Book 3 Completed Sadia

 






*🍃💐 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن کریم کی رو سے🌺🍃*

  " امام مہدی عج قرآن کی رو سے اہمیت ، قرآن کا جامع و کامل ہونا اور تفسیر و تاویل ہونا اورتفسیر و تاویل سے مراد

مورخہ: 8 نومبر2021 

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* : 
قرآن مجید کے اندر تقریباً 200 سے زائد  آیات امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ہستی کا ذکر نہ ہو کہ جس نے قرآن کو نافذ کرنا ہے۔  امام زمانہؑ جب ظہور فرمائیں گے تو حکومت قرآن ہو گی۔ ابھی تو قرآن فقط غلاف میں بند ہے اور مردوں پر پڑھنے والی کتاب ہے ۔ لیکن تب قرآن ہماری زندگیوں میں شامل ہوگا۔  اس دور میں یہ زندوں  کی کتاب ہو گی۔ اور اس دور میں لوگ کہیں گے کہ امام زمانہؑ کی حکومت در حقیقت دولت قرآن ہے۔  

قرآن مجید جس کے اندر سب حقائق موجود ہیں وہاں اس ہستی کا ذکر نہ ہو کہ جس نے دنیا کو عدل سے بھرنا ہے۔ 
قرآن بہترین دلیل ہے امام زمانہؑ کی شناخت حاصل کرنے کے لیے۔ ہم سب کا فریضہ ہے کہ امام زمانہؑ کی معرفت حاصل کریں۔ 
جو بھی  کلمہ گو ہے اسے اپنے دور  کے پیغمبر کے وصی کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔ 

 *حدیث ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ زمانے کے امامؑ کی معرفت حاصل نہ کرے تو وہ جہالیت (یعنی قبل از اسلام  کفر) کی موت مرا۔* 

یعنی حقیقی امام کی معرفت، آج دنیا میں بہت سے  مختلف فرقے اور مسلک ہیں جو خود کو حقیقی اسلام کہتے ہیں لیکن حقیقی اسلام وہیں ہے جہاں حقیقی امام ؑ ہیں اور امام ؑ تک پہنچنے کا بہترین راستہ قرآن مجید ہے۔ 

قرآن مجید خود ایسی پاکیزہ  راہ ہے جو  معصوم ہے صراط مستقیم ہے۔ اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں۔

 *مولا علیؑ فرماتے ہیں* 
" جان لیں کہ اگر کوئی شخص  قرآن سے علوم حاصل کر رہا ہے تو اب اس شخص پر  احتیاج باقی نہیں رہی یعنی اب وہ شخص محتاج نہیں اور قرآنی علوم حاصل کرنے سے قبل کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ 

بس قرآن سے اپنی بیماریوں (روحانی) کی شفا مانگو اور مشکلات میں قرآن سے مدد مانگو۔"

قرآن در حقیقت روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ قرآن کے ذریعے علم طب بنا جو جسمانی بیماریوں کی دوا ہے۔ 

ہمیں قرآن اور امامؑ کی معرفت ہونی چاہیے۔ 

جب ہم قرآنی نگاہ سے کسی موضوع پر کام کرتے ہیں تو پھر اس موضوع پر شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ 

اسلام آخری دین ہے۔ پیغمبرؐ کی رحلت کے بعد وحی نہیں آئے گی۔ آئمہؑ  بھی حامل وحی نہیں بلکہ محافظ وحی ہیں۔ 

بعض دفعہ ہمارے منبر سے ایسی گفتگو کی جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ امام ؑ بھی حامل وحی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمارے مخالف دھڑے اور اہلسنت کہتے ہیں کہ شیعہ ختم نبوت کے قائل نہیں۔ اور دین آنے کا سلسہ باقی رہا اور یہ 13 نبیوں کے قائل ہیں ۔ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ پیغمبر ؐ کے بعد وحی نہیں آئی۔  آئمہ ؑ  پر الہام ہوتا ہے۔ آئمہ محافظ وحی  اور احادیث ہیں۔ 

 *معصوم فرماتے ہیں* کہ اگر کوئی عام شخص 40 دن اپنی زبان کو گناہوں سے پاک کر لے  تو پروردگار اس کے قلب پر حکمت  کے چشمے کھول دیتا ہے۔ تو جب ایک عام انسان پاکیزگی کی راہ اختیار کرے تو   خدا خود معلم بن جاتا ہے۔  تو جو پاکیزہ لوگوں کا امام ہے ۔  جو مطلقاً امام معصوم ہے۔  اسپر الہام ہوتے ہیں۔

آئمہؑ  کو علم غیب عطا ہوا ۔ کیونکہ امامؑ عوام میں بطور اولیاء اللہ ہوتے ہیں تو ان کی غیبی مدد ہوتی ہے۔  لیکن وحی کا سلسلہ ختم ہے۔

مولا علیؑ نے بعد از رحلت  پیغمبرؐ  فرمایا کہ:
یا رسول ؐ اللہ آپ ؐ  کی موت سے  بشریت اس چیز سے (وحی)  محروم ہو گئی ہے ۔ جو آج سے پہلے نہ ہوئی تھی۔ یعنی سلسلہ وحی سے محروم ہو گئی ہے۔  اور آسمانی دین کا سلسلہ ختم ہو گیا۔  یہ دین قیامت تک رہے گا۔ 

ہر دور کے لیے قرآن کامل اور جامع کتاب ہے۔ اس میں تمام مسائل کا حل ہے۔ 

 *پروردگار عالم نےفرمایا:* " اے نبیؐ ہم نے آپؐ پر ایسی کتاب نازل کی کہ جس میں ہر چیز (کی ہدایت ) کا بیان موجود ہے۔ 
جیسے احکام شریعت۔ عقائد، اخلاق یعنی ایسی چیزیں  جو انسان کو راہ راست  پر لاتی ہیں جو انسان کو بندگی سیکھاتی ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔ اگر ایک انسان بگڑ جائے تو وہ معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ اگر وہ طاقتور ہو تو پوری مملکت کو جنگ میں جھونک دیتا ہے۔ 

اگر کوئی انسان بن جائے تو  وہ فائدہ مند  ہے  وہ  امت کو ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔ پورا محلہ اس سے استفادہ لیتا ہے۔ 
قرآن ہدایت ہے۔ 

سورہ البقرہ کی ابتدائی آیات بتاتی ہیں : کہ " ھدی المتقین" میں اہل تقویٰ کے لیے کتاب ہدایت ہوں۔ 

یعنی قرآن انسان کی نجات ہے۔ 
قرآن کی تفسیر و تاویل ہونی چاہیے۔ تفسیر کو انسان علوم کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن تاویل کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے یعنی وہ حقائق جو قرآن کے باطن میں ہیں ان کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے۔ 

قرآن کے ظاہر اور باطن کے لیے احادیث اور معصومین اور بلخصوص امام زمانہؑ کے ہونے کی ضرورت ہے۔ 
امام ؑ معلم قرآن ہے اور ان کی ہدایت اور فیض حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ 

👈جاری ہے
والسلام
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم*🌏




 *📢 سلسلہ دروس"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
  *درس نمبر:*  2
نبی ؐاکرم و اور اھل بیت علیھم السلام کا مقام،اھل ذکر کون ہیں؟

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* :

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس میں  ہدایت سے متعلق تمام نکات ، موضوعات موجود  ہیں۔ قرآن ایک کامل کتاب ہے ۔ ہدایت سے متعلق تمام ابحاث و نکات قرآن کے ظاہر میں بھی ہیں اور باطن میں بھی ہیں۔  اور باطن سے آگاہی محمدؐ و آل محمدؑ سے ممکن ہے۔ 

پیغمبرؐ اور آئمہؑ کا قرآن کے ہمراہ  کردار

قرآن  ایک  ایسی کتاب ہے جو نوع انسان کے لیے ہدایت کے تمام پہلو رکھتی ہے لیکن انسان کی  اپنی محدود عقل  یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ اس آسمانی کتاب کے اندر  کی تمام تر ہدایت کو مکمل طور پر درک کر سکیں  ۔ اس لیے ہم  ان ہستیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ہستیاں صاحبان وحی ہیں ۔  وہ ہستیاں کہ جن کو خود پروردگار عالم نے وحی اور الہام کے ذریعے حقائق سے آشنا کیا ۔ وہ ہستیاں جو سفیر  پروردگار ہیں جو حجت الہیٰ ہیں۔  وہ ہستیاں جو مبین اور مفسر قرآن ہیں۔ 

سورہ نحل کی آیت 46 میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے۔ "اے رسول ؐ ہم نے آپؐ کی طرف ذکر (قرآن) تم پر نازل کیا۔ تاکہ جو کچھ بندوں کے لیے نازل ہوا  آپؐ ان کے لیے بیان کریں۔ 

رسالت مآبؐ مفسر قرآن ہیں۔ آپؑ  کی رحلت کے بعد اب ہم قرآن کی تفسیر کس سے پوچھیں۔
رسولؐ اللہ نے اپنی زندگی میں یہ انتظام کیا۔ 

حدیث ثقلین میں فرمایا۔ میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں  چھوڑ کر جارہا ہوں  ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیتؑ۔ اگر ان دونوں سے تمسک کرو گے تو کبھی  گمراہ نہ ہو گے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے  جدا نہیں یہاں تک کہ روز قیامت مجھ تک پہنچ جائیں۔ 
 معلوم ہوا کہ اگر رحلت رسولؐ اللہ کے بعد اگر ہم نے ذکر کو سمجھنا ہے تو پھر اہل ذکر کو سمجھنا ہو گا۔  

 قرآن میں  ارشاد  پروردگار عالم ہے"اگر تم کوئی چیز نہیں جانتے تو اہل ذکر سے رجوع کرو۔ "

اہلسنت اور تشیع روایات میں ہے کہ " ہم  ( اہلبیتؑ ) اہل ذکر ہیں  ہمارے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ کیوں نہیں ان کی جانب رجوع کیا۔ 

یہ روایت اہلسنت کی 12 تفاسیر میں موجود ہے کہ اہل ذکر سے مراد محمد ؐ و آل محمدؑ ہیں۔  علیؑ و بتولؑ ہیں۔  یہ اہل ذکر ہیں اہل عقل ہیں ، اہل بیان ہیں ۔ حکمت و دانائی ان سے حاصل کریں 

جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے۔ تو اس کے معنی ہیں کہ قرآن ایک زندہ امام ؑ کے ساتھ ہے۔ 

قرآن  ایک جامع ہے۔ تو امامؑ اس  کے مفسر ہیں جو اس کا ظاہر و باطن بتا رہے ہیں۔ 

آج کے دور میں عترت محمدؐ کا مصداق امام مہدیؑ ہیں جن کی جانب ہم نے رجوع کرنا ہے۔ ۔  جو مفسر قرآن ہیں ، جو مبین قرآن ہیں جو قرآن کے ہمراہی ہیں۔  اور یہ وہ ہستی ہیں کہ جنہوں نے قرآن کو دنیا پر نافذ کرنا ہے۔ جن کی حکومت قرآنی حکومت ہے۔ 

 *وہ  ہستی جنہوں نے قرآنی ثقافت کو رائج کریں گے۔ مولا ؑ قرآن کو لوگوں کی زندگی کی اساس بنائیں گے۔ انشاءاللہ۔* 

👈جاری ہے

والسلام۔ 
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏*






 *🍃🌺 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے🌷🍃*

درس: 3 : قرآن میں تعارف کا طریقہ، ہماری تحقیق کی روش۔ 

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

خلاصہ: 
امام زمانہؑ کے بارے میں سوال ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں امام زمانہؑ کا نام کیوں نہیں ہے۔  علماء نے اس حوالے سے  دو طرح کے جواب دیے ایک تو یہ کہ جب لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اپنا من پسند خلیفہ بنانا ہے اور حکم رسول ؐ  اللہ کی مخالفت کرنی ہے تو انہوں نے قرآن پر بھی ظلم کرنا شروع کر دیتے۔   اور آیات کو بدل دیتے تو  اللہ تعالیٰ نے ان  ناموں کو پوشیدہ رکھ کر قرآن کو محفوظ کر دیا۔ 

لیکن اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ پروردگار  کی سنت الہیٰ ہے  کہ جب وہ کسی کا قرآن میں تعارف کراتا ہے تو تین طرح سے کراتا ہے۔  بعض مرتبہ نام سے تعارف کراتا ہے۔ جیسے ( انبیاء کا نام ابراھیم ، یونس ، محمد ص ،یا مختلف افراد کا نام لقمان کا نام۔  طالوت، جالوت، فرعون، وغیرہ 

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ  بعض لوگوں کے اعداد کے ذریعے ان کا تعارف کراتا ہے۔  کہ  حق اور باطل کے متعلق وضاحت ہو۔ مثلاً بنی اسرائیل میں 12 اوصیاء آئے۔  یا پھر  حضرت موسیٰ 70 آدمی لے کر کوہ ٰ طور پر گئے۔ 
یا پھر قرآن مجید صفات کے ذریعے تعارف کراتا ہے۔ نیک لوگوں کی صفات،، منافقین کی صفات، ظالمین کی صفات، پیغمبرؐ کے دشمنوں کا صفات کے ذریعے تعارف، کفار کا تعارف، اسی طرح صالحین کا صفات کے ذریعے تعارف ہے اور مجاہدین کا تعارف ہے۔ 

اب اسی طرح قران مجید نے رسولؐ اللہ کے وصیوں کا تعارف کہ جو خلیفہ ء بلا فصل ہیں ان کا تعارف  صفات کے ذریعے کیا۔ 
 مثلا سورہ اعراف کی آیت میں رسولؐ اللہ کا تعارف اُمی  کہہ کے پکارا۔ یعنی واحد رسولؐ ہیں جنہوں نے دنیا میں لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور قرآن کا عظیم معجزہ ان کے لسان مبارک سے جاری ہوا۔ یہ رسولؐ اللہ کی خاص صفت ہے آپؐ نے دنیا میں کسی سے تعلیم نہیں لی بلکہ خدا کی جانب سے علوم کے حامل ہیں۔ ۔ 

اسی طرح سورۃ مائدہ کی آیت ۔۔جس میں مولا علیؑ کی ولایت کی نشانی بیان ہوئی ہے۔ 

" *تمھارا ولی  اللہ ہے اور تمھارا ولی اللہ کا رسول ؐ ہے اور وہ صاحبان ایمان ہے جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔"* 

سب جانتے ہیں کہ تاریخ میں یہ ایک ہی واقعہ ہوا تھا۔ اور اگر یہاں مولا علیؑ کا نام آجاتا تو مخالفین اس آیت  پر  ظلم کرتے اور مولا ئے کائنات کا نام ہٹا دیتے۔ لیکن اللہ نے اس طرح سے قرآن کو مخفوظ کر لیا اور اہل حق تک پہنچنے کا راستہ کھلا رکھا کہ  اس آیت کی تحقیق کرو اور حق تک پہنچ جاؤ۔ 
قرآن میں مولا علیؑ کا تعارف صفات کے ذریعے ہوا ہے۔ 

اسی طرح جب پروردگار عالم نے اپنا خلیفہ  جناب طالوت کو بنایا تو ان کی حقانیت پر ان کی  صفات بیان کی کہ ان کی حقانیت کی دلیل یہ ہے کہ یہ دشمن سے اس تابوت کو لائیں گے جس میں جناب موسیٰ ؑ اور جناب ہارونؑ  کے تبرکات و آثار تھے۔ اور ایسا ہی ہوا   لوگوں کو اطمینان ہو گیا کہ جناب طالوت حق ہیں۔ 

قرآن میں آیت تطہیر شان اہلبیتؑ  کی گواہ ہے۔ کہ  جس میں صفات  پنجتن بیان ہوئیں اور اہل حق ان صفات کی تحقیق کے ذریعے اہلبیتؑ تک پہنچ جائیں۔ اگر یہا ں پر نام ہوتے تو دشمن نے قرآن میں تحریف  کر دیتے۔ جنہوں  نے قرآن کی زندہ  آیات کو شہید کیا ناطق قرآن کو شہید کیا وہ قرآن صامت کی آیات کو بھی تبدیل کر سکتے تھے۔ 

قرآن مجید میں بہترین طریقہ جو متعارف ہو جس کے ذریعے انسان حق کی طرف پہنچتا ہے وہ صفات کے ذریعے تعارف ہے
قرآن میں  200 سے زائد آیات میں  امام زمانہؑ کی شان و  صفات بیان ہوئی ۔ ان آیات پہ کام کرنے کے  ماہرین کے تین طریقے ہیں۔ 

-1 ان آیات پر کام کریں جن میں تفسیر و تاویل بیان ہوئی۔ 

2۔ موضوع کے اعتبار سے  کام کریں مثلاً ترتیب سے  آیا ت بیان کریں  جس میں صفات و شان  ہیں مثلا آیات غیبت کو بیان کریں پھر آیات حکومت کو بیان کریں۔  پھر آیات انتظار کو بیان کریں۔ 
3 ۔ سورہ الحمد سے شروع کریں اور دیکھیں   کہ امام زمانہؑ کی بارے میں آیت کہاں ہے۔  اور ترتیب سے آگے بڑھیں

اور بہترین طریقہ تفسیر و تاویل ہے۔ کہ آیت کو ان دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔  یعنی پہلے ان آیات کا ذکر کریں جن کے ظاہر میں امام مہدیؑ عج کا ذکر ہے پھر ان آیات کو بیان کریں جن کے باطن میں امام زمانہؑ کا ذکر ہے۔  یعنی تاویل۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز 
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏* 
🌾🌺






 *🌷 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے🌾*

قرآن کی رو سے  درس نمر: 4
اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ اور  امام مہدی عج کا  ظہور
سورہ توبہ ، فتح، اور صف کی رو سے  

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* :
قرآن مجید میں سورۃتوبہ ، سورۃ فتح  اور سورۃ صف میں  مہدوی موضوع,  اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ بیان  ہوا ہے۔ 
سورۃ توبہ کے اندر پروردگار عالم ارشاد فرما رہا ہے۔ 

" وہ اپنی پھونک کے ذریعے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں لیکن خدا انہیں مہلت نہیں دے گا جب تک اس کا نور کمال کے مراحل طے نہ کر لے ۔ اگر چہ کافروں کو یہ بات ناگوار کیوں نہ گزرے وہ خدا جس نے اپنے پیغمبر کو صحیح دین اور ہدایت کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر کامیاب قرار دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گذرے۔ 

سورۃ فتح میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے 

" وہ خدا ہے جس نے اپنے نبیؑ کو اس مقصد سے صحیح دین و ہدایت دے کر بھیجا تاکہ وہ انہیں سب ادیان پر کامیاب قرار دے اور خدا کا شاہد ہونا کافی ہے۔ 

سورۃ صف میں ارشاد ربانی ہے۔ 
" وہ اپنی  پھونک سے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں لیکن  خدا اپنے نور کو کام کرکے رہے گا اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار گزرے۔ خدا وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو دین  حق و ہدایت دے کر بھیجا  تاکہ وہ تمام ادیان پر غلبہ پاسکے اگرچہ مشرکوں کو  ناگوار ہو۔ 

ان تینوں آیات میں لفظ ( *لیظھرہ* ) آیا ہے یعنی غلبہ ، برتری ۔  پروردگار عالم ان آیات میں چند چیزوں کا اشارہ کر رہا ہے۔ دشمنان  مہدی  جو  امام ؑ  کے ظہور کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گے لیکن ان کو پروردگار عالم انہیں پرودگار کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ خدا اپنے نور کو کامل فرمائے گا۔ اور حجت خدا اپنے وقت پر ہر حالت میں ظہور فرمائیں گے۔  دین حق کا غلبہ ہو گا اور دشمنان اسلام مایوس ہو نگے ۔ 
 
یہ وہ بشارت ہے جو ہماری روایات میں بھی موجود ہے اور تمام اسلامی محقیقن اور علماء  اور محدثین سب  کا متفقہ فیصلہ ہے ان روایات اور احادیث کے ذریعے جو معصومینؑ سے ہم تک پہنچی  کہ  یہ دن کہ جب اسلام پوری دنیا پر غلبہ پائے گا اور پوری دنیا پر  اسلامی حکومت ہو گی وہ امام زمانہ ؑ کے ظہور کا دن ہے اور اس واقعہ کا گواہ خود خدا ہے۔ 
محمد بن فضیل کہتا ہے کہ امام موسیٰ کاظم ؑ سے پوچھا گیا۔ کہ مولا ؑ  خدا کے  اس فرمان  لیظھرہ علی الدین کلہ) سے کیا مراد ہے۔ 

امامؑ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ قیام امام مہدیؑ کے وقت اللہ تعالیٰ دین اسلام کو تمام ادیان پر کامیابی و کامرانی عطا کرے گا۔  یعنی دین اسلام کی حاکمیت کا زمانہ۔

ابو بصیر کہتے ہیں  کہ امام جعفر صادقؑ  سے ( ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لوکرہ المشرکون) کے متعلق سوال کیا گیا۔ 
 *تو آپ  ؑ نے فرمایا۔ " خدا* کی قسم ابھی تک اس کی تاویل نہیں آئی اور نہیں آئے گی ، جب تک حضرت قائمؑ خروج و ظہور نہ فرمائیں۔ بس جب قائم خروج کریں گے تو کوئی کافر و مشرک باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ قائم کے ظہور سے ناگواری محسوس کرے گا اور ناراض ہو گا حتی اگر کافر و مشرک کسی پتھر کے درمیان بھی پنہاں ہو جائے گا تو وہ پتھر گویا ہو گا : اے مومن میرے اندر کافر چھپا ہے مجھے توڑ کر اسے قتل کر دیجئے۔"

معصوم فرماتے ہیں جو اللہ اور آئمہ ؑ کے منکر  یعنی  کفار اور منافقین سب کو ظہور برا لگے گا اور یہ دنیامیں جہاں چھپیں گے  مومنین ان کو قتل کر دیں گے ۔ دنیا میں کفر و منافقت کی کوئی جگہ نہ  ہو گی۔ 

دنیا ایک مملکت کی مانند ہو جائے گی کہ جس کے حاکم امام  مہدی ؑ ہونگے اور پوری دنیا میں اسلام اور عدل کی حکومت ہو گی۔ 
 *ان آیات کے ذیل میں دو نکتے واضح ہوئے ۔* 

1۔ پوری دنیا میں اسلام کی  حاکمیت ہو گی۔  جیسا کہ امیر المومنینؑ  اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں۔ 

" کوئی بھی دنیا میں ایسی بستی نہیں بچے گی جہا ں شہادتین کا اعلان نہ ہو رہا ہو۔"
2۔ یہ سب بعد از ظہور امام مہدیؑ عج الشریف ہو گا۔ 

یہ مہدی ؑ زہراؑ ہیں جو ان تینوں آیات کے مجسم ، تاویل و تفسیر و تصویر  ہیں  کہ جن کے ذریعے دین اسلام غلبہ پائے گا انشاءاللہ۔🌺

 *شیخ صدوق رحمہ اللہ نے اپنی کتاب  کمال الدین میں امام حسینؑ کا فرمان نقل کیا* ۔ 

 *امام ؑ فرماتے ہیں۔"*  ہم بارہ کے بارہ ہی مہدی ہیں ہم بارہ کے بارہ ہی ہدایت کے سر چشمے ہیں ہم میں سے پہلے  امیر المومنین علیؑ ہیں اور آخری میری نسل میں سے نویں ہیں جو  بارہویں امام قاؑئم ہیں جو حق کے ساتھ قیام کریں  گے۔  خدا ان کے وجود مبارک سے مردہ زمین کو زندہ کرے گا۔ اور ان کے وجود مبارک سے دین حق تمام ادیان پر غلبہ کرے گا اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار لگے۔ 
امام مہدی کی غیبت میں بہت سارے لوگ دین حق سے ہٹ جائیں گے اور ایک گروہ دین حق پر ثابت قدم رہے گا ۔ انہیں اذیتیں دی جائیں گی اور انہیں کہا جائے گا یہ وعدہ کب پورا ہو گا۔  لیکن یاد رکھو  جو بھی ان کی غیبت میں ان اذیتوں اور جھٹلانے پر صبر کرے  اس مجاہد کی مانند ہے جو تلوار لیے ہوئے رسول ؐ اللہ کے سامنے اللہ کے دشمنوں ںسے لڑ رہا ہو۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
🌷🌷




 🍃🌷🍃
 *"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "* 
#  درس 5

# سورہ نور آیت 55، اللہ تعالیٰ کے وعدے 

🌹 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* :
سورہ نور آیت نمبر: 55 میں پروردگار عالم نے ایک وعدہ کر رہا ہے۔

"خدا نے تم لوگوں میں سے جو ایمان لائے ہیں اور اچھے شایستہ کام بھی انجام دئیے ہیں ، ان سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں لازمی طور پر زمین پر اپنا جانشین قرار دے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین پر جانشین قرار  دیا ہے اور وہ دین جو ان کے لیےپسندیدہ ہے ان کے نفع میں قرار دیا اور ان کے خوف کو امن میں تبدیل کر دیا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں ، کسی کو میرا شریک قرار نہ دیں، اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے وہ نافرمانوں میں سے ہے۔"

۔اس آیت میں پہلا وعدہ  یہ ہے کہ ان کے لیے ایک مخصوص صالح معاشرہ قائم کرے گا  کہ اس دور میں زمین پر انہیں حکمران قرار دے گا۔ 

۔ ان کے دین کو تمام ادیان پر برتری عطا کرے گا (آیت تکمیل دین)

-ان کے ڈر و خوف کو امن و امان میں تبدیل کر دے گا
۔ صرف خدا کی اطاعت کریں گے۔ صرف اللہ کی عبادت کریں گے۔ 

۔ ، اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے وہ نافرمانوں میں سے ہے۔

اس آیت مبارکہ سے پتہ چل رہا ہے کہ عصر ظہور میں انسان کے لیے اتنا سارا امن و امان ، دین کا استحکام، زمین کا  عدل و انصاف سے بھرنااور شیاطین کے مرنے کے باوجود انسان اتنا اختیار رکھتا ہے یعنی کفر کرنے والے کر سکتے ہیں  گناہ کرنے والے  کر سکتے ہیں لیکن  امام ؑ کی تربیت میں  ایسا ماحول ہو گا کہ گناہ نہ ہونے کے برابر ہو نگے۔ اختیار ہو گا۔ 

اس آیہ مبارکہ میں تین وعدے ہیں اور ان کا نتیجہ ہے اور تنبیہ ہے۔ 

پہلا وعدہ ہے کہ پروردگار عالم امت محمدی میں سے ایک گروہ  کو زمین پر اپنا خلیفہ قرار دے گا  اور روایات کی رو سے یہ حکومت پوری زمین پر ہے۔ اور روایات کے مطابق جناب ذولقرنین نے زمین  سے بیشتر باطل حکومتوں کو ختم کیا۔ وہ انبیاء جو جو اللہ کی جانب سے   حاکم بھی تھے جیسے جناب نوح ع،موسی ، یوشع بن نون ع داؤد ع و سلیمانؑ ع اور پھر جناب رسالت مآبؐ کی حکومت ہے۔ لیکن اس آیہ میں پروردگار عالم جس حکومت کا ذکر فرما رہا ہے۔  یہ پور ی زمین پر ایک حکومت ہو گی اور زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی ایک لازوال حکومت ہو گی۔ ایک دین  اسلام ساری زمین پر  ہوگا جو جناب جبرائیل امین لے کر آئے تھے۔ امن و امان ہو گا۔ تو پھر حق یہ ہے کہ پھر دین خالص کی رو سے خدا کی  خالصانہ عبادت ہوگی۔  اور جو اللہ کو نہیں مانے گا تو پھر اسلامی قوانین کے مطابق سزا ہو گی۔ 
یہ وعدہ سارے لوگوں سے نہیں بلکہ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو عمل صالح کرنے والے  اور اہل ایمان ہونگے۔ 

تو پروردگار عالم ان عمل صالح کرنے والوں  اور اہل ایمان کو یہ قوت عطا فرمائے گا کہ وہ ظہور امامؑ سے پہلے تیاری کریں گے۔ اور امام زمانہؑ کے ظہور کا باعث بھی ہونگے۔  یہ آیت تیاری ظہور کی جانب بھی اشارہ  کر رہی ہے۔ 
کہ ظہور امامؑ کے لیے عمل صالح اور ایمان کی ضرورت ہے۔ 

اس آیہ  سے یہ بھی ظاہر ہو  رہا ہے کہ امام مہدی ؑ وقت کے زندہ امامؑ ہیں۔  امامؑ کی جانب  سے اسباب مہیا ہو رہے ہیں اور لوگ امامؑ کی جانب توجہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہاں ضرورت ایما ن اور  عمل صالح کی ہے۔ 

 یہ پروردگار کا قانون ہے۔  آیت مبارکہ ہے کہ " خدا اس قوم کی تقدیر کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود نہ بدلیں۔ 

 *امام صادقؑ فرماتے ہیں۔* 
اس آیت کا مصداق ابھی تک نہیں آیا۔ قائم کے زمانے  کو پانے والے اس آیت کی تاویل کو  دیکھیں گے۔  فرماتے ہیں کہ جو اس  زمانے کو  پائے گا  اس آیت کی تصویر اور تاویل کو پائے گا پھر دیکھے گا کہ دین محمدی وہاں پہنچا ہے جہاں رات پہنچتی ہے"

۔  اور پھر زمین پر کوئی مشرک  باقی نہیں رہے گا۔ ۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم 🌏* 
🍃🌸🍃





 ✨💫✨

 *امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے* 

 *درس نمبر:* 6
سورۃ انبیاء میں بشارت الہی، امام مہدی عج اور انکے انصار زمین  کے وارث 

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* ۔ 

پروردگار عالم سورہ انبیاء  کی 105 نمبر آیت میں ارشاد فرما رہا ہے۔ 
 *وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِىۡ الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ‏ ﴿۱۰۵﴾* 

اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷) ﴿۱۰۵﴾
پروردگار عالم  اس آیت میں  اپنے صالح بندوں کی بشارت دے رہا ہے ۔ کہ ہمارے صالح بندے زمین کے وارث ہیں ۔  یہ آیت مجیدہ آسمانی کتابوں اور ظہور کے بارے میں ہے۔ 

آیت  میں ذکر سے مراد تورات  اور قرآن مجید یعنی کلام الہیٰ ہے۔  اور اس میں لکھا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے صالح بندے ہونگے۔  یہاں زمین کے ایک خاص خطہ کے بات نہیں ہو رہی۔ یہ پوری زمین کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ 

اس سے پہلے بھی زمین کے مختلف حصوں پر صالحین کی حکومتیں رہیں۔ جیسے رسول ؐ خدا  کی حکومت  ، حضرت سلیمان ؑ و داؤد ؑ  ،  بنی اسرائیل جہاں جہاں آباد تھے وہاں وہاں صالحین کی حکومتیں رہیں۔ یوشع بن نون کی حکومت ایک خطے پر تھے۔ یہ آیت پوری زمین کی بات کر رہی ہے ۔ تمام شیعہ سنی مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت  مہدویت ہے۔   یہ اس واقعہ کی نشاندہی کر رہی ہے جو آخر الزمان میں ہو گا۔ یعنی آخری زمانے میں صالح بندے کی حکومت پوری  زمین پر ہو گی۔ اور یہ وہی واقعہ ہے جس کے بارے میں بہت ساری احادیث ہیں ۔ 

رسولؐ خدا نے  آخری زمانے میں اپنی نسل سے آنے والے مہدیؑ عج الشریف کی بشارت دی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔  اور حکومت  الہیہ کا قیام کریں گے۔ 

اس آیت مبارکہ میں پروردگار عالم نے جن لوگوں کو زمین کا وارث بنانا ہے ان کی دو صفات بیان فرمائی ہیں؛

1۔💠  یہ بندےعبد خدا ہیں۔ ان کے اندر عبودیت ہے۔ وہ کسی چیز میں خود کو مستقل نہیں سمجھتے۔  وہ تمام تر اللہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے اندر ایمان راسخ ہے۔  توحید حقیقی پر فائز ہیں۔   وہ ہر  چیز میں پروردگار کی طرف متوجہ ہیں اور اس کی منشا کے مطابق حرکت کرنے والے ہیں۔ 

2۔ 💠 صالح سے مراد یہ ہے کہ  یہ شائستگی رکھتے ہیں کہ حکومت کریں ان کے اندر صلاحتیں ہیں ان کے اندر  بصیرت و مہارت و حکمت و علم ہے۔ 

 بعض افراد کہتے ہیں کہ یہ آیت مجیدہ پروردگار عالم کا کلی وعدہ ہے۔ اور یہ بتدریج ہوگا۔  لیکن جو حکومتیں بھی برپا ہوئیں وہ مخصوص خطوں میں تھیں اور عالمی حکومت فقط مہدیؑ آخرالزمان عج الشریف کی ہے۔ 

رسولؐ اللہ اور آئمہ ؑ کے جتنی  روایات اس آیہ مبارکہ کے ذیل میں آئیں ہیں وہ یہی بیان کر رہی ہیں کہ  یہاں  صالح سے مراد امام زمانہؑ اور ان کے شیعہ اور انصار ہیں۔ 

قرآن میں جہاں بھی لفظ کتَبَا آیا ہے اس کا مطلب ہے کہ  یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ یہ اللہ کا کتبی حکم ہے۔  یہ ہو کر رہے گا۔ 

لفظ ارض آیا ہے یعنی پوری زمین پر یہ ہوگا۔

وارثت سے مُراد یہ حکومت تا قیامت رہے گی۔ 

پروردگار نے یہ نہیں کہا کہ میں حاکم بناؤں گا۔ بلکہ وارث کہا۔  یعنی روایات میں آیا ہے کہ جب امام ؑ وارث بنیں گے تو  قیامت تک صالحین  مالک ہونگے ۔ زمین ان کے دائرہ قدرت میں ہوگی۔ 
امام مہدی ؑ اس حکومت کے پہلے مالک ہیں۔  70 سال حکومت فرمائیں گے  اوربعض  روایات میں ہے کہ آپ کے بارہ جانشین پھر حکومت فرمائیں گے۔ 

ہمارا فریضہ یہ ہے کہ  مولاؑ جان کی حکومت  کے لیے اپنے وظائف ادا کرے اور ظہور  کی راہ ہموار کریں۔ 

امام محمد باقرؑ نے اسی آیت مبارکہ کے ذیل میں  فرمایا:  کہ اس آیت میں جو کہا گیا وہ تورات اور زبور تک نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں  میں یہ بشارت دی گئی ہے۔ اور  ( ان  الارض۔۔۔) سے مراد قائم ؑ اور ان کے انصار ہیں۔ 
👈جاری ہے
والسلام.
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
🌺🌷☘️



 ☘️🌷☘️

*📢" امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "* 
#  *درس* 7

# سورہ انبیاء میں مستضعفین کی حکومت اور وراثت زمین کی بشارت،سورہ حدید میں زمین کے دوبارہ زندہ ہونے کی بشارت،مستضعفین کون ہیں اور زمین کی زندگی سے مراد

 *خلاصہ* : 
 *سورہ قصص آیت نمبر 5:* 💠
 *وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّـذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِى الْاَرْضِ وَنَجْعَلَـهُـمْ اَئِمَّةً وَّّنَجْعَلَـهُـمُ الْوَارِثِيْنَ (* 5)
اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔

 *سورہ حدید آیت نمبر* 17
 *ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ* 
💠
یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو. 

یہ آیات مہدویت کے حوالے سے ہیں ۔ شیعہ سنی مفسرین ان آیات کو  امام  زمانہؑ کی حکومت سے تفسیر اور تاویل کرتے ہیں۔ 

 *سورہ قصص کی آیت نمبر 5* میں پروردگار عالم زمین پر کمزور لوگوں کی حکومت  کی بشارت دے رہا ہے۔ وہ لوگ جن کا حق چھینا گیا۔ 

بظاہر یہ آیت حضرت موسیٰ ؑ کی داستان سے مربوط ہے۔ فرعون بنی اسرائیل پر بے پناہ ظلم کرتا تھا۔ ان کے نومولود بچوں کا قتل کرتا ان کی عورتوں کو کنیزی میں لیتا تھا۔ فرعون چاہتا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو مکمل طور پر برباد کر دے لیکن رب کا ارادہ کچھ اور تھا۔ پروردگار عالم نے اسی کمزور قوم سے حضرت موسیٰ کو پیدا کیا اور پروردگار عالم نے اپنے احسان سے حضرت موسیٰ کو وہ طاقت بخشی کہ جناب موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ظالم فرعون سے آزاد کروایا۔ اور قوم موسیٰؑ بعد میں مصر سے نکلی اور پھر فلسطین  میں بالاآخر   ایک حکومت تشکیل  دی جو صالحین کی حکومت تھی۔ 
پروردگار کا یہ ارادہ فقط اس وقت نہیں تھا بلکہ ہمیشہ یہ ارادہ ہے۔  لوگوں نے آئمہؑ کی حکومت کو برپا نہ ہونے دیا ۔
ورنہ پروردگار مظلومین کی مدد فرماتا ہے اور ظالمانہ حکومت کو ختم کرتا ہے اور حکومت عدل کو قائم فرماتا ہے۔ 
اس آیت کے ذیل میں جو روایات ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے یہ لطف دوبارہ بھی کرنا ہے اور آل محمدؑ  جن کا حق تھا کہ وہ پیغمبر ؐ کے بعد وہ پیشوا، حاکم اور خلیفہ بنتے۔ 
آج  دنیا میں  جو ظلم ہے اور کمزور لوگ تباہ ہو رہے ہیں تو انشاءاللہ کہ پروردگارعالم آل محمدؑ کی مدد فرمائے گا۔  اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا۔ 

 *امیرالمونین ؑ علی ابن ابی طالبؑ  اسی آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں۔* : " یہاں پر مستضعفین سے مراد ایک مصداق آل محمدؑ ہیں  اور ان میں سے پروردگار عالم امام مہدیؑ کو اٹھائے گا اور مبعوث کرے گا اور عزت بخشے گا اور پھر قیامت تک حکومت آل محمدؑ کے پاس ہو گی۔ " *انشاءاللہ* 
اور خدا اپنے ارادے کی  خلاف ورزی نہیں کرتا۔ 

 *شیخ صدوق رحمۃ اللہ* نے اپنی کتاب کمال الدین میں  پیغمبر ؐ اکرم  سے  روایات نقل کی ہیں کہ امام مہدیؑ وہی ہستی ہیں کہ جنہوں نے زمین کو عدل سے بھرنا ہے۔  

 *شیخ صدوق* اپنی کتا ب میں بیان فرماتے ہیں کہ جب امام مہدیؑ کی ولادت ہوئی تو آپؑ نے اسی آیت مبارک (سورہ قصص آیہ 5) کی تلاوت فرمائی۔ 
یعنی  امام زمانہؑ ہی وہ ہستی ہیں جو دنیا  کے فرعونوں سے لڑیں گے اور امام بنیں گے اور دنیا میں حکومت عدل بپا ہو گی۔ 

 *اور دوسری آیت سورہ حدید آیت نمبر 17 ہے* 
"یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو". 

 اس میں  پروردگار مومنین کی تنبیہ بھی فرماتا ہے کہ کیا خشوع کا وقت نہیں آیا اور وہ  قلوب جو مر چکے ہیں وہ ذکر الہیٰ سے زندہ ہونگے۔  جس طرح  مردہ زمین بارش کے   قطروں سے زندہ ہوتی ہے۔
اس آیت میں زمین سے مراد اہل الارض ہیں۔ 

 *جسطرح زمین بارش سے زندہ ہوتی ہے اہل الارض ذکر الہیٰ سے زندہ ہوتے ہیں۔* 

 اور ساری زمین تب زندہ ہوگی جب قائمؑ کا ظہور ہو گا۔ اسوقت   تمام اہل الارض زندہ ہونگے اس وقت حقیقی معنوں میں ذکر الہی زندہ ہو گا۔ اس وقت حقیقی اسلام پھیلے گا اس وقت عدل و انصاف ہو گا۔ 

 *امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں۔* 💠
" اللہ زمین کو بعد موت زندہ کرے گا۔ یہاں زمین کے مرنے سے مراد کفر ہے اور کافر ہمیشہ میت ہوتا ہے۔" 

 *اس آیت کے ذیل میں ۔محقق کلینی رحمتہ اللہ  نے  امام جعفر صادقؑ سے نقل فرماتے ہیں۔* 💠
امام مہدؑی ظلم کے بعد جب عدل کو جاری فرمائے گے تو اہل زمین امامؑ کی عدالت سے زندہ ہونگے۔  
👈 جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏* 

💫

*💫✨ سلسلہ آفتاب امامت ✨💫*

مورخہ 13 اکتوبر، 2021

 *درس نمبر* 8
امام زمان عج کا معارف بیان کرنا اور شیعوں سے ہدیہ و واجبات کی وصولی اور اس میں اہم نکات

 *استاد مہدویت محترم علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* 
زمانہ حضور میں امام زمانہؑ  کی ولادت کو مخفی رکھا گیا۔تو دوسری جانب امام زمانہؑ کے تعارف کے لیے امام حسنؑ عسکریؔ نے  اقدامات کئے۔ امام عسکریؑ نے سب سے پہلے اپنے خاص پیروکار اور شیعہ بزرگان کو امام زمانہؑ کا تعارف کرایا کہ یہ میرا فرزند ہے اور  سلسلہ امامت قائم ہے۔  امام ؑ نے اپنے خاص اصحاب کو خطوط لکھے اور تعارف کرایا۔

اور اگر کوئی فقیہ یا عالم کوئی سوالات لے کر آتا تھا تو امام حسن عسکریؑ کی کوشش یہ ہوتی تھی  کہ ان کے سوالات کے جوابات امام  مہدیؑ دیں ۔ 

اس زمانے میں کچھ لوگوں نے امام زمانہؑ سے علمی فیض بھی لیا ۔ اور لوگوں میں امامؑ نے معرفت کی باتوں کو منتقل بھی کیا۔ مثلاً شیخ صدوق رح  نے ابونصر  طریف کا واقعہ نقل کیا یہ واقعہ کمال الدین جلد نمبر 2 میں اور باب نمبر 43 میں حدیث نمبر12 میں ہے ۔  اور دیگر کتابوں میں بھی ہے۔ 
ابو نصر  امام عسکریؑ  کے گھر میں تشریف لاتے ہیں اور وہاں ان کو امام زمانہؑ کی زیارت ہوئی۔

امام زمانہؑ نے فرمایا: کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ میں نے عرض کی: ہاں میرے آقا۔ امامؑ نے فرمایا: میں کون ہوں؟ میں نے کہا: آپ میرے آقا کے بیٹے اور خود بھی میرے آقا و مولاؑ ہیں۔ 
امامؑ نے فرمایا: میرا سوال اس جہت سے نہیں ہے،  پھر میں نے عرض کی ، مولاؑ آپ پر  قربان جاؤں: مولا ؑ آپؑ خود میرے لئے کچھ بیان فرمائیں تو امام ؑ نے ارشاد فرمایا: 

" *میں خاتم الا وصیاء ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے وسیلے سے میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاء و مصیبت کو دور کرتا ہے"۔* 

امام ؑ نے اپنے دو الہی منصبوں کا ذکر کیا ہے ایک خاتم الاوصیا ہیں ۔ سب امام وصی یں لیکن امامؑ خاتم الاوصیاء ہیں۔ 

اور دوسرا منصب  میرے مولا ؑ کا کہ وہ زمانہ حاضر کے ولی پروردگار ہیں۔  لوگوں کو راہ ظلمت سے نکال کر راہ ہدایت پر لاتے ہیں۔  امام ؑ وسیلہ پروردگار ہیں ۔  اصل کام پروردگار عالم کا ہے۔ جسطرح پروردگار نے علاج کے لیے ڈاکٹر کو وسیلہ بنایا۔ پرورش کے لیے  والدین وسیلہ ہیں ۔ اسی طرح  امامؑ وسیلہ ہدایت و معرفت ہیں۔ 
یہاں امامؑ ایک اور نقطے کی جانب بھی اشارہ فرما رہے ہیں کہ فقظ شیعوں کی ذمہ داری  یہ نہیں کہ وہ   12 آئمہ  ؑ  کا نام یاد کر لیں  اور ان کو  اپنے آئمہ کے احوال اور سیرت اور مرتبہ کی معرفت بھی ہو۔ 

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ  کہ ہمارے آئمہ کے کیا کیا مراتب اور عہدے ہیں  تاکہ ہم ان سے فیض لیں ۔ 

 *زیارت جامعہ کبیرہ   معرفت مقام آئمہ ہے اور اس کی تلاوت بہت ضروری ہے۔* 

اسی طرح امام حسن عسکری ؑ کے دور میں جب امام ؑ کے وکلا ء  خمس و زکوۃٰ لے کر امامؑ کی بارگاہ میں آتے تھے۔  تو امام عسکریؑ ، امام زمانہ ؑ جو چند سال کے تھے ان سے فرماتے تھے کہ آپ وصول کریں۔
 
امام ؑ وکلاء کو اشارہ فرماتے تھے کہ آپ ؑ یہ میرے فرزند کو پیش کریں تاکہ وہ آپ سے وصول کریں۔ 

اور وہ آپ کو وصولی کا کاغذ دیں یا ہدیہ دیں۔ 
اس دوران کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ امام زمانہؑ نے مال واپس کیا۔ شیخ صدوق نے اس واقعے کو اپنی کتاب کمال الدین میں نقل کیا۔ کہ سعد بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم امام عسکریؑ کی بارگاہ میں  پہنچے تو  امامؑ  کسی کو خط لکھ رہے تھے۔ جب خط تمام ہوا تو احمد بن اسحاق نے شیعوں کی بھیجی ہوئی رقوم اور مال  کی تھیلیوں کو  اماؑم کی خدمت میں پیش کیا ۔ امام  عسکریؑ  نے ایک طفل مبارک جس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی ماند چمک رہا تھا اس  کی جانب اشارہ فرمایا۔اے نور نظر  اپنے شعیوں اور دوستوں کے تحفوں کو کھولو اس طفل مبارک نے فرمایا  : اے  میرے مولاؑ کیا میں ان اموال کی جانب ہاتھ بڑھاو جن میں آلودہ اموال ملے ہوئے ہیں۔  چنانچہ امامؑ نے احمد بن اسحاق سے  کہا کہ تم خود تھیلوں کو کھولو۔ طفل مبارک نے ہر تھیلی کی رقم اور اسکے مالک  اسکے محلے  کا نام اور کے بارے میں بتایا۔  ایک مورد میں فرمایا  کہ اس تھیلی میں باسٹھ  دینار ہیں کہ جن میں سے 45 دینار اپنے باپ سے وراثت میں لی گئی پتھریلی زمین کی قیمت ہے۔ چودہ دینار نو قیمتی  کپڑوں کی قیمت اور تین دینار دکانوں کا کرایہ ہے۔ امام عسکریؑ نے فرمایا۔ اے میرے فرزند آپ ؑ نے درست فرمایا۔ اب اس  شخص کو بتائیں ان میں سے کونسے سکے حرام ہیں۔

طفل مبارک نے پوری توجہ کے ساتھ حرام سکوں کو منتخب کیا اور انکے حرام ہونے کا سبب بھی بیان فرمایا۔ 

پھر احمد بن اسحاق نے ایک اور تھیلی نکالی   تب طفل مبارک نے حسب سابق اس تھیلی کے مالک کا نام اور اس کا محل سکونت بتانے کے بعد فرمایا۔ کہ اس تھیلی میں پچاس دینار ہیں جنہیں ہاتھ لگانا ہمارے لیے مناسب نہیں ہے ۔ احمد بن اسحاق نے جب وجہ پوچھی تو فرمایا:  اس لیے کہ یہ دینار اس گندم کی قیمت ہیں جس کے مالک نے تقسیم کرتے وقت کاشت کرنے والوں پر ظلم کیا ہے۔ کیونکہ مالک نے اپنا حصہ پیمانہ بھر کر اور کاشت کاروں کا حصہ بھرے ہوئے پیمانے کے بغیر نکالا ہے ۔ اما عسکریؑ نے فرمایا اے فرزند آپؑ نے سچ کہا۔ 
پھر امام  نے احمد بن اسحاق سے کہا کہ یہ سارا مال اٹھا لو اور خود اس کے مالکین تک پہنچا دو یا ہمارے دوستوں سے کہہ دو کہ اس مال کو اس کے اصلی مالکو تک پہنچا دیں  کیونکہ ہمیں ایسے مال کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اس میں ہمارے لیے بہت بڑا درس ہے کہ ہم جب عالیشان اجتماع کرواتے ہیں اور مجالس کرواتے ہیں  اور خدا نہ کرے جب مال حرام ہوتا ہے۔ تو  پروردگار  عالم اور امامؑ راضی نہیں ہوتے۔ 

والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم🌏*


 💫🌸✨✨

📢 *سلسلہ دروس"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
#  *درس* 9
# سورہ اسراء میں آیت ندعو کی تفسیر و تاویل، امام صادق ع کے فرمان میں معرفت امام کی اہمیت ،اصحاب یمین کون ہیں

 *استاد مہدویت محرم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* :
 *سورہ اسراء آیت نمبر:* 17
یاد کرو اس روز کو جب ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا پھر ہر شخص کہ جسے اس کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دئیے جائیں گی وہ اپنے اعمال ناموں کو پڑھیں گے ان پر کھجور کے دانے (بیج) کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔ 

تفسیر کی رو سے پروردگار عالم ایک اہم مسئلہ کی جانب ہماری توجہ دلا رہا ہے ایک امامت اور دوسرا رہبری۔ 

یہ آیت بتا رہی ہے کہ دنیامیں   لوگوں کے لیے امام  موجود ہیں۔ اچھے امام بھی موجود ہیں اور برے بھی۔ امام کہتے ہیں جسکی اقتداء کی جائے۔  دنیا میں دو امام موجود ہیں امام نور اور امام نار۔ امام  نور وہ  ہے جو پروردگار کی جانب سےبھیجا گیا ہے۔ جو نبیؑ  اور پھر ان کے وصی ہیں جنکے پیچھے چلنے والے روزمحشر ان کے ساتھ  محشور ہونگے۔ اور ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اصحاب یمین ہونگے۔  اور  اگر ایسے کو امام بنایا جو شیطان کا  پیروکار ہے تو پھر ہم روز قیامت اس کے ساتھ محشور ہونگے۔  جو کہ امام نار ہے۔         اور پھر ہمارا نامہ اعمال ہمارے بائیں ہاتھ میں ہو گا اور  ہم اصحاب شما ل ہونگے۔ 

 *آیت کی تاویل:* 💠💠
ہر زمانے میں ایک نوری امامؑ موجود ہے جو ہر زمانے کی امت کی رہبری کرتے ہیں اور ہر زمانے کی امت ان کی اقتداء کرتی ہے۔ 
تمام شیعہ اور اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ رسول ؐ خدا آخری نبی ؐ ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی ؐ نہیں آئے گا۔ اور فرمان رسولؐ ہیں کہ ان کے بعد 12 خلفاء آئیں گے۔ جن میں پہلے امام علیؑ ہیں اور آخری امام مہدیؑ عج الشریف ہیں۔ 

یعنی  اس آیہ مبارکہ اور حدیث رسولؐ خدا کی رو سے آج کے خلیفہ امام مہدیؑ عج الشریف ہیں۔ 

امام جعفر صادق ؑ سے آیت کریمہ کے حوالے سے سوال کیا تو امام ؑ نےفرمایا: اے فضیل امامت کو پہچانو، بس اگر تم نے امامت کو پہچان لیا تو تمہیں کوئی نقصان نہ ہو گا کہ یہ امر (قیام و ظہور کا زمانہ) جلدی واقع ہو یا دیر میں۔ جو اپنے امام کو پہچان لے اور قائم کے قیام  سے پہلے مر جائے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے وہ ان کے لشکر میں ہو ، نہیں بلکہ ایسے ہیں جیسے ان کے پرچم تلے ہو۔ 

یہ آیت بتاتی ہے کہ ہر دور  میں ہر امامؑ کی معرفت ضروری ہے۔ 
دوسری روایت میں امام ؑ فرماتے ہیں۔ 
 جو اپنے امامؑ کی معرفت پیدا کرے وہ ایسے ہے کہ جیسے امام منتظر ؑ کے خیمہ میں موجود ہو۔ 

 *اہم نکات* :💠
۔ اپنے زمانے کی معرفت امام انسان کی زندگی میں بہت اہمیت اور اہم مقام کی حامل ہے۔ جو لوگ اماؑم نور کی معرفت یعنی صراط مستقیم پر چلتے ہوئے نجات حاصل کریں  ۔ اور  جو صراط مستقیم کو اختیار نہیں کرتے اور امام نار کا انتخاب کرتے ہیں تو ان کی آخرت باخیر نہیں۔ 

۔ تمام معرفتوں میں امام کی معرفت خاص طور پر اہم ہے۔ اپنے زمانے کے امام کی پیروی یعنی سنت رسولؐ اور پروردگار عالم کی پیروی ہے۔  دین کا آغاز اپنے امام کی معرفت سے کیا جائے۔  

۔ امام کی اطاعت در حقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اگر ہم زمانہ رسولؐ میں ہیں تو رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت۔ اور اگر ہم اپنے زمانے کے امامؑ کے دور میں ہیں تو پھر امام زمانہؑ کی اطاعت اللہ اور اسکے رسولؐ کی اطاعت ہے۔  اورجو یہ اطاعت کر رہا ہے اسے کوئی خوف و خطر نہیں کیونکہ ان کا سرپرست اللہ ہے۔ 

۔  جو شخص اپنے زمانے کے امامؑ کی اطاعت اور معرفت ان امور پر کرتا ہے  تو پھر اس کا اجر و ثواب  یہ ہو گا کہ وہ امام زمانہؑ کے لشکر میں تھے اور ان کے دوستوں میں شمار ہو نگے۔ 
👈جاری ہے 
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
☘️☘️




 🌸🌷🌷🌷

*📢 سلسلہ دروس"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
#  درس 10
# سورہ ھود میں آیت بقیۃ اللہ کی تفسیر و تاویل، امام باقر ع کے فرمان کی رو سے ظہور کے حالات و علامات اور آغاز ظہور، دیگر مہدوی نکات

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

خلاصہ۔
سورہ ھود آیت نمبر:  86 میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے ۔ " خدائی ذخیرہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر مومن ہو تو اور میں تمھارا محافظ نہیں ہوں"۔  
 
اس آیت مجیدہ کی تفسیر کو اگر دیکھا جائے ۔ تو حضرت شعیب ؑ کی قوم جو غلط طریقے سے مال جمع کرنے میں مصروف تھی  تو اس آیت مجیدہ میں حضرت شعیب ؑ کی ان کی قوم سے گفتگو ہے۔ حضرت شیعب ؑ فرما رہے ہیں کہ اگر تم  حلال مال کو جمع کرو تو یہ باقی رہے گا اور اس کی برکتیں تمھارے شامل حال رہیں گی اور تمھارے  کام آئے گا۔ لیکن اگر تم  ظلم و ستم  سے مال جمع کرو گے تو یہ تمھارے کام آنے والا نہیں۔ 
یہ مال حرام تمھارے لیے وبال جان اور آخرت کی بربادی بنے گا۔ اور دنیا میں برکت نہیں بلکہ نحوست کا باعث ہے۔ 

اس آیت کی تاویل یہ ہے کہ بقیتہ اللہ کا  کامل مصداق امام مہدیؑ ہیں اور یہ امامؑ کے لیے تاویل ہے۔ 

امام  مہدیؑ وہ ذخیرہ الہی ہیں جو 1100 سال سے غیبت کی شکل میں پروردگار عالم نے مخفی رکھے ہیں۔ اس ذخیرہ الہی  کو پروردگار اس کے وقت پر ظاہر فرمائے گا تو ان کے وجود سے تمام دنیا کو برکتیں ملیں گی ۔ 
شیخ صدوق (رح) ایک روایت میں امام محمد باقر ؑ سےنقل فرماتے ہیں۔ 

"ہمارے قائم کی رعب کے ذریعہ مدد دی جائے گی ( ان کا رعب دشمنوں کے دلوں میں بیٹھ جائے گا)، نصرت کے ذریعے کامیابی حاصل ہوگی، زمین ان کے نورانی وجود سے منور ہوجائے گی۔ خزانے ان کے لی ظاھر ہو جائیں  گے، ان کی حکومت مشرق و مغرب پر چھا جائے گی، اللہ تعالی ان کے وسیلے سے اپنے دین کو تمام   ادیان پر غلبہ  عطا کرے گا اگرچہ مشرکوں کو یہ بات ناگوار کیوں نہ گزرے، زمین پر کوئی ویرانی باقی نہیں رہے گی مگر یہ کہ آباد ہو جائے،۔

حضرت روح اللہ عیسیٰ ابن مریم (ع) آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں  گے۔ راوی کہتا ہے میں نے پوچھا: اے فرزند رسولؐ آپؑ  کا قائم کب خروج  کرے گا؟ فرمایا:  جب مرد عورتوں کی شبیہ اختیار کریں گے اور عورتیں مردوں کی شبیہ بن جائیں گی، مرد مردوں پر اکتفاء کریں گے ۔ عورتیں عورتوں پر اکتفاء کریں گی، عورتیں  زین پر سوار ہوں گی، جھوٹی گواہیاں  قبول کی جائیں گی، سچی گواہی رد کر دی جائے گی۔ لوگ سود خوری، خون ریزی، اور زنا جیسے بد تر گناہ کو ہلکا شمار کریں گے۔ شریر افراد سے ان کی زبان کی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہوں گے، سفیانی شام سے خروج کرے گا، یمانی  یمن سے خروج کرے گا۔

 بیداء کی زمین دھنس جائے گی، آل محمد کا ایک جوان جس کا نام (محمد بن حسن ہے) وہ نفس ذکیہ ہے وہ رکن کعبہ و مقام (ابراہیم) کے درمیان قتل ہو گا ۔  آسمان سے صدا آئے گی حق اس کے اور اس کے شیعوں کے ساتھ ہے اس وقت ہمارا قائم خروج کرے گا جب ان کا ظہور ہو  گا۔ تو خانہ کعبہ سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے ۔ 313 افراد ان کے گرد جمع ہو جائیں گے، ان کا پہلا کلام قرآن کریم کی آیت  ہے۔    
 *(بقیتہ اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین)* پھر وہ کہیں گے میں زمین پر  بقیۃ اللہ ہوں تمھارے لیے خدا کا خلیفہ اور اس کی حجت ہوں ، انہیں ہر سلام کرنے والا کہے گا اسلام علیکہ یا بقیت اللہ فی ارضہ
کلینی رح روایت نقل کرتے ہیں  ۔ عمر بن زاھر روایت کرتے ہیں کہ کسی نے امام صادقؑ سے پوچھا کیا قائم کو لفظ (امیر المومنینؑ) کہہ کے سلام کیا جا سکتا ہے فرمایا نہیں یہ وہ نام ہے جسے خدا نے امام علیؑ کے لیے مخصوص کیا ہے کوئی ان سے پہلے یہ نام نہیں رکھتا تھا ۔ اور ان کے بعد بھی کوئی یہ نام نہیں رکھ سکتا مگر یہ کہ کافر ہو۔ 

میں نے کہا مولاؑ میری جان آپؑ پر فدا ہو پھر کیسے انہیں سلام کیا جائے گا تو امام صادق ع نے فرمایا" اسلام یا بقیۃ اللہ" پھر امام صادق ؑ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔  " بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین”

 *بقیۃ اللہ کون ہیں:* 
وہ امام جو ذخیرہ الہیٰ ہیں جو مفید اور نفع بخش ہے ۔ اور پروردگار عالم ان کے ذریعے مومنوں کو عزت بخشے گا اور ظالموں کو ذلت دے گا۔

"دعائے ندبہ کے قیمتی جملے" کہاں ہے جو شرک و نفاق کی بنیادوں کو منہدم کرے گا۔ اور دین اسلام کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ 

 *چند اہم نکات:* 
امام ؑ موجود ہیں۔ ذخیرہ الہی ہیں۔ غیبت میں ہیں۔ وہ ہستی جس کے ذریعے  پروردگار عالم دنیا کو خیر بخشے گا۔ 

بقیتہ اللہ امامؑ کا قرآنی لقب ہے جس سے زمانہ ظہور میں امامؑ کو پکارا جائے گا۔ 

امام زمانہ ؑ  اس لقب کے ساتھ رحمت ہیں۔ وہ غیبت میں اس سورج کی مانند ہیں جو بادلوں کی اوٹ میں بھی ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی غیبت میں بھی ہم امامؑ سے فیض لے سکتے ہیں۔ 

والسلام
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم*  🌏

🌸




: 🌺🌷🌺

*"امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "*
#  درس 11
# تین آیات کی تفسیر و تاویل،قائم علیہ السلام کا قیام،قیام کی علامت،انصار کا اجتماع

 *استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

 *خلاصہ* :
سورہ فصلت آیہ نمبر 53
"ہم عنقریب  انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یقیناً وہی اللہ حق ہے کیا تمھارے لیے تمھارا رب کافی نہیں ہے جو یقیناً ہر چیز پر اچھی طرح شاہد ہے۔"

یہ آیت مجیدہ اپنی تفسیر کی رو سے کائنات کے اندر انسان کے وجود میں جو الہی نشانیاں جو ہیں ان  کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یہ نشانیاں بتا رہی  ہیں کہ حق کہاں ہے۔

 *آفاق کی نشانیاں:* 
سورج کی خلقت جو زندگی کی اساس ہے اسی طرح  چاند ستارے اور مختلف زمینی موجودات ہیں۔ جنہیں پروردگار عالم نے خلق کیا۔ ۔ انفسی نشانیوں سے  مراد وہ نشانی ہے  جو انسان کے بدن کے اندرونی اعضاء ہیں۔  یہ ساری الہی نشانیاں ہیں۔ 

آفاقی نشانیاں۔ مسلمانوں کی  روحانی  ، معنوی ، فکری کاوشیں  اور مسلمانوں کا  آنے والے زمانے میں جنگوں میں فتح حاصل کرنا اور بالآخر اسلام کا پوری دنیا پر چھا جانا اور دوسرے ادیان پر غلبہ پانا۔۔  ایک اہم ترین آفاقی نشانی ہے۔ 

 *آیت کی تاویل:* 
یہ آیت تاویل کے اعتبار سے امام مہدیؑ کے قیام کے بارے میں ہے۔ 
ابو بصیر کہتے ہیں۔

امام جعفر صادقؑ سے پوچھا اس جملہ  حتی تبین الرشد سے خدا کی کیا مراد ہے فرمایا: "قائم کا حق کے ساتھ خروج کرنا , خدا کی جانب سے ہو گا۔ لوگ انہیں دیکھیں گے اس کے سوا چارہ نہیں ہے۔

ابو بصیر امام محمد باقرؑ سے روایت بھی یہی نقل کرتے ہیں۔ "
 یہاں اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ حق موجود ہے اور زمانے کا گذرنا  اس سے حق تبدیل نہیں ہوتا اور  *یہ خدا کا حتمی فیصلہ ہے حق آشکار ہو گا ۔ دنیا کا* انجام حق و صداقت کے ساتھ ہے۔ انجام باخیر ہے۔ اور اس کی مکمل  تجلی امام زمانہؑ کا ظہور ہے۔ 

 *قیام کی علامتیں:* 
سورہ مدثر: 
آیت نمبر 8
" پھر صور پھونکا جائے گا"
آیت کی تفسیر: 
یعنی ایسا نقارہ جس سے موت کا علان ہو گا۔ 

پہلی  مرتبہ جب حضرت اسرافیلؑ  صور پھونکے گے تو دنیا کا اختتام ہو گا یعنی موت ۔ اور دوسری مرتبہ جب صور پھونکا جائے گا تو  قیامت کے آغاز پر جو بیدار کرنے کے لیے آواز ہوگی۔  یہ آواز پوری دنیا پر چھا جائے گی اور تمام لوگ اس آواز کو سن رہے ہوں گے۔ 

 *آیت کی تاویل:*  
 یہ آیت امام مہدی کے قیام اور ظہور  کے لیے اور جو اذن خدا امامؑ کو حاصل ہونا ہے اس کے بارے میں ہے۔ 

جب مفصل بن عمر نے امام صادق ؑ  اس آیت کا ذکر کیا اور تفسیر پوچھی تو امام صادق ؑ فرماتے ہیں۔ 

آپؑ نے فرمایا : " ہم میں سے ایک  امام ہو گا جس کو پروردگار عالم نے کامیابی دینی ہے۔ اور جب پروردگار عالم کا یہ ارادہ ہو کہ اپنے اس امر کو ظاہر کرے۔ ان کے قلب مبارک میں ایک نقطہ ظاہر ہو گا (الہام) اور اس کے بعد امام  ظہور فرمائیں گے اور خدا کے امر کو  قائم کریں گے۔ 
یہاں پر یہ واضح ہو رہا ہے کہ امام زمانہؑ کا قیام اللہ کے اذن کا محتاج ہے۔ 

جسطرح  دنیا کا اختتام اور  قیامت  اور حشر کا دن خدا کے اذن کے تابع ہے۔ صور پھونکا جائے گا۔ اور یہ دو حقیقتیں سامنے آئیں گے اسی طرح امام زمانہ ؑ کا ظہور بھی اذن خدا کے تابع ہے۔ 
اور ہمارا حقیقی اور دینی اور حقیقی نکتہ  یہ ہے کہ انسان اپنے تمام تر امور میں پروردگار کے ارادے اور حکم کے تابع ہو ۔ اور ہر گز وہ کام نہ کریں جو خدا کے حکم کے خلاف ہو۔ اور ہم ہر چیز میں اپنے رب کے تابع ہوں۔ 

 *سورہ بقرہ:* 
"ہر شخص کے لیے قبلہ ہے جس کی جانب  رخ کرکے وہ عبادت کرتا ہے بس نیکی انجام دینے کی طرف سبقت اختیار کرو، تم جہاں کہیں ہو خدا تم سب  کو اپنی جانب پلٹاتا ہے در حقیقیت  خدا تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے"۔ 

 *آیت کی تفسیر:* 
یہ آیت بہت اہم واقعہ سے ربط رکھتی ہے  کہ جب  ہجرت کے پہلے سال مسلمانوں کو قبلہ بیت  المقدس سے کعبہ کی جانب رخ کرنے کا حکم آیا اور یہودیوں کو یہ بات ناگوار گذری۔

پروردگار عالم نے اس کے جواب میں ایک بہترین اور اہم قانون کی جانب اشارہ کیا کہ ہر گروہ کے لیے خدا نے ایک خاص قبلہ   اور وہ اس کی جانب رخ کریں۔ 
اصلی ارکان اسلام  (جیسے توحید اور معاد) ہیں قبلہ فرعی بحث ہے۔  پروردگار فرما رہا ہے کہ اللہ کی جانب پلٹو۔   فضول گفتگو کی جانب متوجہ نہ ہو۔ اللہ ہمارے اعمال کا حساب لے گا۔  کوئی شئی اس کی قدرت سے خارج نہیں۔ 

 *آیت کی تاویل :* 

امام مہدی ع کے اصحاب ہیں جو دنیا میں بکھرے ہونگے اور پروردگار عالم انہیں جمع کرے گا۔ 

کلینی رح روضہ کافی میں اس طرح نقل کرتے ہیں۔  امام محمد باقرؑ  سے خدا کے اس قول سے متعلق سوال کیا گیا تو امام ؑ نے فرمایا : خیرات سے مراد ولایت ہے  یعنی ولایت کی جانب سبقت کرو۔ خدا کا فرمان (اینما تکونو) سے مراد قائم کے اصحاب ہیں کہ جو 313 ہوں گے۔ خدا کی قسم (امت معدودہ) سے مراد یہی افراد ہیں جو (امام کے پاس ) ایک ساعت میں جمع ہو جائیں گے ۔ خزاں کے بادل کے ان ٹکڑوں کی طرح جو تیز ہوا سے جمع ہو جاتے ہیں۔ 
تاویل کے اعتبار سے یہ آیت چند خاص نکات کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ 

 *قبلہ کو معین کرنا خدا کا اختیار ہے۔ اسی طرح رہبر و امام ؑ من جانب اللہ ہے۔* 

ہمیں چاہیے اچھے کاموں کو انجام دیں  اور نیکی کو انجام دیں  اور سب سے بڑی نیکی ولایت کو مقدم رکھنا ہے۔ اور روحانی طہارت کے ساتھ کمال کے درجات تک پہنچیں۔ اور امامؑ کی جانب حرکت کریں اور ان کی معرفت حاصل کریں۔ خود کو اطاعت کے رنگ میں ڈھال لین۔ اور ان کی خواہش اور ارادے کے مطابق عمل کریں۔ 

جس طرح نیکیوں کی کو خاص جگہ نہیں انسان ہر جگہ پر نیکی کر سکتا ہے اسی طرح  امام زمانہؑ کے ناصر دنیا میں ایک خاص مقام پر  نہیں ہونگے اور دنیا میں بکھرے ہوئے ہونگے اور اپنے وظائف انجام دے رہے ہونگے اور جب امام (عج) ظہور فرمائیں گے تو اللہ ان  کے ناصرین کو  جمع کرے گا۔ اور وہ رب قادر ہے کہ جسطرح قیامت میں مردہ جسموں کو ایک جگہ اکھٹا کر کے زندہ کرے گا تو وہ رب قادر ہے کہ امام ؑ کے ناصروں کو ایک جگہ اکھٹا کردے۔ 
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
 *عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏

🌷🌷

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات