Course 2 Book 12 Me

 




📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
#  درس 1
# رجعت کا معنی و مفہوم اور فلسفہ
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 
# عالمی مرکز مہدویت قم

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

اتوار    21  جمادی الاول   1446( 24  نومبر     ، 2024)**



پس منظر 

زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔


رجعت کا معنی و مفہوم اور فلسفہ 

رجعت: 

عقیدہ رجعت اسلام کے شیعہ مکتب فکر میں ایک خاص عقیدہ ہے جو قیامت سے پہلے بعض مخصوص شخصیات کے دنیا میں دوبارہ آنے کا عقیدہ ہے۔ یہ شخصیات میں انبیاء، ائمہ، چند خالص مومنین اور کچھ منافقین و کفار شامل ہیں۔


**معنی و مفہوم:**

رجعت کا لفظی معنی ہے "پلٹنا" یا "واپس آنا"۔ اس عقیدہ کے مطابق، قیامت سے پہلے بعض اہم شخصیات کو خاص مقاصد کے تحت دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا۔


**فلسفہ:**


حضرت امام محمد باقر علیہ السلام رجعت کے بارے میں ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
”مومنین پلٹ جائیں گے تاکہ عزت پائیں، ان کی آنکھیں روشن ہوں گی اور ظالم لوگ بھی پلٹیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کرے“۔(بحارالانوار ج۵۳ص۴۶)

اس عقیدہ کا مقصد یہ ہے کہ مظلومین کو عزت اور ظالمین کو ذلت دکھائی جائے۔ مومنین کی دوبارہ واپسی سے انہیں عزت دی جاتی ہے جبکہ ظالمین و کفار کو دنیا میں ہی ان کے ظلم کی سزا دی جاتی ہے۔


**روایات و احادیث:**

اس عقیدے کی تائید میں بہت سی روایات اور احادیث موجود ہیں جو کہ انبیاء و ائمہ سے منقول ہیں۔


**عملی اثر:**

یہ عقیدہ شیعہ مکتب فکر کے افراد کے لیے امید اور عدل کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ یہ ان کے دینی عقائد کا اہم جزو ہے اور اس کے ذریعے انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ ہر ظلم کا حساب کتاب ہوگا۔


عقیدہ رجعت کے تفصیلی جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیعہ اسلام کے دینی عقائد میں گہری جڑیں رکھتا ہے اور اسے مکمل طور پر سمجھنے کے لیے تفصیلی مطالعہ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو اور کچھ جاننا ہے تو میں حاضر ہوں۔

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️


📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
#  درس 2
# رجعت پر قرانی دلائل
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 
# عالمی مرکز مہدویت قم


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

منگل 23  جمادی الاول   1446( 26 نومبر   ، 2024)**

جواب: رجعت پر قرانی دلائل





پس منظر 
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔


آج کا ہمارا موضوع گفتگو رجعت پر مبنی ہے، جس کے قرآنی دلائل پر بات کریں گے۔ 


**سورہ البقرہ آیت 56:**

"ثُـمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ"

یہ آیت بنی اسرائیل کے ان افراد کے بارے میں ہے جو کوہِ طور پر حضرت موسٰیؑ کے ساتھ گئے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ بجلی کی وجہ سے یہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے، مگر اللہ نے حضرت موسٰیؑ کی دعا پر انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، جسے رجعت کہتے ہیں۔


**سورہ النمل آیت 83:**

"وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيَاتِنَا فَهُـمْ يُوْزَعُوْنَ"

یہ آیت رجعت کی ایک اور مثال پیش کرتی ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن نہیں بلکہ ایک خاص دن، اللہ تعالیٰ کچھ گروہوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا تھا۔


یہ دونوں آیات رجعت کے قرآنی تصور کو بیان کرتی ہیں، جہاں اللہ کی قدرت کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ مردہ کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ رجعت کا یہ موضوع نہ صرف قرآن میں بیان ہوا ہے بلکہ احادیث کی کتب میں بھی اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فہم عطا فرمائے اور اپنے حکم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️


📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
#  درس 3
# رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 
# عالمی مرکز مہدویت قم

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

اتوار  28 جمادی الاول   1446( 1 دسمبر  ، 2024)**


 رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات


**رجعت کے قرآنی و حدیثی دلائل اور خصوصیات**

پس منظر 
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔
 
رجعت اک قرآنی موضوع ہے سورہ انبیاء دو پچیانوے میں ہے 
اس گاؤں والوں بستی والوں پر حرام ہے یعنی انکو پلٹنا حرام ہے 
یہ روز محشر نہں بلکہ یہ روز رجعت ہے کیونکہ قیامت کے دن تو سب آئیں گے 
امام باقر امام صادق بحار الانوار میں ہے
ھر وہ بستی جو کو خدا نے اپنے عزاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں نہں پلٹیں گی

یہ اہم ترین بڑی دلیلوں میں سے اک دلیل ہے کیونکہ قیامت میں سب سے گے 
لا یرجعون ہے یہ رجعت کے بارے میں ہے نہ کے قیامت 

مکتب اہل بیت علیہم السلام میں کثرت سے بیان ہوا ہے کے زیارات دعاؤں  کا حصہ رہی ہیں 
امام ہادی زیارت میں نقی علیہ السلام کے 
اور دعا عھد 
زیارت آل یاسین میں بھی ہوا ہے 
رجعت کی خصوصیات چھ ہیں !
1خدا کے اعظیم دنوں میں سے ہے سورہ اِبراھیم اور سورہ جاسیہ میں ایام اللہ آیا ہے قدرت کا اظہار کرے گا نا ممکن کو ممکن کرے گا 
امام علیہ السلام فرماے ہیں 
ایم اللہ تین دن ہیں 
پہلا قائم قیام کا الہی 
دوسرا  رجعت مردوں کا اظہار 
قیامت  کے دن کو 

رجعت کا عقیدہ شیعہ اہلبیت علیہ السّلام کی نشانیوں میں سے ہے 
رجعت سب کی نہں بلکہ خالص مومن اور خالص منافقوں کی 
چوتھی 
انبیاء اور معصومین علیہم السلام بھی ہیں 
امام حسین علیہ السلام حکومت کرنی ہے 
پانچ 
تمام مومنین 
مومن پلٹیں گے مدد کریں گے احتمال مومن سب پلٹیں گے ناصر ہوگا انکے توفیق خدا یہ دیں گے 

چھ 
مومنین آزرو دعا سے رجعت کریں گے 
لیکن منافق اور کافر کو اجباری ہوگا 
مومنین کی رجعت اختیاری ہے 
خدا کے فرشتے عالم برزخ میں رجوع کریں گے اور آزاد ہیں خدا آپ کو توفیق دے رہا ہے چاہیں تو جا سکتے یعنی اختیار دیں گے انکو 


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️


📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
#  درس 3
# رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 
# عالمی مرکز مہدویت قم

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

اتوار  28 جمادی الاول   1446( 1 دسمبر  ، 2024)**


 رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات


**رجعت کے قرآنی و حدیثی دلائل اور خصوصیات**

پس منظر 
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔

ہم رجعت کے موضوع پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے درس میں ہم نے قرآن مجید سے متعدد آیات اور ہمارے علماء کی طرف سے پیش کردہ احادیث کا جائزہ لیا تھا جو رجعت کے موضوع پر دلائل مہیا کرتی ہیں۔


**رجعت قرآن میں:**

📖 سورہ الانبیاء کی آیت 95 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

*وَحَرَامٌ عَلٰى قَرْيَـةٍ اَهْلَكْنَاهَآ اَنَّـهُـمْ لَا يَرْجِعُوْنَ* 

"اور ان بستیوں کے لوگوں پر جن کو ہم نے ہلاک کر دیا، واپس آنا حرام ہے۔"


یہ آیت رجعت کے مفہوم پر روشنی ڈالتی ہے کہ مخصوص لوگوں کا دوبارہ لوٹنا ممنوع ہے، جو قیامت کے دن کے مقابلے میں ایک مخصوص واقعہ ہے۔


**حدیثی دلائل:**

 بحار الأنوار میں امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ:

"ہر وہ بستی جسے اللہ نے اپنے عذاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں نہیں پلٹے گی۔"


یہ بیان رجعت کے دلائل میں مزید وزن اضافہ کرتا ہے، کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ رجعت صرف خاص لوگوں کے لیے ہے، نہ کہ ہر کسی کے لیے۔


**رجعت کی خصوصیات:**

رجعت ایک ایسی پیشین گوئی ہے جو خاص طور پر قیامت سے پہلے کچھ افراد کے دنیا میں واپس آنے کے متعلق ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہوں گے جو ایمان کے معیار پر پورا اترتے ہیں اور جن کا امام وقت کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ 


اس بحث میں قرآن و حدیث دونوں کے ذریعہ رجعت کے موضوع کی تائید کی گئی ہے، جو کہ شیعہ اسلامی تعلیمات میں ایک اہم جزو مانا جاتا ہے۔

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️





📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
#  درس 3  
# رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 
# عالمی مرکز مہدویت قم

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃

میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

اتوار  28 جمادی الاول   1446( 1 دسمبر  ، 2024)**

 رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات


**رجعت کے قرآنی و حدیثی دلائل اور خصوصیات**

رجعت
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔

راجعت پر قرانی دلائل سورہ انبیاء  ایت نمبر 95  میں پروردگار فرما رہا ہے " کہ اس بستی والوں پر حرام ہے کہ جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا ہے کہ وہ واپس نہیں پلٹیں گے (یعنی ان کا پلٹناحرام ہے) محمد و ال محمد کی احادیث اور روایات کی رو سے یہ ایت جو ہے وہ رجعت پر ایک بہترین دلیل ہے کیونکہ جو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں انہوں نے بالاخر پلٹنا ہے روز محشر  پروردگار فرما رہا ہے کہ ان پر حرام ہے پلٹنا تو یہ پھر یقیناً روز محشر پر گفتگو نہیں ہو رہی عام طور پر مخالفین اس طرح کی آیات کو روز قیامت پر تطبیق کرتے ہیں پروردگار آیت میں فرما رہا ہے کہ ان لوگوں پر حرام ہے پلٹنا تو یہ روز قیامت کے بارے میں نہیں ہے یہ بہترین دلیل ہے رجعت پر کیونکہ روز قیامت ہر ایک ہلاک ہوئی قوم پلٹے گی روز رجعت  تو کچھ قومیں پلٹیں گی جن کے بارے میں پروردگار کا ارادہ ہے
امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسی آیت کے ذیل میں فرمایا ہے: ہر وہ بستی جسے خدا نے اپنے عذاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں نہیں پلٹے گی اور یہ آیت بڑی دلیل ہے کیونکہ روز قیامت تمام ہلاک ہونے والی اقوام پلٹیں گی لیکن رجعت پہ چند اقوام پلٹیں گی۔
لہذا رجعت کا موضوع قرانی موضوع ہے بہت ساری ایات رجعت پر دلالت کرتی ہیں۔
تشیع میں رجعت کا موضوع اس قدر بیان ہوا ہے کہ ہماری دعاؤں اور زیارات کا بھی یہ حصہ بن گیا امام ہادی علیہ السلام لکی علیہ السلام سے جو زیارت جامع کبیرہ نقل ہوئی ہے اس میں معصوم کے یہ جو جملے ہیں: اےحجت خدا میں اپ کی امامت کا اعتراف کرتاہوں جو یہ جو دلائل ہیں میں ان پر ایمان رکھتا ہوں میں آپ کے پلٹنے کہ آپ نے پلٹنا ہے رجعت کرنی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور میں آپ کے امر کا منتظر ہوں اور آپ دیکھیں کہ خود امام مہدی علیہ السلام سے متعلق جو زیارات ہیں جیسے زیارت آل یس وہاں بھی یہ موضوع بیان ہوا حتی دعاؤں میں دعائے عہد جو ہے وہ بھی اسی موضوع کے بارے میں بعض دفعہ سوال ہوتا ہے کہ رجعت کی خصوصیات کیا ہیں۔
6 خصوصیات بیان کریں گے
1 ۔ رجعت پروردگار کے عظیم دنوں میں سے ایک دن ہے آپ دیکھیں قران مجید کے اندر سورہ ابراہیم اور سورہ جاثیہ میں لفظ ایام اللہ آیاہے کچھ دن ہیں جس میں خدائے قہاراپنی قدرت کا اظہار کرے گا۔
 امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایام اللہ تین دن ہیں پہلا دن قائم کے قیام کا قائم کر خدا کے دنوں میں سے کچھ ہزاروں لاکھوں سالوں پر مشتمل یہ دنیا ہے جس میں کبھی بھی الہی نظام قائم نہیں ہو سکا شیاطین ابلیسی قوت ہے ہمیشہ رہی ہیں امام قائم اس کو ممکن کریں گے  پوری دنیا پہ الہی نظام لائیں گے
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
#پہلے دن قائم کے قیام کا دن ہے
#دوسرا دن رجعت کا دن ہے
#تیسرا دن قیامت کا دن 
رجعت میں بھی مردوں کا زندہ ہونا خدا کی قدرت کا اظہار ہے اور قیامت میں تو سب نے زندہ ہونا ہے تو یہ تین دن کو ایام اللہ کہا گیاہے یہ پہلی نشانی ہے کہ رجعت ایام اللہ میں سے 
2 ۔ دوسری خصوصیت جو ہے وہ یہ ہے کہ رجعت پر عقیدہ جو ہے وہ شیعان اہل بیت کی نشانیوں میں سے حتی کہ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ اگر کوئی شخص رجعت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے
3 ۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ سب لوگوں کی نہیں بلکہ وہ جو خالص مومن ہیں کہ جنہوں نے امام زمانہ کی مدد کرنی ہے اور وہ جو خالص کفار اور خالص منافقین ہیں جنہوں نے ظلم کیے اور دنیا میں اپنے ظلم کی سزانہیں پائی 
4۔ چوتھی جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ جو رجعت کریں گے ان میں انبیاء بھی ہیں ائمہ معصومین بھی ہیں اور سب سے پہلے امام جنہوں نے رجعت کرنی ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے بعد اس حکومت الہی کو سنبھالنا ہے وہ امام حسین علیہ السلام ہے کہ جنہوں نے بہت ہی طولانی عرصہ حکومت کر دی۔
5 ۔  پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ تمام مومنین تمام اہل انتظار جو دل و جان سے عاشق ہیں امام مہدی کے ان کے ظہور کے منتظر ہیں اور ظہور سے پہلے دنیا سے چلے گئے سب کا احتمال ہے کہ وہ پلٹے اور امام کی نصرت انہیں حاصل ہو۔ اس حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے یہ مشہور روایت ہے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اگر 40 دن دعائے عہد کی تلاوت کرے تو وہ ان مولا کے ناصروں میں سے ہوگا کہ جنہیں اٹھایا جائے گا اگر مر بھی چکے ہوں گے حضرت کے ظہور سے پہلے تو اللہ انہیں قبر سے نکالے گا اور مولا کی نصرت کی توفیق دے گا(بحار)
6۔ چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ مومنین تو اپنی خواہش سے ارزو اور تمنا سے اور اتنی دعاؤں کی وجہ سے رجعت کریں گے لیکن جو کافر ہوں گے منافقین ہوں گے ان کو زبردستی اجبار کے ساتھ پلٹایا جائے گا یعنی کافر اور منافقین جن کو سزا ملنی ہے جن کے لیے عدالت الہی قائم ہونی ہے ان کی رجعت اجباری ہے مومنین کی رجعت اختیاری ہے
جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب امام مہدی علیہ السلام قیام کریں گے تو خدا کے فرشتے عالم برزخ میں اس مومن شخص سے رابطہ کریں گے اور اسے کہیں گے اے بندہ خدا تمہارے مولا نے ظہور کیا اور اگر آپ چاہتے ہیں اپنے مولا کے لشکر سے ملحق ہونا تو آپ کو اختیار ہے آپ آزاد ہیں خدا اپ کو یہ توفیق دے رہا ہے لیکن اگر آپ اسی برزخی الہی نعمتوں میں غرق رہنا چاہتے ہیں اسی کے اندر آپ زندگی گزارنا چاہتے ہیں  اختیار ہے کہ انہوں نعمت الہی جو برزخی ہے اس میں رہے یا دوبارہ دنیا میں پلٹیں ۔
تو یہ تقریبا چند خصوصیات ہیں انشاءاللہ اس کے بعد ہمارا اگلا جو درس ہے وہ اس موضوع پہ ہوگا کہ کن کن لوگوں نے رجعت کرنی پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم نے ان لوگوں میں سے قرار پائیں کہ جو رجعت کریں اور وقت کے امام کے ناصرین سے ملحق ہوئے انشاءاللہ.

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️




📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "


# درس 4


# کون رجعت کریں گے


# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 


# عالمی مرکز مہدویت قم


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

منگل     30  جمادی الاول   1446( 3  دسمبر    ، 2024)**


پس منظر 

زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔


ہماری گفتگو آج رجعت کے موضوع پر مرکوز ہے، جس میں احادیث کے مطابق مختلف شخصیات بشمول انبیاء، آئمہ معصومین، اور اصحاب معصومین شامل ہیں۔ ہم نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ دو طرح کے لوگ رجعت کریں گے۔



پہلا گروہ وہ ظالمین ہیں جنہوں نے دنیا میں بےپناہ ظلم کیا لیکن انہیں ان کی سزا نہیں ملی۔ قیامت سے پہلے، امام زمان عج کے زمانے میں ایک عالمی عدالت قائم ہوگی جہاں یہ ظالم دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔ مظلوموں کو بھی زندہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے ظالموں کو سزا ہوتے دیکھ سکیں۔



دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام قائم عج کے زمانے میں زندہ رہنے کی آرزو کی تھی۔ ان میں انبیاء، آئمہ، اور ان کے اصحاب شامل ہیں جنہوں نے اپنی موت سے پہلے اس دور کو دیکھنے کی دعائیں کی۔



امام صادقؑ کے مطابق، سورہ مومن کی آیت "ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کے دنیا کی زندگی میں بھی مددگار ہیں اور اس دن جب کہ گواہ کھڑے ہوں گے" رجعت کے مفہوم کو سمجھاتی ہے۔ امام کہتے ہیں کہ جن پیغمبروں اور آئمہ کو دنیا میں نصرت نہیں ملی، وہ رجعت کے وقت اس نصرت کو پائیں گے۔



روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ بہت سے صالح اور تقویٰ والے لوگ بھی رجعت کریں گے، جیسے اصحاب کہف اور مومن آل فرعون۔ یہ سب رجعت کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں، جسے قرآنی آیات اور حدیثی روایات سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔



اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس عظیم زمانے کو دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں اور رجعت کرنے والوں میں سے بنائے۔ آمین۔

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹

شہر بانو✍️






📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت 
"

# درس 4

# کون رجعت کریں گے

# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 

# عالمی مرکز مہدویت قم

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

منگل     30  جمادی الاول   1446( 3  دسمبر    ، 2024)**


خلاصہ نمبر :4

 کون رجعت کریں گے


پس منظر 
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔

ہماری گفتگو آج رجعت کے موضوع پر مرکوز ہے، جس میں احادیث کے مطابق مختلف شخصیات بشمول انبیاء، آئمہ معصومین، اور اصحاب معصومین شامل ہیں۔ ہم نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ دو طرح کے لوگ رجعت کریں گے۔


پہلا گروہ

پہلا گروہ وہ ظالمین ہیں جنہوں نے دنیا میں بےپناہ ظلم کیا لیکن انہیں ان کی سزا نہیں ملی۔ قیامت سے پہلے، امام زمان عج کے زمانے میں ایک عالمی عدالت قائم ہوگی جہاں یہ ظالم دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔ مظلوموں کو بھی زندہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے ظالموں کو سزا ہوتے دیکھ سکیں۔


دوسرا گروہ

دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام قائم عج کے زمانے میں زندہ رہنے کی آرزو کی تھی۔ ان میں انبیاء، آئمہ، اور ان کے اصحاب شامل ہیں جنہوں نے اپنی موت سے پہلے اس دور کو دیکھنے کی دعائیں کی۔


امام صادقؑ کے مطابق، سورہ مومن کی آیت "ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کے دنیا کی زندگی میں بھی مددگار ہیں اور اس دن جب کہ گواہ کھڑے ہوں گے" رجعت کے مفہوم کو سمجھاتی ہے۔ امام کہتے ہیں کہ جن پیغمبروں اور آئمہ کو دنیا میں نصرت نہیں ملی، وہ رجعت کے وقت اس نصرت کو پائیں گے۔


روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ بہت سے صالح اور تقویٰ والے لوگ بھی رجعت کریں گے، جیسے اصحاب کہف اور مومن آل فرعون۔ یہ سب رجعت کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں، جسے قرآنی آیات اور حدیثی روایات سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس عظیم زمانے کو دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں اور رجعت کرنے والوں میں سے بنائے۔ آمین۔

*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️




📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "

# درس 4

# کون رجعت کریں گے

# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 

# عالمی مرکز مہدویت قم

*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹


میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور   پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️

*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"* 

 *خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*

اتوار     30  جمادی الاول   1446( 3  دسمبر    ، 2024)**



خلاصہ نمبر :4

 کون رجعت کریں گے


رجعت
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔



رجعت کا معنی مفہوم اور رجعت پر جو قران اور احادیث سے دلائل ہیں یہ سب بیان ہوئے اور اسی طرح ہم نے رجعت کی خصوصیات بھی بیان کی۔
موضوع  : کون لوگ رجعت کریں گے۔

 احادیث کے اندر مختلف شخصیات جن میں انبیاء علیہم السلام ہیں ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں اصحاب ائمہ ہیں مختلف ہستیوں کا ذکر ہے بطور کلی تو ہم نے پہلے اگے احادیث و روایات کی رو سے دو طرح کے لوگ رجعت کریں گے ایک تو وہ ظالم جنہوں نے بے پناہ ظلم کیے اور دنیا میں اپنے ظلم کی سزا نہیں پائی تو کہ ہم اس سے پہلے عدالت الہی کے تحت کو کے لیے زمین پر امام زمانہ کے توسط سے ایک عالمی عدالت لگے گی جس میں گزشتہ امتوں سے لے کر اب تک تمام بڑے بڑے ظالموں کو زندہ کر کے دنیا میں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی اور مظلوموں کو بھی زندہ کیا جائے گا تاکہ اپنی انکھوں کے سامنے ان ظالموں کو ذلت سے سزا پاتے دیکھے  ۔
لیکن کچھ ظلم کچھ گناہ ایسے یسے ہیں کہ جن کی دو سزائیں ہیں ایک دنیا میں اور ایک اخرت
 لیکن کچھ لوگوں نے ایسے گناہ کیے ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں ارادہ الہی یہی ہوتا ہے کہ انہیں دنیا میں بھی ذلت دکھائے اور اخرت میں بھی سزا دے تو ایسے لوگوں میں بعض کو سزا مل چکی ہے فرعون کو مل چکی ہے مثلا یہ شمر کو مل چکی ہے لیکن کچھ لوگ بستر راحت پر مرے ہیں دنیا میں ظلم کرتے کرتے، ان کو قائم کے زمانے میں اٹھایا جائے گا اور دنیا میں ان کے ظلم کی سزا انہیں ملے گی لیکن کچھ لوگ ایسے بھی رجعت کریں گے جو آرزو رکھتے تھے امام قائم کا زمانہ دیکھنے کی اور یہی ارزو اللہ کی بارگاہ میں کرتے ہوئے دعائیں مانگتے ہوئے دنیا سے چلے گئے ، ان میں انبیاء بھی ہیں ائمہ بھی ہیں جیسے مولا امام صادق علیہ السلام مولا امام حسین علیہ السلام اسی طرح دیگر آئمہ سے یہ دعائیں نقل ہیں یہ آرزو نقل ہوئی ہے کہ کاش ہم قائم علیہ السلام کے زمانے میں ہوتے ان کو درک کرتے ان کی خدمت کرتے تو یہ آرزوئیں انبیاء میں بھی تھیں کہ آخرین زمانے میں جو پروردگار کی طرف سے نجات دہندہ ہےہم ان کی ہمراہی کریں ائمہ میں بھی یہی ارزوئیں تھیں ائمہ کے اصحاب میں تھیں اولیاء پروردگار میں تھی ہم شیعوں میں اکثر لوگوں میں یہ آرزو ہے اب خدا جو ہے انہی لوگوں میں سے انتخاب کرے گا ان ہستیوں کو کہ جنہوں نے ہر صورت میں قائم کا زمانہ دیکھنا اور مولا کی نصرت کا شرف حاصل کرنا ہے اس حوالے سے ہماری روایات عام طور پر کہتی ہیں کہ انبیاء اور ائمہ ائیں گے یعنی کچھ ایسی روایت ہیں کہ نام نہیں لیتے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد میں انبیاء اور تقریبا تمام ائمہ ائیں گے اسی ایت کے ذیل میں امام صادق علیہ السلام جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم اس ایت کی جو  تصویر رجعت میں ہوگی اگر تم نہیں جانتے کہ وہ پیغمبر، دنیا میں جن کو نصرت نہیں ملی ان کی مدد نہیں ہوئی اور وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں اور ایسے ائمہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے ہیں تو یہ مدد اور یہ کامیابی انہیں رجعت کے موقع پر حاصل ہوگی اسی طرح بعض روایت ایسی ہیں کہ جو انبیاء کی رجعت عدد کے ساتھ یاد کرتی ہیں بتاتی ہیں ہمیں کہ مثلا اتنی تعداد میں انبیاء  رجعت کریں گے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب امام حسین اپنے یاران کے ساتھ یعنی شہدائے کربلا کے ساتھ رجعت کریں گے تو اس وقت 70 کے قریب انبیاء بھی ان کے ساتھ رجعت کریں گے یا مثلا یہ بھی ہے کہ حضرت موسی ابن عمران صلواۃ اللہ علیہ 70 انبیاء کے ہمراہ ہوں گے بعض ایسی روایات ہیں جو بعض انبیاء اور ائمہ کا نام دیتی ہیں 
جیسے امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمان ہے: کہ حضرت دانیال حضرت یونس علیہم السلام یہ دونوں رجعت کریں گےجب امیر المومنین بھی رجعت کریں گے یعنی مولا علی کے ساتھ رجعت کریں اور رسالت ماب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت کا اقرار کریں گے اور ان کے ساتھ 70 نفر اور بھی ہوں گے اسی طرح امام زین العابدین علیہ السّلام  فرماتے ہیں کہ تمہارے اندر امیر المومنین اور باقی ائمہ ہیں اب ایک سوال یہ ہے کہ سب سے پہلی ہستی کون رجعت کرے گی؟
 تو اس حوالے سے مولا امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :فرماتے ہیں کہ سب سے پہلی ہستی جو دنیا کی طرف رجعت کریں گے اپنی قبر سے اٹھیں گے وہ امام حسین علیہ السلام تو امام حسین پہلی ہستی ہیں جو امام زمانہ شریف سے گزشتہ لوگوں میں سے یعنی ملحق ہوں گے اور امام کے ناصر اور مددگار بھی ہوں اور بعض روایات کی رو سے امام زمانہ کے بعد اس حکومت الہیہ کو امام حسین سنبھال لیں گے اور امام زمانہ کی حکومت کے بعد بہت ہی طولانی عرصہ امام حسین علیہ السلام حکومت کے لیے اسی طرح ہماری روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ انبیاء اور ائمہ سے ہٹ کر بہت سارے صالح لوگ بہت سارے صاحب تقوی جو گزشتہ امتوں سے اور اسی طرح امت اسلام سے وہ بھی رجعت کریں گے۔ 
جیسے گزشتہ امتوں میں سے اصحاب کہف کا رجعت کرنا۔ 
مومن ال فرعون کا رجعت کرنا ذکر ہے۔
 اور اس امت سے اصحاب پیغمبرص جیسے سلمان فارسی ہیں مقداد ہیں مالک اشتر ہیں جابرانصاری ہیں اسی طرح ائمہ کے اصحاب سےبھی کچھ نام آتے ہیں تاکہ آئمہ کی اولاد میں جیسے جناب اسماعیل کا نام ہے جناب مفسر کا جناب حارث عقیل جبیر مختلف نام ہے تو خلاصہ یہ ہے کہ رجعت بالاخر ہر صورت میں ہوگی رجت پر قرانی دلائل ہیں اور رجت کرنے والوں کا نام تک ذکر ہے یہ حق عقیدہ ہے اور یہ مکتب تشیع کا امتیاز ہے مکتب تشیع یعنی وہی اسلام حقیقی جو جو اسلام کے عقائد ہیں وہ سب مکتب تشیعوں میں موجود ہیں تو 
جیسا کہ آئمہ نے فرمایا :جو رجت کا قائل نہیں وہ گویا شیعہ ہی نہیں تو رجت ایک قرانی عقیدہ ہے اور یہ ہر صورت میں ہونا ہے اور یہ قدرت خدا کا اظہار ہے یہ جو کہتے ہیں ،نہیں ہو سکتا تو وہ خالق جو قیامت والے دن سب کو زندہ کر سکتا ہے وہ اس سے پہلے بھی زندہ کر سکتا ہے اور یہ حکومت الہیہ کی ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ اس میں یہ عظیم عدالت برپا ہوگی اور گزشتہ لوگوں میں سے لوگ آئیں گے جو مولا کے ناصر بنیں گے اللہ تعالی ہم سب کو ان لوگوں میں سے قرار دے جو زمانہ ظہور دیکھیں اور رجعت کرنے والوں میں سے قرار دے الہی امین


*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات