Book 9 Completed Sadia




پہلا درس
امام مہدی عج سے ملاقات🌟
تمہیدی گفتگو
اس موضوع کے فوائد اور نقصانات 
ملاقات کی اقسام

استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

موضوع سخن:🌟🌟
امام زمانہ عج الشریف سے ملاقات ہے۔ آیا غیبت کبرٰی کے اندر امام زمانہ عج سے ملاقات ہو سکتی ہے یا نہیں۔ ہر دو صورت میں دلائل کیا ہیں اور یہ جو ملاقاتیں نقل ہوتی ہیں آیا درست ہیں یا نہیں۔ اور وہ لوگ جو امام زمانہؑ عج سے ملاقات کا دعویٰ کرتے ہیں یا پھر واقع ملاقات  کو نقل کرتے ہیں۔ تو ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں امام زمانہؑ عج الشریف سے بحث بہت ہی اہمیت کی حامل ہے اور اس میں دو جہتیں ہیں۔ مثبت اور منفی۔ 

مثبت جہت کے فوائد ہیں 🌻کیونکہ اس میں اہم ترین فائدہ ہے کہ اگر ہم یہ ثابت کریں کہ امام زمانہؑ عج سے غیبت کبریٰ میں ملاقات ہو سکتی ہے۔ اور لوگ ملاقات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے امام ہمارے درمیان موجود ہیں اور ایک زندہ شخص کی مانند وجود رکھتے ہیں۔  لہذا وہ لوگ جو اس چیز کے منکر ہیں۔ یا یہ کہتے ہیں کہ کیسے ممکن ہیں کہ ایک انسان اتنی طولانی عمر رکھے۔ تو ان کے مد مقابل ی ایک اہم دلیل بن سکتی ہے ۔ یا حد عقل یہ موضوع اہل انتظار اہل ایمان کے دلوں کی تقویت کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ 

اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ🌻 ظاہر ہے کہ ہر شخص تو ملاقات نہیں کر سکتا وہی ملاقات کریں گے جو نیک اور صالح ہے با تقوٰی ہیں اور اچھے اعمال انجام دینے والے ہیں۔ تو جب ملاقات کا  موضوع ثابت ہوتا ہے تو یہ عام لوگوں کو ایک انگیزہ فراہم کرے گا کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ مولاؑ سے فیض حاصل کریں اور ملاقات کریں تو خود سازی شروع کریں۔ اپنی تربیت کریں اپنے اعمال اور اخلاق کو درست کریں۔ 

پروردگار اور اس کے ولی کے قریب ہوں۔ یعنی ملاقات کے موضوع کو ثابت کرنے میں لوگ اپنی خودسازی کریں گے اور  گناہوں سے دور ہوں گے۔

اس موضوع ملاقات کے منفی نتائج بھی ہیں۔ 🫴

ممکن ہے اس موضوع سے کچھ لوگ غلط فائدہ  اٹھائیں۔ اور لوگوں کو یہ تاثر دیں کہ ان کی ہمیشہ امام سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ لوگ امام ؑ کے حضور ہمیشہ پہنچتے ہیں۔  اور وہ ہمیشہ امام کی زیارت کرتے ہیں۔ اور پھر وہ کچھ لوگوں کو اکھٹا کریں  اور معاشرے میں اپنا جھوٹا مقام بنائیں۔ 

جیسے ہم آج پوری دنیامیں دیکھ رہے ہیں کہ پاک و ہند کے علاوہ عرب ممالک میں ایسے لوگ کم نہیں ہیں جو مرشد، ولی، پیر قلندر بنے بیٹھے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہماری تو امام ؑ عج سے ملاقات ہوتی ہے۔ اور وہ لوگوں میں امامؑ سے منسوب جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو اصل دین، تقلید اور عبادات سے  دور کرتے ہیں۔ اور بہت سارے لوگوں کو انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے اور ان کے مال کو لوٹ رہے ہیں۔ 

اس لیے تو ضروری ہے کہ معرفت سے متعلق کورسز سے استفادہ کیا جائے۔ تاکہ لوگ حقائق کو سمجھیں اور ان خرافات میں اور جھوٹے لوگوں کے جال میں نہ سمجھیں۔ 

دوسرا منفی اثر۔ 🫴
خرافات کا رواج:
ملاقات کے موضوع میں دوسری منفی چیز خرافات کا رواج ہے۔ کیونکہ جو لوگ ملاقات کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں وہ غلط قسم کے اعمال اور طریقے رائج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم یہ طریقہ اختیار کرو گے تو امام زمانہؑ عج سے ملاقات کرو گے۔ اور یہ طرح طرح کے رسوم، اعمال اور طریقے اور وظائف بتاتے ہیں اور عبادات سے دور کرتے ہیں۔ 

اسی لیے موضوع ملاقات مثبت پہلو بھی رکھتا ہے اورمنفی بھی۔ اور فوائد اور نقصانات دونوں رکھتا ہے۔ تو ضروری ہے کہ اس موضوع کو ہم دلائل سے سمجھیں اور حقائق کو پاتے ہوئے  ایک نتیجہ لیں۔ تاکہ ہمارے ذہن بھی غلط چیزوں اور خرافات سے پاک ہوجائیں اور ہم دوسروں کے ذہنوں سے بھی یہ غلط چیزیں نکالیں۔ انشاءاللہ۔ 

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ملاقات کی کتنی قسمیں ہیں اور پھر ہم یہ جانیں گے کہ ملاقات کی وہ قسم جو ہماری موضوع بحث ہے اس پر ہمارے پاس دلائل بھی ہیں یا نہیں اور وہ ثابت بھی ہے یا نہیں۔ 

بطور قلی ملاقات کی تین اقسام ہیں۔ 🌟
۔۔  زمانے کے اعتبار سے ملاقات💎
مثلاً امام حسن عسکری کا زمانہ، غیبت صغریٰ کا زمانہ اور خود غیبت کبریٰ اور ہمارا موضوع غیبت کبریٰ  کی ملاقات ہیں۔ 

۔۔ حالت کے اعتبار ملاقات💎
یعنی نیند میں یا  نیند اور بیداری کی حالت میں
یا پھر کاملاً بیداری کی حالت میں
  
۔۔ شناخت اور معرفت کے اعتبار سے گفتگو۔💎
یعنی ایک شخص جو ملاقات کرتا ہے وہ آخر تک سمجھ نہیں پاتا کہ یہ کون ہے ۔ یا پھر ملاقات کے بعد جانتا ہے یا پھر ملاقات کے آغازمیں ہی جانتا ہوتا ہے کہ وہ اپنے امامؑ عج سے ملاقات کر رہا ہے۔ 

والسلام۔



شہر بانو ✍️
عالمی مرکزی مہدویت قم🌍



کتابچہ 9 ملاقات امام زمان عج 
دوسرا درس 
ملاقات کی اقسام
ملاقات کی ضرورت پر دلائل

استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

خلاصہ: 
موضوع سخن امام زمانہ عج سے ملاقات ہے کہ آیا یہ دلائل سے ثابت ہو سکتا ہے کہ امام زمانہؑ عج سے ملاقات ہو سکتی ہے یا نہیں۔ 

اس سے پہلے کہ ہم بحث میں داخل ہوں اس موضوع کے مثبت اور منفی اثرات پر اور ملاقات کی اقسام پر بحث کی گئی۔

بطور قلی ملاقات کی تین اقسام ہیں۔ 
۔۔ 🌟 زمانے کے اعتبار سے ملاقات
امام زمانہ ؑ عج کے تین ادوار ہیں۔ 
☘️پہلا زمانہ ابتدائی پانچ سال ہیں جو امام حسن عسکری ؑ کا زمانہ ہے اس میں ملاقاتیں ہوئیں لیکن یہ زمانہ ہمارا موضوع بحث نہیں۔ 

☘️دوسرا زمانہ غیبیت صغریٰ کا ہے جس میں نائبین کے ذریعے ملاقاتیں ہوئیں۔ شیخ طوسیؒ نے ایسے تین سو افراد کا ذکر کیا کہ جنہوں نے غیبت صغریٰ میں امام زمانہؑ عج سے ملاقاتیں کیں اور اس ملاقات میں نواب اربعہ کا کردار تھا کہ جو مومنین کی اپنے مولاؑ سے ملاقات کا اہتمام کرتے تھے۔  

☘️ تیسرا دور غیبت کبریٰ ہے جو 329 ھ سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اس دور کے اندر بھی بظاہر ملاقاتوں کے واقعہ ہوئے ہیں اور بحث ہے کہ آیا ہو سکتی ہے یا نہیں اور ہمارا موضوع بحث بھی یہی ہے۔ 

۔۔🌀 حالت کے اعتبار ملاقات
۔ 🪻خواب میں ملاقات ہونا۔
کوئی بھی شخص امام ؑ عج سے خواب میں ملاقات کر سکتا ہے۔ یہ ہمارا موضوع بحث نہیں ہے۔ علمائے کرام اس کو اس لیے موضوع بحث قرار نہیں دیتے کیونکہ خواب حجت نہیں اور وہ کسی بھی طرح سے کسی عمل کا شرعی اعتبار سے معیار قرار نہیں پاسکتا۔ پھربھی اگر خواب آئے تو کسی بھی ماہر مہدویت اور علما کی خدمت میں بیان کرے اور ان سے راہنمائی لے۔ 

۔ 🪻مکاشفہ کی حالت۔ 
انسان نہ مکمل نیند میں ہے اور نہ ہی مکمل بیداری میں اس حالت میں حواس کسی خاص موضوع پر توجہ کر لیتے ہیں اور اس حالت میں اگر وہ کوئی خاص منظر دیکھے اور کہے کہ میں امام زمانہؑ عج کے حضور میں پیش ہوا ہوں تو ماہرین یہ کہتے ہیں کہ یہ حالت بھی دلیل نہیں قرار پاسکتی۔ اگر کوئی شخص مکاشفے میں امامؑ سے کوئی بات سنتا ہے  تو چاہیے کہ ماہرین اور علما کی جانب توجہ کرے۔ مکاشفہ بھی حجت نہیں۔ 
  
۔۔ 🪻شناخت اور معرفت کے اعتبار سے ملاقات۔
یعنی ایک شخص بیداری کی حالت میں امام زمانہؑ عج سے ملاقات کرے یہ ہمارا موضوع بحث ہے۔ 

اس قسم کی بھی تین حالتیں ہیں۔ 🌻🌻🌻

۔ 🌻اگر ہم غیبت کبریٰ میں بیداری کی حالت میں امامؑ سے ملتے ہیں تو ہمیں ملاقات کے آخر تک پتہ نہیں چلتا کہ یہ ہمارے مولا امام زمانہؑ عج ہیں۔ یہ بھی موضوع سے خارج ہے۔ 

۔ 🌻اور اگر ہم آخری چند لمحوں میں امام زمانہؑ کی معرفت کی جانب متوجہ ہوئے۔  

۔🌻یا ہمیں اول سے لے کر آخر تک معلوم تھا کہ ہم کس ہستی کے حضور میں موجود ہیں۔ یہ ہمارا موضوع بحث ہے۔ 

پس ملاقات اس صورت میں ہے کہ اگر
۔ 👈غیبت کبرٰی میں ہو۔ 
۔👈بیداری کی حالت میں ہو۔ 
۔👈 معرفت اور شناخت کے ساتھ ہو۔ 
یعنی ملاقات کے آخر میں مطمئن ہو جائے کہ اس نے امام وقت سے ملاقات کی ہے یا نہیں۔ 

اب سوال یہ ہے کہ آیا ایسی ملاقات ممکن ہے یا نہیں اس سے پہلے ہم اس کے امکان کے دلائل پیش کرتے ہیں۔ 

سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ ملاقات انجام پانے کی کیا ضرورت ہے کہ لوگ امام زمانہؑ عج سے ملاقات کریں۔ 

علمائے کرام اس سلسلے میں دو دلائل پیش کرتے ہیں۔ 💎💎
۔۔ 🌀 مولاؑ کے وجود اس ملاقات سے مربوط ہے 
ہمارا عقیدہ ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں لیکن جب عملی طور پر  یہ ملاقات دیکھتے ہیں تو ہمارا عقیدہ یقین کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔ 

درست ہے امام ؑ کے فرامین اور توقیعات ہمارے درمیان موجود ہیں۔  لیکن ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی ضرورت ہے کہ  کبھی کبھی  مولاؑ یہ ثابت کریں کہ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔ 

اسی غیبت کبریٰ میں کوئی گروہ ہو جو آپ سے ملاقات کرے اور وہ ملاقات نقل بھی ہو۔ تو اس سے امامؑ عج کے وجود کا اثبات ہر زمانے میں انسان محسوس اور مشاہدہ کرتا ہے یعنی یہ ہماری عملی زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ اور فقط کتابوں میں نہیں لکھی گئی۔ 

۔۔🌀دوسری دلیل یہ ہے کہ  امام کی جو فعالیت ہے اس سے لوگ آگاہ ہوں۔  جیسے کچھ لوگوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ امامؑ فقط گریہ کرتے ہیں۔ امام کی بعنوان ھادی ، ولی خدا بہت زیادہ فعالیت ہے۔ امام بہت سے کام کر رہے ہیں۔ جیسے کسی کی راہمنائی ، کسی مریض کو شفا، کسی کی دستگیری، کسی کی مالی مدد یا پھر بعض مرتبہ اجتماعی طور پر  ایسے حالات ہو جاتے ہیں کہ علما اس کا حل نہیں نکال سکتے تو اس صورت میں وہ توسل کرتے ہیں  اور مولاؑ سے یقیناً ملاقات ہوتی ہے اور حل بھی نکلتے ہیں۔ 

جیسے علامہ مجلسؒی نے بحار النوار کے اندر بحرین کے شیعوں کا واقعہ نقل کیا۔

ہماری آج کی عملی زندگی میں بھی ایسے واقعات ہیں خود ایران کے اسلامی انقلاب  بھی جب امام خیمنیؑ کے حکم سے فوجی حکومت ٹوٹ گئی۔ اور آپ کے حکم پر لوگ سڑکوں پر نکل آئیں ۔ 
تو کسی نے کہا کہ اے امام آپ یہ حکم نہ دیں ورنہ قتل و غارت ہوگا۔ تو رہبر کبیرؒ نے فرمایا۔ کہ یہ صرف میرا حکم نہیں بلکہ یہ کسی اور شخصیت نے حکم دیا ہے۔ اور یہاں یہ واضح ہو رہا تھا کہ یہ حکم امام وقتؑ عج نے دیا ہے۔ اور یہ وہ لحظات تھے کہ جن میں انقلاب اسلامی کی کامیابی تھی۔ اور ان کا یہ حکم دینا فوجی حکومت کی نابودی کا باعث بنی کیونکہ امام زمانہ ؑ کی نصرت حاصل ہوئی ۔ 

اسی طرح ایران عراق ، لبنان ، فلسطین میں ہونے والی جنگوں میں لوگوں نے امام زمانہؑ عج کی نصرت کو محسوس کیا اور مشاہدہ کیا۔ 

والسلام۔ 

شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔  🌍





 کتابچہ 9 ملاقات امام زمان عج 🤲
تیسرا درس ☘️
ملاقات کے اثبات پر دلائل
حکایات
اجماع تشرفی

استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

خلاصہ:✍️
موضوع سخن ملاقات امام زمانہؑ عج الشریف ہے کہ آیا  غیبت کبریٰ کے اندر ہم امام زمانہؑ عج سے حالت بیداری میں ملاقات کر سکتے ہیں؟ اور اس بیداری میں ہم یہ جانتے ہوں کہ جس ہستی سے ہم ملاقات کر رہے ہیں  یہ ہی امام ؑ وقت عج ہیں۔؟

عرض کیا تھا کہ یہ چیز اگر ثابت ہوتی ہے تو اس کے فوائد ہیں کہ امامؑ کا وجود ہر دور کے لوگوں کے لیے ثابت ہوگا اور امام ؑ عج کی ایک فعالیت بھی لوگوں کے سامنے آئے گی۔  یقیناً امام ھادیِ برحق ہیں اور امامؑ عج کی بہت ساری فعالیت مختلف موضوعات پر  دنیا میں جاری و ساری ہے۔ لیکن ایک فعالیت جس پر عام طور  لوگوں کی توجہ ہوتی ہے وہ لوگوں کی مشکلات کا حل ہے۔

ملاقات کے اثبات پر دلائل📖📚☘️

پہلا مرحلہ☘️ ان لوگوں کا ہے جو دلائل دیتے ہیں کہ ملاقات ہوسکتی ہے۔
 
دوسرا مرحلہ ☘️ ان لوگوں کا ہے جو دلائل دیتے ہیں کہ غیبت کبریٰ میں امام زمانہؑ سے ملاقات ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔

   وہ لوگ جو قائل ہیں ان کی سب سے پہلی دلیل یہ واقعات اور حکایات ہیں جو ہماری کتابوں میں نقل ہوئیں ہیں۔ اب یہاں بڑے بڑے بزرگان ہیں جیسے شیخ صدوقؒ ، شیخ طوسیؒ، شیخ مفیدؒ محدث نوریؒ، علامہ مجلسیؒ ہیں ۔ ایسے بڑے بڑے علما ہیں کہ جن کی کتابوں میں یہ واقعات نقل ہوئے اور ہر صدی میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ  مختلف لوگوں کی صالحین کی حتہ عام لوگوں کی امام زمانہؑ عج سے ہوئیں۔ 

اب جو ہر دور میں اتنی ملاقاتیں ہوئی تو ہم ان سب کو جھوٹ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ایسی بات کہنا محال ہے۔ اگر یہ کوئی چند ایک واقعات ہوتے تو انسان تصور کر لیتا کہ یہ غلط ہیں لیکن ہر دور میں یہ ملاقاتیں کثرت سے لکھی گئیں ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تواتر ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کوئی ایک جھوٹی ہو لیکن یہ ساری کی ساری جھوٹ نہیں اور  کثرت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری چیز یہ ہے کہ سند کے اعتبار سے ان میں سے بعض ملاقاتیں قوی ہیں کیونکہ ایسے لوگوں سے نقل شدہ ہیں کہ جو مرجع  اور مجتہد تھے۔ 
🌀
اب ایک عادل مجتہد کا جب ہم فتوی قبول کر لیتے ہیں تو ہم ان کی امام زمانہؑ عج سے ملاقات کیسے جھوٹ کہہ سکتے ہیں ۔ یا صالحین پر جو مورد اعتماد تھے تو ہم اس مورد میں کیوں اعتبار نہیں کر سکتے۔ 
🌀
اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکثر علماء کرام ان ملاقات کے واقعات کو قبول کرتے ہیں۔ ہم نے کوئی ایسا عالم نہیں دیکھا کہ جو یہ کہے کہ یہ سارے واقعات غلط ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض علماء کو بعض واقعات پر  اعتماد نہ ہو۔ لیکن بطور قلی وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اور جب بڑی بڑی ہستیوں کا نام ان ملاقاتوں میں آتا ہے تو پھر ہمارے علما وہاں انکار نہیں کرتے۔ 

تو خلاصہ یہ ہے کہ خود ان حکایات اور واقعات کا ہماری کتابوں میں وسعت کے ساتھ بیان ہونا یہ اس موضوع پر ایک اہم دلیل قرار پا سکتی ہے۔ 

اجماع تشرفی 📚📖☘️
ایک دوسری دلیل جو ہمارے دینی مراکز اور حوضات کے اندر اور دینی محافل  میں علماء بیان  کرتے ہیں وہ اجماع تشرفی ہے۔ 

یعنی ہمارے بعض علماء کرام اپنی علمی یا فقہی مشکلات کے لیے امام زمانہؑ عج سے توسل کرتے ہیں اورانہیں ملاقات  کا شرف حاصل ہوتا ہے اور وہ امام ؑ عج سے سوال کرتے ہیں اور ان کو جواب ملتا ہے اور وہ اس جواب کو اپنی فقہی کتابوں میں نقل کرتے ہیں۔ اور اس کو اجماع کا عنوان دیتے ہیں۔ کہ یہ اس مسئلہ میں اجماع تشرفی ہے۔ اور یہ عنوان بتاتا ہے کہ اس ہستی کی اپنے امام زمانہؑ عج سے ملاقات ہوئی ہے۔ 
اجماع کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی کسی گروہ سے ملاقات ہوئی ہے۔ بلکہ امام وقتؑ عج ہیں۔ 

یہ اجماع ہمارے علماء  کے لیے بذات خود قابل قبول ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ ہمارے بعض علماء اور مجتہدین اور مراجع  امام زمانہؑ عج کی خدمت میں پہنچے ہیں لیکن یہ ایک بحث ہے۔ کہ ایک مجتہد کا امام زمانہؑ عج کی خدمت میں پہنچنا اور سوال کا جواب لینا آیا دوسرے مجتہد کے لیے بھی حجت ہے کہ نہیں یعنی کیا وہ بھی اس کے مطابق فتویٰ دے سکتا ہے یا نہیں۔  

عام طور پر اس بحث کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ دوسرا مجتہد اس سنے گا لیکن اسے قبول کرے گا۔ لیکن اس کے مطابق فتویٰ نہیں دے گا۔ وہ قرآن احادیث کی رو سے دے گا یا اس کی خود ملاقات ہوئی ہو۔ 

🌀 اب یہاں اس بحث سے قطع نظر اس طرح کی واقعات کا ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ امام زمانہ عج سے غیبت کبریٰ میں ملاقات ہوسکتی ہے۔ اور ملاقات کرنے والے کوئی عام لوگ بھی نہیں ہوتے بسا اوقات علماء فقہاء اور مجتہدین ہیں اور اس ملاقات کے نتائج علمی اور فقہی مسائل کے جوابات ہیں جو ہماری کتابوں کے اندر بھی  نقل ہوئے ہیں۔ 

بحث جاری ہے۔۔۔۔۔📖📚👈

والسلام۔ 
خلاصہ و پیشکش: ✍️ شہر بانو 
عالمی مرکز مہدویت قم۔  🌍






کتابچہ 9 
ملاقات امام زمان عج☘️
چوتھا درس
ملاقات کے اثبات پر دلائل دعائیں اور اعمال
علما کی گواہی

منکرین ملاقات کی پہلی دلیل 
امام زماں عج کی چوتھے نائب کو آخری توقیع شریف🎤🌹


استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب


خلاصہ: 🌻

موضوع سخن غیبت کبریٰ میں امام زماں عج سے براہ راست ملاقات ہے کہ  آیا یہ ملاقات  مکمن ہوئی ہے اور واقع ہوئی ہے۔ اور اس کے واقع ہونے پر دلائل  دیئے گئے  ہیں۔ جس میں دو دلیلیں بیان ہو چکی ہیں۔ ویسے تو ہماری کتابوں میں ایسے سینکڑوں لوگوں کی حکایات و روایات نقل ہوئی ہیں اور یقیناً یہ سب جھوٹ نہیں ہے کہ ایسے سینکڑوں لوگ مولا ؑ عج کی بارگاہ میں خدمت کےلیے پہنچے ہیں۔ اور دوسری روایات فقہہ اور مجتہدین کی ملاقات ہے  کہ جسے اجماع تشرفی کہا گیا ہے۔ اور اس سے باقاعدہ حکم شرعی اور فقہی ثابت ہوتا ہے۔ 

آج ہم مذید دلائل پر گفتگو کریں گے۔ 🫴


دعائیں اور اعمال: 📚
 ایک دلیل دعائیں اور اعمال ہیں جو ملاقات کی صورت میں امام ؑ عج کی جانب سے حکم ہیں اور ہماری کتابوں میں نقل ہوئے۔ مثلاً

صحیفہء مھدیہ:📖📚
کتاب میں کچھ ایسے اعمال اور دعائیں ہیں کہ جن  کا خود امام نے حکم دیا ہے۔ جیسے کوئی نماز یا  استخارہ ہے ۔ یا مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ خود مسجد جمکران کے بنانے کا حکم اس کی نماز جو ہے یہ امام ؑ نے خود حکم دیا ہے اور ہم تک یہ حکم ایک ملاقات کے ذریعے پہنچا۔ اور اس پر ہر دور میں ہمارے فقہا اور مجتہدین نے اعتماد کیا ہے اور مسجد جمکران خود بھی گئے ہیں اور انہوں نے اس نماز کو ادا بھی کیا ہے۔ اور خود 1200 سال سے علماء نے اپنی کتابوں میں ملاقات کے واقعات لکھے ہیں لیکن کسی نے نہیں کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور ملاقات نہیں ہو سکتی۔ البتہ بعض ملاقاتوں میں ہمارے علماء تردید و شک کریں لیکن ہمارے علماء نے ان ملاقاتوں کو بطور قلی قبول کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ یہ سب کچھ ہوا ہے اور ہو سکتا ہے۔ یعنی 1200 سال سے  ان تمام ملاقاتوں کے واقعات کی کہ جن میں صالحین اور فقہاء کی ملاقاتیں بھی ہیں ان واقعات کی ہمارے علماء نےنفی نہیں کی ۔    
یعنی کوئی منکر ملاقات نہیں ہے۔ 


۔۔ منکر ملاقات کی دلیل: 🌀
منکر ملاقات کی اہم دلیل امام زماں عج کی آخری توقیع شریف  کہ جو انہوں نے اپنے چوتھے اور  آخری نائب خاص علی بن محمد سمؒری ان کے آخری ایام میں دی۔ 

اس خط میں یہ تحریر تھا کہ: 📜

 اے علی بن محمد سمرؒی
اللہ تمهارے  بارے میں تمهارے دینی بهائیوں کو صبر کرنے پر اجر عظیم عطا دے کہ اب سے چھ دن بعد تمهارا انتقال ہو جائے گا لہذا اپنے امور کو مکمل کر لو اور آئندہ کے لیے اپنا وصی کسی کو مقرر نہ کر نا جو تمهاری وفات کے بعد تمهارا قائم ہو.اس لیے کہ میری غیبت تامہ واقع ہو چکی یے.اور جب اللہ کا حکم ہو گا اسی وقت ظہور ہوگا اور یہ اہک طویل مدت کے بعد ہوگا اس عرصہ میں لوگوں کے دل سخت ہو جائیں گے زمین ظلم وجور سے بهر جائے گی ہمارے شیعوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو مجھے دیکھنے کا دعویٰ کریں گے مگر جو خروج سفیانی اور ندائے آسمانی کے پیدا ہونے سے قبل مشاہدے کا دعویٰ کے وہ جهوٹا ہے،
ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔🌷

اس آخری توقیع میں امام زماں نے آخری نائب کو واضع طور پر بیان کر دیا ہے کہ اب کسی کو وصیت نہیں کرنی کے آپ کے بعد نائب قرار پائے۔ اسی لیے ہمارے علماء کرام کہتے ہیں کہ چوتھے نائب خاص کے بعد کوئی خاص نائب نہیں۔  یعنی غیبت صغریٰ کا اختتام ہے اور غیبت کبریٰ کا آغاز ہے۔ 

اس کے بعد امامؑ عج فرماتے ہیں کہ اس وقت تک ظہور نہیں ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے۔ یعنی ظہور موقوف ہے اللہ کے اذن پر  اب یہاں جو جملہ ملاقات کی نفی کرتا ہے وہ یہ ہے کہ امامؑ عج فرماتے ہیں جو بھی مشاہدے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ 
🔆🔆

🤌
مشاہدے سے مراد امام زماں عج کا دیدار ہے تو پس توقیع سے ثابت ہے غیبت کبریٰ کے زمانے میں امام زماں ؑ عج کی ملاقات ممکن نہیں کیونکہ یہ فرمان سے ثابت ہے۔ 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔☘️☘️☘️

انشاءاللہ آئندہ درس میں اس کا جواب دیں گے۔ 🫴اس دلیل کا جواب موجود ہے کیونکہ فارسی اور اردو میں مشاہدہ سے مراد کسی کو دیکھنا لیا گیا ہے حالانکہ مشاہدے کا مطلب کچھ اور ہے۔ 

والسلام۔
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔  🌍







کتابچہ 9🌻
 ⭐ملاقات امام زمان عج ⭐
پانچواں درس 
منکرین ملاقات کی پہلی دلیل کا جواب
لفظ مشاہدہ سے مراد کیا ہے؟


استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

خلاصہ:📜
موضوع سخن: امام زماں سے ملاقات کا واقع ہونا  یا پھر نہ ہونا۔ 

پچھلے درس میں عرض کیا تھا کہ وہ لوگ جو ملاقات امام زماں عج کے قائل نہیں ہیں یعنی منکر ملاقات ہیں۔ ان کے پاس مضبوط دلیل امام زماں عج کا آخری پیغام ہے جس میں امامؑ عج نے واضح کیا ہے کہ جو بھی ندائے آسمانی سے پہلے اور سفیانی کے خروج سے قبل میرے مشاہدے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ 

یہاں لفظ مشاہدہ آیا ہے اور اردو اور فارسی میں مشاہدے سے مراد دیکھنا ہے۔ تو بس پھر امام ؑ عج کو دیکھا نہیں جا سکتا یہ ان لوگوں کی دلیل تھی جو ملاقات کے قائل نہیں۔ 

جواب: 🌻
اس کا جواب خود اسی توقیع میں ہے۔ امام زماں عج نے خود علی بن محمد سمری ؒ کی وفات کا اعلان کیا اور اس کے بعد فرمایا کہ  تا علامات ظہور اگر کوئی مشاہدے کا دعویٰ کرے۔ 

ہمارے علماء یہ جواب دیتے ہیں کہ یہاں مشاہدے سے مراد فقط دیکھنا ، زیارت کرنا یا ملاقات نہیں ہے یہ اردو اور فارسی میں مراد ہے۔ 

عرب لوگ مشاہدہ سے مراد لیتے ہیں کہ " دعویٰ کے ساتھ دیکھنا" یعنی فقط دیکھنا نہیں بلکہ دعوٰی بھی کرنا۔ 🌟🌟

یعنی علی بن محمد سمریؒ کی طرح اگر کوئی مشاہدے کا دعویٰ کرے۔ یعنی علی بن محمد سمریؒ  نائب خاص اور سفیر امام زماں عج تھے اور وہ مشاہدے کا دعویٰ کرتے تھے۔ لیکن امامؑ عج یہاں فرما رہے ہیں کہ اگر اب کوئی علی بن محمد سمریؒ کی طرح مشاہدے کا دعویٰ کرے تا علامات ظہور تو وہ کذاب ہے۔ 

امام زماں عج نے دیکھنے کی نفی نہیں کی اگر دیکھنے کی نفی ہوتی تو لفظ رویت لے کر آتے۔ عربی میں اس کے معنی دیکھنے کے ہیں یا لفظ نظر لاتے۔  یہاں ملاقات کی نفی نہیں۔ ملاقات خود عربی کا لفظ ہے اور یہاں پھر ملاقات کا مادہ لے کر آتے لیکن خود امامؑ عج مشاہدہ لے کر آئے یعنی کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں نے امام ؑ عج کا مشاہدہ کیا اور مجھے نیابت مل گئی ۔ امام ؑعج نے مجھے یہ ذمہ داری سونپ دی۔ 

نیابت یعنی خاصہ کے دور کا اختتام ہو رہا ہے ۔ یعنی اب اگر کوئی علامات ظہور سے قبل اگر نیابت  کا دعویٰ کرے گا تو وہ کذاب ہے۔ 

اور اسی طرح ہمارے ہمارے علماء مشاہدہ سے مراد یہ لیتے ہیں کہ اب اگر کوئ ظہور کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب ہے۔ 
🌟🌟
مشاہدہ زمانہ ظہور بھی ہے۔ یعنی مکمل  غیبت کبریٰ ہو رہی ہے لہذا اب نیابت خاصہ کا دور بھی ختم اور مولاؑ کسی کے لیےبعنوان ظہور کریں ایسا نہیں ہے۔ امام عج سب کے لیے ظہور کریں گے۔ لیکن اس میں رابطے کی نفی نہیں ہو رہی ہے۔ کہ اگر کوئ مشکل میں ہو اور امام ؑ عج کی خدمت میں پہنچ جائے اور اپنی مشکل حل کروا لے تو اسے ملاقات کہتے ہیں اسے زیارت کہتے ہیں یہ ظہور نہیں ہے۔ 

ہمارے تمام علماء نے مشاہدہ کا معنی یا نیابت لیا ہے یا ظہور لیا ہے اور اتفاق سے روایات کے اندر بھی یہی معنی ہے۔ 

امام سید سجادؑ نے ابو خالد کابلی سے فرمایا۔ 🌹
"اللہ تعالیٰ غیبت کے زمانے کے لوگوں کو ایسی عقل و فہم اور معرفت عطا فرمائے گا کہ غیبت ان کے لیے مشاہدے کی مانند ہوجائے گی۔ " 

یہاں تمام ماہرین حدیث اور علمائے کرام نے مشاہدے کا معنیٰ ظہور کیا ہے۔ 

یعنی غیبت کے اندر جو صاحبان معرفت ہیں وہ معرفت امامؑ عج حاصل کریں گے اور پھر ان کے لیے غیبت غیبت نہیں رہے گی ان کے لیے امام ظہور کر جائیں گے۔ یعنی وہ اپنے علم و فضل سے اس منزلت پر پہنچ جائیں گے کہ پھر وہ خود کو ہمیشہ اپنے امامؑ عج کے ہمراہ محسوس کریں گے۔  

ہم دیکھتے ہیں  کہ حدیث میں بھی مشاہدے کا معنیٰ ظہور ہے۔ یعنی اس سے مراد فقط دیکھنا یا ملاقات یا زیارت  نہیں ہے۔ لہذا اس سے مراد یہ نہیں کہ امام زماں عج نے ملاقات اور اپنی زیارت کی نفی کی ہو۔ 

یہاں مولا ؑ عج نے علامات ظہور کو بیان کر کے اس بات کی نفی کی ہے کہ جب تک علامات ظہور  نہ ہونگی میرا ظہور نہ ہوگا۔ اور نہ ہی ان علامات سے قبل کوئی میری نیابت کا دعویٰ کر سکتا ہے اگر کرے گا تو وہ جھوٹا ہے۔ 

ہمارے علماء نے بھی یہی دو چیزیں بتائی ہیں کہ کوئی بھی اب یہ دعوٰی کرے کہ وہ نائب ہے اور امام  زماں عج کی خدمت میں پہنچتا ہوں اور انہوں نے یہ فرمان آپ لوگوں کے لیے مجھے سونپا ہے تو وہ کذاب ہے۔ 

دور حاضر میں مختلف ممالک اور شہروں مین  ایسے افراد موجود ہیں جو جھوٹے پیر و مرشد بن کر بیٹھے ہیں اور جھوٹے دعوے کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو جھوٹے فرمان سناتے ہیں اور ان کو علماء فقہا، مجتہدین، قرآن و نماز ہر چیز سے دور کر رہے ہیں۔ لہذا ان کذاب اور شاطر لوگوں سے بچنا چاہیے۔ 

جاری ہے۔۔۔۔🌻🌻🌻🌻🌻

پروردگار عالم ہم سب کو علمی اور فکری اعتبار سے مولاؑ کا سچا ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲

آمین۔ 
والسلام
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔  🌍



: کتابچہ 9

 ملاقات امام زمان عج ⭐
چھٹا درس 
منکرین ملاقات کے باقی دلائل کے جواب

استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

خلاصہ:📜
منکرین ملاقات کے باقی دلائل کے جواب📖

ایک اور دلیل جو منکرین ملاقات کے پاس ہے وہ بھی ایک اور توقیع ہے جو امام زماںؑ عج کا فرمان ہے جو بحار النوارمیں جلد نمبر  92 صفحہ نمبر 196 📖📚 میں موجود ہے۔
 
مولا ؑ عج فرماتے ہیں کہ آپ لوگ ملاقات کے پیچھے نہ رہیں اور مجھے دیکھنے کی کوشش نہ کریں۔ 

 اب یہاں کچھ لوگ اس انداز سے دلیل کی صورت میں  پیش کرتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں اگر ممکن ہوتا تو مولاؑ منع ہی نہ کرتے۔ 

اس کا جواب یہ ہے: 🌻
یہ روایت اس بات سے منع کر رہی ہے کہ آپ اس کے پیچھے نہ رہیں۔ 

ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ : 🫴
انسان اپنے روزمرہ کے ضروری کام اور اپنی شرعی ذمہداریوں کو چھوڑ کر فقط ملاقات کے لیے چِلے نہ کاٹتا رہے اس کو ہی اپنا دینی فریضہ نہ سمجھ لے۔ وہ یہ نہ سمجھ لے کہ میرا اہم ترین کام یہی ہے کہ میں مولاؑ کے حضور پہنچو اور ان کی زیارت کروں یہ روایت بھی اسی طرز عمل کی نفی کرتی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے روزمرہ کے وظائف انجام دیتا ہے اور اپنی انفرادی اور معاشرتی ذمہداریوں کو انجام دے رہا ہے اور اس پر امامؑ اپنا لطف کریں اور وہ زیارت سے مشرف ہو جائے تو اس سے کوئی ربط نہیں۔ 

3۔ جھوٹے دعویدار:🔅
وہ تیسری دلیل یہ بھی لیتے ہیں کہ اگر ہم مان لیں کہ ملاقات ہو سکتی ہے تو پھر جھوٹے دعویداروں کے گروہ اٹھیں گے جو ملاقاتوں کا دعویٰ کر کے لوگوں کے درمیان جھوٹا مقام بنائیں گے اور معاشرے کو گمراہ کرنے کا باعث بنیں گے۔

جواب: 🌻
یہ درست ہے کہ جھوٹے دعویدار فائدہ اٹھائیں گے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم دینی حقائق کو ترک کر دیں۔ اگر کل جھوٹے مہدی آنا شروع کر دیں تو ہم حق کو چھوڑ دیں کیا ہم سچے اور حقیقی مہدی زماں عج کو چھوڑ دیں۔ 

اگر ہم دیکھیں کہ طولِ تاریخ میں عقیدہ مہدویت اور امام زماں عج پر جو عقیدہ ہے یہ باعث بنا کہ بہت سارے لوگوں نے جھوٹے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو اب ہم  یہاں کیا کریں؟ ہمیں چاہیے کہ درست تشریح کریں اور لوگوں کو ملاقات کے موضوع پر شفاف بیان کریں ۔ جس طرح مہدویت کے موضوع میں معرفت کا مسئلہ لے کر آتے ہیں اور اس پر حقائق بیان کرتے ہیں تاکہ کوئی جھوٹا مہدی نہ بنے۔ اور نہ ہم ملاقات کے موضوع پر ہر شخص کی ملاقات کو قبول کریں۔ 

جو لوگ جھوٹی ملاقات کے دعویدار ہیں پھر وہ لوگ امر و نہی بھی کرتے ہیں لہذا ان کی تکذیب ضروری ہے۔ چونکہ امامؑ عج ملاقات کے ذریعے کوئی حکم نہیں دے رہے۔ یعنی جو شخص یہ کہتے کہ میں نے ملاقات کی اور امام ؑ نے یہ حکم صادر فرمایا۔ گویا ایسا شخص نائب امامؑ ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے اور ایسا شخص جھوٹا ہے۔ 

ملاقات سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کا اپنا کوئی کام ہو جائے نہ کہ وہ دوسروں کے لیے جو وہ مولا ؑ کی طرف سے ایک سفیر اور نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مشاہدے کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ 

4۔ خرافات بڑھ جائیں گی: 🔅
کچھ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ہم ملاقات کے موضوع کو قبول کریں تو خرافات بڑھ جائیں گی۔ مثلاً جب یہ کہیں کہ امام ؑ سے ملاقات ممکن ہے تو کئی لوگ اٹھیں گے جو خرافات کو ہوا دیں گے یعنی کہیں گے کہ یہ کام کرو تو آپ کو مولاؑ کی زیارت ہوگی۔ جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے امامؑ کی زیارت کے لیے چِلے بنائے ہوئے ہیں۔ 

خرافات تب پیدا ہوتی ہیں جب حقائق بیان نہیں ہوتے اور جب حقائق بیان ہوں تو خرافات خود  خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ مثلاً ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آئمہؑ کے وسیلے سے شفا ملتی ہے۔  لیکن یہاں اب کچھ لوگ خرافات کا شکار ہوگئے انہوں نے یہاں غلط انداز سے منتیں مانگنی شروع کر دیں منت جو کہ  صرف پروردگار سے خاص ہے  انہوں نے منتیں اماموں سے ہی مانگنی شروع کر دیں ۔ یعنی اماموںؑ کو ہی اپنا رب مان کر انہی سے مانگنا شروع کر دیا۔ 

وسیلے کا موضوع چونکہ صحیح بیان نہ ہوا تھا لہذا لوگ خرافات میں پڑ گئے۔ تو اب چاہیے یہ کہ حق کو اچھی طرح سے بیان کیا جائے تاکہ لوگ باطل کا شکار نہ ہوں۔ 
🫴
خلاصہ یہ ہے کہ یہ جتنے بھی دلائل منکرین نے دیے ہیں ان میں سے کوئی بھی دلیل اپنے اندر استحکام نہیں رکھتی کہ وہ ملاقات کی نفی کرے یا کہے کہ یہ ممکن  نہیں۔ 

ملاقات ہوئی ہے اور ہوتی ہے لیکن ہر شخص  کی ہم ملاقات یا دعویٰ قبول کریں۔ بلکہ ایسے افراد جو ہمارے نزدیک باحیثیت ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صادق اور آمین ہیں اور اگر کوئی بات کرتے ہیں تو وہ صحیح کرتے ہیں یعنی جھوٹ نہیں بولتے۔ اور ان کا عملِ زندگی ہمارے لیے ایک قسم کا معین ہیں ۔ لیکن پھر بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور پھر اسے ماہرین اور علماء کی خدمت میں پیش کرے کہ میں نے یہ سمجھا ہے یہ دیکھا ہے۔ تو پھر علمائے کرام اس چیز کی تصحیح کرائیں گے۔ 

بعض مرتبہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ ملاقات ہوئی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا ممکن ہے کہ یہ کچھ اور ہو۔ تو ملاقات ممکن ہے واقع بھی ہوتی ہے صرف اس کو ماہرین مہدویت اور علمائے کرام کو بتایا جائے۔ 🫴

ہر آدمی کا ملاقات کا دعوٰی سچا نہیں اور ایسے دعووں کو جھٹلایا جائے جیسا کہ وہ لوگ جو ملاقات مہدی ؑ کے نام پر اپنے دکانیں بنا کر بیٹھے ہیں اور خرافات کو فروغ دیتے ہیں جیسے ابھی ہم پاکستان اور ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے پیر و مرشد بن کر ملاقات کے موضوع سے غلط استفادہ کیا ہوا ہے اور لوگوں کو دین سے ،مجتہدین اور علمائے کرام سے اور نماز و عبادات سے دور کیا ہوا ہے۔ بلکہ وہ اپنے آُپ کو سجدے کروا رہے ہیں اور اپنی پوجا کروا رہے ہیں تو ایسے افراد کی تکذیب ہونی چاہیے۔ 
👇🩵
لیکن اگر کوئی صالح اور کوئی نیک عالم یا مجتہد امامؑ عج سے ملاقات کرے اور مولاؑ اس پر نظر کرم کرتے ہیں  تو اس بات کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ چونکہ یہ ممکن بھی ہے اور ہوتی بھی ہیں۔ 

والسلام۔ 
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔    🌍

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات