Course 2 Book 10 Me

 



  
نوٹ: کتابچہ 10 شرائط و علامات ظہور ( کورس ٹو) اور دسواں درس شرائط و علائم ظہور (کورس)





کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 1
تمہیدی گفتگو
علامات اور شرائط میں فرق

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

نام :- بنت زھرا 


بسم الله الرحمن الرحیم 

موضوع سخن علامت اسباب ظہور ہے انسان جب سے اس زمین پر ایا وہ اپنے ارد گرد ماحول اور اپنے امور میں صرف اور صرف عدالت کو چاہتا ہے عدالت اس کی فطرت میں ہے اور ادھر ہم جتنے بھی دین ائے ان سب کے اندر اخر الزمان میں ایک الہی عادلانہ حکومت کی بشارت بھی دیکھ رہے ہیں اور خود ہمارے اپنے دین میں قران اور احادیث میں بے پناہ خبریں ہیں اس اخر الزماں میں ہونے والی الہی عادلانہ حکومت کی کہ جو کہ اخری پیغمبر کی نسل سے انے والے اخری وصی کے ذریعے جو ہے یہ حکومت تشکیل پائے گی شروع سے ہی ایک احادیث کا سلسلہ جو ہے وہ جاری ہے جو اہل بیت اور ادھر اصحاب اور تابعین کے ذریعے مسلمان امت میں بیان ہوتا رہا اور یہ بشارت جو ہے وہ ہر دور میں نہ کرو لیکن ادھر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس موضوع سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور اصطلاحی انقلاب کے لیے رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں اور ایسے لوگ ہماری اپنی امت میں میں بھی ہے اور عید کی دیگر ملتوں میں اور عالمی سطح پر بھی جو ہے وہ ظالم اور سامراج وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ عادل حکمران عادل منجی الہی عادل حاکم جو ہے وہ دنیا پر حکمت کرے جس کی بنا پر دنیا سے ظلم جو ہے وہ ختم ہو جائے اب یہاں جو ہے ایک سوال ہے کہ ہم پھر کیا کریں کس طرح مولا کے ظہور کے لیے جو ہے وہ تیار ہوں ایا ظہور کی کوئی شرائط ہیں تو وہ بتائی جائیں کوئی علامات ہیں تو بیان چونکہ اب تو لوگ ہر چیز کو علامت سمجھ بیٹھے ہیں اور فورا شروع ہو جاتی ہے گفتگو کے پاس یہ جو واقعہ ہوا ہے یہ علامت ہے جیسے اپ دیکھیں ترکی میں زلزلہ ایا لوگوں نے اسے ظہور کی علامت کے طور پر بیان کرنا شروع کر دیا اس سے پہلے کرونا ایا تھا اس وقت بھی یہی باتیں ہو رہی تھی اب فلسطین اسرائیلی جو حالات خراب ہوئے ہیں غزا کے لوگ اس کو جو ہے وہ بھی انہوں نے علامت جو ہے بیان کرنا شروع کر دیا اسی طرح ہو سکتا ہے کل کوئی اور واقع ہو جائے تو ہمیں علم ہونا چاہیے کہ مولا کے ظہور کی جو ہے وہ علامات کیا ہیں اس لیے کہا گیا کہ امام زماں کی معرفت حاصل کی جائے جو کہ جب ہم معرفت حاصل کرتے ہیں تو ان سب چیزوں کو اچھے انداز سے پڑھتے ہیں اور ہمیں پتہ چل جاتا ہے حق کیا ہے اور باطل کیا ہے یہ جو زمانہ ہے غیبت کا ہے البتہ یہاں لوگوں کو اللہ نے طاقت دی ہے کہ ہماری جو علمی ترقی ہے اور ہمارے پاس جو وسائل ائے ہیں اس وقت جیسے یہی موبائل انٹرنیٹ اور طرح طرح کے کورسز اخری ایک ایسا دور ہے جس میں لوگ اپنی حوالے سے بہت ترقی یافتہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو واقعا امام زماں کی معرفت بھی حاصل کریں گے اور ان کے مددگار بھی بنیں گے یعنی ان کے اندر وہ صلاحیت ہے اس حوالے سے ایک روایت جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر المومنین سے جو ایک وصیت کی تھی اس میں یہ ایک جملہ ہے کہ یا علی یا علی جان کہ وہ لوگ جو ایمان کے اعتبار سے عجیب ترین ہوں گے یعنی بہت ہی حیرت انگیز اور یقینا اور یقین کے اعتبار سے سب سے عظیم ترین وہ کون ہے وہ کون ہے جو اخری دور میں ائے گی اور انہوں نے جو ہے پیغمبر کو نہیں دیکھا ہوگا حجت الہی دین کی نگاہوں سے جو ہے وہ دور ہو یعنی پس پردہ ہوگی غائب ہوگی وہ کاغذوں پر لکھی ہوئی جو سیاہی ہے اس پر ایمان رکھتے ہوئے دیکھیے باتوں پر ایمان رکھتے ہوں گے لیکن ایمان میں کس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوں گے انہوں نے نوکری حجت خدا دیکھی نہ پیغمبر دیکھا نہ کوئی معجزہ اپنی انکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھا لیکن پھر بھی جو ہے وہ اس مقام پر ہوں گے بہت زیادہ تعریف ہے اج کے دور کے لوگوں کی اور یہ تعریف اس لیے ہے کہ ہم لوگ وہ ہیں کہ اگر چاہیں تو یہ ساری دنیا کا نظام بدل سکتا ہے یعنی ہماری تیاری سے اور مولا کے ظہور سے کیوں کیونکہ معرفت کے سارے وسائل موجود ہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور وقت کے جو دشمن ہیں ان کو بھی پہچانتے ہیں اور یقین اسی زمانے میں ہیں جس زمانے میں مولا ظہور کر سکتے ہیں چونکہ تمام حجتیں ا چکی ہیں اخری حجت کے بھی اس دور میں ہے کہ اس کے بعد صرف صبور کا دور ہے تو بس ہماری گفتگو کا موضوع شرائط ظہور اور علامات ظہور ہیں شرائط اور علامات میں فرق کیا ہے شرائط تو وہ ہیں کہ جس پر ظہور موقوف ہو یعنی جب تک یہ شرط یہ سبب نہیں وجود میں آئے پہلا ظہور بھی نہیں ہوگا بس شرائط یعنی جس پر ظہور موقوف ہے پہلے شرط پھر مشروط پہلے سبب پھر مسبب اور علامات ظہور سے مراد ایسے واقعات ہیں کہ جن کے ذریعے ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ جس ہستی نے ظہور کیا ہے یہ مہدی حق ہے یعنی علامہ جو ہیں یہ صحیح ظہور صحیح مہدی اور جھوٹے مہدی کے درمیان تشخیص کا ذریعہ ہے پوری تاریخ میں کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے جھوٹے دعوے کیے اس وقت علماء نے جو ہیں وہ علامات جو ہیں پوچھیں اور علامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رد کیے تو اج بھی جو ہے اگر کوئی مہدی ہونے کا دعوی کرے تو ہم دیکھیں گے علامات تو نہیں ائی بس یہ جھوٹا ہے تو مولا کے ظہور سے پہلے یہ علامہ ظاہر ہوں گے ہوں گے تو یہ ڈیڑھ سال کے ہی دورانیہ میں لیکن اس سے پتہ چلے گا کہ اب جس نے انا ہے وہ حقیقی مہدی پس اگر ہم بطور کلی اپنی گفتگو کو سمیٹیں تو یوں کہیں گے کہ علامات ظہور کی کاشف ہے لیکن شرائط جو ہیں یہ ظہور کو وجود میں لانے والی ہیں پھر علامت لازم نہیں ہے ایک ہی زمانے میں ہو کوئی اول میں ہوگی وہ درمیان میں ہوگی کوئی اخر میں ہوگی لیکن شرائط ساری اکٹھی ہوں گی تو ضرور ہوگا سب اسباب اکٹھے ہوں گے تو مسبب ہوگا تیسری چیز جو ہے ممکن ہے علامتوں کا اپس میں تعلق نہ ہو ایک صوفیانی کا خروج ہے ایک یمنی کا پی ہم ان کا پس میں تعلق نہیں ایک اسمانی اواز ہے ایک حسب ڈاٹا لیکن شرائط اپس میں جڑی ہوئی ہیں وہ اکٹھی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایک علامت ظاہر نہ ہو مثلا پانچ علامتیں ہیں ممکن ہے چار ظاہر اور پانچویں ظاہر نہ ہو ایک علامت ختم ہو جائے لیکن شرائط ساری ہوں گی تو ظہور ہوگا اور یہ بھی ہے کہ علامتیں جو ہیں یہ ساری کابل شناخت ہیں ہم ان کو سمجھیں گے ان کا پتہ چلے گا لیکن شرائط ممکن ہے ابھی ہوں لیکن ہمیں پتہ نہ ہو مثلا جیسے ممکن ہے مولا کے 313 ناصر ہوں ہمیں پتہ نہ ہو تو یہ چند ایک بنیادی فرق ہے ان کو اگر ہم اپنے ذہن نشین کریں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہم بس ہر چیز علامت نہیں ہے علامتیں وہی ہیں جو روایات میں ہیں اور ان کی یہ صورتحال ہے کہ یہ لازمی نہیں ہے اکٹھی ائی پی در پہ ائیں گے ہو سکتا ہے باز ائیں باز نہ ائیں لیکن اصل وہ چیز جو ہے جس پہ ظہور موقوف ہے وہ علامتیں نہیں ہیں علامتیں اسی وقت ظاہر ہوں گی جب ظہور ہونے والا ہوگا ظہور ہماری تیاری پہ یا شرائط پہ اس میں ایک ناصروں کا وجود ہے مسئلہ 313 جو ناصر ہیں خاص ان کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق  کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے



Other Girl 

کتابچہ 10
درس نمبر ا
لوگ ہر چیز کو علامت سمجھتے ہیں
ترکی میں زلزلہ آیا ظہور کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
فلسطین کورونا سب کو علامت کہتے ہیں نبی (ع)امام علی سے جو وصیت کی تھی ۔
اے علی وہ لوگ جو ایمان کے آعتیبار سے عجیب ترین ہونگے بہت ہی حیرت انگیز یقین کے اعتبار سے عظیم ترین وہ قوم جو آخری دور میں آئے گی اور نبی یا پیغمبر کو نہیں دیکھا ہوگا۔
اور حجت الٰہی بھی ان کی نظروں سے دور ہوگی وہ لکھی ہوئی باتوں پر ایمان رکھیں گے اور عظیم مرتبہ پر فائز ہونگے
شرائط وہ ہیں جس پر ظہور موقوف ہے ان شرائط کے بغیر ظہور نہیں ہوگا
اور علامات وہ واقعات ہیں جن کے ذریعہ ہمیں پتہ چلے گا کہ جس نے ظہور کیا ہے وہ امام مہدی(ع)ہیں۔
شرائط ساری ہونگی تو ظہور ہوگا۔
علامات اس وقت ظاہر ہونگی جب ظہور ہونے والا ہوگا






کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 2
علامات کو جاننے کا فائدہ
اسباب کیا ہیں 
پہلے سبب کی تشریح 

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع سخن مولا امام زمان شریف کے ظہور کی علامات اور شرائط ہیں اس سے پہلے ہم علامات اور شرائط کے درمیان جو فرق ہے وہ بیان کر چکے ہیں بعض اوقات لوگ پوچھتے ہیں کہ اس بحث کو جاننے کا فائدہ کیا ہے بالخصوص علامات علامات کو جاننے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو مولا کی معرفت حاصل ہوتی ہے چونکہ جب علامات ظاہر ہوں گی اس وقت حقیقی معنوں میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ ہے پوری تاریخ میں کئی جھوٹے مہدی ائے چونکہ علامات نہیں تھی اس لیے ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ شخص جھوٹا ہے جیسے یہی قادیانی فرقے کا جو سربراہ ہے مرزا قادیانی جب اس نے جھوٹے مہدویت کا دعوی کیا تو اس وقت بھی علماء اسلام نے یہی کہا کہ علامات ظاہر نہیں ہیں لہذا اپ بہتی نہیں یا فرقہ بابی کا جو سربراہ تھا محمد علی باب جب اس نے جھوٹی مہدویت کا دعوی کیا تو اس وقت بھی علمائے تشیع نے جو ہے وہ یہی کہا کہ علامات ظہور امام مہدی موجود نہیں ہے لہذا اپ جھوٹے تو علامات جاننے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو حقیقی مہدی اور جھوٹے مہدی میں تشخیص کی صلاحیت مل جاتی ہے تو صحیح اور واضح طور پر جو ہے امام مہدی کے ظہور کو جاننے کا اور اسے فرق معلوم ہو جائے گا کہ یہ حقیقی مہدی ہیں یا جھوٹے اور پھر جب علامات شروع ہوتی ہیں تو انسان چونکہ متوجہ ہو جاتا ہے کہ اب علامات شروع ہو رہی ہیں تو وہ پھر تیاری کر سکتا ہے بہتر انداز سے چونکہ ڈیڑھ سال تقریبا لگے گا ان علامات کو پورا خود ہی جس میں انسان کے لیے فرصت ہے کہ وہ توبہ کرے اپنے گناہوں سے اپنے اپ کو مولا کے ظہور کے لیے تیار کریں اور وہ لوگ جو ظہور کے منکر ہیں جب علامات شروع ہو تو سکتا ہے تو منکران مہدی اور منکرانے ظہور مہدی جو ہے ان کو بھی حقیقت جو ہے وہ معلوم ہو جائے اور وہ اپنے وسللت عقیدے سے پلٹائے یا جو مخالف ہیں امام کے ان کو بھی یہ سمجھیں الہی ایک وارننگ ہے کہ اپنے اس جھوٹے نظریات سے باطل نظریات سے جو ہے وہ ہٹ جائیں اور اہتمام اہل اسلام کے زمانے میں داخل جب علامتیں شروع ہوں گی تو اس سے مایوسی کا خاتمہ ہوگا یہ جو عام لوگوں میں مایوسی ہے کہ پتہ نہیں کب مولا کا ظہور ہو اور کل ہم مصیبتوں سے نکلے تو امید جو ہے وہ پیدا ہوگی اور لوگ جو ہے وہ بالاخر اچھے دور کے انتظار میں اور وقت کے امام کے ہمراہی کے لیے بہتر انداز سے جو ہے وہ تیار ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا کہ علامات جو ہیں وہ فقط تشخیص کا ذریعہ ہے لیکن ظہور ان پر موقوف نہیں ہے ظہور شرائط کے موقوف ہے اور شرائط سے لفظوں میں ہماری تیاری ہے اب ہم شرائط ظہور میں گفتگو کریں گے انشاءاللہ پھر اس کے بعد جو ہے وہ اہستہ اہستہ علا مات کی گفتگو شروع کریں گے شرائط کیا ہیں شرائط اسباب ہیں خود تو ہمارے ان کی جو دنیا ہے یہ بھی اسباب و مسببات کا جہاں ہے گندم کے ایک بیج کو پودے کی شکل دینے کے لیے کتنی شرائط کتنے اسباب کی ضرورت ہے سورج کی روشنی کو وہ پانی ہو مناسب زمین ہو ایک ماہر کاشتکار ہو جو خیال رکھے اور وہ پھر اس گندم کی نشونما میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو دنیا میں کوئی کام نہیں ہے اسباب کے نہیں ہوتا اگر کسی جگہ ایک چھوٹا سا انقلاب ایا کسی ملک میں وہاں بھی کچھ اسباب مہیا ہوئے تو انقلاب ایا ہے انسان جب بھی ترقی کرتا ہے تو کچھ اسباب ویہ ہوتے امام زمانہ کا کا انقلاب بھی ہے اس کی بھی کوئی شرائط ہیں یار میں انقلاب ان شرائط کے بغیر جو ہے وہ نہیں ہو سکتا اب اپ دیکھیں کسی ملک کے اندر ایک انقلاب جو ایا ہے جیسے ایران ہے امام خمینی جیسے رہبر تھے اس صورت میں ان کا ساتھ دیا پھر ایک لائے عمل تھا ان کا کچھ اہداف تھے کچھ پروگرام تھے بہرحال یہ ایک عمومی شرائط ہیں جو کسی بھی انقلاب کے لیے ضروری ہے رہبر ہو اس کے ہمراہی کرنے والے لوگ ہوں اور اس کے اہداف اور پروگرام ہو جسے اس کے ساتھ چلنے والے جو ہیں وہ پسند کریں اور اس کو محقق کرنے کے لیے پورا کرنے کے لیے انقلاب جائے ماہرین مہدویت نے احادیث مہدیت کی رو سے امام زماں عجل لاہور جو شریف کے ظہور کے لیے چار اسباب یا چار شرطوں کا ذکر کیا کہ ہم بھی ترتیب جو ہے انہیں اپ کی خدمت میں تفصیل سے بیان کریں گے 

 پہلی جو شرط ہے وہ ضابطہ حیات ہے وہی مولا کا پروگرام کیونکہ اصل زمین کی حیات تو امام کے دور سے شروع ہوتی ہے مولا کے پاس کیا پروگرام ہے کیا اہداف ہے کیا کرنا ہے امام 

اور دوسری شرط یا سبب امام کا ہونا اور ان کی قیادت ان کی رہبری

 تیسری جو ہے وہ مولا کے ناصر اور مددگار ان کی ایک مخصوص تعداد کی اہمیت کے اعتبار سے اور کیفیت کے اعتبار سے یہ تیسرا اہم البتہ سبب ہے کہ جس کے بغیر تو ممکن ہی نہیں اور چوتھی جو چیز ہے یا 

چوتھا سبب وہ عمومی طور پر لوگوں کا تیار ہونا کہ لوگ موجود ہیں عناصر تیار بھی ہو یعنی پیش کریں اپنے اپ کو ہم رائے کے لیے
 اب یہ یہ جو پہلا موضوع ہے میں اس کو اج کوشش کروں گا بیان کروں کہ یہ جو مکمل ضابطہ حیات ہے یا یہ جو پروگرام ہے یہ جو اہداف ہے یہ کس قسم کے ہونے چاہیے مولا کے پاس اس انقلاب کے لیے جو جو پروگرام ہے اس میں دو اہم چیز ہیں ایک تو امام نے دنیا سے برائیوں کا خاتمہ کرنا ہے خرابیوں کا خاتمہ اس کے لیے کروش جو ہے وہ مولا نے ترتیب دینی ہے اور پھر ایک نیک اور مکمل طور پر مستحکم اور ترقی کرنے والا معاشرہ جو ہے جو منظم ہو ایک مکمل قانون کے تحت ہو اس کو وجود میں لانے کے لیے بھی تھوڑا پہلے مرحلے میں صفایا ہے خرابیوں برائیوں ظالموں کا دوسرا مرحلے میں کیسے ہم نے ترقی کرنی ہے کیسے عالمگیر ترقی ہو اور لوگ جو ہے پوری دنیا میں امن و امان سے رہیں اسائش سے رہیں اور نیک معاشرہ قائم ہو تو مولا کے پروگرام میں یہ دو چیزیں ہیں یعنی مولا ایک منظم اور مکمل پروگرام کے تحت پوری دنیا سے ظلم اور ظالمین کو ختم کریں گے پھر دنیا والوں کو ایک صحیح و سالم پرامن اور عدل و انصاف کی بنیادت قائم زندگی عطا کرے اور یہ کام مولا کے قیام میں ہوں اللہ تعالی نے انسان کی جو مادی معنوی فردش تمہاری ضروریات ہیں اس کے مطابق خدا نے ایک مکمل اور صحیح دستور العمل جو ہے وہ ہمیں عطا کیا ہے اور وہ دین اسلام اور قران کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہوا اور اپ کے جو جانشین اخری ہیں یعنی امام زمانہ جب اللہ خرج شریف ان کے ذریعے اجرا ہوگا ابھی تک وہ اجرا نہیں ہوا ابھی تک تو لوگوں نے قران سے بھی صحیح استفادہ نہیں کیا وہ مردوں کی کتاب بنائی ہوئی ہے ابھی تک زندہ لوگوں نے اس سے اپنی زندگی کا دستور العمل جو ہے وہ نہیں سمجھا ابھی تک سنت رسول جو ہے وہ صحیح معنوں میں اس نے رواج نہیں پایا اس کی جگہ بدعتیں اور انحراف ہے تو یہ جو الہی دستور ہے جو انسانوں کی ضروریات کے مطابق ان کی ترقی اور کمال کے لیے اللہ نے بھیجا یعنی حقیقی اسلام جب بیان ہو رہا ہے لیکن ابھی صحیح معنوں میں جلانی ہوا کہ امام مہدی کے دور میں جڑا ہوگا اور نبی کی جو سنت ہے جو بیان ہوتی ہے لیکن مکمل طور پر وہ اجرا نہیں ہوئی وہ امام مہدی علیہ السلام کے دور میں جو امیر جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ ہ وسلم کا فرمان ہے کہ سنت مہدی کی سنت میں محمد کی سنت ہے جو ہے وہ لوگوں کو میرے ہی بتائے ہوئے دین اور اس ائین پر جو ہے وہ چلائے گا اور انہیں کتاب خدا کی دعوت دی اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ تفسیر عاشی میں یہ جو ائے ہیں یہ جو ایا ہے اس کے ذہن میں امام صادق علیہ السلام سے جو حدیث نقل ہوئی ہے اس میں اپ نے یہی فرمایا کہ ابھی تک کہ اس ایا کی تاویل نہیں ائی جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور جو بھی ان کو پائے گا وہ اس ایت کی تاویل کو سمجھے گا کونکہ امام مہدی جو ہیں وہ دین محمدی صلواۃ اللہ علیہ پوری دنیا میں پھیلائیں گے یہاں تک کہ زمین پر شرک نام کی کوئی چیز بھی باقی نہیں رہے گی تو یہ پہلا سبب ہے کسی انقلاب کی کامیابی کا کہ جو مکمل طور پر موجود ہونا چاہیے اگر یہ ہوگا تو پھر باقی اسباب جو ہے وہ اپنا اثر دکھائیں گے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ مولا کی سچی معرفت حاصل کریں اور ان اسباب کا حصہ قرار پائے




Other girl 

درس نمبر 2
تاریخ میں بہت سارے جھوٹے مہدی آئے علامت موجود نہیں تھی اس لیے معلوم ہوا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔
قادیانی گروہ کی بانی نے دعویٰ کیا تو علماہ نے کہا علامات ظہور موجود نہیں آپ جھوٹے ہیں۔
جو محافل ہیں ان کے لیے تنبیہ ہے کہ اپنی حرکات کو چھوڑ دیں اور علامت کے شروع ہو نے سے مومنین کے دل میں خوشی کی لہر ہوتی ہے کہ کب ظہور ہوگا۔
ظہور شرائط پر نہیں انسان کی تیاری پر موقوف ہے۔
دنیا میں کوئی کام اسباب کے بغیر نہیں ہوتا۔
امام کا عالمی انقلاب کی کچھ شرائط ہیں۔
ایک لائحہ عمل کچھ پروگرام ہوتے ہیں۔
امام کے ظہور کے لیے 4 اسباب کا ذکر کیا ہے
ضابطہ حیات
امام کے انصار 
لوگوں کا عمومی طور پر تیار ہونا
معاشرہ کا نیک ہونا



کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 3
علامات کو جاننے کا فائدہ
اسباب کیا ہیں 
دوسرے سبب کی تشریح 
عالمگیر رہبر و امام کی صفات

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم



بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع  سخن علامات اور شرائط ظہور ہیں شرائط ظہور سے مراد وہی اسباب ظہور اسباب ظہور میں ہم نے جو پہلا سبب ہے کہ جس کی وجہ سے مولا ظہور کریں گے وہ اپ کی خدمت میں بیان کیا کہ امام کے پاس جو ہے ایک مکمل لائے عمل ہے جب مولا ظہور فرمائیں گے تو کس طرح وہ صالح معاشرہ جو ہے وہ برقرار ہوگا اس حوالے سے اللہ نے اپنے لا محدود علم و حکمت سے مولا کو جو ہے ایک مکمل پروگرام دیا ہوا ہے کہ جس کی خبر جو ہے ہمیں احادیث و روایات سے ملتی ہے دوسرا اہم سبب خود قیادت اور رہبری ہے کوئی بھی مفید یا موثر اسلامی تحریک جو ہے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی کہ جب تک اس کا رہبر ایک بابصیرت شجاع اور واقعا لوگوں سے درد دل رکھنے والا نہ ہو ایسا رہبر اپنی تحریک کے اہداف کو بہترین انداز سے جو ہے وہ حاصل کرے گا کیونکہ اس کی رہبری اور قیادت میں الہی مدد بھی شامل ہوگی اور لوگ بھی اس کے اخلاص اس کی شجاعت اس کی معرفت کو دیکھتے ہوئے اس کی بھرپور جو ہے وہ ہمراہی کریں گے ہمیشہ انقلاب کے لیے رہبر ہونا چاہیے بغیر رہبر کے کوئی بھی اجتماعی حرکت یا تحرک جو ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا قران مجید میں بنی اسرائیل کی ایک داستان جو ہے وہ اس حوالے سے ذکر ہوئی ہے کہ جب انہوں نے اس زمانے کا جو بہت بڑا ظالم جالوت تھا جو ظلم کر رہا تھا تھا بنی اسرائیل پر اس کے مد مقابل جنگ کے لیے ایک اجتماعی حرکت کے لیے اللہ سے جو ہے وہ رہبر مانگا اور وہ جو پیغمبر اس زمانے میں تھے ان سے کہا کہ ہمارے لیے ایک حاکم معین کریں تاکہ ہم اس کی قیادت میں راہ خدا میں جہاد کریں اور جب اللہ تعالی نے حضرت طالوت کو ان کے لیے جنہوں نے حاکم معین کیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اعتراض کیا کہ طالوت جو ہیں وہ مثلا ایک چھوٹے طبقے سے ہیں یا ایک غریب گھر سے ہیں وہ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا میں لوگوں نے اپنی ایک طبقاتی تقسیم کی ہوئی ہے عمرہ طبقے سے جو ہے وہ حاکم ہو تو اللہ تعالی نے وہاں ان کے اعتراض کا جواب جو ہے وہ قران مجید میں دیا اور یہ سورہ بقرہ کی اپ 246 اور 247 ایا مجیدہ میں دیکھیں پروردگار نے فرمایا کہ ہم نے ایسی ہستی کو جو ہے وہ اپ کے لیے حق معین کیا ہے کہ جو اپنے علم میں اور جس میں جسم سے مراد وہی شجاعت ہے اپنے علم اور جسم کے اعتبار سے تم پر فضیلت رکھتا ہے یعنی اسے وسعت حاصل ہے تو اب یہاں پروردگار نے ایک رہبر کے لیے جو دو اہم شرطیں بیان کی ایک اس کا علم ہے اس کی بصیرت ہے اس کا اگاہ ہونا ہے دوسرا اس کا شجاع اس کی طاقت امام حسن صلوات اللہ علیہ جب قیام فرمائیں گے تو اپ کی قیادت میں بھی یہی دو اہم چاہتے ہیں یا عناصر ر جو ہیں وہ موجود ہیں کہ اس عالم انگیر قیام کا جو رہبر ہے تو علمی اعتبار سے تو بالاخر پروردہ امامت اور سرچشمہ وحی سے متصل ہے اور دوسری طرف جو ہے جو ہے وہ بالاخر شجاع امام امام علی علیہ السلام ان کی نسل مبارک سے ہے اور امام جیسا کہ ہمارا شیعہ کی تمام صفات میں سب سے بہتر ہوتا ہے اور اپنے زمانے کا سب سے بڑا شجاع ہوگا یعنی صفت شجاعت میں بھی سب سے بڑھ کر ایک طرف قران اور دین کے مکمل معارف پر ان کا احاطہ ہے تمام انبیاء ما صلف کے علوم کا وارث اور ادھر سے سینکڑوں بلکہ ہزار سال سے زیادہ زندگی ہے ان کی جس میں انہوں نے بے پناہ سختیاں اور بے پناہ صبر و تحمل اور شجاعت اور اس دوران جتنے بھی انقلا بات جتنی ملتیں حکومتیں ان پر مولا کی کڑی نگاہ یہ ساری چیزیں جو ہیں وہ مولا کے علم بصیرت شجاعت ان کا تحمل ان کا صبر یہ ساری چیزیں جو ہیں وہ بتا رہی ہیں کہ ہماری قیادت ہمارا قائد ہمارا رہبر ہمارا امام علم و شجاعت میں جو کہ قران نے دو شرطیں بیان کی ہیں کتنی ہی وسعت جو ہے وہ رکھتے ہیں اسی لیے تو اپ کے بارے میں جو ہے یہ حدیث شیعہ سنی کتابوں میں موجود ہے اور کثرت سے نقل ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مہدی جو ہے وہ میری اہل بیت میں سے ہی ایک فرد ہے المہدی رجل من اہل بیت کہ زمین کو انصاف سے بھریں گے تمام ولی جیسا کہ جور سے بھری ہوئی ہو تو یہ ایک اہم شرط ہے جب تک یہ شرط موجود نہ ہو ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی انقلاب جو ہے وہ کامیاب ہو سکتا ہے اس کے علاوہ مزید بھی شرائط ہیں جیسے اس عظیم رہبر کے ساتھ ساتھ جو ہے اس کے ہمراہی اور ناصر اور مددگار بھی ہوں اور پھر وہ کیسے ہوں ان کی کیا صفات ہیں انشاءاللہ اس پر ہم بعد میں گفتگو کریں  زمین کو انصاف سے بھریں گے تمام ولی جیسا کہ جور سے بھری ہوئی ہو تو یہ ایک اہم شرط ہے جب تک یہ شرط موجود نہ ہو ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی انقلاب جو ہے وہ کامیاب ہو سکتا ہے اس کے علاوہ مزید بھی شرائط ہیں جیسے اس عظیم رہبر کے ساتھ ساتھ جو ہے اس کے ہمراہی اور ناصر اور مددگار بھی ہوں اور پھر وہ کیسے ہوں ان کی کیا صفات ہیں انشاءاللہ اس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے  زمین کو انصاف سے بھریں گے تمام ولی جیسا کہ جور سے بھری ہوئی ہو تو یہ ایک اہم شرط ہے جب تک یہ شرط موجود نہ ہو ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی انقلاب جو ہے وہ کامیاب ہو سکتا ہے اس کے علاوہ مزید بھی شرائط ہیں جیسے اس عظیم رہبر کے ساتھ ساتھ جو ہے اس کے ہمراہی اور ناصر اور مددگار بھی ہوں اور پھر وہ کیسے ہوں ان کی کیا صفات ہیں



کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 4
تیسرا اہم سبب انصار و مددگار
انبیاء الہی کا تبلیغ دین میں مددگار مانگنا
کیوں امیر المومنین ع اور امام حسن ع خانہ نشین ہوئے
امام صادق ع کی دو شیعوں سے گفتگو 

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع سخن اسباب ظہور میں سے تیسرا سبب ہے تیسرا سبب یعنی ناصروں کا وجود دنیا کا کوئی بھی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک رہبر کے ساتھ ساتھ اس کے مددگار نہ ہو اور ایسے پکے مددگار جو اپنے رہبر کی حمایت اور اس انقلاب کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں بھی قربان کریں ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء الہی کی تعریف میں بھی انبیاء نے اپنی تبلیغ کی دعوت کو اللہ کی راہ میں کامیاب کرنے کے لیے خدا سے ناصر اور مددگار مانگے جیسے حضرت موسی علیہ السلام کو جب اللہ نے تبلیغ کا حکم دیا کہ جاؤ فرعون کو دعوت توحید دو تو یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو دعوت حضرت موسی نے دینی تھی اس کی کامیابی کے لیے انہوں نے اللہ سے ناصر مانگا قران مجید میں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے سورہ طہ میں پروردگار میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر قرار دے اور اس کے ذریعے میری پشت کو مضبوط فرما یعنی وہ میرا مددگار بنے اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی دینی تبلیغ دین اور پروردگار کی طرف دعوت کے لیے انصاروں کو طلب کیا انصار مانگے کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرے ناصر و مددگار ہے سورہ ال عمران میں اس وقت ان کے گرد جو لوگ تھے جنہیں ہم کہتے ہیں حواری یعنی حضرت عیسی کے حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار اس راہ میں اپ کی مدد کرنے والا خود ہمارے اپنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو کہ کائنات میں سب سے افضل اور خاتم الانبیاء جب اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اپ ال الاعلان مشرکین مکہ کو توحید کی طرف دین اسلام کی طرف دعوت دیں تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے خاندان والوں کو جو ہے وہ جمع کیا ہے اور یہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ نے بھی خود ہی سورہ شعراء میں 214 نمبر ایت میں پروردگار نے کہا کہ اپنے نزدیکی جو خاندان والے ہیں ان کو جو ہے وہ پہلے دعوت دی اور اس دعوت کا ہدف بھی یہی تھا کہ یہاں سے اپنے لیے پیغمبر جو ہے وہ مددگار تلاش کریں جو پھر عمومی تبلیغ میں ان کے پشت پناہ اور ذلاشیرا کا یہ واقعہ جو ہے اس کی طرف قران اور احادیث میں جو ہے وہ اشارہ ہے اور تفصیلات بھی ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے جو ہے وہاں غذا تیار کی اور خاندان والوں کو بلایا اور پھر ان کو دعوت دی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ کون ہے جو اس امر میں میرا وزیر و مددگار بنے تین دفعہ یہ کام ہوا اور ہر دفعہ مولا علی علیہ السلام نے جو ہے وہ کھڑے ہو کر جو ہے وہ اپنی مدد کا اعلان کیا اپنی نصرت کا اعلان کیا اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہجرت مدینہ کا وقت تھا اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اہل یسرب سے پہلے مدد اور وفاداری کا جو ہے وہ وعدہ لیا اب ہم تاریخ کا ایک اور موڑ بھی دیکھتے ہیں ایک دوسرا چہرہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر مددگار نہ ہو تو پھر کیا ہوتا ہے امیر المومنین امام علی علیہ السلام جیسا بہادر یہ علیہ السلام جیسا بہادر اور شجاع کہ جن کی شجاعت میں کوئی اس وقت ثانی نہیں تھا ان کا جنگ احد میں جن کی شان میں جبرائیل نے یہ قصیدہ پڑھا اور جنہوں نے جنگ خیبر جنگ خندق بڑے بڑے عرب کے پہلوان عمر بن عبد فرماتے ہیں مرحبا کتنے ہی ایسے ظالموں کو فندار کیا مسلمانوں کو بے پناہ فتوحات نصیب ہوئیں مولا علی کے ذریعے لیکن کیا ہوا کہ رسول اللہ کے بعد علی جیسا شجاع خانہ نشین ہوں گے یا امام حسن علیہ السلام کیوں مجبور ہوئے امیر شام سے صلح کرنے پر سب سے اہم ترین وجہ جو ہے وہ یہی ہے امام ہے رہبر ہے بابصیرت شجاع الہی رہبر موجود ہے لیکن اس کا کوئی مددگار نہیں ہے یا اگر ہیں تو اتنے تھوڑے ہیں کہ انقلاب یا وہ اہداف حاصل نہیں ہو سکتے شب عاشور ہم دیکھتے ہیں کہ بی بی زینب السلام اللہ علیہا نے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا بھائی اپ نے اپنے ناصروں کو ازما لیا ہے کہیں اکیلا نہ چھوڑ جائے ہمیں اس بات میں اتنی عبرت ہے کیونکہ پیچھے پوری ایک تاریخ ہے جس کے اندر وفا کا امتحان ہوا ہے اور بے وفائیاں نظر ائی امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے ا کے جب یہ عرض کی کہ مولا اپ پر قربان اللہ کی قسم اپ اور اپ کے شیعہ کتنے زیادہ ہیں ان کی تعداد کتنی ہے تو پوچھنے لگا بہت زیادہ مولا اپ انہیں شمار ہی نہیں کر سکتے امام نے فرمایا یاد رکھو جس وقت 310 اور کچھ نفل جمع ہو جائے اس وقت وہی کچھ ہوگا جو تم چاہتے ہو پھر مولا نے شیعوں کی صفات کا ذکر کیا کہ شیعہ سے مراد کیا ہے کہتے ہیں کہ ایک مولا کے صحابی جناب صدر صدر صرف کہتے ہیں کہ ایک دفعہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اللہ کی قسم اب اپ کے بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے اپ کو قیام کرنا چاہیے کہا کیوں صغیر تو انہوں نے عرض کی کیونکہ اپ کے چاہنے والے اپ کے شیعہ اپ کے مددگار بہت زیادہ ہیں اگر علی علیہ السلام کے پاس اتنی تعداد میں پیروکار اور مددگار ہوتے تو مد مقابل جو قبیلے جیسے قبیلہ ہے یعنی تین اور دوسرا جو قبیلہ قبیلہ عادی یہ کبھی بھی مولا کے ساتھ جو ہے خلافت اور حکومت کے مسئلے میں ہے ٹانگ نہ اڑاتے ہیں امام نے فرمایا کہ اتنی تعداد ہے اس وقت ہمارے شیعوں کی تو اس نے کہا ایک لاکھ تعجب سے پوچھا ایک لاکھ ہے کہنے لگا مولا دو لاکھ امام نے مزید تعجب کیا فرمایا دو لاکھ کہنے لگا مولا ادھی دنیا تو امام خاموش ہو گیا اور اس سے کہا میرے ساتھ مدینہ سے باہر نکلو جب باہر نکلے تو ایک چرواہا جو بھیڑوں کا ایک گلا لے کر جا رہا تھا فرمایا صدر اس غلے میں جتنی بھیڑیں ہیں اگر میرے شیعہ اس کے برابر بھی ہوتے تو میں ہرگز نہ بیٹھتا ضرور قیام کرتا جناب صدر کہتے ہیں کہ میں نے جب بھیڑوں کو شمار کیا تو وہ 17 تھی یعنی نام لیوا شیعہ تو بہت ہوتے ہیں اج بھی ہے بے پناہ ماتمی عزادار لیکن کتنے ہیں جو جان فدا کریں گے اپنے امام کے اہداف پر اصل مولا کا جو ہدف ہے اس ہدف پر ابھی کتنے لوگ ہیں عمل کرنے والے جو ابھی بھی اس پہ عمل کر رہے ہیں مثلا مولا کا ہدف عدالت ہے تو ابھی کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے وجود پر اپنے گھر میں اپنے امور میں عدالت الہی کو جاری کیا ہوا ہے جو خود اس وقت ہدف پر عمل کر رہے ہیں یہی زمانہ ظہور کے ناصر ہیں اگر ہم دین کی کچھ چیزوں پر تو عمل کرتے ہیں اور شیعہ نام بھی رکھتے ہیں محبان اہل بیت کا نام بھی رکھتے ہیں اور باقی زندگی ہماری اپنی مرضی کی ہے یہ شیطان ہے یا گناہ ہے اس میں تو پھر ہم صدرسد ناصر نہیں ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے غیبت ہوئی ہے اگر ہم لوگ شروع سے اپنے اعمال اور اپنی گفتار دونوں سے نہ کہ صرف گفتار دونوں سے اپنے زمانے کے اماموں کی مدد کرتے ہمارے ائمہ ہمیشہ حاکم ہوتے اج ہم وقت کے امام کے پر برکت وجود سے محروم نہ ہوتے خلاصہ یہ ہے کہ غیبت کی وجہ ہم خود ہی ہیں اور ظہور میں تاخیر کی وجہ بھی ہم خود جتنی جلدی ناصر امادہ ہوں گے اتنی جلدی جو ہے وہ ظہور ہوگا اصل تاجیل ظہور اس میں چھپی ہوئی ہے دعا کرنی چاہیے وہ ہمارا فریضہ لیکن وہ کافی نہیں ہے جب تک ہم عملا تیار نہں اللہ تعالی ہم سب کو وہ ناصر بننے کی توفیق دے جو مولا کے ظہور کا سبب رہے


کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 5
تیسرا اہم سبب انصار و مددگار
(دوسرا حصہ)
امام صادق ع کے فرمان میں انصار کی صفات 
امام تقی ع کے فرمان میں کیفیت ظہور اور انصار کی اقسام

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

نام:- بنت زہرا 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع سخن امام زماں عجل اللہ فرجہ شریف کے ظہور کے اسباب ہیں ترتیب کے ساتھ تیسرا اہم سبب یعنی مولا کے انصار و امان کا ہونا اس پہ ہماری گفتگو شروع ہوئی تھی اور اج اس کو گفتگو کا دوسرا حصہ کی خدمت میں بیان ہوگا اسلامی تاریخ بلکہ ہم یوں کہیں کہ حضرت ادم سے لے کر اب تک انسانی تاریخ کا اگر ہم ایک سرسری سا مطالعہ کریں تو سمجھ اتا ہے کہ کوئی بھی دنیا میں انقلاب یا تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوئی جب تک اس میں اس انقلاب اور تحریک کے پیشوا رہبر کے ساتھ ساتھ اس کے انصار و عوام نہ ہوئے انصار و امان کی اہمیت جو ہے وہ بہت ہی واضح ہے خود ہماری اسلامی تاریخ کے اندر اپ خود اس چیز کو جانتے ہیں کہ امیر المومنین کی خانہ نشینی اور ان کی ہمراہی نہ ہونا اور اسی طرح باقی ہمارے ائمہ علیہم السلام جو بہت زیادہ اشتیاق رکھتے تھے کہ جس طرح شیعہ ان کے محب ہیں ان سے محبت کرتے ہیں عزاداری کرتے ہیں اسی طرح اجتماعی سیاسی تحریک میں بھی ان کے ناصر بنے لیکن ایسا نہ ہوا اور نتیجہ کیا ہوا کہ ایک ایک کر کے ہمارے امام شہید ہوتے رہے اور اخر میں امام مہدی علیہ السلام جو ہیں وہ فوائد ہو گئے ان کی غیبت کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ایسے ناصر اور انصار نہیں تھے کہ جن کے ساتھ امام ظالموں کے خلاف جو ہے وہ قیام کرتے ہیں چونکہ امام نے اپنے اپ کو تنہا محسوس کیا اور حکم خدا سے جو ہے وہ غیبت کو اختیار کیا اب جب مولا کے ناصر دنیا میں ظاہر ہوں گے یعنی ایسی قوم ائے گی کہ جنہوں نے واقعا سچے معنوں میں مولا کا انتظار کیا ہوگا وظائف منتظرین پر عمل کیا ہوگا اور اپنے اپ کو ویسے تیار کیا ہوگا جیسے مولا چاہتے ہیں تو یہ وہ زمانہ ہوگا کہ اس میں ہمیں یہ امید بلکہ یقین ہوگا کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف ظہور کرنے والے اب یہ ناصر کیسے ہیں ہم روایات کی روشنی میں ان ناصروں کے اوصاف جو ہیں وہ اپ کی خدمت میں بیان کرتے ہیں سب سے پہلے امام صادق علیہ السلام صلواۃ اللہ علیہ امام زماں عجل اللہ فرجہ شریف کے امان و انصار کے حوالے سے کیوں فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ فرماتے ہیںامام مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے جو دل ہیں وہ گویا لوہے کے ٹکڑے ہیں ان لوگوں کے ٹکڑوں کی مانند دل مضبوط اور محکم ہے بتایا مراد یہ نہیں ہے کہ سخت ہے یا قصاوت ہے نہیں مطلب یہ ہے کہ ایمان میں اتنے محکم اور مضبوط ہیں کہ فرماتے ہیں کہ ذات خدا کی نسبت ان دلوں میں کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا یعنی اللہ پر ایمان کامل رکھتے ہیں اور اس اعتبار سے وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت اس کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ وہ ہستیاں ہیں یعنی امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب کہ جو راتوں کو بھی ارام نہیں کرتے اور ان کی نمازوں کی مناجات کی عبادتوں کی جو ہے وہ اواز اتی ہے جس طرح شہد کی مکھیوں کے جدے سے اواز اتی ہے نہ اس طرح ان کے حجروں کمروں جہاں یہ رات گزارتے ہیں وہاں سے اواز اتی ہے اسی طرح فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے امام کے سامنے ایک غلام اور کنیز سے بھی زیادہ جو ہے وہ مطیع اور فرمانبردار ہیں یعنی اطاعت میں کامل ہے اپنے امام کی ذرا برابر بھی جو ہے وہ نافرمانی نہیں ہے اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ان کے دل جو ہیں وہ شمع کی مانند ہے یعنی روشن ہے اور اللہ کے خوف سے ہمیشہ محتاط رہتے ہیں ہر وہ چیز جس میں شبہ بھی ہو کہ یہ گناہ ہے اس سے دوری اختیار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ شہادت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے کی ارزو رکھ تو اب یہاں ہم یہ نتیجہ لیں گے کہ امام کا ماننے والا جو ہے وہ گویا ہر حال میں اپنے مولا کا پیروکار ہے اس لیے تو ہم دیکھتے ہیں کہ احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان ہے فرماتے ہیں کہ خوش بخت ہے وہ انسان جو میری اہل بیت میں سے قائم کو درک کرے اور اس حالت میں قائم کو دیکھے کہ ان کے قیام سے پہلے امام قائم کی اقتدا اور پیروی کرتا جب یہ ہستیاں ظاہر ہوں گی یا تیار ہوں گی پھر امام مہدی صلواۃ اللہ علیہ اللہ کے حکم سے جو ہے وہ ظہور فرمائیں گے اور ان کے ظہور ان کی جو کیفیت ہے اس پر مختلف روایات ہیں جیسے امام تکی علیہ السلام کا فرمان ہے فرماتے ہیں کہ امام قائم کے پاس اہل بدر کی تعداد کے برابر 313 افراد جو ہیں پوری زمین سے جمع ہوں گے اور یہ اللہ تعالی کا فرمان ہے قران مجید میں پروردگار فرما رہا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تم سب کو لائے گا سب کو جمع کرے گا اور بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس ایت کی روشنی میں امام تقی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پوری زمین سے 313 افراد مہدی کے گرد جمع ہوں گے اور جب مولا کے گرد مخلصین کی یہ تعداد جمع ہو جائے گی اور سپاہیوں کا لشکر بھی تیار ہوگا یعنی اس کے ساتھ ساتھ اور سپہ جو ہے مولا کی وہ بھی ا جائے گی پھر خدا جو ہے وہ اپنے عمل کو ظاہر کرے گا اور وہ سپاہی جو مولا کے گر جمع ہوں گے ان کے بارے میں ہے معصوم فرماتے ہیں کہ وہ 10 ہزار جو ہیں وہ جوان ہیں جو مولا کے ساتھ عہد و پیمان کریں گے اور پھر اللہ جو ہے اذن قیام جو ہے وہ عطا فرمائے گا اب یہاں امام تکی علیہ السلام کی روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مولا کے ناصر چند قسم پر مشتمل ہے پہلی قسم وہی 313 افراد ہیں کہ جن کے جمع ہونے سے جو پوری دنیا سے جمع ہوں گے اللہ مولا کو جو ہے وہ اذن ظہور دے گا اسی طرح 10 ہزار جو ہے وہکہ جو مولا کے گرد جمع ہوں گے اور ایمان باندھیں گے کہ اس کے بعد اللہ جو ہے وہ از نیک عام دے گا اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی لوگ ہوں گے یعنی یہ جو ہے وہ اجازت ہوگی باقی دنیا کے لوگو کو بھی کہ وہ اپنی پوری الودہ زندگی کو چھوڑیں اور مولا کے ماننے والوں کی صفوں میں شامل ہوں اور جو بھی اللہ نے ان کو علم اور صلاحیتیں دی ہیں ان کے مطابق امام زماں کی جو ہے وہ مدد کریں اس لیے دیر تیسرے مرحلے کے اندر جو ناصر ہیں وہ عام لوگ ہیں یہ تیسرا جو ہے وہ مرحلہ ہے پہلا مرحلہ جو ہے وہ 313 اس کے بعد 10 ہزار اور پھر تیسرا مرحلہ جو ہے وہ عام لوگ ہیں اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کے ہم بھی مولا کے ان ناصروں کی صفوں میں شامل ہوں اور اپنے امام کی ہمراہی کریں اور بالاخرون عظیم انقلاب الہی بپا ہو


کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 6
چوتھا سبب ، عام لوگوں کی آمادگی ، مدینہ میں اسلامی نبوی اور علوی  حکومت کے آغاز میں عام لوگوں کا کردار ، کربلا اور انبیاء کی تاریخ میں مثالیں ، قائم کی حکومت کیسے شروع ہوگی ، امام زمان عج کا شکوہ

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

نام :- بنت زہرا 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع سخن اسباب ظہور ہیں اس حوالے سے تین اہم سبب بیان ہو چکے ایک اس عظیم انقلاب کا ہدف اور اس کے پروگرام دوسرا اس کا رہبر تیسرا اس کے انصار اور چوتھا جو سبب جو اج ہم بیان کریں گے تو عمومی طور پر لوگوں کا امادہ ہونا کسی بھی انقلاب کے لیے یہ ایک اہم ترین نقطہ ہے کہ عام طور پر لوگ بھی یہ چاہتے ہوں کہ ایسا انقلاب فتح ہو اگر لوگ نہ چاہیں رحمت جتنی بھی تیاری کر لے اس کے جتنے بھی ناصر ہوں وہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتے ہمارے سامنے اہل مدینہ کی مثال ہے وہ چاہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ائیں مکہ سے ہمارے درمیان ائیں ہم حکومت کریں اور مدتوں سے انتظار کر رہے تھے نتیجہ کیا ہوا اور پیغمبر ائے ان کا بھرپور استقبال ہوا اور مدینہ میں اسلامی حکومت کا اغاز ہوا کہ لوگوں کا چاہنا بہت اہم ہے تاریخ میں اس کی بڑی بڑی مثالیں ہیں ہم واقعہ کربلا کو بھی دیکھ لیں سب نے چاہا تھا تو یہ عظیم واقعہ ہوا اور اگر یہ نہ چاہتے امام کو تنخواہ چھوڑ دیتے تو شاید اس طریقے سے یہ کامیاب نہ ہوتا لیکن ہم اس میں دیکھ رہے ہیں کہ بوڑھے جوان بچے خواتین سب نے چاہا اور یہ عظیم انقلاب عطا ہوا کہ جس کے اثار اج تک ہیں اس سے پہلے بھی اگر اپ انبیاء کی تاریخ کو دیکھیں کہ جب حضرت یونس علیہ السلام اوازوں کے ساتھ دعا دے کے چلے گئے چونکہ قوم جو ہے ان کی باتوں پہ عمل نہیں کر رہی تھی اور عذاب الہی بھی شروع ہونے لگا تو وہی قوم جو ہے ایک دم بدلی اور انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں کے لیے کیا توبہ کی تو عذاب رک گیا یہ قران جو ہے وہ یہی تو کہہ رہا ہے کہ اللہ کسی قوم کی تقدیر کو اس وقت تک نہیں بدل تک وہ خود اپنی تقدیر نہیں بدلتے انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو وہ چاہتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو قران مجید میں بارہا ہے قوم جب چاہتی ہے تو سب کچھ ہوتا ہے جب نہیں چاہتی تو نہیں ہوتا حتی کہ مسافر قوم ایسے کام کرتی ہے کہ ان پر عذاب الہی ا جاتا ہے قوم کرتی ہے جیسے قوم صالح نے جب کچھ لوگوں نے اس اونٹنی کو مارا باقی قوم تماشہ دیکھ رہی تھی یعنی وہ بھی یہ چاہ رہی تھی کہ مارا جائے نتیجتا پوری قوم پر عذاب اگیا ایک طرف پوری قوم عذاب الہی کا شکار ہو رہی ہے ایک طرف پوری قوم عذاب الہی سے بچ رہی ہے یعنی قوم کا ارادہ لوگوں کا ارادہ کتنا ہے میں ایک طرف لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم پر نبی کی حکومت قائم ہو مدینہ میں اسلامی حکومت کا اغاز ہوا جب لوگوں نے چاہا ہم پر علی جیسا امام حاکم ہو تو دیکھیں مولا علی کی حکومت قائم ہوئی اور لوگوں نے عدالت علوی کے بے پناہ نمونے دیکھے اور جب لوگوں نے نہیں چاہا مولا علی جو ہیں وہ شروع میں کھانا نشین ہو گئے لوگ بھی چاہیں نا ایسے حضرت موسی اپنی قوم کو لے کے چلے درمیان میں ایک طاقتور قبیلے سے جنگ تھی قران بتا رہا ہے موسی نے کہا ان سے جنگ کرنا ضروری ہے قوم نے نہیں چاہا 40 سال تک وہاں ریابانوں میں سرگرداں رہے صحراؤں میں پڑے رہے جب چاہت اٹھے جنگ کی اور فتح کا یہ فلسطین میں داخل ہوئے تو قوم کا ارادہ بہت اہم ہے امام قائم جب ائیں گے تو لوگ بھی ساتھ چاہیں گے تو مولا کا قیام جو ہے وہ محبت ہوگا لوگ جب چاہیں گے جیسے کسی نے ا کے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ جب قائم ائیں گے تو سارے کام خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے تو فرمایا ہر قدر ایسا نہیں ہے اگر قرار یہ ہوتا سارے کام خود کو ٹھیک ہونے ہوتے تو پھر نبی کائنات کے لیے ہوتے تھے ان کے کام بھی اس وقت ٹھیک ہوئے انہوں نے بھی اس وقت اسلامی حکومت کا اغاز کیا جب لوگوں نے چاہا امام قائم کس چیز کے منتظر ہیں اور ارادہ امی کے بھی منصر ہے کہ عمومی ارادہ کریں صرف دعا کی حد تک نہ رہے عملی طور پر بھی اپنے اندر حرکت پیدا کرے نیک اعمال کریں اپس میں ہم دلی کی فضا پیدا کریں باہم تیاری کریں گے تو مولا ضرور کریں گے جیسا کہ امام زمانہ صلی اللہ شریف کی جو توقیر ہے شیخ مفید رحمت اس میں مولا نے یہی شکوہ کیا کہ اگر ہمارے شیعہ ہم سے کیا ہوا وعدہ پورا کرتے اور اپس میں ہم دل ہوتے تو ہمارے ظہور میں تاخیر نہ ہوتی وعدہ کیا تھا یہی تھا کہ ہم نے مل کے تیاری کرنی ہے ہمدلی یہی ہے کہ مل کر حرکت کریں تو یہ ساری چیزیں جو ہے وہ مفم ہیں یہ سارے اسباب اکٹھے ہوں گے تو وہ عظیم ظہور جو ہے وہ بقا ہوگا اللہ تعالی ہم سب کو اس عظیم اجتماعی حرکت کی سعادت جو ہے وہ اس ہمارے نصیب میں یہ توفیق دے کہ ہم مل کر ہیں وہ عظیم اجتماعی حرکت کو وجود میں لائے ہیں


کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 7
علامات ظہور سے آشنائی، علامات کی مختلف طرح سے تقسیم، حتمی و غیر حتمی ، متصل و منفصل ، عادی و غیر عادی ، زمینی و آسمانی علامات 

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

نام:- بنت زھرا 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع سخن علامات ظہور ہے احادیث اور روایات کی رو سے علامات ظہور کی بہت ساری قسمیں ذکر کی گئی ہیں جن میں سے بعض کا اپ کی خدمت میں جو ہے وہ تذکرہ کیا جاتا ہے سب سے پہلی قسم جو ہے وہ حتمی اور غیر حتمی علامت حتمی علامت اسے کہتے ہیں کہ جو یقینی ہو ہر صورت میں ظاہر ہوگی اور غیر حتمی یعنی جس کا وقوع یقینی نہ ہو ممکن ہے وہ ظاہر ہو ممکن ہے ظاہر نہ ہو حتمی علامت مثلا سفیانی کا خروج یہ ہر صورت میں ہوگا اس حوالے سے ایک روایت ہے امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بعض امور جو ہیں وہ موقوف ہیں یعنی غیر حتمی ہے اور بعض جو ہے وہ حتمی ہے اور پھر فرماتے ہیں جیسے سفیانی کا خروج جو ہے یہ حتمی ہے یعنی ہر صورت میں ہوگا اور غیر حتمی مثلا دجال کا خروج ہے یہ ہماری شیعہ روایات کی رو سے غیر حتمی ہے یا سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یہ غیر حتمی ہے ایک اور تقسیم بھی ہے جسے متصل اور منفصل کہتے ہیں متصل سے مراد ہو علامتیں ہیں کہ جو مولا کے زمانہ ظہور کے بالکل نزدیک ہے یعنی اتنی نزدیک ہے کہ عموما وہ فاصلہ محسوس نہیں ہوتا اور جیسے نفس زکیہ کی شہادت جو ہے یہ بالکل نزدیک ہے 15 دنوں کا فاصلہ ہے ا اس حوالے سے ایک روایت بھی ہے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قائم کے قیام اور نفس زکیہ کے قتل کے درمیان جو ہے وہ 15 راتوں کا فاصلہ ہے تو یہ علامت جو ہے وہ متصل ہے اور منفصل یعنی وہ علامت ہے کہ جو فاصلے کے ساتھ ہو جیسے یہی صوفیانی کا خروج یمنی کا قیام جو ہے یہ فاصلے کے ساتھ ہے یا اسمانی اواز جو ہے یہ فاصلے کے ساتھ ہے اور اپ کی خدمت میں عرض کریں کچھ اور تقسیم بھی ہے جیسے عادی اور غیر عادی ادھی سے مراد قدرتی ہے علامات ہے جو یعنی عام طریقے سے ظاہر ہوں گے جس کے اندر یعنی ہمیں معجزہ نظر نہیں ائے گا جیسے سفیانی کا خروج نفس زکیہ کی شہادت یہ ہے ا عادی علامات ہیں اور اس کے مد مقابل اسمانی اواز جو ہے یا خسف بدہ لوگوں کا جو ہے وہ زمین میں دھنسنا جو لشکر سفیانی ہے یا ماہ رمضان کے اخر میں جو ہے وہ چاند گرہن اور ماہ رمضان کے وسط میں سورج گرہن جو ہے یہ یہ غیر اتی ہے یعنی معجزاتی ہے جو قدرتی طور پر جو ہے ممکن نہیں ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو چاند گرہن اور سورج گرہن کے حوالے سے یہ روایت جو ہے موجود ہے ہمارے پاس اس میں امام یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ وہ چیز ہے کہ جو حضرت ادم کے زمانے سے لے کر اج تک جو ہے وہ وقوع پذیر نہیں ہوئی تو یہ علامت جو ہے یہ غیر عادی ہے ایک اور تقسیم بھی ہے اسمانی اور زمینی علامتیں ہیں اسمانی علامتوں سے مراد ہے کہ جو اسمان سے ظاہر ہوں گے جیسے یہی چاند گرہن سورج گرہن یا اسمانی حواس اور زمینی علامتوں سے مراد جیسے صوفیانی کا خروج ہے نفس زکیہ کا قتل ہے یمنی کا قیام ہے یا وہ وادی بیدام لشکر کا دھنسنا ہے تو یہ چند طرح کی تقسیم ہے علامات کے اعتبار سے جو احادیث و روایات میں بیان ہوئی ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے علامات کے حوالے سے ابتدائی چیز جو ضروری طور پر ہمارے لیے جاندار ایک قسم کا ضروری ہے وہ یہی ہے کہ ہم اب علامات کی اقسام سے اگاہ ہو جائیں انشاءاللہ اللہ تعالی ہمیں مزید بھی مولا کے حوالے سے معرفت کی توفیق دے

کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 8
عقیدہ بداء کیا ہے؟ یہودی کا واقعہ ، تقدیر انسان کے ھاتھ میں ہے ، ہوسکتا ہے علامات ظہور سب یا کچھ ظاہر نہ ہوں
تطبیق کے نقصانات 
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

نام:- بنت زھرا 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

موضوع سخن علامات ظہور ہے ہم نے پچھلے درس میں علامات ظہور کی اقسام بیان کی اب انشاءاللہ خود علامات میں بحث شروع کریں گے لیکن اس سے پہلے چند چیزوں کا جاننا ضروری ہے سب سے پہلی چیز ایک قاعدہ ہے قاعدہ بداء ہماری کلامی اعتقاد کتابوں میں یہ قاعدہ بیان ہوا ہے اور یہ صرف مکتب تشیع میں ہی یہ بحث بیان ہوتی ہے باقی فرقوں اور مکاتب میں یہ بیان نہیں ہوتی بدا کا معنی جو ہے وہ یہ ہے کہ کوئی چیز ظاہر ہو لیکن اصل جو اس کا معنی عقائد کے حوالے سے کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی تقدیروں کے اندر تبدیلی مثلا کوئی چیز انسان کے مقدر میں لکھی جاتی ہے لیکن اس کو پانے کے لیے کوئی شرائط ہوتی ہیں اگر کوئی شخص ان شرائط کو انجام دے تو اس چیز تک پہنچتا ہے اگر انجام نہ دے تو تقدیر بدل جاتی ہے اور وہ چیز اسے نہیں ملتی ہم اس حوالے سے ایک واقعہ اپ کی خدمت میں بیان کریں گے کہ جو کہ علامہ مجلسی نے کتاب کافی سے نقل کیا اپنی کتاب بہار الانوار میں واقعہ یہ ہے کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے ایک یہودی وہاں سے گزرا جو کہ زہرا لکڑیاں جمع کرنے کے لیے جا رہا تھا اور جب وہ اپ کے پاس ایا تو اس نے کہا السلام علیک لفظ سام جو ہے یہ معنی موت ہے اصل لفظ ہے السلام علیک یعنی اپ پر سلامتی ہو لیکن اس نے کہا السلام علیکم یعنی یہاں پر موت ا جائے ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ جو ہیں وہ اسی طرح کے لفظ کہتے ہیں اپنی طرف سے یعنی ایک نئی چیز بیان کر رہے ہوتے ہیں یا روٹین میں ایک بات کو بگاڑ کے یا جیسے لوگوں کے رجحانات ہوتے ہیں الفاظ کو اپنے اپنے انداز میں کہنے کے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ ہو رہا ہوتا کہ یہ جو ہے ہم بددعا دے رہے ہیں تو اس یہودی نے تو امدن کہا السلام علیک یعنی اپ پر موت ائے عربی میں الصام یعنی موت کے معنی میں تو حضرت نے اگے سے صرف کہا علیک یعنی تم پر ائے اصحاب جو ہے وہ کافی ناراض ہوئے کہنے لگے یا رسول اللہ اس بدبختی یہودی نے اپ کی موت کی جو ہے وہ ارزو کی ہے اپ کے لیے بددعا کی ہے تو حضرت نے فرمایا کہ میں نے بھی اسے یہی جواب دیا ہے اور پھر مزید یہ فرمایا کہ ایک زہریلا سانپ جو ہے وہ اسے اج ڈسے گا اور یہ ہلاک ہو جائے گا اور یہ واپس نہیں لوٹے گا اب روایت یہ ہے کہ تھوڑی دیر بعد دیکھا وہ یہودی جو ہے وہ لکڑیوں کا اکٹھا اٹھائے واپس ا رہا ہے اصحاب نے دیکھا تو حیران ہو گئے رسول اللہ سے پوچھا کہ یہ کیا وجہ ہوئی اپ نے تو فرمایا تھا جی واپس نہیں ائے گا یہ تو زندہ ہے حضرت نے اس یہودی کو کہا کہ اس اکٹھے کو زمین پہ رکھو جب وہ زمین پہ رکھا گیا تو دیکھا لکڑیوں کے درمیان ایک زہری لاسٹ تھا حضرت نے فرمایا کہ قرار یہیں تھا کہ یہ سانپ اسے ڈسے گا لیکن اس نے کوئی ایسا نیک کام کیا ہے کہ جس کی وجہ سے اس کی تقدیر اتر گئی ہے کچھ یہودی سے تم نے کوئی خاص کام تو نہیں کیا اس درمیان جب یہاں سے گئے ہو اور واپس ائے ہو اس نے کہا میرے پاس دو روٹیاں تھیں ان میں سے ایک روٹی میں نے ایک فقیر کو دی ہے تو پھر حضرت نے اپنے اصحاب سے فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے مصیبت سے بچا لیا ہے کیونکہ صدقہ جو ہے وہ پلاؤں کو ٹال دیتا ہے حتی کہ موت کو بھی ڈال دیتا ہے اب یہاں جو ہے اللہ تعالی نے یہودی کے لیے پیغمبر کے اس علیحدہ کرنے سے موت معین کی تھی لیکن ایک شرط رکھی تھی کہ اگر یہ درمیان میں کوئی ایسا کام کرے کوئی صلہ رحمی کرے کوئی صدقہ کرے تو پھر میں اس کی زندگی کو بڑھا دوں گا اور وہ شرط اس نے نہ اگاہ حالت میں پوری کر لی اور نتیجتا اس کی موت جو ہے وہ موخر ہو گئی تو مراد یہ ہے کہ بدا جو ہے یہ ہماری زندگی میں بارہا اس کا اتفاق ہوتا ہے اور ہم اللہ کے اس قانون سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور اج یہ چونکہ اپ کے لیے واضح ہو رہی ہے بات تو انشاءاللہ اس کو مد نظر رکھیں یعنی انسان ان کے اپنے بس میں ہے اپنی تقدیر بنانا یہ بات جو ہے وہ واضح ہو رہی ہے اس عقیدہ بدا اور اس واقعہ سے جو کہ حدیث کی شکل میں بیان ہوا اب ہو سکتا ہے کہ امام زمانہ اجل فرج الشریف کے لیے جو الامات بیان ہوتی ہیں ان میں بھی بداء ہو جائے ہو سکتا ہے یہ اس ترتیب سے ظاہر نہ ہو سکتا ہے بعض ظاہر ہوں اور بعض بالکل ظاہر نہ ہو یعنی یہ ہمارے ہماری تیاری پہ موقوف ہے نا ہماری تیاری کس قسم کی ہے ہو سکتا ہے کچھ علامتوں کو ظاہر کرنے کا کوئی سمرا ہی نہ ہو ہم اس سے پہلے مکمل تیار ہو چکے ہوں اور جو ہے وہ ڈائریکٹ جو ہے وہ ظہور ہو جائے جیسے بعض روایات جو ہیں وہ کہتی ہیں کہ ظہور ناگہانی ہو گا یعنی یہ امکان ہے کہ ظہور ناگہانی لیکن بسا ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماری تیاری جو ہے وہ سست روی سے جاری ہو اور جیسے علامتیں شروع ہوں تو ہم سرعت کے ساتھ اپنے اپ کو تیار کریں تو اس وقت ان تمام علامات کا انا ضروری ہو تاکہ ہم تقریبا جو ہے 15 مہینے میں اپنے اپ کو مکمل طور پر مولا کے لیے تیار کر لیں تو بس علامات جو ہیں اگرچہ محمد و ال محمد صلواۃ اللہ علیہم اجمعین کے فرامین میں ہیں لیکن ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر صورت میں یہ ساری چیزیں ظاہر ہوں گی بلکہ ان میں بدا ہو سکتا ہے ہو سکتا ہے اللہ نے یہ ساری چیزیں جو کہ بیان ہوئیں پروردگار کے علم سے بیان ہوئی محمد و ال محمد کی زبان سے لیکن ان کے لیے کچھ حالات اور شرائط مقرر کی ہوں اگر لوگ ان شرائط کو پا لیں اور وہ اپنے حالات تو پھر کر لیں ہو سکتا ہے یہ علامات ظاہر ہی ایک اہم نقطہ یہاں تطبیق کا ہے کچھ لوگ جو ہیں وہ علامات کو دنیا میں ہر ہونے والے واقعے پر تطبیق دینا شروع کر دیتے ہیں اور نتیجتا لوگوں میں جو شیخ خروش پیدا ہوتا ہے لوگ سمجھتے ہیں بس بس ابھی ظہور ہونے والا ہے حالانکہ ابھی ظہور ہونے والا نہیں ہے یہ تو ایک معمول کے مطابق واقعات ہیں جو دنیا میں ہو رہے ہیں جیسے ابھی اپ کے سامنے کرو ایا تھا تو کتنے ہی لوگوں نے کہا یہ وہی سفید موت ہے کہ جس کا ذکر ہوا ہے علامات میں اور سب لوگ جو ہے وہ ایک دوسرے کو خوشخبریاں دے رہے تھے کہ بس عنقریب امام زماں کا زور ہونے والا ہے لیکن اس وقت ہم نے بھی یہی کہا تھا کہ نہیں یہ طاعون ٹائپ چیز ہے جو ہر صدی میں ہوتا ہے تائمہ کے زمانے میں بھی ہوتا تھا تو لازمی نہیں ہے کہ یہ وہ علامت ہو یا جیسے زلزلہ یا ترکی کا اس وقت لوگوں نے بہت زیادہ اس طرح کی باتیں کی کہ وہ خونی زلزلے ہو بہت بڑے جو وحشت ناک زلزلے یہ ان میں سے ہے اور بس عنقریب ضرور ہونے والے ہیں یا جیسے ابھی فلسطین کے حالات لوگوں نے اس کو جو ہے ان خونی جنگوں میں سے شمار کیا کہ جو ظہور سے پہلے ہو تو ہم یہاں یہی کہیں گے کہ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ خوامخواہ جو ہے ہم علامتوں کو دنیا کے واقعات پر تطبیق دے دنیا کے واقعات ایک روٹین سے ہو رہے ہیں اس سے پہلے بھی ہوئے یہی کام اس سے پہلے ہر صدی میں زلز لے ائے ہر صدی میں بڑی سے بڑی جنگیں ہوئی خوفناک جنگ ہے اس سے بھی زیادہ خوفنا قتل و غارت لیکن جب تک ہماری تیاری نہیں ہوگی ظہور نہیں ہوگا لہذا ہمیں ضرورت نہیں ہے کہ ہم علامات کو خواہمخواہ تکبیق دیں اور بعد میں جب کوئی واقعہ نہ ہو تو لوگ پریشان ہو اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کئی لوگ عقیدہ مہدی سے خارج ہو جائیں وہ کہیں پتہ نہیں یہ سارے جھوٹ ہے سارا یہ افسانہ ہے کچھ ہوا تو نہیں لہذا منع کیا گیا سختی سے اور ایسا شخص جو تطبیق دے وہ کذاب ہے اس کی باتوں کو نہ سنا جائے اور اس مسئلے میں ضروری ہے کہ بڑے علماء اور بالخصوص جو مہدیت کے موضوع کے ماہرین ہیں ان کی طرف رجوع کیا جائے اور ان سے جو ہے وہ اس حوالے سے وضاحت جو ہے وہ پوچھی جائے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ان تمام ابا سے مہدیت میں صحیح معنوں میں نہیں حاصل کریں اور مولا کے حقیقی فکری سرواز بنے

Other girl 
درس نمبر 8
علامات ظہور
قاعدہ بدا کوئی چیز ظاہر ہو
انسان کی تقدیر میں تبدیلی
انسان کے نصیب میں کچھ لکھا جاتا ہے اور اس کو پانے کی کچھ شرائط ہوتی ہیں ۔
اگر شرائط کو انجام دے تو وہ حاصل ہوسکتا ہے
صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے 
یہودی کے لیے موت لیکن اگر کوئی نیک کام کیا تو ایسا نہیں ہوگا۔
امام کے لیے علامت میں بدا ہو جائیں 
کچھ ظاہر ہو اور کچھ نہ ہو
ہماری تیاری پر موقوف نشانیاں نہ ہو ظہور ہو جائے
ظہور ناگہانی ہو۔
علامات میں بدا ہوسکتا ہے
حالت اور شرائط مکمل ہو اور علامات ظاہر نہ ہو اور ظہور ہو جائے ۔



Other Girl 

درس نمبر 10
سفیانی ایک خاص علامت ہے ظہور کے لیے۔

سفیانی کے خروج کو قطعی علامت کہا گیا۔
ابو حمزہ ثمالی نے امام باقر(ع)سے فرمایا 
سفیانی کا خروج حتمی امور میں سے ہے اور آسمانی آواز اور سورج کا مغرب سے نکلنا
مولا نے اس کی تائید کی
اجل مسمی دو قسم کی
جو ہر صورت میں ہوگی
اگر کوئی کام کریں گے تو ہوگا 
سورہ انعام میں
سفیانی ایک حاکم ہے جس کی حکومت میں شیعان علی کو تکلیف پہنچے گی۔
اس زمانے میں یومانی قیام کریں گے
سفیانی ظہور کو روکنے کے لیے مولا سے جنگ و جدال کریں گے۔

مکہ مدینہ کے درمیان بیداہ میں زمین میں دھنس جائے گا۔
لشکر سفیانی بیدا میں پہنچے گا تو آسمان سے منادی ندا دے گا 
اے سرزمین بیداہ۔۔۔۔۔ اس کو نگل لیں۔
وادی بیداہ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات