پہلا درس مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت اور امامت کے بارے میں عمومی بحث
پہلا درس
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث OK ہے (کورس ون)
نوٹ:
کورس ٹو
مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث
مہدویت نامہ
پہلا درس
مہدویت پر بحث کی ضرورت
مقاصد:
(۱) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت و اہمیت۔
(۲) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت کے مختلف پہلوﺅں سے آگاہی۔
(۳) دینی فکر میں امامت اور امام مہدی (عج) کے موضوع کے مقام کی شناخت۔
فوائد:
(۱) امام مہدی (عج) کے موضوع کی اہمیت پر توجہ اور اس کے مختلف پہلوﺅں پر تحقیق کی ضرورت۔
(۲) امام کی ضرورت او ر ان سے وابستہ ہونے کا احساس۔
(۳) امام کے اوصاف کی شناخت۔
تعلیمی مطالب:
(۱) امام مہدی پر بحث کرنے کی ضرورت۔
(۲) ان ابحاث کو پیش کرنے کی ضرورت کے ان مندرجہ ذیل پہلوﺅں سے آگاہی:
(۱لف) عقائدی(ب) معاشرتی(ج) سیاسی(د) تاریخی(ھ) ثقافتی
(۳) انسان کے لئے امام کی ضرورت کے دلائل
(۴) امام کی خصوصیات
(الف) امام کا علم(ب) عصمت امام(ج) امام کی معاشرہ پر حکومت(د) امام کے اخلاقی کمالات(ھ) امام کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہونا۔امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت اور جامع فرمان
مہدویت پر بحث کی ضرورت
شاید بعض لوگ یہ سوچیں کہ دیگر عقائدی اور نظریاتی موضوعات میں بنیادی ضرورت کے باوجود حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اس سلسلہ میں کافی مقدار میں بحث نہیں ہو چکی ہے اور بہت ساری کتابیں اور مضامین نہیں لکھے گئے ہیں؟
تو اسکا جواب یہ ہے کہ مہدویت کی بحث و گفتگو ایک ایسا موضوع ہے جو انسان کی زندگی میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور مختلف پہلوﺅں سے انسانی زندگی پر اثرانداز ہو تا ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں کی گئی بہت سی کاوشوں کے باوجود بھی اس موضوع پر بہت کچھ کہنے کے لئے باقی ہے، اور مناسب ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور صاحبان نظر حضرت اس سلسلہ میں بہت زیادہ کوشش کریں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی ضرورت کو واضح کرنے کے لیے یہاں چند چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
(۱) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کا موضوع، امامت کے بنیادی مسئلہ کی طرف پلٹتا ہے کہ جو شیعوں کے عقائدی اصول میں سے ہے، جس کی قرآن کریم اور اسلامی روایات میں بہت زیادہ اہمیت بتادی گئی ہے اور اس پر تاکید ہوئی ہے۔ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے:
﴾مَن مَاتَ وَ لَم یَع رِف اِمَامَ زَمَانِہِ مَاتَ مَی تَةً جَاہِلِیَةً۔﴿ ( بحارالانوار، ج۱۵، ص۰۶۱)
”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اپنے امام زمانہ (علیہ السلام) کو نہ پہچانتا ہو تو اس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہو گی (گویا اس نے اسلام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا ہے)“۔
یقینا یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس سے انسان کی معنوی حیات وابستہ ہے لہٰذا اس مسئلہ پر خاص توجہ اور عنایت کرنی چاہیے؟!
(۲) حضرت امام مہدی علیہ السلام،۱ مامت کے پاکیزہ سلسلہ کی بارہویں کڑی ہیں، وہی امامت جو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی دو نشانیوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے:
﴾اِنِّی تَارِک فِی کُم الثَّقَلَی نِ کِتَابَ اللّٰہِ وَ عِتَرَتِی ، مَا اِن تَمَسَّکت م بِہِمَا لَن تَضِلُّوا بَع دی اَبَداً....﴿(بحارالانوار، ج۲، ص۰۰۱)
”بے شک میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسری میری عترت، جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہوں گے“۔
اس بنا پر قرآن کریم کے بعد جو کہ کلام خدا ہے، کونسا راستہ امام علیہ السلام کے راستہ سے زیادہ روشن اور ہدایت بخش ہے؟ اور کیا بنیادی طور پر قرآن کریم اور کلام خدا کو پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے (حقیقی) جانشین کے علاوہ کوئی اور اس کامعنی اور تفسیر کر سکتا ہے؟!
(۳) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) زندہ اور حاضر و ناظر ہیں اور آپ کے سلسلہ میں بہت سے سوالات (خصوصا نوجوانوں اور جوانوں کے درمیان) پائے جاتے ہیں، اگرچہ گذشتہ علماءکی کتابوں میں بہت سے سوالات کا جواب دیا گیا ہے، لیکن پھر بھی بہت سے شکوک و شبہات باقی ہیں اور بعض گذشتہ جوابات آج کل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہیں۔
(۴) امامت کی اہمیت اور اس کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر دشمنوں نے ہمیشہ شیعوں کو فکری اور عملی لحاظ سے نشانہ بنایا ہے تاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں شبہات اور اعتراضات بیان کرکے ان کے ماننے والوں کو شک و تردید میں مبتلا کر دیا جائے، جیسا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں شک و تردید پیدا کرنا، یا آپ کی طولانی عمر کے مسئلہ کو ایک محال اور غیر عقلی مسئلہ قرار دینا، یا آپ کی غیبت کو غیر منطقی چیز قرار دینا اور اسی طرح کے بہت سے اعتراضات، اس کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بعض ناواقف برادران مہدویت کے سلسلہ میں کچھ غلط اور بے بنیاد چیزیں بیان کردیتے ہیں، جن سے کچھ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں یا ان کو گمراہ کر دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا انتظار، آپ کا مسلحانہ قیام، آپ کی غیبت کے زمانہ میں آپ سے ملاقات کے امکان وغیرہ کے سلسلہ میں بہت سے غلط اور خلاف حدیث مطالب بیان کئے جاتے ہیں، لہٰذا مہدویت کے سلسلہ میں اس طرح کی غلط باتوں کی صحیح تحقیق کی جائے اور ان اعتراضات کا منطقی اور معقول جواب دیا جائے۔ انہیں چیزوں کی بنا پر اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نورانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو بیان کرتے ہوئے آپ کے سلسلہ میں جوانوں کے ذہنوں میں موجودہ سوالات اور آپ کے زمانہ سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جائے، نیز عقیدہ مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں اور بعض غلط افکار کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں تاکہ آخری حجت الٰہی حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی صحیح اور عمیق معرفت کی راہ میں ایک قدم اٹھا سکیں۔
امامت
پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اسلامی معاشرہ میں آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ ایک گروہ نے بعض اصحاب پیغمبر کے کہنے پر حضرت ابوبکر کو بعنوان خلیفہ رسول چُن لیا، لیکن دوسرا گروہ آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا معتقد رہا۔ ایک مدت بعد پہلا گروہ اہل سنت و الجماعت اور دوسرا گروہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف صرف پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دونوں کے نقطہ ¿ نظر سے ”امام“ کے معنی و مفہوم میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے جس کی بنا پر دونوں مذہب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ ہم اس موضوع کی وضاحت کے لئے ”امام اور امامت“ کے معنی کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ دونوں کے نظریات واضح ہو جائیں۔ لغوی اعتبار سے ”امامت“ کے معنی پیشوائی اور رہبری کے ہیں اور ایک معین راہ میں کسی گروہ کی قیادت اور رہبری کرنے والے ذمہ دار فرد کو ”امام“ کہا جاتا ہے۔
دینی اصطلاح میں امامت کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں: اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ”امامت“ دنیوی حکمرانی کا نام ہے (نہ کہ الٰہی منصب کا) کہ جس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی سرپرستی کی جاتی ہے اور جس طرح ہر معاشرہ کو رہبر اور قائد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اسلامی معاشرہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اپنے لیے ایک ہادی اور رہبر کا انتخاب کرے اور چونکہ اس انتخاب کے لئے دین اسلام میں کوئی خاص طریقہ متعین نہیں کیا گیا تو پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کے لئے مختلف طریقوں کو اپنایاجا سکتا ہے مثلاً عوام الناس یا بزرگوں کی اکثریت کے نظریہ یا گذشتہ جانشین کی وصیت کے مطابق یا بغاوت اور فوجی طاقت کے بل بوتے زبردستی حاکم بننے والا شخص خلیفہ یا امام کہلایا جا سکتا ہے۔
لیکن شیعہ امامت کو نبوت کا استمرار اور امام کو مخلوق کے درمیان حجت خدا اور فیض الٰہی کا واسطہ مانتے ہیں لہٰذا شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”امام“ کو صرف خدا معین فرماتا ہے جس کا پیغمبر یا وحی کا پیغام لانے والے کے ذریعہ تعارف کرواتا ہے اور نظریہ امامت کی اس عظمت اور بلند مقام کے پیش نظر شیعہ طرزِ تفکر میں یہ ہے کہ وہ امام کو نہ صرف اسلامی معاشرہ کا سرپرست اور حاکم مانتے ہیں بلکہ احکام الٰہی کا بیان کرنے والا، مفسر قرآن اور راہ سعادت کی ہدایت کرنے والا مانتے ہیں بلکہ شیعہ ثقافت میں امام عوام کے دینی اور دُنیاوی مسائل کو حل کرنے والے کی ذات کا نام ہے، نہ اس طرح کہ جس طرح اہل سنت معتقد ہیں کہ خلیفہ کی ذمہ داری صرف دُنیاوی معاملات میں حکومت کرنا ہے!۔
امام کی ضرورت
مذکورہ نظریات واضح ہونے کے بعد اس سوال کا جواب دینا مناسب ہے کہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے باوجود امام اور دینی رہبر کی کیا ضرورت ہے؟(جیسا کہ شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے)
امام کی ضرورت کے لئے بہت سے دلائل بیان ہوئے ہیں لیکن ہم ان میں سے ایک کو اپنے سادہ بیان میں پیش کرتے ہیں:
جس دلیل کے تحت انبیاءعلیہم السلام کی ضرورت ہے، وہی دلیل ”امام“ کی ضرورت کو بھی ثابت کرتی ہے، کیونکہ ایک طرف سے اسلام آخری دین اور حضرت محمد مصطفی (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) خدا کی طرف سے آخری پیغمبر ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام قیامت تک انسانی ضرورتوں کا جواب رکھتا ہو، دوسری طرف قرآن کریم میں اصول، احکام اور الٰہی تعلیمات عام اور کلی صورت میں ہیں جن کی وضاحت اور تفسیر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمہ ہے۔
( یہ بات عرض کر دینا مناسب ہے کہ امام معصوم کے ذریعہ ”حکومت تشکیل دینا“ راستہ ہموار ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ لیکن دوسرے تمام فرائض یہاں تک کہ غیبت کے زمانہ میں بھی انجام دینا ضروری ہے، اگرچہ امام علیہ السلام کے ظہور اور لوگوں کے درمیان ظاہر بظاہر ہونے کی صورت میں یہ بات سب پر ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حصہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس میں لوگوں کی معنوی زندگی میں امام کی ضروری ہے لیکن تمام دنیا کو ”وجود امام“ کی ضرورت ہے اس مطلب کو ”امام غائب کے فوائد“ کی بحث میں بیان کیا جائے گا)
لیکن یہ بات روشن ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے مسلمانوں کے ہادی اور رہبر کے عنوان سے اپنے زمانہ کے اسلامی معاشرہ کی ضروریات کے مطابق آیات الٰہی کی تفسیر کو بیان فرمایا، اور اپنے بعد کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا بلافصل لائق جانشین چھوڑیں جو خداوند عالم کے لامحدود علم کے دریا سے متصل ہوتا کہ جن چیزوں کو پیغمبر اکرم(صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے عام لوگوں کے سامنے بیان نہ کر سکے اور اپنے بعد میں آنے جانے والے جانشین کو ان تمام امور کا علم دے گئے ، ان کو بیان کرے اور ہر زمانہ میں اسلامی معاشرہ کو درپیش مسائل کا جواب پیش کر سکے۔
اسی طرح ائمہ علیہم السلام پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی چھوڑی ہوئی میراث کے محافظ ہیں اور قرآن کریم کے حقیقی مفسر اور اس کے صحیح معنی کرنے والے ہیں تاکہ دینِ خدا خود غرض دشمنوں کے ذریعہ تحریف کا شکار نہ ہو جائے، نیز امامت کا یہ پاک و پاکیزہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گایہ شیعہ نقطہ نظرہے۔
اس کے علاوہ ”امام“ انسان کامل کے عنوان سے انسان کے تمام پہلوﺅں میںانسانی زندگی کے اعلیٰ نمونہ عمل ہے، کیونکہ انسانیت کو ایسے نمونہ کی سخت ضرورت ہے جس کی مدد اور ہدیت کے ذریعہ وہ تربیت پا سکے، نیز ان آسمانی رہبروں کے زیر سایہ انحراف اور اپنے سرکش نفس کے جال اور بیرونی شیاطین سے محفوظ رہ سکے۔
گذشتہ مطالب سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ عوام الناس کے لئے امام کی سخت ضرورت ہے اور امام کے فرائض اور ذمہ داریوں میں بعض اس طرح ہیں:
ة اجتماعی اور سماجی مسائل کا ادارہ کرنا (حکومت کی تشکیل)۔
ة دین خدا کو تحریف سے بچانا اور قرآن کے صحیح معنی بیان کرنا۔
ة لوگوں کے دلوں کا تزکیہ اور ان کی ہدایت و راہنمائی کرنااورتمام پہلوﺅں میں انسان کے لئے عملی نمونہ بننا۔
امام کی خصوصیات
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین، دین کو حیات بخشنے کا ضامن اور انسانی معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے، امام وہ ممتاز شخصیت ہے جو پیشوائی اور رہبری کے عظیم الشان مقام کی بنا پر کچھ خصوصیات رکھتی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
امام، صاحب تقویٰ و پرہیز گار اور صاحب عصمت ہوتا ہے، جس کی بنا پر اس سے ایک معمولی سا گناہ بھی سرزدنہیں ہو تا۔
امام کے علم کا سرچشمہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا علم ہوتا ہے اوران کاعلم علم الٰہی سے متصل ہوتا ہے، لہٰذا مادی اور معنوی، دینی اور دنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دارامام ہوتا ہے۔امام اللہ کے علم کا مرکز اور ظرف ہوتاہے۔
تمام فضائل سے آراستہ اور اخلاقی بلند درجات پر فائز ہوتا ہے۔
دینی بنیاد پر انسانی معاشرہ کو صحیح طریقہ پر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ظاہر ہے کہ مذکورہ صفات کے پیش نظر امام کا انتخاب عوام الناس کے بس سے باہر ہے، صرف خداوند عالم ہی اپنے لامحدود علم کی بنیاد پر پیغمبر اکرم (دُنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔) کے جانشین کا انتخاب کر سکتا ہے، لہٰذا امام کی اہم خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت ”خداوند عالم کی طرف سے منسوب ہونا“ ہے۔
قارئین کرام! ان خصوصیات کی اہمیت کے پیش نظر ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ وضاحت کرتے ہیں:
علمِ امام
امام (جس پر لوگوں کی ہدایت اور رہبری کی ذمہ داری ہوتی ہے) کے لئے ضروری ہے کہ دین کے تمام پہلوﺅں کو پہچانتا ہوں، اور اس کے قوانین اور تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہی رکھتا ہو، نیز قرآن کریم کی تفسیر کو جانتے ہوئے سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) پر بھی مکمل احاطہ رکھتا ہو تاکہ الٰہی معارف اور دینی تعلیمات کو واضح طور پر بیان کرسکے اور عوام کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کاجواب دے سکے، اور ان کی بہترین طریقہ سے رہنمائی کرے ،ظاہر ہے کہ ایک ایسی ہی علمی شخصیت پر لوگوں کا اعتماد ہو سکتا ہے، اور ایسی علمی پشت پناہی صرف خداوند عالم کے لامحدود عالم سے متصل ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے ، اسی وجہ سے شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے جانشین کا علم خدا کے لامحدود علم سے اخذ ہوتا ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام کسی سے علم نہیں لیتے، ہر امام اپنے سے پہلے امام سے علم لیتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ حضرت علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور انہوں نے سارا علم رسول اللہ سے لیا ہے اور اس کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے براہ راست ہر امام کو اس کے اپنے زمانہ کے علم میں اضافہ ہوتاہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام، امام برحق کی نشانیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
”امام، حلال خدا، حرام خدا اوران کے متعلق احکام خدا کے امر و نہی اور لوگوں کی ضروریات کے بارے سب سے زیادہ جاننے والا ہوتا ہے“۔(میزان الحکمة، ج۱، ح ۱۶۷)
عصمت امام
امام کی اہم صفات اور امامت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ”عصمت“ ہے اور وہ ایک ایسی راسخ حالت یا طبیعت ہے کہ جو حقائق کے علم اور مضبوط ارادہ سے وجود میں آتی ہے اور چونکہ امام میں یہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں تو وہ ہر گناہ اور خطا سے محفوظ رہتا ہے، امام بھی دینی معارف اور تعلیمات کی پہچان اور ان کے بیان کرنے نیز ان پر عمل کرنے اور اسلامی معاشرہ میں اچھائیوں اور برائیوں کی تشخیص اور پہچان کی بنا پر خطا و لغزش سے محفوظ رہتا ہے۔اسی بنیاد پر آپ کی اطاعت کو دوسروں پر واجب قرار دیا گیاہے۔
امام کی عصمت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت اور عقل سے بہت سے دلائل پیش کئے گئے ہیں، ان میں سے کچھ اہم دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
الف: دین اور دینداری کی حفاظت امام کی عصمت پر موقوف ہے، کیوکہ امام پر دین کو تحریف سے محفوظ رکھنے اور دین کے بارے ہدایت دینے کی ذمہ داری ہوتی ہے نیز امام کا کلام، ان کی رفتار اور ان کا کردار اور دوسرے شخص کے عمل کی تائید یا تائید نہ کرنا معاشرہ کے لئے اہم اثرات کے حامل ہوتے ہیں، لہٰذا امام کو فہم دین اور اس پر عمل کرنے میں ہر لغزش و خطا سے محفوظ ہونا چاہیے تاکہ اپنے ماننے والوں کو صحیح طریقہ سے ہدایت کر سکے اورلوگوں کو اطمینان کامل سے ان کی پیروی کرنے میں خدا کی رضا سمجھیں۔
ب: معاشرہ کو امام کی ضرورت کی ایک دلیل یہ ہے کہ عوام دینی شناخت، دینی احکام اور شرعی قوانین کے نافذ کرنے میں خطا و غلطی سے محفوظ نہیں ہیں اور اگر ان کا رہبر اور ہادی بھی اسی طرح ہو تو پھر امام پر کس طرح سے مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے!؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ اگر امام معصوم نہ ہو تو عوام اس کی پیروی اور اس کے حکم پر عمل کرنے میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
امام کی عصمت پر قرآن کریم کی آیات بھی دلالت کرتی ہیں جن میں سورہ بقرہ کی ۴۲۱ ویں آیت ہے، اس آیہ شریفہ میں بیان ہوا ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت عطا کرنے کے بعد امامت کے بلند درجہ پر فائز فرمایا ہے، اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند عالم کی بارگاہ میں درخواست کی کہ یہ مقام امامت میری نسل میں بھی قرار دے، تو خداوند عالم نے فرمایا: ” یہ میرا عہدہ (امامت) ظالموں اور ستمگروں تک نہیں پہنچ سکتا“، یعنی منصب امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں ان حضرات تک پہنچے گا جو ظالم نہ ہوں گے۔
حالانکہ قرآن کریم نے خداوند عالم کے ساتھ شرک کو عظیم ظلم قرار دیا ہے، اور حکم خدا سے اپنے نفس پر تجاوز کوکبھی ظلم سے شمار کیا ہے (جو کہ گناہ ہے)، یعنی جو شخص اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو وہ ظالم ہے اور وہ مقام امامت کے لئے شائستہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے ”امامت“ کو اپنی ذریت اور نسل میں سے ان لوگوں کے لئے نہیں مانگا تھا جن کی پوری عمر گناہوں میں گزرے یا پہلے نیک ہوں لیکن بعد میں بدکار ہو جائیں، اس بنا پر صرف دو قسم کے افراد باقی رہتے ہیں:
۱۔ جو لوگ شروع میں گناہگار تھے لیکن بعد میں توبہ کرکے نیک ہو گئے۔
۲۔ جن افراد نے اپنی پوری زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو۔
خداوند عالم نے اپنے کلام میں پہلی قسم کو الگ کر دیا، (یعنی پہلے گروہ کو امامت نہیں ملے گی)، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مقام ”امامت“ صرف دوسرے گروہ سے مخصوص ہے،(یعنی جن افراد نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو)۔
امام ہی انسانی معاشرہ کا حاکم ہے
چونکہ انسان ایک سماجی شخصیت کا حامل ہے اور معاشرہ اس کے دل و جان اور رفتار و گفتار میں بہت زیادہ اثرات ڈالتا ہے، اس کی صحیح تربیت اور قربِ الٰہی کی طرف بڑھنے کے لئے اجتماعی راستہ ہموار ہونا چاہیے اور یہ چیز الٰہی اور دینی حکومت کے زیرِ سایہ ہی ممکن ہو سکتی ہے، لہٰذا لوگوں کا ہادی اور رہبر معاشرہ کے نظام کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کا سہارا لیتے ہوئے بہترین طریقہ سے اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالے۔
امام اخلاقی کمالات سے آراستہ ہوتا ہے
امام چونکہ معاشرہ کا ہادی اور رہبر ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ تمام برائیوں اور اخلاقی پستیوں سے پاک ہو اور اخلاقی کمالات کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو، کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کے لئے انسان کامل کا بہترین نمونہ شمار ہوتا ہے۔
حضرت امام رضا علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:”امام کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں: (۱) وہ سب سے زیادہ عالم، (۲) سب سے زیادہ متقی اورپرہیز گار، (۳) سب سے زیادہ حلیم، (۴)سب سے زیادہ شجاع، (۵) سب سے زیادہ سخی، (۶) سب سے زیادہ عبادت کرنے والا ہوتا ہے۔ ( معانی الاخبار، ج۴، ص ۲۰۱)
اس علاوہ امام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین ہوتا ہے لہٰذا وہ انسانوں کی تعلیم و تربیت کی ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، لہٰذا اسے دیگر لوگوں سے زیادہ الٰہی اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص (حکم خدا سے) خود کو لوگوں کا امام قرار دے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے خود اپنی تعلیم کےلئے کوشش کرے اور اپنی رفتار و کردار سے دوسروں کی تربیت کرے، قبل اس کے کہ اپنے کلام سے تربیت کرے“۔ ( میزان الحکمة، باب ۷۴۱، ح ۰۵۸)
یہ تو عام راہنماﺅں کی بات ہے اور جو رسول اللہ کے جانشین ہیں اور ہدایت کا مرکزہیں وہ کس طرح اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں بچپن سے لے کر آخر عمر تک خطا کار ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے جو ہدایت کے لئے متعین ہوتے ہیں تو خدا کی طرف سے ان کی عصمت و پاکیزگی اور طہارت کی ضمانت ہوتی ہے۔
امام کو خدا کی طرف سے منسوب ہونا چاہیے
شیعہ نقطہ نگاہ سے امام اور جانشین پیغمبر صرف حکم خدا اور اسی کے انتخاب سے معین ہوتا ہے اور پیغمبر حکم خدا کی بنا پر امام کا تعارف کرواتا ہے، لہٰذا کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ اس مسئلہ میں دخالت کا حق نہیں رکھتا۔
امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے کی ضرورت پر متعدد دلائل ہیں، مثلاً:
الف: قرآن کریم کے فرمان کے مطابق خداوند عالم تمام چیزوں پر حاکم مطلق ہے اور سب پر اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ظاہر ہے کہ یہ حاکمیت خدوند عالم کی طرف سے (صلاحیت اور شائستگی رکھنے والے) کسی بھی شخص کو عطا ہو سکتی ہے، لہٰذا جس طرح نبی اور پیغمبر خدا کی طرف سے منتخب ہوتا ہے، اسی طرح امام کو بھی خدا متعین کرتا ہے اور وہ لوگوں پر ولایت رکھتا ہے۔یعنی لوگوں کا سرپرست و ولی ہوتاہے۔
ب: اس سے پہلے امام کے لئے کچھ خاص خصوصیات بیان کی گئی ہیں جیسے عصمت، علم وغیرہ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان صفات کے حامل شخص کی شناخت اور پہچان صرف خداوند عالم ہی کرا سکتا ہے کیونکہ وہی انسان کے ظاہر و باطن سے آگاہ ہے، جیسا کہ خدوندا عالم قرآن میں جناب ابراہیم علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”ہم نے تم کو لوگوں کا امام قرار دیا“۔
جامع اور رساتر کلام
گفتگو کے اس آخری حصہ میں ضروری ہے کہ امام ہشتم حضرت علی رضا علیہ السلام کے عظیم کلام کا کچھ حصہ بیان کر دیںجس میں آپ نے امام کی خصوصیات بیان فرمائیں ہیں:
”(جنہوں نے امامت کے مسئلہ میں اختلاف کیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ امامت ایک انتخابی مسئلہ ہے) ان لوگوں نے جہالت کا ثبوت دیا.... کیا عوام الناس اُمت کے درمیان امامت کے مقام و منزلت کو جانتے ہیں تاکہ وہ مل بیٹھ کر امام کا انتخاب کرلیں؟! بے شک امامت کی قدر و منزلت اتنی بلند و بالا، اس کی شان اتنی عظیم المرتبہ، اس کا مقام اتنا عالی، اس کا رتبہ اتنا بلند و رفیع اور اس کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کی عقل کی رسائی اس تک نہیں اور نہ ہی وہ یا اپنی رائے کے ذریعہ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔
بے شک امام کی امامت وہ مقام ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت و خلت عطا کرنے کے بعد تیسرے مرتبہ میں مقام امامت عطا کیا ہے.... امامت، خلافت خدا اور رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، مقام امیر المومنین علیہ السلام اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام کی میراث ہے، واقعاً امامت دین کی باگ ڈور، نظام مسلمین کی بنیاد اور مومنین کی عزت اور دنیا کی خیر و بھلائی کا سبب ہے........ نماز، روزہ، حج، جہاد کے کامل ہونے کا سبب ہے، نیز امام کے ذریعہ (اس کی ولایت کے قبول کرنے کی صورت میں) سرحدوں کی حفاظت ہے۔
امام، حلالِ خدا کو حلال اور حرام ِ خداکو حرام کرتا ہے (اور خداوند عالم کے حقیقی حکم کے مطابق عمل کرتا ہے)، حدود الٰہی قائم کرتا ہے، خدا کے دین کی حمایت کرتا ہے اور حکمت و موعظہ نیز بہترین دلیل کے ذریعہ خدا کی طرف لوگوں کودعوت دیتا ہے۔
امام آفتاب کی طرح طلوع ہوتا ہے جس کا نور پوری دُنیا کو منور کر دیتا ہے اور وہ خود اُفق میں اس طرح سے ہے کہ اس تک ہاتھ اور آنکھوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، امام چمکتا ہوا چاند، روشن چرغ، نور درخشان اور بھرپور اندھیروں، نیز شہروں جنگلوں اور دریاﺅں کے راستہ میں راہنمائی کرنے والا ستارہ ہے (اور فتنہ فساد) اور جہالت سے نجات دینے والا ہے............
امام، مونس ساتھی، مہربان باپ، حقیقی بھائی، اپنے چھوٹے بچوں کی نسبت نیک و مہربان ماں اور بڑی بڑی مصیبتوں میں لوگوں کے لئے پناہ گاہ ہے۔ امام، گناہوں اور برائیوں سے پاک کرنے والا ہے، وہ مخصوص بردباری اور حلم کی نشانی رکھتا ہے .... امام اپنے زمانہ کا واحد شخص ہوتا ہے اور ایسا شخص ہوتا ہے جس (کی عظمت)سے کوئی قریب نہیں بھٹک سکتا، اور کوئی بھی دانشور اس کی برابری نہیں کر سکتا، نہ کوئی اس کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی اسکا مثل و نظر مل سکتا ہے........
لہٰذا امام کی شناخت اور پہچان کون کر سکتا ہے،یا کون امام کا انتخاب کر سکتا ہے، ھیھات ھیھات! یہاں پر عقل و خرد حیران ہو جاتی ہے، (یہاں پر) آنکھیں بے نور، بڑے چھوٹے حکماءانگشت بدندان، اور خطباءعاجز ہو جاتے ہیں اور ان میں امام کے بافضیلت کاموں کی توصیف کرنے کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ سبھی اپنی عجز و ناتوانی کا اقرار کرتے ہیں!!........( اصول کافی، ج ۱، باب ۵۱، ص ۵۲۲)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اس بحث کے معارف کا بیان اور اس کی مختلف جہات کا تجزیہ ایک اہم کام اور ضروری امر ہے۔
حدیث، من مات........ کی طرف نظر عنایت کی صورت میں امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت واجب ہے۔
حدیث ثقلین کے معنی و مفہوم کے مطابق قرآن و عترت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان کا آپس میں جدا ہونا ناممکن ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں بعنوان ایک امام حی و حاضر کا عقیدہ ایک مستحکم اور ناقابل اشکال عقیدہ ہے۔
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کے متعلق شبہات پر توجہ ضروری ہے اور ان کا جواب آج کے دور کے مطابق دینا ہوگا۔
امامت کے حوالہ ے شیعہ و سنی نظریات میں اساسی فرق یہ ہے کہ شیعہ عقائد میں امامت ایک الٰہی منصب ہے جو اصول دین کا جز ہے جبکہ اہل سنت امامت کو ایک دُنیاوی منصب سمجھتے ہیں کہ جس کا اختیار لوگوں کے پاس ہے۔
امام علیہ السلام علم وعصمت اور حاکمیت کے کمالات اور دیگر عالی انسانی صفات سے آراستہ ہوتاہے۔
درس کے سوالات
۱۔ موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟
۲۔ کیاامامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟واضح کریں؟
۳۔ انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟
۴۔ مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟
۵۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟
ة....ة....ة....ة....ة
پہلا سوال: موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟
جواب: مہدویت پر بحث کی ضرورت اور اہمیت کے مختلف پہلو یہ ہیں: اول، یہ کہ امام مہدی (عج) کا موضوع امامت کے بنیادی مسئلہ سے وابستہ ہے، جو شیعوں کے عقائدی اصولوں میں سے ہے اور اس کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ دوم، امام مہدی (عج) بارہویں امام ہیں اور ان کی امامت پیغمبر اکرم (ص) کے دین کی حفاظت کے لئے اہم ہے۔ سوم، امام مہدی (عج) کی غیبت اور ان کے دور کے بارے میں سوالات اور شکوک و شبہات کی وجہ سے اس موضوع پر گہرائی سے بحث کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کی جا سکیں اور غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔
دوسرا سوال: کیا امامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟ واضح کریں؟
جواب: جی ہاں، امامت و خلافت کے بارے میں شیعہ اور سنی کے نظریات میں بنیادی اختلاف موجود ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، امامت ایک الٰہی منصب ہے جو خدا کی طرف سے معین کیا جاتا ہے اور امام کو خداوند عالم کی طرف سے خصوصی علم اور عصمت کی صفت سے نوازا جاتا ہے۔ دوسری طرف، اہل سنت کے نظریہ کے مطابق، امامت یا خلافت ایک دنیاوی منصب ہے جو مسلمانوں کی جانب سے انتخاب کیا جاتا ہے۔
تیسرا سوال: انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟
جواب: انسان کے لئے امام کی ضرورت اس بنیاد پر ہے کہ امام دینی ہدایت کا منبع ہوتا ہے، دین کی حقیقی تعلیمات کی حفاظت کرتا ہے، اور امت کو فتنوں اور اختلافات سے محفوظ رکھتا ہے۔ امام معاشرہ میں حقیقی اور کامل اخلاقی، دینی اور علمی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ امام کے بغیر دین کے غلط تعبیر ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے، جو کہ امت کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
چوتھا سوال: مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟
جواب: امام کے من جانب اللہ ہونے کی ضرورت اس بنیاد پر ہے کہ امامت ایک الٰہی منصب ہے جس کے لئے خاص صفات جیسے علم، عصمت، اور روحانی و اخلاقی کمال ضروری ہیں۔ ان صفات کا حامل صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جسے خدا نے مخ
۵۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟
جواب
**ملکہ عصمت کا سرچشمہ:**
عصمت کا سرچشمہ امام کا خدا سے خاص تعلق اور ان کی غیر معمولی روحانی و علمی صلاحیت ہے۔ امام کی عصمت، خداوند عالم کی طرف سے ایک خاص عنایت اور فضل ہے جو انہیں گناہ اور خطاؤں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ خصوصیت امام کو علم غیب اور وحی کے ذریعے دی جاتی ہے، جس سے وہ ہر طرح کے گناہ سے پاک رہتے ہیں اور دین کی حقیقی تعلیمات کو بغیر کسی تحریف کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
**امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل:**
1. **قرآنی دلیل:**
- **آیت طہارت (آیت 33 سورہ احزاب):**
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"۔
اس آیت میں خدا کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہل بیت کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک کرنا چاہتا ہے، جو عصمت کی ایک واضح نشانی ہے۔
2. **حدیثی دلیل:**
- **حدیث ثقلین:**
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ رہا ہوں: کتاب اللہ اور میری عترت، اہل بیت، اگر تم ان دونوں سے مضبوطی سے تمسک رکھوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔"
اس حدیث میں اماموں کی عصمت اور ان کے دینی معارف کی حفاظت کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
3. **عقلی دلیل:**
- عقلی طور پر، اگر امام عصمت نہ رکھتے تو وہ دین کی صحیح تعلیمات کو بغیر کسی غلطی کے لوگوں تک نہ پہنچا سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دین میں غلطی کا امکان موجود ہوتا، جو کہ خدا کے پاک و مکمل دین کے لیے نامناسب ہے۔
4. **روایتی دلیل:**
- متعدد احادیث اور روایات میں اماموں کی فضیلتیں اور خصوصیات، جیسے کہ ان کی علمیت، تقویٰ، اور عصمت، کو واضح کیا گیا ہے، جو کہ ان کی عصمت کو ثابت کرتے ہیں۔
یہ دلائل اماموں کی عصمت کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام کسی بھی قسم کے گناہ اور خطا سے محفوظ ہوتے ہیں، اور ان کی زندگی اور تعلیمات دین کی حقیقی اور صحیح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
معرفت امام
معرفت امام
مہدویت پر بحث کرنے کی ضرورت
“موعود ” یا “مصلح کل” کا موضوع ایک ایسا نظریہ اور خیا ل نہیں ہے کہ جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا ہو اور یہ ایسا موضوع ہو کہ جو انسانیت کے دردوں کی تسکین اور مظلوموں کی دلداری کا ذریعہ ہوبلکہ یہ موضوع شیعیت کی شناخت ہے۔کہ جس کی ضرورت اور اہمیت کو آیات و روایات کی روشنی میں درک کیا جا سکتا ہے۔
زیر نظر تحریر میں، بطور اختصارمہدویت کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں:
۱۔ اعتقادی پہلو
عقیدہ زندگی کی اصل اساس ہے یعنی انسان میدان عمل میں جو کچھ بھی انجام دیتا ہے اس کی بنیاد اس کے عقائد ہوتے ہیں۔
بنابراین اگر انسان کا عقیدہ صحیح اور مستحکم ہو تو انسان عملی میدان میں لغزش اور شک و شبہ کا شکار نہیں ہوگا۔ وہ اہم ترین چیز ہے کہ جو ایک صحیح عقیدے کو تشکیل دیتی ہے وہ معرفت ہے۔
معرفت حاصل کر کے ہی ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ہی آئمہ ھدیٰ کی امامت کو دوام دینے والی شخصیت ہیں۔ آپ فیض الہٰی کے (بندوں تک پہنچنے کے لئے) واسطہ، خاتم اوصیاءاور مظہر صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ ہیں۔
امام زمانہ علیہ السلام خالق کائنات کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ ہیں جیسا کہ احادیث میں خداوند متعال اور اس کے اوصاف کی معرفت کا ذریعہ اور وسیلہ، اولیائے خدا اور آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی شناخت کوقراردیا گیا ہے۔ یہ ہستیاں مظہر اسمائے الہٰی ہیں اور ان ذوات مقدسہ کی صحیح معرفت ہی خدا کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ قرار پاتی ہے۔
شیعہ اور سنی راویوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے : ” مَن مَاتَ و َ لَم یَعرِفۡ اِماَمَ زَماَنَہِ ماَتَ مِیتةً جاَھَلیة ” [1]
(جو شخص اس حال میں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت ( شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کی موت مرا)
بعض دعاﺅں میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ معرفت امام کی توفیق طلب کریں:
“اَلَّھُمَّ عَرِّفۡنِی حُجَّتَکَ فَا نَّکَ اِن لَّم تُعَرِّ فۡنیِ حُجَّتَک ضَلَلۡتُ عَنۡ دِیِنی ” [2]
“خداوندا! اپنی حجت کی معرفت عطا فرماکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاﺅں گا۔”
کیا اتنی(روایات )کی مو جودگی کے باوجود، امام زمانہ علیہ السلامکی شناخت کااہتمام نہیں کرنا چاہیے؟ اور کیا حضرت ولی العصر علیہ السلام کے مقدس وجود کے مختلف پہلو ﺅں کو بہتر طریقے سے نہیں پہچاننا چاہیے؟
امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح اور درست شناخت سے کیسے غافل رہ سکتے ہیں جبکہ امام زمانہ علیہ السلام اپنے غیبت کے زمانہ میں بھی سب مخلوقات کو اپنے الہی فیض سے محروم نہیں رکھتے اور ہم سب امام زمانہ علیہ السلام کی امامت کے فیوضات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
۲۔ معاشرتی پہلو
جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے ایک سعادت مندمعاشرتی زندگی کی آرزو کر رہا ہے۔ اگر اس خواہش کے برآوردہ ہونے کا امکا ن نہ ہوتاتو ہرگز ایسی خواہش ، آرزو اور امید انسان کی فطرت میں قرار نہ دی جاتی جیسے کہ اگر پانی اور غذا نہ ہوتی تو پیاس اور بھوک بھی نہ ہوتی۔
“مہدویت” ایک ایسی فکر ہے کہ جوبہت سے معاشرتی اثرات رکھتی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اثر، معاشرے کے پیکر سے مایوسی اور نا امیدی کا خاتمہ ہے مہدویت یعنی روشن مستقبل کی امید اور مظلوم اور بے سہارابشریت کے لئے آزادی کا پیغام اور یہ کہ ایک دن ایک مردخدا آئے گا اورلوگ جس چیز کی امید رکھتے ہیں وہ انجام پذیر ہو کر رہے گی۔
ہر مسلمان کا اس چیز پرپختہ یقین ہے کہ جو معاشرتی نظام،اس کی جائز خواہشات و آرزوﺅں کی تکمیل کر سکتا ہے اور جو اس معاشرتی نظام کو حق وعدالت کی بنیا د پر استوار کرسکتا ہے وہ اسلام کاوہ خوبصورت”حکومتی نظام” ہے۔جس کی کامل و مکمل شکل اما م زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت تشکیل پائے گی۔اوراس بات پر یقین امید، نشاط اورزندگی کے مساوی ہے۔
یہ فکر اتنی واضح و روشن ہے کہ حتٰی کہ بعض مستشرقین (جیسے جرمن فلسفی ماربین) نے بھی اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ”انتہائی اہم معاشرتی مسائل میں سے ایک مسئلہ جو امید (نجات) کا موجب ہو سکتا ہے وہ حضرت حجت ولی العصر علیہ السلام کے وجود پر اعتقاد رکھنا اور ان کے ظہور کا انتظار ہے”۔
بناءبر ایں،مہدی موعود علیہ السلام کے مقدس وجود پرعقیدہ رکھنا، (انسانوں کے) دلوں کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے ، جو انسان اس “اصل”پرعقیدہ رکھتاہے وہ نا امید (اور مایوس) نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن اختتام حتمی ہے۔لہٰذاکوشش کرتاہے کہ خود کو اس (روشن اختتام )تک پہنچائے [3]اور یہی نظریہ اس کی مسلسل حرکت کا سبب بنتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرروشن اختتام کو حقیقی شکل دینے کی را ہ میں جدوجہد کرتے ہوئے سختیوں و ناخوشگوار حوادث و واقعات کے سامنے شکست تسلیم نہیں کرتا ۔اس کا یہی عمل ” مہدویت” پر اعتقاد کے زیر اثر، بشریت کے لئے حاصل ہونے والا سب سے بڑا معاشرتی تخفہ ہے۔
سیاسی پہلو
عالمی سطح پر تاریخ ہمیشہ مختلف حکومتوں اور نظاموں کی شکست کی شاہد رہی ہے۔ عرصہ دراز تک دو غالب نظریات (کیپٹلزم،مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے نمائندہ کے طور پراور کیمونزم،سوشلزم کے نمائندہ کے طورپر ) نے ایٹمی اور غیر ایٹمی اسلحے کے ذریعے دنیاکےلئے خطرہ بنے رہے اور یہی ان کے نظریات اور نظاموں کی شکست کی واضح ترین دلیل ہے۔
ان نظریات نے عرصہ دراز تک معاصر عالمی سیاسی تفکر کو متاثر کئے رکھا لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایک شکست سے دوچار ہوا اور دوسرا (نظام یعنی سوشیالزم) شکست کے دہانے پہ ہے،مغربی لبرل ڈیموکریسی کودرپیش چیلنج کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ( لبرل ڈیموکریسی) میں اخلاقی ، نفسیاتی، ٹیکنالوجی اور علمی (معرفتی ) بحرانوں کی بہتات اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہنشاہیت اور نظام ایک سنگین شکست سے دوچار ہو نے والا ہے۔
ایسے حالا ت میں ناکامیوں،کھوکھلے نعروں اور امن و سلامتی کے سراب دیکھ کر تھکے ماندہ انسانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
آج کی بشریت عالمی سیاست میں نظر ثانی اور جدت کی پیاسی ہے۔ در حقیقت آج کا انسان شدید تشنگی محسوس کر رہا ہے او راس کو صرف “مدینہ فاضلہ” مہدوی کا نظام و منصوبہ ہی سیراب کر سکتا ہے۔
نظریہ مہدویت ایک عالمی نظریہ ہے اور یہ نظریہ دنیا کو چلانے کا ایک پروگرام اور منصوبہ رکھتا ہے۔بناءبر ایں جو نظام اور پروگرام معاصر بشریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ “مہدویت” یہی فکرہے۔ اور مہدویت کے حکومت کے بارے میں بلند ترین اور قیمتی اہداف و مقاصد ہیں، حتٰی کہ یہ فکر مہدویت، دینی حکومت (کے قیام) کے لئے ایک مفید اور قابل عمل منصوبہ بندی قرار پا سکتی ہے۔
اگر (نظریہ) مہدویت صحیح اندازمیں بیان ہوجائے تو دنیا بھر میں اصلاحی تحریکوں میں جان پڑ جائے گی۔ جس طرح کہ انقلاب اسلامی ایران ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب کے لئے مناسب پیش خیمہ اور نقطہ آغاز بن چکا ہے۔
تاریخی پہلو
مہدویت کاسلسلہ امامت اور نبوت کے تسلسل کا نام ہے۔ اس وجہ سے تاریخ کے ایک حساس دور میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ اور آج تک جاری و ساری ہے اور مہدویت کا یہ سلسلہ بشریت کی دنیوی زندگی کے اختتام تک باقی رہے گا۔ بناءبر ایں، امام علی علیہ السلامسے لے کر امام ولی عصر علیہ السلام تک (ان آئمہ کی) امامت کی کیفیت کے بارے میں بالعموم اور مہدویت کے بارے میں بالخصوص مسلمانوں کا رد عمل اور نیز اس سے پیش آنے والے تاریخی حوادث، تاریخ اسلام کے اہم اور حساس موضوعات قرار دئیے جا سکتے ہیں۔
مہدویت کے موضوع پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور شیعہ، سنی رورایات میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کثرت سے بشارتیں ذکر ہوئی ہیں۔تاریخ اسلام میں ہمیشہ امام مہدی موعود علیہ السلام کے عقیدے پر جہت سے آثارمرتب ہوئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی اور حال میں بہت سی اصلاحی تحریکیں، نظریہ مہدویت سے متاثر تھیں( جیسے مصر میں فاطمیوں کی تحریک اور سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک ) ، (مہدی) موعود علیہ السلام پر عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلامی معاشرے پر جو عجیب اثرات چھوڑے انہیں دیکھ کر کچھ حیلہ بازوں نے بھی لفظ مہدی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط اہداف تکہ پہنچنے کے لئے مہدویت کا دعویٰ کیا اورمسلم معاشروں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔
ثقافتی پہلو
ہم مسلمانوں کی (جملہ) ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ مہدویت کے کلچر کو پھیلانے کے لئے زمین ہموار کر کے آنحضرت علیہ السلام کے ظہور میں (مزید) تاخیر کو روکیں۔ مہدویت کے ثقافتی پہلو کے اعتبار سے چند نکا ت پر کام کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ انتظار کی پالیسی کو واضح کرنا
انتظار کی پالیسی کا مطلب ہے وسعت نظر اورامام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے تمام وسائل اور توانائیوں کو کام میں لانا۔ امام کا ظہور فقط اسی وقت ہوگا جب ہم جمود کی حالت سے نکل کر اپنے آپ کو ایک فعال اور متحرک پروگرام کے تحت منظم کرلیں اور اپنے مشن تک پہنچنے کے لئے توانائیاں بروئے کار لائیں اور نظر ہماری مستقبل پر ہونا چاہئے۔
کیونکہ جب تک مستقبل روشن اور واضح نہ ہو اس وقت تک صحیح منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔
۲۔ غلط افکار کی پہچان
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اوران کا ازالہ کریں ۔ مثال کے طور پر امام زمانہ علیہ السلام کی بحث میں افراطی رنگ نہ دیں۔ اسی طرح فقط امام کا قہر وغضب کا چہرہ لوگوں کے سامنے نہ رکھیں بلکہ امام کے اسوہ رحمت اور بے پناہ بخشش کو بھی پیش کریں۔ اسی طرح ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ انتظار کا مفہوم تحریف کا شکار نہ ہو جائے۔ اور معاشرے میں ظلم وستم کے بڑھنے پر بھی سکوت اختیار نہ کریں کہ غلط افکار معاشرے پر حکم فرما ہوں۔
۳ ۔ دشمن شناسی
اسلام دشمن معاشرے میں مہدویت کی تعلیم کے رشد کو روکنے یا تحریف کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں اوردشمن کوتو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اگر دشمن ایسا نہ کرے تو تعجب کرنا چاہیے۔ چونکہ دشمن کی ماہیت ہی یہی ہے۔پس اہل حق کو کوشش کر نی چاہیے کہ مہدویت کی ابحاث کو صحیح انداز میں پیش کریں تاکہ ہر قسم کی تخریب و تحریف کو روکا جا سکے۔
پیشکش:علی اصغر سیفی
مقدمہ
جیسا کہ ہم کہ جانتے ہیں کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان موضوع امامت کے تحت صرف تین مسئلوں میں اختلاف ہے
١۔ پہلے یہ کہ امام کا تعین و انتخاب، خدا کی جانب سے ہو۔
٢۔ دوسرے یہ کہ امام ملکۂ عصمت سے آراستہ ہو۔
٣۔ تیسرے یہ کہ علم لدنی کا مالک ہو،
عصمت امام ۔
منصب امامت کا الٰہی ہونا اور حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا خدا کی جانب سے منصب امامت پر فائز ہونے کے اثبات کے بعد ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کو اِس آیت کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
'' لَا ینالُ عَہدِ الظَالِمِینَ''(١)
یعنی منصب امام صرف انھیں حضرات کے لئے سزاوار ہے جو گناہوں سے آلودہ نہ ہوں۔
اس کے علاوہ آیہ ''اولوا الامر'' (٢)جو امام کی اطاعت کو مطلق قرار دیتی ہے اور امام کی اطاعت کو آنحضرت ۖ کی اطاعت کے مساوی قرار دیتی ہے، اُس کے ذریعہ بھی ائمہ علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں امام کی اطاعت کو اطاعت خدا کے خلاف قرار نہیں د یا جا سکتا لہٰذا او لوالامر یعنی امام کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
اسی طرح ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کوآ یہ تطہیر سے بھی ان کا معصوم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے:
( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذہِبَ عَنکُمُ الرِجسَ اَہلَ البَیتِ وَ یُطَہِّرَ کُم تَطہِیراً)(٣)
اے اھل بیت !(رسول) خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی ) برائی سے دوررکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ایسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔
بندوں کی تطہیر کا ارادۂ تشریعی، کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کے سلسلہ میں خدا کا ارادہ، ارادۂ تکوینی ہے کہ جس میں اراد کا ارادہ کرنے والے (خدا ) سے تخلف ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
( اِنَّمَا اَمرُہُ اِذَا اَرَادَ شَیٔاً اَن یَقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ).(٤)
پس تطہیر مطلق اور کسی بھی قسم کی نجاست اور پلیدی سے دورری عین عصمت ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانو ںمیں سے کوئی بھی فرقہ آنحضرت ۖ کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا قائل
………………………………………
(١) سورۂ بقرہ آیت ١٢٤.
(٢)سورہ نسا۔آیت٥٩
(٣) سورۂ احزاب آیت ٣٣
(٤) سورۂ یس ٨٢.
نہیں ہے فقط شیعہ فرقہ ہے جو حضرت زہراء علیہا السلام اور بارہ اماموں کی عصمت کا قائل ہے۔( ١)
اس مقام پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ اس آیت کے سلسلہ میں وہ روایتیں جو نقل ہوئیں ہیں، ان میں سے اکثر کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اِس بات پردلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت ،خمسہ طیبہ کے سلسلہ میںنازل ہوئی ہے۔(٢)
شیخ صدو ق حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول خدا ۖ فرما یا: اے علی! یہ آیت تمہارے اور حسن و حسین علیہم السلام اور تمہار ی نسل سے ہونے والے اماموں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ،میں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے تو آپ ۖ نے فرمایا: اے علی! تم ہوگے پھر حسن اور پھر حسین اور حسین کے بعد علی بن الحسین اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد جعفر بن محمد اس کے بعد موسیٰ بن جعفر اس کے بعد علی بن موسیٰ اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد علی بن محمد اس کے بعد حسن بن علی اور پھر حسن کے فرزند حجت خدا امام ہوں گے۔
اس کے بعد فرمایا: کہ یہ اسماء اسی ترتیب سے ساحت عرش پر لکھے ہوئے ہیں، اور جب میں نے ان اسماء کو دیکھا تو خدا سے سوال کیا کہ یہ اسماء کس کے ہیں! تو خدا نے فرمایا:اے محمد ۖ یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں کہ جنھیں پاک قراردیا گیا ہے اور وہ معصوم ہیں نیز ان کے دشمنوں پر بے شمار لعنت کی گئی ہے۔(٣)
ان آیتوں کے علاوہ حدیث ثقلین جس میں آنحضرت ۖ نے ائمہ ا طہار علیہم السلام کو قرآن کے مساوی قرار دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ دونوں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت پر ایک روشن دلیل ہے، اس لئے کہ ایک معمولی خطا کا بھولے سے بھی سرزد ہوجانا قرآن عملی مفارقت کا سبب ہوگا۔
………………………………………………
(١) مزید وضاحت کے لے تفسیر المیزان اور کتاب ''الامامة والولایة فی القرآن''. کی طرف رجوع کیا جائے
(٢) غایة المرام ص ۔٢٨٧ ٢٩٣.
(٣) غایة المرام (ط قدیم) ۔ج،٦۔ ص ٢٩٣
علم امام۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ ا طہار علیہم السلام لوگوں کے مقابلہ میں علمی اعتبار سے بہت بلند مقامات کے حامل تھے جیسا کہ نحضرت ۖ نے فرمایا:
(لَا تُعَلِّمُوہُم فَاِنَّہُم اَعلَمُ مِنکُم)
انھیں تعلیم نہ دو اس لئے کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ جاننے والے ہیں(١)
مخصوصاً حضرت علی علیہ السلام جو بچپنے سے رسول اللہ ۖ کے سائے میں رہے اور آپ ۖ کی آخری سانسوں تک آپ کے علوم سے مستفید ہوتے رہے، جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے خود فرمایا:
( اَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِّ بَابُہَا) (٢)
میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔
اس کے علاوہ خود امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
( اِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ۖ عَلَّمَن اَلفَ بَابٍ وَ کُلُّ بَابٍ یَفتَحُ اَلفَ بَابٍ فَذَلِکَ
اَلفَ اَلفَ بَاب حَتَّی عَلِمتُ مَاکَانَ وَ مَایَکُونُ اِلی یَومِ القِیَامَةِ وَ عَلِمتُ عِلمَ المَنایا وَ البَلایا وَ فَصلَ الخِطابِ)(٣)
………………………
(١) غایة المرام ۔ص،٢٦٥ اصول کافی۔ ج ١' ص٢٩٤
(٢)مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ٢٢٦قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ ایک سنی عالم نے ایک کتاب بنام
''فتح الملک العلی بصحة حدیث مدینة العلم علی'' نے لکھی جو ١٣٥٤ میں قاہرہ میں چھپی ہے
(٣) ینابیع المودہ۔ ص٨٨ اصول کافی ۔ج ١ ص،٢٩٦
یعنی رسول اللہ ۖ نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار ہزار باب کھولے جو مجموعاً ہزار ہزار باب (دس لاکھ باب ) ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اُن سب سے میںباخبرہوگیا ، اموات و آفات کے اسرار کا میں عالم اور 'عدل کے ساتھ حکم کرنا'' کا مالک ہوں۔
لیکن علوم آ ل محمد ۖ صرف اُن علوم پر منحصر نہیں ہے کہ جسے واسطہ کے ساتھ یا واسطہ کے بغیر انھوں نے آنحضرت ۖ سے حاصل کیا ،بلکہ ائمہ اطہار علیہ السلام غیر عادی علوم سے بھی سرفراز تھے جس سے بصورتِ الہٰام باخبر ہوجاتے تھے(١) بالکل اسی طرح کہ جیسے جناب خضر، جناب ذوالقرنین، (٢)حضرت مریم اورجناب موسیٰ کی والدہ پر افاضہ ہوا کرتا تھا(٣) جن میں سے بعض کو قرآن نے وحی سے تعبیر کیا ہے لیکن یہاں وحی سے مراد وحی نبوت نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض ائمہ علیہم السلام بچپنے میں مقام امامت پر فائز اور دوسروں سے تعلیم حاصل کرنے سے بے نیاز ہوتے تھے۔
یہ مطلب ان روایتوں کے ذریعہ ثابت ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئیں ہیں جن کی حجیت آپ لوگوں کی عصمت سے ثابت ہے، لیکن ان میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کرنے سے پہلے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ضروری ہے جس میں بعض افراد کو'ومن عندہ علم الکتاب' (٤) کے عنوان سے آنحضرت ۖ کی حقانیت پر بہ طور شاھد پیش کیا گیا ہے، اور وہ آیت یہ ہے
( قُل کَفَی بِاللّہِ شَہِیداً بَینِ وَ بَینَکُم وَمَن عِندَہُ عِلمُ الکِتَابِ)(٥)
آپ کہہ دیں کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان شہادت اور گواہی دینے کے لئے کافی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کافی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے۔
…………………………………
(١) اصول کافی۔ کتاب الحجہ۔ ٢٦٤ ٢٧٠
(٢)اصول کافی ۔ج ١، ص ٢٦٨
(٣) سورۂ کہف۔ ٦٥ ٩٨ آل عمران ۔٤٢، مریم ١٧' ٢١ طہ۔ ٣٨ قصص۔٧
(٤) سورۂ رعد۔ ٤٣
(٥)سورۂ رعد ۔٤٣
پس اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ شخص جس کی گواہی خدا کی گواہی کے برابر ہو، اور علم الکتاب سے آراستہ ہو ، وہ کمالات کے عظیم درجات پر فائز ہوگا ۔
ایک دوسری آیت میں اسی شاہد کی طرف اشارہ کیا ہے:
(َفَمَن کَانَ عَلی بَیِّنَةٍ مِن رَبِّہِ وَ یَتلُوہُ شَاہِد مِّنہُ)(١)
تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہو
اس آیت میں(مِنہُ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شاہد رسول اللہ ۖ کے خاندان اور آپ کے ا ہل بیت سے ہے، اہل تشیع و تسنن کی طرف سے نقل ہونے والی روایتوں کے مطابق اس شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
منجملہ ابن مغازلی شافعی نے عبد اللہ بن عطا سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ''عبد اللہ بن سلام ( آنحضرت ۖکے دور میں اہل کتاب کے بزرگ علماء میں سے تھے) کے فرزند ہمارے سامنے سے گذرے تو میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ومن عندہ علم الکتاب.سے مراد اس شخص کے والد ہیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا نہیں،بلکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور آیہ ''
(وَیَتلُوہُ شَاہِد مِنہ) اور آیہ (اِنَّما وَلِیُکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا) (٢)
(اے ایماندارو)تمارے مالک و سرپرست بس یہی ہیں ۔ خدا اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اسی طرح بہت سی روایتوں کے مطابق جو شیعہ اور سنی اسناد کے (٣) مطابق وارد ہوئی ہیں، سورۂ ہود میں ''شاہد'' سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں،
…………………………………
(١) سورۂ ہود۔ آیت/ ١٧
(٢) سورۂ مائدہ۔ آیت /٥٥
(٣)غایة المرام (ط قدیم) ٣٥٩.٣٦١
لہٰذا ''منہ'' سے مراد امام علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
علم الکتاب کے حامل ہونے کی اہمیت اُس وقت آشکار ہوگی کہ جب ہم جناب سلیمان علیہ السلام کے حضور میں تخت بلقیس کے حاضر کرنے کی داستان کا مطالعہ کریں:
( وَقَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِنَ الکِتَاب أَناَ آتِیکَ بِہِ قبَلَ ن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُکَ)( ١)
یعنی جس کے پاس کتاب کا ایک مختصر علم تھا اس نے کہا کہ میں تخت بلقیس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یہاں حاضر کروں گا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الکتاب کے ایک حصہ سے باخبر ہونا ایسے حیرت انگیز امورکا باعث ہے، پس تمام علم الکتاب سے متصف ہونا کیسے عظیم اثرات کیرونما ہونے کا سبب ہوسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے ''جناب سدیر'' سے نقل ہونے والی روایت میں فرمایا ہے، سدیر کہتے ہیں کہ میں،، ابو بصیر، یحییٰ بزاز اور دائود بن کثیر جو امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرت بڑے غضب کے عالم میں وارد مجلس ہوئے فرمایا: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیںکہ ہمارے پاس علم غیب ہے، حالانکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب سے واقف نہیں ہے میں اپنی کنیز کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ فرار ہوگئی جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حجرہ میں مخفی ہے۔(٢)
……………………
(١) سورۂ نمل۔آیت ٤٠
(٢) اس حدیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ باتیں نامحرموں سے کہی ہیں، اور یہ نکتہ معلوم رہے کہ وہ علم غیب جو خدا سے مخصوص ہے اس سے مراد وہ علم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے سائل کے سوال کے ( کیا آپ علم غیب کے مالک ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ '' انما ہم تعلم من ذی علم '' وگرنہ ا نبیاء اور اولیاء الٰہی وحی اور الہٰام کے ذریعہ علوم غیبی سے واقف تھے، مادر حضرت موسیٰ کے لئے خدا کی جانب سے الہٰام انھیں مقامات میں سے ایک ہے کہ جس کے لئے شک نہیں کیا جاسکتا ۔
'' انا رادہ الیک و جاعلوہ من المرسلین'''' قصص ٧٠''.
سدیر کہتے ہیں: جب امام علیہ السلام اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی ابو بصیر اور میسر کے ساتھ آنحضرت کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں میں نے حضرت علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم آپ پر قربان جائیں آپ نے جو کچھ اپنی کنیز کے سلسلہ میں فرمایا، اسے ہم نے تسلیم کیا اور ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ آپ بے شمار علوم کے مالک ہیں نیز کبھی بھی آپ کے سلسلہ میں علم غیب کا دعوی نہیں کرتے۔
ا مام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سدیر! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں،، تو آپ نے فرمایا کہ کیا اِس آیت کی تلاوت نہیں کی ہے:
(قَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِن الکِتَابِ اَنَا آتِیکَ بِہِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اَلِیکَ طَرفُکَ)
وہ شخص ( آصف بن برخیا ) جس کے پاس کتاب خدا کا کچھ علم تھا بولا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا ۔
تو میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ شخص کتاب میںسے کس قدر علم کا مالک تھا؟ تو میں نے کہا کہ آپ ہی فرمائیں، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک عظیم سمندر سے صرف ایک قطرہ کے برابر، اس کے بعد فرمایا کہ کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے؟ (قل کفی باللہ شہیداً بین و بینکم ومَن عندہ علم الکتاب)
میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بتائو وہ شخص افضل ہے جو تمام کتاب کے علم سے واقف ہے یا وہ شخص جو صرف کتاب کا ایک حصہ جانتا ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا خدا کی قسم تمام کتاب کا علم ہما رے پاس ہے(١) اب اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے علوم کو بیان کرنے والی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
………………………………
(١)اصول کافی۔ ج١ ص٢٥٧(طبع دار الکتب الاسلامیہ).
امام رضا علیہ السلام، امامت کے سلسلہ میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں : جب خدا کسی کو لوگوں کے لئے منتخب کرتا ہے تو اسے سعہ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری اور اُسے علم کی دولت سے آراستہ کردیتاہے تا کہ وہ سوالات کے جوابات دے سکے ،اور حق کو پہچاننے میں سرگردان نہ ہو، چنانچہ ایسا شخص معصوم، خدا کی طرف سے تائید شدہ اور خطائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔
در اصل خدا، اِس لئے اس کو یہ خصلتیں عطا کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں پر حجت تمام کر سکے لھذایہ ایک عطیہ ہے جسے خدا پسند کرتا ہے ا ُسے عطاء کرتا ہے
ا سکے بعد فرمایا کیا عوام میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے شخص کو پہچان کر اسے منتخب کرلیں، اور جب وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا وہ شخص ایسی صفات کا مالک ہوتا ہے ؟! (١)
حسن بن یحییٰ مدائنی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب امام سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح جواب دیتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے میں فرمایا: کبھی اُس پر الہٰام ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ سے سنتا ہے اور کبھی دونوں ایک ساتھ (٢) واقع ہوتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''وہ امام جسے معلوم نہ ہو کہ اس پر کیسی مصیبت آنے والی ہے اور اس کا انجام کیاہوگا تو وہ بندوں پر خدا کی حجت نہیں ہوسکتا۔(٣)
ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی امام کسی چیز کے متعلق جانناچاہتا ہے تو خدا اُس سے باخبر کردیتا ہے۔(٤)
…………………………
(١)اصول کافی۔ ج١ ص ١٩٨ ٢٠٣.
(٢)بحار الانوار ۔ج٢٦ ص٥٨.
(٣)اصول کافی ۔ج١ ص١٥٨.
(٤)اصول کافی ۔ج١ص ٢٥٨.
اسی طرح آپ کی جانب سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میںآیا ہے کہ روح، جبرئیل و میکائیل سے عظیم تر مخلوق ہے جو رسول اللہ ۖ کے پا س تھی، اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کی طرف منتقل ہوگئی جن سے ان کی مدد ہوتی ہے۔(١)
………………………………
(١) اصول کافی ج١ص ٢٧٣.
حدیث ثقلین رسول اللہ کی ایک مشہور اور متواتر حدیث ہے جو فرماتے ہیں: "میں تمھارے درمیان میں اللہ کی کتاب (یعنی قرآن) اور عترت یا اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ قرآن اور اہل بیت قیام قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے"۔
یہ حدیث تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ ہے اور شیعہ اور سنی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔
شیعہ اس حدیث کے سہارے لزوم امامت اور ائمہ کی عصمت اور تمام زمانوں میں امامت کے دوام اور تسلسل کا ثبوت دیتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں