پہلا درس
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث OK ہے (کورس ون)
نوٹ: کورس ٹو
مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث
مہدویت نامہ
پہلا درس
مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث
مقاصد:
(۱) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت و اہمیت۔
(۲) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت کے مختلف پہلوﺅں سے آگاہی۔
(۳) دینی فکر میں امامت اور امام مہدی (عج) کے موضوع کے مقام کی شناخت۔
فوائد:
(۱) امام مہدی (عج) کے موضوع کی اہمیت پر توجہ اور اس کے مختلف پہلوﺅں پر تحقیق کی ضرورت۔
(۲) امام کی ضرورت او ر ان سے وابستہ ہونے کا احساس۔
(۳) امام کے اوصاف کی شناخت۔
تعلیمی مطالب:
(۱) امام مہدی پر بحث کرنے کی ضرورت۔
(۲) ان ابحاث کو پیش کرنے کی ضرورت کے ان مندرجہ ذیل پہلوﺅں سے آگاہی:
(۱لف) عقائدی(ب) معاشرتی(ج) سیاسی(د) تاریخی(ھ) ثقافتی
(۳) انسان کے لئے امام کی ضرورت کے دلائل
(۴) امام کی خصوصیات
(الف) امام کا علم(ب) عصمت امام(ج) امام کی معاشرہ پر حکومت(د) امام کے اخلاقی کمالات(ھ) امام کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہونا۔امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت اور جامع فرمان
مہدویت پر بحث کی ضرورت
شاید بعض لوگ یہ سوچیں کہ دیگر عقائدی اور نظریاتی موضوعات میں بنیادی ضرورت کے باوجود حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اس سلسلہ میں کافی مقدار میں بحث نہیں ہو چکی ہے اور بہت ساری کتابیں اور مضامین نہیں لکھے گئے ہیں؟
تو اسکا جواب یہ ہے کہ مہدویت کی بحث و گفتگو ایک ایسا موضوع ہے جو انسان کی زندگی میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور مختلف پہلوﺅں سے انسانی زندگی پر اثرانداز ہو تا ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں کی گئی بہت سی کاوشوں کے باوجود بھی اس موضوع پر بہت کچھ کہنے کے لئے باقی ہے، اور مناسب ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور صاحبان نظر حضرت اس سلسلہ میں بہت زیادہ کوشش کریں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی ضرورت کو واضح کرنے کے لیے یہاں چند چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
(۱) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کا موضوع، امامت کے بنیادی مسئلہ کی طرف پلٹتا ہے کہ جو شیعوں کے عقائدی اصول میں سے ہے، جس کی قرآن کریم اور اسلامی روایات میں بہت زیادہ اہمیت بتادی گئی ہے اور اس پر تاکید ہوئی ہے۔ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے:
﴾مَن مَاتَ وَ لَم یَع رِف اِمَامَ زَمَانِہِ مَاتَ مَی تَةً جَاہِلِیَةً۔﴿ ( بحارالانوار، ج۱۵، ص۰۶۱)
”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اپنے امام زمانہ (علیہ السلام) کو نہ پہچانتا ہو تو اس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہو گی (گویا اس نے اسلام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا ہے)“۔
یقینا یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس سے انسان کی معنوی حیات وابستہ ہے لہٰذا اس مسئلہ پر خاص توجہ اور عنایت کرنی چاہیے؟!
(۲) حضرت امام مہدی علیہ السلام،۱ مامت کے پاکیزہ سلسلہ کی بارہویں کڑی ہیں، وہی امامت جو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی دو نشانیوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے:
﴾اِنِّی تَارِک فِی کُم الثَّقَلَی نِ کِتَابَ اللّٰہِ وَ عِتَرَتِی ، مَا اِن تَمَسَّکت م بِہِمَا لَن تَضِلُّوا بَع دی اَبَداً....﴿(بحارالانوار، ج۲، ص۰۰۱)
”بے شک میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسری میری عترت، جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہوں گے“۔
اس بنا پر قرآن کریم کے بعد جو کہ کلام خدا ہے، کونسا راستہ امام علیہ السلام کے راستہ سے زیادہ روشن اور ہدایت بخش ہے؟ اور کیا بنیادی طور پر قرآن کریم اور کلام خدا کو پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے (حقیقی) جانشین کے علاوہ کوئی اور اس کامعنی اور تفسیر کر سکتا ہے؟!
(۳) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) زندہ اور حاضر و ناظر ہیں اور آپ کے سلسلہ میں بہت سے سوالات (خصوصا نوجوانوں اور جوانوں کے درمیان) پائے جاتے ہیں، اگرچہ گذشتہ علماءکی کتابوں میں بہت سے سوالات کا جواب دیا گیا ہے، لیکن پھر بھی بہت سے شکوک و شبہات باقی ہیں اور بعض گذشتہ جوابات آج کل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہیں۔
(۴) امامت کی اہمیت اور اس کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر دشمنوں نے ہمیشہ شیعوں کو فکری اور عملی لحاظ سے نشانہ بنایا ہے تاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں شبہات اور اعتراضات بیان کرکے ان کے ماننے والوں کو شک و تردید میں مبتلا کر دیا جائے، جیسا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں شک و تردید پیدا کرنا، یا آپ کی طولانی عمر کے مسئلہ کو ایک محال اور غیر عقلی مسئلہ قرار دینا، یا آپ کی غیبت کو غیر منطقی چیز قرار دینا اور اسی طرح کے بہت سے اعتراضات، اس کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بعض ناواقف برادران مہدویت کے سلسلہ میں کچھ غلط اور بے بنیاد چیزیں بیان کردیتے ہیں، جن سے کچھ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں یا ان کو گمراہ کر دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا انتظار، آپ کا مسلحانہ قیام، آپ کی غیبت کے زمانہ میں آپ سے ملاقات کے امکان وغیرہ کے سلسلہ میں بہت سے غلط اور خلاف حدیث مطالب بیان کئے جاتے ہیں، لہٰذا مہدویت کے سلسلہ میں اس طرح کی غلط باتوں کی صحیح تحقیق کی جائے اور ان اعتراضات کا منطقی اور معقول جواب دیا جائے۔ انہیں چیزوں کی بنا پر اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نورانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو بیان کرتے ہوئے آپ کے سلسلہ میں جوانوں کے ذہنوں میں موجودہ سوالات اور آپ کے زمانہ سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جائے، نیز عقیدہ مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں اور بعض غلط افکار کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں تاکہ آخری حجت الٰہی حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی صحیح اور عمیق معرفت کی راہ میں ایک قدم اٹھا سکیں۔
امامت
پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اسلامی معاشرہ میں آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ ایک گروہ نے بعض اصحاب پیغمبر کے کہنے پر حضرت ابوبکر کو بعنوان خلیفہ رسول چُن لیا، لیکن دوسرا گروہ آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا معتقد رہا۔ ایک مدت بعد پہلا گروہ اہل سنت و الجماعت اور دوسرا گروہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف صرف پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دونوں کے نقطہ ¿ نظر سے ”امام“ کے معنی و مفہوم میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے جس کی بنا پر دونوں مذہب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ ہم اس موضوع کی وضاحت کے لئے ”امام اور امامت“ کے معنی کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ دونوں کے نظریات واضح ہو جائیں۔ لغوی اعتبار سے ”امامت“ کے معنی پیشوائی اور رہبری کے ہیں اور ایک معین راہ میں کسی گروہ کی قیادت اور رہبری کرنے والے ذمہ دار فرد کو ”امام“ کہا جاتا ہے۔
دینی اصطلاح میں امامت کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں: اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ”امامت“ دنیوی حکمرانی کا نام ہے (نہ کہ الٰہی منصب کا) کہ جس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی سرپرستی کی جاتی ہے اور جس طرح ہر معاشرہ کو رہبر اور قائد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اسلامی معاشرہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اپنے لیے ایک ہادی اور رہبر کا انتخاب کرے اور چونکہ اس انتخاب کے لئے دین اسلام میں کوئی خاص طریقہ متعین نہیں کیا گیا تو پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کے لئے مختلف طریقوں کو اپنایاجا سکتا ہے مثلاً عوام الناس یا بزرگوں کی اکثریت کے نظریہ یا گذشتہ جانشین کی وصیت کے مطابق یا بغاوت اور فوجی طاقت کے بل بوتے زبردستی حاکم بننے والا شخص خلیفہ یا امام کہلایا جا سکتا ہے۔
لیکن شیعہ امامت کو نبوت کا استمرار اور امام کو مخلوق کے درمیان حجت خدا اور فیض الٰہی کا واسطہ مانتے ہیں لہٰذا شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”امام“ کو صرف خدا معین فرماتا ہے جس کا پیغمبر یا وحی کا پیغام لانے والے کے ذریعہ تعارف کرواتا ہے اور نظریہ امامت کی اس عظمت اور بلند مقام کے پیش نظر شیعہ طرزِ تفکر میں یہ ہے کہ وہ امام کو نہ صرف اسلامی معاشرہ کا سرپرست اور حاکم مانتے ہیں بلکہ احکام الٰہی کا بیان کرنے والا، مفسر قرآن اور راہ سعادت کی ہدایت کرنے والا مانتے ہیں بلکہ شیعہ ثقافت میں امام عوام کے دینی اور دُنیاوی مسائل کو حل کرنے والے کی ذات کا نام ہے، نہ اس طرح کہ جس طرح اہل سنت معتقد ہیں کہ خلیفہ کی ذمہ داری صرف دُنیاوی معاملات میں حکومت کرنا ہے!۔
امام کی ضرورت
مذکورہ نظریات واضح ہونے کے بعد اس سوال کا جواب دینا مناسب ہے کہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے باوجود امام اور دینی رہبر کی کیا ضرورت ہے؟(جیسا کہ شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے)
امام کی ضرورت کے لئے بہت سے دلائل بیان ہوئے ہیں لیکن ہم ان میں سے ایک کو اپنے سادہ بیان میں پیش کرتے ہیں:
جس دلیل کے تحت انبیاءعلیہم السلام کی ضرورت ہے، وہی دلیل ”امام“ کی ضرورت کو بھی ثابت کرتی ہے، کیونکہ ایک طرف سے اسلام آخری دین اور حضرت محمد مصطفی (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) خدا کی طرف سے آخری پیغمبر ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام قیامت تک انسانی ضرورتوں کا جواب رکھتا ہو، دوسری طرف قرآن کریم میں اصول، احکام اور الٰہی تعلیمات عام اور کلی صورت میں ہیں جن کی وضاحت اور تفسیر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمہ ہے۔
( یہ بات عرض کر دینا مناسب ہے کہ امام معصوم کے ذریعہ ”حکومت تشکیل دینا“ راستہ ہموار ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ لیکن دوسرے تمام فرائض یہاں تک کہ غیبت کے زمانہ میں بھی انجام دینا ضروری ہے، اگرچہ امام علیہ السلام کے ظہور اور لوگوں کے درمیان ظاہر بظاہر ہونے کی صورت میں یہ بات سب پر ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حصہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس میں لوگوں کی معنوی زندگی میں امام کی ضروری ہے لیکن تمام دنیا کو ”وجود امام“ کی ضرورت ہے اس مطلب کو ”امام غائب کے فوائد“ کی بحث میں بیان کیا جائے گا)
لیکن یہ بات روشن ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے مسلمانوں کے ہادی اور رہبر کے عنوان سے اپنے زمانہ کے اسلامی معاشرہ کی ضروریات کے مطابق آیات الٰہی کی تفسیر کو بیان فرمایا، اور اپنے بعد کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا بلافصل لائق جانشین چھوڑیں جو خداوند عالم کے لامحدود علم کے دریا سے متصل ہوتا کہ جن چیزوں کو پیغمبر اکرم(صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے عام لوگوں کے سامنے بیان نہ کر سکے اور اپنے بعد میں آنے جانے والے جانشین کو ان تمام امور کا علم دے گئے ، ان کو بیان کرے اور ہر زمانہ میں اسلامی معاشرہ کو درپیش مسائل کا جواب پیش کر سکے۔
اسی طرح ائمہ علیہم السلام پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی چھوڑی ہوئی میراث کے محافظ ہیں اور قرآن کریم کے حقیقی مفسر اور اس کے صحیح معنی کرنے والے ہیں تاکہ دینِ خدا خود غرض دشمنوں کے ذریعہ تحریف کا شکار نہ ہو جائے، نیز امامت کا یہ پاک و پاکیزہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گایہ شیعہ نقطہ نظرہے۔
اس کے علاوہ ”امام“ انسان کامل کے عنوان سے انسان کے تمام پہلوﺅں میںانسانی زندگی کے اعلیٰ نمونہ عمل ہے، کیونکہ انسانیت کو ایسے نمونہ کی سخت ضرورت ہے جس کی مدد اور ہدیت کے ذریعہ وہ تربیت پا سکے، نیز ان آسمانی رہبروں کے زیر سایہ انحراف اور اپنے سرکش نفس کے جال اور بیرونی شیاطین سے محفوظ رہ سکے۔
گذشتہ مطالب سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ عوام الناس کے لئے امام کی سخت ضرورت ہے اور امام کے فرائض اور ذمہ داریوں میں بعض اس طرح ہیں:
ة اجتماعی اور سماجی مسائل کا ادارہ کرنا (حکومت کی تشکیل)۔
ة دین خدا کو تحریف سے بچانا اور قرآن کے صحیح معنی بیان کرنا۔
ة لوگوں کے دلوں کا تزکیہ اور ان کی ہدایت و راہنمائی کرنااورتمام پہلوﺅں میں انسان کے لئے عملی نمونہ بننا۔
امام کی خصوصیات
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین، دین کو حیات بخشنے کا ضامن اور انسانی معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے، امام وہ ممتاز شخصیت ہے جو پیشوائی اور رہبری کے عظیم الشان مقام کی بنا پر کچھ خصوصیات رکھتی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
امام، صاحب تقویٰ و پرہیز گار اور صاحب عصمت ہوتا ہے، جس کی بنا پر اس سے ایک معمولی سا گناہ بھی سرزدنہیں ہو تا۔
امام کے علم کا سرچشمہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا علم ہوتا ہے اوران کاعلم علم الٰہی سے متصل ہوتا ہے، لہٰذا مادی اور معنوی، دینی اور دنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دارامام ہوتا ہے۔امام اللہ کے علم کا مرکز اور ظرف ہوتاہے۔
تمام فضائل سے آراستہ اور اخلاقی بلند درجات پر فائز ہوتا ہے۔
دینی بنیاد پر انسانی معاشرہ کو صحیح طریقہ پر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ظاہر ہے کہ مذکورہ صفات کے پیش نظر امام کا انتخاب عوام الناس کے بس سے باہر ہے، صرف خداوند عالم ہی اپنے لامحدود علم کی بنیاد پر پیغمبر اکرم (دُنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔) کے جانشین کا انتخاب کر سکتا ہے، لہٰذا امام کی اہم خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت ”خداوند عالم کی طرف سے منسوب ہونا“ ہے۔
قارئین کرام! ان خصوصیات کی اہمیت کے پیش نظر ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ وضاحت کرتے ہیں:
علمِ امام
امام (جس پر لوگوں کی ہدایت اور رہبری کی ذمہ داری ہوتی ہے) کے لئے ضروری ہے کہ دین کے تمام پہلوﺅں کو پہچانتا ہوں، اور اس کے قوانین اور تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہی رکھتا ہو، نیز قرآن کریم کی تفسیر کو جانتے ہوئے سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) پر بھی مکمل احاطہ رکھتا ہو تاکہ الٰہی معارف اور دینی تعلیمات کو واضح طور پر بیان کرسکے اور عوام کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کاجواب دے سکے، اور ان کی بہترین طریقہ سے رہنمائی کرے ،ظاہر ہے کہ ایک ایسی ہی علمی شخصیت پر لوگوں کا اعتماد ہو سکتا ہے، اور ایسی علمی پشت پناہی صرف خداوند عالم کے لامحدود عالم سے متصل ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے ، اسی وجہ سے شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے جانشین کا علم خدا کے لامحدود علم سے اخذ ہوتا ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام کسی سے علم نہیں لیتے، ہر امام اپنے سے پہلے امام سے علم لیتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ حضرت علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور انہوں نے سارا علم رسول اللہ سے لیا ہے اور اس کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے براہ راست ہر امام کو اس کے اپنے زمانہ کے علم میں اضافہ ہوتاہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام، امام برحق کی نشانیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
”امام، حلال خدا، حرام خدا اوران کے متعلق احکام خدا کے امر و نہی اور لوگوں کی ضروریات کے بارے سب سے زیادہ جاننے والا ہوتا ہے“۔(میزان الحکمة، ج۱، ح ۱۶۷)
عصمت امام
امام کی اہم صفات اور امامت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ”عصمت“ ہے اور وہ ایک ایسی راسخ حالت یا طبیعت ہے کہ جو حقائق کے علم اور مضبوط ارادہ سے وجود میں آتی ہے اور چونکہ امام میں یہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں تو وہ ہر گناہ اور خطا سے محفوظ رہتا ہے، امام بھی دینی معارف اور تعلیمات کی پہچان اور ان کے بیان کرنے نیز ان پر عمل کرنے اور اسلامی معاشرہ میں اچھائیوں اور برائیوں کی تشخیص اور پہچان کی بنا پر خطا و لغزش سے محفوظ رہتا ہے۔اسی بنیاد پر آپ کی اطاعت کو دوسروں پر واجب قرار دیا گیاہے۔
امام کی عصمت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت اور عقل سے بہت سے دلائل پیش کئے گئے ہیں، ان میں سے کچھ اہم دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
الف: دین اور دینداری کی حفاظت امام کی عصمت پر موقوف ہے، کیوکہ امام پر دین کو تحریف سے محفوظ رکھنے اور دین کے بارے ہدایت دینے کی ذمہ داری ہوتی ہے نیز امام کا کلام، ان کی رفتار اور ان کا کردار اور دوسرے شخص کے عمل کی تائید یا تائید نہ کرنا معاشرہ کے لئے اہم اثرات کے حامل ہوتے ہیں، لہٰذا امام کو فہم دین اور اس پر عمل کرنے میں ہر لغزش و خطا سے محفوظ ہونا چاہیے تاکہ اپنے ماننے والوں کو صحیح طریقہ سے ہدایت کر سکے اورلوگوں کو اطمینان کامل سے ان کی پیروی کرنے میں خدا کی رضا سمجھیں۔
ب: معاشرہ کو امام کی ضرورت کی ایک دلیل یہ ہے کہ عوام دینی شناخت، دینی احکام اور شرعی قوانین کے نافذ کرنے میں خطا و غلطی سے محفوظ نہیں ہیں اور اگر ان کا رہبر اور ہادی بھی اسی طرح ہو تو پھر امام پر کس طرح سے مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے!؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ اگر امام معصوم نہ ہو تو عوام اس کی پیروی اور اس کے حکم پر عمل کرنے میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
امام کی عصمت پر قرآن کریم کی آیات بھی دلالت کرتی ہیں جن میں سورہ بقرہ کی ۴۲۱ ویں آیت ہے، اس آیہ شریفہ میں بیان ہوا ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت عطا کرنے کے بعد امامت کے بلند درجہ پر فائز فرمایا ہے، اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند عالم کی بارگاہ میں درخواست کی کہ یہ مقام امامت میری نسل میں بھی قرار دے، تو خداوند عالم نے فرمایا: ” یہ میرا عہدہ (امامت) ظالموں اور ستمگروں تک نہیں پہنچ سکتا“، یعنی منصب امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں ان حضرات تک پہنچے گا جو ظالم نہ ہوں گے۔
حالانکہ قرآن کریم نے خداوند عالم کے ساتھ شرک کو عظیم ظلم قرار دیا ہے، اور حکم خدا سے اپنے نفس پر تجاوز کوکبھی ظلم سے شمار کیا ہے (جو کہ گناہ ہے)، یعنی جو شخص اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو وہ ظالم ہے اور وہ مقام امامت کے لئے شائستہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے ”امامت“ کو اپنی ذریت اور نسل میں سے ان لوگوں کے لئے نہیں مانگا تھا جن کی پوری عمر گناہوں میں گزرے یا پہلے نیک ہوں لیکن بعد میں بدکار ہو جائیں، اس بنا پر صرف دو قسم کے افراد باقی رہتے ہیں:
۱۔ جو لوگ شروع میں گناہگار تھے لیکن بعد میں توبہ کرکے نیک ہو گئے۔
۲۔ جن افراد نے اپنی پوری زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو۔
خداوند عالم نے اپنے کلام میں پہلی قسم کو الگ کر دیا، (یعنی پہلے گروہ کو امامت نہیں ملے گی)، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مقام ”امامت“ صرف دوسرے گروہ سے مخصوص ہے،(یعنی جن افراد نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو)۔
امام ہی انسانی معاشرہ کا حاکم ہے
چونکہ انسان ایک سماجی شخصیت کا حامل ہے اور معاشرہ اس کے دل و جان اور رفتار و گفتار میں بہت زیادہ اثرات ڈالتا ہے، اس کی صحیح تربیت اور قربِ الٰہی کی طرف بڑھنے کے لئے اجتماعی راستہ ہموار ہونا چاہیے اور یہ چیز الٰہی اور دینی حکومت کے زیرِ سایہ ہی ممکن ہو سکتی ہے، لہٰذا لوگوں کا ہادی اور رہبر معاشرہ کے نظام کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کا سہارا لیتے ہوئے بہترین طریقہ سے اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالے۔
امام اخلاقی کمالات سے آراستہ ہوتا ہے
امام چونکہ معاشرہ کا ہادی اور رہبر ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ تمام برائیوں اور اخلاقی پستیوں سے پاک ہو اور اخلاقی کمالات کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو، کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کے لئے انسان کامل کا بہترین نمونہ شمار ہوتا ہے۔
حضرت امام رضا علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:”امام کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں: (۱) وہ سب سے زیادہ عالم، (۲) سب سے زیادہ متقی اورپرہیز گار، (۳) سب سے زیادہ حلیم، (۴)سب سے زیادہ شجاع، (۵) سب سے زیادہ سخی، (۶) سب سے زیادہ عبادت کرنے والا ہوتا ہے۔ ( معانی الاخبار، ج۴، ص ۲۰۱)
اس علاوہ امام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین ہوتا ہے لہٰذا وہ انسانوں کی تعلیم و تربیت کی ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، لہٰذا اسے دیگر لوگوں سے زیادہ الٰہی اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص (حکم خدا سے) خود کو لوگوں کا امام قرار دے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے خود اپنی تعلیم کےلئے کوشش کرے اور اپنی رفتار و کردار سے دوسروں کی تربیت کرے، قبل اس کے کہ اپنے کلام سے تربیت کرے“۔ ( میزان الحکمة، باب ۷۴۱، ح ۰۵۸)
یہ تو عام راہنماﺅں کی بات ہے اور جو رسول اللہ کے جانشین ہیں اور ہدایت کا مرکزہیں وہ کس طرح اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں بچپن سے لے کر آخر عمر تک خطا کار ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے جو ہدایت کے لئے متعین ہوتے ہیں تو خدا کی طرف سے ان کی عصمت و پاکیزگی اور طہارت کی ضمانت ہوتی ہے۔
امام کو خدا کی طرف سے منسوب ہونا چاہیے
شیعہ نقطہ نگاہ سے امام اور جانشین پیغمبر صرف حکم خدا اور اسی کے انتخاب سے معین ہوتا ہے اور پیغمبر حکم خدا کی بنا پر امام کا تعارف کرواتا ہے، لہٰذا کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ اس مسئلہ میں دخالت کا حق نہیں رکھتا۔
امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے کی ضرورت پر متعدد دلائل ہیں، مثلاً:
الف: قرآن کریم کے فرمان کے مطابق خداوند عالم تمام چیزوں پر حاکم مطلق ہے اور سب پر اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ظاہر ہے کہ یہ حاکمیت خدوند عالم کی طرف سے (صلاحیت اور شائستگی رکھنے والے) کسی بھی شخص کو عطا ہو سکتی ہے، لہٰذا جس طرح نبی اور پیغمبر خدا کی طرف سے منتخب ہوتا ہے، اسی طرح امام کو بھی خدا متعین کرتا ہے اور وہ لوگوں پر ولایت رکھتا ہے۔یعنی لوگوں کا سرپرست و ولی ہوتاہے۔
ب: اس سے پہلے امام کے لئے کچھ خاص خصوصیات بیان کی گئی ہیں جیسے عصمت، علم وغیرہ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان صفات کے حامل شخص کی شناخت اور پہچان صرف خداوند عالم ہی کرا سکتا ہے کیونکہ وہی انسان کے ظاہر و باطن سے آگاہ ہے، جیسا کہ خدوندا عالم قرآن میں جناب ابراہیم علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”ہم نے تم کو لوگوں کا امام قرار دیا“۔
جامع اور رساتر کلام
گفتگو کے اس آخری حصہ میں ضروری ہے کہ امام ہشتم حضرت علی رضا علیہ السلام کے عظیم کلام کا کچھ حصہ بیان کر دیںجس میں آپ نے امام کی خصوصیات بیان فرمائیں ہیں:
”(جنہوں نے امامت کے مسئلہ میں اختلاف کیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ امامت ایک انتخابی مسئلہ ہے) ان لوگوں نے جہالت کا ثبوت دیا.... کیا عوام الناس اُمت کے درمیان امامت کے مقام و منزلت کو جانتے ہیں تاکہ وہ مل بیٹھ کر امام کا انتخاب کرلیں؟! بے شک امامت کی قدر و منزلت اتنی بلند و بالا، اس کی شان اتنی عظیم المرتبہ، اس کا مقام اتنا عالی، اس کا رتبہ اتنا بلند و رفیع اور اس کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کی عقل کی رسائی اس تک نہیں اور نہ ہی وہ یا اپنی رائے کے ذریعہ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔
بے شک امام کی امامت وہ مقام ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت و خلت عطا کرنے کے بعد تیسرے مرتبہ میں مقام امامت عطا کیا ہے.... امامت، خلافت خدا اور رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، مقام امیر المومنین علیہ السلام اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام کی میراث ہے، واقعاً امامت دین کی باگ ڈور، نظام مسلمین کی بنیاد اور مومنین کی عزت اور دنیا کی خیر و بھلائی کا سبب ہے........ نماز، روزہ، حج، جہاد کے کامل ہونے کا سبب ہے، نیز امام کے ذریعہ (اس کی ولایت کے قبول کرنے کی صورت میں) سرحدوں کی حفاظت ہے۔
امام، حلالِ خدا کو حلال اور حرام ِ خداکو حرام کرتا ہے (اور خداوند عالم کے حقیقی حکم کے مطابق عمل کرتا ہے)، حدود الٰہی قائم کرتا ہے، خدا کے دین کی حمایت کرتا ہے اور حکمت و موعظہ نیز بہترین دلیل کے ذریعہ خدا کی طرف لوگوں کودعوت دیتا ہے۔
امام آفتاب کی طرح طلوع ہوتا ہے جس کا نور پوری دُنیا کو منور کر دیتا ہے اور وہ خود اُفق میں اس طرح سے ہے کہ اس تک ہاتھ اور آنکھوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، امام چمکتا ہوا چاند، روشن چرغ، نور درخشان اور بھرپور اندھیروں، نیز شہروں جنگلوں اور دریاﺅں کے راستہ میں راہنمائی کرنے والا ستارہ ہے (اور فتنہ فساد) اور جہالت سے نجات دینے والا ہے............
امام، مونس ساتھی، مہربان باپ، حقیقی بھائی، اپنے چھوٹے بچوں کی نسبت نیک و مہربان ماں اور بڑی بڑی مصیبتوں میں لوگوں کے لئے پناہ گاہ ہے۔ امام، گناہوں اور برائیوں سے پاک کرنے والا ہے، وہ مخصوص بردباری اور حلم کی نشانی رکھتا ہے .... امام اپنے زمانہ کا واحد شخص ہوتا ہے اور ایسا شخص ہوتا ہے جس (کی عظمت)سے کوئی قریب نہیں بھٹک سکتا، اور کوئی بھی دانشور اس کی برابری نہیں کر سکتا، نہ کوئی اس کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی اسکا مثل و نظر مل سکتا ہے........
لہٰذا امام کی شناخت اور پہچان کون کر سکتا ہے،یا کون امام کا انتخاب کر سکتا ہے، ھیھات ھیھات! یہاں پر عقل و خرد حیران ہو جاتی ہے، (یہاں پر) آنکھیں بے نور، بڑے چھوٹے حکماءانگشت بدندان، اور خطباءعاجز ہو جاتے ہیں اور ان میں امام کے بافضیلت کاموں کی توصیف کرنے کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ سبھی اپنی عجز و ناتوانی کا اقرار کرتے ہیں!!........( اصول کافی، ج ۱، باب ۵۱، ص ۵۲۲)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اس بحث کے معارف کا بیان اور اس کی مختلف جہات کا تجزیہ ایک اہم کام اور ضروری امر ہے۔
حدیث، من مات........ کی طرف نظر عنایت کی صورت میں امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت واجب ہے۔
حدیث ثقلین کے معنی و مفہوم کے مطابق قرآن و عترت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان کا آپس میں جدا ہونا ناممکن ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں بعنوان ایک امام حی و حاضر کا عقیدہ ایک مستحکم اور ناقابل اشکال عقیدہ ہے۔
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کے متعلق شبہات پر توجہ ضروری ہے اور ان کا جواب آج کے دور کے مطابق دینا ہوگا۔
امامت کے حوالہ ے شیعہ و سنی نظریات میں اساسی فرق یہ ہے کہ شیعہ عقائد میں امامت ایک الٰہی منصب ہے جو اصول دین کا جز ہے جبکہ اہل سنت امامت کو ایک دُنیاوی منصب سمجھتے ہیں کہ جس کا اختیار لوگوں کے پاس ہے۔
امام علیہ السلام علم وعصمت اور حاکمیت کے کمالات اور دیگر عالی انسانی صفات سے آراستہ ہوتاہے۔
درس کے سوالات
۱۔ موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟
۲۔ کیاامامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟واضح کریں؟
۳۔ انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟
۴۔ مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟
۵۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟
ة....ة....ة....ة....ة
پہلا سوال: موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟
جواب: مہدویت پر بحث کی ضرورت اور اہمیت کے مختلف پہلو یہ ہیں: اول، یہ کہ امام مہدی (عج) کا موضوع امامت کے بنیادی مسئلہ سے وابستہ ہے، جو شیعوں کے عقائدی اصولوں میں سے ہے اور اس کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ دوم، امام مہدی (عج) بارہویں امام ہیں اور ان کی امامت پیغمبر اکرم (ص) کے دین کی حفاظت کے لئے اہم ہے۔ سوم، امام مہدی (عج) کی غیبت اور ان کے دور کے بارے میں سوالات اور شکوک و شبہات کی وجہ سے اس موضوع پر گہرائی سے بحث کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کی جا سکیں اور غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔
دوسرا سوال: کیا امامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟ واضح کریں؟
جواب: جی ہاں، امامت و خلافت کے بارے میں شیعہ اور سنی کے نظریات میں بنیادی اختلاف موجود ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، امامت ایک الٰہی منصب ہے جو خدا کی طرف سے معین کیا جاتا ہے اور امام کو خداوند عالم کی طرف سے خصوصی علم اور عصمت کی صفت سے نوازا جاتا ہے۔ دوسری طرف، اہل سنت کے نظریہ کے مطابق، امامت یا خلافت ایک دنیاوی منصب ہے جو مسلمانوں کی جانب سے انتخاب کیا جاتا ہے۔
تیسرا سوال: انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟
جواب: انسان کے لئے امام کی ضرورت اس بنیاد پر ہے کہ امام دینی ہدایت کا منبع ہوتا ہے، دین کی حقیقی تعلیمات کی حفاظت کرتا ہے، اور امت کو فتنوں اور اختلافات سے محفوظ رکھتا ہے۔ امام معاشرہ میں حقیقی اور کامل اخلاقی، دینی اور علمی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ امام کے بغیر دین کے غلط تعبیر ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے، جو کہ امت کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
چوتھا سوال: مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟
جواب: امام کے من جانب اللہ ہونے کی ضرورت اس بنیاد پر ہے کہ امامت ایک الٰہی منصب ہے جس کے لئے خاص صفات جیسے علم، عصمت، اور روحانی و اخلاقی کمال ضروری ہیں۔ ان صفات کا حامل صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جسے خدا نے مخ
۵۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟
جواب
**ملکہ عصمت کا سرچشمہ:**
عصمت کا سرچشمہ امام کا خدا سے خاص تعلق اور ان کی غیر معمولی روحانی و علمی صلاحیت ہے۔ امام کی عصمت، خداوند عالم کی طرف سے ایک خاص عنایت اور فضل ہے جو انہیں گناہ اور خطاؤں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ خصوصیت امام کو علم غیب اور وحی کے ذریعے دی جاتی ہے، جس سے وہ ہر طرح کے گناہ سے پاک رہتے ہیں اور دین کی حقیقی تعلیمات کو بغیر کسی تحریف کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
**امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل:**
1. **قرآنی دلیل:**
- **آیت طہارت (آیت 33 سورہ احزاب):**
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"۔
اس آیت میں خدا کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہل بیت کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک کرنا چاہتا ہے، جو عصمت کی ایک واضح نشانی ہے۔
2. **حدیثی دلیل:**
- **حدیث ثقلین:**
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ رہا ہوں: کتاب اللہ اور میری عترت، اہل بیت، اگر تم ان دونوں سے مضبوطی سے تمسک رکھوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔"
اس حدیث میں اماموں کی عصمت اور ان کے دینی معارف کی حفاظت کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
3. **عقلی دلیل:**
- عقلی طور پر، اگر امام عصمت نہ رکھتے تو وہ دین کی صحیح تعلیمات کو بغیر کسی غلطی کے لوگوں تک نہ پہنچا سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دین میں غلطی کا امکان موجود ہوتا، جو کہ خدا کے پاک و مکمل دین کے لیے نامناسب ہے۔
4. **روایتی دلیل:**
- متعدد احادیث اور روایات میں اماموں کی فضیلتیں اور خصوصیات، جیسے کہ ان کی علمیت، تقویٰ، اور عصمت، کو واضح کیا گیا ہے، جو کہ ان کی عصمت کو ثابت کرتے ہیں۔
یہ دلائل اماموں کی عصمت کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام کسی بھی قسم کے گناہ اور خطا سے محفوظ ہوتے ہیں، اور ان کی زندگی اور تعلیمات دین کی حقیقی اور صحیح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
معرفت امام
معرفت امام
مہدویت پر بحث کرنے کی ضرورت
“موعود ” یا “مصلح کل” کا موضوع ایک ایسا نظریہ اور خیا ل نہیں ہے کہ جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا ہو اور یہ ایسا موضوع ہو کہ جو انسانیت کے دردوں کی تسکین اور مظلوموں کی دلداری کا ذریعہ ہوبلکہ یہ موضوع شیعیت کی شناخت ہے۔کہ جس کی ضرورت اور اہمیت کو آیات و روایات کی روشنی میں درک کیا جا سکتا ہے۔
زیر نظر تحریر میں، بطور اختصارمہدویت کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں:
۱۔ اعتقادی پہلو
عقیدہ زندگی کی اصل اساس ہے یعنی انسان میدان عمل میں جو کچھ بھی انجام دیتا ہے اس کی بنیاد اس کے عقائد ہوتے ہیں۔
بنابراین اگر انسان کا عقیدہ صحیح اور مستحکم ہو تو انسان عملی میدان میں لغزش اور شک و شبہ کا شکار نہیں ہوگا۔ وہ اہم ترین چیز ہے کہ جو ایک صحیح عقیدے کو تشکیل دیتی ہے وہ معرفت ہے۔
معرفت حاصل کر کے ہی ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ہی آئمہ ھدیٰ کی امامت کو دوام دینے والی شخصیت ہیں۔ آپ فیض الہٰی کے (بندوں تک پہنچنے کے لئے) واسطہ، خاتم اوصیاءاور مظہر صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ ہیں۔
امام زمانہ علیہ السلام خالق کائنات کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ ہیں جیسا کہ احادیث میں خداوند متعال اور اس کے اوصاف کی معرفت کا ذریعہ اور وسیلہ، اولیائے خدا اور آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی شناخت کوقراردیا گیا ہے۔ یہ ہستیاں مظہر اسمائے الہٰی ہیں اور ان ذوات مقدسہ کی صحیح معرفت ہی خدا کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ قرار پاتی ہے۔
شیعہ اور سنی راویوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے : ” مَن مَاتَ و َ لَم یَعرِفۡ اِماَمَ زَماَنَہِ ماَتَ مِیتةً جاَھَلیة ” [1]
(جو شخص اس حال میں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت ( شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کی موت مرا)
بعض دعاﺅں میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ معرفت امام کی توفیق طلب کریں:
“اَلَّھُمَّ عَرِّفۡنِی حُجَّتَکَ فَا نَّکَ اِن لَّم تُعَرِّ فۡنیِ حُجَّتَک ضَلَلۡتُ عَنۡ دِیِنی ” [2]
“خداوندا! اپنی حجت کی معرفت عطا فرماکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاﺅں گا۔”
کیا اتنی(روایات )کی مو جودگی کے باوجود، امام زمانہ علیہ السلامکی شناخت کااہتمام نہیں کرنا چاہیے؟ اور کیا حضرت ولی العصر علیہ السلام کے مقدس وجود کے مختلف پہلو ﺅں کو بہتر طریقے سے نہیں پہچاننا چاہیے؟
امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح اور درست شناخت سے کیسے غافل رہ سکتے ہیں جبکہ امام زمانہ علیہ السلام اپنے غیبت کے زمانہ میں بھی سب مخلوقات کو اپنے الہی فیض سے محروم نہیں رکھتے اور ہم سب امام زمانہ علیہ السلام کی امامت کے فیوضات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
۲۔ معاشرتی پہلو
جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے ایک سعادت مندمعاشرتی زندگی کی آرزو کر رہا ہے۔ اگر اس خواہش کے برآوردہ ہونے کا امکا ن نہ ہوتاتو ہرگز ایسی خواہش ، آرزو اور امید انسان کی فطرت میں قرار نہ دی جاتی جیسے کہ اگر پانی اور غذا نہ ہوتی تو پیاس اور بھوک بھی نہ ہوتی۔
“مہدویت” ایک ایسی فکر ہے کہ جوبہت سے معاشرتی اثرات رکھتی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اثر، معاشرے کے پیکر سے مایوسی اور نا امیدی کا خاتمہ ہے مہدویت یعنی روشن مستقبل کی امید اور مظلوم اور بے سہارابشریت کے لئے آزادی کا پیغام اور یہ کہ ایک دن ایک مردخدا آئے گا اورلوگ جس چیز کی امید رکھتے ہیں وہ انجام پذیر ہو کر رہے گی۔
ہر مسلمان کا اس چیز پرپختہ یقین ہے کہ جو معاشرتی نظام،اس کی جائز خواہشات و آرزوﺅں کی تکمیل کر سکتا ہے اور جو اس معاشرتی نظام کو حق وعدالت کی بنیا د پر استوار کرسکتا ہے وہ اسلام کاوہ خوبصورت”حکومتی نظام” ہے۔جس کی کامل و مکمل شکل اما م زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت تشکیل پائے گی۔اوراس بات پر یقین امید، نشاط اورزندگی کے مساوی ہے۔
یہ فکر اتنی واضح و روشن ہے کہ حتٰی کہ بعض مستشرقین (جیسے جرمن فلسفی ماربین) نے بھی اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ”انتہائی اہم معاشرتی مسائل میں سے ایک مسئلہ جو امید (نجات) کا موجب ہو سکتا ہے وہ حضرت حجت ولی العصر علیہ السلام کے وجود پر اعتقاد رکھنا اور ان کے ظہور کا انتظار ہے”۔
بناءبر ایں،مہدی موعود علیہ السلام کے مقدس وجود پرعقیدہ رکھنا، (انسانوں کے) دلوں کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے ، جو انسان اس “اصل”پرعقیدہ رکھتاہے وہ نا امید (اور مایوس) نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن اختتام حتمی ہے۔لہٰذاکوشش کرتاہے کہ خود کو اس (روشن اختتام )تک پہنچائے [3]اور یہی نظریہ اس کی مسلسل حرکت کا سبب بنتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرروشن اختتام کو حقیقی شکل دینے کی را ہ میں جدوجہد کرتے ہوئے سختیوں و ناخوشگوار حوادث و واقعات کے سامنے شکست تسلیم نہیں کرتا ۔اس کا یہی عمل ” مہدویت” پر اعتقاد کے زیر اثر، بشریت کے لئے حاصل ہونے والا سب سے بڑا معاشرتی تخفہ ہے۔
سیاسی پہلو
عالمی سطح پر تاریخ ہمیشہ مختلف حکومتوں اور نظاموں کی شکست کی شاہد رہی ہے۔ عرصہ دراز تک دو غالب نظریات (کیپٹلزم،مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے نمائندہ کے طور پراور کیمونزم،سوشلزم کے نمائندہ کے طورپر ) نے ایٹمی اور غیر ایٹمی اسلحے کے ذریعے دنیاکےلئے خطرہ بنے رہے اور یہی ان کے نظریات اور نظاموں کی شکست کی واضح ترین دلیل ہے۔
ان نظریات نے عرصہ دراز تک معاصر عالمی سیاسی تفکر کو متاثر کئے رکھا لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایک شکست سے دوچار ہوا اور دوسرا (نظام یعنی سوشیالزم) شکست کے دہانے پہ ہے،مغربی لبرل ڈیموکریسی کودرپیش چیلنج کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ( لبرل ڈیموکریسی) میں اخلاقی ، نفسیاتی، ٹیکنالوجی اور علمی (معرفتی ) بحرانوں کی بہتات اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہنشاہیت اور نظام ایک سنگین شکست سے دوچار ہو نے والا ہے۔
ایسے حالا ت میں ناکامیوں،کھوکھلے نعروں اور امن و سلامتی کے سراب دیکھ کر تھکے ماندہ انسانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
آج کی بشریت عالمی سیاست میں نظر ثانی اور جدت کی پیاسی ہے۔ در حقیقت آج کا انسان شدید تشنگی محسوس کر رہا ہے او راس کو صرف “مدینہ فاضلہ” مہدوی کا نظام و منصوبہ ہی سیراب کر سکتا ہے۔
نظریہ مہدویت ایک عالمی نظریہ ہے اور یہ نظریہ دنیا کو چلانے کا ایک پروگرام اور منصوبہ رکھتا ہے۔بناءبر ایں جو نظام اور پروگرام معاصر بشریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ “مہدویت” یہی فکرہے۔ اور مہدویت کے حکومت کے بارے میں بلند ترین اور قیمتی اہداف و مقاصد ہیں، حتٰی کہ یہ فکر مہدویت، دینی حکومت (کے قیام) کے لئے ایک مفید اور قابل عمل منصوبہ بندی قرار پا سکتی ہے۔
اگر (نظریہ) مہدویت صحیح اندازمیں بیان ہوجائے تو دنیا بھر میں اصلاحی تحریکوں میں جان پڑ جائے گی۔ جس طرح کہ انقلاب اسلامی ایران ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب کے لئے مناسب پیش خیمہ اور نقطہ آغاز بن چکا ہے۔
تاریخی پہلو
مہدویت کاسلسلہ امامت اور نبوت کے تسلسل کا نام ہے۔ اس وجہ سے تاریخ کے ایک حساس دور میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ اور آج تک جاری و ساری ہے اور مہدویت کا یہ سلسلہ بشریت کی دنیوی زندگی کے اختتام تک باقی رہے گا۔ بناءبر ایں، امام علی علیہ السلامسے لے کر امام ولی عصر علیہ السلام تک (ان آئمہ کی) امامت کی کیفیت کے بارے میں بالعموم اور مہدویت کے بارے میں بالخصوص مسلمانوں کا رد عمل اور نیز اس سے پیش آنے والے تاریخی حوادث، تاریخ اسلام کے اہم اور حساس موضوعات قرار دئیے جا سکتے ہیں۔
مہدویت کے موضوع پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور شیعہ، سنی رورایات میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کثرت سے بشارتیں ذکر ہوئی ہیں۔تاریخ اسلام میں ہمیشہ امام مہدی موعود علیہ السلام کے عقیدے پر جہت سے آثارمرتب ہوئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی اور حال میں بہت سی اصلاحی تحریکیں، نظریہ مہدویت سے متاثر تھیں( جیسے مصر میں فاطمیوں کی تحریک اور سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک ) ، (مہدی) موعود علیہ السلام پر عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلامی معاشرے پر جو عجیب اثرات چھوڑے انہیں دیکھ کر کچھ حیلہ بازوں نے بھی لفظ مہدی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط اہداف تکہ پہنچنے کے لئے مہدویت کا دعویٰ کیا اورمسلم معاشروں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔
ثقافتی پہلو
ہم مسلمانوں کی (جملہ) ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ مہدویت کے کلچر کو پھیلانے کے لئے زمین ہموار کر کے آنحضرت علیہ السلام کے ظہور میں (مزید) تاخیر کو روکیں۔ مہدویت کے ثقافتی پہلو کے اعتبار سے چند نکا ت پر کام کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ انتظار کی پالیسی کو واضح کرنا
انتظار کی پالیسی کا مطلب ہے وسعت نظر اورامام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے تمام وسائل اور توانائیوں کو کام میں لانا۔ امام کا ظہور فقط اسی وقت ہوگا جب ہم جمود کی حالت سے نکل کر اپنے آپ کو ایک فعال اور متحرک پروگرام کے تحت منظم کرلیں اور اپنے مشن تک پہنچنے کے لئے توانائیاں بروئے کار لائیں اور نظر ہماری مستقبل پر ہونا چاہئے۔
کیونکہ جب تک مستقبل روشن اور واضح نہ ہو اس وقت تک صحیح منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔
۲۔ غلط افکار کی پہچان
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اوران کا ازالہ کریں ۔ مثال کے طور پر امام زمانہ علیہ السلام کی بحث میں افراطی رنگ نہ دیں۔ اسی طرح فقط امام کا قہر وغضب کا چہرہ لوگوں کے سامنے نہ رکھیں بلکہ امام کے اسوہ رحمت اور بے پناہ بخشش کو بھی پیش کریں۔ اسی طرح ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ انتظار کا مفہوم تحریف کا شکار نہ ہو جائے۔ اور معاشرے میں ظلم وستم کے بڑھنے پر بھی سکوت اختیار نہ کریں کہ غلط افکار معاشرے پر حکم فرما ہوں۔
۳ ۔ دشمن شناسی
اسلام دشمن معاشرے میں مہدویت کی تعلیم کے رشد کو روکنے یا تحریف کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں اوردشمن کوتو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اگر دشمن ایسا نہ کرے تو تعجب کرنا چاہیے۔ چونکہ دشمن کی ماہیت ہی یہی ہے۔پس اہل حق کو کوشش کر نی چاہیے کہ مہدویت کی ابحاث کو صحیح انداز میں پیش کریں تاکہ ہر قسم کی تخریب و تحریف کو روکا جا سکے۔
پیشکش:علی اصغر سیفی
مقدمہ
جیسا کہ ہم کہ جانتے ہیں کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان موضوع امامت کے تحت صرف تین مسئلوں میں اختلاف ہے
١۔ پہلے یہ کہ امام کا تعین و انتخاب، خدا کی جانب سے ہو۔
٢۔ دوسرے یہ کہ امام ملکۂ عصمت سے آراستہ ہو۔
٣۔ تیسرے یہ کہ علم لدنی کا مالک ہو،
عصمت امام ۔
منصب امامت کا الٰہی ہونا اور حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا خدا کی جانب سے منصب امامت پر فائز ہونے کے اثبات کے بعد ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کو اِس آیت کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
'' لَا ینالُ عَہدِ الظَالِمِینَ''(١)
یعنی منصب امام صرف انھیں حضرات کے لئے سزاوار ہے جو گناہوں سے آلودہ نہ ہوں۔
اس کے علاوہ آیہ ''اولوا الامر'' (٢)جو امام کی اطاعت کو مطلق قرار دیتی ہے اور امام کی اطاعت کو آنحضرت ۖ کی اطاعت کے مساوی قرار دیتی ہے، اُس کے ذریعہ بھی ائمہ علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں امام کی اطاعت کو اطاعت خدا کے خلاف قرار نہیں د یا جا سکتا لہٰذا او لوالامر یعنی امام کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
اسی طرح ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کوآ یہ تطہیر سے بھی ان کا معصوم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے:
( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذہِبَ عَنکُمُ الرِجسَ اَہلَ البَیتِ وَ یُطَہِّرَ کُم تَطہِیراً)(٣)
اے اھل بیت !(رسول) خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی ) برائی سے دوررکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ایسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔
بندوں کی تطہیر کا ارادۂ تشریعی، کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کے سلسلہ میں خدا کا ارادہ، ارادۂ تکوینی ہے کہ جس میں اراد کا ارادہ کرنے والے (خدا ) سے تخلف ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
( اِنَّمَا اَمرُہُ اِذَا اَرَادَ شَیٔاً اَن یَقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ).(٤)
پس تطہیر مطلق اور کسی بھی قسم کی نجاست اور پلیدی سے دورری عین عصمت ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانو ںمیں سے کوئی بھی فرقہ آنحضرت ۖ کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا قائل
………………………………………
(١) سورۂ بقرہ آیت ١٢٤.
(٢)سورہ نسا۔آیت٥٩
(٣) سورۂ احزاب آیت ٣٣
(٤) سورۂ یس ٨٢.
نہیں ہے فقط شیعہ فرقہ ہے جو حضرت زہراء علیہا السلام اور بارہ اماموں کی عصمت کا قائل ہے۔( ١)
اس مقام پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ اس آیت کے سلسلہ میں وہ روایتیں جو نقل ہوئیں ہیں، ان میں سے اکثر کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اِس بات پردلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت ،خمسہ طیبہ کے سلسلہ میںنازل ہوئی ہے۔(٢)
شیخ صدو ق حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول خدا ۖ فرما یا: اے علی! یہ آیت تمہارے اور حسن و حسین علیہم السلام اور تمہار ی نسل سے ہونے والے اماموں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ،میں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے تو آپ ۖ نے فرمایا: اے علی! تم ہوگے پھر حسن اور پھر حسین اور حسین کے بعد علی بن الحسین اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد جعفر بن محمد اس کے بعد موسیٰ بن جعفر اس کے بعد علی بن موسیٰ اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد علی بن محمد اس کے بعد حسن بن علی اور پھر حسن کے فرزند حجت خدا امام ہوں گے۔
اس کے بعد فرمایا: کہ یہ اسماء اسی ترتیب سے ساحت عرش پر لکھے ہوئے ہیں، اور جب میں نے ان اسماء کو دیکھا تو خدا سے سوال کیا کہ یہ اسماء کس کے ہیں! تو خدا نے فرمایا:اے محمد ۖ یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں کہ جنھیں پاک قراردیا گیا ہے اور وہ معصوم ہیں نیز ان کے دشمنوں پر بے شمار لعنت کی گئی ہے۔(٣)
ان آیتوں کے علاوہ حدیث ثقلین جس میں آنحضرت ۖ نے ائمہ ا طہار علیہم السلام کو قرآن کے مساوی قرار دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ دونوں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت پر ایک روشن دلیل ہے، اس لئے کہ ایک معمولی خطا کا بھولے سے بھی سرزد ہوجانا قرآن عملی مفارقت کا سبب ہوگا۔
………………………………………………
(١) مزید وضاحت کے لے تفسیر المیزان اور کتاب ''الامامة والولایة فی القرآن''. کی طرف رجوع کیا جائے
(٢) غایة المرام ص ۔٢٨٧ ٢٩٣.
(٣) غایة المرام (ط قدیم) ۔ج،٦۔ ص ٢٩٣
علم امام۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ ا طہار علیہم السلام لوگوں کے مقابلہ میں علمی اعتبار سے بہت بلند مقامات کے حامل تھے جیسا کہ نحضرت ۖ نے فرمایا:
(لَا تُعَلِّمُوہُم فَاِنَّہُم اَعلَمُ مِنکُم)
انھیں تعلیم نہ دو اس لئے کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ جاننے والے ہیں(١)
مخصوصاً حضرت علی علیہ السلام جو بچپنے سے رسول اللہ ۖ کے سائے میں رہے اور آپ ۖ کی آخری سانسوں تک آپ کے علوم سے مستفید ہوتے رہے، جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے خود فرمایا:
( اَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِّ بَابُہَا) (٢)
میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔
اس کے علاوہ خود امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
( اِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ۖ عَلَّمَن اَلفَ بَابٍ وَ کُلُّ بَابٍ یَفتَحُ اَلفَ بَابٍ فَذَلِکَ
اَلفَ اَلفَ بَاب حَتَّی عَلِمتُ مَاکَانَ وَ مَایَکُونُ اِلی یَومِ القِیَامَةِ وَ عَلِمتُ عِلمَ المَنایا وَ البَلایا وَ فَصلَ الخِطابِ)(٣)
………………………
(١) غایة المرام ۔ص،٢٦٥ اصول کافی۔ ج ١' ص٢٩٤
(٢)مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ٢٢٦قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ ایک سنی عالم نے ایک کتاب بنام
''فتح الملک العلی بصحة حدیث مدینة العلم علی'' نے لکھی جو ١٣٥٤ میں قاہرہ میں چھپی ہے
(٣) ینابیع المودہ۔ ص٨٨ اصول کافی ۔ج ١ ص،٢٩٦
یعنی رسول اللہ ۖ نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار ہزار باب کھولے جو مجموعاً ہزار ہزار باب (دس لاکھ باب ) ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اُن سب سے میںباخبرہوگیا ، اموات و آفات کے اسرار کا میں عالم اور 'عدل کے ساتھ حکم کرنا'' کا مالک ہوں۔
لیکن علوم آ ل محمد ۖ صرف اُن علوم پر منحصر نہیں ہے کہ جسے واسطہ کے ساتھ یا واسطہ کے بغیر انھوں نے آنحضرت ۖ سے حاصل کیا ،بلکہ ائمہ اطہار علیہ السلام غیر عادی علوم سے بھی سرفراز تھے جس سے بصورتِ الہٰام باخبر ہوجاتے تھے(١) بالکل اسی طرح کہ جیسے جناب خضر، جناب ذوالقرنین، (٢)حضرت مریم اورجناب موسیٰ کی والدہ پر افاضہ ہوا کرتا تھا(٣) جن میں سے بعض کو قرآن نے وحی سے تعبیر کیا ہے لیکن یہاں وحی سے مراد وحی نبوت نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض ائمہ علیہم السلام بچپنے میں مقام امامت پر فائز اور دوسروں سے تعلیم حاصل کرنے سے بے نیاز ہوتے تھے۔
یہ مطلب ان روایتوں کے ذریعہ ثابت ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئیں ہیں جن کی حجیت آپ لوگوں کی عصمت سے ثابت ہے، لیکن ان میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کرنے سے پہلے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ضروری ہے جس میں بعض افراد کو'ومن عندہ علم الکتاب' (٤) کے عنوان سے آنحضرت ۖ کی حقانیت پر بہ طور شاھد پیش کیا گیا ہے، اور وہ آیت یہ ہے
( قُل کَفَی بِاللّہِ شَہِیداً بَینِ وَ بَینَکُم وَمَن عِندَہُ عِلمُ الکِتَابِ)(٥)
آپ کہہ دیں کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان شہادت اور گواہی دینے کے لئے کافی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کافی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے۔
…………………………………
(١) اصول کافی۔ کتاب الحجہ۔ ٢٦٤ ٢٧٠
(٢)اصول کافی ۔ج ١، ص ٢٦٨
(٣) سورۂ کہف۔ ٦٥ ٩٨ آل عمران ۔٤٢، مریم ١٧' ٢١ طہ۔ ٣٨ قصص۔٧
(٤) سورۂ رعد۔ ٤٣
(٥)سورۂ رعد ۔٤٣
پس اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ شخص جس کی گواہی خدا کی گواہی کے برابر ہو، اور علم الکتاب سے آراستہ ہو ، وہ کمالات کے عظیم درجات پر فائز ہوگا ۔
ایک دوسری آیت میں اسی شاہد کی طرف اشارہ کیا ہے:
(َفَمَن کَانَ عَلی بَیِّنَةٍ مِن رَبِّہِ وَ یَتلُوہُ شَاہِد مِّنہُ)(١)
تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہو
اس آیت میں(مِنہُ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شاہد رسول اللہ ۖ کے خاندان اور آپ کے ا ہل بیت سے ہے، اہل تشیع و تسنن کی طرف سے نقل ہونے والی روایتوں کے مطابق اس شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
منجملہ ابن مغازلی شافعی نے عبد اللہ بن عطا سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ''عبد اللہ بن سلام ( آنحضرت ۖکے دور میں اہل کتاب کے بزرگ علماء میں سے تھے) کے فرزند ہمارے سامنے سے گذرے تو میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ومن عندہ علم الکتاب.سے مراد اس شخص کے والد ہیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا نہیں،بلکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور آیہ ''
(وَیَتلُوہُ شَاہِد مِنہ) اور آیہ (اِنَّما وَلِیُکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا) (٢)
(اے ایماندارو)تمارے مالک و سرپرست بس یہی ہیں ۔ خدا اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اسی طرح بہت سی روایتوں کے مطابق جو شیعہ اور سنی اسناد کے (٣) مطابق وارد ہوئی ہیں، سورۂ ہود میں ''شاہد'' سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں،
…………………………………
(١) سورۂ ہود۔ آیت/ ١٧
(٢) سورۂ مائدہ۔ آیت /٥٥
(٣)غایة المرام (ط قدیم) ٣٥٩.٣٦١
لہٰذا ''منہ'' سے مراد امام علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
علم الکتاب کے حامل ہونے کی اہمیت اُس وقت آشکار ہوگی کہ جب ہم جناب سلیمان علیہ السلام کے حضور میں تخت بلقیس کے حاضر کرنے کی داستان کا مطالعہ کریں:
( وَقَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِنَ الکِتَاب أَناَ آتِیکَ بِہِ قبَلَ ن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُکَ)( ١)
یعنی جس کے پاس کتاب کا ایک مختصر علم تھا اس نے کہا کہ میں تخت بلقیس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یہاں حاضر کروں گا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الکتاب کے ایک حصہ سے باخبر ہونا ایسے حیرت انگیز امورکا باعث ہے، پس تمام علم الکتاب سے متصف ہونا کیسے عظیم اثرات کیرونما ہونے کا سبب ہوسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے ''جناب سدیر'' سے نقل ہونے والی روایت میں فرمایا ہے، سدیر کہتے ہیں کہ میں،، ابو بصیر، یحییٰ بزاز اور دائود بن کثیر جو امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرت بڑے غضب کے عالم میں وارد مجلس ہوئے فرمایا: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیںکہ ہمارے پاس علم غیب ہے، حالانکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب سے واقف نہیں ہے میں اپنی کنیز کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ فرار ہوگئی جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حجرہ میں مخفی ہے۔(٢)
……………………
(١) سورۂ نمل۔آیت ٤٠
(٢) اس حدیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ باتیں نامحرموں سے کہی ہیں، اور یہ نکتہ معلوم رہے کہ وہ علم غیب جو خدا سے مخصوص ہے اس سے مراد وہ علم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے سائل کے سوال کے ( کیا آپ علم غیب کے مالک ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ '' انما ہم تعلم من ذی علم '' وگرنہ ا نبیاء اور اولیاء الٰہی وحی اور الہٰام کے ذریعہ علوم غیبی سے واقف تھے، مادر حضرت موسیٰ کے لئے خدا کی جانب سے الہٰام انھیں مقامات میں سے ایک ہے کہ جس کے لئے شک نہیں کیا جاسکتا ۔
'' انا رادہ الیک و جاعلوہ من المرسلین'''' قصص ٧٠''.
سدیر کہتے ہیں: جب امام علیہ السلام اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی ابو بصیر اور میسر کے ساتھ آنحضرت کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں میں نے حضرت علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم آپ پر قربان جائیں آپ نے جو کچھ اپنی کنیز کے سلسلہ میں فرمایا، اسے ہم نے تسلیم کیا اور ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ آپ بے شمار علوم کے مالک ہیں نیز کبھی بھی آپ کے سلسلہ میں علم غیب کا دعوی نہیں کرتے۔
ا مام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سدیر! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں،، تو آپ نے فرمایا کہ کیا اِس آیت کی تلاوت نہیں کی ہے:
(قَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِن الکِتَابِ اَنَا آتِیکَ بِہِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اَلِیکَ طَرفُکَ)
وہ شخص ( آصف بن برخیا ) جس کے پاس کتاب خدا کا کچھ علم تھا بولا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا ۔
تو میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ شخص کتاب میںسے کس قدر علم کا مالک تھا؟ تو میں نے کہا کہ آپ ہی فرمائیں، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک عظیم سمندر سے صرف ایک قطرہ کے برابر، اس کے بعد فرمایا کہ کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے؟ (قل کفی باللہ شہیداً بین و بینکم ومَن عندہ علم الکتاب)
میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بتائو وہ شخص افضل ہے جو تمام کتاب کے علم سے واقف ہے یا وہ شخص جو صرف کتاب کا ایک حصہ جانتا ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا خدا کی قسم تمام کتاب کا علم ہما رے پاس ہے(١) اب اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے علوم کو بیان کرنے والی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
………………………………
(١)اصول کافی۔ ج١ ص٢٥٧(طبع دار الکتب الاسلامیہ).
امام رضا علیہ السلام، امامت کے سلسلہ میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں : جب خدا کسی کو لوگوں کے لئے منتخب کرتا ہے تو اسے سعہ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری اور اُسے علم کی دولت سے آراستہ کردیتاہے تا کہ وہ سوالات کے جوابات دے سکے ،اور حق کو پہچاننے میں سرگردان نہ ہو، چنانچہ ایسا شخص معصوم، خدا کی طرف سے تائید شدہ اور خطائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔
در اصل خدا، اِس لئے اس کو یہ خصلتیں عطا کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں پر حجت تمام کر سکے لھذایہ ایک عطیہ ہے جسے خدا پسند کرتا ہے ا ُسے عطاء کرتا ہے
ا سکے بعد فرمایا کیا عوام میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے شخص کو پہچان کر اسے منتخب کرلیں، اور جب وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا وہ شخص ایسی صفات کا مالک ہوتا ہے ؟! (١)
حسن بن یحییٰ مدائنی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب امام سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح جواب دیتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے میں فرمایا: کبھی اُس پر الہٰام ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ سے سنتا ہے اور کبھی دونوں ایک ساتھ (٢) واقع ہوتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''وہ امام جسے معلوم نہ ہو کہ اس پر کیسی مصیبت آنے والی ہے اور اس کا انجام کیاہوگا تو وہ بندوں پر خدا کی حجت نہیں ہوسکتا۔(٣)
ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی امام کسی چیز کے متعلق جانناچاہتا ہے تو خدا اُس سے باخبر کردیتا ہے۔(٤)
…………………………
(١)اصول کافی۔ ج١ ص ١٩٨ ٢٠٣.
(٢)بحار الانوار ۔ج٢٦ ص٥٨.
(٣)اصول کافی ۔ج١ ص١٥٨.
(٤)اصول کافی ۔ج١ص ٢٥٨.
اسی طرح آپ کی جانب سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میںآیا ہے کہ روح، جبرئیل و میکائیل سے عظیم تر مخلوق ہے جو رسول اللہ ۖ کے پا س تھی، اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کی طرف منتقل ہوگئی جن سے ان کی مدد ہوتی ہے۔(١)
………………………………
(١) اصول کافی ج١ص ٢٧٣.
حدیث ثقلین رسول اللہ کی ایک مشہور اور متواتر حدیث ہے جو فرماتے ہیں: "میں تمھارے درمیان میں اللہ کی کتاب (یعنی قرآن) اور عترت یا اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ قرآن اور اہل بیت قیام قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے"۔
یہ حدیث تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ ہے اور شیعہ اور سنی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔
شیعہ اس حدیث کے سہارے لزوم امامت اور ائمہ کی عصمت اور تمام زمانوں میں امامت کے دوام اور تسلسل کا ثبوت دیتے ہیں۔
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت نامہ
دوسرا درس
دوسرا درس امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ایک نظر میں میں (کورس ون)
مقاصد:
امام مہدی علیہ السلام کا اجمالی تعارف
فوائد:
۱۔ حضرت کے نام، کنیت اور القاب سے آشنائی
۲۔ ولادت کے حالات
۳۔ حضرت مہدی علیہ السلام کے اوصاف حسنہ سے آگاہی
تعلیمی مطالب:
۱۔ مقدمہ:
(الف) امام زمانہ علیہ السلام کی والد گرامی کی شخصیت اور ان کی تاریخی پہلو سے ایک نگاہ
(ب) امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ اور جگہ
(ج) امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کے حالات
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کے اسماءمبارکہ، القاب اور کنیتیں
۳۔ امام زمانہ علیہ السلام کے شمائل اور اوصاف حسنہ
٭جسمانی اوصاف
٭رُوحانی اوصاف
۴۔ امام مہدی علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے ادوار (مخفی، غیبت اور ظہور کا دور)
امام مہدی (علیہ السلام) کی حیات طیبہ پر ایک نظر
شیعوں کے آخری امام اور رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بارہویں جانشین کی ولادت باسعادت ۵۱ شعبان ۵۵۲ھ (مطابق ۸۶۸ عیسوی) بروز جمعہ صبح کے وقت عراق کے شہر ”سامرہ“ میں ہوئی۔
آپ کے والدماجد شیعوں کے گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ جناب ”نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا “تھیں جن کی قومیت کے بارے میں مختلف روایات ہیں: ایک روایت کے مطابق جناب نرجس علیہ السلام خاتون بادشاہ روم کے بیٹے یشوع کی دختر گرامی تھیں اور ان کی مادر گرامی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے وصی جناب ”شمعون“ کی نسل سے تھیں۔ ایک روایت کے مطابق جناب نرجس علیہ السلامخاتون ایک تعجب خیز خواب کے نتیجہ میں مسلمان ہوئیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی ہدایت کی وجہ سے مسلمانوں سے جنگ والے رومی لشکر میں قرار پائیں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ لشکر اسلام کے ذریعہ اسیر کر لی گئیں اور امام علی نقی علیہ السلام نے کسی کو بھیجا تاکہ ان کو خرید کر سامرہ لے آئیں۔(کمال الدین، ج ۲، باب ۱۴، ص ۲۳۱)
اس سلسلہ میں دوسری روایات بھی منقول ہیں (بحارالانوار، ج ۵، ح۹۲، ص ۲۲، ح ۴۱، ص۱۱) لیکن اہم اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت نرجس علیہ السلام خاتون ایک مدت تک حکیمہ خاتون (امام نقی علیہ السلام کی ہمشیرہ) کے گھر میں رہیں اور اُنہوں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ہدایت پر آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور جناب حکیمہ خاتون ان کا بہت زیادہ احترام کیا کرتی تھیں۔
جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا وہ بی بی ہیں جن کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) (بحارالانوار، ج۰۵، ح۷، ص۱۲)، حضرت امیر المومنین علیہ السلام (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، ح۸۷۴، ص۰۷۴) اور حضرت امام صادق علیہ السلام (کمال الدین، ج۲، باب۳۳، ح۱۳، ص۱۲) نے مدح و ستائش کی ہے اور ان کو کنیزوں میں بہترین کنیز اور کنیزوں کی سردار قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حضرت امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کی مادر گرامی دوسرے ناموں سے بھی پکاری جاتی تھیں جیسے: سوسن، ریحانہ، ملیکہ اور صیقل (صقیل)۔
نام مبارک، کنیت اور القاب
حضرت امام زمانہ (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا نام اور کنیت ( کنیت ایسے نام کو کہا جاتا ہے جو ”اب“ یا ”ام“ سے شروع ہوتے ہیں جیسے : ابوعبد اﷲ اور اُم البنین) پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا نام اور کنیت ہے، بعض روایات میں آپعلیہ السلام کے ظہور تک آپ کا نام لینے سے منع کیا گیا ہے۔
آپ کے مشہور القاب اس طرح ہیں: مہدی، قائم، منتظر، بقیة اﷲ، حجت، خلف صالح، منصور، صاحب الامر، صاحب الزماں اور ولی عصر ہے جن میں سے ”مہدی“ لقب سب سے زیادہ مشہور ہے۔
امام علیہ السلام کا ہر لقب آپ کے بارے میں ایک مخصوص پیغام رکھتا ہے:
خوبیوں کے امام کو ”مہدی“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایسے ہدایت یافتہ ہیں جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان کو ”قائم“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ حق کے لئے قیام کریں گے، اور آپ کو ”منتظر“ کہا گیا ہے کیونکہ سب ان کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، آپعلیہ السلام کو لقب ”بقیة اﷲ“ اس وجہ سے دیا گیا کیونکہ آپ خدا کی حجتوں سے باقی ماندہ حجت اور آپ ہی آخری ذخیرہ الٰہی ہیں۔ ”حجت“ کے معنی مخلوق پر خدا کے گواہ، اور ”خلف صالح“ کے معنی اولیاءخدا کے شائستہ جانشین کے ہیں، آپ کو ”منصور“ اس وجہ سے کہا گیا کہ خدا کی طرف سے آپ کی نصرت و مدد ہو گی، ”صاحب الامر“ اس وجہ سے ہیں کہ عدل الٰہی کی حکومت قائم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، ”صاحب الزمان اور ولی عصر“ بھی اس معنی میں ہیں کہ آپ اپنے زمانہ کے واحد حاکم ہوں گے۔
ولادت کی کیفیت
متعدد روایات میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ ”میری نسل سے ”مہدی“ نام کا شخص قیام کرے گا، جو ظلم و ستم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا“۔
بنی عباس کے ظالم و ستمگر بادشاہوں نے ان روایات کو سن کر یہ طے کر لیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کو ولادت کے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے، جس کی بنا پر امام محمد تقی علیہ السلام کے زمانہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام پر بہت زیاد سختیاں کی گئیں ور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ سختیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور اگر امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف پر کوئی بھی جاتا تھا تو حکومت وقت پر اس کی رفت و آمد مخفی نہیںتھی، ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں آخری حجت خدا کی پیدائش مخفی طریقہ پر ہونا چاہئے تھی، اسی دلیل کی بنا پر یہاں تک کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے نزدیکی افراد بھی امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے بے خبر تھے اور ولادت کے چند گھنٹے پہلے تک بھی آپ کی مادر گرامی جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا سے ایسے آثار نہ تھے کہ معلوم ہو سکے کہ آپ حمل سے ہیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹی جناب حکیمہ خاتون امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ میںیوں فرماتی ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: اے پھوپھی جان! آج ہمارے یہاں افطار فرمائیے گا! کیونکہ ۵۱ ویں ٍشعبان کی شب ہے اور خداوند عالم اس رات میں اپنی (آخری) حجت زمین پر ظاہر کرنے والا ہے، میں نے سوال کیا: ان کی والدہ کون ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: نرجس خاتون! میں نے کہا: میں آپ پر قربان! ان میں تو حمل کے کچھ بھی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: بات وہی ہے جو میں نے کی! اس کے بعد میں نرجس علیہ السلام خاتون کے پاس گئی اور سلام کرکے ان کے پاس بیٹھ گئی، وہ میرے پاس آئی تاکہ میرے جوتوں کو اُتاریں اور مجھ سے کہا: اے میری ملکہ! آپ کا مزاج کیسا ہے؟ میں نے کہا: نہیں آپ میری اور میرے خاندان کی ملکہ ہیں! اُنہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا: پھوپھی جان! آپ کیا فرماتی ہیں! میں نے کہا: آج کی رات خداوند عالم تم کو ایک بیٹا عنایت فرمائے گا جو دُنیا و آخرت کا سردار ہو گا، چنانچہ وہ یہ سُن کر شرما گئیں۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عشاءکی نماز کے بعد افطار کیا اور اس کے بعد اپنے بستر پر آرام کے لئے لیٹ گئی، آدھی رات کے وقت جب نماز (شب) کےلئے اٹھی اور نماز سے فارغ ہوئی، اس وقت تک نرجس علیہ السلام خاتون آرام سے سوئی ہوئی تھیں، جیسے اُنہیں کوئی مشکل درپیش نہ ہو، میں نماز کی تعقیبات کے بعد پھر لیٹ گئی، اچانک پریشان ہو کر اُٹھی تو نرجس علیہ السلام خاتون اسی طرح سوئی ہوئی تھیں، لیکن وہ کچھ دیر بعد نیند سے بیدار ہوئی اور نماز (شب) پڑھ کر دوبارہ سو گئیں۔
حکیمہ خاتون مزید فرماتی ہیں: میں صحن میں آئی تاکہ دیکھو کہ صبح صادق ہوئی یا نہیں ، میں نے دیکھا کہ فجر اوّل (صبح کاذب) نمودار ہے، اس وقت تک بھی نرجس خاتون سوئی ہوئی تھیں، مجھے شک ہونے لگا! اچانک امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے بستر سے آواز دی: اے پھوپھی جان! جلدی نہ کریں! ولادت کا مسئلہ نزدیک ہے، میں نے سورہ ”سجدہ“ اور سورہ ”یٰسین“ کی تلاوت کرنا شروع کر دی، اس موقع پر جناب نرجس پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئیں، میں جلدی سے ان کے پاس گئی اور کہا : ”اسم اللّٰہ علیک“ (آپ سے بلا دور ہو) کا آپ کو کسی چیز کا احساس ہو رہا ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں پھوپھی جان! میں نے کہا: اپنے اوپر ضبط (اور کنٹرول) رکھیں اور اپنے دل کو مضبوط کر لیں، یہ وہی ہے جس کے بارے میں پہلی کہہ چکی ہوں، اس موقع پر مجھ پر اور نرجس علیہ السلام خاتون پر ضعف طاری ہوا، اس کے بعد میرا سید و سردار (نومولود طفل مبارک) کی آواز بلند ہوئی، میں متوجہ ہوئی اور ان کے اوپر سے چادر ہٹائی چنانچہ انہیں سجدہ کی حالت میں دیکھا، میں نے بڑھ کر انہیں آغوش میں لیا اور انہیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ پایا۔ اس موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے پھوپھی جان! میرے فرزند کو میرے پاس لے آئیے! چنانچہ میں ان کو آپعلیہ السلام کے پاس لے گئی ....اُنہوں نے اپنی آغوش میں لے کر فرمایا: اے میرے فرزند کچھ کہیئے! چنانچہ وہ نوزائیدہ طفیل مبارک یوں محوِ گفتگو ہوا: ”اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ“ اس کے بعد امیر المومنین اور دیگر ائمہ علیہم السلام پر دَرُود و سلام بھیجا، یہاں تک کہ اپنے پدر بزرگوار کا نام لیتے ہیں رک گئے، امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: پھوپھی جان! ان کو ان کی ماں کے پاس لے جائیے، تاکہ ان کو سلام کریں............
حکیمہ خاتون کہتے ہیں: دوسرے روز جب میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے یہاں گئی تو میں نے امام علیہ السلام کو سلام کیا، میں نے پردہ اُٹھایا تاکہ اپنے مولا و آقا (امام مہدی علیہ السلام) کو دیکھوں لیکن وہ دکھائی نہ دئے، لہٰذا میں نے ان کے پدر بزرگوار سے سوال کیا: میں آپ پر قربان! کیا میرے مولا و آقا کے لئے کوئی اتفاق پیش آگیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے پھوپھی جان! میں نے ان کو(خدا) کے سپُرد کر دیا ہے جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو سپرد کر دیا تھا۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: جب ساتواں دن آیا تو میں پھر امام علیہ السلام کے یہاں گئی اور سلام کرکے بیٹھ گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے فرزند کو میرے پاس لائیے، میں اپنے مولا و آقا کو ان کے پاس لے گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! کچھ کلام کیجئے! طفل مبارک نے لب مبارک کھولے اور خداوند عالم کی وحدانیت کی گواہی اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اپنے آباءو اجداد پر دَرُود و سلام بھیجنے کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی:
﴾بِسمِ اللّٰہِ الرَّح مٰنِ الرَّحِی مِ وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذِی نَ است ضعِفُوا فِی الاَر ضِ وَ نَج عََلَہُم آئِمَّةً وَ نَج عَلَہُمُ الوَارِثِی نَ۔ وَ ن مَکَّنَ لَہُم فِی ال اَر ضِ وَ نُرِی فِرعَونَ وَ ہَامَانَ وَ جُن و دَہُمَا مِن ہُم مَا کَانُو ا یَح ذَرُو نَ﴿( سورہ قصص آیات ۵،۶)
”شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے جو بڑا رحمان و رحیم ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کے وارث قرار دیدیں، اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں کے ہاتھوں وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کےشمائل اورآپ کی صفات حمیدہ
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے شمائل مبارکہ اور اوصاف مجیدہ بیان کئے گئے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:آپ کا چہرہ جوان اور گندمی رنگت کا، بلند اور روشن پیشانی، آپ کی بھنویں گول اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، ناک لمبی اور خوبصورت، چوڑے اور چمکدار دانت، اور آپ کے داہنے رخسار پر سیاہی مائل ایک تِل کا نشان ہو گا اور آپ کے شانہ پر نبوت جیسی ایک نشانی ہے، اور آپ کا جسم مضبوط اور دلبربا ہے۔
آپ کے بعض اوصاف حمیدہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں بیان ہوئے ہیں جن میں سے کچھ اس طرح ہیں:
”(حضرت مہدی علیہ السلام) بہت عبادت کرنے والے اور (عبادت میں) شب بیداری کرنے والے، زاہد اور سادہ زندگی بسرکرنے والے، صاحب صبر و بردباری، صاحب عدالت اور نیک کردار ہیں۔ آپعلیہ السلام تمام لوگوں میں علم کا لحاظ سے ممتاز اور آپعلیہ السلام کا وجود مبارک برکت اور پاکیزگی کا جاری چشمہ ہے۔ آپعلیہ السلام اہل قیام و جہاد ہوں گے، عالمی رہبر، عظیم انقلابی، آخری نجات دینے والے اور بشریت کے لئے مصلح موعود ہوں گے، آپعلیہ السلام کا وجود رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی نسل سے اور جناب فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی اولاد سے اور امام حسین علیہ السلام کی نسل سے نویں فرزند ہوں گے جو ظہور کے وقت خانہ کعبہ کا سہارا لیں گے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پرچم ہاتھ میں لئے ہوں گے اور اپنے قیام سے دین خدا کو زندہ کریں گے اور احکام الٰہی کو پوری دُنیا میں نافذ کر دیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف اور محبت سے بھر دین کے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہو گی“۔(منتخب الاثر، فصل دوم، صفحہ ۹۳۲ تا ۳۸۳)
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی زندگی تین حصوں پر مشتمل ہے:
۱۔ مخفی زمانہ: ولادت کے وقت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک آپ کی مخفیانہ زندگی۔
۲۔ زمانہ غیبت: امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت سے غیبت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ور جب تک خداوند عالم چاہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
۳۔ زمانہ ظہور: زمانہ غیبت کے مکمل ہونے کے بعد امام زمانہ (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) حکم خدا سے ظہور فرمائیں گے اور دُنیا کو عدل و انصاف اور نیکیوں سے بھر دیں گے۔ آپعلیہ السلام کے ظہور کے وقت کو کوئی بھی نہیں جانتا، اور امام زمانہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو لوگ ہمارے ظہور کے لئے کوئی خاص زمانہ معین کریں گے وہ جھوٹے ہیں۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۴۴۳، ص ۲۴۵)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام زمانہ علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ، ان کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت ”نرجس“ سلام اﷲ علیہا ہے، آپ کی سال ۵۵۲ ہجری ۵۱ شعبان جمعہ کی صبح کو سامرہ میں ولادت با سعادت انجام پائی۔
حضرت کا نام اور کنیت پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی مانند اور آپ کا مشہور لقب مہدی علیہ السلام ہے۔
الٰہی حکمت کی بنا پر امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کا حمل اور ولادت دوسروں سے مخفی رکھی گئی اور آثار حمل ظاہر نہ ہوئے۔
امام علیہ السلام کے ظاہری شمائل مبارکہ اور جسمانی اوصاف و خصوصیات روایات میں مذکور ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کی حیات مبارکہ تین ادوار پر مشتمل ہے، پانچ سالہ ابتدائی مخفیانہ زندگی جو حضرت امام حسن علیہ السلام کا آخری دور ہے ، ستر سالہ غیبت صغریٰ کا دور، اور غیبت کبریٰ کا طولانی دور۔
درس کے سوالات
۱۔امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی والدہ گرامی کا نام، نسب اور شخصیت کے حوالے سے بیان کریں؟
۲۔ امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے مشہور القاب میں سے آٹھ موارد کو ذکر کریں؟
۳۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے مخفی ہونے کی وجہ کو تفصیل سے بیان کریں؟
۴۔ جناب حکیمہ خاتون کی زبان سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے مبارک واقعہ کو اختصار سے بیان کریں؟
۵۔ امام زمانہ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے ادوار کو تاریخی مراحل کی رُو سے وضاحت کریں؟
ة....ة....ة....ة....ة
**جوابات:**
**سوال 1:** امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی والدہ گرامی کا نام، نسب اور شخصیت کے حوالے سے بیان کریں؟
**جواب:** امام زمانہ علیہ السلام کی والدہ گرامی کا نام نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، وہ بادشاہ روم کے بیٹے یشوع کی دختر تھیں اور ان کی مادر گرامی جناب شمعون کی نسل سے تھیں۔ جناب نرجس خاتون کو ایک خواب کے ذریعے ہدایت ملی، جس کے بعد وہ مسلمان ہوئیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام سے شادی کی۔ انہیں ائمہ علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (ص) نے بہت مدح کی ہے اور کنیزوں میں سردار قرار دیا گیا ہے۔
**سوال 2:** امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے مشہور القاب میں سے آٹھ کو ذکر کریں؟
**جواب:** امام زمانہ علیہ السلام کے القاب میں مہدی، قائم، منتظر، بقیة اﷲ، حجت، خلف صالح، منصور، صاحب الامر شامل ہیں۔ یہ القاب ان کی مختلف خصوصیات اور روحانی مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔
**سوال 3:** امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے مخفی ہونے کی وجہ کو بیان کریں؟
**جواب:** امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو اس لئے مخفی رکھا گیا تھا کیونکہ بنی عباس کے حکمرانوں نے فیصلہ کیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کو ولادت کے وقت قتل کر دیا جائے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں ائمہ پر سختی بڑھ گئی تھی اور ولادت مخفیانہ طریقہ سے انجام پائی تھی۔
**سوال 4:** جناب حکیمہ خاتون کی زبان سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے مبارک واقعہ کو اختصار سے بیان کریں؟
**جواب:** جناب حکیمہ خاتون نے بیان کیا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے انہیں افطار کے لیے بلایا کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اسی رات متوقع تھی۔ نرجس خاتون نے بغیر کسی ظاہری آثار کے امام مہدی علیہ السلام کو جنم دیا، جو ایک معجزہ تھا۔ ولادت کے بعد نومولود نے کلمہ شہادت ادا کیا اور ائمہ علیہم السلام پر درود بھیجا۔
**سوال 5:** امام زمانہ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے ادوار کو تاریخی مراحل کی رُو سے وضاحت کریں؟
**جواب:** امام مہدی علیہ السلام کی زندگی تین اہم ادوار میں تقسیم ہوتی ہے:
۱. مخفی زمانہ - امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک امام کی مخفیانہ زندگی۔
۲. زمانہ غیبت - عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد غیبت صغریٰ شروع ہوئی، جو 260 ہجری سے 329 ہجری تک رہی، اس دوران امام کے خاص نائبین تھے جو امام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ اس کے بعد غیبت کبریٰ شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے، جس میں امام زمانہ علیہ السلام براہ راست کسی کے ساتھ رابطہ نہیں کرتے۔
۳. زمانہ ظہور - امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور خدا کے حکم سے ہوگا، جب دنیا ظلم سے بھر جائے گی اور عدل و انصاف کی شدید ضرورت ہوگی۔ امام زمانہ علیہ السلام دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور ان کے ظہور کے وقت کی کوئی خاص تاریخ نہیں دی گئی ہے، اور وہ جب بھی ظہور فرمائیں گے، اسے خدا کی حکمت کے مطابق سمجھا جائے گا۔
یہ تینوں ادوار امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اہم مراحل ہیں، جن میں سے ہر ایک دور کی اپنی خصوصیات اور اہمیت ہے۔
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت نامہ
تیسرا درس
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک
مقاصد:
۱۔ اپنے فرزند ارجمند کے تعارف کے لئے امام عسکری علیہ السلام کی کوششوں پر توجہ
۲۔ سب سے آخری حجت خدا سے شیعوں کو آگاہ کرنے کے ذرائع سے آگاہی
فوائد:
۱۔ حضرت علیہ السلام کی ولادت کا ثابت ہونا
۲۔ بارہویں امام علیہ السلام کا تعین
۳۔ امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ طفولیت اور مخفی دور سے آگہی
تعلیمی مطالب:
۱۔ امام علیہ السلام کا تعارف شیعوں کے لئے
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے معجزات اور کرامات
۳۔ شیعوں کے کی جانب سے بھیجے جانے والے سوالات کے جواب
۴۔ لوگوں کے تحائف اور شرعی وجوہات کی وصولی
۵۔ اپنے والد گرامی کا نماز جنازہ پڑھان
ولادت باسعادت سے امام عسکری علیہ السلام کی شہادت تک
حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حیات طیبہ کا یہ زمانہ بہت سے اہم نکات پر مشتمل ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
شیعوں کے سامنے امام مہدی (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا تعارف
چونکہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت مخفی طور پر ہوئی ہے اسی وجہ سے یہ خوف لاحق تھا کہ شیعہ آخری امام کی پہچان میں غلط فہمی یا گمراہی کا شکارنہ ہو جائیں، حضرت امام عسکری علیہ السلام کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ اپنے بزرگ اور قابل اعتماد شیعہ افراد کے سامنے اپنے فرزند گرامی کی شناخت کرائیں تاکہ وہ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ولادت کی خبر اہل بیت علیہم السلام کے دوسرے شیعوں تک پہنچا دیں اور اس صورت میں آپ کی شناخت اور پہچان بھی ہو جائے گی اور آپ کو کوئی خطرہ بھی پیش نہ آئے گا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے خالص شیعہ، ”جناب احمد بن اسحاق“ کہتے ہیں:
”میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا، اور آپ سے سوال کرنا چاہتا تھا کہ آپ کے بعد امام کون ہو گا؟ لیکن میرے کہنے سے پہلے امام علیہ السلام نے فرمایا: اے احمد! بے شک خداوند متعال نے جس وقت سے جناب آدم علیہ السلام کی خلقت کی اسی وقت سے زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں چھوڑا ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا!اللہ تعالیٰ حجت کے ذریعہ اہل زمین سے بلاﺅں کو دُور کرتا ہے (اس کے وجود کی برکت سے) بارانِ رحمت نازل فرماتا ہے۔
میں نے عرض کی: یابن رسول اﷲ! آپعلیہ السلام کے بعد امام اور آپعلیہ السلام کا جانشین کون ہے؟
امام علیہ السلام فوراً بیت الشرف کے اندر تشریف لے گئے اور ایک تین سالہ طفل مبارک کو آغوش میں لے کر آئے جس کی صورت چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہی تھی، اور فرمایا: اے احمد بن اسحاق! اگر تم خداوند عالم اور اس کی حجتوں کے نزدیک باعظمت اور گرامی نہ ہوتے تو اپنے اس فرزند کو تمہیں نہ دکھاتا۔ بے شک ان کا نام اور کنیت، رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا نام اور کنیت ہے اور یہ وہی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے وہ بھر دیں گے جس طرح سے پہلے ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔
میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! کیا کوئی ایسی نشانی ہے جس سے میرے دل کو سکون ہو جائے؟!
(اس موقع پر) اس طفل مبارک نے لب کشائی کی اور فصیح عربی میں یوں کلام فرمایا:
﴾اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی ار ضِہِ وَال مُنتَقِم مِن اعدَائِہِ....﴿
”میں زمین پر بقیة اﷲ ہوں اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں“۔ اے احمد بن اسحاق! تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اب کسی نشانی کی ضرورت نہیں!!
احمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں (یہ کلام سننے کے بعد) خوش و خرم امام علیہ السلام کے مکان سے باہر آگیا ........ ( کمال الدین، ج۲، باب ۸۳، ح۱، ص ۰۸)
اسی طرح محمد بن عثمان ( محمد بن عثمان امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغریٰ کے دورے نائب خاص تھے، غیبت کی بحث میں ان کی زندگی کے حالات بیان کئے جائیں گے) چنداور بزرگ شیعہ نقل کرتے ہیں:ہم چالیس افراد جمع ہو کر امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، چنانچہ امام علیہ السلام نے اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرے جانشین اور تمہارے امام ہوں گے، تم لوگ ان کی اطاعت کرنا، اور میرے بعد اپنے دین میں تفرقہ نہ ڈالنا ورنہ ہلاک ہو جاﺅ گے اور (جان لو کہ) آج کے بعد ان کو نہیں دیکھ پاﺅ گے ........“(مال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح۲، ص۲۶۱)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومولود بچہ کے لئے عقیقہ دینی حکم اور سنت ہے جس کی تاکید بھی کی گئی ہے کہ بھیڑ وغیرہ ذبح کرے اور بعض مومنین کو کھانا کھلائے جس کی برکت سے بچہ کی عمر طولانی ہوتی ہے۔ امام حسن عسکری نے اپنے فرزند (امام مہدی عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے لئے عقیقہ کیا ( کمال الدین، ج۲، باب۲۴)
تاکہ اس بہترین سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے بہت سے شیعوں کو بارہویں امام کی ولادت سے مطلع کریں۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے بیٹے کی ولادت پر تین سو سے زائد مختلف جگہوں پر اپنے خالص شیعوں کو بھجوائے یا انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ایسا کریں خود سامرہ میں آپ نے تین ہزار روٹی اور اتنے رطل گوشت فقراءاور مساکین میں تقسیم کیا۔
محمد بن ابراہیم کہتے ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے ذبح کی ہوئی بھیڑ اپنے ایک شیعہ کو بھیجی اور فرمایا: ”یہ میرے بیٹے ”محمد علیہ السلام“ کے عقیقہ کا گوشت ہے“ ( کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح۲، صفحہ ۸۵۱)
معجزات اور کرامات
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی زندگی کا ایک حصہ بچپن کا زمانہ ہے جس میں آپعلیہ السلام کے ذریعہ بہت سے معجزات اور کرامات رونما ہوئے ہیں، جبکہ اس آخری حجت خدا کی زندگی کے اس حصے سے ہم غافل ہیں، ہم صرف ان میں سے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ابراہیم بن احمد نیشا پوری کہتے ہیں:
جس وقت عمرو بن عوف نے (جو ایک ظالم اور ستمگر حاکم تھا اور اس نے بہت سے شیعوں کو قتل کیا غارت گری کی) اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا، میں بہت زیادہ خوفزدہ تھا، میرا پورا وجود خوف سے لرزہ رہا تھا، میں نے اپنے دوستوں اور کنبہ والوں سے خدا حافظی کی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف کی طرف روانہ ہوا تاکہ آپ سے بھی خدا حافظی کر لوں، ارادہ یہ تھا کہ امام علیہ السلام سے ملاقات کے بعد کہیں بھاگ نکلوںگا، چنانچہ جب امام علیہ السلام کے مکان پر پہنچا تو امام حسن عسکری علیہ السلام کے پا س ایک طفل مبارک کو دیکھا کہ جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا، میں ان کا نور دیکھ کر حیران رہ گیا، اور قریب تھا کہ اپنے ارادہ (قتل کا خوف اور بھاگنے کا ارادہ) کو بھول جاﺅں۔
(اس موقع پر اس طفل مبارک نے) مجھ سے کہا: ”بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے! بہت جلد ہی خداوند عالم تمہیں اس شر سے محفوظ کر دے گا“۔
میری حیرانی میں مزید اضافہ ہوا، میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے کہا: میں آپ پر قربان! یہ طفل مبارک کون ہے جو میرے ارادوں سے باخبر ہے؟ امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: یہ میرا فرزند اور میرے بعد جانشین ہے یعنی آپکا بارہواں امام ہے۔
ابراہیم کہتے ہیں: میں باہر نکلا، جبکہ میں خدا کے لطف و کرم کا اُمیدوار تھا، اور جو کچھ بارہویں امام سے سنا تھااس پر یقین رکھتا تھا، چنانچہ چند روز کے بعد میرے چچا نے عمرو بن عوف کے قتل ہونے کی خوشخبری دی۔ ( اثبات الھداة، ج۳، ص۰۰۷)
سوالوں کے جوابات
آسمان امامت کے آخری روشن ستارے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ وجہ الشریف) اپنی حیات طیبہ کے آغاز سے مختلف مقامات میں شیعوں کے مختلف سوالات کا مستحکم اور قانع کنندہ جواب دیتے تھے، جن سے شیعوں کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، چنانچہ ہم یہاں پر ایک روایت نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں:
سعد بن عبد اﷲ قمی (جو شیعوں میں ایک عظیم شخصیت تھے) احمد بن اسحاق قمی (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کے ہمراہ کچھ سوالات لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے، موصوف اس ملاقات کو یوں نقل کرتے ہیں: جب میں نے سوال کرنا چاہا تو امام عسکری علیہ ا لسلام نے اپنے فرزند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے نور چشم سے سوال کرو! اس موقع پر طفل مبارک نے میری طرف رُخ کرکے فرمایا: جو کچھ بھی سوال کرنا چاہو کر لو! .... میں نے سوال کیا: (قرآن کے حروف مقطعات میں سے) ”کھیعص“ کا مقصد کیا ہے؟ فرمایا: یہ حروف غیب کے مسائل میں سے ہیں۔ خداوند عالم نے اپنے بندہ (اور پیغمبر) زکریعلیہ السلام کو ان سے مطلع کیا، اور پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے دوبارہ سنایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے خداوند عالم سے درخواست کی کہ مجھے پنجتن (آل عبا) کے اسمائے گرامی تعلیم کر دے، تو خداوند عالم نے جناب جبرئیل کو نازل کیا اور ان کو پنجتن کے نام تعلیم دیئے، تو جیسے ہی جناب زکریا نے (ان مقدس اسمائ) محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اﷲ علیہا، اور حسن علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کی مشکلات دور ہوگئیں اور جب امام حسین علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کاسینہ بھر آیا اور وہ مبہوت ہو کر رہ گئے، ایک روز اُنہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: بارِ الٰہا! جس وقت میں ان چار حضرات کا نام لیتا ہوں تو میری پریشانیاں اور مشکلات دُور ہو جاتی ہیں دل کو سکون ملتا ہے لیکن جب میں حسین علیہ السلام کا نام لیتا ہوں تو میرے آنسو جاری ہو جاتے ہین اور میرے رونے کی آواز بلند ہو جاتی ہے، پالنے والے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو خداوند عالم نے ان کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہ سنایا اور فرمایا: ”کھیعص“ (اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے) میں ”کاف“ سے مراد واقعہ کربلا، اور ”ہا“ سے ان کے خاندان کی (شہادت و) موت مراد ہے، اور ”یا“ سے ”یزید“ کے نام کی طرف اشارہ ہے جو امام حسین علیہ السلام پر ظلم و ستم کرنے والا ہے اور ”ع“ سے امام حسین علیہ السلام کی عطش اور پیاس مراد ہے ”اور ”صاد“ سے حضرت امام حسین علیہ السلام کا صبر و استقامت مراد ہے........
میں نے سوال کیا: اے میرا مولا و آقا! لوگوں کو اپنے لئے امام معین کرنے سے کیوں روکا گیا ہے؟امام علیہ السلام نے فرمایا: امام معین کرنے سے تمہاری مراد ”امام مصلح“ ہے یا امام مفسدہے؟ میں نے کہا: امام مصلح (جو معاشرہ کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے)، امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ کوئی بھی کسی دوسرے کے باطن سے مطلع نہیں ہے کہ وہ خیر و صلاح کے بارے میں سوچتا ہے یا فساد و برائی کے بارے میں، اس صورت میں کیا یہ احتمال نہیں پایا جاتا کہ لوگوں کا انتخاب کیا ہو امام، مفسد (فتنہ و فساد پھیلانے والا) ہونکلے؟ میں نے کہا: اس بات کا احتمال تو پایا جاتا ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: بس یہی وجہ ہے کہ امام مصلح کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہے۔ (کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ص ۰۹۱)( اس کلام کی وضاحت کتاب کی پہلی فصل میں ”امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے“ کے عنوان کے تحت بیان ہو چکی ہے)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس روایت کے آخر میں امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) نے دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں اور دوسرے سوالات کے جواب بھی عنایت فرمائے ہیں، ہم نے اختصار کی وجہ سے مکمل روایت بیان نہیں کی ہے۔
ہدیے اور تحفے قبول کرنا
شیعہ حضرات امام معصوم علیہ السلام کے لئے تحفے اور مالی واجبات (زکوٰة و خمس) لے جایا کرتے تھے اور امام معصوم بھی ان کو قبول فرما کر غریب اور محتاج لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ احمدابن اسحاق (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کہتے ہیں:
شیعوں کی بھیجی ہوئی کچھ رقم امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی، اس موقع پر امام علیہ السلام کا ایک چھوٹا فرزند جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا امام کے پاس موجود تھا، امام حسن عسکری علیہ السلام نے ان کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اے میرے لخت جگر! اپنے شیعوں اور دوستوں کے تحفوں کو کھولو! تو اس طفل مبارک نے کہا: اے میرے مولا و آقا! کیا یہ بات مناسب ہے کہ ان ناپاک اور پست تحفوں کی طرف (اپنے) پاک و پاکیزہ ہاتھوں کو لگاﺅں جو حلال و حرام سے ملے ہوئے ہیں؟! امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے ابن اسحاق! ان سب کو باہر نکالو تاکہ ان میں سے حلال و حرام کو جدا کیا جائے۔ چنانچہ میں نے ایک تھیلی نکالی، اس طفل مبارک نے کہا: یہ تھیلی قم سے فلاں محلہ اور فلاں شخص کی ہے (اس کا نام اور اس کے محلہ کا نام لیا) جس میں ۲۶ اشرفی تھیں جس میں ۵۴ اشرفی ایک بنجر زمین فروخت کرکے حاصل کی گئی ہے جس کے مالک کو وہ زمین ارث میں ملی تھی اورا س میں ۴۱ دینار ۹ عدد لباس کو فروخت کرکے حاصل کئے گئے ہیں اور ۳ دینا ردکان کے کرایہ کے ہیں۔
امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے فرزند عزیز! آپ نے صحیح فرمایا، اب اس مرد کی راہنمائی کرو کہ (اس مال میں) کونسا مال حرام ہے؟ چنانچہ طفل مبارک نے بھرپور دقت کے ساتھ حرام سکّوں کو معین کیا اور ان کے حرام ہونے کی وجہ واضح طور پر بیان فرمائی! میں نے دوسری تھیلی نکالی، اس طفل مبارک نے اس کے مالک کا نام اور پتہ بتانے کے بعد فرمایا: اس تھیلی میں ۰۵ اشرفی ہیں جس کوہاتھ لگانا ہمارے لئے جائز نہیں ہے اور اس کے بعد اس تمام مال میں سے ہر ایک کے حرام ہونے کی وجہ بیان کی۔ اس موقع پر امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! آپ نے صحیح فرمایا، اور پھر امام علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اب سب کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو، اور ان سے کہنا کہ ان کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو، ہمیں اس مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے........
( کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح ۱۲، ص ۰۹۱)
پدر بزرگوار کی نماز جنازہ
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے اور مخفی رہنے کے زمانہ کا آخری حصہ اپنے پدربزرگوار کی نماز جنازہ پڑھانا ہے۔
اس سلسلہ میں ابو الاَدیان (امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم) کا کہنا ہے:
”حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی عمر بابرکت کے آخری دنوں میں مجھے کچھ خطوط دیئے اور فرمایا: ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو، تم ۵۱/دن کے بعد سامرہ واپس پلٹو گے، اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے اور (میرے بدن کو) غسل کے تخت پر دیکھو گے، میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! جب یہ اتفاق پیش آئے گا تو آپ کے بعد آپ کا جانشین اور امام کون ہو گا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی تم سے خطوط کے جواب طلب کرے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: اس کی کوئی دوسری نشانی بیان فرمائیں!۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی میری نماز جنازہ پڑھائے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: کچھ اور نشانی بیان فرمائیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص یہ بتا دے کہ اس تھیلی میں کیا ہے؟ (لیکن) امام علیہ السلام کی ہیبت ایسی طاری تھی کہ میں یہ سوال نہ کر سکا کہ اس تھیلی میں کیا ہے۔
میں ان خطوط کو لے کر مدائن گیا اور ان کا جواب لے کر واپس آیا اور جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا ۵۱ دن بعدمیں سامرہ پہنچا، دیکھا کہ امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف سے نالہ و شیون اور گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہیں، اور امام عسکری علیہ السلام (کے بدن مبارک) کو غسل کی جگہ پر پایا اور دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھائی جعفر دروازہ پر کھڑے ہیں اور بعض شیعہ اس کو بھائی کے انتقال پر تسلیت اور اس کی امامت پر مبارک کہہ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اگر یہ (جعفر) امام ہو گئے تو امامت کا سلسلہ تباہ و برباد ہو جائے گا، کیونکہ میں اس کو پہچانتا تھا وہ شرابی اور جواری انسان تھا، (لیکن چونکہ میں نشانیوں کی تلاش میں تھا) میں بھی آگے بڑھا اور دوسروں کی طرح تسلیت اور مبارک عرض کی، لیکن اس نے مجھ سے کسی بھی چیز (منجملہ خطوں کے جوابات) کے بارے میںسوال نہ کیا، اس موقع پر ”عقید“ (امام کے گھر کا خادم) باہر آیا اور اس نے (جعفر کو خطاب) کرتے ہوئے کہا: اے میرے مولا و آقا! آپ کے برادر گرامی (امام عسکری علیہ السلام) کو کفن دیا جا چکا ہے، چلئے نماز جنازہ پڑھا دیجئے۔ میں بھی جعفر اور دوسرے شیعوں کے ساتھ میں امام کے بیت الشرف میں وارد ہوا، میں نے دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کو کفن دے کر تابوت میں رکھا جا چکا ہے، جعفر آگے بڑھے تاکہ اپنے بھائی کے جنازہ پر نماز پڑھائیں، لیکن جیسے ہی تکبیر کہنا چاہتے تھے ایک گندم گوں رنگ، گھنگریالے بال اور چمکدار اور باہم پیوستہ دانت والا ایک طفل مبارک آگے بڑھا اور جعفر کا دامن پکڑ کر فرمایا: اے چچا! آپ پیچھے ہٹیں، میں اپنے باپ کے جنازہ پر نماز پڑھنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ چنانچہ جعفر جن کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے اور وہ طفل مبارک آگے بڑھے اور اُنہوں نے امام علیہ السلام کے جنازہ پر نماز پڑھی۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: تمہارے پاس جو خطوط کے جوابات ہیں وہ ہمیں دے دو! میں نے وہ خطوط ان کو دیئے اور اپنے دل میں کہا: یہ (اس طفل مبارک کی امامت پر) دو نشانیاں مل گئی ہیں او ر صرف تھیلی والا واقعہ باقی رہ گیا ہے، میں جعفر کے پاس گیا اور دیکھا کہ وہ آہیں بھر رہے ہیں۔ کسی ایک شیعہ نے ان سے سوال کیا: یہ طفل مبارک کون ہے؟ جعفر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اس کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اس کوپہچانتا ہوں۔ ابوالادیان مزید کہتے ہیں: ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ اہل قم آئے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں سوال کرنے لگے اور جب ان کو معلوم ہوا کہ امام عسکری علیہ السلام کی شہادت ہو چکی ہے تو کہنے لگے کہ ہم کس کو تسلیت دیں؟ تو لوگوں نے جعفر کی طرف اشارہ کیا۔ اُنہوں نے جعفر کو سلام کیا اور تسلیت و مبارک پیش کی، اور پھر اُنہوں نے جعفر کو خطاب کرکے کہا: ہمارے پاس کچھ خطوط اور کچھ رقم ہے، آپ صرف یہ بتا دیجئے کہ خطوط کس کے ہیں اور رقم کتنی ہے؟ جعفر ناراض ہو کر اپنی جگہ سے اُٹھے اور کہا: کیا ہم علم غیب جانتے ہیں؟ اس موقع پر امام مہدی علیہ السلام کا خادم باہر نکلا اور اس نے کہا: یہ خطوط فلاں فلاں شخص کے ہیں (اور ان کے نام و پتے بیان کئے) اور تمہارے پاس ایک تھیلی ہے جس میں ہزار دینار ہیں جس میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے وہ خطوط اور وہ رقم اس کو دی اور کہا: جس نے تمہیں یہ چیزیں لینے کے لیے بھیجا ہے وہی امام ہے....“ ( کمال الدین، ج ۲، ح ۵۲، ص ۳۲۲)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کی ولادت کے مخفی ہونے کے پیش نظر اپنے مورد اعتماد افراد اور شیعہ بزرگان کے ایک گروہ کو ان کی زیارت سے بہرہ مند کیا تاکہ لوگ اپنے آخری امام کی معرفت میں حیرت و گمراہی کا شکار نہ ہوں۔امام مہدی علیہ السلام نے زمانہ طفولیت میں ہی سعد بن عبد اﷲ کے کلامی اور عقائدی سوالوں کا جواب دیا۔حضرت نے اپنے والد گرامی کے فرمان پر احمد بن اسحاق کے ذریعے شیعوں کے بھیجے گئے تحائف وصول کئے اور ان کے بھیجنے والوں کے بارے میں بتایا، ان سے حلال اور حرام کو جدا کیا اور حرام مال کو ان کے بھیجنے والوں کی طرف پلٹا دیا۔امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام مہدی علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کی نماز جنازہ پڑھی۔
سوالات
۱۔ امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت کروائی؟
۲۔ امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ ”انا بقیة اﷲ فی ارضہ“ کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرا ¿ت کی؟
۳۔ سعد بن عبد اﷲ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟
۴۔ احمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟
۵۔ امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟
**جوابات:**
۱۔ **امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت کروائی؟**
- امام عسکری علیہ السلام نے بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت اس لیے کروائی تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی شناخت کو یقینی بنایا جا سکے اور شیعہ امت میں کسی قسم کی حیرت یا گمراہی نہ ہو۔ اس عمل سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اور امامت کی حقانیت کو تقویت ملتی ہے اور شیعہ امت کے افراد کو ان کے امام کی پہچان میں آسانی ہوتی ہے۔
۲۔ **امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ "انا بقیة اﷲ فی ارضہ" کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرات کی؟**
- امام مہدی علیہ السلام نے یہ آیت شریفہ احمد بن اسحاق کو مخاطب کرتے ہوئے قرات کی، جب انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کے بعد امام کون ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں امام مہدی علیہ السلام کا یہ قول ان کی امامت اور خصوصی مقام کی تصدیق کرتا ہے۔
۳۔ **سعد بن عبد اللہ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟**
- امام مہدی علیہ السلام نے بیان کیا کہ امام کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ انسان کسی دوسرے انسان کے باطن سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہو سکتے۔ اس بنا پر اگر لوگ خود امام کا انتخاب کریں تو امکان ہے کہ وہ کسی فاسد یا غیر مناسب شخص کو امام منتخب کر لیں۔
۴۔ **احمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟**
- احمد بن اسحاق نے شیعوں کی طرف سے اموال اور تحائف امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیے۔ امام مہدی علیہ السلام نے ان اموال کو دیکھا اور حلال اور حرام کو جدا کیا، اور پھر حرام مال کو واپس بھیج دیا، جس سے امام کی عدل و انصاف کی خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں۔
۵۔ **امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟**
- **پہلی نشانی:** امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ابو الادیان سے خطوط کے جوابات طلب کرے، وہی ان کے بعد امام ہو گا۔ یہ نشانی امامت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ امام ہی وہ شخص ہوتا ہے جو امت کی رہنمائی کے لئے مقرر کیا گیا ہو اور جو امت کے معاملات سے باخبر ہو۔
- **دوسری نشانی:** امام علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ان کی نماز جنازہ پڑھائے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امامت کی میراثی منتقلی کی تصدیق کرتی ہے، کیونکہ نماز جنازہ پڑھانا ایک اہم دینی فریضہ ہے جو کہ امام کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔
- **تیسری نشانی:** امام نے فرمایا کہ جو شخص یہ بتا سکے کہ ایک خاص تھیلی میں کیا ہے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امام کے علم غیب پر اشارہ کرتی ہے، جو کہ امامت کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ امام کا یہ علم انہیں اللہ کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے تاکہ وہ امت کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔
یہ تین نشانیاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف سے اپنے جانشین کی شناخت کے لئے اہم ہیں، اور ان کے ذریعے امامت کی منتقلی کو تسلیم کرنے میں شیعہ امت کو مدد ملتی ہے۔ ان نشانیوں کا واضح ہونا امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے ل
یہاں پر دیے گئے درس کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
۱۔ امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت اور تعارف کا اقدام کیا؟
جواب: امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کی ولادت کو مخفی رکھا کیونکہ ان کی ولادت خطرات سے بھرپور تھی۔ تاہم، امام نے اپنے بعض قابل اعتماد شیعوں کو امام مہدی علیہ السلام کی زیارت کروائی تاکہ شیعوں میں اپنے آخری امام کی شناخت اور معرفت قائم رہے اور وہ حیرت و گمراہی کا شکار نہ ہوں۔ یہ عمل امامت کی سلسلہ کی حفاظت اور تسلسل کے لیے ضروری تھا۔
۲۔ امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ ”انا بقیة اﷲ فی ارضہ“ کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرا ¿ت کی؟
جواب: امام مہدی علیہ السلام نے یہ آیت شریفہ جناب احمد بن اسحاق کو مخاطب کرتے ہوئے قراءت کی جب انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے ان کے بعد امام کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس آیت کے ذریعے امام مہدی نے اپنی امامت اور اللہ کی حجت کے طور پر اپنی شناخت کو واضح کیا۔
۳۔ سعد بن عبد اﷲ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟
جواب: امام زمانہ علیہ السلام نے فرمایا کہ امام کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ انسان دوسرے انسان کے باطن سے واقف نہیں ہوتا کہ وہ خیر و صلاح یا فساد و برائی کے بارے میں سوچتا ہے۔ اگر لوگ امام کا انتخاب کریں تو اس میں فساد کا امکان موجود ہے، اس لیے امامت کا تعین اللہ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ امامت صحیح ہاتھوں میں رہے۔
۴۔ محمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟
جواب: احمد بن اسحاق نے شیعوں کی طرف سے امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں اموال اور تحائف پیش کیے، جس میں حرام و حلال مال مخلوط تھے۔ امام مہدی علیہ السلام، جو اس وقت طفل تھے، نے ان تحائف کو چھانٹ کر حلال و حرام میں تمیز کی اور حرام مال کو واپس بھیج دیا، یہ دکھاتے ہوئے کہ امام کے پاس اللہ کی طرف سے علم غیب ہوتا ہے۔
۵۔ امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟
جواب: امام حسن عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو تین نشانیاں بتائیں جو ان کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی شناخت کے لیے مددگار ثابت ہونی تھیں:
- پہلی نشانی یہ تھی کہ جو شخص ابوالادیان سے خطوط کے جوابات طلب کرے، وہی امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد امام ہو گا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ امام مہدی علیہ السلام اپنے والد کے رازوں اور معاملات سے واقف ہوں گے۔
- دوسری نشانی یہ تھی کہ جو شخص امام حسن عسکری علیہ السلام کی نماز جنازہ پڑھائے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امامت کی روحانی قیادت اور جانشینی کی تصدیق کرتی ہے۔
- تیسری نشانی یہ تھی کہ جو شخص بتا دے کہ ایک مخصوص تھیلی میں کیا ہے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امام مہدی علیہ السلام کے علم غیب کی دلیل تھی۔
یہ تینوں نشانیاں مل کر امام مہدی علیہ السلام کی حقیقی امامت اور روحانی قیادت کو واضح کرتی ہیں اور ان کی امامت کی تصدیق کرتی ہیں۔
چوتھا درس
چوتھا درس امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف قرآن و حدیث کی روشنی میں
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت نامہ
نوٹ کورس ٹو: چوتھا کتابچہ: " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
نوٹ: کورس ٹو
تیسرا کتابچہ: " امام مہدی عج قرآن کی رو سے
چوتھا درس
چوتھا درس امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف قرآن و حدیث کی روشنی میں
مقاصد:
۱۔ قرآن مجید کے اُفق سے امام مہدی علیہ السلام کا تعارف
۲۔ احادیث اہل بیت علیہم السلام میں امام مہدی علیہ السلام کے موضوع کے مقام و منزلت کو بیان کرنا۔
فوائد:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر قرآنی دلائل سے آگاہی
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث و روایات سے آشنائی
۳۔ لوگوں کا حضرت کے بارے قلبی عقیدہ کا عمیق ہون
تعلیمی مطالب:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق آیات پر تحقیق کرنا
۲۔ معصومین علیہم السلام کے کلام میں امام مہدی علیہ السلام
الف: قرآن کریم کی روشنی میں
قرآن کریم، انسان کے لئے الٰہی معارف کا نایاب اور ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی حکمتوں اور ابدی علم کا بہتا دریا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام تر صداقت اور سچائی ہے۔ جس میں گذشتہ اور آئندہ کی خبروں کو بیان کیا گیا ہے اور کسی بھی حقیقت کو بیان کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے۔ اگرچہ یہ بات روشن ہے کہ دنیا کے بہت سے ظریف حقائق الٰہی آیات میں پوشیدہ ہیں اور صرف وہی حضرات ان واقعات کی حقیقت تک پہنچتے ہیں جو قرآن کے معانی کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں، اور وہ اہل قرآن کریم اور قرآن کے حقیقی مفسرین یعنی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آپ کی آل پاک ہے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا قیام اور انقلاب اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے بارے میں قرآن کریم کی متعدد آیات اور ان آیات کی تفسیر میں بیان ہونے والی بہت سی روایات میں اشارہ ہوا ہے، ہم یہاں چند نمونے پیش کرتے ہیں:
سورہ انبیاءآیت ۵۰۱ میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ لَقَد کَتَب نَا فِی الزَّبُو رِ مِن بَع دِ الذِّک رِ اَنَّ ال اَر ضَ یَرِثُہَا عِبَادِ ¸ الصَّالِحُو نَ۔﴿
”اور ہم نے ذکرکے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”زمین کو ارث میں لینے والوں سے نیک اور صالح بندے، جو امام مہدی علیہ السلام اور ان کے ناصر و مددگار مرادہیں“۔(تفسیر قمی، ج۲، ص ۲۵)
اسی طرح سورہ قصص آیت ۵ میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ ن رِید اَن تَمُنَّ عَلَی الَّذِی نَ استُضعِفُو ا فِی ال اَر ضِ وَ نَج عَلَہُم ا ئِمَّةً وَ نَج عَلَہُمُ الوَارِثِی نَ۔﴿
”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائین اور زمین کے وارث قرر دے دیں“۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”(مستضعفین) سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی آل ہے۔ خداوند عالم ان کی کوشش اور پریشانیوں کے بعد اس خاندان کے ”مہدی“ کے ذریعہ انقلاب برپا کرائے گا اور ان کو اقتدار اور شکوہ و عظمت کی اوج پر پہنچا دے گا نیز ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر دے گا“۔ ( غیبت طوسی علیہ الرحمہ، ح ۳۴۱، ص ۴۸۱)
اسی طرح سورہ ھود آیت ۶۸ میں ارشاد ہوا ہے:
﴾بَقِیَّةُ اللّٰہِ خَیرلَکُم اِن کُن تُم مُو مِنِی نَ....﴿
”اﷲ کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحب ایمان ہو....“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جس وقت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے، خانہ کعبہ کی دیوار کا سہارا لیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے: ﴾اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی اَر ضِہ وَ خَلِیَفَتُہُ وَ حُجَّتُہُ عَلَی کُم۔﴿ ”میں زمین پر ”بقیة اﷲ، اس کا جانشین اور تم پر اس کی حجت ہوں، پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اس طرح کہے گا: ﴾اَلسَّلَامُ عَلَی کَ یَا بَقِیَّةَ اللّٰہِ فِی اَر ضِہِ﴿ ( کمال الدین ، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۲) اور سورہ حدید آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی ال اَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا قَد بَیَّنَّا لَکُم الآیَاتِ لَعَلَّکُم تَع قِلُو نَ۔﴿
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کرکے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”مراد یہ ہے کہ خداوند عالم زمین کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ان کی عدالت کے ذریعہ زندہ فرمائے گا جو گمراہ حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے مردہ ہو چکی ہو گی“۔
(غیبت نعمانی، ص ۲۳)
ب: احادیث کی روشنی میں
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے سلسلہ میں بہت سی احادیث و روایات ہمارے پاس موجود ہیں، کہ جن میں امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف حصوں پر الگ الگ روایات ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ بیان ہوئی ہیں، جیسے آپ کی ولادت، بچپن کا زمانہ، غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ، ظہور کی نشانیاں، ظہور کا زمانہ، عالمی حکومت، نیز امام مہدی علیہ السلام کی ظاہری اور اخلاقی خصوصیات، غیبت کا زمانہ اور ان کے ظہور کے منتظرین کی جزا اور ثواب کے بارے میں بہت اہم احادیث و روایات موجود ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب روایات شیعہ کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہیں اور ان میں سے بہت سی اہل سنت کی کتابوں میں بھی ذکر ہوئی ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت زیادہ روایات ”متواتر“ ( متواتر ان احادیث کو کہا جاتا ہے جس کے راوی تمام سلسلہ روایت میں اس قدر زیادہ ہوں کہ کہ ان کا کذب پر اتفاق کرنا ناممکن ہو)ہیں۔ان احادیث کی تعداد جو امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں موجود ہیں دس ہزار بنتی ہے جس کا بعض محققین نے شمار کیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ تمام ہی معصومین علیہم السلام نے آپ کے بارے میں گرانقدر کلمات ارشاد فرمائے ہیں جو واقعاً علم و معرفت کا خزانہ ہیں اور عدالت کے اس علمبردار کے قیام اور انقلاب کی حکایت کرتے ہیں، ہم یہاں پر ہر معصوم سے ایک ایک حدیث نقل کرتے ہیں:
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مہدی (علیہ السلام) کی زیارت کریں گے، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان سے محبت کرتا ہو گا، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کی امامت کو مانتا ہو“۔ (بحار الانوار ج ۲۵، ص ۹۰۳)
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”(آل محمد) کے ظہور کے منتظر رہو، اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، کہ بے شک خداوند عالم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام ”ظہور کا انتظار“ ہے۔ (بحار الانوار ، ج ۲۵، ص ۳۲۱)
لوح فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا (مذکورہ روایت میں بیان ہوا ہے کہ جابر ابن عبد اﷲ انصاری کہتے ہیں: حضرت رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام کے موقع پر مبارکبار پیش کرنے کے لئے حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوا، چنانچہ وہ بی بی دو عالم ہاتھوں میں ایک سبز رنگ کا ایک لوح (صفحہ) دیکھی، جس میں سورج کی طرح چمکتی ہوئی تحریر دیکھی۔ میں نے عرض کی: یہ لوح کیسی ہے؟ فرمایا: اس لوح کو خداوند عالم نے اپنے رسول کو تحفہ دیا ہے، اس میں میرے پدر بزرگوار، میرے شوہر، دونوں بیٹوں اور ان کے بعد ہونے والے جانشین کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ رسول خدا نے یہ لوح مجھے عطا کی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میرا دل خوش و خرم رہے) میں بیان ہوا ہے:”........ اس کے بعد اپنی رحمت کی وجہ سے اوصیاءکا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند پر مکمل کر دُوں گا، جو موسیٰ کا کمال، عیسیٰ کا شکوہ اور جناب ایوب کا صبر رکھتا ہو گا........“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۰۳، ص ۹۶۵)
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد پیش آنے والے بعض حوادث کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خداوند عالم آخر الزمان میں ایک قائم کو بھیجے گا ........ اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد کرے گا، اور ان کے ناصران کی حفاظت کرے گا ........ اور اس کو تمام زمین پر رہنے والوں پر غالب کرے گا ........ وہ زمین کو عدالت، نور اور آشکار دلیلوں سے بھر دے گا ........ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ کو درک کرے اور ان کی اطاعت کرے“۔
(احتجاج، ج ۲، ص ۰۷)
حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:”........ خداوند عالم اس (امام مہدی علیہ السلام) کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ اور آباد کر دے گا اور اس کے ذریعہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا، اگرچہ یہ یہ بات مشرکین کو اچھی نہ لگے۔ وہ غیبت اختیار کرے گا جس میں ایک گروہ دین سے گمراہ ہو جائے گا اور ایک گروہ دین (حق) پر قائم رہے گا ........ بے شک جو شخص ان کی غیبت کے زمانہ میں پریشانیوں اور جھٹلائے جانے کی بنا پر صبر کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہو“۔ (کمال الدین، ج ۱ ،باب ۰۳، ح ۳، ص ۴۸۵)
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:”جو شخص قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں ہماری مودّت اور دوستی پر ثابت قدم رہے خداوند عالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۱۳، ص ۲۹۵)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب لوگوں کا امام غائب ہو گا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے........“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳، ح ۵۱، ص ۲۰۶)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد کے لئے دو غیبتیں ہوں گی ایک غیبت صغریٰ اور دوسری غیبت کبریٰ ہو گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۳، ح ۶،ص ۷۵)
حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”امام (مہدی علیہ السلام) لوگوں کی نظروں میں پوشیدہ رہیں گے لیکن مومنین کے دلوںمیں ان کی یاد تازہ رہے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۵۳، ح ۵۶، ص ۰۶)
حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
”جس وقت (امام مہدی علیہ السلام) قیام کریں گے تو ان کے (وجود کے) نور سے زمین روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی ترازو قرار دیں گے اور اس موقع پر کوئی کسی پرظلم و ستم نہیں کرے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۵۳، ح ۵۶، ص ۰۶)
امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں (مومنین کو) ان کے ظہور کا انتظار کرنا چاہیے اور جب وہ ظہور اور قیام کریں تو ان کی انہیںاطاعت کرنا چاہئے“
(غیبت نعمانی، باب ۶۳، ح ۱، ص ۰۷)
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:”میرے بعد میرا فرزند حسن (عسکری) امام ہو گا اور ان کے بعد ان کا فرزند ”قائم“ امام ہو گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہو گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۷۳، ح ۰۱، ص ۹۷)
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
”اس خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ہے جس نے میری زندگی میں مجھے جانشین عطا کر دیاہے وہ خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۷۳، ح ۷، ص ۸۱۱)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
حضرت مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عالمی حکومت کا موضوع بہت سی آیات میں بیان ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے بھی اس امر کا آخری زمانہ میں وعدہ دیا ہے جیسا کہ قرآنی آیات سے سمجھا جا سکتاہے۔
پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث میں امام مہدی عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف، ان کی زندگی کے ادوار، ظہور کی نشانیاں، قیام کی کیفیت، حضرت مہدی کی حکومت کی خصوصیات اور اس کے بے نظیر ثمرات کے بارے میں تفصیلی طور پر بتایا گیا ہے۔
درس کے سوالات
۱۔ سورہ ھود آیہ مبارکہ ۶۸ بقیةاﷲ خیر لکم اس کے ذیل میں روایات پر غور کرتے ہوئے معنی کریں؟
۲۔ سورہ قصص کی آیت ۵ میں مستضعفین سے مراد کی وضاحت کریں؟
۳۔ پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں میںسے کن گروہوں کو اہل بشارت قراردیا؟
۴۔ امام سجاد علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے اجر کو کن چیزوں کے برابر قراردیا؟
۵۔ امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند اور اپنے بعد جانشین کی شیعوں کے لئے کیسے توصیف فرمائی؟
ة....ة....ة....ة....ة
### درس کے سوالات کے جوابات
**سوال 1: سورہ ھود آیہ مبارکہ 68 بقیةاللہ خیر لکم اس کے ذیل میں روایات پر غور کرتے ہوئے معنی کریں؟**
**جواب:**
آیت کے مطابق "بقیة اللہ" سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ کے فضل و کرم سے باقی رہتی ہے اور مومنین کے لئے خیر و برکت کا باعث بنتی ہے۔ روایات کے مطابق امام مہدی (عج) کو "بقیة اللہ" کہا گیا ہے، جن کا ظہور مومنین کے لئے خیر کا موجب ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ اس طرح، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ امام مہدی (عج) کا ظہور اور ان کی قیادت مومنین کے لئے بہترین ہوگی۔
**سوال 2: سورہ قصص کی آیت 5 میں مستضعفین سے مراد کی وضاحت کریں؟**
**جواب:**
سورہ قصص کی آیت 5 میں "مستضعفین" سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے۔ روایات کے مطابق، یہ مراد ہے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل، یعنی اہل بیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے زمین کو انصاف سے بھرنے کا وعدہ فرما رہا ہے، جس کا آغاز امام مہدی (عج) کے ظہور سے ہوگا۔
**سوال 3: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں میں سے کن گروہوں کو اہل بشارت فرمایا؟**
**جواب:**
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو خوشخبری دی ہے جو امام مہدی (عج) کی زیارت کریں گے، ان سے محبت کریں گے، اور ان کی امامت کو قبول کریں گے۔ یہ لوگ بشارت یافتہ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ امام مہدی (عج) کی قیادت میں حقیقی اسلام کے ساتھ وابستگی اختیار کریں گے۔
**سوال 4: امام سجاد علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے اجر کو کس کے برابر قراردیا؟**
**جواب:**
امام سجاد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو شخص غیبت کے دوران ولایت اہل بیت (علیہم السلام) پر ثابت قدم رہتا ہے، اس کو اجر میں بدر و احد کے شہدا کے ہزار شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا۔ یہ بہت بڑا اجر ہے کیونکہ یہ دور ایمان کی مشکلات اور آزمائشوں سے بھرپور ہوگا۔
**سوال 5: امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند اور اپنے بعد جانشین کی شیعوں کے لئے کیسے توصیف فرمائی؟**
**جواب:**
**جواب:** امام حسن عسکری (علیہ السلام) نے اپنے فرزند اور جانشین، امام مہدی (علیہ السلام) کی توصیف فرمائی کہ وہ خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ ان کی ظاہری شکل اور باطنی صفات، دونوں حیثیتوں سے، پیغمبر اکرم کی یاد دلاتی ہیں۔ امام عسکری (علیہ السلام) کا یہ بیان امام مہدی (علیہ السلام) کی عظیم شخصیت اور ان کے عدل و انصاف کے قیام کے لئے منتظر امت کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ ان کا جانشین نہ صرف نسلی وراثت میں، بلکہ روحانی اور اخلاقی قیادت میں بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حقیقی جانشین ہوگا۔ اس طرح، شیعوں کے لئے ان کی شخصیت اور قیادت میں ایک روشنی اور راہنمائی کا مقام ہے۔
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت نامہ
(کورس ون)
پانچواں درس
حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت اور دیگر مذاہب کی نظر میں
مقاصد:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اہل سنت کے نظریات سے آگاہی۔
۲۔ اہل سنت کے ماخذات میں امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کو بیان کرن
فوائد:
۱۔ احادیث سے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع کے متواتر ہونے کاثبوت۔
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے بہت سے علماءاہل سنت کے شیعوں کے ساتھ متفقہ نکتہ نظر سے آگاہی۔
تعلیمی مطالب:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کے حدیثی منابع میں
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماءاہل سنت کی آرائ
۳۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماءاہل سنت کی قلمی کاوشیں
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) غیروں کی نظر میں
خوشتر آن باشد کہ سرّ دلبران گفتہ آید در حدیث دیگران
”صداقت وہ ہے جس کا اقرار دشمن کرے“۔
امام مہدی علیہ السلام کے عظیم الشان قیام اور عالمی انقلاب کا موضوع نہ صرف شیعہ کتب میں بیان ہوا ہے بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی اعتقادی کتابوں میں بھی بیان ہوا ہے اور آپ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں تفصیلی طور پر گفتگو ہوئی ہے وہ لوگ بھی آل پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا ( المستدرک علی الصحیحین، ج ۴، ص۷۵) کی نسل سے مہدی کے ظہور کے قائل ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اہل سنت کے عقیدہ کی شناخت کے لئے بزرگ علمائے اہل سنت کی کتابون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ متعدد سنی مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسے فخر الدین رازی ( التفسیر الکبیر، ج ۶۱، ص ۰۴) اور علامہ قرطبی۔
(التفسیر القرطبی، ج ۸، ص ۱۲۱)
اسی طرح اکثر اہل سنت کے محدثین نے امام مہدی (عج) کے سلسلہ میںبیان ہونے والی احادیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جن میں اہل سنت کی معتبر کتابیں بھی شامل ہیںجیسے ”صحاح ستہ“ ( اہل سنت کی چھ صحیح کتابوں کو ”صحاح ستہ“ کہا جاتا ہے جو تمام احادیث کی کتابیں ہیں اور اہل سنت کے نزدیک معتبر اور موثق ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں، جن کے نام اس طرح ہیں ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداﺅد، سنن نسائی اور جامع ترمذی“ اور ان کتابوں میں نقل ہونے والی احادیث کو ”صحیح“ اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا کلام مانا جاتاہے اور اہل سنت کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سب سے معتبر انہیں کتابوں کو مانا جاتا ہے۔) اور مسند احمد بن حنبل (حنبلی فرقہ کے بانی)(گذشتہ اور عصر حاضر کے) بعض دیگر علمائے اہل سنت نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھیں ہیں جیسے ابو نعیم اصفہانی نے ”مجموعہ الاربعین (چالیس حدیث)، اور سیوطی نے کتاب ”العرف الوردی فی اخبار المہدی علیہ السلام“۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض علمائے اہل سنت نے عقیدہ مہدویت کے دفاع اور اس عقیدہ کے منکرین کی رَد میں بھی کتابیں اور مقالات تحریر کئیے ہیں اور علمی بیانات اور احادیث کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے واقعہ کو یقینی اور غیر قابل انکار مسائل میں شمار کیا ہے جیسے ”محمد صدیق مغربی“ کہ جنہوں نے ”ابن خلدون“ کی رد میں ایک کتاب لکھی اور اس کی باتوں کا دندان شکن جواب دیا ہے (”ابن خلدون“ جنہیں اہل سنت میں معاشرتی علوم کا عظیم دانشور کہا جاتا ہے اُنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بعض روایات پر اعتراض کیاہے اور ان کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق بعض روایات کو صحیح بھی مانا ہے لیکن پھر بھی اُنہوں نے مہدویت کے مسئلہ میں شک و تردید کا اظہار کیا ہے ”محمد صدیق مغربی“ نے اپنی کتاب ”اِبرازُ الوہم المَکُنُو ±ن میں کلام ابن خلدون“ میں ان کی باتوں کو رَد کیا ہے۔) یہ اہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے عقیدہ کی مثالیں تھیں۔
قارئین کرام! ہم یہاں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں اہل سنت سے نقل ہونے والی سینکڑوں احادیث میں سے دو نقل کرتے ہیں کہ جو ان کی مشہور اور قابل اعتماد کتابوں میں سے لی گئی ہیں:۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”اگر دُنیا (کی عمر) کا صرف ایک دن بھی باقی رہ گیا ہو تو بے شک خداوند عالم اس دن کو اتنا طویل فرما دے گا کہ میری نسل سے میرا ہم نام ایک شخص قیام کرے گا“۔ ( سنن ابوداﺅد، ج ۲، ح ۲۸۲۴، ص ۶۰۱)
نیز آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا جس کا نام اور سیرت مجھ سے مشابہ ہو گی، وہ (دُنیا کو) عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی“۔ ( معجم الکبیر، ج ۰۱، ح ۹۲۲، ص ۳۸)
قابل ذکر ہے کہ آخر الزمان میں منجی بشریت اور دُنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے کے ظہور کا عقیدہ ایک عالمی اور سب کے نزدیک مقبول عقیدہ ہے اور سچے آسمانی ادیان کے سب ماننے والے اپنی اپنی کتابوں کی تعلیمات کی بنیاد پر اس قائم کے منتظر ہیں، کتاب مقدس زبور، توریت اور انجیل نیز ہندو ¿ں، آتش پرستوں اور براہمن کی کتابوں میں بھی منجی بشریت کے ظہور کی طرف اشارہ ہے البتہ ہر قوم و ملت نے اس کو الگ الگ لقب سے یاد کیاہے، آتش پرستوں نے اس کو ”سوشیانس“ (یعنی دُنیا کو نجات دینے والے)، عیسائیوں نے اس ”مسیح موعود“ اور یہودیوں نے اس کو ”سرور میکائلی“ کے نام سے یاد کیا ہے۔
آتش پرستوں کی مقدس کتاب ”جاما سب نامہ“ کی تحریر کچھ اس طرح ہے:
”عرب کا پیغمبر آخری پیغمبر ہوگا جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان پیدا ہو گا ........ اپنے غلاموں کے ساتھ متواضع اور غلاموں کی طرح نشست و برخاست کرے گا........ اس کا دین سب ادیان سے بہتر ہو گا ، اس کی کتاب تمام کتابوں کو باطل کرنے والی ہو گی .... اس پیغمبر کی بیٹی (جس کا نام خورشید جہاں اور شاہ زمان نام ہوگا) کی نسل سے خدا کے حکم سے اس دُنیا میں ایک ایسا بادشاہ ہو گا جو اس پیغمبر کا آخری جانشین ہو گا، جس کی حکومت قیامت سے متصل ہو گی“۔ ( ادیان و مہدویت، ص ۱۲)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
تمام اسلامی فرقے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصل عقیدہ میں کہ آپ پیغمبر اکرم کی نسل مبارک سے آخری نجات دہندہ ہیں پر اتفاق نظر رکھتے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث اہل سنت کے معتبر منابع مثلاً صحاح ستہ، مسند احمد، وغیرہ میں بھی نقل ہوئی ہیں۔
بہت سے علماءاہل سنت نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی روایات اور حیات مبارکہ پر مستقل کتابیں تالیف کیں اور ان میں سے بعض دانشوروں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے متعلق روایات کے دفاع اور ان کے منکرین کی رد میں بھی کتابیں اور علمی و تحقیقی مقالات تحریر کئے ہیں۔
درس کے سوالات
۱۔ اہل سنت کے مفسرین میں سے دو ایسے مفسروں کے بارے میں بتائیے کہ جنہوں نے قرآنی آیات کی امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تفسیر ہو۔
۲۔ علماءاہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر تحریر کی گئی اہم ترین تالیفات میں سے کسی دو کے بارے میں بتائیے؟
۳۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے محمد صدیق مغربی(اہل سنت کے معروف مصنف)کی تالیف کا کیا نام ہے اور کس ہدف کے تحت تحریر کی گئی ہے؟
۴۔ سوشیانس کون سی کتاب ہے آخری دین اور آنے والے نجات دہندہ کی کیسے توصیف کرتی ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة
درس کے سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں:
**۱۔ اہل سنت کے مفسرین میں سے دو ایسے مفسروں کے بارے میں بتائیے کہ جنہوں نے قرآنی آیات کی امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تفسیر ہو۔**
جواب: دو اہم مفسراین جنہوں نے قرآنی آیات میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی تفسیر کی ہیں وہ ہیں فخر الدین رازی اور علامہ قرطبی۔ فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر "التفسیر الکبیر" میں اور علامہ قرطبی نے "التفسیر القرطبی" میں اس موضوع پر بحث کی ہے۔
**۲۔ علماء اہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر تحریر کی گئی اہم ترین تالیفات میں سے کسی دو کے بارے میں بتائیے؟**
جواب: دو اہم تالیفات میں سے ایک ابو نعیم اصفہانی کی کتاب "مجموعہ الاربعین" ہے جس میں امام مہدی علیہ السلام کی حدیثیں جمع کی گئی ہیں۔ دوسری اہم تالیف السیوطی کی کتاب "العرف الوردی فی اخبار المہدی علیہ السلام" ہے، جس میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مفصل معلومات دی گئی ہیں۔
**۳۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے محمد صدیق مغربی(اہل سنت کے معروف مصنف)کی تالیف کا کیا نام ہے اور کس ہدف کے تحت تحریر کی گئی ہے؟**
جواب: محمد صدیق مغربی کی تالیف کا نام "ابراز الوهم المکنون فی کلام ابن خلدون" ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ابن خلدون کے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر کئے گئے اعتراضات کا دفاع کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے عقیدے کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
**۴۔ سوشیانس کون سی کتاب ہے آخری دین اور آنے والے نجات دہندہ کی کیسے توصیف کرتی ہے؟**
جواب: "سوشیانس" کو آتش پرستوں کی مقدس کتاب "جاما سب نامہ" میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سوشیانس کو آخری نجات دہندہ اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھرنے والا بتایا گیا ہے، جو عرب کا پیغمبر (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل سے ہوگا اور اس کی حکومت قیامت کے قریب تک رہے گی۔
دوسری چار PDFs مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
(کورس ون)
مہدویت نامہ
چھٹا درس
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت اور اس کے اسباب
مقاصد:
۱۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے آشنائی
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب اور فلسفہ سے آگاہی
۳۔ غیبت کے مختلف ادوار سے آشنائی
فوائد:
۱۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظاہری حضور سے محروم ہونے کے بعض دلائل سے آشنائی
۲۔ ظہور امام علیہ السلام کے اسباب فراہم کرنے کےلئے کوشش وجدوجہدکا انگیزہ پیدا ہونا
۳۔ حضرتعلیہ السلام کی غیبت کے ادوار سے آگاہی
تعلیمی مطالب:
۱۔ غیبت کے مفہوم سے آگاہی
۲۔ غیبت کا تاریخچہ
۳۔ امام زمانہ (عج) کی غیبت کے اسباب
٭ لوگوں کو تنبیہ
٭ امتحان اور آزمائش
٭ امام کی جان کی حفاظت
٭ الٰہی اسرار میں سے ایک راز
۴۔ غیبت صغریٰ اور کبریٰ کے ادوار
غیبت
قارئین کرام! اب جبکہ منجی بشریت اور حضرت آدم علیہ السلام تا خاتم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے الٰہی مقاصد کو پایہ ¿ تکمیل تک پہنچانے والے آخری الٰہی ذخیرہ حضرت حجة بن الحسن علیہ السلام کی شخصیت سے آشنا ہوگئے، اس وقت وحید الزمان کی غیبت کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے جو آپ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
غیبت کے معنی
سب سے پہلا نکتہ قابل ذکر یہ ہے کہ غیبت کے معنی ”آنکھوں سے مخفی ہونا“اورعدم پہچان ہے نہ کہ حاضر نہ ہونا، لہٰذا اس حصہ میں گفتگو اس زمانہ کی ہے جب امام مہدی علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں، یعنی لوگ آپ کو نہیں پہچان پاتے جبکہ آپ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور ان کے درمیان زندگی بسر کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”قسم ہے خداوند عالم کی، حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، راستوں میں (کوچہ و بازار میں) موجود رہتی ہے، ان کے گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے، زمین پر مشرق سے مغرب تک آمدورفت کرتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے اور ان پر سلام بھیجتی ہے، وہ دیکھتی ہے لیکن آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں جب تک خدا کی مرضی اور اس کا وعدہ پورا نہ ہو“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۰۱، ح ۳، ص ۶۴۱)
اگرچہ امام مہدی 0علیہ السلام کے لئے غیبت کی ایک دوسری قسم بھی بیان ہوئی ہے:امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے دوسرے نائب خاص بیان فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام حج کے دنوں میں ہر سال حاضر ہوتے ہیں، لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو پہچانتے ہیں، لوگ ان کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۳۲، ص ۲۵۱)
اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت دو طرح کی ہے: آپ علیہ السلام بعض مقامات پر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور بعض مقامات پر آپعلیہ السلام لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں لیکن آپعلیہ السلام کی پہچان نہیں ہوتی، بہرحال امام مہدی علیہ السلام لوگوں کے درمیان حاضراور موجود رہتے ہیں۔
غیبت کی تاریخی حیثیت
غیبت اور مخفی طریقہ سے زندگی کرنا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو پہلی بار اور صرف امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہو بلکہ متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بہت سے انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کا ایک حصہ غیبت میں بسر ہوا ہے اور اُنہوں نے ایک مدت تک مخفی طریقہ سے زندگی کی ہے اور یہ چیز خداوند عالم کی مصلحت اور حکمت کی بنا پر تھی ، نہ کہ کسی ذاتی اور خاندانی مصلحت کی بنیاد پر۔غیبت ایک ”الٰہی سنت“ ( قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جیسے سورہ ¿ فتح، آیت ۳۲، اور سورہ ¿ اسراءآیت ۷۷) ”الٰہی سنت“ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جن کے پیش نظریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الٰہی سنت سے مراد خداوند عالم کے ثابت اور بنیادی قوانین ہیں جن میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آسکتی یہ قوانین گذشتہ قوموں میں نافذ تھے اور آج نیزموجودہیں اور آئندہ بھی نافذ رہیں گے۔ (تفسیر نمونہ، ج ۷۱، ص ۵۳۴ کا خلاصہ) ہے جو متعدد انبیاءعلیہم السلام کی زندگی میں دیکھی گئی ہے جیسے حضرت ادریس (ع)، حضرت نوح(ع)، حصرت صالح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت یوسف (ع)، حضرت موسیٰ (ع)، حضرت شعیب (ع)، حضرت الیاس (ع)، حضرت سلیمان (ع)، حضرت دانیال (ع) اور حضرت عیسٰی(ع) (علیہم السلام)، اور حالات کے پیش نظر ان تمام انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کئی سالوں تک غیبت (اور مخفی طریقہ) سے بسر ہوئی ہے۔
( کمال الدین، ج ۱، باب ۱ تا ۷، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳)
اسی وجہ سے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی روایتوں میں ”غیبت“ کو انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے جاری ہونے کو غیبت کی دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”بے شک ہمارے قائم (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس کی مدت طویل ہو گی۔ راوی کہتا ہے: اے فرزند رسول! اس غیبت کی وجہ کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ غیبت کے سلسلہ میں انبیاء(علیہم السلام) کی سنت آپ کے بارے میں (بھی) جاری رکھے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۳، ص ۰۹)
قارئین کرام! مذکورہ گفتگو سے یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت کا مسئلہ بیان ہوتا رہا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) تا امام حسن عسکری علیہ السلام نے آپعلیہ السلام کی غیبت اور آپعلیہ السلام کے زمانہ میں پیش آنے والے بعض واقعات کی خصوصیات بھی بیان کی ہیں، نیز غیبت کے زمانہ میں مومنین کے فرائض بھی بیان کئے ہیں۔
(دیکھئے: منتخب الاثر، فصل۲، باب ۶۲ تا ۹۲، ص ۲۱۳ تا ۰۴۳)
پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”مہدی (علیہ السلام) میری (ہی) نسل سے ہو گا ........ اور وہ غیبت میں رہے گا، لوگوں کی حیرانی (و پریشانی) اس حد تک بڑھ جائے گی کہ لوگ دین سے گمراہ ہو جائیں گے اور پھر (جب حکم خدا ہو گا) چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح ظلم و جور سے زمین بھری ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۵۲، ح ۴، ص ۶۳۵)
غیبت کا فلسفہ
سوال یہ ہے کہ کیوں ہمارے بارہویں امام اور حجت خدا غیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ہم امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ظہور کی برکتوں سے محروم ہیں؟
قارئین کرام! اس سلسلہ میں گفتگو تفصیل سے احادیث میں ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بہت سی روایات بھی موجود ہیں، لیکن ہم یہاں مذکورہ سوال کا جواب پیش کرنے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خداوند عالم کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، چاہے ہم ان مصلحتوں کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، نیز کائنات کر ہر چھوٹااور بڑا واقعہ خداوند عالم کی تدبیر اور اسی کے ارادہ سے انجام پاتا ہے جن میں سے مہم ترین واقعہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مسئلہ ہے، لہٰذا آپ کی غیبت کا مسئلہ بھی حکمت و مصلحت کے مطابق ہے اگرچہ ہم اس کے فلسفہ کو نہ جانتے ہوں۔
سرّ الٰہی
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”بے شک صاحب العصر (علیہ السلام) کے لئے ایسی غیبت ہو گی جس میں ہر اہل باطل شک و تردید کا شکار ہو جائے گا“۔
راوی نے آپ کی غیبت کی وجہ معلوم کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”غیبت کی وجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم تمہارے سامنے بیان نہیں کر سکتے........ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے، لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم صاحب حکمت ہے کہ جس کے تمام کام حکمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اگرچہ ہمیں ان کی وجوہات کا علم نہ ہو“۔
(کمال الدین، ج ۱، باب ۴۴، ص ۴۰۲)
اگرچہ اکثر مقامات پر انسان خداوند عالم کے کاموں کو حکمت کے تحت مانتے ہوئے ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے، لیکن پھر بھی بعض حقائق کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس حقیقت کے فلسفہ کو جان لینے سے سے مزید مطمئن ہو جائے، چنانچہ اسی اطمینان کی خاطر ہم امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی حکمت اور اس کے آثار پر تحقیق و تجزیہ شروع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
عوام کی تادیب
جب اُمت اپنے نبی یا امام کی قدر نہ کرے اور اپنے فرائض کو انجام نہ دے بلکہ اس کی نافرمانی کرے تو پھر خداوند عالم کے لئے یہ بات روا ہے کہ ان کے رہبر اور ہادی کو ان سے الگ کر دے تاکہ وہ اس کی جدائی کی صورت میں اپنے گریبان میں جھانکیں، اور اس کے وجود کی قدر و قیمت اور برکت کو پہچان لیں، لہٰذا اس صورت میں امام کی غیبت اُمت کی مصلحت میں ہے اگرچہ ان کو معلوم نہ ہو اور وہ اس بات کو نہ سمجھ سکیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:”جب خداوند عالم کسی قوم میں ہمارے وجود اور ہماری ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو پھر ہمیں ان سے جدا کر لیتا ہے“۔ (علل الشرائع، باب ۹۷۱، ص ۴۴۲)
دوسروں کے عہد و پیمان کے تحت نہ ہونا بلکہ مستقل ہونا
جو لوگ کسی جگہ کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ اپنے انقلاب کی ابتداءمیں اپنے بعض مخالفوں سے عہد و پیمان باندھتے ہیں تاکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں، لیکن امام مہدی علیہ السلام وہ عظیم الشان اصلاح کرنے والے ہیں جو اپنے انقلاب اور عالمی عادلانہ حکومت کے لئے کسی بھی ظالم و ستمگر سے کسی طرح کی کوئی موافقت نہیں کریں گے کیونکہ بہت سی روایات کے مطابق آپ کو سب ظالموں سے یقینی طور پر ظاہر بظاہر مقابلہ کرنے کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے جب تک اس انقلاب کا راستہ ہموار نہیں ہو جاتا اس وقت تک آپ غیبت میں رہیں گے تاکہ آپ کو دشمنان خدا سے عہد و پیمان نہ کرنا پڑے۔
غیبت کی وجہ بارے حضرت امام رضا علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے:
”اس وقت جبکہ (امام مہدی علیہ السلام) تلوارکے ذریعہ قیام فرمائیں گے تو آپ کا کسی کے ساتھ عہد و پیمان نہ ہو گا“۔(کمال الدین، ج ۲، باب ۴۴، ص ۲۳۲)
لوگوں کا امتحان
لوگوں کا امتحان کرنا خداوند عالم کی ایک سنت ہے، وہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ راہ حق میں ان کے ثابت قدم کی وضاحت ہو جائے، اگرچہ اس امتحان کا نتیجہ خداوند عالم کو معلوم ہوتا ہے لیکن اس امتحان کی بھٹی میں بندوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اوروہ اپنے وجود کے جوہر کو پہچان لیتے ہیں۔حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:”جب میرا پانچواں فرزند غائب ہو گا، تو تم لوگ اپنے دین کی حفاظت کرتا تاکہ کوئی تمہیں دین سے خارج نہ کر پائے، کیونکہ صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس میں اس کے (بعض) ماننے والے اپنے عقیدہ سے پھر جائیں گے اور اس غیبت کے ذریعہ خداوند عالم اپنے بندوں کا امتحان کرے گا“۔ (غیبت شیخ طوسی علیہ الرحمہ، فصل۵، ح ۴۸۲، ص ۷۳۲)
امام کی حفاظت
انبیاءعلیہم السلام کے اپنی قوم سے جدا ہونے کی ایک وجہ اپنی جان کی حفاظت تھی، یہ حضرات اس وجہ سے خطرناک موقع پر مخفی ہو جاتے تھے تاکہ ایک مناسب موقع پر اپنی رسالت اور ذمہ داری کو پہنچا سکیں، جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) مکہ معظمہ سے نکل کر ایک غار میں مخفی ہو گئے،یا کچھ دنوں کے لئے طائف چلے گئے، البتہ یہ سب خداوند عالم کے حکم اور اس کے ارادہ سے ہوتا تھا۔حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور آپعلیہ السلام کی غیبت کے بارے میں بھی متعدد روایات یہی وجہ بیان کرتی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”امام منتظر اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نظروں سے غائب رہیں گے“۔جب امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ معلوم کی گئی تو آپعلیہ السلام نے فرمایا:”انہیں اپنی جان کا خطرہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، ح ۷، ص ۳۳۲)
شہادت کی تمنا
اگرچہ شہادت کی تمنا خدا کے سب نیک بندوں کے دلوں میں ہوتی ہے لیکن ایسی شہادت جو دین اور معاشرہ کی اصلاح اور اپنے فرائض کو نبھاتے ہوئے ہو لیکن اگر اسکا قتل ہونا ضیاع اور بڑے مقاصد کے خاتمہ کا سبب بنے تو ایسے موقع پر قتل سے بچنا ایک دانشمندانہ اور حکیمانہ کام ہے۔ آخری ذخیرہ الٰہی یعنی بارہویں امام کے قتل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خانہ کعبہ منہدم ہو جائے تمام انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کی تمناﺅں پر پانی پھر جائے اور عالمی عادل حکومت کے بارے میں خداکا وعدہ پورا نہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ متعدد روایات میں غیبت کی وجوہات کے سلسلہ میں دوسرے نکات بھی بیان ہوئے ہیں جن کو ہم اختصار کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے جس کی اصلی اور بنیادی وجہ امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد ہی واضح ہو گی۔ ہم نے جو کچھ اس سلسلہ میں اسباب بیان کئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کی غیبت میں اہم اثرات کے حامل ہیں۔
غیبت کی اقسام
قارئین کرام! مذکورہ مطالب کے پیش نظر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت لازم اور ضروری ہے، لیکن چونکہ ہمارے ہادیوں کے تمام اقدامات لوگوں کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لئے ہوتے تھے، لہٰذا اس چیز کا خوف تھا کہ اس آخری حجت الٰہی کی غیبت کی وجہ سے مسلمانوں کی دینداری پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچیں گے، لہٰذا غیبت کے زمانہ کا بہت ہی حساب و کتاب اور دقیق منصوبہ بندی کے تحت آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت اور اس کی ضرورت کے بارے میں گفتگو جاری و ساری تھی اور آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی محفلوں میں نقل ہوتی تھی، اسی طرح امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام لوگوں سے ایک نئے انداز اور خاص حالات میں رابطہ ہوتا تھا، اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا تھا کہ بہت سی مادّی اور معنوی ضرورتوں میں امام معصوم علیہ السلام کی ملاقات پر مجبور نہیں ہیں، بلکہ ائمہ علیہم السلام کی طرف سے معین وکلاءاور قابل اعتماد حضرات کے ذریعہ اپنے فرائض پر عمل کیا جا سکتا ہے، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور حصرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی غیبت (صغریٰ) کے آغاز سے امام اور اُمت کے درمیان رابطہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ مومنین اپنے مولا و آقا اور امامعلیہ السلام کے خاص نائب کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور یہی زمانہ تھا کہ جس میں شیعوں کو دینی علماءسے وسیع پیمانہ پر رابطہ کی عادت ہوئی کہ امام علیہ السلام کی غیبت میں بھی اپنے دینی فرائض کی پہچان کا راستہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر مناسب تھا کہ حضرت بقیة اﷲ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کبریٰ کا آغاز ہو اور امام علیہ السلام اور شیعوں کے درمیان گذشتہ زمانہ میں رائج عام رابطہ کا سلسلہ بند ہو جائے۔اس سے پہلے ایک چھوٹی غیبت ہو۔
قارئین کرام! ہم یہاں غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی خصوصیات کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں:
غیبت صغریٰ
۰۶۲ھ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد ہمارے بارہویں امام کی امامت کا آغاز ہوا اور اسی وقت سے آپ کی ”غیبت صغریٰ“ کا بھی آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ ۹۲۳ھ (تقریباً ۰۷ سال) تک جاری رہا۔
غیبت صغریٰ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ مومنین امام مہدی علیہ ا لسلام کے خاص نائبین کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ امام مہدی علیہ السلام کے پیغامات حاصل کرتے تھے اور اپنے سوالات آپ کی خدمت میں بھیجتے تھے (خطوں کی تحریر (جو توقیعات کے نام سے مشہور ہیں) شیعہ علماءکی کتابوں میں موجود ہے (جیسے بحار الانوار، ج ۳۵، باب ۱۳، ص ۰۵۱ تا ۷۹۵) اور کبھی امام مہدی علیہ السلام کے نائبین کے ذریعہ آپ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہو جاتا تھا۔امام مہدی علیہ السلام کے نواب اربعہ جو عظیم الشان شیعہ عالم دین تھے اور خود امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ذریعہ منتخب ہوتے تھے ان کے اسمائے گرامی ان کی نیابت کی ترتیب سے اس طرح ہیں:
۱۔ عثمان بن سعید عَمری: آپ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے آغاز سے امام کی نیابت کرتے تھے۔ موصوف نے ۵۶۲ھ میں وفات پائی یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ موصوف امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھی وکیل تھے۔
۲۔ محمد بن عثمان عمری: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے نائب اوّل کے فرزند تھے اور اپنے والد گرامی کے انتقال پر امام کی نیابت پر فائزہوئے، موصوف نے ۵۰۳ھ میں وفات پائی۔
۳۔ حسین بن رُوح نوبختی: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے ۱۲ سال نائب رہے جس کے بعد ۶۲۳ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔
۴۔ علی بن محمد سم ری: موصوف کا انتقال ۹۲۳ھ میں ہوا اور انکی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہو گیا۔امام مہدی علیہ السلام کے خاص نائبین امام حسن عسکری علیہ السلام اور خود امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ انتخاب ہوئے تھے اور لوگوں میں ان کا تعارف کروایا جاتا تھا۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک روز عثمان بن سعید (نائب اوّل) کے ساتھ چالیس مومنین امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے، امام علیہ السلام نے ان کو اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرا جانشین اور تمہارا امام ہو گا، تم لوگ اس کی اطاعت کرنا، اور جان لو کہ آج کے بعد اس کو نہیں دیکھ پاﺅ گے، یہاں تک کہ اس کی عمر کامل ہو جائے، لہٰذا (اس کی غیبت کے زمانہ میں) جو کچھ عثمان (بن سعد) کہیں اسکو قبول کرنا، اور ان کی اطاعت کرنا کہ وہ تمہارے امام کے نائب ہیں اور تمام امور کی ذمہ داری انہیں پر ہے“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۹۱۳، ص ۷۵۳)
امام حسن عسکری علیہ السلام کی دوسری روایت میں محمد بن عثمان کو امام مہدی علیہ السلام کے (دوسرے) نائب کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”عثمان بن سعید“ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم سے یمن کے شیعوں کا لایا ہوا مال وصول کیا، اس وقت بعض مومنین نے جو اس واقعہ کے شاہد تھے، امام علیہ السلام سے عرض کی: خدا کی قسم! عثمان آپ کے بہترین شیعوں میں سے ہیں لیکن اس کام کا آپ کے نزدیک انکا مقام ہم پر واضح ہو گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! تم لوگ گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں اور اس کا فرزند ”محمد“ میرے بیٹے ”مہدی“ کا وکیل ہو گا“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۷۱۳، ص ۵۵۳)
یہ تمام واقعات امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے کے ہیں، غیبت صغریٰ میں بھی آپ کا ہر نائب اپنی وفات سے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے منتخب ہونے والے نائب کا تعارف کرا دیتا تھا۔یہ حضرات چونکہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے جس کی بنا پر ان میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نیابت کی لیاقت پیدا ہوئی، ان حضرات کی مخصوص صفات کچھ اس طرح تھیں: امانت داری، عفت، رفتار و گفتار میں عدالت، رازداری اور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مخصوص حالات میں اسرار اہل بیت علیہم السلام کو مخفی رکھنا، یہ حضرات امام مہدی علیہ السلام کے قابل اعتماد افراد تھے اور خاندان عصمت و طہاعت کے مکتب کے پروردہ تھے، اُنہوں نے مستحکم ایمان کے زیرِ سایہ علم کی دولت حاصل کی تھی، ان کی نیک نامی مومنین کی ورد زبان تھی، سختیوں اور پریشانیوں میں صبر و بردباری کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت حالات میں اپنے امام علیہ لسلام کی مکمل اطاعت کیا کرتے تھے۔ اور ان تمام نیک صفات کے ساتھ ان کے یہاں شیعوں کی رہبری کی لیاقت بھی پائی جاتی تھی، نیز مکمل فہم و شعور اور حالات کی شناخت کے ساتھ اپنے پاس موجود وسائل کے ذریعہ شیعہ معاشرہ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرماتے تھے اور مومنین کو پل غیبت صغریٰ سے صحیح و سالم گزار دیا۔غیبت صغریٰ اور امام اور اُمت کے درمیان رابطہ ایجاد کرنے میں نواب اربعہ کے کردار کا ایک عمیق مطالعہ امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اس حصہ کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے، اس رابطہ کا وجود اور غیبت صغریٰ میں بعض شیعوں کا امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہونا بارہویں امام اور آخری حجت خدا کی ولادت کے اثبات میں بھی بہت موثر رہا ہے اور یہ اہم نتائج اس زمانہ میں حاصل ہوئے کہ جب دشمنوں کی یہ کوشش تھی کہ شیعوں کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند کی پیدائش کے حوالہ سے شک و تردید میں ڈال دیں، اس کے علاوہ غیبت صغریٰ کا یہ زمانہ غیبت کبریٰ کی شروععات کےلئے ایک ہموار راستہ تھا جس میں مومنین اپنے امام سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے لیکن اطمینان اور یقین کے ساتھ امام علیہ السلام کے وجود اور ان کے برکات سے فیضیاب ہوتے ہوئے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں داخل ہو گئے
۔ة....ة....ة....ة....ة
غیبت کبریٰ
امام مہدی علیہ السلام کے چوتھے نائب کی زندگی کے آخری دنوں میں آپعلیہ السلام نے ان کے نام خط میں یوں تحریر فرمایا:
بِس مِ اللّٰہِ الرَّح مٰنِ الرَّحِی م
اے علی بن محمد سمری! خداوند عالم آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عنایت فرمائے کیونکہ آپ چھ دن کے بعد عالم بقاءکی طرف کوچ کر جائیں گے، اسی وجہ سے اپنے کاموں کو خوب دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کسی کو اپنا وصی نہ بناﺅ! کیونکہ مکمل (اور طولانی) غیبت کا زمانہ پہنچ گیا ہے، اس کے بعد سے مجھے نہیں دیکھ پاﺅ گے، جب تک خدا کا حکم ہو گا، اور اس کے بعد ایک طویل مدت ہو گی جس میں دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۵۶۳، ص ۵۹۳)
اس بنا پر بارہویں امام علیہ السلام کے آخری نائب کی وفات کے بعد ۹۲۳ھ سے ”غیبت کبریٰ“ کا آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے جب تک کہ خدا کی مرضی سے غیبت کے بادل چھٹ جائیں اور یہ دُنیا ولایت و امامت کے چمکتے ہوئے سورج سے براہ راست فیضیاب ہو۔
جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ غیبت صغریٰ میں شیعہ اورمومنین امام علیہ السلام کے مخصوص نائب کے ذریعہ اپنے امام سے رابطہ رکھتے تھے اور اپنے الٰہی فرائض سے آگاہ ہوتے تھے لیکن غیبت کبریٰ میں اس کا رابطہ کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مومنین اپنے فرائض کی شناخت کے لئے امام علیہ السلام کے عام نائبین جو کہ دینی علماءو مراجع تقلید ہیں ان کی طرف رجوع کرنے لگیں اور یہ واضح راستہ ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اپنے ایک قابل اعتماد عظیم الشان عالم کے سامنے پیش کیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے دوسرے نائب خاص کے ذریعہ پہنچے ہوئے خط میں اس طرح تحریر ہے:
﴾وَ اَمَّا ال حَوَادِث ال وَاقِعَةُ فَار جَعُو ا اِلٰی رُواةِ حَدِی ثَنَا فَانَّہُم حُجَّتِی عَلَی کُم وَ اَنَا حُجَّةُ اللّٰہِ عَلَی ہِم ۔﴿ (کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ص ۶۳۲)
”اور آئندہ پیش آئے والے حوادث اور واقعات (نیز مختلف مسائل میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی پہچان کےلئے) ہماری احادیث کے راویوں (فقہائ) کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اورمیں ان پر خدا کی حجت ہیں........“۔
دینی سوالات کے جواب کے لئے اور ان سے اہم یہ کہ شیعوں کے شخصی اور معاشرتی فرائض کی پہچان کے لئے یہ نیا طریقہ کار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امامت و رہبری کا عظیم الشان نظام، شیعہ ثقافت میں ایک بہترین اور زندہ نظام ہے جس میں مختلف حالات میں مومنین کی ہدایت اور رہبری بہت ہی مستحکم طریقہ پر انجام پاتی ہے اور اس مکتب کے ماننے والوں کو کسی بھی زمانہ میں ہدایت کے سرچشمہ کے بغیر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ ان کی شخصی اورمعاشرتی زندگی کے مختلف حصوں میں ان کے مسائل کو دینی علماءاور پرہیزگاراور عادل و آگاہ مجتہدین کے سپرد کر دیا گیا ہے جو مومنین کے دین اور دنیا کے امانت دار ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ کی کشتی دنیائے طوفان اورکفر و نفاق کے متلاطم دریا سے بحفاظت کنارہ ہدایت پر لگائیںنیزاستعمار کی غلط سیاست کے دلدل میں پھنسنے سے محفوظ رکھیںاور شیعہ عقائد کی سرحدوں کی حفاظت ہوتی رہے۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں دینی علماءکے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اگر ایسے علماءکرام نہ ہوتے جو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت میں لوگوں کو آپ کی طرف دعوت دیتے اور ان کو اپنے امام کی طرف ہدایت کرتے، نیز حجتوں اور خداوند عالم کے دینی مستحکم دلائل (جو کہ خود دین خدا ہے) کی حمایت نہ کرتے اور اگر نہ ہوتے ایسے بابصیرت علماءجو خدا کے بندوں کو شیطان اور شیطان صفت لوگوں نیز دشمنان اہل بیت علیہم السلام (کی دشمنی) کے جال سے نجات نہ دیتے تو پھر دین خدا پر کوئی باقی نہ رہتا! (اور سب دین سے خارج ہو جاتے) لیکن اُنہوں نے شیعوں کے (عقائد اور) افکار کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا جیسا کہ کشتی کا ناخدا کشتی میں سوار مسافروں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے۔ یہ علماءخداوند عالم کے نزدیک سب سے بہترین (بندے) ہیں“۔
(احتجاج، ج ۱، ح ۱۱، ص ۵۱)
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ معاشرہ کی رہبری کے لئے مخصوص صفات و کمالات درکار ہیں، کیونکہ مومنین کے دین و دُنیا کے امور کو ایسے شخص کے ہاتھوں میں دےا جائے جو اس عظیم ذمہ داری کے اہل ہوں تو ان افراد کا مکمل طور پر صاحب بصیرت اور صحیح تشخیص کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام نے دینی مراجع اور ان سے بڑھ کر ولی امر مسلمین ”ولی فقیہ“ کی مخصوص شرائط بیان کی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”فقہاء(کرام) اور دینی علماءمیں سے جو شخص (گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ کے مقابلہ میں) اپنے کو محفوظ رکھے اور دین (اور مومنین کے عقائد کا) محافظ ہو، اور اپنے نفس اور خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے (زمانہ کے) مولا و آقا (اور امام) کی اطاعت کرتا ہو تو مومنین پر واجب ہے کہ اس کی پیروی کریںاور اس کی تقلید کریں اور صرف بعض شیعہ فقہاءایسے ہوں گے نہ کہ سب “۔ ( احتجاج، ج۲، ص ۱۵۵)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے مراد ان کا حاضر نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ان کا دوسروں کی نگاہ اور توجہ سے پوشیدہ ہونا ہے۔
غیبت اور مخفی زندگی صرف امام عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ گذشتہ پیغمبروں کی ایک تعداد بھی غیبت کے عمل سے گزری ہے۔
روایات میں امام زمانہ عج اللّٰہ فرجہ الشریف کی غیبت کے دلائل کے حوالے سے مندرجہ ذیل اسباب: حضرت کی جان کی حفاظت، لوگوں کی آزمائش، لوگوں کو تنبیہ، ان پرکسی اور کی بیعت کا نہ ہونا وغیرہ نقل ہوئے ہیں۔
امام عصر کی دو غیبتیں ہیں، الف: غیبت صغریٰ کہ جو ۰۶۲ھ ہجری سے ۹۲۳ہجری تک جاری رہی۔ ب: غیبت کبریٰ کہ ج ۹۲۳ ہجری سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔
امام عصر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق غیبت کبریٰ کے زمانہ میں جامع الشرائط فقہاءاسلامی معاشرہ کے دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔
درس کے سوالات
۱۔غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح کریں؟
۲۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب میں سے کوئی تین اسباب کی وضاحت کریں؟
۳۔ محمد بن عثمان کتنے ائمہ علیہم السلام کے نائب اور خاص وکیل تھے اور کتنا عرصہ اس مقام پر فائز رہے؟
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاءکی مرجعیت کوکیسے بیان کیا ہے؟
۵۔ امام ھادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماءکے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟
ة....ة....ة....ة........ة
### جوابات:
**۱۔ غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح:**
غیبت کا مفہوم ”آنکھوں سے مخفی ہونا“ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور ان کو پہچانا نہیں جا سکتا حالانکہ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ امام کی یہ غیبت عوام سے ان کی حفاظت کے لیے اور ان کے زمانے کے خاص حالات کے پیش نظر ہوتی ہے۔
**۲۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب می کوئی سے تین اسباب کی وضاحت کریں:**
- **امام کی جان کی حفاظت:** امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا ایک اہم سبب ان کی جان کی حفاظت ہے۔ ان کی زندگی کو درپیش خطرات کی وجہ سے غیبت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دے سکیں۔
- **لوگوں کی آزمائش:** غیبت کا ایک دوسرا سبب لوگوں کی آزمائش ہے۔ خداوند عالم لوگوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور دینی استقامت کی جانچ ہو سکے۔
- **امام پر کسی اور کی بیعت کا نہ ہونا:** امام کی غیبت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ کسی ظالم حکمران یا ستمگر قوت کے ساتھ کوئی سیاسی یا اجتماعی معاہدہ نہیں کر سکتے۔ اس طرح ان کی غیبت لوگوں کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر عادلانہ طاقت کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔
**۳۔ محمد بن عثمان کی نیابت کی مدت:**
محمد بن عثمان عمری امام حسن عسکری علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے نائب تھے۔ وہ تقریباً پچیس سال تک امام مہدی علیہ السلام کے نائب خاص کے طور پر فعال رہے۔
**۴۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاء کی مرجعیت کو کیسے بیان کیا ہے؟**
امام مہدی علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے دوران فقہاء کو اپنا نائب قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مومنین کو ان کے فرائض اور دینی معاملات کی رہنمائی کے لئے فقہاء کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہ امام کی غیر حاضری میں امام کی حجت کو برقرار رکھتے ہیں۔
**۵۔ امام ہادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماء کے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟**
امام ہادی علیہ السلام نے علماء کرام کے کردار کو کشتی کے ناخدا سے تشبیہ دی ہے، جو کشتی میں سوار مسافروں کو محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچاتا ہے۔ امام ہادی علیہ السلام کی یہ تشبیہ زور دیتی ہے کہ علماء کرام دینی رہنمائی اور تعلیم میں مومنین کے لئے ایک محافظ کا کردار ادا کرتے ہیں، جس طرح ایک ناخدا اپنے مسافروں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس طرح وہ دینی و ایمانی چیلنجز کے دوران مومنین کی راہنمائی اور حفاظت کرتے ہیں، تاکہ وہ راستے
سوال 5 جواب
امام ہادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماء کے کردار اور عظمت کو کشتی کے ناخدا سے تشبیہ دی ہے، جو اپنی کشتی کے مسافروں کو طوفانی سمندر میں محفوظ رکھتا ہے اور انہیں سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ تشبیہ ان علماء کی اہمیت اور ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ کس طرح دینی ہدایت اور تعلیمات کو برقرار رکھتے ہوئے، مومنین کو دین سے متعلق شکوک و شبہات اور بدعتوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں صحیح اسلامی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
نوٹ یہ استاد محترم آغا علی اصغر سیفی
غیبت امام زمان عج اور اس کے اسباب
ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الہیٰ کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔
مقدمہ: ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الہیٰ کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔ قاعدہ لطف{کلامی وعقلی قاعدہ} کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ امام معصوم کی غیبت ایک امر عارضی ہے جو اصل اولی{ضرورت وجودامام معصوم} کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ محقق طوسی اس بارے میں لکھتےہیں :{وجوده لطف،وتصرفه لطف آخروعدمه منا}1۔ امام کا وجودبھی لطف{اطاعت و مصالح سےنزدیک اور معاصی و مفاسد سے دور کرنےوالا }ہے اور امام کا تصرف ایک الگ لطف ہے اور ان کا ظاہرنہ ہونا ہماری وجہ سے ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی جیساکہ آپ ؑفرماتے ہیں :{اللهم بلی! لا تخلوا الارض من قائم الله بحجته ،اما ظاهرا مشهورا و اما خائفا مغمورا،لئلاتبطل حجج الله و بیناته}2۔ خدایا !بے شک زمین حجت الہیٰ اور قیام کرنے والے سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ ظاہر و آشکار ہو یا خائف و مخفی تاکہ خدا کی حجتیں اور براہین تمام نہ ہونے پائیں”۔
بعض احادیث جیسے حدیث ثقلین اور حدیث ائمہ اثنا عشر قیامت تک امام معصوم کی موجودگی پر دلالت کرتی ہیں ۔
تاریخی شواہد سے بھی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آپ{عج}کی ولادت معین زمانے میں مخصوص مقام پر ہوئی ہےکیونکہ افراد کی ولادت اور موت کے بارے میں جاننے کا متعارف طریقہ یہی تاریخی شواہد ہیں جن پر استناد کیا جاتا ہے۔
ان افراد کے نقل کے مطابق جنہوں نے اما م حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانےمیں آپ ؑکے گھر میں امام زمان{عج}سے ملاقات کئے اور وہ افراد جنہوں نےغیبت صغری کے زمانے میں آپ{عج}سے ملاقات کا شرف حاصل کیا جن میں نواب اربعہ سر فہرست ہیں ۔نواب اربعہ شیعوں کے برجستہ ترین شخصیات میں سے تھے جواپنے زمانے میں پرہیزگاری کے لحاظ سے بے نظیر تھے۔
ان افراد کے نقل کے مطابق جنہوں نے غیبت کبری کےعرصے میں آپ{عج}سےملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ یہ گزارشات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے جعلی ہونے کا احتمال منتفی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی صحت کے بارے میں انسان کو یقین ہو جاتا ہے۔
انبیاء کی تاریخ میں مسئلہ غیبت ایک واضح مسئلہ تھا۔بعض اولیاء کا محدود مدت کے لئے لوگوں کے درمیان سے غائب ہونا گذشتہ امتوں میں بھی معمول رہا ہے چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام ،حضرت موسی علیہ السلام اورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگانی میں اس کے نمونے دیکھ سکتے ہیں : حضرت یونس علیہ السلام ایک مدت تک اپنی امت سے غائب رہے ۔ 3۔ حضرت موسی علیہ السلام چالیس دن تک اپنی امت سےغائب رہےاور انہوں نے یہ ایام میقات میں بسر کئے ۔4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت چند مدت تک اپنی امت کےپاس نہیں رہے ۔ 5۔ ان میں سے کسی بھی مورد میں ان افراد کی نبوت اور رسالت پر اعتراض نہیں کیا گیا ہے ۔واضح ہے کہ اگر غیبت مقام نبوت اورمقام امامت کے ساتھ منافات رکھتی تو زمان کےمختصر اور طولانی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بنابریں امام زمانہ{عج} کی غیبت کے طولانی ہونےکو آپ {عج} کی امامت کے ساتھ ناسازگا ر نہیں سمجھنا چاہیے ۔
امام زمانہ{عج} کی غیبت کے اسباب کے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں کچھ مطالب بیان ہوئے ہیں ذیل میں ہم ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
1۔راز الہی:
بعض روایات میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کا فلسفہ آپ {عج} کے ظہور سے پہلے پوری طرح واضح نہیں ہوگا جبکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ {عج} کے وجود کے بارے میں موجود دلائل سے آشنا ہونے کےبعد اسے تسلیم کرے اور آپ {عج} کی غیبت کے اسرار کومکمل طورپردرک نہ کرنے کی وجہ سے شک و تردید کا شکار نہ ہو ۔ شیخ صدوق رہ عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سےسنا :صاحب الامرکے لئے یقینا ایک غیبت ہوگی جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس دوران ہر اہل باطل شک و شبہ میں مبتلا ہو جائے گا۔میں نے عرض کی :میری جان آپ پر قربان !ایسا کیوں ہے ؟فرمایا:وہی حکمت ہے جو ان سے پہلے خدا کی حجتوں کے غائب ہونے کی تھی ۔ یقینا غیبت کی حکمت اسی وقت ظاہر ہوگی جب ان کا ظہور ہو جائےگا بالکل اسی طرح جیسے حضرت خضرعلیہ السلام کے امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنے ،لڑکے کو جان سے مار دینے اور دیوار بنانے کا راز حضرت موسیعلیہ السلام کو اس وقت معلوم ہو ا جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ۔ اے فرزندِ فضل یہ غیبت خداکے امور میں سے ایک امر ہے ،اسرار الہیٰ میں سے ایک سر ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ خداوند عالم حکیم ہے اور ہم نے یہ گواہی دی ہے کہ اس کا ہرقول وفعل حکمت کے مطابق ہے چاہے اس کا راز ہم پرپوشیدہ ہی کیوں نہ ہو۔6۔
2۔قتل کا خوف:
بہت ساری احادیث کے مطابق امام زمانہ{عج}کی غیبت کا ایک سبب قتل ہونے کا خوف ہے ۔ 7۔ جیساکہ جناب زرارہ امام باقرعلیہ السلام سے نقل کرتےہیں کہ آپؑ نے فرمایا:قائم آل محمد کے لئے قیام کرنے سے پہلے ایک غیبت ہے ۔میں نے عرض کیا کس لئے؟ فرمایا:{یخاف القتل} 8۔اس لئےکہ ان کی جان کے لئےخطرہ ہے ۔ قتل سے ڈرنے کا دو ہی سبب ہو سکتاہے ۔ ایک یہ کہ انسان دنیوی لذتوں سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتا ہے دوسرایہ کہ اس کےاوپر سنگین ذمہ داریاں عائد ہیں جن کو انجام دینے کے لئے اسے اپنی جان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ان میں سے پہلی قسم مذموم جبکہ دوسری قسم ممدوح ہے بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر غارحرا میں پناہ لیا ۔امام زمان عج کے بارے میں بھی قتل ہونے کا خوف اسی طرح ہے۔ عقلی و نقلی دلائل کےمطابق آپ {عج} زمین پر آخری حجت الہیٰ ہیں ۔ آپ{عج} پرچم توحید کو پوری دنیا میں لہرانے اور دین اسلام کو پوری دنیا پر حاکم کرنے پر مامور ہیں۔علاوہ ازیں ظالم و جابر حکمران اپنے ناجائز منافع کی حصول کے راستے میں آپ{عج}کے وجود کو مانع سمجھتے ہیں ۔طبیعی بات ہے کہ یہ افراد آپ {عج} کو قتل کرنےکے لئے ہر طرح کا منصوبہ اور حربہ استعمال کریں گے۔ اس صورتحال میں آپ{عج} کی حفاظت کا بہترین طریقہ آپ{عج}کی غیبت ہے ۔
یہاں ممکن ہےکوئی اس طرح اعتراض کرے کہ خداوند متعال معجزے کےذریعے آپ {عج} کی حفاظت کرسکتاہے مثلا اس طر ح کہ کسی اسلحہ یا زہر کا اثر آپ {عج} کے بدن پر نہ ہو۔جس کے نتیجے میں آپ {عج} ظاہر بھی ہوتے اور لوگ آپ {عج} کے وجود سےزیادہ استفادہ کرتے کیونکہ اس صورت میں آپ {عج}کے وجود کو کسی قسم کا بھی خطرہ نہیں تھا ۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کسی فرد کی جان کی حفاظت کےلئےمعجزے سے استفادہ کرنا ایک استثنائی بات ہے جس سے صرف خاص موارد میں استفادہ کیا جاتاہے جبکہ اولیاءاور حجت الہیٰ کےبارے میں مشیت الہیٰ یہ ہے کہ یہ افراد لوگوں کے درمیان طبیعی زندگی گزاریں اور طبیعت پرمبنی قوانین ان کے درمیان یکساں جاری ہو ، تاکہ قانون امتحان و آزمائش الہیٰ محقق ہو ۔واضح ہےکہ اگر امام خاص شرائط کے ساتھ زندگی گزاریں تو سب لوگ اجباری اور غیرعادی طریقے سےان پر ایمان لائیں گے ۔ علاوہ ازیں ممکن ہے انہیں مافوق بشر قرار دیتےہوئے ان کی پرستش شروع کردیں۔ یہ سب معجزہ کے ذریعے امام کی حفاظت کرنے اور آپ {عج}کے لوگوں کے درمیان رہنے کے نامطلوب نتائج میں سے ہیں ۔
شیخ طوسی رہ اس بارے میں تحریر فرماتے ہیں :اگر کوئی اعتراض کرے کہ خدا نے امام اور اس کے قاتل کے درمیان مانع ایجاد کر کے آپ {عج} کی حفاظت کیوں نہیں کی ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام انسانوں کو مکلف کرنے کے فلسفے کے ساتھ ناسازگار ہے کیونکہ انسانوں کو مکلف کرنے کا مقصد ان کوجزا وسزا کامستحق بنانا ہے جبکہ ایسی صورت میں مانع ایجاد کرنا اس مقصد کے ساتھ منافات رکھتاہے ۔ 9۔
اعتراض و جواب:
امام زمانہ{عج}اور ان کے آباء و اجداد کے درمیان کیا فرق ہے کہ وہ غیبت میں نہیں رہیں بلکہ لوگوں کے پاس ظاہر تھے جبکہ آپ {عج} غائب ہیں اور آپ تک لوگوں کی رسائی بھی نہیں ؟
پہلاجواب:آپ {عج}کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ{عج}اگر ظاہر ہوں تو ظالم و جابر افراد کے مقابلے میں تقیہ نہیں کریں گے جبکہ اس صورت میں آپ{عج}کے قتل کا خطرہ زیادہ ہے ۔
دوسراجواب:ہر امام کی شہادت کے بعددوسرے امام نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول فرمائی اور انسانوں کی رہبری کی لیکن آپ {عج} آخری امام ہیں اور اگر شہید ہو گئے تو کوئی ایسا فرد نہیں ہےجو اس عظیم ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ 10۔
3۔ مومنین کا امتحان:
خداوند متعال کی ایک سنت جو ہمیشہ سے مومنین کے بارے میں جاری رہی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے :{ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُترْكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُونَ.وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِين}11۔ کیالوگوں نےیہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنےسےچھوڑدیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟ اور بتحقیق ہم نے ان سے پہلے والوں کوبھی آزما چکےہیں کیونکہ اللہ کوبہر حال یہ واضح کرناہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرورواضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں۔
امام زمان {عج}کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب مومنین کا امتحان اور ان کی آزمائش ہے جو متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے ۔ 12۔ کتاب منتخب الاثر میں اس بارے میں چوبیس احادیث نقل ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب امام زمانہ{عج} کے ظہور اور حکومت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔امام صادقعلیہ السلامنے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: یہ امر{ظہور}تمہارےسامنے نہیں آئے گا مگر ناامیدی کے بعد ۔ خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک تم{مومن اور منافق}ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک اہل شقاوت و اہل سعادت ایک دوسرے سےجدا نہ ہو جائیں ۔ 13۔
شیخ طوسی رہ اس بارے میں لکھتے ہیں:جن روایات میں امام زمانہ{عج}کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب شیعوں کا امتحان اور ان کی آزمائش قرار دی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مسئلہ امام کی غیبت پر مترتب ہونےوالےنتائج میں سے ایک ہے اور ایسا نہیں ہے کہ امتحان و آزمائش امام {عج} کی غیبت کا اصلی مقصد ہے بلکہ امام {عج}کی غیبت کا اصلی سبب آپ{عج} کے قتل ہونے کا خوف ہے جبکہ آزمائش و امتحان غیبت کے نتائج اوراہداف میں سے ہیں۔ 14۔
غیبت کی کیفیت:
امام زمانہ{عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دو احتمال قابل بحث ہیں ۔پہلا احتمال یہ کہ حقیقت میں آپ {عج} کا وجود لوگوں سے پنہاں ہے۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ {عج} ایسے جگے پر زندگی کر رہے ہیں جہاں دوسراکوئی انسان موجود نہیں ہے یا یہ کہ آپ {عج} لوگوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن معجزانہ طور پر لوگ آپ {عج} کو نہیں دیکھتے یا آپ کو نہیں پہچانتے ۔آپ {عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں نقل شدہ احادیث دونوں احتمال کے ساتھ سازگار ہیں ۔ جیساکہ شیخ صدوق رہ ریان بن صلت سےنقل کرتے ہیں کہ امام رضاعلیہ السلام نے امام زمانہ{عج} کے بارے میں فرمایا :{لایری جسمه ولا یسمی باسمه}15۔نہ ان کے جسم کو دیکھا جا سکتاہے اور نہ ان کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ عبید بن زرارۃ سے ایک حدیث منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ ؑفرمارہے تھے:لوگ اپنے امام کو نہیں پائیں گے جبکہ وہ حج کے موسم میں حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھتے ۔16۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سےایک اور حدیث نقل ہوئی ہے جس میں آپ ؑفرماتے ہیں :ساتویں امام کے پانچویں فرزند کا وجود تم لوگوں سے پنہان ہو گا اور ان کانام لینا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ۔17۔ اس احتمال پر عقیدہ رکھنےوالوں کا نظریہ یہ ہے کہ جہاں پر مصلحت موجود ہو وہاں امام {عج} کے وجود کو پہچانا جائے گا۔بنابریں جن افراد نے آپ {عج} کے حضور میں شرفیاب ہونے کا دعوی کیا ہے وہ بھی اس احتمال کے ساتھ سازگار ہےجبکہ دوسرے احتمال کےساتھ مربوط بعض روایات کچھ اس طرح ہیں :
1۔ شیخ طوسی رہ محمد بن عثمان عمری { امام زمان{عج}کےدوسرے نائب خاص }سے نقل کرتے ہیں :{و الله ان صاحب هذا الامر لیحضر الموسم کل سنة و یعرفهم و یرونه و لا یعرفونه} 18۔ خدا کی قسم! امام زمانہ{عج} ہر سال حج کے موسم میں حاضر ہو کر لوگوں کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں اور دوسرے افراد بھی آپ {عج} کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں ۔
2۔محمد بن عثمان عمری سے نقل ہے کہ آپ{عج} کا نام لینا اس لئے جائز نہیں کیونکہ اگر آپ{عج} کا نام لیا جائے تو دشمن آسانی سے آپ {عج} کو پہچان لیں گے ۔19۔ واضح ہے کہ اگر آپ {عج}لوگوں کی نظروں سے سے غائب ہوں توپھر آپ {عج}کا نام لینا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعے دشمن آپ {عج} کو نہیں پہچان سکتے ۔
3۔ابوسہل نوبختی سے جب سوال کیاگیا کہ آپ امام زمانہ{عج}کےنائب کیوںمنتخب نہیں ہوئے جبکہ ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی کو اس منصب کےلئے انتخاب کیاگیا ہے ؟ تو انہوں نےجواب دیا :امام اپنے کاموں کی حکمت سےزیادہ واقف ہیں ۔ میں ہمیشہ دشمنوں سےملاقات کرتاہوں اور ان کے ساتھ بحث و مناظرہ کرتا ہوں اوراگر بحث کے دوران کبھی مجھے مشکل کا سامناکرنا پڑے تو ممکن ہے کہ میں امام {عج} کے قیام کرنے کی جگہ دشمنوں کو دکھا دوں لیکن ابوالقاسم نوبختی ایمان اور استقامت کا پیکر ہے اگر امام زمانہ{عج} اس کے پاس موجود ہو اور اس کے بدن کے ٹکڑےٹکڑے کر دئیے جائیں تب بھی وہ امام {عج}کی مخفی گاہ کودشمنوں کو نہیں دکھائیں گے۔ 20۔ واضح ہے کہ امام کی مخفی گاہ دشمنوں کو دکھانا اس وقت خطرناک ہوگا جب لوگ آپ {عج}کے وجود مبارک کو دیکھ سکیں ۔
خلاصہ یہ کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دونوں احتمالات قابل قبول ہیں اور یہ احتمالات ایک دوسرے کے ساتھ منافات بھی نہیں رکھتے اوریہ مطلب کہ لوگ آپ {عج}کو دیکھیں گے لیکن نہیں پہچانیں گےیا یہ کہ اصلاًکوئی آپ {عج}کو نہیں دیکھ سکتا،یہ تمام مطالب شرائط ،مصالح اور افراد کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس بارے میں ایک عام قانون بیان نہیں کر سکتےکیونکہ امام زمانہ{عج }مصلحت کے مطابق ہی عمل کریں گے۔
نوٹ یہ حوزه نیوز ایجنسی سے کاپی کیا ہے
مہدویت نامہ
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
(کورس ون)
ساتواں درس
امام غائب کے فائدے
مقاصد:
۱۔ امام غائب کی نسبت لوگوں کی معرفت و شناخت میں اضافہ
۲۔ کائنات میں امام علیہ السلام کے مقام اور ان کے وظائف پر توجہ
فوائد:
۱۔ لوگوں کے حضرت علیہ السلام کی نسبت عقیدہ کا استحکام
۲۔ امام علیہ السلام کی عظمتوں سے آگاہی
۳۔ حضرت کی عنایات سے بہرہ مند ہونے اور ان کی قربت کے لئے کوشش کرن
تعلیمی مطالب:
۱۔ کائنات میں امام کی مرکزی حیثیت
۲۔اطمینان اور سکون کا حصول
۳۔ شیعہ مکتب کی پائیداری
۴۔ الٰہی اسرار اور علوم کی حفاظت
۵۔ باطنی ہدایت اور نفوس کی تہذیب
امام غائب کے فوائد
سینکڑوں سال سے انسانی معاشرہ حجت خدا کے فیض کے ظہور سے محروم ہے اور اُمت اسلامی اس آسمانی رہبر اور امام معصوم کے حضور میں مشرف ہونے سے قاصر ہے۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکے غیبت میں ہونے اور ان کی مخفیانہ زندگی نیز عمومی رسائی سے دور ہونے کی صورت میں اس کائنات اور اس میں موجود انسانوں کے لئے کیا فوائد رکھتی ہے؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ظہور کے نزدیک ان کی پیدائش ہوتی اور ان کی غیبت کے سخت زمانہ کو ان کے شیعہ نہ دیکھتے؟
یہ سوال اور اس طرح کے دوسرے سولات امام اور حجت الٰہی کی (صحیح) پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ درحقیقت اس کائنات میں امام کا مرتبہ کیا ہے؟ کیا ان کے وجود کے تمام آثار ان کے ظہور پر ہی موقوف ہیں؟ اور کیا وہ صرف لوگوں کی ہدایت کے لئے ہیں یا ان کا وجود تمام ہی موجودات کے لئے مفید اثرات اور برکات کا حامل ہے؟
امام کا کائنات کے لئے محور و مرکز ہونا
شیعہ نقطہ نگاہ اور دینی تعلیمات کے پیش نظر امام کل کائنات کے تمام موجودات کے لئے خدا کے فیض کا واسطہ ہے۔ وہ نظام کائنات میں محور اور مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے وجود کے بغیر کائنات، جنات، ملائکہ، حیوانات اور جمادات کا نام و نشان تک نہ رہتا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر زمین پر امام کا وجود نہ ہو تو اسی وقت زمین فنا ہو جائے“۔ (اصول کافی، ج۱، ص ۱۰۲)
چونکہ وہ لوگوں تک خدا کے پیغام کا پہنچانے اور انسانی کمال تک ان کی ہدایت کرنے میں واسطہ ہیں اور تمام موجودات تک ہر طرح کا فیض و کرم الٰہی ان کے سبب سے پہنچتا ہے، نیز یہ بات واضح اور روشن ہے کہ خداوند عالم نے شروع ہی سے انبیاءعلیہم السلام کے ذریعہ اور پھر ان کے جانشینوں کے ذریعہ انسانی قافلہ کی ہدایت کی ہے لیکن معصومین علیہم السلام کے کلام سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کائنات میں آئمہ (علیہم السلام) کا وجود ہر چھوٹے بڑے وجود کے لئے خداوند عالم کی طرف سے ہر نعمت اور فیض میں واسطہ ہے۔ واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ تمام موجودات خداوند عالم کی طرف سے جو کچھ بھی فیض اور عطا حاصل کرتے ہیں وہ امام کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، ساری اشیاءکاخود وجود بھی امام کے واسطہ کی بنا پر ہے اور اپنی زندگی میں جو کچھ بھی وہ حاصل کرتے ہیں ان میں بھی امام کی ذات واسطہ ہے۔
زیارت جامعہ (جو واقعاً امام کی پہچان کی ایک جامع کتاب ہے) کے ایک فقرہ میں اس طرح بیان ہوا ہے:
﴾بِکُم فَتَحَ اللّٰہُ وَ بِکُم یَخ تِم وَ بِکُم یُنَزَّلُ ال غَی تَ وَ بِکُم یُمسِک السَّمَائَ اَن تَقَعَ عَلَی ال اَر ضِ الاَّ بِاِذ نِہَ۔﴿ (مفاتیح الجنان، زیارت جامعہ کبیرہ، نوٹ: یہ زیارت حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے منقول ہے اور سند اور تحریر کے لحاظ سے ایک عظیم الشان زیارت ہے اور ہمیشہ شیعہ علماءکی خصوصی توجہ کی حامل رہی ہے۔)
”(اے ائمہ معصومین علیہم السلام) خداوند عالم نے (کائنات کا) آغاز آپ سے کیا، آپ ہی پراس کااختتام ہوگا،اور آپ کے توسط سے باران رحمت نازل کرتا ہے اور آپ کے (وجود کی برکت سے) آسمان کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھے ہوئے ہے زمین پر آسمان اللہ کے ارادہ ہی سے گر سکتا ہے“۔
بہرکیف امام علیہ السلام کے وجودی آثار صرف ان کے ظہور کے کی حالت میں منحصر نہیں بلکہ ان کا وجود کائنات میں (یہاں تک ان کی غیبت کے زمانہ میں بھی) مخلوقات الٰہی میں تمام موجودات کے لئے سرچشمہ حیات ہے، اور خود خداوند عالم کی مرضی یہی ہے کہ سب سے بلند و بالا اور سب سے کامل موجود فیض الٰہی حاصل کرکے دوسری مخلوقات تک پہنچانے میں واسطہ ہو لہٰذا اس صورت میں غیبت اور ظہور کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ جی ہاں! سب امام علیہ السلام کے وجود کے آثار سے فیضیاب ہوتے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اس سلسلہ میں کوئی مانع نہیں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام سے آپ کی غیبت کے زمانہ میں فیضیاب ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو آپعلیہ السلام فرماتے ہیں:
﴾وَ امَّا وَجہ الاِن تِفَاعِ بِی فِی غَی بَتِی فَکا الاِن تفَاعِ بِالشَّم سِ اِذَا غَیَّبَتَہَا عَنِ ال اَب صَارِ السَّحَابُ﴿ ( احتجاج، ج ۲، ش ۴۴۳، ص ۲۴۵)
”میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے فائدہ اُٹھانا اسی طرح ہے جس طرح سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے جبکہ وہ بادلوں میں چھپ جاتا ہے“۔ امام مہدی علیہ السلام نے اپنی مثال سورج جیسی اور غیبت کی مثال بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کی دی ہے جس میں بہت سے نکات پائے جاتے ہیں لہذا ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
سورج، نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے سیارے اس کے گرد گردش کرتے ہیں، اسی طرح امام عصر علیہ السلام کا وجود گرامی بھی کائنات کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ساری کائنات آپ کے وجود کے گرد گھومتی ہے۔
﴾بِبَقَائِہَ بَقِیَتِ الدُّن یَا وَ بِی مِنِہ رُزِقَ الوَریٰ وَ بِوُجُو دِہِ ثَبَتتَ ال اَر ضِ وَالسَّمَائُ﴿ (مفاتیح الجنان، دعای عدیا)
”اس (امام) کی وجہ سے دنیا باقی ہے اور اس کے وجود کی برکت سے کائنات کے ہر موجود کو روزی ملتی ہے اور اس کے وجود کی خاطر زمین اور آسمان باقی ہیں“۔
سورج ایک لمحہ کے لئے بھی نور افشانی میں کنجوسی نہیں کرتا اور ہر چیز اپنے رابطہ کے لحاظ سے سورج کے نور سے فیضیاب ہوتی ہے۔ چنانچہ حصرت ولی عصر علیہ السلام کا وجود بھی تمام مادی اور معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے میں واسطہ ہے، ہر شخص اورہرشئی اس مرکز کے کمالات سے اپنے رابطہ کے مطابق فیض حاصل کرتی ہے۔
اگر یہ سورج بادلوں کے پیچھے موجود نہ رہے تو پھر اس قدر ٹھنڈک اور اندھیرا ہو جائے گا کہ کوئی بھی جاندار زمین پر زندہ نہیں رہ سکے گا اسی طرح اگر یہ کائنات امام علیہ السلام کے وجود سے محروم ہو جائے (اگر چہ پردہ غیبت میں بھی نہ ہو) تو پھر مشکلات، پریشانیاں اور مختلف بلائیں انسانی زندگی کو آگے بڑھنے میں مانع ہو جائیں گی اور تمام موجودات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) شیخ مفید علیہ الرحمہ کو ایک خط لکھتے ہیں جس میں اپنے شیعوں سے خطاب فرماتے ہیں:
﴾اِنَّا غَی ر مُہ مِلِی نَ لِمُرَاعَاتِکُم وَلٰا نَاسِینَ لِذِک رِکُم وَ لَو لَا ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُم الاَّوَائُ وَ اص طَلَمَکُم الاعدَائُ﴿ (احتجاج، ج ۲، شہ ۹۵۳، ص ۸۹۵)
”ہم تم کو ہرگز اپنے حال پر نہیں چھوڑتے اور ہرگز تمہیں نہیں بھولتے، اگر (ہمیشہ ہماری توجہ) نہ ہوتی تو تم پر بہت سی سختیاں اور بلائیں نازل ہوتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے“۔لہٰذا امام علیہ السلام کے وجود کا سورج پوری کائنات پر چمکتا ہے اور تمام موجودات تک فیض پہنچاتا ہے اور ان تمام مخلوقات کے درمیان بشریت خصوصاً اسلامی معاشرہ، شیعہ اور ان کے پیروکاروں تک مزید خیر و برکت پہنچاتا ہے جن کے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
اُمید کی کرن
انسانی زندگی کا اہم سرمایہ اُمید ہوتی ہے۔ اُمید ہی انسان کی زندگی میں مایہ حیات، نشاط و شادابی، امید، تحریک اور عمل کا باعث ہے۔ اس کائنات میں امام علیہ السلام کا وجود روشن مستقبل کی امید اور شوق و رغبت کا باعث ہے۔ شیعہ ہمیشہ سے اس چودہ سو سالہ تاریخ میں مختلف مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا رہے ہیں اور ظلم و ستم کے مدمقابل قیام کرنے اور ظالم و ستمگر کے سامنے تسلیم نہ ہونے میں جو چیز سب سے بڑی پشت پناہ تھی وہ بہترین مستقبل کی امید تھی۔ ایسا مستقبل جو کوئی خالی اور من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ ایسا مستقبل جو نزدیک ہے اور مزید نزدیک بھی ہو سکتا ہے ، کیونکہ جو شخص قیام اور انقلاب کی رہبری کا عہدہ دار ہے وہ زندہ ہے اور ہر وقت آمادہ اور تیار ہے، یہ تو ہم ہیں کہ ہمیں تیار ہونا چاہیے۔
مکتب کی پائیداری اور پاسداری
ہر معاشرہ کو اپنے نظام کی حفاظت اور ایک معین مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک مدبر رہبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی ہدایت کے مطابق معاشرہ صحیح راستہ پر قدم بڑھائے۔ معاشرہ کے لئے رہبر اور ہادی کا وجود بہت ہی اہم ہے تاکہ معاشرہ ایک بہترین نظام کے تحت اپنی حیثیت کو باقی رکھ سکے اور آئندہ کے پروگرام میں استحکام پیدا ہو سکے اور کمر ہمت باندھ لے۔ زندہ اور بہترین رہبر اگرچہ لوگوں کے درمیان نہ رہے لیکن پھر بھی اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے لئے پروگرام اور اصول پیش کرنے میں کوتاہی نہیںکرتا اور مختلف طریقوں سے منحرف راہوں سے خبردار کرتا رہتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں لیکن آپ کا وجود مذہب شیعہ کے تحفظ کے لئے بہترین سبب ہے۔ آپ علیہ السلام مکمل آگاہی کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے شیعہ عقائد کی مختلف طریقوں سے حفاظت کرتے ہیں اور جب مکار دشمن مختلف چالوں کے ذریعہ مکتب شیعہ کے اصول اور عقائد کو نشانہ بناتا ہے اس وقت امام علیہ السلام منتخب اشخاص اور علماءکی ہدایت و ارشاد کے ذریعہ دشمن کے مقصد کو ناکام بنا دیتے ہیں۔
نمونہ کے طور پر بحرین کے شیعوں کی نسبت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عنایت اور لطف کو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی زبانی سنتے ہیں:
”گذشتہ زمانوں کی بات ہے کہ میں بحرین میں ایک ناصبی حاکم حکومت کرتا تھا جس کا وزیر وہاں کے شیعوں سے بہت زیادہ شمنی رکھتا تھا۔ ایک روز وزیر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا، جس کے ہاتھ میں ایک انار تھا جس پر طبیعی طور یہ جملہ نقش تھا: ﴾لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، و ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلفاءرسول اللّٰہ۔﴿ بادشاہ اس انار کو دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا اور اس نے اپنے وزیر سے کہا: یہ تو شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی واضح اور آشکار دلیل ہے۔ بحرین کے شیعوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟ وزیر نے جواب دیا: میرے رائے کے مطابق ان کو حاضر کیا جائے اور یہ نشانی ان کو دکھائی جائے، اگر ان لوگوں نے مان لیا تو انہیں اپنا مذہب چھوڑنا ہو گا ورنہ تو تین چیزوں میں سے ایک ضرور ماننا ہو گا، یا تو اطمینان بخش جواب لے کر آئین یا جز یہ (جزیہ، اسلامی حکومت میں غیر مسلم پر اس سالانہ ٹیکس کو کہا جاتا ہے جس کے مقابلے میں وہ اسلامی حکومت کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں) دیا کریں، یا ان کے مردوں کو قتل کر دیں، ان کے اہل و عیال کو اسیر کر لین اور ان کے مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں۔
بادشاہ نے اس کے نظریہ کو قبول کیا اور شیعہ علماءکو اپنے پاس بلا بھیجا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کرتے ہوئے کہا: اگر اس سلسلہ میں واضح اور روشن دلیل پیش نہ کر سکے تو تمہیں قتل کر دُوں گا اور تمہارے اہل و عیال کو اسیر کر لوں گا یا تم لوگوں کو جزیہ دینا ہو گا۔ شیعہ علماءنے ا س سے تین دن کی مہلت مانگی، چنانچہ ان حضرات نے بحث و گفتگو کے بعد یہ طے کیا کہ اپنے درمیان سے بحرین کے دس صالح اور پرہیز گار علماءکا انتخاب کیا جائے اور وہ دس افراد اپنے درمیان تین لوگوں کا انتخاب کریں، چنانچہ ان تینوں میں سے ایک عالم سے کہا: آپ آج جنگل و بیابان میں نکل جائیں اور امام زمانہ علیہ السلام سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں کیونکہ وہی ہمارے امام اور ہمارے مالک ہیں۔
چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری رات دوسرے عالم کو بھیجا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا۔ آخری رات تیسرے عالم بزرگوار محمد بن عیسیٰ کو بھیجا چنانچہ وہ بھی جنگل و بیابان کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام علیہ السلام سے مدد طلب کی، جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: اے محمد بن عیسیٰ! میں تم کو اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں، اور تم جنگل و بیابان میں پریشان کیوں پھر رہے ہو؟ محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اُنہوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا صاحب الزمان ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو! محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ فرمایا: تم صحیح کہتے ہو تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو، اُنہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اﷲ علیہ) کے یہاں ایک انار کا درخت ہے جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹی کا ایک سانچا بنوایاہوا ہے اور اس پر یہ جملے لکھے ہیںاور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو باندھ دیاجاناہے اور جب وہ انادر بڑا ہو گیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہو گئے۔ تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جا کر دُوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاﺅ تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا۔ اور دوسری نشانی یہ ہے کہ بادشاہ سے کہنا ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس میں مٹی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہو گی۔
محمد بن عیسیٰ امام علیہ السلام علیہ کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماءکے پاس لوٹ آئے۔ دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا اس کا بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔
بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کر لیا اور حکم دیا کہ اس مکار وزیر کو قتل کر دیا جائے“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵، ص ۸۷۱)
اس واقعہ میں مسلمانوں کے درمیان کشت و خون بپا ہونے کا اندیشہ تھا تو اس جگہ امام علیہ السلام نے مظلوموں کی دادرسی کی ہے
خود سازی
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ قُل ا ع مَلُو ا فَسَیَرَی اللّٰہ عَمَلَکُم وَ رَسُو لَہُ وَال مُو مِنُو نَ۔﴿ ( سورہ توبہ، آیت ۵۰۱)
”اوراے پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو اﷲ، رسول اور صاحبان ایمان دیکھ رہے ہیں........“۔
روایات میں منقول ہے کہ آیہ شریفہ میں ”مومنین“ سے مراد ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں۔ (اصول کافی، باب عروض الاعمال، ص ۱۷۱) اس بنا پر مومنین کے اعمال امام زمانہ علیہ السلام کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور آپعلیہ السلام پردہ غیبت میں بھی ہمارے اعمال پر ناظر ہیں اور یہ چیز تربیت کے لحاظ سے بہت زیادہ اثرات کی حامل ہے اور شیعوں کو اپنی اصلاح کی ترغیب دلاتی ہے، یعنی حجت خدا اور نیکیوں کے امام کے سامنے برائیوں اور گناہوں سے آلودہ نہ ہونے سے روکتی ہے۔ البتہ یہ بات مسلم ہے کہ انسان اس پاکیزگی اور روحانیت کے مرکز پر جتنی توجہ کرے گا تو اس کے دل کا آئینہ بھی اتنی ہی پاکیزگی اور معنویت اس کی رُوح میں بھر دے گا اور یہ نور اس کی رفتار و گفتار میں نمایاں ہوتا جائے گا۔
علمی اور فکری پناہ گاہ
آئمہ معصومین علیہ السلام معاشرہ کے حقیقی معلم اور اصلی تربیت کرنے والے ہیں اور مومنین ہمیشہ انہی ہستیوں کے پاکیزہ و شفاف سرچشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ براہ راست امام علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہونے کی سعادت اور فیض حاصل نہیں کر سکتے لیکن الٰہی علوم کے یہ معدن ومرکز مختلف راستوں سے شیعوں کی علمی اور فکری مشکلات کو دور فرماتے ہیں۔ غیبت صغریٰ کے زمانہ میں مومنین اور علماءکے بہت سے سوالات کے جوابات امام علیہ السلام کے ذریعہ حل کئے گئے ہیں۔
(کمال الدین ، ج ۲، باب ۵۴، ص ۵۳۲ تا ۶۸۲)
امام زمانہ علیہ السلام اسحاق بن یعقوب کے سوال کرنے میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
”خداوند عالم تمہاری ہدایت کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے آپ نے جو سوال ہمارے خاندان اور چچازاد بھائیوں میں سے منکرین کے بارے ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے ساتھ کسی کی کوئی رشہ داری نہیں ہے لہٰذا جو شخص بھی میرا انکار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کا انجام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہے ........ اور جب تک تم اس مال کو پاکیزہ نہ کر لو ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے............
لیکن جو رقم آپ نے ہمارے لئے بھیجی ہے اس کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں کہ پاک و پاکیزہ ہے۔ اور جو شخص ہمارے مالک کو (اپنے لئے) حلال سمجھتا ہے اور اس کو ہضم کر لیتا ہے گویا وہ آتشِ جہنم کھا رہا ہے ........ اب رہا مجھ سے فیض حاصل کرنے کا مسئلہ تو جس طرح بادلوں میں چھپے سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے (اسی طرح مجھ سے بھی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے) اور میں اہل زمین کے لئے امان ہوں، جس طرح ستارے اہل آسمان کے لے امان ہیں اور جن چیزوں کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے بارے میں سوال نہ کرو، اور اس چیزکے بارے پوچھنے سے پرہیز کرو جس چیز کو تم سے طلب نہیں کیا گیا اور ہمارے ظہور کے لئے بہت دعائیں کیا کرو کہ جس میں تمہارے لے بھی فرج (اور آسانیاں) ہوں گی۔ اے اسحاق بن یعقوب تم پر ہمارا سلام ہو اور ان مومنین پر جو راہ ہدایت کو طے کرتے ہیں“۔
(کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ص ۷۳۲)
اس کے علاوہ غیبت صغری کے بعد بھی شیعہ علماءنے متعدد بار اپنی علمی اور فکری مشکلات کو امام علیہ السلام سے بیان کرکے اس کا راہ حل حاصل کیا ہے۔
میر علّام، مقدس اردبیلی کے شاگرد رقمطراز ہیں:
”آدھی رات ہو رہی تھی اور میں نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ اقدس میں تھا اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی علیہ الرحمہ ہیں، میں نے جلدسے خود کو چھپا لیا۔
وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہو چکا تھا اچانک میں نے دیکھا کہ دروازہ کھل گیا اور موصوف روضہ مقدس کے اندر داخل ہو گئے اور کچھ ہی مدت بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
میں چھپ کر اس طرح ان کے پیچھے چلنے لگا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ لیں، یہاں تک کہ و ہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے اور اس محراب کے پاس گئے جہاں پر حضرت علی علیہ السلام کو ضربت لگی تھی، کچھ دیر وہاں رہے اور پھر مسجد سے باہر نکلے اور پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے، میں پھر ان کے پیچھے پیچھے چل دیا یہاں تک کہ وہ مسجد حنانہ میں پہنچے، اچانک مجھے بے اختیار کھانسی آگئی، جیسے ہی اُنہوں نے میری آواز سنی میری طرف ایک نگاہ کی اور مجھے پہچان لیا اور فرمایا: آپ میر علّام ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! اُنہوں نے کہا: یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: جب سے آپ حضرت علی علیہ السلام کے روضہ میں داخل ہوئے تھے میں اسی وقت سے آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو اس صاحب قبر کے حق کا واسطہ جو واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کا راز بتائیں!
موصوف نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کے سامنے بیان نہ کرنا اور جب میں نے ان کو اطمینان دلایا تو اُنہوں نے فرمایا: جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کے لئے حضرت علی علیہ السلام سے توسل کرتا ہوں، آج کی رات بھی ایک مسئلہ میرے لئے مشکل ہو گیا اور اس کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں جاﺅں اور آپ ہی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کروں۔
جب میں روضہ مقدس کے پاس پہنچا تو جیسا کہ آپ نے بھی دیکھا کہ بند دروازہ کھل گیا، میں روضہ میں داخل ہوا، خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی تاکہ امام علی علیہ السلام کی بارگاہ سے اس مسئلہ کا حل مل جائے اچانک قبر منور سے آواز آئی کہ مسجد کوفہ میں جاﺅ اور حضرت قائم علیہ السلام سے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو کیونکہ وہی تمہارے امام زمانہ ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد (مسجد کوفہ میں) محراب کے پاس گیا اور امام مہدی علیہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کیا اور اب اس وقت اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵، ص ۴۷۱)
باطنی ہدایت اور رُوحانی نفوذ
امام لوگوں کی ہدایت اور رہبری کا عہدہ دار ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے نور ہدایت کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی ہدایت کرے لہٰذا خداوند عالم کی طرف سے اس ذمہ داری پر عمل کرنے کےلئے کبھی ظاہر بظاہر انسانوں سے براہ راست رابطہ برقرار کرتا ہے، اور اپنی حیات بخش رفتار و گفتگو سے ان کو سعادت اور کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے اور کبھی کبھی خداوند عالم کی عطاکردہ قدرت ولایت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے اور خاص توجہ اور مخصوص عنایت کے ذریعہ دلوں کو نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف مائل کر دیتا ہے اور ان کے لئے رشدہ و کمال کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس صورت میں امام علیہ السلام کا ظاہری طور پر حاضر ہونا اور ان سے براہ راست رابطہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اندرونی اور قلبی رابطہ کے ذریعہ ہدایت کر دی جاتی ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام اس سلسلہ میں امام کی کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خداوندا! تیری زمین پر تیری طرف سے حجت ہوتی ہے جو مخلوق کو تیرے دین کی طرف ہدایت کرتی ہے........ اور اگر اس کا ظاہری وجود لوگوں کے درمیان نہ ہو لیکن بے شک اس کی تعلیم اور اسکے (بتائے ہوئے) آداب مومنین کے دلوں میں موجود ہیں اور وہ اسی کے لحاظ سے عمل کرتے ہیں“۔ (اثبات الھداة، ج ۳، ح ۲۱۱، ص ۳۶۴)
امام پردہ غیبت میں رہ کر اسی طرح سے انقلاب اور قیام کےلئے کارآمد لوگوں کی ہدایت کی کوشش فرماتے ہیں اور جو لوگ لازمی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں وہ امام علیہ السلام کی خصوصی تربیت کے تحت آپ کے ظہور کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور یہ پردہ غیب میں رہنے والے امام کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے جو آپ کے وجود کی برکت سے انجام پاتا ہے۔
بلاﺅں سے امان
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امن و امان انسانی زندگی کا اصلی سرمایہ ہے، بسا اوقات کائنات میں مختلف حوادث کی وجہ سے تمام موجودات کی عمومی زندگی خطرناک مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے، اگرچہ بلاﺅں اور مصیبتوں کا سدّباب مادّی چیزوں کے ذریعہ ممکن ہے لیکن معنوی اسباب و عوامل بھی ان مواقع موثرہوتے ہیں۔ ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں نظام خلقت کے تمام مجموعہ کے لئے امام اور حجت خدا کا وجود زمین اور اس پر رہنے والوں کے لئے امن و امان کا سبب شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام زمانہ علیہ السلام خود فرماتے ہیں:
﴾وَ اِنِّی لَاَمَان µ لِاَہ لِ ال اَر ضِ﴿ (کمال الدین، ج۲، باب ۵۴، ح ۴، ص ۹۳۲)
”اور میں اہل زمین کے لئے (بلاﺅں سے) امان ہوں“۔
امام علیہ السلام کا وجود اس چیز میں مانع ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گناہوں اور برائیوں کی وجہ سے سخت عذاب الٰہی میں مبتلا ہو جائیں اور زمین اور اہل زمین کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔
اس سلسلہ میں قرآن کریم میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِی عَذِّبَہُم وَ اَن تَ فِی ہِم........﴿ (سورہ انفال، آیت ۳۳)
”حالانکہ اﷲ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک پیغمبر آپ کے ان کے درمیان ہیں........“۔
حضرت ولی عصر علیہ السلام جو رحمت اور محبت پروردگار کے مظہر ہیں وہ بھی اپنی خاص توجہ کے ذریعہ بڑی بڑی بلاﺅں کو خصوصاً ہر شیعہ سے دُور کرتے ہیں، اگرچہ بہت سے مقامات پر آپعلیہ السلام کے لطف و کرم کی طرف لوگ توجہ نہیں کر پاتے اور اپنی مدد کرنے والے کو نہیں پہچانتے! آپعلیہ السلام خود اپنی شناخت کے بارے میں فرماتے ہیں:
﴾اَنَا خَاتِم ال اَو صِیَائِ، وَ بِی یَد فَع اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ال بَلَائُ مِن اَہ لِی وَ شِی عَتِی ۔﴿ (کمال الدین ، ج۲، باب ۳۴، ح ۲۱، ص ۱۷۱)
”میں پیغمبر خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں اور خداوند عالم میرے (وجود کے سبب) میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاﺅںکو دُور کرتا ہے)“۔
انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی زمانہ میں اور دفاع مقدس (یعنی عراق سے جنگ کے دوران) امام زمانہ علیہ السلام کے لطف و کرم اور آپعلیہ السلام کی محبت کو بارہا اس قوم اور حکومت پر سایہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور آپ علیہ السلامنے اسلامی حکومت اور امامعلیہ السلام کے چاہنے والے شیعوں کو دشمن کی خطرناک سازشوں سے صحیح و سالم رکھا ہے۔ ایرانی شمسی سال ۷۵۳۱، ۱۲ بہمن (۹۷۹۱ عیسوی) میں سرنگوں ہونا اور ۳۸۹۱ عیسوی میں ”نوژہ“ نامی بغاوت کی ناکامی اور (عراق سے) آٹھ سال کی جنگ میں دشمن کی ناکامی اور بہت سی دوسری مثالیں اس بات پر زندہ گواہ ہیں۔
باران رحمت
کائنات کا عظیم مہدی موعود مسلمانوں کی آرزوﺅں کا قبلہ اور شیعوں کا قلبی محبوب (حضرت امام زمانہ علیہ السلام) ہمیشہ لوگوں کے حالات زندگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مہربان خورشید کی غیبت اس چیز میں مانع نہیں ہے کہ وہ مشتاق دلوں پر اپنے زندگی بخش اور نشاط آفرین تجلی سے دریغ کرے اور ان کو اپنے لطف و کرم کے نور سے محروم کرے عشق و محبت کا وہ ماہ منیر ہمیشہ اپنے شیعوں کا غم خوار اور اپنے مقدس دربار میںمدد طلب کرنےوالوں کا دستگیر رہا ہے، وہ کبھی تو بیمار لوگوں کے سرہانے حاضر ہوتے ہیں اور اپنے شفا بخش ہاتھوں کو ان کے زخموں کا مرہم قرار دیتے ہیں اور کبھی جنگلوں میں بھٹکے ہوئے مسافر پر عنایت کرتے ہیں اور تنہائی کی وادی میں ناچار بے کس لوگوں کی مدد اور راہنمائی کرتے ہیں اور نااُمیدی کی سرد ہواﺅں میں منتظر دلوں کو اُمید کی گرمی عطا کرتے ہیں اور وہ بارانِ رحمت الٰہی ہیں جو ہر حال میں دلوں کے خشک بیابانوں پر برس کر شیعوں کے لئے اپنی دُعاﺅں کے ذریعہ ہریالی اور شادابی ہدیہ کرتے ہیں، وہ خداوند محبوب کی بارگاہ کے سجادہ نشین اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہمارے لئے یہ دُعا کرتے ہیں:
﴾یَا نُو رَ النُّو رِ، یَا مُدَبَّرَ ال اَمُو رِ یَا بَاعِثَ مَن فِی ال قَبُو رِ صَلَّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاج عَل لِی وَ لِشِی عَتِی مِنَ الضِّی قِ فَرَجاً، وَ مِنَ الہَم µ مَخ رَجًاً، وَاوسِع لَنَا ال من ہِجَ وَاطل ق لَنَا مِن عِن دِکَ مَا یُقَرَّجُ وَاف عَل بِنَا مَا اَن تَ اہلَہُ یَا کَرِی مٍ۔﴿
(منتخب الاثر، فصل ۰۱، باب ۷، ش ۶، ص ۸۵۶)
”اے نوروں کے نور! اے تمام امور کے تدبیر کرنے والے! اے مردوں کے زندہ کرنے والے! محمد و آل محمد پر صلوات بھیج! اور مجھے اور میرے شیعوں کو مشکلات سے نجات عطا فرما اور غم و اندوہ کو دُور فرما اور ہم پر (ہدایت کے) راستہ کو وسیع فرما اور جس راہ میں ہمارے لئے آسانیاں ہوں اس کو ہمارے اُوپر کھول دے اور تو ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر جس کا تو اہل ہے اے کریم!“۔
قارئین کرام! ہماری بیان کی ہوئی گذشتہ باتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امام علیہ السلام (اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں) سے رابطہ کرنا اور متصل ہونا ممکن ہے، جو حضرات اس بات کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے محبوب امام کی ملاقات اور قرب کی لذت سے ہمیشہ محفوظ ہوئے ہیں۔
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
امام عصر علیہ السلام کائنات کے محور اور الٰہی فیوضات کے انسانوں اوردوسری مخلوقات تک پہنچنے کا واسطہ ہیں۔
حضرت کے ظہور اور آنے پر عقیدہ معاشرے میں اُمید و نشاط اور فرحت کی رُوح پھونکتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام مسلمانوں کے تمام امور پر نگاہ رکھتے ہیں اور لوگوں کے اعمال حضرت کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں یہ عقیدہ لوگوں کی اصلاح اور تربیت میں اہم اثرات رکھتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام شیعوں کی علمی اور فکری پناہ گاہ ہیں بہت سے امور میں شیعہ بزرگان نے حضرت کے ذریعے اپنے علمی جوابات حاصل کئے نیز باطنی ہدایت، مصیبتوں سے نجات اور بارانِ رحمت کا نزول حضرت کے وجود کی برکات میں سے ہے۔
درس کے سوالات:
۱۔ کائنات میں امام علیہ السلام کی مرکزیت کی وضاحت کریں؟
۲۔ زمانہ غیبت میں امام عصر علیہ السلام کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوہات میں سے کوئی دو وجہوں کی وضاحت کریں؟
۳۔ زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت اور پائیداری میں حضرت کے کردار کو بیان کریں؟
۴۔ لوگوں کے نفوس میں حضرت کی باطنی ہدایت اور روحانی تسلط کی وضاحت کریں؟
۵۔ آیا امام عصر علیہ السلام نے خود کو بالخصوص شیعوں کے بلاﺅں سے امان دینے والا بتایا ہے یا ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے؟
ة....ة....ة....ة....ة
### جوابات:
**سوال 1: کائنات میں امام علیہ السلام کی مرکزیت کی وضاحت کریں؟**
امام علیہ السلام کی کائنات میں مرکزیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی تمام موجودات کے لیے خدا کی طرف سے فیض کا واسطہ ہیں۔ ان کی وجودیت سے کائنات میں استحکام آتا ہے اور وہ خدا کی مخلوقات کو روحانی و مادی نعمتوں سے فیضیاب کرتے ہیں۔ ان کے بغیر، کائنات کا توازن ممکن نہیں ہے۔
**سوال 2: زمانہ غیبت میں امام عصر علیہ السلام کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوہات میں سے کوئی دو وجہوں کی وضاحت کریں؟**
1. **فیض کا مستقل مرکز:** سورج کی طرح جو کہ نور اور حرارت کا مستقل مرکز ہے، امام عصر بھی روحانیت و ہدایت کے لامتناہی سرچشمہ ہیں جو مومنین کو مستقل بنیادوں پر فیض پہنچاتے ہیں۔
2. **نظر نہ آنا مگر فیض دینا:** سورج جب بادلوں میں چھپ جاتا ہے تب بھی اس کا نور زمین تک پہنچتا رہتا ہے، اسی طرح امام غائب ہونے کے باوجود ان کا فیض و برکت مومنین تک پہنچتی رہتی ہے۔
نوٹ: سوال نمبر 2 کا یہ جواب بھی OK ہے۔
جواب
*زمانہ غیبت میں امام عصر عج کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوھات*
علامہ مجلسی(رہ) اپنی معروف کتاب "بحار الانوار الجامعة لدُرر اخبار الائمة الاطهار" میں جناب جابر کے ذریعہ، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ (ص) هَلْ يَنْتَفِعُ الشِّيعَةُ بِالْقَائِمِ (ع) فِي غَيْبَتِهِ فَقَالَ (ص) إِي وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالنُّبُوَّةِ إِنَّهُمْ لَيَنْتَفِعُونَ بِهِ وَ يَسْتَضِيئُونَ بِنُورِ وَلَايَتِهِ فِي غَيْبَتِهِ كَانْتِفَاعِ النَّاسِ بِالشَّمْسِ وَ إِنْ جَلَّلَهَا السَّحَابُ.
جابر الانصاری سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا شیعہ (امام) قائم (عج) سے انکی غیبت کے دوران فائدہ حاصل کرسکیں گے؟ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: اْس ذات کی قسم کی جسنے مجھے مبعوث کیا ،ہاں شیعہ ان(قائم) سے فائدہ حاصل کریں گے اور انکی غیبت میں انکی ولایت کے نور سے منّور ہوں گے،جس طرح سے لوگ بادل کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔(۱)
اسی طرح کی کئی اور روایات ہیں کہ جس میں ائمہ (علیہ السلام) سے یہی سوال ہوا اور انہوں نے اسی تشبیہ کے ساتھ جواب دیا (۲)حتی کہ جب خود امام زمانہ (عج) سے سوال ہوا تو آپ نے خود کو اس سورج سے تشبیہ دی جو بادلوں کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔
علامہ مجلسی(رہ) فرماتے ہیں کہ امام زمانہ (عج)سے اس طرح کی تشبیہ دینے کی چند وجہیں ہیں(۳)،ان وجوہات کو مختصرطور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
پہلی وجہ: یہ کہ وجود کا نور،علم و ھدایت سب حجت خدا کے ذریعہ مخلوقات خدا تک پہنچتے ہیں،کیونکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ذوات مقدسہ (علیہم السلام) کی برکت سے اس عالم کو وجود عطا ہوا ہے اور اگر یہ انوار مقدسہ (علیہم السلام) نہ ہوتے تو لوگوں تک علوم اور معارف نہ پہنچتے۔ اگر یہ (ع) نہ ہوتے تو لوگ اپنے گناہوں کے باعث طرح طرح کی پریشانیوں اور عذاب میں مبتلا رہتے۔ جیسا کہ خداوند عالم نے اپنے حبیب سے فرمایا [وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ] ’’اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ انکے درمیان ہیں‘‘ (۴)
دوسری وجہ: جس طرح سے بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر آن منتظر رہتے ہیں کہ کب بادل ہٹیں اور سورج نظر آئے تاکہ زیادہ سے زیاد ہ فائدہ اٹھایا جا سکے، اسی طرح سے شیعہ دورانِ غیبت ہر وقت منتظر رہتے ہیں کہ کب غیبت ختم ہو اور امام (عج) کا ظہور ہو اور وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
تیسری وجہ: اتنے زیادہ آثار اور علامات کے باوجود،وہ لوگ جو آنحضرت کے وجودِ با برکت کا انکار کرتے ہیں ، وہ انکی مانند ہیں کہ جو سورج کے چھپ جانے پر اسکا انکار کرتے ہیں۔
چوتھی وجہ:بعض اوقات سورج کا بادلوں کے پیچھے چلا جانا، لوگوں کے لئیے فائدہ مند ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اسی طرح امام زمانہ (عج) کی غیبت کے دوران حضرت (عج) کا ہماری نظروں سے غائب رہنا ،اس میں بھی لوگوں کے لئیے کچھ فائدے اور مصلحت ہے۔
پانچویں وجہ:لوگ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ سورج کو براہ راست دیکھ سکیں اور اگر کوشش کریں تو ہوسکتا ہے انکی آنکھیں چوندھیا جائیں یا اندھے ہو جائیں لیکن یہ ممکن ہے کہ بادلوں کے پیچھے سے سورج کو دیکھا جائے اور نقصان نہ ہو۔اسی طرح اگر بٖغیر تیاری کے،وجودِ مقدس امامِ زمانہ(عج) کا دیدار ہو جائے تو ممکن ہے لوگ گمراہ ہوجائیں اور امام (عج) کو نہ پہچان سکیں ،اور نقصان دہ ثابت ہو۔
چھٹی وجہ: جس طرح بادلوں کے پیچھے سے یکا یک سورج نمودار ہو جاتا ہے اور کچھ اس بات سے با خبر ہوتے ہیں اور کچھ غافل رہتے ہیں ،اسی طرح غیبت کے ایام میں امام عالی مقام (عج) بھی کچھ کو اپنے دیدار کرواتے ہیں اور کچھ انکو دیکھ کر بھی متوجہ نہیں ہوتے۔
ساتویں وجہ:اصولا اہلبیت (علیہم السلام) بھی فائدہ پہونچانے کے لحاظ سے سورج کی مانند ہیں ، بس جو دل کے اندھے ہیں انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہوتا۔خدا بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرما رہا ہے[مَنْ كانَ فِي هذِهِ أَعْمى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى وَ أَضَلُّ سَبِيلًا]’’ اور جو اسی دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا ‘‘(۵)
سورج کا نور تو سب کے لئیے برابر ہے اگر کوئی خود کو سورج کے نور سے چھپالے تو یہ اسکی بد قسمتی اسی طرح اہلبیت (علیہم السلام) کی تعلیمات عام ہیں جو چاہے حاصل کرے۔
آٹھویں وجہ:جس طرح سے کھڑکیوں اور روشندانوں سے سورج کی شعائیں گھروںمیں داخل ہوتی ہیں اور گھر میں جتنے کم موانع اور رکاوٹیں ہوں گی اتنی ہی زیادہ سورج کی روشنی آئے گی، اسی طرح جو لوگ دنیا سے وابستگی،نفسانی خواہشات کے ذریعہ موانع ایجاد کرلیتے ہیں ان کےاو پر اہلبیت (علیہم السلام) کی ہدایات کا اثر نہیں ہوتا اور جتنا جتنا موانع کم کرتے ہیں اتنا اہلبیت (علیہم السلام) کی تعلیمات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
**سوال 3: زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت اور پائیداری میں حضرت کے کردار کو بیان کریں؟**
امام زمانہ علیہ السلام کے غیبت کے دوران بھی، وہ شیعہ مکتب کی حفاظت کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ وہ منتخب علماء اور دینی رہنماؤں کے ذریعے شیعہ عقائد و اصولوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتے ہیں۔
**سوال 4: لوگوں کے نفوس میں حضرت کی باطنی ہدایت اور روحانی تاثیر کی وضاحت کریں؟**
امام علیہ السلام باطنی طور پر ان کے پیروکاروں کی ہدایت کرتے ہیں۔ وہ دلوں کو متاثر کرتے ہیں، صحیح راہ دکھاتے ہیں، اور ان کی روحانی ترقی میں مدد کرتے ہیں۔ امام کی زندگی بخش تعلیمات اور سنتیں مومنین کے دلوں میں گہرائی سے بیٹھ جاتی ہیں، جس سے وہ نفسانی اصلاح اور کمال کی طرف بڑھتے ہیں۔
**سوال 5: آیا امام عصر علیہ السلام نے خود کو صرف شیعوں کےلئے بلاؤں سے امان دینے والا بتایا ہے یا ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے؟**
جواب
امام عصر علیہ السلام نے خود کو خاص طور پر شیعوں کے لیے بلاؤں اور مصیبتوں سے امان دینے والا قرار دیا ہے، لیکن ان کا وجود تمام اہل زمین کے لیے امان کا باعث ہے۔ امام کی زندگی بخش موجودگی اور دعائیں نہ صرف شیعوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے فیض و برکت کا سرچشمہ ہیں۔ ان کی غیبت بھی کائناتی توازن و استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے تمام مخلوقات کو حفاظت و سلامتی میسر آتی ہے۔
یا یہ جواب
امام عصر علیہ السلام نے خود کو خاص طور پر شیعوں کے لیے بلاؤں اور مصیبتوں سے امان دینے والا قرار دیا ہے۔ تاہم، ان کا وجود ساری کائنات کے لیے برکت اور حفاظت کا ذریعہ ہے، جیسا کہ ان کے وجود سے تمام موجودات کو استحکام اور حفاظت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی دعائیں اور برکات نہ صرف شیعوں بلکہ تمام انسانیت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اس طرح، ان کی غیبت کے دوران بھی ان کے وجود کی برکت سے دنیا کے تمام افراد سلامتی و امان میں رہتے ہیں،
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت نامہ
(کورس ون)
آٹھواں درس
دیدارِ امام علیہ السلام اور آنحضرت کی طولانی عمر
مقاصد:
۱۔ زمانہ غیبت میں شیعوں سے رابطہ کی کیفیت سے آگاہی
۲۔ حضرت کے ساتھ ملاقات کی اقسام (اضطراری حالت، عام حالت)
۳۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک کے دلائل
فوائد:
۱۔ ملاقات کے مسئلہ میں صحیح شناخت پیدا ہونا
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک پر ظاہری شبہ کا دور ہون
تعلیمی مطالب:
۱۔ غیبت صغریٰ میں لوگوں کے حضرت کے ساتھ رابطہ کا غیبت کبریٰ کے ساتھ فرق رکھنا
۲۔ ملاقات کا استثنائی صورت میں انجام پانا اور حضرت کی غیبت پر تاکید
۳۔ ملاقات کرنے والوں کی مختلف شرائط
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات انجام پانے کی مثالیں
۵۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک کے اسرار
۶۔ طول عمر کے تاریخی شواہد
دیدارِ امامعلیہ السلام
زمانہ غیبت کی مشکلات اور تلخیوں میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ اپنے مولا و امام سے دور اور اس بے مثال فخر یوسف کے جمال کے دیدار سے محروم ہیں، زمانہ غیبت کے شروع سے ہی آپ کے ظہور کے منتظر دلوں میں ہمیشہ یہ حسرت دلوں کو بے تاب کرتی رہی ہے کہ کسی صورت میں اس بلند فضیلت کے حامل وجود کا دیدار ہو جائے وہ اس فراق میں آہ و فغاں کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ غیبت صغریٰ میں آپ کے خاص نائبین کے ذریعہ شیعہ اپنے محبوب امام سے رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان میں بعض لوگ امام علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب بھی ہوئے ہیں جیسا کہ اس سلسلہ میں متعدد روایات موجود ہیں، لیکن غیبت کبریٰ (جس میں امام علیہ السلام مکمل طور پر غیبت اختیار کئے ہوئے ہیں) میں وہ رابطہ ختم ہو گیا اور امام علیہ السلام سے عام طریقہ سے یا خاص حضرات کے ذریعہ ملاقات کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔
لیکن پھر بھی بہت سے علماءکا یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس ماہِ منیر سے ملاقات کا امکان ہے اور متعدد بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں، بہت سے عظیم الشان علماءجیسے علامہ بحر العلوم، مقدس اردبیلی اور سید اب طاو ¿وس وغیرہ کی ملاقات کے واقعات مشہور و معروف ہیں، جن کو متعدد علماءنے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے جنة الماویٰ اور نجم الثاقب، محدث نوری)
لیکن یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ امام زمانہ (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ملاقات کے سلسلہ میں درج ذیل نکات پر توجہ کرنا چاہیے:۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات بہت ہی زیادہ پریشانی اور بے کسی کے عالم میں ہوتی ہے اور کبھی عام حالات میں اور بغیر کسی پریشانی کی صورت میں، واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ کبھی امام علیہ السلام کی ملاقات مومنین کی نصرت اور مدد کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ بعض پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور تنہائی اور بے کسی کا احساس کرتے ہیں مثلاً مختلف مقامات پر ملاقات کے واقعات جیسے کوئی حج کے سفر میں راستہ بھٹک گیا اور امام علیہ السلام یا ان کے کوئی صحابی تشریف لائے اور اس کو سرگردانی سے نجات دی اور امام علیہ السلام سے اکثر ملاقاتیں اسی طرح کی ہیں۔
لیکن بعض ملاقاتیں عام حالات میں بھی ہوئی ہیں۔ اور ملاقات کرنے والے اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے امام علیہ السلام کی ملاقات سے شرفیاب ہوئے ہیں۔
لہٰذا مذکورہ نکتہ مدنظر رہے کہ ہر کسی سے امام علیہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔اور امام علیہ السلام ہر کسی سے ملتے بھی نہیں۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں خصوصاً آج کل بعض لوگ امام زمانہ علیہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ کرکے اپنی دوکان چمکانے اورشہرت حاصل کرتے کے پیچھے ہیں اور اس طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی اور عقیدہ و عمل میں انحراف کی طرف لے جاتے ہیں ۔ بعض دعاﺅں کے پڑھنے اور بعض اعمال انجام دینے کی دعوت دیتے ہیں جبکہ ان میں سے بہت سے اذکار اور اعمال کی کوئی اصل اور بنیاد بھی نہیں ہے۔ امام زمانہعلیہ السلام کے دیدار کا وعدہ دیتے ہوئے ایسی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں کہ ان کی محفلوں کے طور طریقوں کا دین یا امام زمان عج سے کوئی ربط نہیں ہوتا اور یوں وہ لوگ امام غائب کی ملاقات کو سب کے لئے ایک آسان کام قرار دینے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام علیہ السلام خداوند عالم کے ارادہ کے مطابق مکمل طور پر غیبت میں ہیں اور صرف انگشت شمار افراد ہی کے لئے امام علیہ السلام کی ملاقات ہوتی ہے کہ ان کی راہ نجات فقط اسی لطف الٰہی کے مظہر کی براہ راست عنایت پر موقوف ہوتی ہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ملاقات صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام اس ملاقات میں مصلحت دیکھیں، لہٰذا اگر کوئی مومن امام علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب ہونے کے لئے اشتیاق اور رغبت کا اظہار کرے اور بھرپور کوشش کرے لیکن امامعلیہ السلام سے ملاقات نہ ہو سکے تو پھر مایوسی اور نااُمیدی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور اسے امام علیہ السلام کے لطف و کرم کے نہ ہونے کی نشانی قرار نہیں دینا چاہیے، جیسا کہ جو افراد امام علیہ السلام کی ملاقات سے فیضیاب ہوئے ہیں اس ملاقات کو ان کے تقویٰ اور فضیلت کی نشانی قرار نہیں دینا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ امام زمانہ علیہ السلام کے جمال پرنور کی زیارت اور دلوں کے محبوب سے گفتگو اور کلام کرنا واقعاً ایک بڑی سعادت ہے لیکن ائمہ علیہم السلام خصوصاً امام عصر علیہ السلام اپنے شیعوں سے یہ نہیں چاہتے کہ ان سے ملاقات کی کوشش میں رہیں اور اپنے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے چلہ کھینچیں، یا جنگلوں میں نکل جائیں بلکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہمارے شیعوں کو ہمیشہ اپنے امام کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنا چاہیے اور آپ کی رضایت حاصل کرنے کےلئے اپنی رفتار و کردار کی اصلاح کرنا چاہیے اور ان کے عظیم مقاصد کے لئے قدم بڑھانا چاہیے تاکہ جلد از جلد آخری اُمید جہاں کے ظہور کاراستہ ہموار ہو جائے اور کائنات ان کے وجود سے براہ راست فیضیاب ہو۔
خود امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں:﴾اَکث ±رُو ±ا الدُّعَائَ بِتَع ±جِیَلِ ال ±فَر ±جِ، فَاِنَّ ذَلِکَ فَرَجُکُم ±۔﴿ (کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ح ۴، ص ۹۳۲)
”میرے ظہور کے لئے بہت زیادہ دعائیں کیا کرو کہ اس میں تمہاری ہی آسانی (اور بھلائی) ہے“۔یہاں پر مناسب ہے کہ مرحوم حاج علی بغداری (جو اپنے زمانہ کے نیک اور صالح شخص تھے) کی دلچسپ ملاقات کو بیان کریں لیکن اختصار کی وجہ سے اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
”وہ متقی اور صالح شخص ہمیشہ بغداد سے کاظمین جایا کرتے تھے اور وہاں دو اماموں (امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی علیہما السلام) کی زیارت کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: خمس اور دیگر رقوم شرعی میرے ذمہ تھی، اسی وجہ سے میں نجف اشرف گیا اور ان میں سے ۰۲ تومان عالم فقیہ شیخ انصاری (علیہ الرحمہ) کو اور ۰۲ تومان فقیہ محمد حسین کاظمی (علیہ الرحمہ) کو اور ۰۲ تومان آیت اﷲ شیخ محمد حسن شروقی (علیہ الرحمہ) کو دیئے اور ارادہ یہ کیا کہ اپنے ذمہ دوسرے ۰۲ تومان بغدا کی واپسی پر آیت اﷲ آل یاسین (علیہ الرحمہ) کو دُوںگا۔ جمعرات کے روز بغداد واپس آیا سب سے پہلے کاظمین گیا اور دونوں اماموں کی زیارت کی، اس کے بعد آیت اﷲ آل یاسین کے بیت الشرف پر گیا اور اپنے ذمہ خمس کی رقم کا ایک حصہ ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے اجازت طلب کی کہ اس میں سے باقی رقم (انشاءاﷲ) بعد میں خود آپ کو یا جس کو مستحق سمجھوں ادا کردُوں گا، اُنہوں نے اس بات کا اصرار کیا کہ انہیں کے پاس رہیں لیکن میں نے اپنے ضروری کام کی وجہ سے معذرت چاہی اور خداحافظی کی اور بغداد کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب میں نے اپنا ایک تہائی سفر طے کر لیا تو راستہ میں ایک باوقار سید بزرگوار کو دیکھا، موصوف سبز عمامہ پہنے ہوئے تھے اور ان کے رخسار پر ایک کالے تِل کا نشان تھا اور موصوف زیارت کے لئے کاظمین جا رہے تھے، میرے پاس آئے اور مجھے سلام کیا اور گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے گلے لگایا اور مجھے خوش آمدید کہا اور فرمایا: خیر تو ہے کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: زیارت کرکے بغداد جا رہا ہوں۔ اُنہوں نے فرمایا آج شب جمعہ ہے کاظمین واپس جاﺅ (اور آج کی رات وہیں رہو) میں نے عرض کی : میں نہیں جا سکتا، اُنہوں نے کہا: تم یہ کام کر سکتے ہو،جاﺅ تاکہ میں گواہی دوں کہ میرے جد امیر المومنین علیہ السلام کے اور ہمارے دوستوں میں سے ہو، اور شیخ بھی گواہی دیتے ہیں۔ خداوند عالم فرماتا ہے: ﴾فَاستَش ±ہِدُاوا شَہِدِی ±نِ مِن ± رِجَالُکُم ±۔﴿ (اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا دو)۔(سورہ بقرہ، آیت ۲۸۲)
حاجی علی بغدادی کہتے ہیں: میں نے اس سے پہلے آیت اﷲ آل یاسین سے درخواست کی تھی کہ میرے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں جس میں اس بات کی گواہی ہو کہ میں اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں اور محبین میں سے ہوں تاکہ اس نوشتہ کو اپنے کفن میں رکھوں، میں نے سید سے سوال کیا: آپ مجھے کیسے پہچانتے ہیں اور کس طرح گواہی دیتے ہیں؟ فرمایا: انسان کس طرح اس شخص کو نہ پہچانے جو اس کا کامل حق ادا کرتا ہو؟ میں نے عرض کی: کونسا حق؟ فرمایا: وہی حق جو تم نے میرے وکیل کو دیا ہے، میں نے عرض کیا: آپ کا وکیل کون ہے؟ فرمایا: شیخ محمد حسن! میں نے عرض کی: کیا وہ آپ کے وکیل ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
مجھے ان کی باتوں پر بہت زیادہ تعجب ہوا۔ میں نے سوچا کہ میرے اور ان کے درمیان بہت پرانی دوستی ہے جس کو میں بھول چکا ہوں کیونکہ اُنہوں نے ملاقات کے شروع میں ہی مجھے نام سے پکارا ہے اور میں نے یہ سوچا کہ موصوف چونکہ سید ہیں لہٰذا مجھ سے خمس کی رقم لینا چاہتے ہیں لہٰذا میں نے کہا: کچھ سہم سادات میرے ذمہ ہے اور میں نے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے رکھی ہے۔ موصوف مسکرائے اور کہا: جی ہاں! آپ نے ہمارے سہم کا کچھ حصہ نجف میں ہمارے وکیلوں کو ادا کر دیا ہے، میں نے سوال کیا: کیا یہ کام خداوند عالم کی بارگاہ میں قابل قبول ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: جی ہاں! میں متوجہ ہوا کہ کس طرح یہ سید بزرگوار عصرِ حاضر کے بڑے اور جید علماءکو اپنا وکیل قرار دے رہے ہیں؟ لیکن ایک بار پھر مجھے غفلت سی ہوئی اور اور میں موضوع کو بھول گیا!
میں نے کہا:اے بزرگوار! کیا یہ کہنا صحیح ہے؟ جو شخص شب جمعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے (وہ عذاب خدا سے) امان میں ہے۔ فرمایا: جی ہاں صحیح ہے! اور میں نے دیکھا کہ فوراً ہی موصوف کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھر گئی، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہم نے اپنے آپ کو رک اور راستہ سے گزرے ہوں۔ داخل ہونے والے دروازہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ موصوف نے کہا: زیارت پڑھیں۔ میں نے کہا: بزرگوار میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکوں گا۔ فرمایا: کیا میں پڑھوں تاکہ تم بھی میرے ساتھ پڑھتے رہو؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ ان بزرگوار نے پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور ایک ایک امام پر سلام بھیجا، اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے نام کے بعد میری طرف رُخ کرکے فرمایا: کیا تم اپنے امام زمانہ کو پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں پہچانوں گا؟ فرمایا: تو پھر اس پر سلام کرو! میں نے کہا: ﴾اَلسَّلَامُ عَلَی ±کَ یَا حُجَّةَ اللّٰہِ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ یَاب ±نَ ال ±حَسَنِ!﴿ وہ بزرگوار مسکرائے اور فرمایا: ﴾عَلَی ±کَ السَّلَامُ وَ رَح ±مَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ ¾۔﴿ اس کے بعد حرم میں وارد ہوئے اور ضریح کا بوسہ لیا، فرمایا: زیارت پڑھیں، میں نے عرض کی: اے بزرگوار میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا۔ فرمایاکیا میں آپ کے لئے پڑھوں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! اُنہوں نے مشہور زیارت ”امین اﷲ“ پڑھی اور فرمایا: کیا میرے جد امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں آج شب جمعہ اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی شب ہے۔ اُنہوں نے امام حسین علیہ السلام کی مشہور زیارت پڑھی۔ اس کے بعد نماز مغرب کا وقت ہو گیا، موصوف نے مجھ سے فرمایا: نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ اور نماز کے بعد وہ بزرگوار اچانک میری نظروں سے غائب ہو گئے، میں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکے!!
ایک مرتبہ میں سوچنے لگا اور اپنے سے سوال کرنے لگاتو متوجہ ہوا کہ سید نے مجھے نام لے کر پکارا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ کاظمین واپس لوٹ جاﺅں جبکہ میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ اُنہوں نے عظیم الشان فقہاءکو اپنا وکیل قرار دیا اور آخرکار میری نظروں سے اچانک غائب ہو گئے۔ ان تمام باتوں پر غوروفکر کرنے کے بعد مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ سید زادے میرے امام زمانہ علیہ السلام تھے لیکن افسوس کہ بہت دیر بعد سمجھ سکا۔
(بحارالانوار، ج ۳۵، ص ۵۱۳، النجم الثاقب، داستان ۱۳)
طولانی عمر
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زندگی سے متعلق بحثوں میں سے ایک بحث آپعلیہ السلام کی طولانی عمر کے بارے میں ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح ایک انسان کی اتنی طولانی عمر ہو سکتی ہے؟ (اس وقت ۵۲۴۱ ہجری قمری ہے اور چونکہ امام زمانہ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۵۵۲ ہجری قمری ہے لہٰذا اس وقت آپ کی عمر شریف ۰۷۱۱ سال ہے۔نظر ثانی ۱۲ذیقعدہ ۹۲۴۱ھ میں ہوئی اس وقت آپ کی عمر ۴۷۱۱سال تین ماہ چھ دن ہے خدا انہیں کروڑوں سال زندہ رکھے(آمین))
اس سوال کا سرچشمہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر ۰۸ سے ۰۰۱ سال کی عمر ہوتی ہے ( اگرچہ بعض لوگ سو سال سے زیادہ بھی عمر پاتے ہیں لیکن بہت ہی کم ایسے افراد ملتے ہیں) لہٰذا بعض لوگ ایسی عمر کو دیکھنے اور سننے کی بنا پر اتنی طولانی عمر پر یقین نہیں کرتے، ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نہیںوضہ کاظمین میں پایا، بغیر اس کے کسی سڑ ہے۔ دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضاءکی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بہت زیادہ طولانی عمر پا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کو بڑھاپے اور ضعیفی کا احساس تک نہ ہو۔
برنارڈ شو کہتا ہے:
”بیالوجسٹ ماہرین اور ان کے دانشوروں کے مورد قبول اصولوں میں سے ہے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی یہاں تک کہ طول عمر کے لئے بھی کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی“۔ ( راز طول عمر امام زمان علیہ السلام، علی اکبر مہدی پور ص۳۱)
پروفیسر ”اٹینگر“ لکھتے ہیں:”ہماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ہمارے شروع کئے کام کے پیش نظر اکیسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال عمر کر سکتے ہیں“۔ ( سورہ ¿ صافات، آیات ۴۴۱، ۳۴۱) لہٰذا بڑھاپے پر غلبہ پانے اور طولانی عمر پانے کے سلسلہ میں دانشوروں کی کوششیں اور چند کامیاب نتائج سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح (طولانی عمر پانے) کا امکان پایا جاتا ہے اور اس وقت بھی دنیا میں بہت سے افراد ایسے موجود ہیں جو مناسب کھانے پینے اور آب و ہوا اور دوسری بدنی، فکری کارکردگی کی بنا پر ۰۵۱سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں، اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں بہت سے ایسے افراد پائے گئے ہیں جنہوں نے ایک طولانی عمر پائی ہے اور آسمانی اور تاریخی کتابوں میں بہت سے ایسے افراد کا نام اور ان کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر آج کل کے انسان سے کہیں زیادہ تھی۔اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں ہم ذیل میں چند نمونے بیان کرتے ہیں:
۱۔ قرآن کریم میں ایک ایسی آیت ہے جو نہ صرف یہ کہ انسان کی طولانی عمر کی خبر دیتی ہے بلکہ عمر جاویداں کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:﴾فَلَو ± لَا اَنَّہُ کَانَ مِن ± المُسَبِّحِی ±نَ لَلَبِتَ فِی ± بَطِنِہِ اِلٰی یَو ±مِ یُب ±عَثُو ±ن۔﴿ (مجلہ دانشمند سال ۶، ش ۶، ص ۷۴۱)
”اگر وہ (جناب یونس علیہ السلام) شکم ماہی میں تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک شکم ماہی میں رہتے“۔
لہٰذا مذکورہ آیہ شریفہ بہت زیادہ طولانی عمر (جناب یونس علیہ السلام کے زمانہ سے قیامت تک) کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ جسے دانشوروں اور ماہرین کی اصطلاح میں ”عمر جاویداں“ کہا جاتا ہے، پس انسان اور مچھلی کے بارے میں طولانی عمر کا مسئلہ ایک ممکن چیز ہے۔ ( خوش قسمتی سے مڈگاسکر کے ساحلی علاقہ میں ۰۰۴ ملین سال (پرانی عمر والی) ایک مچھلی ملی ہے جو مچھلیوں کے لئے اتنی طولانی عمر پر زندہ گوار ہے۔ (روزنامہ کہیان، ش ۳۱۴۶، ۲۲، ۸، ۳۴۳۱ ھ ق)
۲۔ قرآن کریم میں جناب نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
”بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم میں بھیجا، جنہوں نے ان کے درمیان ۰۵۹ سال زندگی بسر کی“۔ (سورہ ¿ عنکبوت، آیت ۴۱)
مذکورہ آیہ شریفہ میں جو مدت بیان ہوئی ہے وہ انکی نبوت اور تبلیغ کی مدت ہے، کیونکہ بعض روایات کی بنا پر جناب نوح علیہ السلام کی عمر ۰۵۴۲ سال تھی۔
( کمال الدین، ج ۲، باب ۶۴، ح ۳، ص ۹۰۳)
قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے:”امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں جناب نوح علیہ السلام کی سنت پائی جاتی ہے اور وہ ان کی طولانی عمر ہے“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۱۲، ح ۴، ص ۱۹۵)
۳۔ اور اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
”بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو سولی دی گئی ہے بلکہ ان کو غلط فہمی ہوئی ........، بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا ہے بلکہ خداوند عالم نے ان کو اپنی طرف بلا لیا ہے کہ خداوند عالم صاحب قدرت اور حکیم ہے“۔ (سورہ ¿ نسائ، آیت ۷۵۱)
تمام مسلمان قرآن و احادیث کے مطابق اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمانوں میں رہتے ہیں، اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی نصرت و مدد کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:”ان صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کی زندگی میں چار انبیاء(علیہم السلام) کی چار سنتیں پائی جاتی ہیں........ ان میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ ان (امام مہدی علیہ السلام) کے بارے میں (بھی) لوگ کہیں گے کہ وہ وفات پا چکے ہیں، حالانکہ وہ زندہ ہیں“۔ (بحار الانوار، ج ۱۵، ص ۷۱۲)
قرآن کریم کے علاوہ خود توریت اور انجیل میں بھی طولانی عمر کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے جیسا کہ توریت میں بیان ہوا ہے:”........ جناب آدم کی پوری عمر نو سو تیس سال تھی جس کے بعد وہ مر گئے ........ ”انوش“ کی عمر نو سو پانچ سال تھی، ”قینان“ کی عمر نو سو دس سال کی تھی، ”متوشالح“ کی عمر نو سو انتہر سال تھی“ ( زندہ، روزگاران، ص ۲۳۱، (نقل از توریت، ترجمہ فاضلل خانی، سفر پیدائش باب پنجم، آیات ۵ تا ۲۲)
اس بنا پر خود توریت میں متعدد حضرات کی طولانی عمر (نو سو سال سے بھی زیادہ) کا اعتراف کیا گیاہے۔ انجیل میں بھی کچھ ایسی تحریریں ملتی ہیں جن سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے اور آسمانوں میں اوپر چلے گئے ( زندہ، روزگاران، ص ۴۳۱، (نقل از عہد جدید، کتاب اعمال رسولان، باب اول، آیات ۱ تا ۲۱) اور ایک زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام کی عمر دو ہزار سال سے بھی زیادہ ہے۔
قارئین کرام! اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ”یہود و نصاریٰ“ مذہب کے ماننے والے چونکہ اپنی مقدس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں لہٰذا ان کے لحاظ سے بھی طولانی عمر کا عقیدہ صحیح ہے۔
ان سب کے علاوہ طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے قابل قبول ہے اور تاریخ میں اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں اور خداوند عالم کی نامحدود قدرت کے لحاظ سے بھی قابل اثبات ہے۔ تمام آسمانی ادیان کے ماننے والوں کے عقیدہ کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ خداوند عالم کے اختیار میں ہے اور تمام اسباب و علل کی تاثیر بھی اسی کی ذات سے وابستہ ہے، اگر وہ نہ چاہے تو کوئی بھی سبب اور علت اثرانداز نہ ہو، نیز وہ بغیر سبب اور علت کے پیدا کر سکتا ہے۔وہ ایسا خدا ہے جو پہاڑوں کے اندر سے اونٹ نکال سکتا ہے اور بھڑکتی ہوئی آگ سے جناب ابراہیم علیہ السلام کو صحیح و سالم نکال سکتا ہے، نیز جناب موسٰی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کے لئے دریا کو خشک کرکے راستہ بنا سکتا ہے اور وہ پانی کی دو دیواروں کے درمیان سے آرام سے دوسرے کفارے نکل سکتے ہیں۔ (یہ وہ حقائق ہیں کہ جو قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔ سورہ ¿ انبیاءآیت ۹۶، سورہ شعراءآیت ۳۶) تو کیا تمام انبیاءاور اولیاءکے خلاصہ، آخری ذخیرہ الٰہی اور تمام صالح حضرات کی تمناﺅں کے مرکز نیز قرآن کریم کے عظیم وعدہ کو پورا کرنے والے کو اگر طولانی عمر عطا کرے تو اس میں تعجب کیا ہے؟!
حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:”خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی عمر کو ان کی غیبت کے زمانہ میں طولانی کر دے گا اور پھر اپنی قدرت کے ذریعہ ان کو جوانی کے عالم میں (چالیس سال سے کم) ظاہر کرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ خداوند عالم ہر چیز پر قادر ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۹۰۱) لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی طولانی عمر مختلف طریقوں، عقل، سائنس اور تاریخی لحاظ سے ممکن اور قابل قبول ہے اور ان سب کے علاوہ خداوند عالم اور اس کی قدرت کے جلوﺅں میں سے ایک جلوہ ہے۔اسی طرح سب کا انفاق ہے کہ ابلیس خلقت آدم سے پہلے تھا اور وہ ایک موجود زندہ ہے، قیامت اسے مہلت ملی ہوئی ہے۔ جب دشمن خدا کے لئے ایک طولانی عمر ہے تو اللہ کی آخری حجت، جن کے ذریعہ ابلیس ملعون کا خاتمہ ہوتا ہے ان کے واسطے طولانی عمر پر تعجب اور حیرانگی کس لئے ہے؟حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اللہ کے عبد صالح حضرت خضر علیہ السلام موجود تھے اور وہ آج تک موجود ہیں ، روایات میں ہے کہ وہ اللہ کے آخری نمائندہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تنہائیوں میں ان کے مونس و غم خوار ہیں، بہر حال طولانی عمر کا مسئلہ حل شدہ ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والے نادان ہیں۔
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
غیبت کبریٰ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کبھی پریشانی کی حالت میں اور کبھی عام حالات میں ممکن ہے۔
حضرت مہدی علیہ السلام سے ملاقات کی شرط خود حضرتعلیہ السلام کی اجازت اور اس ملاقات میں کسی مصلحت کا ہونا ہے نہ کہ محض محبت و اشتیاق۔
اگرچہ حضرت کے جمال کی زیارت نہایت ہی محبت بھرے لمحات اور دلی تمناہے لیکن غیبت کے دور میں شیعوں کا جو وظیفہ ہے وہ یہ ہے کہ کہ شرعی احکام پر عمل کریںاور امام کے ظہور کے لئے مقدمات فراہم کریں۔
طول عمر کا موضوع علمی حوالے سے قابل توجیہ ہے اس کی تاریخی مثالیں بھی ہیں اور اس پر قرآنی اور احادیثی شواہد بھی ہیں۔
درس کے سولات:
۱۔غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی کتنی صورتیں ہیں، وضاحت کریں؟
۲۔ زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟
۳۔آیا روایات میں حضرت کی ملاقات کے لئے کوشش کرنے حکم دیا گیا ہے؟ زمانہ غیبت میں آئمہ علیہم السلام شیعوں سے کس چیز کی آرزو رکھتےہیں؟
۴۔ علم بیالوجی کی رو سے طویل عمر کی حد بندی نہ ہونے کی کیا وضاحت ہے؟
۵۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر کا اصلی سبب کس چیز کو بتایا ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة
### سوال نمبر 1: غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی کتنی صورتیں ہیں، وضاحت کریں؟
**جواب:** غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات دو مختلف صورتوں میں ممکن ہے:
1. **اضطراری حالت میں ملاقات:** اس صورت میں، مومنین امام علیہ السلام کی نصرت اور مدد کی وجہ سے ملاقات کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ پریشانیوں میں مبتلا ہوں۔ مثلاً، کوئی حج کے سفر میں راستہ بھٹک گیا اور امام علیہ السلام یا ان کے کوئی صحابی تشریف لائے اور اس کو سرگردانی سے نجات دی۔
2. **عام حالات میں ملاقات:** اس صورت میں، کچھ خاص افراد جو اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا اغلب طور پر ظاہری واقعات یا خاص حالات سے تعلق ہوتا ہے جیسے علماء کی ملاقاتیں جو مشہور و معروف ہیں۔
2. **زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟**
- زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط امام علیہ السلام کی مصلحت اور اجازت ہے۔ یعنی امام کی رضامندی اور خصوصی مصلحت کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔
نوٹ: سوال نمبر 1 اور 2 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے۔
جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟ اور اہم شرط*
غیبت کبری میں امام عصر (علیہ السلام) سے ملاقات کے سلسلے میں بعض علماء معتقد ہیں کہ نا ممکن ہے اور ان کا یہ اعتقاد ان روایات کی بنیاد پر ہے کہ جن میں ملاقات کی نفی کی گئی ہے ۔
اور ان کا کہنا ہے جب امام زمانہ (علیہ السلام)کے آخری نائب اس دنیا سے رحلت کرتے ہیں تو کہتے ہیں امام (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے علی بن محمد سمری! اب نواب خاص کا زمانہ ختم ہو گیا ہے اور اب غیبت کبری شروع ہونے جا رہی ہے اور اس غبیت میں اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے امام کو دیکھا ہے، تو سمجھ لینا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
لہذا اس حدیث کو بہت ہی توجہ سے دیکھنا پڑے گا، امام (علیہ السلام) نے اس میں دو نکتوں کی طرف اشارہ کیا ہے :
ایک یہ کہ ممکن ہے کسی زمانہ میں کوئی یہ دعوی کرے کہ میں نے امام (علیہ السلام) کو دیکھا۔
دوسرا یہ کہ دیدار کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہے ۔
اس میں دو کیفیتیں بیان ہو رہی ہیں :ایک ’’دعوی‘‘ دوسرا ’’مشاہدہ‘‘ یعنی کوئی دیدار کا دعوی کرے جھوٹا ہے ۔
مشاہدہ کا معنی امام (علیہ السلام) کو دیکھنا ۔
دعوی کا معنی اس دیدار کا اعلان کرنا ۔
اس بات سے یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ ممکن ہے کوئی امام (علیہ السلام) سے ملاقات کرے اور اسے کسی کے سامنے ذکر نہ کرے بلکہ اپنے سینہ میں چھپائے رکھے اور لوگ اس کی رحلت کے بعد سمجھیں کہ یہ شخص امام (علیہ السلام) سے ارتباط میں تھا ۔
ہاں اس قسم کے لوگ حدیث کا مصداق نہیں بن سکتے یعنی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جھوٹے تھے کیونکہ جب انہوں نے اظہار ہی نہیں کیا تو جھوٹ کیسا؟ ۔
اہم نکتے
1۔ امام (علیہ السلام) کا دیدار بغیر معرفت کے
امام (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان موجود ہیں اور بالخصوص حج کےموقع پر مکہ اور عرفات میں موجود ہوتے ہیں اور لوگ ان کو دیکھتے بھی ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے ہیں کہ یہی ہمارے مولا ہیں، روایت کی کتابیں اس بات کی شھادت دیتی ہیں کہ کتنے ایسے اولیای خدا گزرے ہیں کہ جنہوں نے اپنے امام سے ملاقات کی اور پہچان نہ سکے بلکہ بعد میں متوجہ ہوئے کہ ارے یہ تو میرے امام (علیہ السلام) تھے کیونکہ یہ کام جو انہوں نے کیا ہے یہ تو کوئی عام انسان نہیں کر سکتا ۔
2۔ امام (علیہ السلام)کا دیدار معرفت کے ساتھ
اس طرح کا دیدار بہت سخت ہے اور بہت کم پیش آیا ہے اگر اس قسم کا دیدار ہوا بھی ہے تو خاص اولیای خدا کے لیے ۔
3۔امام (علیہ السلام) کا دیدار بغیر کسی دعوا کے
امام (علیہ السلام) کا دیدار تو ہوا ہے لیکن اس کا اعلان نہیں کیا یعنی یہ نہیں کہا کہ میں وہ ہوں جسے امام (علیہ السلام)نے دیدار کرایا اور یہ یہ کہا ہے،کیونکہ اگر ایسا کہے گا تو یقینا ً جھوٹا ہے ۔
4۔ معنوی ارتباط
امام (علیہ السلام) سے معنوی ارتباط بر قرار رکھنا، البتہ یہ بھی بغیر تقوی، دعا اور ائمہ علیھم السلام سے خصوصی توسل کے حاصل نہیں ہو سکتا اگر یہ صفات کسی انسان کے اندر آجائیں تو وہ اپنے امام علیہ السلام سے معنوی ارتباط برقرار رکھ سکتا ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے، زمانہ غیبت میں اپنے امام علیہ السلام کی سلامتی کی دعا کرتے رہیں ۔
ارتباط معنوی اگر امام علیہ السلام سے برقرار ہو جائے اور انسان اپنے ہر عمل پر یہ فکر کرے کہ یہ میرے مولا دیکھ رہیں ہیں اور اپنی ہر مشکل کے لیے امام (علیہ السلام)سے توسل کرے جیسے وہ مشھور حدیث کہ جس میں امام (علیہ السلام) شیخ مفید سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہر بات سے آگاہ ہیں، تمہاری کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو ہم سے پوشیدہ ہو ۔
ہم نے تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ورنہ ان تک دشمنوں نے تمہیں جڑ سے اُکھاڑ دیتے ۔
انسان کا معنوی ارتباط (امام علیہ السلام سے) سبب بنتا ہے کہ امام (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان آئیں اگرچہ لوگ انہیں نہ بھی پہچانیں۔
امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام)فرماتے ہیں: خدا کی قسم حجت خدا ان کے درمیان ہیں اور گلی کوچوں سے گزرتے ہیں، ان کے گھروں میں آتے جاتے ہیں، لوگوں کی گفتار کو سنتے ہیں لوگوں کی اجتماع میں جاتے ہیں اور انہیں سلام کرتے ہیں۔
نتیجہ
اس جواب سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ امام علیہ السلام نے جو ملاقات کی نفی کی ہے وہ اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی زمانے میں کوئی بھی بے عمل اٹھ کر یہ دعوا کر دے کہ میں نے یہ جو بات کی ہے یہ مجھے میرے مولا نے کہی ہے یا مجھے امام (علیہ السلام)نے یہ کام کرنے کو کہا ہے تو ایسے لوگوں کی وجہ سے یقیناً امام (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ہے اور ہاں اگر کوئی امام (علیہ السلام) سے معنوی ارتباط قائم کرے تو اس کی مشکلات کو یقیناً امام (علیہ السلام) بر طرف کریں گے ۔
نوٹ: سوال نمبر 1 اور 2 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے
جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟ اور اہم شرط*
: امام زمانہ سے ملاقات کا دعوی کرنے والوں میں سے بعض افراد لوگوں کے عقائد کا غلط استعمال کرتے ہوئے دین اور اسلامی معاشرے کا نقصان کرتے ہیں اور اس وقت یہ دعوی پیش کرتے ہیں جبکہ وہ اکثر ان پڑھ ہوتے ہیں اور ان کے دعوے کی بھی کوئی مضبوط وجہ نہیں ہوتی۔
"ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا شخصی اور فیزیکلی طور پر نہ کہ خواب و خیال میں غیبت کبریٰ کے دوران امام عصر (ع) سے ملنا ممکن ہے یا نہیں؟ ۔" اس سوال کے جواب کے لئے، آیات اور احادیث کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
مہدویت کی بحثوں کے محقق، امام الزمان علیہ السلام کی عدم موجودگی کے بارے میں کچھ آیات اور روایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جاری رکھتے ہیں: آیات و روایات کے مطابق ، غیبت کے دوران امام عصر (ع) سے ملنا ممکن نہیں ہے ، اور اس سلسلے میں تمام راستے لوگوں کے لئے بند ہیں۔
حضرت بقیات اللہ الاعظم ، امام زمان علیہ السلام سے ملاقات اس وقت ہوتی ہے جب امام خود کسی شخص یا افراد سے ملنا ضروری سمجھیں ، اور بصورت دیگر لوگوں کا امام الزمان علیہ السلام سے ملاقات کرنا کسی بھی وقت اور وہ جگہ جہاں وہ چاہتے ہیں ممکن نہیں ہے اور جو بھی ملنے کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔
اس قسم کی ملاقات خود امام نے بھی کی تھی اور ایسا اس وقت ہوا جب فقیہ کو فقہی یا علمی مسئلے میں کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہوا جسکی لوگوں کو ضرورت تھی جسکا کا کوئی حل نہیں تھا۔یہاں، امام زمان فقیہ سے ملتے ہیں اور معاشرے میں کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس مسئلے کا حل بتاتے ہیں۔
آیات، احادیث اور نیک لوگوں کی سیرت کے مطابق، امام عصر (ع) سے ملنا ممکن نہیں ہے اس سلسلے میں ملاقات کا دعویٰ غلط ہے اور امام کے ساتھ ملاقات کے دعویداروں کا انہی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ، ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے اور ان سے اس بات کی قطعی وجہ پوچھنا چاہئے کہ وہ یہ دعوی کس دستاویز کے ساتھ کرتے ہیں۔
امام الزمان علیہ السلام کی غیبت کے دوران ان سے ارتباط اور ملاقات ایک بہت پیچیدہ مسئلہ اور ملاقات کے دعووں کو آسانی سے قبول نہیں کیا جاسکتا۔
"شیعہ عقائد کے مطابق ، امام الزمان علیہ السلام کی جسمانی موجودگی اور معاشرے پر ان کے نظم و نسق کا ایک قطعی اعتقاد ہے ، اس لحاظ سے کہ امام العصر (ع) گمنام اور غیر متعارف طور پر معاشرے میں موجود ہیں ، اور لوگ انہیں نہیں پہچانتے ہیں نہ ہی انہیں درک کرتے ہیں۔
روایتوں کے مفہوم کے مطابق غیبت کا مطلب یہ ہے کہ امام معاشرے میں موجود ہیں لیکن نظروں سے غائب ہیں، بیان کیا کہ: امام الزمان علیہ السلام اس طرح مکمل فطری اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں کہ کچھ لوگ انہیں دیکھتے ہیں لیکن وہ نہیں پہچانتےاور وہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔
:
اس مسئلے کے مطابق ، امام کے ساتھ تعلقات کو دو طریقوں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ روحانی اور معنوی تعلق ہو، اس طرح کا ارتباط کسی کے ساتھ بھی برقرار ہوسکتا ہے اور یہ کچھ لوگوں کے لئے مخصوص نہیں ہے ، اور دوسرا آمنے سامنے اور حضوری ارتباط ہے اس معنی میں کہ کوئی شخص امام (ع) کو جسمانی طور پر درک کرے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے۔
غیبت کبری کے دوران اصول یہ ہے کہ امام زمان (ع) کے ساتھ کوئی ارتباط اور ملاقات نہیں ہوتی ہے۔اور نظروں سے امام کی غیبت اس وجہ سے ہے کہ وہ معاشرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ایک خاص وقت پر مکمل طور پر پورا کرسکیں۔
آیات شریفہ کے مطابق اللہ کا قطعی وعدہ یہ ہے کہ «وَنُریدُ أَن نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ استُضعِفوا فِی الأَرضِ وَنَجعَلَهُم أَئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوارِثینَ؛ہم زمین کے مظلومین کو برکت دینا چاہتے ہیں اور انہیں زمین پر قائد اور وارث بنانا چاہتے ہیں!" اور « وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ...؛ خدا نے آپ میں سے ان لوگوں سے جو (خدا اور امام زمان پر)ایمان رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں وعدہ کیا ہے کہ ، خدا انہیں زمین پر ایسے ہی خلافت دیگا جس طرح گزشتہ پیغمبروں کی صالح امت انکی جانشین ہوئی۔۔۔»دین پیغمبر تمام عالم پر بہ طور کامل محقق ہو کر رہے گا۔
"دنیا کا آئندہ مذہب شیعی اسلام ہے ، اور پوری دنیا میں شیعہ وقار فروغ پائے گا۔ "
امام عصر (ع) کے ذریعہ نبی اکرم (ص) کے مشن کی مکمل تکمیل دنیا میں اس وقت ہوگی جب معاشرتی بنیاد تیار ہوجائے گی اور اگر یہ تیاری حاصل ہوجائے تو۔ امام زمان (ع) کی انسانی حکومت لفظ کے صحیح معنی میں، قائم ہو جائے گی۔
نوٹ: سوال نمبر 1 اور 2 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے
**عام حالات میں ملاقات:**
اس صورت میں، کچھ خاص افراد جو اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا اغلب طور پر ظاہری واقعات یا خاص حالات سے تعلق ہوتا ہے جیسے علماء کی ملاقاتیں جو مشہور و معروف ہیں۔
**زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟**
- زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط امام علیہ السلام کی مصلحت اور اجازت ہے۔ یعنی امام کی رضامندی اور خصوصی مصلحت کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔
3. **آیا روایات میں حضرت کی ملاقات کے لئے کوشش کرنے حکم دیا گیا ہے؟ زمانہ غیبت میں آئمہ علیہم؟**
- روایات میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کے لئے خاص کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ آئمہ علیہم السلام کی خواہش یہ تھی کہ شیعوں کو اپنے امام کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنی چاہیے، نہ کہ ملاقات کی کوشش میں رہیں۔
4. **علم بیالوجی کی رو سے طویل عمر کی حد بندی نہ ہونے کی کیا وضاحت ہے؟**
- علم بیالوجی کی رو سے، انسانی جسم کی امکانات کو بہت بڑھایا جا سکتا ہے جیسے کہ ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل میں لوگ ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ طویل عمر کی کوئی خاص حد نہیں باندھی جا سکتی۔
5. **امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر کا اصلی سبب کس چیز کو بتایا ہے؟**
- امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ امام زمانہ علیہ السلام کی عمر کو غیبت کے دوران طولانی کر دے گا اور پھر انہیں جوانی کی حالت میں ظاہر کرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
مہدویت نامہ
نوٹ: کورس ٹو کتابچہ 8 انتظار
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
نواں د رس
انتظار
مقاصد:
۱۔ انتظار کے صحیح معنی کی معرفت
۲۔ انتظار کے ضروری امور پر توجہ
فوائد:
۱۔ شیعہ نقطہ نظرسے انتظار کے مفہوم سے آگاہی
۲۔ انتظار کے معیارسے آگہی
۳۔ ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے اپنی اصلاح اورتربیتی امور پر توجہ
تعلیمی مطالب:
۱۔ انتظار کی حقیقت
۲۔ امام مہدی (عج) کے انتظار کی خصوصیات
۳۔ ظہور کے منتظر لوگوں کے وظائف
انتظارکا معنی و مفہوم
جس وقت ظلم کے تاریک سیاہ بادلوں نے آفتاب امامت کے رُخِ انور کو چھپا دیا ہو، دشت و جنگل سورج کی قدم بوسی سے محروم ہو گئے اور درخت و گل اس آفتاب کی محبت کی دوری سے بے جان ہو گئے ہوں تو اس وقت کیا کیا جائے؟ جس وقت خلقت اور خوبیوں کا خلاصہ اور خوبصورتیوں کا آئینہ اپنے چہرہ پر غیبت کی نقاب ڈال لے اور اس کائنات میں رہنے والے اس کے فیض سے محروم ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟
چمن کے پھولوں کو انتظار ہے کہ مہربان باغباں ان کو دیکھتا رہے اور اس کے محبت بھرے ہاتھوں سے آب حیات نوش کریں، دل مشتاق اور آنکھیں بے تاب ہیں تاکہ اس کے جمال پُرنور کا دیدار کریں، اور یہیں سے ”انتظار“ کے معنی سمجھ آتے ہیں، جی ہاں! سبھی منتظر ہیں تاکہ وہ آئے اور اپنے ساتھ نشاط اور شادابی کا تحفہ لے کر آئے۔
واقعاً ”انتظار“ کس قدر خوبصورت اور شیریں ہے اگر اس کی خوبصورتی کو نظر میں رکھا جائے اور اس کی شیرینی کو دل سے چکھا جائے۔تو یہ انتہائی لطف اندوزاور مزیدار ہے۔
انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت
”انتظار“ کے مختلف معانی کئے گئے ہیں، لیکن اس لفظ پر غور و فکر کے ذریعہ اس کے معنی کی حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے، انتظار کے معنی کسی محبوب کے لئے اپنی آنکھیں بچھانا ہے اور یہ انتظارکی شرائط اوراس کے اسباب کے لحاظ سے اہمیت حاصل کرتا ہے جس سے بہت سے نتائج ظاہر ہوتے ہیں، انتظار صرف ایک رُوحانی اور اندرونی حالت نہیں ہے بلکہ اندر سے باہر کی طرف اس کااثر ہے جس سے انسان اپنے باطنی احساس کے مطابق عمل کرتا ہے، اسی وجہ سے روایات میں ”انتظار“ کو ایک عمل بلکہ تمام اعمال میں بہترین عمل کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، انتظار ”منتظر“ کو حیثیت عطا کرتا ہے اور اس کے کاموں اور اس کی کوششوں کو ایک خاص طرف ہدایت دیتا ہے اور انتظار وہ راستہ ہے جو اسی چیز پر جا کر ختم ہوتا ہے جس کا انسان انتظار کررہا ہوتاہے۔
لہٰذا ”انتظار“ کے معنی یہ نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، انتظار اسے نہیں کہتے کہ انسان دروازہ پر آنکھیں جمائے رکھے اور حسرت لئے بیٹھا رہے بلکہ درحقیقت ”انتظار‘‘ میں نشاط اور شوق و جذبہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
جو لوگ کسی محبوب مہمان کا انتظار کررہے ہوتے ہیںتو وہ خود کواپنے اردگرد کے ماحول کو مہمان کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس کے راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔
گفتگو اس بے نظیر واقعہ کے انتظار کے بارے میں ہے جس کی خوبصورتی اور کمال کی کوئی حد نہیں ہے، انتظار اس زمانہ کا ہے کہ جس میںخوشی اور شادابی کی مثال گذشتہ زمانوں میں نہیں ملتی اور اس دُنیا میں اب تک ایسا زمانہ نہیں آیا اور یہ وہی حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار ہے جس کو روایات ” انتظار فَرَج “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اس حالت کو تمام اعمال و عبادت میں بہترین قرار دیا گیا ہے بلکہ تمام ہی اعمال قبول ہونے کا وسیلہ اسے قرار دیا گیا ہے۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”میری اُمت کا سب سے بہترین عمل ”انتظار فَرَج “ ہے۔ (بحارالانوار، جلد ۲۵، ص ۲۲۱)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
”کیا تم لوگوں کو اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس کے بغیر خداوند عالم اپنے بندوں سے کوئی بھی عمل قبول نہیں کرتا؟ سب نے کہا: جی ہاں! امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی وحدانیت کا اقرار پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت کی گواہی، خداوند عالم کی طرف سے نازل ہونے والی چیزوں کا اقرار، اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری (یعنی مخصوصاً ہم اماموں کے دشمنوں سے بیزاری) اور آئمہ (علیہم السلام) کی اطاعت کرنا، تقویٰ و پرہیزگاری اور کوشش و بردباری اور قائم (آل محمد) علیہم السلام کا انتظار“۔ (غیبت نعمانی، باب ۱۱، ح ۶۱، ص ۷۰۲)
پس ”انتظار فَرَج “ ایسا انتظار ہے جس کی کچھ خاص خصوصیات اور منفرد امتیازات ہیں جن کو کماحقہ پہچاننا ضروری ہے تاکہ اس کے بارے میں بیان کئے جانے والے تمام فضائل اور آثار کا راز معلوم ہو سکے۔
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ہم نے عرض کیا ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ہے اور ہر قوم و ملت اور ہر دین و مذہب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ہے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور بااہمیت ہو لیکن امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور ناچیز ہے کیونکہ آپ کے ظہور کا انتظار خاص امتیازات رکھتا ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے جو کائنات کی ابتداءسے موجود تھا یعنی بہت قدیم زمانہ میں انبیاءعلیہم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اور قریبی زمانہ میں ہمارے تمام ائمہ (علیہم السلام) آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اگر میں ان (امام مہدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا انتظار ہے، عالمی عادلانہ حکومت کا انتظار ہے اور تمام ہی اچھائیوں کے متحقق ہونے کا انتظار ہے۔ چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ہوئے ہے اور خداداد پاک و پاکیزہ فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ہے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نہیں پہنچ سکا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ہے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادانی، صلح و صفا، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے اور استعمار و غلامی، ظلم و ستم اور تمام اخلاقی برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمر ہو گا۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے جس کی شکوفائی کے اسباب فراہم ہونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ہو جائے گی اور وہ ایسا زمانہ ہے کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ہوں گے وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔بلکہ پیار و محبت بھرے انداز سے سارے انسانوں کے دل موہ لیں گے افتراق ختم محبت عام ہو جائے گی۔
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ہے اور انسان کو انسانیت اور حیات عطا کرتا ہے، نیز اس کو بے مقصد زندگی اور گمراہی سے نجات عطا کرتا ہے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ہیں اور ہر انسان کی روح میں اس کی جڑیں ملتی ہیں اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک و پا بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا مناسب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پہلوﺅں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپعلیہ السلام کے ظہور کے منتظریں کے فرائض اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔
امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو
خود انسان میں مختلف پہلو پائے جاتے ہیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پہلو اس میں موجود ہے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پہلو بھی پایا جاتا ہے اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پہلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پہلو بھی اس میں ہوتا ہے جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذکورہ پہلوﺅں کے لئے معین قوانین کی ضرورت ہے تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ہو جائے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کا انتظار، منتظر کے تمام پہلوﺅں پر مو ¿ثر ہے مثلاً انسان کے فکری اور نظری پہلو پر اثرات ڈالتا ہے کہ جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پہلو ہے اور انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاہب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے یاس و نااُمیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے اور گمراہ نہ ہوجائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ہو گا، خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدمی سے باقی رہے“۔ (کمال الدین، ج ۱، ح ۵۱، ص ۲۰۶) یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبہات کے ذریعہ یہ کوشش کی ہے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کر دیا جائے، لیکن ہمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرنا چاہیے۔
انتظار، عملی پہلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے، ایک حقیقی منتظر کو عمل کے میدان میں کوشش کرنا چاہیے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراہم ہو جائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ہمت باندھنا چاہیے نیز اپنی زندگی میں اپنی رُوحانی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ہو رہے اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کارآمد طاقت کے لحاظ سے ہدایت کے نورانی مورچہ کے لئے تیار رہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر وں اور مددگاروں میں شامل ہونا چاہتا ہے تواسے انتظار کرنا چاہیے اور انتظار کی حالت میں وہ تقویٰ و پرہیزگاری کا راستہ اپنائے اور نیک اخلاق سے خودکومزین کرے“۔ (غیبت نعمانی، باب ۱، ح ۶۱، ص ۰۲۲)
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ہے اور اس کو معاشرہ کے ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی پر مو ¿ثر ہوتا ہے بلکہ معاشرہ میں انسان کے لئے خاص منصوبہ بھی پیش کرتا ہے اور معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ہے اور چونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا ہر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامے خاموش اور بے توجہ نہ رہے کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہیے۔
مختصر یہ ہے کہ ”انتظار“ ای ایسا مبارک چشمہ ہے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ہے اور زندگی کے تمام پہلوﺅں میں انسان کو الٰہی رنگ اور حیات عطا کرتا ہے، پس خدائی رنگ سے بہتر اور ابدی رنگ اور کونسا ہو سکتا ہے؟
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾صِب غَةَ اللّٰہِ وَ مَن اَح سَنُ مِن اللّٰہِ صِب غَةً وَ نَح نُ لَہُ عَابِدُو نَ﴿ (سورہ ¿ بقرہ، آیت ۸۳۱)
”رنگ تو صرف اﷲ کا رنگ ہے اور اس سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے اور ہم سب اسی کے عبادت گزار ہیں“۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر مصلح کل حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کا فریضہ ”الٰہی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوﺅں میں جلوہ گر ہوتا ہے، جس کے پیش نظر ہمارے وہ فرائض ہمارے لئے مشکل نہیں ہوں گے بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ایک بہترین معنی و مفہوم عطا کرے گا۔ واقعاً اگر ملک کا مہربان حاکم اور امیر قافلہ ہمیں ایک شائستہ سپاہی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ہمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ہمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ہو گی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ہم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے نظر آئیں گے؟!
منتظرین کے فرائض
دینی رہبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظہور کا انتظار کرنے والوں کے بہت سے فرائض بیان کئے گئے ہیں، ہم یہاں پر ان میں سے چند اہم فرائض کو بیان کرتے ہیں:
امام کی معرفت
راہ انتظار کو طے کرنا امام علیہ السلام کی شناخت اور معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انتظار کی وادی میں صبر و استقامات کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ہے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی حد تک شناخت بھی ضروری ہے۔
”ابونصر“ جو امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم تھے، امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ہی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں، اور خداوند عالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاو ¿ں کو دُور فرماتا ہے“۔(کمال الدین ج۲، باب ۳۴،ح۲۱،ص۱۷۱)
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ہو جائے تو پھر وہ اسی وقت سے خود کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ اپنے امام سے تعلق ہے اور یہی تعلق اس کی نجات کا وسیلہ بن جائے گا معرفت کے بارے مزیدمعلومات کے لئے معرفت امام زمانہ علیہ السلام اور ہماری ذمہ داریاں کامطالعہ کریں۔
احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جو معرفت مطلوب ہے وہ سادہ پہچان اور نسبی آگاہی سے بڑھ کر ہے، اس میں تسلیم اور اپنے امام سے ولایت و محبت اور ان کی اطاعت کو اپنے لئے واجب قرار دینا ہے اوریہ جاننا ہے کہ ان کی جانب سے کیا مجھ پر واجب ہے اور میرے مولا مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
مثال
حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں موجود سارے لوگ خاندانی پس منظر سے پہچانتے اور جانتے تھے لیکن آپ کو امام علیہ السلام تسلیم نہیں کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کی اطاعت کو واجب اور فرض نہیں جانتے تھے گویا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو رسول اللہ کا قائمقام، جانشین اور خلیفہ سمجھتے تھے،آپ کے فضائل جانتے تھے آپ کے نسب سے آگاہ تھے ، لیکن آپ کو اپنا امام ورہبر،قائد اور واجب اطاعت خلیفہ رسول نہیں جانتے تھے۔پس ایسے لوگ ہی کفر و جہالت کی موت مر گئے ۔
بالکل اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کامسئلہ ہے کہ آج رسول اللہ کے خلیفہ، وصی، قائمقام امام مہدی علیہ السلام ہیں ان کی اطات اسی طرح فرض ہے جس طرح رسول اللہ کی اطاعت فرض ہے، ایسا ایمان ہی انسان کو کفر و جاہلیت کی موت سے بچاتاہے۔
امام علیہ السلام کے ساتھ عہد و پیمان
ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ روزانہ اپنے امام علیہ السلام سے عہدوپیمان باندھے اور آپ سے بیعت کی تجدید کرے، اس کے لئے دعاﺅں اور زیارات کے پڑھنے کا حکم وارد ہوا ہے جو کہ مفاتیح الجنان اور دعاﺅں کی کتابوں میں موجود ہیں، اس میں دعائے عہدمشہور ہے جسے روزانہ صبح کی نماز کے بعد پڑھنے کا حکم ہے روایت میں وارد ہواہے۔
”جو شخص چالیس دن تک ہر صبح کو اپنے خدا سے یہ عہد کرے تو خدا ان کو ہمارے قائم (علیہ السلام) کے ناصر و مددگار قرار دے گا، اور اگر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے اس کی موت بھی آجائے تو خداوند عالم اس کو قبر سے اُٹھائے گا (تاکہ حضرت قائم علیہ السلام کی نصرت و مدد کرے)....
وحدت اور ہم دلی
قبیلہ انتظار کے ہر فرد کا شخصی فرائض اور ذمہ داری کے علاوہ انتظار کرنے والے اپنے امام(علیہ السلام) کے اہداف اور مقاصد کے سلسلہ میں خاص منصوبہ بندی کریں، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس راہ میں سعی و کوشش کریں جس سے ان کا امام راضی اور خوشنود ہو۔
لہٰذا انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے امام سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر باقی رہیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے راستہ ہموار ہو جائے۔
امام عصر علیہ السلام اپنے بیان میں اس طرح کے افراد کے لئے یہ بشارت دیتے ہیں:
”اگر ہمارے شیعہ (کہ خداوند عالم ان کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا کرے) اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان پر ایک دل اور مصمم ہوں تو ہرگز (ہمارے) دیدار کی نعمت میں دیر نہیں ہو گی اور مکمل و حقیقی معرفت کے ساتھ ہماری ملاقات جلد ہی ہو جائے گا“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۰۰۶)
وہ عہد و پیمان وہی ہے جو نکتہ خدا اور الٰہی نمائندوں کے کلام میں بیان ہوا ہے، جن میں سے چند اہم چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی پیروی کرنے کی ہر ممکن کوشش، اور آئمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار کرنا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا:
”خوش نصیب ہے وہ شخص جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھے کہ ان کے قیام سے پہلے خود ان کی اور ان سے پہلے ائمہ کی پیروی کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرے، تو ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ہیں اور روز قیامت میرے نزدیک میری اُمت کے سب سے عظیم افراد ہیں“۔ (کمال الدین، ج۱، باب ۵۲، ح ۲، ص ۵۳۵)۲۔ دین میں تحریفات، بدعتوں اور معاشرہ میں پھیلتی ہوئی برائیوں اور فحشاءکے مقابلہ میں انتظار کرنے والوں کو بے توجہ نہیں رہنا چاہیے، بلکہ نیک سنتوں اور اخلاقی اقدار کو بھلائے جانے پر ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
حضرت رسول اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
”البتہ اس امت کے آخری زمانہ (آخر الزمان) میں ایک گروہ آئے گا جس کا ثواب اسلام میں سبقت کرنے والوں کی طرح ہو گا، وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں گے اور اہل فتنہ ( و فساد) سے جنگ (مقابلہ) کرتے ہوں گے“۔ (دلائل النبوة، ج ۶، ص ۳۱۵)
۳۔ ظہور کا انتظار کرنے والوں کا یہ فریضہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ تعاون اور نصرت و مدد کو اپنے منصوبوں میں پیش نظر رکھیں اور اس معاشرہ کے افراد تنگ نظری اور خود پرستی سے پرہیز کرتے ہوئے معاشرہ میں غریب اور نیازمند لوگوں پر دھیان دیں، اور ان کے سلسلہ میں لاپرواہی نہ کریں۔
شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت محمد باقر علیہ السلام سے نصیحت فرمانے کی درخواست کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”تم میں سے صاحب حیثیت لوگ غریبوں کی مدد کریں اور مالدار افراد نیازمندوں کے ساتھ محبت و مہربانی سے پیش آئین اور تم میں سے ہر شخص دوسرے کی نسبت نیک نیتی سے کام لے“۔( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۲۲، ص ۳۲۱) قابل ذکر ہے کہ اس تعاون اور مدد کا دائرہ فقط ان کے اپنے علاقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انتظار کرنے والوں کا خیر اور احسان دور دراز علاقوں میں بھی پہنچتا ہے کیونکہ انتظار کے پرچم تلے کسی طرح کی جدائی اور غیریت کا احساس نہیں ہوتا۔
۴۔ انتظار کرنے والے معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں مہدی رنگ و بو پیدا کریں، ان کے نام اور ان کی یاد کا پرچم ہر جگہ لہرائیں اور امام علیہ السام کے کلام اور کردار کو اپنی گفتگو اور عمل کے ذریعہ عام کریں اور اسی راہ میں اپنے پورے وجود کے ذریعہ کوشش کریں کہ بے شک ائمہ معصومین علیہم السلام کا لطف خاص ان کے شامل حال ہو گا۔
عبد الحمید واسطی، امام محمد باقر علیہ السلام کے صحابی آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں:
”ہم نے اَم رِفَرَج (ظہور) کے انتظار میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی، جو ہم میں سے بعض کے لئے پریشانی کا باعث ہوا!
امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
اے عبد الحمید! کیا تم یہ گمان کرتے ہوئے کہ خداوند عالم نے اس بندہ کے لئے جس نے اپنے خداوند عالم کے لئے وقف کر دیا ہے اس کے لئے مشکلات سے نجات کے لئے کوئی راستہ نہیں قرار دیا ہے؟ خدا کی قسم! اس نے ایسے لوگوں کے لئے راہِ حل قرار دی ہے، خداوند عالم رحمت کرے اس شخص پر جو ہمارے امرِ (ولایت) کو زندہ رکھے“۔
( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۲۲، ح ۶۱، ص ۶۲۱)
آخری نکتہ یہ ہے کہ انتظار کرنے والے معاشرہ کو کوشش کرنی چاہیے کہ تمام اجتماعی پہلوﺅں میں دوسرے معاشروں کے لئے نمونہ قرار پائے اور منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے تمام لازمی راستوں کو ہموار کرے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے فوائد
بعض لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ عالمی پیمانے پر اصلاح کرنے والے (امام علیہ السلام) کا انتظار انسان کو حالت جمود اور غیر ذمہ داری میں قرر دے دیتا ہے۔ جو لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ایک عالمی سطح پر اصلاح کرنے والا آئے گا اور ظلم و جور اور برائیوں کا خاتمہ کر دے گا تو وہ برائیوں اور پستیوں کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں اور خود کوئی قدم نہ اُٹھائیں بلکہ خاموش رہیں اور ظلم و ستم کو دیکھتے رہیں!
لیکن یہ نظریہ ایک سطحی اور معمولی ہے، نیز اس میںوقت نظر سے کام نہیں لیا گیا ہے کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کے پیش نطر روشن ہے کہ انتظار کا مسئلہ اپنی بے مثال خصوصیات اور امام مہدی علیہ السلام کی بے مثال عظمت کے پیش نظر نہ صرف انسان میں جمود اور بے توجہی پیدا نہیں کرتا بلکہ تحریک اور شکوفائی کا بہترین وسیلہ ہے۔
انتظار، منتظر میں ایک مبارک اور بامقصد جذبہ پیدا کرتا ہے اور منتظر جتنا بھی انتظار کی حقیقت کے نزدیک ہوتا جاتا ہے مقصد کی طرف اس کی رفتار بھی اتنی ہی تیزہوتی جاتی ہے۔ انتظار کے زیر سایہ انسان خود پرستی سے آزاد ہو کر خود کو اسلامی معاشرہ کا ایک حصہ تصور کرتا ہے۔ لہٰذا معاشرہ کی اصلاح کے لئے حتی الامکان کوشش کرتا ہے اور جب معاشرہ ایسے افراد سے تشکیل پاتا ہو تو پھر اس معاشرہ میں فضیلت اور اقدار رائج ہونے لگتی ہیں اور معاشرہ کے سب لوگ نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے لگتے ہیں اور ایسے ماحول میں جو کہ اصلاح، کمال، اُمید اور نشاط بخش فضا اور تعاون و ہمدردی کا ماحول ہے، دینی عقائد اور مہدوی نظریہ معاشرہ کے افراد میں پیدا ہوتا ہے اور اس انتظار کی برکت سے منتظرین فساد اور برائیوں کے دلدل میں نہیں پھنستے بلکہ اپنی دینی حدود اور عقائدی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ انتطار کے زمانہ میں پیش آنے والی مشکلات میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خداوند عالم کے وعدہ کے پورا ہونے کی اُمید میں ہر مصیبت اور پریشانی کو برداشت کر لیتے ہیں اور کسی بھی وقت سستی اور مایوسی کے شکار نہیں ہوتے۔
واقعاً کونسا ایسا مکتب ہو گا جس میں اس کے ماننے والوں کے لئے ایک روشن مستقبل پیش کیا گیا ہو؟ ایسا راستہ جو الٰہی نظریہ کے تحت طے کیا جاتا ہو جس کے نتیجہ میں اجر عظیم حاصل ہوتا ہو، یہ مکتب، اہل البیت علیہ السلام کا ہی ہے جس کے پیروشیعہ ہیں۔
انتظار کرنے والوں کے لئے ثواب
خوش نصیب ہے وہ شخص جو نیکیوں کے انتظار میں نظریں بچھائے ہوئے ہے۔ واقعاً کتنا عظیم ثواب ہے ان لوگوں کے لئے جو امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار کرتے ہیں اور کس قدر عظیم رتبہ ہے ان لوگوں کا جو قائم آل محمد علیہم السلام کے حقیقی منتظر ہیں۔ مناسب ہے کہ انتظار کی گفتگو کے آخر میں جام انتظار نوش کرنے والوں کی بے مثال فضائل اور سنان کو بیان کریں اوراس بارے معصومین علیہم السلام کے بیانات کو آپ حضرات کے سامنے پیش کریں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”ائم آل محمد کے وہ شیعہ خوش نصیب ہیںجو غیبت کے زمانہ میں ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور ان کے ظہور کے زمانہ میں ان کی اطاعت اور پیروی کریںگے، یہی لوگ خداوند عالم کے محبوب ہیں جن کے لئے کوئی غم و اندوہ نہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۳۳، ح ۴۵، ص ۹۳)
واقعاً اس سے بڑھ کر ان کے لئے اور کیا فضیلت ہو گی کہ جن کے سینہ پر خداوند عالم کی دوستی کا تمغہ ہو، اور وہ کیوں کسی غم و اندوہ میں مبتلا ہوں حالانکہ ان کی زندگی اور موت دونوں کی قیمت بہت بلند و بالا ہے۔
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص ہمارے قائم علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں ہماری ولایت پر قائم رہے تو خداوند عالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کا ثواب عطا کرے گا“ ۔ ( کمال الدین، ج ۲، باب ۱۳، ح ۶، ص ۲۹۵)
جی ہاں! غیبت کے زمانہ میں جو لوگ اپنے امام زمانہ علیہ السلام کی ولایت اور اپنے امام سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر باقی رہیں تو وہ ایسے فوجی ہیں جنہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ مل کر دشمنان خدا سے جنگ کی ہو اور اس کارزار میں اپنے خون میںنہائے ہوں! وہ منتظرین جو فرزندہ رسول امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار میں جان برکف کھڑے ہوئے ہیں وہ ابھی سے جنگ کے میدان میں اپننے امام کے ساتھ موجود ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”اگر تم (شیعوں میں) سے کوئی شخص (امام مہدی علیہ السلام) کے ظہور کے انتظار میں مر جائے تو وہ شخص گویا اپنے امام علیہ السلام کے خیمہ میں ہے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے تھوڑا صبر کرنے کے بعد فرمایا: بلکہ اس شخص کی طرح ہے جس نے امام علیہ السلام کے ساتھ مل کر جنگ میں تلوار چلائی ہو اور اس کے بعد فرمایا: خدا کی قسم کہ وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی رکاب میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوا ہو“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۲۱)
یہ وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک روز پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: پالنے والے! مجھے میرے بھائیوں کو دکھلا دے اور اس جملہ کو دو بار تکرار کیا، آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب نے کہا: یا رسول اﷲ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟
آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: تم لوگ میرے اصحاب ہو لیکن میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو آخر الزمان میں مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ اُنہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا! خداوند عالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ہے........ ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ”گون“ نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ہوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کہیں زیادہ سخت ہے، وہ ہدایت کے مشعل ہیں جن کو خداوند عالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطا کرے گا“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۳۲۱)
نیز پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: خوس نصیب ہے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کو پائے، حالانکہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداءکرتے ہیں، وہ لوگ ان کے دوستوں کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کرتے ہیں، نیز ان سے پہلے ہم سے محبت رکھتے ہیں، وہ میری حب اور مودّت کے مالک ہیں وہ میرے نزدیک میری اُمت کے سب سے گرامی افراد ہیں“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۵۲، ح ۲، ص ۵۳۵)
لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں اور وہی خداوند عالم کے خطاب سے مشرف ہوں گے اور وہ بھی ایسی آواز جو عشق و محبت ے بھری ہو گی اور جو خداوند عالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ہو گا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رکھے، بے شک انکی کم سے کم جزا یہ ہو گی کہ خداوند عالم ان سے خطاب فرمائے گا: اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ہو، اور تم نے اس کی تصدیق کی ہے، پس میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ہو، تم حقیقت میں میرے بندے ہو، تمہارے اعمال کو قبول کرتا ہوں اور تمہاری خطاو ¿ں سے درگزر کرتا ہوں اور تمہاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر نازل کرتا ہوں اور بلاو ¿ں کو دور کرتا ہوں اگر تم (لوگوں کے درمیان) نہ ہوتے تو پھر (گنہگار لوگوں پر) ضرور عذاب نازل کر دیتا “ (کمال الدین، ج ۱، باب ۳۲، ح ۵۱، ص ۲۰۶) لیکن ان انتظار کرنے والوں کو کسی چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ہے اور ان کی انتظار کی گھڑیاں کب ختم ہو گی؟ کس چیز سے ان آنکھوں میں ٹھنڈک ملے گی ، اور ان کے بے قرار دلوں کو کب چین و سکون ملے گا؟ کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پر قدم بڑھایا ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رہے ہوںتاکہ مہدی منتظر (علیہ السلام) کے سرسبز چمن میں قدم رکھیں اور اپنے محبوب و معشوق کی ہم نشینی سے کم پر راضی نہ ہوں؟ اور واقعاً اس سے بہترین اور کیا انجام ہو سکتا ہے اور اس سے بہتر اور کونسا موقع ہو سکتا ہے؟
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”خوش نصیب ہیں ہمارے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوسری کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ہم سے دوستی رکھیں اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کریں، وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے، وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ہیں (اور ہماری امامت کو قبول کرتے ہیں) اور ہم بھی ان کے شیعہ ہونے سے راضی اور خوشنود ہیں۔ خوش نصیب ہیں! خدا کی قسم! یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ ہمارے مرتبہ میں ہمارے ساتھ ہوں گے“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۴۳، ح ۵، ص ۳۴)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاص:
انتظار کا معنی چشم براہ ہونا ہے اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان بے پرواہ نہ ہو بلکہ انتظار کے مقصد کے لئے کوشش کرے۔
روایات میں ظہور مہدی علیہ السلام کے انتظار کی ایک بہترین عمل کے عنوان سے توصیف کی گئی ہے۔
ظہور مہدی علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات ظہور کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے عزم و اشتیاق پیدا کرتی ہے بالفاظ دیگر منتظرین کی روح میں عدالت و نشاط پیدا کرتی ہیں۔
ظہور مہدی علیہ السلام کا انتظار انسان کی فردی و اجتماعی جہت میں بہت سے اثار و ثمرات رکھتا ہے۔
منتظرین کے اہم ترین وظائف امام علیہ السلام کی شناخت، ان سے اسوہ لینا، حضرت کی یاد، اور ان کے ہمقدم ہونا ہے۔
روایات کی رو سے منتظرین کا اجر شہدائے صدر اسلام کے اجر کے مساوی شمار کیا گیا ہے۔
درس کے سولات:
۱۔ انتظار کا معنی اور امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات بیان کریں؟
۲۔ انتظار کے مختلف پہلوﺅں اور اقسام بیان کریں؟
۳۔ منتظرین ظہور کے اہم ترین وظائف میں سے تین موارد کی تشریح کریں؟
۴۔ انتظار کے انفرادی و معاشرتی اثرات کیا ہیں؟
۵۔ امام سجاد علیہ السلام نے ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم منتظرین کے اجر کو کس چیز کے مساوی بیان کیا ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی
**سوالات کے جوابات:**
**1. انتظار کا معنی اور امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات بیان کریں؟**
جواب
انتظار کا معنی ہے کسی محبوب کے لئے چشم براہ ہونا۔ امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ انتظار صرف کسی شخصیت کے آنے کا نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی آمد کا ہے جو عدل و انصاف، معنویت، برادری، زمین کی آبادانی، صلح و صفا، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو فروغ دے۔
**2. انتظار کے مختلف پہلوﺅں اور اقسام بیان کریں؟**
امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو
انتظارِ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کے مختلف پہلو؛ نظری، عملی، ذاتی، اجتماعی، جسمانی، روحانی اور نفسیاتی، تمام پر موثر ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی قوانین کے تحت انسان کی زندگی کا صحیح راستہ کھل جاتا ہے اور منحرفیوں سے بچ جاتا ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ انتظار میں اپنی اعتقادی، فکری، اخلاقی، اور روحانی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ انسان سماجی اصلاح کا کام کرتا ہے اور خوش نصیب ہوتا ہے جو امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لیتا ہے۔
۔
1. **نظری اور عملی پہلو:**
- امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار نظری اور عملی دونوں پہلوؤں پر اثرات ڈالتا ہے۔
- انتظار ایک عملی مسئلہ ہے جو انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔
2. **ذاتی اور اجتماعی پہلو:**
- انتظار کی حالت میں انسان اپنی ذاتی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اجتماعی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
- اس کے ذریعہ معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت دلاتا ہے۔
3. **جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی پہلو:**
- انتظار انسان کے جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی جانبوں پر بھی اثرات ڈالتا ہے۔
- اس کے ذریعہ انسان اپنی زندگی میں معنی و مفہوم پائے اور اپنے ذاتی ترقی اور خوشحالی کی راہ تیار کرے۔
4. **معاشرتی اثرات:**
- انتظار کی حالت میں انسان معاشرتی بدلاؤں کا عہد کرتا ہے اور معاشرتی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
- اس کے ذریعہ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لینے کی خواہش رکھتا ہے۔
**3. منتظرین ظہور کے اہم ترین وظائف میں سے تین موارد کی تشریح کریں؟**
- **امام کی معرفت**: امام کو پہچاننا اور ان کی تعلیمات اور وصایا کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
- **دعا و زیارت**: روزانہ دعا و زیارت کے ذریعے امام سے رابطہ قائم رکھنا، جیسے دعائے عہد کی تلاوت کرنا۔
- **ولایت اہل بیت کی پیروی**: اہل بیت کی ولایت کے سلسلے میں مضبوطی سے کھڑے ہونا اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرنا۔
**4. انتظار کے انفرادی و معاشرتی اثرات کیا ہیں؟**
فردی سطح پر، انتظار کا اثر امید، صبر، استقامت اور محبت بھرے جذبات کا فروغ ہے۔ معاشرتی سطح پر، یہ اصلاح، ہمدردی، تعاون اور عدل کی ترویج کو فروغ دیتا ہے، اور معاشرہ کو ایک زیادہ پرامن اور متحد کمیونٹی بنانے میں مدد دیتا ہے۔
**5. امام سجاد علیہ السلام نے ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم منتظرین کے اجر کو کس چیز کے مساوی بیان کیا ہے؟**
امام سجاد علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ جو شخص غیبت کے دوران ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہتا ہے، اس کا اجر شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کے اجر کے برابر ہے۔
ChatGPT
انتظارکا معنی و مفہوم
لغت میں انتظار کے معنی امور میں عجلت,کسی کا راستہ دیکھنا, مستقبل سے امید وابستہ رکھنا وغیرہ
اسی طرح انتظار کے معانی کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ _انتظار ایک نفسیاتی حالت ہے جو عجلت کے ہمراہ ہوتی ہے_
←اب دو قسم کی معانی درج زیل ہیں:
١- یہ نفسیاتی کیفیت کسی کا راستہ دیکھنا کیا انسان کو ناامیدی اور مایوسی کی وادی میں دھکیلتا ہے اور انتظار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بہتر مستقبل کے لیے بغیر کسی کوشش کے انتظار کریں۔
٢- کسی کے آنے کی امید حرکت اور عمل کے ساتھ تیاری کا سبب بننا۔
**1. ظلم کی تاریکیوں میں امید کا روشن ستارہ:**
جب ظلم اور تاریکی کی گھنگور بادلیں افق کو ڈھانپ لیتی ہیں اور امید کا روشن دھیما ستارہ غائب ہو جاتا ہے، تو اس وقت انتظار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انتظار ہمیں یقین دلاتا ہے کہ رات کے بعد صبح ضرور آئے گی۔
**2. خوابوں کی خوابگیر: صبر اور امید کا مظہر:**
خوابوں کو پورا کرنے کے لئے صبر اور امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب زندگی کی مایوسیاں ہمیں دھوپ میں لے لیتی ہیں، تو انتظار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بادلوں کے پیچھے بھی آسمان ہوتا ہے۔
**3. باغباں کی منتظرانہ نگاہ: انتظار کی شان:**
باغباں کی نظریں جب بس پھولوں کا انتظار کرتی ہیں، تو وہیں ہمیں انتظار کی اہمیت سمجھا دیتی ہیں۔ امید کی روشنی کو دیکھنے کی خواہش میں ہمیں امید سے نہیں ہٹنا چاہیے۔
انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت
"انتظار" کی حقیقت اور عظمت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس کا معنی نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی حالتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ انتظار ایک روحانی حالت نہیں بلکہ عملی عمل کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے، جو کسی محبوب کے لئے، یا کسی مخصوص واقعے یا حقیقت کے بارے میں، اپنی آنکھیں بچھانے کا عمل ہوتا ہے۔
انتظار میں ذوق و شوق اور نشاط پوشیدہ ہوتا ہے، جو انسان کو اپنے محبوب کے لئے تیاریاں کرنے اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے کی سمجھ دیتا ہے۔ اس کی عظمت اور حیثیت اس بات میں ہے کہ انتظار کی بنیاد پر بہترین عملوں کو تمام کیا جاتا ہے اور اس کو انسانی زندگی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
خصوصیات کی روشنی میں، امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کا خصوصی مقام ہے۔ ان کا ظہور انصاف، برابری، انسانیت، اور عقل کی ترقی کی عالمی حکومت کی بشارت لاتا ہے۔ انتظار کی یہ انوکھی حالت انسانیت کو خداداد پاک و پاکیزہ فطرت کی بنیاد پر زندگی کی راہ دکھاتی ہے اور اسے بے مقصد زندگی سے بچاتی ہے۔
انتظار کے ان مختلف پہلوؤں اور اس کے آثار و فوائد کو جاننا اہم ہے، اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے منتظرین کے فرائض اور اس کے ثواب کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے۔
امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو
انتظارِ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کے مختلف پہلو؛ نظری، عملی، ذاتی، اجتماعی، جسمانی، روحانی اور نفسیاتی، تمام پر موثر ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی قوانین کے تحت انسان کی زندگی کا صحیح راستہ کھل جاتا ہے اور منحرفیوں سے بچ جاتا ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ انتظار میں اپنی اعتقادی، فکری، اخلاقی، اور روحانی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ انسان سماجی اصلاح کا کام کرتا ہے اور خوش نصیب ہوتا ہے جو امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لیتا ہے۔
۔
1. **نظری اور عملی پہلو:**
- امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار نظری اور عملی دونوں پہلوؤں پر اثرات ڈالتا ہے۔
- انتظار ایک عملی مسئلہ ہے جو انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔
2. **ذاتی اور اجتماعی پہلو:**
- انتظار کی حالت میں انسان اپنی ذاتی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اجتماعی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
- اس کے ذریعہ معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت دلاتا ہے۔
3. **جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی پہلو:**
- انتظار انسان کے جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی جانبوں پر بھی اثرات ڈالتا ہے۔
- اس کے ذریعہ انسان اپنی زندگی میں معنی و مفہوم پائے اور اپنے ذاتی ترقی اور خوشحالی کی راہ تیار کرے۔
4. **معاشرتی اثرات:**
- انتظار کی حالت میں انسان معاشرتی بدلاؤں کا عہد کرتا ہے اور معاشرتی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
- اس کے ذریعہ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لینے کی خواہش رکھتا ہے۔
منتظرین کے فرائض
منتظرین کے فرائض کے عنوانات شامل کرنے کی کچھ مثالیں ہیں:
1. آخری وقت کی تیاری
2. علم کی جستجو اور تعلیم
3. اخلاقی اصلاح
4. امید اور صبر کی فراست
5. جامعہ جماعت کی حفاظت
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت
7. اعمال میں اصلاح اور نیکی
8. امامت کی توجہ اور تابعداری
9. انسانی حقوق کی پاسداری
10. خدمت اور انقلابی فعالیت
منتظرین کے فرائض
1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔
2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔
4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔
5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔
یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔
یا
بالکل، یہاں ذیل موضوعات کی تفصیلات ہیں:
1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔
2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔
4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔
5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔
یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔
یا
منتظرین کے فرائض
1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔
2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔
4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔
5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔
یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔
منتظرین کے فرائض
1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔
2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔
4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔
5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔
یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں