رسول ؐ اللہ نے بارہ حجتیں معین کیں کہ جن سے اسلام عزت پائے گا۔  اور یہ سلسلہ قیامت تک ہے۔ 
اگر ہم خلفاء راشدین سے لیکر کر  بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کو شمار کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنو امیہ یا بنی عباس تو کسی وقت بھی اسلام کے لیے مایہ عزت نہ تھے۔ نہ ان میں تقویٰ تھا  ، نہ علم تھا اور نہ دین اور یہ سب ختم ہوگئے تو پھر قیامت  کہاں ہے؟

پور ے عالم اسلام میں اگر بارہ امام دیکھنے ہیں تو وہ مکتب اہلبیت ؑ میں ہیں تو اپنے اپنے زمانے میں تقوٰی الہی  کے مظہر ہیں اسلام اور سنت رسولؐ کے محافظ ہیں۔ آئمہ اہلسنت جن کے شاگرد رہے ہیں۔ 

 *خلاصہ حدیث:* ✨

1۔✨ آئمہؑ بارہ ہیں

2۔✨  ان کی امامت دنیا کے اختتام تک باقی رہے گی۔ 

3 ۔ ✨ وہ سب کے سب قریش میں سے ہیں۔

4۔✨ شیعہ حضرات کے علاوہ کسی فرقے کا یہ دعوٰی نہیں ہے۔ 
5۔ حضرت مہدی عج بارہویں امام ہیں جو 260 ھ ق سے  منصب امامت پر فائز ہوئے ہیں۔
👈جاری ہے
والسلام ۔ 
سعدیہ شہباز✒️
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏

🌸🌸



 🌷🌷

 *سلسلہ" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
عقیدہ مہدویت اور امام پر ایمان کا واجب ہونا


درس 12

 *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *احادیث خاص* ✨✨
پہلے حصے میں احادیث عامہ بیان ہوئیں  ۔ جن میں  حدیث من ماتَ ہے ، حدیث ثقلین ہے۔
اسی طرح *حدیث اثنا عشر* 
اثنا عشر خلیفہ ہے ۔ ان احادیث میں  رسولؐ اللہ کی ذریت  کا ذکر ہے اور جس میں امام مہدی عج بعنوان بارویں امام  کا ذکر ہے۔ 

امام مہدی ؑ عج کا موضوع وہ موضوع ہے جسے رسولؐ  اللہ  ، آئمہ معصومینؑ اور اصحاب نے بیان کیا۔ اور اگر ان کا شمار کریں تو یہ احادیث 2 ہزار سے زائد ہیں۔ 

نمونہ کے طور پر صاحب کتاب " منتخب الاثر"  جس کے 157 ماخذات ہیں تو یہاں آیت اللہ صافی نے 900 کے قریب احادیث بغیر تکرار کے مکمل طور پر نقل کی ہیںَ 
ہم  اس موضوع پر دو عنوان سے بحث کریں گے۔ 

1۔ *شیعہ سنی کا مشترکہ نقطہ نظر* 
2۔ *اختلافی نظریہ* 

سب سے پہلے ہم مشترکہ نقطہ نظر پر گفتگو کرتے ہیں۔ اور اس کے 14 نکات درج  ذیل ہیں جن پر شیعہ و سنی متفق ہیں۔ 

1۔ ✨ عقیدہ مہدویت: 
2۔ ✨ امام مہدی ؑ عج کے سلسلے میں اعتقاد رکھنا واجب ہے
3۔✨  امام مہدیؑ عج کی حکومت اور دعوت کا عالمگیر ہونا۔ 
4۔ ✨ حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہو کر حضرت مہدی عج کی اقتداء کرنا۔ 
5۔✨ خسف بیداء
6۔✨ لقب مہدی عج  پر اتفاق
7۔ ✨امداد الہیٰ
8۔ ✨ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
9۔✨ امام مہدی عج حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہیں۔ 
10۔ ✨ امام ؑ کی ظاہری صفات
11۔✨ امام مہدی ؑ کے زمانہ میں نعمتوں کی کثرت
12۔ ✨ رکن کعبہ و مقام ابراہیم کے درمیان بیعتِ 
13۔✨ عدالت
14۔✨ پیغمبرؐ کا ہمنام ہونا

1۔ *عقیدہ مہدویت: 💫* 💫
عقیدہ مہدویت  پر شیعہ سنی کا  اتفاق  نظر ہے،تمام امت مسلمہ سوائے چند لوگوں کے جو مغرب زدہ ہیں  اور بظاہر روشن فکر ہیں جیسے احمد امین مصری وغیرہ سب اس مسئلہ پر اتفاق نظر ہے کہ آخر الزماں میں مہدی نامی شخص  جو رسولؐ اللہ کی اولاد میں سے ہوں گے وہ ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ 
اس عقیدہ پر تاکید کی وجہ وہ کثیر روایات ہیں جو تواتر تک پہنچی ہوئ ہیں ۔ کہ جنہیں پیغمبرؐ اسلام نے اسی موضوع پر بیان فرمایا ہے۔ ۔  یہ واضح سی بات ہے کہ جو بھی مسئلہ تواتر کی حد تک پہنچ جائے وہ شک و تردید سے خارج ہو جاتا ہے اور وہ انسان کو منزل یقین پر لا کھڑا کرتا ہے۔
مشہور شیعہ شخصیت  شہید صدر اس بار ے میں فرماتے ہیں۔ 
" بے شک حضر مہدی ؑ پر بحثیت ایک ایسے منتظر پیشوا کے عقیدہ رکھنا جو دنیا کو بہتر جہاں میں تبدیل کریں گے یہ موضوع احادیث پیغمبر اسلام ؐ میں بالعموم اور روایات اہلبیتؑ میں بالخصوص بیان کیا گیا ہے اور بہت زیادہ روایات کے ساتھ مستحکم انداز میں اس موضوع پر نہایت تاکید کی گئی ہے کہ انسان کے لئے کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 
صرف اہل سنت کی کتابوں میں رسولؐ اللہ سے مہدویت کے موضوع پر  400 کے قریب احادیث جمع ہوئیں ہیں۔  اور ایک اندازے کے مطابق ان روایتوں کی تعداد 6000 سے بھی زائد ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے کہ جس کی  مثال اسلام کے دیگر بنیادی مسائل میں نہیں ملتی ، ایسے مسائل کہ جن میں عموماً مسلمانوں کو شک و تردید نہیں ہوتی۔ 

 *اہل سنت کے علماء* ✨

 *حافظ ابن حجر عسقلانی  کہتے ہیں کہ تواتر الاخبار بان المہدی من ھذہ الامتہ* 
تواتر کی حد تک روایات دلالت کرتی ہیں کہ مہدی عج اسی امت اسلام میں سے ہیں
قاضی شو کانی کہتے ہیں " و ھی متواترۃ بلا شک و لاشبهته
مہدی عج کے سلسلے میں حدیثیں بلا شک و تردید متواتر ہیں۔ 

 *ابن حجر ھیثمی کہتے ہیں "* والا حادیث التی جاء فیھا ذکر ظہور المھدی کثیرۃ  متواترۃ
وہ احادیث جن میں حضرت مہدی عج کے ظہور کا ذکر آیا ہے وہ بہت زیادہ اور متواتر ہیں۔ 
 دمشقی کہتے ہیں۔ " علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مہدیؑ وہی شخص ہے جو آخر الزمان میں قیام کرے گا اور ان کے ظہور کی احادیث اور اخبار ایک دوسرے کی تائید میں ہیں۔ 
مبار کفوری کہتے ہیں " جان لو کہ تمام گزرتے ہوئے زمانوں کے تمام مسلمانوں کے درمیان یہ ہات مشہور رہی ہے کہ یقینی طور پر آخر الزمان میں اہلبیت میں سے ایک شخص ظہور کرے گا جس کا نام مہدی عج  ہے۔ 

💫💫   
2۔ *امام مہدی ؑ عج الشریف کے سلسلے میں اعتقاد رکھنا واجب ہے۔ 💫* 

قرآن مجید  میں سورہ البقرہ : 
ذالک الکتاب لا ریب فیہ ھدی اللمتقین الذین یومنون با لغیب
وہ کتاب قرآن جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے ، متقین کے لئے ہدایت ہے کہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ 

 *شیخ صدوق  رح*  ان دو روایات سے تمسک کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ " کسی مومن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس چیز کی معرفت حاصل نہ کر لے کہ جس پر ایمان لانا چاہتا ہے اس طرح ہر شخص جو مہدی عج کو قبول کرتا ہے لیکن یہ اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں دے گا جب تک وہ زمانہ غیبت میں آنحضرت کی شان و منزلت کی معرفت نہ حاصل کر لے۔ 

اسی لیے شیعہ اور سنی روایات میں ظہور مہدی ؑ عج  کے منکر کو کافر سمجھا جاتا ہے۔ جابر بن عبداللہ نے رسول ؐ اللہ (ص) سے نقل فرمایا ۔ " جو شخص بھی ظہور مہدیؑ کا منکر ہے اس نے حضرت محمد ؐ پر نازل ہونے والی ہر چیز کا انکار کیا اور وہ کافر ہو گیا ۔
 
 *امام صادق ؑ* ایک روایت میں غیب کے مصاریق کے بارے میں فرماتے ہیں :  " متقین" سے مراد شیعان علی ابن ابی طالب ؑ ہیں اور غیب کے مصایق میں سے ایک وہی حجت غائب ہیں یعنی *مہدی منتظرؑ۔* 

 *اہل سنت میں سے ایک عالم احمد بن محمد بن صدیق کہتے ہیں۔* 

ظہور مہدی ؑ عج پر ایمان رکھنا واجب اور ان کے ظہور پر عقیدہ رکھنا پیغمبرؐ کی حتمی اور یقینی خبر کی تصیق کی بنا پر ہے۔ 

 *سفارینی جنبلی کہتے ہیں۔* 
ظہور مہدی پر ایمان رکھنا واجب ہے جیسا کہ یہ حقیقت  اہل علم کے نزدیک ثابت اور اہل سنت والجماعت کے عقائد میں رائج ہے۔ 

 *شیخ ناصر الدین البانی وہابی کہتے ہیں۔* 
بے شک ظہور مہدی ؑ عج الشریف کا عقیدہ ثابت اور پیغمبر اسلام سے متواتر ہے کہ اس پر ایمان رکھنا واجب ہے کیونکہ یہ عقیدہ ان امور میں سے ہے کہ جن پر ایمان کو قرآن میں متقین کی صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ 
👈 جاری ہے
والسلام
سعدیہ شہباز✒️
 *عالمی مرکز مہدویت قم*🌏


🌸🌸

*سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 13
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
عالمگیر مہدوی حکومت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی عج کی اقتداء کرنا، خسف بیدا ، لقب مہدی۔


 *استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹



 *خلاصہ* : 
💫
امام مہدی ؑ عج کی حکومت اور دعوت کا عالمگیر ہونا:

امام زمانہؑ دنیا کے کسی خاص حصے میں حاکم نہیں ہو نگے ۔ پوری زمین ان کے اختیار میں ہو گی اور وہ پوری زمین کو دعوت اسلام دیں گے۔  اور وہ پوری زمین پر حاکم ہو نگے۔ اس پر شیعہ سنی دونوں  کا اتفاق ہے۔ اور بہت سی روایات اور آیات اس پر گواہ ہیں ۔ مثلاً  قرآن کریم میں سورہ انبیا ء کی  105 نمبر آیت میں  ارشاد پروردگار عالم ہو  رہا ہے۔ 
" اور ہم نے ذکر (تورات) کے ساتھ زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے  وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔ "

اسی طرح سورہ نور کی آیت  نمبر 55 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ " اللہ تعالی کا تم میں سے  صاحب ایمان اور عمل صالح انجام دینے والے لوگوں سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں ضرور ضرور زمین میں خلیفہ قرار دے گا۔ 

ان آیات کے علاوہ اس موضوع پر فریقین میں کئی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔ 
حاکم نیشا پوری نے ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے " کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ  زمین  ظلم و ستم سے بھر جائے گی تو اسی دوران میں عترت میں سے ایک شخص خروج کرے گا جو سات یا نو  سال تمام زمین کا مالک ہو گا اور اسی دوران وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ 
ہمارے آئمہؑ سے بھی یہ روایت  موجود ہے۔ اور یہاں سات سال سے مراد ایک سال 10 سال کے برابر ہو گا۔  یعنی مولاؑ کی حکومت 70 سال ہوگی۔ 
امام باقرؑ نے ارشاد فرمایا: 
امام مہدی عج 309 سال زمین پر حاکم ہونگے۔ بالکل اتنی ہی مدت جتنا اصحاب کہف غار میں سوئے رہے۔ اور  وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح کہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ اللہ تعالی ان کے لیے دنیا کے مشرق و مغرب کو فتح کرے گا تاکہ زمین پر صرف دین محمد ؐ باقی رہ جائے۔ 
💫
 4۔ حضرت عیسیٰ ؑ  کا نازل ہو کر حضرت مہدی عج کی اقتداء کرنا:

امت مسلمہ کی حدیثوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جب حضرت مہدی ؑ عج  ظہور کریں گے تو حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہونگے اور نماز میں امام مہدی کی اقتداء کریں گے۔ 

اس حوالے سے ابوہریرہ نے رسول ؐ اللہ  سے روایت کی ہے " تم لوگو ں کی کیفیت کیا ہوگی۔ جب فرزند مریم نازل ہوں گے۔ اور تمھارا امام تم میں سے ہی ایک شخص ہوگا۔ 
ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق ؑ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: " عیسی ابن مریم نازل ہوں گے اور وہ امام مہدی ؑ عج کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ 

💫
5۔ *خسف بیداء* 
یہ ایک اہم  ترین علامت ہے علامات ظہور میں سے جو شیعہ سنی دونوں میں پائی جاتی ہے۔ 
امام مہدی عج کے بارے میں جن دوسے امور پر اتفاق پایا جاتا وہ ظہور کی علامتیں ہیں۔حضرت  عائشہ پیغمبر اسلام ؐ سے حدیث بیان کرتی ہیں کہ " لشکر جب کعبہ کی طرف بیدا ء پر پہنچے گا  تو زمین ان سب کو نگل لے گی۔ 

جابر کہتے ہیں۔  امام محمد باقرؑ نے فرمایا:  جب سفیانی کا سپہ سلال اپنے لشکر کے ہمراہ  سر زمین بیداء پر اترے گا تو آسمان سے منادی ندا دے گا اے سر زمین بیداء  اس قوم کو تباہ و برباد کردے پس زمین انہیں نگل لے گی۔
💫
6۔ لقب مہدی ؑ عج پر اتفاق:
امام مہدیؑ عج کے بارے میں ایک اور امر جس پر تمام   مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ وہ آپؑ کا لقب مبارک ہے جو آپؐ کے وجود مقدس  کے لئے بولا جاتا ہے اور وہ لقب "مہدی " ہے۔

کعب کہتے ہیں" بے شک ان   کو مہدی کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایک مخفی امر کی جانب ہدایت فرمائیں گے۔ 

امر مخفی سے مراد  توریت و انجیل ہے جو مخفی ہیں اور ان کے حقائق کا کسی کو علم نہیں ہے۔ 

 *ابو سعید خراسانی سے منقول ہے کہ "  میں نے امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا کہ* کیا "مہدی" اور "قائم" ایک ہی شخص ہیں۔ تو امام ؑ  نے فرمایا ہاں پھر میں نے عرض  کیا کہ " انہیں مہدی کیوں کہاجاتا ہے ؟ تو آپؑ نے فرمایا: " اس لئے کہ وہ ہر امر مخفی کی طرف ہدایت کئے جائیں گے۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم 🌏* 
🌸🌸




⭐⭐

 *سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"* 
 *درس* 14
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
الہی امداد  اور  سورج کا مغرب سے طلوع ہونا


⭐ *استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹* 


 *خلاصہ* :

*7 ۔ امداد الہٰی❣️*
ایک اہم  نکتہ جس پر شیعہ سنی دونوں احادیث کی رو سے  موضوع مہدویت پر اتفاق نظر رکھتے ہیں وہ  امداد الہٰی ہے۔  کہ جب امام زمانہؑ  ظہور فرمائیں گے تو پروردگار عالم ان کی مدد فرمائے گا۔ امام مہدی عج کا ایک لقب منصور بھی ہے۔  کیونکہ امامؑ کی نصرت اللہ کی جانب سے ہوگی۔ بعض روایات کہتی ہیں کہ امامؑ کی مدد فرشتوں کے ذریعے ہو گی جیسے جنگ بدر میں ہوئی۔  لیکن بعض روایات اس  سے  زیادہ بیان کر رہی ہیں۔  کہ  کائنات کی ہر چیز حتی کہ پتھر اور چٹانیں بھی پروردگار کے حکم سے امام زمانہؑ اور ان کے سپاہ کی مدد کریں گی۔ 

 *پہلی  حدیث صحیح بخاری سے ہے۔* ابو ہریرہ  پیغمبرؐ سے نقل کرتے ہیں : قیامت برپا نہ ہو گی جب تک یہودیوں کے ساتھ جنگ نہ ہو جائے یہاں تک کہ ہر وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی چھپا ہو گا وہ کہے گا۔ اے مسلمانوں میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اسے قتل کر دو۔ 
یہاں حدیث کو تراشا گیا ہے اور بیان میں کمی کی گئ ہے لیکن یہی روایت تفصیل کے ساتھ کمال الدین میں درج ہے۔ 

 *ابو بصیر امام صادق ؑ سے روایت کرتے ہیں۔* 

" جب قائم خروج کریں گے تو کوئی بھی خدا کا انکار کرنے والا کافر اور مشرک باقی نہیں رہے گا سوائے اس کے کہ وہ ان کے خروج کو پسند نہ کرتا ہو ۔ کیونکہ زمانہ خروج میں ) اگر کافر یا مشرک کسی پتھر کے اندر بھی چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول کر کہے گا: اے مومن میرے اندر کافر ہے آؤ مجھےتوڑ دو اور اسے قتل کر دو۔"۔

*8۔  سورج کا مغرب سے طلوع ہونا:۔ ❣️*

 مشترکہ نکات میں اہم ترین نکتہ  سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔  جس کی طرف اہل سنت  اور شیعہ ہر دونوں نے اشارہ کیا ہے۔ 

ابو ھریرہ  نے پیغمبرؐ سے یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔

" قیامت برپا نہیں ہو گی حتی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا، بس جب سورج مغرب سے طلوع ہوجائے گا تو لوگ اسے دیکھ کر ایمان لے آئیں گے، لیکن اس وقت ایسے لوگوں کا ایمان لانا جو اس سے پہلے صاحب ایمان نہ تھے یہ ان کےلئے (صرف ظاہری ایمان ہے کوئی فائدہ مند نہ ہو گا)۔ 

شیعہ روایات کے اندر یہ مولاؑ امام مہدیؑ  کے ظہور کے وقت ہوگا۔  یہ ظہور کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔  اور یہ حتمی علامت نہیں۔  
حتمی علامات فقط پانچ ہیں۔  سفیانی کا خروج، خسف بیداء، یمانی کا  قیام، آسمانی ندا اور نفس ذکیہ ء کا قتل۔

سورج مغرب سے کس طرح طلوع ہو گا تو اس میں  علمائے کرام  کے مختلف نظریات ہیں۔اور ان کا خلاصہ یہ ہے:

قیامت سے پہلے یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ قدرت خدا سے  زمین کی حرکت کچھ لحظے کے لیے  متوقف ہو گی اور زمین  اپنی  حرکت کے برعکس سورج کے گرد حرکت کرے گی۔ اور وہ  مغرب سے طلوع ہو گا اور پھر دوبارہ سے اسی طرح  اپنی حرکت کرے گا جیسے معمول کے مطابق کرتا  تھا۔ 

یعنی خدا دنیا پر قیامت  بپا کرنے سے پہلے اپنی قدرت دکھائے گا۔  لوگ اس کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے لیکن تب کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ 

پہلے بھی یہی ہوتا تھا جب لوگ کوئی معجزہ دیکھتے تھے ایمان لے آتے تھے اور پھر دوبارہ کفر اختیار کرلیتے تھے۔ 

بعض علماء یہ کہتے تھے کہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونے کا مطلب امام زمانہؑ عج کا ظہور ہے جو مغرب سے ظاہر ہوگا اور پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔

یعنی یہ آفتاب ولایت ہے ۔ جس سے تمام دنیا میں امن و امان ہو جائے گا۔ اور جب امامؑ اپنی طاقت سے حکومت فرمائیں گے ۔ تو یہ اس وقت لوگ خوف سے ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ دل سے ایمان نہ لائیں ہونگے اور فساد برپا کریں گے۔ ایسے لوگوں کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا۔ 

اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امامؑ مغرب سے طلوع کریں گے۔ جبکہ امام مکہ سے ہیں۔  بعض لوگوں کی آراء ہے چونکہ امامؑ کی والدہ کا تعلق روم سے تھا تو اس لیے مغرب سے طلوع شمار ہوگا، رومی لوگ امامؑ سے لڑیں گے نہیں بلکہ ساتھ دیں گے۔ یعنی مسیحی لوگ امام کا ساتھ دیں گے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ آئیں گے تو امامؑ کا ساتھ دیں گے اور امامؑ کو تقویت دیں گے۔  یہ وہ آراء ہیں جن پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
👈جاری ہے
والسلام     💫❣️
سعدیہ شہباز✒️
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏




 ⭐⭐

 *سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے*
 *درس* 15
احادیث خاص
امام مہدی  عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
امام مہدی عج کا اولاد حضرت فاطمہ سے ہونا، ظاہری صفات، زمانہ ظہور میں نعمتوں کی فروانی ، زمین کا عدالت سے بھرنا وغیرہ۔ 


 *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹


 *خلاصہ* ۔
*⭐9۔ امام مہدیؑ عج حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہیں:*
اہل سنت اور شیعہ کے درمیان ایک مشترک موضوع یہ ہے کہ حضرت مہدیؑ پیغمبرؐ کے اہل بیت ؑ اور حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی اولاد سے ہیں۔  اس حوالے سے دونوں کی کتابوں میں احادیث موجود ہیں۔ بعنوان مثال سنن ابی داؤد سے روایت ہے کہ 
 *ام سلمہ رح پیغمبرؐ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں۔* 

المھدی من عترتی من ولد فاطمہ
" مہدی عج میری عترت میں سے اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہیں۔ 

اس سے ایسے لوگوں کی نفی ہے جو اہلسنت کے اندر کہتے ہیں کہ یہ مہدیؑ ہی حضرت عیسیٰؑ ہیں ۔ ایسا نہیں بلکہ یہ مہدیؑ فرزند زہراؑ ہیں ۔ 

*⭐10۔ امام ؑ کی ظاہری صفات:*
امام ؑ کی ظاہری صفات پر بھی شیعہ سنی دونوں نے اپنی اپنی حدیث کی کتابوں میں بیان کیا۔ 
ابو سعیدخدری  رسول ؐ اللہ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ " مہدی مجھ سے ہیں ان کی پیشانی کشادہ ، ناک کشیدہ اور بلند ہے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں  گے۔ جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔ 

ابی وائل کہتے ہیں کہ امام علی ؑ نے امام حسین ؑ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: 🌹
خداوند  متعال جلد ہی اس (حسینؑ) کے صلب سے ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہارے پیغمبر ص کا ہم نام ہو گا۔ اس کی پیشانی کشادہ ، ناک کشیدہ، اور بلند ہو گی۔ اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم ستم  سے پر ہو چکی ہو گی۔  

*⭐11 ۔ امام مہدیؑ کے زمانہ میں نعمتوں کی کثرت*
اس حوالے سے دونوں طرف روایات موجود ہیں کہ زمانہ ظہور میں خیر و برکت اور نعمتوں کی فراوانی ہے کہ جو اس زمانے کے لوگوں کو میسر ہو گی۔ 

سنن ابی ماجہ سے ابو سعید خدری پیغمبر اسلام سے روایت نقل کرتے ہیں ' مہدی میری امت میں سے ہیں اگر اس کی مدت کم ہو تو سات سال ورنہ  نو سال حکومت کریں گے۔ پس ان کے زمانہ میں میری امت ایسی نعمتیں  دیکھے گی  جو ہرگز اس سے پہلے انہوں نے نہ دیکھی ہو گی۔ مال و سرمایہ اس زمانہ میں ان کے پاس  جمع ہو گا پس ایک مرد کھڑا ہو گا اور کہے گا اے مہدی عطا کرو  اور اسے کہا جائے گا لے لو"  یعنی لوگوں کو بیت المال سے عطا کیا جائے گا۔ 

غیبت نعمانی سے روایت نقل کرتے ہیں:

پیغمبرؐ نے مجھ علیؑ سے فرمایا : اے علیؑ ! تمہاری اولاد میں سے گیارہ امام ہیں  جو ہدایت یافتہ  اور معصوم ہیں اور تم ان اماموں سے پہلے ہو اور ان میں سے آخری میرا ہم نام ہو گا۔ جب وہ ظہور کرے گا تو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔ جس طرح کہ وہ ظلم و ستم سے پر ہو چکی ہو گی ۔ ایک شخص اس کے پاس آئے گا تو اموال جو  امام کے پاس جمع ہے۔ وہ کہے گا " اے مہدی عج مجھے عطا کیجئے پس امام فرمائیں گے لے لو۔ 

*⭐12۔   رکن کعبہ و مقام ابراھیم ؑ کے درمیان بیعت:*
مسند احمد میں  احمد ابن حنبل ایک روایت میں پیغمبر اکرم ؐ سے نقل کرتے ہیں  " رکن و مقام کے درمیان مہدی  کی بیعت کی جائے گی"۔

غیبت طوسی کے اندر جو روایت ہے۔ جابر بن جعفی امام باقر ؑ سے نقل کرتے ہیں " رکن و مقام کے درمیان قائم سے تین سو  کچھ افراد جو اہل بدر کی تعداد کے برابر ہوں گے بیعت کریں گے۔ 

*⭐13۔ عدالت:*
امام مہدی ؑعج کی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا وسیع اور عام عدالت سے حامل ہونا ہے۔  سنن ابی داؤد میں ابو سعید خدری نے پیغمرؐ سے ایک حدیث کو نقل کیا ۔ 

" مہدی مجھ سے ہیں ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر  دے گا ، جس طرح کہ ظلم وو جور  سے پر ہو چکی ہو گی۔ 

کمال الدین میں صقر بن ابی دلف کہتے ہیں؛  میں نے امام ھادی علی نقیؑ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:🌹
" میرے بعد میرے فرزند حسن امام ہو گا اور حسن کے بعد ان کا فرزند قائم ان کا جانشین ہے۔ وہ کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔"

*⭐ 14۔ پیغمرؐ کا ہم نام ہونا:*
امام کے نام مبارک پر بھی شیعہ و سنی مشترکہ نظریہ رکھتے ہیں ۔ سنن ابی داؤد میں عبداللہ  نے رسولؐ اللہ سے نقل کیا ہے: " دنیا آخر تک نہیں پہنچے گی یا دنیا ختم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ میری اہل بیت سے ایک مرد جو میرا ہمنام ہے عرب پر حاکم نہ ہو جائے"۔

ہشام بن سالم  کمال الدین میں  امام جعفر صادق ؑ سے روایت  نقل کرتے ہیں۔

" قائم میرے فرزندوں میں سے ہے۔ اس کا نام میرا نام اس کی کنیت میری کنیت، اس کے شمائل و صفات میرے شمائل و صفات اور اس کی سنت میری  سنت ہے۔ " 
👈جاری ہے
والسلام✨
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏



 💫⭐
*سلسلہ" امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
 *درس* 16
 *احادیث خاص* 📚
امام مہدی عج کے موضوع پر اختلافی آراء

امام زماں عج کی ولادت اور نسب پر اختلاف

 *استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹


 *خلاصہ* 📖
2۔ اختلافی نقطہ نظر:
شیعہ سنی مکاتب کے اندر مہدویت کے بارے  اشتراکات زیادہ ہیں اور کچھ مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں جس کی بڑی مثال امام مہدی ؑ کی ولادت ہے۔ 

اہلسنت کہتے ہیں کہ امام مہدیؑ  ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ آخر الزماں میں پیدا ہونگے جوان ہونگے اور قیام کریں گے جب کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امامؑ 255 ھج میں تشریف لا چکے ہیں اور 260 ھ میں اپنے والد گرامی کی شہادت  کے وقت آپ غائب ہو گئے۔ 

اب اگر کسی بھی ہستی کی ولادت کو ثابت کرنا ہو تو عقلی منطقی اور حدیث کی رو سے دلائل کی دنیا  میں جو دلائل ہونے چاہیے تو سب سے پہلے دیکھیں کہ آپکے والد گرامی کیا کہہ رہے ہیں اپنے فرزند  کی ولادت کو ثابت کر رہے ہیں ۔ ان کی دایہ سے کیا نقل ہوا۔ اور بچپن میں ان کو کسی نے دیکھا ہے۔ 

امام زمانہؑ عج الشریف کی ولادت کی سب سے پہلی بشارت ان کے دادا امام علی نقیؑ نے دی تھی کہ میرے بیٹے حسن عسکری  سے میرا وہ پوتا آئے گا جس نے زمین کو عدل و انصاف سے بھرنا ہے۔ 

اور پھر امام حسن ؑ عسکری ؔ نے بھی وقت ولادت اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کیا اور خدا کا شکر کیا کہ میں نے اپنے فرزند کی زیارت کی۔ 

پھر دایہ بی بی حکیمہ خاتون نے نومولود کی زیارت کی اور ولادت کی گواہی دی۔ اور امام ؑ کے بچپن میں امام عسکری  ؑ کے کتنے ہی  اصحاب نے اور علماء اور فقہاء اور صالحین نے امامؑ کی زیارت کی اور سوالات کئے۔وجود امام ؑ کی برکت سے معجزات ہوئے۔

پھر غیبت صغرٰی میں امام زمانہؑ نے اپنے نائبین مقرر کئے۔ اور 90 کے قریب امام زمانہؑ کے خطوط ہیں جو ہماری کتابوں میں نقل ہوئے۔ 
 
اور اس غیبت کبرٰی کے ہزار سالہ دور کے اندر سینکڑوں لوگوں کی مولا سے ملاقاتیں ہیں۔ جو کہ دلیل ہے  اس بات کی کہ امامؑ پیدا ہو چکے ہیں اور دنیا حجت خدا کے وجود سے خالی نہیں۔ 

لیکن اس کے باوجود بعض مکاتب اسلام امامؑ کے وجود کو نہیں مانتے ۔ اگرچہ ان کے اندر بھی ایسے لوگ رہے ہیں جنہوں نے امامؑ  کے وجود کا اقرار کیا  اگرچہ وہ شیعہ نہیں تھے۔ 

اسی کی بہت بڑی مثال  ابن عربی ہیں جو اہلسنت کے اندر ایک بہت بڑی ہستی ہیں انہوں نے اقرار زیارت کیا ہے۔ 

ایک روایت  احمد بن اسحاق کی ہے کہتے ہیں کہ میں امام عسکریؑ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپؑ نے فرمایا کہ : میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے دنیا سے نہیں اٹھایا یہاں تک کہ مجھے اپنا جانشین دکھایا ہے۔ 

2۔ امام حسن عسکریؑ کا خادم ابی غانم کہتا ہے: ابو محمد امام  حسن عسکریؑ کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے محمد (ص) رکھا اس کے بعد تیسرے دن امام حسن عسکری ؑ نے اس فرزند کی اپنے اصحاب کو زیارت کروائی اور فرمایا: یہ میرے بعد تمہارا امام، سردار اور میرا جانشین ہے ۔ یہ وہی قائم ہے کہ جس کے انتظار کے لیے لوگ منتظر ہو نگے۔ 

3۔امام ھادی ( علی نقیؑ)  نے ارشاد فرمایا: " میرے بعد میرا بیٹا حسن امام ہوگا اور حسن کے بعد اس کا بیٹا قائم ( امام ہے)وہی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔ جس طرح وہ ظلم و جور سے پر ہوگئی ہو گی۔

ان روایات کے مجموعہ کو دیکھتے ہوئے امام کی ولادت پر روایات کے موضوع تواتر کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ 

2-2 : امام مہدیؑ عج کا نسب۔
ایک  مسئلہ ہمارے اور اہلسنت کے اندر اختلاف ہے جو کہ امام ؑ کا نسب ہے۔ان کے  ہاں اکثر روایات اس بات پر دلیل ہیں کہ امام مہدیؑ امام حسینؑ کی نسل سے ہیں لیکن ایک روایت ایسی ہے جو باعث اختلاف ہے انہوں نے ہماری ضد میں امام ؑ کو فرزند امام حسن کہا اور حسنی کہہ کہ پکارنا شروع کردیا۔ 

یہ روایت سنن  ابی داؤد میں آئی ہے اور وہ حدیث یہ ہے۔ 
" حضرت علی ؑ نے اپنے فرزند  امام حسن ؑ کی طرف نگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: بے شک میرا یہ بیٹا سید وہ سردار ہے جیسا کہ پیغمبر اسلام ؐ نے انہیں اس نام سے موسوم کیا ہے اور ان کے صلب سے وہ شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے پیغمبرؐ جیسا ہو گا ۔ وہ خلقت میں بھی ان کا مشابہ ہوگا"۔

اس میں کاتب کی غلطی ہے کہ اس نے نقطے نہیں لگائے۔ کیونکہ ایک اور روایت ہے جس میں امام حسین ؑ کا ذکر ہے۔ 

اب اس روایت کی سب سے پہلے ہم سند دیکھیں گے اور پھر مضمون اور پھر وہ احادیث جو امام حسینؑ کے متعلق  روایت ہیں۔ 
اہل سنت کے اندر اور بھی راوی گزرے ہیں کہ جنہوں نے اس حدیث کو سنن ابی داؤد سے نقل کیا ہے لیکن لفظ حسین ؑ لکھا ہے۔ 

جزری شافعی نے اس حدیث کو ابی داؤد سے نقل کیا ہے لیکن اس میں حسن کے بجائے حسین ہے۔ 

2- سند کامل نہیں۔  کیونکہ جس شخص نے حضرت علیؑ سے نقل کیا وہ اسحاق سبیعی ہے۔ اس کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نے ایک حدیث بھی خود مولا علیؑ سے سنی ہو۔ جیسا کہ منذری نے اس حدیث کی تشریح میں اس نکتہ کی تصریح کی ہے وہ حضرت علیؑ کی شہادت کے وقت سات سال کا تھا۔ 

3۔ یہ حدیث کی سند مجہول ہے۔ ابی داؤد کہتے ہیں کہ میرے لیے ہارون بن مغیرہ سے یہ حدیث نقل ہوئی اور مجھے معلوم نہیں وہ کون تھا۔ 

جناب حذیفہ نے کہا کہ پیغمبر ؐ اسلام نے خطبہ ارشاد فرمایا اور ہمارے لئے مستقبل کی خبریں بیان فرمائیں اور پھر فرمایا اگر دنیا کی عمر سے صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تو بھی خداوند عالم اسے اس قدر طولانی کرے گا کہ میری اولاد میں سے ایک مرد قیام کرے کہ  جو میرا ہمنام ہے سلمان اٹھے اور عرض کیا اے رسولؐ اللہ آپ کے کون سے فرزند میں سے تو آپ نے فرمایا اس فرزند اور آپؐ نے ہاتھ سے حسینؑ کی جانب اشارہ کیا۔ 

اس کے علاوہ ہماری شیعہ کتابوں میں جو احادیث نقل ہوئی ہیں تو امام مہدیؑ حسینی  ہیں۔  اور ماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام محمد باقر ؑ کی والدہ امام حسن ؑ کی بیٹی تھیں۔ 

اہلسنت کے بعض علماء کے نام درج ذیل ہیں کہ جنہوں نے امام زمانہؑ کے حسینی ہونے کا اعتراف کیا۔ 
1۔ علامہ ابن قتیبہ دینوری
2۔ حافظ اب الحسن علی بن عردار قطنی شافعی 
3 حافظ ابو نعیم اصفہانی
4۔ موفق بن احمد ملکی خوارزمی خطیب۔
5۔ شیخ السلام  ابو العلاء  حسن بن احمد بن حسن عطار ہمدانی
6۔ ابن  ابی الحدید
👈جاری ہے
والسلام۔💫⭐
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏*



 ✨🌟✨
سلسلہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
 *درس* 17
کچھ اعتراضات کا جواب
پہلا اعتراض کیوں احادیث مہدویت صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں ؟ اور اسکا جواب

 *استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹


 *خلاصہ* :
👈 *پہلا اعتراض:* 
امام مہدیؑ کے بارے میں احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم  میں کیوں نہیں آیا ان کے نزدیک مہدویت کا موضوع ایک اسلامی عقیدہ نہیں تھا ؟۔ آیا وہ اسے ایک حقیقی معنوں میں ان موضوعات میں نہیں لیتے جنہیں رسولؐ اللہ نے بیان کیا۔ 
ہم اس سوال کا جواب نکات کی صورت میں دیتے ہیں۔

1۔   صحیح بخاری کے اندر اور صحیح  مسلم کے اندر احادیث مہدویت موجود ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ اعتراض کرنے والے نے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ 

2۔ یہ درست ہے کہ تمام احادیث  مہدویت ان کے اندر موجود نہیں لیکن ایک بہت بڑی تعداد اور مہدوی موضوعات کا ذکر ہے۔اب یہ ہے کہ تمام کیوں نہ ذکر  ہوئیں تو جناب بخاری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی اس کتاب کو ایک لاکھ احادیث اور  پھر ایک مقام پر کہتے ہیں کہ دو لاکھ احادیث سے اخذ کیا اور ایک کثیر تعداد کو چھوڑ دیا۔  بہت سارے علما اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جو احادیث چھوڑی گئی  اسی لیے دوسری کتابوں میں ذکر ہوئیں۔ اسی لیے صحیح ستہ  ذکر ہوئیں۔
اہل سنت کے کسی  عالم نے یہ نہیں کہا کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کا معیا ر یہ ہے کہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہو۔  یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں احادیث ان کے لیے اہم ہیں۔ لیکن ایک حدیث جو ان کے نزدیک صحیح ہے وہ عشرہ مبشرہ ہے۔ اب اس کو نہ صحیح بخاری نے نقل کیا اور نہ ہی صحیح مسلم نے۔ 

صحیح بخاری میں امام  مہدی ؑ عج  کے بارے میں احادیث  مثلاً آپ کا نام مبارک ، آپؑ کے اوصاف، آپ کی حکومت یہ ساری حدیثیں ان دونوں کتابوں میں موجود ہیں لیکن کلمہ مہدیؑ کے ساتھ نہیں بلکہ کلمہ رجل (مرد) کے ساتھ آئیں ہیں۔لیکن دوسری کتابوں میں لفظ مہدی ؑعج  کے ساتھ  آئیں ہیں۔ 

بہت سی احادیث کتابوں سے نکالی گئیں ۔ آج بھی یہی کام ہو رہا ہے۔  بہت سی احادیث جن سے مکتب اہلبیتؑ واضح ہوتا ہے اسے کتابوں سے نکالا جا رہا ہے۔ مثلاً خود اہلسنت کے چار بڑے علما نے اپنی کتابوں میں صحیح مسلم سے ایک حدیث نقل کی تھی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ صحیح مسلم کے موجودہ ایڈیشن میں وہ حدیث موجود نہیں ہے۔ 

حدیث ہے کہ المھدی حق و ھو من ولد فاطمہ  " مہدی عج حق ہیں اور وہ نسل فاطمہؑ سے ہیں"۔
اہل سنت کے چار بڑے علماء ہیں 👇
جس میں
: 1۔💠  ابن حجر ھیثمی اپنی کتاب الصواعق المحرقہ، 
2۔: 💠 متقی ھندی حنفی نے اپنی کتاب کنز العمال
3۔ : 💠 شیخ محمد علی صبان کتاب  اسعاف الراغبین
4۔ 💠 شیخ حسن عدوی حمزاوی مالکی اپنی کتاب مشارق الانوار
اب ان کتابوں سے احادیث کو نکالا جا رہا ہے۔ 

صحیح بخاری و مسلم کی حدیثیں جن کی تفسیر حضرت مہدی عج کے متعلق ہے۔
صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے لیکن صحیح مسلم میں 10 احادیث ہیں جن میں دجال کا خروج و فتنہ اور پھر امام مہدیؑ عج کے ظہور کے متعلق احادیث ہیں۔ 
اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق احادیث ہیں۔ دونوں کتابوں میں اپنی اپنی سندوں کے ساتھ ابو ہریرہ سے نقل ہے۔ کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا" تم کیا محسوس کروگے اگر مریم ؑ کا بیٹا تمہارے پاس اس حال میں نازل ہو کہ اس کا  امام تم ہی میں سے ہو۔ " 

مسلم نے جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر ؐ اسلام سے سنا کہ آپ ؑ نے ارشاد فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت آنے سے پہلے حق کے لئے قیام کرے گا، پھر عیسیٰ ؑ بن مریمؑ نازل ہوں گے۔ تو اس گروہ کا سپہ سالار کہے گا کہ آؤ ہمارے لئے نماز پڑھا ؤ تو وہ کہیں گے  نہیں اس امت کی عظمت کی بنا پر تم میں سے بعض دوسروں پر امیر ہیں۔ "

اگر اہلسنت کی دوسری کتب احادیث خواہ وہ صحیح، مسند ہوں ، ان کی طرف رجوع کیا جائے تو بہت سی ایسی روایات ملیں گی جن میں سے اس بات کی صراحت موجود ہے کہ یہ ھستی امام مہدی عج ہیں 
الف: ابن ابی شبیہ نے انب سیرین سے المصنف میں نقل کیا ہے۔ مہدیؑ اس امت سے ہیں اور یہ وہی ہیں جو عیسیٰ بن مریم کی امامت کریں گے"۔

ب۔ ابو نعیم نے ابن عمرو دانی سے اور اس نے حزیفہ سے الحاوی للفتاوی میں  نقل کیا ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: مہدیؑ نگاہ کریں گے تو اسی اثنا میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے گویا ان کے بالوں سے پانی گر رہا ہو ۔ پھر حضر مہدی کہیں گے : آگے  آئیے اور لوگوں کے لئے نماز قائم کیجئے تو عیسیٰؑ کہیں گے۔ نماز صرف آپ کے لئے منعقد کی گئی ہے۔ پس عیسیٰ ؑ میرے بیٹوں میں سے ایک مرد کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔

کتاب فتح الباری فی شرح صحیح "بخاری میں احادیث "مہدویت" کے متواتر ہونے کی صراحت موجود ہے۔ اوراس میں صاحب کتاب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کا اس امت کے ایک مرد کی اقتداء کرنا اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ آخر الزمان قیامت کے نزدیک ہے ۔ یہ اس بات کے صحیح ہونے اور ان اقوال کے درست ہونے کی نشانی ہے کہ بیشک زمین حجت خدا  جو اللہ کے لیے قیام کرنے والے سے خالی نہ ہوگی۔

قسطلانی نے بخاری کی شرح میں اسی حدیث کی تفسیر حضرت مہدی عج سے کی ہے وہ کہتے  ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ نماز  میں حضرت مہدی عج کی اقتداء کریں گے۔ 

یہی مطلب کتاب عمدۃ القاری فی شرح " صحیح البخاری میں بھی موجود ہے۔ 

📖 کتاب فیض الباری میں حدیث بخاری کی تفسیر میں ان مطالب پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہ ابن ماجہ سے حدیث لاتے ہیں کہ  " الامام کا مصداق اس حدیث میں صرف وہی " امام المہدیؑ عج "ہیں۔

صحیح مسلم کی احایث: اس شخص کے بارے میں کہ جو اموال کی بخشش کرتا ہے۔ 
مسلم نے اپنے اسناد کے ساتھ جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ رسول ؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: " آخری زمانے میں میرے امت سے ایک خلیفہ آئے گا جو مال کی بہت زیادہ بخشش کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ یہاں امام مہدی عج کے بجائے خلیفہ کا لفظ آیا 

ترمذی نے ابو سعید خدری کی سند سے رسولؐ اللہ  سے نقل کیا۔ کہ بے شک مہدی میری امت میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ فرمایا: پس اس کے پاس ایک شخص آئے گا اور عرض کرے گا اے مہدی ؑ عج کچھ مال مجھے عطا کرو پس وہ اس قدر اس کے  دامن میں رقم ڈالے گا کہ وہ اسے اٹھا سکے۔ " 
📖
یہ حدیث ابوھریرہ ، ابو سعید خدری اور دسیوں دیگر  سندوں سے بھی منقول ہوئی ہے۔ 

 *صحیح مسلم میں احادیث " خسف بیداء* 

مسلم اپنی کتاب صحیح میں اپنی اسناد کے ساتھ عبید اللہ بن قبطیہ سے نقل کیا ہے کہ میں اور حارث بن ربیعہ بن صفوان ، ام المومنین ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور ان سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا کہ جو زمین کے اندر دھنس جائے گا۔ ( یہ واقعہ عبد اللہ بن زبیر کے دور کا ہے ) ام سلمہ  کہتی ہیں کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا " ایک شخص خانہ خدا میں پناہ لے گا پھر اس کے پیچھے ایک گروہ کو بھیجا جائے گا کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچے گا  تو زمین ان کو نگل لے گی۔" 

یہاں بھی ایک شخص کہا گیا۔ اب انہوں نے کیوں لفظ مہدی ؑ عج ہٹایا گیا۔ اب اس کے پیچھے کیا سیاست اور تعصب ہے  اور ان لوگوں نے بار بار صحیح  بخاری اور مسلم میں امام ؑ کے نام اور احادیث کو کیوں مٹایا گیا۔ لیکن بہرحال ان کتابوں  امام ؑ کے نام کے بغیر بھی احادیث  اور امام ؑ کا ذکر موجود ہے۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏* 
❣️





🌹💠🌹
*امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے*
 *درس* 18
کچھ اعتراضات کا جواب 
دوسرا اعتراض: ابو خلدون اور الازھر کے کچھ علماء کا احادیث مہدویت کا انکار
اس اعتراض کا جواب

 *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹* 

 *خلاصہ* :
ابن خلدون جو بہت بڑے عالم ہیں انہوں نے احادیث مہدویت کا انکار کیا اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ "الازھر یونیورسٹی " کے پروفیسر سعد محمد حسن جو احمد امین کے شاگرد ہیں انہوں نے بھی نظریہ ابن خلدون کی تائید کرتے ہوئے احادیث مہدویت کا انکار کیا۔ اسی طرح ابوزھرہ ، محمد فرید و جدی ، جبہان اور سائح لیبی نے بھی یہی نظریہ اپنایا ہے کہ ابن خلدون نے ان احادیث پر ناقدانہ نظر ڈالتے  ہوئے ایک ایک حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان کی نظر میں حضرت عیسیٰؑ کے علاوہ کوئی مہدی نہیں۔

ابن خلدون کے احادیث کو ضعیف قرار دینے کی حقیقت:
 👈پہلی بات یہ ہے کہ ابن خلدون نے تمام احادیث مہدویت  کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ کچھ کو مانا بھی تھا۔ انہوں نے 23احادیث مہدویت میں سے 19 کا انکار کیا اور ضعیف قرار دیا اور باقی کو انہوں نے قبول کیا۔ اور اس انکار کے باعث اہل تسنن  علماء میں ان کے خلاف  تنقید ہوئی۔اور اہلسنتؔ علماء نے  مضبوط دلائل کے ساتھ  ان کے اس نظریے کو رد کیا اور ابن  خلدون کا ایک شدید مواخذہ ہوا۔

علماء اہلسنتؔ جو ابن خلدون کے اس نظریے کے خلاف تھے انہوں نے پہلی بات یہ کہی کہ آپ تاریخ اور سوشیالوجی میں مہارت رکھتے ہیں آپ کا علم حدیث اور علم رجال سے کیا تعلق۔ آپ ان میں مہارت نہیں رکھتے۔ 

👈دوسری بات یہ ہے کہ نظریہ مہدویت جن احادیث سے ثابت ہے ان میں متواتر احادیث بھی ہیں اور احادیث صحیحہ کی بہت بڑی تعداد ہے۔ 

تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک موضوع جس پر صحیح اور متواتر احادیث ہوں اور پھر اس پر اصحاب اور تابعین اور بڑے بڑے اہلسنت کے آئمہ سب اسے قبول کرتے ہیں اور اس موضوع پر 1400  احادیث کے اتنے بڑے بڑے مجموعے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ  اس موضوع کا انکار کیا جائے۔
ابن خلدون نے چار احادیث مہدویت کو تسلیم کیا تھا۔ 
👇

⭐ 1۔ حاکم کی روایت عون اعرابی سے: اور اس نے "ابو صدیق ناجی " اور اس نے ابو سعید خدری" سے نقل کیا ہے۔ 

⭐2 ۔ حاکم کی روایت سلیمان بن عبید کے سند سے: اور اس نے ابو صدیق ناجی" اور اس نے ابو سعید خدری " سے نقل کیا ہے۔

⭐3۔ ظہوری مہدی عج کے بارے میں حاکم کی روایت حضرت علی ؑ سے اسے بھی ابن خلدون نے کہا ہے کہ  اس کی سند صحیح ہے۔

⭐4۔ ابی داود سجستانی کی " صالح بن خلیل " اور اس کی "ام سلمہ" سے روایت اس کے بارے میں ابن خلدون" نے کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی غیر موثق اور مجہول نہیں ہیں۔ 

اگر اس موضوع پر ایک روایت کے صحیح ہونے پر اگر کوئی قائل ہو تو نظریہ ثابت ہو جاتا ہے۔ اور کہاں ابن خلدون چار  احادیث کے قائل ہیں۔  اور پھر بھی منکر مہدی عج نہیں لیکن جو بعد میں آئے انہوں نے تو امام مہدی  اور تمام روایات کا انکار کیا اور حضرت عیسیٰؑ کو ہی مہدی قرار دیا۔ 

بعد از ان علماء کے خلاف اہلسنت کے علماء نے تحریک اٹھی اور ان سب کے نظریات  کو باطل قرار دیا۔   اور عقیدہ مہدویت کو اسلام کے اہم  عقائد میں سے قرار دیا اور حتی کہ اہلسنت کے بعض علماء نے قرار دیا کہ جو عقیدہ مہدویت کا قائل نہیں گویا وہ مسلمان نہیں ۔ 

 *نتیجہ* : ❣️☘️
مہدویت کا موضوع شیعہ سنی کتابوں میں موجود ہےاور بہت سارے امور میں دونوں کی آراء متفق اور مشترکہ ہیں۔ کچھ امور کے اندر اختلاف نظر ہے  لیکن بطور کلی دونوں امام مہدی عج کے ظہور ان کی امامت اور کی حکومت عدل جو پوری زمین پر بپا ہوگی کے قائل ہیں۔

 *اہلسنتؔ اور اہل تشیع کی احادیث میں فرق:* 
👈 1۔ اہلسنت میں احادیث مہدویت کی تعداد  تشیع کی نسبت کم ہے۔ 

👈2۔  اہلسنت میں احادیث کلی ہیں۔ مثلاً امام مہدیؑ عج زمین کو عدل سے بھریں گے ، مال کو ایسے تقسیم کریں گے وغیرہ۔ لیکن اس کی جزئیات شیعہ احادیث  میں زیادہ بیان ہوئی ہیں۔ 

👈3۔ اہل سنت نے احادیث  میں صرف رسولؐ اللہ اور اصحاب پر اکتفاء کیا ہے اور اہلبیتؑ سے بلکل تمسک نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ احادیث کی ایک بڑی تعداد سے محروم ہوگئے۔ جبکہ تشیع میں احادیث کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ 

👈4۔ ایک سو سال تک اہلسنت  میں احادیث کے نقل ہونے پر پابندی رہی جو عمر فاروق کے زمانہ سے شروع ہوئی اور بنی امیہ کے تمام دور میں یہ پابندی رہی۔ جبکہ تشیع خاندان وحی سے مربوط ہیں اور ہمیشہ سلسلہ احادیث رہا ہے اور ہمارے ہاں محدثین نے ہمیشہ اس پر کام کیا ہے۔ 
👈جاری ہے 
والسلام۔
سعدیہ شہباز✒️
 *عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌏*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات