پہلی پانچ PDFs  مہدوی معارف پر ابتدائی کورس  

پہلی پانچ PDFs  مہدوی معارف پر ابتدائی کورس



🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩


یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻* 


 *کورس* 1

 *کتابچہ*  

 *درس* 


🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،

 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،


 📖گفتگو کا موضوع 








 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.


التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 


🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو ✍

 پہلا درس




مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث   OK ہے    (کورس ون)






نوٹ: کورس ٹو
مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث 


مہدویت نامہ 

پہلا درس

مہدویت کی بحث پیش کرنے کی ضرورت
اور امامت کے بارے میں عمومی بحث 


مقاصد:

(۱) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت و اہمیت۔
(۲) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت کے مختلف پہلوﺅں سے آگاہی۔
(۳) دینی فکر میں امامت اور امام مہدی (عج) کے موضوع کے مقام کی شناخت۔

فوائد:

(۱) امام مہدی (عج) کے موضوع کی اہمیت پر توجہ اور اس کے مختلف پہلوﺅں پر تحقیق کی ضرورت۔
(۲) امام کی ضرورت او ر ان سے وابستہ ہونے کا احساس۔
(۳) امام کے اوصاف کی شناخت۔

تعلیمی مطالب:

(۱) امام مہدی پر بحث کرنے کی ضرورت۔
(۲) ان ابحاث کو پیش کرنے کی ضرورت کے ان مندرجہ ذیل پہلوﺅں سے آگاہی:
(۱لف) عقائدی(ب) معاشرتی(ج) سیاسی(د) تاریخی(ھ) ثقافتی
(۳) انسان کے لئے امام کی ضرورت کے دلائل
(۴) امام کی خصوصیات
(الف) امام کا علم(ب) عصمت امام(ج) امام کی معاشرہ پر حکومت(د) امام کے اخلاقی کمالات(ھ) امام کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہونا۔امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت اور جامع فرمان

مہدویت پر بحث کی ضرورت

شاید بعض لوگ یہ سوچیں کہ دیگر عقائدی اور نظریاتی موضوعات میں بنیادی ضرورت کے باوجود حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اس سلسلہ میں کافی مقدار میں بحث نہیں ہو چکی ہے اور بہت ساری کتابیں اور مضامین نہیں لکھے گئے ہیں؟
تو اسکا جواب یہ ہے کہ مہدویت کی بحث و گفتگو ایک ایسا موضوع ہے جو انسان کی زندگی میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور مختلف پہلوﺅں سے انسانی زندگی پر اثرانداز ہو تا ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں کی گئی بہت سی کاوشوں کے باوجود بھی اس موضوع پر بہت کچھ کہنے کے لئے باقی ہے، اور مناسب ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور صاحبان نظر حضرت اس سلسلہ میں بہت زیادہ کوشش کریں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی ضرورت کو واضح کرنے کے لیے یہاں چند چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
(۱) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کا موضوع، امامت کے بنیادی مسئلہ کی طرف پلٹتا ہے کہ جو شیعوں کے عقائدی اصول میں سے ہے، جس کی قرآن کریم اور اسلامی روایات میں بہت زیادہ اہمیت بتادی گئی ہے اور اس پر تاکید ہوئی ہے۔ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے:
﴾مَن مَاتَ وَ لَم یَع رِف اِمَامَ زَمَانِہِ مَاتَ مَی تَةً جَاہِلِیَةً۔﴿ ( بحارالانوار، ج۱۵، ص۰۶۱)
”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اپنے امام زمانہ (علیہ السلام) کو نہ پہچانتا ہو تو اس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہو گی (گویا اس نے اسلام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا ہے)“۔
یقینا یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس سے انسان کی معنوی حیات وابستہ ہے لہٰذا اس مسئلہ پر خاص توجہ اور عنایت کرنی چاہیے؟!
(۲) حضرت امام مہدی علیہ السلام،۱ مامت کے پاکیزہ سلسلہ کی بارہویں کڑی ہیں، وہی امامت جو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی دو نشانیوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے:
﴾اِنِّی تَارِک فِی کُم الثَّقَلَی نِ کِتَابَ اللّٰہِ وَ عِتَرَتِی ، مَا اِن تَمَسَّکت م بِہِمَا لَن تَضِلُّوا بَع دی اَبَداً....﴿(بحارالانوار، ج۲، ص۰۰۱)
”بے شک میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسری میری عترت، جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہوں گے“۔
اس بنا پر قرآن کریم کے بعد جو کہ کلام خدا ہے، کونسا راستہ امام علیہ السلام کے راستہ سے زیادہ روشن اور ہدایت بخش ہے؟ اور کیا بنیادی طور پر قرآن کریم اور کلام خدا کو پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے (حقیقی) جانشین کے علاوہ کوئی اور اس کامعنی اور تفسیر کر سکتا ہے؟!
(۳) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) زندہ اور حاضر و ناظر ہیں اور آپ کے سلسلہ میں بہت سے سوالات (خصوصا نوجوانوں اور جوانوں کے درمیان) پائے جاتے ہیں، اگرچہ گذشتہ علماءکی کتابوں میں بہت سے سوالات کا جواب دیا گیا ہے، لیکن پھر بھی بہت سے شکوک و شبہات باقی ہیں اور بعض گذشتہ جوابات آج کل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہیں۔
(۴) امامت کی اہمیت اور اس کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر دشمنوں نے ہمیشہ شیعوں کو فکری اور عملی لحاظ سے نشانہ بنایا ہے تاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں شبہات اور اعتراضات بیان کرکے ان کے ماننے والوں کو شک و تردید میں مبتلا کر دیا جائے، جیسا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں شک و تردید پیدا کرنا، یا آپ کی طولانی عمر کے مسئلہ کو ایک محال اور غیر عقلی مسئلہ قرار دینا، یا آپ کی غیبت کو غیر منطقی چیز قرار دینا اور اسی طرح کے بہت سے اعتراضات، اس کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بعض ناواقف برادران مہدویت کے سلسلہ میں کچھ غلط اور بے بنیاد چیزیں بیان کردیتے ہیں، جن سے کچھ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں یا ان کو گمراہ کر دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا انتظار، آپ کا مسلحانہ قیام، آپ کی غیبت کے زمانہ میں آپ سے ملاقات کے امکان وغیرہ کے سلسلہ میں بہت سے غلط اور خلاف حدیث مطالب بیان کئے جاتے ہیں، لہٰذا مہدویت کے سلسلہ میں اس طرح کی غلط باتوں کی صحیح تحقیق کی جائے اور ان اعتراضات کا منطقی اور معقول جواب دیا جائے۔ انہیں چیزوں کی بنا پر اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نورانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو بیان کرتے ہوئے آپ کے سلسلہ میں جوانوں کے ذہنوں میں موجودہ سوالات اور آپ کے زمانہ سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جائے، نیز عقیدہ مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں اور بعض غلط افکار کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں تاکہ آخری حجت الٰہی حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی صحیح اور عمیق معرفت کی راہ میں ایک قدم اٹھا سکیں۔

امامت

پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اسلامی معاشرہ میں آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ ایک گروہ نے بعض اصحاب پیغمبر کے کہنے پر حضرت ابوبکر کو بعنوان خلیفہ رسول چُن لیا، لیکن دوسرا گروہ آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا معتقد رہا۔ ایک مدت بعد پہلا گروہ اہل سنت و الجماعت اور دوسرا گروہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف صرف پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دونوں کے نقطہ ¿ نظر سے ”امام“ کے معنی و مفہوم میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے جس کی بنا پر دونوں مذہب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ ہم اس موضوع کی وضاحت کے لئے ”امام اور امامت“ کے معنی کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ دونوں کے نظریات واضح ہو جائیں۔ لغوی اعتبار سے ”امامت“ کے معنی پیشوائی اور رہبری کے ہیں اور ایک معین راہ میں کسی گروہ کی قیادت اور رہبری کرنے والے ذمہ دار فرد کو ”امام“ کہا جاتا ہے۔
دینی اصطلاح میں امامت کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں: اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ”امامت“ دنیوی حکمرانی کا نام ہے (نہ کہ الٰہی منصب کا) کہ جس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی سرپرستی کی جاتی ہے اور جس طرح ہر معاشرہ کو رہبر اور قائد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اسلامی معاشرہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اپنے لیے ایک ہادی اور رہبر کا انتخاب کرے اور چونکہ اس انتخاب کے لئے دین اسلام میں کوئی خاص طریقہ متعین نہیں کیا گیا تو پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کے لئے مختلف طریقوں کو اپنایاجا سکتا ہے مثلاً عوام الناس یا بزرگوں کی اکثریت کے نظریہ یا گذشتہ جانشین کی وصیت کے مطابق یا بغاوت اور فوجی طاقت کے بل بوتے زبردستی حاکم بننے والا شخص خلیفہ یا امام کہلایا جا سکتا ہے۔
لیکن شیعہ امامت کو نبوت کا استمرار اور امام کو مخلوق کے درمیان حجت خدا اور فیض الٰہی کا واسطہ مانتے ہیں لہٰذا شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”امام“ کو صرف خدا معین فرماتا ہے جس کا پیغمبر یا وحی کا پیغام لانے والے کے ذریعہ تعارف کرواتا ہے اور نظریہ امامت کی اس عظمت اور بلند مقام کے پیش نظر شیعہ طرزِ تفکر میں یہ ہے کہ وہ امام کو نہ صرف اسلامی معاشرہ کا سرپرست اور حاکم مانتے ہیں بلکہ احکام الٰہی کا بیان کرنے والا، مفسر قرآن اور راہ سعادت کی ہدایت کرنے والا مانتے ہیں بلکہ شیعہ ثقافت میں امام عوام کے دینی اور دُنیاوی مسائل کو حل کرنے والے کی ذات کا نام ہے، نہ اس طرح کہ جس طرح اہل سنت معتقد ہیں کہ خلیفہ کی ذمہ داری صرف دُنیاوی معاملات میں حکومت کرنا ہے!۔

امام کی ضرورت

مذکورہ نظریات واضح ہونے کے بعد اس سوال کا جواب دینا مناسب ہے کہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے باوجود امام اور دینی رہبر کی کیا ضرورت ہے؟(جیسا کہ شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے)
امام کی ضرورت کے لئے بہت سے دلائل بیان ہوئے ہیں لیکن ہم ان میں سے ایک کو اپنے سادہ بیان میں پیش کرتے ہیں:
جس دلیل کے تحت انبیاءعلیہم السلام کی ضرورت ہے، وہی دلیل ”امام“ کی ضرورت کو بھی ثابت کرتی ہے، کیونکہ ایک طرف سے اسلام آخری دین اور حضرت محمد مصطفی (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) خدا کی طرف سے آخری پیغمبر ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام قیامت تک انسانی ضرورتوں کا جواب رکھتا ہو، دوسری طرف قرآن کریم میں اصول، احکام اور الٰہی تعلیمات عام اور کلی صورت میں ہیں جن کی وضاحت اور تفسیر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمہ ہے۔
( یہ بات عرض کر دینا مناسب ہے کہ امام معصوم کے ذریعہ ”حکومت تشکیل دینا“ راستہ ہموار ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ لیکن دوسرے تمام فرائض یہاں تک کہ غیبت کے زمانہ میں بھی انجام دینا ضروری ہے، اگرچہ امام علیہ السلام کے ظہور اور لوگوں کے درمیان ظاہر بظاہر ہونے کی صورت میں یہ بات سب پر ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حصہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس میں لوگوں کی معنوی زندگی میں امام کی ضروری ہے لیکن تمام دنیا کو ”وجود امام“ کی ضرورت ہے اس مطلب کو ”امام غائب کے فوائد“ کی بحث میں بیان کیا جائے گا)
لیکن یہ بات روشن ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے مسلمانوں کے ہادی اور رہبر کے عنوان سے اپنے زمانہ کے اسلامی معاشرہ کی ضروریات کے مطابق آیات الٰہی کی تفسیر کو بیان فرمایا، اور اپنے بعد کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا بلافصل لائق جانشین چھوڑیں جو خداوند عالم کے لامحدود علم کے دریا سے متصل ہوتا کہ جن چیزوں کو پیغمبر اکرم(صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے عام لوگوں کے سامنے بیان نہ کر سکے اور اپنے بعد میں آنے جانے والے جانشین کو ان تمام امور کا علم دے گئے ، ان کو بیان کرے اور ہر زمانہ میں اسلامی معاشرہ کو درپیش مسائل کا جواب پیش کر سکے۔
اسی طرح ائمہ علیہم السلام پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی چھوڑی ہوئی میراث کے محافظ ہیں اور قرآن کریم کے حقیقی مفسر اور اس کے صحیح معنی کرنے والے ہیں تاکہ دینِ خدا خود غرض دشمنوں کے ذریعہ تحریف کا شکار نہ ہو جائے، نیز امامت کا یہ پاک و پاکیزہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گایہ شیعہ نقطہ نظرہے۔
اس کے علاوہ ”امام“ انسان کامل کے عنوان سے انسان کے تمام پہلوﺅں میںانسانی زندگی کے اعلیٰ نمونہ عمل ہے، کیونکہ انسانیت کو ایسے نمونہ کی سخت ضرورت ہے جس کی مدد اور ہدیت کے ذریعہ وہ تربیت پا سکے، نیز ان آسمانی رہبروں کے زیر سایہ انحراف اور اپنے سرکش نفس کے جال اور بیرونی شیاطین سے محفوظ رہ سکے۔
گذشتہ مطالب سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ عوام الناس کے لئے امام کی سخت ضرورت ہے اور امام کے فرائض اور ذمہ داریوں میں بعض اس طرح ہیں:
ة اجتماعی اور سماجی مسائل کا ادارہ کرنا (حکومت کی تشکیل)۔
ة دین خدا کو تحریف سے بچانا اور قرآن کے صحیح معنی بیان کرنا۔
ة لوگوں کے دلوں کا تزکیہ اور ان کی ہدایت و راہنمائی کرنااورتمام پہلوﺅں میں انسان کے لئے عملی نمونہ بننا۔

امام کی خصوصیات

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین، دین کو حیات بخشنے کا ضامن اور انسانی معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے، امام وہ ممتاز شخصیت ہے جو پیشوائی اور رہبری کے عظیم الشان مقام کی بنا پر کچھ خصوصیات رکھتی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
امام، صاحب تقویٰ و پرہیز گار اور صاحب عصمت ہوتا ہے، جس کی بنا پر اس سے ایک معمولی سا گناہ بھی سرزدنہیں ہو تا۔
امام کے علم کا سرچشمہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا علم ہوتا ہے اوران کاعلم علم الٰہی سے متصل ہوتا ہے، لہٰذا مادی اور معنوی، دینی اور دنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دارامام ہوتا ہے۔امام اللہ کے علم کا مرکز اور ظرف ہوتاہے۔
تمام فضائل سے آراستہ اور اخلاقی بلند درجات پر فائز ہوتا ہے۔
دینی بنیاد پر انسانی معاشرہ کو صحیح طریقہ پر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ظاہر ہے کہ مذکورہ صفات کے پیش نظر امام کا انتخاب عوام الناس کے بس سے باہر ہے، صرف خداوند عالم ہی اپنے لامحدود علم کی بنیاد پر پیغمبر اکرم (دُنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔) کے جانشین کا انتخاب کر سکتا ہے، لہٰذا امام کی اہم خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت ”خداوند عالم کی طرف سے منسوب ہونا“ ہے۔
قارئین کرام! ان خصوصیات کی اہمیت کے پیش نظر ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ وضاحت کرتے ہیں:

علمِ امام

امام (جس پر لوگوں کی ہدایت اور رہبری کی ذمہ داری ہوتی ہے) کے لئے ضروری ہے کہ دین کے تمام پہلوﺅں کو پہچانتا ہوں، اور اس کے قوانین اور تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہی رکھتا ہو، نیز قرآن کریم کی تفسیر کو جانتے ہوئے سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) پر بھی مکمل احاطہ رکھتا ہو تاکہ الٰہی معارف اور دینی تعلیمات کو واضح طور پر بیان کرسکے اور عوام کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کاجواب دے سکے، اور ان کی بہترین طریقہ سے رہنمائی کرے ،ظاہر ہے کہ ایک ایسی ہی علمی شخصیت پر لوگوں کا اعتماد ہو سکتا ہے، اور ایسی علمی پشت پناہی صرف خداوند عالم کے لامحدود عالم سے متصل ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے ، اسی وجہ سے شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے جانشین کا علم خدا کے لامحدود علم سے اخذ ہوتا ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام کسی سے علم نہیں لیتے، ہر امام اپنے سے پہلے امام سے علم لیتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ حضرت علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور انہوں نے سارا علم رسول اللہ سے لیا ہے اور اس کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے براہ راست ہر امام کو اس کے اپنے زمانہ کے علم میں اضافہ ہوتاہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام، امام برحق کی نشانیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
”امام، حلال خدا، حرام خدا اوران کے متعلق احکام خدا کے امر و نہی اور لوگوں کی ضروریات کے بارے سب سے زیادہ جاننے والا ہوتا ہے“۔(میزان الحکمة، ج۱، ح ۱۶۷)

عصمت امام

امام کی اہم صفات اور امامت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ”عصمت“ ہے اور وہ ایک ایسی راسخ حالت یا طبیعت ہے کہ جو حقائق کے علم اور مضبوط ارادہ سے وجود میں آتی ہے اور چونکہ امام میں یہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں تو وہ ہر گناہ اور خطا سے محفوظ رہتا ہے، امام بھی دینی معارف اور تعلیمات کی پہچان اور ان کے بیان کرنے نیز ان پر عمل کرنے اور اسلامی معاشرہ میں اچھائیوں اور برائیوں کی تشخیص اور پہچان کی بنا پر خطا و لغزش سے محفوظ رہتا ہے۔اسی بنیاد پر آپ کی اطاعت کو دوسروں پر واجب قرار دیا گیاہے۔
امام کی عصمت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت اور عقل سے بہت سے دلائل پیش کئے گئے ہیں، ان میں سے کچھ اہم دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
الف: دین اور دینداری کی حفاظت امام کی عصمت پر موقوف ہے، کیوکہ امام پر دین کو تحریف سے محفوظ رکھنے اور دین کے بارے ہدایت دینے کی ذمہ داری ہوتی ہے نیز امام کا کلام، ان کی رفتار اور ان کا کردار اور دوسرے شخص کے عمل کی تائید یا تائید نہ کرنا معاشرہ کے لئے اہم اثرات کے حامل ہوتے ہیں، لہٰذا امام کو فہم دین اور اس پر عمل کرنے میں ہر لغزش و خطا سے محفوظ ہونا چاہیے تاکہ اپنے ماننے والوں کو صحیح طریقہ سے ہدایت کر سکے اورلوگوں کو اطمینان کامل سے ان کی پیروی کرنے میں خدا کی رضا سمجھیں۔
ب: معاشرہ کو امام کی ضرورت کی ایک دلیل یہ ہے کہ عوام دینی شناخت، دینی احکام اور شرعی قوانین کے نافذ کرنے میں خطا و غلطی سے محفوظ نہیں ہیں اور اگر ان کا رہبر اور ہادی بھی اسی طرح ہو تو پھر امام پر کس طرح سے مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے!؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ اگر امام معصوم نہ ہو تو عوام اس کی پیروی اور اس کے حکم پر عمل کرنے میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
امام کی عصمت پر قرآن کریم کی آیات بھی دلالت کرتی ہیں جن میں سورہ بقرہ کی ۴۲۱ ویں آیت ہے، اس آیہ شریفہ میں بیان ہوا ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت عطا کرنے کے بعد امامت کے بلند درجہ پر فائز فرمایا ہے، اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند عالم کی بارگاہ میں درخواست کی کہ یہ مقام امامت میری نسل میں بھی قرار دے، تو خداوند عالم نے فرمایا: ” یہ میرا عہدہ (امامت) ظالموں اور ستمگروں تک نہیں پہنچ سکتا“، یعنی منصب امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں ان حضرات تک پہنچے گا جو ظالم نہ ہوں گے۔
حالانکہ قرآن کریم نے خداوند عالم کے ساتھ شرک کو عظیم ظلم قرار دیا ہے، اور حکم خدا سے اپنے نفس پر تجاوز کوکبھی ظلم سے شمار کیا ہے (جو کہ گناہ ہے)، یعنی جو شخص اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو وہ ظالم ہے اور وہ مقام امامت کے لئے شائستہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے ”امامت“ کو اپنی ذریت اور نسل میں سے ان لوگوں کے لئے نہیں مانگا تھا جن کی پوری عمر گناہوں میں گزرے یا پہلے نیک ہوں لیکن بعد میں بدکار ہو جائیں، اس بنا پر صرف دو قسم کے افراد باقی رہتے ہیں:
۱۔ جو لوگ شروع میں گناہگار تھے لیکن بعد میں توبہ کرکے نیک ہو گئے۔
۲۔ جن افراد نے اپنی پوری زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو۔
خداوند عالم نے اپنے کلام میں پہلی قسم کو الگ کر دیا، (یعنی پہلے گروہ کو امامت نہیں ملے گی)، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مقام ”امامت“ صرف دوسرے گروہ سے مخصوص ہے،(یعنی جن افراد نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو)۔

امام ہی انسانی معاشرہ کا حاکم ہے

چونکہ انسان ایک سماجی شخصیت کا حامل ہے اور معاشرہ اس کے دل و جان اور رفتار و گفتار میں بہت زیادہ اثرات ڈالتا ہے، اس کی صحیح تربیت اور قربِ الٰہی کی طرف بڑھنے کے لئے اجتماعی راستہ ہموار ہونا چاہیے اور یہ چیز الٰہی اور دینی حکومت کے زیرِ سایہ ہی ممکن ہو سکتی ہے، لہٰذا لوگوں کا ہادی اور رہبر معاشرہ کے نظام کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کا سہارا لیتے ہوئے بہترین طریقہ سے اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالے۔

امام اخلاقی کمالات سے آراستہ ہوتا ہے

امام چونکہ معاشرہ کا ہادی اور رہبر ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ تمام برائیوں اور اخلاقی پستیوں سے پاک ہو اور اخلاقی کمالات کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو، کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کے لئے انسان کامل کا بہترین نمونہ شمار ہوتا ہے۔
حضرت امام رضا علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:”امام کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں: (۱) وہ سب سے زیادہ عالم، (۲) سب سے زیادہ متقی اورپرہیز گار، (۳) سب سے زیادہ حلیم، (۴)سب سے زیادہ شجاع، (۵) سب سے زیادہ سخی، (۶) سب سے زیادہ عبادت کرنے والا ہوتا ہے۔ ( معانی الاخبار، ج۴، ص ۲۰۱)
اس علاوہ امام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین ہوتا ہے لہٰذا وہ انسانوں کی تعلیم و تربیت کی ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، لہٰذا اسے دیگر لوگوں سے زیادہ الٰہی اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص (حکم خدا سے) خود کو لوگوں کا امام قرار دے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے خود اپنی تعلیم کےلئے کوشش کرے اور اپنی رفتار و کردار سے دوسروں کی تربیت کرے، قبل اس کے کہ اپنے کلام سے تربیت کرے“۔ ( میزان الحکمة، باب ۷۴۱، ح ۰۵۸)
یہ تو عام راہنماﺅں کی بات ہے اور جو رسول اللہ کے جانشین ہیں اور ہدایت کا مرکزہیں وہ کس طرح اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں بچپن سے لے کر آخر عمر تک خطا کار ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے جو ہدایت کے لئے متعین ہوتے ہیں تو خدا کی طرف سے ان کی عصمت و پاکیزگی اور طہارت کی ضمانت ہوتی ہے۔

امام کو خدا کی طرف سے منسوب ہونا چاہیے

شیعہ نقطہ نگاہ سے امام اور جانشین پیغمبر صرف حکم خدا اور اسی کے انتخاب سے معین ہوتا ہے اور پیغمبر حکم خدا کی بنا پر امام کا تعارف کرواتا ہے، لہٰذا کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ اس مسئلہ میں دخالت کا حق نہیں رکھتا۔
امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے کی ضرورت پر متعدد دلائل ہیں، مثلاً:
الف: قرآن کریم کے فرمان کے مطابق خداوند عالم تمام چیزوں پر حاکم مطلق ہے اور سب پر اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ظاہر ہے کہ یہ حاکمیت خدوند عالم کی طرف سے (صلاحیت اور شائستگی رکھنے والے) کسی بھی شخص کو عطا ہو سکتی ہے، لہٰذا جس طرح نبی اور پیغمبر خدا کی طرف سے منتخب ہوتا ہے، اسی طرح امام کو بھی خدا متعین کرتا ہے اور وہ لوگوں پر ولایت رکھتا ہے۔یعنی لوگوں کا سرپرست و ولی ہوتاہے۔
ب: اس سے پہلے امام کے لئے کچھ خاص خصوصیات بیان کی گئی ہیں جیسے عصمت، علم وغیرہ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان صفات کے حامل شخص کی شناخت اور پہچان صرف خداوند عالم ہی کرا سکتا ہے کیونکہ وہی انسان کے ظاہر و باطن سے آگاہ ہے، جیسا کہ خدوندا عالم قرآن میں جناب ابراہیم علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”ہم نے تم کو لوگوں کا امام قرار دیا“۔

جامع اور رساتر کلام

گفتگو کے اس آخری حصہ میں ضروری ہے کہ امام ہشتم حضرت علی رضا علیہ السلام کے عظیم کلام کا کچھ حصہ بیان کر دیںجس میں آپ نے امام کی خصوصیات بیان فرمائیں ہیں:
”(جنہوں نے امامت کے مسئلہ میں اختلاف کیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ امامت ایک انتخابی مسئلہ ہے) ان لوگوں نے جہالت کا ثبوت دیا.... کیا عوام الناس اُمت کے درمیان امامت کے مقام و منزلت کو جانتے ہیں تاکہ وہ مل بیٹھ کر امام کا انتخاب کرلیں؟! بے شک امامت کی قدر و منزلت اتنی بلند و بالا، اس کی شان اتنی عظیم المرتبہ، اس کا مقام اتنا عالی، اس کا رتبہ اتنا بلند و رفیع اور اس کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کی عقل کی رسائی اس تک نہیں اور نہ ہی وہ یا اپنی رائے کے ذریعہ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔
بے شک امام کی امامت وہ مقام ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت و خلت عطا کرنے کے بعد تیسرے مرتبہ میں مقام امامت عطا کیا ہے.... امامت، خلافت خدا اور رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، مقام امیر المومنین علیہ السلام اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام کی میراث ہے، واقعاً امامت دین کی باگ ڈور، نظام مسلمین کی بنیاد اور مومنین کی عزت اور دنیا کی خیر و بھلائی کا سبب ہے........ نماز، روزہ، حج، جہاد کے کامل ہونے کا سبب ہے، نیز امام کے ذریعہ (اس کی ولایت کے قبول کرنے کی صورت میں) سرحدوں کی حفاظت ہے۔
امام، حلالِ خدا کو حلال اور حرام ِ خداکو حرام کرتا ہے (اور خداوند عالم کے حقیقی حکم کے مطابق عمل کرتا ہے)، حدود الٰہی قائم کرتا ہے، خدا کے دین کی حمایت کرتا ہے اور حکمت و موعظہ نیز بہترین دلیل کے ذریعہ خدا کی طرف لوگوں کودعوت دیتا ہے۔
امام آفتاب کی طرح طلوع ہوتا ہے جس کا نور پوری دُنیا کو منور کر دیتا ہے اور وہ خود اُفق میں اس طرح سے ہے کہ اس تک ہاتھ اور آنکھوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، امام چمکتا ہوا چاند، روشن چرغ، نور درخشان اور بھرپور اندھیروں، نیز شہروں جنگلوں اور دریاﺅں کے راستہ میں راہنمائی کرنے والا ستارہ ہے (اور فتنہ فساد) اور جہالت سے نجات دینے والا ہے............
امام، مونس ساتھی، مہربان باپ، حقیقی بھائی، اپنے چھوٹے بچوں کی نسبت نیک و مہربان ماں اور بڑی بڑی مصیبتوں میں لوگوں کے لئے پناہ گاہ ہے۔ امام، گناہوں اور برائیوں سے پاک کرنے والا ہے، وہ مخصوص بردباری اور حلم کی نشانی رکھتا ہے .... امام اپنے زمانہ کا واحد شخص ہوتا ہے اور ایسا شخص ہوتا ہے جس (کی عظمت)سے کوئی قریب نہیں بھٹک سکتا، اور کوئی بھی دانشور اس کی برابری نہیں کر سکتا، نہ کوئی اس کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی اسکا مثل و نظر مل سکتا ہے........
لہٰذا امام کی شناخت اور پہچان کون کر سکتا ہے،یا کون امام کا انتخاب کر سکتا ہے، ھیھات ھیھات! یہاں پر عقل و خرد حیران ہو جاتی ہے، (یہاں پر) آنکھیں بے نور، بڑے چھوٹے حکماءانگشت بدندان، اور خطباءعاجز ہو جاتے ہیں اور ان میں امام کے بافضیلت کاموں کی توصیف کرنے کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ سبھی اپنی عجز و ناتوانی کا اقرار کرتے ہیں!!........( اصول کافی، ج ۱، باب ۵۱، ص ۵۲۲)

ة....ة....ة....ة....ة


درس کا خلاصہ

امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اس بحث کے معارف کا بیان اور اس کی مختلف جہات کا تجزیہ ایک اہم کام اور ضروری امر ہے۔
حدیث، من مات........ کی طرف نظر عنایت کی صورت میں امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت واجب ہے۔
حدیث ثقلین کے معنی و مفہوم کے مطابق قرآن و عترت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان کا آپس میں جدا ہونا ناممکن ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں بعنوان ایک امام حی و حاضر کا عقیدہ ایک مستحکم اور ناقابل اشکال عقیدہ ہے۔
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کے متعلق شبہات پر توجہ ضروری ہے اور ان کا جواب آج کے دور کے مطابق دینا ہوگا۔
امامت کے حوالہ ے شیعہ و سنی نظریات میں اساسی فرق یہ ہے کہ شیعہ عقائد میں امامت ایک الٰہی منصب ہے جو اصول دین کا جز ہے جبکہ اہل سنت امامت کو ایک دُنیاوی منصب سمجھتے ہیں کہ جس کا اختیار لوگوں کے پاس ہے۔
امام علیہ السلام علم وعصمت اور حاکمیت کے کمالات اور دیگر عالی انسانی صفات سے آراستہ ہوتاہے۔

درس کے سوالات

۱۔ موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟
۲۔ کیاامامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟واضح کریں؟
۳۔ انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟
۴۔ مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟
۵۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟
ة....ة....ة....ة....ة
 


پہلا سوال: موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟

جواب: مہدویت پر بحث کی ضرورت اور اہمیت کے مختلف پہلو یہ ہیں: اول، یہ کہ امام مہدی (عج) کا موضوع امامت کے بنیادی مسئلہ سے وابستہ ہے، جو شیعوں کے عقائدی اصولوں میں سے ہے اور اس کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ دوم، امام مہدی (عج) بارہویں امام ہیں اور ان کی امامت پیغمبر اکرم (ص) کے دین کی حفاظت کے لئے اہم ہے۔ سوم، امام مہدی (عج) کی غیبت اور ان کے دور کے بارے میں سوالات اور شکوک و شبہات کی وجہ سے اس موضوع پر گہرائی سے بحث کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کی جا سکیں اور غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔

دوسرا سوال: کیا امامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟ واضح کریں؟

جواب: جی ہاں، امامت و خلافت کے بارے میں شیعہ اور سنی کے نظریات میں بنیادی اختلاف موجود ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، امامت ایک الٰہی منصب ہے جو خدا کی طرف سے معین کیا جاتا ہے اور امام کو خداوند عالم کی طرف سے خصوصی علم اور عصمت کی صفت سے نوازا جاتا ہے۔ دوسری طرف، اہل سنت کے نظریہ کے مطابق، امامت یا خلافت ایک دنیاوی منصب ہے جو مسلمانوں کی جانب سے انتخاب کیا جاتا ہے۔

تیسرا سوال: انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟

جواب: انسان کے لئے امام کی ضرورت اس بنیاد پر ہے کہ امام دینی ہدایت کا منبع ہوتا ہے، دین کی حقیقی تعلیمات کی حفاظت کرتا ہے، اور امت کو فتنوں اور اختلافات سے محفوظ رکھتا ہے۔ امام معاشرہ میں حقیقی اور کامل اخلاقی، دینی اور علمی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ امام کے بغیر دین کے غلط تعبیر ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے، جو کہ امت کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

چوتھا سوال: مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟

جواب: امام کے من جانب اللہ ہونے کی ضرورت اس بنیاد پر ہے کہ امامت ایک الٰہی منصب ہے جس کے لئے خاص صفات جیسے علم، عصمت، اور روحانی و اخلاقی کمال ضروری ہیں۔ ان صفات کا حامل صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جسے خدا نے مخ


۵۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟

جواب 

**ملکہ عصمت کا سرچشمہ:**
عصمت کا سرچشمہ امام کا خدا سے خاص تعلق اور ان کی غیر معمولی روحانی و علمی صلاحیت ہے۔ امام کی عصمت، خداوند عالم کی طرف سے ایک خاص عنایت اور فضل ہے جو انہیں گناہ اور خطاؤں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ خصوصیت امام کو علم غیب اور وحی کے ذریعے دی جاتی ہے، جس سے وہ ہر طرح کے گناہ سے پاک رہتے ہیں اور دین کی حقیقی تعلیمات کو بغیر کسی تحریف کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

**امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل:**

1. **قرآنی دلیل:**
   - **آیت طہارت (آیت 33 سورہ احزاب):** 
     "إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"۔
     اس آیت میں خدا کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہل بیت کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک کرنا چاہتا ہے، جو عصمت کی ایک واضح نشانی ہے۔

2. **حدیثی دلیل:**
   - **حدیث ثقلین:**
     پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ رہا ہوں: کتاب اللہ اور میری عترت، اہل بیت، اگر تم ان دونوں سے مضبوطی سے تمسک رکھوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔"
     اس حدیث میں اماموں کی عصمت اور ان کے دینی معارف کی حفاظت کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔

3. **عقلی دلیل:**
   - عقلی طور پر، اگر امام عصمت نہ رکھتے تو وہ دین کی صحیح تعلیمات کو بغیر کسی غلطی کے لوگوں تک نہ پہنچا سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دین میں غلطی کا امکان موجود ہوتا، جو کہ خدا کے پاک و مکمل دین کے لیے نامناسب ہے۔

4. **روایتی دلیل:**
   - متعدد احادیث اور روایات میں اماموں کی فضیلتیں اور خصوصیات، جیسے کہ ان کی علمیت، تقویٰ، اور عصمت، کو واضح کیا گیا ہے، جو کہ ان کی عصمت کو ثابت کرتے ہیں۔

یہ دلائل اماموں کی عصمت کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام کسی بھی قسم کے گناہ اور خطا سے محفوظ ہوتے ہیں، اور ان کی زندگی اور تعلیمات دین کی حقیقی اور صحیح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

معرفت امام



معرفت امام


مہدویت پر بحث کرنے کی ضرورت



“موعود ” یا “مصلح کل” کا موضوع ایک ایسا نظریہ اور خیا ل نہیں ہے کہ جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا ہو اور یہ ایسا موضوع ہو کہ جو انسانیت کے دردوں کی تسکین اور مظلوموں کی دلداری کا ذریعہ ہوبلکہ یہ موضوع شیعیت کی شناخت ہے۔کہ جس کی ضرورت اور اہمیت کو آیات و روایات کی روشنی میں درک کیا جا سکتا ہے۔

زیر نظر تحریر میں، بطور اختصارمہدویت کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں:

۱۔ اعتقادی پہلو

عقیدہ زندگی کی اصل اساس ہے یعنی انسان میدان عمل میں جو کچھ بھی انجام دیتا ہے اس کی بنیاد اس کے عقائد ہوتے ہیں۔

بنابراین اگر انسان کا عقیدہ صحیح اور مستحکم ہو تو انسان عملی میدان میں لغزش اور شک و شبہ کا شکار نہیں ہوگا۔ وہ اہم ترین چیز ہے کہ جو ایک صحیح عقیدے کو تشکیل دیتی ہے وہ معرفت ہے۔

معرفت حاصل کر کے ہی ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ہی آئمہ ھدیٰ کی امامت کو دوام دینے والی شخصیت ہیں۔ آپ فیض الہٰی کے (بندوں تک پہنچنے کے لئے) واسطہ، خاتم اوصیاءاور مظہر صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ ہیں۔

امام زمانہ علیہ السلام خالق کائنات کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ ہیں جیسا کہ احادیث میں خداوند متعال اور اس کے اوصاف کی معرفت کا ذریعہ اور وسیلہ، اولیائے خدا اور آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی شناخت کوقراردیا گیا ہے۔ یہ ہستیاں مظہر اسمائے الہٰی ہیں اور ان ذوات مقدسہ کی صحیح معرفت ہی خدا کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ قرار پاتی ہے۔

شیعہ اور سنی راویوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے : ” مَن مَاتَ و َ لَم یَعرِفۡ اِماَمَ زَماَنَہِ ماَتَ مِیتةً جاَھَلیة ” [1]

(جو شخص اس حال میں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت ( شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کی موت مرا)

بعض دعاﺅں میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ معرفت امام کی توفیق طلب کریں:

“اَلَّھُمَّ عَرِّفۡنِی حُجَّتَکَ فَا نَّکَ اِن لَّم تُعَرِّ فۡنیِ حُجَّتَک ضَلَلۡتُ عَنۡ دِیِنی ” [2]

“خداوندا! اپنی حجت کی معرفت عطا فرماکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاﺅں گا۔”

کیا اتنی(روایات )کی مو جودگی کے باوجود، امام زمانہ علیہ السلامکی شناخت کااہتمام نہیں کرنا چاہیے؟ اور کیا حضرت ولی العصر علیہ السلام کے مقدس وجود کے مختلف پہلو ﺅں کو بہتر طریقے سے نہیں پہچاننا چاہیے؟

امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح اور درست شناخت سے کیسے غافل رہ سکتے ہیں جبکہ امام زمانہ علیہ السلام اپنے غیبت کے زمانہ میں بھی سب مخلوقات کو اپنے الہی فیض سے محروم نہیں رکھتے اور ہم سب امام زمانہ علیہ السلام کی امامت کے فیوضات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

۲۔ معاشرتی پہلو

جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے ایک سعادت مندمعاشرتی زندگی کی آرزو کر رہا ہے۔ اگر اس خواہش کے برآوردہ ہونے کا امکا ن نہ ہوتاتو ہرگز ایسی خواہش ، آرزو اور امید انسان کی فطرت میں قرار نہ دی جاتی جیسے کہ اگر پانی اور غذا نہ ہوتی تو پیاس اور بھوک بھی نہ ہوتی۔

“مہدویت” ایک ایسی فکر ہے کہ جوبہت سے معاشرتی اثرات رکھتی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اثر، معاشرے کے پیکر سے مایوسی اور نا امیدی کا خاتمہ ہے مہدویت یعنی روشن مستقبل کی امید اور مظلوم اور بے سہارابشریت کے لئے آزادی کا پیغام اور یہ کہ ایک دن ایک مردخدا آئے گا اورلوگ جس چیز کی امید رکھتے ہیں وہ انجام پذیر ہو کر رہے گی۔

ہر مسلمان کا اس چیز پرپختہ یقین ہے کہ جو معاشرتی نظام،اس کی جائز خواہشات و آرزوﺅں کی تکمیل کر سکتا ہے اور جو اس معاشرتی نظام کو حق وعدالت کی بنیا د پر استوار کرسکتا ہے وہ اسلام کاوہ خوبصورت”حکومتی نظام” ہے۔جس کی کامل و مکمل شکل اما م زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت تشکیل پائے گی۔اوراس بات پر یقین امید، نشاط اورزندگی کے مساوی ہے۔

یہ فکر اتنی واضح و روشن ہے کہ حتٰی کہ بعض مستشرقین (جیسے جرمن فلسفی ماربین) نے بھی اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ”انتہائی اہم معاشرتی مسائل میں سے ایک مسئلہ جو امید (نجات) کا موجب ہو سکتا ہے وہ حضرت حجت ولی العصر علیہ السلام کے وجود پر اعتقاد رکھنا اور ان کے ظہور کا انتظار ہے”۔

بناءبر ایں،مہدی موعود علیہ السلام کے مقدس وجود پرعقیدہ رکھنا، (انسانوں کے) دلوں کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے ، جو انسان اس “اصل”پرعقیدہ رکھتاہے وہ نا امید (اور مایوس) نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن اختتام حتمی ہے۔لہٰذاکوشش کرتاہے کہ خود کو اس (روشن اختتام )تک پہنچائے [3]اور یہی نظریہ اس کی مسلسل حرکت کا سبب بنتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرروشن اختتام کو حقیقی شکل دینے کی را ہ میں جدوجہد کرتے ہوئے سختیوں و ناخوشگوار حوادث و واقعات کے سامنے شکست تسلیم نہیں کرتا ۔اس کا یہی عمل ” مہدویت” پر اعتقاد کے زیر اثر، بشریت کے لئے حاصل ہونے والا سب سے بڑا معاشرتی تخفہ ہے۔

سیاسی پہلو

عالمی سطح پر تاریخ ہمیشہ مختلف حکومتوں اور نظاموں کی شکست کی شاہد رہی ہے۔ عرصہ دراز تک دو غالب نظریات (کیپٹلزم،مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے نمائندہ کے طور پراور کیمونزم،سوشلزم کے نمائندہ کے طورپر ) نے ایٹمی اور غیر ایٹمی اسلحے کے ذریعے دنیاکےلئے خطرہ بنے رہے اور یہی ان کے نظریات اور نظاموں کی شکست کی واضح ترین دلیل ہے۔

ان نظریات نے عرصہ دراز تک معاصر عالمی سیاسی تفکر کو متاثر کئے رکھا لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایک شکست سے دوچار ہوا اور دوسرا (نظام یعنی سوشیالزم) شکست کے دہانے پہ ہے،مغربی لبرل ڈیموکریسی کودرپیش چیلنج کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ( لبرل ڈیموکریسی) میں اخلاقی ، نفسیاتی، ٹیکنالوجی اور علمی (معرفتی ) بحرانوں کی بہتات اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہنشاہیت اور نظام ایک سنگین شکست سے دوچار ہو نے والا ہے۔

ایسے حالا ت میں ناکامیوں،کھوکھلے نعروں اور امن و سلامتی کے سراب دیکھ کر تھکے ماندہ انسانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

آج کی بشریت عالمی سیاست میں نظر ثانی اور جدت کی پیاسی ہے۔ در حقیقت آج کا انسان شدید تشنگی محسوس کر رہا ہے او راس کو صرف “مدینہ فاضلہ” مہدوی کا نظام و منصوبہ ہی سیراب کر سکتا ہے۔

نظریہ مہدویت ایک عالمی نظریہ ہے اور یہ نظریہ دنیا کو چلانے کا ایک پروگرام اور منصوبہ رکھتا ہے۔بناءبر ایں جو نظام اور پروگرام معاصر بشریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ “مہدویت” یہی فکرہے۔ اور مہدویت کے حکومت کے بارے میں بلند ترین اور قیمتی اہداف و مقاصد ہیں، حتٰی کہ یہ فکر مہدویت، دینی حکومت (کے قیام) کے لئے ایک مفید اور قابل عمل منصوبہ بندی قرار پا سکتی ہے۔

اگر (نظریہ) مہدویت صحیح اندازمیں بیان ہوجائے تو دنیا بھر میں اصلاحی تحریکوں میں جان پڑ جائے گی۔ جس طرح کہ انقلاب اسلامی ایران ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب کے لئے مناسب پیش خیمہ اور نقطہ آغاز بن چکا ہے۔

تاریخی پہلو

مہدویت کاسلسلہ امامت اور نبوت کے تسلسل کا نام ہے۔ اس وجہ سے تاریخ کے ایک حساس دور میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ اور آج تک جاری و ساری ہے اور مہدویت کا یہ سلسلہ بشریت کی دنیوی زندگی کے اختتام تک باقی رہے گا۔ بناءبر ایں، امام علی علیہ السلامسے لے کر امام ولی عصر علیہ السلام تک (ان آئمہ کی) امامت کی کیفیت کے بارے میں بالعموم اور مہدویت کے بارے میں بالخصوص مسلمانوں کا رد عمل اور نیز اس سے پیش آنے والے تاریخی حوادث، تاریخ اسلام کے اہم اور حساس موضوعات قرار دئیے جا سکتے ہیں۔

مہدویت کے موضوع پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور شیعہ، سنی رورایات میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کثرت سے بشارتیں ذکر ہوئی ہیں۔تاریخ اسلام میں ہمیشہ امام مہدی موعود علیہ السلام کے عقیدے پر جہت سے آثارمرتب ہوئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی اور حال میں بہت سی اصلاحی تحریکیں، نظریہ مہدویت سے متاثر تھیں( جیسے مصر میں فاطمیوں کی تحریک اور سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک ) ، (مہدی) موعود علیہ السلام پر عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلامی معاشرے پر جو عجیب اثرات چھوڑے انہیں دیکھ کر کچھ حیلہ بازوں نے بھی لفظ مہدی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط اہداف تکہ پہنچنے کے لئے مہدویت کا دعویٰ کیا اورمسلم معاشروں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔

ثقافتی پہلو

ہم مسلمانوں کی (جملہ) ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ مہدویت کے کلچر کو پھیلانے کے لئے زمین ہموار کر کے آنحضرت علیہ السلام کے ظہور میں (مزید) تاخیر کو روکیں۔ مہدویت کے ثقافتی پہلو کے اعتبار سے چند نکا ت پر کام کرنے کی ضرورت ہے:

۱۔ انتظار کی پالیسی کو واضح کرنا

انتظار کی پالیسی کا مطلب ہے وسعت نظر اورامام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے تمام وسائل اور توانائیوں کو کام میں لانا۔ امام کا ظہور فقط اسی وقت ہوگا جب ہم جمود کی حالت سے نکل کر اپنے آپ کو ایک فعال اور متحرک پروگرام کے تحت منظم کرلیں اور اپنے مشن تک پہنچنے کے لئے توانائیاں بروئے کار لائیں اور نظر ہماری مستقبل پر ہونا چاہئے۔

کیونکہ جب تک مستقبل روشن اور واضح نہ ہو اس وقت تک صحیح منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔

۲۔ غلط افکار کی پہچان

ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اوران کا ازالہ کریں ۔ مثال کے طور پر امام زمانہ علیہ السلام کی بحث میں افراطی رنگ نہ دیں۔ اسی طرح فقط امام کا قہر وغضب کا چہرہ لوگوں کے سامنے نہ رکھیں بلکہ امام کے اسوہ رحمت اور بے پناہ بخشش کو بھی پیش کریں۔ اسی طرح ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ انتظار کا مفہوم تحریف کا شکار نہ ہو جائے۔ اور معاشرے میں ظلم وستم کے بڑھنے پر بھی سکوت اختیار نہ کریں کہ غلط افکار معاشرے پر حکم فرما ہوں۔

۳ ۔ دشمن شناسی

اسلام دشمن معاشرے میں مہدویت کی تعلیم کے رشد کو روکنے یا تحریف کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں اوردشمن کوتو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اگر دشمن ایسا نہ کرے تو تعجب کرنا چاہیے۔ چونکہ دشمن کی ماہیت ہی یہی ہے۔پس اہل حق کو کوشش کر نی چاہیے کہ مہدویت کی ابحاث کو صحیح انداز میں پیش کریں تاکہ ہر قسم کی تخریب و تحریف کو روکا جا سکے۔

پیشکش:علی اصغر سیفی







مقدمہ


جیسا کہ ہم  کہ جانتے ہیں کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان موضوع امامت کے تحت صرف تین مسئلوں میں اختلاف ہے

١۔ پہلے یہ کہ امام کا تعین و انتخاب، خدا کی جانب سے ہو۔

٢۔ دوسرے یہ کہ امام ملکۂ عصمت سے آراستہ ہو۔

٣۔ تیسرے یہ کہ علم لدنی کا مالک ہو، 



عصمت امام ۔


منصب امامت کا الٰہی ہونا اور حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا خدا کی جانب سے منصب امامت پر فائز ہونے کے اثبات کے بعد ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کو اِس آیت کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے ۔

'' لَا ینالُ عَہدِ الظَالِمِینَ''(١)

یعنی منصب امام صرف انھیں حضرات کے لئے سزاوار ہے جو گناہوں سے آلودہ نہ ہوں۔

اس کے علاوہ آیہ ''اولوا الامر'' (٢)جو امام کی اطاعت کو مطلق قرار دیتی ہے اور امام کی اطاعت کو آنحضرت ۖ کی اطاعت کے مساوی قرار دیتی ہے، اُس کے ذریعہ بھی ائمہ علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں امام کی اطاعت کو اطاعت خدا کے خلاف قرار نہیں د یا جا سکتا لہٰذا او لوالامر یعنی امام کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

اسی طرح ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کوآ یہ تطہیر سے بھی ان کا معصوم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے:

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذہِبَ عَنکُمُ الرِجسَ اَہلَ البَیتِ وَ یُطَہِّرَ کُم تَطہِیراً)(٣)

اے اھل بیت !(رسول) خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی ) برائی سے دوررکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ایسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔

بندوں کی تطہیر کا ارادۂ تشریعی، کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کے سلسلہ میں خدا کا ارادہ، ارادۂ تکوینی ہے کہ جس میں اراد کا ارادہ کرنے والے (خدا ) سے تخلف ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

( اِنَّمَا اَمرُہُ اِذَا اَرَادَ شَیٔاً اَن یَقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ).(٤)

پس تطہیر مطلق اور کسی بھی قسم کی نجاست اور پلیدی سے دورری عین عصمت ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانو ںمیں سے کوئی بھی فرقہ آنحضرت ۖ کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا قائل

………………………………………


(١) سورۂ بقرہ آیت ١٢٤.

(٢)سورہ نسا۔آیت٥٩

(٣) سورۂ احزاب آیت ٣٣

(٤) سورۂ یس ٨٢.


نہیں ہے فقط شیعہ فرقہ ہے جو حضرت زہراء علیہا السلام اور بارہ اماموں کی عصمت کا قائل ہے۔( ١)

اس مقام پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ اس آیت کے سلسلہ میں وہ روایتیں جو نقل ہوئیں ہیں، ان میں سے اکثر کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اِس بات پردلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت ،خمسہ طیبہ کے سلسلہ میںنازل ہوئی ہے۔(٢)

شیخ صدو ق حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول خدا ۖ فرما یا: اے علی! یہ آیت تمہارے اور حسن و حسین علیہم السلام اور تمہار ی نسل سے ہونے والے اماموں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ،میں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے تو آپ ۖ نے فرمایا: اے علی! تم ہوگے پھر حسن اور پھر حسین اور حسین کے بعد علی بن الحسین اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد جعفر بن محمد اس کے بعد موسیٰ بن جعفر اس کے بعد علی بن موسیٰ اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد علی بن محمد اس کے بعد حسن بن علی اور پھر حسن کے فرزند حجت خدا امام ہوں گے۔

اس کے بعد فرمایا: کہ یہ اسماء اسی ترتیب سے ساحت عرش پر لکھے ہوئے ہیں، اور جب میں نے ان اسماء کو دیکھا تو خدا سے سوال کیا کہ یہ اسماء کس کے ہیں! تو خدا نے فرمایا:اے محمد ۖ یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں کہ جنھیں پاک قراردیا گیا ہے اور وہ معصوم ہیں نیز ان کے دشمنوں پر بے شمار لعنت کی گئی ہے۔(٣)

ان آیتوں کے علاوہ حدیث ثقلین جس میں آنحضرت ۖ نے ائمہ ا طہار علیہم السلام کو قرآن کے مساوی قرار دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ دونوں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت پر ایک روشن دلیل ہے، اس لئے کہ ایک معمولی خطا کا بھولے سے بھی سرزد ہوجانا قرآن عملی مفارقت کا سبب ہوگا۔

………………………………………………


(١) مزید وضاحت کے لے تفسیر المیزان اور کتاب ''الامامة والولایة فی القرآن''. کی طرف رجوع کیا جائے

(٢) غایة المرام ص ۔٢٨٧ ٢٩٣.

(٣) غایة المرام (ط قدیم) ۔ج،٦۔ ص ٢٩٣



علم امام۔


اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ ا طہار علیہم السلام لوگوں کے مقابلہ میں علمی اعتبار سے بہت بلند مقامات کے حامل تھے جیسا کہ نحضرت ۖ نے فرمایا:

(لَا تُعَلِّمُوہُم فَاِنَّہُم اَعلَمُ مِنکُم)

انھیں تعلیم نہ دو اس لئے کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ جاننے والے ہیں(١)

مخصوصاً حضرت علی علیہ السلام جو بچپنے سے رسول اللہ ۖ کے سائے میں رہے اور آپ ۖ کی آخری سانسوں تک آپ کے علوم سے مستفید ہوتے رہے، جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے خود فرمایا:

( اَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِّ بَابُہَا) (٢)

میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔

اس کے علاوہ خود امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

( اِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ۖ عَلَّمَن اَلفَ بَابٍ وَ کُلُّ بَابٍ یَفتَحُ اَلفَ بَابٍ فَذَلِکَ

اَلفَ اَلفَ بَاب حَتَّی عَلِمتُ مَاکَانَ وَ مَایَکُونُ اِلی یَومِ القِیَامَةِ وَ عَلِمتُ عِلمَ المَنایا وَ البَلایا وَ فَصلَ الخِطابِ)(٣)

………………………


(١) غایة المرام ۔ص،٢٦٥ اصول کافی۔ ج ١' ص٢٩٤

(٢)مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ٢٢٦قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ ایک سنی عالم نے ایک کتاب بنام

''فتح الملک العلی بصحة حدیث مدینة العلم علی'' نے لکھی جو ١٣٥٤ میں قاہرہ میں چھپی ہے

(٣) ینابیع المودہ۔ ص٨٨ اصول کافی ۔ج ١ ص،٢٩٦


یعنی رسول اللہ ۖ نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار ہزار باب کھولے جو مجموعاً ہزار ہزار باب (دس لاکھ باب ) ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اُن سب سے میںباخبرہوگیا ، اموات و آفات کے اسرار کا میں عالم اور 'عدل کے ساتھ حکم کرنا'' کا مالک ہوں۔

لیکن علوم آ ل محمد ۖ صرف اُن علوم پر منحصر نہیں ہے کہ جسے واسطہ کے ساتھ یا واسطہ کے بغیر انھوں نے آنحضرت ۖ سے حاصل کیا ،بلکہ ائمہ اطہار علیہ السلام غیر عادی علوم سے بھی سرفراز تھے جس سے بصورتِ الہٰام باخبر ہوجاتے تھے(١) بالکل اسی طرح کہ جیسے جناب خضر، جناب ذوالقرنین، (٢)حضرت مریم اورجناب موسیٰ کی والدہ پر افاضہ ہوا کرتا تھا(٣) جن میں سے بعض کو قرآن نے وحی سے تعبیر کیا ہے لیکن یہاں وحی سے مراد وحی نبوت نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض ائمہ علیہم السلام بچپنے میں مقام امامت پر فائز اور دوسروں سے تعلیم حاصل کرنے سے بے نیاز ہوتے تھے۔

یہ مطلب ان روایتوں کے ذریعہ ثابت ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئیں ہیں جن کی حجیت آپ لوگوں کی عصمت سے ثابت ہے، لیکن ان میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کرنے سے پہلے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ضروری ہے جس میں بعض افراد کو'ومن عندہ علم الکتاب' (٤) کے عنوان سے آنحضرت ۖ کی حقانیت پر بہ طور شاھد پیش کیا گیا ہے، اور وہ آیت یہ ہے

( قُل کَفَی بِاللّہِ شَہِیداً بَینِ وَ بَینَکُم وَمَن عِندَہُ عِلمُ الکِتَابِ)(٥)

آپ کہہ دیں کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان شہادت اور گواہی دینے کے لئے کافی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کافی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے۔

…………………………………


(١) اصول کافی۔ کتاب الحجہ۔ ٢٦٤ ٢٧٠

(٢)اصول کافی ۔ج ١، ص ٢٦٨

(٣) سورۂ کہف۔ ٦٥ ٩٨ آل عمران ۔٤٢، مریم ١٧' ٢١ طہ۔ ٣٨ قصص۔٧

(٤) سورۂ رعد۔ ٤٣

(٥)سورۂ رعد ۔٤٣


پس اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ شخص جس کی گواہی خدا کی گواہی کے برابر ہو، اور علم الکتاب سے آراستہ ہو ، وہ کمالات کے عظیم درجات پر فائز ہوگا ۔

ایک دوسری آیت میں اسی شاہد کی طرف اشارہ کیا ہے:

(َفَمَن کَانَ عَلی بَیِّنَةٍ مِن رَبِّہِ وَ یَتلُوہُ شَاہِد مِّنہُ)(١)

تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہو

اس آیت میں(مِنہُ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شاہد رسول اللہ ۖ کے خاندان اور آپ کے ا ہل بیت سے ہے، اہل تشیع و تسنن کی طرف سے نقل ہونے والی روایتوں کے مطابق اس شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔

منجملہ ابن مغازلی شافعی نے عبد اللہ بن عطا سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ''عبد اللہ بن سلام ( آنحضرت ۖکے دور میں اہل کتاب کے بزرگ علماء میں سے تھے) کے فرزند ہمارے سامنے سے گذرے تو میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ومن عندہ علم الکتاب.سے مراد اس شخص کے والد ہیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا نہیں،بلکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور آیہ ''

(وَیَتلُوہُ شَاہِد مِنہ) اور آیہ (اِنَّما وَلِیُکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا) (٢)

(اے ایماندارو)تمارے مالک و سرپرست بس یہی ہیں ۔ خدا اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اسی طرح بہت سی روایتوں کے مطابق جو شیعہ اور سنی اسناد کے (٣) مطابق وارد ہوئی ہیں، سورۂ ہود میں ''شاہد'' سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں،

…………………………………


(١) سورۂ ہود۔ آیت/ ١٧

(٢) سورۂ مائدہ۔ آیت /٥٥

(٣)غایة المرام (ط قدیم) ٣٥٩.٣٦١


لہٰذا ''منہ'' سے مراد امام علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

علم الکتاب کے حامل ہونے کی اہمیت اُس وقت آشکار ہوگی کہ جب ہم جناب سلیمان علیہ السلام کے حضور میں تخت بلقیس کے حاضر کرنے کی داستان کا مطالعہ کریں:

( وَقَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِنَ الکِتَاب أَناَ آتِیکَ بِہِ قبَلَ ن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُکَ)( ١)

یعنی جس کے پاس کتاب کا ایک مختصر علم تھا اس نے کہا کہ میں تخت بلقیس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یہاں حاضر کروں گا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الکتاب کے ایک حصہ سے باخبر ہونا ایسے حیرت انگیز امورکا باعث ہے، پس تمام علم الکتاب سے متصف ہونا کیسے عظیم اثرات کیرونما ہونے کا سبب ہوسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے ''جناب سدیر'' سے نقل ہونے والی روایت میں فرمایا ہے، سدیر کہتے ہیں کہ میں،، ابو بصیر، یحییٰ بزاز اور دائود بن کثیر جو امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرت بڑے غضب کے عالم میں وارد مجلس ہوئے فرمایا: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیںکہ ہمارے پاس علم غیب ہے، حالانکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب سے واقف نہیں ہے میں اپنی کنیز کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ فرار ہوگئی جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حجرہ میں مخفی ہے۔(٢)

……………………


(١) سورۂ نمل۔آیت ٤٠

(٢) اس حدیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ باتیں نامحرموں سے کہی ہیں، اور یہ نکتہ معلوم رہے کہ وہ علم غیب جو خدا سے مخصوص ہے اس سے مراد وہ علم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے سائل کے سوال کے ( کیا آپ علم غیب کے مالک ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ '' انما ہم تعلم من ذی علم '' وگرنہ ا نبیاء اور اولیاء الٰہی وحی اور الہٰام کے ذریعہ علوم غیبی سے واقف تھے، مادر حضرت موسیٰ کے لئے خدا کی جانب سے الہٰام انھیں مقامات میں سے ایک ہے کہ جس کے لئے شک نہیں کیا جاسکتا ۔


'' انا رادہ الیک و جاعلوہ من المرسلین'''' قصص ٧٠''.

سدیر کہتے ہیں: جب امام علیہ السلام اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی ابو بصیر اور میسر کے ساتھ آنحضرت کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں میں نے حضرت علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم آپ پر قربان جائیں آپ نے جو کچھ اپنی کنیز کے سلسلہ میں فرمایا، اسے ہم نے تسلیم کیا اور ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ آپ بے شمار علوم کے مالک ہیں نیز کبھی بھی آپ کے سلسلہ میں علم غیب کا دعوی نہیں کرتے۔

ا مام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سدیر! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں،، تو آپ نے فرمایا کہ کیا اِس آیت کی تلاوت نہیں کی ہے:

(قَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِن الکِتَابِ اَنَا آتِیکَ بِہِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اَلِیکَ طَرفُکَ)

وہ شخص ( آصف بن برخیا ) جس کے پاس کتاب خدا کا کچھ علم تھا بولا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا ۔

تو میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ شخص کتاب میںسے کس قدر علم کا مالک تھا؟ تو میں نے کہا کہ آپ ہی فرمائیں، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک عظیم سمندر سے صرف ایک قطرہ کے برابر، اس کے بعد فرمایا کہ کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے؟ (قل کفی باللہ شہیداً بین و بینکم ومَن عندہ علم الکتاب)

میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بتائو وہ شخص افضل ہے جو تمام کتاب کے علم سے واقف ہے یا وہ شخص جو صرف کتاب کا ایک حصہ جانتا ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا خدا کی قسم تمام کتاب کا علم ہما رے پاس ہے(١) اب اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے علوم کو بیان کرنے والی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

………………………………


(١)اصول کافی۔ ج١ ص٢٥٧(طبع دار الکتب الاسلامیہ).


امام رضا علیہ السلام، امامت کے سلسلہ میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں : جب خدا کسی کو لوگوں کے لئے منتخب کرتا ہے تو اسے سعہ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری اور اُسے علم کی دولت سے آراستہ کردیتاہے تا کہ وہ سوالات کے جوابات دے سکے ،اور حق کو پہچاننے میں سرگردان نہ ہو، چنانچہ ایسا شخص معصوم، خدا کی طرف سے تائید شدہ اور خطائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔

در اصل خدا، اِس لئے اس کو یہ خصلتیں عطا کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں پر حجت تمام کر سکے لھذایہ ایک عطیہ ہے جسے خدا پسند کرتا ہے ا ُسے عطاء کرتا ہے

ا سکے بعد فرمایا کیا عوام میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے شخص کو پہچان کر اسے منتخب کرلیں، اور جب وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا وہ شخص ایسی صفات کا مالک ہوتا ہے ؟! (١)

حسن بن یحییٰ مدائنی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب امام سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح جواب دیتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے میں فرمایا: کبھی اُس پر الہٰام ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ سے سنتا ہے اور کبھی دونوں ایک ساتھ (٢) واقع ہوتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''وہ امام جسے معلوم نہ ہو کہ اس پر کیسی مصیبت آنے والی ہے اور اس کا انجام کیاہوگا تو وہ بندوں پر خدا کی حجت نہیں ہوسکتا۔(٣)

ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی امام کسی چیز کے متعلق جانناچاہتا ہے تو خدا اُس سے باخبر کردیتا ہے۔(٤)

…………………………


(١)اصول کافی۔ ج١ ص ١٩٨ ٢٠٣.

(٢)بحار الانوار ۔ج٢٦ ص٥٨.

(٣)اصول کافی ۔ج١ ص١٥٨.

(٤)اصول کافی ۔ج١ص ٢٥٨.


اسی طرح آپ کی جانب سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میںآیا ہے کہ روح، جبرئیل و میکائیل سے عظیم تر مخلوق ہے جو رسول اللہ ۖ کے پا س تھی، اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کی طرف منتقل ہوگئی جن سے ان کی مدد ہوتی ہے۔(١)

………………………………


(١) اصول کافی ج١ص ٢٧٣.



حدیث ثقلین رسول اللہ کی ایک مشہور اور متواتر حدیث ہے جو فرماتے ہیں: "میں تمھارے درمیان میں اللہ کی کتاب (یعنی قرآن) اور عترت یا اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ قرآن اور اہل بیت قیام قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے"۔


یہ حدیث تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ ہے اور شیعہ اور سنی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔


شیعہ اس حدیث کے سہارے لزوم امامت اور ائمہ کی عصمت اور تمام زمانوں میں امامت کے دوام اور تسلسل کا ثبوت دیتے ہیں۔





مہدوی معارف پر ابتدائی کورس




مہدویت نامہ
 

دوسرا درس

دوسرا درس امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ایک نظر میں میں    (کورس ون)



مقاصد:
امام مہدی علیہ السلام کا اجمالی تعارف

فوائد:
۱۔ حضرت کے نام، کنیت اور القاب سے آشنائی
۲۔ ولادت کے حالات
۳۔ حضرت مہدی علیہ السلام کے اوصاف حسنہ سے آگاہی

تعلیمی مطالب:
۱۔ مقدمہ:
(الف) امام زمانہ علیہ السلام کی والد گرامی کی شخصیت اور ان کی تاریخی پہلو سے ایک نگاہ
(ب) امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ اور جگہ
(ج) امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کے حالات
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کے اسماءمبارکہ، القاب اور کنیتیں
۳۔ امام زمانہ علیہ السلام کے شمائل اور اوصاف حسنہ
٭جسمانی اوصاف
٭رُوحانی اوصاف
۴۔ امام مہدی علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے ادوار (مخفی، غیبت اور ظہور کا دور)

امام مہدی (علیہ السلام) کی حیات طیبہ پر ایک نظر
شیعوں کے آخری امام اور رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بارہویں جانشین کی ولادت باسعادت ۵۱ شعبان ۵۵۲ھ (مطابق ۸۶۸ عیسوی) بروز جمعہ صبح کے وقت عراق کے شہر ”سامرہ“ میں ہوئی۔
آپ کے والدماجد شیعوں کے گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ جناب ”نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا “تھیں جن کی قومیت کے بارے میں مختلف روایات ہیں: ایک روایت کے مطابق جناب نرجس علیہ السلام خاتون بادشاہ روم کے بیٹے یشوع کی دختر گرامی تھیں اور ان کی مادر گرامی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے وصی جناب ”شمعون“ کی نسل سے تھیں۔ ایک روایت کے مطابق جناب نرجس علیہ السلامخاتون ایک تعجب خیز خواب کے نتیجہ میں مسلمان ہوئیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی ہدایت کی وجہ سے مسلمانوں سے جنگ والے رومی لشکر میں قرار پائیں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ لشکر اسلام کے ذریعہ اسیر کر لی گئیں اور امام علی نقی علیہ السلام نے کسی کو بھیجا تاکہ ان کو خرید کر سامرہ لے آئیں۔(کمال الدین، ج ۲، باب ۱۴، ص ۲۳۱)
اس سلسلہ میں دوسری روایات بھی منقول ہیں (بحارالانوار، ج ۵، ح۹۲، ص ۲۲، ح ۴۱، ص۱۱) لیکن اہم اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت نرجس علیہ السلام خاتون ایک مدت تک حکیمہ خاتون (امام نقی علیہ السلام کی ہمشیرہ) کے گھر میں رہیں اور اُنہوں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ہدایت پر آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور جناب حکیمہ خاتون ان کا بہت زیادہ احترام کیا کرتی تھیں۔
جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا وہ بی بی ہیں جن کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) (بحارالانوار، ج۰۵، ح۷، ص۱۲)، حضرت امیر المومنین علیہ السلام (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، ح۸۷۴، ص۰۷۴) اور حضرت امام صادق علیہ السلام (کمال الدین، ج۲، باب۳۳، ح۱۳، ص۱۲) نے مدح و ستائش کی ہے اور ان کو کنیزوں میں بہترین کنیز اور کنیزوں کی سردار قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حضرت امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کی مادر گرامی دوسرے ناموں سے بھی پکاری جاتی تھیں جیسے: سوسن، ریحانہ، ملیکہ اور صیقل (صقیل)۔

نام مبارک، کنیت اور القاب
حضرت امام زمانہ (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا نام اور کنیت ( کنیت ایسے نام کو کہا جاتا ہے جو ”اب“ یا ”ام“ سے شروع ہوتے ہیں جیسے : ابوعبد اﷲ اور اُم البنین) پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا نام اور کنیت ہے، بعض روایات میں آپعلیہ السلام کے ظہور تک آپ کا نام لینے سے منع کیا گیا ہے۔
آپ کے مشہور القاب اس طرح ہیں: مہدی، قائم، منتظر، بقیة اﷲ، حجت، خلف صالح، منصور، صاحب الامر، صاحب الزماں اور ولی عصر ہے جن میں سے ”مہدی“ لقب سب سے زیادہ مشہور ہے۔
امام علیہ السلام کا ہر لقب آپ کے بارے میں ایک مخصوص پیغام رکھتا ہے:
خوبیوں کے امام کو ”مہدی“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایسے ہدایت یافتہ ہیں جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان کو ”قائم“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ حق کے لئے قیام کریں گے، اور آپ کو ”منتظر“ کہا گیا ہے کیونکہ سب ان کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، آپعلیہ السلام کو لقب ”بقیة اﷲ“ اس وجہ سے دیا گیا کیونکہ آپ خدا کی حجتوں سے باقی ماندہ حجت اور آپ ہی آخری ذخیرہ الٰہی ہیں۔ ”حجت“ کے معنی مخلوق پر خدا کے گواہ، اور ”خلف صالح“ کے معنی اولیاءخدا کے شائستہ جانشین کے ہیں، آپ کو ”منصور“ اس وجہ سے کہا گیا کہ خدا کی طرف سے آپ کی نصرت و مدد ہو گی، ”صاحب الامر“ اس وجہ سے ہیں کہ عدل الٰہی کی حکومت قائم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، ”صاحب الزمان اور ولی عصر“ بھی اس معنی میں ہیں کہ آپ اپنے زمانہ کے واحد حاکم ہوں گے۔

ولادت کی کیفیت
متعدد روایات میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ ”میری نسل سے ”مہدی“ نام کا شخص قیام کرے گا، جو ظلم و ستم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا“۔
بنی عباس کے ظالم و ستمگر بادشاہوں نے ان روایات کو سن کر یہ طے کر لیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کو ولادت کے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے، جس کی بنا پر امام محمد تقی علیہ السلام کے زمانہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام پر بہت زیاد سختیاں کی گئیں ور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ سختیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور اگر امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف پر کوئی بھی جاتا تھا تو حکومت وقت پر اس کی رفت و آمد مخفی نہیںتھی، ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں آخری حجت خدا کی پیدائش مخفی طریقہ پر ہونا چاہئے تھی، اسی دلیل کی بنا پر یہاں تک کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے نزدیکی افراد بھی امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے بے خبر تھے اور ولادت کے چند گھنٹے پہلے تک بھی آپ کی مادر گرامی جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا سے ایسے آثار نہ تھے کہ معلوم ہو سکے کہ آپ حمل سے ہیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹی جناب حکیمہ خاتون امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ میںیوں فرماتی ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: اے پھوپھی جان! آج ہمارے یہاں افطار فرمائیے گا! کیونکہ ۵۱ ویں ٍشعبان کی شب ہے اور خداوند عالم اس رات میں اپنی (آخری) حجت زمین پر ظاہر کرنے والا ہے، میں نے سوال کیا: ان کی والدہ کون ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: نرجس خاتون! میں نے کہا: میں آپ پر قربان! ان میں تو حمل کے کچھ بھی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: بات وہی ہے جو میں نے کی! اس کے بعد میں نرجس علیہ السلام خاتون کے پاس گئی اور سلام کرکے ان کے پاس بیٹھ گئی، وہ میرے پاس آئی تاکہ میرے جوتوں کو اُتاریں اور مجھ سے کہا: اے میری ملکہ! آپ کا مزاج کیسا ہے؟ میں نے کہا: نہیں آپ میری اور میرے خاندان کی ملکہ ہیں! اُنہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا: پھوپھی جان! آپ کیا فرماتی ہیں! میں نے کہا: آج کی رات خداوند عالم تم کو ایک بیٹا عنایت فرمائے گا جو دُنیا و آخرت کا سردار ہو گا، چنانچہ وہ یہ سُن کر شرما گئیں۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عشاءکی نماز کے بعد افطار کیا اور اس کے بعد اپنے بستر پر آرام کے لئے لیٹ گئی، آدھی رات کے وقت جب نماز (شب) کےلئے اٹھی اور نماز سے فارغ ہوئی، اس وقت تک نرجس علیہ السلام خاتون آرام سے سوئی ہوئی تھیں، جیسے اُنہیں کوئی مشکل درپیش نہ ہو، میں نماز کی تعقیبات کے بعد پھر لیٹ گئی، اچانک پریشان ہو کر اُٹھی تو نرجس علیہ السلام خاتون اسی طرح سوئی ہوئی تھیں، لیکن وہ کچھ دیر بعد نیند سے بیدار ہوئی اور نماز (شب) پڑھ کر دوبارہ سو گئیں۔
حکیمہ خاتون مزید فرماتی ہیں: میں صحن میں آئی تاکہ دیکھو کہ صبح صادق ہوئی یا نہیں ، میں نے دیکھا کہ فجر اوّل (صبح کاذب) نمودار ہے، اس وقت تک بھی نرجس خاتون سوئی ہوئی تھیں، مجھے شک ہونے لگا! اچانک امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے بستر سے آواز دی: اے پھوپھی جان! جلدی نہ کریں! ولادت کا مسئلہ نزدیک ہے، میں نے سورہ ”سجدہ“ اور سورہ ”یٰسین“ کی تلاوت کرنا شروع کر دی، اس موقع پر جناب نرجس پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئیں، میں جلدی سے ان کے پاس گئی اور کہا : ”اسم اللّٰہ علیک“ (آپ سے بلا دور ہو) کا آپ کو کسی چیز کا احساس ہو رہا ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں پھوپھی جان! میں نے کہا: اپنے اوپر ضبط (اور کنٹرول) رکھیں اور اپنے دل کو مضبوط کر لیں، یہ وہی ہے جس کے بارے میں پہلی کہہ چکی ہوں، اس موقع پر مجھ پر اور نرجس علیہ السلام خاتون پر ضعف طاری ہوا، اس کے بعد میرا سید و سردار (نومولود طفل مبارک) کی آواز بلند ہوئی، میں متوجہ ہوئی اور ان کے اوپر سے چادر ہٹائی چنانچہ انہیں سجدہ کی حالت میں دیکھا، میں نے بڑھ کر انہیں آغوش میں لیا اور انہیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ پایا۔ اس موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے پھوپھی جان! میرے فرزند کو میرے پاس لے آئیے! چنانچہ میں ان کو آپعلیہ السلام کے پاس لے گئی ....اُنہوں نے اپنی آغوش میں لے کر فرمایا: اے میرے فرزند کچھ کہیئے! چنانچہ وہ نوزائیدہ طفیل مبارک یوں محوِ گفتگو ہوا: ”اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ“ اس کے بعد امیر المومنین اور دیگر ائمہ علیہم السلام پر دَرُود و سلام بھیجا، یہاں تک کہ اپنے پدر بزرگوار کا نام لیتے ہیں رک گئے، امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: پھوپھی جان! ان کو ان کی ماں کے پاس لے جائیے، تاکہ ان کو سلام کریں............
حکیمہ خاتون کہتے ہیں: دوسرے روز جب میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے یہاں گئی تو میں نے امام علیہ السلام کو سلام کیا، میں نے پردہ اُٹھایا تاکہ اپنے مولا و آقا (امام مہدی علیہ السلام) کو دیکھوں لیکن وہ دکھائی نہ دئے، لہٰذا میں نے ان کے پدر بزرگوار سے سوال کیا: میں آپ پر قربان! کیا میرے مولا و آقا کے لئے کوئی اتفاق پیش آگیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے پھوپھی جان! میں نے ان کو(خدا) کے سپُرد کر دیا ہے جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو سپرد کر دیا تھا۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: جب ساتواں دن آیا تو میں پھر امام علیہ السلام کے یہاں گئی اور سلام کرکے بیٹھ گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے فرزند کو میرے پاس لائیے، میں اپنے مولا و آقا کو ان کے پاس لے گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! کچھ کلام کیجئے! طفل مبارک نے لب مبارک کھولے اور خداوند عالم کی وحدانیت کی گواہی اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اپنے آباءو اجداد پر دَرُود و سلام بھیجنے کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی:
﴾بِسمِ اللّٰہِ الرَّح مٰنِ الرَّحِی مِ وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذِی نَ است ضعِفُوا فِی الاَر ضِ وَ نَج عََلَہُم آئِمَّةً وَ نَج عَلَہُمُ الوَارِثِی نَ۔ وَ ن مَکَّنَ لَہُم فِی ال اَر ضِ وَ نُرِی فِرعَونَ وَ ہَامَانَ وَ جُن و دَہُمَا مِن ہُم مَا کَانُو ا یَح ذَرُو نَ﴿( سورہ قصص آیات ۵،۶)
”شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے جو بڑا رحمان و رحیم ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کے وارث قرار دیدیں، اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں کے ہاتھوں وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں“۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کےشمائل اورآپ کی صفات حمیدہ
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے شمائل مبارکہ اور اوصاف مجیدہ بیان کئے گئے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:آپ کا چہرہ جوان اور گندمی رنگت کا، بلند اور روشن پیشانی، آپ کی بھنویں گول اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، ناک لمبی اور خوبصورت، چوڑے اور چمکدار دانت، اور آپ کے داہنے رخسار پر سیاہی مائل ایک تِل کا نشان ہو گا اور آپ کے شانہ پر نبوت جیسی ایک نشانی ہے، اور آپ کا جسم مضبوط اور دلبربا ہے۔
آپ کے بعض اوصاف حمیدہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں بیان ہوئے ہیں جن میں سے کچھ اس طرح ہیں:
”(حضرت مہدی علیہ السلام) بہت عبادت کرنے والے اور (عبادت میں) شب بیداری کرنے والے، زاہد اور سادہ زندگی بسرکرنے والے، صاحب صبر و بردباری، صاحب عدالت اور نیک کردار ہیں۔ آپعلیہ السلام تمام لوگوں میں علم کا لحاظ سے ممتاز اور آپعلیہ السلام کا وجود مبارک برکت اور پاکیزگی کا جاری چشمہ ہے۔ آپعلیہ السلام اہل قیام و جہاد ہوں گے، عالمی رہبر، عظیم انقلابی، آخری نجات دینے والے اور بشریت کے لئے مصلح موعود ہوں گے، آپعلیہ السلام کا وجود رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی نسل سے اور جناب فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی اولاد سے اور امام حسین علیہ السلام کی نسل سے نویں فرزند ہوں گے جو ظہور کے وقت خانہ کعبہ کا سہارا لیں گے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پرچم ہاتھ میں لئے ہوں گے اور اپنے قیام سے دین خدا کو زندہ کریں گے اور احکام الٰہی کو پوری دُنیا میں نافذ کر دیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف اور محبت سے بھر دین کے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہو گی“۔(منتخب الاثر، فصل دوم، صفحہ ۹۳۲ تا ۳۸۳)
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی زندگی تین حصوں پر مشتمل ہے:
۱۔ مخفی زمانہ: ولادت کے وقت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک آپ کی مخفیانہ زندگی۔
۲۔ زمانہ غیبت: امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت سے غیبت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ور جب تک خداوند عالم چاہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
۳۔ زمانہ ظہور: زمانہ غیبت کے مکمل ہونے کے بعد امام زمانہ (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) حکم خدا سے ظہور فرمائیں گے اور دُنیا کو عدل و انصاف اور نیکیوں سے بھر دیں گے۔ آپعلیہ السلام کے ظہور کے وقت کو کوئی بھی نہیں جانتا، اور امام زمانہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو لوگ ہمارے ظہور کے لئے کوئی خاص زمانہ معین کریں گے وہ جھوٹے ہیں۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۴۴۳، ص ۲۴۵)
ة....ة....ة....ة....ة

درس کا خلاصہ
امام زمانہ علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ، ان کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت ”نرجس“ سلام اﷲ علیہا ہے، آپ کی سال ۵۵۲ ہجری ۵۱ شعبان جمعہ کی صبح کو سامرہ میں ولادت با سعادت انجام پائی۔
حضرت کا نام اور کنیت پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی مانند اور آپ کا مشہور لقب مہدی علیہ السلام ہے۔
الٰہی حکمت کی بنا پر امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کا حمل اور ولادت دوسروں سے مخفی رکھی گئی اور آثار حمل ظاہر نہ ہوئے۔
امام علیہ السلام کے ظاہری شمائل مبارکہ اور جسمانی اوصاف و خصوصیات روایات میں مذکور ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کی حیات مبارکہ تین ادوار پر مشتمل ہے، پانچ سالہ ابتدائی مخفیانہ زندگی جو حضرت امام حسن علیہ السلام کا آخری دور ہے ، ستر سالہ غیبت صغریٰ کا دور، اور غیبت کبریٰ کا طولانی دور۔

درس کے سوالات
۱۔امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی والدہ گرامی کا نام، نسب اور شخصیت کے حوالے سے بیان کریں؟
۲۔ امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے مشہور القاب میں سے آٹھ موارد کو ذکر کریں؟
۳۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے مخفی ہونے کی وجہ کو تفصیل سے بیان کریں؟
۴۔ جناب حکیمہ خاتون کی زبان سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے مبارک واقعہ کو اختصار سے بیان کریں؟
۵۔ امام زمانہ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے ادوار کو تاریخی مراحل کی رُو سے وضاحت کریں؟
ة....ة....ة....ة....ة  


**جوابات:**

**سوال 1:** امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی والدہ گرامی کا نام، نسب اور شخصیت کے حوالے سے بیان کریں؟
**جواب:** امام زمانہ علیہ السلام کی والدہ گرامی کا نام نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، وہ بادشاہ روم کے بیٹے یشوع کی دختر تھیں اور ان کی مادر گرامی جناب شمعون کی نسل سے تھیں۔ جناب نرجس خاتون کو ایک خواب کے ذریعے ہدایت ملی، جس کے بعد وہ مسلمان ہوئیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام سے شادی کی۔ انہیں ائمہ علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (ص) نے بہت مدح کی ہے اور کنیزوں میں سردار قرار دیا گیا ہے۔

**سوال 2:** امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے مشہور القاب میں سے آٹھ  کو ذکر کریں؟
**جواب:** امام زمانہ علیہ السلام کے القاب میں مہدی، قائم، منتظر، بقیة اﷲ، حجت، خلف صالح، منصور، صاحب الامر شامل ہیں۔ یہ القاب ان کی مختلف خصوصیات اور روحانی مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔

**سوال 3:** امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے مخفی ہونے کی وجہ کو بیان کریں؟
**جواب:** امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو اس لئے مخفی رکھا گیا تھا کیونکہ بنی عباس کے حکمرانوں نے فیصلہ کیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کو ولادت کے وقت قتل کر دیا جائے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں ائمہ پر سختی بڑھ گئی تھی اور ولادت مخفیانہ طریقہ سے انجام پائی تھی۔

**سوال 4:** جناب حکیمہ خاتون کی زبان سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے مبارک واقعہ کو اختصار سے بیان کریں؟
**جواب:** جناب حکیمہ خاتون نے بیان کیا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے انہیں افطار کے لیے بلایا کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اسی رات متوقع تھی۔ نرجس خاتون نے بغیر کسی ظاہری آثار کے امام مہدی علیہ السلام کو جنم دیا، جو ایک معجزہ تھا۔ ولادت کے بعد نومولود نے کلمہ شہادت ادا کیا اور ائمہ علیہم السلام پر درود بھیجا۔

**سوال 5:** امام زمانہ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے ادوار کو تاریخی مراحل کی رُو سے وضاحت کریں؟
**جواب:** امام مہدی علیہ السلام کی زندگی تین اہم ادوار میں تقسیم ہوتی ہے: 
۱. مخفی زمانہ - امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک امام کی مخفیانہ زندگی۔ 
۲. زمانہ غیبت - عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد غیبت صغریٰ شروع ہوئی، جو 260 ہجری سے 329 ہجری تک رہی، اس دوران امام کے خاص نائبین تھے جو امام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ اس کے بعد غیبت کبریٰ شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے، جس میں امام زمانہ علیہ السلام براہ راست کسی کے ساتھ رابطہ نہیں کرتے۔ 
۳. زمانہ ظہور - امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور خدا کے حکم سے ہوگا، جب دنیا ظلم سے بھر جائے گی اور عدل و انصاف کی شدید ضرورت ہوگی۔ امام زمانہ علیہ السلام دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور ان کے ظہور کے وقت کی کوئی خاص تاریخ نہیں دی گئی ہے، اور وہ جب بھی ظہور فرمائیں گے، اسے خدا کی حکمت کے مطابق سمجھا جائے گا۔

یہ تینوں ادوار امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اہم مراحل ہیں، جن میں سے ہر ایک دور کی اپنی خصوصیات اور اہمیت ہے۔

 

 


مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

مہدویت نامہ
 

تیسرا درس
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک

مقاصد:
۱۔ اپنے فرزند ارجمند کے تعارف کے لئے امام عسکری علیہ السلام کی کوششوں پر توجہ
۲۔ سب سے آخری حجت خدا سے شیعوں کو آگاہ کرنے کے ذرائع سے آگاہی

فوائد:
۱۔ حضرت علیہ السلام کی ولادت کا ثابت ہونا
۲۔ بارہویں امام علیہ السلام کا تعین
۳۔ امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ طفولیت اور مخفی دور سے آگہی

تعلیمی مطالب:
۱۔ امام علیہ السلام کا تعارف شیعوں کے لئے
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے معجزات اور کرامات
۳۔ شیعوں کے کی جانب سے بھیجے جانے والے سوالات کے جواب
۴۔ لوگوں کے تحائف اور شرعی وجوہات کی وصولی
۵۔ اپنے والد گرامی کا نماز جنازہ پڑھان

ولادت باسعادت سے امام عسکری علیہ السلام کی شہادت تک
حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حیات طیبہ کا یہ زمانہ بہت سے اہم نکات پر مشتمل ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

شیعوں کے سامنے امام مہدی (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا تعارف
چونکہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت مخفی طور پر ہوئی ہے اسی وجہ سے یہ خوف لاحق تھا کہ شیعہ آخری امام کی پہچان میں غلط فہمی یا گمراہی کا شکارنہ ہو جائیں، حضرت امام عسکری علیہ السلام کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ اپنے بزرگ اور قابل اعتماد شیعہ افراد کے سامنے اپنے فرزند گرامی کی شناخت کرائیں تاکہ وہ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ولادت کی خبر اہل بیت علیہم السلام کے دوسرے شیعوں تک پہنچا دیں اور اس صورت میں آپ کی شناخت اور پہچان بھی ہو جائے گی اور آپ کو کوئی خطرہ بھی پیش نہ آئے گا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے خالص شیعہ، ”جناب احمد بن اسحاق“ کہتے ہیں:
”میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا، اور آپ سے سوال کرنا چاہتا تھا کہ آپ کے بعد امام کون ہو گا؟ لیکن میرے کہنے سے پہلے امام علیہ السلام نے فرمایا: اے احمد! بے شک خداوند متعال نے جس وقت سے جناب آدم علیہ السلام کی خلقت کی اسی وقت سے زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں چھوڑا ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا!اللہ تعالیٰ حجت کے ذریعہ اہل زمین سے بلاﺅں کو دُور کرتا ہے (اس کے وجود کی برکت سے) بارانِ رحمت نازل فرماتا ہے۔
میں نے عرض کی: یابن رسول اﷲ! آپعلیہ السلام کے بعد امام اور آپعلیہ السلام کا جانشین کون ہے؟
امام علیہ السلام فوراً بیت الشرف کے اندر تشریف لے گئے اور ایک تین سالہ طفل مبارک کو آغوش میں لے کر آئے جس کی صورت چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہی تھی، اور فرمایا: اے احمد بن اسحاق! اگر تم خداوند عالم اور اس کی حجتوں کے نزدیک باعظمت اور گرامی نہ ہوتے تو اپنے اس فرزند کو تمہیں نہ دکھاتا۔ بے شک ان کا نام اور کنیت، رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا نام اور کنیت ہے اور یہ وہی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے وہ بھر دیں گے جس طرح سے پہلے ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔
میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! کیا کوئی ایسی نشانی ہے جس سے میرے دل کو سکون ہو جائے؟!
(اس موقع پر) اس طفل مبارک نے لب کشائی کی اور فصیح عربی میں یوں کلام فرمایا:
﴾اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی ار ضِہِ وَال مُنتَقِم مِن اعدَائِہِ....﴿
”میں زمین پر بقیة اﷲ ہوں اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں“۔ اے احمد بن اسحاق! تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اب کسی نشانی کی ضرورت نہیں!!
احمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں (یہ کلام سننے کے بعد) خوش و خرم امام علیہ السلام کے مکان سے باہر آگیا ........ ( کمال الدین، ج۲، باب ۸۳، ح۱، ص ۰۸)
اسی طرح محمد بن عثمان ( محمد بن عثمان امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغریٰ کے دورے نائب خاص تھے، غیبت کی بحث میں ان کی زندگی کے حالات بیان کئے جائیں گے) چنداور بزرگ شیعہ نقل کرتے ہیں:ہم چالیس افراد جمع ہو کر امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، چنانچہ امام علیہ السلام نے اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرے جانشین اور تمہارے امام ہوں گے، تم لوگ ان کی اطاعت کرنا، اور میرے بعد اپنے دین میں تفرقہ نہ ڈالنا ورنہ ہلاک ہو جاﺅ گے اور (جان لو کہ) آج کے بعد ان کو نہیں دیکھ پاﺅ گے ........“(مال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح۲، ص۲۶۱)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومولود بچہ کے لئے عقیقہ دینی حکم اور سنت ہے جس کی تاکید بھی کی گئی ہے کہ بھیڑ وغیرہ ذبح کرے اور بعض مومنین کو کھانا کھلائے جس کی برکت سے بچہ کی عمر طولانی ہوتی ہے۔ امام حسن عسکری نے اپنے فرزند (امام مہدی عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے لئے عقیقہ کیا ( کمال الدین، ج۲، باب۲۴)
تاکہ اس بہترین سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے بہت سے شیعوں کو بارہویں امام کی ولادت سے مطلع کریں۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے بیٹے کی ولادت پر تین سو سے زائد مختلف جگہوں پر اپنے خالص شیعوں کو بھجوائے یا انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ایسا کریں خود سامرہ میں آپ نے تین ہزار روٹی اور اتنے رطل گوشت فقراءاور مساکین میں تقسیم کیا۔
محمد بن ابراہیم کہتے ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے ذبح کی ہوئی بھیڑ اپنے ایک شیعہ کو بھیجی اور فرمایا: ”یہ میرے بیٹے ”محمد علیہ السلام“ کے عقیقہ کا گوشت ہے“ ( کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح۲، صفحہ ۸۵۱)

معجزات اور کرامات
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی زندگی کا ایک حصہ بچپن کا زمانہ ہے جس میں آپعلیہ السلام کے ذریعہ بہت سے معجزات اور کرامات رونما ہوئے ہیں، جبکہ اس آخری حجت خدا کی زندگی کے اس حصے سے ہم غافل ہیں، ہم صرف ان میں سے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ابراہیم بن احمد نیشا پوری کہتے ہیں:
جس وقت عمرو بن عوف نے (جو ایک ظالم اور ستمگر حاکم تھا اور اس نے بہت سے شیعوں کو قتل کیا غارت گری کی) اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا، میں بہت زیادہ خوفزدہ تھا، میرا پورا وجود خوف سے لرزہ رہا تھا، میں نے اپنے دوستوں اور کنبہ والوں سے خدا حافظی کی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف کی طرف روانہ ہوا تاکہ آپ سے بھی خدا حافظی کر لوں، ارادہ یہ تھا کہ امام علیہ السلام سے ملاقات کے بعد کہیں بھاگ نکلوںگا، چنانچہ جب امام علیہ السلام کے مکان پر پہنچا تو امام حسن عسکری علیہ السلام کے پا س ایک طفل مبارک کو دیکھا کہ جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا، میں ان کا نور دیکھ کر حیران رہ گیا، اور قریب تھا کہ اپنے ارادہ (قتل کا خوف اور بھاگنے کا ارادہ) کو بھول جاﺅں۔
(اس موقع پر اس طفل مبارک نے) مجھ سے کہا: ”بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے! بہت جلد ہی خداوند عالم تمہیں اس شر سے محفوظ کر دے گا“۔
میری حیرانی میں مزید اضافہ ہوا، میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے کہا: میں آپ پر قربان! یہ طفل مبارک کون ہے جو میرے ارادوں سے باخبر ہے؟ امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: یہ میرا فرزند اور میرے بعد جانشین ہے یعنی آپکا بارہواں امام ہے۔
ابراہیم کہتے ہیں: میں باہر نکلا، جبکہ میں خدا کے لطف و کرم کا اُمیدوار تھا، اور جو کچھ بارہویں امام سے سنا تھااس پر یقین رکھتا تھا، چنانچہ چند روز کے بعد میرے چچا نے عمرو بن عوف کے قتل ہونے کی خوشخبری دی۔ ( اثبات الھداة، ج۳، ص۰۰۷)

سوالوں کے جوابات
آسمان امامت کے آخری روشن ستارے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ وجہ الشریف) اپنی حیات طیبہ کے آغاز سے مختلف مقامات میں شیعوں کے مختلف سوالات کا مستحکم اور قانع کنندہ جواب دیتے تھے، جن سے شیعوں کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، چنانچہ ہم یہاں پر ایک روایت نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں:
سعد بن عبد اﷲ قمی (جو شیعوں میں ایک عظیم شخصیت تھے) احمد بن اسحاق قمی (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کے ہمراہ کچھ سوالات لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے، موصوف اس ملاقات کو یوں نقل کرتے ہیں: جب میں نے سوال کرنا چاہا تو امام عسکری علیہ ا لسلام نے اپنے فرزند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے نور چشم سے سوال کرو! اس موقع پر طفل مبارک نے میری طرف رُخ کرکے فرمایا: جو کچھ بھی سوال کرنا چاہو کر لو! .... میں نے سوال کیا: (قرآن کے حروف مقطعات میں سے) ”کھیعص“ کا مقصد کیا ہے؟ فرمایا: یہ حروف غیب کے مسائل میں سے ہیں۔ خداوند عالم نے اپنے بندہ (اور پیغمبر) زکریعلیہ السلام کو ان سے مطلع کیا، اور پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے دوبارہ سنایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے خداوند عالم سے درخواست کی کہ مجھے پنجتن (آل عبا) کے اسمائے گرامی تعلیم کر دے، تو خداوند عالم نے جناب جبرئیل کو نازل کیا اور ان کو پنجتن کے نام تعلیم دیئے، تو جیسے ہی جناب زکریا نے (ان مقدس اسمائ) محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اﷲ علیہا، اور حسن علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کی مشکلات دور ہوگئیں اور جب امام حسین علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کاسینہ بھر آیا اور وہ مبہوت ہو کر رہ گئے، ایک روز اُنہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: بارِ الٰہا! جس وقت میں ان چار حضرات کا نام لیتا ہوں تو میری پریشانیاں اور مشکلات دُور ہو جاتی ہیں دل کو سکون ملتا ہے لیکن جب میں حسین علیہ السلام کا نام لیتا ہوں تو میرے آنسو جاری ہو جاتے ہین اور میرے رونے کی آواز بلند ہو جاتی ہے، پالنے والے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو خداوند عالم نے ان کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہ سنایا اور فرمایا: ”کھیعص“ (اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے) میں ”کاف“ سے مراد واقعہ کربلا، اور ”ہا“ سے ان کے خاندان کی (شہادت و) موت مراد ہے، اور ”یا“ سے ”یزید“ کے نام کی طرف اشارہ ہے جو امام حسین علیہ السلام پر ظلم و ستم کرنے والا ہے اور ”ع“ سے امام حسین علیہ السلام کی عطش اور پیاس مراد ہے ”اور ”صاد“ سے حضرت امام حسین علیہ السلام کا صبر و استقامت مراد ہے........
میں نے سوال کیا: اے میرا مولا و آقا! لوگوں کو اپنے لئے امام معین کرنے سے کیوں روکا گیا ہے؟امام علیہ السلام نے فرمایا: امام معین کرنے سے تمہاری مراد ”امام مصلح“ ہے یا امام مفسدہے؟ میں نے کہا: امام مصلح (جو معاشرہ کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے)، امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ کوئی بھی کسی دوسرے کے باطن سے مطلع نہیں ہے کہ وہ خیر و صلاح کے بارے میں سوچتا ہے یا فساد و برائی کے بارے میں، اس صورت میں کیا یہ احتمال نہیں پایا جاتا کہ لوگوں کا انتخاب کیا ہو امام، مفسد (فتنہ و فساد پھیلانے والا) ہونکلے؟ میں نے کہا: اس بات کا احتمال تو پایا جاتا ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: بس یہی وجہ ہے کہ امام مصلح کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہے۔ (کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ص ۰۹۱)( اس کلام کی وضاحت کتاب کی پہلی فصل میں ”امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے“ کے عنوان کے تحت بیان ہو چکی ہے)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس روایت کے آخر میں امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) نے دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں اور دوسرے سوالات کے جواب بھی عنایت فرمائے ہیں، ہم نے اختصار کی وجہ سے مکمل روایت بیان نہیں کی ہے۔

ہدیے اور تحفے قبول کرنا
شیعہ حضرات امام معصوم علیہ السلام کے لئے تحفے اور مالی واجبات (زکوٰة و خمس) لے جایا کرتے تھے اور امام معصوم بھی ان کو قبول فرما کر غریب اور محتاج لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ احمدابن اسحاق (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کہتے ہیں:
شیعوں کی بھیجی ہوئی کچھ رقم امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی، اس موقع پر امام علیہ السلام کا ایک چھوٹا فرزند جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا امام کے پاس موجود تھا، امام حسن عسکری علیہ السلام نے ان کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اے میرے لخت جگر! اپنے شیعوں اور دوستوں کے تحفوں کو کھولو! تو اس طفل مبارک نے کہا: اے میرے مولا و آقا! کیا یہ بات مناسب ہے کہ ان ناپاک اور پست تحفوں کی طرف (اپنے) پاک و پاکیزہ ہاتھوں کو لگاﺅں جو حلال و حرام سے ملے ہوئے ہیں؟! امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے ابن اسحاق! ان سب کو باہر نکالو تاکہ ان میں سے حلال و حرام کو جدا کیا جائے۔ چنانچہ میں نے ایک تھیلی نکالی، اس طفل مبارک نے کہا: یہ تھیلی قم سے فلاں محلہ اور فلاں شخص کی ہے (اس کا نام اور اس کے محلہ کا نام لیا) جس میں ۲۶ اشرفی تھیں جس میں ۵۴ اشرفی ایک بنجر زمین فروخت کرکے حاصل کی گئی ہے جس کے مالک کو وہ زمین ارث میں ملی تھی اورا س میں ۴۱ دینار ۹ عدد لباس کو فروخت کرکے حاصل کئے گئے ہیں اور ۳ دینا ردکان کے کرایہ کے ہیں۔
امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے فرزند عزیز! آپ نے صحیح فرمایا، اب اس مرد کی راہنمائی کرو کہ (اس مال میں) کونسا مال حرام ہے؟ چنانچہ طفل مبارک نے بھرپور دقت کے ساتھ حرام سکّوں کو معین کیا اور ان کے حرام ہونے کی وجہ واضح طور پر بیان فرمائی! میں نے دوسری تھیلی نکالی، اس طفل مبارک نے اس کے مالک کا نام اور پتہ بتانے کے بعد فرمایا: اس تھیلی میں ۰۵ اشرفی ہیں جس کوہاتھ لگانا ہمارے لئے جائز نہیں ہے اور اس کے بعد اس تمام مال میں سے ہر ایک کے حرام ہونے کی وجہ بیان کی۔ اس موقع پر امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! آپ نے صحیح فرمایا، اور پھر امام علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اب سب کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو، اور ان سے کہنا کہ ان کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو، ہمیں اس مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے........
( کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح ۱۲، ص ۰۹۱)

پدر بزرگوار کی نماز جنازہ
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے اور مخفی رہنے کے زمانہ کا آخری حصہ اپنے پدربزرگوار کی نماز جنازہ پڑھانا ہے۔
اس سلسلہ میں ابو الاَدیان (امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم) کا کہنا ہے:
”حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی عمر بابرکت کے آخری دنوں میں مجھے کچھ خطوط دیئے اور فرمایا: ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو، تم ۵۱/دن کے بعد سامرہ واپس پلٹو گے، اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے اور (میرے بدن کو) غسل کے تخت پر دیکھو گے، میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! جب یہ اتفاق پیش آئے گا تو آپ کے بعد آپ کا جانشین اور امام کون ہو گا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی تم سے خطوط کے جواب طلب کرے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: اس کی کوئی دوسری نشانی بیان فرمائیں!۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی میری نماز جنازہ پڑھائے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: کچھ اور نشانی بیان فرمائیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص یہ بتا دے کہ اس تھیلی میں کیا ہے؟ (لیکن) امام علیہ السلام کی ہیبت ایسی طاری تھی کہ میں یہ سوال نہ کر سکا کہ اس تھیلی میں کیا ہے۔
میں ان خطوط کو لے کر مدائن گیا اور ان کا جواب لے کر واپس آیا اور جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا ۵۱ دن بعدمیں سامرہ پہنچا، دیکھا کہ امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف سے نالہ و شیون اور گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہیں، اور امام عسکری علیہ السلام (کے بدن مبارک) کو غسل کی جگہ پر پایا اور دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھائی جعفر دروازہ پر کھڑے ہیں اور بعض شیعہ اس کو بھائی کے انتقال پر تسلیت اور اس کی امامت پر مبارک کہہ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اگر یہ (جعفر) امام ہو گئے تو امامت کا سلسلہ تباہ و برباد ہو جائے گا، کیونکہ میں اس کو پہچانتا تھا وہ شرابی اور جواری انسان تھا، (لیکن چونکہ میں نشانیوں کی تلاش میں تھا) میں بھی آگے بڑھا اور دوسروں کی طرح تسلیت اور مبارک عرض کی، لیکن اس نے مجھ سے کسی بھی چیز (منجملہ خطوں کے جوابات) کے بارے میںسوال نہ کیا، اس موقع پر ”عقید“ (امام کے گھر کا خادم) باہر آیا اور اس نے (جعفر کو خطاب) کرتے ہوئے کہا: اے میرے مولا و آقا! آپ کے برادر گرامی (امام عسکری علیہ السلام) کو کفن دیا جا چکا ہے، چلئے نماز جنازہ پڑھا دیجئے۔ میں بھی جعفر اور دوسرے شیعوں کے ساتھ میں امام کے بیت الشرف میں وارد ہوا، میں نے دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کو کفن دے کر تابوت میں رکھا جا چکا ہے، جعفر آگے بڑھے تاکہ اپنے بھائی کے جنازہ پر نماز پڑھائیں، لیکن جیسے ہی تکبیر کہنا چاہتے تھے ایک گندم گوں رنگ، گھنگریالے بال اور چمکدار اور باہم پیوستہ دانت والا ایک طفل مبارک آگے بڑھا اور جعفر کا دامن پکڑ کر فرمایا: اے چچا! آپ پیچھے ہٹیں، میں اپنے باپ کے جنازہ پر نماز پڑھنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ چنانچہ جعفر جن کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے اور وہ طفل مبارک آگے بڑھے اور اُنہوں نے امام علیہ السلام کے جنازہ پر نماز پڑھی۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: تمہارے پاس جو خطوط کے جوابات ہیں وہ ہمیں دے دو! میں نے وہ خطوط ان کو دیئے اور اپنے دل میں کہا: یہ (اس طفل مبارک کی امامت پر) دو نشانیاں مل گئی ہیں او ر صرف تھیلی والا واقعہ باقی رہ گیا ہے، میں جعفر کے پاس گیا اور دیکھا کہ وہ آہیں بھر رہے ہیں۔ کسی ایک شیعہ نے ان سے سوال کیا: یہ طفل مبارک کون ہے؟ جعفر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اس کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اس کوپہچانتا ہوں۔ ابوالادیان مزید کہتے ہیں: ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ اہل قم آئے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں سوال کرنے لگے اور جب ان کو معلوم ہوا کہ امام عسکری علیہ السلام کی شہادت ہو چکی ہے تو کہنے لگے کہ ہم کس کو تسلیت دیں؟ تو لوگوں نے جعفر کی طرف اشارہ کیا۔ اُنہوں نے جعفر کو سلام کیا اور تسلیت و مبارک پیش کی، اور پھر اُنہوں نے جعفر کو خطاب کرکے کہا: ہمارے پاس کچھ خطوط اور کچھ رقم ہے، آپ صرف یہ بتا دیجئے کہ خطوط کس کے ہیں اور رقم کتنی ہے؟ جعفر ناراض ہو کر اپنی جگہ سے اُٹھے اور کہا: کیا ہم علم غیب جانتے ہیں؟ اس موقع پر امام مہدی علیہ السلام کا خادم باہر نکلا اور اس نے کہا: یہ خطوط فلاں فلاں شخص کے ہیں (اور ان کے نام و پتے بیان کئے) اور تمہارے پاس ایک تھیلی ہے جس میں ہزار دینار ہیں جس میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے وہ خطوط اور وہ رقم اس کو دی اور کہا: جس نے تمہیں یہ چیزیں لینے کے لیے بھیجا ہے وہی امام ہے....“ ( کمال الدین، ج ۲، ح ۵۲، ص ۳۲۲)
ة....ة....ة....ة....ة

درس کا خلاصہ
امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کی ولادت کے مخفی ہونے کے پیش نظر اپنے مورد اعتماد افراد اور شیعہ بزرگان کے ایک گروہ کو ان کی زیارت سے بہرہ مند کیا تاکہ لوگ اپنے آخری امام کی معرفت میں حیرت و گمراہی کا شکار نہ ہوں۔امام مہدی علیہ السلام نے زمانہ طفولیت میں ہی سعد بن عبد اﷲ کے کلامی اور عقائدی سوالوں کا جواب دیا۔حضرت نے اپنے والد گرامی کے فرمان پر احمد بن اسحاق کے ذریعے شیعوں کے بھیجے گئے تحائف وصول کئے اور ان کے بھیجنے والوں کے بارے میں بتایا، ان سے حلال اور حرام کو جدا کیا اور حرام مال کو ان کے بھیجنے والوں کی طرف پلٹا دیا۔امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام مہدی علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کی نماز جنازہ پڑھی۔

سوالات
۱۔ امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت کروائی؟
۲۔ امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ ”انا بقیة اﷲ فی ارضہ“ کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرا ¿ت کی؟
۳۔ سعد بن عبد اﷲ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟
۴۔ احمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟
۵۔ امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟
 
 
**جوابات:**

۱۔ **امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت کروائی؟**
   - امام عسکری علیہ السلام نے بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت اس لیے کروائی تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی شناخت کو یقینی بنایا جا سکے اور شیعہ امت میں کسی قسم کی حیرت یا گمراہی نہ ہو۔ اس عمل سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اور امامت کی حقانیت کو تقویت ملتی ہے اور شیعہ امت کے افراد کو ان کے امام کی پہچان میں آسانی ہوتی ہے۔

۲۔ **امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ "انا بقیة اﷲ فی ارضہ" کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرات کی؟**
   - امام مہدی علیہ السلام نے یہ آیت شریفہ احمد بن اسحاق کو مخاطب کرتے ہوئے قرات کی، جب انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کے بعد امام کون ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں امام مہدی علیہ السلام کا یہ قول ان کی امامت اور خصوصی مقام کی تصدیق کرتا ہے۔

۳۔ **سعد بن عبد اللہ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟**
   - امام مہدی علیہ السلام نے بیان کیا کہ امام کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ انسان کسی دوسرے انسان کے باطن سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہو سکتے۔ اس بنا پر اگر لوگ خود امام کا انتخاب کریں تو امکان ہے کہ وہ کسی فاسد یا غیر مناسب شخص کو امام منتخب کر لیں۔

۴۔ **احمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟**
   - احمد بن اسحاق نے شیعوں کی طرف سے اموال اور تحائف امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیے۔ امام مہدی علیہ السلام نے ان اموال کو دیکھا اور حلال اور حرام کو جدا کیا، اور پھر حرام مال کو واپس بھیج دیا، جس سے امام کی عدل و انصاف کی خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں۔

۵۔ **امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟**

- **پہلی نشانی:** امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ابو الادیان سے خطوط کے جوابات طلب کرے، وہی ان کے بعد امام ہو گا۔ یہ نشانی امامت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ امام ہی وہ شخص ہوتا ہے جو امت کی رہنمائی کے لئے مقرر کیا گیا ہو اور جو امت کے معاملات سے باخبر ہو۔

- **دوسری نشانی:** امام علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ان کی نماز جنازہ پڑھائے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امامت کی میراثی منتقلی کی تصدیق کرتی ہے، کیونکہ نماز جنازہ پڑھانا ایک اہم دینی فریضہ ہے جو کہ امام کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

- **تیسری نشانی:** امام نے فرمایا کہ جو شخص یہ بتا سکے کہ ایک خاص تھیلی میں کیا ہے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امام کے علم غیب پر اشارہ کرتی ہے، جو کہ امامت کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ امام کا یہ علم انہیں اللہ کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے تاکہ وہ امت کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔

یہ تین نشانیاں امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف سے اپنے جانشین کی شناخت کے لئے اہم ہیں، اور ان کے ذریعے امامت کی منتقلی کو تسلیم کرنے میں شیعہ امت کو مدد ملتی ہے۔ ان نشانیوں کا واضح ہونا امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے ل



یہاں پر دیے گئے درس کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت اور تعارف کا اقدام کیا؟
جواب: امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کی ولادت کو مخفی رکھا کیونکہ ان کی ولادت خطرات سے بھرپور تھی۔ تاہم، امام نے اپنے بعض قابل اعتماد شیعوں کو امام مہدی علیہ السلام کی زیارت کروائی تاکہ شیعوں میں اپنے آخری امام کی شناخت اور معرفت قائم رہے اور وہ حیرت و گمراہی کا شکار نہ ہوں۔ یہ عمل امامت کی سلسلہ کی حفاظت اور تسلسل کے لیے ضروری تھا۔

۲۔ امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ ”انا بقیة اﷲ فی ارضہ“ کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرا ¿ت کی؟
جواب: امام مہدی علیہ السلام نے یہ آیت شریفہ جناب احمد بن اسحاق کو مخاطب کرتے ہوئے قراءت کی جب انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے ان کے بعد امام کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس آیت کے ذریعے امام مہدی نے اپنی امامت اور اللہ کی حجت کے طور پر اپنی شناخت کو واضح کیا۔

۳۔ سعد بن عبد اﷲ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟
جواب: امام زمانہ علیہ السلام نے فرمایا کہ امام کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ انسان دوسرے انسان کے باطن سے واقف نہیں ہوتا کہ وہ خیر و صلاح یا فساد و برائی کے بارے میں سوچتا ہے۔ اگر لوگ امام کا انتخاب کریں تو اس میں فساد کا امکان موجود ہے، اس لیے امامت کا تعین اللہ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ امامت صحیح ہاتھوں میں رہے۔

۴۔ محمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟
جواب: احمد بن اسحاق نے شیعوں کی طرف سے امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں اموال اور تحائف پیش کیے، جس میں حرام و حلال مال مخلوط تھے۔ امام مہدی علیہ السلام، جو اس وقت طفل تھے، نے ان تحائف کو چھانٹ کر حلال و حرام میں تمیز کی اور حرام مال کو واپس بھیج دیا، یہ دکھاتے ہوئے کہ امام کے پاس اللہ کی طرف سے علم غیب ہوتا ہے۔

۵۔ امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟
جواب: امام حسن عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو تین نشانیاں بتائیں جو ان کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی شناخت کے لیے مددگار ثابت ہونی تھیں:
- پہلی نشانی یہ تھی کہ جو شخص ابوالادیان سے خطوط کے جوابات طلب کرے، وہی امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد امام ہو گا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ امام مہدی علیہ السلام اپنے والد کے رازوں اور معاملات سے واقف ہوں گے۔
- دوسری نشانی یہ تھی کہ جو شخص امام حسن عسکری علیہ السلام کی نماز جنازہ پڑھائے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امامت کی روحانی قیادت اور جانشینی کی تصدیق کرتی ہے۔
- تیسری نشانی یہ تھی کہ جو شخص بتا دے کہ ایک مخصوص تھیلی میں کیا ہے، وہ امام ہو گا۔ یہ نشانی امام مہدی علیہ السلام کے علم غیب کی دلیل تھی۔ 

یہ تینوں نشانیاں مل کر امام مہدی علیہ السلام کی حقیقی امامت اور روحانی قیادت کو واضح کرتی ہیں اور ان کی امامت کی تصدیق کرتی ہیں۔
 





چوتھا درس
چوتھا درس امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف قرآن و حدیث کی روشنی میں

مہدوی معارف پر ابتدائی کورس


مہدویت نامہ
 
نوٹ کورس ٹو: چوتھا کتابچہ:  " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"

نوٹ: کورس ٹو 

تیسرا کتابچہ: " امام مہدی عج قرآن کی رو سے 


چوتھا درس
چوتھا درس امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف قرآن و حدیث کی روشنی میں

مقاصد:
۱۔ قرآن مجید کے اُفق سے امام مہدی علیہ السلام کا تعارف
۲۔ احادیث اہل بیت علیہم السلام میں امام مہدی علیہ السلام کے موضوع کے مقام و منزلت کو بیان کرنا۔

فوائد:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر قرآنی دلائل سے آگاہی
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث و روایات سے آشنائی
۳۔ لوگوں کا حضرت کے بارے قلبی عقیدہ کا عمیق ہون

تعلیمی مطالب:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق آیات پر تحقیق کرنا
۲۔ معصومین علیہم السلام کے کلام میں امام مہدی علیہ السلام

الف: قرآن کریم کی روشنی میں
قرآن کریم، انسان کے لئے الٰہی معارف کا نایاب اور ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی حکمتوں اور ابدی علم کا بہتا دریا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام تر صداقت اور سچائی ہے۔ جس میں گذشتہ اور آئندہ کی خبروں کو بیان کیا گیا ہے اور کسی بھی حقیقت کو بیان کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے۔ اگرچہ یہ بات روشن ہے کہ دنیا کے بہت سے ظریف حقائق الٰہی آیات میں پوشیدہ ہیں اور صرف وہی حضرات ان واقعات کی حقیقت تک پہنچتے ہیں جو قرآن کے معانی کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں، اور وہ اہل قرآن کریم اور قرآن کے حقیقی مفسرین یعنی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آپ کی آل پاک ہے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا قیام اور انقلاب اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے بارے میں قرآن کریم کی متعدد آیات اور ان آیات کی تفسیر میں بیان ہونے والی بہت سی روایات میں اشارہ ہوا ہے، ہم یہاں چند نمونے پیش کرتے ہیں:
سورہ انبیاءآیت ۵۰۱ میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ لَقَد کَتَب نَا فِی الزَّبُو رِ مِن بَع دِ الذِّک رِ اَنَّ ال اَر ضَ یَرِثُہَا عِبَادِ ¸ الصَّالِحُو نَ۔﴿
”اور ہم نے ذکرکے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”زمین کو ارث میں لینے والوں سے نیک اور صالح بندے، جو امام مہدی علیہ السلام اور ان کے ناصر و مددگار مرادہیں“۔(تفسیر قمی، ج۲، ص ۲۵)
اسی طرح سورہ قصص آیت ۵ میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ ن رِید اَن تَمُنَّ عَلَی الَّذِی نَ استُضعِفُو ا فِی ال اَر ضِ وَ نَج عَلَہُم ا ئِمَّةً وَ نَج عَلَہُمُ الوَارِثِی نَ۔﴿
”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائین اور زمین کے وارث قرر دے دیں“۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”(مستضعفین) سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی آل ہے۔ خداوند عالم ان کی کوشش اور پریشانیوں کے بعد اس خاندان کے ”مہدی“ کے ذریعہ انقلاب برپا کرائے گا اور ان کو اقتدار اور شکوہ و عظمت کی اوج پر پہنچا دے گا نیز ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر دے گا“۔ ( غیبت طوسی علیہ الرحمہ، ح ۳۴۱، ص ۴۸۱)
اسی طرح سورہ ھود آیت ۶۸ میں ارشاد ہوا ہے:
﴾بَقِیَّةُ اللّٰہِ خَیرلَکُم اِن کُن تُم مُو مِنِی نَ....﴿
”اﷲ کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحب ایمان ہو....“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جس وقت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے، خانہ کعبہ کی دیوار کا سہارا لیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے: ﴾اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی اَر ضِہ وَ خَلِیَفَتُہُ وَ حُجَّتُہُ عَلَی کُم۔﴿ ”میں زمین پر ”بقیة اﷲ، اس کا جانشین اور تم پر اس کی حجت ہوں، پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اس طرح کہے گا: ﴾اَلسَّلَامُ عَلَی کَ یَا بَقِیَّةَ اللّٰہِ فِی اَر ضِہِ﴿ ( کمال الدین ، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۲) اور سورہ حدید آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی ال اَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا قَد بَیَّنَّا لَکُم الآیَاتِ لَعَلَّکُم تَع قِلُو نَ۔﴿
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کرکے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”مراد یہ ہے کہ خداوند عالم زمین کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ان کی عدالت کے ذریعہ زندہ فرمائے گا جو گمراہ حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے مردہ ہو چکی ہو گی“۔
(غیبت نعمانی، ص ۲۳)

ب: احادیث کی روشنی میں
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے سلسلہ میں بہت سی احادیث و روایات ہمارے پاس موجود ہیں، کہ جن میں امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف حصوں پر الگ الگ روایات ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ بیان ہوئی ہیں، جیسے آپ کی ولادت، بچپن کا زمانہ، غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ، ظہور کی نشانیاں، ظہور کا زمانہ، عالمی حکومت، نیز امام مہدی علیہ السلام کی ظاہری اور اخلاقی خصوصیات، غیبت کا زمانہ اور ان کے ظہور کے منتظرین کی جزا اور ثواب کے بارے میں بہت اہم احادیث و روایات موجود ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب روایات شیعہ کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہیں اور ان میں سے بہت سی اہل سنت کی کتابوں میں بھی ذکر ہوئی ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت زیادہ روایات ”متواتر“ ( متواتر ان احادیث کو کہا جاتا ہے جس کے راوی تمام سلسلہ روایت میں اس قدر زیادہ ہوں کہ کہ ان کا کذب پر اتفاق کرنا ناممکن ہو)ہیں۔ان احادیث کی تعداد جو امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں موجود ہیں دس ہزار بنتی ہے جس کا بعض محققین نے شمار کیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ تمام ہی معصومین علیہم السلام نے آپ کے بارے میں گرانقدر کلمات ارشاد فرمائے ہیں جو واقعاً علم و معرفت کا خزانہ ہیں اور عدالت کے اس علمبردار کے قیام اور انقلاب کی حکایت کرتے ہیں، ہم یہاں پر ہر معصوم سے ایک ایک حدیث نقل کرتے ہیں:
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مہدی (علیہ السلام) کی زیارت کریں گے، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان سے محبت کرتا ہو گا، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کی امامت کو مانتا ہو“۔ (بحار الانوار ج ۲۵، ص ۹۰۳)
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”(آل محمد) کے ظہور کے منتظر رہو، اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، کہ بے شک خداوند عالم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام ”ظہور کا انتظار“ ہے۔ (بحار الانوار ، ج ۲۵، ص ۳۲۱)
لوح فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا (مذکورہ روایت میں بیان ہوا ہے کہ جابر ابن عبد اﷲ انصاری کہتے ہیں: حضرت رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام کے موقع پر مبارکبار پیش کرنے کے لئے حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوا، چنانچہ وہ بی بی دو عالم ہاتھوں میں ایک سبز رنگ کا ایک لوح (صفحہ) دیکھی، جس میں سورج کی طرح چمکتی ہوئی تحریر دیکھی۔ میں نے عرض کی: یہ لوح کیسی ہے؟ فرمایا: اس لوح کو خداوند عالم نے اپنے رسول کو تحفہ دیا ہے، اس میں میرے پدر بزرگوار، میرے شوہر، دونوں بیٹوں اور ان کے بعد ہونے والے جانشین کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ رسول خدا نے یہ لوح مجھے عطا کی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میرا دل خوش و خرم رہے) میں بیان ہوا ہے:”........ اس کے بعد اپنی رحمت کی وجہ سے اوصیاءکا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند پر مکمل کر دُوں گا، جو موسیٰ کا کمال، عیسیٰ کا شکوہ اور جناب ایوب کا صبر رکھتا ہو گا........“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۰۳، ص ۹۶۵)
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد پیش آنے والے بعض حوادث کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خداوند عالم آخر الزمان میں ایک قائم کو بھیجے گا ........ اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد کرے گا، اور ان کے ناصران کی حفاظت کرے گا ........ اور اس کو تمام زمین پر رہنے والوں پر غالب کرے گا ........ وہ زمین کو عدالت، نور اور آشکار دلیلوں سے بھر دے گا ........ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ کو درک کرے اور ان کی اطاعت کرے“۔
(احتجاج، ج ۲، ص ۰۷)
حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:”........ خداوند عالم اس (امام مہدی علیہ السلام) کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ اور آباد کر دے گا اور اس کے ذریعہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا، اگرچہ یہ یہ بات مشرکین کو اچھی نہ لگے۔ وہ غیبت اختیار کرے گا جس میں ایک گروہ دین سے گمراہ ہو جائے گا اور ایک گروہ دین (حق) پر قائم رہے گا ........ بے شک جو شخص ان کی غیبت کے زمانہ میں پریشانیوں اور جھٹلائے جانے کی بنا پر صبر کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہو“۔ (کمال الدین، ج ۱ ،باب ۰۳، ح ۳، ص ۴۸۵)
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:”جو شخص قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں ہماری مودّت اور دوستی پر ثابت قدم رہے خداوند عالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۱۳، ص ۲۹۵)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب لوگوں کا امام غائب ہو گا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے........“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳، ح ۵۱، ص ۲۰۶)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد کے لئے دو غیبتیں ہوں گی ایک غیبت صغریٰ اور دوسری غیبت کبریٰ ہو گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۳، ح ۶،ص ۷۵)
حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”امام (مہدی علیہ السلام) لوگوں کی نظروں میں پوشیدہ رہیں گے لیکن مومنین کے دلوںمیں ان کی یاد تازہ رہے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۵۳، ح ۵۶، ص ۰۶)
حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
”جس وقت (امام مہدی علیہ السلام) قیام کریں گے تو ان کے (وجود کے) نور سے زمین روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی ترازو قرار دیں گے اور اس موقع پر کوئی کسی پرظلم و ستم نہیں کرے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۵۳، ح ۵۶، ص ۰۶)
امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں (مومنین کو) ان کے ظہور کا انتظار کرنا چاہیے اور جب وہ ظہور اور قیام کریں تو ان کی انہیںاطاعت کرنا چاہئے“
(غیبت نعمانی، باب ۶۳، ح ۱، ص ۰۷)
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:”میرے بعد میرا فرزند حسن (عسکری) امام ہو گا اور ان کے بعد ان کا فرزند ”قائم“ امام ہو گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہو گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۷۳، ح ۰۱، ص ۹۷)
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
”اس خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ہے جس نے میری زندگی میں مجھے جانشین عطا کر دیاہے وہ خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۷۳، ح ۷، ص ۸۱۱)
ة....ة....ة....ة....ة

درس کا خلاصہ
حضرت مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عالمی حکومت کا موضوع بہت سی آیات میں بیان ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے بھی اس امر کا آخری زمانہ میں وعدہ دیا ہے جیسا کہ قرآنی آیات سے سمجھا جا سکتاہے۔
پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث میں امام مہدی عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف، ان کی زندگی کے ادوار، ظہور کی نشانیاں، قیام کی کیفیت، حضرت مہدی کی حکومت کی خصوصیات اور اس کے بے نظیر ثمرات کے بارے میں تفصیلی طور پر بتایا گیا ہے۔

درس کے سوالات
۱۔ سورہ ھود آیہ مبارکہ ۶۸ بقیةاﷲ خیر لکم اس کے ذیل میں روایات پر غور کرتے ہوئے معنی کریں؟
۲۔ سورہ قصص کی آیت ۵ میں مستضعفین سے مراد کی وضاحت کریں؟
۳۔ پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں میںسے کن گروہوں کو اہل بشارت قراردیا؟
۴۔ امام سجاد علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے اجر کو کن چیزوں کے برابر قراردیا؟
۵۔ امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند اور اپنے بعد جانشین کی شیعوں کے لئے کیسے توصیف فرمائی؟

ة....ة....ة....ة....ة
 
### درس کے سوالات کے جوابات

**سوال 1: سورہ ھود آیہ مبارکہ 68 بقیةاللہ خیر لکم اس کے ذیل میں روایات پر غور کرتے ہوئے معنی کریں؟**

**جواب:** 
آیت کے مطابق "بقیة اللہ" سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ کے فضل و کرم سے باقی رہتی ہے اور مومنین کے لئے خیر و برکت کا باعث بنتی ہے۔ روایات کے مطابق امام مہدی (عج) کو "بقیة اللہ" کہا گیا ہے، جن کا ظہور مومنین کے لئے خیر کا موجب ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ اس طرح، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ امام مہدی (عج) کا ظہور اور ان کی قیادت مومنین کے لئے بہترین ہوگی۔

**سوال 2: سورہ قصص کی آیت 5 میں مستضعفین سے مراد کی وضاحت کریں؟**

**جواب:** 
سورہ قصص کی آیت 5 میں "مستضعفین" سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے۔ روایات کے مطابق، یہ مراد ہے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل، یعنی اہل بیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے زمین کو انصاف سے بھرنے کا وعدہ فرما رہا ہے، جس کا آغاز امام مہدی (عج) کے ظہور سے ہوگا۔

**سوال 3: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں میں سے کن گروہوں کو اہل بشارت فرمایا؟**

**جواب:** 
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو خوشخبری دی ہے جو امام مہدی (عج) کی زیارت کریں گے، ان سے محبت کریں گے، اور ان کی امامت کو قبول کریں گے۔ یہ لوگ بشارت یافتہ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ امام مہدی (عج) کی قیادت میں حقیقی اسلام کے ساتھ وابستگی اختیار کریں گے۔

**سوال 4: امام سجاد علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے اجر کو کس کے برابر قراردیا؟**

**جواب:** 
امام سجاد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو شخص غیبت کے دوران ولایت اہل بیت (علیہم السلام) پر ثابت قدم رہتا ہے، اس کو اجر میں بدر و احد کے شہدا کے ہزار شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا۔ یہ بہت بڑا اجر ہے کیونکہ یہ دور ایمان کی مشکلات اور آزمائشوں سے بھرپور ہوگا۔

**سوال 5: امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند اور اپنے بعد جانشین کی شیعوں کے لئے کیسے توصیف فرمائی؟**

**جواب:** 
**جواب:** امام حسن عسکری (علیہ السلام) نے اپنے فرزند اور جانشین، امام مہدی (علیہ السلام) کی توصیف فرمائی کہ وہ خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ ان کی ظاہری شکل اور باطنی صفات، دونوں حیثیتوں سے، پیغمبر اکرم کی یاد دلاتی ہیں۔ امام عسکری (علیہ السلام) کا یہ بیان امام مہدی (علیہ السلام) کی عظیم شخصیت اور ان کے عدل و انصاف کے قیام کے لئے منتظر امت کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ ان کا جانشین نہ صرف نسلی وراثت میں، بلکہ روحانی اور اخلاقی قیادت میں بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حقیقی جانشین ہوگا۔ اس طرح، شیعوں کے لئے ان کی شخصیت اور قیادت میں ایک روشنی اور راہنمائی کا مقام ہے۔


 

مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

مہدویت نامہ
 
(کورس ون)
 
پانچواں درس
حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت اور دیگر مذاہب کی نظر میں
مقاصد:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اہل سنت کے نظریات سے آگاہی۔
۲۔ اہل سنت کے ماخذات میں امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کو بیان کرن

فوائد:
۱۔ احادیث سے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع کے متواتر ہونے کاثبوت۔
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے بہت سے علماءاہل سنت کے شیعوں کے ساتھ متفقہ نکتہ نظر سے آگاہی۔

تعلیمی مطالب:
۱۔ امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کے حدیثی منابع میں
۲۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماءاہل سنت کی آرائ
۳۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماءاہل سنت کی قلمی کاوشیں

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) غیروں کی نظر میں
خوشتر آن باشد کہ سرّ دلبران گفتہ آید در حدیث دیگران
”صداقت وہ ہے جس کا اقرار دشمن کرے“۔
امام مہدی علیہ السلام کے عظیم الشان قیام اور عالمی انقلاب کا موضوع نہ صرف شیعہ کتب میں بیان ہوا ہے بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی اعتقادی کتابوں میں بھی بیان ہوا ہے اور آپ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں تفصیلی طور پر گفتگو ہوئی ہے وہ لوگ بھی آل پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا ( المستدرک علی الصحیحین، ج ۴، ص۷۵) کی نسل سے مہدی کے ظہور کے قائل ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اہل سنت کے عقیدہ کی شناخت کے لئے بزرگ علمائے اہل سنت کی کتابون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ متعدد سنی مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسے فخر الدین رازی ( التفسیر الکبیر، ج ۶۱، ص ۰۴) اور علامہ قرطبی۔
(التفسیر القرطبی، ج ۸، ص ۱۲۱)
اسی طرح اکثر اہل سنت کے محدثین نے امام مہدی (عج) کے سلسلہ میںبیان ہونے والی احادیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جن میں اہل سنت کی معتبر کتابیں بھی شامل ہیںجیسے ”صحاح ستہ“ ( اہل سنت کی چھ صحیح کتابوں کو ”صحاح ستہ“ کہا جاتا ہے جو تمام احادیث کی کتابیں ہیں اور اہل سنت کے نزدیک معتبر اور موثق ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں، جن کے نام اس طرح ہیں ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداﺅد، سنن نسائی اور جامع ترمذی“ اور ان کتابوں میں نقل ہونے والی احادیث کو ”صحیح“ اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا کلام مانا جاتاہے اور اہل سنت کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سب سے معتبر انہیں کتابوں کو مانا جاتا ہے۔) اور مسند احمد بن حنبل (حنبلی فرقہ کے بانی)(گذشتہ اور عصر حاضر کے) بعض دیگر علمائے اہل سنت نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھیں ہیں جیسے ابو نعیم اصفہانی نے ”مجموعہ الاربعین (چالیس حدیث)، اور سیوطی نے کتاب ”العرف الوردی فی اخبار المہدی علیہ السلام“۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض علمائے اہل سنت نے عقیدہ مہدویت کے دفاع اور اس عقیدہ کے منکرین کی رَد میں بھی کتابیں اور مقالات تحریر کئیے ہیں اور علمی بیانات اور احادیث کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے واقعہ کو یقینی اور غیر قابل انکار مسائل میں شمار کیا ہے جیسے ”محمد صدیق مغربی“ کہ جنہوں نے ”ابن خلدون“ کی رد میں ایک کتاب لکھی اور اس کی باتوں کا دندان شکن جواب دیا ہے (”ابن خلدون“ جنہیں اہل سنت میں معاشرتی علوم کا عظیم دانشور کہا جاتا ہے اُنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بعض روایات پر اعتراض کیاہے اور ان کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق بعض روایات کو صحیح بھی مانا ہے لیکن پھر بھی اُنہوں نے مہدویت کے مسئلہ میں شک و تردید کا اظہار کیا ہے ”محمد صدیق مغربی“ نے اپنی کتاب ”اِبرازُ الوہم المَکُنُو ±ن میں کلام ابن خلدون“ میں ان کی باتوں کو رَد کیا ہے۔) یہ اہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے عقیدہ کی مثالیں تھیں۔
قارئین کرام! ہم یہاں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں اہل سنت سے نقل ہونے والی سینکڑوں احادیث میں سے دو نقل کرتے ہیں کہ جو ان کی مشہور اور قابل اعتماد کتابوں میں سے لی گئی ہیں:۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”اگر دُنیا (کی عمر) کا صرف ایک دن بھی باقی رہ گیا ہو تو بے شک خداوند عالم اس دن کو اتنا طویل فرما دے گا کہ میری نسل سے میرا ہم نام ایک شخص قیام کرے گا“۔ ( سنن ابوداﺅد، ج ۲، ح ۲۸۲۴، ص ۶۰۱)
نیز آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا جس کا نام اور سیرت مجھ سے مشابہ ہو گی، وہ (دُنیا کو) عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی“۔ ( معجم الکبیر، ج ۰۱، ح ۹۲۲، ص ۳۸)
قابل ذکر ہے کہ آخر الزمان میں منجی بشریت اور دُنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے کے ظہور کا عقیدہ ایک عالمی اور سب کے نزدیک مقبول عقیدہ ہے اور سچے آسمانی ادیان کے سب ماننے والے اپنی اپنی کتابوں کی تعلیمات کی بنیاد پر اس قائم کے منتظر ہیں، کتاب مقدس زبور، توریت اور انجیل نیز ہندو ¿ں، آتش پرستوں اور براہمن کی کتابوں میں بھی منجی بشریت کے ظہور کی طرف اشارہ ہے البتہ ہر قوم و ملت نے اس کو الگ الگ لقب سے یاد کیاہے، آتش پرستوں نے اس کو ”سوشیانس“ (یعنی دُنیا کو نجات دینے والے)، عیسائیوں نے اس ”مسیح موعود“ اور یہودیوں نے اس کو ”سرور میکائلی“ کے نام سے یاد کیا ہے۔
آتش پرستوں کی مقدس کتاب ”جاما سب نامہ“ کی تحریر کچھ اس طرح ہے:
”عرب کا پیغمبر آخری پیغمبر ہوگا جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان پیدا ہو گا ........ اپنے غلاموں کے ساتھ متواضع اور غلاموں کی طرح نشست و برخاست کرے گا........ اس کا دین سب ادیان سے بہتر ہو گا ، اس کی کتاب تمام کتابوں کو باطل کرنے والی ہو گی .... اس پیغمبر کی بیٹی (جس کا نام خورشید جہاں اور شاہ زمان نام ہوگا) کی نسل سے خدا کے حکم سے اس دُنیا میں ایک ایسا بادشاہ ہو گا جو اس پیغمبر کا آخری جانشین ہو گا، جس کی حکومت قیامت سے متصل ہو گی“۔ ( ادیان و مہدویت، ص ۱۲)
ة....ة....ة....ة....ة

درس کا خلاصہ
تمام اسلامی فرقے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصل عقیدہ میں کہ آپ پیغمبر اکرم کی نسل مبارک سے آخری نجات دہندہ ہیں پر اتفاق نظر رکھتے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث اہل سنت کے معتبر منابع مثلاً صحاح ستہ، مسند احمد، وغیرہ میں بھی نقل ہوئی ہیں۔
بہت سے علماءاہل سنت نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی روایات اور حیات مبارکہ پر مستقل کتابیں تالیف کیں اور ان میں سے بعض دانشوروں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے متعلق روایات کے دفاع اور ان کے منکرین کی رد میں بھی کتابیں اور علمی و تحقیقی مقالات تحریر کئے ہیں۔

درس کے سوالات
۱۔ اہل سنت کے مفسرین میں سے دو ایسے مفسروں کے بارے میں بتائیے کہ جنہوں نے قرآنی آیات کی امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تفسیر ہو۔
۲۔ علماءاہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر تحریر کی گئی اہم ترین تالیفات میں سے کسی دو کے بارے میں بتائیے؟
۳۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے محمد صدیق مغربی(اہل سنت کے معروف مصنف)کی تالیف کا کیا نام ہے اور کس ہدف کے تحت تحریر کی گئی ہے؟
۴۔ سوشیانس کون سی کتاب ہے آخری دین اور آنے والے نجات دہندہ کی کیسے توصیف کرتی ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة


درس کے سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں:

**۱۔ اہل سنت کے مفسرین میں سے دو ایسے مفسروں کے بارے میں بتائیے کہ جنہوں نے قرآنی آیات کی امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تفسیر ہو۔**
جواب: دو اہم مفسراین جنہوں نے قرآنی آیات میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی تفسیر کی ہیں وہ ہیں فخر الدین رازی اور علامہ قرطبی۔ فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر "التفسیر الکبیر" میں اور علامہ قرطبی نے "التفسیر القرطبی" میں اس موضوع پر بحث کی ہے۔

**۲۔ علماء اہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر تحریر کی گئی اہم ترین تالیفات میں سے کسی دو کے بارے میں بتائیے؟**
جواب: دو اہم تالیفات میں سے ایک ابو نعیم اصفہانی کی کتاب "مجموعہ الاربعین" ہے جس میں امام مہدی علیہ السلام کی حدیثیں جمع کی گئی ہیں۔ دوسری اہم تالیف السیوطی کی کتاب "العرف الوردی فی اخبار المہدی علیہ السلام" ہے، جس میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مفصل معلومات دی گئی ہیں۔

**۳۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے محمد صدیق مغربی(اہل سنت کے معروف مصنف)کی تالیف کا کیا نام ہے اور کس ہدف کے تحت تحریر کی گئی ہے؟**
جواب: محمد صدیق مغربی کی تالیف کا نام "ابراز الوهم المکنون فی کلام ابن خلدون" ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ابن خلدون کے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر کئے گئے اعتراضات کا دفاع کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے عقیدے کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

**۴۔ سوشیانس کون سی کتاب ہے آخری دین اور آنے والے نجات دہندہ کی کیسے توصیف کرتی ہے؟**
جواب: "سوشیانس" کو آتش پرستوں کی مقدس کتاب "جاما سب نامہ" میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سوشیانس کو آخری نجات دہندہ اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھرنے والا بتایا گیا ہے، جو عرب کا پیغمبر (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل سے ہوگا اور اس کی حکومت قیامت کے قریب تک رہے گی۔


 
 





 





 







 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات