عقائد (عدل)
🔆⚖️ درس عقائد (عدل)🔅
#درس 1
# کیوں عدل ہمارے اصول دین کا حصہ ہے؟,حسن و قبح عقلی کی بحث کیا ہے؟ افعال انسان کے حسن و قبح پر مکاتب اسلامی کا موقف
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* : 📚
*موضوع سخن اصول دین میں بحث عدل ہے۔ ⚖️*
ہمارے مکتب کے اصول دین توحید ، عدل، نبوت امامت اور قیامت ہیں۔ جبکہ دیگر مکاتب جیسا کہ اہلسنت ہیں وہ توحید، نبوت اور قیامت کو بیان کرتے ہیں اور وہ اپنے اصول دین میں عدل اور امامت کا موضوع نہیں لاتے۔
لہذا تین اصول میں ہم سب مسلمان اکھٹے ہیں توحید ، نبوت، قیامت۔ اسلیے ان کو اصول دین کہا جاتا ہے۔ عدل اور امامت ہمارے شیعہ مکتب میں بیان ہوئے ہیں اس لیے ان کو اصول مذہب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم سب کو مجموعی طور پر اصول دین کہتے ہیں۔
توحید پر ایک مفصل گفتگو ہو چکی ہے جس میں پروردگار اور اس کی صفات اور افعال پر کچھ نہ کچھ نہ کچھ نکات بیان ہوئے۔ آج سے ہم عدل پر گفتگو کریں گے۔ صفت عدل اللہ کے افعال کی صفت ہے۔ یعنی پروردگار عالم اپنے افعال کے اندر عادل ہے۔
بہت سارے لوگوں کے ذھنوں میں یہ سوال آسکتا ہے۔ کہ آیا ہم شیعہ عدل کو اصول دین میں لا رہے ہیں اور اہلسنت نہیں لا رہے تو کیا وہ اللہ کے عادل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔
اصل میں اس کی وجہ ایک اختلاف ہے نہ کہ وہ اللہ کو عادل نہیں سمجھتے۔ وہ عدل کا جو معنیٰ کرتے ہیں ہمارا اس معنیٰ میں ان کے ساتھ ایک اختلاف ہے جو آج بیان کیا جائے گا۔ کہ جس کی بِنا پر شیعہ مذھب نے ضروری سمجھا کہ وہ اصول دین میں اللہ کی عدالت کو مستقل طور پر بیان کرے ۔
یہاں ایک اور نکتہ بیان کریں کہ فقط شیعہ مکتب اس بات کا قائل نہیں کہ اصول دین میں عدل بیان ہونا چاہیے بلکہ اہلسنت کا ایک مکتب معتزلہ جو تاریخ میں پہلے موجود تھا اور آج بھی بعض ممالک میں موجود ہے۔ وہ بھی اپنے اصول دین میں شیعوں کے ہمراہ عدل لاتے ہیں اور معتزلہ اور شیعہ مل کر عدلیہ کہلاتے ہیں۔
*عدل کی ابحاث:* ⚖️
1۔ *حسن و قبح عقلی:* 🌟🌹
یعنی آیا ہمارے افعال عقلی اعتبار سے حسن و قبح رکھتے ہیں؟ اس پر گفتگو کا آغاز ہوگا اور یہیں سے شیعہ اور اہل سنت کے اکثر مکاتب کے درمیان اختلاف سامنے آئے گا اور مسئلہ عدل ہمارے لیے واضح ہوگا۔
*تمہید* : 🫴
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ انسانوں کے افعال جو وہ اپنے اختیار سے انجام دیتے ہیں وہ تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ بعض ایسے افعال ہیں کہ جو اچھے ہیں اور کرنے بھی چاہیے جیسے عدل اور احسان کرنا۔ اور بعض ایسے ہیں جو بُرے ہیں اور نہیں کرنے چاہیے اور جن کی مذمت ہے۔ جیسے کسی کے حق میں برائی ، ظلم یا خود گناہ۔
اور بعض ایسے افعال ہیں جو مباح ہیں۔
ہمارے بعض علماء جیسے محقق طوسیؒ اور علامہ حلیؒ کشف المراد میں فقہاء کے شیوا پر چلتے ہوئے پانچ اقسام بیان فرمائیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے افعال دو قسم کے ہیں :
1۔ *اختیاری افعال* : 💎
جو ہم اپنے عقل و شعور سے انجام دیتے ہیں۔
اخیتاری میں شریعت ہمارے افعال کے لیے پانچ حکم جاری کرتی ہے۔
*واجب* :👉
ہر وہ عمل جس کا انجام دینا انسان پر فرض ہے۔ جیسے نماز ، روزہ ، حج زکوۃ، خمس، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ، جہاد۔ واجب کو ترک کرنے سے سزا ملتی ہے اور انجام دینے سے ثواب ملتا ہے۔
*مستحب* :👉
ہر وہ عمل جس کو انجام دینا انسان پر فرض تو نہ ہو لیکن اس میں موجود بہتری اور اصلاح کے اعتبار سے انسان کے حق میں اسے انجام دینا بہتر ہو۔ اگر قصدِ قربت کے ساتھ اسے انجام دیا جائے تو اس پہ ثواب ملتا ہے۔ جیسے صدقہ ، اچھا اخلاق، مومن کی حاجت کو پورا کرنا، باجماعت نماز پڑھنا وغیرہ۔ ایسے افعال کو ترک کرنے سے سزا نہیں ملتی۔
*مباح* : 👉
ہر وہ عمل جو انسان اپنی حیات کے امور چلانے کے لیے بغیر قصد قربت کے انجام دیتا ہے۔ جیسے کھانا پینا وغیرہ۔ ایسے کام انجام دینے سے نہ تو ثواب ملتا ہے نہ ہی ترک کرنے پہ گناہ ملتا ہے۔
*حرام* : 👉
ہر وہ عمل جس سے اجتناب کرنا انسان پر فرض ہو اور شارع مقدس نے اسکے انجام دینے سے روکا ہو۔ جیسے ظلم، زنا، جھوٹ بولنا ۔ ملاوٹ کرنا غیبت، وغیرہ انسان اگر اسے انجام دیتا ہے تو اسے سزا ملتی ہے۔
*مکروہ* : 👉
ہر وہ عمل جس سے اجتناب کرنا انسان پر فرض تو نہ ہو لیکن اس عمل میں موجود مفسدہ کی وجہ سے اس عمل کو ترک کرنا انسان کے حق میں بہتر ہو۔ اگر قصد قربت سے اسے ترک کیا جائے تو اس پہ ثواب حاصل ہوتا ے جیسے مومن جو مدد کا محتاج ہو اسے رد کرنا ، فضول باتیں۔ وغیرہ۔
2۔ *غیر اختیاری افعال:* 💎
جیسے کوئی مجنون یا کوئی سویا ہوا شخص کوئی عمل انجام دے)۔ اور ان کے لیے شریعت کچھ بھی نہیں کہتی۔ نہ واجب ، نہ مکروہ نہ مباح
اب یہ جو ہم اچھے اور برے افعال کر رہے ہیں تو ان کا اچھا یا برا ہونا ہمیں کہاں سے پتہ چلتا ہے؟
*اسلام کے اندر مختلف عقائد و نظریات کے اعتبار سے مکاتب ہیں۔ جیسے*
*فقہ کے اعتبار سے:*
حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور جعفری ہیں ⭐
عقائد کے اعتبار سے:
اشعری ، ماتریدی ، وھابی اور معتزلی (اہلسنت) ، امامی (شیعہ)⭐
معتزلی کافی حد تک شیعوں کے نزدیک ہیں۔
اشعری: دیوبند اور بریلوی۔
ماتریدی: ایک اور فرقہ ہے۔
اصل مسئلہ جو تاریخی اعتبار سے چل رہا ہے وہ ہم شیعہ امامی ، معتزلی اور اشعری میں ہے۔
گفتگو یہ ہے کہ جو ہم اچھے افعال انجام دے رہے ہیں تو ان کا اچھا ہونا عقلی اور ذاتی ہے یا شرعی اور اعتباری ہے۔ یعنی ہر فعل کے اندر اچھائی موجود ہے اس لیے وہ اچھا ہے۔ مثلاً عدل اچھا اس لیے ہے کہ وہ واقعاً اچھا ہے یا پھر شریعت نے اسے اچھا کہا ہے تو وہ اس لیے اچھا ہے۔ ظلم اگر قبیح ہے تو واقعی قبیح ہے اسی لیے اس کی مذمت ہوتی ہے یا پھر شریعت نے کہا ہے تو وہ قبیح ہے۔
*اب یہاں دو نظریے ہیں* 👇۔ ⭐⭐
امامیہ اور متعزلی یہ کہتے ہیں کہ: انسانوں کے اچھے برے افعال کا اچھا برا ہونا ذاتی ہے اور خود ہماری عقل انہیں سمجھتی ہے۔ اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے مثلاً عقل جانتی ہے کہ کوئی مسلمان ہو یا نہ ہو۔ دنیا کے کسی کونے ، ملت یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ جانتا ہے کہ عدل اچھا ہے اور ظلم قبیح ہے یہاں کوئی دین کا بتانا ضروری نہیں۔ چونکہ عدل کے اندر حسن اس کا ذاتی ہے اور ہر عاقل کی عقل اسے درک کرتی ہے اور ظلم کے اندر قبح اس کا ذاتی ہے اور ہر عاقل کی عقل اسے درک کرتی ہے۔
👈 *شارع مقدس* ❤️ ( پروردگار اور اس کی جانب سے آنے والے نمائندے) بھی ہمیں عقل کے اس درک کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کریں اور وہ نہ کریں۔ نہ کہ وہ حکم جو کہ شارع دے رہا ہے ان کے کہنے سے عدل اچھا نہیں ہے اور ظلم برا نہیں ہے یہ پہلے سے ہی ایسا تھا جب سے انسانی معاشرہ تشکیل پایا۔ یہ حسن و قبح ان افعال کی ذات میں موجود تھا۔
شریعت نے آکر بھی اس موجود حسن و قبح کی وجہ سے ان کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ شیعہ اور معتزلہ فرقے کا نظریہ ہے۔
جبکہ عقائد کے اعتبار سے اہلسنت کا مدمقابل فرقہ اشاعرہ (اشعری) یہ پاک و ہند میں بھی ہیں۔ یہ فقہی کے اعتبار سے حنفی ہوں شافعی ہوں فرق نہیں رکھنا لیکن عقائد کے اعتبار سے اشعری ہیں اور اکثریت میں ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن و قبح ذاتی نہیں ہے بلکہ اعتباری ہے۔ 👇
یعنی کوئی بھی عمل جو ہم اچھا یا برا انجام دیتے ہیں وہ اسلیے اچھا یا برا ہے کیونکہ اللہ نے کہا ہے۔
مثلاً عدل و ظلم میں کوئی فرق نہیں۔ عدل اسلئے اچھا ہے کہ اللہ نے کہا ہے اور ظلم اس لیے برا ہے کہ اللہ نے اسے برا کہا ہے۔ ہم شریعت کے تابع ہیں۔ جس کام کو شریعت اچھا کہے وہ اچھی ہے اور جس کام کو شریعت برا کہے وہ بری ہے۔
*الحسن ما حسنه الشرع والقبيح ما قبحه الشرع 🔮*
امور کی لگام شریعت کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہے اچھا یا برا کہے کل شریعت نے جس فعل کو اچھا کہا ہے اب اسے برا کہہ دے تو وہ برا ہے یعنی ہماری عقل کا کوئی درک نہیں ہے اور خود کاموں میں ایسی چیز نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ یہ کام بذات خود اچھا یا برا تھا۔
👈یہ جھگڑا شروع ہوا ہے اور اس پر دلائل قائم ہوئے اور اس پر مکتب عدلیہ قائم ہوا اور ہم اسے اصول دین میں موضوع بحث لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم عدلیہ ہیں اور ہم اللہ کے عادل ہونے کے قائل ہیں۔
👇
یعنی ہم کہتے ہیں کہ عدل ذاتاً حُسن رکھتا تھا اس لیے اللہ نے اس کا حکم دیا اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں عدل اس لیے اچھا ہے کیونکہ اللہ نے اسے اچھا کہا ہے۔
⭐ہم کہتے ہیں ظلم ذاتاً قبیح تھا اسلیے اللہ نے منع فرمایا لیکن وہ کہتے ہیں کہ نہیں ظلم اس لیے بُرا ہے کیونکہ اللہ نے اسے بُرا کہا ۔ اگر آج اللہ حکم دے دے کہ ظلم اچھا ہے تو پھر ظلم اچھا ہو جائے گا اور اگر اللہ عدل سے منع کر دےتو پھر عدل برا ہو جائے گا۔
👈 ہم اس چیز کو نہیں مانتے۔ اور اس پر باقاعدہ دونوں طرف کے دلائل ہیں جو انشاءاللہ بیان کیے جائیں گے۔
پروردگار عالم سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو عقائد کے اعتبار سے پختہ فرمائے تاکہ ہم حجت خدا کے فکری اور علمی اعتبار سے محکم اور استوار سرباز بنیں۔
آمین۔🤲
والسلام
*تحریر و پیشکش* : ✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
🔆سلسلہ درس عقائد (عدل)🔅
#درس 2⭐
# عدالت کے قائلین مکتب عدلیہ (شیعہ اور معتزلہ)کے دلائل، بدیھی ہونا، اگر عقل سے ثابت نہیں تو شرع سے بھی ثابت نہیں ہوگا، اگر شرعی ہوتے تو تبدیلی ہوتی۔۔۔۔
*#استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹🎤*
خلاصہ: 📜
موضوع سخن عدل الہی:⚖️
اسلام کے مختلف مکاتب اور مذاہب میں ایک موضوع اٹھا تھا کہ آیا ہمارے افعال ذاتاً حُسن و قبح (اچھائی یا برائی ) رکھتے ہیں یا پھر شریعت کی وجہ سے رکھتے ہیں۔ کچھ شیعہ مکاتب جیسے شیعہ اثناء عشریہ اور اہلسنت میں فرقہ معتزلہ نے کہا کے ہمارے افعال ذاتی اچھائی یا برائی بھی رکھتے ہیں ۔ قطعً نظر اس کے کہ یہ شریعت کہے۔ اور باقی مکاتب جیسے اہل حدیث، اشاعرہ اور ماتریدی کہتے ہیں کہ کوئی فعل ذاتاً نہ اچھا ہے نہ برا ہے جب تک کہ شریعت نہ کہے۔
عدالت کے قائلین مکتب عدلیہ (شیعہ اور معتزلہ)کے دلائل:🔅🌟
۔ پہلی دلیل: 1️⃣
افعال کا ذاتاً اچھا ہونا حسن ہے اور برا ہونا بدی ہی ہے۔ چاہے ہم دنیا میں کسی بھی جگہ چلے جائیں۔ کسی بھی ملت یا دین اور کسی بھی مکتب میں حتی عالم ، جاہل ، مہذب یا غیر مہذب سب اس بات پر متفق ہیں کہ ظلم برا ہے ۔ کوئی بھی دنیا کے اندر ظلم کو اچھا نہیں کہے گا۔ اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ عدل اور احسان اچھا ہے۔ اس وقت دنیا کے تمام براعظموں میں ظالم کا عمل اور فعل برا سمجھا جاتا ہے اور عادل اور انصاف کرنے والے کو اچھا سمجھا جاتا ہے لہذا یہ بات بہت ہی واضح ہے اور اس پر دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔
۔ دوسری دلیل: 2️⃣
اگر عقل سے ثابت نہیں تو شرع سے بھی ثابت نہیں ہوگا:🔆
اگر ہم انکار کریں کہ کوئی چیز ذاتاً اچھی یا بری نہیں بلکہ شریعت کی وجہ سے اچھی یا بری ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گویا ہم شریعت کی اچھی اور بری چیز کا بھی ہم انکار کر دیں گے۔ یعنی اگر ہم عقل سے یہ ثابت نہ کریں اور ہماری عقل یہ حکم نہ دے کہ سچائی اچھی ہے اور جھوٹ برا ہے اور اگر ہماری عقل ہمیں یہ حکم نہ دے کہ ہمارا پروردگار ، ہمارے پیغمبرؐ اور ہمارے مولاؑ کبھی بھی برے کام انجام نہیں دیتے اور اگر ہماری عقل ہمیں یہ نہ سمجھا سکے تو پھر کس طرح ثابت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نیک لوگوں سے ان کے مقام اور درجات کے حوالے سے جتنے وعدے کئے ہیں تو یہ پھر کیسے معلوم ہوگا کہ یہ ساری چیزیں سچی ہیں۔ اور ہم کیسے معلوم کریں گے کہ کوئی جنت اور جہنم بھی ہیں۔ جب ہماری عقل اس چیز کو درک نہیں کر رہی تو ہم کس طرح یہ ثابت کر سکیں گے کہ اللہ گناہگاروں کو سزا بھی دے گا اور نیک لوگوں کو جزا دے گا۔ ۔
اگر آپ کہیں کہ نہیں یہ بات تو قرآن کہہ رہا ہے کہ جنت بھی ہے جہنم بھی ہے اور جزا اور سزا بھی ہیں ۔ تو پھر ہم کہیں گے کہ پھر یہ کیسے ثابت ہو گا کہ قرآن صحیح کہہ رہا ہے اور اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔
اگر آپ کہیں کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اللہ سچا ہے اور وہ اپنے وعدے پورے کرے گا تو ہم کہیں گے کہ خود قرآن کی بات پر بھی یہی اعتراض ہے کہ کیسے معلوم ہو گا کہ قرآن صحیح کہہ رہا ہے ۔ یہ کس دلیل سے ثابت ہوگا کہ قرآن صحیح کہہ رہا ہے۔ آپ جو دلیل لائیں گے ہم کہیں گے کہ یہ دلیل کیسے ثابت کر رہی ہے۔ اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور ہمیں اس کی کوئی انتہا نہیں ملے گی۔ اور ہم ہمیشہ ہر چیز میں شک کریں گے۔
لیکن! آخر میں آپ یہی کہیں گے کہ کیا تمھاری عقل کام نہیں کرتی۔ آخر جھوٹ برا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ جھوٹ بولے اور سچ اچھا ہے لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی بات سچی نہ ہو۔ خدا سے کبھی جھوٹ صادر نہیں ہو سکتا وہ ہمارا خالق و مالک ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود برائی انجام دے۔ اب یہاں وہی ہماری بات آگئی کہ ہم بھی شروع سے ہی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ چیزیں پہلے عقلاً ثابت ہوں تو پھر شریعت اس کے مطابق بات کرتی ہے نہ کہ شریعت نے یہ چیزیں ہمارے لیے بیان کی ہیں۔
دنیا میں ہر جگہ ہر شخص کی عقل جھوٹ کو برا اور سچ کو اچھا سمجھتی ہے تو شریعت بھی آکر اسی کی تائید کرتی ہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم تو شریعت کے مطابق چلیں گے اور عقل اس کو ثابت نہیں کر سکتی تو پھر جب عقل اس بات کو ثابت نہیں کر سکتی تو پھر شریعت کی بات بھی ہمارے لیے ثابت نہیں ہوگی اور نتیجۃً شریعت بھی باطل ہو جائے گی۔
نتیجہ:🌺
اگر عقلی طور پر اشیاء کی خوبی اور برائی ثابت نہیں ہو سکتی تو شرعاً بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔
۔ تیسری دلیل:3️⃣
اگر شرعی ہوتے تو تبدیلی ہوتی: 🌟
عقل جن چیزوں کو اچھا یا برا کہتی ہے تو وہ پوری تاریخ میں اچھی اور بری ہی رہی ہیں۔ یہ شریعت سے ثابت نہیں ہوا۔ کیونکہ شریعت کے نزدیک معیار ثابت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔ شریعتیں ہرپیغمبرؐ کے زمانے میں تبدیل ہوتی رہیں ہیں۔ جبکہ عقلی احکام میں تبدیلی نہیں۔۔۔۔
حضرت آدمؑ سے لیکر اب تک سب جھوٹ اور ظلم کو برا سمجھتے ہیں۔ اور یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے ۔ حضرت آدم ؑ سے لیکر اب تک ہر دور میں جھوٹ و ظلم برا اور عدل و سچائی حق ہیں۔ اور اس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئ۔ کیونکہ یہ چیزیں ذاتاً ایسی ہیں اور عقل کے حکم میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئی۔ اگر یہ چیزیں شرعی ہوتی تو ان میں تبدیلی ہوتی جیسے شریعتوں میں احکام آتے ہیں اور بعد میں نسخ ہو جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے برعکس ایک حکم آجاتا ہے تو یہ جو نسخ و منسوخ کی بات ہے جیسے بہت ساری چیزیں حضرت عیسیٰؑ کی شریعت میں تھے اور ہماری شریعت میں نہیں ہیں یا بہت سارے احکامات ہماری شریعت میں شروع میں تھے اور بعد میں نسخ ہوگئے۔
نتیجہ: 🌺
شریعت میں تبدیلی ہے لیکن حکم عقل ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے اور تبدیلی ممکن نہیں۔
یعنی ان چیزوں میں تبدیلی نہ ہونا یہ دلیل ہے کہ یہ عقلی اور ذاتی ہیں اور ہمیشہ سے ہیں اور ایسے ہی رہیں گے۔ انہیں شریعت نے ایسا نہیں کہا بلکہ شریعت نے آکر ان کی تائید کی ہے۔
یہ تین دلائل ہیں کہ جن کی وجہ سے شیعہ اور معتزلہ (عدلیہ) نے کہا کہ اس سے پہلے کہ شریعت افعال پر کوئی حکم لاگو کرے یہ خود ایک حقیقت رکھتے ہیں۔ اور یہ حقیقت عقل درک کرتی ہیں کہ ان افعال پہ یا مذمت ہوگی یا ان کی تعریف ہو گی۔ اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ خدا نے ہی ہمیں شعور عطا کیا ہے اور اچھے برے کی تمیز سیکھائی ہے۔ اور شریعت نے آکر اس پہ تاکید کی ہے۔ اور جہاں عقل نہ درک کر سکے تو پھر وہاں شریعت بیان کرتی ہے۔ ہو سکتا ہےکہ بعض چیزوں کے بارے میں کہا گیا کہ فلاں جانور کا گوشت کھاؤ اور فلاں کا نہ کھاؤ ہو سکتا ہے کہ یہاں ہماری عقل درک نہ کر سکے تو وہاں شریعت خود بیان کرتی ہے۔ اور جہاں تمام دنیا کسی چیز کے اچھے برے کو سمجھتی ہے اور متفق ہے تو وہاں شریعت آکر بیان نہیں کرتی بلکہ تائید کرتی ہے۔
یہ وہ مسئلہ ہے کہ جس میں اہل عدالت آکر کر اپنی دلیلیں دیتے ہیں اور اپنے نظریہ کو ثابت کرتے ہیں۔ انشاءاللہ آئندہ درس میں دیکھیں گے کہ مخالفین کیا دلیلیں رکھتے ہیں۔ ⭐
یہ ایک فکری بحث ہے اور پروردگار ہم سب کو اپنے زمانے کے امامؑ کا فکری سرباز و ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔
والسلام۔ 🤲
خلاصہ و پیشکش: ✍️
سعدیہ شہباز
عالمی مرکزمہدویت قم۔ 🌍
🔆درس عقائد (عدل)🔅
#درس 3
# عدالت کے منکرین اشاعرہ (دیوبندی و بریلوی،وھابی وغیرہ) کے دلائل ،دو دلائل اور انکا رد
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* : 📜🌟
*موضوع سخن* : *بحث عدل ہے۔ ⚖️*
گذشتہ درس میں عدلیہ مکتب کہ جس میں شیعہ بھی ہیں اور اہل سنت کا مکتب معتزلہ ہے ان کے دلائل پیش کئے گئے۔ آج اہلسنت مکتب عدالت کے منکرین اشاعرہ مسلمان بھائی (دیوبندی و بریلوی،وھابی وغیرہ اور ایک فرقہ ماتریدیہ وہ بھی اشاعرہ سے ملتا جلتا ہے ) کے دلائل پیش کریں گے۔
*مکتب اشاعرہ کے دلائل👇اس مکتب نے چار دلائل پیش کیئے*
*آج پہلی دو دلیلیں جو علامہ حلی ؒ کی عقائد کی کتاب کشف المراد سے پیش ہوں گی۔*
*پہلی دلیل:* 🫴
سب سے پہلے دلیل جو ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ چیزیں عقلی ہیں کسی چیز کو اچھا قرار دینا یا برا قرار دینا تو پھر جس جگہ پر بھی حکم عقلی باقی ہے یعنی ہماری زندگی کے مسائل ہیں تو ان میں اور ان میں فرق نہیں ھونا چاہیے۔
ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ کُل جز سے بڑا ہے یا نہیں ایک پورا جو مجموعہ مکان ہے یہ کل ہے اور اس کا کمرہ ھآل باورچی خانہ، صحن یہ سب جز حصہ ہے۔ جیسے نماز کُل ہے اور رکوع سجود اس کا جز ہیں ۔
کہتے ہیں کہ حکم عقل یہ ہے کہ : کل جز سے بڑا ہے ۔ بس یہ جو عقل کا حکم ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے اور آپ جس چیز کو کہتے ہیں عقلی ہے ۔ مثلاً عدل اچھا ہے ظلم برا ہے۔
بس ہم اس میں ساتھ اختلاف کر رہے ہیں تو حکم عقل میں اختلاف نہیں ہے۔ حکمِ عقل سب کے لیے واضح ہے تو بس اس کا مطلب یہ ہے کہ:
عدل و ظلم کی بات عقلی ہی نہیں ہے وہ شرعی ہے۔ اختلاف والی چیزیں وہاں ہم شریعت کے محتاج ہیں وہاں شریعت آئے اور حکم بیان کرے۔ اگر عقلی ہوتا تو پوری دنیا میں کسی کو اختلاف نہ ہوتا۔
*جواب* :🔆🌟
اس کا جواب ہمارے علما جو دیتے ہیں کہ احکام عقلیہ میں فرق ہے بعض احکام عقلیہ کو سمجھنا آسان ہے اور بعض میں تھوڑی سی دقت کرنی پڑتی ہے مثلاً ریاضی کے مسائل عقلی ہے ،مثلاً
یعنی دو اور دو چار ہے۔ اس کو سارے سمجھتے ہیں یا کل جز سے بڑا ہے۔
لیکن! جیسے ہی آپ ریاضی میں آگے بڑھتے جائیں گے اب ضرب جو ہے اس سے بڑی ہے۔
مثلاً ۔آٹھ کو آٹھ سے ضرب دیں تو تھوڑا سا مشکل ہو جائے گا جیسے ضرب بڑھاتے جاٸیں گے تقسیم آجائے گی اور جو ریاضی کے قوانین ہے وہ جیسے جیسے ریاضی کے مسائل یہ ساری عقلی ہیں اور ان کے لیے کلاس لینی پڑے گی۔ تو ھمارے علما یہ کہتے ہیں کہ احکام عقلیہ ساری واضح نہیں ہیں جب آپ سمجھ جاتے ہیں تو پھر واضح ہوتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے سمجهنے کے لیے پڑھنا پڑے اور کلاسزز لینی پڑیں۔
تو یہ جو عدل اچھا ہے اور پوری دنیا میں ظلم برا ہے تو ہوسکتا ہے کہ کسی کو اس کا معنیٰ سمجھ نہ آئے تو ضروری ہے کہ پہلے ان کو عدل اور ظلم کا معنیٰ سمجھائیں اور بتائیں۔ اور جب اس پر معنی واضح ہو جائے گا تو پھر وہ سمجھ جائے گا کہ عدل اچھا ہے اور ظلم برا۔
پس اگر اختلاف ہے تو وہ سمجھنے میں دقت کی وجہ سے ہے۔ نہ کہ بہت واضح ہے کیونکہ واضح چیزوں میں اختلاف نہیں ہوتا۔ تو ہمارے علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ بھی حکم عقلی ہی ہے۔
*دوسری دلیل :* 🫴
دوسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ؛
اگر عدل اور ظلم حکمِ عقلی ہے تو ہر لحاظ سے عقل اسے اچھا اور اُسے برا کہے۔ کیوں عقل ایک ہی چیز کو ایک مقام پر تو اچھا کہتی ہے اور ایک مقام پر برا کہہ دیتی ہے۔
*مثال کے طور پر :* 🪻
اگر سچ اچھا ہے اور جھوٹ برا ہے۔ تو اگر جھوٹ سے ایک مومن کی جان جا رہی ہے تو یہ برا ہے لیکن اگر اسی جھوٹ سے ایک نبیؑ کی جان بچ رہی ہے تو جھوٹ اچھا ہے۔
پس اس حساب سے سچ یہاں برا ہوگیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگیا کہ کبھی تو جھوٹ اور سچ اچھے ہوتے ہیں اور کبھی برے تو عقل تو یہاں حیران ہو جائے گی اور اسے سمجھ نہیں آئے گی ۔ تو یہاں ہم شریعت سے پوچھیں گے اور شریعت کہے گی کہ یہاں سچ بولو اور یہاں جھوٹ۔ تو بس یہ احکام شریعہ ہیں نہ کہ احکام عدلیہ۔
*جواب* : 💎
اس کا جواب ہمارے علماء یوں دیتے ہیں کہ جھوٹ ہمیشہ برا ہی ہے اور سچ ہمیشہ ہی اچھا ہے۔ لیکن کسی وقت دو چیزیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ ایک مہم ہے اور ایک اہم ہے۔ مثلاً فرض کریں۔ جھوٹ بولنا برا ہے اور اس سے بچنا مہم ہے لیکن ایک مومن یا پیغمبرؐ کی جان بچنا اہم ہے۔ تو نتیجہ یہ ہے کہ جو اہم ہے جس کی ضرورت زیادہ ہے ہم اس کو دوسروں پر ترجیح دیں گے۔ یعنی جھوٹ بولنا بھی قبیح ہے لیکن نبی کی جان جانا زیادہ قبیح ہے تو ہم نبیؑ کی جان بچانے کے لیے تھوڑا سا قبیح اختیار کریں گے تو یہ یقیناً عقلی ہے۔
جیسے ہم اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم اپنی زندگی کے اندر مختلف مسائل میں قدم رکھتے ہیں کہ ایک کام کرنے سے تھوڑا مالی نقصان ہو رہا ہے دوسرے میں زیادہ ہو رہا ہے اور دونوں میں سے ایک کرنا ضروری ہے اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ تو پھر ہم اس میں سے تھوڑے نقصان کو برداشت کرتے ہیں اور سارے لوگ کہتے ہیں یہ ٹھیک کیا ہے اور عقل بھی کہتی ہے کہ ٹھیک کیا ہے۔
خدا نہ کرے کوئی انسان ایسی بیماری میں مبتلا ہو تو اسکا علاج کروانا ہے تو علاج میں دو صورتیں ہیں۔ یعنی ایک صورت ایسی ہے جس میں جان جانے کا خطرہ ہے ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں تھوڑا سا درد ہوگا اور تھوڑی تکلیف ہو گی لیکن بالآخر ٹھیک ہوجائیں گے اور دوسری صورت ایسی ہے کہ جس میں انسان ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن جان لیوا ہے جیسے کہتے ہیں کہ آپریشن کرانے سے جان کا خطرہ ہے لیکن اگر یہ ادویات کھائیں گے تو تھوڑا سا وقت علاج طویل تو ہوگا لیکن آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ تو لوگ کس کو ترجیع دیں گے۔ یعنی علاج میں دونوں صورتوں میں تکلیف ہے تو انسان کم تکلیف والے علاج کو ترجیح دے گا۔
*یا* :
اگر دو راستے ہیں دونوں میں بہت زیادہ خطرہ ہے ایک میں خطرہ کم ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے انسان اس راستے کو ترجیح دے گا جس میں کم خطرہ ہے۔ تو ہمارے علماء یہ کہتے ہیں کہ:
جھوٹ ہمیشہ سے ہی برا ہے لیکن اگر نبیؑ یا مومن کی جان بچانے کے لیے بولا جائے تو پھر اچھا ہے۔ اور سب اسے ترجیح دیتے ہیں۔ اور دونوں میں ٹکراؤ ہو تو شریعت کے حکم پر چلیں تو جھوٹ بولنا اچها ہے۔ اور تھوڑے سے برے پہلو کو برداشت کر لیا جاتا ہے بڑے نقصان سے بچنے کے لیے تو بس 👈 یہاں بھی حکم عقل ہے کہ جب ٹکراؤ پیدا ہو یعنی دونوں چیزیں واجب ہیں ۔ جھوٹ سے بچنا اور نبیؑ کی جان بچانا دونوں واجب ہیں تو جب دونوں میں ٹکراؤ ہو۔ یا دو حرام میں ٹکراو ہو تو پھر اس کو حل کریں گے کے جو اہم ہو۔
دو واجب میں سے ایک بجا لانا ہے اور دو حرام میں سے ایک سے پرہیز کرنی ہے تو پھر اس میں جہاں فائدہ ہو اس بجا لائیں اور جہاں نقصان زیادہ ہے اس سے بچیں تو یہ کاملاً ایک عقلی روش ہے ۔ بس ہم حُسن و قبح میں عقل کے تابع ہے نہ کہ شریعت کے۔
*نتیجہ* : 🌟🌟
اچھائی اور برائی جیسے عدل اور ظلم عقلی ہیں اور شریعیت عقل کی تائید میں آتی ہے۔ نہ کہ یہاں عقل حیران و پریشان ہے کہ ہم شریعت سے لیں۔
جاری ہے
*والسلام* 🤲
خلاصہ و پیشکش:✒️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔*🩵
🔆درس عقائد (عدل)🔅
#درس 4 🩵
# عدالت کا ایک اہم مسئلہ پروردگار کا حکیم ہونا، حکیم کا معنی ، اشاعرہ کا عقیدہ اور مکتب تشیع کا جواب
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
🌴خلاصہ:🌴
*موضوع سخن : پروردگار کی عدالت ہے۔ ⚖️*
اس سلسلے میں ہم نے مکتب اہل تشیع اور اہلسنت کے اختلاف کو بیان کیا اور واضح کیا کہ ہم کیوں عدل کو اصول دین میں پیش کرتے ہیں اور عدلیہ کہلاتے ہیں۔
مباحث عدل کے اندر ایک اہم مسئلہ پروردگار کا حکیم ہونا ہے۔ یہ بھی مسئلہ عدل ہے اور اس میں بھی اختلاف جاری ہے۔
مکتب اہلبیتؑ کا یہ نظریہ اور عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے یعنی صاحب حکمت و دانائی ہے۔ یعنی اللہ اشیاء کے حقائق کو جانتا ہے۔ حکیم یعنی بہت بڑا عالم ، جو بابصیرت اور بلندترین اخلاقی و فکری کمالات کا بھی مالک ہو۔ حکیم یعنی جس کام کو انجام دیتا ہے اس کام کی مصلحت کو بھی سمجھتا ہے اور جس کام سے روکتا ہے اس کے نقصان اور ضرر کو بھی جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنا تعارف حکیم بھی کرایا ہے۔ اور ہماری اس بحث عدل سے حکیم کا تعلق کیسے ہوا وہ اس اعتبار سے کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ چونکہ حکیم ہے اس لیے اس سے کبھی بھی کوئی قبیح فعل صادر نہیں ہو گا۔
پروردگار عالم کبھی بھی کسی نیک شخص، نبی یا شہید کو جہنم میں نہیں ڈالے گا اور کبھی بھی برے ، ظالم اور جابر کو جنت میں نہیں بھیجے گا۔
پروردگار کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتا اور تکلیف نہیں دیتا کیونکہ وہ حکیم ہے۔ خدا خود کسی شخص پر یا کسی امت پر ظلم نہیں کرتا کیونکہ وہ حکیم ہے۔
*اس موضوع کےاندر دو نظریے ہیں۔ 🪻🪻*
اہل تسنن کا مشہور کلامی فرقہ وہی اشاعرہ اور ماتریدیہ یہاں آکر اس بات کا بھی انکار کر دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بحث فضول ہے۔ اللہ جو کام کرے گا وہ کام صحیح ہے۔ آپ کو حق نہیں کہ آپ خدا کے کاموں میں صحیح اور غلط کی تشخیص کریں۔ خدا جو کر رہا ہے وہ صحیح ہے اورجو نہیں کر رہا وہ غلط ہے۔ مثلاً اگر اللہ نے ارادہ کیا ہے ظلم کا تو پھر ظلم ٹھیک ہے اور اگر اللہ نے نیکوں کو جہنم میں ڈالنا ہے تو بس پھر وہی صحیح ہے کہ نیک لوگ جہنم میں جائیں۔
اب یہاں مکتب عدلیہ یا مکتب اہلبیتؑ یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے ۔ اچھائی یا برائی خود افعال کی ذات میں موجود ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ کون سی چیزیں صحیح ہیں اور کون سی غلط اور اللہ نے یہ تشخیص کی طاقت اور عقل ہمیں دی تو وہ خود کبھی بھی غلط کام انجام نہیں دے سکتا۔
اب اللہ تعالیٰ غلط کام انجام نہیں دے سکتا تو اس حوالے سے پہلے مرحلے میں چار نکات پیش کیے جاتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ جو شخص غلط کام کرتا ہے تو اس کی چار میں سے ایک وجہ ہوتی ہے اور یہ وجہ اللہ کی ذات میں نہیں۔ مثلاً:
1۔ 💎 وہ شخص غلط کام کرتا ہے جو بے پرواہ ہو۔ اور وہ کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فضول کام انجام دیتا ہے۔ اور اللہ نہ تو فضول کام کرتا ہے اور نہ ہی وہ لاپرواہ ذات ہے۔
2۔ 💎 وہ شخص غلط کام کرے گا جو جاہل اور نادان ہو۔ اور اسے معلوم نہ ہو کہ یہ بات غلط ہے۔ یہ بات بھی اللہ کے حوالے سے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اللہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ہے۔ وہ ہر شئ کو جانتا ہے۔
3۔ 💎 وہ شخص جو جانتا ہے کہ یہ کام غلط ہے اور وہ اپنی کسی مجبوری میں کر رہا ہے۔ اللہ کے حوالےسے یہ صحیح نہیں ہے۔ چونکہ اللہ غنی مطلق ہے وہ بے نیاز ہے اور اسے کوئی چیز بھی مجبور نہیں کر سکتی۔
4۔ 💎 یا پھر وہ شخص غلط کا کرے گا جسے کوئی ظالم مجبور کرے کہ یہ کام کرو۔ یہ بات بھی اللہ کے حوالے سے غلط ہے۔ کیونکہ وہ قادر مطلق ہے اور اسے کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔
بس ہم ان چار نکات کو سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں کوئی معقول وجہ سامنے نہیں آرہی کہ ہم اللہ کی طرف نسبت دیں کہ وہ کوئی قبیح فعل کرے۔ خدا کبھی کوئی قبیح فعل نہیں کرے گا۔ وہ قادر مطلق ہے۔ با ارادہ ہے۔ صاحب اختیار ہے اور سب سے بڑا عالم ہے اور چیزوں کے بارے میں اچھائی اور برائی سمجھتا ہے۔ اور جو خود ہمیں غلط کاموں سے روکتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اس سے کوئی غلط فعل صادر ہو۔ بس تو جو چیز قبیح ہے وہ محال ہے کہ اللہ سے صادر ہو۔ اللہ ان چیزوں سے منزہ ہے۔
البتہ اس نظریہ اہل تشییع کو مخالفین قبول نہیں کرتے۔ کہ ہم چیزوں کے صحیح یا غلط کا معیار اپنی عقل یا چیزوں کی ذاتی حیثیت کو نہیں دیں گے بلکہ اللہ کے فعل سے سمجھیں گے۔
جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نہیں خدا نے کچھ چیزوں کو ایسا پیدا کیا ہے تو وہ ذاتاً ہمیں غلط نظر آ رہی ہیں۔ جیسا کہ ظلم ہمیں ذاتاً غلط نظر آ رہا ہے نہ کہ خدا روکے گا تو وہ رکےگا۔
اگر ہم دنیا کے کسی بھی مکتب یا دین میں چلیں جائیں سب کا یہ کہنا ہے کہ ظلم ، جھوٹ اور کسی کا حق کھانا غلط ہے۔ اللہ نے ہمیں عقل و شعور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں اللہ با اختیار ہے کر سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر خدا نہ کرے نعوذ باللہ اگر خدا سے غلط کام ہو تو پھر لوگوں کا خدا سے اطمینان اٹھ جائے گا۔ اور پھر کسے لوگوں کو اعتماد رہے گا کہ خدا ہمیں جنت دے گا۔ اور دشمنوں اور مخالفین کو جہنم میں ڈالے گا۔
یا اگر خدا سے غلط کام ہو سکتا ہو تو پھر اس کے بھیجے سفیروں اور انبیاؑ پر یا آئمہ ؑ پر لوگ کیسے اعتماد کریں گے۔ کیونکہ ایک غلط کام وعدہ خلافی بھی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ سارے کہیں کہ ہم اتنی کوشش کریں محنت کریں خود کو پاکیزہ رکھیں ، عیش و نوش اور گناہوں سے پرہیز کریں لیکن آخر میں خدا وعدہ خلافی کر دےاور ہمیں کچھ نہ ملے۔ اس طرح تو تمام نظام درھم برھم ہو جائے گا۔ 🔮
ہمارا پہلا وظیفہ یہ ہے کہ پروردگار کی تسبیح کریں اور اسے منزہ اور پاک سمجھیں۔
*پروردگار عالم ہم سب کو صحیح عقیدہ رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔*
آمین۔ 🤲
والسلام
خلاصہ و پیشکش: ✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍*
🔆درس عقائد (عدل)🔅
#درس 5
#آیا خدا فعل قبیح پر قادر نہیں یا بجا نہیں لاتا؟ خدا کی اپنے افعال میں کوئی غرض و غایت ہے یا نہیں؟ اسلامی مکاتب کا اختلاف اور مکتب اہلبیت علیم السلام کی رائے
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* : 🩵
موضوع سخن: پروردگار کی عدالت ہے اس حوالے سے کچھ مسائل بیان ہوئے۔
موضوع عدل کافی وسیع ہے۔ اس میں بہت سے موضوع، مسائل اور نکات ہیں جس میں مکاتبِ اسلامی آپس میں اختلاف رکھتے ہیں اور باآلاخر ہر مسئلے میں مکتب تشیع اپنی ایک نظررکھتا ہے اور ہم اسی درس کے عنوان سے وہ نظر جو مکتب اہلبیتؑ نے بیان کی اسے بیان کرتے ہیں۔
ایک مسئلہ جو مختلف اسلامی فرقوں نے چھیڑا وہ یہ ہے کہ:
آیا ﷲ تعالی غلط کام پر یا قبیح کام پر طاقت رکھتا ہے؟ یا نہیں رکھتا یا رکھتا ہے لیکن اس کا ارتکاب نہیں کرتا یا اصل طاقت ہی نہیں رکھتا؟🔮
اب یہ مسئلہ بھی چونکہ عدل کے عنوان سے موضوع بحث بنا۔ عدل یہی ہے کہ ہر چیز اپنے مقام پر ہو۔
آیا ﷲ کی ذات و صفات جیسے ہمیں شناخت ہے وہاں ایسی بات ممکن ہے یا نہیں؟ انسانوں میں تو یہ ممکن ہے کہ وہ غلط کام پر طاقت بھی رکھتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔
*ﷲ کی ذات کیسی ہے؟🫴اس میں دو نظریے ہیں:*
ا۔ 🌟عام طور پر مکتب اہل بیت اور کچھ اہل سنت جو معتزلی ہیں ان کا نظریہ یہی ہے کہ پروردگار فاعل مختار ہے، ﷲ صاحب اختیار ہے اور قادر مطلق ہےاور وہ ہر چیز پر طاقت رکھتا ہے لیکن وہ بعض چیزوں کو یعنی غلط کام کو انجام نہیں دیتا ۔ کیونکہ پروردگار حکیم ہے صاحبِ حکمت و علم ہے اور وہ غنی مطلق ہے۔
جو غلط کام کرتے وہ کیوں کرتے ہیں؟ یا تو انہیں غلط کام کا پتہ نہیں ہوتا جاہل ہیں یہاں ﷲ عالم مطلق ہے۔ یا انہیں ضرورت ہوتی ہے غلط کام کی۔ خداغنی و بے نیاز ہے یا وہ غلط کام کو نہیں سمجھتے اور اس کے اثرات کو نہیں سمجھتے۔ پروردگار صاحبِ حکمت ہے تو اس لیے خدا یہ کام کبھی نہیں کرے گا یعنی افعال کے اعتبار سے محال ہے ﷲ کی ذات کے حوالے سے۔☘️
بعض معتزلی کہتے ہیں👈 کہ ﷲ قادر ہی نہیں ہے ہم مکتب اہلبیتؑ یہ کہیں گے کہ نہیں خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن یہ کام خدا کی ذات سے دور ہے وہ منزہ و پاک ہے۔
اصل میں یہ مسئلہ شروع اس طرح ہوا کہ مکتب اشاعرہ اکثر ہمارے پاکستان میں حنفی اہل سنت ہیں وہ یہی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا اگر چاہے تو بُروں کو جنت میں ڈال دے اگرچہ یہ بات ہمارے لیے قبیح ہے اور اگر چاہے تو نیکوں کو جہنم میں ڈال دے یہ بھی ہمیں قبیح لگے گی کیونکہ اسے ہماری عقل قبیح سمجھتی ہے۔ تو خدا ایسے کام نہیں کرے گا کیونکہ وہ تو ہمیں ایسے کاموں سے منع کرتا ہے تو وہ خود بھی ایسے کام کیسے کرے۔
2۔ 🌟 ایک اور مسئلہ عدل کے موضوع کے اندر ہی اسلامی مکاتب کے اندر موضوع بحث بنا وہ یہ کہ: جس طرح ہم لوگ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو ہماری کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے کام کرنے کی اور ہم اپنے اس غرض کے مطابق کام کرتے ہیں۔
آیا 🫴 ﷲ کے کام اس کی بھی کوئی غرض ہے یا وہ بے غرض ہے: یہی جو ہمارے سامنے اشاعرہ (اہلسنت) ہیں وہ اکثر کہتے ہیں ﷲ کے کاموں میں کوئی غرض نہیں ہے۔
*باقاعدہ ان کا ایک مشہور جملہ ہے:👇☘️*
"ہم اس کے نام سے شروع کرتے ہیں کہ جس کے اپنے افعال میں کوئی غرض نہیں"۔
یعنی گویا خدا بے ہدف اور بے غرض کام کر کر رہا ہے جیسے کوئی ربورٹ یا کوئی الیکٹرونک مشین *نعوذ باللہ!*
*شیعہ اور معتزلہ جو اہل سنت میں فرقہ ہے ہم اس کے مدمقابل کہتے ہیں کہ ﷲ کے تمام کاموں کی غرض ہے۔ کیوں غرض ہے؟*
بآلاخر خدا فاعل مطلق ہے، صاحب اختیار ہے صاحب ارادہ و حکمت ہے۔ جب اس نے ہم جیسے چھوٹے چھوٹے موجودات کو بنایا جو ہر چیز میں ایک غرض رکھتے ہیں تو وہ جو سب سے بڑا فاعل ہے وہ کیوں نہیں غرض رکھ سکتا۔
چونکہ سب دنیا کے عاقل اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی فعل کوئی کام بغیر کسی غرض کے ہو تو وہ فضول بیہودہ اور عبس ہوتا ہے۔ اور ﷲ کی ذات ان فضول، بیہودہ اور عبس چیزوں سے پاک و منزہ ہے۔
*خدا اور ہماری غرض میں فرق:* 💎
اللہ کی بھی غرض ہوتی ہے ہاں لیکن خدا کی ہماری غرض میں فرق یہ ہے کہ ہمارے سارے کاموں غرض ہمارے اپنے لیے ہوتی ہے ہم نے اس سے ایک چیز لینی ہوتی ہے جبکہ ﷲ کے افعال میں جو غرض ہے وہ ﷲ کی طرف نہیں لوٹتی خدا کو کسی چیز کی ضرورت نہیں وہ بے نیاز ہے۔ اس کی غرض ہماری طرف ہی لوٹ رہی ہوتی ہے۔ *مثلاً نماز کا حکم دیا تو اس کا فائدہ بھی ہمیں ہی ہو رہا ہوتا ہے نہ کہ خدا کو۔*
*خدا کے افعال کی غرض میں ہمیں ہی نقصان ہوتا ہےخدا ہمیں منع کرتا ہے ۔*
*جیسے قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت 190 میں ﷲ فرما رہا ہے کہ:* 🌻
اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِى الْاَلْبَابِ (190)🌹
بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
صاحبان عقل ﷲ کو حالت قیام میں قنوت میں اپنے پہلو میں ﷲ کا ذکر کرتے ہیں اور آسمانوں و زمین کی خلقت میں سوچ و بچار کرتے ہیں اور کہتے ہیں پروردگارہ تو نے یہ سب کچھ فضول اور باطل خلق نہیں کیا اور ہمیں ﷲ تعالی تو عذاب جہنم سے دور رکھ۔ تویہاں ساری اغراض مخلوقات کی طرف لوٹتی خدا تو کسی چیز کا محتاج نہیں۔ وہ نہ بھی جہان بناتا وہ پھر بھی خدا تھا۔ یہ اس کے وجود اور صفات کا تقاضا ہے کہ وہ تخلیق کرے وہ رزق دے وہ زندگی دے۔ جیسے سورج جب روشنی دیتا ہے تو وہ محتاج نہیں بلکہ اس کے وجود کا تقاضا ہے کہ وہ دنیا کو روشنی دے اور اس کے وجود کی روشنی سے نبادات جمادات، حیوانات انسان سب استفادہ کریں۔
وہ خود محتاج نہیں ہے وہ منبع نور ہے اور نور دیتا ہے البتہ یہ مثال ہے۔ پروردگار منبع کمال ہے وہ کمالات دیتا ہے۔ خدا کے اندر جتنے بھی کمالات ہیں یہ ان کے تقاضے ہیں کہ جہاں اتنا بڑا بنا ہوا اوراس میں اتنے کام ہو رہے۔ اور پھر خدا کے تمام کمالات کا ہدف بھی یہی ہے کہ ہم بھی کمالات تک پہنچیں۔ ہم قبح اور غلط کاموں سے محفوظ ہوں اور اللہ کی بارگاہ میں ترقی کریں اور خدا نے کہا ہے جیسے *حدیث قدسی ہے کہ:* 🌻
اے میرے بندے تو میرے کاموں میں مجھ جیسا ہو۔ یعنی دوسروں کی خیرخواہی کے لیے کام کر۔
خلاصہ یہ ہے کہ پروردگار کی جو غرض ہے وہ موجودات کے لیے ہے۔ اس کے افعال غرض رکھتے ہیں لیکن فائدہ موجودات اٹھاتے ہیں۔ ہر ہر چیز کو اللہ نے جو خلق کیا ہے تو اس کا ایک ہدف ہے۔
*قرآن میں ایک جگہ ﷲ فرماتا ہے🌹*
"میں نے جن و انس کو خلق کیا کہ وہ عبادت کریں"
یہاں اللہ نے تخلیق کی غرض بیان کی اور عبادت کی غرض یہ کہ لوگ کمال پائیں۔💎
والسلام۔ 🤲
خلاصہ و تحریر :✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍*
🔆🌴درس عقائد (عدل)🌴🔅
#درس 6
#گذشتہ ابحاث عدل پر دوبارہ ایک نظر، عدل کی بحث کیوں ضروری ، عدل کا معنی اور عدل کی اقسام، عدل تکوینی، عدل تشریعی، عدل جزائی
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :🩵
موضوع سخن : عدل الہیٰ ہے اس حوالے سے کچھ موضوعات بیان ہوئے۔
عدل جو ہے یہ اصولِ دین کے اندر ہمارے مذہب میں پانچ اصولِ دین میں سے ایک ہے۔
1)💠 توحید
2)💠عدل
3) 💠نبوت
4) 💠امامت
5)💠 قیامت
لیکن جو باقی مکاتب فکر ہیں ان کے اندر
۔ توحید
۔ نبوت
۔ قیامت ہے۔
*ہم نے عدل کو کیوں اصولِ دین میں شامل کیا؟🫴*
عدل الہی کا موضوع بہت وسیع ہے اگر ہم عدل الہی کو صحیح طریقے سے سمجھیں گے تو ہمیں کائنات کے اندرجو کچھ ہو رہا ہے اس کی بھی سمجھ آئے گی۔ اور ﷲ جو ہمارے لیے دین بھیج رہا ہے کیوں بھیج رہا ہے اس کی بھی سمجھ آئے گی۔ اور یہ جو قیامت بپاء ہو گی اور اس میں ﷲ نے جو جزا و سزا کا نظام قائم کرنا ہے اسکی بھی سمجھ آئے گی۔
لہذا اگرچہ یہ ایک صفت ہے کہ ﷲ عادل ہے اور توحید کے اندر بھی اس پر اشارہ ہوا ہے لیکن اس کو بطور اصولِ دین ماننے کا مقصد یہ ہے کہ یہ وہ صفت ہے کہ جس کی اس وقت کائنات میں سب سے زیادہ تجلّی ہے اور سب سے زیادہ کائنات میں چھائی ہوئی ہے اور ہمارے لیے اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
*موضوع عدل کا ہماری زندگی پر اثر:🔮💎*
اس کا ہماری زندگی پر بھی بڑا اثر ہے جب ہم عدل الہی کو سمجھیں گے تو خود موضوع عدل کا ہماری زندگی، تربیت، اخلاق اور بالخصوص معاشرتی روابط میں بھی گہرا اثر پڑے گا۔
اگر ہم اپنی زندگی کا خلاصہ کریں تو انسان کی زندگی بھی عادلانہ ہونی چاہیے یعنی ہر طرح کے ظلم سے پاک ہونی چاہیے۔ یعنی نہ اپنے اوپر ظلم کرے اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے۔
دوسری جو بات ہے کہ ہم نے عدل الہی کو اصولِ دین میں اس وجہ سے بھی شامل کیا کہ تاریخ میں ﷲ کے عدل کے موضوع پرمختلف مکاتبِ فکر کے علماء میں کافی جھگڑا رہا ہے ۔
ہمارے آئمہؑ معصوؑمین نے شروع سے ہی ﷲ کے عدل کے موضوع کو بیان کیا اور مذہبِ اہلبیتؑ کا جو عنوان ہے وہ عدلیہ قرار پایا یعنی اہلبیتؑ کے ماننے والے ﷲ کی توحید کے قائل ہیں۔ 🌺
اُس زمانے میں ایک جملہ تھا جو عام طور پر لوگوں کی زبانوں پر رہا کرتا تھا:
کہ:
*العدل و التوحید علویان ، و الجبر و التشبیه امویان* ☘️
توحید اور عدل یہ دو جو اصول ہیں یہ علؑی اور ان کے خاندان یعنی اہلبیتؑ کی نشانیاں ہیں۔ اور اس کے مد مقابل جو تشبیہ ہے یعنی ﷲ کو جو انسانوں کی طرح تشبیہ دیتے ہیں اس کے ہاتھ پاؤں کے قائل ہیں اور نظام جبر یعنی نظام عدل کے خلاف کہ ﷲ نعوذ باللہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے یہ دو اصول بنو امیہ کے خاندان کی ترویج اور ان کی علامت ہیں۔🔮
اہل سنت میں جو ایک فرقہ تھا معتزلہ وہ بھی ہمارے آئمہ ع کے مکتب اور نظریہ کی طرفداری کرتے تھے اور وہ بھی عدلیہ میں شامل ہوئے
اسی طرح ایک فرقہ تھا اشاعرہ۔ انہوں نے عدل کی ایک خاص تعریف کی اور جو معنیٰ ہم کہتے ہیں وہ اس کے قائل نہ ہوئے بلکہ اس کے مترادف انہوں نے انکار کیا اور یہ کہا کہ ﷲ اگر چاہے تو تمام مومنین کو جہنم میں بھیج دے اور تمام کفار و مشرکین کو جنت میں داخل کردے اور اس کا عمل عین عدالت ہے۔ تو انہوں نے عدالت کا یہ جو معنی کیا ہے تو اس بنا پر جو درواقع اللہ کی اصل عدالت کے منکر قرار پائے اور یوں وہ جدا نظر آئے۔ اور اسی طرح اب دو نظریے چلے آرہے ہیں۔
شیعہ اور معتزلہ یہ دونوں عدلیہ کہلائے اور اشاعرہ اور دیگر دوسرے مکاتب نے ﷲ کی عدالت کا انکار کیا تو نتیجتاً ان کے اصول میں بھی عدل نہیں ہے۔
👇
اب یہاں بہت سی چیزیں آگئیں ایک تو قضا و قدر کی بحث آگئی، جبر و اختیار کی بحث آگئی اور یہ جو بنو امیہ اور بنو عباس جو ظالم حکومتیں ہیں انہوں نے اسی موضوع پر کہ اللہ جو چاہے کر سکتا ہے ۔ انہوں نے یہی جواز اپنی حکومتوں میں پیش کیا ۔ کہ اللہ چاہتا ہے کہ آپ پر ظلم ہو وگرنہ اگر اللہ چاہتا تو ہمیں حکومتیں ہی نہ دیتا۔
*پس ہم یہاں دوبارہ عدل کا معنیٰ بیان کریں گے تاکہ واضح ہو جائے۔:🩵* 👇
عام طور پر ہمارے معاشرے میں جو عدل کا معنی لیا جاتا ہے وہ مساوات ہے یعنی دو شخصوں کے درمیان برابری کا قائل۔
مساوات🤌 ایک علیحدہ موضوع ہے لازمی نہیں ہے اس کا تعلق عدل سے ہو ہاں یہ عدل کا ایک حصہ ہے بعض دفعہ مساوات عدل کے خلاف بھی ہے بلکہ لوگوں کے حق ضائع ہونے کے خلاف ہے۔
مثلاً 🫴 آپ ایک کلاس کو پڑھاتے ہیں اور بطور معلم ہر ایک کو ایک ہی جیسے نمبر دے دیں تو یہ مساوات ہے لیکن عدالت کے خلاف ہے جس نے جتنی محنت کی ہو اس کو اس کے مطابق مارکس دئیے جائیں۔ یا پھر جیسے پیسے دینے میں ہم جاہل اور عالم سب کو ایک جیسے پیسے دیں تو یہ بھی عدل کے خلاف ہے جس کی جتنی محنت کی، جتنی اس کی شایستگی اور لیاقت ہے یا جو جتنے بڑے کام کر رہا ہے اس کے مطابق حق دینا چاہیے اسے سہولیات دینی چاہیں یہ عینِ عدالت ہے۔ تو لازمی نہیں مساوات حتماً عدالت ہو مساوات عدالت کا ایک حصہ ہے بعض موارد میں مساوات عدل ہے۔
*لہذا عدل کا ایک معنی یہ کیا جاتا ہے کہ:👇*
ہر شخص کو اس کا حق دینا اور ظلم یہ ہے کہ کسی کا حق ضائع کرنا۔🌺
دوسرے لفظوں میں عدل یعنی ہر چیز اپنے مقام پر قرار پانا اور یہ وہی معنی ہے جو امیرالمومنینؑ نے نہج البلاغہ میں حکمتوں کے باب میں 437 نمبر حکمت میں مولا نے خود یہ معنیٰ فرمایا ہے۔🌺
" *عدل یعنی ہر چیز کو اس کی مناسب جگہ پر قرار دینا۔"* 🪻
*عدل کی اقسام* 🌟
*تکوینی عدل: ☘️* 🌍
یعنی کائنات کے اندر جو نظام ہے اس میں ﷲ تعالی نے ہر چیز کو اس کی لیاقت کے مطابق نعمات عطا کیں ہیں۔
مثلاً اگر ہم کسی بھی مخلوق ہو انسان، حیوان، درخت اس کے اندر جو ظرفیت و قابلیت و استدعاء ہے اس کے مطابق ﷲ نے اسے نعمات دیں ہیں کہ ان کے جسموں کی، وجودوں کی تخلیق و نظام میں دیکھیں ان کی صلاحیتوں کو دیکھیں
کائنات میں جتنا بھی شب و روز کا نظام، کھانے پینے کا نظام موسموں کا نظام، ہواوں کا نظام ہے ہر چیز اسی طرح چل رہی ہے جس طرح چلنی چاہیے۔ لہذا جب کبھی گڑبر ہوتی ہے تو ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ دوبارہ ویسے ہوجائے اس کام مطلب ہر چیز ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے۔ اسے ہم کہتے ہیں عدل تکوینی۔
*عدل تشریعی:* 🔆
ﷲ نے ہمارے لیے جو شریعت، دین یا قانون بھیجے ہیں یہ ہماری طاقت کے مطابق ہیں اور اللہ نے کبھی بھی ہماری طاقت سے بڑھ کر نہیں چاہا ہے۔ جتنی بھی تکلیف شرعیہ ہیں وہی ہیں جن کو ہم کر سکتے ہیں ۔ کبھی بھی اللہ نے ہم سے وہ نہیں کہا جو ہماری طاقت سے باہر ہے۔ ﷲ انسان کو اس کی طاقت کے بھر کر کوئی حکم نہیں دیتا۔
مثلاً جتنے بھی احکامات ہیں۔ اگر نماز ہم کھڑے ہو کر پڑھنے پر قادر نہیں ہیں تو ﷲ کہتا ہے بیٹھ کر پڑھو اگر بیٹھ کر پڑھنے پر قادر نہیں ہیں تو لیٹ کر پڑھیں ایسا نہیں ہے کہ تم نے ہر صورت نماز پڑھنی ہے۔ یا اگر کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو اسے معاف ہے جب تک کہ وہ ٹھیک نہ ہو جائے تو جتنے بھی مسائل ہیں یعنی حج اس پر واجب ہے جس کے پاس مالی وسائل ہیں۔ زکوۃٰ و خمس اس پر واجب ہے جو مالی استدعاء رکھتے ہیں اگر وہ مالی طور پر مضبوط نہیں تو الٹا ان کو خود دی جائے تو تمام نظام شرعی کاملاً عدل پر ہے۔
*عدل جزائی* :⚖️
یعنی جب ﷲ روز قیامت لوگوں کو جزا و سزا دے گا تو ان کے اعمال کے مطابق دے گا۔ ایسا نہیں اگر کسی نے نیک اعمال کیے تو اس کو یا جس نے گناہ کیے ہوں اور برے عمل کئے ہوں تو اس کوجزا دے یہ کاملاً ﷲ کی عدالت کے مطابق ہے۔
والسلام۔ 🤲🏻
خلاصہ و پیشکش✍
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 💚
🔆🌴درس عقائد (عدل)🌴🔅
#درس 6
#گذشتہ ابحاث عدل پر دوبارہ ایک نظر، عدل کی بحث کیوں ضروری ، عدل کا معنی اور عدل کی اقسام، عدل تکوینی، عدل تشریعی، عدل جزائی
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :🩵
موضوع سخن : عدل الہیٰ ہے اس حوالے سے کچھ موضوعات بیان ہوئے۔
عدل جو ہے یہ اصولِ دین کے اندر ہمارے مذہب میں پانچ اصولِ دین میں سے ایک ہے۔
1)💠 توحید
2)💠عدل
3) 💠نبوت
4) 💠امامت
5)💠 قیامت
لیکن جو باقی مکاتب فکر ہیں ان کے اندر
۔ توحید
۔ نبوت
۔ قیامت ہے۔
*ہم نے عدل کو کیوں اصولِ دین میں شامل کیا؟🫴*
عدل الہی کا موضوع بہت وسیع ہے اگر ہم عدل الہی کو صحیح طریقے سے سمجھیں گے تو ہمیں کائنات کے اندرجو کچھ ہو رہا ہے اس کی بھی سمجھ آئے گی۔ اور ﷲ جو ہمارے لیے دین بھیج رہا ہے کیوں بھیج رہا ہے اس کی بھی سمجھ آئے گی۔ اور یہ جو قیامت بپاء ہو گی اور اس میں ﷲ نے جو جزا و سزا کا نظام قائم کرنا ہے اسکی بھی سمجھ آئے گی۔
لہذا اگرچہ یہ ایک صفت ہے کہ ﷲ عادل ہے اور توحید کے اندر بھی اس پر اشارہ ہوا ہے لیکن اس کو بطور اصولِ دین ماننے کا مقصد یہ ہے کہ یہ وہ صفت ہے کہ جس کی اس وقت کائنات میں سب سے زیادہ تجلّی ہے اور سب سے زیادہ کائنات میں چھائی ہوئی ہے اور ہمارے لیے اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
*موضوع عدل کا ہماری زندگی پر اثر:🔮💎*
اس کا ہماری زندگی پر بھی بڑا اثر ہے جب ہم عدل الہی کو سمجھیں گے تو خود موضوع عدل کا ہماری زندگی، تربیت، اخلاق اور بالخصوص معاشرتی روابط میں بھی گہرا اثر پڑے گا۔
اگر ہم اپنی زندگی کا خلاصہ کریں تو انسان کی زندگی بھی عادلانہ ہونی چاہیے یعنی ہر طرح کے ظلم سے پاک ہونی چاہیے۔ یعنی نہ اپنے اوپر ظلم کرے اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے۔
دوسری جو بات ہے کہ ہم نے عدل الہی کو اصولِ دین میں اس وجہ سے بھی شامل کیا کہ تاریخ میں ﷲ کے عدل کے موضوع پرمختلف مکاتبِ فکر کے علماء میں کافی جھگڑا رہا ہے ۔
ہمارے آئمہؑ معصوؑمین نے شروع سے ہی ﷲ کے عدل کے موضوع کو بیان کیا اور مذہبِ اہلبیتؑ کا جو عنوان ہے وہ عدلیہ قرار پایا یعنی اہلبیتؑ کے ماننے والے ﷲ کی توحید کے قائل ہیں۔ 🌺
اُس زمانے میں ایک جملہ تھا جو عام طور پر لوگوں کی زبانوں پر رہا کرتا تھا:
کہ:
*العدل و التوحید علویان ، و الجبر و التشبیه امویان* ☘️
توحید اور عدل یہ دو جو اصول ہیں یہ علؑی اور ان کے خاندان یعنی اہلبیتؑ کی نشانیاں ہیں۔ اور اس کے مد مقابل جو تشبیہ ہے یعنی ﷲ کو جو انسانوں کی طرح تشبیہ دیتے ہیں اس کے ہاتھ پاؤں کے قائل ہیں اور نظام جبر یعنی نظام عدل کے خلاف کہ ﷲ نعوذ باللہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے یہ دو اصول بنو امیہ کے خاندان کی ترویج اور ان کی علامت ہیں۔🔮
اہل سنت میں جو ایک فرقہ تھا معتزلہ وہ بھی ہمارے آئمہ ع کے مکتب اور نظریہ کی طرفداری کرتے تھے اور وہ بھی عدلیہ میں شامل ہوئے
اسی طرح ایک فرقہ تھا اشاعرہ۔ انہوں نے عدل کی ایک خاص تعریف کی اور جو معنیٰ ہم کہتے ہیں وہ اس کے قائل نہ ہوئے بلکہ اس کے مترادف انہوں نے انکار کیا اور یہ کہا کہ ﷲ اگر چاہے تو تمام مومنین کو جہنم میں بھیج دے اور تمام کفار و مشرکین کو جنت میں داخل کردے اور اس کا عمل عین عدالت ہے۔ تو انہوں نے عدالت کا یہ جو معنی کیا ہے تو اس بنا پر جو درواقع اللہ کی اصل عدالت کے منکر قرار پائے اور یوں وہ جدا نظر آئے۔ اور اسی طرح اب دو نظریے چلے آرہے ہیں۔
شیعہ اور معتزلہ یہ دونوں عدلیہ کہلائے اور اشاعرہ اور دیگر دوسرے مکاتب نے ﷲ کی عدالت کا انکار کیا تو نتیجتاً ان کے اصول میں بھی عدل نہیں ہے۔
👇
اب یہاں بہت سی چیزیں آگئیں ایک تو قضا و قدر کی بحث آگئی، جبر و اختیار کی بحث آگئی اور یہ جو بنو امیہ اور بنو عباس جو ظالم حکومتیں ہیں انہوں نے اسی موضوع پر کہ اللہ جو چاہے کر سکتا ہے ۔ انہوں نے یہی جواز اپنی حکومتوں میں پیش کیا ۔ کہ اللہ چاہتا ہے کہ آپ پر ظلم ہو وگرنہ اگر اللہ چاہتا تو ہمیں حکومتیں ہی نہ دیتا۔
*پس ہم یہاں دوبارہ عدل کا معنیٰ بیان کریں گے تاکہ واضح ہو جائے۔:🩵* 👇
عام طور پر ہمارے معاشرے میں جو عدل کا معنی لیا جاتا ہے وہ مساوات ہے یعنی دو شخصوں کے درمیان برابری کا قائل۔
مساوات🤌 ایک علیحدہ موضوع ہے لازمی نہیں ہے اس کا تعلق عدل سے ہو ہاں یہ عدل کا ایک حصہ ہے بعض دفعہ مساوات عدل کے خلاف بھی ہے بلکہ لوگوں کے حق ضائع ہونے کے خلاف ہے۔
مثلاً 🫴 آپ ایک کلاس کو پڑھاتے ہیں اور بطور معلم ہر ایک کو ایک ہی جیسے نمبر دے دیں تو یہ مساوات ہے لیکن عدالت کے خلاف ہے جس نے جتنی محنت کی ہو اس کو اس کے مطابق مارکس دئیے جائیں۔ یا پھر جیسے پیسے دینے میں ہم جاہل اور عالم سب کو ایک جیسے پیسے دیں تو یہ بھی عدل کے خلاف ہے جس کی جتنی محنت کی، جتنی اس کی شایستگی اور لیاقت ہے یا جو جتنے بڑے کام کر رہا ہے اس کے مطابق حق دینا چاہیے اسے سہولیات دینی چاہیں یہ عینِ عدالت ہے۔ تو لازمی نہیں مساوات حتماً عدالت ہو مساوات عدالت کا ایک حصہ ہے بعض موارد میں مساوات عدل ہے۔
*لہذا عدل کا ایک معنی یہ کیا جاتا ہے کہ:👇*
ہر شخص کو اس کا حق دینا اور ظلم یہ ہے کہ کسی کا حق ضائع کرنا۔🌺
دوسرے لفظوں میں عدل یعنی ہر چیز اپنے مقام پر قرار پانا اور یہ وہی معنی ہے جو امیرالمومنینؑ نے نہج البلاغہ میں حکمتوں کے باب میں 437 نمبر حکمت میں مولا نے خود یہ معنیٰ فرمایا ہے۔🌺
" *عدل یعنی ہر چیز کو اس کی مناسب جگہ پر قرار دینا۔"* 🪻
*عدل کی اقسام* 🌟
*تکوینی عدل: ☘️* 🌍
یعنی کائنات کے اندر جو نظام ہے اس میں ﷲ تعالی نے ہر چیز کو اس کی لیاقت کے مطابق نعمات عطا کیں ہیں۔
مثلاً اگر ہم کسی بھی مخلوق ہو انسان، حیوان، درخت اس کے اندر جو ظرفیت و قابلیت و استدعاء ہے اس کے مطابق ﷲ نے اسے نعمات دیں ہیں کہ ان کے جسموں کی، وجودوں کی تخلیق و نظام میں دیکھیں ان کی صلاحیتوں کو دیکھیں
کائنات میں جتنا بھی شب و روز کا نظام، کھانے پینے کا نظام موسموں کا نظام، ہواوں کا نظام ہے ہر چیز اسی طرح چل رہی ہے جس طرح چلنی چاہیے۔ لہذا جب کبھی گڑبر ہوتی ہے تو ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ دوبارہ ویسے ہوجائے اس کام مطلب ہر چیز ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے۔ اسے ہم کہتے ہیں عدل تکوینی۔
*عدل تشریعی:* 🔆
ﷲ نے ہمارے لیے جو شریعت، دین یا قانون بھیجے ہیں یہ ہماری طاقت کے مطابق ہیں اور اللہ نے کبھی بھی ہماری طاقت سے بڑھ کر نہیں چاہا ہے۔ جتنی بھی تکلیف شرعیہ ہیں وہی ہیں جن کو ہم کر سکتے ہیں ۔ کبھی بھی اللہ نے ہم سے وہ نہیں کہا جو ہماری طاقت سے باہر ہے۔ ﷲ انسان کو اس کی طاقت کے بھر کر کوئی حکم نہیں دیتا۔
مثلاً جتنے بھی احکامات ہیں۔ اگر نماز ہم کھڑے ہو کر پڑھنے پر قادر نہیں ہیں تو ﷲ کہتا ہے بیٹھ کر پڑھو اگر بیٹھ کر پڑھنے پر قادر نہیں ہیں تو لیٹ کر پڑھیں ایسا نہیں ہے کہ تم نے ہر صورت نماز پڑھنی ہے۔ یا اگر کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو اسے معاف ہے جب تک کہ وہ ٹھیک نہ ہو جائے تو جتنے بھی مسائل ہیں یعنی حج اس پر واجب ہے جس کے پاس مالی وسائل ہیں۔ زکوۃٰ و خمس اس پر واجب ہے جو مالی استدعاء رکھتے ہیں اگر وہ مالی طور پر مضبوط نہیں تو الٹا ان کو خود دی جائے تو تمام نظام شرعی کاملاً عدل پر ہے۔
*عدل جزائی* :⚖️
یعنی جب ﷲ روز قیامت لوگوں کو جزا و سزا دے گا تو ان کے اعمال کے مطابق دے گا۔ ایسا نہیں اگر کسی نے نیک اعمال کیے تو اس کو یا جس نے گناہ کیے ہوں اور برے عمل کئے ہوں تو اس کوجزا دے یہ کاملاً ﷲ کی عدالت کے مطابق ہے۔
والسلام۔ 🤲🏻
خلاصہ و پیشکش✍
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* 💚
🌴 درس عقائد (عدل)🌴
#درس 7
#قرآن و حدیث کی رو سے عدل الہی، آیا قرآن و حدیث میں عدل کا موضوع آیا ،قران و حدیث میں عدل کی تمام اقسام ذکر ہوئیں ، چند مثالیں، اللہ ظلم نہیں کسی پر ،یہ لوگ ہیں جو خود پر ظلم کرتے ہیں۔۔۔
🌹# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :📜🌟
*موضوع سخن: عدل الہیٰ ہے۔*
*قرآن و حدیث کی رو سے عدل الہی:🌷*
❓❓
*ایک سوال عام طور پر کیا جاتا ہے کہ آیا قرآن و حدیث میں عدل کا موضوع آیا؟*
*اس کا جواب یہ ہے کہ:* 🌟
قرآن مجید میں لفظِ عدل بیان نہیں ہوا۔ ہاں عدل الہیٰ بیان ہوا ہے وہ اس طریقے سے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حوالے سے ظلم کی نفی کی ہے تو خودبخود اللہ تعالیٰ کی عدالت یہاں ثابت ہوئی ہے۔
*پروردگار عالم سورہ یونس کی آیت نمبر44 میں فرما رہا ہے کہ:*
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ (44)🩵
بے شک اللہ لوگوں پر ذرہ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
*یعنی خدا ظالم نہیں ہے بلکہ یہ لوگ ہیں جو خود پر اور دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔*
*سورہ کہف کی آیت نمبر 49 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ:* 🌸
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا (49)
اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
*سورہ آل عمران کی آیت نمبر 108 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ:* 💎
وَمَا اللّـٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِيْنَ (108)
اور اللہ مخلوقات پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔
یہاں عالمین سے مراد تمام موجودات ہیں جو عاقل ہیں جیسے انسان، جنات اور فرشتے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہاں عاقل سے ہٹ کر بھی موجودات ہیں۔ البتہ مجموعی طور پر جو چیز واضح نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ایک عاقل ہی ظلم و عدل کو درک کرے گا۔ تو جو چیزیں عاقل ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا۔ اور بعض جو ہیں وہ پروردگار کی کائنات کی تمام امور کے اندر عدالت کے قائل ہیں
👇⚖️
یعنی: عدالت کی اقسام بیان ہوئیں
عدل تکوینی
عدل تشریحی
عدل جزائی۔
اس حوالے سے بعض آیات اللہ کی عدالت کو بیان کرتی ہیں۔
*جیسے سورہ آل عمران کی آیت* 18🌷
شَهِدَ اللّـٰهُ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلَآئِكَـةُ وَاُولُو الْعِلْمِ قَآئِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (18)🌷
اللہ نے اور فرشتوں نے اور علم والوں نے گواہی دی کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی انصاف کا حاکم ہے، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں زبردست حکمت والا ہے۔
بعض آیات شرعی امور میں اللہ کی عدالت کو بیان کر رہی ہیں۔
*سورہ المومنون 62* 🌟
وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۖ
اور ہم کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے
*سورہ الاعراف* 29 💎
قُلْ اَمَرَ رَبِّىْ بِالْقِسْطِ ۖ
کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے
اسی طرح بعض آیات عدل جزائی کے بارے میں ہیں۔ ⚖️
*سورہ الانبیاؑ ء* 47 🩵
وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ
اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا
*اسی طرح سورہ یونس کی آیت نمبر 4 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ: 🩵*
اِنَّهٝ يَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ لِيَجْزِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۚ
وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے
اسی طرح پروردگار فرما رہا ہے کہ:
*سورہ الاسراء* 15🌷
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّـٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (15)
اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے۔
*یعنی پہلے اللہ شریعت اور احکام بھیجتا ہے اور پھر معاملہ جزا اور سزا کا آتا ہے۔*
اسی طرح وہ قومیں اور ملتیں جو سرکش تھیں جیسے بنی عاد ، قوم ثمود، قوم لوط، قوم نوح جو عذاب الہیٰ کا شکار ہوئیں تو وہاں بھی پروردگار عالم یہی فرما رہا ہے کہ خدا نے تو کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم لوگوں نے خود پر ظلم کیا ہے اور اس ظلم کا نتیجہ ان کی تباہی ہے۔ 🔥
*سورہ توبہ آیت نمبر* 70
مَا كَانَ اللّـٰهُ لِيَظْلِمَهُـمْ وَلٰكِنْ كَانُـوٓا اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ🌷
سو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے☘
*سورہ روم آیت نمبر* 9
مَا كَانَ اللّـٰهُ لِيَظْلِمَهُـمْ وَلٰكِنْ كَانُـوٓا اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ (9)🪻
پھر اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔
❓❓
اب ہو سکتا ہے کہ کوئی پوچھے کہ قرآن مجید میں تو لفظ عدل نہیں آیا تو آیا ہماری احادیث و روایات میں آیا ہے۔ 🫴
*جواب* : 🌟
جی ہاں، خود نبیؐ کریم ، امیرالمومنینؑ اور آئمہؑ معصومینؑ کے فرامین کے اندر لفظ عدل آیا ہے۔
*جیسے نبیؐ کریم کا فرمان ہے🌸۔*
" یہ عدل (تکوینی) ہے کہ جس پر تمام آسمان و زمین استوار ہیں"۔
امیرالمومنینؑ نے ایک شخص کے جو توحید و عدل کے حوالے سے جو سوالات تھے اس کے بارے میں فرمایا: 🩵
*نہج البلاغہ خطبہ نمبر 185 میں فرمایا: 🌷*
توحید کی حقیقت یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہم پیدا نہ کریں یعنی اسے کسی مخلوق کی صورت میں نہ لائیں۔ جیسے مشرکین بت وغیرہ بناتے تھے ۔ اور عدل یہ ہے کہ اللہ کو متہم نہ کریں یعنی اس پر تہمت نہ لگائیں۔ یعنی جو چیز اس کی شان کے مطابق نہیں ہے وہ باتیں نہ کریں اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ:
' خدا اس سے برتر ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے اس نے اپنے بندوں اور مخلوق کے درمیان عدل کو بپا کیا ہے۔ اور اس نے اپنے حکم (احکام شرعی اور تکالیف شرعی) کے اندر بھی عدل کو جاری کیا ہے۔
*جاری ہے* ۔۔۔۔۔۔۔۔▪️▪️▪️
🌷اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اسی طرح ان تمام علمی اور دینی موضوعات پر غور و فکر جاری رکھیں۔ اور اپنے عقائد کو محکم کریں ۔ کیونکہ جب تک ہمارے عقائد محکم نہیں ہونگے تو تب تک ہمارے عمل محکم ، استوار اور صالح نہیں ہونگے اور مولاؑ امام زمانہؑ ایسے انصار کے منتظر ہیں کہ جو عقیدہ و عمل میں مستحکم ہیں۔ 🤲
*والسلام* ۔
خلاصہ و پیشکش:✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم* ۔ 🌍
🔆درس عقائد (عدل)🔅
#درس 8
#عدل الہی پر بعض اعتراضات کا جواب، مخلوقات میں فرق کیوں ، موت کیوں؟,جھنم کا ابدی نظام کیوں؟ انسانوں کا درد ورنج اور بیماریاں نیز حادثات کیوں؟
# *استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*خلاصہ* :
*موضوع سخن عدل الہیٰ ہے۔*
⚖️
*کچھ لوگ عدل الہیٰ پر اعتراضات بھی رکھتے ہیں ۔ اس حوالے سے چند اعتراضات اور ان کے جوابات بیان ہونگے۔*
*اعتراضات* : 👇
*اعتراض* 1: 🫴🏻
*مخلوقات میں فرق کیوں؟*
*بعض یہ کہتے ہیں کہ:*
اللہ تعالیٰ نے یہ جو مخلوقات میں فرق رکھا ہے یعنی کسی کو انسان بنایا، کسی کو درخت کسی کو پتھر بنایا کسی کو عاقل بنایا تو کوئی غیر عاقل ہے اور پھر ہم انسانوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی سیاہ ہے، کوئی سفید ہے تو کوئی آنکھیں رکھتا ہے اور کوئی اندھا ہے ، کوئی معذور ہے تو کوئی صحیح و سالم ہے۔ تو کیا یہ خلاف عدل نہیں ہے؟
*جواب* :✨
اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک خاص نظام بخشا ہے اور اس نظام میں ہر مخلوق اپنے حصے کا وظیفہ انجام دے رہی ہے اور اگر اللہ ایک ہی جیسی ساری مخلوق بنا دیتا تو اس کائنات کی جو خوبصورتی تھی اور مخلوقات نے ایک دوسرے کی خدمت کرنی تھی وہ نہ ہوتا۔ اور یہ پھر یہ جہاں ہمیں شائد اتنا خوبصورت نہ لگتاکہ اگر سارے ہی درخت ہوتے ، سارے ہی انسان ہوتے یا سارے ہی حیوان ہوتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم کہیں کوئی مشکل دیکھ رہے ہوں مثلاً اگر ایک بچہ صحیح و سالم پیدا ہو رہا ہے اور دوسرا نابینا تو اس کی وجہ خود ماں باپ بھی ہیں۔ ان کے اندر کی بیماریاں ہیں۔ جن کا علاج نہیں ہوا اور فرض کریں کہ اگر کوئ بیماری نہیں بھی ہے تو اگر پروردگار نے ایک نعمت نہیں دی تو اس کا حل کرے گا۔ اس بچے کی تکالیف شرعی اور دوسروں کی تکالیف شرعی میں یقناً فرق ہے۔ پھر یہ جہاں ابدی بھی نہیں ہے یعنی ہم نے کونسا یہاں رہنا ہے۔ تو جو ہم اعتراض کریں ۔ یہاں ہم نے ایک مختصر سا وقت گذارنا ہے اور وہ جو ابدی جہاں ہے وہاں تو اللہ نے ساری چیزیں دینی ہیں۔ عالم آخرت میں تو سب کی آنکھیں ہیں۔ جنت میں تو سب سالم ہیں کہ جہاں ہمیشہ کی زندگی گذارنی ہے۔ بعض مرتبہ اللہ نعمات نہیں دیتا تو یہ بھی اس کی آزمائش ہے۔ کبھی دے کر آزماتا ہے تو کبھی لے کر آزماتا ہے۔
سورہ بقرہ میں آیت نمبر 155 میں پروردگار فرماتا ہے کہ:
وَلَنَـبْلُوَنَّكُمْ بِشَىْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِـرِيْنَ (155)💗
اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔
جو اس دنیا میں اندھے ہیں وہ آخرت میں اندھے نہیں ہیں۔
*اعتراض* 2: 🫴🏻
*موت کیوں؟*
کچھ لوگ اعتراض کرتےہیں کہ کہ لوگ کیوں مر رہے ہیں ۔ اچھا خاصا ایک آدمی زندگی گذار رہا ہے اس نے ابھی بہت کچھ کرنا تھا۔ یا ایک آدمی اپنے چھوٹے چھوٹے بچے پال رہا تھا کہ موت آجاتی ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ عدل الہیٰ کے خلاف ہے؟
*جواب* : ✨
موت اس دنیا کے نظام کا حصہ ہے۔ ہر آدمی نے ذائقہ موت چکھنا ہے چاہے وہ جوانی ہو، بچپن ہو یا بڑھاپا۔
دوسری بات یہ کہ کس نے کہا ہے کہ موت مکمل طور پر ہلاکت ہے۔ موت سے مراد ایک جہاں سے دوسرے جہاں منتقل ہونے کا نام ہے۔ موت کے بعد انسان اس سے بھی بہتر جہاں میں منتقل ہوتا ہے اور پھر عالم حشر ہے اور پھر قیامت بپا ہوگی اور پھر جنت جو سب سے بہتر ہے۔ اور خود جو شخص مر رہا ہے وہ بہتر سے بہتر جہانوں میں جا رہا ہےاور آخر میں اس جہان میں منتقل ہوگا جہاں ہمیشہ کی زندگی ہے اور الہیٰ نعمات اور کمالات سے بہرہ مند ہوگا۔
باقی اس کے ورثہ کے لیے بھی اسباب ہے۔ اور اگر کوئی کمی ہے تو اس کا نعم البدل خدا دے گا۔
دنیا بلآخر آزمائش کا حصہ ہے اور قرار نہیں ہے کہ ہم نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے۔
*اعتراض* 3: 🫴🏻
*جھنم کا ابدی نظام کیوں؟*
بعض لوگ ایک اور بھی اعتراض کرتے ہیں کہ یہ جو اللہ نے گناہوں کے لیے عذاب رکھا ہے۔ ایک آدمی نے اگر قتل کیا ہے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ تھوڑی سی سزا دے اور پھر اللہ اسے جنت میں لے جائے۔
*جواب*:✨
یہاں بھی یہی بات ہے کہ گناہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ جیسے ایک آدمی زہر کھا لیتا ہے مر جاتا ہے۔ اب جو مرضی کر دو وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس نے اگرچہ چھوٹی سی ایک چیز کھائی ہے اور اس نے دنیا میں اس کی زندگی ختم کر دی ہے۔ بعض دفعہ انسان کا ایکسیڈنٹ ہوتا ہے لیکن وہ بچ جاتا ہے۔ لیکن ایک چٹکی زہر زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔ یہاں چیزوں کا فرق ہے کہ ہم نے خود اس چیز کا انتخاب کر دیا ہے۔ جیسے ایک آدمی سوئی مار کر کسی دوسرے کو اندھا کر دیتا ہے اور کہے کہ میں نے تو ایک چھوٹا سا کام کیا ہے۔
*جی ہاں!* ہمارے بعض اعمال ایسے ہیں کہ جو ہم انجام دیتے ہیں اور روز قیامت اللہ نے ہٹ کر ہمیں کوئی سزا نہیں دینی وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔
*سورہ کہف:* 49
وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 💗
اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب کو موجود پائیں گے، اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
*سورہ آل عمران:* 30
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْـرٍ مُّحْضَرًاۖ وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوٓءٍۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَـهَا وَبَيْنَهٝٓ اَمَدًا بَعِيْدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّـٰهُ نَفْسَهٝ ۗ وَاللّـٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ (30)💗
جس دن ہر شخص موجود پائے گا اپنے سامنے اس نیکی کو جو اس نے کی تھی، اور جو کچھ کہ اس نے برائی کی تھی، اس دن چاہے گا کہ کاش درمیان اس کے اور درمیان اس کی برائی کے مسافت دور کی ہو، اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے، اور اللہ بندوں پر شفقت کرنے والا ہے۔
ایک مومن کو بے گناہ مارنا اور اس نےابھی پتہ نہیں کتنی اللہ کی عبادت کرنی تھی اور کمالات اور رشد پانے تھے اور ہم نے اس سے سب کچھ چھین لیا تو اس کی سزا ہے۔
*قیامت کی سزائیں انسان کے اعمال کے متناسب ہیں۔ اللہ نے اس سے ہٹ کر کوئی علیحدہ چیز قرار نہیں دی۔*
*اعتراض 4:* 🫴🏻
*انسانوں کا درد ورنج اور بیماریاں نیز حادثات کیوں؟*
*بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کہ مختلف قسم کی بیماریاں، رزق کی کمی اور درد و رنج اور مختلف آفات وغیرہ کیوں؟*
*جواب* :✨
یہ بھی خلاف عدل نہیں ہے۔ یہ بیماریاں اور مصیبتیں دو طرح کی ہیں یا تو ہمارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہیں۔ جیسے کہتے ہیں کہ انسانوں نے کچھ ایسے تجربے کیے کہ جن کے نتیجے میں یہ بیماریاں آئیں یا ہم بعض مرتبہ خود اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں بیماریاں آتی ہیں۔ یا ہم خود صحیح روش اختیار نہیں رکھتے جس کی وجہ سے کاروباری نقصان سے گذرتے ہیں۔ تو یہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کہ ہم بعض دفعہ کسی کے حق میں ظلم کرتے ہیں۔ اور بعض دفعہ یہ اللہ کی آزمائش بھی ہوتی ہے۔ اور جو آزمائش میں درد دیکھے گا۔ اللہ نے بارہا قرآن میں کہا کہ تمھیں آزمانا ہے۔ دنیا میں راحت کے لیے کوئی نہیں آیا۔ اور اس آزمائش میں ممکن ہے کہ بیماریاں بھی آئیں درد بھی آئیں اس کی مثال حضرت ایوبؑ اور حضرت یوسف ؑ کی زندگی کے مصائب ہے تو یہ طے نہیں ہے کوئی نبیؑ بھی ہے تو اس کی آزمائش نہیں ہے اور پروردگار نے اس کا نعم البدل رکھا ہے۔ اور اس وقت جو خوف خدا کرے گا اور اپنا ایمان اور اسلام کو سالم رکھے گا اور برائی اور کفر کی راہ میں نہ چلے تو یہ کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا ایک اور جہاں میں نعم البدل کرے گا اور یہ کاملاً عدل ہے ، خلاف عدل نہیں۔ پروردگار عادل مطلق ہے اور اس کا کوئی کام حکمت و عدل سے خالی نہیں ہے۔
*اللہ تعالیٰ ہم سب کو باحکمت اور عدل کے مطابق رفتار کرنے والے مومنین و منتظرین میں سے قرار دے ۔ 🤲*
*والسلام*
خلاصہ و پیشکش: ✍️
سعدیہ شہباز
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
🪷 *بسم اللہ الرحمٰن الرحیم،*
*درس عقائد ( عدل)* 9️⃣
*اللّٰہم صل علیٰ محمد وآل محمد،*
♦️موضوع سخن عدل الہی،
اج ہماری گفتگو اللہ تعالی کے عدل سے متعلق ایک خاص مسئلے میں ہے اور وہ تقدیر قسمت مقدر خوش بختی بدبختی ان مسائل میں ہیں،
♦️عام طور پر ہم اکثر چیزوں کے بارے میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا ہی مقدر کیا تھا خدا نے یہی کچھ طے کیا تھا اور وہی کچھ ہو رہا ہے ہماری قسمت یہ ہے ہماری تقدیر کے ان چیزوں کی کہاں تک حقیقت ہے اور پھر اس کو ہم کس طرح اللہ کے عدل کے ساتھ تشریح کریں گے چونکہ اگر کوئی شخص کی قسمت یہی تھی کہ وہ برائیاں کرے تو پھر عدل کے ساتھ کیسے یہ مسئلہ جو ہے وہ درست ہوگا کیونکہ عدل کا تقاضا تو یہ ہے کہ قسمت انسان کے اپنے اختیار میں ہو،
کچھ لوگ البتہ بعض ضعیف روایات کی بنا پر یا روایات کو درست نہ سمجھتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس کی قسمت میں یہی تھا یہ جو برا اور برائی پہ چلا اور اسی پہ مرا یہی طے تھا کہ فلاں یزید بنے فلاں شمر بنے فلاں حسین ابن علی ع بنے،
نیک اور برا ہونا عذاب ہوتا ہے اور انسان اسی طرح بنتا ہے ہمارا کوئی اختیار اس طرح کی باتیں عام طور پر اہل سنت سے جو ہے وہ ہمارے ماحول میں اتی ہے چونکہ اہل سنت کے اندر شروع سے ایسے فرقے موجود تھے جیسے قدریہ جو کہتے تھے کہ اللہ کا جو طے کرنا ہے یعنی قضا قدر اس سے کوئی انسان کا اختیار سلف ہو گیا اب انسان جو کچھ کر رہا ہے وہ وہی ہے جو پہلے سے ہے اب یہ تقدیر یا قضا و قدر یہ کیا ہے ہم سب سے پہلے جو ہے محمد و ال محمد علیہم السلام کے فرامین میں اور قران و حدیث کے اندر دیکھتے ہیں کہ اصل میں مسئلہ کیا ہے،،
❤️امام رضا علیہ السلام سے جب پوچھا گیا فرماتے ہیں کہ قدر جو ہے یعنی اندازہ گیری ہے ایک چیز کو اس کی پیمائش یا اس کی تائید کہ اس نے باقی رہنا ہے اور فنا ہونا ہے قضا یعنی محکم کرنا کسی چیز کو بقا کرنا ،،،،
انسانی زندگی کے اندر اگر ہم غور کریں کچھ چیزیں جو ہیں وہ طے شدہ تھے مثلا ایک شخص کا انسان بننا پتھر نہیں بنا وہ جانتا ہے اور انسان اب انسانوں میں بھی مرد بنا ہے یا عورت اس کا رنگ کیسا قدو کا عمل کیسی ہے یا وہ لینے والے سے جسمانی طور پر اس کے اداب پورے ہیں یا کوئی اس جو ہے وہ کم ہے مثلا جیسے کوئی مادر ذات جو ہیں وہ اندھے ہے اس کا رنگ کیسا ہے گورا ہے کالا دنیا میں اس خطے میں پیدا ہوا ہے پاکستان میں کینیڈا میں کی اس کے ماں باپ کیسے ہیں زبان کیسے یہ چیزیں جو ہیں انسان سے تعلق نہیں رکھتے یے اللہ تعالیٰ طے کرتا ہے ،،،،،
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں