Book 6 Sadia
Book 6 Missing Lesson 14
🌴 *امام زمان عج کی غیبت کے اسباب*🌴
پہلا درس : غیبت کا معنی
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🌹🎤
*خلاصہ* 🍃
*امام زمانہ عج شریف کی غیبت کے اسباب*
دور حاضر میں یہ ایک اہم ترین بحث ہےکہ امامؑ کیوں غائب ہیں ؟ اور غیبت کیا ہے؟ اور وہ ہستی جنہیں اللہ نے ہماری ہدایت کے لیے بھیجا ان کی غیبت میں ہم ان سے کیسے فیض حاصل کر سکتے ہیں ؟ یہ غیبت کب ختم ہوگی ؟
ایسے اور بھی دیگر سوالات ہیں ۔
یہ طے ہے کہ امام ؑ عج الشریف کی غیبت واقع ہو چکی ہے۔ امامؑ 260 ھج سے اب تک غائب ہیں اور آپ کی غیبت کی خبریں پہلے آچکی تھی اور اس کی وجوہات بھی بیان ہو چکی تھی جو اس مذہب کی حقانیت ہے۔ جو کہ ہمارے لیے باعث اطمینان اور باعث فخر ہے۔
اور جب ہم اس موضوع پر بیش قیمت دلائل حاصل کرتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے مولاؑ کی مذید معرفت حاصل ہوتی ہے ان سے ہمیں تمسک حاصل ہوتا ہے۔
*غیبت کے معنی:*
لفظ غیبت عربی زبان کا لفظ ہے۔
صاحب " مقالیس اللغتہ" غیبت کے بارے میں کہتے ہیں : اصل صحیح یدل علی تستر الشی ء عن العیون ثم یقاس۔ من ذلک الغیب ما غاب مما لا یعلمہ الا اللہ۔
" *غیب* " وہ لفظ ہے کہ جو کسی چیز کے آنکھوں سے پوشیدہ اور مخفی ہونے پر دلالت کرتا ہے پھر یہ لفظ دیگر موارد میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً غیب وہ چیز ہے کہ جو مخفی ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا۔
*یعنی غیبیت دو قسم کی تصور کی جاسکتی ہے:*
*الف*💠 : *شخص کی غیبت:*
اس کا معنی یہ ہے کہ خود حضرت اور ان کا جسم مخفی ہے اور دیکھا نہیں جا سکتا اس کے معنی کی رو سے ممکن ہے کہ حضرت لوگوں کے درمیان میں ہوں لیکن وہ امامؑ کو دیکھ نہیں سکتے۔
*ب* : *شخصیت کی غیبت* 💠: اس کا معنی یہ ہے کہ امامؑ کی شخصیت اور مقام مخفی اور پوشیدہ ہے نہ کہ ان کا جسم مخفی ہے۔ اس معنی کی رو سے ممکن ہے کہ امامؑ لوگوں کے درمیان موجود ہوں اور لوگ آپ کو دیکھیں لیکن نہ پہچانیں۔ اور یہ علم نہ رکھیں کہ یہ شخص وہ امام مہدی ؑ ہیں۔
*احادیث کی رو سے دیکھیں تو احادیث میں دونوں طرح کی غیبت بیان ہوئی ہے۔*
کچھ وہ احادیث ہیں کہ جن میں آئمہؑ بیان کرتے ہیں کہ ہم امامؑ کا جسم اقدس بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اور بعض ہیں کہ
جن میں امامؑ کی غیبت کو حضرت یوسفؑ کی غیبت سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ کہ جس طرح حضرت یوسف ؑ کے بھائی ان کو دیکھتے تو تھے لیکن پہچانتے نہیں تھے۔
شخص کی غیبیت: امام رضاؑ سے نقل ہوا ہے: لا یری جسمہہُ ولا یسمی باسمہ۔ ان کا جسم نہ دیکھا جائے گا اور نہ ان کا نام لیا جائے گا۔
اسی روایت کی مانند امام ھادیؑ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ " *انکم لا ترون شخصہُ ولا یحل لکم ذکرہ بسمہ* " بلا شبہ تم ان کے وجود کو نہیں دیکھو گے اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم ان کے نام سے انہیں یاد کرو۔
شخصیت کی غیبت:
*سدیر صیرفی کہتے ہیں۔*
*امام جعفرصادقؑ فرماتے ہیں:*💠
" بلاشبہ قائمؑ میں حضرت یوسف کی ایک شباہت موجود ہے۔ میں نے عرض کی : گویا آپ کی مرات حیرت یا غیبت ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس امت میں خنزیر کی مانند کس طرح اس کا انکار کرتے ہیں ؟ یوسفؑ کے بھائی پیغمبروں کی اولاد اور نسل سے تھے ۔ یوسفؑ کے ساتھ تجارت کی اور اسے بیچ دیا۔ (نعمانی کی تعبیر یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی " اس کے پاس آئے ، اس سے گفتگو کی، اسے مخاطب کیا، اسکے ساتھ تجارت کی اور اس کے پاس آمدرفت کی۔ حالانکہ ان کے بھائی تھے اور وہ بھی ان کا بھائی تھا اسے انہوں نے نہیں پہچانا۔ یہانتک کہ انہوں نے خود کہا: میں یوسف ہوں۔) بس وہ کیسے انکار کرتے ہیں کہ جب خود اللہ تعالی ارادہ فرمالے کہ کسی زمانہ میں اپنی حجت کو مخفی کرے؟ بس وہ کیسے انکار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی حجت کے ساتھ وہ کرے جو یوسف ؑ کے ساتھ کیا؟ وہ ان کے بازاروں میں جاتی ، ان کی بساط پر پاؤں رکھتی ہے لیکن وہ اس نہیں پچانتے یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ اجازت فرما دے کہ اپنی پہچان کروائیں کہ جس طرح یوسف کو اجازت دی اور انہیں کہا: آیا تم جانتے ہو کہ تم نے نادانی میں یوسف ؑ کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے کہا : گویا تم خود یوسفؑ ہو؟ تو انہوں نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں۔
*اس روایت میں امام مہدی ؑ کی غیبت کو حضرت یوسف ؑ کی غیبت سے تشبہیہ دی گئی ہے* ۔
*ایک اور روایت میں امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں* 💠" صاحب امر میں انبیاؑ کی سنتیں موجود ہیں۔۔ حضرت یوسف ؑ کی سنت ان میں مخفی اور پوشیدہ ہونا ہے اللہ تعالی ان میں اور مخلوق میں ایک حجاب قرار دے گا کہ لوگ انہیں دیکھیں گے لیکن نہیں پہچانیں گے۔
🤲🏻
والسلام۔
*تحریر و پیشکش:* 🖊️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔*🌏
کتابچہ 6🌴
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
دوسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی حقیقت
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ:
بعض محقیقین مثلاً مرحوم علامہ مجلسی (رح) نے کتاب مراۃ العقول اور ملا سالح مازندرانی نے شرح اصول کافی میں دونوں قسم کی روایات میں جمع کرنے کی کوشش کی اور غیبت کا دوسرا معنی انتخاب کیا ۔
اس نظریہ کی وضاحت کچھ یہ ہے: کہ امام زمانہؑ کا بدن اور جسم اس طرح سے مخفی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان ہوں گے لیکن ان کا بدن شریف دیکھا نہ جانا ایک غیر عادی اور معجزانہ امر ہے اور معجزہ بذات خود جہاں طبیعت میں عادی اور جاری قانوں کے خلاف ہے اور الہی ارادہ اس طرح استوار ہے کہ تمام امور عادی اور طبعیی نظام پر جاری ہوں۔
جبکہ اس نطام میں تبدیلی یعنی معجزہ کا انجام دینا نہایت ضروری مورد میں ہوتا ہے۔ جبکہ غیر معروف موارد میں معجزہ کے انجام دینے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
انہوں نے دوسرا معنی نکالا۔ کہ لوگ دیکھیں گے لیکن پہچانیں گے نہیں۔ اب ان سے پوچھا گیا کہ وہ روایات جو کہتی ہیں کہ مولا ؑ کا جسم نہیں دیکھا جائے گا تو یہ کہتے ہیں کہ پھر ہم ان روایات سے معنی لیں گے۔ کہ جن میں یہ الفاظ " لا یری ولا ترون یا لایعرف ولا تعرفون سے کریں گے مثلاً آپ انہیں پہچان نہیں پا رہے۔
اور اکثر علمائے کرام یہی معنی لیتے ہیں لیکن بعض علمائے کرام کہتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ چونکہ بعض روایات یہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کا جسم دیکھا نہیں جائے گا۔
مثلا ؑ امام جعفر صادق ؑ سے نقل ہوا ہے کہ " یفقد الناس امامھم میسھد الموسم فیراھم ھم ولا یرونہ
" لوگ اپنے امام کو نہیں ڈھونڈ پائیں گے وہ حج کے زمانہ میں حاضر ہوں گے اور لوگوں کو دیکھیں گے لوگ انہیں نہیں دیکھیں گے۔
" ایک اور روایت میں امام موسیٰ کاظم ؑ سے نقل ہوا ہے " اذا فقد الخامس من ولد السابع
" جب ساتویں امام کی نسل سے پانچواں امام غائب ہو۔ قرآن مجید میں نیز یہ تعبیر آئی ہے "قالو تفقد صواع الملک ہم نے بادشاہ کا پیمانہ گم کر دیا ہے۔ یدنی پیمانہ دیکھا نہیں جاتا تھا ، لہذٰا دیکھا نہ جانا پہچانے نہ جانے سے مختلف ہے۔
جیسے قرآن مجید میں بھی یہ تعبیر آئی ہے۔
" حضرت یوسف کے بھائیوں کے پاس جو پیمانہ تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے پیمانہ گم کردیا کیا۔
کچھ علمائے کرام نے دونوں روایات کو خوبصورتی سے اکھٹا کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ بسا اوقات مولاؑ جسم کے اعتبار سے نہیں دیکھے جاتے اور بسا اوقات جسم کے اعتبار سے دیکھے جاتے ہیں لیکن پہچانے نہیں جاتے۔
یعنی لوگ دو مقام پر ہیں
کچھ لوگ روحانی طور پر اپنے مولا کے جسم کو دیکھ پاتے ہے لیکن پہچان نہیں پاتے۔
لیکن کچھ ایسے ہیں کہ وہ یہ قابلیت بھی نہیں رکھتے کہ مولا ان کے سامنے آئیں۔
کچھ علماء نے روایات کو کچھ اس طرح سے اکھٹا کیا یعنی غیبت صغریٰ میں امام جسم کے ساتھ غائب تھے۔ جنگلوں اور صحراؤں میں رہتے تھے۔ لیکن 70 سال بعد جب غیبت کبریٰ کا زمانہ آیا تو وہ نسل ختم ہو چکی تھی جس نے آپ کو دیکھا تھا۔ اور پھر وہ لوگ آئے جنہوں نے آپ کو دیکھا نہ تھا۔
یعنی جسمانی غیبت غیبت صغریٰ میں تھی اور بعد میں شخصی غیبت کا آغاز ہوا۔ جو ابھی تک چلی آرہی ہے۔
امام زمانہؑ شخصی اعتبار سے غائب ہیں۔
والسلام۔
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
تیسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی تاریخ، شیخ صدوق رح کا واقعہ
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ :
غیبت کی تاریخ:
تاریخ کے اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی یہ غیبت کسی اور حجت خدا کو پیش آئی ہے یا نہیں۔
امام ؑ عج الشریف 260 ھج کو پردہ غیبت میں تشریف لے گئے۔
تب سے لے کر اب تک یعنی بارہ سو سال سے ہم بظاہر ایک ھادی رکھتے ہیں ۔ لیکن ان کے براہ راست فیض سے ہم محروم ہیں ۔
بہت سے لوگ اس کو شک و تردید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ھادی پردہ غیب میں ہو۔ اور ایسے ھادی کے ہونے کا فلسفہ اور فائدہ کیا ہے۔
کائنات پراسرار ہے اس میں ایک خاص نظم ہے اور سلسلہ ہدایت بڑی پیچیدگی سے جاری ہے۔
اور ایسا واقعہ درپیش آجاتا ہے جس کے اپنے اسباب ہیں جیسے غیبت امام زمانہؑ تو لوگ شک کرتے ہیں ۔ لیکن اگر ان کو بتایا جائے کہ غیبت پہلے بھی ہوئی انبیاؑ غائب ہوتے رہے ۔ کچھ انبیاؑ کچھ دنوں کے لیے غائب ہوئے۔ کچھ مہینوں کے لیے کچھ سالوں کے لیے اور کچھ انبیا ؑ ایسے ہیں جو ابھی تک غائب ہیں۔
مرحوم شیخ صدوق (رح) جو کہ عالم تشیع کے بزرگان اور عظیم علماء میں سے تھے۔ انہوں نے مہدویت پر کام کیا اور غیبت صغری کے زمانہ کو پایا اور غیبت کبرٰع کے اوائل تک زندہ تھے اپنی بہترین کتاب (کمال الدین و تمام النعمتہ) جس میں شیخ صدوق رح نے انبیا کی غیبت کو بیان کیا اور اس پر محمدؐ و آل محمدؐ کی روایات کو نقل کیا۔
اس کتاب کو لکھنے کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے شیخ صدوق رح اس کے مقدمے میں لکھتے ہیں۔
کہ میرا اس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جب میری امام رضاؑ ع کی زیارت کی آرزو پوری ہوئی تو زیارت کے بعد میں نیشاپور لوٹا اور وہاں اقامت کی تو دیکھا بہت سے شیعہ کہ جومیرے پاس آمد و رفت رکھتے تھے ، غیبت کے مسئلہ میں حیران و پریشان تھے اور امام قائم ؑ کے حوالے سے شک و تردید میں تھے اور راہ مستقیم سے منحرف ہو کر گمان و قیاس میں پڑے ہوئے تھے، تو میں نے پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ ؑ کی احادیث کی مدد سے ان کی راہنمائی کی کوشش شروع کی تاکہ انہیں حقیقیت و سچائی کا راستہ دکھلاوں کہ ایک دن قم کے علماء میں سے ایک اھل فضل و علم شخصیت بخارا ہمارے پاس آئی اور مجھ سے کہا انہوں نے بخارا کے ایک بزرگ فلسفی و منطقی شخص کی کلام میرے لیے نقل کی کہ اس کلام نے انہیں امام زمانہؑ کے حوالے سے حیران کیا ہوا تھا۔ امام کی طولانی غیبت اور ان سے احادیث و اخبار کا سلسلہ منقطع ہونے سے وہ شک و تردید میں پڑا ہوا تھا۔
تو میں نے امامؑ کے وجود کے اثبات میں چند ابحاث بیان کیں اور پیغمبرؐ اکرم اور آئمہؑ اطہار سے کچھ روایات ان کی غیبت کے حوالے سے بیان کیں تو ان کو سن کر وہ مطمئن ہوگیا ۔ مجھ سے کچھ احادیث اس مورد میں قبول کیں اور یہ درخواست کی کہ اس موضوع میں اس کے لیے ایک کتاب تالیف کروں۔
اسی دوران ایک رات شہر ری اور وہاں اپنے خاندان اور الہی عطا کردہ نعمتوں کے بارےمیں سوچ رہا تھا کہ ایک دم نیند کا مجھ پر غلبہ ہوا اور میں نے خواب دیکھا گویا میں مکہ میں ہوں اور بیت اللہ الحرام کا طواف کر رہا ہوں ۔ ساتویں طواف میں حجر الاسود کے پاس پہنچا اور اسے بوسہ دیا یہ دعا پڑھی۔
" اَمانَتی اَدَّیْتُها وَ میثاقی تَعاهَدْتُهُ لِتَشْهَدَ لی بِالْمُوافاةِ،"
یہ میری امانت ہے کہ اسے ادا کر رہا ہوں اور یہ میرا ایمان ہے کہ اسے پورا کر رہا ہوں کہ تم اس کے ادا کرنے پر گواہی دینا۔
اسی وقت میں نے اپنے مولا صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ کو دیکھا کہ آپ خانہ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے تھے ، میں اضطراب اور پریشان انداز میں ان کی جانب بڑھا انہوں نے میرا چہرہ دیکھا اور میرے دل کا حال پڑھا، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے جواب دیا۔ پھر فرمایا:
" غیبت کے موضوع میں ایک کتاب کیوں تحریر نہیں کرتے تاکہ تمھارا حزن و غم دور ہو؟ عرض کی : یاابن رسول اللہ غیبت کے بارے میں کچھ چیزیں تحریر کیں ہیں : فرمایا: اس طرح نہیں، میں تمھیں حکم دیتا ہوں غیبت کے بارے میں ایک کتاب تحریر کرو اور اس میں انبیاؑ کی غیبت کو بیان کرو، پھر آنحضرت ؑ چلے گئے۔ اور میں خواب سے بیدار ہو گیا۔
اور میں نے طلوع فجر تک دعا ، گریہ و زاری اور درد دل و شکوہ بیان کرنے میں وقت گزارا کہ مجھے یہ توفیق حاصل ہوئی اور مولاؑ نے میری رہنمائی کی اس کے بعد شیخ صدوق رح نے حکم امام ؑ کے پیش نظر احادیث کی کتابوں کی چھان بین کر کے وہ تمام روایات اور احادیث جمع کیں جن میں گذشتہ تمام انبیا ؑ کی غیبت بیان ہوئی۔ اور پھر ترتیب سے حضرت آدم ؑ سے لے کر بعد جتنے انبیاؑ چاہے کتنی ہی مدت کے لیے غیبت میں گئے ان کو بالترتیب بیان کیا۔ اور یہ شیخ صدوق کی عظیم ترین خدمت ہے۔ پروردگار عالم ان کے درجات کو بلند فرمائے
آمین۔
والسلام
خلاصہ و پیشکش:✍️
سعدیہ شہباز
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ:
ایک بہترین کتاب (کماالدین و تمام النعمتہ) جو مرحوم شیخ صدوق کی لکھی ہوئی ہے۔ جس سے ہم نے کچھ انبیاءؑ کے غیبت کے نمونے لیے ہیں۔
حضرت صالح ؑ : زید شحام امام صادق ؑ سے روایت کرتے ہیں : کہ انہوں نے فرمایا: حضرت صالح ؑ نے ایک مدت تک اپنی قوم سے غیبت اختیار کی اور جب وہ غائب ہوئے تو اس وقت ایک مکمل اور خوش اندام مرد تھے کہ ان کے چہرے پر گھنی داڑھی اور متوسط قد کے دبلے سے بدن کے مالک تھے اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو اس وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ چکے تھے:
1۔ منکرین:
2۔ اہل شک و تردید
3۔ اہل ایمان و یقین
بلاشبہ قائمؑ بھی حضرت صالح ؑ کی مانند ہیں۔
حضرت یوسف ؑ کی غیبت:
روایت ذکر ہو چکی ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ :
امیرالمومنین ؑ نے پیغمبر اکرم ؐ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت یوسف ؑ کا وقت وفات آپہنچا تو انہو نے اپنے پیروکاروں اور خاندان والوں کو جمع کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بجا لائے اور پھر انہیں فرمایا: ان پر ایک نہایت سخت دور آئے گا، ان کے مردوں کو قتل کی اجائے گا اور ان کی حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کئے جائیں گے اور بچوں کے سر جدا کئے جائیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالی لاوی بن یعقوب کی اولاد میں سے ایک قائم کے ذریعے حق کو آشکار کرے گا ، وہ گندمی رنگت اور بلند قامت مرد ہوں گے اور ان کی صفات بیان کیں پھر ان لوگوں نے اس وصیت کو یاد رکھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل پر غیبت اور مصائب کا زمانہ آیا کہ وہ چار سو سال تک قائم کے قیام کے منتظر رہے۔ پھر انہیں قائم کی ولادت کی بشارت دی گئی اور انہوں نے ان کے ظہور کی علامات کا مشاہدہ کیا جب ان پر مصائب بڑھے تو انہوں نے سنگ و چوب سے (بیان کرنے والے ) ان پر حملہ کیا اور وہ عالم دین کہ جس کی باتوں سے انہیں اطمینان حاصل ہوتا تھا اس کے پیچھے لگ گئے اور وہ مخفی ہو گیا۔
انہوں نے اس سے خط و کتابت کی اور کہا ہم پریشانیوں اور مشکلات میں تمھاری باتوں سے سکون و اطمینان حاصل کرتے تھے ، تو وہ عالم دین انہیں صحرا میں لے گیا اور وہاں ان سے نشست و برخاست کی اور قائم کی ذات ، اس کی صفات اور ان کے نزدیک میں ظہور کے بارے میں گفتگو کی ۔
وہ چاندنی رات تھی جب وہاں حضرت موسیٰ ؑ چلے آئے وہ اس وقت نوجوان تھے اور فرعون کے محل سے سیرگاہ کے عقب سے آئے اور اس فقیہ نے انہیں دیکھا اور ان کی صفات کو پہچانا تو اٹھ کر ان کے قدموں میں گر گیا اور ان کے پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا : شکر ہے اس خدا کا جو مجھےاس وقت تک دنیا سے نہ لے گیا کہ آپ کی زیارت کروادی۔
جب اس کے پیروکاروں نے یہ منظر دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ وہی حجت حدا ہیں تو سب سجدہ شکر میں گر پڑے ۔
حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا: مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ تمہاری مشکلات سے رہائی میں جلدی کرے گا ۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گئے اور شہر مدائن چلے گئے اور کئی سال تک حضرت شعیب کے پاس رہے یہ دوسری غیبت پہلی غیبت سے بھی زیادہ سخت تھی۔
ابو بصیر نے امام باقر ؑ سے روایت کی کہ حضرت نے فرمایا:
حضرت موسیٰ ؑ نے اس وقت تک قیام نہیں کیا جب تک بنی اسرائیل میں پچاس ایسے کذاب ظاہر ہوئے کہ ان سب کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ موسیٰ بن عمران ہیں۔
والسلام
خلاصہ وپیشکش:
سعدیہ شہباز
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
کتابچہ 6
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس* : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :
ایک بہترین کتاب (کماالدین و تمام النعمۃ) جو مرحوم شیخ صدوق کی لکھی ہوئی ہے۔ جس سے ہم نے کچھ انبیاءؑ کے غیبت کے نمونے لیے ہیں۔
*حضرت صالح ؑ :* زید شحام امام صادق ؑ سے روایت کرتے ہیں : کہ انہوں نے فرمایا: حضرت صالح ؑ نے ایک مدت تک اپنی قوم سے غیبت اختیار کی اور جب وہ غائب ہوئے تو اس وقت ایک مکمل اور خوش اندام مرد تھے کہ ان کے چہرے پر گھنی داڑھی اور متوسط قد کے دبلے سے بدن کے مالک تھے اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو اس وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ چکے تھے:
1۔ منکرین:
2۔ اہل شک و تردید
3۔ اہل ایمان و یقین
بلاشبہ قائمؑ بھی حضرت صالح ؑ کی مانند ہیں۔
*حضرت یوسف ؑ کی غیبت:*
روایت ذکر ہو چکی ہے۔
*حضرت موسیٰ ؑ :* 🌹
امیرالمومنین ؑ نے پیغمبر اکرم ؐ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت یوسف ؑ کا وقت وفات آپہنچا تو انہو نے اپنے پیروکاروں اور خاندان والوں کو جمع کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بجا لائے اور پھر انہیں فرمایا: ان پر ایک نہایت سخت دور آئے گا، ان کے مردوں کو قتل کی اجائے گا اور ان کی حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کئے جائیں گے اور بچوں کے سر جدا کئے جائیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالی لاوی بن یعقوب کی اولاد میں سے ایک قائم کے ذریعے حق کو آشکار کرے گا ، وہ گندمی رنگت اور بلند قامت مرد ہوں گے اور ان کی صفات بیان کیں پھ ان لوگوں نے اس وصیت کو یاد رکھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل پر غیبت اور مصائب کا زمانہ آیا کہ وہ چار سو سال تک قائم کے قیام کے منتظر رہے۔ پھر انہیں قائم کی ولادت کی بشارت دی گئی اور انہوں نے ان کے ظہور کی علامات کا مشاہدہ کیا جب ان پر مصائب بڑھے تو انہوں نے سنگ و چوب سے (بیان کرنے والے ) ان پر حملہ کیا اور وہ عالم دین کہ جس کی باتوں سے انہیں اطمینان حاصل ہوتا تھا اس کے پیچھے لگ گئے اور وہ مخفی ہو گیا۔
انہوں نے اس سے خط و کتابت کی اور کہا ہم پریشانیوں اور مشکلات میں تمھاری باتوں سے سکون و اطمینان حاصل کرتے تھے ، تو وہ عالم دین انہیں صحرا میں لے گیا اور وہاں ان سے نشست و برخاست کی اور قائم کی ذات ، اس کی صفات اور ان کے نزدیک میں ظہور کے بارے میں گفتگو کی ۔
وہ چاندنی رات تھی جب وہاں حضرت موسیٰ ؑ چلے آئے وہ اس وقت نوجوان تھے اور فرعون کے محل سے سیرگاہ کے عقب سے آئے اور اس فقیہ نے انہیں دیکھا اور ان کی صفات کو پہچانا تو اٹھ کر ان کے قدموں میں گر گیا اور ان کے پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا : شکر ہے اس خدا کا جو مجھےاس وقت تک دنیا سے نہ لے گیا کہ آپ کی زیارت کروادی۔
جب اس کے پیروکاروں نے یہ منظر دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ وہی حجت حدا ہیں تو سب سجدہ شکر میں گر پڑے ۔
حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا: مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ تمہاری مشکلات سے رہائی میں جلدی مدد کرے گا ۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گئے اور شہر مدائن چلے گئے اور کئی سال تک حضرت شعیب کے پاس رہے ، یہ دوسری غیبت پہلی غیبت سے بھی زیادہ سخت تھی۔
💠ابو بصیر نے امام باقر ؑ سے روایت کی کہ حضرت نے فرمایا:
حضرت موسیٰ ؑ نے اس وقت تک قیام نہیں کیا جب تک بنی اسرائیل میں پچاس ایسے کذاب ظاہر ہوئے کہ ان سب کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ موسیٰ بن عمران ہیں۔
والسلام
خلاصہ وپیشکش:
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم🌍*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
🔶 *کتابچہ 6*
🔶 *امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
🔶 *پانچواں درس : غیبت کے مراحل اور اسکا فلسفہ*
🔶 *معصومین علیہم السلام کی طرف سے امام زمانہ عج کی غیبت بیان ہونا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ السلام کا فرمان*
*🎤: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
✍️ گفتگو کا موضوع امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت ہے، اس سے پہلے ھم نے احادیث اور روایات کی رو سے غیبت کی تاریخ بیان کی ھے، کہ اللّٰہ کی طرف سے بہت سارے انبیاء مختلف مصلحتوں کی وجہ سے غائب ھوتے رھے ھیں ۔ آج امام زمان علیہ السلام کی غیبت کو کس طرح بیان کیا گیا اور یہ کتنے مراحل رکھتی ھے اس پہ گفتگو کریں گے ۔
✨ *امام زمان ع کی غیبت کے مراحل*
جیسا کہ آپ جانتے ھیں کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت دو مرحلوں میں سامنے آئی ۔۔
*1️⃣غیبت صغریٰ*
مختصر مدت کی غیبت جو کہ تقریباً 70 سال جاری رھی ھے ،اور اس میں مولا ع کی طرف سے چار نائب سامنے آئے کہ جنہیں *نواب اربعہ* یا نائبین خاص کہا جاتا ھے ۔
*2️⃣غیبت کبریٰ*
اور ایک غیبت کبریٰ ھے، کہ جو ابھی تک جاری ھے اور اس کے اندر امام زمانہ ع کی طرف سے اگر کوئی خاص نیابت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ھے ۔اگر کوئی نائب ھے تو وہ یہی فقہاء اور مجتہدین ھیں کہ جن کی تقلید کا حکم دیا گیا ۔اب یہ واضح سی بات ھے کہ غیبت کا مسئلہ شروع سے ھی طے پا چکا تھا۔ چونکہ پروردگار اپنے لامحدود علم کی وجہ سے جانتا تھا کہ لوگ آئمہ معصومین علیہم السلام کے ساتھ غیر مناسب رویہ رکھیں گے، اور بالترتیب یہ امام آتے رھے اور ظالموں کے ظلم اور اپنوں کی بےحسی ، نصرت نہ کرنے کی وجہ سے شہید ھوتے رھے۔تو پروردگار نے آخری امام ع، آخری حجت ع کو یہ مصلحت جانا کہ وہ ایک مدت تک غائب رہیں تاکہ لوگ امام کی عظمت ان کے وجود اور حضور کی اھمیت کو جانیں ،انہیں درک کریں اور ان کی نصرت کے لیے تیار ھوں اور ان کی ھمراھی میں پوری دنیا میں نظامِ امامت کو نافذ کریں۔
✨ *غیبت کا مسئلہ*
👈اب غیبت کا جو مسئلہ ھے امام قائم ع کے حوالے سے وہ شروع سے معلوم تھا ۔۔۔۔ ھم دیکھتے ھیں کہ پیغمبر اکرم ﷺ سے لے کے امام عسکری علیہ السلام تک سب کی طرف سے روایات ، احادیث موجود ھیں۔ لیکن عام لوگوں کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا، ھوسکتا ھے آئمہ ع کے اصحاب بھی اس موضوع کو اچھی طرح نہ جانتے ھوں ، لیکن یہ تھا ضرور ۔ ھماری احادیث اور روایات میں بیان ھوا تھا، اور امام ع بھی اس حوالے سے سمجھتے تھے کہ یہ شیعوں کے لیے ایک بہت ھی تلخ حقیقت ھوگی جب قائم ع غائب ھونگے اور وہ بڑی مشکل سے اسے تحمل کریں گے ۔ اس لیے تو غیبت کو دو مرحلوں میں رکھا گیا تاکہ غیبت صغریٰ میں شیعہ تیار ھوں۔۔۔ اصل ھدف غیبت کبریٰ ھی تھی لیکن شروع میں ایک مرحلہ رکھا گیا تاکہ لوگ ایک دم گمراہ نہ ھوں۔ اور اس حقیقت اور اس کے فلسفے کو سمجھیں اور ذھنی، فکری، روحی طور پر تیار ھوں غیبت کبریٰ کے لیے۔اور غیبت صغریٰ میں بالآخر امام ع سے خط و کتابت کا رابطہ تھا۔ ملاقات ممکن تھی، لوگوں کی طرف سے اگر تقاضہ ھو تو ملاقات ممکن تھی۔
تو آئمہ معصومین ع نے بالآخر کونسے اقدامات کیے کہ شیعہ اس حقیقت کو تحمل کریں اور اس کو ایک امر دینی جانیں اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں ۔
✨ *معصومین ع کی طرف سے امام زمانہ ع کی غیبت بیان ھونا*
👈سب سے پہلی چیز جو ھم دیکھ رھے ھیں وہ یہ کہ محمد و آل محمد ع نے احادیث اور روایات بیان کرتے ھوئے لوگوں کے سامنے امام قائم ع کی غیبت، اس کا فلسفہ، اور کیسے وہ غیبت کے بعد ظہور کریں گے۔ یہ غیبت کتنی طولانی ھے اور کیا کیا مشکلات ھیں ، کیوں غیبت ھوئی ھے ،یہ ساری چیزیں احادیث اور روایات میں بیان ھوئی ھیں۔ ھم آج کچھ معصومین علیہم السلام کے اس حوالے سے فرامین نقل کریں گے اور کچھ بعد والے درس میں ۔۔۔۔
یعنی تقریباً تمام معصومین ع سے ھم یہ مولا ع کے حوالے سے غیبت کی روایات بیان کریں گے تاکہ یہ واضح ھو کہ غیبت کا مسئلہ کوئی اک دم نہیں ھوا یہ اس سے پہلے محمد و آل محمد ع کی فرامین میں تھا اور لوگوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا تھا کہ یہ ھونا ھے ھر صورت میں ۔۔۔۔ اس لیے ھمارے پاس تمام معصومین علیہم السلام کی طرف سے غیبت کے بارے میں روایات صادر ھوئی ھیں ۔
مرحوم شیخ صدوق رح نے اپنی کتاب کمال الدین کے اندر ان روایات کی طرف اشارہ کیا ھے اور ھر امام ع سے اس موضوع کو جدا جدا بیان کیا ہے۔۔۔۔ اب وہاں سے ھم کچھ روایات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ھیں ۔
✨ *نبی اکرم ﷺ کا فرمان*
👈سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کا فرمان البتہ یہ واضح رھے کہ تمام روایات بیان نہیں کریں گے بلکہ ھر معصوم سے ایک روایت غیبت کے حوالے سے بیان کریں گے تاکہ یہ بات واضح رھے کہ ھر معصوم نے غیبت کے بارے میں گفتگو کی اور غیبت کا مسئلہ شروع سے بیان ھوتا رھا ۔
*نبی اکرم ﷺ کا فرمان ھے*
*طَوبٰى لِمَن أدرَکَ قَائِمَ أَهلَ بَيتِي وَهُوَ يَاتَمُّ بِهٖ فِى غَيبَتِهٖ قَبلَ قِيَامِهٖ وَ يَتَوَلّٰى اَوْلِيَائهُ وَ يُعَادِى اَعْدَاءَهُ ذٰلِكَ مِنْ رُفَقَائِی وَ ذَوِى مَوَدَّتِى وَ اَكْرَمُ اُمَّتِى عَلٰى يَومَ الْقِيَامَه*
" (اس شخص کے لیے خوشخبری ھے جو میرے قائم ع کو اس حال میں پائے ،میری اھل بیت ع کے قائم کو کہ ان کے ظہور سے پہلے ان کی غیبت میں قائم کی امامت پر ایمان رکھتا ھو ،ان کے چاھنے والوں سے محبت رکھتا ھو، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ھو وہ قیامت کے دن میرا دوست ھے، میرا چاھنے والا ھے اور میری امت کا سب سے زیادہ عزت پانے والا شخص ھے۔"
اب آپ یہاں دیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام قائم ع کی غیبت کو بیان کیا اور ان کی غیبت میں جو ھمارے وظائف ھیں ان کی طرف بھی اشارہ کیا،
پہلا وظیفہ = مولا ع کی امامت پر ایمان ،یعنی ان کی معرفت اور امامت پر
دوسرا وظیفہ = مولا ع کے چاھنے والوں سے محبت
تیسرا وظیفہ= ان کے دشمنوں سے دشمنی
یہ ایک قسم کی تیاری بھی ھے اور پھر اس کا اجر و ثواب بھی بیان کیا۔
✨ *امیر المومنین علی ع کا فرمان*
👈 دوسرا فرمان امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع کا ھے ۔
فرماتے ھیں کہ۔۔۔۔
*لِلْقَائِمِ مِنَّا غَيبَةٌ اَمَدُهَا طَوِيلٌ...اَلَّا فَمَنْ ثَبَتَ مِنهُم عَلٰى دِينِهٖ وَلَمْ يَقْسُ قَلبُهُ لِطُولِ اَمَدِ غَيبَةِ اِمَامِهِ فَهُوَ مَعِى فِى دَرجَتِى يَومَ القِيَامَه*
ترجمہ: ( ھمارے قائم کے لیے طولانی مدت غیبت ھے ، اور یہ جان لو جو بھی اس زمانے میں یعنی غیبت کے زمانے میں اپنے دین پر محکم اور استوار ھوگا یعنی دین پر ثابت قدم رھے گا ، اور اس کا دل امام ع کی طولانی غیبت کی وجہ سے سخت نہیں ھوگا، یہ شخص روز قیامت میرا ھم مرتبہ ھوگا۔)"
یہاں بھی آپ توجہ فرمائیں امیر المومنین ع نے امام قائم ع کی غیبت اور پھر اس کی طولانی مدت کی طرف اشارہ کیا کہ قائم کی غیبت ہے اور اس کی مدت طولانی ھے، اور یہ بھی فرمایا کہ اس غیبت کے دوران ھمارا وظیفہ کیا ھے، ایک تو اپنے دین کو سمجھنا، دین کی معرفت اور اس پر ثابت قدمی اور اپنے دل کو سخت نہ کرنا۔ غیبت کی وجہ سے مطلب یہ ھے کہ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس ھم نے ایسے ھی زندگی گزارنی ھے ، امام ع نے غائب رھنا ھے یعنی اس چیز سے عادت نہیں کرنی بلکہ امام ع کے ظہور کے لیے کوشش کرنی ھے ، اپنے دل کو نرم رکھنا ھے اور وہ فرائض ادا کرنے ھیں جن کا تعلق مولا ع کے ظہور سے ھے جیسے انتظار ۔ کیونکہ کچھ لوگ قائم ع کی غیبت کے دوران اتنے سخت دل ھوجائیں گے ھوسکتا ھے کہ امام سے خارج ھوجائیں ۔ھوسکتا ھے مخالف ھوجائیں امام ع کے ،کہ وہ کیوں نہیں ظہور کرتے بجائے اس کے کہ اپنے فرائض ادا کریں الٹا امام ع پر اپنی زبانیں کھول لیں گے، جیسے آج بھی ھم دیکھتے ھیں ۔
تو یہ وہ لوگ ھیں کہ جن کے دل بجائے کہ امام ع کی محبت سے نرم رھتے اور وہ امام ع کے لیے کوشش کرتے ہیں ظہور کی اور وہ تڑپتے ہیں اپنے وقت کے امام کے لیے الٹا وہ اظہارِ دشمنی کریں گے، اظہار ناراضگی کریں گے۔ یہ لوگ بالآخر معرفت امام ع سے دور ھیں اور ان کی امامت سے بھی خارج ھونگے ۔ اس طرح کے لوگ آج بھی ھم دیکھ رھے ھیں۔
تو مولا ع فرماتے ھیں کہ جو بھی اپنے دین پر ثابت قدم رھے گا اور اس کا دل اپنے زمانے کے امام ع کے لیے تڑپے گا،نرم ھوگا، ایسا شخص روز قیامت میرا ھم مرتبہ ھوگا۔
🤲🤲تو پرودگار سے دعا ھے کہ ھم بھی انہی لوگوں میں سے قرار پائیں کہ جو اپنے دین پر ثابت قدم رہیں، اور ھمارا دل زمانے کے امام ع کے لیے بے چین ھو ، مضطرب ھو، ان کے لیے ھمیشہ نرم ھو اور کوشش کرنے والے ھوں۔ پرودگار ھم سب کو مولا ع کے خدمت گزار ناصروں میں سے قرار پائیں اور اس غیبت کے تلخ دور میں اپنے وضائف ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔ الہی آمین
تحریر: نازش بنگش
*التماس دعا*
*عالمی مرکز مھدویت قم*🌏
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
درس 6 : معصومین علیہم السلام سے غیبت بیان ہونا، امام حسن مجتبی ، امام حسین اور امام سجاد علیہم السلام سے غیبت امام زمان عج بیان ہونا، کچھ نکات کی تشریح
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🌹🎤🌹
خلاصہ:
امام حسن مجتبٰی علیہ السلام:
ابو سعید عقیصا روایت کرتے ہیں کہ جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ مجبوراً صلح کی تو لوگ ان کے پاس آئے ، ان میں سے بعض ان کے معاہدے کی وجہ سے ان سے ناراض ہوئے تو امامؑ نے فرمایا:
" وائے ہو تم پر ، تم کیا جانتے ہو کہ میں نے کیا کیا؟، پروردگار عالم کی قسم یہ کام میرے شیعوں کے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہے کہ جس پر سورج چمکتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔۔۔ آیا تم جانتے ہو کہ ہم میں سے کوئی امام ایسا نہیں ہے کہ جس پر اس زمانے کے طاغوت کی بیعت نہ ہو
مگر سوائے اس قائم کے کہ روح اللہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی ولادت مخفی رکھے گا اور ان کے وجود کو غائب رکھے گا یہاں تک کہ وہ خروج کریں گے اور ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔"
یہاں بھی امام حسن ؑ مجتبیٰ امام قائمؑ عج الشریف کی غیبت کی خبر دے رہے ہیں۔
اس حدیث کے نکات:
1 ۔ جب مولا نے معاویہ کے ساتھ مجبوراً صلح کی تو انصار کم تھے لوگ معاویہ کی دولت کی لالچ میں امام کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔ اور جو تھوڑے سے مخلصین رہ گئے تھے وہ سب قتل ہو جاتے اور اہلبیت ؑ کے ماننے والے نہ بچتے۔ تو امام ؑ نے مجبوراً صلح کی تاکہ اپنی اور عزیزوں اور مخلصین کی جان بچ جائے۔ تاکہ سلسلہ مکتب اہلبیتؑ اگلی نسلوں کو منتقل ہو۔ امام حسن ؑ نے جذباتی شیعوں کو یہاں ڈانٹا۔
2۔ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کی گردن پر زمانے کے طاغوت (ظالم) کی بیعت ہے۔ یہاں بیعت سے مراد ہے کہ ہمیں زبردستی اس کی حکمرانی قبول کرنی پڑ رہی ہے۔
اس کے علاوہ چارہ نہیں۔ یہ بیعت جبر والی ہے اور مولاؑ تقیتہً خاموش ہو گئے ہیں۔ اور اس کے خلاف تلوار نہیں اٹھا رہے۔
3۔ فرماتے ہیں کہ قائمؑ غائب ہونگے۔ کیونکہ وہ حکم خدا سے کسی ظالم کی بیعت قبول نہیں کریں گے۔ اگر امام موجود ہوتے اور وہ بھی تقیتہً خاموش ہو جاتے تو لوگ کے ایمان کمزور ہوجاتے کہ وہ امام جو ظالموں سے نجات دلانے والا ہے وہ خاموش ہے۔ اسی لئے امام حکم خدا سے مخفی ہیں۔ اور جب ظاہر ہونگے تو ظالمین کے خلاف قیام فرمائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام حسین علیہ السلام:
امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
"ہمارے خاندان سے بارہ مھدی ہوں گے ان میں سے سب سے پہلے امیرالمونین علی ؑ ابن ابی طالبؑ ہیں اور ان میں سے آخری میری نسل میں سے نویں امام ہوں گے، وہ حق پر قائم امام ہیں۔۔۔ ۔ ان کے لیے غیبت ہو گی کہ اس میں کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گے اور دوسے دین پر قائم رہیں گے اور انہیں تکلیفیں پہنچیں گی اور انہیں کہا جائے گا: اگر تم صحیح کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ جان لین جو ان کی غیبت کے زمانہ اس اذیت اور جھٹلائے جانے پر صابر رہے گا ان مجاہدین کی مانند ہے کہ جو شمشیر کے ساتھ پیغمبر اکرم کی ہمراہی میں جنگ کرتے رہے ہیں۔
*اہم نکات:*
1۔ مھدی عمومی لقب ہے اور بارہ امام مھدی ہیں۔
2۔ غیبت کے زمانے میں دو قسم کی تکالیف ہونگی۔
۔۔۔۔۔۔ ا۔ عقیدہ مہدویت کو جھٹلایا جائے گا
۔۔۔۔۔۔ ب۔ بہت سے مومنین کو قتل کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام سید سجاد علیہ السلام:
*ابو خالد کہتے ہیں : کہ میں اپنے مولا امام زین العابدین ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: 🍃
*
" *اے فرزند رسولؐ اللہ ! وہ ہستیاں کہ جن کی اطاعت و مؤدت کو واجب کیا اور ان کی اقتداء کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم ؐ کے بعد واجب قرار دیا وہ کون ہیں؟*
فرمایا: اے ابا خالد اولی الامر کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا امام بنایا اور ان کی اطاعت کو واجب قرار دیا وہ یہ ہیں:
امیر المونین علی ؑ ابن ابی طالب کے دو فرزند حسن ؑ اور حسینؑ ہیں اور پھر یہ ذمہ داری ہمیں عطا ہوئی اس کے بعد کچھ نہ فرمایا، میں نے عرض کی اے میرے سرور: امیر المومنین سے ہماری طرف روایت نقل ہوئی ہے زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی ، آپ کے بعد حجت اور امام کون ہیں فرمایا: میرا فرزند محمد اور ان کا نام تورات میں باقر ہے وہ علم کو شگوفا کریں گے پھر تمام آئمہ کے نام بتائے۔ پھر امام زمانہؑ کے بارے میں بتایا۔
پھر ولی خدا کی غیبت طولانی ہو گی اور وہ ولی خدا پیغمبر اکرمؐ اور ان کے بعد آئمہ کا بارواں وصی ہے امام ہے، اے ابا خالد! ان کی غیبت کے زمانہ کے لوگ کہ جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں تمام زمانوں کے لوگوں سے برتر ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ عقل ، فہم اور معرفت عطا کرے گا کہ غیبت ان کے نزدیک مشاہدہ کی مانند ہو گی۔ اور انہیں اس زمانہ میں ان مجاہدین کا مرتبہ ملے گا کہ جو رسول ؐ اللہ کی ہمرائی میں سب آگےبڑھ کر شمشیر سے جہاد کرتے تھے اور وہ ہمارے حقیقی مخلص اور سچے شیعہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے خفاء اور ظاہر میں دعوت دینے والے ہوں گے۔
*اہم نکات:* 🌴
1۔ اس میں بارہ آئمہ کا ذکر ہے
2۔ دور غیبت میں امامؑ کے حقیقی ناصرین اور مخلصین کی معرفت اور عظمت کا ذکر ہے ۔ کہ یہ غائب امامؑ کی خاطر جان و مال وقف کر دیں گے۔ یہ لوگ دین کی حفاظت کریں گے۔ یہی لوگ امام ؑ کے ظہور کا باعث ہے یہ لوگ امام ؑ کی نصرت کریں گے اور پورے دین کو ساری زمین پر نافذ کریں گے اور یہ مرتبہ میں رسول ؐ اللہ کے اصحاب کے برابر ہیں۔ یہ غیبت میں بھی دین کی حفاظت کریں گے اور زمانہ ظہور میں بھی دین کے کام آئیں گے۔
والسلام۔
خلاصہ وپیشکش:
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔*🌏
*کتابچہ* 6
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس* 7: معصومین علیہم السلام سے غیبت بیان ہونا، امام باقر ، امام صادق اور امام کاظم علیہم السلام سے غیبت امام زمان عج بیان ہونا، کچھ نکات کی تشریح
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :
آئمہؑ کی روایات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امام زمانہؑ عج الشریف کی غیبت اچانک واقع نہیں ہوئی بلکہ غیبت سے قبل اس کے اسباب اور اس کی خبر دی جا چکی تھی۔ اور غیبت میں ہمارے وظائف کیا ہونگے اور غیبت ختم ہونے کے اسباب کیا ہیں یہ سب بیان ہو چکے تھے۔
شیخ صدوق ؒ کی کتاب سے کمال الدین سے ترتیب سے آئمہ احادیث و روایات جاری ہیں۔
**امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:*
*ایک زمانہ لوگوں پر آئے گا کہ ان کا امام غائب ہو گا،*
خوشخبری ہو ان لوگوں کے لئے کہ جو اس زمانہ میں ہمارے امر پر ثابت قدم رہیں سب سے کم ترین ثواب کہ جو انہیں ملے گا وہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں آواز دے گا اور فرمائے گا: اے میرے بندے میرے غیب پر ایمان لائے ہو اور اس کی تم نے تصدیق کی پس میں تمھیں نیک ثواب کی بشارت دیتا ہوں اور تم میرے حقیقی بندے ہو، تم سے قبول کرتا ہوں اور تم کو مغفرت عطا کرتا ہوں اور تمہارے لیے بخشش کروں گا اور تمھارے سبب اپنے بندوں پر باران رحمت نازل کروں گا اور ان سے مصیبتوں کو دور کروں گا اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا ۔
*امام صادقؑ فرماتے ہیں:*
طوبی ہو اس کے لیے جو ہمارے قائم کی غیبت کے دوران اس کے امر ولایت سے تمسک رکھے اور ہدایت کے بعد اس کا دل نہ پلٹے ان کی خدمت میں عرض کی گئی: آپ پر قربان طوبی کیا ہے؟
فرمایا:
جنت میں ایک درخت ہے کہ جس کی جڑیں علی بن ابی طالب کے گھر میں ہیں کوئی مومن ایسا نہ ہو گا کہ اس کی ایک شاخ کے اس کے گھر نہ ہو، یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کہ ان کے لیے طوبی اور نیک انجام ہے۔( سورہ رعد 29)
امام موسیٰ کاظمؑ فرماتے ہیں:
۔۔۔وہ قائم کہ جو زمین کو اللہ کے دشمنوں سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی، میری نسل سے پانچوں فرزند ہے ان کی غیبت طولانی ہوگی کیونکہ انہیں اپنی جان کا خوف ہوگا اس دوران کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گی اور کچھ دیگر اقوام ثابت قدم رہیں گی پھر فرمایا: خوشخبری ہو ہمارے شیعوں کو کہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے دوران ہمارے دامن سے تمسک رکھتے ہیں اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ثابت قدم ہیں، وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں، انہوں نے ہمیں امام کے طور پر ہم نے انہیں اپنے شیعوں کے طور پر قبول کر لیا ہے، ان کے لیے بشارت ہو ، ان کے لیے بشارت ہو، روز قیامت خدا کی قسم یہ ہمارے مرتبہ میں ہوں گے۔
*اہم نکات:*
۔ ہمارا وظیفہ ثابت قدم رہنا ہے
۔ دشمنان اہلبیت ؑ سے بیزار رہنا ہے
۔ آئمہ ؑ غیبت کے زمانے میں ہمیں نہیں بھولے اور ہمارا مقام بیان کرنا بتاتا ہے کہ آئمہ ؑ ہم سے کتنی محبت کرتے تھے۔
والسلام۔
خلاصہ و پیشکش:
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
درس 8: معصومین علیہم السلام سے غیبت بیان ہونا، امام رضا،امام تقی،امام نقی اور امام عسکری علیہم السلام سے غیبت امام زمان عج بیان ہونا، کچھ نکات کی تشریح
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
خلاصہ:
ہماری گفتگو کا موضوع امام زمانہؑ عج اللہ الشریف کی غیبت ہے۔ اس سلسلے میں آئمہ ؑ علیہ السلام کے فرامین درج ذیل ہیں۔
*فرامینِ معصومینؑ:*
امام علی رضا علیہ السلام:
ان کی خدمت میں عرض کی گئی : اے فرزند رسولؐ خدا، آپؑ اہلبیت ؑ کا قائم ؑ کون ہے؟
آپؑ نے فرمایا :
" میری نسل سے چوتھا فرزند، کنیزوں کی سردار کا فرزند ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے زمین کو ہر طرح کے ستم سے پاک کردے گا اور ہر طرح کے ظلم سے منزہ کرے گا ، وہ وہی ہے کہ لوگ اس کی ولادت میں شک کریں گے اور وہ وہی ہے کہ اپنے خروج سے پہلے غیبت اختیار کریں گے اور جب خروج کریں گے تو زمین ان کے نور سے روشن ہوجائے گی۔
اہم نکات:
1۔ امام رضاؑ کی نسل میں سے چوتھے اور بی بی نرجس خاتون کا ذکر ہے ۔ کہ امام زمانہؑ کیزوں کی سردار کے فرزند ہیں۔
اہلبیتؑ کے گھرانے میں جب کوئی خاتون داخل ہوتی تھیں تو وہ خاندانی طور پر کنیز نہیں ہوتی تھیں ۔ بلکہ وہ خود کو اہلبیتؑ کی کنیز کہلانے میں فخر محسوس کرتی تھیں۔
بی بی نرجس خاتون ؑ روم کی شہزادی تھیں۔ اسلام اور رومیوں کے درمیان جنگ میں رومیوں نے شکست کھائی اور بی بی بعنوان کنیز مملکت اسلامی میں لائی گئیں۔ امام نقیؑ کے اپنے خاص صحابی کے ذریعے انہیں خریدا اور پھر آزاد کیا اور آپؑ کو بی بی حکیمہ خاتون کی تربیت میں دیا۔
بی بی نرجس خاتون نے بی بی حکیمہ خاتون سے آداب اسلامی اور تربیت اسلامی پائی اور پھر ان کا عقد امام عسکری ؑ سے ہوا۔
2۔ فرماتے ہیں کہ امام مہدیؑ کی ولادت میں لوگ شک کریں گے۔
3۔ فرمایا کہ وہ اپنے قیام سے پہلے غیبت اختیار کریں گے اور جب وہ ظہور کریں گے تو زمین ان کے نور سے چمکے گی۔
امام محمد تقیؑ جوادؔ علیہ السلام:
"وہ قائم کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ زمین کو کفار اور منکرین سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا وہ وہی ہے کہ جس کی ولادت لوگوں پر پوشیدہ ہے اور اس کا وجود ان سے غائب ہے۔۔۔ اس کے اصحاب بدر کی مانند 313 ہیں ۔ اصحاب زمین کے دور دراز جگہوں سے اس کے اردگرد جمع ہوں گے اور یہ وہی فرمان پروردگار ہے کہ فرما رہا ہے :
سورہ البقرہ:
اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ "
تم جہاں کہیں بھی ہو ۔ خدا تم سب کو جمع کرے گا ۔ اللہ ہر شہء پر قادر ہے۔
*اہم نکات:*
1۔ امام ؑ نے غیبت کا ذکر کیا
2۔ 313 اصحاب کا ذکر کیا
3۔ اللہ وقت ظہور اصحاب امام زمانہؑ عج کو زمین کے دور دراز جگہوں سے ان کے اردگرد جمع کر دے گا۔
امام علی نقی علیہ السلام:
داؤد بن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے امام نقی علیہ السلام سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے میرے بعد میرا جانشین میرا بیٹا حسن ہے اور تم لوگ میرے جانیشن کے بعد والے جانشین کے ساتھ کیا کروگے؟
میں نے کہا آپ پر قربان ہو جاؤں کیا ہوگا؟
فرمایا:
کیونکہ تم انہیں نہیں دیکھو گے۔۔۔ عرض کی تو کیسے انہیں یاد کریں گے فرمایا: ایسے کہو
" حجت آل محمد صلواٰت اللہ علیھم۔"
*اہم نکات:*
1۔ امام ھادیؑ نے اپنے جانشین اور پھر ان کے جانشین کی خبر دی
2۔ غیبت کی خبر دی
3۔ دور غیبت میں انہیں حجتہ آل محمدؑ کے نام سے یاد کریں۔
امام حسن عسکریؑ علیہ السلام:
عرض کی گئی: اے فرزند رسولؐ اللہ آپؑ کے بعد حجت اور امام کون ہیں؟ فرمایا: میرا بیٹا محمد وہ میرے بعد امام اور حجت ہیں ، اگر کوئی مرجائے اور ان کی معرفت پیدا نہ کرے وہ جاہلیت کی موت مرگیا۔ جان لو کہ ان کے لئے غیبت ہے کہ جس میں جاہل لوگ سرگرداں ہوں گے اور اہل باطل اس میں ہلاک ہوں گے اور جو ان کے لئے وقت معین کریں گے جھوٹ بولتے ہوں گے۔
*اہم نکات* :
1۔ امام عسکریؑ نے امام زمانہؑ کا نام بتایا کہ محمد صلوات اللہ حجت ہیں۔
2۔ فرمایا: اگر کوئی مرجائے اور ان کی معرفت پیدا نہ رکھے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
3۔ فرمایا: جو ان کے لئے وقت معین کرے گا جھوٹا ہے۔
والسلام۔
سعدیہ شہباز✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم 🌍*
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
*درس* 9:
امام نقی اور امام عسکری علیہم السلام کے شیعوں کو غیبت کے لیے تیار کرنے کے اقدامات
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
*اقدامات* :
1 ۔ نبیؐ کریمؔ سے لیکر امام حسن عسکریؑ تک تمام معصومین نے غیبت کو بیان کیا۔
2۔ امام نقی ؑ کے دور سے لیکر بعد کے ادوار تک آئمہ ؑ کا رابطہ لوگوں سے کم ہوگیا تھا۔ اگرچہ اس کی بنیادی وجہ حکومت کی سختی تھی۔ اور امام علی رضاؑ کے بعد کے آئمہ ؑ نظر بند رہے۔
آئمہؑ بہت کم لوگوں سے ملتے تھے اور پردے کے پیچھے سے گفتگو کرتے تھے۔
اور دوسری وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو غیبت کی عادت پڑے۔
مسعودی " اثبات الوصیتہ" میں تحریر کرتے ہیں: امام نقیؑ سوائے چند خواص کے اکثر اپنے محبین سے دوری اختیار کرتے تھے۔ اور جب امامت امام عسکریؑ کے پاس آئی تو آپ پشت پردہ خواص وغیرہ سے کلام فرماتے تھے مگر یہ کہ جب سلطان کے محل کی طرف جانے کے لیے سواری پر سوار ہوتے تھے تو منظر عام پر آتے تھے۔
یعنی حکومت کی سختیاں اپنی جگہ تھیں اور آئمہ ؑ نے اس سے فائدہ یہ اٹھایا کہ زمانہ غیبت کے لیے لوگوں کی تربیت شروع کر دی۔
3۔ *انجمن وکالت:*
ایک اور موضوع جس پر آئمہ ؑ نے توجہ فرمائی، وہ وکالت کی تنظیم تھی۔ امام ؑ کی جانب سے امام کا ایک شاگرد ہر شہر میں بطور وکیل ہوتا تھا۔ جو لوگوں کے مسائل لوگوں تک پہنچاتا تھا اور لوگوں کے مسائل کا جواب امامؑ سے لے کر لوگوں کو پہنچاتا تھا۔ امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے زمانہ سے کہ جب مملکت اسلام دور دور تک پھیل چکی تھی تو اس وقت انجمن وکالت ایک ناگریز ضرورت تھی۔ کیونکہ ایک طرف تو لوگ مسائل دین اور مالی امور میں امام ؑ کی راہمنائی کے محتاج تھے اور دوسری جانب سب لوگوں کے لیے مدینہ میں حاضر ہونا اور براہ راست امامؑ کی خدمت میں شرفیاب ہونا ناممکن تھا۔
اور یہی وکلاء کی تنظیم زمانہ غیبت کبریٰ میں فقہا کی شکل میں سامنے آگئی۔ جس طرح لوگ آئمہ ؑ کے دور میں وکلاء آل محمدؑ سے رجوع کرتے تھے اسی طرح فقہاء سے آج کے دور میں رجوع کرتے ہیں۔
روایت ہے کہ : (غیبت طوسیؒ)
احمد بن اسحاق جو کہ قم میں خاص شیعوں میں سے تھے کہتے ہیں کہ ایک دن امام ھادی ؑ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کی: میں کبھی یہاں ہوں اور کبھی دور دراز ہوں اور پھر آپ سے شرعی مسائل نہیں پوچھ سکتا اور جب یہاں بھی ہوں تو ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا تو اس وقت کس کی بات کو قبول کروں اور کس سے حکم لوں؟
امام ؑ نے فرمایا۔ یہ ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) مؤثق اور امین شخص ہیں وہ میرے مورد اعتماد اور اطمینان ہیں ۔ جو کچھ بھی تم سے کہیں میری طرف سے کہتے ہیں اور جو کچھ پہنچاتے ہیں میری طرف سے پہنچاتے ہیں۔ اور جب امام نقی ؑ شہید ہوگئے تو ایک دن میں ان کے فرزند امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہی سوال جو امام نقی ؑ سے کیا تھا وہی ان کی خدمت میں عرض کیا اور امام ؑ کے وصی نے امام نقی ؑ کی مانند جواب تکرار کیا اور فرمایا۔ یہ ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) گزشتہ امام کے مورد اعتماد اور اطمینان تھے ، نیز یہ میری زندگی میں اور میری موت کے بعد بھی میرے مورد اعتماد ہیں جو کچھ بھی کہیں گے میری جانب سے کہیں گے اور جو کچھ ان سے تم تک پہنچے گا وہ میری جانب سے پہنچے گا۔
مالی امور بھی وکلاء کے سپرد کرتے تھے: (غیبت طوسیؒ)
شیخ طوسی ؒ لکھتے ہیں : عثمان بن سعید عمری نے امام عسکریؑ کے حکم کی بناء پر یمن کے شیعوں کے ایک گروۃ کا لایا ہوا مال وصول کیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کام سے جناب عثمان بن سعید کی اہمیت اور احترام بڑھا ہے تو امام نے جواب میں فرمایا: جی ہاں گواہ رہیں کہ عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں اور ان کا بیٹا محمد بھی میرے بیٹے مہدی کے وکیل ہوں گے ۔
(جاری ہے)
والسلام۔
تلخیص :سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
درس 10:نائب خاص کا فلسفہ ، غیبت صغریٰ اور کبریٰ میں بنیادی فرق،تاریخی اعتبار سے غیبت کی وجوہات
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
خلاصہ:
غیبت صغریٰ اور غیبت کبرٰی میں بنیادی فرق:
غیبت کبریٰ میں نائب خاص کے ذریعے فیض:
لوگوں کو غیبت کے زمانہ میں داخل ہونے کے لیے تیار اور آمادہ کرنے کے لیے امام حسن عسکریؑ کا آخری قدم یہ تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی پہلے دو نائبین خاص مقرر کئے۔
1۔ جناب عثمان بن سعید
2۔ ان کے فرزند جناب محمد بن عثمان
یہ نائبین خاص کی ذمہ داری یہ تھی امام حسن عسکریؔؑ کی شہادت کے بعد غیبت صغریٰ کے زمانے میں لوگوں اور امام زمانہؑ عج الشریف کے درمیان واسطہ ہو۔
غیبت صغریٰ
1۔ یہ نائب خاص امام ؑ تک لوگوں کے سوال پہنچاتے تھے اور امامؑ سے ان سوالوں کے جواب لیتے تھے جن کو توقیعات کہتے ہیں۔
2۔ اسی طرح جو مال لوگوں سے وصول ہوتا تھا وہ امامؑ کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تھے۔
3۔ اور اگر کچھ لوگ امامؑ سے ملاقات کے خواہشمند ہوتے تھے تو امام زمانہؑ سے یہ نائبین ان کی ملاقات بھی کرواتے تھے۔ غیبت صغریٰ میں امامؑ سے لوگوں کی خط و کتابت اور ملاقات ہوتی تھی اور یہ رابطہ سو فیصد نہیں ختم ہوا تھا۔ اور یہ رابطہ برقرار رہا تاکہ لوگ غیبت کبرٰی کے لیے تیار ہوں۔
غیبت کبریٰ
1۔ غیبت کبرٰی میں نائبین خاص نہیں بلکہ نائب عام تھے ۔ امام ؑ کسی کو نام لیکر معین نہیں کرتے تھے بلکہ ایک ضابطہ اور کلیہ بیان کر دیا کہ جو بھی فقیہ ہو اور اس میں یہ درج ذیل شرائط ہوں
ا ۔ عادل ہو۔
ب ۔ دین کا محافظ ہو۔
ج۔ اپنے نفس کی مخالفت کرنے والا ہو۔
د۔ اپنے امام ؑ کا مطیع ہو۔
ایسے شخص سے آپ دینی مسائل پوچھ سکتے ہیں اور اسکی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور ایسا شخص آپ پر ہماری طرف سے حجت ہے۔
2۔ غیبت صغریٰ میں خط و کتابت کا سلسلہ تھا۔ اور غیبت کبرٰی میں عریضہ نویسی شروع ہوگئی۔
عریضہ نویسی اب فقط نیمہ شبعان میں ہی نہیں کی جائے بلکہ ہم ہر روز اپنے امام ؑ کو عریضہ لکھ سکتے ہیں ۔
ہم فقط لکھ ہی نہیں سکتے بلکہ ہم عریضہ بول بھی سکتے ہیں یہ ہوا ہمارے پیغامات ایک ناقص ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا میں منتقل کرتی ہے تو امام زمانہؑ عج جو اللہ کے وسیع علم کے حامل ہیں تو ان کا کنٹرول ہوا پر ہے۔ تو ہمارے پیغامات ہوا ان تک پہنچاتی ہے۔
آج کے دور میں خط و کتابت نہیں بلکہ احوال نویسی، درد دل اور عریضہ نویسی ہے۔
3. غیبت صغرٰی میں ملاقات ہو سکتی تھی۔
لوگ خود نائبین خاص کے ذریعے امامؑ سے ملاقات کرتے تھے۔
لیکن غیبت کبرٰی میں اب کوئی ایسا شخص نہیں جو امامؑ سے ملاقات کرائے ۔ اگر کوئی یہ دعوٰی کرے تو وہ کذاب ہے۔
غیبت کبرٰی میں امام جب خود چاہتے ہیں تو کسی سے ملاقات کر لیتے ہیں۔
آئمہ ؑ نے غیبت صغریٰ میں ہمارے اور امامؑ کے درمیان نائبین خاص کو قرار دیا تاکہ لوگ ایک دم سے غیبت کبرٰی سے گھبرا نہ جائیں۔
اور گمراہ نہ ہوجائیں۔
غیبت صغریٰ میں لوگوں کو فقہاء کے زمانے کے لیے تیار کیا گیا۔
الحمدللہ غیبت صغریٰ میں نائبین خاص نے بہترین کردار ادا کیا۔ پہلے دو نائب امام عسکریؑ کی جانب سے مقرر تھے اور آخری دو نائبین امام زمانہؑ نے براہ راست خود انتخاب کئے۔
3۔ جناب حسین بن روحّؔ نو بختی
4۔ جناب علی بن محمد سمریؔ
جناب علی بن محمد سمریؔؒ کی زندگی کے آخری ایام میں ان کو امامؑ کی توقیع موصول ہوئی جس میں امام زمانہؑ عج نے مکمل غیبت کا اعلان کیا۔ اور فرمایا کہ دور غیبت کبریٰ سے لیکر اگر کوئی علامات ظہور تک نائبین خاص ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ کذاب ہے۔
اور لوگوں سے کہا کہ وہ علامات ظہور کے منتظر رہیں۔
ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہو کہ آخر اس غیبت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ خدا اگر چاہتا تو امامؑ کو لوگوں کے درمیان ظاہر بظاہر رکھتا۔ غائب رکھنے کی کیا ٖضرورت تھی اور آخر اس غیبت کی علت کیا ہے؟
جہاں تک علت یا اصلی دلیل کی بات ہے تو اس کو سمجھنا مشکل ہے جیسا کہ بعض روایات بیان کرتی ہیں کہ جب امامؑ ظہور کریں گے تو سمجھ آئی گی امامؑ خود بتائیں گے۔
ہم اس کو 3 نکات سے دیکھیں گے۔
1۔ تاریخی اعتبار سے غیبت کی وجوہات:
تاریخی نگاہ سے دیکھیں تو صدر اسلام سے لیکر اب تک تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔
خود رسول ؐ خدا نے اپنی الہیٰ حکومت کو بپا کرنے کے لیے کتنے مظالم سہے۔ ہجرت کی اور پھر کئی جنگیں لڑیں اور آخر میں عرب پر فتح پائی اور حکومت الہیہ بپا کی۔
لیکن پھر بھی بعد از رسالت مآبؐ منافقین کی منافقت اور چالوں کی وجہ سے اولیاء و اوصیاء ؑ حکومت نہ کرسکے اور وہ حکومت کسی اور کے پاس چلی گئی۔
اور اب تک یہی حالات چل رہے ہیں کہ شیاطین اور ظالم اور ناحق لوگ آئمہؑ حق کے مد مقابل کھڑے ہیں اوراپنی حکومتیں قائم کئے ہوئے ہیں اور لوگوں کو طمع ، لالچ اور ڈرا دھمکا کر مجبور کیا ہوا ہے اور اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے اور وہ ہادیان حق کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کوشش کرتے ہیں کہ ان کو قتل کیا جائے یا زہر دیا جائے اور اقتصادی اور معاشی طور پر ان کو فقیر کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی طریقے سے قوت نہ پکڑ سکیں۔
جیسے فدک کی جاگیر کا لینا اور پےدرپے آئمہؑ کا شہید ہونا اسی بات کی دلیل ہے کہ حاکم وقت ان کے وجود کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ چونکہ وہ اپنی شیطانی خواہشات کے لیے آئمہؑ کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔
امام رضاؑ کے بعد بنی عباس کے ظالمین میں اضطراب اسقدر بڑھ گیا تھا کہ وہ آئمہ ؑ کو آزادانہ طریقے سے لوگوں کی ہدایت و تعلیمات تدریس کی اجازت نہ تھی اور امام علی نقیؑ کے زمانے میں سختی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ان کے فرزند امام حسن عسکریؑ کو شادی سے بھی منع کر دیا گیا تھا۔ کیونکہ ظالم حکمران جانتے تھے کہ ان کے سلسلے سے ہی آخری حجت آئیں گے تو ان کو قتل کیا جائے یا آنے سے ہی روکا جائے۔ آئمہؑ کو نوجوانی میں ہی شہید کیا گیا جیسے امام جوادؑ اور امام حسن عسکریؑ ۔
آئمہؑ کی مختصر عمر میں شہادتیں اس بات کی دلیل ہے کہ ظالمین آئمہؑ کو برداشت نہیں کر پاتے تھے۔
تاریخی اعتبار سے غیبت ضروری تھی۔ پروردگار عالم نے امام ؑ کی جان بچانی تھی اور ان کے ذریعے حکومت الہیہ بپا کرنی ہے انشاءاللہ۔
جاری ہے
والسلام۔
سعدیہ شہباز✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
درس 11: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب ، پہلا سبب غیبت سر و راز الہی ہے
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :
**احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب :*
غیبت اسرار الہی میں سے ایک راز ہے:
کمال الدین میں سے ایک روایت:
ابن عباس رسولؐ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
" علی بن ابی طالب میرے بعد امام امت اور ان پر خلیفہ ہوں گے اور وہ قائم کہ جس کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کرے گا جیسا کہ ظلم و جور سے پر ہو گی اس کی نسل سے ہے۔ اور قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے جو ان کی غیبت کے زمانے میں اپنے عقیدہ میں ثابت قدم رہیں گے وہ کبریت احمر سے زیادہ کامیاب تر ہوں گے۔
اس وقت جابر بن عبد اللہ انصاری آگے بڑھے اور کہا: وہ قائم آپ کی نسل سے ہیں وہ غائب ہوں گے؟ فرمایا: خدا کی قسم ایسے ہی ہے یہاں تک کہ اس غیبت میں مومنین پہچانے جائیں گے اور کفار نابود ہوں گے۔
اے جابر یہ امور الہیٰ میں سے امر اور اسرار ربوبی میں سے ایک سر ہے کہ اللہ تعالی کے بندوں سے چھپی ہوئی ہے خبردار اس میں شک نہ کرنا کیونکہ امر خدا میں شک کفر ہے"۔
*اہم نکتہ:*
اس حدیث میں رسولؐ اکرمؔ نے غیبت کو الہیٰ رازوں میں سے ایک راز قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*کمال الدین روایت 2:*
عبد اللہ فضل ہاشمی سے نقل ہونے والی ایک روایت میں آیا ہے کہ امام صادقؑ سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے۔
" صاحب امر کے لیے ضرور غیبت پیش آئے گی کہ جس میں ہر باطل پرست شک کرے گا ، میں نے عرض کی آپ پر قربان جاؤں اس غیبت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: یہی ایک وجہ ہے کہ ہمیں اجازت نہیں ہے اسے ظاہر کریں۔ تو میں نے عرض کی اس غیبت میں کیا حکمت ہے؟ فرمایا اس غیبت میں وہی حکمت کہ جو اس سے پہلے کی الہیٰ حجتوں کی غیبت میں تھی اور ان کی غیبت کی حکمت ان کے ظہور کے بعد آشکار ہوگئی"۔
جس طرح حضرت خضر ؑ کے کاموں یعنی کشتی کو توڑنا، بچے کو مارنا اور دیوار کو بنانا کی حکمت حضرت موسیٰ ؑ پر واضح نہیں تھی یہاں تک ان میں جدائی کا وقت آپہنچا تو یہ حکمت ظاہر ہوئی ، اے فضل کے بیٹے یہ مسئلہ اللہ تعالیٰ کے امور میں سے ہے اور خدا کے اسرار میں سے ایک سر ہے نیز پروردگار کے علوم غیب میں سے ایک غیب ہے ، چونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے ہم تصدیق کرتے ہیں کہ اس کے سب افعال حکیمانہ ہیں اگرچہ ان کی وجہ واضح نہ بھی ہو ۔
*والسلام* ۔ 🤲🏻
ذاکرہ سعدیہ شہباز✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
درس 12: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب ، دوسرا سبب جان کی حفاظت ، امام صادق ع کی روایت
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
خلاصہ:
غیبت کا فلسفہ کیا ہے اور امام زمانہؑ غائب ہوئے جس کی پہلی وجہ الہیٰ راز ہے۔
غیبت کی دوسری اہم وجہ:
احادیث اور روایت کی رو سے امام زمانہ عج کی غیبت کی دوسری اہم وجہ درج ذیل ہے:
بہت ساری روایات میں حتی رسولؐ اللہ سے نقل ہونے والی احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ غیبت کی وجہ امامؑ کی جان کی حفاظت ہے۔
انبیاء کی سنت :
اس سے قبل بھی ہم نے انبیاؑ کی زندگیوں میں یہ غیبت دیکھی ہے ۔
جب حضرت موسیٰ ؑ کی جان کو جب خطرہ ہوا تو اللہ کے حکم سے مدائن کی جانب چلے گئے۔
جب حضرت یوسفؑ کی جان کو اپنے ہی بھائیوں سے خطرہ لاحق ہوا جو آپ کو حسد کی وجہ سے مارنا چاہتے تھے۔ اور آپ کو کنویں میں بھی ڈالا گیا اور قتل کرنے کی کوشش بھی کی تو مشیت پروردگار عالم یہ تھی کہ جناب یوسف کنعان سے سرزمین مصر کی جانب چلے جائیں۔ تاکہ نبیؐ خدا کی جان بچ سکے۔
خود جب رسولؐ اللہ کی جان مبارک کو خطرہ ہوا تو اللہ نے 3 دن غار ثور میں نبیؐ کو غیبت میں رکھا۔
اور اللہ کو ابھی حجت خدا کی زندگی چاہیے اسلئے اللہ غیبت کے ذریعے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔
ظالم حکمران بنی عباس جانتے تھے کہ پیغمبرؐ کی حدیث کے مطابق آپؑ بارویں ہیں اور وہ آپ کو شہید کرنا چاہتے تھے۔ تو اللہ نے اس وقت تک یعنی حکم قیام تک اور جب تک آپؑ کے ناصرین اکھٹے نہیں ہونگے اس وقت تک آپ کو غیبت میں رکھا۔
بعض لوگ سوال کر سکتے ہیں کہ اللہ تو قادر مطلق ہے۔
بے شک اللہ قادر مطلق ہے اور اس کے لیے مسلسل معجزات کی ضرورت پڑنی تھی۔
مسلسل معجزے نظام جہاں کے خلاف ہیں۔
اور معجزات کے نتیجے میں لوگوں نے تیاری ترک کر دینی تھی کہ جو ہستی معجزوں کے ذریعے خود کو بچا سکتا ہے وہ ہمیں بھی بچا لے گا۔ اور اسکی وجہ سے لوگ تقوٰی اور الہیٰ راستوں کی طرف نہ جاتے۔
سدیر صیرفی کہتے ہیں: میں ، مفصل بن عمر، ابو بصیر اور ابان بن تغلب اپنے آقا امام صادقؑ کی خدمت میں پہنچے۔
کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ امام صادقؑ زمین پر بیٹھے ہیں اور خبیری جبہ اپنے اوپر لیے ہوئے اس ماں کی طرح رو رہے ہیں جس کا بچہ مر چکا ہو، غم و حزن کی شدت سے چہرہ مبارک متغیر ہوچکا تھا اور آنکھیں آنسو ؤں سے بھر چکی تھیں اور فرمارہے تھے اے میرے سردار تیرے غیبت نے میری آنکھوں سے خواب چرا لیا ہے او میرا بستر میرے لئے بے آرام ہو گیا ہے اور میرے دل سے آسائش ختم ہو چکی ہے۔
سدیر کہتے ہیں: جب میں نے امام ؑ کو اس حال میں دیکھا تو عرض کی اے بہترین خلق خدا کے فرزند: آپؑ کی آنکھیں نہ روئیں! کس وجہ سے آپؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور وہ کون سی بات ہے کہ جس نے یہ ماتم آپؑ پر واجب کر دیا ہے؟
امام صادقؑ نے ایک گہرا سانس لیا: اور فرمایا:
ہمارے قائم کی ولادت اور ان کی غیبت اور اس میں تاخیر ہونا ان کی طولانی عمر اور اس زمانہ میں مومنین کا مصائب سے دو چار ہونا اور غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں شک و شبہ کا پیدا ہونا اور اپنے دین سے مرتد ہونا۔
پھر فرمایا کہ اللہ نے ہمارے قائم کی تین خصلتیں جاری کئیں۔ کہ یہ تین صفات اس سے پہلے تین پیغمبروں میں جاری تھیں ۔
حضرت موسیٰ ؑ کی ولادت کی مانند ان کی ولادت ہے۔
حضرت عیٰسیؑ کی غیبت کی مانند ان کی غیبت ہے۔
حضرت نوحؑ کی تاخیر کی مانند ان کی تاخیر ہے اور اس کے بعد عبد صالح یعنی حضرت خضر ؑ کی عمر کو ان کی عمر پر دلیل قرار دیا گیا ہے۔
اصحاب نے کہا کہ اے فرزند رسولؐ ان الفاظ سے کیا مراد ہے۔
فرمایا کہ ان کی ولادت موسیٰ ؑ کی ولادت کی مانند ہے کیونکہ فرعون جان چکا تھا کہ ان کے ہاتھوں اس کی بادشاہی کا خاتمہ ہے۔ ان کے ولادت کے متعلق فرعون نے کاہنوں کے ذریعے جضرت موسیٰ کا نسب معلوم کروایا اور سپاہ کے ذریعے بنی اسرائیل کی خواتین کے شکم پارہ کئے گئے اور بیس ہزار سے زائد نومولود بچے قتل کئے گئے۔ لیکن پھر بھی فرعون ناکام رہا اور حضرت موسیٰ ؑ کو قتل نہ کر سکا۔
بنی امیہ اور بنی عباس بھی ایسے ہیں جب انہوں نے جان لیا کہ ان کی حکومت اور ان کے ظالم حکمرانوں کا زوال ہمارے قائم ؑ کے ہاتھوں مین ہے تو ہماری دشمنی پر تل گئے اور آل رسولؐ اللہ کو قتل کرنے اور ان کی پاکیزہ نسل کو ختم کرنے کے لیے تلوار نکال لی تاکہ اس طرح سے قائم ؑ کو قتل کر سکیں لیکن اللہ تعالی ظالم پر اپنا امر ظاہر نہیں کرے گا اور اپنے نور کو کامل کرے گا اگرچہ مشرکین کو اچھا نہ لگے۔
اس روایت کی رو سے اس بات کو واضح کر دیا کہ جیسے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون سے خطرات تھے ویسے ہی امام زمانہؑ عج کو اپنے زمانے کے ظالمین سے خطرات تھےیہاں تک کہ آج کی ظالم طاقتوں سے بھی خطرات ہیں۔ اسی لیے دو صورتیں ہیں
پہلی صورت کہ امامؑ عج اللہ کی رضا سے غیبت میں رہیں اور ان کے ناصر بھی تیار ہوں
دوسری صورت میں معجزات کے ذریعے جان بچائیں۔ اور ناصرین بھی قتل ہونگے۔
تو بہترین طریقہ غیبت ہے۔
والسلام۔
سعدیہ شہباز✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم🌍*
*کتابچہ* 6
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
درس 13: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب دوسرا سبب جان کی حفاظت پر مزید احادیث ، تیسرا سبب گذشتہ انبیاء کی سنت کا امام قائم عج میں جاری ہونا
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ:*
*امام زمانہؑ عج کی جان کی حفاظت:*
احادیث اور روایات کی رو سے:
امام جعفر صادقؑ پیغمبرؐ سے نقل کرتے ہیں کے رسولؐ اللہ نے فرمایا: وہ جوان یقیناً غائب ہوگا عرض کی، اے اللہ کے رسولؐ وہ کیوں غائب ہوں گے فرمایا : اسے ڈر ہوگا کہ اسے قتل کیا جائے گا۔
*زرارہ امام محمد باقر ؑ سے نقل کرتے ہیں۔*
اس جوان کے لیے اپنے ظہور سے پہلے ایک غیبت ہے عرض کی وہ کیوں غیبت اختیار کریں گے؟ فرمایا: وہ خوف کھائیں گے اور اپنے ہاتھ سے اپنے شکم کی طرف اشارہ کیا۔ یعنی وہ خوف کھائیں گے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
قتل کا خوف احادیث میں بیان ہوا ہے لیکن ہرگز اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام زمانہ عج کو اللہ کی راہ میں جان دینے کا خوف ہے۔ بلکہ یہ احتیاط اسی طرح ہے جیسے رسولؐ اللہ نے ہجرت مدینہ کے موقع پر کی۔ کفار کے دستے ان کی جان کے در پے ان کا تعاقب کر رہے تھے تو نبیؐ خدا نے تین دن کے لیے غار ثور میں غیبت اختیار کی۔
نبیؐ خدا اور حجتؑ خدا، اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے سے نہیں ڈرتے لیکن جب یہ مصلحت ہو کہ ابھی ان کی جان باقی رہے اور اللہ نے ان سے کام لینےہوں تو پھر وہ اپنی جان کو بچاتے ہیں تاکہ اللہ کی جانب سے دی گئی ذمہ دارئ جو مکمل کریں۔ اس وقت ان کی جان کی حفاظت ، ان کی شہادت پر مقدم ہوتی ہے ۔
مرحوم شیخ طوسی ؒ اپنی کتاب غیبت طوسی میں غیبت کے بارے میں روایات بیان کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
جو کچھ روایات کی رو سے غیبت کی حکمت و فلسفہ کے بارے میں بیان ہوا ہے جیسے شیعہ کا امتحان وغیرہ یہ بعنوان حکمت یا فائدہ ہیں لیکن یہ غیبت کا فلسفہ و سبب نہیں ہے بلکہ شیعوں کے لیے غیبت کا اثر اور نتیجہ ہے، غیبت کا فلسفہ اور سبب وہی امام مہدی عج کا دشمنوں کے ہاتھو قتل ہونےسے ڈر ہے۔
*تیسری وجہ غیبت:*💠
انبیاؑء کی سنت کا امام زمانہ عج میں جاری ہونا:
اگر ہم مشاہدہ کریں تو امام زمانہؑ عج کی غیبت کوئی پہلی غیبت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی انبیاءؑ غائب ہوتے رہے۔
بعض انبیاء چند دنوں کے لیے غیبت میں رہے۔ بعض دو مرتبہ غیبت میں رہے اور جیسا کہ حضرت عیسٰیؑ ایک طولانی غیبت میں ہیں۔ جس کی اہم وجہ اپنی جان کو بچا کر دین الہیٰ اور پیام پروردگار کو لوگوں تک پہچانا تھا ۔
حضرت عیسیٰؑ کی بعنوان پیغمرؑ ابھی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوئیں اور جب امام زمانہ عج ظہور فرمائیں گے تو وہ بھی نازل ہونگے اور باقی ماندہ ذمہ داریاں پوری کریں گے۔
*سدیر اپنے والد اور وہ امام جعفر صادقؑ سے نقل کرتے ہیں کہ :*
ہمارے قائمؑ کے لیے ایک غیبت ہے کہ جس کی مدت طولانی ہوگی، میں نے عرض کی اے فرزند رسول خدا ایسا کیوں ہوگا؟ فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان میں انیباؑء کی سنتیں ان کی غیبت کے حوالے سے جاری کرے۔
کمال الدین و تمام النعمۃ
والسلام۔
سعدیہ شہباز✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
*کتابچہ* 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
*درس* 15: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب، کیا امام ظاھر ہوتے تو بہتر ھدایت نہ کرتے اور خدا انہیں کیوں نہیں کفار کے شر سے بچا سکتا تھا حالانکہ وہ قادر مطلق ہے؟، غائب امام کی معرفت کیسے حاصل کریں؟
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* ✨:
غیبت امام زمان عج کے موضوع پر کچھ سوالات کے جوابات:
ایک سوال جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ :
سوال: 1 کیوں امام زمان آنکھوں سے غائب ہوئے یعنی اگر لوگوں کے درمیان ہوتے اور انہیں راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے بہتر نہ تھا؟ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے اور وہ انہیں کفارسے محفوظ رکھ سکتا ہے؟
*جواب* :
یہ واضح سی بات ہے کہ اگر امام لوگوں کے درمیان میں حاضر و ظاہر ہوتے اور لوگوں کی راہنمائی کرتے اور ان کی ہدایت کرتے تو یہ تو بہت ہی بہتر تھا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا امامؑ کے دشمن مولا کو ایسا کرنے دیتے۔
*متواتر حدیث:*
رسولؐ خدا سے اور آئمہؑ سے ایک متواتر حدیث ہے کہ جب امام مہدی عج تشریف لائیں گے تو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ اور ظلم و ستم کو ختم کر دیں گے۔
اب جو مولاؑ نے ظاہر ہونا تھا تو دو طرح کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بننا تھا ایک تو وہ لوگ جو دنیا میں مظلوم اور کمزور ہیں وہ لوگ امامؑ کو امید بھری نگاہ سے دیکھتے کہ امامؑ ہماری نجات کے لیے کچھ کریں۔
اور دوسرے وہ لوگ جو امامؑ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اس سے پہلے کے امامؑ کچھ کریں وہ ان کو شہید کر دیتے ۔ آیا اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھا کہ کیسے اللہ کی حجتوں اور انبیاء کو ظالمین نے شہید کیا ۔ اس وقت بھی تو اللہ موجود تھا۔
پھر یہ کہنا کہ اللہ قادر ہے وہ بچا سکتا ہے تو اللہ نے دنیا کا نظام ایسا بنایا ہے کہ نظام دار الاختیار ہے۔ یہاں جبر سے کام نہیں ہو سکتے۔ اگر خدا چاہے تو وہ دنیا کا نظام ایسا بنا سکتا ہے جس طرح ملائکہ کا نظام ہے لیکن خدا نے دنیا کا نظام ایسا بنایا ہے کہ انسان خود اپنے اختیار سے جنت یا جہنم کی طرف جائے اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا تکلیف و امتحان کی جگہ ہے۔ روز محشر پروردگار اختیار سلب کر لے گا ۔ یہاں سب نے خود اپنی جنت و جہنم بنانی ہے۔
اب اگر امام ؑ لوگوں کے درمیان ظاہر ہوتے تو مولاؑ ظالمین کے ساتھ جنگ کرتے۔ کیونکہ جنگ کے لیے امامؑ کو ناصروں اور اذن الہیٰ کی ضرورت ہے۔ اور اگر خاموشی اختیار کرتے یا وقتی مصالحت کرتے کیونکہ ناصرین موجود نہیں۔ تو لوگوں نے مایوس ہو کر دین، قرآن اور پیغمبر ہر چیز میں شک کرنا تھا اس لیے ضروری یہ تھا کہ امامؑ عج پردہ غیبت میں رہیں اور لوگ ان کے ظہور کی اہمیت کو سمجھیں اور ان کے لیے تیاری کریں۔ ان کی معرفت کو سمجھیں اور ان کی ہمراہی کےلیے خود کو آمادہ کریں۔ بلاآخر وہ روز آئے کہ مولاؑ ظہور کریں اور دنیا کو ظالمین سے بچائیں۔
سوال 2: آیا امام زمان عج کی غیبت ان کی معرفت نہ رکھنے پر دلیل اور عذر نہیں ہے؟
اس حدیث " من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ" کی روشنی میں لوگ کیسے ایک غائب امام کی معرفت پیدا کریں گے۔
جواب:
مولاؑ کی غیبت موؑلا کی معرفت حاصل کرنے میں حائل نہیں ہے کیونکہ معرفت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان مولا کو ان کی شکل و شمائل سے دیکھے اور ان کا دیدار کرے۔ بلکہ موؑلا کی معرفت سے مراد ان کا نام، صفات، فضائل اور خصوصیات ہے اور وہ مقام جو ان کو اللہ تعالی نے عطا کیا۔ اور مولاؑ کس لیے غائب ہیں اور ہمیں ان کے ہمراہی کیسے کرنی ہے۔
تو اب انسان یہ سب چیزیں کہاں سے حاصل کرے تو اس کے لیے علمائے دین اور کتابیں ہیں۔
*روایت* :
جناب اویس قرنی جو یمن کے رہنے والے تھے۔ پیغمبرؐ کے زمانہ میں زندگی گذارتے تھے ان کی بہت زیادہ خواہش تھی کہ پیغمبر اکرم ؐ کا دیدار کریں لیکن چونکہ ان کی والدہ بوڑھی تھی اور وہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ لہٰذا تمام عمر پیغمبرؐ اکرم کی مدینہ میں زیارت نہ کرسکے۔ لیکن اسی حالت میں پیغمبر ؐ اکرم کی بہت زیادہ معرفت و شناخت رکھتے تھے۔ اور آپؐ نے بھی امیر المونینؑ کو اویس قرنی کے بارے میں بہت زیادہ تاکید فرمائی تھی۔
تو معرفت کے حوالے سے کسی کو دیکھنا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن ان کے سیرت وگفتار و کردار معرفت کا بہت بڑا حصہ ہے۔
والسلام۔
سعدیہ شہباز✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم🌍*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں