حدیث معراج شریف خلاصہ جات (Naqvi)
1, 2, , missing
حدیث معراج تیسرا حصہ
خداوند عالم اپنی عزت و جلالت کی قسم کھاتے ہوے چار صفات رکھنے والے کو جنت کی ضمانت دیتا ہے
💠 زبان کہ حفاظت یعنی فضول بات سے پرھیز اور مفید بات ادا ہو
💠 دل کو پاک رکھے
💠خدا اسے دیکھ رہا ہے اس پہ توجہ
💠شکم کی حفاظت اور زیاد خوری سے پرھیز
❇️پھر اسکے بعد فرماتا ہے
بھوک خاموشی تنہائی کے ثمرات ہیں اور اس میں بھی لذت ہے اور قرب الٰہی کا باعث ہیں
🔆بھوک کا ثمرہ
◀️ حکمت و دانائی
◀️دل کی حفاظت
◀️قرب خدا
◀️فراق الہی کا غم
◀️لوگوں میں عزت
◀️حق گوئی
◀️سختیوں اور آسانیوں سے بے پروائی
3rd
*خلاصہ:*
*رشد :*
تاریکی سے نکل کر نور میں داخل ہونا.. گناہ سے نکل کر نیکی/ہدایت کی جانب بڑھنا، کمال کی طرف حرکت۔ خدا کی سرپرستی قبول کر کے،اس کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا رشد ہے۔
*رشد کے درجات :*
1:طیب
2:خیر/ خیر گزینی
3:حسن
4:ایمان
5:صدق
6:ولایت
*فہمِ قرآن :* دراصل خیر گزینی ہے۔
قرآن کو دقیق انداز میں سمجھنا اور عمل کرنا۔ بچوں کا قرآن کے پیغام کو زندگی میں apply کرنا۔
*مقاصد :*
1:بچے کا قرآن سے لگاؤ/انسیت پیدا کرنا.
2: سورہ کا پیغام بچے تک پہنچانا.
3: قرآن کی مٹھاس اور لزت کا زائقہ چکھانا.
🔸️مختلف activities کے زریعے بچے کو سورہ کا پیغام پہنچایا جائے مثلاً تلاوت، گیم، کہانی، نظم، ڈرائنگ، ویڈیو وغیرہ.
*سورہ نمبر 1 : سورہ الحمد*
🔸 مختلف طریقوں سے سورہ کی تلاوت کرنا۔
🔸 سورہ پڑھانےکا طریقہ: سورہ سے دوستی کروانا،سورہ کا نام خوبصورتی سے لکھنا،سورہ کی تلاوت کرنا/بچے سے کروانا، سورہ کا پیغام بچے تک پہنچانا۔
*سورہ الحمد کا پیغام*
⬅ ️خوبصورتی(نعمات) کو دیکھ کر اسکی تعریف کرنا
⬅ خوبصورت (اچھا) برتاؤ کرنا۔
♻️ *نھضت تدبر قرآن کریم| شعبہ فھم قرآن*
Sb
حدیث معراج
چوتھا حصہ
💠پروردگار عالم فرماتا ہے کہ بندہ کس وقت اپنے مالک سے قریب ہوتا ہے ⁉️⁉️
🔆جب وہ بھوکا ہو یا حالت سجدہ میں ہو
💠پھر فرماتا ہے
کہ مجھے تین قسم کے بندوں پر تعجب ہے
◀️ جو نماز میں کھڑا ہے جانتا ہے کس بارگاہ میں ہے مگر اونگھ رہا ہے
(یعنی نماز کی جانب توجہ نہ ہونا)
◀️دوسرا وہ بندہ جو رزق کھارہا ہے مگر دوسرے دن کے رزق کے لئے فکرمند ہے
◀️تیسرا وہ جو پروردگار کی اپنے لئے رضایت سے ناواقف ہے مگر پھر بھی خوش ہے ہنستا ہے
Sb
حدیث معراج
پانچواں حصہ
🟦پروردگار عالم فرماتا ہے
ایک نہایت زیبا و خوبصورت محل کی تعریف اور پھر یہ کن کا اجر ہے ؟؟
🔅خود خداوند عالم ان سے کلام فرماتا ہے
🔅ان کی شان میں اضافہ ہوتا ہے
🔅یہ وہ ہیں کہ جن کو ذکر خدا سے کلام خدا سے لذت ملتی ہے
💠پیغمبر اکرم ص نے ان کی نشانی دریافت فرمائی
♦️جواب میں خداوند عالم نے فرمایا
❗فضول کلام سے پرہیز
❗زیادہ غذا سے پرہیز
💠پرودبار نے اپنی محبت کو فقرا سے محبت میں قرار دیا
♦️ رسول خدا ص نے دریافت فرمایا وہ کون ہیں
💠فرمایا
❗تھوڑے پر راضی رہنے والے
❗بھوک پر صابر
❗نعمت پر شاکر
❗بھوک و پیاس پر شاکی نہ ہونے والے
❗جھوٹ سے بچنے والے
❗رب سے راضی
❗دنیا پر غمگین نہیں ہوتے
❗حصول دنیا پر خوشحال نہیں ہوتے
Sb
حدیث معراج
چھٹا حصہ
💠فرمان پروردگار
◀️خدا کی محبت دراصل فقرا کی محبت میں ہے
🔅اس کے حصول کا طریقہ⁉️
🔅 فقرا کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا
🔅امراء سے دوری
🔅فقرا خدا کے محبوب
◀️نرم لباس سے پرہیز
◀️نرم بستر سے پرہیز
◀️نفس کو خدا کی اطاعت کی جانب مائل کرنا
❗نفس
♦️خدا کی اطاعت کی مخالفت کرے گا
♦️سرکشی کرے گا
♦️شکایت کرے گا
♦️غصب ناک ہوگا
♦️فراموشی میں مبتلا ہوگا
♦️آسائش میں غفلت کرے گا
♦️شیطان کا ہمدم ہے
Sb
*☀️حدیث شریف معراج☀️*
*ساتواں حصہ*
🟦خداوند عالم فرماتا ہے
🔷دنیا و اہل دنیا سے نفرت اور آخرت و اہل آخرت سے محبت کی جاے
🔷رسول خدا ص نے دریافت کیا
اہل آخرت و اہل دنیا کون ہیں ⁉️
🔷اہل دنیا
جن کی
❗خوراک زیادہ
❗قہقہے زیادہ
❗نیند زیادہ
❗غصہ زیادہ
❗رضایت کم
ہے
❗برائی کے بعد معذرت نہیں کرتے
❗معذرت کو قبول نہیں کرتے
❗اطاعت الٰہی کے وقت سست
❗گناہ کی وقت تیز ہیں
❗لمبی آرزوؤں کے حامل
❗محاسبہ نفس نہیں کرتے
❗دینی سمجھ بوجھ کم ہوتی ہے
❗زیادہ بولتے ہیں
❗خدا اور آخرت کا خوف کم
❗کھانے کے وقت خوش
❗نعمت میں شکر گزار نہیں ہوتے
❗مصیبںت میں بے صبرے
❗لوگوں کے اچھے کام ان کے لئے غیر اہم
❗اپنے نہ کئے ہوے کام کی تعریف
❗اس چیز کا دعویٰ جس کا حق نہیں
❗لوگوں کے عیب شمار کرتے ہیں
❗ان کے عیب زیادہ
❗جہالت و حماقت میں گھرے
❗جس سے علم سیکھتے ہیں انکی بے احترامی
❗خود کو عقل مند سمجھتے ہیں
❗اہل معرفت کے نزدیک یہ احمق ہیں
Sb
حدیث معراج
آٹھواں درس
🟦 خداوند عالم فرماتا ہے
🔹 اہل آخرت
❗کے دل نرم
❗شرم و حیا زیادہ
❗نافہمی کم
❗دوسروں کو ان سے زیادہ نفع
❗دوسروں سے مکر و فریب کم
❗لوگوں کو ان سے سہولت و آسائش ملتی ہے
❗انہیں لوگوں سے رنج و زحمت زیادہ ملتی ہے
❗گفتگو ابھی و سنجیدہ
❗نفس کا محاسبہ
❗نفس کو سختی و زحمت میں ڈالتے ہیں
❗دل بیدار
❗دل میں خدا کی یاد زندہ
❗ان کا نام اللہ کو یاد رکھنے والوں میں
❗نعمت پر حمد و ثناء خدا و شکر
❗دعا مستجاب
❗خدا ان سے راضی
❗ملائک ان سے راضی
❗ان کی دعا نوری حجابوں کے نیچے حرکت کرتی ہے
❗خدا ان کے کلام کو پسند کرتا ہے
❗خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے
❗نہ زیادہ کھاتے ہیں نہ زیادہ بولتے ہیں نہ زیادہ لباس کے شوقین ہوتے ہیں
❗ان کے نزدیک صرف ذات الٰہی حی و کریم ہے
❗حق سے دور لوگوں کو اپنے کرم و بزرگی کی وجہ سے بلاتے ہیں
❗اپنے طرف آنے والوں کا خوش خلقی سے استقبال کرتے ہیں
❗ان کی نگاہ میں دنیا و آخرت ایک ہے
❗یہ ہو روز نفس کے مقابل جہاد کرتے ہیں اور 70 مرتبہ روانہ اس جہاد میں قتل ہوتے ہیں
❗بظاہر بدن کمزور لیکن عبادت الہٰی میں مستحکم چٹان
❗مخلوق سے غیر وابستہ
پھر پروردگار فرماتا ہے
🔆یہ حیات طیبہ سے سرفراز ہیں
🔆جب موت کا وقت آتا ہے تو میں خود ان کی جان لیتا ہوں
🔆 آسمان کے دروازے ان کی ارواح کے لیے کھول دیتا ہوں
🔆ان کے اور اپنے درمیان تمام حجاب اٹھا دیتا ہوں
🔆جنت کو ان کے لئے سجانے کا حکم دیتا ہوں
🔆حورالعین کو ان کے استقبال کا حکم دیتا ہوں
🔆فرشتے ان کی خدمت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں
🔆جنتی میوے ان کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں
🔆باد نسیم کو مشک و کافور کے پہاڑوں سے خوشبو لانے کا حکم کہ ان کے گرد ماحول کو خوشبو دار کردیں
🔆کوئی حجاب نہیں رہتا
🔆اپنے حضور آنے کی مبارکباد
🔆سعادت ان کا نصیب
🔆رحمت رضوان اور بہشت کی خوشخبری
💠ان کے لئے سب سے بڑا اجر اللہ کی بارگاہ میں
💠فرشتے انہیں اپنی آغوش میں لیتے ہیں
Sb
حدیث معراج
نواں حصہ
🟦خداوند عالم فرماتا ہے
اہل آخرت کی صفات کی ذیل میں
❗جب سے انہوں نے معرفت رب حاصل کی انہیں خوراک مزا نہیں دیتی
❗خدا کی یاد سے لذت حاصل کرتے ہیں
❗جب سے اپنے گناہوں سے واقف ہوے کسی مصیبت سے پریشان نہیں
❗اپنی خطاؤں پر گریہ
❗نفس پر سختی
❗ان کا سکون موت میں
❗عرفاء کے لئے جاے آسائش آخرت ہے
❗اشک ان کے دوست
❗فرشتے ان کی ہمنشین
❗رب سے راز و نیاز
❗ان کے قلوب زخمی
Sb
حدیث معراج
دسواں حصہ
🟦پروردگار کا فرمان
اے احمد کیا تم زاھدوں کا میرے نزدیک مقام جانتے ہو ⁉️⁉️
◀️فرمایا
پروردگار میں نہیں جانتا
◀️پروردگار عالم فرماتا ہے
❗وہ حساب کی مشکل سے بچے رہیں گے
❗انہوں جنت کی کنجیاں دوں گا
❗ان پر تجلی پروردگار ہوگی
❗رب کی ہم نشینی
❗رب سے ہم کلامی
❗ان کے لئے چار در کھل جائیں گے
🔹ایک در تحائف کے لئے
❗ایک در دیدار پروردگار کے لئے
❗ایک در جھمنیوں پر ہونے والے عذاب کو دیکھنے کے لیے
❗ایک در کنیزوں اور حوروں کے لیے
💠رسول خدا ص نے دریافت فرمایا
یہ کون ہیں
🔆ارشاد پروردگار
❗گھروں سے دل بستگی نہیں رکھتے
❗نہ اولاد سے دل بستگی رکھتے ہیں
❗نہ مال کا غم کرتے ہیں
❗نہ پر خوری کرتے ہیں
❗نہ لباس کو آسائش و
کا ذریعہ قرار دیتے ہیں ضرورت کے مطابق استفادہ کرتے ہیں
Sb
حدیث معراج
گیارھواں حصہ
🟦 پروردگار فرماتا ہے
❗ زاہدوں کے چہروں کا رنگ شب بیداری اور روزوں کے باعث زرد ہوچکا ہے
❗زبان پر غیر خدا کا ز
ذکر نہیں
❗نفسانی خواہشات کے مخالف ہیں
❗عاقلانہ سکوت کے حامل ہیں
❗نہ جھنم کا خوف نہ جنت کا لالچ
❗صرف خدا کو لائق عبادت جانتے ہیں
💠رسول خدا ص نے دریافت فرمایا
کہ کیا میری امت میں یہ خصوصیات ہوں گی ⁉️
◀️پروردگار عالم کا جواب
یہ درجہ زھد تیری اور دوسری امتوں میں اور شہدا کے ایک گروہ کا ہے
⁉️رسول خدا ص کا سوال
آیا یہ میری امت میں زیادہ ہوں گے یا بنی اسرائیل میں
کہ رسول خدا ص کی امت میں زیادہ ہوں گے اور اسکی وجہ ان کایقین کے بعد شک کرنا ہے اقرار کے بعد انکار ہہے
Sb
حدیث معراج
بارھواں حصہ
🟦 رسول خدا ص نے دعا کی
❗اپنی امت کے زاہدوں کہ حفاظت کی
❗ان پر نزول رحمت ق برکت کی
❗ان کے دین پر برقرار رہنے کی
❗ایمان کو روزی قرار دینے کی بغیر شک کے
❗ورع یعنی بلند ترین درجہ تقوی عطا ہو
❗ایسا خوف کہ غفلت نہ کو
❗علم کہ جہالت کی گنجائش نہ ہو
❗ناسمجھی کے بغیر عقل
❗قرب الٰہی کہ پھر دوری نہ ہو
❗ تواضع اور خشوع کہ قساوت و سیاہی نہ ہو
❗ذکر و یاد خدا کہ فراموشی دور ہو
❗بزرگی و کرم کہ خفت و ذلت نہ چھوڑے
❗صبر و استقامت کہ حوصلہ نہ چھوڑیں
❗بردباری و حلم کہ جلد بازی نہ کریں
❗حیا کہ خدا سے شرم کریں
❗آفات دنیا ،نفس اور وسوات شیطانی سے اگاہی
Sb
حدیث معراج
تیرھواں حصہ
🟦پروردگار فرماتا ہے
🔆ورع پیدا کرو
ورع یعنی بلند ترین مقام و کیفیت تقوی جس میں حرام کے ساتھ مشتبہ سے بھی پرھیز کیا جاتا ہے
🔅ورع دین کا سر ،پیکر ،انتہا اور قرب خدا کا وسیلہ ہے
🔅 مومن کی زینت ،ستون دین اور اس کشتی کی مانند ہے جو سمندر میں نجات دلاتی ہے
🔅ورع عبادت کے دروازے کھولنے کا سبب ،لوگوں میں عزت کا باعث اور بارگاہ خداوندی میں پہنچنے کا راستہ ہے
◀️خدا کا فرمان
🔅مجھے کسی بندے نے نہیں پہنچانا جب تک معیت آگے خاشع نہیں ہوا
🔅جو میرے آگے خاشع ہوا میں نے ساری چیزوں کو اس کے لئے خاشع کردیا
🔅حکیمانہ سکوت اور خاموشی کہ رعایت ضروری ہے
🔅سب سے زیادہ آباد دل صالحین اور اہل سکوت کے ہیں
🔅سب سے خراب دل فضول باتیں کرنے والوں کے ہیں
Sb
حدیث معراج
چودھواں حصہ
🟦پروردگار فرماتا ہے
🔆عبادت کے دس حصے ہیں
جس میں سے نو حلال روزی کی طلب و جستجو ہے
🔅خوراک کی پاکیزگی حفاظت پروردگار میں قرار پانے کا سبب ہے
◀️رسول خدا ص نے سوال فرمایا
❓عبادت کا آغاز کس سے ہوتا ہے
🔅ارشاد پروردگار
آغاز عبادت ◀️خاموشی اور روزی
◀️روزہ
🟰نتیجہ
▪️کم کھانا کم بولنا
❗ دوسری عبادت عاقلانہ سکوت
یعنی
❗غیر ضروری غیر شرعی باتوں سے پرہیز
🟰نتیجہ
▪️ علم و حکمت
🔅حکمت
دانائی و فکر کا علی مقام
🟰نتیجہ
▪️ شناخت یعنی حصول معرفت
تخلیق کائنات کا ھدف ،منشاے خالق اور اسکی ذات صفات اور افعال کی معرفت
🔅شناخت
🟰نتیجہ
▪️یقین
یہ مقام اہل رضا ہے
♦️رضاعت پروردگار کے لئے عمل
❗ تین صفات
▪️شکر بدون جہالت
▪️ذکر بدون فراموشی
▪️محبت خالق بدون محبت مخلوق
Sb
حدیث معراج
پندرھواں حصہ
🟦پروردگار فرماتا ہے
🔅میرا بندہ میری محبت اپنے دل میں رکھتا ہے میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں
🔅باقی مخلوقات کے دل میں اس کی محبت ڈالتا ہوں
🔅اسکے دل کی آنکھ کو اپنے جلال و عظمت پر کھولتا ہوں
🔅اپنے خاص بندوں کا علم اس سے مخفی نہیں رکھتا
🔅 رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں اس سے سرگوشی کرتا ہو
🔅 اپنا اور اپنے فرشتوں کی کلام اسکے کانوں تک پہنچاتا ہوں
🔅 اپنے راز اس پر آشکار کرتا ہوں
🔅اسے شرم و حیا کا لباس پہناتا ہوں تاکہ ساری مخلوق اس سے حیا کرے
🔅 زمین پر جب بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے لیے مغفرت لکھی جاتی ہے
🔅 اسکے دل کو بیدار اور بابصیرت کرتا ہوں
🔅 جنت و جہنم کی کوئی چیز اس سے نہیں چھپاتا
قیامت کے دن لوگوں کے سخت حالات اور ان کا حساب است دکھاتا ہوں
🔅 اسکی قبر کو نورانی کرتا ہوں
منکر و نکیر اس پر اتارتا ہوں تاکہ میری رضا کی بشارت دیں
🔅قبر و لحد کی وحشت و خوف اس پر طاری نہ ہوگی
🔅روز قیامت اسکا حساب نہیں لیا جائے گا
🔅 اسکے اعمال نامہ کی کتاب پوچھ گچھ کے لیے نہیں کھولی جائےگی
🔅اعمال نامہ اسکے دائیں ھاتھ میں دوں گا
🔅 اپنے اور اس کے درمیان گفتگو کے لیے کسی کو قرار نہیں دوں گا
🔅 دوزخ اسکے قریب لائی جائے گی تاکہ عبرت کی جگہ کا مشاھدہ کرے
🔅 جنت اس کے لیے سجائی جائے گی
🔅 انبیاء اور شہدا اسکے استقبال کے لیے آئیں گے
گے
Sb
حدیث شریف معراج
سولہواں حصہ
🟦پروردگار فرماتا ہے
❗قیامت کے دن مظلومین ظالموں کا گریبان پکڑیں گے
❗ آخری حکم کے لیے کرسی رکھی جائے گی
❗ ہر انسان اپنے دشمن کو کہے گا
آج میرے اور تمھارے درمیان ایسا حکم عدل جاری ہوگا جس میں ذرہ بھر ظلم نہیں ہوگا
🔴 ارشاد الہی ہوتا ہے
🔅میں اپنے اور اس کے درمیان حجاب اٹھا لوں گا
🔅اسے اپنی گفتگو سے مستفید کروں گا
🔅اپنے جمال کی رویت کی لذت چکھاوں گا
🔅 اس بندے کی سلطنت کو دنیا کے بادشاہوں سے زیادہ بڑھادوں گا
🔅دنیا کے بادشاہ اس کے سامنے جھکیں گے
🔅ظالم و سرکش حاکم اس سے خوف کھائیں گے
🔅اس کی ہیبت کا ذکر کریں گے
🔅 جانور اور درندے اس کے سامنے جھکیں گے اور اس سے متبرک ہوں گے
🔅جنت اور جنت والوں میں اسکا اشتیاق پیدا کروں گا
🔅اس کی عقل و فہم کو اپنی ذات میں غرق اور مصروف رکھوں گا
🔅 اس کی عقل کی جگہ پر اس کے سارے امور زندگی چلاؤں گا
🔅 موت اور اس کی سختی و تلخی اور خوف آسان کروں گا
🔅 جب اس پر موت کا فرشتہ نازل ہوتا ہے تو اسے خوشخبری دیتا ہے
اللہ تیرا اشتیاق سے منتظر ہے
🔅جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے اسی طرح اس کے بدن سے روح کھینچی جائے گی
🔅 سر کے مقام پر فرشتے اسکی خدمت کے لیے کھڑے ہوں گے
🔅ہر فرشتے کے ھاتھ میں کوثر کا اور شراب(طہور) کا جام ہوگا
🔅 بشارت دیں گے کہ تم بھی پاک ہو اور تمھاری جگہ بھی پاک ہے
🔅 فرشتوں کے درمیان سے اس کی روح پرواز کرے گی اور پلک جھپکنے سے کم مدت میں اللہ کی بارگاہ میں معراج کرے گی
🔅 اتنی نزدیک ہوگی کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ و حجاب نہیں رہے گا
🔅 عرش پروردگار کے دائیں جانب ایک چشمہ پر بیٹھے گی
🔅 خدا کہے گا
❗تو میری نگاہ لطف و کرم میں ہے
❗ میں تیرا ظاہر و باطن جانتا ہوں
❗ آج مانگ مجھ سے میں عطا کروں گا
❗تو آرزو کر پورا کروں گا
❗ یہ میری جنت ہے اس میں سکونت کر
❗، یہ میری بارگاہ ہے یہاں آرام کر
◀️روح کہے گی
♦️پروردگار جب سے تو نے اپنی معرفت دی
♦️ میں تیری ساری خلقت سے بے نیاز ہوگیا
🔆تیری عزت و جلال کی قسم
❗ اگر تیری رضا اس میں ہو کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاوں یا ستر بار شدید ترین موت سے مارا جاؤں
♦️میرے لیے تیری یہ رضا ہر چیز سے بہتر ہے
▪️تو اگر عزت نہ دے تو ذلیل و رسوا ہوجاتا ہوں
▪️ مدد نہ کرے تو شکست کھاجاتا ہوں
▪️ قوت و طاقت نہ دے کمزور و ناتواں ہوجاتا ہوں
▪️ اپنی یاد سے زندہ نہ رکھے تو فقط مردہ ہوتا
▪️اگر تو پردہ پوشی نہ کرتا تو پہلے گناہ سے ہی رسوا ہوجاتا
▪️تو نے میری عقل کو کمال دیا کہ تیری معرفت حاصل ہوئی
♦️حق کو باطل سے جدا پایا
♦️امر کو نہی سے
♦️علم کو جہالت سے
♦️ نور کو تاریکی سے جدا جان لیا
◀️ خدا فرماے گا
🔆مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم
❗کبھی بھی اپنے اور تیرے درمیان حجاب قرار نہیں دوں گا
♦️جب بھی تیرا ارادہ ہو میری بارگاہ میں پہنچ سکتا ہے
🔆میں اپنے چاہنے والوں سے ایسا ہی طرز عمل رکھتا ہوں
Sb
حدیث شریف معراج
حصہ 17
🟦پروردگار فرماتا ہے
♦️ اے احمد
جانتے ہو عیش و ارام والی اور ابدی (جاودانی) زندگی کیا ہے❓❓
🔆رسول خدا ص
نہیں میرے پروردگار میں نہیں جانتا
♦️ پروردگار فرماتا ہے
عیش و ارام والی زندگی یہ ہے
▪️انسان کبھی بھی میری یاد سے نہ تھکے
▪️میری نعمتوں کو نہ بھولے
▪️ مجھ سے غافل اور بے خبر نہ ہو
▪️میرے حق سے جاہل نہ ہو
▪️ شب و روز میری رضا کے لیے کوشش کرے
♦️ جاودانی و ابدی زندگی اس کے لیے ہے
🔅 جس کے لیے دنیا ذلیل اور اس کی انکھوں میں حقیر ہوجاتی
🔅 آخرت اس کے نزدیک عظیم ہو جاتی ہے
🔅وہ میری منشا کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے
🔅ہمیشہ میری رضا اور خوشنودی کی تلاش میں رہتا ہے
جس طرح حق ہے اس طرح مجھے اعلی عظیم اور بڑا شمار کرتا ہے
🔅 ہمیشہ یاد رکھتا ہے کہ میں اس سے آگاہ ہوں
🔅 برائیوں اور گناہوں کا وقت ہو تو میری طرف توجہ رکھتا ہے
🔅اس کا دل ہر اس چیز سے پاک ہے جو مجھے پسند نہیں
🔅وہ شیطان اور اپنے وسوسوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے
🔅انہیں اپنے اوپر مسلط ہونے کی کوئی راہ نہیں دیتا
🔆جب کوئی بندہ ایسے کرتا ہے
❗ میں اس کے دل کو اپنی محبت سے تسکین دیتا ہوں
❗ اس کے قلب کو اپنے اختیار میں لے لیتا ہوں
❗اس کی آسودگی، مشکلات اور کوششوں کو اپنے لیے قرار دیتا ہوں
❗اس کی زبان کو ان نعمتوں کے لیے کھولتا ہوں جو میں نے اہل محبت کے لیے مخصوص کی ہے
❗ اس کے دل کی سماعت اور بصارت کو کھولتا ہوں
❗ تاکہ میری طرف سے اپنے دل کے ذریعے ہر چیز کو سنے
❗ دل کی انکھ سے میری جلال و عظمت کو دیکھے
❗میں اس کے لیے دنیا تنگ کر دیتا ہوں
❗دنیا کی خوشیاں اور لذتیں اس کے لیے ناپسندیدہ کرتا ہوں
❗میں اس کو دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے ڈراتا ہوں
❗ خبردار کرتا ہوں جس طرح چرواہا اپنے بھیڑ بکریوں کو ایسی چراگاہ سے ڈراتا ہے جہاں دشمن چھپے ہوئے ہوں
❗جب ایسا ہو جائے تو دنیا کے لوگوں سے بہت زیادہ دوری اختیار کرتا ہے
❗فانی جہاں سے ابدی جہاں کی طرف بڑھتا ہے
❗شیطان کے گھر سے رحمان کے گھر کی طرف منتقل ہوتا ہے
Sb
حدیث شریف معراج
حصہ 18
🟦پروردگار فرماتا ہے
♦️اے احمد
❗میں اسے ہیبت ( لوگوں پر اسکا رعب) اور عظمت سے سجاتا ہوں
🔅جس کے پاس عقل نہیں وہ بے نیاز نہیں ہے
🔅جس کے پاس جہالت نہیں وہ فقیر نہیں ہے
🔅 جو قلیل نعمت پر کثیر نعمتوں کی طرح راضی نہیں وہ کبھی خوش نہیں رہے گا
♦️اے احمد
❓کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تجھے کیوں سارے نبیوں پر فضلیت بخشی ہے
🔆 نبی کریم (ص) نے عرض کی
▪️پروردگارا میں نہیں جانتا
🔆 اللہ تعالی نے فرمایا
🔅 تیرا یقین
🔅نیک اخلاق
🔅 سخاوت و بخشش
🔅لوگوں سے مہربانی
❗ جان لو کہ اوتاد ( اللہ کے پاک و محبوب بندے کہ زمین ان سے کبھی خالی نہیں) بھی ان صفات کی وجہ سے اوتاد ہوتے ہیں
❗اے احمد اپنی کوششوں کو ایک جہت( خدا کے لیے) پر قرار دے
❗اپنی زبان کو ایک الہی زبان قرار دے
❗ اپنے بدن کو تواضع و انکساری کی عادت ڈالو تاکہ کبھی بھی مجھ سے غافل اور بے خبر نہ رہے
❗ جو مجھ سے غافل ہو پھر میرے لیے اہم نہیں کہ وہ کس جگہ اور کس حال میں ہلاک ہوا ہے
❗ اپنی عقل کو استعمال کرو اس سے پہلے کہ زائل ہو جائے
❗ جو اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے وہ غلطی اور نافرمانی سے بچا رہتا ہے
❗جو علم تجھے سکھایا اس پر عمل کرو تاکہ اولین و آخرین کا علم تجھ میں جمع ہو جائے
❗ تیرے دل پر معرفت کی ایسی مہر لگاؤں گا کہ بیان کرنے والے اسکی توصیف نہیں کرسکیں گے
❗ جدھر رخ کرے گا تیرے لیے راہنمائی کی علامت قرار دوں گا
❗ہر امر خیر میں تیری رہبری کروں گا
❗ تجھے عارفوں کی راہ دکھاوں گا
❗عبادت کے انجام دینے کی قوت عطا کروں گا
❗عبادت کی محبت تیرے دل میں ڈالوں گا
❗ اسکے انجام دینے پر تیری مدد کروں گا یہاں تک کوئی چیز تیرے لیے عبادت سے بڑھ کر محبوب نہیں ہوگی
Sb
حدیث شریف معراج
حصہ 19
🟦پروردگار فرماتا ہے
♦️اے احمد
🔅اگر چاہتے ہو ایمان کی شیرینی پاؤ تو شکم کو بھوک اور زبان کو سکوت دو
🔅اور اپنے کو ہمیشہ (اللہ کے) خوف و خشیت میں رکھو
▪️اگر ایسا کرو گے تو نجات کی امید ہے
▪️اگر ایسا نہ کیا تو ہلاک ہوجاو گے
♦️اے احمد
🔅مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم
❗ بندوں کی پہلی (آغاز سے) عبادت،توبہ اور تقرب
❗ صرف اور صرف
🔅روزہ
🔅طولانی مدت سکوت 🔅اور لوگوں سے دوری(یعنی لوگوں میں فضولیات سے دوری نہ اپنے حقوق و فرائض سے دوری) ہے
❗بندوں کا سب سے پہلا گناہ (گناہ کا آغاز)
🔅 شکم سیری
🔅فضول زبان درازی
🔅 لوگوں کی ہوائے نفس میں انکی ہمراہی و ہم نشینی ہے
▪️ مطلب لوگوں میں ٹائم ضائع کرنا ، انکے ساتھ ملکر گناہ آلود باتیں اور کام کرنا وغیرہ
♦️اے احمد
🔅جب بندہ بھوکا ہو (مطلب شکم سیر نہ کرے کھانے میں پیٹ میں بھوک رکھے)
🔅اور اسکی زبان (لغویات سے) محفوظ ہو اسے حکمت و دانائی سکھاتا ہوں
🔅اگر وہ کافر ہو تو یہ حکمت اس پر حجت (حق تمام کرنے والی) اور وبال جان ہوگی
( مطلب اسے ہمیشہ حق کی طرف کھینچے گی وہ کفر کی وجہ سے اذیت پائے گا)
🔅 اگر مومن ہوگا تو یہ حکمت اسکے لیے
▪️ نور
▪️راہنما
▪️شفاء
▪️ رحمت ہوگی
وہ اس حکمت کی بدولت
🟰 جو نہیں جانتا تھا جان لے گا
🟰جو نہیں دیکھ سکتا تھا دیکھ لے گا
❗سب سے پہلی چیز جو اس کے لیے ظاہر کروں گا اسکی اپنی کمزوریاں اور نقائص ہیں تاکہ دوسروں کے عیب نکالنے کی بجائے اپنے نقائص و کمزوریاں دور کرنے میں مشغول ہو
❗علم کی پنہاں اور دقیق چیزیں اسے دکھاوں گا تاکہ شیطان کسی بھی راہ سے اس پر حملہ نہ کرے
❗اسے شیطان اور نفس کے فریب و مکر سے آگاہ کرتا ہوں تاکہ اسکا نفس اس پر قبضہ نہ کرے
Sb
حدیث شریف معراج
حصہ 20
🟦پروردگار فرماتا ہے
♦️اے احمد
🔅میرے نزدیک روزہ اور عاقلانہ سکوت سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے
🔅 جو روزہ تو رکھے لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہ کرے اس شخص کی مانند ہے جو نماز کے لیے کھڑا ہے لیکن کچھ نہیں پڑھ رہا
🔅اسے نماز کے لیے قیام کرنے والوں کا اجر تو دوں گا لیکن عبادت کرنے والوں کا اجر نہیں دوں گا
♦️اے احمد
❓ آیا تو جانتا ہے کہ بندہ کس وقت عابد ہوتا ہے
♦️نبی کریم (ص) نے عرض کیا
نہیں میرے پروردگار
♦️ رب العالمین نے فرمایا
🔆جب اسکے اندر سات خصلتیں جمع ہوں
▪️ورع(تقوی کی بلند ترین حالت ) کہ جو اسے حرام کاموں سے روکے
▪️سکوت کہ جو اسے فضول باتوں سے محفوظ رکھے
▪️خوف(خدا) کہ جو ہر روز اسکا گریہ بڑھائے
▪️حیاء کہ جو اسے تنہائی و خلوت میں مجھ سے شرم دلائے (انسان عام طور پر تنہائی میں زیادہ گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے)
▪️ضرورت کے مطابق کھائے
▪️ دنیا کو دشمن سمجھے کیونکہ میں دنیا کو پسند نہیں کرتا ( مطلب دنیا سے وابستگی و محبت پیدا نہ کرے)
▪️ آخرت سے محبت کرے کیونکہ مجھے آخرت پسند ہے
♦️اے احمد
ایسا نہیں ہے کہ جو کہے میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ واقعا مجھ سے محبت کرتا ہے
▪️مگر یہ کہ
❗زندہ رہنے کی حد تک فقط کھائے
❗سادہ لباس پہنے
❗سجدوں میں سوئے( اتنے طولانی سجدے کہ تھک کر سو جانے والی حالت پیدا ہو)
❗طولانی قیام کرے
❗ اپنے عاقلانہ سکوت کو ہمیشہ قائم رکھے
❗بہت (میرے لیے) گریہ کرے
❗بہت کم ہنسے
❗خواہشات نفسانی کی مخالفت کرے
❗ مسجد کو اپنا گھر سمجھے
Sb
حدیث شریف معراج
حصہ 21
آخری حصہ
🟦فرمان پروردگار
♦️اے احمد
🔅 ایسا نہیں ہے کہ جو کہے میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ واقعا مجھ سے محبت کرتا ہے
❗مگر یہ کہ
🔅زندہ رہنے کی حد تک کھائے
🔅سادہ لباس پہنے
🔅 سجدوں میں سوئے( اتنے طولانی سجدے کہ تھک کر سو جانے والی حالت پیدا ہو)
🔅 طولانی قیام
🔅 اپنے عاقلانہ سکوت کو ہمیشہ قائم رکھے
🔅میرے لیے گریہ کرے
🔅 بہت کم ہنسے
🔅خواھشات نفسانی کی مخالفت کرے
🔅 مسجد کو اپنا گھرسمجھے
🔅علم کو اپنا ہمدم اور زہد کو اپنا ہم نشین جانے
🔅علماء سے محبت کرے
🔅 محتاجوں کا اپنا دوست و ہمراہی بنائے 🔅میری رضایت کی تلاش میں رہے
🔅 میری ناراضگی سے بچتا رہے
🔅مخلوق سے زیادہ دوری اختیار کرے (مطلب اہل دنیا کے تماشوں اور فضولیات سے)
🔅 گناہوں سے شدت سے فرار ہوتا رہے
🔅 میری کثرت سے یاد میں رہے
🔅 ہمیشہ تسبیح و تنزیہ (حمد و ثنا پروردگار) میں مشغول رہے
🔅وعدے کا سچا اور عہد میں وفادار ہو
🔅اس کا دل پاک اور غذا پاکیزہ ہو
🔅واجب کو انجام دینے میں سنجیدہ اور کوشش کرنے والا ہو
🔅 میرے پاس جو اجر ہے اسکی طرف رغبت کرے
🔅میرے عذاب سے خوف کھانے والا
🔅 میرے دوستوں کا ہم نشین و ہمدم ہو
♦️اے احمد
❗کوئی بندہ آسمانی و زمینی مخلوقات کی جتنی نماز پڑھے
❗آسمان و زمین میں رہنے والوں کی مقدار کے مطابق روزے رکھے
❗فرشتوں کی مانند غذا سے دور رہے
❗ سادہ اور معمولی لباس پہنے
🟰مگر اسکے دل میں دنیا کی محبت یا شہرت کی چاہت ریاست و حکومت کے خیالات یا دنیا کے مزوں و مٹھاس اور زیور و زینت کی محبت کا ذرہ بھی پاؤں گا
▪️تو
❗ اسے اپنی قربت کے حق سے محروم کروں گا ❗اسکے دل کو تاریک کروں گا تاکہ مجھے بھول جائے
❗اسے اپنی معرفت کی شیرینی نہیں چکھنے دوں گا
♦️ اے احمد
▪️تجھ پر میرا درود و سلام ہو عالمین کے پروردگار کی حمدو ثنا ہو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں