Book 2 Sadia
*آفتاب امامت"* ✨
درس نمبر 1
*نکتہ* : امام زمانہؑ کا نام کنیت اور القاب:
( 6 جولائی ، 2021 )
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
امام مہدیؑ عج تعالیٰ الشریف کی معرفت ہم سب پر واجب ہے ۔ اور اس کا فقدان جاہلیت کی موت کے مترادف ہے۔ اور دوسری طرف سے انبیاؑ کے موعود اور مصلح عالم کی حقیقی شناخت اور ان کی حیات مبارکہ سے آگاہی لوگوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ان کی زندگی کے راستے کو منظم کرتی ہے۔
*امام ؑ کی معرفت کی دو جہتیں ہیں:*
1۔ 💠 امام ؑ کی ذات مقدس کی معرفت کہ وہ کون ہیں اور ان کی زندگی کیسی ہے۔
2 ۔ 💠 آنحضرت ؑ کی شخصیت کی معرفت اس لحاظ سے کہ کائنات کے نظام میں ان کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ اس پر کون سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور امام ؑ کی نسبت ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔
*امام ؑ کا تعارف اور صفات:*
امام ؑ کی زندگی کے 3 ادوار ہیں
پہلا دور : زمانہ حضور (جو امام حسنؑ عسکری کی زندگی کے آخری پانچ سال اور امام زمانہؑ کی ولادت سے امام عسکریؑ کی شہادت تک کا عرصہ)
دوسرا دور: دو حصوں میں تقسیم ہے
1۔ غیبت صغرٰی کا زمانہ
2۔ غیبت کبری کا زمانہ جس میں ہم موجود ہیں
تیسرا دور : انشاءاللہ قریب ترین ہے یعنی زمانہ ظہور
*امامؑ کا تعارف اور کنیت:*
امام زمانہؑ کا نام اور کنیت وہی ہے جو پیغمبؐر کا نام اور کنیت ہے ۔ امام جعفر صادقؑ اپنے اجدادسے رسولؐ خدا کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ " المھدی من ولدی اسمہ اسمی وہ کنیتہ کنیتی اشبہ الناس بی خلقا وہ خلقا"؎
*فرمایا* :✨ " *مہدی عج میری اولاد میں سے ہیں ان کا نام میرا نام ان کی کنیت میری ہی کنیت ہے وہ صورت اور سیرت کے لحاظ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے ساتھ شباہت رکھتے ہیں"۔*
سید الشہدا امام حسینؑ پیغمبرؐ سے مشابہت رکھتے تھے۔ مولا علی اکبرؑ شبہیہ پیغمبرؐ تھے لیکن آپ ؑ کے بارے میں فرمایا (اشبہ الناس) سب سے زیادہ شباہت آپؑ رکھتے ہیں۔
تمام مکتب اسلام اس پر متفق ہے کہ امامؑ کا نام اور کنیت رسول ؐ خدا کا نام اور کنیت ہے۔
البتہ اہلسنت میں کچھ ایسی روایات ہیں جنکے مطابق آپؑ آل رسولؐ ہیں اور ابھی پیدا ہونگے اور آپؑ کے والد کا نام رسول ؐ خدا کے والد کے نام پر ہے۔ یہ ضعیف روایات ہیں اور خود اہلسنت کے ماہرین نے ان روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔
*آپ ؑ کا حقیقی نام محمدؑ ابن الحسن عسکریؑ ہے اور لقب مہدیؑ ہے۔*
جس طرح امام علیؑ رضا کی ولادت کے بعد ان کے والد امام موسیٰؑ کاظم نے ان کی کنیت ابوالحسن سے پکارا
یا جیسے امام حسین ع کی کنیت ابا عبداللہ ہے
اسی طرح آپؑ کی کنیت ابو القاسم اور ابا صالح ہے۔
*امام ؑ کے القاب:*
آنحضرت ؑ کے بہت سارے القاب ہیں لیکن مشہور ترین لقب مہدیؑ ہے
*مہدی* :
یعنی آپ خود ہدایت یافتہ ہیں اور دوسے لوگوں کی تمام مخفی امور کی طرف راہنمائی فرمائیں گے۔
*قائم* :
آپ حق و عدالت کے لیے قیام فرمائیں گے۔
*منتظر* :
مومنین ان کی تشریف آوری کا انتظار کر رہے ہیں
*بقیتہ اللہ:*
آپ ذخیرہ الہی ہیں
*حجت* :
آپ مخلوق پر خدا کی حجت اور گواہ ہیں
*صاحب الزمانؑ:*
آپؑ فیض پروردگار کا وسیلہ ہیں اور خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں ۔
*صاحب الامر:*
امر ولایت ان کے اختیار میں ہیں اور وہی حق حکومت رکھتے ہیں۔
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
*سلسلہ دروس"آفتاب امامت"*
درس 2
*امام کا تعارف*
*نکتہ* : امام زمانہ عج کے شمائل مبارک اور آپ کا نسب نیز مادر گرامی امام زمان عج پر مختصر تجزیہ ۔
مورخہ : 12 جولائی، 2021
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
*شمائل مبارک اور خصوصیات:*
احادیث میں امام مہدی ؑ کے اوصاف اور شمائل بیان کئے گئے ہیں ۔
*پیغمبرؐ اکرم فرماتے ہیں کہ* " مہدیؑ شکل و صورت اور رفتار و گفتار کے لحاظ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے سے مشابہ ہیں۔
روایات میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرت ؑ کا چہرہ جوان، رنگ گندمی، بلند اور چمکدار پیشانی، ابرو لمبے اور ہلال کی مانند، آنکھیں سیاہ اور موٹی، ناک کشیدہ اور زیبا اور دانت سفید اور چمکدار ہیں۔
آپؑ کے دائیں رخسار پر سیاہ تل اور شانوں کے درمیان مہر نبوت جیسی علامت دکھائی دیتی ہے۔ آنحضرت کے اعضاء بدن معتدل و متوسط اور چہرہ نورانی ہے۔ ان کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی مانند چمکتا ہے۔
امام مہدیؑ کا وجود معطر اور خوشبودار ہے اور آپؑ بے نظیر ہیبت و عظمت کے مالک ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کے قریب ہیں۔
صفات امام زمانہؑ (عج) بیان ہوئی ہیں کہ آپؑ اہل عبادت، شب زندہ دار، زاہد، سادہ زندگی گزارنے والے صبر و بردباری اور صاحب عدالت ہیں"۔
بعض مقامات پر فرمایا : کہ امام زمانہؑ اتنے خوبصورت ہیں کہ انہیں طاؤس اہل بہشت کا لقب ملا ہے۔
خود امیرالمونینؑ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ منبر کوفہ پر آپ ؑ نے بیان فرمایا کہ آخر زمان میں میری نسل سے ایک شخص ظہور کرے گا کہ جن کے چہرے کا رنگ سرخی مائل سفید ہے ان کا سینہ وسیع ان کی رانیں اور شانے قوی ہیں ان کی پشت پر دو خال ہیں ایک خال ان کی جلد کے رنگ کا ہے اور دوسرا پیغمبرﷺ کے خال کے مشابہہ ہے۔
امام رضاؑ فرماتے ہیں: حضرت قائم علیہ السلام عج وہ ہیں جو بوڑھوں کی عمر میں بھی جوان چہرے کی مانند چہرہ رکھیں گے۔ اتنے طاقتور ہونگے کہ اگر دنیا کے سب سے بڑے درخت کو بھی پکڑیں گے تو جڑوں سمیت کھینچتا چلا آئے گا۔ اور اگر وہ پہاڑوں کے درمیان نعرہ بلند کریں گے تو پتھر اپنی جگہ چھوڑ دیں گے۔
ایک مرتبہ صحابی امام ر ضاؑ جناب اباصلت نے اپنے مولاؑ سے سوال کیا کہ امام مہدیؑ کے شمائل کے بارے میں بتائیے۔
آپ ؑ نے فرمایا۔ اگرچہ وہ طول عمر کے باعث بوڑھے ہونگے لیکن وہ دیکھنے میں جوان ہونگے اور آپؑ کی عمر مبارک چالیس سال یا اس سے کم ہوگی اور نشانی یہ ہے کہ جتنے بھی شب و روز اتریں گے حتی کہ اپنے وقت آخر تک امام مہدیؑ بوڑھے نظر نہیں آئیں گے۔
جناب علی بن مہزیار جنہوں نے امام زمانہؑ کی ملاقات کا شرف حاصل کیا تو وہ بھی اسی انداز میں توصیف کرتے ہیں۔ کہ امام ؑ کا قد میانہ ہے چہرہ گول ہے، سینہ وسیع اور پیشانی سفید ہے اور ان کے ابرو آپس میں ملے ہوئے ہیں دائیں رخسار پر تل ہے" جیسے ایک مشک کا دانہ امبر کے ٹکڑے پر لگا ہوا ہے۔
اسی طرح ابراہیم بن مہزیار جو علی بن مہزیار کے والد ہیں بیان کرتے ہیں کہ "میں نے ایک جوان دیکھا جس کی پیشانی سفید ابرو کشادہ ان کی ناک کھڑی ہے جب وہ کھڑے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ جیسے سرو کا درخت ہے اور ان کی پیشانی درخشاں ستارہ ہے ان کے دائیں رخسار پر ایک تل ہے جیسے سفید چاندی کے ٹکڑے پر مشک و امبر۔
ان کے سار کے بال بھرے بھرے ہیں اور سیاہ اور کانوں تک لمبے ہیں ان کا چہرہ اتنا پر ہیبت اور خوبصورت ہے کہ کسی آنکھ نے اتنا پر سکون اور حیا والا چہرہ نہ دیکھا ہو گا۔
4۔ *نسب* :
آپ کے والد گرامی امام حسنؑ عسکری ہیں اور والدہ ماجدہ بی بی نؑرجس خاتون سلام اللہ علیہا ہیں۔ بی بی نرجس خاتون کے بارے میں 3 روایات ہیں ۔ مگر جو سب سے زیادہ مشہور روایت ہے کہ بی بی قیصر روم کی پوتی تھیں اور ان کی والدہ حضرت عیسیٰ ؑ کے وصی جناب شمعون کی نسل سے تھیں۔ بی بی نرجس خاتون نہایت پرہیزگار اور دیندار خاتون تھیں ۔ جب کی ان کی شادی کا ارادہ کیا گیا اور ان کے عقد کو پڑھنا چاہا تو تخت روم گر گیا۔ لہذا فیصلہ کیا گیا کہ بی بی کی شادی کچھ عرصے کے لیے روک دی جائے۔ شہزادی نرجس خاتون جن کا رومی نام ملیکہ خاتون تھا بی بی کو خواب میں بی بی مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی زیارت ہوئی کہ ایک ہستی جن کا نام محمدؐ ہے وہ اور ایک خاتون جو فاطمہ ؑ زہرا ہیں وہ اپنے فرزند کے لیے بی بی کا رشتہ طلب کر رہی ہیں ۔
بی بی نے حضرت امام حسن عسکریؑ کی زیارت عالم خواب میں کی۔ سیدہؑ نے بی بی کو کلمہ پڑھایا۔ امام عسکریؑ نے بتایا کہ وہ کیسے ان سے ملیں گی۔ بی بی نرجس خاتون نے مسلمان قیدیوں کے لیے نرم گوشہ اختیار کیا اور ان کو آزاد کرایا۔ جب رومی حکومت اور اسلامی حکومت کے درمیان جنگ ہوئی تو بی بی امام کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق آمادہ سفر ہوئی اور بردہ فروشوں کے بازار میں بطور کنیز پہنچی جہاں پر امام علی نقیؑ کے نمائیندے موجود تھے جو شہزادی کو خرید کر لائے اور عزت و احترام کے ساتھ بی بی حکیمہ ؑ خاتون جو امام علی نقیؑ ع کی بہن تھیں ان کے گھر پہنچا دیا یہ حکم امامؑ تھا۔ کیونکہ بی بی کو مخفی رکھنا تھا او ر بی بی حکیمہؑ خاتون کو ان کی تربیت کی ذمہ داری دی گئی۔
*سب سے بلند مقام سیدہ فاطمہؑ زہراؔ کا ہے۔ پھر جناب زینب ؑ عالیہؔ پھر جناب معصوؑمہ قم اور پھر بی بی حکیمہ ؑ خاتون کا مقام آتا ہے۔*
بی بی حکیمہ ؑ خاتوں کا بہت بلند مقام ہے۔ وہ چار آئمہ سے نسبت رکھتی ہیں۔ امام محمدؑتقی ع کی بیٹی۔ امام علیؑ نقی ع کی بہن، امام حسن عسکری ع ؑ کی پھوپھی اور امام زمانہؑ عج کی دادی ہیں۔ انہوں چار آئمہ کی ادوار دیکھے۔ امام زمانہؑ کے ولادت کے بعد 14 سال زندہ رہیں انہوں نے غیبت صغریٰ کا دور بھی دیکھا۔ بی بی حکیمہ خاتون نے بی بی نرجس خاتون کی تربیت کی اور ان کا بہت احترام کرتی تھی۔ کیونکہ وہ حجت خدا کی ماں کا رتبہ رکھتی تھی۔ جناب نرجس خاتون جن کا ذکر رسول ؐ خدا نے فرمایا۔ مولا علیؑ نے ذکر فرمایا۔ اور مولا امام جعفر صادقؑ نے ذکر فرمایا کہ ان کو کنیزوں کی سردار قرار دیا۔
اور پھر ان کا نکاح اما م عسکریؑ سے ہوا بی بی کو ان کے گھر میں منتقل کیا گیا۔ بی بی کے مختلف نام رکھے گئے تمام نام پھولو ں سے تشبیہ تھے ۔
نرجس، سوسن ، ریحانہ، ملیکہ اور صیقل، حدیثہ ، مریم وغیرہ ہیں تاکہ جاسوسوں کی توجہ بی بی کی جانب مذکور نہ ہو۔ اور بی بی نرجس خاتون اور امام مہدیؑ کی حفاظت ہو سکے۔
👈 جاری ہے
والسلام
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم 🌏*
*سلسلہ دروس ✨آفتاب امامت✨*
درس 3: امام ؑ کی ولادت با سعادت اور ادوار۔
مورخہ: 20 جولائی ، 2021
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
*ولادت* : امام مہدیؑ 15 شعبان المعظم سن 255 ھج قمری 869 عیسوی میں جمعہ کی صبح عراق کے شہر سامرہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ کی سن ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سن 254 اور 256 ھج کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ جسکی وجہ آپؑ کی ولادت کو مخفی رکھنا تھا۔ کیونکہ عباسی حکومت روایات و احادیث پیغمبرؐ کو جانتے تھے کہ فرمایا میری نسل سے ایک شخص آئے گا وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھرے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔
عباسی ؑ اس بات سے واقف تھے اسی لیے انہوں نے امام رضاؑ کو مدینہ سے بلا کر نظر بند کیا اور پھر تمام آئمہؑ کو مدینہ میں رہنے نہ دیا گیا۔ تاکہ ولادت امام زمانہؑ کو روکا جا سکے۔ امام حسن ؑ عسکری کو عقد کرنے کی اجازت نہ تھی۔
حکومت وقت کی بہت سختی تھی۔ اسی لیے بی بی نرجس خاتون بطور کنیز متعارف ہوئیں۔
امام مہدیؑ کی ولادت شیعوں اور بعض اہل سنت کے نزدیک مسلمات تاریخ میں سے ہے ۔ بعض محقیقین نے اپنی کتابوں میں آنحضرت کی طفولیت کے زمانے پر لکھا۔
عز الدین ابن اثیر :
اہلسنت کے بہت بڑے اور معتبر مورخ ہیں انہوں نے 630 ھج میں وفات پائی ۔ وہ تاریخ عظیم مورخ ہیں۔ اپنی کتاب الکامل فی التاریخ جلد نمبر 6 ۔ صفحہ نمبر: 320 میں بیان کرتے ہیں ابو محمد علوی العسکری 12 امامی شیعہ کے ایک امامؑ ہیں ۔ یہ وہ شخصیت ہیں جو محمد کے والد ہیں جو سامرا کے سرداب سے ظہور فرمائیں گے۔
محمد ابن طلح شافی۔
" ابو القاسم ابن حسن ؑ محمد عسکریؑ وہی امامؑ مہدیؑ ہیں جن کا ہم انتظار کر رہے ہیں ۔
ابن جوزی: شمس الدین ابو المظفر :
اپنی کتاب میں ہماری طرح امام مہدیؑ کا پورا نسب جو امام حسن عسکریؑ سے لیکر رسولؐ خدا تک بیان کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ امام عسکریؑ کے وہی فرزند ہیں رسولؐ خدا نے فرمایا کہ میری نسل سے ایک شخص ظاہر ہو گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
نور الدین علی ابن محمد ابن صواب مالکی :
بیان کرتے ہیں کہ امام عسکریؑ کی امامت کی عمر 2 سال تھی ان کے بعد ان کا جانشین حجت حق ان کا فرزند ہے جن کی ولادت کو ان کے والد نے مخفی رکھا اور یہ وہی ہیں جنہوں نے حکومت حق بپا کرنی ہے۔
حافظ فخر الدین ابی عبداللہ محمد بن یوسف بن محمد گنجی شافعی :
مشہور کتاب *البیان فی اخبار* صاحب الزمانؑ میں یہ دلائل دیتے ہیں جسطرح دیگر انبیاؑ زندہ ہیں اسی طرح امام مہدیؑ بھی قدرت خدا سے زندہ ہیں۔
اسی طرح اہلسنت کے بہت سے علمائے کرام ہیں جو اہل تشیع کے عقیدے کے قائل ہیں۔
*آنحضرت ؑ کی زندگی کے ادوار*
تاریخ میں امام زمانہؑ کی زندگی کے تین مراحل ہیں
1۔ *زمانہ حضور* یا مخفی زمانہ: دورانیہ ولادت سے لیکر شہادت امام حسن عسکریؑ تک تقریباً 5 سال۔ (255ھ سے 260 ھ تک)
2۔ *زمانہ غیبت*
زمانہ غیبت کے دو مراحل ہیں ۔ 1۔ زمانہ غیبت صغریٰ ا اور 2۔ زمانہ غیبت کبریٰ (جس زمانے میں ہم ہیں)
3- *زمانہ ظہور*
انشاء اللہ اللہ ہم سب کو دکھائے امین
260ھ سے 329 ھ تک 70 سال کا عرصہ غیبت صغریٰ کا ہے
اس زمانہ غیبت صغرٰی میں امام زمانہؑ اپنے نائبین سے رابطہ میں تھے۔ لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے ، خطوط کے جوابات دیتے تھے اور نائبین خاص کے ذریعے لوگ اپنے امامؑ سے ملاقات بھی کر لیتے تھے۔
جبکہ غیبت کبریٰ میں مکمل رابطہ ختم ہے۔
زمانہ غیبت صغریٰ میں نائبین خاص ہیں جبکہ غیبت کبرٰی میں نائبین عام ہیں۔ یعنی وہ افراد جو نائبین خاص کے مقام تک پہنچے گا ۔ یعنی فقیہ بنے گا وہ نائب عام ہے۔
غیبت صغریٰ میں امام زمانہؑ کو خط و کتابت کی اجازت تھی لیکن غیبت کبرٰی میں خط و کتاب نہیں کی جا سکتی
غیبت صغریٰ میں نائبین کے ذریعے امام مہدیؑ سے ملا قات ممکن تھی لیکن غیبت کبرٰٰ ی میں ممکن نہیں مگر امام ؑ اگر ہم سے خود ملا قات کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
*غیبت صغریٰ میں امام ؑ کے 4 نائبین تھے*
1۔ *عثمان ابن سعید عمری* (زمانہ نیابت 6 سال)
بہت معتبر شخصیت تھے ۔ یہ وہ عظیم ہستی ہیں جہیں 3 آئمہ ؑ کے نائب ہونے کا شرف حاصل ہیں ۔ امام علی نقیؑ ، امام حسن عسکریؑ اور امام مہدیؑ ۔ ان کو امام زمانہؑ کی نیابت کا شرف چھ سال تک حاصل رہا۔
*عثمان بن سعید اور 40 بزرگان دین:*
عثمان بن سعید اور 40 بزرگان دین امام حسن ؑ عسکری کی خدمت میں حاضر ہوئے امام ؑ نے اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا" میرے بعد یہی میرے جانشین اور تمھارے امام ہوں گے۔ تم لوگ ان کی اطاعت کرنا اور میرے بعد اپنے دین میں تفرقہ نہ ڈالنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ اور جان لو کہ آج کے بعد ان کو نہیں دیکھو گے۔ پھر امام حسن ؑ عسکری ؔ نے فرمایا ۔ امامؑ کی غیبت کے زمانے میں جو کچھ بھی عثمان ابن سعید کہے اسے قبول کرنا ۔ کیونکہ وہ تمھارے امور کے ذمہ دار ہیں۔
2 ۔ *محمد عثمان بن امری* (زمانہ نیابت طولانی 40 سال)
یہ وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کے بارے میں امام حسن عسکری نے ایک امر فرمایا:
روایت ہے کہ عثمان بن سعید امام عسکریؑ کے حکم سے یمن کے شیعوں کا لایا ہوا مال وصول کیا تو اسوقت بعض مومنین نے امامؑ سے عرض کیا اللہ کی قسم عثمان آپ کے بہترین شیعوں میں سے ہے۔ فرمایا " گواہ رہنا عثمان بن سعید میرے وکیل ہیں اور ان کا بیٹا محمد میرے بیٹے مہدی کا نائب ہے۔
3 ۔ *حسین بن روح*
وہ عظیم شخصیت ہیں جو محمدعثمان بن عمری کے ساتھ احکام امام زمانہؑ کے لیے کام کرتے تھے اور پھر ان کی نیابت اور چوتھے نائب کی نیابت کا اعلان خون امام زمانہؑ نے فرمایا۔ جن کی نیابت کا زمانہ طولانی ہے تقریباً 21 سال خدمت امامؑ میں نیابت کے فرائض انجام دئے۔
4 ۔ *علی بن سمری*
وہ ہستی ہیں کہ جنہوں نے 4 سال امام ؑ کی نیابت کے فرائض سر انجام دئے اور پھر غیبت کبرٰٰی کا دور شروع ہو گیا۔
✨نائبین امام زمانہؑ کی خصوصیات یہ تھیں کہ امانتدار تھے ، عفت و پاکدامنی ، رفتار و گفتار ، عدالت، رازداری اور امامؑ کے زمانے میں بھی مخصوص حالات میں اسرار اہل بیتؑ کو مخفی رکھنا۔ بعض نائبین کو قید کیا گیا۔ سختیاں کی گئی مگر انہوں نے امامؑ کے حوالے سے کبھی انکشاف نہ کیا۔ یہ وہ عظیم شخصیات تھیں کہ جن کو امام ؑ نے رہبری عطا کی۔ اور لوگ غیبت صغریٰ سے غیبت کبرٰی میں داخل ہوئے۔
اور غیبت کبریٰ میں فقہا کی نیابت کا سلسلہ شروع ہوا یعنی نائب عام جو خصوصیات میں نائبین خاص کے درجے پر ہو۔
آخری نائب علی بن سمری کو امام ؑ نے ان کی وفات سے 6 دن قبل آخری توقیع لکھی۔ جس کا ایک حصہ درج ذیل ہے۔
*اے علی بن محمد سمری*
اللہ تعالیٰ آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عطا فرمائے ، کیونکہ آپ 6 دن بعد عالم بقا کی جانب کوچ کر جائیں گے ۔ لہذا اپنے کاموں کی خوب دیکھ بھال کر لو۔ او ر اپنے بعد کسی کو اپنی جانشینی کی دعوت نہ کرو۔ کیونکہ مکمل اور طولانی غیبت کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس کے بعد مجھے نہیں دیکھو گے۔ جب تک خدا کا حکم ہوگا دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ وہ حکم خدا ایک طویل مدت تک ہوگا جس میں دین و دنیا کے تمام امور ایسے شخص یا اشخاص کے سپرد کرنا جو اس عظیم ذمہداری کو نبھا سکیں۔ 6 دن بعد علی بن محمد سمری انتقال کر گئے اور غیبت کبرٰٰ ی کا آغاز ہو گیا۔
*غیبیت صغریٰ میں نواب اربعہ کی ذمہ داریاں*
1۔💠 غیبت میں مخفی طور پر امام مہدیؑ کے احکامات کو انجام دیتے تھے۔ لوگوں کے مسائل کا حل کرتے تھے۔
2۔ 💠 غالیوں کے فتنے کے مد مقابل کام کرتے تھے۔ اس فتنے کے مد مقابل امام جعفر صادقؑ ، امام علی رضاؑ اور امام علی نقیؑ نے سخت اقدامات کئے اور ان فتنوں کو دبایا۔
محمد بن نصر : فرقہ نصیری کا بانی ہے۔ یہ اور اس کا فرقہ آئمہ ؑ کی ربوبیت کا قائل تھا شلمغانی غالی ، حسین بن روح کے دور میں اٹھا۔ جس کے بر خلاف انہوں نے سخت اقدامات کئے اور امام زمانہؑ نے بھی اس پر لعنت کی ہے۔
3۔💠 لوگوں کے شکوک کو ختم کرتے تھے۔ امام زمانہؑ کے حوالے سے لوگوں کا عقیدہ مضبوط کرتے تھے ۔ ان کے خطوط کو امامؑ تک پہچاتے تھے اور ان کا جواب لاتے تھے یا پھر ملاقات امامؑ کرواتے تھے۔
4 ۔💠 جعفر کذاب کے جھوٹے دعویٰ امامت کو باطل ثابت کیا ۔ اور دیگر جھوٹے فرقوں کے خلاف اقدامات کئے۔
5 ۔💠 امام جعفر صادق نے وکلاء کی تنظیم بنائی تھی وکلا ئے آل محمدؑ جہاں جہاں تک اسلامی سلطنت کی سرحدیں تھیں وہاں تک امام ؑ کے منتخب شاگرد بطور وکلاء اپنی ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔
6۔💠 نواب اربعہ اگر قید و سختی میں مبتلا ہوتے تھے تو امام مہدیؑ کے بارے میں اور وہ کہاں پر رہائش پذیر ہیں اپنی زبانیں نہ کھولتے تھے چاہے ان کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔
7 ۔ 💠 نائبین امامؑ فقیہ اور شرعی مسائل کا حل بتاتے تھے۔
8 ۔💠 علمی مناظرے کرتے تھے اور باطل کو زیر کرتے تھے۔
👈 جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
*سلسلہ دروس"آفتاب امامت"*
*درس نمبر:* 4
غیبت صغری اور کبرٰی کا فلسفہ اور غیبت میں امام کا فیض نیز ہماری ذمہ داری
*استاد محترم علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
*فلسفہء غیبت صغرٰی:*
تاریخی اعتبار سے 260ھ سے غیبت کا آغاز ہوا۔ اور غیبت دو مراحل میں داخل ہوئی۔ غبیت صغریٰ 260ھ سے لیکر 70 سال تک رہی ۔ اور پھر غیبت کبرٰی کا زمانہ شروع ہو گیا۔
علمائے کرام اپنی ابحاث میں بیان کرتے ہیں کہ غیبت کبرٰی جو اصل ہدف تھا اس سے قبل غیبت صغرٰی کی کیا ضرورت تھی۔ اور نائبین کی کیا ضرورت تھی۔ اگر غیبت صغریٰ نہ ہوتی تو امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد غیبت کبرٰی شروع ہو جاتی ۔ اور امت امام مہدیؑ کا وجود مبارک بلکل فراموش کر دیتی۔ امام مہدیؑ جو امام حسن عسکریؑ کے دور میں بھی پنہاں تھے چند خاص افراد ہی آپؑ کے وجود سے آگاہ تھے۔
غیبت صغریٰ کے دور میں لوگ امام زمانہؑ کی جانب متوجہ ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ ؑ کو خط لکھتے اور آپؑ کے نائبین کو دیتے اور پھر جواب کے منتظر ہوتے۔ نائبین خاص ان کو ان کے خطوط کے جواب لا کر دیتے اور کچھ لوگوں کو آپؑ کے حکم سے ملاقات کا شرف ملتا۔ ۔ یہ سب غیبت کبرٰی میں ممکن نہ تھاکیونکہ غیبت کبرٰی میں امامؑ کا لوگوں سے ظاہری رابطہ نہیں ہوتا۔
اگر غیبت صغری نہ ہوتی تو لوگ آخری حجت کو فراموش کردیتے۔
غیبت صغری کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ دور غیبت میں بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا جیسے جھوٹے امامت کے دعویدار (جعفر کذاب اور دیگر)، جھوٹے نائبین، غالی فرقہ، ان فتنوں نے شیعہ اثنا عشری میں اختلافات پیدا کردیے اور لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔
نائبین خاص نے غیبت صغریٰ میں اپنے امام ؑ کی ہدایت پر چلتے ہوئے ان فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان فتنوں کو ختم کیا نتیجۃً شیعہ دوبارہ سے متحد ہونے لگے۔
ہر معصوم کے دور میں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے امامؑ سے رجوع کرتے تھے ۔ غیبت صغریٰ جس کا دورانیہ تقریباً 70 سال ہے اس میں امام ؑ نے فقہا اور علما کی تربیت کی۔ ان کے ذمہ فقہی مسائل کے حل کی ذمہ داری سونپی۔ امامؑ لوگوں کو عادت ڈال رہے تھے کہ جب غیبت کبرٰی کا دور شروع ہوگا تو فقہی مسائل کے حل کے ایسے فقہاء اور علماء کی جانب رجوع کریں جو عالم ہوں اور عادل ہوں۔ امامؑ فقہاء کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے کہ آپ کے اندر یہ صلاحیت ہے آپ کے پاس ہماری احادیث ہیں تحقیق کریں اور فقہی مسائل کا حل بتائیں۔۔
آخری نائب علی بن سمری کو امام ؑ نے ان کی وفات سے 6 دن قبل آخری توقیع لکھی۔ جس کا ایک حصہ درج ذیل ہے۔
"اے علی بن محمد سمری اللہ تعالیٰ آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عطا فرمائے ، کیونکہ آپ 6 دن بعد عالم بقا کی جانب کوچ کر جائیں گے ۔ لہذا اپنے کاموں کی خوب دیکھ بھال کر لو۔ او ر اپنے بعد کسی کو اپنی جانشینی کی دعوت نہ کرو۔ کیونکہ مکمل اور طولانی غیبت کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس کے بعد مجھے نہیں دیکھو گے۔ جب تک خدا کا حکم ہوگا دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ وہ حکم خدا ایک طویل مدت تک ہوگا جس میں دین و دنیا کے تمام امور ایسے شخص یا اشخاص کے سپرد کرنا جو اس عظیم ذمہ داری کو نبھا سکیں۔"
غیبت صغریٰ ایک مخصوص مدت کے لیے تھی اور یہ منشاء الہی تھی۔ اگر غیبت صغریٰ کا دور ہی رہتا تو لوگ امامؑ کی جانب سے بے فکر رہتے اور فقط اپنے مسائل کا حل پوچھتے۔ جبکہ غیبت کبریٰ کا دور اس لیے منشاء الہی ہے کہ جب مولاؑ نگاہوں سے دور ہونگے تو لوگ بے چین رہیں گے کہ ظہور جلد ہو۔ اور وہ اس جدائی کے فلسفہ کو سمجھیں گے اور کوشش کریں گے کہ جان سکیں کہ ظہور کی راہ کو کیسے ہموار کیا جائے ۔ وہ اپنے اند ر تبدیلی لائیں گے۔ اور پھر امامؑ کے ظہور کے لیے پوری دنیا میں تحریک چلائیں گے۔
اور غیبت کبریٰ میں فقہا کی نیابت کا سلسلہ شروع ہوا یعنی نائب عامہ جو خصوصیات میں نائبین خاص کے درجے پر ہو۔ امام ؑ نے فقط ایک فریضہ علماء اور فقہاء کے سپرد کیا باقی تمام وظائف کو امام ؑ خود انجام دیتے ہیں ۔ امام ؑ فرماتے ہیں " اے میرے شیعو اگر ہم تم سے پل بھر کے لیے بھی نظر ہٹا لیں تو تمھارا دشمن تمھیں برباد کر دے"۔ ہفتہ میں دو بار ہمارے اعمال امامؑ کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ امامؑ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ ہمیں دیکھتے ہیں ۔ لیکن ہماری آنکھوں پر پڑھے گناہ آلود حجابوں کی وجہ سے ہم ان کو نہیں پہچان سکتے۔ امامؑ کو دیکھنا ضروری نہیں ۔ پہلے زمانہ میں بھی ہر کوئی اپنے امامؑ کی زیارت نہیں کرتا تھا لیکن امامؑ کا فیض ہر ایک تک پہنچتا تھا۔
امام مہدیؑ فرماتے ہیں" غیبت کے زمانے میں مجھ سے فائدہ حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے نفع حاصل کرنا۔ جس طرح رو ئے زمین کی بقا کے لیے سورج کی حرارت اور روشنی کافی ہے اسی طرح نوع بشر کے لیے امامؑ کا وجود غیبت کے پردے میں بھی فیض بخش ہے۔
جب ایک انسان فلسفہ غیبت کو سمجھتے ہوئے راہ معرفت پر چلتا ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ خود کو امام ؑ کے ناصر بننے کے قابل بنائے وہ جہاد کرتا ہے۔ خود کو راہ خدا میں وقف کرتا ہے۔ آج کے دور میں بھی ایسی ہستیاں موجود ہیں جو امامؑ کے ناصر بننے کے لیے مسلسل جدوجہد میں ہیںَ جیسے حسب اللہ، جناب حسن نصراللہ، رہبر معظم آیت اللہ خامنائی، اور دیگر علمائے حقہ بلخصوص آیت اللہ زکزاکی اور ان کے ساتھی جنہوں نے راہ ظہور میں عظیم قربانیاں دی۔
والسلام
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم🌏*
*سلسلہ دروس ✨"آفتاب امامت"✨*
۔ امام زمانہ عج کی ولادت کا اثبات
مورخہ : 6 ، اگست، 2021
*درس* 5
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :✨
*مخفی دور:*
یہ دور امام زمانہؑ کی ولادت یعنی 255 ہجری سے ہی شروع ہوتا ہے ۔ اسے دور حضور بھی کہا جاتا ہے اور مخفی دور بھی۔ مخفی کے معنی یعنی امام مہدیؑ عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ تھے لیکن علماء اور فقہاء اور امام حسن عسکرؑی کے باوفا اصحاب ،امامؑ عج کی زیارت بھی کرتے تھے سوالات بھی کرتے تھے ۔
اس دور میں امام حسن عسکریؑ نے امام مہدیؑ عج کے لیے بعض اقدامات کئے:
*ولادت کی کیفیت:*
بہت سی روایات میں پیغمبر اکرمﷺ سے منقول ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: " میرے خاندان میں سے ایک مرد قیام کرے گا جو ظلم و ستم کی نابودی اور حکومت الہی کی برقراری کے ساتھ پوری دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کر دے گا۔
ان روایات کی بنا پر ظالم و ستمگر عباسی حکمران آ پؑ کے قتل کے درپے تھے اور آئمہ ؑ کو نظر بند رکھتے تھے ۔ یہاں تک کہ امام حسن ؑ عسکری کو شادی کی اجازت نہ تھی۔
حضرت امام علی نقیؑ اور امام حسنؑ عسکریؑ کو سامرا ء منتقل کر دیا گیا۔ آپؑ کی ولادت کو حضرت موسیٰ کی ولادت سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں ۔
" اللہ تعالیٰ نے ہمارے قائمؑ میں تین خصلتیں رکھی ہیں جو کہ انبیاءؑ میں سے تین پیغمبروں میں تھی ان کی ولادت کو حضرت موسیٰؑ کی ولادت کی طرح قرار دیا ہے۔۔ جہاں تک موسیٰؑ کی ولادت کی بات ہے جیسے ہی فرعون کو پتہ چلا کہ اس کی بادشاہی کا زوال حضرت موسیٰؑ کے ذریعہ ہے ، تو اس نے حکم دیا کہ کاہنوں کو بلایا جائے ان کاہنوں نے فرعون کو حضرت موسی ؑ کے نسب سے آگاہ کیا اور کہا کہ موسیٰؑ بنی اسرائیل میں سے ہیں فرعون نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیتا تھا کہ بنی اسرائیل کی حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر دیں، یہاں تک کہ اس نے موسیٰؑ کی جستجو میں تقریباً بیس ہزار سے زائد نومولود بچوں کو قتل کیا۔ لیکن حضرت موسیٰ کو قتل نہ کر سکا، کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھا ہوا تھا۔
بالکل اسی طرح جب بنی امیہ اور بنی عباس کو پتہ چلا کہ ان کی حکومت اور ان کے جابر اور ظالم حکمرانوں کی حکومت کی تباہی اور بربادی ہم میں سے قائم کے ذریعہ ہے۔ تو ہمارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور آل رسولؐ کے قتل اور ان کی نسل کی نابودی کے لئے تلواریں کھینچ لیں تاکہ ان میں سے قائم کو قتل کرنے پر کامیاب ہوجائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو ظالموں میں سے کسی پر عیاں نہیں کرتا مگر یہ کہ اپنے نور کی تکمیل کرے گرچہ مشرک اس چیز کو پسند نہ بھی کرتے ہوں۔"
امام محمد باقر ؑ نے بھی فرمایا۔ " حضرت موسیٰ ؑ جب شکم مادر میں آئے تو ان کا حمل ظاہر نہ ہو ا مگر ولادت کے وقت۔ "
اسی بنا پر حضرت امام مہدی ؑ کی ولادت پوشیدہ تھی یہاں تک کہ گیارہویں امام کے قریبی ترین افراد بھی ولادت سے چند گھنٹے پہلے اس امر سے بے خبر تھے۔
جناب حکیمہ خاتون امام مہدیؑ کی ولادت کے سلسلے میں یوں فرماتی ہیں۔
" امام حسن ؑ عسکری نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: اے پھوپھی جان۔ آج ہمارے یہاں افطار فرمائیے گا! کیونکہ نیمہ شعبان کی شب ہے اور خداوند عالم اس رات میں اپنی (آخری ) حجت زمین پر ظاہر کرنے والا ہے۔ میں نے سوال کیا: ان کی والدہ کون ہیں تو امامؑ نے فرمایا: نرجس خاتون! میں نے کہا: میں آپ پر قربان ہو جاؤں ان میں تو حمل کے کچھ بھی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں ! امام ؑ نے فرمایا بات وہی ہے جو میں نے کہی اس کے بعد میں نرجس خاتون کے پاس گئی اور سلام کرکے ان کے پاس بیٹھ گئی، وہ میرے پاس آئیں تاکہ میرے جوتوں کو اتاریں اور مجھ سے کہا : اے میرے شہزادی ! آپ کا مزاج کیسا ہے؟ میں نے کہا : نہیں آپ میری اور میرے خاندان کی ملکہ ہیں انہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا : پھوپھی جان ! آپ کیا فرماتی ہیں ! میں نے کہا : آج کی رات خداوند عالم تم کو ایک بیٹا عنایت فرمائے گا جو دنیا اور آخرت کا سردار ہو گا ، چنانچہ وہ یہ سن کر شرما گئیں۔
حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ میں نے عشاء کی نماز کے بعد افطار کیا اور اس کے بعد اپنے بستر پر آرام کے لیے لیٹ گئی، آدھی رات کے وقت جب نماز شب کے لیے اٹھی اور نماز ادا کی اس وقت تک نرجس خاتون آرام سے سوئی ہوئی تھیں۔ جیسے انھیں کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو ۔ میں نماز اور تعقیبات کے بعد پھر لیٹ گئی۔ اچانک پریشان ہو کر اٹھی تو نرجس خاتون اسی طرح سوئی ہوئی تھیں۔ لیکن کچھ دیر بعد وہ نیند سے بیدار ہوئیں اور نماز شب پڑھ کر پھر سو گئیں۔
حکیمہ خاتون فرماتی ہیں: میں صحن میں آئی تاکہ دیکھوں کہ صبح صادق ہوئی یا نہیں۔ میں نے دیکھا کہ فجر اول نمودار ہو چکی ہے، اس وقت تک نرجس خاتون سوئی ہوئی تھیں ۔ مجھے شک ہونے لگا کہ اچانک امام حسن عسکری ؑ نے اپنے بستر سے آواز دی : اے پھوپھی جان ! جلدی نہ کریں ! ولادت نزدیک ہے۔ میں نے سورہ "سجدہ" اور سورہ یسنٰ کی تلاوت کرنا شروع کر دی اس موقع پر جناب نرجس پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئیں ، میں جلدی سے ان کے پاس گئی اور کہا " اسم اللہ علیک " ( آپ سے بلا دور ہو) کیا آپ کو کسی چیز کا احساس ہو رہا ہے ؟
انہوں نے کہا:
ہاں پھوپھی جان! میں نے کہا: اپنے اوپر ضبط رکھیں۔ اور اپنے دل کو مصبوط کر لیں یہ وہی رات ہے جس کے بارے میں آپ سے پہلے کہہ چکی ہوں۔ اس موقع پر مجھ پر اور نرجس خاتون پر ضعف طاری ہوا اور اس کے بعد اپنے سید و سردار ( نو مولود طفل مبارک) کی آواز سے اپنی ہوش و حواس میں آئی۔ میں متوجہ ہوئی ان کے اوپر سے کپڑا ہٹایا اور چنانچہ انہیں سجدہ میں دیکھا۔ میں نے بڑھ کر انہیں آغوش میں لیا اور انہیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ پایا! اس موقع پر حضرت امام حسن عسکری ؑ نے مجھے آواز دی: " اے پھوپھی جان ! میرے فرزند کو میرے پاس لے آئیے! چنانچہ میں ان کو آپ کے پاس لے گئی۔۔ انہوں نے انہیں اپنی آغوش میں لے کر فرمایا: اے میرے فرزند کچھ کہیے۔ چنانچہ وہ نوزائیدہ طفل مبارک یو ں محو گفتگو ہوا:
" *اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدً رسول اللہ"* اس کے بعد امیر المومنینؑ اور باقی آئمہ ؑ پر درود و سلام بھیجا ، یہاں تک کہ اپنے پدر بزرگوار کے نام لیتے ہی رک گئے۔ امام حسن عسکریؑ نے فرمایا پھوپھی جان۔ ان کو ان کی والدہ کے پاس لے جائیے، تاکہ ان کو سلام کریں۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: دوسرے روز جب میں امام حسن عسکریؑ کے یہاں گئی تو میں نے امام ؑ کو سلام کیا میں نے پردہ اٹھایا تاکہ اپنے مولا و آقا (امام مہدی) کو دیکھوں لیکن وہ دکھائی نہ دئیے لہذاٰ میں نے ان کے پدر بزرگوار سے سوال کیا : میں آپ پر قربان کیا میرے مولا و آقا کوئی مسئلہ پیش آگیا ہے؟ امامؑ نے فرمایا اے پھوپھی جان ! میں نے ان کو اس خدا کے سپرد کر دیا جس کے سپرد جناب موسیٰ کی ماں نے جناب موسی ٰ کو کیا تھا۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں : جب ساتواں دن آیا میں پھر امام ؑ کے یہا ں گئی اور سلام کر کے بیٹھ گئی۔ امامؑ نے فرمایا: میرے فرزند کو میرے پاس لائیں۔ میں اپنے مولا و آقا کو ان کے پاس لے گئی، امامؑ نے فرمایا " اے میرے لخت جگر ! کچھ کلام کیجئے! طفل مبار ک نے لب کھولے اور پروردگار عالم ک وحدانیت کی گواہی اور پیغمبرؐ اور اپنے آباؤ اجداد پر درود و سلام بھیجنے کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی " بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں اہل زمین کا پیشوا بنائیں اور انہیں زمین کے وارث قرار دیں، اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون ، ہامان اور ان کے لشکروں کو انہیں کمزوروں کے ہاتھوں وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں۔"
والسلام۔
سعدیہ شہباز✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
[
🌺 *سلسلہ دروس آفتاب امامت*💫🌺
*مورخہ: یکم اکتوبر* 2021
درس 6
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* ،
امام زمانہ عج کی ولادت کا تاریخی ، احادیث نیز اہل سنت کی رو سے اثبات
شیخ صدوق نے کمال الدین میں اور شیخ طوسی نے کتاب الغیبۃ کے اندر پورا ایک باب بیان کیا ہے۔ جس میں ان لوگوں کے واقعات ہیں کہ جنہوں نے امام زمانہؑ عج الشریف کی زیارت کی اور آپؑ کے وجود کی گواہی دی۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ غیبت صغریٰ میں مولا ؑ کی جانب سے نائبین خاص کا انتخاب اور پھر وکلا کا تعین کرنا جو نائبین خاص کی زیر نگرانی کام کرتے تھے۔ یہ تمام باتیں ہمارے یقین کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ امام ؑ دنیا میں موجود ہیں۔ اور جو لوگ ابھی بھی شک رکھتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ تاریخی حوالے سے اور احادیث کی رو سے اگر مطالعہ کریں تو یہ چیز آفتاب کی طرح سب پر واضح ہو جائے گی۔
مولاؑ کی ولادت 255 ھج میں ہوئی۔ حکومت کا رویہ امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے ساتھ وہی تھا جو فرعون کا بنی اسرائیل کے ساتھ تھا۔ فرعون نے بچوں کے ظالمانہ قتل کیا تھا کیونکہ اس کے دربار کے کاہنوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ آئے گا جو تمھاری حکومت کو ختم کرے گا۔
بنی عباس تمام روایت اور احادیث سے واقف تھے خود ان کی کتابوں میں مہدی ؑ زہرا کا ذکر تھا کہ 12 حجت وہ ہستی ہیں جو نسل رسولؐ خدا ہونگے۔ فرزند زہراؑ ہیں فرزند حسینؑ ہیں وہ ظالمانہ نظام کا خاتمہ کریں گے ۔
تو انہوں نے آئمہ ؑ پر سختیاں زیادہ بڑھا دیں تاکہ 12ویں مولاؑ کو دنیا میں آنے سے روکا جا سکے ۔ لیکن یہ ناممکن تھا۔ کیونکہ ان کا آنا ارادہ خداوندی تھا۔ لیکن اتنی سختی تھی مسلسل نظر بندی یہاں تک کہ ایک فرعونی حکم صادر کیا کہ اجازت نہیں کہ امام حسن عسکری کی شادی کی جائے۔
بی بی نرجس خاتون بطور کنیز متعارف ہوئیں۔ اور عقد کو مخفی رکھا گیا۔ کیونکہ حکومت کا حکم تھا کہ اگر اس گھر کی کوئی کنیز حاملہ ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔ اور اگر کوئی نومولود ہے تو ماں اور بچے دونوں کو قتل کر دیا جائے۔ یہ وہی فرعونی نظام تھا بی عباس آنے والے فخر موسیٰ سے خوفزدہ تھے۔ عباسی حکومت کا دارلحکومت اس دور میں ایک فوجی چھاونی سامرہ تھا۔ اور امام علیؑ نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کو حالت نظر بندی میں رکھا اور شہید کیا۔
اور امام عسکریؑ کا جنازہ امام زمانہؑ نے پانچ سال کی سن مبارک میں پڑھایا۔ اور پھر اس گھر کی جانب تشریف لے گئے۔ اب جب حکومت کے افراد نے گھر کی تلاشی لی تو امامؑ کو وہاں نہ پایا۔ اور وہیں سے زمانہ غیبت کا آغاز ہوا۔ پھر بار بار امامؑ کی تلاش میں گھر پہ حملہ کیا گیا۔ یہ ثابت کر رہاہے کہ حکومت خوفزدہ ہے کہ مہدی زہراؑ تشریف لا چکے ہیں۔
احادیث کی رو سے اگر ہم اس موضوع پر غور کریں تو ہمارے پاس بہت سی احادیث ہیں ۔
*12 آئمہ کی حدیث* جو حدیث اثنا عشری ء ہے جو شیعہ سنی دونوں کتابوں میں موجود ہے۔ اسی طرح *حدیث ثقلین* ہے۔
رسول خدا نے فرمایا کہ: میں تمہارے لیے دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ ان میں سے ایک چیز دوسری سے رتبے و مقام میں بڑی ہے، ایک قرآن کریم اور دوسری میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں حوض کوثر پر میرے پاس آنے تک آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔
اسی طرح *حدیث من مات* اور بہت سی احادیث جو امامؑ کی ولادت کو ثابت کرتی ہیں۔ اہلسنت کے 40 سے زائد علماء ہیں جو محدث ہیں مورخ ہیں جنہوں نے امام زمانہؑ کی ولادت کو ثابت کیا۔ جیسے محمد بن طلحہ شافعی ، محمد بن یوسف گنجی شافعی ، محمد بن احمد مالکی نے اپنی کتابوں میں بیان کیا
والسلام
👈جاری ہے
سعدیہ شہباز✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
*✨🌸 سلسلہ دروس آفتاب امامت🌺✨*
مورخہ: 5 اکتوبر، 2021
*درس* : 7
(امام حسن عسکریؑ کے امام زمانہؑ کے تعارف کے لیے اقدامات)۔
*استاد محترم علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
ہماری کتابوں میں بلخصوص کمال الدین اور غیبت نعمانی میں ایسی روایات موجود ہیں ۔ امام زمانہؑ کی ولادت سے لیکر امام حسن عسکری ؑ کی شہادت تک سخت ترین دور تھا۔
امام عسکریؑ نے سب سے پہلے اپنے خاص پیروکاروں اور شیعہ بزرگان کو امام زمانہؑ کا تعارف کرایا کہ یہ میرا فرزند ہے اور سلسلہ امامت قائم ہے۔ امام ؑ نے اپنے خاص اصحاب کو خطوط لکھے اور تعارف کرایا۔
احمد ابن اسحاق جو امام حسن ؑ عسکری کے خاص پیروکار اور شیعہ بزرگ تھے۔ کہتے ہیں کہ میں امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میرے ذہن میں سوال تھا ۔ اس سے پہلے سوال میرے لبوں تک آتا میرے مولاؑ نے فرمایا۔ اے احمد بے شک پروردگار عالم نے جس وقت سے جناب آدم ؑ کی خلقت کی اسی وقت سے زمین کو اپنی حجت سے کبھی خالی نہیں چھوڑا اور قیامت تک زمیں کو اپنی حجت سے خالی نہیں چھوڑے گا۔ حجت خدا کے ذریعے اہل زمین سے بلاؤں کو دور کرتا ہے۔ اور ان کے وجود کی برکت سے باران رحمت نازل فرماتا ہے اور زمین سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
میں نے عرض کی یابن رسولؐ اللہ آپؑ کے بعد آپؑ کا جانشین کون ہو گا۔
امامؑ جلدی سے بیت الشریف تشریف لے گئے اور ایک تین سالہ نورانی طفل اپنے دوش مبارک پر اٹھا کر لائے ۔ جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند تھا۔
فرمایا: اے احمد ابن اسحاق اگر تم پروردگار عالم اور اس کی حجتوں کے نزدیک با عظمت اور گرامی نہ ہوتے تومیں تمھیں فرزند نہ دکھاتا۔ بےشک ان کا نام اور کنیت رسولؐ اللہ کا نام اور کنیت ہے۔ اور یہ وہی ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے جب وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔ اے احمد ابن اسحاق میرے اس بیٹے کی مثال جناب خضر اور جناب ذولقرنین کی مانند ہے ۔ خدا کی قسم ان کی غیبت اتنی طولانی ہو گی۔ کہ کوئی بھی اس عرصہ غیبت میں ہلاکت سے نجات نہیں پائے گا مگر وہ بندہ جسے پروردگار عالم امام مہدی عج کے عقیدے پر ثابت قدم رکھے اور اسے تعجیل فرج کی دعا کی توفیق عطا فرمائے۔
یہاں امام عسکریؑ نے دور غیبت کا ذکر کیا کہ جس میں بہت سے لوگ روحانی طور پر برباد ہو جائیں گے۔ مگر وہ لوگ جو امامت کے عقیدے پر ثابت قدم رہے یعنی معرفت امام زمانہؑ کو حاصل کر لیں گے۔
احمد ابن اسحاق کہتے ہیں ۔ میں نے عرض اے میرے مولا کیا کوئی نشانی ہے۔ جس سے میرا دل پرسکون ہو جائے۔
اب اس تین سالہ مبارک بچے نے لب کشائی کی اور فرمایا۔
*انا بقیتہ اللہ فی ارضہ والمنتقم من اعدائہ۔*
میں زمین پر بقیۃ اللہ ہوں اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں۔ فرمایا کہ اے احمد ابن اسحاق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اب کسی نشانی کی جستجو نہ کرو۔
اس طرح امام حسن عسکریؑ کے بہت سے باوفا اصحاب نے امام زمانہ ؑ کی زیارت کی ملاقات کی۔ کچھ ملاقاتیں فرداً ہیں اور بعض اجتماعی ملاقاتیں ہیں۔
*محمد بن عثمان اور 40 بزرگان دین:*
محمد بن عثمان اور بزرگان دین امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے امام ؑ نے اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا" میرے بعد یہی میرے جانشین اور تمھارے امام ہوں گے۔ تم لوگ ان کی اطاعت کرنا اور میرے بعد اپنے دین میں تفرقہ نہ ڈالنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ اور جان لو کہ آج کے بعد ان کو نہیں دیکھو گے"۔
بات صرف زیارت امام ؑ کی حد تک نہ تھی لوگ امام زمانہؑ سے سوالات کرتے تھے۔ امام عسکریؑ خود علمی محافل کا انعقاد کرتے تھے۔تاکہ انہیں معلوم ہو کہ نبوت اور امامت کا تعلق عمر سے نہیں یہ پروردگار عالم کی عطا کردہ صلاحیت ہے۔
*سعد بن عبداللہ قمی کے سوال*
آسمان امامت کے افق کے بارویں چاند امام مہدیؑ نے اپنے بچپن میں ہی علماء اور فقہاء کے سوالات کے جوابات دیے تھے۔
سعد بن عبد اللہ قمی جو ایک فقیہ اور عظیم شخصیت تھے احمد بن اسحاق کے ساتھ امام حسن ؑ عسکری کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ کہتے ہیں میں نے امامؑ کے جمال مبارک پر نگاہ پڑی امام عسکریؑ کا چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند چمک رہا تھا۔ اور ان کی آغوش میں ایک بچہ تھا جو اپنی خلقت اور حُسن کے اعتبار سے ستارہ مشتری کی مانند تھا۔ امام ؑ نے پوچھا آپ کس لیے تشریف لائے میں نے کہا کہ آپ کی زیارت کے لیے اور کچھ سوالوں کے جواب درکار ہے کہ جب میں نے سوال کرنا چاہا تو امامؑ عسکریؑ نے اپنے فرزند کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔" میرے نور چشم سے سوال کرو"۔
میں سوال کیا میرے مولاؑ لوگوں کو اپنے لیے امام معین کرنےسے کیو ں روکا گیا ہے۔ اب اس طفل مبارک نے لب کشائی کی اور فرمایا تمھاری مراد امام مصلح ہے یا امام مفسد: میں نے کہا امام مصلح۔
تو آپ نے فرمایا:
" کیونکہ کوئی بھی کسی دوسرے کے باطن سے مطلع نہیں کہ وہ خیر و اصلاح کے بارے میں سوچتا ہے یا فساد اور برائی کے بارے میں اس صورت میں کیا یہ احتمال نہیں پایا جاتا لوگوں کا منتخب امام مفسد ہو۔ میں نے کہا جی ہاں احتمال تو پایا جاتا ہے ۔ فرمایا۔ بس یہی وجہ ہے۔
👈جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌏
*💫✨ سلسلہ آفتاب امامت ✨💫*
مورخہ 13 اکتوبر، 2021
*درس نمبر* 8
امام زمان عج کا معارف بیان کرنا اور شیعوں سے ہدیہ و واجبات کی وصولی اور اس میں اہم نکات
*استاد مہدویت محترم علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ*
زمانہ حضور میں امام زمانہؑ کی ولادت کو مخفی رکھا گیا۔تو دوسری جانب امام زمانہؑ کے تعارف کے لیے امام حسنؑ عسکریؔ نے اقدامات کئے۔ امام عسکریؑ نے سب سے پہلے اپنے خاص پیروکار اور شیعہ بزرگان کو امام زمانہؑ کا تعارف کرایا کہ یہ میرا فرزند ہے اور سلسلہ امامت قائم ہے۔ امام ؑ نے اپنے خاص اصحاب کو خطوط لکھے اور تعارف کرایا۔
اور اگر کوئی فقیہ یا عالم کوئی سوالات لے کر آتا تھا تو امام حسن عسکریؑ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ ان کے سوالات کے جوابات امام مہدیؑ دیں ۔
اس زمانے میں کچھ لوگوں نے امام زمانہؑ سے علمی فیض بھی لیا ۔ اور لوگوں میں امامؑ نے معرفت کی باتوں کو منتقل بھی کیا۔ مثلاً شیخ صدوق رح نے ابونصر طریف کا واقعہ نقل کیا یہ واقعہ کمال الدین جلد نمبر 2 میں اور باب نمبر 43 میں حدیث نمبر12 میں ہے ۔ اور دیگر کتابوں میں بھی ہے۔
ابو نصر امام عسکریؑ کے گھر میں تشریف لاتے ہیں اور وہاں ان کو امام زمانہؑ کی زیارت ہوئی۔
امام زمانہؑ نے فرمایا: کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ میں نے عرض کی: ہاں میرے آقا۔ امامؑ نے فرمایا: میں کون ہوں؟ میں نے کہا: آپ میرے آقا کے بیٹے اور خود بھی میرے آقا و مولاؑ ہیں۔
امامؑ نے فرمایا: میرا سوال اس جہت سے نہیں ہے، پھر میں نے عرض کی ، مولاؑ آپ پر قربان جاؤں: مولا ؑ آپؑ خود میرے لئے کچھ بیان فرمائیں تو امام ؑ نے ارشاد فرمایا:
" *میں خاتم الا وصیاء ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے وسیلے سے میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاء و مصیبت کو دور کرتا ہے"۔*
امام ؑ نے اپنے دو الہی منصبوں کا ذکر کیا ہے ایک خاتم الاوصیا ہیں ۔ سب امام وصی یں لیکن امامؑ خاتم الاوصیاء ہیں۔
اور دوسرا منصب میرے مولا ؑ کا کہ وہ زمانہ حاضر کے ولی پروردگار ہیں۔ لوگوں کو راہ ظلمت سے نکال کر راہ ہدایت پر لاتے ہیں۔ امام ؑ وسیلہ پروردگار ہیں ۔ اصل کام پروردگار عالم کا ہے۔ جسطرح پروردگار نے علاج کے لیے ڈاکٹر کو وسیلہ بنایا۔ پرورش کے لیے والدین وسیلہ ہیں ۔ اسی طرح امامؑ وسیلہ ہدایت و معرفت ہیں۔
یہاں امامؑ ایک اور نقطے کی جانب بھی اشارہ فرما رہے ہیں کہ فقظ شیعوں کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ 12 آئمہ ؑ کا نام یاد کر لیں اور ان کو اپنے آئمہ کے احوال اور سیرت اور مرتبہ کی معرفت بھی ہو۔
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کہ ہمارے آئمہ کے کیا کیا مراتب اور عہدے ہیں تاکہ ہم ان سے فیض لیں ۔
*زیارت جامعہ کبیرہ معرفت مقام آئمہ ہے اور اس کی تلاوت بہت ضروری ہے۔*
اسی طرح امام حسن عسکری ؑ کے دور میں جب امام ؑ کے وکلا ء خمس و زکوۃٰ لے کر امامؑ کی بارگاہ میں آتے تھے۔ تو امام عسکریؑ ، امام زمانہ ؑ جو چند سال کے تھے ان سے فرماتے تھے کہ آپ وصول کریں۔
امام ؑ وکلاء کو اشارہ فرماتے تھے کہ آپ ؑ یہ میرے فرزند کو پیش کریں تاکہ وہ آپ سے وصول کریں۔
اور وہ آپ کو وصولی کا کاغذ دیں یا ہدیہ دیں۔
اس دوران کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ امام زمانہؑ نے مال واپس کیا۔ شیخ صدوق نے اس واقعے کو اپنی کتاب کمال الدین میں نقل کیا۔ کہ سعد بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم امام عسکریؑ کی بارگاہ میں پہنچے تو امامؑ کسی کو خط لکھ رہے تھے۔ جب خط تمام ہوا تو احمد بن اسحاق نے شیعوں کی بھیجی ہوئی رقوم اور مال کی تھیلیوں کو اماؑم کی خدمت میں پیش کیا ۔ امام عسکریؑ نے ایک طفل مبارک جس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی ماند چمک رہا تھا اس کی جانب اشارہ فرمایا۔اے نور نظر اپنے شعیوں اور دوستوں کے تحفوں کو کھولو اس طفل مبارک نے فرمایا : اے میرے مولاؑ کیا میں ان اموال کی جانب ہاتھ بڑھاو جن میں آلودہ اموال ملے ہوئے ہیں۔ چنانچہ امامؑ نے احمد بن اسحاق سے کہا کہ تم خود تھیلوں کو کھولو۔ طفل مبارک نے ہر تھیلی کی رقم اور اسکے مالک اسکے محلے کا نام اور کے بارے میں بتایا۔ ایک مورد میں فرمایا کہ اس تھیلی میں باسٹھ دینار ہیں کہ جن میں سے 45 دینار اپنے باپ سے وراثت میں لی گئی پتھریلی زمین کی قیمت ہے۔ چودہ دینار نو قیمتی کپڑوں کی قیمت اور تین دینار دکانوں کا کرایہ ہے۔ امام عسکریؑ نے فرمایا۔ اے میرے فرزند آپ ؑ نے درست فرمایا۔ اب اس شخص کو بتائیں ان میں سے کونسے سکے حرام ہیں۔
طفل مبارک نے پوری توجہ کے ساتھ حرام سکوں کو منتخب کیا اور انکے حرام ہونے کا سبب بھی بیان فرمایا۔
پھر احمد بن اسحاق نے ایک اور تھیلی نکالی تب طفل مبارک نے حسب سابق اس تھیلی کے مالک کا نام اور اس کا محل سکونت بتانے کے بعد فرمایا۔ کہ اس تھیلی میں پچاس دینار ہیں جنہیں ہاتھ لگانا ہمارے لیے مناسب نہیں ہے ۔ احمد بن اسحاق نے جب وجہ پوچھی تو فرمایا: اس لیے کہ یہ دینار اس گندم کی قیمت ہیں جس کے مالک نے تقسیم کرتے وقت کاشت کرنے والوں پر ظلم کیا ہے۔ کیونکہ مالک نے اپنا حصہ پیمانہ بھر کر اور کاشت کاروں کا حصہ بھرے ہوئے پیمانے کے بغیر نکالا ہے ۔ اما عسکریؑ نے فرمایا اے فرزند آپؑ نے سچ کہا۔
پھر امام نے احمد بن اسحاق سے کہا کہ یہ سارا مال اٹھا لو اور خود اس کے مالکین تک پہنچا دو یا ہمارے دوستوں سے کہہ دو کہ اس مال کو اس کے اصلی مالکو تک پہنچا دیں کیونکہ ہمیں ایسے مال کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں ہمارے لیے بہت بڑا درس ہے کہ ہم جب عالیشان اجتماع کرواتے ہیں اور مجالس کرواتے ہیں اور خدا نہ کرے جب مال حرام ہوتا ہے۔ تو پروردگار عالم اور امامؑ راضی نہیں ہوتے۔
والسلام۔
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم🌏*
*🌸 سلسلہ دروس آفتاب امامت 🍃🌺*
20 اکتوبر 2021۔
_امام زمانہ کا اپنے پدر بزرگوار کا نماز جنازہ ادا کرنا اور اہم نکات_
*استاد مہدویت محترم علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
امام زمانہ ع اپنے پدر بزرگوار کے جنازے میں سب کے سامنے آگئے۔ تمام دنیا تشیع آپ کی جانب متوجہ ہوئی اور عباسی حکومت بھی یہاں تک کہ ظالم حکومت نے آپ کی تلاش شروع کر دی آپ کے پدر بزرگوار کے *جنازے کے حوالے سے کمال الدین جلد نمبر 2 باب 43 روایت 25 میں شیخ صدوق رح نے تحریر کیا کہ*
ابو لادیان جو امام عسکریؑ کے غلام ہیں کہتے ہیں امام ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں کچھ خطوط دئے اور فرمایا ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو ۔ تم 15 دن کے بعد سامرہ پلٹو گے اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے ۔ اور میرے بدن کو غسل کے تخت پر دیکھو گے۔ میں نے عرض کی میرے مولا ؑ جب یہ واقعہ ہو گا تو آپ کا جانشن اور امام ؑ کو ن ہو گا ۔ فرمایا جو تم سے ان خطوط کے جواب طلب کرے گا وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی ان کی کوئی دوسری نشانی۔ فرما یا جو میرا نماز جنازہ پڑھائے گا وہی امامؑ ہو گا۔
میں نے عرض کی مولا کوئی اور نشانی فرمایا جو شخص یہ بتا دے اس تھیلی میں کیا ہے۔ مجھ پر اتنی امامؑ کی ہیبت طاری ہوئی کہ میں یہ سوال نہ کر سکا کہ اس تھیلی کا قصہ کیا ہے؟
15 دن کے بعد جب میں سامرہ واپس پلٹا تو وہی منظر دیکھا جو امام ؑ نے فرمایا تھا۔ میں نے دیکھا کہ جعفر(امام عسکری علیہ السّلام کا بھائی)دروازے پر کھڑے ہیں اور لوگ تعزیت پیش کر رہے ہیں اور اس کی امامت کی مبارکباد دے رہے ہیں ۔میں حیران ہوا کیسے اس طرح کا شخص جو علانیہ گناہ گار ہو امام ہوسکتا ہے ؟!
خیر مجھے نشانیاں درکار تھیں۔ میں نے بھی دوسروں کی طرح تعزیت کی اس نے مجھ سے خطوط کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا اب ایک خادم آیا اور کہا اے میرے مولا جنازہ تیار ہے چلئے اور نماز جنازہ پڑھائیں ۔ جعفر دوسرے شیعوں کے ساتھ امام ؑ کے بیت الشرف میں داخل ہوا۔
امام حسن عسکریؑ کا تابوت تیار تھا۔ جیسے ہی جعفر آگے بڑھا کہ جنازہ پڑھائے *ایک گندمی رنگ گھنگرالے بال اور پیوست چمکدار دانتوں والا ایک طفل مبار ک آگے بڑھا اور جعفر کا دامن پکڑ کر فرمایا اے چچا پیچھے ہٹیں میں اپنے بابا کا جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔*
جعفر کذاب کے چہرے کا رنگ زرد ہو گیا۔ اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔ اس طفل مبارک نے جنازہ پڑھایا۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا *" تمھارے پاس جو خطوط ہیں وہ مجھے دے دو۔* میں نے اپنے دل میں کہا اس طفل مبارک کی امامت کی دو نشانیاں مل گئی اب تیسری باقی ہے۔ میں جعفر کے پاس گیا اور پوچھا یہ طفل مبارک کون ہیں بولا خدا کی قسم میں نے ان کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور نہ پہچانتا ہوں۔
کہتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اہل قم آئے اور جب انہیں معلوم ہوا کہ امامؑ کی شہادت ہو گئی ہے تو انہوں نے پوچھا امام کے جانشین کون ہیں کسی نے جعفر کی جانب اشارہ کیا تو انہوں نے تعزیت پیش کی اور پھر کہا اتنا بتا دیجئے کہ ہمارے پاس خطوط کن کے ہیں اور رقم کی تھیلی میں کتنی رقم ہے۔ اب جعفر ناراض ہو گیا۔ اور اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ہم علم غیب جانتے ہیں۔ اس موقع پر امام مہدیؑ کا غلام باہر آیا اور کہا یہ خطوط فلاں فلاں شخص کے ہیں اور تھیلی میں ہزار دینار ہیں جس میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے۔ چنانچہ ان لوگو ں نے وہ خطوط اور رقم اس غلام کو دی اور کہا جس نے تمھیں یہ چیزیں لینے بھیجا ہے وہی امامؑ ہیں۔ اس روایت سے 3 نکات واضح ہوئے:
چونکہ امام ع کا جنازہ امام کو پڑھاتا ہے ۔
امام زمانہ نے جنازہ پڑھایا اور پوری دنیا کو اپنا وجود ثابت کیا کہ میں امام وقت ہوں میں جانشین امام عسکری ع ہوں ۔
امام لاولد نہیں تھے۔
جعفر امام نہیں بلکہ کذاب تھا
اور ابو لادیان کے واقعے میں تینوں نشانیوں نے ثابت کیا کہ امام عج ہی جانشین امام عسکری ع اور حجت خدا ہیں ۔
والسلام،
👈جاری ہے
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
*🍃💐 سلسلہ دروس امام مہدی عج قرآن کریم کی رو سے🌺🍃*
" امام مہدی عج قرآن کی رو سے اہمیت ، قرآن کا جامع و کامل ہونا اور تفسیر و تاویل ہونا اورتفسیر و تاویل سے مراد
مورخہ: 8 نومبر2021
*استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
قرآن مجید کے اندر تقریباً 200 سے زائد آیات امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ہستی کا ذکر نہ ہو کہ جس نے قرآن کو نافذ کرنا ہے۔ امام زمانہؑ جب ظہور فرمائیں گے تو حکومت قرآن ہو گی۔ ابھی تو قرآن فقط غلاف میں بند ہے اور مردوں پر پڑھنے والی کتاب ہے ۔ لیکن تب قرآن ہماری زندگیوں میں شامل ہوگا۔ اس دور میں یہ زندوں کی کتاب ہو گی۔ اور اس دور میں لوگ کہیں گے کہ امام زمانہؑ کی حکومت در حقیقت دولت قرآن ہے۔
قرآن مجید جس کے اندر سب حقائق موجود ہیں وہاں اس ہستی کا ذکر نہ ہو کہ جس نے دنیا کو عدل سے بھرنا ہے۔
قرآن بہترین دلیل ہے امام زمانہؑ کی شناخت حاصل کرنے کے لیے۔ ہم سب کا فریضہ ہے کہ امام زمانہؑ کی معرفت حاصل کریں۔
جو بھی کلمہ گو ہے اسے اپنے دور کے پیغمبر کے وصی کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔
*حدیث ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ زمانے کے امامؑ کی معرفت حاصل نہ کرے تو وہ جہالیت (یعنی قبل از اسلام کفر) کی موت مرا۔*
یعنی حقیقی امام کی معرفت، آج دنیا میں بہت سے مختلف فرقے اور مسلک ہیں جو خود کو حقیقی اسلام کہتے ہیں لیکن حقیقی اسلام وہیں ہے جہاں حقیقی امام ؑ ہیں اور امام ؑ تک پہنچنے کا بہترین راستہ قرآن مجید ہے۔
قرآن مجید خود ایسی پاکیزہ راہ ہے جو معصوم ہے صراط مستقیم ہے۔ اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں۔
*مولا علیؑ فرماتے ہیں*
" جان لیں کہ اگر کوئی شخص قرآن سے علوم حاصل کر رہا ہے تو اب اس شخص پر احتیاج باقی نہیں رہی یعنی اب وہ شخص محتاج نہیں اور قرآنی علوم حاصل کرنے سے قبل کوئی شخص غنی نہیں ہے۔
بس قرآن سے اپنی بیماریوں (روحانی) کی شفا مانگو اور مشکلات میں قرآن سے مدد مانگو۔"
قرآن در حقیقت روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ قرآن کے ذریعے علم طب بنا جو جسمانی بیماریوں کی دوا ہے۔
ہمیں قرآن اور امامؑ کی معرفت ہونی چاہیے۔
جب ہم قرآنی نگاہ سے کسی موضوع پر کام کرتے ہیں تو پھر اس موضوع پر شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
اسلام آخری دین ہے۔ پیغمبرؐ کی رحلت کے بعد وحی نہیں آئے گی۔ آئمہؑ بھی حامل وحی نہیں بلکہ محافظ وحی ہیں۔
بعض دفعہ ہمارے منبر سے ایسی گفتگو کی جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ امام ؑ بھی حامل وحی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمارے مخالف دھڑے اور اہلسنت کہتے ہیں کہ شیعہ ختم نبوت کے قائل نہیں۔ اور دین آنے کا سلسہ باقی رہا اور یہ 13 نبیوں کے قائل ہیں ۔ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ پیغمبر ؐ کے بعد وحی نہیں آئی۔ آئمہ ؑ پر الہام ہوتا ہے۔ آئمہ محافظ وحی اور احادیث ہیں۔
*معصوم فرماتے ہیں* کہ اگر کوئی عام شخص 40 دن اپنی زبان کو گناہوں سے پاک کر لے تو پروردگار اس کے قلب پر حکمت کے چشمے کھول دیتا ہے۔ تو جب ایک عام انسان پاکیزگی کی راہ اختیار کرے تو خدا خود معلم بن جاتا ہے۔ تو جو پاکیزہ لوگوں کا امام ہے ۔ جو مطلقاً امام معصوم ہے۔ اسپر الہام ہوتے ہیں۔
آئمہؑ کو علم غیب عطا ہوا ۔ کیونکہ امامؑ عوام میں بطور اولیاء اللہ ہوتے ہیں تو ان کی غیبی مدد ہوتی ہے۔ لیکن وحی کا سلسلہ ختم ہے۔
مولا علیؑ نے بعد از رحلت پیغمبرؐ فرمایا کہ:
یا رسول ؐ اللہ آپ ؐ کی موت سے بشریت اس چیز سے (وحی) محروم ہو گئی ہے ۔ جو آج سے پہلے نہ ہوئی تھی۔ یعنی سلسلہ وحی سے محروم ہو گئی ہے۔ اور آسمانی دین کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ یہ دین قیامت تک رہے گا۔
ہر دور کے لیے قرآن کامل اور جامع کتاب ہے۔ اس میں تمام مسائل کا حل ہے۔
*پروردگار عالم نےفرمایا:* " اے نبیؐ ہم نے آپؐ پر ایسی کتاب نازل کی کہ جس میں ہر چیز (کی ہدایت ) کا بیان موجود ہے۔
جیسے احکام شریعت۔ عقائد، اخلاق یعنی ایسی چیزیں جو انسان کو راہ راست پر لاتی ہیں جو انسان کو بندگی سیکھاتی ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔ اگر ایک انسان بگڑ جائے تو وہ معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ اگر وہ طاقتور ہو تو پوری مملکت کو جنگ میں جھونک دیتا ہے۔
اگر کوئی انسان بن جائے تو وہ فائدہ مند ہے وہ امت کو ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔ پورا محلہ اس سے استفادہ لیتا ہے۔
قرآن ہدایت ہے۔
سورہ البقرہ کی ابتدائی آیات بتاتی ہیں : کہ " ھدی المتقین" میں اہل تقویٰ کے لیے کتاب ہدایت ہوں۔
یعنی قرآن انسان کی نجات ہے۔
قرآن کی تفسیر و تاویل ہونی چاہیے۔ تفسیر کو انسان علوم کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن تاویل کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے یعنی وہ حقائق جو قرآن کے باطن میں ہیں ان کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے۔
قرآن کے ظاہر اور باطن کے لیے احادیث اور معصومین اور بلخصوص امام زمانہؑ کے ہونے کی ضرورت ہے۔
امام ؑ معلم قرآن ہے اور ان کی ہدایت اور فیض حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
👈جاری ہے
والسلام
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں