عقیدہ مہدویت کو لاحق خطرات (Same Book 5)
عقیدہ مہدویت کو لاحق خطرات
دنیا کی ہر اہم چیز اپنی اہمیت کے پیش نظر خطرات کی زد میں بھی ہے عقیدہ مہدویت کہ جو انسانی فردی اور اجتماعی زندگی کے لیے حیات بخش ہے ایک باعظمت مستقبل کی نوید ہے اور لوگوں کو ظلم و ستم کے مدمقابل حوصلہ اور صبر کی قوت دیتا ہے یقینا یہ بھی مختلف اندرونی و بیرونی خطرات کی زد میں ہے – ہم یہاں زمانہ غیبت میں اس عقیدہ کو لاحق ممکنہ خطرات کے بارے میں گفتگو کریں گے –
۱) کلمہ انتظار فرج سے علط مطلب نکالنا:
بعض لوگ امام کے ظہور اور فرج کی دعا میں انتظار فرج سے مراد معمولی حد تک امر بالمعروف و نہی عن المنکر مراد لیتے ہیں اس سے بڑھ کر اپنے لیے کوئ ذمہ داری نہیں سمجھتے –
جبکہ بعض دیگر معمولی حد تک بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قائل نہیں ہیں بلکہ انکا نظریہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں ہم کچھ نہیں کرسکتے اور نہ ہماری کوئ ذمہ داری ہے امام زمانہ جب ظہور کریں گے تو خود سب امور کی اصلاح فرمائیں گے –
ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دینا چاہے جو چاہیں کریں جب ظلم و فساد بڑھے گا تو امام ظہور کریں گے-
ایک چوتھا گروہ انتظار کی یہ تفسیر کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ لوگوں کو گناہ کرنے سے نہ روکیں بلکہ خود بھی گناہ کرو تاکہ امام کا ظہور جلد ہو-
انہی لوگوں میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں ہر حکومت کسی بھی شکل میں ہو باطل ہے اسلام و شریعت کے خلاف ہے کیونکہ روایات میں یہ آیا ہے کہ قائم کے ظہور سے پہلے ہر علم اور پرچم باطل ہے-
ایسے نظریات کے نتائج:
۱)اپنی یا معاشرہ کی موجودہ غلط صورت حال پر قانع ہونا اور بہتر وضیعت کےلیے کوشش نہ کرنا –
۲) پسماندگی
۳) اغیار کی غلامی
۴) نا امید ہونا اور جلد شکست قبول کرنا
۵) حکومت اور ملک کا کمزور ہونا
۶)ظلم و ستم کا وسیع ہونا اور اس کے مد مقابل سست رد عمل
۷) ذاتی اور اجتماعی زندگی میں ذات اور بد بختی کو قبول کرنا
۸) سست اور غیر ذمہ دار ہونا
۹) امام کے قیام اور اقدامات کو مشکل بنانا چونکہ جتنا فساد اور تباہی زیادہ ہوگی امام کا س سے مقابلہ اتنا ہی سخت اور طولانی ہوگا
۱۰) بہت سی آیات اور روایات پر عمل درآمد نہ ہونا یعنی وہ آیات و روایات جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر ٬سماجی تربیت اور سیاست کے حوالے سے راہنما ہیں ٬کفار اور مشرکین کے ساتھ طر ز عمل دیت ٬حدود تعزیرات اور محروم لوگوں کے دفاع کے حوالے ہیں-
ایسے منحرف نظریات کے اسباب:
اسے منحرف نظریات کی وجوہات اور اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
۱: کوتاہ فکری اور دین کے حوالے سے کافی بصیرت کا نہ ہونا
۲: اخلاقی انحرافات (دوسرے نظریے کے قائل)
۳: سیاسی انحرافات (چوتھے اور پانچویں نظریے والے)
۴: یہ وہم رکھنا کہ امام زمانہ طاقت کے زور سے یا معجزہ کے ذریعے تمام کاموں کو انجام دیں گے لہذا انکے ظہور کےلیے اسباب فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے-
۵: یہ وہم رکھنا کہ امام زمانہ سے ہٹ کر کوئ شخض بھی مکمل طور پر برا ئیوں اور فساد کو ختم نہیں کرسکتا اور معاشرہ کے تمام پہلوں میں خیروصلاح کو نہیں جاری کرسکتا-
۶: اچھے ہدف تک پہنچنے کےلیے ہر قسم کے وسیلہ کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے لہذا جلد ظہور کے زمانہ تک پہنچے کےلیے فساد اور برائ کو عام کیا جاۓ-
۷: وہ روایات جو آخری زمانہ میں طلم و جور کی بات کرتی ہیں انہیں درست نہ سمجھنا بلکہ یہ غلط فکر کرنا کہ جو ہوتا ہے وہ ہوتا رہے ہمارا ان برائیوں سے کوئ تعلق نہیں یا یہ کہ دوسروں کو بھی ان برائیوں کی طرف دعوت دینا-
۸: ایسے سیاستتدانوں یا وہ سیاست جو اسلامی معاشروں کو زوال کی طرف لے جا رہی ہے ان سے بڑھ کر خود ابھی ایسی روایات کو غلط انداز سے سمجھنا کہ جو ظہور سے پہلے ہر علم کو باطل قرار دے رہی ہیں
ایسے منحرف نظریات کا مقابلہ اور علاج
ان نظریات کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے چند مفید نکات جاننا ضروری ہے :
۱: ان غلط نظریات اور غلط سمجھنے کے مد مقابل دین میں علم و بصیرت پیدا کرنا –
۲: ہوا و ہوس کے مد مقابل تقوی
۳: سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں علم و بصیرت سے کام لینا تاکہ دشمن اور دوست کی پہچان ہو اور سیاست دانوں کی فعالیت واضح ہو-
۴: دینی و سیاسی اور معاشرتی مسائل کے بیان میں علماء اور دانشوروں کا واضح اور روشن کردار –
۵: ایسے سچے اور مخلص علماء کی پیروی کہ جو امام کے نائب عام شمار ہوتے ہوں
۶: پسماندہ اور جمود میں ڈالنے والے نظریات کو پس پشت ڈالنا –
تفصیلی جواب :
۱: امام زمانہ(عج) کا قیام اور دیگر امور معمول کے مطابق انجام پائیں گے ایسا نہیں ہے کہ یہ سب معجزہ کے ساتھ انجام پاۓ گا-جیسا کہ امام صادق ۜ فرماتے ہیں:
٫٫ لو قد خرج قائمنا ۜ لم یکن الا العلق و العرق و النوم علی السروج ٬٬(غیبت نعمانی باب ۱۵ ص۲۸۵)
جب ہمارے قائم (عج) قیام فرمائیں گے تو سب فقط زینوں (سواریوں )پر خون و پسینہ گرائیں گے اور نیند چھوڑ دیں گے
یعنی ایسا نہیں کہ سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہیں گے اور امام معجزہ کے ساتھ جنگ کریں گے نہ بلکہ سب اس جنگ میں شریک ہونگے اپنا آرام و خون اس پر قربان کریں گے-
۲: امام زمانہ(عج) کے قیام سے پہلے لوگ اس قیام کے اسباب فراہم کریں گے اور تیاری کریں گے جیسا کہ روایات ایک گروہ کے بارے میں ذکر ہوا ہے کہ وہ امام مہدی کی حکومت کےلیے تیاری کریں گے -٫٫ فیوطئون غیبۃ والقائلین بامامتہ و المنتظرین لظہورہ افضل من اھل کل زمان ۔ ۔ ۔ ۔ اوﻟئک المخلصون حقا و شیعنا صدقا و الدعاة الی دین الله سرا و جهرا (الاحتجاج ج۲ ص۳۱۷ )
غیبت کے زمانہ میں امام کی امامت کے قائل اور انکے ظہور کے منتظر ہر زمانے والوں سے افضل ہیں ۔ ۔ ۔ وہ حقیقی طور پر مخلص ٬سچے شیعہ اور اللہ کے دین کی طرف علانیہ اور خفیہ دعوت دینے والے ہیں –
۳: اگر انسان کسی امر میں مکمل طور پر اصلاح نہیں کرسکتا تو اپنی طاقت کے مطابق کرنا اس پر فرض ہے یہ اس سے ساقط نہیں ہوگا-
۴: یہ نظریہ کہ جلد ظہور ہونے کیلئے گناہ کریں مکمل طور پر غلط ہے کیونکہ جسطرح امام مھدی (عج) کی حکومت ظلم و جور کو ختم کرنے والی اور عدل و انصاف کو قائم کرنے والی ہے اس حکومت تک پہنچنے کا راستہ بہی اسی طرح ہے کہ اس راستے میں نہ کسی پر ظلم ہے نہ شقاوت ہے نہ ریاکاری اور جھوٹ ہے کبہی بہی مقدس ھدف کی بنا پر گناہ جائز نہیں ہوتا کیونکہ گناہ سے گناہ پیدا ہوتا ہے اور ظلم سے کبہی عدل جنم نہیں لیتا۔
5۔ واضح سی بات ہے کہ ایسا ضروری نہیں ہے کہ سب لوگ ظالم یا فاسد ہو جائیں تو پہر زمین کا ظلم سے بہر جانا ہوگا۔ نہ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں ظالم ہونگے اور مظلوم بہی ہونگے اور امام زمانہ کے محبین ہونگے جو مسلسل فعالیت اور کوشش سے آپکے ظہور کیلئے راہ ہموار کریں گے۔ جیسا کہ امام صادق نے فرمایا ہے !۔۔۔۔۔۔۔لا والله لایاتیکم حتی یشقی من مشقی و یسعد من سعد(کمال الدین ج ۲ ص ۳۴۶) یہ ظہور اسوقت تک بپا نہیں ہوگا جب تک ظالم اور نیک اپنے کام کاانجام نہ دیکہ لیں۔
پس معلوم ہوا کہ اس روز میں سب ظالم اور فاسد نہیں ہونگے بلکہ ظالموں کے ساتہ نیک بہی ہونگے البتہ ظالم اپنے ظلم کریں گے کہ معلوم ہوگا دنیا ظلم سے پرہوگئ ہے اور دنیا میں اب نیک لوگوں کے لئے اب جگہ نہیں رہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ آیات اور روایات میں ہمیں ظلم و ستم سے جنگ کرنے کی دعوت دی گئ ہے جیسا کہ آنحضرت فرماتے ہیں:
یکون فی آخر الزمان قوم یعملون المعاصی و یقولون ان الله قد قدرها علیهم٬ الراد علیهم کشا هر سیفه فی سبیل الله(الطرائف ج ۲ ص۳۴۴)
آخری زمانہ میں ایک گروہ معصیت کرے گا اور کہیں گے کہ اللہ نے یہ انکی قسمت میں لکہا تہا(یعنی جبر کے قائل ہونگے) تو جو انکی باتوں کو رد کرے گا اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں تلوار چلائی ہو۔
۶۔ یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ ظہور سے قبل پر علم اور پرچم باطل ہے اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کیلئے ہر تحریک اور قیام با طل ہے نہ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ قیام اور تحریک جو امام زمانہ کے نام سے شروع ہو(کوئ جھوٹا دعوی کرے)وہ باطل ہے ۔اسی لیے آئمہ نے حضرت زید کے قیام اور انکی مانند اسی طرح کی دیگر کوششوں کی تائید کی مثلا امام کاظمۜ فرماتے ہیں:
رجل من اهل قم یدعو الناس الی الحق یجتمع معه قوم کزبر الحدید لا تزلّهم الریاح العواصف و لا یملّون من الحرب و لا یحبنون علی الله یتوکلون و العاقبة للمتقین (سفینۃ البحار ۷ ص۷)
اہل قم میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا اس کے حامی محکم اور فولادی جذبوں والے ہونگے کہ جو جنگ سے تھکیں گے نہیں اور نہ دشمن سے خوف کھائیں گے فقط اللہ پر توکل کریں گے اور اچھی عاقبت ان کےلیے ہے کہ جو اھل تقوی ہوں
امام باقر ۜ ظہور سے پہلے ظالموں سے جنگ کرتے ہوۓ قتل ہونے والوں کو شہدا کے عنوان سے ذکر کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ قتلا هم شهدا(غیبت نعمانی باب ۱۶ ص۲۷۳)
امام خمینی رہ اللہ فرماتے ہیں :پوری دنیا کو عدالت سے بھرنا یہ ہم نہیں کرسکتے اگر کر سکتے تو ضرور کرتے لیکن چونکہ ایسا نہیں کرسکتے –اگر طاقت ہوتی تو ضرورت روکتے چونکہ ظلم روکنا ہمارا شرعی وظیفہ ہے لیکن یہ پوری دنیا کا ظلم چونکہ ہم نہیں روک سکتے تو ضروری ہے آپ ۜ تشریف لائیں لیکن ہم کو چاہیے کہ امام کی نصرت کے لیے کام کریں اس کام کے اسباب فراہم کریں اس طرح تیاری کریں کہ ان کے آنے کے تمام اسباب مہیا ہوں-
یہ جو کہتے ہیں کہ ہر حکومت و علم انتطار فرج کے خلاف ہے یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں –یہ جو لوگوں کے ذہنوں میں یہ ڈال رہیں ہیں لیکن خود نہیں سمجھتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں حکومت صالح نہ ہو یعنی لوگ ایک دوسرے پر تجاوز کریں-
ایک دوسرے کو قتل کریں اور مار دیں یہ سب قرآنی آیات کے خلاف بات ہے فرض کرو ایسی اگر ۲۰۰ روایات بھی ہو پس سب کو دیوار پر دے مارتے چونکہ یہ روایات قرآنی آیات کےخلاف ہیں جو روایات یہ کہتی ہیں کہ نہی عن المنکر نہ کرو وہ قابل عمل نہیں ہے بلکہ آپ لوگ انکے تشریف لانے کے اسباب مہیا کریں اکٹھے ہوں مل جل کر کام کریں کہ انشاء اللہ حضرت ظہور فرمائیں ٬
اب جبکہ ہم زمانہ غیبت میں ہیں ضروری ہے اسلام کے حکومتی احکام باقی رہیں اور جاری ہوں تاکہ لوگوں میں فتنہ و فساد پیدا نہ ہو ضروری ہے اسلامی حکومت تشکیل پاۓ ٬ عقل بھی یہی کہتی ہے تاکہ اگر دشمنان اسلام ہم پر حملہ کریں ہم ان کو روک سکیں اگر مسلمانوں کی ناموس پر حملہ ہوگا تو ہم دفاع کرسکیں-
غیبت صغری سے لیکر اب تک ہزار سال اور چند صدیاں گذر گئیں اور ممکن ہے لاکھوں سال اور گذر جائیں کبھی مصلحت پیدا نہ ہو کہ آپ ظہور کریں تو اس مدت میں اسلامی احکام اسی طرح پڑے رہیں گے ٬جاری نہ ہو ٬جو بھی کچھ کرے کرتا رہے ظلم و فساد ہوتا رہے؟
ایسی باتوں پر عقیدہ رکھنا تو اسلام کے منسوخ ہونے کے عقیدہ سے بھی بد تر ہے –
اب جبکہ غیبت کا زمانے میں اللہ تعالی کی طرف سے کوئ خاص شخص اسلامی حکومت کی تشکیل کےلیے معین نہیں ہے تو ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟ آیا اسلام کو چھوڑ دیں آیا اسلام صرف دو سو سال تک تھا اب ہمارے لیے کوئ تکلیف نہیں یا یہ کہ حکومت بنانے کی کوئ ذمہ داری نہیں ہے اسلامی حکومت نہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئ حدود نہیں (نہ کوئ قانون نہ کوئ اجراء)ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں-وہ جو کریں کرلیں ہم خاموش رہیں ۔ ۔ ۔ ۔ (صحیفہ امام ج۲۱ ص۱۶ ٬۱۷٬۱۸)
نتیجہ گفتگو:
آیات و روایات سے ٫٫امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ٬٬ حدود کا اجرا کرنا ٬ دیتوں کا دیا جانا ٬دفاع ٬جھاد ٬محروم لوگوں کی مدد٬ظلم کا مقابلہ ٬وغیرہ موضوعات پر حکم ملنا بتاتا ہے کہ ہم مثبت انتظار کریں نہ منفی نظریے والا انتظار –
دوسری طرف باطنی پیغمبر یعنی عقل نے بھی ہماری ذمہ داریاں واضح کیں ہیں کہ :
۱)یہ ممکن ہے کہ زمانہ غیبت میں زمانہ ظہور تک تمام احکام اور فرامین خدا ایک سائیڈ پر رکھ دیے جائیں انکو کوئ اجراء کرنے والا نہ ہو؟ ضروری ہے کہ انکا محافظ اور انکا اجراء کرنے والا ہو تاکہ دین خدا جاری رہے یہ دین قیامت تک ہر لحظہ لحظہ کےلیے ہے ایسے لوگ ہوں جو اس کےنگہبان ہو اس کے احکام اجرا کریں اور عمل کریں-
اس طرح لوگوں کو زمانہ ظہور کے لیے تیار کریں جیسا کہ روایات میں ہے ٫٫فیوطئون للمهدی یعنی سلطانه٬٬
۲) امام زمانہ کا پروگرام بہت بلند لیکن مشکل ہے کیونکہ آپ نے پوری دنیا کی اصلاح کرنی ہے ۰دوسری طرف سے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام زمانہ نے اپنے اصحاب اور ماننے والوں کے ساتھ کفر اور مادیت پرستوں کے خلاف جنگ و جہاد کرنی ہے اپنی جنگی قوتوں کی مدد دشمنوں اور ظالموں کی فو ج کو شکست دینی ہے ان مندرجہ بالا دو چیزوں کو دیکھتے ہوۓ اب مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟
اول:
اپنی اصلاح میں مشغول ہوں ٬ اسلامی اخلاق سے آراستہ ہوں اور اپنے شخضی احکام اور ذمہ داریوں پر عمل کریں کہ جو قران و سنت سے ان پر لاگو ہوتے ہیں-
دوم :
اسلام کے اجتماعی حیثیت کے احکام کو ڈھونڈیں کریں اور اسے مکمل طور پر اجراء کریں تاکہ اسلامی احکام کے عملی نتائج دنیا والوں کے سامنے روشن ہوں۰
گویا اصلاح کرنے والے منتظرین پہلے خود اپنی اصلاح کریں- امام زمانہ کا عظیم ہدف ایک وسیع پیمانے کا انتظار چاہتا ہے کہ جس میں مسلمان خود کو تیار کریں کہ کیسے انہوں نے اسلام کی قدرت کو دنیا میں محقق کرنا ہے اور اسباب ظہور کو فراہم کرنا ہے –
بے فائدہ آرزو
بعض لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ فقط اہل بیت پر عقیدہ اور امام زمانہ کی محبت کافی ہے ان لوگوں کے خیال کے مطابق انہیں اپنے گناہوں کے مد مقابل عذاب نہ ہوگا –اس قسم کے غلط خیال اور گمان کو قرآن اور روایات میں رد کیا گیا ہے اور ایسے گمان کو تمنی کاذب یا امید کاذب کا نام دیا گیا ہے – یہ لوگ اہل کتاب کی مانند ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہی کہ وہ بظاہر اس دین و مذہب پر ہیں پس اہل سعادت ہیں اور انہیں بد عملیوں پر عذاب نہ ہوگا- قرآن میں ہے :
٫٫و قالوا یدخل الجنة الا من کان هودا او نصاری تلک امانیهم قل هاتوا برهانکم ان کنتم صادقین (بقرہ ۱۱۱)
اور وہ کہتے ہیں کہ کوئ بھی جنت میں نہیں جاۓ گا مگر یہ کہ وہ یہودی یا عیسائ ہو یہ ان کی آرزوئیں ہیں آپ کہیے اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیلیں لیکر آو
روایات میں بھی اس گروہ کو جھٹلایا گیا ہے اور انہیں کذب المتمنون (غیبت نعمانی باب ۱۱ص۱۹۷) کا عنوان دیا گیا ہے کہ جس کا مطلب ہے کہ خیالی باتوں میں پڑے آرزومند جھوٹے ہیں)
امام صادق ۜ کے فرزند حضرت اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا:ہمارے گناہ گاروں اور ہمارے غیر گناہ گاروں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟تو امام نے یہ آیت تلاوت فرمائ ٫٫لیس بامانیکم و لا امانی اھل الکتاب من یعمل سوءا لیجز بہ ۔ ۔ ۔(سورہ نسا ۱۲۳) تمہاری آرزوں کو اہل کتاب کی آرزوں پر فضیلت حاصل نہیں ہے جو بھی برا عمل کرے گا اس کی سزا پاۓ گا ۔ ۔ ۔ تو اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق ۜ کی خدمت میں عرض کی :
ایک گروہ گناہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں امید و رجا ہے اور وہ اسی طرح رہتے ہیں یہانتک کہ مر جاتے ہیں امام نے فرمایا:یہ وہ ہیں جو اپنی آرزوں میں غرق رہے اور انکی آرزوں نے انہیں راہ حق سے منحرف کردیا وہ جھوٹ بولتے ہیں وہ اہل رجاء اور امید نہیں ہیں-
یقینا جو کسی چیز کی امید میں ہوں اسے طلب میں رہتا ہے اور جو کسی چیز سے ڈرتا ہے اس سے پرہیز کرتا ہے (اصول کافی ج۲ ص۶۸)
حقیقی امید اور رجا ایک اور چیز ہے مفضل کہتے ہیں امام صادق نے فرمایا:
ایاک و السفلة فانما لشیعة علی من عف بطنه و فرجه و اشتد جهاده و عمل لخالقه و رجا ثوابه و خاف عقابه فاذ ارایت اوﻟئک فاوﻟئک شیعة جعفر
(وسائل الشیعہ ج۱ باب۲۰ ص۸۶)
پست لوگوں سے پرہیز کرو فقط وہ علی کے شیعہ ہیں کہ جو شکم و شہوت کے مسائل میں عفت رکھتے ہیں ٬کو شش و زحمت کرتے ہیں٬اللہ کیلئےعمل کرتے ہیں اسی کے ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اسکے عذاب سے ڈرتے ہیں جب تم ایسے افراد کو دیکھو تو جان لو یہ لوگ جعفر بن محمد صادق کے شیعہ ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ اھل بیت کی طرف توسل اور انکی شفاعت کے موضوع کی طرف توجہ و دقت کیے بغیر یہ غلط فکر خطابت یا شعر کے ذریعے لوگوں کے ذہن میں منتقل کر رہے ہیں۔
ایسی طرز فکر کے نتائج:
۱۔اپنے فردی اور اجتماعی وظائف اور تکالیف(واجبات و محرمات) پر عمل نہ کرنا
۲۔منفی قسم کا انتظار کرنا کہ جسمیں امام کے حوالے سے نہ عملی قدم اٹھایا گیا ہے اور نہ کوئی وظیفہ انجام دیا گیا ہے
۳۔فضول وہم(کہ جسمیں انسان اپنے طرز عمل سے خواہ مخواہ ناراض رہتاہے اور حقیقت سے آنکھیں بند رکھتا ہے)
ایسی فکر کے اسباب:
۱۔ہمیشہ خیالات اور آرزوں میں رہتے ہوئے حقیقی امید و رجا اور توہمات میں فرق نہ سمجھنا
۲۔نفسانی خواہشات جیسا کہ سورہ قیامت کی آیہ۵ میں ہے(بل یرید الانسان لیفجر امامہ) انسان معاد میں شک نہیں رکھتا بلکہ وہ چاھتا ہے کہ آزاد رہے اور بغیر کسی حساب و کتاب کے ڈر کے ساری عمر گناہ کرے
۴۔اللہ تعالی کی صحیح معرفت نہ ہونا اگر چہ وہ مھربان ہے لیکن حکیم اور عادل بہی ہے
۵۔آئمہ علیھم السلام کی نسبت جذباتی اور غیر منطقی نگاہ رکھنا۔
علاج:۔
۱۔ آیات و روایات میں غور و فکر اور تدبر مثلایہ آیت(ان اکرمکم عند اللہ اتقیکم) حجرات۱۳ اللاہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ با فضیلت شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے
۲۔ اس نکتہ کی طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ اعمال کا معیار و ملاک خالص نیت کے ساتھ ساتھ فردی اور اجتماعی و ظائف کو انجام دینے میں ہے-
بسم الله الرحمن الرحیم و العصر ٬ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنو و عملو الصالحات و تو اصو بالحق و تواصو بالصبر(سورہ والعصر)
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے
زمانہ کی قسم تمام انسان خسارے میں ہیں مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیےاور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔
دنیاوی اقدار کےلیے عشق
بعض لوگ آئمہ اور امام زمان(ع) سے صرف دنیاوی مفادات اور دنیاوی جاہ و منصب کی خاطر محبت کرتے ہیں حتی کہ اگر امام زمان(ع) کے ظہور کےلیے دعا بھی کریں تو بھی اپنے دنیاوی طمع کی خاطر ہے جیسا کہ امام صادق ۜ سے نقل ہوا کہ ہمارے بارے لوگوں کی تین اقسام ہیں:دو قسم وہ لوگ ہیں کہ جو جاہ و مقام کی خاطر اور لوگوں کو ضرر پہنچانے کی خاطر ہم اہل بیت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور تیسرا گروہ (ایسا نہیں ہے)ہم اہل بیت میں سے ہے اور ہم ان سے ہیں(تحف العقول ص۵۱۳)
تو یہ جو دنیاوی طمع کی خاطر امام سے محبت کا دعوی رکھتے ہیں اور انکے لیے ظہور کی دعا مانگتے ہیں اگر کچھ مصالح کی بنا پر امام ان پر توجہ نہ کریں تو یہی لوگ اہلبیت کی دشمنی میں کھڑے ہوجاتے ہیں تاریخ میں طلحہ و زبیر بہت تھے اور بہت ہونگے –البتہ یہاں جو ہم پیش کرنا چاہتے ہیں وہ انحراف عمومی ہے کہ اکثر لوگ ایسی نگاہ آئمہ کے حوالے رکھتے ہیں-
امام سے توسل کرنا اور انکو اللہ کی درگاہ میں واسطہ قرار دینا اگرچہ ایک صحیح امر ہے اور روایات میں اسی پر تاکید ہوئی ہے لیکن یہ سب کچھ صرف دنیاوی امور اور دنیاوی مشکلات دور کرنے کیلئے ہو تو یہ عدم معرفت کی علامت ہے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایسے کرنے والے کو ابھی نہ امام کی معرفت و شناخت حاصل ہے کہ امام کیسی با عظمت ذات ہے اور اس کائنات میں اسکا کیا مقام و اہمیت ہے اور نہ اسےع اپنے لیے امام کی ضرورت کا صحیح ادراک حاصل ہے کہ مجھے اور میرے وجود کو امام کی کیا ضرورت ہے؟
ایسی طرز فکر کے نتایج :
۱: امام سے دشمنی وبعض
۲: خواہشات اور احتیاج الہی مصالح کی بنا پوری نہ ہو تو امام کے حوالے سے عقیدہ کم ہونا یا عقیدہ ختم ہوجانا
ایسی طرز فکر کے اسباب:
۱: امام اور امامت کے مقام کا درک نہ کرنا
۲: خود خواہی اور اپنی ضرورت کو فقط دیکھنا
علاج:
۱: دین میں غور و فکر کرتے ہوۓ معرفت پیدا کرنا
۲: امامۜ کی چاہت و حکم کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھنے کی مشق کرنا اور اپنی تربیت کرنا-
حضرت سلمان فارسی رض کی ایک صفت کہ جن کی بنا پر وہ ممتاز شخصیت کے حامل تھے یہ تھی کہ امام کی طلب و حاجت کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتے تھے-
منصور بزرج روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام صادقۜ کی خدمت میں عرض کیا :
اے میرے مولا و آقا میں اکثر آپ سے سلمان فارسی کا ذکر سنتا ہوں آپ نے فرمایا:یہ نہ کہو سلمان فارسی بلکہ کہو سلمان محمدی تم جانتے ہو میں کیوں ان کا بہت زیادہ ذکر کرتا ہوں میں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا انکے تین اوصاف کی بنا پر انکا زیادہ ذکر کرتا ہوں ایک یہ کہ وہ امیر المومنین کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھتے تھے دوسرا یہ کہ فقراء سے محبت کرتے تھے اور انہیں امراء پر مقدم رکھتے تھے – تیسرا یہ کہ علم اور علماء سے محبت رکھتے تھے-(امالی طوسی ٬مجلس ۵ ص۱۳۳)
مہدویت اور انکی نیابت کے جھوٹے مدعی
ہر زمانہ میں ایک گروہ نے مھدویت کے جھوٹے دعوے کیے یا دوسروں نے انکی طرف اپنی نسبت دی اور اس طرح مختلف فرقے ایجاد ہوۓ-
اسی طرح غیبت صغری اور غیبت کبری میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جنہوں نے امام کی خاص نیابت یا انکا وکیل ہونے کے جھوٹے دعوی کیے یہ دعوے مختلف صورتوں میں سامنے آۓ –
۱: دعوی مہدویت
۲: انکی خاص نیابت ٬وکالت ٬اور بابیت ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ کے دعوے یعنی ایسے افراد میں کہ جو دعوی رکھتے ہیں کہ جب چاہیں امام سے رابط کرسکتے ہیں اور انکے ذریعے مشکلات حل ہوتی ہیں اور وہ لوگوں اور امام کے درمیان رابطہ اور باب ہیں بظاہر امام سے لوگوں کےلیے پیغام لاتے ہیں اور لوگوں کے پیغام امام تک پہنچاتے ہیں
۳: عمومی نیابت :
بعض لوگ خود کو علماء اورفقہا و مراجع کی جگہ پر پیش کرتے ہیں حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ اس دور میں عقل و حدیث سے ہمارا وظیفہ یہ ہے کہ ہم فقط علماء اور فقہا کی طرف رجوع کریں لیکن یہ لوگ قرآن و سنت سے ہٹ کر عجیب وغریب چلّے کے راستے بتاتے ہیں اور لوگوں کو فریب دیتے ہیں
ایسی طرز فکر کے نتائج:
۱: لوگوں کی گمراہی
۲: اہل بیت کی راہ سے دوری
۳: دین سے کھلینا
۴: انحرافی فرقوں کی پیروی کی وجہ سے دین میں اختلافات ڈالنا
ایسی طرز فکر کے اسباب :
۱: روحی اور نفسیاتی مشکلات کہ احساس کمتری کی بنا پر اپنی شخصیت اور ذات کو لوگوں کے سامنے کسی بہانے سے پیش کرنا اور منوانا
۳: اخلاقی مشکلات اور ایمانی ضعف
۴: توہمات اور خیالی پروازیں
۵: ہوا و ہوس اور دنیاوی جاہ و مقام کی خواہش
۶: جہالت اور نا آگاہی
۷: علماء اور دانشوروں کا سکوت یا موقع پر رد عمل کا اظہار نہ کرنا
۸: سیاسی مشکلات اور اغیار کی سازشیں جیسا کہ محمد علی باب کو اغیار نے تیار کیا –
۹: امام کے مقام اور انکی نیابت کے حوالے سے ضروری معرفت و شناخت کا نہ ہونا
علاج:
۱: تقوی اور تہذیب نفس
۲: علماء کی اور دانشوروں کی دینی اور سیاسی علم و بصیرت
۳: علماء اور دانشوروں کی طرف ان امور میں راہنمائ کرنا اور منحرف لوگوں کی تکذیب کرنا
۴: اسلامی حکومت کا ان لوگوں سے قاطعانہ برتاو
۵: انحرافات اور بدعتوں کے معاملے میں تسامح اور چشم پوشی نہ کرنا-
ولایت فقیہ اور عمومی نائبین کی پیروی نہ کرنا
ایک چیز کہ جس سے اسلامی وحدت کو نقصان پہنچتا ہے اور اسلام و مہدویت کے دشمنوں کو فعالیت اور سازشیں کرنے کا موقع ملتا ہے وہ یہ ہے کہ غیبت کبری میں امام زمانہ کے عمومی نائب فقہا اور مراجع عظام کی پیروی نہ کرنا حالانکہ احادیث میں انکی اطاعت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے –
نتائج :
۱: گمراہی و ضلالت
۲: افراد ملت اسلامیہ کا بکھرنا اور عدم وحدت
۳: دشمن کے مد مقابل شکست اور مقابلہ کی ہمت ختم ہونا
اسباب:
دین میں کافی بصیرت نہ رکھنا
عقلی اور نقلی دلائل کی طرف توجہ نہ کرنا
۳: امام زمانہ کی ڈائرکٹ پیروی کا وہم رکھنا
۴: زمانہ غیبت میں امام کے خاص نائبین کی توقع رکھنا
۵: ہوا و حوس
۶: سیاسی اغراض اور اغیار کی شیطانیت
علاج:
عمومی نائبین یعنی فقہا اور مراجع کی تقلید کی ضرورت کو واضح کرنا
امام صادق ۜ کا فرمان ہے :فقہا میں سے وہ فقیہ کہ جو اپنے نفس کو بچانے والا ٬اپنے دین کا محافظ ٬اپنی خواہشات کا مخالفت کرنے والا اور اپنے مولی کی اطاعت کرنے والا ہو تو عوام کو چاہیے کہ اس کی تقلید کریں-
اس طرح کی صفات رکھنے والے بعض فقہا شیعہ ہیں نہ سب (وسائل الشیعہ ج۲۷ ص۱۳۱) غیبت صغری میں دوسرے خاص نائب محمد بن عثمان عمری کی توقیع میں امام زمانہ نے اسحاق بن یعقوب کو خطاب میں یہ فرمایا: حوادث اور پیش آنے والے مسائل میں ہماری احادیث کے راوی(فقہا)کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور اللہ کی طرف سے تم پر حجت ہوں (غیبت طوسی فصل ۴ ص۲۸۰)
۲: دینی اور سیاسی بصیرت
۳: ایسے فقیہ کہ جو ان امور کے اہل اور عہدہ دار ہیں انکی تمام علماء اور دانشور حضرات حمایت کریں –
۴: علماء اور دانشوروں کے تعاون کے ساتھ اسلامی معاشرہ کی دینی ٬فکر ٬سیاسی اور سماجی مشکلات حل کرنے کےلیے کوشش اور زحمت کرنا-
حضرت مہدی کی امامت پر عقلی دلائل
تمام اسلامی مذاہب اور مکاتب امام ٬پیغمبرۖ کے خلیفہ اور مسلمانوں کے رہبر کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اس مسالہ میں تمام مسلمان خواہ شیعہ یا سنی سب متفق ہیں-
اہل سنت میں یہ مسالہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ جب ان پر اعتراض کیا جاۓ کہ ابھی پیغمبر اکرمۖ کے وجود کو غسل و کفن نہیں دیا گیا تھا تو کیوں اصحاب کہ جن میں خلیفہ اول و دوم بھی شامل تھے سقیفہ کے ماجرا میں پیغمبر اکرم کی جانشینی والے مسالہ میں پڑ گۓ تو وہ کہتے ہیں کہ امامت اور امت اسلامی کی رہبری پیغمبر اکرم ۖ کے کفن و دفن سے اہم ہے –
پس امام کی ضرورت کا مسالہ نہ صرف شیعہ بلکہ اہل سنت کے مختلف فرقوں کےلیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے یہ کہ ایک امام و خلیفہ ضرور ہونا چاہیے جس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں رکھتے البتہ یہ کہ وہ کیسا ہونا چاہیے ان مسائل میں اہل سنت کا ایک مکتب شیعہ سے اختلاف نظر ہے –
یہاں سب سے پہلے ہم شیعہ و سنی فرقوں کی اس مسالہ میں راۓ بیان کریں گے-
شیعہ کلامی فرقے:
۱:امامیہ اثنا عشریہ
امامیہ کی نظر میں امامت واجب ہے اس کی تا ئید کےلیے امامیہ کے ایک بڑے عالم خواجہ نصیر الدین طوسی کی کلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
الامامیة یقولون نصب الامام لطف ٬لانه یقرب من الطاعة و یبعد عن المعصیة و اللطف واجب علی الله (تلخیص المحصل ص۴۰۷)
امامیہ کہتے ہیں کہ امام کا نصب کرنا لطف ہے کیونکہ امام لوگوں کو اطاعت کے قریب کرتا ہے اور گناہ سے دور کرتا ہے اور یہ لطف اللہ تعالی پر واجب ہے –
نوٹ :
اگرچہ فریقین امامت کے وجوب کے قائل ہیں لیکن یہ کہ یہ اللہ تعالی پر واجب ہے یا لوگوں پر واجب ہے اس میں اختلاف نظر رکھتے ہیں
یہ کہ اللہ ر واجب ہے یہ شیعوں کا کلامی (علم کلام سے متعلق)وجوب ہے اور یہ کہ لوگوں پر واجب ہے یہ اہل سنت کا فقہی (علم فقہ سے مربوط) وجوب ہے
وجوب کلامی سے مراد یہ ہے کہ کوئ فعل عدل ٬حکمت ٬ جود ٬رحمت یا کوئ اور الہی صفات کمالیہ کے تقاضوں کے مطابق ہو اور ایسے فعل کا ترک چونکہ الہی ذات میں نقص کا موجب ہے لہذا محال ہے پس ایسے فعل کا انجام دینا ضروری ہے اور واجب ہے
البتہ یہ بات واضح ہے کہ کوئ اللہ پر کسی فعل کو واجب قرار نہیں دیتا بلکہ وہ خود اپنی صفات کمالیہ و جمالیہ کے تقاضوں کے مطابق اسے اپنے اوپر واجب قرار دیتا ہے کہ جیسا کہ پروردگار فرما رہا ہے :کتب ربکم علی نفسه الرحمة٬ ٬ ٬ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو فرض کیا۔ ۔ ۔ ٫٫ان علینا للهدئ٬٬ ہمارا فرض ہدایت ۔۔۔اسی طرح دیگر آیات ۔۔ ۔ ۔ ۔
امامیہ چونکہ امامت کو الہی حکمت و لطلف کے تقاضوں کے مطابق جانتے ہیں لہذا اسے اللہ تعالی پر واجب شمار کرتے ہیں-
۲ :اسماعیلیہ :
مشہور یہی ہے کہ اسماعیلیہ بھی امامیہ کی مانند وجوب امامت کے قائل ہیں لیکن امامیہ کے ساتھ فلسفہ امامت میں اختلاف نظر رکھتے ہیں انکے نزدیک امامت کا فلسفہ فقط یہ ہے کہ وہ اللہ تعلی کی معرفت کی بشر کو تعلیم دے-(ارشاد الطالبین ص۲۲۷)
۳: زیدیہ :
یہ بھی امامیہ کی طرف وجوب امامت کے قائل ہیں لیکن امامت کی شرائط اور مصادیق میں امامیہ کے ساتھ بہت زیادہ اختلاف نظر رکھتے ہیں-(قواعد العقائد ص۱۷)
اہلسنت کے کلامی فرقے:
۱: اشاعرہ :
یہ امامت کے وجوب کے قائل ہیں لیکن یہ چونکہ حسن و قبح عقلی کے قائل نہیں ہیں لہذا امامت کا وجوب لوگوں پر سمجھتے ہیں بالفاظ دیگر وجوب فقہی کے قائل ہیں دوسرا یہ کہ یہ لوگ امامت پر وجوب عقلی کے قائل نہیں ہیں بلکہ یہ وجوب انکے نزدیک دلیل نقلی سے ثابت ہے (شرح مواقف ج۸ ص۳۴۵)
۲: معتزلہ :
اکثریت معتزلہ بھی وجوب امامت کے قائل ہیں اور یہ وجوب انکے نزدیک بھی دلائل نقلی سے ثابت ہوتا ہے-
۳: ماتریدبہ :
یہ بھی اشاعرہ کی مانند وجوب امام کے قائل ہیں اور یہ وجوب انکے نزدیک بھی دلائل نقلی سے ثابت ہوتا ہے
۴: وھابیہ :
یہ لوگ بھی امامت و خلافت کو واجب سمجھتے ہیں لیکن اس کےواجب کفائ ہونے کے قائل ہیں(لمعۃ الاعتقاد ص۱۵۶)
یہاں سے معلوم ہوا کہ شیعہ سنی فرقے امام کے وجوب کے قائل ہیں اس حوالے سے اتفاق نظر رکھتے ہیں اگر چہ اختلاف دیگر مسائل میں ہے کہ آیا یہ خدا پر واجب ہے یا لوگوں پر
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجوب امامت پر کونسی ادلہ ہیں یہاں اجمالی طور پر بعض ادلہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے :
۱: قاعدہ لطف:
ایک عقلی دلیل و برہان کہ جس کی بنا پر اکثر متکلمین نے وجوب امامت پر استدلال کیا٬ قاعدہ لطف ہے شیخ طوسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: لطف وہ عنایت ہے کہ انسان کو جو کام ضروری کرنا چاہیے ا سکے انجام دینے پر برانگیختہ کرتا ہے اور اسے اس کام میں مدد فراہم کرتا ہے اگر اس کی طرف سے انگیزہ اور مدد نہ ہو تو انسان وہ کام انجام نہیں دے سکتا اسی طرح ہو کام جو انسان کو نہیں کرنا چاہیے لطف اسے اس کام سے دور کرتا ہے لطف کے تین مراحل ہیں:
۱: توفیق:
کام کو انجام دینے کےلۓ ضروری وسائل اور امکانات فراہم کرنا-
۲: ارشاد و راہنمائ (راستہ دکھلانا)
۳: عمل میں رہبری (مقصود تک پہنچانا) (تمہید الاصول ص۷۶۷)
علامہ حلی اس حوالے سے فرماتے ہیں:
امامت دین و دنیا کے امور میں ایک کلی الہی رہبری و حاکمیت ہے یعنی بعنوان نائب پیغمبر بعض افراد کےلیے یہ واجب عقلی ہے کیونکہ امامت لطف ہے –ہمیں یقین ہے کہ اگر لوگوں کےلیے ایسا کوئ شخص ہو جو انکی رہبری کا ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لے اور انکی راہنمائ کرے دوسرے لوگ اس کی اطاعت کریں اور وہ مظلوم کے حق کو ظالم سے لے اور ظالم کو ظلم سے منع کرے تو لوگ صلاح وخیر کے نزدیک اور فساد سے دور ہوجائیں گے (شرح باب حادی عشر ص ۸۳)
لطف کی تعریف:یہ اللہ تعالی کی صفات فعلی میں سے ہے ایسا الہی فعل ہے کہ جن کی بنا پر لوگ اطاعت کے قریب اور معصیت سےدور ہوجاتے ہیں-
لطف کی اقسام
اس کی دو قسمیں بیان ہوئ ہیں
۱ : لطف محصل
۲: لطف مقرب
۱ :لطف محصل :
اللہ تعالی کی طرف سے ایسے اسباب فراہم ہونا کہ جن پر انسان کی خلقت کا ہدف موقوف ہے اگر اللہ تعالی یہ اسباب و احکام فراہم نہ کرے تو انسانی خلقت لغو ہوجاۓ گی مثلا احکام شرعیہ بھیجنا ٬دینکی تبلیغ اور حفاظت کےلیے انبیا کا بھیجنا –
لطف مقرب :
وہ امور الہی کہ جن کے ذریعے احکام تکلیفہ کا ہدف پورا ہو کیونکہ اگر اللہ تعالی یہ لطف نہ کرے تو بہت سے بندگان اطاعت و امتثال کےلیے تیار نہیں ہوتے مثلا نیک لوگوں کو جنت کا وعدہ برے لوگوں کو جہنم کے عذاب سے ڈراوا –امتحان لینے کےلیے لوگوں کو نعمات اور مصائب دینا۔ ۔ ۔ اس قسم کا لطف انسان کو الہی احکام بجا لانے کے نزدیک کرتا ہے اور سرکشی سے دور کرتا ہے –
نتیجہ :
اگر لطف محصل نہ ہو تو تکالیف شرعیہ کے بھیجنے کےلیے انبیا کی بعثت ہی نہ ہوگی اگر لطف مقرب نہ ہو تو اگرچہ انبیاء و آئمہ کی صورت میں راہنما ہونگے احکام شرعیہ ہونگے لیکن عموما لوگ امتثال و اطاعت نہیں بجا لائیں گے –
قانون لطف کی امامت پر دلالت:
اکثر علماء علم کلام امامت کے مسالہ کو لطف مقرب کے مصادیق میں سے شمار کرتے ہیں اس طرح کہ اللہ تعالی نے بندوں پر کچھ تکالیف واجب کیں تاکہ وہ ان تکالیف کی پیروی و اطاعت میں کمال و سعادت تک پہنچ جائیں یہ غرض الہی بغیر امام معصوم کو منصوب کرنے اور لوگوں کو جنت کا وعدہ اور جہنم کے ڈراوے کے پوری نہیں ہوسکتی پس خداۓ حکیم یقینا ان امور کو انجام دے گا تاکہ تکالیف شرعیہ کے حوالے سے نقض غرض لازم نہ آۓاکثر بزرگ علماء اہل کلام یہاں ایک مثال دیتے ہیں کہ جب بھی کوئ غذا تیار کرے اور اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو دعوت دے اور وہ انہیں پیغام دعوت بھیجے اب وہ جانتا ہے کہ لوگوں کے پاس اس کے ایڈریس کےلیے نشانی اور راہنمائ موجود نہیں ہے نہ کوئ انکے پاس ایسا راہنما ہے کہ جو اس کی نشانی بتاۓ اور وہ بھی نشانی بتانے کےلیے کوئ راہنما نہ بھیجے تو یقینا دعوت والا کام عبث اور فضول ہوگا-
پس عہدہ امامت لطف مقرب کے مصادیق میں سے ہے اور امام کا مرتبہ پیغمبر کے مرتب کے قریب ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر تکالیف شرعی کو لانے اوربیان کرنے کےلیے ہوتے ہیں جبکہ امام بعنوان نائب پیغمبر ان تکالیف شرعیہ کے محافظ اور پاسدار ہوتے ہیں(انیس الموحدین ٬محمد مہدی نراقی باب امامت)
بلاشبہ قوانین الھی کی حفاظت اور امام کے دیگر وظائف سے انسان الہی اوامر کی پیروی کے قریب ہوجاتے ہیں اور سرکشی سے دور ہوجاتے ہیں اور جب بھی کسی معاشرہ کا ایسا رہبر ہو جو انکو ظلم سے روکے اور صلح وعدالت کے راستہ پر لیجاۓ تو ایسا معاشرہ صلاح وخیر کے نزدیک اور فساد سے دور ہوگا-(کشف المراد ص۳۶۲)
اب ایسا رہبر اگر اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور معصوم بھی ہو تو پھر اس کے لطف ہونے میں کوئ شک نہیں رہے گا کیونکہ الھی اور معصوم امام یا رہبر کے منصوب ہونے سے نہ کوئ مفسدہ اور نہ کوئ مشکل پیش آتی ہے کہ اللہ اس مشکل کی بنا پر امام کو منصوب نہ کرے-
۲: دین کے متخصص و ماہر کی ضرورت:
ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام ۖ آخری پیغمبر ہیں اور دین اسلام ایک جامع اور کامل دین ہے تو اس وقت یہ مشکل سامنے آتی ہے کہ پیغمبر اسلامۖ کو ﺗﻴئس سالہ زمانہ تبلیغ میں اتنی فرصت نہیں ملی کہ امت کی راہنمائ کےلیے تمام جذئیات اور تفصیلات بیان کریں اس کے علاوہ لوگ بھی اس زمانہ میں بہت سے معارف کو درک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور بعض مسائل اس دور کے لوگوں کےلیے ضروری بھی نہ تھے کہ انہیں یار کریں اور اور دوسروں تک پہنچائیں –
یہیں سے پیغمبر اسلامۖ کے بعد دین کے ماہر و متخصص کی بعنوان امام ضرورت پیش آتی ہے ایسا ماہر و متخصص کو جو تبلیغ میں پیغمبر کی مانند کبھی خطا و اشتباہ نہ کرے-
یہ ایسا مسالہ ہے کہ جسے تمام عقلا عالم قبول کرتے ہیں کہ ہر کام میں ماہر و متخصص کی ضرورت ہے اسی طرح ہر مکتب و مذہب کی پیچیدگیوں اور مسائل کے حل کےلیے اس مذہب کے ماہر کی طرف رجوع ہو-اگر ماہرین و متخصص نہ ہوں یا ہوں لیکن امام نہ ہوں بلکہ مسائل میں خطا کرنے والے ہوں تو یہ مذہب لوگوں کےلیے ناکافی ہوگا اور بالآخر یہ مذہب ختم ہو جاۓ گا یا مسخ ہوجائیگا ٬آیت اللہ سبحانی امامت پر ادلہ کی بحث میں ایک برہان یوں پیش کرتے ہیں:
۱: الھی آیات کی شرح و تفسیر اور انکے اسرار و رموز کو کشف کرنا
۲: جدید پیش آنے والے مسائل میں احکام شرعیہ بیان کرنا
۳: شبھات کا جواب اور اہل کتاب کے سوالات کا جواب
۴: دین کو تحریف سے محفوظ رکھنایہ چار اہم وظائف ہے کہ جو پیغمبر اکرم ۖ اپنی پربرکت حیات میں انجام دیتے تھے تو پیغمبر اکرم ۜ کے بعد کون ان وظائف کو انجام دے گا تین احتمال موجود ہیں:
۱: شارع اس مسالہ کی طرف توجہ نہ کرے اسے ایسے ہی چھوڑ دے یہ بات نا ممکن ہے
ب) شارع اس مسالہ کو امت کے سپرد کردے کہ وہ خود انجام دیں تو یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ رحلت پیغمبر اکرم ۖ کے بعد امت اسلامی کیسے کیسے حوادث اور مسائل میں گرفتار ہوئ جس کے نتیجے میں لوگوں میں تفرقہ پیدا ہوا لہذا یہ احتمال بھی قابل قبول نہیں ہے-
ج) اللہ تعالی یہ ذمہ داری پیغمبر اکرم کی مانند کسی شخص کے سپرد کرے –جو انکی مانند معصوم ہو اور دین کی درست تشریح و تفسیر کرے-۔ ۔ ۔
پہلے دو احتمال باطل ہیں تیسرا احتمال عقلا عالم کے نزدیک درست ہے اور یہ وہی بات ہے کہ اللہ تعالی پیغمبر اکرم کے بعد بعنوان امام انکا جانشین منتخب کرے-
۳ : سیرت مسلمین:
اسلامی متکلمین نے اپنی کلامی کتب میں یہ دلیل ذکر کی مثلا خواجہ نصیر الدین طوسی نے تلخیص المحصل میں ٬عضد الدین ایجی نے مواقف میں ٬سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصداور شرح عقائد نفیہ میں اور شہرستانی نے نہایہ الاقدام میں ذکر کیا ہے کہ سیرت مسلمین بالخصوص صدر اسلام کے مسلمانوں کی سیرت میں مطالعہ کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ سب لوگ وجوب امامت کو ایک مسلم امر شمار کرتے تھے –حتی کہ وہ لوگ جو سقیفہ میں بھی حاضر نہ تھے مثلا حضرت علی بھی اسلامی معاشرے کی ایک امام کی طرف احتیاج کے منکر نہ تھے-
۴:شرعی حدود کا اجراء اور اسلامی نظام کی حفاظت
بلاشبہ شارع مقدس نے مسلمانوں سے چاہا ہے کہ اسلامی حدود کو اجراء کریں اور اسلامی مملت کی سرحدوں کی دشمنان دین سے محافظت کریں یہ چیز بغیر با صلاحیت اور مدبر رہبر و امام کے بغیر ممکن نہیں ہے یہ کہ واجب کا مقدمہ واجب ہوتا ہے اس امام کا منصوب کرنا بھی واجب ہے عالم اہلسنت سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصد میں اس دلیل کی طرف اشارہ کیا ہے (شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۶- ۲۳۷)
۵: بڑے خطرات سے بچنا واجب ہے
ایک اور دلیل کے جسے اسلامی متکلمین مثلا علماء اہلسنت ٬فخر رازی ٬(تلخیص المحصل ص۴۰۷ )اور سعد الدین تفتازانی (شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۷- ۲۳۸) نے امامت کے وجوب پر پیش کیا ہے یہ ہے کہ امامت کی شکل میں امت اسلامی کو بہت بڑے اور عظیم سماجی فوائد حاصل ہیں کہ اگر ان فوائد کو نظر انداز کردیا جاۓ تو شخص اور معاشرہ بڑے خطرات اور نقصانات سے دوچار ہوجائیگا کہ ایسے خطرات سے بچنا شرعا و عقلا واجب ہے –
ان پانچ عقلی ادلہ کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ و سنی تمام اسلامی متکلمین کے نزدیک امامت کا وجود اور وجوب مورد اتفاق ہے-
Shahir
ظہورمہدی کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
فهرست موضوعات
جستجو
عقیدہٴ ظہور مہدی اور مدعیان مہدویت کا قیامامام مہدی کی ولادت وامامت علماء ومورخین اہل سنت کی نظر میں
جو لوگ شیعوں کی اندھی دشمنی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادہٴ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اوراسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔
کچھ لوگ تعصب ونفاق کے علاوہ تاریخ وحدیث اورتفسیر ورجال سے ناواقفیت،اسلامی مسائل سے بے خبری اور عصر حاضر کے مادی علوم سے معمولی آگاہی کے باعث تمام دینی مسائل کو مادی اسباب وعلل کی نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور اگر کہیں کوئی راز یا فلسفہ سمجھ میں نہ آئے توفوراً تاویل وتوجیہ شروع کردیتے ہیں یا سرے سے انکار کربیٹھتے ہیں۔
اس طرح اپنے کمرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر قلم اٹھاتے ہیں اور اسلامی مسائل سے متعلق گستاخانہ انداز میں اظہار نظر کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ مسائل ان کے دائرہ کا رومعلومات سے باہر ہیں، اس طرح یہ حضرات قرآن وحدیث سے ماخوذ مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ مسائل کا بہ آسانی انکار کردیتے ہیں۔ انھیں قرآن کے علمی معجزات، اسلامی قوانین اور اعلیٰ نظام سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے لیکن انبیاء کے معجزات اور خارق العادہ تصرفات کے بارے میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاکہ کسی نووارد طالب علم کے منہ کا مزہ خراب نہ ہوجائے یا کوئی بے خبر اسے بعیداز عقل نہ سمجھ بیٹھے۔
ان کے خیال میں کسی بات کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر آدمی سمجھ سکے یا ہر ایک دانشوراس کی تائید کرسکے یا ٹیلی اسکوپ، مائیکرو اسکوپ یا لیبوریٹری میں فنی وسائل کے ذریعہ اس کا اثبات ہوسکے۔
ایسے حضرات کہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو انبیاء کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے پیش کرنا چاہئے اور حتی الامکان ان کی جانب معجزات کی نسبت نہیں دینا چاہئے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ دنیا کے حوادث کی نسبت خداوندعالم کی جانب بھی نہ دی جائے یہ لوگ خدا کی قدرت، حکمت، علم، قضاوقدر کا صریحی تذکرہ بھی نہیں کرتے جو کچھ کہنا ہوتا ہے مادہ سے متعلق کہتے ہیں۔
خدا کی حمد وستائش کے بجائے مادہ اور طبیعت (Nature)کے گن گاتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی لے میں لے ملا سکیں، جنہوں نے تھوڑے مادی علوم حاصل کئے ہیں یا فزکس، کمیسٹری، ریاضی سے متعلق چند اصطلاحات، فارمولے وغیرہ سیکھ لئے ہیں اوراگر انگریزی یا فرانسیسی زبان بھی آگئی تو کیا کہنا۔
یہ صورت حال کم وبیش سبھی جگہ سرایت کررہی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، عموماً اس صورت حال کا شکار کچے ذہن کے وہ افراد ہوتے ہیں جو علوم قدیم وجدید کے محقق تو نہیں ہیں لیکن مغرب کے کسی بھی نظریہ یا کسی شخص کی رائے کو سو فیصدی درست مان لیتے ہیں چاہے اس کا مقصد سیاسی اور استعماری ہی رہا ہو، ہمارے بعض اخبارات، رسائل، مجلات و مطبوعات بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں عوامل سے متاثر ہو کر سامراجی مقاصد کی خدمت میں مصروف ہیں (۱)
(۱) ایک مصری دانشور کہتا ہے کہ جب میں فرانس زیرِ تعلیم تھا تو ماہ رمضان میں ایک پروگرام میں شرکت کی، کالج کے پرنسپل نے میرے سامنے سگریٹ پیش کی تو میں نے معذرت کر لی،اس نے وجہ دریافت کی تو میں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور میں روزہ سے ہوں،اس نے کہا میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم بھی ان خرافات کے پابند ہوگے،پروگرام کے بعد ایک ہندوستانی پروفیسر نے جو اس پروگرام میں شریک تھے مجھ سے کہا کہ کل فلاں مقام پر مجھ سے ملاقات کرلینا، اگلے روز میں پروفیسر سے ملاقات کے لئے گیا وہ مجھے چرچ لے گئے اور دوسرے ایک شخص کو دکھا کر پوچھا، پہچانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا ہمارے پرنسپل ہیں، پروفیسر نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا عبادت میں مشغول ہیں،پروفیسر نے کہا یہ لوگ ہمیں تو دینی آداب و رسوم ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور خود پابندی کے ساتھ مذہبی امور بجا لاتے ہیں۔یہ خطرناک بیماری جو اغیار اور سامراجی طاقتوں کے پروپیگنڈہ کے(باقی آئندہ صفحہ پر)
انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر لوگ اور ان کے حکام کی علمی، عقلی، فلسفی اور دینی معلومات بالکل سطحی ہوتی ہیں، وہ اکثر بے خبر اور مغرض ہوتے ہیں (بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ۸۱/ فیصدافراد ضعف عقل و اعصاب ا ور دماغ میں مبتلا ہیں)اور اپنے پست اور انسانیت سے دور
(گذشتہ صفحہ کا بقیہ) ذریعہ ہمارے اندر پھیلتی جا رہی ہے اوران کی صنعتی ترقی سے مرعوب ہو کر ہم اپنی کمزوری کا احساس کرنے لگے ہیں اور یہ احساس دیمک کی طرح ہماری حیثیت، شخصیت اور ترقی پذیر اقوام کی آزادی ٴ فکر کو نابود کر رہا ہے
بعض حضرات تو مغربی تہذیب کے دھارے میں اس طرح بہہ گئے ہیں کہ خود ان سے آگے بڑھکر دیگ سے زیادہ چمچہ گرم کے مصداق نظر آتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس بیماری سے وسیع پیمانہ پر مقابلہ کی ضرورت ہے ،ایسا مقابلہ جس کی بنیاد عقل ومنطق اور اسلامی آداب و احکام کے احترام پر استوار ہو۔
حقیقت یہی ہے کہ بعض مشرقی افراد جب اپنی کمزوری کا احساس کرتے ہیں تو مغربی تمدن کے سامنے سپرانداختہ ہو جاتے ہیں اور اپنی قومی و مذہبی عادات، اخلاق، لباس وغیرہ سب کچھ تج کر مغربی تہذیب کو فخر کے ساتھ اپنا لیتے ہیں اور اپنے ماحول میں بھی انہیں کا طرز معاشرت اختیار کر لیتے ہیں لیکن مغربی افراد کا چونکہ ڈنکہ بجتا ہے لہذا وہ اپنے مال و ثروت، علم و صنعت اور مادی ترقی پر اکڑتے ہیں اور اپنے عادات و اطوار کتنے ہی پست، حیوانی اور خرافاتی کیوں نہ ہوں اہل مشرق کے سامنے فخر کے ساتھ انہیں بجا لاتے ہیں۔
بہت سے مشرقی افراد مغرب سے علم و ٹکنالوجی سیکھنے کے بجائے مغرب کی اندھی تقلید کو ہی اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ اقوام مشرق ،مغرب پرست ہونے کے بجائے علم و صنعت و ٹکنالوجی حاصل کر کے اپنی زمین، معدنیات، سمندر، ہوا کے خود ہی مالک ہوتے یہ لوگ اتنے مغرب زدہ اور مغرب پرست ہوتے ہیں کہ ان میں اتنی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ ٹائی وغیرہ کے بجائے اپنا قومی لباس پہن کر ان کے پروگرام میں شرکت کریں،معدودے چند افراد ہی اپنا لباس ترک نہیں کرتے جیسے ہندوستان کے سابق صدرڈاکٹر ذاکر حسین یا حجاز ،مراکش اور بعض دیگر ممالک کے سربراہ بھی بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنا قومی لباس پہن کر شریک ہوتے رہے، جب کہ اکثریت ایسے سربراہانِ مملکت کی ہے جو اہل مغرب کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، انہیں احساس ہی نہیں ہے کہ احساس کمتری کتنی بڑی لعنت ہے اور عزت نفس کتنا بڑا سرمایہ
کتنا محترم ہے وہ مسلم سربراہ جسکے اعزاز میں اگر مغربی سربراہانِ مملکت دعوت کرتے ہیں تو دسترخوان پر شراب نہیں ہوتی، کتنا قابل فخر ہے وہ سربراہ جو ماسکو میں کمیونسٹ حکومت کا مہمان ہونے کے باوجود نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کا رخ کرتا ہے، کتنا باعظمت و شرافت ہے وہ سربراہ جو امریکا میں بھی چرچ میں داخل نہیں ہوتا اور سودی قرض سے پرہیز کرتا ہے، کتنا عظیم مردآہن ہے وہ مسلمان کہ جو اقوام متحدہ کی کانفرنس میں اپنی تقریر کا آغاز ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ سے کرتا ہے۔
کتنی پست اور حقیر ہے وہ مسلمان قوم جو قرآن پر تو فخر کرتی ہے نماز میں روزانہ بیس مرتبہ (گذشتہ صفحہ کا بقیہ)”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ کہتی ہے مگر اس کی کتابوں کے سر ورق سے یہ نورانی جملہ غائب ہے، کتنے ذلیل و خوار ہیں وہ لوگ جو اغیار کی روش اختیار کرتے ہیں کتنی حقیر ہے وہ قوم جو اپنی مذہبی اور قومی روش اورلباس کو چھوڑ کر اپنے پروگراموں میں دوسروں کا لباس اور طور طریقہ اختیار کرتی ہے اور جس کے مرد و زن اپنی شخصیت اور اعتماد نفس سے محروم ہیں۔
سیاسی مقاصد کے لئے دنیا کے مختلف مقامات پر اپنے سیاسی مفادات کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، البتہ جو لوگ ذی علم و استعداد، محقق و دانشور ہیں ان کا معاملہ فحشاء و فساد میں ڈوبی اکثریت سے الگ ہے۔
ان کے معاشرہ میں ہزاروں برائیاں اور خرافات پائے جاتے ہیں پھر بھی وہ عقلی، سماجی، اخلاقی ار مذہبی بنیاد پر مبنی مشرقی عادات و رسوم کا مذاق اڑاتے ہیں۔
مشرق میں جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اسے ”مغرب زدہ ہونا“ یا مغرب زدگی کہا جاتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہیں اور آج اس سے ہمارا وجود خطرے میں ہے، انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی سماجی زندگی سے حیاو عفت اور اخلاقی اقدار کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو اندلس (اسپین) کے اسلامی معاشرہ کا ہوا تھا۔ (۱)
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے افراد جن کی معلومات اخبارات و رسائل سے زیادہ نہیں ہے اور انہوں نے مغربی ممالک کا صرف ایک دو مرتبہ ہی سفر کیا ہے،مغرب زدگی، مغرب کے عادات و اخلاق کے سامنے سپرانداختہ ہوکر موڈرن بننے کی جھوٹی اور مصنوعی خواہش، جو دراصل رجعت پسندی ہی ہے کو روشن فکری کی علامت قرار دیتے ہیں،اور اغیار بھی اپنے ذرائع کے ذریعہ مثلاً اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہیں مشتشرق، خاورشناس کا ٹائٹل دے کر ان جیسے
(۱) اندلس کی نام نہاد اسلامی حکومت نے کفار اور اغیار سے اسلامی اصولوں کے برخلاف ایسے معاہدے کئے کہ اس کے نتیجہ میں عیسائیت کے لئے دروازے کھل گئے۔ فحشاء و فساد اور شراب نوشی سے پابندی ختم ہو گئی عیسائیوں کی طرح سے مرد و عورت آپس میں مخلوط ہو گئے راتوں کو عیش و عشرت، مردوں اور عورتوں کے مشترکہ پروگرام، رقص و سرور، ساز و موسیقی نے اسلامی غیرت و حمیت کا خاتمہ کر دیا۔ غیر ملکی مشیران اسلامی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگے اور آخر کاراسلامی اندلس ایک عیسائی مملکت میں تبدیل ہو گیا اور اسلامی علم و تمدن کا آفتاب اس سرزمین پر اس طرح غروب ہوا کہ آج اسلامی حکومت کے زرین دور کی مساجد، محلّات اور دیگر عالیشان عمارتوں جیسی یادگار وں کے علاوہ کچھ بھی باقی نہ رہا۔ البتہ یہ تاریخی اور یادگار تعمیرات آج بھی اپنی مثال آپ اور اس مملکت کے عہد زریں کے علم و صنعت کا شاہکار ہیں۔ خدا کی لعنت ہو فحشاء و فساد، ہوس اقتدار اور نفاق پرور ایسے ضمیر فروش اور اغیار پرست حکام پرافراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔
ظہور حضرت مہدی کے بارے میں بھی ادھر ہمارے سنّی بھائیوں میں سے کچھ مغرب زدہ احمد امین، عبدالحسیب طٰہٰ حمیدہ جیسے افراد نے امام مہدی کے متعلق روایات نقل کرنے کے باوجود تشیع پر حملے کئے ہیں گویا ان کے خیال میں یہ صرف شیعوں کا عقیدہ ہے یا کتاب و سنت، اقوال صحابہ و تابعین وغیرہ میں اس کا کوئی مدرک و ماخذ نہیں ہے، بے سر پیر کے اعتراضات کر کے یہ حضرات اپنے کو روشن فکر، مفکر اور جدید نظریات کا حامل سمجھتے ہیں،غالباً سب سے پہلے جس مغرب زدہ شخص نے ظہور مہدی سے متعلق روایات کو ضعیف قرار دینے کی ناکام و نامراد کوشش کی وہ ابن خلدون ہے، جس نے اسلامی مسائل کے بارے میں ہمیشہ بغض اہلبیت اور اموی افکار کے زیر اثر بحث و گفتگو کی ہے۔
”عقاد “ کے بقول اندلس کی اموی حکومت نے مشرقی اسلام کی وہ تاریخ ایجاد کی ہے جو مشرقی مورخین نے ہرگز نہیں لکھی تھی اور اگر مشرقی مورخین لکھنا بھی چاہتے تو ایسی تاریخ بہر حال نہ لکھتے جیسی ابن خلدون نے لکھی ہے۔
اندلس کی فضا میں ایسے مورخین کی تربیت ہوتی تھی جو اموی افکار کی تنقید و تردید کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے، ابن خلدون بھی انہیں افراد میں سے ہے جو مخصوص سیاسی فضا میں تربیت پانے کے باعث ایسے مسائل میں حقیقت بین نگاہ سے محروم ہو گئے تھے، فضائل اہلبیت سے انکار یا کسی نہ کسی انداز میں توہین یا تضعیف اور بنی امیہ کا دفاع اور ان کے مظالم کی تردیدسے ان کا قلبی میلان ظاہر ہے۔ ابن خلدون معاویہ کو بھی ”خلفائے راشدین“ میں شمار کرتے ہیں۔
انہوں نے مہدی اہل بیت کے ظہور کے مسئلہ کو بھی اہل بیت سے بغض و عناد کی عینک
سے دیکھا ہے کیونکہ مہدی بہرحال اولاد فاطمہ میں سے ہیں خانوادہ رسالت کا سب سے بڑا سرمایہٴ افتخارہیں لہٰذا اموی نمک خوار کے حلق سے فرزند فاطمہ کی فضیلت کیسے اتر سکتی تھی چنانچہ روایات نقل کرنے کے باوجود ان کی تنقید و تضعیف کی سعی لاحاصل کی اور جب کامیابی نہ مل سکی تو اسے ”بعید“ قرار دے دیا۔
اہل سنت کے بعض محققین اور دانشوروں نے ابن خلدون اور اس کے ہم مشرب افراد کا دندان شکن جواب دیا ہے اور ایسے نام نہاد روشن فکر افراد کی غلطیاں نمایاں کی ہیں۔
معروف معاصر عالم استاد احمد محمد شاکر مصری ”مقالید الکنوز“ میں تحریر فرماتے ہیں ”ابن خلدون نے علم کے بجائے ظن و گمان کی پیروی کر کے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ ابن خلدون پر سیاسی مشاغل، حکومتی امور اور بادشاہوں، امیروں کی خدمت و چاپلوسی کا غلبہ اس قدر ہو گیا تھا کہ انہوں نے ظہور مہدی سے متعلق عقیدہ کو ”شیعی عقیدہ“ قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے مقدمہ میں طویل فصل لکھی ہے جس میں عجیب تضاد بیان پایا جاتا ہے ابن خلدون بہت ہی فاش غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، پھر استاد شاکر نے ابن خلدون کی بعض غلطیاں نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا: اس(ابن خلدون) نے مہدی سے متعلق روایات کو اس لئے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس پر مخصوص سیاسی فکر غالب تھی، پھر استاد شاکر مزید تحریر کرتے ہیں کہ: ابن خلدون کی یہ فصل اسماء رجال، علل حدیث کی بے شمار غلطیوں سے بھری ہوئی ہے کبھی کوئی بھی اس فصل پر اعتماد نہیں کرسکتا۔“
استاد احمد بن محمد صدیق نے تو ابن خلدون کی رد میں ایک مکمل کتاب تحریر کی ہے جس کا نام ”ابراز الوہم المکنون عن کلام ابن خلدون“ ہے۔ اس کتاب میں استاد صدیق نے مہدویت سے متعلق ابن خلدون کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا مکمل جواب دیا ہے اور ابن خلدون کو بدعتی قرار دیا ہے۔
ہر چند علمائے اہل سنت نے اس بے بنیاد بات کا مدلل جواب دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ظہور مہدی کا عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک متفق علیہ اور اجتماعی ہے مگرہم چند باتیں بطور وضاحت پیش کر رہے ہیں :۔
۱۔ شیعوں کا جو بھی عقیدہ یا نظریہ ہے وہ اسلامی عقیدہ و نظریہ ہے، شیعوں کے یہاں اسلامی عقائد و نظریات سے الگ کوئی عقیدہ نہیں پایا جاتا، شیعی عقائد کی بنیاد کتاب خدا اور سنت پیغمبر ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی عقیدہ شیعی عقیدہ ہو مگر اسلامی عقیدہ نہ ہو۔
۲۔ ظہور مہدی کا عقیدہ شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علمائے اہلسنت بھی اس پر متفق ہیں اور یہ خالص اسلامی عقیدہ ہے۔
۳۔ آپ کے نزدیک ”اسلامی عقیدہ“ کا معیار کیا ہے؟ اگر قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اسی سے ہوتی ہو تو کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟ اگر صحیح، معتبر بلکہ متواتر روایات (جو اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں) سے کوئی عقیدہ ثابت ہو جائے تب بھی کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟
اگر صحا بہ و تابعین اور تابعینِ تابعین کسی عقیدہ کے معتقد ہوں تو بھی وہ عقیدہ اسلامی نہیں ہے؟ اگر شواہد اور تاریخی واقعات سے کسی عقیدہ کی تائید ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ یہ عقیدہ ہر دور میں پوری امت مسلمہ کے لئے مسلّم رہا ہے پھر بھی کیا آپ اسے اسلامی عقیدہ تسلیم نہ کریں گے؟
اگر کسی موضوع سے متعلق ابی داؤد صاحب سنن جیسا محدث پوری ایک کتاب بنام ”المہدی“، شوکانی جیسا عالم ایک کتاب ”التوضیح“ اسی طرح دیگر علماء کتابیں تحریر کریں، بلکہ پہلی صدی ہجری کی کتب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہوتب بھی یہ عقیدہ اسلامی نہ ہوگا؟
پھر آپ ہی فرمائیں اسلامی عقیدہ کا معیار کیا ہے؟ تاکہ ہم آپ کے معیار و میزان کے مطابق جواب دے سکیں، لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ ہی نہیںبلکہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مذکورہ باتوں کے علاوہ اسلامی عقیدہ کا کوئی اور معیار نہیں ہو سکتا اور ان تمام باتوں سے ظہور مہدی کے عقیدہ کا اسلامی ہونا مسلّم الثبوت ہے چاہے آپ تسلیم کریں یا نہ کریں۔
عقیدہٴ ظہور مہدی اور مدعیان مہدویت کا قیامامام مہدی کی ولادت وامامت علماء ومورخین اہل سنت کی نظر میں
Shahir
مہدویت
مہدویت : امام زمانہ سے عشق اور ان کی یاد، خود ان کے لطف و کرم کا نتیجہ ہے
آج بحمداللہ ہماری قوم مہدویت اور امام مہدی سلام اللہ علیہ کے وجود اقدس کی طرف ہمیشہ سے زیادہ متوجہ ہے روزبروز ہر انسان محسوس کرسکتا ہے جوانوں کے دل میں، ملت کی ایک ایک فرد کے یہاں، حضرت حجت علیہ السلام کے وجود اقدس کے سلسلے میں عشق و ارادت، اشتیاق اور ذکر و یاد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بھی خود ان ہی بزرگوار کی برکتوں میں سے ہے ہماری اس ملت پر ان کی نگاہ لطف و رحمت کا نتیجہ ہے جس نے ان کے قلوب اس روشن و تابناک حقیقت کی طرف جھکادئے ہیں، خود یہ چیز بھی امام (ع) کی خصوصی توجہ کی نشانی ہے اور اس کی قدر کرنی چاہئے۔ امام خامنہ ای 17 / اگست / 2008
2023/08/03
July
مہدویت : انتظار فرج کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں ہے
انتظار فرج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور کوئی کام انجام نہ دے کسی طرح کی اصلاح کا اقدام نہ کرے صرف اس بات پر خوش رہے کہ ہم امام زمانہ علیہ الصلوۃ و السلام کے منتظر ہیں۔ یہ تو انتظار نہ ہوا۔ انتظار کس کا ہے؟ ایک قوی و مقتدر الہی اور ملکوتی ہاتھ کا انتظار ہے کہ وہ آئے اور ان ہی انسانوں کی مدد سے دنیائے ظلم و ستم کا خاتمہ کردے حق کو غلبہ عطا کرے اور لوگوں کی زندگي میں عدل و انصاف کو حکمراں کردے، توحید کا پرچم لہرا کر انسانوں کو خدا کا حقیقی بندہ بنادے، اس کام کی آمادگي ہونی چاہئے۔ انتظار فرج یعنی کمرکس لینا، تیار ہوجانا، خود کو ہر رخ سے اس ہدف کے لئے، جس کے لئے امام زمانہ علیہ الصلوۃ و السلام انقلاب برپا کریں گے، تیار کرنا۔ امام خامنہ ای 17 / اگست / 2008
2023/07/28
مہدویت: مہدویت کا عقیدہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ظلم کا خاتمہ ممکن ہی نہیں، یقینی ہے
جو چیز انسان کو کام کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ دیتی ہے وہ امید کی طاقت ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا عقیدہ، دلوں میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔ ہمارے لئے جو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا حتمی عقیدہ رکھتے ہیں، اس مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے جس کے دنیا کے بہت سے دانشور حضرات شکار ہیں۔ ہمارا کہنا ہے کہ نہیں! دنیا کے سیاسی منظرنامے کو بدلا جا سکتا ہے۔ ظلم اور ظالمانہ اقتدار کے مرکزوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں اس چیز کا ہونا نہ صرف یہ کہ ممکن ہے بلکہ حتمی ہے۔ امام خامنہ ای 22/10/2002
2023/07/21
مہدویت : سب، عدل کو عام کرنے والے قوی و توانا دست قدرت کے منتظر ہیں
آج ہم کو فرج یعنی گرہ گشائی کا انتظار ہے یعنی ہم سب ایک عدل کو عام کرنے والے قوی و توانا دست قدرت کے منتظر ہیں کہ وہ آئے اور ظلم و جور کے اس تسلط کو توڑ دے کہ جس نے پوری بشریت کو محروم و مقہور بنا رکھا ہے، ظلم و ستم کے اس ماحول کو بدل دے اور انسانوں کی زندگي کو ایک بار پھر نسیم عدل کے جھونکوں سے تازہ کر دے تا کہ تمام انسانوں کو عدل و انصاف کا احساس ہو۔ یہ ایک آگاہ و باخبر زندۂ و بیدار انسان کی دائمی ضرورت ہے۔ انتظار کا یہی مطلب ہے۔ انتظار یعنی انسانی زندگی کی موجودہ صورت حال کو قبول نہ کرنا اور ایک قابل قبول صورت حال کی فکر و جستجو میں رہنا، چنانچہ مسلمہ طور پر یہ قابل قبول صورت حال ولی خدا حضرت حجۃ ابن الحسن مہدی آخر الزمان صلوات اللہ علیہ و عجل اللہ تعالی فرجہ و ارواحنا فداہ کے قوی و توانا ہاتھوں سے ہی عملی جامہ پہنے گی۔ لہذا خود کو ایک جانباز سپاہی اور ایک ایسے انسان کی حیثیت سے تیار کرنا چاہئے جو اس طرح کے حالات میں مجاہدت اور سرفروشی سے کام لے سکے۔ امام خامنہ ای 17 / اگست / 2008
2023/07/14
مہدویت : انتظار فرج کے معنی
انتظار فرج کا مطلب ہے اس صورت حال کو مسترد کردینا اور نہ ماننا جو انسانوں کی جہالت اور انسانی زندگی پر حکمران بشری اغراض و مقاصد کے زیر اثر دنیا پر مسلط کر دی گئی ہے، انتظار فوج کا مفہوم یہی ہے۔ آج آپ لوگ دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں، وہی چیز جو حضرت ولی عصر (ہماری جانیں جن پر فدا ہو جائیں) کے ظہور سے متعلق روایات میں ہیں، آج دنیا پر حکمراں ہیں، دنیا کا ظلم و جور سے بھر جانا، آج دنیا ظلم و ستم سے بھر گئی ہے۔ ولی عصر ( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) سے متعلق روایتوں، دعاؤں اور مختلف زیارتوں میں ملتا ہے: یملا اللہ بہ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا ویسے ہی جیسے ایک دن پوری دنیا ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، جس زمانہ میں ظلم و جور پوری بشریت پر حکمراں ہوگا اسی طرح خداوند عالم ان کے زمانے میں وہ صورت حال پیدا کر دے گا کہ پورے عالم بشریت پر عدل و انصاف حکمراں نظر آئے گا۔ وہ وقت یہی ہے، اس وقت ظلم و جور بشریت پر حکمراں ہے آج انسانی زندگي عالمی سطح پر ظلم و استبداد کے ہاتھوں میں مغلوب و مقہور ہے (اور ظالموں کے قہر و غلبہ کا شکار ہے) ہر جگہ ظلم و جور کا ماحول ہے۔ امام خامنہ ای 17 / اپریل / 2008
2023/07/07
June
مہدویت: حق و باطل کی لڑائي ایک دن حق کی کامیابی پر ختم ہوگی
اللہ کے بھیجے آسمانی ادیان نے جو الہی اور آسمانی جڑوں کے حامل ہیں، لوگوں میں بلا وجہ امیدوں کی جوت نہیں جگائی ہے، ایک حقیقت کو انھوں نے بیان کیا ہے۔ انسانوں کی خلقت اور بشریت کی طویل تاریخ میں ایک حقیقت موجود ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ حق و باطل کے درمیان یہ مقابلہ آرائی ایک دن حق کی کامیابی اور باطل کی ناکامی پر ختم ہوگی اور اس دن کے بعد انسان کی حقیقی دنیا اور انسان کی منظور نظر زندگی شروع ہوگی اس وقت مقابلہ آرائی کا مطلب جنگ و دشمنی نہیں بلکہ خیر و خیرات میں سبقت کا مقابلہ ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے جو تمام ادیان و مذاہب میں مشترک ہے۔ امام خامنہ ای 17 / اگست / 2008
2023/06/23
مہدویت : حضرت حجت (سلام اللہ علیہ) کے وجود مقدس کی نسبت عشق و ارادت اُس عظیم ہستی کی برکتوں میں سے ہے
آج بحمد اللہ ہماری قوم کی ’’مہدویت‘‘ اور حضرت مہدی سلام اللہ علیہ کے وجود مقدس کی طرف توجہ اور علاقہ ہمیشہ سے زیادہ ہے، روز بروز انسان محسوس کر رہا ہے ہمارے جوانوں کے دل میں، ایک ایک فرد کے درمیان حضرت حجت (سلام اللہ علیہ) کے وجود مقدس کی نسبت شوق و اشتیاق، عشق و ارادت اور ذکر و یاد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، یہ بھی اُس عظیم ہستی کی برکتوں میں سے ہے، اس ذات عظیم کی نگاہ لطف ہماری قوم پر ہے، اس ذات عظیمہ کی نظر رحمت نے ہی ان کے دلوں کو اس تابناک حقیقت کی طرف متوجہ کر رکھا ہے اور خود یہ چیز عظیم ذات کی خاص عنایت کی نشاندہی کرتی ہے، اس کی قدر کرنا چاہئے۔ امام خامنہ ای 17 / اگست / 2008
2023/06/16
مہدویت : تمام الہی مصلحتوں اور خود پیغمبر خاتم کی دعوت، حضرت بقیۃ اللہ کے وجود میں مجسم دیکھتے ہیں
ایک اہم بات یہ ہے کہ حضرت بقیۃ اللہ (ارواحنا فداہ) کا وجود مقدس الہی دعوتوں اور نبوت کے سلسلوں کا ایک تسلسل ہے، اول تاریخ سے آج تک انسان (اور بشریت کو) الہی دعوت، پیغمبر اور الہی نمائندوں اور دعوت دینے والوں کی ضرورت رہی ہے، اور یہ ضرورت عصر حاضر میں بھی باقی ہے، جس قدر زمانہ گزرتا جا رہا ہے، انسان انبیا کی تعلیمات سے زیادہ قریب ہوتا جا رہا ہے، آج انسانی معاشرہ اپنے فکری ارتقا، تہذیب اور علم و معرفت کے باعث انبیا (علیہم السلام) کی بہت سی تعلیمات کو، جو آج سے دسیوں صدیاں پہلے انسان کی سمجھ سے دور تھیں، اب سمجھ سکتا ہے، یہی عدل و انصاف کا مسئلہ، آزادی کا مسئلہ، انسانی عزت و کرامت کا مسئلہ ، یہ باتیں جو آج دنیا میں رائج ہیں، انبیا علیہم السلام کی باتیں ہیں۔ اُس وقت عوام الناس اور عام لوگوں کے اذہان ان مطالب کو سمجھ نہیں پاتے ہیں، پیغمبروں کا پے در پے آتے رہنا اور پیغمبروں کی تعلیمات کا پھیلتے جانا سبب بنا کہ یہ افکار لوگوں کے ذہن میں لوگوں کی فطرت میں، لوگوں کے دل میں نسل در نسل گھر بناتی جا رہی ہیں، اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کا وہ سلسلہ آج بھی منقطع نہیں ہوا ہے، بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کا مقدس وجود اللہ کی طرف دعوت دینے والے اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جیسا کہ زیارت آل یاسین میں آپ کہتے ہیں: ’’ السّلام ُ علیکمَ یا داعیاً لِللّہ و ربّانی آیاتہ‘‘ یعنی آج آپ وہی ابراہیم علیہ السلام کی دعوت، وہی موسی علیہ السلام کی دعوت، وہی عیسی علیہ السلام کی دعوت، وہی تمام نبیوں، وہی تمام الہی مصلحتوں اور خود پیغمبر خاتم کی دعوت، حضرت بقیۃ اللہ کے وجود میں مجسم دیکھتے ہیں۔ امام خامنہ ای 20/ ستمبر / 2005
2023/06/09
مہدویت : امام زمانہ علیہ السلام سے توسل اور روحانی قرابت
یہ توسل جو مختلف زیارتوں میں آپ دیکھ رہے ہیں، جن میں سے بعض کی سند اور حوالے بھی اچھے ہیں، یہ بہت قیمتی ہیں۔ دور سے ایسی عظیم ہستی سے توسل، توجہ اور انس، اس اُنس کا یہ مطلب نہیں ہرگز نہیں ہے کہ کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں آپ کی خدمت میں پہنچتا ہوں یا ان کی آواز سنتا ہوں۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ اس تناظر میں جو کچھ کہا جاتا ہے ان میں سے زیادہ تر دعوے ہوتے ہیں، وہ دعوے یا تو جھوٹ ہوتے ہیں، یا اگر کہا جائے جھوٹ نہیں ہے تو وہ اس کا تصور ہے، اس کا وہم ہے، ہم نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے وہ جھوٹ نہیں بولتے، لیکن وہ ان کے تصورات ہیں، اوہام ہیں؛ انہوں نے اپنے اُسی تصورات اور خیالات کو دوسروں کے سامنے بیان کئے ہیں، اُن تصورات کو حقیقت نہیں سمجھنا چاہئے؛ صحیح راستہ، منطقی راہ؛ وہی دور سے کیا گیا توسل ہے۔ اس توسل (اور مناجات) کو امام سنتے ہیں، اور ان شاء اللہ قبول فرمائیں گے۔ اگرچہ ہم اپنے مخاطب سے دور سے بات کر رہے ہیں؛ لیکن کوئی بات نہیں. خداوند عالم سلام کرنے والوں کا سلام اور پیغام دینے والوں کا پیغام اُن تک پہنچاتا ہے، یہ توسل اور روحانی قرابت بہت اہم اور ضروری ہے۔ امام خامنہ ای 09/ جولائی/ 2011
2023/06/02
May
مہدویت : درخشاں حقیقت کی ایک چھوٹی سی جھلک
اسلامی نظام میں جس کا کاملتر نمونہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم کی حکومت ہوگی، عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے دھوکہ دہی اور چالبازی ایک جرم ہے۔ پیسے کے حصول کے لئے طاقت کا استعمال سب سے بڑا جرم ہے۔ (اس حکومت میں) حضرت مہدی کے اصحاب کو (معاشی لحاظ سے) ادنیٰ درجے میں رہنا ہوگا۔ ہمارا اسلامی نظام اس درخشان حکومت کا ایک چھوٹا سا مصداق ہے۔ ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ کبھی کریں گے، لیکن ہمارے اندر اس کے مصداق ہونے کی نشانیاں ہونی چاہیے۔ امام خامنہ ای 22/ اکتوبر/ 2002
2023/05/25
آخری فتح جو زیادہ دور نہیں، فلسطینی عوام اور فلسطین کی ہوگی۔
2023/11/03
Shahir
مدعیان مہدویت کی فہرست
مسلمانوں کے نزدیک آخر زمانے میں ظاہر ہونے والی شخصیت مہدی ہیں جو قیامت سے قبل دنیا میں آئیں گے اور دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں گے، ناانصافی اور جبر کا خاتمہ کر دیں گے۔ اسلامی دنیا میں مہدی ہونے کا دعوی کرنے والی کئی شخصیات سامنے آچکی ہیں۔ بالخصوص سعودی عرب، افریقا، جنوبی ایشیا وغیرہ میں متعدد مسلمان افراد نے اس کا دعوی کیا اور یہ دعوی بہت پہلے سے لوگ کرتے آ رہے ہیں۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مہدی وسیع دنیاوی اختیارات، روحانی طاقتیں اور ولایت کے حامل ہوں گے۔ کچھ مدعیان مہدویت نے دنیاوی طاقت کے اظہار کے لیے ریاستوں کی بنیاد رکھی (جیسے مہدی سوڈانی نے انیسویں صدی عیسوی میں، سوڈان میں) اسی طرح بعض نے روحانی طاقت سے مطابقت کے لیے مذاہب اور فرقوں کی بنیاد رکھی (جیسے مرزا غلام احمد نے احمدیہ جماعت اور بابی تحریک وغیرہ)۔
اسی سلسلہ کی مطابقت کی وجہ سے 1979ء میں مکہ، سعودی عرب میں جہیمان عتیبی نے 200 مسلح افراد کے ساتھ مل کر مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا اور دعوی کیا کہ اس کا بہنوئی اور ساتھی محمد قحطانی مہدی ہے۔ (کیونکہ، مہدی کے متعلق اسلامی روایات میں ہے کہ وہ پہلی بار حج کے موقع پر مکہ میں خانہ کعبہ کے پاس مہدی تسلیم کیے جائیں گے)۔[1]
دوسری صدی
ترمیم
صالح بن طريف
ترمیم
صالح بن طريف جو بورغوطہ کا دوسرا بادشاہ تھا، اس نے آٹھویں صدی عیسوی میں ایک نئے مذہب کے نبی ہونے کا دعوی کیا۔ اس کا یہ دعوی بنو امیہ کے ہشام بن عبدالملک کے دور میں سامنے آیا۔ ابن خلدون کے مطابق، اس نے خود پر خدا کی طرف سے ایک نئے قرآن کے نزول کا دعوا کیا، جو 80 ابواب پر مشتمل بربر زبان میں لکھا گیا۔ اس نے اپنی قوم کے لیے قوانین بنائے جسے اس نے صالح المومنین کا نام دیا (مومنوں کا اعادہ) اور دعوی کیا وہی اصل مہدی ہے۔
عبد اللہ بن معاویہ
عبد اللہ بن معاویہ جو جعفر ابن ابی طالب کی نسل سے تھا۔ 127 ہجری (بمطابق 744ء) کے آخر میں کوفہ کے شیعہ نے اسے اپنا امام مانا۔ اس نے اموی خلیفہ یزید ثالث بن ولید کے خلاف تیسفون اور کوفی شیعوں کی معیت میں بغاوت کی۔
.
Shahir
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں