دوسری چار PDFs مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

  

🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩


یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻* 


 *کورس* 2

 *کتابچہ*  

 *درس* 


🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،

 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،


 📖گفتگو کا موضوع 








 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.


التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 


🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو ✍




  دوسری چار PDFs  مہدوی معارف پر ابتدائی کورس



 مہدوی معارف پر ابتدائی کورس



(کورس ون) 

مہدویت نامہ
 

چھٹا درس
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت اور اس کے اسباب 

مقاصد:
۱۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے آشنائی
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب اور فلسفہ سے آگاہی
۳۔ غیبت کے مختلف ادوار سے آشنائی

فوائد:
۱۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظاہری حضور سے محروم ہونے کے بعض دلائل سے آشنائی
۲۔ ظہور امام علیہ السلام کے اسباب فراہم کرنے کےلئے کوشش وجدوجہدکا انگیزہ پیدا ہونا
۳۔ حضرتعلیہ السلام کی غیبت کے ادوار سے آگاہی

تعلیمی مطالب:
۱۔ غیبت کے مفہوم سے آگاہی
۲۔ غیبت کا تاریخچہ
۳۔ امام زمانہ (عج) کی غیبت کے اسباب
٭ لوگوں کو تنبیہ
٭ امتحان اور آزمائش
٭ امام کی جان کی حفاظت
٭ الٰہی اسرار میں سے ایک راز
۴۔ غیبت صغریٰ اور کبریٰ کے ادوار

غیبت
قارئین کرام! اب جبکہ منجی بشریت اور حضرت آدم علیہ السلام تا خاتم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے الٰہی مقاصد کو پایہ ¿ تکمیل تک پہنچانے والے آخری الٰہی ذخیرہ حضرت حجة بن الحسن علیہ السلام کی شخصیت سے آشنا ہوگئے، اس وقت وحید الزمان کی غیبت کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے جو آپ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

غیبت کے معنی
سب سے پہلا نکتہ قابل ذکر یہ ہے کہ غیبت کے معنی ”آنکھوں سے مخفی ہونا“اورعدم پہچان ہے نہ کہ حاضر نہ ہونا، لہٰذا اس حصہ میں گفتگو اس زمانہ کی ہے جب امام مہدی علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں، یعنی لوگ آپ کو نہیں پہچان پاتے جبکہ آپ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور ان کے درمیان زندگی بسر کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”قسم ہے خداوند عالم کی، حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، راستوں میں (کوچہ و بازار میں) موجود رہتی ہے، ان کے گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے، زمین پر مشرق سے مغرب تک آمدورفت کرتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے اور ان پر سلام بھیجتی ہے، وہ دیکھتی ہے لیکن آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں جب تک خدا کی مرضی اور اس کا وعدہ پورا نہ ہو“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۰۱، ح ۳، ص ۶۴۱)
اگرچہ امام مہدی 0علیہ السلام کے لئے غیبت کی ایک دوسری قسم بھی بیان ہوئی ہے:امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے دوسرے نائب خاص بیان فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام حج کے دنوں میں ہر سال حاضر ہوتے ہیں، لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو پہچانتے ہیں، لوگ ان کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۳۲، ص ۲۵۱)
اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت دو طرح کی ہے: آپ علیہ السلام بعض مقامات پر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور بعض مقامات پر آپعلیہ السلام لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں لیکن آپعلیہ السلام کی پہچان نہیں ہوتی، بہرحال امام مہدی علیہ السلام لوگوں کے درمیان حاضراور موجود رہتے ہیں۔

غیبت کی تاریخی حیثیت
غیبت اور مخفی طریقہ سے زندگی کرنا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو پہلی بار اور صرف امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہو بلکہ متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بہت سے انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کا ایک حصہ غیبت میں بسر ہوا ہے اور اُنہوں نے ایک مدت تک مخفی طریقہ سے زندگی کی ہے اور یہ چیز خداوند عالم کی مصلحت اور حکمت کی بنا پر تھی ، نہ کہ کسی ذاتی اور خاندانی مصلحت کی بنیاد پر۔غیبت ایک ”الٰہی سنت“ ( قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جیسے سورہ ¿ فتح، آیت ۳۲، اور سورہ ¿ اسراءآیت ۷۷) ”الٰہی سنت“ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جن کے پیش نظریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الٰہی سنت سے مراد خداوند عالم کے ثابت اور بنیادی قوانین ہیں جن میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آسکتی یہ قوانین گذشتہ قوموں میں نافذ تھے اور آج نیزموجودہیں اور آئندہ بھی نافذ رہیں گے۔ (تفسیر نمونہ، ج ۷۱، ص ۵۳۴ کا خلاصہ) ہے جو متعدد انبیاءعلیہم السلام کی زندگی میں دیکھی گئی ہے جیسے حضرت ادریس (ع)، حضرت نوح(ع)، حصرت صالح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت یوسف (ع)، حضرت موسیٰ (ع)، حضرت شعیب (ع)، حضرت الیاس (ع)، حضرت سلیمان (ع)، حضرت دانیال (ع) اور حضرت عیسٰی(ع) (علیہم السلام)، اور حالات کے پیش نظر ان تمام انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کئی سالوں تک غیبت (اور مخفی طریقہ) سے بسر ہوئی ہے۔
( کمال الدین، ج ۱، باب ۱ تا ۷، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳)
اسی وجہ سے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی روایتوں میں ”غیبت“ کو انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے جاری ہونے کو غیبت کی دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”بے شک ہمارے قائم (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس کی مدت طویل ہو گی۔ راوی کہتا ہے: اے فرزند رسول! اس غیبت کی وجہ کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ غیبت کے سلسلہ میں انبیاء(علیہم السلام) کی سنت آپ کے بارے میں (بھی) جاری رکھے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۳، ص ۰۹)
قارئین کرام! مذکورہ گفتگو سے یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت کا مسئلہ بیان ہوتا رہا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) تا امام حسن عسکری علیہ السلام نے آپعلیہ السلام کی غیبت اور آپعلیہ السلام کے زمانہ میں پیش آنے والے بعض واقعات کی خصوصیات بھی بیان کی ہیں، نیز غیبت کے زمانہ میں مومنین کے فرائض بھی بیان کئے ہیں۔
(دیکھئے: منتخب الاثر، فصل۲، باب ۶۲ تا ۹۲، ص ۲۱۳ تا ۰۴۳)
پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”مہدی (علیہ السلام) میری (ہی) نسل سے ہو گا ........ اور وہ غیبت میں رہے گا، لوگوں کی حیرانی (و پریشانی) اس حد تک بڑھ جائے گی کہ لوگ دین سے گمراہ ہو جائیں گے اور پھر (جب حکم خدا ہو گا) چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح ظلم و جور سے زمین بھری ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۵۲، ح ۴، ص ۶۳۵)

غیبت کا فلسفہ
سوال یہ ہے کہ کیوں ہمارے بارہویں امام اور حجت خدا غیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ہم امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ظہور کی برکتوں سے محروم ہیں؟
قارئین کرام! اس سلسلہ میں گفتگو تفصیل سے احادیث میں ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بہت سی روایات بھی موجود ہیں، لیکن ہم یہاں مذکورہ سوال کا جواب پیش کرنے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خداوند عالم کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، چاہے ہم ان مصلحتوں کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، نیز کائنات کر ہر چھوٹااور بڑا واقعہ خداوند عالم کی تدبیر اور اسی کے ارادہ سے انجام پاتا ہے جن میں سے مہم ترین واقعہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مسئلہ ہے، لہٰذا آپ کی غیبت کا مسئلہ بھی حکمت و مصلحت کے مطابق ہے اگرچہ ہم اس کے فلسفہ کو نہ جانتے ہوں۔

سرّ الٰہی
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”بے شک صاحب العصر (علیہ السلام) کے لئے ایسی غیبت ہو گی جس میں ہر اہل باطل شک و تردید کا شکار ہو جائے گا“۔
راوی نے آپ کی غیبت کی وجہ معلوم کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”غیبت کی وجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم تمہارے سامنے بیان نہیں کر سکتے........ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے، لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم صاحب حکمت ہے کہ جس کے تمام کام حکمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اگرچہ ہمیں ان کی وجوہات کا علم نہ ہو“۔
(کمال الدین، ج ۱، باب ۴۴، ص ۴۰۲)
اگرچہ اکثر مقامات پر انسان خداوند عالم کے کاموں کو حکمت کے تحت مانتے ہوئے ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے، لیکن پھر بھی بعض حقائق کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس حقیقت کے فلسفہ کو جان لینے سے سے مزید مطمئن ہو جائے، چنانچہ اسی اطمینان کی خاطر ہم امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی حکمت اور اس کے آثار پر تحقیق و تجزیہ شروع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

عوام کی تادیب
جب اُمت اپنے نبی یا امام کی قدر نہ کرے اور اپنے فرائض کو انجام نہ دے بلکہ اس کی نافرمانی کرے تو پھر خداوند عالم کے لئے یہ بات روا ہے کہ ان کے رہبر اور ہادی کو ان سے الگ کر دے تاکہ وہ اس کی جدائی کی صورت میں اپنے گریبان میں جھانکیں، اور اس کے وجود کی قدر و قیمت اور برکت کو پہچان لیں، لہٰذا اس صورت میں امام کی غیبت اُمت کی مصلحت میں ہے اگرچہ ان کو معلوم نہ ہو اور وہ اس بات کو نہ سمجھ سکیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:”جب خداوند عالم کسی قوم میں ہمارے وجود اور ہماری ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو پھر ہمیں ان سے جدا کر لیتا ہے“۔ (علل الشرائع، باب ۹۷۱، ص ۴۴۲)

دوسروں کے عہد و پیمان کے تحت نہ ہونا بلکہ مستقل ہونا
جو لوگ کسی جگہ کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ اپنے انقلاب کی ابتداءمیں اپنے بعض مخالفوں سے عہد و پیمان باندھتے ہیں تاکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں، لیکن امام مہدی علیہ السلام وہ عظیم الشان اصلاح کرنے والے ہیں جو اپنے انقلاب اور عالمی عادلانہ حکومت کے لئے کسی بھی ظالم و ستمگر سے کسی طرح کی کوئی موافقت نہیں کریں گے کیونکہ بہت سی روایات کے مطابق آپ کو سب ظالموں سے یقینی طور پر ظاہر بظاہر مقابلہ کرنے کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے جب تک اس انقلاب کا راستہ ہموار نہیں ہو جاتا اس وقت تک آپ غیبت میں رہیں گے تاکہ آپ کو دشمنان خدا سے عہد و پیمان نہ کرنا پڑے۔
غیبت کی وجہ بارے حضرت امام رضا علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے:
”اس وقت جبکہ (امام مہدی علیہ السلام) تلوارکے ذریعہ قیام فرمائیں گے تو آپ کا کسی کے ساتھ عہد و پیمان نہ ہو گا“۔(کمال الدین، ج ۲، باب ۴۴، ص ۲۳۲)

لوگوں کا امتحان
لوگوں کا امتحان کرنا خداوند عالم کی ایک سنت ہے، وہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ راہ حق میں ان کے ثابت قدم کی وضاحت ہو جائے، اگرچہ اس امتحان کا نتیجہ خداوند عالم کو معلوم ہوتا ہے لیکن اس امتحان کی بھٹی میں بندوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اوروہ اپنے وجود کے جوہر کو پہچان لیتے ہیں۔حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:”جب میرا پانچواں فرزند غائب ہو گا، تو تم لوگ اپنے دین کی حفاظت کرتا تاکہ کوئی تمہیں دین سے خارج نہ کر پائے، کیونکہ صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس میں اس کے (بعض) ماننے والے اپنے عقیدہ سے پھر جائیں گے اور اس غیبت کے ذریعہ خداوند عالم اپنے بندوں کا امتحان کرے گا“۔ (غیبت شیخ طوسی علیہ الرحمہ، فصل۵، ح ۴۸۲، ص ۷۳۲)

امام کی حفاظت
انبیاءعلیہم السلام کے اپنی قوم سے جدا ہونے کی ایک وجہ اپنی جان کی حفاظت تھی، یہ حضرات اس وجہ سے خطرناک موقع پر مخفی ہو جاتے تھے تاکہ ایک مناسب موقع پر اپنی رسالت اور ذمہ داری کو پہنچا سکیں، جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) مکہ معظمہ سے نکل کر ایک غار میں مخفی ہو گئے،یا کچھ دنوں کے لئے طائف چلے گئے، البتہ یہ سب خداوند عالم کے حکم اور اس کے ارادہ سے ہوتا تھا۔حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور آپعلیہ السلام کی غیبت کے بارے میں بھی متعدد روایات یہی وجہ بیان کرتی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”امام منتظر اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نظروں سے غائب رہیں گے“۔جب امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ معلوم کی گئی تو آپعلیہ السلام نے فرمایا:”انہیں اپنی جان کا خطرہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، ح ۷، ص ۳۳۲)

شہادت کی تمنا
اگرچہ شہادت کی تمنا خدا کے سب نیک بندوں کے دلوں میں ہوتی ہے لیکن ایسی شہادت جو دین اور معاشرہ کی اصلاح اور اپنے فرائض کو نبھاتے ہوئے ہو لیکن اگر اسکا قتل ہونا ضیاع اور بڑے مقاصد کے خاتمہ کا سبب بنے تو ایسے موقع پر قتل سے بچنا ایک دانشمندانہ اور حکیمانہ کام ہے۔ آخری ذخیرہ الٰہی یعنی بارہویں امام کے قتل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خانہ کعبہ منہدم ہو جائے تمام انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کی تمناﺅں پر پانی پھر جائے اور عالمی عادل حکومت کے بارے میں خداکا وعدہ پورا نہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ متعدد روایات میں غیبت کی وجوہات کے سلسلہ میں دوسرے نکات بھی بیان ہوئے ہیں جن کو ہم اختصار کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے جس کی اصلی اور بنیادی وجہ امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد ہی واضح ہو گی۔ ہم نے جو کچھ اس سلسلہ میں اسباب بیان کئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کی غیبت میں اہم اثرات کے حامل ہیں۔

غیبت کی اقسام
قارئین کرام! مذکورہ مطالب کے پیش نظر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت لازم اور ضروری ہے، لیکن چونکہ ہمارے ہادیوں کے تمام اقدامات لوگوں کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لئے ہوتے تھے، لہٰذا اس چیز کا خوف تھا کہ اس آخری حجت الٰہی کی غیبت کی وجہ سے مسلمانوں کی دینداری پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچیں گے، لہٰذا غیبت کے زمانہ کا بہت ہی حساب و کتاب اور دقیق منصوبہ بندی کے تحت آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت اور اس کی ضرورت کے بارے میں گفتگو جاری و ساری تھی اور آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی محفلوں میں نقل ہوتی تھی، اسی طرح امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام لوگوں سے ایک نئے انداز اور خاص حالات میں رابطہ ہوتا تھا، اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا تھا کہ بہت سی مادّی اور معنوی ضرورتوں میں امام معصوم علیہ السلام کی ملاقات پر مجبور نہیں ہیں، بلکہ ائمہ علیہم السلام کی طرف سے معین وکلاءاور قابل اعتماد حضرات کے ذریعہ اپنے فرائض پر عمل کیا جا سکتا ہے، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور حصرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی غیبت (صغریٰ) کے آغاز سے امام اور اُمت کے درمیان رابطہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ مومنین اپنے مولا و آقا اور امامعلیہ السلام کے خاص نائب کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور یہی زمانہ تھا کہ جس میں شیعوں کو دینی علماءسے وسیع پیمانہ پر رابطہ کی عادت ہوئی کہ امام علیہ السلام کی غیبت میں بھی اپنے دینی فرائض کی پہچان کا راستہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر مناسب تھا کہ حضرت بقیة اﷲ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کبریٰ کا آغاز ہو اور امام علیہ السلام اور شیعوں کے درمیان گذشتہ زمانہ میں رائج عام رابطہ کا سلسلہ بند ہو جائے۔اس سے پہلے ایک چھوٹی غیبت ہو۔
قارئین کرام! ہم یہاں غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی خصوصیات کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں:

غیبت صغریٰ
۰۶۲ھ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد ہمارے بارہویں امام کی امامت کا آغاز ہوا اور اسی وقت سے آپ کی ”غیبت صغریٰ“ کا بھی آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ ۹۲۳ھ (تقریباً ۰۷ سال) تک جاری رہا۔
غیبت صغریٰ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ مومنین امام مہدی علیہ ا لسلام کے خاص نائبین کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ امام مہدی علیہ السلام کے پیغامات حاصل کرتے تھے اور اپنے سوالات آپ کی خدمت میں بھیجتے تھے (خطوں کی تحریر (جو توقیعات کے نام سے مشہور ہیں) شیعہ علماءکی کتابوں میں موجود ہے (جیسے بحار الانوار، ج ۳۵، باب ۱۳، ص ۰۵۱ تا ۷۹۵) اور کبھی امام مہدی علیہ السلام کے نائبین کے ذریعہ آپ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہو جاتا تھا۔امام مہدی علیہ السلام کے نواب اربعہ جو عظیم الشان شیعہ عالم دین تھے اور خود امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ذریعہ منتخب ہوتے تھے ان کے اسمائے گرامی ان کی نیابت کی ترتیب سے اس طرح ہیں:
۱۔ عثمان بن سعید عَمری: آپ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے آغاز سے امام کی نیابت کرتے تھے۔ موصوف نے ۵۶۲ھ میں وفات پائی یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ موصوف امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھی وکیل تھے۔
۲۔ محمد بن عثمان عمری: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے نائب اوّل کے فرزند تھے اور اپنے والد گرامی کے انتقال پر امام کی نیابت پر فائزہوئے، موصوف نے ۵۰۳ھ میں وفات پائی۔
۳۔ حسین بن رُوح نوبختی: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے ۱۲ سال نائب رہے جس کے بعد ۶۲۳ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔
۴۔ علی بن محمد سم ری: موصوف کا انتقال ۹۲۳ھ میں ہوا اور انکی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہو گیا۔امام مہدی علیہ السلام کے خاص نائبین امام حسن عسکری علیہ السلام اور خود امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ انتخاب ہوئے تھے اور لوگوں میں ان کا تعارف کروایا جاتا تھا۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک روز عثمان بن سعید (نائب اوّل) کے ساتھ چالیس مومنین امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے، امام علیہ السلام نے ان کو اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرا جانشین اور تمہارا امام ہو گا، تم لوگ اس کی اطاعت کرنا، اور جان لو کہ آج کے بعد اس کو نہیں دیکھ پاﺅ گے، یہاں تک کہ اس کی عمر کامل ہو جائے، لہٰذا (اس کی غیبت کے زمانہ میں) جو کچھ عثمان (بن سعد) کہیں اسکو قبول کرنا، اور ان کی اطاعت کرنا کہ وہ تمہارے امام کے نائب ہیں اور تمام امور کی ذمہ داری انہیں پر ہے“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۹۱۳، ص ۷۵۳)
امام حسن عسکری علیہ السلام کی دوسری روایت میں محمد بن عثمان کو امام مہدی علیہ السلام کے (دوسرے) نائب کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”عثمان بن سعید“ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم سے یمن کے شیعوں کا لایا ہوا مال وصول کیا، اس وقت بعض مومنین نے جو اس واقعہ کے شاہد تھے، امام علیہ السلام سے عرض کی: خدا کی قسم! عثمان آپ کے بہترین شیعوں میں سے ہیں لیکن اس کام کا آپ کے نزدیک انکا مقام ہم پر واضح ہو گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! تم لوگ گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں اور اس کا فرزند ”محمد“ میرے بیٹے ”مہدی“ کا وکیل ہو گا“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۷۱۳، ص ۵۵۳)
یہ تمام واقعات امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے کے ہیں، غیبت صغریٰ میں بھی آپ کا ہر نائب اپنی وفات سے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے منتخب ہونے والے نائب کا تعارف کرا دیتا تھا۔یہ حضرات چونکہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے جس کی بنا پر ان میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نیابت کی لیاقت پیدا ہوئی، ان حضرات کی مخصوص صفات کچھ اس طرح تھیں: امانت داری، عفت، رفتار و گفتار میں عدالت، رازداری اور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مخصوص حالات میں اسرار اہل بیت علیہم السلام کو مخفی رکھنا، یہ حضرات امام مہدی علیہ السلام کے قابل اعتماد افراد تھے اور خاندان عصمت و طہاعت کے مکتب کے پروردہ تھے، اُنہوں نے مستحکم ایمان کے زیرِ سایہ علم کی دولت حاصل کی تھی، ان کی نیک نامی مومنین کی ورد زبان تھی، سختیوں اور پریشانیوں میں صبر و بردباری کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت حالات میں اپنے امام علیہ لسلام کی مکمل اطاعت کیا کرتے تھے۔ اور ان تمام نیک صفات کے ساتھ ان کے یہاں شیعوں کی رہبری کی لیاقت بھی پائی جاتی تھی، نیز مکمل فہم و شعور اور حالات کی شناخت کے ساتھ اپنے پاس موجود وسائل کے ذریعہ شیعہ معاشرہ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرماتے تھے اور مومنین کو پل غیبت صغریٰ سے صحیح و سالم گزار دیا۔غیبت صغریٰ اور امام اور اُمت کے درمیان رابطہ ایجاد کرنے میں نواب اربعہ کے کردار کا ایک عمیق مطالعہ امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اس حصہ کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے، اس رابطہ کا وجود اور غیبت صغریٰ میں بعض شیعوں کا امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہونا بارہویں امام اور آخری حجت خدا کی ولادت کے اثبات میں بھی بہت موثر رہا ہے اور یہ اہم نتائج اس زمانہ میں حاصل ہوئے کہ جب دشمنوں کی یہ کوشش تھی کہ شیعوں کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند کی پیدائش کے حوالہ سے شک و تردید میں ڈال دیں، اس کے علاوہ غیبت صغریٰ کا یہ زمانہ غیبت کبریٰ کی شروععات کےلئے ایک ہموار راستہ تھا جس میں مومنین اپنے امام سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے لیکن اطمینان اور یقین کے ساتھ امام علیہ السلام کے وجود اور ان کے برکات سے فیضیاب ہوتے ہوئے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں داخل ہو گئے
۔ة....ة....ة....ة....ة
غیبت کبریٰ
امام مہدی علیہ السلام کے چوتھے نائب کی زندگی کے آخری دنوں میں آپعلیہ السلام نے ان کے نام خط میں یوں تحریر فرمایا:

بِس مِ اللّٰہِ الرَّح مٰنِ الرَّحِی م
اے علی بن محمد سمری! خداوند عالم آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عنایت فرمائے کیونکہ آپ چھ دن کے بعد عالم بقاءکی طرف کوچ کر جائیں گے، اسی وجہ سے اپنے کاموں کو خوب دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کسی کو اپنا وصی نہ بناﺅ! کیونکہ مکمل (اور طولانی) غیبت کا زمانہ پہنچ گیا ہے، اس کے بعد سے مجھے نہیں دیکھ پاﺅ گے، جب تک خدا کا حکم ہو گا، اور اس کے بعد ایک طویل مدت ہو گی جس میں دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۵۶۳، ص ۵۹۳)
اس بنا پر بارہویں امام علیہ السلام کے آخری نائب کی وفات کے بعد ۹۲۳ھ سے ”غیبت کبریٰ“ کا آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے جب تک کہ خدا کی مرضی سے غیبت کے بادل چھٹ جائیں اور یہ دُنیا ولایت و امامت کے چمکتے ہوئے سورج سے براہ راست فیضیاب ہو۔
جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ غیبت صغریٰ میں شیعہ اورمومنین امام علیہ السلام کے مخصوص نائب کے ذریعہ اپنے امام سے رابطہ رکھتے تھے اور اپنے الٰہی فرائض سے آگاہ ہوتے تھے لیکن غیبت کبریٰ میں اس کا رابطہ کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مومنین اپنے فرائض کی شناخت کے لئے امام علیہ السلام کے عام نائبین جو کہ دینی علماءو مراجع تقلید ہیں ان کی طرف رجوع کرنے لگیں اور یہ واضح راستہ ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اپنے ایک قابل اعتماد عظیم الشان عالم کے سامنے پیش کیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے دوسرے نائب خاص کے ذریعہ پہنچے ہوئے خط میں اس طرح تحریر ہے:
﴾وَ اَمَّا ال حَوَادِث ال وَاقِعَةُ فَار جَعُو ا اِلٰی رُواةِ حَدِی ثَنَا فَانَّہُم حُجَّتِی عَلَی کُم وَ اَنَا حُجَّةُ اللّٰہِ عَلَی ہِم ۔﴿ (کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ص ۶۳۲)
”اور آئندہ پیش آئے والے حوادث اور واقعات (نیز مختلف مسائل میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی پہچان کےلئے) ہماری احادیث کے راویوں (فقہائ) کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اورمیں ان پر خدا کی حجت ہیں........“۔
دینی سوالات کے جواب کے لئے اور ان سے اہم یہ کہ شیعوں کے شخصی اور معاشرتی فرائض کی پہچان کے لئے یہ نیا طریقہ کار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امامت و رہبری کا عظیم الشان نظام، شیعہ ثقافت میں ایک بہترین اور زندہ نظام ہے جس میں مختلف حالات میں مومنین کی ہدایت اور رہبری بہت ہی مستحکم طریقہ پر انجام پاتی ہے اور اس مکتب کے ماننے والوں کو کسی بھی زمانہ میں ہدایت کے سرچشمہ کے بغیر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ ان کی شخصی اورمعاشرتی زندگی کے مختلف حصوں میں ان کے مسائل کو دینی علماءاور پرہیزگاراور عادل و آگاہ مجتہدین کے سپرد کر دیا گیا ہے جو مومنین کے دین اور دنیا کے امانت دار ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ کی کشتی دنیائے طوفان اورکفر و نفاق کے متلاطم دریا سے بحفاظت کنارہ ہدایت پر لگائیںنیزاستعمار کی غلط سیاست کے دلدل میں پھنسنے سے محفوظ رکھیںاور شیعہ عقائد کی سرحدوں کی حفاظت ہوتی رہے۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں دینی علماءکے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اگر ایسے علماءکرام نہ ہوتے جو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت میں لوگوں کو آپ کی طرف دعوت دیتے اور ان کو اپنے امام کی طرف ہدایت کرتے، نیز حجتوں اور خداوند عالم کے دینی مستحکم دلائل (جو کہ خود دین خدا ہے) کی حمایت نہ کرتے اور اگر نہ ہوتے ایسے بابصیرت علماءجو خدا کے بندوں کو شیطان اور شیطان صفت لوگوں نیز دشمنان اہل بیت علیہم السلام (کی دشمنی) کے جال سے نجات نہ دیتے تو پھر دین خدا پر کوئی باقی نہ رہتا! (اور سب دین سے خارج ہو جاتے) لیکن اُنہوں نے شیعوں کے (عقائد اور) افکار کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا جیسا کہ کشتی کا ناخدا کشتی میں سوار مسافروں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے۔ یہ علماءخداوند عالم کے نزدیک سب سے بہترین (بندے) ہیں“۔
(احتجاج، ج ۱، ح ۱۱، ص ۵۱)
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ معاشرہ کی رہبری کے لئے مخصوص صفات و کمالات درکار ہیں، کیونکہ مومنین کے دین و دُنیا کے امور کو ایسے شخص کے ہاتھوں میں دےا جائے جو اس عظیم ذمہ داری کے اہل ہوں تو ان افراد کا مکمل طور پر صاحب بصیرت اور صحیح تشخیص کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام نے دینی مراجع اور ان سے بڑھ کر ولی امر مسلمین ”ولی فقیہ“ کی مخصوص شرائط بیان کی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”فقہاء(کرام) اور دینی علماءمیں سے جو شخص (گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ کے مقابلہ میں) اپنے کو محفوظ رکھے اور دین (اور مومنین کے عقائد کا) محافظ ہو، اور اپنے نفس اور خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے (زمانہ کے) مولا و آقا (اور امام) کی اطاعت کرتا ہو تو مومنین پر واجب ہے کہ اس کی پیروی کریںاور اس کی تقلید کریں اور صرف بعض شیعہ فقہاءایسے ہوں گے نہ کہ سب “۔ ( احتجاج، ج۲، ص ۱۵۵)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے مراد ان کا حاضر نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ان کا دوسروں کی نگاہ اور توجہ سے پوشیدہ ہونا ہے۔
غیبت اور مخفی زندگی صرف امام عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ گذشتہ پیغمبروں کی ایک تعداد بھی غیبت کے عمل سے گزری ہے۔
روایات میں امام زمانہ عج اللّٰہ فرجہ الشریف کی غیبت کے دلائل کے حوالے سے مندرجہ ذیل اسباب: حضرت کی جان کی حفاظت، لوگوں کی آزمائش، لوگوں کو تنبیہ، ان پرکسی اور کی بیعت کا نہ ہونا وغیرہ نقل ہوئے ہیں۔
امام عصر کی دو غیبتیں ہیں، الف: غیبت صغریٰ کہ جو ۰۶۲ھ ہجری سے ۹۲۳ہجری تک جاری رہی۔ ب: غیبت کبریٰ کہ ج ۹۲۳ ہجری سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔
امام عصر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق غیبت کبریٰ کے زمانہ میں جامع الشرائط فقہاءاسلامی معاشرہ کے دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔

درس کے سوالات
۱۔غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح کریں؟
۲۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب میں سے کوئی تین اسباب کی وضاحت کریں؟
۳۔ محمد بن عثمان کتنے ائمہ علیہم السلام کے نائب اور خاص وکیل تھے اور کتنا عرصہ اس مقام پر فائز رہے؟
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاءکی مرجعیت کوکیسے بیان کیا ہے؟
۵۔ امام ھادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماءکے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟
ة....ة....ة....ة........ة
 

### جوابات:

**۱۔ غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح:**
غیبت کا مفہوم ”آنکھوں سے مخفی ہونا“ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور ان کو پہچانا نہیں جا سکتا حالانکہ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ امام کی یہ غیبت عوام سے ان کی حفاظت کے لیے اور ان کے زمانے کے خاص حالات کے پیش نظر ہوتی ہے۔

**۲۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب می کوئی سے تین اسباب کی وضاحت کریں:**
- **امام کی جان کی حفاظت:** امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا ایک اہم سبب ان کی جان کی حفاظت ہے۔ ان کی زندگی کو درپیش خطرات کی وجہ سے غیبت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دے سکیں۔
- **لوگوں کی آزمائش:** غیبت کا ایک دوسرا سبب لوگوں کی آزمائش ہے۔ خداوند عالم لوگوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور دینی استقامت کی جانچ ہو سکے۔
- **امام پر کسی اور کی بیعت کا نہ ہونا:** امام کی غیبت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ کسی ظالم حکمران یا ستمگر قوت کے ساتھ کوئی سیاسی یا اجتماعی معاہدہ نہیں کر سکتے۔ اس طرح ان کی غیبت لوگوں کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر عادلانہ طاقت کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔

**۳۔ محمد بن عثمان کی نیابت کی مدت:**
محمد بن عثمان عمری امام حسن عسکری علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے نائب تھے۔ وہ تقریباً پچیس سال تک امام مہدی علیہ السلام کے نائب خاص کے طور پر فعال رہے۔

**۴۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاء کی مرجعیت کو کیسے بیان کیا ہے؟**
امام مہدی علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے دوران فقہاء کو اپنا نائب قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مومنین کو ان کے فرائض اور دینی معاملات کی رہنمائی کے لئے فقہاء کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہ امام کی غیر حاضری میں امام کی حجت کو برقرار رکھتے ہیں۔

**۵۔ امام ہادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماء کے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟**
امام ہادی علیہ السلام نے علماء کرام کے کردار کو کشتی کے ناخدا سے تشبیہ دی ہے، جو کشتی میں سوار مسافروں کو محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچاتا ہے۔ امام ہادی علیہ السلام کی یہ تشبیہ زور دیتی ہے کہ علماء کرام دینی رہنمائی اور تعلیم میں مومنین کے لئے ایک محافظ کا کردار ادا کرتے ہیں، جس طرح ایک ناخدا اپنے مسافروں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس طرح وہ دینی و ایمانی چیلنجز کے دوران مومنین کی راہنمائی اور حفاظت کرتے ہیں، تاکہ وہ راستے

سوال 5 جواب 


امام ہادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماء کے کردار اور عظمت کو کشتی کے ناخدا سے تشبیہ دی ہے، جو اپنی کشتی کے مسافروں کو طوفانی سمندر میں محفوظ رکھتا ہے اور انہیں سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ تشبیہ ان علماء کی اہمیت اور ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ کس طرح دینی ہدایت اور تعلیمات کو برقرار رکھتے ہوئے، مومنین کو دین سے متعلق شکوک و شبہات اور بدعتوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں صحیح اسلامی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔


نوٹ یہ استاد محترم آغا علی اصغر سیفی 





غیبت  امام زمان  عج اور اس کے اسباب



 ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الہیٰ  کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔




مقدمہ: ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الہیٰ کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔ قاعدہ لطف{کلامی وعقلی قاعدہ} کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ امام معصوم کی غیبت ایک امر عارضی ہے جو اصل اولی{ضرورت وجودامام معصوم} کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ محقق طوسی اس بارے میں لکھتےہیں :{وجوده لطف،وتصرفه لطف آخروعدمه منا}1۔ امام کا وجودبھی لطف{اطاعت و مصالح سےنزدیک اور معاصی و مفاسد سے دور کرنےوالا }ہے اور امام کا تصرف ایک الگ لطف ہے اور ان کا ظاہرنہ ہونا ہماری وجہ سے ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی جیساکہ آپ ؑفرماتے ہیں :{اللهم بلی! لا تخلوا الارض من قائم الله بحجته ،اما ظاهرا مشهورا و اما خائفا مغمورا،لئلاتبطل حجج الله و بیناته}2۔ خدایا !بے شک زمین حجت الہیٰ اور قیام کرنے والے سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ ظاہر و آشکار ہو یا خائف و مخفی تاکہ خدا کی حجتیں اور براہین تمام نہ ہونے پائیں”۔

بعض احادیث جیسے حدیث ثقلین اور حدیث ائمہ اثنا عشر قیامت تک امام معصوم کی موجودگی پر دلالت کرتی ہیں ۔

تاریخی شواہد سے بھی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آپ{عج}کی ولادت معین زمانے میں مخصوص مقام پر ہوئی ہےکیونکہ افراد کی ولادت اور موت کے بارے میں جاننے کا متعارف طریقہ یہی تاریخی شواہد ہیں جن پر استناد کیا جاتا ہے۔

ان افراد کے نقل کے مطابق جنہوں نے اما م حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانےمیں آپ ؑکے گھر میں امام زمان{عج}سے ملاقات کئے اور وہ افراد جنہوں نےغیبت صغری کے زمانے میں آپ{عج}سے ملاقات کا شرف حاصل کیا جن میں نواب اربعہ سر فہرست ہیں ۔نواب اربعہ شیعوں کے برجستہ ترین شخصیات میں سے تھے جواپنے زمانے میں پرہیزگاری کے لحاظ سے بے نظیر تھے۔

ان افراد کے نقل کے مطابق جنہوں نے غیبت کبری کےعرصے میں آپ{عج}سےملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ یہ گزارشات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے جعلی ہونے کا احتمال منتفی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی صحت کے بارے میں انسان کو یقین ہو جاتا ہے۔

انبیاء کی تاریخ میں مسئلہ غیبت ایک واضح مسئلہ تھا۔بعض اولیاء کا محدود مدت کے لئے لوگوں کے درمیان سے غائب ہونا گذشتہ امتوں میں بھی معمول رہا ہے چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام ،حضرت موسی علیہ السلام اورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگانی میں اس کے نمونے دیکھ سکتے ہیں : حضرت یونس علیہ السلام ایک مدت تک اپنی امت سے غائب رہے ۔ 3۔ حضرت موسی علیہ السلام چالیس دن تک اپنی امت سےغائب رہےاور انہوں نے یہ ایام میقات میں بسر کئے ۔4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت چند مدت تک اپنی امت کےپاس نہیں رہے ۔ 5۔ ان میں سے کسی بھی مورد میں ان افراد کی نبوت اور رسالت پر اعتراض نہیں کیا گیا ہے ۔واضح ہے کہ اگر غیبت مقام نبوت اورمقام امامت کے ساتھ منافات رکھتی تو زمان کےمختصر اور طولانی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بنابریں امام زمانہ{عج} کی غیبت کے طولانی ہونےکو آپ {عج} کی امامت کے ساتھ ناسازگا ر نہیں سمجھنا چاہیے ۔

امام زمانہ{عج} کی غیبت کے اسباب کے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں کچھ مطالب بیان ہوئے ہیں ذیل میں ہم ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

1۔راز الہی:

بعض روایات میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کا فلسفہ آپ {عج} کے ظہور سے پہلے پوری طرح واضح نہیں ہوگا جبکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ {عج} کے وجود کے بارے میں موجود دلائل سے آشنا ہونے کےبعد اسے تسلیم کرے اور آپ {عج} کی غیبت کے اسرار کومکمل طورپردرک نہ کرنے کی وجہ سے شک و تردید کا شکار نہ ہو ۔ شیخ صدوق رہ عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سےسنا :صاحب الامرکے لئے یقینا ایک غیبت ہوگی جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس دوران ہر اہل باطل شک و شبہ میں مبتلا ہو جائے گا۔میں نے عرض کی :میری جان آپ پر قربان !ایسا کیوں ہے ؟فرمایا:وہی حکمت ہے جو ان سے پہلے خدا کی حجتوں کے غائب ہونے کی تھی ۔ یقینا غیبت کی حکمت اسی وقت ظاہر ہوگی جب ان کا ظہور ہو جائےگا بالکل اسی طرح جیسے حضرت خضرعلیہ السلام کے امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنے ،لڑکے کو جان سے مار دینے اور دیوار بنانے کا راز حضرت موسیعلیہ السلام کو اس وقت معلوم ہو ا جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ۔ اے فرزندِ فضل یہ غیبت خداکے امور میں سے ایک امر ہے ،اسرار الہیٰ میں سے ایک سر ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ خداوند عالم حکیم ہے اور ہم نے یہ گواہی دی ہے کہ اس کا ہرقول وفعل حکمت کے مطابق ہے چاہے اس کا راز ہم پرپوشیدہ ہی کیوں نہ ہو۔6۔

2۔قتل کا خوف:

بہت ساری احادیث کے مطابق امام زمانہ{عج}کی غیبت کا ایک سبب قتل ہونے کا خوف ہے ۔ 7۔ جیساکہ جناب زرارہ امام باقرعلیہ السلام سے نقل کرتےہیں کہ آپؑ نے فرمایا:قائم آل محمد کے لئے قیام کرنے سے پہلے ایک غیبت ہے ۔میں نے عرض کیا کس لئے؟ فرمایا:{یخاف القتل} 8۔اس لئےکہ ان کی جان کے لئےخطرہ ہے ۔ قتل سے ڈرنے کا دو ہی سبب ہو سکتاہے ۔ ایک یہ کہ انسان دنیوی لذتوں سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتا ہے دوسرایہ کہ اس کےاوپر سنگین ذمہ داریاں عائد ہیں جن کو انجام دینے کے لئے اسے اپنی جان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ان میں سے پہلی قسم مذموم جبکہ دوسری قسم ممدوح ہے بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر غارحرا میں پناہ لیا ۔امام زمان عج کے بارے میں بھی قتل ہونے کا خوف اسی طرح ہے۔ عقلی و نقلی دلائل کےمطابق آپ {عج} زمین پر آخری حجت الہیٰ ہیں ۔ آپ{عج} پرچم توحید کو پوری دنیا میں لہرانے اور دین اسلام کو پوری دنیا پر حاکم کرنے پر مامور ہیں۔علاوہ ازیں ظالم و جابر حکمران اپنے ناجائز منافع کی حصول کے راستے میں آپ{عج}کے وجود کو مانع سمجھتے ہیں ۔طبیعی بات ہے کہ یہ افراد آپ {عج} کو قتل کرنےکے لئے ہر طرح کا منصوبہ اور حربہ استعمال کریں گے۔ اس صورتحال میں آپ{عج} کی حفاظت کا بہترین طریقہ آپ{عج}کی غیبت ہے ۔

یہاں ممکن ہےکوئی اس طرح اعتراض کرے کہ خداوند متعال معجزے کےذریعے آپ {عج} کی حفاظت کرسکتاہے مثلا اس طر ح کہ کسی اسلحہ یا زہر کا اثر آپ {عج} کے بدن پر نہ ہو۔جس کے نتیجے میں آپ {عج} ظاہر بھی ہوتے اور لوگ آپ {عج} کے وجود سےزیادہ استفادہ کرتے کیونکہ اس صورت میں آپ {عج}کے وجود کو کسی قسم کا بھی خطرہ نہیں تھا ۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کسی فرد کی جان کی حفاظت کےلئےمعجزے سے استفادہ کرنا ایک استثنائی بات ہے جس سے صرف خاص موارد میں استفادہ کیا جاتاہے جبکہ اولیاءاور حجت الہیٰ کےبارے میں مشیت الہیٰ یہ ہے کہ یہ افراد لوگوں کے درمیان طبیعی زندگی گزاریں اور طبیعت پرمبنی قوانین ان کے درمیان یکساں جاری ہو ، تاکہ قانون امتحان و آزمائش الہیٰ محقق ہو ۔واضح ہےکہ اگر امام خاص شرائط کے ساتھ زندگی گزاریں تو سب لوگ اجباری اور غیرعادی طریقے سےان پر ایمان لائیں گے ۔ علاوہ ازیں ممکن ہے انہیں مافوق بشر قرار دیتےہوئے ان کی پرستش شروع کردیں۔ یہ سب معجزہ کے ذریعے امام کی حفاظت کرنے اور آپ {عج}کے لوگوں کے درمیان رہنے کے نامطلوب نتائج میں سے ہیں ۔

شیخ طوسی رہ اس بارے میں تحریر فرماتے ہیں :اگر کوئی اعتراض کرے کہ خدا نے امام اور اس کے قاتل کے درمیان مانع ایجاد کر کے آپ {عج} کی حفاظت کیوں نہیں کی ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام انسانوں کو مکلف کرنے کے فلسفے کے ساتھ ناسازگار ہے کیونکہ انسانوں کو مکلف کرنے کا مقصد ان کوجزا وسزا کامستحق بنانا ہے جبکہ ایسی صورت میں مانع ایجاد کرنا اس مقصد کے ساتھ منافات رکھتاہے ۔ 9۔

اعتراض و جواب:

امام زمانہ{عج}اور ان کے آباء و اجداد کے درمیان کیا فرق ہے کہ وہ غیبت میں نہیں رہیں بلکہ لوگوں کے پاس ظاہر تھے جبکہ آپ {عج} غائب ہیں اور آپ تک لوگوں کی رسائی بھی نہیں ؟

پہلاجواب:آپ {عج}کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ{عج}اگر ظاہر ہوں تو ظالم و جابر افراد کے مقابلے میں تقیہ نہیں کریں گے جبکہ اس صورت میں آپ{عج}کے قتل کا خطرہ زیادہ ہے ۔

دوسراجواب:ہر امام کی شہادت کے بعددوسرے امام نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول فرمائی اور انسانوں کی رہبری کی لیکن آپ {عج} آخری امام ہیں اور اگر شہید ہو گئے تو کوئی ایسا فرد نہیں ہےجو اس عظیم ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ 10۔

3۔ مومنین کا امتحان:

خداوند متعال کی ایک سنت جو ہمیشہ سے مومنین کے بارے میں جاری رہی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے :{ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُترْكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُونَ.وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِين}11۔ کیالوگوں نےیہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنےسےچھوڑدیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟ اور بتحقیق ہم نے ان سے پہلے والوں کوبھی آزما چکےہیں کیونکہ اللہ کوبہر حال یہ واضح کرناہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرورواضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں۔

امام زمان {عج}کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب مومنین کا امتحان اور ان کی آزمائش ہے جو متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے ۔ 12۔ کتاب منتخب الاثر میں اس بارے میں چوبیس احادیث نقل ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب امام زمانہ{عج} کے ظہور اور حکومت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔امام صادقعلیہ السلامنے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: یہ امر{ظہور}تمہارےسامنے نہیں آئے گا مگر ناامیدی کے بعد ۔ خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک تم{مومن اور منافق}ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک اہل شقاوت و اہل سعادت ایک دوسرے سےجدا نہ ہو جائیں ۔ 13۔

شیخ طوسی رہ اس بارے میں لکھتے ہیں:جن روایات میں امام زمانہ{عج}کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب شیعوں کا امتحان اور ان کی آزمائش قرار دی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مسئلہ امام کی غیبت پر مترتب ہونےوالےنتائج میں سے ایک ہے اور ایسا نہیں ہے کہ امتحان و آزمائش امام {عج} کی غیبت کا اصلی مقصد ہے بلکہ امام {عج}کی غیبت کا اصلی سبب آپ{عج} کے قتل ہونے کا خوف ہے جبکہ آزمائش و امتحان غیبت کے نتائج اوراہداف میں سے ہیں۔ 14۔

غیبت کی کیفیت:

امام زمانہ{عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دو احتمال قابل بحث ہیں ۔پہلا احتمال یہ کہ حقیقت میں آپ {عج} کا وجود لوگوں سے پنہاں ہے۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ {عج} ایسے جگے پر زندگی کر رہے ہیں جہاں دوسراکوئی انسان موجود نہیں ہے یا یہ کہ آپ {عج} لوگوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن معجزانہ طور پر لوگ آپ {عج} کو نہیں دیکھتے یا آپ کو نہیں پہچانتے ۔آپ {عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں نقل شدہ احادیث دونوں احتمال کے ساتھ سازگار ہیں ۔ جیساکہ شیخ صدوق رہ ریان بن صلت سےنقل کرتے ہیں کہ امام رضاعلیہ السلام نے امام زمانہ{عج} کے بارے میں فرمایا :{لایری جسمه ولا یسمی باسمه}15۔نہ ان کے جسم کو دیکھا جا سکتاہے اور نہ ان کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ عبید بن زرارۃ سے ایک حدیث منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ ؑفرمارہے تھے:لوگ اپنے امام کو نہیں پائیں گے جبکہ وہ حج کے موسم میں حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھتے ۔16۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سےایک اور حدیث نقل ہوئی ہے جس میں آپ ؑفرماتے ہیں :ساتویں امام کے پانچویں فرزند کا وجود تم لوگوں سے پنہان ہو گا اور ان کانام لینا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ۔17۔ اس احتمال پر عقیدہ رکھنےوالوں کا نظریہ یہ ہے کہ جہاں پر مصلحت موجود ہو وہاں امام {عج} کے وجود کو پہچانا جائے گا۔بنابریں جن افراد نے آپ {عج} کے حضور میں شرفیاب ہونے کا دعوی کیا ہے وہ بھی اس احتمال کے ساتھ سازگار ہےجبکہ دوسرے احتمال کےساتھ مربوط بعض روایات کچھ اس طرح ہیں :

1۔ شیخ طوسی رہ محمد بن عثمان عمری { امام زمان{عج}کےدوسرے نائب خاص }سے نقل کرتے ہیں :{و الله ان صاحب هذا الامر لیحضر الموسم کل سنة و یعرفهم و یرونه و لا یعرفونه} 18۔ خدا کی قسم! امام زمانہ{عج} ہر سال حج کے موسم میں حاضر ہو کر لوگوں کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں اور دوسرے افراد بھی آپ {عج} کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں ۔

2۔محمد بن عثمان عمری سے نقل ہے کہ آپ{عج} کا نام لینا اس لئے جائز نہیں کیونکہ اگر آپ{عج} کا نام لیا جائے تو دشمن آسانی سے آپ {عج} کو پہچان لیں گے ۔19۔ واضح ہے کہ اگر آپ {عج}لوگوں کی نظروں سے سے غائب ہوں توپھر آپ {عج}کا نام لینا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعے دشمن آپ {عج} کو نہیں پہچان سکتے ۔

3۔ابوسہل نوبختی سے جب سوال کیاگیا کہ آپ امام زمانہ{عج}کےنائب کیوںمنتخب نہیں ہوئے جبکہ ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی کو اس منصب کےلئے انتخاب کیاگیا ہے ؟ تو انہوں نےجواب دیا :امام اپنے کاموں کی حکمت سےزیادہ واقف ہیں ۔ میں ہمیشہ دشمنوں سےملاقات کرتاہوں اور ان کے ساتھ بحث و مناظرہ کرتا ہوں اوراگر بحث کے دوران کبھی مجھے مشکل کا سامناکرنا پڑے تو ممکن ہے کہ میں امام {عج} کے قیام کرنے کی جگہ دشمنوں کو دکھا دوں لیکن ابوالقاسم نوبختی ایمان اور استقامت کا پیکر ہے اگر امام زمانہ{عج} اس کے پاس موجود ہو اور اس کے بدن کے ٹکڑےٹکڑے کر دئیے جائیں تب بھی وہ امام {عج}کی مخفی گاہ کودشمنوں کو نہیں دکھائیں گے۔ 20۔ واضح ہے کہ امام کی مخفی گاہ دشمنوں کو دکھانا اس وقت خطرناک ہوگا جب لوگ آپ {عج}کے وجود مبارک کو دیکھ سکیں ۔

خلاصہ یہ کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دونوں احتمالات قابل قبول ہیں اور یہ احتمالات ایک دوسرے کے ساتھ منافات بھی نہیں رکھتے اوریہ مطلب کہ لوگ آپ {عج}کو دیکھیں گے لیکن نہیں پہچانیں گےیا یہ کہ اصلاًکوئی آپ {عج}کو نہیں دیکھ سکتا،یہ تمام مطالب شرائط ،مصالح اور افراد کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس بارے میں ایک عام قانون بیان نہیں کر سکتےکیونکہ امام زمانہ{عج }مصلحت کے مطابق ہی عمل کریں گے۔


نوٹ یہ حوزه نیوز ایجنسی سے کاپی کیا ہے
 



مہدویت نامہ
 

مہدوی معارف پر ابتدائی کورس


(کورس ون)
ساتواں درس
امام غائب کے فائدے
مقاصد:
۱۔ امام غائب کی نسبت لوگوں کی معرفت و شناخت میں اضافہ
۲۔ کائنات میں امام علیہ السلام کے مقام اور ان کے وظائف پر توجہ

فوائد:
۱۔ لوگوں کے حضرت علیہ السلام کی نسبت عقیدہ کا استحکام
۲۔ امام علیہ السلام کی عظمتوں سے آگاہی
۳۔ حضرت کی عنایات سے بہرہ مند ہونے اور ان کی قربت کے لئے کوشش کرن

تعلیمی مطالب:
۱۔ کائنات میں امام کی مرکزی حیثیت
۲۔اطمینان اور سکون کا حصول
۳۔ شیعہ مکتب کی پائیداری
۴۔ الٰہی اسرار اور علوم کی حفاظت
۵۔ باطنی ہدایت اور نفوس کی تہذیب

امام غائب کے فوائد

سینکڑوں سال سے انسانی معاشرہ حجت خدا کے فیض کے ظہور سے محروم ہے اور اُمت اسلامی اس آسمانی رہبر اور امام معصوم کے حضور میں مشرف ہونے سے قاصر ہے۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکے غیبت میں ہونے اور ان کی مخفیانہ زندگی نیز عمومی رسائی سے دور ہونے کی صورت میں اس کائنات اور اس میں موجود انسانوں کے لئے کیا فوائد رکھتی ہے؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ظہور کے نزدیک ان کی پیدائش ہوتی اور ان کی غیبت کے سخت زمانہ کو ان کے شیعہ نہ دیکھتے؟
یہ سوال اور اس طرح کے دوسرے سولات امام اور حجت الٰہی کی (صحیح) پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ درحقیقت اس کائنات میں امام کا مرتبہ کیا ہے؟ کیا ان کے وجود کے تمام آثار ان کے ظہور پر ہی موقوف ہیں؟ اور کیا وہ صرف لوگوں کی ہدایت کے لئے ہیں یا ان کا وجود تمام ہی موجودات کے لئے مفید اثرات اور برکات کا حامل ہے؟

امام کا کائنات کے لئے محور و مرکز ہونا

شیعہ نقطہ نگاہ اور دینی تعلیمات کے پیش نظر امام کل کائنات کے تمام موجودات کے لئے خدا کے فیض کا واسطہ ہے۔ وہ نظام کائنات میں محور اور مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے وجود کے بغیر کائنات، جنات، ملائکہ، حیوانات اور جمادات کا نام و نشان تک نہ رہتا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر زمین پر امام کا وجود نہ ہو تو اسی وقت زمین فنا ہو جائے“۔ (اصول کافی، ج۱، ص ۱۰۲)
چونکہ وہ لوگوں تک خدا کے پیغام کا پہنچانے اور انسانی کمال تک ان کی ہدایت کرنے میں واسطہ ہیں اور تمام موجودات تک ہر طرح کا فیض و کرم الٰہی ان کے سبب سے پہنچتا ہے، نیز یہ بات واضح اور روشن ہے کہ خداوند عالم نے شروع ہی سے انبیاءعلیہم السلام کے ذریعہ اور پھر ان کے جانشینوں کے ذریعہ انسانی قافلہ کی ہدایت کی ہے لیکن معصومین علیہم السلام کے کلام سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کائنات میں آئمہ (علیہم السلام) کا وجود ہر چھوٹے بڑے وجود کے لئے خداوند عالم کی طرف سے ہر نعمت اور فیض میں واسطہ ہے۔ واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ تمام موجودات خداوند عالم کی طرف سے جو کچھ بھی فیض اور عطا حاصل کرتے ہیں وہ امام کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، ساری اشیاءکاخود وجود بھی امام کے واسطہ کی بنا پر ہے اور اپنی زندگی میں جو کچھ بھی وہ حاصل کرتے ہیں ان میں بھی امام کی ذات واسطہ ہے۔
زیارت جامعہ (جو واقعاً امام کی پہچان کی ایک جامع کتاب ہے) کے ایک فقرہ میں اس طرح بیان ہوا ہے:
﴾بِکُم فَتَحَ اللّٰہُ وَ بِکُم یَخ تِم وَ بِکُم یُنَزَّلُ ال غَی تَ وَ بِکُم یُمسِک السَّمَائَ اَن تَقَعَ عَلَی ال اَر ضِ الاَّ بِاِذ نِہَ۔﴿ (مفاتیح الجنان، زیارت جامعہ کبیرہ، نوٹ: یہ زیارت حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے منقول ہے اور سند اور تحریر کے لحاظ سے ایک عظیم الشان زیارت ہے اور ہمیشہ شیعہ علماءکی خصوصی توجہ کی حامل رہی ہے۔)
”(اے ائمہ معصومین علیہم السلام) خداوند عالم نے (کائنات کا) آغاز آپ سے کیا، آپ ہی پراس کااختتام ہوگا،اور آپ کے توسط سے باران رحمت نازل کرتا ہے اور آپ کے (وجود کی برکت سے) آسمان کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھے ہوئے ہے زمین پر آسمان اللہ کے ارادہ ہی سے گر سکتا ہے“۔
بہرکیف امام علیہ السلام کے وجودی آثار صرف ان کے ظہور کے کی حالت میں منحصر نہیں بلکہ ان کا وجود کائنات میں (یہاں تک ان کی غیبت کے زمانہ میں بھی) مخلوقات الٰہی میں تمام موجودات کے لئے سرچشمہ حیات ہے، اور خود خداوند عالم کی مرضی یہی ہے کہ سب سے بلند و بالا اور سب سے کامل موجود فیض الٰہی حاصل کرکے دوسری مخلوقات تک پہنچانے میں واسطہ ہو لہٰذا اس صورت میں غیبت اور ظہور کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ جی ہاں! سب امام علیہ السلام کے وجود کے آثار سے فیضیاب ہوتے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اس سلسلہ میں کوئی مانع نہیں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام سے آپ کی غیبت کے زمانہ میں فیضیاب ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو آپعلیہ السلام فرماتے ہیں:
﴾وَ امَّا وَجہ الاِن تِفَاعِ بِی فِی غَی بَتِی فَکا الاِن تفَاعِ بِالشَّم سِ اِذَا غَیَّبَتَہَا عَنِ ال اَب صَارِ السَّحَابُ﴿ ( احتجاج، ج ۲، ش ۴۴۳، ص ۲۴۵)
”میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے فائدہ اُٹھانا اسی طرح ہے جس طرح سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے جبکہ وہ بادلوں میں چھپ جاتا ہے“۔ امام مہدی علیہ السلام نے اپنی مثال سورج جیسی اور غیبت کی مثال بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کی دی ہے جس میں بہت سے نکات پائے جاتے ہیں لہذا ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
سورج، نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے سیارے اس کے گرد گردش کرتے ہیں، اسی طرح امام عصر علیہ السلام کا وجود گرامی بھی کائنات کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ساری کائنات آپ کے وجود کے گرد گھومتی ہے۔
﴾بِبَقَائِہَ بَقِیَتِ الدُّن یَا وَ بِی مِنِہ رُزِقَ الوَریٰ وَ بِوُجُو دِہِ ثَبَتتَ ال اَر ضِ وَالسَّمَائُ﴿ (مفاتیح الجنان، دعای عدیا)
”اس (امام) کی وجہ سے دنیا باقی ہے اور اس کے وجود کی برکت سے کائنات کے ہر موجود کو روزی ملتی ہے اور اس کے وجود کی خاطر زمین اور آسمان باقی ہیں“۔
سورج ایک لمحہ کے لئے بھی نور افشانی میں کنجوسی نہیں کرتا اور ہر چیز اپنے رابطہ کے لحاظ سے سورج کے نور سے فیضیاب ہوتی ہے۔ چنانچہ حصرت ولی عصر علیہ السلام کا وجود بھی تمام مادی اور معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے میں واسطہ ہے، ہر شخص اورہرشئی اس مرکز کے کمالات سے اپنے رابطہ کے مطابق فیض حاصل کرتی ہے۔
اگر یہ سورج بادلوں کے پیچھے موجود نہ رہے تو پھر اس قدر ٹھنڈک اور اندھیرا ہو جائے گا کہ کوئی بھی جاندار زمین پر زندہ نہیں رہ سکے گا اسی طرح اگر یہ کائنات امام علیہ السلام کے وجود سے محروم ہو جائے (اگر چہ پردہ غیبت میں بھی نہ ہو) تو پھر مشکلات، پریشانیاں اور مختلف بلائیں انسانی زندگی کو آگے بڑھنے میں مانع ہو جائیں گی اور تمام موجودات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) شیخ مفید علیہ الرحمہ کو ایک خط لکھتے ہیں جس میں اپنے شیعوں سے خطاب فرماتے ہیں:
﴾اِنَّا غَی ر مُہ مِلِی نَ لِمُرَاعَاتِکُم وَلٰا نَاسِینَ لِذِک رِکُم وَ لَو لَا ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُم الاَّوَائُ وَ اص طَلَمَکُم الاعدَائُ﴿ (احتجاج، ج ۲، شہ ۹۵۳، ص ۸۹۵)
”ہم تم کو ہرگز اپنے حال پر نہیں چھوڑتے اور ہرگز تمہیں نہیں بھولتے، اگر (ہمیشہ ہماری توجہ) نہ ہوتی تو تم پر بہت سی سختیاں اور بلائیں نازل ہوتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے“۔لہٰذا امام علیہ السلام کے وجود کا سورج پوری کائنات پر چمکتا ہے اور تمام موجودات تک فیض پہنچاتا ہے اور ان تمام مخلوقات کے درمیان بشریت خصوصاً اسلامی معاشرہ، شیعہ اور ان کے پیروکاروں تک مزید خیر و برکت پہنچاتا ہے جن کے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:


اُمید کی کرن

انسانی زندگی کا اہم سرمایہ اُمید ہوتی ہے۔ اُمید ہی انسان کی زندگی میں مایہ حیات، نشاط و شادابی، امید، تحریک اور عمل کا باعث ہے۔ اس کائنات میں امام علیہ السلام کا وجود روشن مستقبل کی امید اور شوق و رغبت کا باعث ہے۔ شیعہ ہمیشہ سے اس چودہ سو سالہ تاریخ میں مختلف مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا رہے ہیں اور ظلم و ستم کے مدمقابل قیام کرنے اور ظالم و ستمگر کے سامنے تسلیم نہ ہونے میں جو چیز سب سے بڑی پشت پناہ تھی وہ بہترین مستقبل کی امید تھی۔ ایسا مستقبل جو کوئی خالی اور من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ ایسا مستقبل جو نزدیک ہے اور مزید نزدیک بھی ہو سکتا ہے ، کیونکہ جو شخص قیام اور انقلاب کی رہبری کا عہدہ دار ہے وہ زندہ ہے اور ہر وقت آمادہ اور تیار ہے، یہ تو ہم ہیں کہ ہمیں تیار ہونا چاہیے۔

مکتب کی پائیداری اور پاسداری

ہر معاشرہ کو اپنے نظام کی حفاظت اور ایک معین مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک مدبر رہبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی ہدایت کے مطابق معاشرہ صحیح راستہ پر قدم بڑھائے۔ معاشرہ کے لئے رہبر اور ہادی کا وجود بہت ہی اہم ہے تاکہ معاشرہ ایک بہترین نظام کے تحت اپنی حیثیت کو باقی رکھ سکے اور آئندہ کے پروگرام میں استحکام پیدا ہو سکے اور کمر ہمت باندھ لے۔ زندہ اور بہترین رہبر اگرچہ لوگوں کے درمیان نہ رہے لیکن پھر بھی اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے لئے پروگرام اور اصول پیش کرنے میں کوتاہی نہیںکرتا اور مختلف طریقوں سے منحرف راہوں سے خبردار کرتا رہتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں لیکن آپ کا وجود مذہب شیعہ کے تحفظ کے لئے بہترین سبب ہے۔ آپ علیہ السلام مکمل آگاہی کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے شیعہ عقائد کی مختلف طریقوں سے حفاظت کرتے ہیں اور جب مکار دشمن مختلف چالوں کے ذریعہ مکتب شیعہ کے اصول اور عقائد کو نشانہ بناتا ہے اس وقت امام علیہ السلام منتخب اشخاص اور علماءکی ہدایت و ارشاد کے ذریعہ دشمن کے مقصد کو ناکام بنا دیتے ہیں۔
نمونہ کے طور پر بحرین کے شیعوں کی نسبت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عنایت اور لطف کو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی زبانی سنتے ہیں:
”گذشتہ زمانوں کی بات ہے کہ میں بحرین میں ایک ناصبی حاکم حکومت کرتا تھا جس کا وزیر وہاں کے شیعوں سے بہت زیادہ شمنی رکھتا تھا۔ ایک روز وزیر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا، جس کے ہاتھ میں ایک انار تھا جس پر طبیعی طور یہ جملہ نقش تھا: ﴾لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، و ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلفاءرسول اللّٰہ۔﴿ بادشاہ اس انار کو دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا اور اس نے اپنے وزیر سے کہا: یہ تو شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی واضح اور آشکار دلیل ہے۔ بحرین کے شیعوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟ وزیر نے جواب دیا: میرے رائے کے مطابق ان کو حاضر کیا جائے اور یہ نشانی ان کو دکھائی جائے، اگر ان لوگوں نے مان لیا تو انہیں اپنا مذہب چھوڑنا ہو گا ورنہ تو تین چیزوں میں سے ایک ضرور ماننا ہو گا، یا تو اطمینان بخش جواب لے کر آئین یا جز یہ (جزیہ، اسلامی حکومت میں غیر مسلم پر اس سالانہ ٹیکس کو کہا جاتا ہے جس کے مقابلے میں وہ اسلامی حکومت کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں) دیا کریں، یا ان کے مردوں کو قتل کر دیں، ان کے اہل و عیال کو اسیر کر لین اور ان کے مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں۔
بادشاہ نے اس کے نظریہ کو قبول کیا اور شیعہ علماءکو اپنے پاس بلا بھیجا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کرتے ہوئے کہا: اگر اس سلسلہ میں واضح اور روشن دلیل پیش نہ کر سکے تو تمہیں قتل کر دُوں گا اور تمہارے اہل و عیال کو اسیر کر لوں گا یا تم لوگوں کو جزیہ دینا ہو گا۔ شیعہ علماءنے ا س سے تین دن کی مہلت مانگی، چنانچہ ان حضرات نے بحث و گفتگو کے بعد یہ طے کیا کہ اپنے درمیان سے بحرین کے دس صالح اور پرہیز گار علماءکا انتخاب کیا جائے اور وہ دس افراد اپنے درمیان تین لوگوں کا انتخاب کریں، چنانچہ ان تینوں میں سے ایک عالم سے کہا: آپ آج جنگل و بیابان میں نکل جائیں اور امام زمانہ علیہ السلام سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں کیونکہ وہی ہمارے امام اور ہمارے مالک ہیں۔
چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری رات دوسرے عالم کو بھیجا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا۔ آخری رات تیسرے عالم بزرگوار محمد بن عیسیٰ کو بھیجا چنانچہ وہ بھی جنگل و بیابان کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام علیہ السلام سے مدد طلب کی، جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: اے محمد بن عیسیٰ! میں تم کو اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں، اور تم جنگل و بیابان میں پریشان کیوں پھر رہے ہو؟ محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اُنہوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا صاحب الزمان ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو! محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ فرمایا: تم صحیح کہتے ہو تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو، اُنہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اﷲ علیہ) کے یہاں ایک انار کا درخت ہے جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹی کا ایک سانچا بنوایاہوا ہے اور اس پر یہ جملے لکھے ہیںاور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو باندھ دیاجاناہے اور جب وہ انادر بڑا ہو گیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہو گئے۔ تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جا کر دُوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاﺅ تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا۔ اور دوسری نشانی یہ ہے کہ بادشاہ سے کہنا ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس میں مٹی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہو گی۔
محمد بن عیسیٰ امام علیہ السلام علیہ کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماءکے پاس لوٹ آئے۔ دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا اس کا بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔
بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کر لیا اور حکم دیا کہ اس مکار وزیر کو قتل کر دیا جائے“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵، ص ۸۷۱)
اس واقعہ میں مسلمانوں کے درمیان کشت و خون بپا ہونے کا اندیشہ تھا تو اس جگہ امام علیہ السلام نے مظلوموں کی دادرسی کی ہے


خود سازی

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ قُل ا ع مَلُو ا فَسَیَرَی اللّٰہ عَمَلَکُم وَ رَسُو لَہُ وَال مُو مِنُو نَ۔﴿ ( سورہ توبہ، آیت ۵۰۱)
”اوراے پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو اﷲ، رسول اور صاحبان ایمان دیکھ رہے ہیں........“۔
روایات میں منقول ہے کہ آیہ شریفہ میں ”مومنین“ سے مراد ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں۔ (اصول کافی، باب عروض الاعمال، ص ۱۷۱) اس بنا پر مومنین کے اعمال امام زمانہ علیہ السلام کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور آپعلیہ السلام پردہ غیبت میں بھی ہمارے اعمال پر ناظر ہیں اور یہ چیز تربیت کے لحاظ سے بہت زیادہ اثرات کی حامل ہے اور شیعوں کو اپنی اصلاح کی ترغیب دلاتی ہے، یعنی حجت خدا اور نیکیوں کے امام کے سامنے برائیوں اور گناہوں سے آلودہ نہ ہونے سے روکتی ہے۔ البتہ یہ بات مسلم ہے کہ انسان اس پاکیزگی اور روحانیت کے مرکز پر جتنی توجہ کرے گا تو اس کے دل کا آئینہ بھی اتنی ہی پاکیزگی اور معنویت اس کی رُوح میں بھر دے گا اور یہ نور اس کی رفتار و گفتار میں نمایاں ہوتا جائے گا۔


علمی اور فکری پناہ گاہ

آئمہ معصومین علیہ السلام معاشرہ کے حقیقی معلم اور اصلی تربیت کرنے والے ہیں اور مومنین ہمیشہ انہی ہستیوں کے پاکیزہ و شفاف سرچشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ براہ راست امام علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہونے کی سعادت اور فیض حاصل نہیں کر سکتے لیکن الٰہی علوم کے یہ معدن ومرکز مختلف راستوں سے شیعوں کی علمی اور فکری مشکلات کو دور فرماتے ہیں۔ غیبت صغریٰ کے زمانہ میں مومنین اور علماءکے بہت سے سوالات کے جوابات امام علیہ السلام کے ذریعہ حل کئے گئے ہیں۔
(کمال الدین ، ج ۲، باب ۵۴، ص ۵۳۲ تا ۶۸۲)
امام زمانہ علیہ السلام اسحاق بن یعقوب کے سوال کرنے میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
”خداوند عالم تمہاری ہدایت کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے آپ نے جو سوال ہمارے خاندان اور چچازاد بھائیوں میں سے منکرین کے بارے ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے ساتھ کسی کی کوئی رشہ داری نہیں ہے لہٰذا جو شخص بھی میرا انکار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کا انجام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہے ........ اور جب تک تم اس مال کو پاکیزہ نہ کر لو ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے............
لیکن جو رقم آپ نے ہمارے لئے بھیجی ہے اس کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں کہ پاک و پاکیزہ ہے۔ اور جو شخص ہمارے مالک کو (اپنے لئے) حلال سمجھتا ہے اور اس کو ہضم کر لیتا ہے گویا وہ آتشِ جہنم کھا رہا ہے ........ اب رہا مجھ سے فیض حاصل کرنے کا مسئلہ تو جس طرح بادلوں میں چھپے سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے (اسی طرح مجھ سے بھی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے) اور میں اہل زمین کے لئے امان ہوں، جس طرح ستارے اہل آسمان کے لے امان ہیں اور جن چیزوں کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے بارے میں سوال نہ کرو، اور اس چیزکے بارے پوچھنے سے پرہیز کرو جس چیز کو تم سے طلب نہیں کیا گیا اور ہمارے ظہور کے لئے بہت دعائیں کیا کرو کہ جس میں تمہارے لے بھی فرج (اور آسانیاں) ہوں گی۔ اے اسحاق بن یعقوب تم پر ہمارا سلام ہو اور ان مومنین پر جو راہ ہدایت کو طے کرتے ہیں“۔
(کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ص ۷۳۲)
اس کے علاوہ غیبت صغری کے بعد بھی شیعہ علماءنے متعدد بار اپنی علمی اور فکری مشکلات کو امام علیہ السلام سے بیان کرکے اس کا راہ حل حاصل کیا ہے۔
میر علّام، مقدس اردبیلی کے شاگرد رقمطراز ہیں:
”آدھی رات ہو رہی تھی اور میں نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ اقدس میں تھا اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی علیہ الرحمہ ہیں، میں نے جلدسے خود کو چھپا لیا۔
وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہو چکا تھا اچانک میں نے دیکھا کہ دروازہ کھل گیا اور موصوف روضہ مقدس کے اندر داخل ہو گئے اور کچھ ہی مدت بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
میں چھپ کر اس طرح ان کے پیچھے چلنے لگا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ لیں، یہاں تک کہ و ہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے اور اس محراب کے پاس گئے جہاں پر حضرت علی علیہ السلام کو ضربت لگی تھی، کچھ دیر وہاں رہے اور پھر مسجد سے باہر نکلے اور پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے، میں پھر ان کے پیچھے پیچھے چل دیا یہاں تک کہ وہ مسجد حنانہ میں پہنچے، اچانک مجھے بے اختیار کھانسی آگئی، جیسے ہی اُنہوں نے میری آواز سنی میری طرف ایک نگاہ کی اور مجھے پہچان لیا اور فرمایا: آپ میر علّام ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! اُنہوں نے کہا: یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: جب سے آپ حضرت علی علیہ السلام کے روضہ میں داخل ہوئے تھے میں اسی وقت سے آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو اس صاحب قبر کے حق کا واسطہ جو واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کا راز بتائیں!
موصوف نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کے سامنے بیان نہ کرنا اور جب میں نے ان کو اطمینان دلایا تو اُنہوں نے فرمایا: جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کے لئے حضرت علی علیہ السلام سے توسل کرتا ہوں، آج کی رات بھی ایک مسئلہ میرے لئے مشکل ہو گیا اور اس کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں جاﺅں اور آپ ہی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کروں۔
جب میں روضہ مقدس کے پاس پہنچا تو جیسا کہ آپ نے بھی دیکھا کہ بند دروازہ کھل گیا، میں روضہ میں داخل ہوا، خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی تاکہ امام علی علیہ السلام کی بارگاہ سے اس مسئلہ کا حل مل جائے اچانک قبر منور سے آواز آئی کہ مسجد کوفہ میں جاﺅ اور حضرت قائم علیہ السلام سے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو کیونکہ وہی تمہارے امام زمانہ ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد (مسجد کوفہ میں) محراب کے پاس گیا اور امام مہدی علیہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کیا اور اب اس وقت اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵، ص ۴۷۱)

باطنی ہدایت اور رُوحانی نفوذ
امام لوگوں کی ہدایت اور رہبری کا عہدہ دار ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے نور ہدایت کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی ہدایت کرے لہٰذا خداوند عالم کی طرف سے اس ذمہ داری پر عمل کرنے کےلئے کبھی ظاہر بظاہر انسانوں سے براہ راست رابطہ برقرار کرتا ہے، اور اپنی حیات بخش رفتار و گفتگو سے ان کو سعادت اور کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے اور کبھی کبھی خداوند عالم کی عطاکردہ قدرت ولایت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے اور خاص توجہ اور مخصوص عنایت کے ذریعہ دلوں کو نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف مائل کر دیتا ہے اور ان کے لئے رشدہ و کمال کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس صورت میں امام علیہ السلام کا ظاہری طور پر حاضر ہونا اور ان سے براہ راست رابطہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اندرونی اور قلبی رابطہ کے ذریعہ ہدایت کر دی جاتی ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام اس سلسلہ میں امام کی کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خداوندا! تیری زمین پر تیری طرف سے حجت ہوتی ہے جو مخلوق کو تیرے دین کی طرف ہدایت کرتی ہے........ اور اگر اس کا ظاہری وجود لوگوں کے درمیان نہ ہو لیکن بے شک اس کی تعلیم اور اسکے (بتائے ہوئے) آداب مومنین کے دلوں میں موجود ہیں اور وہ اسی کے لحاظ سے عمل کرتے ہیں“۔ (اثبات الھداة، ج ۳، ح ۲۱۱، ص ۳۶۴)
امام پردہ غیبت میں رہ کر اسی طرح سے انقلاب اور قیام کےلئے کارآمد لوگوں کی ہدایت کی کوشش فرماتے ہیں اور جو لوگ لازمی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں وہ امام علیہ السلام کی خصوصی تربیت کے تحت آپ کے ظہور کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور یہ پردہ غیب میں رہنے والے امام کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے جو آپ کے وجود کی برکت سے انجام پاتا ہے۔


بلاﺅں سے امان

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امن و امان انسانی زندگی کا اصلی سرمایہ ہے، بسا اوقات کائنات میں مختلف حوادث کی وجہ سے تمام موجودات کی عمومی زندگی خطرناک مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے، اگرچہ بلاﺅں اور مصیبتوں کا سدّباب مادّی چیزوں کے ذریعہ ممکن ہے لیکن معنوی اسباب و عوامل بھی ان مواقع موثرہوتے ہیں۔ ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں نظام خلقت کے تمام مجموعہ کے لئے امام اور حجت خدا کا وجود زمین اور اس پر رہنے والوں کے لئے امن و امان کا سبب شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام زمانہ علیہ السلام خود فرماتے ہیں:
﴾وَ اِنِّی لَاَمَان µ لِاَہ لِ ال اَر ضِ﴿ (کمال الدین، ج۲، باب ۵۴، ح ۴، ص ۹۳۲)
”اور میں اہل زمین کے لئے (بلاﺅں سے) امان ہوں“۔
امام علیہ السلام کا وجود اس چیز میں مانع ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گناہوں اور برائیوں کی وجہ سے سخت عذاب الٰہی میں مبتلا ہو جائیں اور زمین اور اہل زمین کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔
اس سلسلہ میں قرآن کریم میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
﴾وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِی عَذِّبَہُم وَ اَن تَ فِی ہِم........﴿ (سورہ انفال، آیت ۳۳)
”حالانکہ اﷲ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک پیغمبر آپ کے ان کے درمیان ہیں........“۔
حضرت ولی عصر علیہ السلام جو رحمت اور محبت پروردگار کے مظہر ہیں وہ بھی اپنی خاص توجہ کے ذریعہ بڑی بڑی بلاﺅں کو خصوصاً ہر شیعہ سے دُور کرتے ہیں، اگرچہ بہت سے مقامات پر آپعلیہ السلام کے لطف و کرم کی طرف لوگ توجہ نہیں کر پاتے اور اپنی مدد کرنے والے کو نہیں پہچانتے! آپعلیہ السلام خود اپنی شناخت کے بارے میں فرماتے ہیں:
﴾اَنَا خَاتِم ال اَو صِیَائِ، وَ بِی یَد فَع اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ال بَلَائُ مِن اَہ لِی وَ شِی عَتِی ۔﴿ (کمال الدین ، ج۲، باب ۳۴، ح ۲۱، ص ۱۷۱)
”میں پیغمبر خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں اور خداوند عالم میرے (وجود کے سبب) میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاﺅںکو دُور کرتا ہے)“۔
انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی زمانہ میں اور دفاع مقدس (یعنی عراق سے جنگ کے دوران) امام زمانہ علیہ السلام کے لطف و کرم اور آپعلیہ السلام کی محبت کو بارہا اس قوم اور حکومت پر سایہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور آپ علیہ السلامنے اسلامی حکومت اور امامعلیہ السلام کے چاہنے والے شیعوں کو دشمن کی خطرناک سازشوں سے صحیح و سالم رکھا ہے۔ ایرانی شمسی سال ۷۵۳۱، ۱۲ بہمن (۹۷۹۱ عیسوی) میں سرنگوں ہونا اور ۳۸۹۱ عیسوی میں ”نوژہ“ نامی بغاوت کی ناکامی اور (عراق سے) آٹھ سال کی جنگ میں دشمن کی ناکامی اور بہت سی دوسری مثالیں اس بات پر زندہ گواہ ہیں۔


باران رحمت

کائنات کا عظیم مہدی موعود مسلمانوں کی آرزوﺅں کا قبلہ اور شیعوں کا قلبی محبوب (حضرت امام زمانہ علیہ السلام) ہمیشہ لوگوں کے حالات زندگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مہربان خورشید کی غیبت اس چیز میں مانع نہیں ہے کہ وہ مشتاق دلوں پر اپنے زندگی بخش اور نشاط آفرین تجلی سے دریغ کرے اور ان کو اپنے لطف و کرم کے نور سے محروم کرے عشق و محبت کا وہ ماہ منیر ہمیشہ اپنے شیعوں کا غم خوار اور اپنے مقدس دربار میںمدد طلب کرنےوالوں کا دستگیر رہا ہے، وہ کبھی تو بیمار لوگوں کے سرہانے حاضر ہوتے ہیں اور اپنے شفا بخش ہاتھوں کو ان کے زخموں کا مرہم قرار دیتے ہیں اور کبھی جنگلوں میں بھٹکے ہوئے مسافر پر عنایت کرتے ہیں اور تنہائی کی وادی میں ناچار بے کس لوگوں کی مدد اور راہنمائی کرتے ہیں اور نااُمیدی کی سرد ہواﺅں میں منتظر دلوں کو اُمید کی گرمی عطا کرتے ہیں اور وہ بارانِ رحمت الٰہی ہیں جو ہر حال میں دلوں کے خشک بیابانوں پر برس کر شیعوں کے لئے اپنی دُعاﺅں کے ذریعہ ہریالی اور شادابی ہدیہ کرتے ہیں، وہ خداوند محبوب کی بارگاہ کے سجادہ نشین اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہمارے لئے یہ دُعا کرتے ہیں:
﴾یَا نُو رَ النُّو رِ، یَا مُدَبَّرَ ال اَمُو رِ یَا بَاعِثَ مَن فِی ال قَبُو رِ صَلَّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاج عَل لِی وَ لِشِی عَتِی مِنَ الضِّی قِ فَرَجاً، وَ مِنَ الہَم µ مَخ رَجًاً، وَاوسِع لَنَا ال من ہِجَ وَاطل ق لَنَا مِن عِن دِکَ مَا یُقَرَّجُ وَاف عَل بِنَا مَا اَن تَ اہلَہُ یَا کَرِی مٍ۔﴿
(منتخب الاثر، فصل ۰۱، باب ۷، ش ۶، ص ۸۵۶)
”اے نوروں کے نور! اے تمام امور کے تدبیر کرنے والے! اے مردوں کے زندہ کرنے والے! محمد و آل محمد پر صلوات بھیج! اور مجھے اور میرے شیعوں کو مشکلات سے نجات عطا فرما اور غم و اندوہ کو دُور فرما اور ہم پر (ہدایت کے) راستہ کو وسیع فرما اور جس راہ میں ہمارے لئے آسانیاں ہوں اس کو ہمارے اُوپر کھول دے اور تو ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر جس کا تو اہل ہے اے کریم!“۔
قارئین کرام! ہماری بیان کی ہوئی گذشتہ باتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امام علیہ السلام (اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں) سے رابطہ کرنا اور متصل ہونا ممکن ہے، جو حضرات اس بات کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے محبوب امام کی ملاقات اور قرب کی لذت سے ہمیشہ محفوظ ہوئے ہیں۔
ة....ة....ة....ة....ة

درس کا خلاصہ:
امام عصر علیہ السلام کائنات کے محور اور الٰہی فیوضات کے انسانوں اوردوسری مخلوقات تک پہنچنے کا واسطہ ہیں۔
حضرت کے ظہور اور آنے پر عقیدہ معاشرے میں اُمید و نشاط اور فرحت کی رُوح پھونکتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام مسلمانوں کے تمام امور پر نگاہ رکھتے ہیں اور لوگوں کے اعمال حضرت کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں یہ عقیدہ لوگوں کی اصلاح اور تربیت میں اہم اثرات رکھتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام شیعوں کی علمی اور فکری پناہ گاہ ہیں بہت سے امور میں شیعہ بزرگان نے حضرت کے ذریعے اپنے علمی جوابات حاصل کئے نیز باطنی ہدایت، مصیبتوں سے نجات اور بارانِ رحمت کا نزول حضرت کے وجود کی برکات میں سے ہے۔

درس کے سوالات:
۱۔ کائنات میں امام علیہ السلام کی مرکزیت کی وضاحت کریں؟
۲۔ زمانہ غیبت میں امام عصر علیہ السلام کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوہات میں سے کوئی دو وجہوں کی وضاحت کریں؟
۳۔ زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت اور پائیداری میں حضرت کے کردار کو بیان کریں؟
۴۔ لوگوں کے نفوس میں حضرت کی باطنی ہدایت اور روحانی تسلط کی وضاحت کریں؟
۵۔ آیا امام عصر علیہ السلام نے خود کو بالخصوص شیعوں کے بلاﺅں سے امان دینے والا بتایا ہے یا ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے؟
ة....ة....ة....ة....ة
 

### جوابات:

**سوال 1: کائنات میں امام علیہ السلام کی مرکزیت کی وضاحت کریں؟**

امام علیہ السلام کی کائنات میں مرکزیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی تمام موجودات کے لیے خدا کی طرف سے فیض کا واسطہ ہیں۔ ان کی وجودیت سے کائنات میں استحکام آتا ہے اور وہ خدا کی مخلوقات کو روحانی و مادی نعمتوں سے فیضیاب کرتے ہیں۔ ان کے بغیر، کائنات کا توازن ممکن نہیں ہے۔

**سوال 2: زمانہ غیبت میں امام عصر علیہ السلام کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوہات میں سے کوئی دو وجہوں کی وضاحت کریں؟**

1. **فیض کا مستقل مرکز:** سورج کی طرح جو کہ نور اور حرارت کا مستقل مرکز ہے، امام عصر بھی روحانیت و ہدایت کے لامتناہی سرچشمہ ہیں جو مومنین کو مستقل بنیادوں پر فیض پہنچاتے ہیں۔

2. **نظر نہ آنا مگر فیض دینا:** سورج جب بادلوں میں چھپ جاتا ہے تب بھی اس کا نور زمین تک پہنچتا رہتا ہے، اسی طرح امام غائب ہونے کے باوجود ان کا فیض و برکت مومنین تک پہنچتی رہتی ہے۔




نوٹ: سوال نمبر 2 کا یہ جواب بھی OK ہے۔


جواب 

*زمانہ غیبت میں امام عصر عج کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوھات*

علامہ  مجلسی(رہ) اپنی معروف کتاب "بحار الانوار الجامعة  لدُرر اخبار الائمة الاطهار" میں جناب جابر کے ذریعہ، رسول اکرم (صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :

عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِ‏ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ (ص) هَلْ يَنْتَفِعُ الشِّيعَةُ بِالْقَائِمِ (ع) فِي غَيْبَتِهِ فَقَالَ (ص) إِي وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالنُّبُوَّةِ إِنَّهُمْ لَيَنْتَفِعُونَ بِهِ وَ يَسْتَضِيئُونَ بِنُورِ وَلَايَتِهِ فِي غَيْبَتِهِ كَانْتِفَاعِ النَّاسِ بِالشَّمْسِ وَ إِنْ جَلَّلَهَا السَّحَابُ.
جابر  الانصاری سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم (صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا شیعہ (امام) قائم (عج) سے انکی غیبت کے دوران فائدہ حاصل کرسکیں گے؟ آنحضرت(صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: اْس ذات کی قسم کی جسنے مجھے مبعوث کیا ،ہاں شیعہ ان(قائم) سے فائدہ حاصل کریں گے اور انکی  غیبت میں  انکی ولایت کے نور سے منّور  ہوں گے،جس طرح سے لوگ  بادل کے پیچھے چھپے ہوئے  سورج سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔(۱)
اسی طرح کی کئی اور روایات ہیں کہ جس میں ائمہ (علیہ السلام) سے یہی سوال ہوا اور انہوں  نے اسی تشبیہ کے ساتھ جواب دیا (۲)حتی کہ جب خود  امام زمانہ (عج) سے سوال ہوا تو آپ نے خود کو اس سورج سے تشبیہ دی جو بادلوں کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔

علامہ مجلسی(رہ) فرماتے ہیں کہ امام  زمانہ (عج)سے اس طرح کی تشبیہ دینے کی چند وجہیں ہیں(۳)،ان وجوہات کو مختصرطور پر قارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

پہلی وجہ: یہ کہ وجود کا نور،علم و ھدایت سب حجت  خدا  کے ذریعہ مخلوقات خدا تک پہنچتے ہیں،کیونکہ  روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان  ذوات مقدسہ (علیہم السلام) کی برکت سے اس عالم کو وجود عطا ہوا ہے اور اگر یہ  انوار مقدسہ (علیہم السلام) نہ ہوتے تو  لوگوں تک علوم اور معارف نہ پہنچتے۔ اگر یہ (ع) نہ ہوتے تو لوگ اپنے گناہوں کے باعث طرح طرح کی پریشانیوں اور عذاب  میں مبتلا رہتے۔ جیسا کہ خداوند عالم نے اپنے حبیب سے فرمایا [وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ] ’’اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا  جب تک آپ انکے درمیان  ہیں‘‘ (۴)

دوسری وجہ: جس  طرح سے  بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر آن منتظر رہتے ہیں کہ کب بادل ہٹیں اور سورج نظر آئے تاکہ زیادہ سے زیاد ہ فائدہ اٹھایا جا سکے، اسی طرح سے شیعہ دورانِ غیبت ہر وقت منتظر رہتے ہیں کہ کب غیبت ختم ہو اور امام (عج) کا ظہور ہو اور وہ  کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

تیسری وجہ: اتنے زیادہ  آثار اور علامات کے باوجود،وہ لوگ جو آنحضرت کے وجودِ با برکت کا انکار کرتے ہیں ، وہ انکی مانند  ہیں کہ جو سورج  کے چھپ جانے پر اسکا    انکار کرتے ہیں۔

چوتھی  وجہ:بعض اوقات  سورج کا بادلوں کے پیچھے چلا جانا، لوگوں کے لئیے فائدہ مند ہوتا ہے  اور اس میں  کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اسی طرح امام زمانہ (عج) کی غیبت کے دوران حضرت (عج) کا ہماری نظروں سے غائب رہنا ،اس میں بھی لوگوں کے لئیے کچھ فائدے اور مصلحت ہے۔

پانچویں وجہ:لوگ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ سورج کو براہ راست  دیکھ سکیں اور اگر کوشش کریں تو ہوسکتا ہے انکی آنکھیں چوندھیا جائیں یا اندھے ہو جائیں لیکن یہ ممکن ہے کہ بادلوں کے پیچھے سے سورج کو دیکھا جائے اور نقصان نہ ہو۔اسی طرح اگر بٖغیر تیاری کے،وجودِ مقدس امامِ زمانہ(عج) کا دیدار ہو جائے تو ممکن ہے  لوگ گمراہ ہوجائیں اور امام (عج) کو نہ پہچان سکیں ،اور نقصان دہ ثابت ہو۔

چھٹی وجہ: جس طرح بادلوں کے پیچھے سے یکا یک سورج نمودار ہو جاتا ہے اور کچھ اس بات سے با خبر ہوتے ہیں اور کچھ غافل رہتے ہیں ،اسی طرح غیبت کے ایام میں امام عالی مقام (عج) بھی کچھ کو اپنے دیدار کرواتے ہیں اور کچھ انکو دیکھ کر بھی متوجہ نہیں ہوتے۔

ساتویں وجہ:اصولا  اہلبیت (علیہم السلام) بھی  فائدہ پہونچانے کے لحاظ سے سورج کی مانند ہیں ، بس جو دل کے اندھے ہیں انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہوتا۔خدا بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرما رہا ہے[مَنْ كانَ فِي هذِهِ أَعْمى‏ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى‏ وَ أَضَلُّ سَبِيلًا]’’ اور جو اسی دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا ‘‘(۵)
سورج کا نور تو سب کے لئیے برابر ہے اگر کوئی خود کو سورج کے نور سے چھپالے تو یہ اسکی بد قسمتی اسی طرح اہلبیت (علیہم السلام) کی تعلیمات عام ہیں جو چاہے حاصل کرے۔

آٹھویں وجہ:جس طرح سے کھڑکیوں اور روشندانوں سے سورج کی شعائیں گھروںمیں داخل ہوتی ہیں اور  گھر میں جتنے کم موانع اور رکاوٹیں ہوں گی اتنی ہی زیادہ سورج کی روشنی آئے گی، اسی  طرح جو لوگ دنیا سے وابستگی،نفسانی خواہشات کے ذریعہ موانع ایجاد کرلیتے ہیں  ان کےاو پر اہلبیت (علیہم السلام) کی ہدایات کا اثر نہیں ہوتا اور  جتنا جتنا موانع کم کرتے ہیں اتنا اہلبیت (علیہم السلام) کی تعلیمات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

 




**سوال 3: زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت اور پائیداری میں حضرت کے کردار کو بیان کریں؟**

امام زمانہ علیہ السلام کے غیبت کے دوران بھی، وہ شیعہ مکتب کی حفاظت کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ وہ منتخب علماء اور دینی رہنماؤں کے ذریعے شیعہ عقائد و اصولوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتے ہیں۔

**سوال 4: لوگوں کے نفوس میں حضرت کی باطنی ہدایت اور روحانی تاثیر کی وضاحت کریں؟**

امام علیہ السلام باطنی طور پر ان کے پیروکاروں کی ہدایت کرتے ہیں۔ وہ دلوں کو متاثر کرتے ہیں، صحیح راہ دکھاتے ہیں، اور ان کی روحانی ترقی میں مدد کرتے ہیں۔ امام کی زندگی بخش تعلیمات اور سنتیں مومنین کے دلوں میں گہرائی سے بیٹھ جاتی ہیں، جس سے وہ نفسانی اصلاح اور کمال کی طرف بڑھتے ہیں۔

**سوال 5: آیا امام عصر علیہ السلام نے خود کو صرف شیعوں کےلئے بلاؤں سے امان دینے والا بتایا ہے یا ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے؟**

جواب 

امام عصر علیہ السلام نے خود کو خاص طور پر شیعوں کے لیے بلاؤں اور مصیبتوں سے امان دینے والا قرار دیا ہے، لیکن ان کا وجود تمام اہل زمین کے لیے امان کا باعث ہے۔ امام کی زندگی بخش موجودگی اور دعائیں نہ صرف شیعوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے فیض و برکت کا سرچشمہ ہیں۔ ان کی غیبت بھی کائناتی توازن و استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے تمام مخلوقات کو حفاظت و سلامتی میسر آتی ہے۔



یا یہ جواب 


امام عصر علیہ السلام نے خود کو خاص طور پر شیعوں کے لیے بلاؤں اور مصیبتوں سے امان دینے والا قرار دیا ہے۔ تاہم، ان کا وجود ساری کائنات کے لیے برکت اور حفاظت کا ذریعہ ہے، جیسا کہ ان کے وجود سے تمام موجودات کو استحکام اور حفاظت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی دعائیں اور برکات نہ صرف شیعوں بلکہ تمام انسانیت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اس طرح، ان کی غیبت کے دوران بھی ان کے وجود کی برکت سے دنیا کے تمام افراد سلامتی و امان میں رہتے ہیں، 




 

مہدوی معارف پر ابتدائی کورس

مہدویت نامہ
 (کورس ون)

آٹھواں درس
دیدارِ امام علیہ السلام اور آنحضرت کی طولانی عمر
مقاصد:
۱۔ زمانہ غیبت میں شیعوں سے رابطہ کی کیفیت سے آگاہی
۲۔ حضرت کے ساتھ ملاقات کی اقسام (اضطراری حالت، عام حالت)
۳۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک کے دلائل

فوائد:
۱۔ ملاقات کے مسئلہ میں صحیح شناخت پیدا ہونا
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک پر ظاہری شبہ کا دور ہون

تعلیمی مطالب:
۱۔ غیبت صغریٰ میں لوگوں کے حضرت کے ساتھ رابطہ کا غیبت کبریٰ کے ساتھ فرق رکھنا
۲۔ ملاقات کا استثنائی صورت میں انجام پانا اور حضرت کی غیبت پر تاکید
۳۔ ملاقات کرنے والوں کی مختلف شرائط
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات انجام پانے کی مثالیں
۵۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک کے اسرار
۶۔ طول عمر کے تاریخی شواہد

دیدارِ امامعلیہ السلام
زمانہ غیبت کی مشکلات اور تلخیوں میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ اپنے مولا و امام سے دور اور اس بے مثال فخر یوسف کے جمال کے دیدار سے محروم ہیں، زمانہ غیبت کے شروع سے ہی آپ کے ظہور کے منتظر دلوں میں ہمیشہ یہ حسرت دلوں کو بے تاب کرتی رہی ہے کہ کسی صورت میں اس بلند فضیلت کے حامل وجود کا دیدار ہو جائے وہ اس فراق میں آہ و فغاں کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ غیبت صغریٰ میں آپ کے خاص نائبین کے ذریعہ شیعہ اپنے محبوب امام سے رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان میں بعض لوگ امام علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب بھی ہوئے ہیں جیسا کہ اس سلسلہ میں متعدد روایات موجود ہیں، لیکن غیبت کبریٰ (جس میں امام علیہ السلام مکمل طور پر غیبت اختیار کئے ہوئے ہیں) میں وہ رابطہ ختم ہو گیا اور امام علیہ السلام سے عام طریقہ سے یا خاص حضرات کے ذریعہ ملاقات کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔
لیکن پھر بھی بہت سے علماءکا یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس ماہِ منیر سے ملاقات کا امکان ہے اور متعدد بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں، بہت سے عظیم الشان علماءجیسے علامہ بحر العلوم، مقدس اردبیلی اور سید اب طاو ¿وس وغیرہ کی ملاقات کے واقعات مشہور و معروف ہیں، جن کو متعدد علماءنے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے جنة الماویٰ اور نجم الثاقب، محدث نوری)
لیکن یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ امام زمانہ (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ملاقات کے سلسلہ میں درج ذیل نکات پر توجہ کرنا چاہیے:۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات بہت ہی زیادہ پریشانی اور بے کسی کے عالم میں ہوتی ہے اور کبھی عام حالات میں اور بغیر کسی پریشانی کی صورت میں، واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ کبھی امام علیہ السلام کی ملاقات مومنین کی نصرت اور مدد کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ بعض پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور تنہائی اور بے کسی کا احساس کرتے ہیں مثلاً مختلف مقامات پر ملاقات کے واقعات جیسے کوئی حج کے سفر میں راستہ بھٹک گیا اور امام علیہ السلام یا ان کے کوئی صحابی تشریف لائے اور اس کو سرگردانی سے نجات دی اور امام علیہ السلام سے اکثر ملاقاتیں اسی طرح کی ہیں۔
لیکن بعض ملاقاتیں عام حالات میں بھی ہوئی ہیں۔ اور ملاقات کرنے والے اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے امام علیہ السلام کی ملاقات سے شرفیاب ہوئے ہیں۔
لہٰذا مذکورہ نکتہ مدنظر رہے کہ ہر کسی سے امام علیہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔اور امام علیہ السلام ہر کسی سے ملتے بھی نہیں۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں خصوصاً آج کل بعض لوگ امام زمانہ علیہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ کرکے اپنی دوکان چمکانے اورشہرت حاصل کرتے کے پیچھے ہیں اور اس طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی اور عقیدہ و عمل میں انحراف کی طرف لے جاتے ہیں ۔ بعض دعاﺅں کے پڑھنے اور بعض اعمال انجام دینے کی دعوت دیتے ہیں جبکہ ان میں سے بہت سے اذکار اور اعمال کی کوئی اصل اور بنیاد بھی نہیں ہے۔ امام زمانہعلیہ السلام کے دیدار کا وعدہ دیتے ہوئے ایسی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں کہ ان کی محفلوں کے طور طریقوں کا دین یا امام زمان عج سے کوئی ربط نہیں ہوتا اور یوں وہ لوگ امام غائب کی ملاقات کو سب کے لئے ایک آسان کام قرار دینے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام علیہ السلام خداوند عالم کے ارادہ کے مطابق مکمل طور پر غیبت میں ہیں اور صرف انگشت شمار افراد ہی کے لئے امام علیہ السلام کی ملاقات ہوتی ہے کہ ان کی راہ نجات فقط اسی لطف الٰہی کے مظہر کی براہ راست عنایت پر موقوف ہوتی ہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ملاقات صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام اس ملاقات میں مصلحت دیکھیں، لہٰذا اگر کوئی مومن امام علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب ہونے کے لئے اشتیاق اور رغبت کا اظہار کرے اور بھرپور کوشش کرے لیکن امامعلیہ السلام سے ملاقات نہ ہو سکے تو پھر مایوسی اور نااُمیدی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور اسے امام علیہ السلام کے لطف و کرم کے نہ ہونے کی نشانی قرار نہیں دینا چاہیے، جیسا کہ جو افراد امام علیہ السلام کی ملاقات سے فیضیاب ہوئے ہیں اس ملاقات کو ان کے تقویٰ اور فضیلت کی نشانی قرار نہیں دینا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ امام زمانہ علیہ السلام کے جمال پرنور کی زیارت اور دلوں کے محبوب سے گفتگو اور کلام کرنا واقعاً ایک بڑی سعادت ہے لیکن ائمہ علیہم السلام خصوصاً امام عصر علیہ السلام اپنے شیعوں سے یہ نہیں چاہتے کہ ان سے ملاقات کی کوشش میں رہیں اور اپنے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے چلہ کھینچیں، یا جنگلوں میں نکل جائیں بلکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہمارے شیعوں کو ہمیشہ اپنے امام کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنا چاہیے اور آپ کی رضایت حاصل کرنے کےلئے اپنی رفتار و کردار کی اصلاح کرنا چاہیے اور ان کے عظیم مقاصد کے لئے قدم بڑھانا چاہیے تاکہ جلد از جلد آخری اُمید جہاں کے ظہور کاراستہ ہموار ہو جائے اور کائنات ان کے وجود سے براہ راست فیضیاب ہو۔
خود امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں:﴾اَکث ±رُو ±ا الدُّعَائَ بِتَع ±جِیَلِ ال ±فَر ±جِ، فَاِنَّ ذَلِکَ فَرَجُکُم ±۔﴿ (کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ح ۴، ص ۹۳۲)
”میرے ظہور کے لئے بہت زیادہ دعائیں کیا کرو کہ اس میں تمہاری ہی آسانی (اور بھلائی) ہے“۔یہاں پر مناسب ہے کہ مرحوم حاج علی بغداری (جو اپنے زمانہ کے نیک اور صالح شخص تھے) کی دلچسپ ملاقات کو بیان کریں لیکن اختصار کی وجہ سے اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
”وہ متقی اور صالح شخص ہمیشہ بغداد سے کاظمین جایا کرتے تھے اور وہاں دو اماموں (امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی علیہما السلام) کی زیارت کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: خمس اور دیگر رقوم شرعی میرے ذمہ تھی، اسی وجہ سے میں نجف اشرف گیا اور ان میں سے ۰۲ تومان عالم فقیہ شیخ انصاری (علیہ الرحمہ) کو اور ۰۲ تومان فقیہ محمد حسین کاظمی (علیہ الرحمہ) کو اور ۰۲ تومان آیت اﷲ شیخ محمد حسن شروقی (علیہ الرحمہ) کو دیئے اور ارادہ یہ کیا کہ اپنے ذمہ دوسرے ۰۲ تومان بغدا کی واپسی پر آیت اﷲ آل یاسین (علیہ الرحمہ) کو دُوںگا۔ جمعرات کے روز بغداد واپس آیا سب سے پہلے کاظمین گیا اور دونوں اماموں کی زیارت کی، اس کے بعد آیت اﷲ آل یاسین کے بیت الشرف پر گیا اور اپنے ذمہ خمس کی رقم کا ایک حصہ ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے اجازت طلب کی کہ اس میں سے باقی رقم (انشاءاﷲ) بعد میں خود آپ کو یا جس کو مستحق سمجھوں ادا کردُوں گا، اُنہوں نے اس بات کا اصرار کیا کہ انہیں کے پاس رہیں لیکن میں نے اپنے ضروری کام کی وجہ سے معذرت چاہی اور خداحافظی کی اور بغداد کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب میں نے اپنا ایک تہائی سفر طے کر لیا تو راستہ میں ایک باوقار سید بزرگوار کو دیکھا، موصوف سبز عمامہ پہنے ہوئے تھے اور ان کے رخسار پر ایک کالے تِل کا نشان تھا اور موصوف زیارت کے لئے کاظمین جا رہے تھے، میرے پاس آئے اور مجھے سلام کیا اور گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے گلے لگایا اور مجھے خوش آمدید کہا اور فرمایا: خیر تو ہے کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: زیارت کرکے بغداد جا رہا ہوں۔ اُنہوں نے فرمایا آج شب جمعہ ہے کاظمین واپس جاﺅ (اور آج کی رات وہیں رہو) میں نے عرض کی : میں نہیں جا سکتا، اُنہوں نے کہا: تم یہ کام کر سکتے ہو،جاﺅ تاکہ میں گواہی دوں کہ میرے جد امیر المومنین علیہ السلام کے اور ہمارے دوستوں میں سے ہو، اور شیخ بھی گواہی دیتے ہیں۔ خداوند عالم فرماتا ہے: ﴾فَاستَش ±ہِدُاوا شَہِدِی ±نِ مِن ± رِجَالُکُم ±۔﴿ (اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا دو)۔(سورہ بقرہ، آیت ۲۸۲)
حاجی علی بغدادی کہتے ہیں: میں نے اس سے پہلے آیت اﷲ آل یاسین سے درخواست کی تھی کہ میرے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں جس میں اس بات کی گواہی ہو کہ میں اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں اور محبین میں سے ہوں تاکہ اس نوشتہ کو اپنے کفن میں رکھوں، میں نے سید سے سوال کیا: آپ مجھے کیسے پہچانتے ہیں اور کس طرح گواہی دیتے ہیں؟ فرمایا: انسان کس طرح اس شخص کو نہ پہچانے جو اس کا کامل حق ادا کرتا ہو؟ میں نے عرض کی: کونسا حق؟ فرمایا: وہی حق جو تم نے میرے وکیل کو دیا ہے، میں نے عرض کیا: آپ کا وکیل کون ہے؟ فرمایا: شیخ محمد حسن! میں نے عرض کی: کیا وہ آپ کے وکیل ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
مجھے ان کی باتوں پر بہت زیادہ تعجب ہوا۔ میں نے سوچا کہ میرے اور ان کے درمیان بہت پرانی دوستی ہے جس کو میں بھول چکا ہوں کیونکہ اُنہوں نے ملاقات کے شروع میں ہی مجھے نام سے پکارا ہے اور میں نے یہ سوچا کہ موصوف چونکہ سید ہیں لہٰذا مجھ سے خمس کی رقم لینا چاہتے ہیں لہٰذا میں نے کہا: کچھ سہم سادات میرے ذمہ ہے اور میں نے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے رکھی ہے۔ موصوف مسکرائے اور کہا: جی ہاں! آپ نے ہمارے سہم کا کچھ حصہ نجف میں ہمارے وکیلوں کو ادا کر دیا ہے، میں نے سوال کیا: کیا یہ کام خداوند عالم کی بارگاہ میں قابل قبول ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: جی ہاں! میں متوجہ ہوا کہ کس طرح یہ سید بزرگوار عصرِ حاضر کے بڑے اور جید علماءکو اپنا وکیل قرار دے رہے ہیں؟ لیکن ایک بار پھر مجھے غفلت سی ہوئی اور اور میں موضوع کو بھول گیا!
میں نے کہا:اے بزرگوار! کیا یہ کہنا صحیح ہے؟ جو شخص شب جمعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے (وہ عذاب خدا سے) امان میں ہے۔ فرمایا: جی ہاں صحیح ہے! اور میں نے دیکھا کہ فوراً ہی موصوف کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھر گئی، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہم نے اپنے آپ کو رک اور راستہ سے گزرے ہوں۔ داخل ہونے والے دروازہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ موصوف نے کہا: زیارت پڑھیں۔ میں نے کہا: بزرگوار میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکوں گا۔ فرمایا: کیا میں پڑھوں تاکہ تم بھی میرے ساتھ پڑھتے رہو؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ ان بزرگوار نے پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور ایک ایک امام پر سلام بھیجا، اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے نام کے بعد میری طرف رُخ کرکے فرمایا: کیا تم اپنے امام زمانہ کو پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں پہچانوں گا؟ فرمایا: تو پھر اس پر سلام کرو! میں نے کہا: ﴾اَلسَّلَامُ عَلَی ±کَ یَا حُجَّةَ اللّٰہِ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ یَاب ±نَ ال ±حَسَنِ!﴿ وہ بزرگوار مسکرائے اور فرمایا: ﴾عَلَی ±کَ السَّلَامُ وَ رَح ±مَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ ¾۔﴿ اس کے بعد حرم میں وارد ہوئے اور ضریح کا بوسہ لیا، فرمایا: زیارت پڑھیں، میں نے عرض کی: اے بزرگوار میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا۔ فرمایاکیا میں آپ کے لئے پڑھوں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! اُنہوں نے مشہور زیارت ”امین اﷲ“ پڑھی اور فرمایا: کیا میرے جد امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں آج شب جمعہ اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی شب ہے۔ اُنہوں نے امام حسین علیہ السلام کی مشہور زیارت پڑھی۔ اس کے بعد نماز مغرب کا وقت ہو گیا، موصوف نے مجھ سے فرمایا: نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ اور نماز کے بعد وہ بزرگوار اچانک میری نظروں سے غائب ہو گئے، میں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکے!!
ایک مرتبہ میں سوچنے لگا اور اپنے سے سوال کرنے لگاتو متوجہ ہوا کہ سید نے مجھے نام لے کر پکارا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ کاظمین واپس لوٹ جاﺅں جبکہ میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ اُنہوں نے عظیم الشان فقہاءکو اپنا وکیل قرار دیا اور آخرکار میری نظروں سے اچانک غائب ہو گئے۔ ان تمام باتوں پر غوروفکر کرنے کے بعد مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ سید زادے میرے امام زمانہ علیہ السلام تھے لیکن افسوس کہ بہت دیر بعد سمجھ سکا۔
(بحارالانوار، ج ۳۵، ص ۵۱۳، النجم الثاقب، داستان ۱۳)

طولانی عمر
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زندگی سے متعلق بحثوں میں سے ایک بحث آپعلیہ السلام کی طولانی عمر کے بارے میں ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح ایک انسان کی اتنی طولانی عمر ہو سکتی ہے؟ (اس وقت ۵۲۴۱ ہجری قمری ہے اور چونکہ امام زمانہ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۵۵۲ ہجری قمری ہے لہٰذا اس وقت آپ کی عمر شریف ۰۷۱۱ سال ہے۔نظر ثانی ۱۲ذیقعدہ ۹۲۴۱ھ میں ہوئی اس وقت آپ کی عمر ۴۷۱۱سال تین ماہ چھ دن ہے خدا انہیں کروڑوں سال زندہ رکھے(آمین))
اس سوال کا سرچشمہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر ۰۸ سے ۰۰۱ سال کی عمر ہوتی ہے ( اگرچہ بعض لوگ سو سال سے زیادہ بھی عمر پاتے ہیں لیکن بہت ہی کم ایسے افراد ملتے ہیں) لہٰذا بعض لوگ ایسی عمر کو دیکھنے اور سننے کی بنا پر اتنی طولانی عمر پر یقین نہیں کرتے، ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نہیںوضہ کاظمین میں پایا، بغیر اس کے کسی سڑ ہے۔ دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضاءکی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بہت زیادہ طولانی عمر پا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کو بڑھاپے اور ضعیفی کا احساس تک نہ ہو۔
برنارڈ شو کہتا ہے:
”بیالوجسٹ ماہرین اور ان کے دانشوروں کے مورد قبول اصولوں میں سے ہے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی یہاں تک کہ طول عمر کے لئے بھی کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی“۔ ( راز طول عمر امام زمان علیہ السلام، علی اکبر مہدی پور ص۳۱)
پروفیسر ”اٹینگر“ لکھتے ہیں:”ہماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ہمارے شروع کئے کام کے پیش نظر اکیسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال عمر کر سکتے ہیں“۔ ( سورہ ¿ صافات، آیات ۴۴۱، ۳۴۱) لہٰذا بڑھاپے پر غلبہ پانے اور طولانی عمر پانے کے سلسلہ میں دانشوروں کی کوششیں اور چند کامیاب نتائج سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح (طولانی عمر پانے) کا امکان پایا جاتا ہے اور اس وقت بھی دنیا میں بہت سے افراد ایسے موجود ہیں جو مناسب کھانے پینے اور آب و ہوا اور دوسری بدنی، فکری کارکردگی کی بنا پر ۰۵۱سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں، اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں بہت سے ایسے افراد پائے گئے ہیں جنہوں نے ایک طولانی عمر پائی ہے اور آسمانی اور تاریخی کتابوں میں بہت سے ایسے افراد کا نام اور ان کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر آج کل کے انسان سے کہیں زیادہ تھی۔اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں ہم ذیل میں چند نمونے بیان کرتے ہیں:
۱۔ قرآن کریم میں ایک ایسی آیت ہے جو نہ صرف یہ کہ انسان کی طولانی عمر کی خبر دیتی ہے بلکہ عمر جاویداں کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:﴾فَلَو ± لَا اَنَّہُ کَانَ مِن ± المُسَبِّحِی ±نَ لَلَبِتَ فِی ± بَطِنِہِ اِلٰی یَو ±مِ یُب ±عَثُو ±ن۔﴿ (مجلہ دانشمند سال ۶، ش ۶، ص ۷۴۱)
”اگر وہ (جناب یونس علیہ السلام) شکم ماہی میں تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک شکم ماہی میں رہتے“۔
لہٰذا مذکورہ آیہ شریفہ بہت زیادہ طولانی عمر (جناب یونس علیہ السلام کے زمانہ سے قیامت تک) کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ جسے دانشوروں اور ماہرین کی اصطلاح میں ”عمر جاویداں“ کہا جاتا ہے، پس انسان اور مچھلی کے بارے میں طولانی عمر کا مسئلہ ایک ممکن چیز ہے۔ ( خوش قسمتی سے مڈگاسکر کے ساحلی علاقہ میں ۰۰۴ ملین سال (پرانی عمر والی) ایک مچھلی ملی ہے جو مچھلیوں کے لئے اتنی طولانی عمر پر زندہ گوار ہے۔ (روزنامہ کہیان، ش ۳۱۴۶، ۲۲، ۸، ۳۴۳۱ ھ ق)
۲۔ قرآن کریم میں جناب نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
”بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم میں بھیجا، جنہوں نے ان کے درمیان ۰۵۹ سال زندگی بسر کی“۔ (سورہ ¿ عنکبوت، آیت ۴۱)
مذکورہ آیہ شریفہ میں جو مدت بیان ہوئی ہے وہ انکی نبوت اور تبلیغ کی مدت ہے، کیونکہ بعض روایات کی بنا پر جناب نوح علیہ السلام کی عمر ۰۵۴۲ سال تھی۔
( کمال الدین، ج ۲، باب ۶۴، ح ۳، ص ۹۰۳)
قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے:”امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں جناب نوح علیہ السلام کی سنت پائی جاتی ہے اور وہ ان کی طولانی عمر ہے“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۱۲، ح ۴، ص ۱۹۵)
۳۔ اور اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
”بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو سولی دی گئی ہے بلکہ ان کو غلط فہمی ہوئی ........، بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا ہے بلکہ خداوند عالم نے ان کو اپنی طرف بلا لیا ہے کہ خداوند عالم صاحب قدرت اور حکیم ہے“۔ (سورہ ¿ نسائ، آیت ۷۵۱)
تمام مسلمان قرآن و احادیث کے مطابق اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمانوں میں رہتے ہیں، اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی نصرت و مدد کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:”ان صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کی زندگی میں چار انبیاء(علیہم السلام) کی چار سنتیں پائی جاتی ہیں........ ان میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ ان (امام مہدی علیہ السلام) کے بارے میں (بھی) لوگ کہیں گے کہ وہ وفات پا چکے ہیں، حالانکہ وہ زندہ ہیں“۔ (بحار الانوار، ج ۱۵، ص ۷۱۲)
قرآن کریم کے علاوہ خود توریت اور انجیل میں بھی طولانی عمر کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے جیسا کہ توریت میں بیان ہوا ہے:”........ جناب آدم کی پوری عمر نو سو تیس سال تھی جس کے بعد وہ مر گئے ........ ”انوش“ کی عمر نو سو پانچ سال تھی، ”قینان“ کی عمر نو سو دس سال کی تھی، ”متوشالح“ کی عمر نو سو انتہر سال تھی“ ( زندہ، روزگاران، ص ۲۳۱، (نقل از توریت، ترجمہ فاضلل خانی، سفر پیدائش باب پنجم، آیات ۵ تا ۲۲)
اس بنا پر خود توریت میں متعدد حضرات کی طولانی عمر (نو سو سال سے بھی زیادہ) کا اعتراف کیا گیاہے۔ انجیل میں بھی کچھ ایسی تحریریں ملتی ہیں جن سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے اور آسمانوں میں اوپر چلے گئے ( زندہ، روزگاران، ص ۴۳۱، (نقل از عہد جدید، کتاب اعمال رسولان، باب اول، آیات ۱ تا ۲۱) اور ایک زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام کی عمر دو ہزار سال سے بھی زیادہ ہے۔
قارئین کرام! اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ”یہود و نصاریٰ“ مذہب کے ماننے والے چونکہ اپنی مقدس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں لہٰذا ان کے لحاظ سے بھی طولانی عمر کا عقیدہ صحیح ہے۔
ان سب کے علاوہ طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے قابل قبول ہے اور تاریخ میں اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں اور خداوند عالم کی نامحدود قدرت کے لحاظ سے بھی قابل اثبات ہے۔ تمام آسمانی ادیان کے ماننے والوں کے عقیدہ کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ خداوند عالم کے اختیار میں ہے اور تمام اسباب و علل کی تاثیر بھی اسی کی ذات سے وابستہ ہے، اگر وہ نہ چاہے تو کوئی بھی سبب اور علت اثرانداز نہ ہو، نیز وہ بغیر سبب اور علت کے پیدا کر سکتا ہے۔وہ ایسا خدا ہے جو پہاڑوں کے اندر سے اونٹ نکال سکتا ہے اور بھڑکتی ہوئی آگ سے جناب ابراہیم علیہ السلام کو صحیح و سالم نکال سکتا ہے، نیز جناب موسٰی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کے لئے دریا کو خشک کرکے راستہ بنا سکتا ہے اور وہ پانی کی دو دیواروں کے درمیان سے آرام سے دوسرے کفارے نکل سکتے ہیں۔ (یہ وہ حقائق ہیں کہ جو قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔ سورہ ¿ انبیاءآیت ۹۶، سورہ شعراءآیت ۳۶) تو کیا تمام انبیاءاور اولیاءکے خلاصہ، آخری ذخیرہ الٰہی اور تمام صالح حضرات کی تمناﺅں کے مرکز نیز قرآن کریم کے عظیم وعدہ کو پورا کرنے والے کو اگر طولانی عمر عطا کرے تو اس میں تعجب کیا ہے؟!
حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:”خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی عمر کو ان کی غیبت کے زمانہ میں طولانی کر دے گا اور پھر اپنی قدرت کے ذریعہ ان کو جوانی کے عالم میں (چالیس سال سے کم) ظاہر کرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ خداوند عالم ہر چیز پر قادر ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵، ص ۹۰۱) لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی طولانی عمر مختلف طریقوں، عقل، سائنس اور تاریخی لحاظ سے ممکن اور قابل قبول ہے اور ان سب کے علاوہ خداوند عالم اور اس کی قدرت کے جلوﺅں میں سے ایک جلوہ ہے۔اسی طرح سب کا انفاق ہے کہ ابلیس خلقت آدم سے پہلے تھا اور وہ ایک موجود زندہ ہے، قیامت اسے مہلت ملی ہوئی ہے۔ جب دشمن خدا کے لئے ایک طولانی عمر ہے تو اللہ کی آخری حجت، جن کے ذریعہ ابلیس ملعون کا خاتمہ ہوتا ہے ان کے واسطے طولانی عمر پر تعجب اور حیرانگی کس لئے ہے؟حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اللہ کے عبد صالح حضرت خضر علیہ السلام موجود تھے اور وہ آج تک موجود ہیں ، روایات میں ہے کہ وہ اللہ کے آخری نمائندہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تنہائیوں میں ان کے مونس و غم خوار ہیں، بہر حال طولانی عمر کا مسئلہ حل شدہ ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والے نادان ہیں۔
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
غیبت کبریٰ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کبھی پریشانی کی حالت میں اور کبھی عام حالات میں ممکن ہے۔
حضرت مہدی علیہ السلام سے ملاقات کی شرط خود حضرتعلیہ السلام کی اجازت اور اس ملاقات میں کسی مصلحت کا ہونا ہے نہ کہ محض محبت و اشتیاق۔
اگرچہ حضرت کے جمال کی زیارت نہایت ہی محبت بھرے لمحات اور دلی تمناہے لیکن غیبت کے دور میں شیعوں کا جو وظیفہ ہے وہ یہ ہے کہ کہ شرعی احکام پر عمل کریںاور امام کے ظہور کے لئے مقدمات فراہم کریں۔
طول عمر کا موضوع علمی حوالے سے قابل توجیہ ہے اس کی تاریخی مثالیں بھی ہیں اور اس پر قرآنی اور احادیثی شواہد بھی ہیں۔

درس کے سولات:
۱۔غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی کتنی صورتیں ہیں، وضاحت کریں؟
۲۔ زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟
۳۔آیا روایات میں حضرت کی ملاقات کے لئے کوشش کرنے حکم دیا گیا ہے؟ زمانہ غیبت میں  آئمہ علیہم السلام شیعوں سے کس چیز کی آرزو رکھتےہیں؟
۴۔ علم بیالوجی کی رو سے طویل عمر کی حد بندی نہ ہونے کی کیا وضاحت ہے؟
۵۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر کا اصلی سبب کس چیز کو بتایا ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة





### سوال نمبر 1: غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی کتنی صورتیں ہیں، وضاحت کریں؟

**جواب:** غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات دو مختلف صورتوں میں ممکن ہے:
1. **اضطراری حالت میں ملاقات:** اس صورت میں، مومنین امام علیہ السلام کی نصرت اور مدد کی وجہ سے ملاقات کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ پریشانیوں میں مبتلا ہوں۔ مثلاً، کوئی حج کے سفر میں راستہ بھٹک گیا اور امام علیہ السلام یا ان کے کوئی صحابی تشریف لائے اور اس کو سرگردانی سے نجات دی۔
2. **عام حالات میں ملاقات:** اس صورت میں، کچھ خاص افراد جو اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا اغلب طور پر ظاہری واقعات یا خاص حالات سے تعلق ہوتا ہے جیسے علماء کی ملاقاتیں جو مشہور و معروف ہیں۔


2. **زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟**
   - زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط امام علیہ السلام کی مصلحت اور اجازت ہے۔ یعنی امام کی رضامندی اور خصوصی مصلحت کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔



نوٹ: سوال نمبر 1 اور 2 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے۔


جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟  اور اہم شرط*


غیبت کبری میں امام عصر (علیہ السلام) سے ملاقات کے سلسلے میں بعض علماء معتقد ہیں کہ نا ممکن ہے اور ان کا یہ اعتقاد ان روایات کی بنیاد پر ہے کہ جن میں ملاقات کی نفی کی گئی ہے ۔


اور ان کا کہنا ہے جب امام زمانہ (علیہ السلام)کے آخری نائب اس دنیا سے رحلت کرتے ہیں تو کہتے ہیں امام (علیہ السلام) نے فرمایا  کہ اے علی بن محمد سمری! اب نواب خاص کا زمانہ ختم ہو گیا ہے اور اب غیبت کبری شروع ہونے جا رہی ہے اور اس غبیت میں  اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے امام  کو دیکھا ہے، تو سمجھ لینا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔


لہذا اس حدیث کو بہت ہی توجہ سے دیکھنا پڑے گا، امام (علیہ السلام) نے اس میں دو نکتوں کی طرف اشارہ کیا ہے :


ایک یہ کہ ممکن ہے کسی زمانہ میں کوئی یہ دعوی کرے کہ میں نے امام  (علیہ السلام) کو دیکھا۔


دوسرا یہ کہ دیدار کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہے ۔


اس میں دو کیفیتیں بیان ہو رہی ہیں :ایک ’’دعوی‘‘ دوسرا ’’مشاہدہ‘‘ یعنی کوئی دیدار کا دعوی کرے جھوٹا ہے ۔


مشاہدہ  کا معنی امام (علیہ السلام) کو دیکھنا ۔


دعوی کا معنی اس دیدار کا اعلان کرنا ۔


اس بات سے یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ ممکن ہے کوئی امام (علیہ السلام) سے ملاقات کرے اور اسے کسی کے سامنے ذکر نہ کرے بلکہ اپنے سینہ میں چھپائے رکھے اور لوگ اس کی رحلت کے بعد سمجھیں کہ یہ شخص امام (علیہ السلام) سے ارتباط میں تھا ۔


ہاں اس قسم کے لوگ حدیث کا مصداق نہیں بن سکتے یعنی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جھوٹے تھے کیونکہ جب انہوں نے اظہار ہی نہیں کیا تو جھوٹ کیسا؟ ۔




اہم نکتے



1۔ امام (علیہ السلام) کا دیدار بغیر معرفت کے


امام (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان موجود ہیں اور بالخصوص حج کےموقع پر مکہ اور عرفات میں موجود ہوتے ہیں اور لوگ ان کو دیکھتے بھی ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے ہیں کہ یہی ہمارے مولا ہیں، روایت کی کتابیں اس بات کی شھادت دیتی ہیں کہ کتنے ایسے اولیای خدا گزرے ہیں کہ جنہوں نے اپنے امام سے ملاقات کی اور پہچان نہ سکے بلکہ بعد میں متوجہ ہوئے کہ ارے یہ تو میرے امام (علیہ السلام) تھے کیونکہ یہ کام جو انہوں نے کیا ہے یہ تو کوئی عام انسان نہیں کر سکتا ۔



2۔  امام (علیہ السلام)کا دیدار معرفت کے ساتھ


اس طرح کا دیدار بہت سخت ہے اور بہت کم پیش آیا ہے اگر اس قسم کا دیدار ہوا بھی ہے تو خاص اولیای خدا کے لیے ۔



3۔امام (علیہ السلام) کا دیدار بغیر کسی دعوا کے


امام (علیہ السلام) کا دیدار تو ہوا ہے لیکن اس کا اعلان نہیں کیا یعنی یہ نہیں کہا کہ میں وہ ہوں جسے امام (علیہ السلام)نے دیدار کرایا اور یہ یہ کہا ہے،کیونکہ اگر  ایسا  کہے گا تو یقینا ً جھوٹا ہے ۔



4۔ معنوی ارتباط


امام (علیہ السلام) سے معنوی ارتباط بر قرار رکھنا، البتہ یہ بھی بغیر تقوی، دعا اور ائمہ علیھم السلام سے خصوصی توسل کے حاصل نہیں ہو سکتا اگر یہ صفات کسی انسان کے اندر آجائیں تو وہ اپنے امام علیہ السلام سے معنوی ارتباط برقرار رکھ سکتا ہے ۔


شاید یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے، زمانہ غیبت میں اپنے امام علیہ السلام کی سلامتی کی دعا کرتے رہیں ۔


ارتباط معنوی اگر امام علیہ السلام سے برقرار ہو جائے اور انسان اپنے ہر عمل پر یہ فکر کرے کہ یہ میرے مولا دیکھ رہیں ہیں اور اپنی ہر مشکل کے لیے امام (علیہ السلام)سے توسل کرے جیسے وہ مشھور حدیث کہ جس میں امام (علیہ السلام) شیخ مفید سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہر بات سے آگاہ ہیں، تمہاری کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو ہم سے پوشیدہ ہو ۔


ہم نے تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ورنہ ان تک دشمنوں نے تمہیں جڑ سے اُکھاڑ دیتے ۔


انسان کا معنوی ارتباط (امام علیہ السلام سے) سبب بنتا ہے کہ امام (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان آئیں اگرچہ لوگ انہیں نہ بھی پہچانیں۔


امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام)فرماتے ہیں: خدا کی قسم حجت خدا ان کے درمیان ہیں اور گلی کوچوں سے گزرتے ہیں، ان کے گھروں میں آتے جاتے ہیں، لوگوں کی گفتار کو سنتے ہیں لوگوں کی اجتماع میں جاتے ہیں اور انہیں سلام کرتے ہیں۔ 



نتیجہ


اس جواب سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ امام علیہ السلام نے جو ملاقات کی نفی کی ہے وہ اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی زمانے میں کوئی بھی بے عمل اٹھ کر یہ دعوا کر دے کہ میں نے یہ جو بات کی ہے یہ مجھے میرے مولا نے کہی ہے یا مجھے امام (علیہ السلام)نے یہ کام کرنے کو کہا ہے تو ایسے لوگوں کی وجہ سے یقیناً امام (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ہے اور ہاں اگر کوئی امام (علیہ السلام) سے معنوی ارتباط قائم کرے تو اس کی مشکلات کو یقیناً امام (علیہ السلام) بر طرف کریں گے ۔

نوٹ: سوال نمبر 1 اور 2 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے


جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟  اور اہم شرط


: امام زمانہ سے ملاقات کا دعوی کرنے والوں میں سے بعض افراد لوگوں کے عقائد کا غلط استعمال کرتے ہوئے دین اور اسلامی معاشرے کا نقصان کرتے ہیں اور اس وقت یہ دعوی پیش کرتے ہیں جبکہ وہ اکثر ان پڑھ ہوتے ہیں اور ان کے دعوے کی بھی کوئی مضبوط وجہ نہیں ہوتی۔



"ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا شخصی اور فیزیکلی طور پر نہ کہ خواب و خیال میں غیبت کبریٰ کے دوران امام عصر (ع) سے ملنا ممکن ہے یا نہیں؟  ۔" اس سوال کے جواب کے لئے، آیات اور احادیث کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔


مہدویت کی بحثوں کے محقق، امام الزمان علیہ السلام کی عدم موجودگی کے بارے میں کچھ آیات اور روایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جاری رکھتے ہیں: آیات و روایات کے مطابق ، غیبت کے دوران امام عصر (ع) سے ملنا ممکن نہیں ہے ، اور اس سلسلے میں تمام راستے لوگوں کے لئے بند ہیں۔





حضرت بقیات اللہ الاعظم ، امام زمان علیہ السلام سے ملاقات اس وقت ہوتی ہے جب امام خود کسی شخص یا افراد سے ملنا ضروری سمجھیں ، اور بصورت دیگر لوگوں کا امام الزمان علیہ السلام سے ملاقات کرنا کسی بھی وقت اور وہ جگہ جہاں وہ چاہتے ہیں ممکن نہیں ہے اور جو بھی ملنے کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔



اس قسم کی ملاقات خود امام نے بھی کی تھی اور ایسا اس وقت ہوا جب فقیہ کو فقہی یا علمی مسئلے میں کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہوا جسکی لوگوں کو ضرورت تھی جسکا کا کوئی حل نہیں تھا۔یہاں، امام زمان فقیہ سے ملتے ہیں اور معاشرے میں کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس مسئلے کا حل بتاتے ہیں۔





آیات، احادیث اور نیک لوگوں کی سیرت کے مطابق، امام عصر (ع)  سے ملنا ممکن نہیں ہے اس سلسلے میں ملاقات کا دعویٰ غلط ہے اور امام کے ساتھ ملاقات کے دعویداروں کا انہی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ، ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے اور ان سے اس بات کی قطعی وجہ پوچھنا چاہئے کہ وہ یہ دعوی کس دستاویز کے ساتھ کرتے ہیں۔



 امام الزمان علیہ السلام کی غیبت کے دوران ان سے ارتباط اور ملاقات ایک بہت پیچیدہ مسئلہ اور ملاقات کے دعووں کو آسانی سے قبول نہیں کیا جاسکتا۔


 



"شیعہ عقائد کے مطابق ، امام الزمان علیہ السلام کی جسمانی موجودگی اور معاشرے پر ان کے نظم و نسق کا ایک قطعی اعتقاد ہے ، اس لحاظ سے کہ امام العصر (ع) گمنام اور غیر متعارف طور پر معاشرے میں موجود ہیں ، اور لوگ انہیں نہیں پہچانتے ہیں نہ ہی انہیں درک کرتے ہیں۔

 



 روایتوں کے مفہوم کے مطابق غیبت کا مطلب یہ ہے کہ امام معاشرے میں موجود ہیں لیکن نظروں سے غائب ہیں، بیان کیا کہ: امام الزمان علیہ السلام اس طرح مکمل فطری اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں کہ کچھ لوگ انہیں دیکھتے ہیں لیکن وہ نہیں پہچانتےاور وہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔




اس مسئلے کے مطابق ، امام کے ساتھ تعلقات کو دو طریقوں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ روحانی اور معنوی تعلق ہو، اس طرح کا ارتباط کسی کے ساتھ بھی برقرار ہوسکتا ہے اور یہ کچھ لوگوں کے لئے مخصوص نہیں ہے ، اور دوسرا آمنے سامنے اور حضوری ارتباط ہے اس معنی میں کہ کوئی شخص امام (ع) کو جسمانی طور پر درک کرے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے۔





غیبت کبری کے دوران اصول یہ ہے کہ امام زمان (ع) کے ساتھ کوئی ارتباط اور ملاقات نہیں ہوتی ہے۔اور نظروں  سے امام کی غیبت اس وجہ سے ہے کہ وہ معاشرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ایک خاص وقت پر مکمل طور پر پورا کرسکیں۔





 آیات شریفہ کے مطابق اللہ کا قطعی وعدہ یہ ہے کہ «وَنُریدُ أَن نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ استُضعِفوا فِی الأَرضِ وَنَجعَلَهُم أَئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوارِثینَ؛ہم زمین کے مظلومین کو برکت دینا چاہتے ہیں اور انہیں زمین پر قائد اور وارث بنانا چاہتے ہیں!" اور « وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ...؛ خدا نے آپ میں سے ان لوگوں سے جو (خدا اور امام زمان پر)ایمان رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں وعدہ کیا ہے کہ ، خدا انہیں زمین پر ایسے ہی خلافت دیگا جس طرح گزشتہ پیغمبروں کی صالح امت انکی جانشین ہوئی۔۔۔»دین پیغمبر تمام عالم پر بہ طور کامل محقق ہو کر رہے گا۔


 "دنیا کا آئندہ مذہب شیعی اسلام ہے ، اور پوری دنیا میں شیعہ وقار فروغ پائے گا۔ "


 امام عصر (ع) کے ذریعہ نبی اکرم (ص) کے مشن کی مکمل تکمیل دنیا میں اس وقت ہوگی جب معاشرتی بنیاد تیار ہوجائے گی اور اگر یہ تیاری حاصل ہوجائے تو۔ امام زمان (ع) کی انسانی حکومت لفظ کے صحیح معنی میں، قائم ہو جائے گی۔


نوٹ: سوال نمبر 1 اور 2 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے



**عام حالات میں ملاقات:**



 اس صورت میں، کچھ خاص افراد جو اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا اغلب طور پر ظاہری واقعات یا خاص حالات سے تعلق ہوتا ہے جیسے علماء کی ملاقاتیں جو مشہور و معروف ہیں۔


 **زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟**


   - زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط امام علیہ السلام کی مصلحت اور اجازت ہے۔ یعنی امام کی رضامندی اور خصوصی مصلحت کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔






 






3. **آیا روایات میں حضرت کی ملاقات کے لئے کوشش کرنے حکم دیا گیا ہے؟ زمانہ غیبت میں  آئمہ علیہم؟**
   - روایات میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کے لئے خاص کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ آئمہ علیہم السلام کی خواہش یہ تھی کہ شیعوں کو اپنے امام کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنی چاہیے، نہ کہ ملاقات کی کوشش میں رہیں۔

4. **علم بیالوجی کی رو سے طویل عمر کی حد بندی نہ ہونے کی کیا وضاحت ہے؟**
   - علم بیالوجی کی رو سے، انسانی جسم کی امکانات کو بہت بڑھایا جا سکتا ہے جیسے کہ ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل میں لوگ ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ طویل عمر کی کوئی خاص حد نہیں باندھی جا سکتی۔

5. **امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر کا اصلی سبب کس چیز کو بتایا ہے؟**
   - امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ امام زمانہ علیہ السلام کی عمر کو غیبت کے دوران طولانی کر دے گا اور پھر انہیں جوانی کی حالت میں ظاہر کرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔








مہدویت نامہ
 


نوٹ: کورس ٹو کتابچہ 8 انتظار




مہدوی معارف پر ابتدائی کورس 

نواں د رس
انتظار
مقاصد:
۱۔ انتظار کے صحیح معنی کی معرفت
۲۔ انتظار کے ضروری امور پر توجہ

فوائد:
۱۔ شیعہ نقطہ نظرسے انتظار کے مفہوم سے آگاہی
۲۔ انتظار کے معیارسے آگہی
۳۔ ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے اپنی اصلاح اورتربیتی امور پر توجہ

تعلیمی مطالب:
۱۔ انتظار کی حقیقت
۲۔ امام مہدی (عج) کے انتظار کی خصوصیات
۳۔ ظہور کے منتظر لوگوں کے وظائف

انتظارکا معنی و مفہوم
جس وقت ظلم کے تاریک سیاہ بادلوں نے آفتاب امامت کے رُخِ انور کو چھپا دیا ہو، دشت و جنگل سورج کی قدم بوسی سے محروم ہو گئے اور درخت و گل اس آفتاب کی محبت کی دوری سے بے جان ہو گئے ہوں تو اس وقت کیا کیا جائے؟ جس وقت خلقت اور خوبیوں کا خلاصہ اور خوبصورتیوں کا آئینہ اپنے چہرہ پر غیبت کی نقاب ڈال لے اور اس کائنات میں رہنے والے اس کے فیض سے محروم ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟
چمن کے پھولوں کو انتظار ہے کہ مہربان باغباں ان کو دیکھتا رہے اور اس کے محبت بھرے ہاتھوں سے آب حیات نوش کریں، دل مشتاق اور آنکھیں بے تاب ہیں تاکہ اس کے جمال پُرنور کا دیدار کریں، اور یہیں سے ”انتظار“ کے معنی سمجھ آتے ہیں، جی ہاں! سبھی منتظر ہیں تاکہ وہ آئے اور اپنے ساتھ نشاط اور شادابی کا تحفہ لے کر آئے۔
واقعاً ”انتظار“ کس قدر خوبصورت اور شیریں ہے اگر اس کی خوبصورتی کو نظر میں رکھا جائے اور اس کی شیرینی کو دل سے چکھا جائے۔تو یہ انتہائی لطف اندوزاور مزیدار ہے۔



انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت


”انتظار“ کے مختلف معانی کئے گئے ہیں، لیکن اس لفظ پر غور و فکر کے ذریعہ اس کے معنی کی حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے، انتظار کے معنی کسی محبوب کے لئے اپنی آنکھیں بچھانا ہے اور یہ انتظارکی شرائط اوراس کے اسباب کے لحاظ سے اہمیت حاصل کرتا ہے جس سے بہت سے نتائج ظاہر ہوتے ہیں، انتظار صرف ایک رُوحانی اور اندرونی حالت نہیں ہے بلکہ اندر سے باہر کی طرف اس کااثر ہے جس سے انسان اپنے باطنی احساس کے مطابق عمل کرتا ہے، اسی وجہ سے روایات میں ”انتظار“ کو ایک عمل بلکہ تمام اعمال میں بہترین عمل کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، انتظار ”منتظر“ کو حیثیت عطا کرتا ہے اور اس کے کاموں اور اس کی کوششوں کو ایک خاص طرف ہدایت دیتا ہے اور انتظار وہ راستہ ہے جو اسی چیز پر جا کر ختم ہوتا ہے جس کا انسان انتظار کررہا ہوتاہے۔
لہٰذا ”انتظار“ کے معنی یہ نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، انتظار اسے نہیں کہتے کہ انسان دروازہ پر آنکھیں جمائے رکھے اور حسرت لئے بیٹھا رہے بلکہ درحقیقت ”انتظار‘‘ میں نشاط اور شوق و جذبہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
جو لوگ کسی محبوب مہمان کا انتظار کررہے ہوتے ہیںتو وہ خود کواپنے اردگرد کے ماحول کو مہمان کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس کے راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔
گفتگو اس بے نظیر واقعہ کے انتظار کے بارے میں ہے جس کی خوبصورتی اور کمال کی کوئی حد نہیں ہے، انتظار اس زمانہ کا ہے کہ جس میںخوشی اور شادابی کی مثال گذشتہ زمانوں میں نہیں ملتی اور اس دُنیا میں اب تک ایسا زمانہ نہیں آیا اور یہ وہی حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار ہے جس کو روایات ” انتظار فَرَج “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اس حالت کو تمام اعمال و عبادت میں بہترین قرار دیا گیا ہے بلکہ تمام ہی اعمال قبول ہونے کا وسیلہ اسے قرار دیا گیا ہے۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”میری اُمت کا سب سے بہترین عمل ”انتظار فَرَج “ ہے۔ (بحارالانوار، جلد ۲۵، ص ۲۲۱)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
”کیا تم لوگوں کو اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس کے بغیر خداوند عالم اپنے بندوں سے کوئی بھی عمل قبول نہیں کرتا؟ سب نے کہا: جی ہاں! امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی وحدانیت کا اقرار پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت کی گواہی، خداوند عالم کی طرف سے نازل ہونے والی چیزوں کا اقرار، اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری (یعنی مخصوصاً ہم اماموں کے دشمنوں سے بیزاری) اور آئمہ (علیہم السلام) کی اطاعت کرنا، تقویٰ و پرہیزگاری اور کوشش و بردباری اور قائم (آل محمد) علیہم السلام کا انتظار“۔ (غیبت نعمانی، باب ۱۱، ح ۶۱، ص ۷۰۲)
پس ”انتظار فَرَج “ ایسا انتظار ہے جس کی کچھ خاص خصوصیات اور منفرد امتیازات ہیں جن کو کماحقہ پہچاننا ضروری ہے تاکہ اس کے بارے میں بیان کئے جانے والے تمام فضائل اور آثار کا راز معلوم ہو سکے۔

امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ہم نے عرض کیا ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ہے اور ہر قوم و ملت اور ہر دین و مذہب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ہے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور بااہمیت ہو لیکن امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور ناچیز ہے کیونکہ آپ کے ظہور کا انتظار خاص امتیازات رکھتا ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے جو کائنات کی ابتداءسے موجود تھا یعنی بہت قدیم زمانہ میں انبیاءعلیہم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اور قریبی زمانہ میں ہمارے تمام ائمہ (علیہم السلام) آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اگر میں ان (امام مہدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا انتظار ہے، عالمی عادلانہ حکومت کا انتظار ہے اور تمام ہی اچھائیوں کے متحقق ہونے کا انتظار ہے۔ چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ہوئے ہے اور خداداد پاک و پاکیزہ فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ہے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نہیں پہنچ سکا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ہے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادانی، صلح و صفا، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے اور استعمار و غلامی، ظلم و ستم اور تمام اخلاقی برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمر ہو گا۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے جس کی شکوفائی کے اسباب فراہم ہونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ہو جائے گی اور وہ ایسا زمانہ ہے کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ہوں گے وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔بلکہ پیار و محبت بھرے انداز سے سارے انسانوں کے دل موہ لیں گے افتراق ختم محبت عام ہو جائے گی۔
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ہے اور انسان کو انسانیت اور حیات عطا کرتا ہے، نیز اس کو بے مقصد زندگی اور گمراہی سے نجات عطا کرتا ہے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ہیں اور ہر انسان کی روح میں اس کی جڑیں ملتی ہیں اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک و پا بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا مناسب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پہلوﺅں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپعلیہ السلام کے ظہور کے منتظریں کے فرائض اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔



امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو

خود انسان میں مختلف پہلو پائے جاتے ہیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پہلو اس میں موجود ہے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پہلو بھی پایا جاتا ہے اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پہلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پہلو بھی اس میں ہوتا ہے جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذکورہ پہلوﺅں کے لئے معین قوانین کی ضرورت ہے تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ہو جائے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کا انتظار، منتظر کے تمام پہلوﺅں پر مو ¿ثر ہے مثلاً انسان کے فکری اور نظری پہلو پر اثرات ڈالتا ہے کہ جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پہلو ہے اور انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاہب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے یاس و نااُمیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے اور گمراہ نہ ہوجائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ہو گا، خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدمی سے باقی رہے“۔ (کمال الدین، ج ۱، ح ۵۱، ص ۲۰۶) یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبہات کے ذریعہ یہ کوشش کی ہے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کر دیا جائے، لیکن ہمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرنا چاہیے۔
انتظار، عملی پہلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے، ایک حقیقی منتظر کو عمل کے میدان میں کوشش کرنا چاہیے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراہم ہو جائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ہمت باندھنا چاہیے نیز اپنی زندگی میں اپنی رُوحانی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ہو رہے اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کارآمد طاقت کے لحاظ سے ہدایت کے نورانی مورچہ کے لئے تیار رہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر وں اور مددگاروں میں شامل ہونا چاہتا ہے تواسے انتظار کرنا چاہیے اور انتظار کی حالت میں وہ تقویٰ و پرہیزگاری کا راستہ اپنائے اور نیک اخلاق سے خودکومزین کرے“۔ (غیبت نعمانی، باب ۱، ح ۶۱، ص ۰۲۲)
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ہے اور اس کو معاشرہ کے ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی پر مو ¿ثر ہوتا ہے بلکہ معاشرہ میں انسان کے لئے خاص منصوبہ بھی پیش کرتا ہے اور معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ہے اور چونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا ہر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامے خاموش اور بے توجہ نہ رہے کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہیے۔
مختصر یہ ہے کہ ”انتظار“ ای ایسا مبارک چشمہ ہے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ہے اور زندگی کے تمام پہلوﺅں میں انسان کو الٰہی رنگ اور حیات عطا کرتا ہے، پس خدائی رنگ سے بہتر اور ابدی رنگ اور کونسا ہو سکتا ہے؟
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾صِب غَةَ اللّٰہِ وَ مَن اَح سَنُ مِن اللّٰہِ صِب غَةً وَ نَح نُ لَہُ عَابِدُو نَ﴿ (سورہ ¿ بقرہ، آیت ۸۳۱)
”رنگ تو صرف اﷲ کا رنگ ہے اور اس سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے اور ہم سب اسی کے عبادت گزار ہیں“۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر مصلح کل حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کا فریضہ ”الٰہی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوﺅں میں جلوہ گر ہوتا ہے، جس کے پیش نظر ہمارے وہ فرائض ہمارے لئے مشکل نہیں ہوں گے بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ایک بہترین معنی و مفہوم عطا کرے گا۔ واقعاً اگر ملک کا مہربان حاکم اور امیر قافلہ ہمیں ایک شائستہ سپاہی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ہمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ہمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ہو گی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ہم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے نظر آئیں گے؟!


منتظرین کے فرائض

دینی رہبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظہور کا انتظار کرنے والوں کے بہت سے فرائض بیان کئے گئے ہیں، ہم یہاں پر ان میں سے چند اہم فرائض کو بیان کرتے ہیں:

امام کی معرفت
راہ انتظار کو طے کرنا امام علیہ السلام کی شناخت اور معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انتظار کی وادی میں صبر و استقامات کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ہے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی حد تک شناخت بھی ضروری ہے۔
”ابونصر“ جو امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم تھے، امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ہی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں، اور خداوند عالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاو ¿ں کو دُور فرماتا ہے“۔(کمال الدین ج۲، باب ۳۴،ح۲۱،ص۱۷۱)
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ہو جائے تو پھر وہ اسی وقت سے خود کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ اپنے امام سے تعلق ہے اور یہی تعلق اس کی نجات کا وسیلہ بن جائے گا معرفت کے بارے مزیدمعلومات کے لئے معرفت امام زمانہ علیہ السلام اور ہماری ذمہ داریاں کامطالعہ کریں۔
احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جو معرفت مطلوب ہے وہ سادہ پہچان اور نسبی آگاہی سے بڑھ کر ہے، اس میں تسلیم اور اپنے امام سے ولایت و محبت اور ان کی اطاعت کو اپنے لئے واجب قرار دینا ہے اوریہ جاننا ہے کہ ان کی جانب سے کیا مجھ پر واجب ہے اور میرے مولا مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟

مثال
حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں موجود سارے لوگ خاندانی پس منظر سے پہچانتے اور جانتے تھے لیکن آپ کو امام علیہ السلام تسلیم نہیں کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کی اطاعت کو واجب اور فرض نہیں جانتے تھے گویا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو رسول اللہ کا قائمقام، جانشین اور خلیفہ سمجھتے تھے،آپ کے فضائل جانتے تھے آپ کے نسب سے آگاہ تھے ، لیکن آپ کو اپنا امام ورہبر،قائد اور واجب اطاعت خلیفہ رسول نہیں جانتے تھے۔پس ایسے لوگ ہی کفر و جہالت کی موت مر گئے ۔
بالکل اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کامسئلہ ہے کہ آج رسول اللہ کے خلیفہ، وصی، قائمقام امام مہدی علیہ السلام ہیں ان کی اطات اسی طرح فرض ہے جس طرح رسول اللہ کی اطاعت فرض ہے، ایسا ایمان ہی انسان کو کفر و جاہلیت کی موت سے بچاتاہے۔

امام علیہ السلام کے ساتھ عہد و پیمان

ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ روزانہ اپنے امام علیہ السلام سے عہدوپیمان باندھے اور آپ سے بیعت کی تجدید کرے، اس کے لئے دعاﺅں اور زیارات کے پڑھنے کا حکم وارد ہوا ہے جو کہ مفاتیح الجنان اور دعاﺅں کی کتابوں میں موجود ہیں، اس میں دعائے عہدمشہور ہے جسے روزانہ صبح کی نماز کے بعد پڑھنے کا حکم ہے روایت میں وارد ہواہے۔
”جو شخص چالیس دن تک ہر صبح کو اپنے خدا سے یہ عہد کرے تو خدا ان کو ہمارے قائم (علیہ السلام) کے ناصر و مددگار قرار دے گا، اور اگر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے اس کی موت بھی آجائے تو خداوند عالم اس کو قبر سے اُٹھائے گا (تاکہ حضرت قائم علیہ السلام کی نصرت و مدد کرے)....

وحدت اور ہم دلی

قبیلہ انتظار کے ہر فرد کا شخصی فرائض اور ذمہ داری کے علاوہ انتظار کرنے والے اپنے امام(علیہ السلام) کے اہداف اور مقاصد کے سلسلہ میں خاص منصوبہ بندی کریں، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس راہ میں سعی و کوشش کریں جس سے ان کا امام راضی اور خوشنود ہو۔
لہٰذا انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے امام سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر باقی رہیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے راستہ ہموار ہو جائے۔
امام عصر علیہ السلام اپنے بیان میں اس طرح کے افراد کے لئے یہ بشارت دیتے ہیں:
”اگر ہمارے شیعہ (کہ خداوند عالم ان کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا کرے) اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان پر ایک دل اور مصمم ہوں تو ہرگز (ہمارے) دیدار کی نعمت میں دیر نہیں ہو گی اور مکمل و حقیقی معرفت کے ساتھ ہماری ملاقات جلد ہی ہو جائے گا“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۰۰۶)
وہ عہد و پیمان وہی ہے جو نکتہ خدا اور الٰہی نمائندوں کے کلام میں بیان ہوا ہے، جن میں سے چند اہم چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی پیروی کرنے کی ہر ممکن کوشش، اور آئمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار کرنا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا:
”خوش نصیب ہے وہ شخص جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھے کہ ان کے قیام سے پہلے خود ان کی اور ان سے پہلے ائمہ کی پیروی کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرے، تو ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ہیں اور روز قیامت میرے نزدیک میری اُمت کے سب سے عظیم افراد ہیں“۔ (کمال الدین، ج۱، باب ۵۲، ح ۲، ص ۵۳۵)۲۔ دین میں تحریفات، بدعتوں اور معاشرہ میں پھیلتی ہوئی برائیوں اور فحشاءکے مقابلہ میں انتظار کرنے والوں کو بے توجہ نہیں رہنا چاہیے، بلکہ نیک سنتوں اور اخلاقی اقدار کو بھلائے جانے پر ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
حضرت رسول اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
”البتہ اس امت کے آخری زمانہ (آخر الزمان) میں ایک گروہ آئے گا جس کا ثواب اسلام میں سبقت کرنے والوں کی طرح ہو گا، وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں گے اور اہل فتنہ ( و فساد) سے جنگ (مقابلہ) کرتے ہوں گے“۔ (دلائل النبوة، ج ۶، ص ۳۱۵)
۳۔ ظہور کا انتظار کرنے والوں کا یہ فریضہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ تعاون اور نصرت و مدد کو اپنے منصوبوں میں پیش نظر رکھیں اور اس معاشرہ کے افراد تنگ نظری اور خود پرستی سے پرہیز کرتے ہوئے معاشرہ میں غریب اور نیازمند لوگوں پر دھیان دیں، اور ان کے سلسلہ میں لاپرواہی نہ کریں۔
شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت محمد باقر علیہ السلام سے نصیحت فرمانے کی درخواست کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”تم میں سے صاحب حیثیت لوگ غریبوں کی مدد کریں اور مالدار افراد نیازمندوں کے ساتھ محبت و مہربانی سے پیش آئین اور تم میں سے ہر شخص دوسرے کی نسبت نیک نیتی سے کام لے“۔( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۲۲، ص ۳۲۱) قابل ذکر ہے کہ اس تعاون اور مدد کا دائرہ فقط ان کے اپنے علاقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انتظار کرنے والوں کا خیر اور احسان دور دراز علاقوں میں بھی پہنچتا ہے کیونکہ انتظار کے پرچم تلے کسی طرح کی جدائی اور غیریت کا احساس نہیں ہوتا۔
۴۔ انتظار کرنے والے معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں مہدی رنگ و بو پیدا کریں، ان کے نام اور ان کی یاد کا پرچم ہر جگہ لہرائیں اور امام علیہ السام کے کلام اور کردار کو اپنی گفتگو اور عمل کے ذریعہ عام کریں اور اسی راہ میں اپنے پورے وجود کے ذریعہ کوشش کریں کہ بے شک ائمہ معصومین علیہم السلام کا لطف خاص ان کے شامل حال ہو گا۔
عبد الحمید واسطی، امام محمد باقر علیہ السلام کے صحابی آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں:
”ہم نے اَم رِفَرَج (ظہور) کے انتظار میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی، جو ہم میں سے بعض کے لئے پریشانی کا باعث ہوا!
امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
اے عبد الحمید! کیا تم یہ گمان کرتے ہوئے کہ خداوند عالم نے اس بندہ کے لئے جس نے اپنے خداوند عالم کے لئے وقف کر دیا ہے اس کے لئے مشکلات سے نجات کے لئے کوئی راستہ نہیں قرار دیا ہے؟ خدا کی قسم! اس نے ایسے لوگوں کے لئے راہِ حل قرار دی ہے، خداوند عالم رحمت کرے اس شخص پر جو ہمارے امرِ (ولایت) کو زندہ رکھے“۔
( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۲۲، ح ۶۱، ص ۶۲۱)
آخری نکتہ یہ ہے کہ انتظار کرنے والے معاشرہ کو کوشش کرنی چاہیے کہ تمام اجتماعی پہلوﺅں میں دوسرے معاشروں کے لئے نمونہ قرار پائے اور منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے تمام لازمی راستوں کو ہموار کرے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے فوائد
بعض لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ عالمی پیمانے پر اصلاح کرنے والے (امام علیہ السلام) کا انتظار انسان کو حالت جمود اور غیر ذمہ داری میں قرر دے دیتا ہے۔ جو لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ایک عالمی سطح پر اصلاح کرنے والا آئے گا اور ظلم و جور اور برائیوں کا خاتمہ کر دے گا تو وہ برائیوں اور پستیوں کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں اور خود کوئی قدم نہ اُٹھائیں بلکہ خاموش رہیں اور ظلم و ستم کو دیکھتے رہیں!
لیکن یہ نظریہ ایک سطحی اور معمولی ہے، نیز اس میںوقت نظر سے کام نہیں لیا گیا ہے کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کے پیش نطر روشن ہے کہ انتظار کا مسئلہ اپنی بے مثال خصوصیات اور امام مہدی علیہ السلام کی بے مثال عظمت کے پیش نظر نہ صرف انسان میں جمود اور بے توجہی پیدا نہیں کرتا بلکہ تحریک اور شکوفائی کا بہترین وسیلہ ہے۔
انتظار، منتظر میں ایک مبارک اور بامقصد جذبہ پیدا کرتا ہے اور منتظر جتنا بھی انتظار کی حقیقت کے نزدیک ہوتا جاتا ہے مقصد کی طرف اس کی رفتار بھی اتنی ہی تیزہوتی جاتی ہے۔ انتظار کے زیر سایہ انسان خود پرستی سے آزاد ہو کر خود کو اسلامی معاشرہ کا ایک حصہ تصور کرتا ہے۔ لہٰذا معاشرہ کی اصلاح کے لئے حتی الامکان کوشش کرتا ہے اور جب معاشرہ ایسے افراد سے تشکیل پاتا ہو تو پھر اس معاشرہ میں فضیلت اور اقدار رائج ہونے لگتی ہیں اور معاشرہ کے سب لوگ نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے لگتے ہیں اور ایسے ماحول میں جو کہ اصلاح، کمال، اُمید اور نشاط بخش فضا اور تعاون و ہمدردی کا ماحول ہے، دینی عقائد اور مہدوی نظریہ معاشرہ کے افراد میں پیدا ہوتا ہے اور اس انتظار کی برکت سے منتظرین فساد اور برائیوں کے دلدل میں نہیں پھنستے بلکہ اپنی دینی حدود اور عقائدی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ انتطار کے زمانہ میں پیش آنے والی مشکلات میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خداوند عالم کے وعدہ کے پورا ہونے کی اُمید میں ہر مصیبت اور پریشانی کو برداشت کر لیتے ہیں اور کسی بھی وقت سستی اور مایوسی کے شکار نہیں ہوتے۔
واقعاً کونسا ایسا مکتب ہو گا جس میں اس کے ماننے والوں کے لئے ایک روشن مستقبل پیش کیا گیا ہو؟ ایسا راستہ جو الٰہی نظریہ کے تحت طے کیا جاتا ہو جس کے نتیجہ میں اجر عظیم حاصل ہوتا ہو، یہ مکتب، اہل البیت علیہ السلام کا ہی ہے جس کے پیروشیعہ ہیں۔

انتظار کرنے والوں کے لئے ثواب

خوش نصیب ہے وہ شخص جو نیکیوں کے انتظار میں نظریں بچھائے ہوئے ہے۔ واقعاً کتنا عظیم ثواب ہے ان لوگوں کے لئے جو امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار کرتے ہیں اور کس قدر عظیم رتبہ ہے ان لوگوں کا جو قائم آل محمد علیہم السلام کے حقیقی منتظر ہیں۔ مناسب ہے کہ انتظار کی گفتگو کے آخر میں جام انتظار نوش کرنے والوں کی بے مثال فضائل اور سنان کو بیان کریں اوراس بارے معصومین علیہم السلام کے بیانات کو آپ حضرات کے سامنے پیش کریں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”ائم آل محمد کے وہ شیعہ خوش نصیب ہیںجو غیبت کے زمانہ میں ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور ان کے ظہور کے زمانہ میں ان کی اطاعت اور پیروی کریںگے، یہی لوگ خداوند عالم کے محبوب ہیں جن کے لئے کوئی غم و اندوہ نہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۳۳، ح ۴۵، ص ۹۳)
واقعاً اس سے بڑھ کر ان کے لئے اور کیا فضیلت ہو گی کہ جن کے سینہ پر خداوند عالم کی دوستی کا تمغہ ہو، اور وہ کیوں کسی غم و اندوہ میں مبتلا ہوں حالانکہ ان کی زندگی اور موت دونوں کی قیمت بہت بلند و بالا ہے۔
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص ہمارے قائم علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں ہماری ولایت پر قائم رہے تو خداوند عالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کا ثواب عطا کرے گا“ ۔ ( کمال الدین، ج ۲، باب ۱۳، ح ۶، ص ۲۹۵)
جی ہاں! غیبت کے زمانہ میں جو لوگ اپنے امام زمانہ علیہ السلام کی ولایت اور اپنے امام سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر باقی رہیں تو وہ ایسے فوجی ہیں جنہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ مل کر دشمنان خدا سے جنگ کی ہو اور اس کارزار میں اپنے خون میںنہائے ہوں! وہ منتظرین جو فرزندہ رسول امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار میں جان برکف کھڑے ہوئے ہیں وہ ابھی سے جنگ کے میدان میں اپننے امام کے ساتھ موجود ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”اگر تم (شیعوں میں) سے کوئی شخص (امام مہدی علیہ السلام) کے ظہور کے انتظار میں مر جائے تو وہ شخص گویا اپنے امام علیہ السلام کے خیمہ میں ہے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے تھوڑا صبر کرنے کے بعد فرمایا: بلکہ اس شخص کی طرح ہے جس نے امام علیہ السلام کے ساتھ مل کر جنگ میں تلوار چلائی ہو اور اس کے بعد فرمایا: خدا کی قسم کہ وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی رکاب میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوا ہو“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۶۲۱)
یہ وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک روز پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: پالنے والے! مجھے میرے بھائیوں کو دکھلا دے اور اس جملہ کو دو بار تکرار کیا، آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب نے کہا: یا رسول اﷲ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟
آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: تم لوگ میرے اصحاب ہو لیکن میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو آخر الزمان میں مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ اُنہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا! خداوند عالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ہے........ ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ”گون“ نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ہوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کہیں زیادہ سخت ہے، وہ ہدایت کے مشعل ہیں جن کو خداوند عالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطا کرے گا“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۳۲۱)
نیز پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: خوس نصیب ہے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کو پائے، حالانکہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداءکرتے ہیں، وہ لوگ ان کے دوستوں کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کرتے ہیں، نیز ان سے پہلے ہم سے محبت رکھتے ہیں، وہ میری حب اور مودّت کے مالک ہیں وہ میرے نزدیک میری اُمت کے سب سے گرامی افراد ہیں“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۵۲، ح ۲، ص ۵۳۵)
لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں اور وہی خداوند عالم کے خطاب سے مشرف ہوں گے اور وہ بھی ایسی آواز جو عشق و محبت ے بھری ہو گی اور جو خداوند عالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ہو گا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رکھے، بے شک انکی کم سے کم جزا یہ ہو گی کہ خداوند عالم ان سے خطاب فرمائے گا: اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ہو، اور تم نے اس کی تصدیق کی ہے، پس میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ہو، تم حقیقت میں میرے بندے ہو، تمہارے اعمال کو قبول کرتا ہوں اور تمہاری خطاو ¿ں سے درگزر کرتا ہوں اور تمہاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر نازل کرتا ہوں اور بلاو ¿ں کو دور کرتا ہوں اگر تم (لوگوں کے درمیان) نہ ہوتے تو پھر (گنہگار لوگوں پر) ضرور عذاب نازل کر دیتا “ (کمال الدین، ج ۱، باب ۳۲، ح ۵۱، ص ۲۰۶) لیکن ان انتظار کرنے والوں کو کسی چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ہے اور ان کی انتظار کی گھڑیاں کب ختم ہو گی؟ کس چیز سے ان آنکھوں میں ٹھنڈک ملے گی ، اور ان کے بے قرار دلوں کو کب چین و سکون ملے گا؟ کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پر قدم بڑھایا ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رہے ہوںتاکہ مہدی منتظر (علیہ السلام) کے سرسبز چمن میں قدم رکھیں اور اپنے محبوب و معشوق کی ہم نشینی سے کم پر راضی نہ ہوں؟ اور واقعاً اس سے بہترین اور کیا انجام ہو سکتا ہے اور اس سے بہتر اور کونسا موقع ہو سکتا ہے؟
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”خوش نصیب ہیں ہمارے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوسری کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ہم سے دوستی رکھیں اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کریں، وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے، وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ہیں (اور ہماری امامت کو قبول کرتے ہیں) اور ہم بھی ان کے شیعہ ہونے سے راضی اور خوشنود ہیں۔ خوش نصیب ہیں! خدا کی قسم! یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ ہمارے مرتبہ میں ہمارے ساتھ ہوں گے“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۴۳، ح ۵، ص ۳۴)
ة....ة....ة....ة....ة


درس کا خلاص:

انتظار کا معنی چشم براہ ہونا ہے اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان بے پرواہ نہ ہو بلکہ انتظار کے مقصد کے لئے کوشش کرے۔
روایات میں ظہور مہدی علیہ السلام کے انتظار کی ایک بہترین عمل کے عنوان سے توصیف کی گئی ہے۔
ظہور مہدی علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات ظہور کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے عزم و اشتیاق پیدا کرتی ہے بالفاظ دیگر منتظرین کی روح میں عدالت و نشاط پیدا کرتی ہیں۔
ظہور مہدی علیہ السلام کا انتظار انسان کی فردی و اجتماعی جہت میں بہت سے اثار و ثمرات رکھتا ہے۔
منتظرین کے اہم ترین وظائف امام علیہ السلام کی شناخت، ان سے اسوہ لینا، حضرت کی یاد، اور ان کے ہمقدم ہونا ہے۔
روایات کی رو سے منتظرین کا اجر شہدائے صدر اسلام کے اجر کے مساوی شمار کیا گیا ہے۔

درس کے سولات:
۱۔ انتظار کا معنی اور امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات بیان کریں؟
۲۔ انتظار کے مختلف پہلوﺅں اور  اقسام بیان کریں؟
۳۔ منتظرین ظہور کے اہم ترین وظائف میں سے تین موارد کی تشریح کریں؟
۴۔ انتظار کے انفرادی و معاشرتی اثرات کیا ہیں؟
۵۔ امام سجاد علیہ السلام نے ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم منتظرین کے اجر کو کس چیز کے مساوی بیان کیا ہے؟
ة....ة....ة....ة....ة
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی 



**سوالات کے جوابات:**



**1. انتظار کا معنی اور امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات بیان کریں؟**




جواب 



انتظار کا معنی ہے کسی محبوب کے لئے چشم براہ ہونا۔ امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ انتظار صرف کسی شخصیت کے آنے کا نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی آمد کا ہے جو عدل و انصاف، معنویت، برادری، زمین کی آبادانی، صلح و صفا، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو فروغ دے۔



**2. انتظار کے مختلف پہلوﺅں اور  اقسام بیان کریں؟**





امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو

انتظارِ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کے مختلف پہلو؛ نظری، عملی، ذاتی، اجتماعی، جسمانی، روحانی اور نفسیاتی، تمام پر موثر ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی قوانین کے تحت انسان کی زندگی کا صحیح راستہ کھل جاتا ہے اور منحرفیوں سے بچ جاتا ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ انتظار میں اپنی اعتقادی، فکری، اخلاقی، اور روحانی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ انسان سماجی اصلاح کا کام کرتا ہے اور خوش نصیب ہوتا ہے جو امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لیتا ہے۔

۔

1. **نظری اور عملی پہلو:**

   - امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار نظری اور عملی دونوں پہلوؤں پر اثرات ڈالتا ہے۔
   - انتظار ایک عملی مسئلہ ہے جو انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔

2. **ذاتی اور اجتماعی پہلو:**

   - انتظار کی حالت میں انسان اپنی ذاتی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اجتماعی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
   - اس کے ذریعہ معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت دلاتا ہے۔

3. **جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی پہلو:**

   - انتظار انسان کے جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی جانبوں پر بھی اثرات ڈالتا ہے۔
   - اس کے ذریعہ انسان اپنی زندگی میں معنی و مفہوم پائے اور اپنے ذاتی ترقی اور خوشحالی کی راہ تیار کرے۔

4. **معاشرتی اثرات:**

   - انتظار کی حالت میں انسان معاشرتی بدلاؤں کا عہد کرتا ہے اور معاشرتی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
   - اس کے ذریعہ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لینے کی خواہش رکھتا ہے۔











**3. منتظرین ظہور کے اہم ترین وظائف میں سے تین موارد کی تشریح کریں؟**


- **امام کی معرفت**: امام کو پہچاننا اور ان کی تعلیمات اور وصایا کی پیروی کرنا ضروری ہے۔


- **دعا و زیارت**: روزانہ دعا و زیارت کے ذریعے امام سے رابطہ قائم رکھنا، جیسے دعائے عہد کی تلاوت کرنا۔


- **ولایت اہل بیت کی پیروی**: اہل بیت کی ولایت کے سلسلے میں مضبوطی سے کھڑے ہونا اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرنا۔



**4. انتظار کے انفرادی و معاشرتی اثرات کیا ہیں؟**


فردی سطح پر، انتظار کا اثر امید، صبر، استقامت اور محبت بھرے جذبات کا فروغ ہے۔ معاشرتی سطح پر، یہ اصلاح، ہمدردی، تعاون اور عدل کی ترویج کو فروغ دیتا ہے، اور معاشرہ کو ایک زیادہ پرامن اور متحد کمیونٹی بنانے میں مدد دیتا ہے۔



**5. امام سجاد علیہ السلام نے ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم منتظرین کے اجر کو کس چیز کے مساوی بیان کیا ہے؟**


امام سجاد علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ جو شخص غیبت کے دوران ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہتا ہے، اس کا اجر شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کے اجر کے برابر ہے۔


ChatGPT


 

انتظارکا معنی و مفہوم


لغت میں انتظار کے معنی امور میں عجلت,کسی کا راستہ دیکھنا, مستقبل سے امید وابستہ رکھنا وغیرہ
اسی طرح انتظار کے معانی کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ _انتظار ایک نفسیاتی حالت ہے جو عجلت کے ہمراہ ہوتی ہے_

←اب دو قسم کی معانی درج زیل ہیں:

١- یہ نفسیاتی کیفیت کسی کا راستہ دیکھنا کیا انسان کو ناامیدی اور مایوسی کی وادی میں دھکیلتا ہے اور انتظار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بہتر مستقبل کے لیے بغیر کسی کوشش کے انتظار کریں۔

٢- کسی کے آنے کی امید حرکت اور عمل کے ساتھ تیاری کا سبب بننا۔


**1. ظلم کی تاریکیوں میں امید کا روشن ستارہ:**

جب ظلم اور تاریکی کی گھنگور بادلیں افق کو ڈھانپ لیتی ہیں اور امید کا روشن دھیما ستارہ غائب ہو جاتا ہے، تو اس وقت انتظار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انتظار ہمیں یقین دلاتا ہے کہ رات کے بعد صبح ضرور آئے گی۔


**2. خوابوں کی خوابگیر: صبر اور امید کا مظہر:**

خوابوں کو پورا کرنے کے لئے صبر اور امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب زندگی کی مایوسیاں ہمیں دھوپ میں لے لیتی ہیں، تو انتظار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بادلوں کے پیچھے بھی آسمان ہوتا ہے۔


**3. باغباں کی منتظرانہ نگاہ: انتظار کی شان:**

باغباں کی نظریں جب بس پھولوں کا انتظار کرتی ہیں، تو وہیں ہمیں انتظار کی اہمیت سمجھا دیتی ہیں۔ امید کی روشنی کو دیکھنے کی خواہش میں ہمیں امید سے نہیں ہٹنا چاہیے۔

 

انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت 


"انتظار" کی حقیقت اور عظمت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس کا معنی نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی حالتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ انتظار ایک روحانی حالت نہیں بلکہ عملی عمل کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے، جو کسی محبوب کے لئے، یا کسی مخصوص واقعے یا حقیقت کے بارے میں، اپنی آنکھیں بچھانے کا عمل ہوتا ہے۔

انتظار میں ذوق و شوق اور نشاط پوشیدہ ہوتا ہے، جو انسان کو اپنے محبوب کے لئے تیاریاں کرنے اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے کی سمجھ دیتا ہے۔ اس کی عظمت اور حیثیت اس بات میں ہے کہ انتظار کی بنیاد پر بہترین عملوں کو تمام کیا جاتا ہے اور اس کو انسانی زندگی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

خصوصیات کی روشنی میں، امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کا خصوصی مقام ہے۔ ان کا ظہور انصاف، برابری، انسانیت، اور عقل کی ترقی کی عالمی حکومت کی بشارت لاتا ہے۔ انتظار کی یہ انوکھی حالت انسانیت کو خداداد پاک و پاکیزہ فطرت کی بنیاد پر زندگی کی راہ دکھاتی ہے اور اسے بے مقصد زندگی سے بچاتی ہے۔

انتظار کے ان مختلف پہلوؤں اور اس کے آثار و فوائد کو جاننا اہم ہے، اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے منتظرین کے فرائض اور اس کے ثواب کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے۔



امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو

انتظارِ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کے مختلف پہلو؛ نظری، عملی، ذاتی، اجتماعی، جسمانی، روحانی اور نفسیاتی، تمام پر موثر ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی قوانین کے تحت انسان کی زندگی کا صحیح راستہ کھل جاتا ہے اور منحرفیوں سے بچ جاتا ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ انتظار میں اپنی اعتقادی، فکری، اخلاقی، اور روحانی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ انسان سماجی اصلاح کا کام کرتا ہے اور خوش نصیب ہوتا ہے جو امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لیتا ہے۔

۔

1. **نظری اور عملی پہلو:**

   - امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار نظری اور عملی دونوں پہلوؤں پر اثرات ڈالتا ہے۔
   - انتظار ایک عملی مسئلہ ہے جو انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔

2. **ذاتی اور اجتماعی پہلو:**

   - انتظار کی حالت میں انسان اپنی ذاتی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اجتماعی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
   - اس کے ذریعہ معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت دلاتا ہے۔

3. **جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی پہلو:**

   - انتظار انسان کے جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی جانبوں پر بھی اثرات ڈالتا ہے۔
   - اس کے ذریعہ انسان اپنی زندگی میں معنی و مفہوم پائے اور اپنے ذاتی ترقی اور خوشحالی کی راہ تیار کرے۔

4. **معاشرتی اثرات:**

   - انتظار کی حالت میں انسان معاشرتی بدلاؤں کا عہد کرتا ہے اور معاشرتی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
   - اس کے ذریعہ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لینے کی خواہش رکھتا ہے۔



منتظرین کے فرائض


منتظرین کے فرائض کے عنوانات شامل کرنے کی کچھ مثالیں ہیں:

1. آخری وقت کی تیاری
2. علم کی جستجو اور تعلیم
3. اخلاقی اصلاح
4. امید اور صبر کی فراست
5. جامعہ جماعت کی حفاظت
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت
7. اعمال میں اصلاح اور نیکی
8. امامت کی توجہ اور تابعداری
9. انسانی حقوق کی پاسداری
10. خدمت اور انقلابی فعالیت


منتظرین کے فرائض

1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔

2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔

4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔

5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔

6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔

یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔


یا


بالکل، یہاں ذیل موضوعات کی تفصیلات ہیں:

1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔

2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔

4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔

5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔

6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔

یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔


یا
منتظرین کے فرائض

1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔

2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔

4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔

5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔

6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔

یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔

منتظرین کے فرائض

1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔

2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔

4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔

5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔

6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔

یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔










تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات