عقیدہ نبوت
عقیدہ نبوت
🌴سلسلہ دروس معارف🌴
دروس عقائد ، اصول دین
بحث عقیدہ نبوت🩵
پہلا درس
☑️موضوع: انبیاء علیہم السلام کو کیوں بھیجا گیا ؟
☑️انبیاء کون سے تین سوالوں کا جواب دیں
☑️امام صادق علیہ السلام کا ایک بے دین کو جواب
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :🌻
موضوع سخن اصول دین میں سے نبوت ہے۔ توحید اور عدل کی بحث کے بعد ہر انسان فطری طور پر کائنات میں رہبر کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے۔ یہیں سے ہم وحی کی اور وہ کون ہیں جو وحی کے حامل ہیں اور کن کی ذمہداری ہے کہ وہ وحی کو لوگوں تک پہنچائیں تاکہ لوگ کمال کی سعادت تک پہنچیں۔ اس موضوع میں یہ گفتگو شروع ہوتی ہے۔
ہماری اس موضوع کے اندر گفتگو میں انبیاء کی ضرورت اور صفات جسے عام طور پر نبوت عامہ کی بحث کہتے ہیں بیان ہوگی۔ انشاءاللہ۔
اس کے بعد آپؐ کی معرفت اور سیرت طیبہ اور اسی طرح آپؐ کی خاتمیت پر بھی انشاءاللہ گفتگو ہوگی۔ کہ جس کو علمی اصطلاح میں نبوت خاصہ کہتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم اس موضوع پر مختصر سی گفتگو کریں گے کہ انبیاء ؑ کو بھیجنے کی ضرورت کیا تھی اور وحی کی ضرورت کیا تھی۔
واضح سی بات ہے کہ جب انسان کائنات کا نظارہ کرتا ہے وہ کائنات جو بے حد خوبصورت ہے اور یقیناً ہم سب کی عقل یہ کہتی ہے کہ یہ کائنات بے ہدف خلق نہیں ہوئی۔ اور اس سے پہلے توحید اور عدل کی بحث میں بیان کیا تھا کہ پرورگار حکیم ہے۔ اور اس کے ہر کام میں حکمت اور ایک ہدف ہے۔ کوئی کام بھی فضول نہیں۔ یہ کائنات کہ جس کے اندراتنے زیادہ نظام ہیں اور یہ کائنات جو زمین و آسمانوں کی شکل میں خلق ہوئی اور اپنے اندر وسیع نظام رکھتی ہے تو پروردگارا تو نے اس کو کیوں خلق کیا اور یہ اپنے اندر کیا ہدف رکھتی ہے۔ اور پھر ہم کس طرح اس ہدف تک پہنچیں گے۔ اگر پروردگار نے ہمارے لیے کوئی سعادت ، ترقی اور کمال کی کوئی راہ قرار دی ہے تو ہم اس راہ پر کیسے چلیں؟
اور پھر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا اور کیا ہم مرنے کے بعد ختم ہو جائیں گے یا پھر کوئی اور جہاں بھی ہے۔ تو یہ جو تین اہم سوال ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں تو اب ضروری ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی جانب سے کوئی آئے جو ہمارے ان تین سوالوں کے جواب دے۔
۔ 🌀اس زندگی اور کائنات کا ہدف یہ ہے۔
۔ 🌀اور تم لوگوں کے کمال اور سعادت کی راہ یہ ہے۔
۔ 🌀مرنے کے بعد ایک اور جہاں ہے لہذا ابھی سے اس جانب توجہ کریں۔
اب یہاں کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تو ہم اسے اپنی عقل سے سمجھیں۔ جی ہاں اللہ نے ہمیں عقل عطا کی جو دنیاوی معاملات میں ہمارے لیے کارساز ہے اور ہمارے بہت سارے مسئلے حل کرتی ہے۔ لیکن سعادت کمال اور مرنے کے بعد کیا ہو گا اسے عقل حل نہیں کر سکتی۔
پس اسی لیے پروردگار عالم نے ہمارے لیے معصوم رہبر انبیاءؑ کی شکل میں بھیجے جو ہماری راہنمائی کریں۔
*روایت* :📜🌻
**اصول کافی ، الحجت باب:* **الاضطرار الی الحجہ*
*حدیث نمبر 1:📖📚**
ایک شخص جو مذہبی نہ تھا اس نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ آپ انبیاء ؑ کی بعثت کو کیسے ثابت کریں گے۔ اور یہ کیوں ضروری ہے۔
امام صادقؑ نے فرمایا۔ 🌷
ہم نے جب یہ ثابت کر لیا کہ ہمارا کوئی خالق ہے اور وہ ہم سب مخلوقات سے برتر ہے اور صاحب حکمت اور اولو ہے۔ اور ہم عام لوگ خود پروردگار سے رابطہ برقرار نہیں کر سکتے تو اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ صاحب ہدف ہے اور اس رب العزت نے ہمیں بے ہدف خلق نہیں کیا اور ہم جو اس سے رابطہ برقرار نہیں رکھ سکتے تو پس وہ رب کریم ہم سے رابطہ برقرار رکھے اور اپنی جانب سے پیغمبرؑ بھیجے جو لوگوں کو بتائیں کہ کس چیز میں تمھارا فائدہ ہے اور کس چیز سے تمھارا نقصان ہے۔ کن چیزوں سے ہماری بقا ء ہے اور کن چیزوں سے ہم فنا ہوں گے۔ تو ضروری ہے کہ وہ ہمارے اندر ایسے لوگ بھیجے جو ہمیں اللہ کی جانب سے امر و نہی کریں اور ان کے ذریعے ہم تک اللہ کے فرامین پہنچ جائیں۔ اس اعتبار سے ان کی ضرورت ہے۔
*جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔🌟🌟*
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم ان عقائد پر غور و فکر کریں اور انہیں دل و جان سے قبول کریں تاکہ ہماری زندگیوں میں واقعاً ایک انقلاب پیدا ہو۔
پروردگار عالم ہم سب کو امام زمانہؑ عج الشریف کا فکری اعتبار سے ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
والسلام
شہر بانو ✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍🤲
🌴سلسلہ دروس معارف🌴
دروس عقائد ، اصول دین
بحث عقیدہ نبوت🩵
پہلا درس
☑️موضوع: انبیاء علیہم السلام کو کیوں بھیجا گیا ؟
☑️انبیاء کون سے تین سوالوں کا جواب دیں
☑️امام صادق علیہ السلام کا ایک بے دین کو جواب
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :🌻
موضوع سخن اصول دین میں سے نبوت ہے۔ توحید اور عدل کی بحث کے بعد ہر انسان فطری طور پر کائنات میں رہبر کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے۔ یہیں سے ہم وحی کی اور وہ کون ہیں جو وحی کے حامل ہیں اور کن کی ذمہداری ہے کہ وہ وحی کو لوگوں تک پہنچائیں تاکہ لوگ کمال کی سعادت تک پہنچیں۔ اس موضوع میں یہ گفتگو شروع ہوتی ہے۔
ہماری اس موضوع کے اندر گفتگو میں انبیاء کی ضرورت اور صفات جسے عام طور پر نبوت عامہ کی بحث کہتے ہیں بیان ہوگی۔ انشاءاللہ۔
اس کے بعد آپؐ کی معرفت اور سیرت طیبہ اور اسی طرح آپؐ کی خاتمیت پر بھی انشاءاللہ گفتگو ہوگی۔ کہ جس کو علمی اصطلاح میں نبوت خاصہ کہتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم اس موضوع پر مختصر سی گفتگو کریں گے کہ انبیاء ؑ کو بھیجنے کی ضرورت کیا تھی اور وحی کی ضرورت کیا تھی۔
واضح سی بات ہے کہ جب انسان کائنات کا نظارہ کرتا ہے وہ کائنات جو بے حد خوبصورت ہے اور یقیناً ہم سب کی عقل یہ کہتی ہے کہ یہ کائنات بے ہدف خلق نہیں ہوئی۔ اور اس سے پہلے توحید اور عدل کی بحث میں بیان کیا تھا کہ پرورگار حکیم ہے۔ اور اس کے ہر کام میں حکمت اور ایک ہدف ہے۔ کوئی کام بھی فضول نہیں۔ یہ کائنات کہ جس کے اندراتنے زیادہ نظام ہیں اور یہ کائنات جو زمین و آسمانوں کی شکل میں خلق ہوئی اور اپنے اندر وسیع نظام رکھتی ہے تو پروردگارا تو نے اس کو کیوں خلق کیا اور یہ اپنے اندر کیا ہدف رکھتی ہے۔ اور پھر ہم کس طرح اس ہدف تک پہنچیں گے۔ اگر پروردگار نے ہمارے لیے کوئی سعادت ، ترقی اور کمال کی کوئی راہ قرار دی ہے تو ہم اس راہ پر کیسے چلیں؟
اور پھر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا اور کیا ہم مرنے کے بعد ختم ہو جائیں گے یا پھر کوئی اور جہاں بھی ہے۔ تو یہ جو تین اہم سوال ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں تو اب ضروری ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی جانب سے کوئی آئے جو ہمارے ان تین سوالوں کے جواب دے۔
۔ 🌀اس زندگی اور کائنات کا ہدف یہ ہے۔
۔ 🌀اور تم لوگوں کے کمال اور سعادت کی راہ یہ ہے۔
۔ 🌀مرنے کے بعد ایک اور جہاں ہے لہذا ابھی سے اس جانب توجہ کریں۔
اب یہاں کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تو ہم اسے اپنی عقل سے سمجھیں۔ جی ہاں اللہ نے ہمیں عقل عطا کی جو دنیاوی معاملات میں ہمارے لیے کارساز ہے اور ہمارے بہت سارے مسئلے حل کرتی ہے۔ لیکن سعادت کمال اور مرنے کے بعد کیا ہو گا اسے عقل حل نہیں کر سکتی۔
پس اسی لیے پروردگار عالم نے ہمارے لیے معصوم رہبر انبیاءؑ کی شکل میں بھیجے جو ہماری راہنمائی کریں۔
*روایت* :📜🌻
**اصول کافی ، الحجت باب:* **الاضطرار الی الحجہ*
*حدیث نمبر 1:📖📚**
ایک شخص جو مذہبی نہ تھا اس نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ آپ انبیاء ؑ کی بعثت کو کیسے ثابت کریں گے۔ اور یہ کیوں ضروری ہے۔
امام صادقؑ نے فرمایا۔ 🌷
ہم نے جب یہ ثابت کر لیا کہ ہمارا کوئی خالق ہے اور وہ ہم سب مخلوقات سے برتر ہے اور صاحب حکمت اور اولو ہے۔ اور ہم عام لوگ خود پروردگار سے رابطہ برقرار نہیں کر سکتے تو اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ صاحب ہدف ہے اور اس رب العزت نے ہمیں بے ہدف خلق نہیں کیا اور ہم جو اس سے رابطہ برقرار نہیں رکھ سکتے تو پس وہ رب کریم ہم سے رابطہ برقرار رکھے اور اپنی جانب سے پیغمبرؑ بھیجے جو لوگوں کو بتائیں کہ کس چیز میں تمھارا فائدہ ہے اور کس چیز سے تمھارا نقصان ہے۔ کن چیزوں سے ہماری بقا ء ہے اور کن چیزوں سے ہم فنا ہوں گے۔ تو ضروری ہے کہ وہ ہمارے اندر ایسے لوگ بھیجے جو ہمیں اللہ کی جانب سے امر و نہی کریں اور ان کے ذریعے ہم تک اللہ کے فرامین پہنچ جائیں۔ اس اعتبار سے ان کی ضرورت ہے۔
*جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔🌟🌟*
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم ان عقائد پر غور و فکر کریں اور انہیں دل و جان سے قبول کریں تاکہ ہماری زندگیوں میں واقعاً ایک انقلاب پیدا ہو۔
پروردگار عالم ہم سب کو امام زمانہؑ عج الشریف کا فکری اعتبار سے ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
والسلام
شہر
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍🤲
🌴دروس معارف🌴
عقیدہ نبوت
درس 2
اہم سوالات کے جوابات، آیا ہماری عقل اور علم کافی نہیں کیوں انبیاء کے محتاج ہیں؟
اور کیوں اپنے جیسے انسان کے حوالے اپنے امور کریں؟
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ: 📚📖
موضوع سخن عقیدہ نبوت ہے۔
بعض مرتبہ یہ سوال آتا ہے کہ آیا ہماری عقل اور علم کافی نہیں کیوں انبیاء کے محتاج ہیں؟
اگر ہماری عقل و فہم ان پوشیدہ حقائق کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ اس وقت بھی دنیا میں جبکہ نبیؐ موجود نہیں۔ انسان کتنی ترقی کر رہا ہے ۔ بہت سارے کائنات کے پوشیدہ اسرار کو اپنی عقل اور انہی دنیاوی امور سے کشف کر رہا ہے۔
نبیؐ ہمارے لیے کیا لے آتے ہیں۔ 🌹
یا تو وہ ایسی چیز لے کر آئیں گے کہ جن کو ہماری عقل سمجھ سکتی ہے تو پھر ان کی ضرورت نہیں۔ یا پھر وہ ایسی چیز لے کر آئیں کہ جن کو ہماری عقل سمجھنے سے قاصر ہو۔ تو پھر ایسی چیز کو کیوں حاصل کریں کہ جس کو ہماری عقل سمجھ نہیں سکتی۔
اسی طرح ہم یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیوں اپنے جیسے انسان کے حوالے اپنے امور کریں؟
اپنے امور کو ان کے حوالے کر کے ان کے احکامات کو تسلیم کرلیں؟ جبکہ وہ ہماری مانند ایک انسان ہیں اور ایک انسان کیسے اپنے جیسے کو سپرد کر دے۔
ایسے سوالات عام طور پر مرتد اور بے دین لوگ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان سوالات کے ذریعے وہ عقیدہ نبوت پر حملہ کرتے ہیں اور مقام نبوت کو سمجھتے نہیں تو ضروری ہے کہ ہم بھی ان سوالات کے جوابات کو سمجھیں تاکہ ہمارا عقیدہ مستحکم ہو۔
اس حوالے سے چند نکات بیان ہونگے۔
1۔ اپنے علم و عقل پر فخر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت بھی اتنی ترقی کے باوجود بھی کائنات کے علم کو سمجھنے کے مقابل ہمارا یہ علم ایسا ہی ہے جیسے دریا کے مدمقابل ایک قطرہ۔ یا ایک پہاڑ کے مدمقابل ایک تنکہ ہو۔ دنیا میں جتنے بھی دنیا کے مفکرین اور دانشمند ہیں ان کے اپنے اقوال ہیں ۔ کہ کہتے ہیں : ہم چاہے جتنا بھی علم رکھتے ہوں وہ اس کائنات کے تمام علم کے مقابلے میں شائد ا، ب شمار ہو۔ یعنی ہم نے ابھی محدود سا علم حاصل کیا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ کائنات کے اندر بے پناہ وسعتیں، اسرار اور حقائق ہیں۔ ابھی تو انسان آہستہ آہستہ سمجھ رہا ہے۔ اور اتنا کچھ جاننے کے باوجود وہ اپنے آپ کو جاہل سمجھتا ہے کیونکہ اس کو بہت ساری وسعتوں کا علم نہیں۔ ابھی تو انسان زمین میں ہے ابھی کہکشاؤں اور آسمانی وسعتوں کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔ اس زمین کے اندر کے رازوں اور خود اپنے بدن کے اندر کی دنیا کے بارے میں ہم ابھی تھوڑا بہت جان چکے ہیں اور جو نہیں جانتے اس کے مدمقابل ابھی ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔
جو انبیاءؑ الہی نمائندہ بن کر آئے وہ در اصل ہماری ہی راہمنائی کے لیے آئے ہیں۔ اور عقل و شعور کو روشن کرنے کے لیے اور ان چیزوں کا علم دینے کے لیے تشریف لائے کہ جن کو ہماری عقل کبھی بھی نہ سمجھ پاتی۔
مثلاً آخرت کا علم ہے جس تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہم تو ابھی دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں بہت سارے حقائق کا علم نہیں یعنی مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ اور ہمیں کس کے حضور پہنچنا ہے اور اس ابدی جہاں میں بہتر زندگی گذارنے کے لیے کیا کرنا چاہیے تو یہ وہ چیز ہے کہ جس کو ہم کبھی بھی اپنی عقل سے نہ سمجھ پاتے۔
انبیاءؑ ہمیں اس دنیا کے اندر کے بہت سارے اسرار کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ ہم اس دنیا میں اپنی زندگی بہتر طریقے سے گذار سکیں۔ اس زندگی کو گذارنے کے لیے بہترین اصول بتاتے ہیں جو کاملاً ہماری عقل مطابق ہیں انبیاءؑ ہمیں بیان کرتے ہیں اورہماری ابدی زندگی کے اصول اور اُس زندگی کو ہم نے کیسے بہتر طریقے سے گذارنا ہے اس کو بھی بیان فرماتے ہیں۔
ہماری مثال ایسے ہے جیسے معلم کے سامنے سال اول کا بچہ ہو۔ ابھی تو بہت سارے جہان ہیں ہم نے تو اس جہان فانی کے بارے میں ابھی بہت کچھ نہیں پڑھا ہمارا علم جہالت کے مدمقابل ہے جو آہستہ آہستہ کشف ہو رہی ہے۔ لیکن انبیاء اس جہان کا خلاصہ اور حقیقت ہمارے سامنے بیان فرما دیتے ہیں لیکن جو اور جہاں ہیں جیسے جہان برزخ ہے جہان محشر ہے اور اس کے بعد آخرت جہاں بلآخر ہم نے پہنچنا ہے اور ایک لا محدود سفر ہے۔ یہ سب چیزیں ہمیں نبیؑ بتائے گا۔
نبیؐ کون ہے؟
ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم خود کو اپنے جیسے انسان کے حوالے کر رہے ہیں بلکہ ہم تو خود کو خدا کے حوالے کر رہے ہیں کیونکہ نبیؑ وہ ہستی ہے جو خدا کی جانب سے تمام تر اختیارات سے آ رہی ہے۔ اور وہ الہیٰ نمائندہ اس چیز کا ضامن ہے کہ اس نے جو ہماری راہنمائی کی ہے وہ صحیح ہے کیونکہ وہ الہیٰ علم سے مربوط ہے اور ان کا رابطہ وہ خدا اور اس کے لامحدود علم سے ہے۔ اور نبیؑ کی زبان سے اور عمل سے جو علم عطا ہوتا ہے وہ درحقیقت پروردگار کے پیغامات ہیں۔
خود کو نبیؑ کے حوالے کرنا یعنی اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ جیسے بیماری میں ہم اپنے آپ کو ایک ڈاکٹر کے حوالے کر دیتے ہیں اور جو وہ کہتا ہے ہم کرتے ہیں۔ آیا کسی نے اس حوالے سے کبھی مذمت کی ہے۔ ڈاکٹر اس مرز کا ماہر ہوتا ہے۔ اور یہ عین عقل ہے کہ جو جس چیز کا ماہر ہو وہ چیز اس کے حوالے کر دی جائے تو نبیؑ روحانی طبیبؑ ہے اور دنیا اور آخرت کے امور کا معلم ہے تو خود کو ایک ماہر کے حوالے کرنا بہترین ہے تاکہ دنیا و آخرت اچھی ہوں۔ تو اب یہ کون سا غلط فعل اور خلاف عقل بات ہے۔ انسان دنیاوی علوم حاصل کرتے وقت آیا دنیاوی اساتذہ کی باتوں کو قبول نہیں کرتا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم خود کو دنیا کے اساتذہ کے حوالے تو کردیں اور جو ہستی الہیٰ معلم بن کر آئی ہم خود کو اس کے حوالے نہ کریں۔
ہمیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ اس رب العزت کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ہماری راہنمائی کے لیے ان ہستیوں کو بھیجا۔ ورنہ عمر نوحؑ بھی ہوتی تو نہ تو ہم اس دنیا کی حقیقتوں کو سمجھ سکتے تھے اور ناممکن تھا کہ کبھی آخرت کو سمجھ پاتے۔ ہمیں پتہ نہ ہوتا کہ اللہ نے یہ سورج چاند ستارے ، کہکشائیں ، زمین کیوں بنائے۔ ہمیں کیوں بنایا۔ ہمیں اپنا ہدف نہ پتہ ہوتا۔ ہم انسان کی پیدائش سے بچپن، جوانی، بڑھاپے کا دورانیہ حیات کبھی سمجھ نہ آتا ۔ اور اس ساری خلقت کا ہدف کیا ہے ہم نہ سمجھ سکتے۔ یہ تو لطف پروردگار عالم ہے کہ اس نے اپنی جانب سے سفیر، معلم اور مربعی بھیجے۔ اور ہمیں ان تمام ذہنی اور فکری شہبات سے آگاہی دی۔ اور بسا اوقات لوگ بےمقصد زندگی گذار رہے ہیں تو اللہ نے ان تمام چیزوں میں ہمیں چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہمیں بتایا کہ زندگی کیا ہے اور اس دنیا کی زندگی سے کیسے حقیقی معنوں میں لطف لیں اور پھر کیسے اگلی زندگی کے لیے تیار ہوں۔
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم عقیدہ نبوت پر غور کریں اور ان الہیٰ طبیبوں اور الہیٰ نمائیندوں ، سفیروں اور ان ہستیوں کی حقیقی معرفت حاصل کریں تاکہ بامقصد زندگی گذار سکیں۔
والسلام۔🤲
خلاصہ و پیشکش: شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں