Course 2 Book 8 Me
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻*
*کورس* 2
*کتابچہ*
*درس*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،
📖گفتگو کا موضوع
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
11،13،18 missing
*درس 1*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کا معنی و مفہوم، انتظار کا حقیقی معنی احادیث و روایات کی رو سے،انتظار تربیت و کمال پانے کا عمل ، انتظار عالمی حکومت کا پیش خیمہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
🖇️ _خلاصہ:_
*⭕انتظار کے معنی:
لغت میں انتظار کے معنی امور میں عجلت,کسی کا راستہ دیکھنا, مستقبل سے امید وابستہ رکھنا وغیرہ
اسی طرح انتظار کے معانی کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ _انتظار ایک نفسیاتی حالت ہے جو عجلت کے ہمراہ ہوتی ہے_
←اب دو قسم کی معانی درج زیل ہیں:
١- یہ نفسیاتی کیفیت کسی کا راستہ دیکھنا کیا انسان کو ناامیدی اور مایوسی کی وادی میں دھکیلتا ہے اور انتظار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بہتر مستقبل کے لیے بغیر کسی کوشش کے انتظار کریں۔
٢- کسی کے آنے کی امید حرکت اور عمل کے ساتھ تیاری کا سبب بننا۔
والسلام
التماس دعا
*درس:2*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کے حقیقی معنی پر دو روایت کی رو سے تشریح ، قائم لقب پر کھڑا ہونے کا مطلب، آیا اللہ نے امام زمانہ عج کے لیے سب کچھ کرنا یا ہم نے قربانیاں دینی ہیں؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_🖇️خلاصہ:_
موضوع سخن انتظار کا معنی ہے اس حوالے سے عرض کیا گیا کہ احادیث اور روایات کی رو سے امام زماں عج کا انتظار جو ہے وہ صرف ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں بلکہ عمل ہے عبادت ہے حرکت ہے اسی حوالے سے آج دو روایات اپ کی خدمت میں بیان ہوں گی۔
*💫پہلی روایت:*
١:- ایک روایت جو غیبت نعمانی میں بیان ہوئی جس میں امام معصوم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
*"تم میں سے ہر ایک کو قائم کے ظہور کے لیے تیار رہنا چاہیے"*
یہ صحیح انتظار کی ہی تشریح ہے انتظار کس طرح کا فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کو بے ہر صورت ضرور بضرور تیار رہنا چاہیے قائم کے ظہور کے لیے کیونکہ مولا کسی وقت بھی ظہور کر سکتے ہیں اگرچہ یہ تیاری ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم کو معلوم ہے کہ جنگ ہونی ہے دنیا کے ظالموں سے تو اب اس جنگ کے اندر اسلحہ چاہیے مثلًا تو اب یہ اس زمانے کی بات ہو رہی ہے جب تیروں اور تلواروں کا زمانہ تھا تو معصوم نے ایک مثال دے کر فرماتے ہیں کہ:
ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو مثلًا اگر تو کسی ایک لکڑی سے ایک تیر بنا سکتا ہے تو وہ تیر بنا کے اپنے پاس رکھ تاکہ پتہ چلے کہ تو تیار ہے ۔ یہ ایک مثال ہے نہ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے کوئی گھروں میں اسلحہ جمع کرنا ہے نہیں نہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ ہم جس چیز کے اندر ماہر ہیں اور اپنے امام کی خدمت کر سکتے ہیں اس چیز میں اپنے مولا کے لیے تیار ہوں اگر ہم اہل دانش ہیں تو علمی حوالے سے تیار ہوں اگر ہمارا کوئی خاص پیش ہے تو اس اعتبار سے تیار ہوں کیونکہ پوری دنیا کی اصلاح پوری دنیا میں انقلاب پوری دنیا میں وہ حکومت اس کو صرف فوجی نہیں چاہیے ہر شعبے کا بندہ چاہیے ہاں جو نظامی ہے جو عسکری قوتوں سے تعلق رکھتا ہے اور مومن ہے وہ اس اعتبار سے تیار ہو تو
←🟣معصوم فرماتے ہیں کہ
تم میں سے ہر ایک کو قائم کی ضرور کے لیے تیار رہنا چاہیے اگرچہ یہ تیاری ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔
←اس کے بعد پھر آگے معصوم فرماتے ہیں کہ
"جب اللہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مہدی عج کی نصرت کے لیے وہ تیار ہوا ہے تو پھر امید کی جا سکتی ہے کہ خدا اس کی عمر کوئی اتنا طولانی کرے کہ وہ امام کے ظہور کو درک کرئے یعنی اس زمانے تک پہنچ جائے اور ان کے اعوان و انصار میں شامل ہو سکے۔"
اب یہ روایت جو ہے وہ صحیح معنوں میں انتظار بیان کر رہی ہے
١- انتظار یعنی تیاری
٢- انتظار یعنی حرکت
٣-انتظار یعنی چشمے راہ ہونا چشم کے راہ وہی ہوتے ہیں جو مکمل تیار بیٹھے ہوتے ہیں
←🌸جیسے انجیل میں بھی حضرت عیسٰی مسیح علیہ السلام جو ہے وہ آخری پیشوا کی تیاری کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ:
"اپنی مثلا کمر باندھ کر رکھو اور دروازے پر نظر رکھو۔"
تو جو بھی منتظر ہے وہ ہر حوالے سے تیار ہے روحانی معنوی علمی اسے جو کچھ آتا ہے جس طرح کی خدمت کرنی اتی ہے اسے اعتبار سے تیار کر اب جیسے کہ یہ جو مولا کے القاب میں سے ایک لقب ہے قائم اور ہمارے بزرگان یہ کہتے ہیں کہ جب بھی یہ لقب سنے تو احترام کھڑے ہوں تو یہ احتراماً کھڑا ہونا در واقع انتظار کے معنی کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ منتظر انسان تیار ہے آمادہ ہے وہ کھڑے ہو کر بتا رہا ہے کہ میں حاضر ہوں آپ کی ہمراہی کرنے اور ہمارے بعض بزرگان
←🌼جیسے ایران کے ایک بہت بڑی _شخصیت آیت اللہ تالخانی_ کو کہا کرتے تھے کہ یہاں شاید احترام نہ ہو کھڑا ہونا چونکہ اگر احترام کی بات ہے تو پھر اللہ کا ذکر ہو تو پھر وہاں بھی احترام کریں رسولﷺ کا ذکر ہو تو وہاں بھی احترام کریں باقی ائمہ کا ذکر ہو تو وہاں بھی احترام کریں بلکہ یہاں جو ہے کھڑا ہونا یعنی تیاری کا اعلان ہے پشت پناہی کا اعلان ہے ہمرائی اور نصرت کا اعلان ہے ہمارے بعض لوگوں کے اندر یہ ایک فکر موجود ہے اور یہ غلط فکر ہے اور اس وقت دنیا کے اکثر لوگ جو ہیں وہ یہی کچھ سوچتے ہیں کہ یہ سارے کام خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے جیسے کہتے ہیں جی اللہ خیر کرے گا یعنی میں نے کچھ نہیں کرنا خدا خود ہی ٹھیک کر دے گا اللہ نے یہ جہان بنایا تھا ہمارے لیے اور قران میں کہا ہے کہ خدا اسی قوم کے حالات بدلتا ہے جو اپنے حالات خود بدلتے ہیں اور انسان کے لیے بغیر کوشش کے کچھ بھی نہیں لیکن پھر بھی ایک غلط فکر سب جگہ پہ موجود ہے سارے کام جو ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے حالانکہ کائنات کی تاریخ یہ بتاتی ہے مختلف جو معاشرے اور اقوام کی جب ہم تاریخ پڑھتے ہیں ان کا عروج و زوال تو یہی دیکھتے ہیں کہ جب وہ کوششیں کرتے ہیں تو وہ کامیاب ہیں اور جب انہوں نے سُستیاں کی اور تقدیر کے سپرد کر دیے سارے معاملات اور خود عیاشیوں میں اور اپس کے مسائل میں ایک دوسرے سے لڑائیوں میں نا اتفاقیوں میں تفرقہ بازیوں میں جو ہے وہ گم ہو گئے غرق ہو گئے تو قومیں تباہ ہو گئی کئی مملکت ہیں اس دنیا عرض پر نمودار ہوئیں اور غائب ہوئیں کئی ملک بنے اور ختم ہو گئے پوری دنیا کی تاریخ کئی قومیں تھیں لیکن آج ان کا نام و نشان تک نہیں کون سی قومیں باقی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باقی رکھا ہے جنہوں نے حرکت میں رہے ہیں جنہوں نے کوششیں کی ہیں جنہوں نے اپنے اصلاح کی جنہوں نے محنتیں کی جنہوں نے کمال کی طرف حرکت کی وہ ہیں ابھی بھی ہیں ۔
ابھی امام زمانہ عج کے حوالے سے بھی یہی ایک عجیب سی فکر ہر جگہ پہ ہے تو مولا آئیں گے خود ہی سارے کام کر لیں گے اللہ ان کے لیے سارے کام کر دے گا وہ آئیں گے اشارہ کریں گے مشرق مغرب ٹھیک ہو جائیں گے یا ان کے ساتھ فرشتے ہوں گے معجزات ہوں گے دنیا کی امور ٹھیک ہو جائیں گے یہ غلط فکر ہے اور یہ ہمارے ائمہ کے زمانے میں بھی کچھ لوگ اس قسم کی فکر رکھتے تھے اور ائمہ اس کی تصدیق فرماتے تھے
*امام باقر علیہ السلام کی بارگاہ میں ایک شخص نے آکر کے کہا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب مہدی قیام کریں گے تو سارے امور خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے کوئی خون نہیں گرے گا اللہ جو ہے وہ ایک رات میں ہی سارے کام ٹھیک کر دے گا*
تو مولا نے فرمایا کہ:
_ہرگز نہیں خدا کی قسم! اگر کسی کے لیے کام خود بخود ٹھیک ہونا درست ہوتا تو یہ کام پھر پیغمبر گرامی ﷺ کے لیے ہوتے پھر خدا ان کے لیے ٹھیک کرتا حالانکہ اپ کے دندان مبارک شہید ہوئے اپ کے چہرے مبارک پر زخم آئے لہذا ہرگز ایسا نہیں ہے کہ امور خود بخود ٹھیک ہو جائیں خدا کی قسم! یہ ٹھیک نہیں ہوں گے جب تک ہم اور آپ خون اور پسینہ میں غرق نہ ہو جائیں اس کے بعد پھر آپ نے مولا نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا_
تو واضح ہوا کہ زحمتیں قربانیاں بہت کچھ دینا پڑے گا ابھی سے دینا پڑے گا ابھی سے تیاری یہی ہے ابھی ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں زحمتیں کریں گے کل بڑے بڑے مسائل میں مولا کی ہمراہی کے قابل ہوں یہ انقلاب ایسے نہیں انا اس میں بے پناہ خون جو ہے وہ دیا جائے گا ۔
جیسے نبی کریم ﷺ نے جب اپنی حکومت بپا کی مدینہ میں اور جو آہستہ آہستہ پورے حجاز تک پھیل گئی کتنا خون دیا کتنے اصحاب کی جانیں گی۔ بس انتظار فقط یہ نہیں ہے کہ ایک ذہنی مفہوم ہو اس کا کوئی اثر نہ ہو معاشرے میں اور ہم اپنی زندگی میں مست رہیں گم رہیں اور ذہنی مفہوم رکھیں کہ
بس ہم منتظر ہیں نہیں عمل ہے عمل سرگرمیوں کا نام ہے ایک جدوجہد ہے جس کے اثار ہیں معاشرے میں مثبت برکتیں اور اثار ہیں اس لیے ہم دیکھیں کہ حقیقی معنوں میں جو انتظار کرنے والے ہیں انہیں رسول اللہ کی ہمراہی میں دشمنان اسلام پر تلوار چلانے والوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے بہت بڑا عمل ہے یہ اس میں بہت ساری چیزیں ہیں جب تک وہ ہم انجام نہیں دیں گے اس وقت تک انتظار جو ہے وہ محقق نہیں ہوگا
اللہ تعالی ہم سب کو زمانے کے امام کا سچا منتظر بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین
والسلام
التماس دعا
*درس 3:*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کی ضرورت ، انتظار دراصل ظہور کا پیش خیمہ، مستشرقین اور مغربی دانشوروں کے شیعیت میں انتظار پر تبصرے*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌼خلاصہ:*
موضوع سخن انتظار امام زمانہ عج ہے آج ہم ضرورت انتظار پر گفتگو کریں گے احادیث اور روایات کی رو سے امام زمانہ عث کے ظہور کا انتظار درحقیقت خود مولا عج کے قیام کا پیش خیمہ ہے یعنی یہ انتظار ہر صورت میں ضروری ہے اگر یہ نہ ہو تو گویا ہم یا ظہور کو مؤخر کرنے کا باعث بنیں گے یا اگر ظہور ہوگا تو ہم کوئی کردار ادا نہیں کر پائیں گے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں مومنین کے انتظار کو واجب قرار دیا گیا ہے جیسے مشہور فرمان ہے کہ:
*منتخب العصر* میں مولا فرماتے ہیں کہ:
_*"قائم ہم میں سے اور قائم و مہدی ہے کہ وہ واجب ہے کہ ان کا غیبت میں انتظار کیا جائے اور جب وہ ظہور کریں تو ان کی اطاعت کی جائے*_
بس انتظار ایک واجب فریضہ ہے اور کیوں ضروری ہے کیونکہ یہ ظہور کا مولا کے قیام کا پیش خیمہ ہے در واقع انتظار وہ پیریڈ ہے جس میں ہم نے تیار ہونا ہے منصوبہ بندی کرنی ہے اپنے پروگرام جو ہیں وہ بنانے ہیں کہ کس طرح اپنے مقاصد کو حاصل کریں دنیا کے اندر ہر انقلاب آنے سے پہلے ایک زمانہ انتظار ہے اور وہ ضروری ہے اگر وہ نہ ہو اور انقلاب جلدی آ جائے تو وہ انقلاب پھر اپنے اہداف تک نہیں پہنچتا اس سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے مثلًا آپ دیکھیں بسا اوقات کوئی کام کوئی تحریک کوئی قیام شروع ہوتا ہے لیکن وہ وہی تحریک شروع کرنے والے وہی قیام شروع کرنے والوں کی آپس کی لڑائیاں اور نفرتوں اور خواہشات نفسانی جو بھی ہے اس کی وجہ سے وہ تحریک جو ہے وہ ختم ہو جاتی ہے وہ تکمیل تک پہنچتی نہیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک کامیاب انقلاب برپا کریں تو اس سے پہلے ایک زمانہ انتظار ہو ہم خود دیکھیں اللہ تعالی نے آخری شریعت کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے پانچ صدیاں لوگوں کو انتظار کروایا حضرت عیسی عج کے آسماں کی طرف اٹھائے جانے کے بعد سے لے کر رسول اللہﷺ کے آنے تک درمیان میں یہ جو کئی صدیوں کا فاصلہ ہے یہ وہی انتظار تھا آخری دن کا اور آخری نبی کا انتظار در واقع اپنے اہداف کو حاصل کرنے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا پروگرام بنانا ہے اس لیے بہت ایک عظیم مرحلہ ہے کسی بھی تحریک کے لیے کسی بھی قیام کے لیے اپ دیکھیں کہ اس وقت زمانہ غیبت میں ہمارے اعمال کا ایک معیار جو ہے وہ انتظار ہے مولا امام زمان عج کے ظہور میں جیسے یہ حدیث موجود ہے 🟣 *غیبتِ نعمانی* میں امام صادق علیہ السلام سے یہ سوال ہوا کہ اعمال کا جو ہے وہ قبولیت کا معیار کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اعمال کی قبولیت کا کیا معیار ہے تو اس میں وہ چیزیں جو معیار تھیں ان میں سے ایک انتظار القائم یعنی حتی خود امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں بھی سب کا ایک فریضہ یہ تھا کہ وہ قائم کا انتظار کریں اب تو ہم قائم کے زمانے میں ہیں ان کی غیبت کے زمانے میں ہے تو اب تو یہ فریضہ سب سے زیادہ جلوہ گر ہے تو مولا فرماتے ہیں کہ میرے زمانے کی بھی اگر شیعہ ہیں امام صادق کے زمانے کے ان کے اعمال کی قبولیت کا بھی ملا کر قائم آل محمدﷺ کا انتظار ہے تو اب تو ہم خود انہی کے زمانے میں اور یہ انتظار ہی ہے کہ جس کی وجہ سے شیعت جو ہے وہ باقی ہے اور یہ انتظار ہی ہے کہ جس کی وجہ سے شیعہ جو ہے وہ جدوجہد کرتے ہیں اور کریں گے اور یہ حرکت میں آئیں گے اور یہ نا امیدی سے بچے رہتے ہیں اگر آپ اسلام پر جن لوگوں نے قلم اٹھایا ہے یہی مستشرقین اگر ان کی تحریروں کو پڑھیں تو وہ تشیع کو بطور خاص توجہ دیتے ہیں مثلًا
💫 *فرانس کا ایک معروف اسلام شناس کاربن* جو ہے وہ لکھتے ہیں کہ دور حاضر میں غیبت کے مفہوم اور غیبت کی حقیقت پر گہرا مطالعہ نہیں کیا گیا میرے نزدیک اس حقیقت کا معنی یہ ہے کہ یہ حقائق کے معنی کا ایک غیر محدود ابدی سر چشمہ ہے اسلام کی معنوی حیات اور اس کے دوام کا تصور صرف شیعہ تشریح سے ہی ممکن ہے اور اس سے اسلامی معاشروں میں آنے والے ہر قسم کے تغیر کا حل ممکن ہے امام زمان وہ باکمال مفہوم ہے کہ جو غیبت کے مفہوم کو پایا تکمیل تک پہنچاتا ہے لیکن یہ مفہوم بطور کامل ہے امام غائب کی شخصیت سے متعلق ہے میں مگر بھی فکر کو اپناتے ہوئے امام غائب کے مفہوم کو ایک نیا اور جدید مفہوم محسوس کرتا اور مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرے دل میں یہ الہام ہو رہا ہے کہ انسان کی معنوی حیات کا اس سے تعلق اسی طرح فرانس کا ایک اور
←🌸 *مشہور مستشرک جیم سٹار جیمی سٹار یمسٹر* وہ جو ہیں لکھتے ہیں کہ بغداد کے نزدیک _الا شہر_ جو ہے وہ واقع ہے اور جہاں ہر روز نماز عصر کے بعد *100 افراد* اپنی تلواریں جو ہیں وہ نیام سے نکال کر گھوڑوں پر سوار ہو کر جاتے تھے اور شہر کے حاکم سے ایک سجا ہوا گھوڑا لاتے تھے اور بلند اواز سے کہتے تھے کہ اے صاحب زمان آپ کو خدا کا واسطہ ہے اب آپ آئیں یعنی اپنی تیاری کا اعلان کرتے ہیں یہ تحریر یہ ہماری تاریخ میں ہے کہ یہ ہوتا تھا اس زمانے میں یعنی کئی صدیاں پہلے تو یہ تاریخ کا وہ واقعہ لکھنے کے بعد جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ ملت جسے ایسے جذبات کے ساتھ پرورش دی گئی ہو اسے قتل تو کیا جا سکتا ہے لیکن اپنا فرمانبردار نہیں بنایا جا سکتا اسی طرح جرمن کے ایک محقق بھی وہ لکھتے ہیں کہ اسلام کے اندر شیعت کی کامیابی اور امید کا ایسا سبب جو سماجی مسائل کا اہم رکن ہے وہ اس مکتب کا امام عصر کے وجود پر عقیدہ اور ان کے ظہور کا انتظار ہے
←:- روس کا ایک تاریخ دان جو وہ ایران پر تحقیق کرتے ہیں اور تشیعوں پر اور لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو مہدی کے منتظر ہیں جنہوں نے تیرویں صدی میں ایران کے مختلف تحریکوں کو اٹھایا وہ عظیم مرتبہ کے مالک ہیں لیکن چودویں اور پندرہویں صدی عیسوی میں یہ عقیدہ بہت ہی راستہ خور واضح نظر انا شروع ہوا......
تو خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو جملے ہم مختلف مغربی دانشوروں کے یا مستشرکین کے جو لارے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا جو عقیدہ انتظار ہے اس کو دوسری دنیا کے ماہرین نے بھی درک کیا اور اس انتظار کو اہمیت دی چونکہ یہ عقیدہ انتظار اور یہ خود ہمارا عمل انتظار ہے یہ اصل میں تبدیلیوں کا آغاز ہے ہم اگر ظہور چاہتے ہیں یعنی مولا کے ظہور کے لیے ہم اگر کوشش کرنا چاہتے ہیں اور اس ظہور سے پوری دنیا کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انتظار خود ایک پیریڈ ہے جس میں ہم نے خود تبدیل ہونا ہے اپنے اہداف بنانے ہیں اپنا پروگرام تیار کرنا ہے کس طرح کام شروع کرنا ہے وہ تمام کو چاہت حدیث میں بیان ہے اس کے مطابق ہم نے اپنا اپنی حرکت وہ قدم جو ہے وہ اٹھانے ہیں
۱- تو انتظار تربیت گاہ ہے
انتظار جو ہے وہ پیش خیمہ ہے
ایک بہت بڑے قیام کا لہذا اس کو توجہ سے جو ہے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور عملی زندگی جو ہے اس کے مطابق گزارنے کی ضرورت ہے اللہ تعالی ہم سب کو یہ توفیق دے
درس 3انتظار
ایک روایت جو غیبت نعمانی میں بیان ہوئی ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو قائم کے ظہور کے لئے تیار رہنا چاہیے اگر چہ یہ تیاری ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوجنگ ہونی ہے دشمنوں کے ساتھ ۔لکڑی کے ساتھ تیر بنا سکتے ہیں تو بناییں جس چیز میں ماہر ہو اس میں امام کی خدمت کریں۔
دنیا میں انقلاب ہر طرح کی طاقت چاہیے ۔
جب اللہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص امام کی نصرت کے لیے تیار ہوا ہے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ اس کی عمر کو اتنا طولانی کرے کہ وہ امام کے ظہور کو درک کریں۔
انتظار یعنی حرکت چشم برا ہونا۔
جب امام کا لقب قائم آئے اور کھڑے ہونا تو یہ کھڑے ہونا انتظار کے معنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
کھڑے ہوکر بتا رہا کہ میں تیار ہو آپ کی ہمراہی کے لیے۔
وہی قوم باقی ہے جنھوں نے اصلاح کی کوشش کی کمال کی طرف سفر کیا۔
امام آئیں گے اشارہ کریں گے سب صحیح ہوجائے گا یا فرشتہ ہونگے اور معجزات ہونگے۔
امام باقر (ع)سے ایک شخص نے آکر کہا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مہدی قیام کریں گے تو سب امور خودبخود ٹھیک ہوجاہینگے کوئی خون نہیں گرے گا۔
مولا نے فرمایا ہرگز نہیں خدا کی قسم اگر کام کسی کے لیے خودبخود ٹھیک ہونا ہوتا تو وہ پیغمبر(ص)کے لیے ہوتے۔
آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے آپ کے چہرے پر زخم ائے۔
خدا کی قسم یہ ٹھیک نہیں ہونگے جب تک آپ اور ہم خون اور پسینہ میں غرق نہ ہوجائیں۔
زحمت اور قربانی دینی ہوگے اس طرح انقلاب برپا نہیں ہوگا۔
والسلام
التماس دعا
*درس 3*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کے حقیقی معنی پر دو روایت کی رو سے تشریح ، قائم لقب پر کھڑا ہونے کا مطلب، آیا اللہ نے امام زمانہ عج کے لیے سب کچھ کرنا یا ہم نے قربانیاں دینی ہیں؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدوی قم
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار کا معنی ہے اس حوالے سے عرض کیا کہ احادیث اور روایات کی رو سے امام زماں کا انتظار جو ہے وہ صرف ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں بلکہ عمل ہے عبادت ہے حرکت ہے اسی حوالے سے اج دو روایات اپ کی خدمت میں بیان ہوں گی۔
١:- ایک روایت جو غیبت نعمانی میں بیان ہوئی جس میں امام معصوم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کو قائم کے ظہور کے لیے تیار رہنا چاہیے یہ صحیح انتظار کی ہی تشریح ہے انتظار کس طرح کا فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کو بے ہر صورت ضرور بضرور تیار رہنا چاہیے قائم کے ظہور کے لیے کیونکہ مولا کسی وقت بھی ظہور کر سکتے ہیں اگرچہ یہ تیاری ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم کو معلوم ہے کہ جنگ ہونی ہے دنیا کے ظالموں سے تو اب اس جنگ کے اندر اسلح چاہیے مثلا تو اب یہ اس زمانے کی بات ہو رہی ہے جب تیروں اور تلواروں کا زمانہ تھا تو معصوم نے ایک مثال دیا فرماتے ہیں ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو مثلا اگر تو کسی ایک لکڑی سے ایک تیر بنا سکتا ہے تو وہ تیر بنا کے اپنے پاس رکھ تاکہ پتہ چلے کہ تو تیار ہے ۔ یہ ایک مثال ہے نہ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے کوئی گھروں میں اسلحہ جمع کرنا ہے نہیں نہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ ہم جس چیز کے اندر ماہر ہیں اور اپنے امام کی خدمت کر سکتے ہیں اس چیز میں اپنے مولا کے لیے تیار ہوں اگر ہم اہل دانش ہیں تو علمی حوالے سے تیار ہوں اگر ہمارا کوئی خاص پیش ہے تو اس اعتبار سے تیار ہوں کیونکہ پوری دنیا کی اصلاح پوری دنیا میں انقلاب پوری دنیا میں وہ حکومت اس کو صرف فوجی نہیں چاہیے ہر شعبے کا بندہ چاہیے ہاں جو نظامی ہے جو عسکری قوتوں سے تعلق رکھتا ہے اور مومن ہے وہ اس اعتبار سے تیار ہو تو معصوم فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک کو قائم کی ضرور کے لیے تیار رہنا چاہیے اگرچہ یہ تیاری ایک تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے بعد پھر اگے معصوم فرماتے ہیں کہ جب اللہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مہدی کی نصرت کے لیے جو ہے وہ تیار ہوا ہے تو پھر امید کی جا سکتی ہے کہ خدا اس کی عمر کوئی اتنا طولانی کرے کہ وہ امام کے ظہور کو درک کرے یعنی اس زمانے تک پہنچ جائے اور ان کے اعوان و انصار میں شامل ہو سکے اب یہ روایت جو ہے وہ صحیح معنوں میں انتظار بیان کر رہی ہے انتظار یعنی تیاری
انتظار یعنی حرکت
انتظار یعنی چشمے راہ ہونا چشم کے راہ وہی ہوتے ہیں جو مکمل تیار بیٹھے ہوتے ہیں جیسے انجیل میں بھی حضرت عیسی مسیح علیہ السلام جو ہے وہ اخری پیشوا کی تیاری کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اپنی مثلا کمر باندھ کر رکھو اور دروازے پر نظر رکھو۔
تو جو بھی منتظر ہے وہ ہر حوالے سے تیار ہے روحانی معنوی علمی اسے جو کچھ اتا ہے جس طرح کی خدمت کرنی اتی ہے اسے اعتبار سے تیار کر اب مثلا یہ جو مولا کے القاب میں سے ایک لقب ہے قائم اور ہمارے بزرگان یہ کہتے ہیں کہ جب بھی یہ لقب سنے تو احترام کھڑے ہوں تو یہ احترامن کھڑا ہونا در واقع انتظار کے معنی کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ منتظر انسان تیار ہے امادہ ہے وہ کھڑے ہو کر بتا رہا ہے کہ میں حاضر ہوں اپ کی ہمراہی کرنے اور ہمارے بعض بزرگان جیسے ایران کے ایک بہت بڑی شخصیت ایت اللہ تالخانی کو کہا کرتے تھے کہ یہاں شاید احترام نہ ہو کھڑا ہونا چونکہ اگر احترام کی بات ہے تو پھر اللہ کا ذکر ہو تو پھر وہاں بھی احترام کریں رسول کا ذکر ہو تو وہاں بھی احترام کریں باقی ائمہ کا ذکر ہو تو وہاں بھی احترام کریں بلکہ یہاں جو ہے کھڑا ہونا یعنی تیاری کا اعلان ہے پشت پناہی کا اعلان ہے ہم رائی اور نصرت کا اعلان ہے ہمارے بعض لوگوں کے اندر یہ ایک فکر موجود ہے اور یہ غلط فکر ہے اور اس وقت دنیا کے اکثر لوگ جو ہیں وہ یہی کچھ سوچتے ہیں کہ یہ سارے کام خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے جیسے کہتے ہیں جی اللہ خیر کرے گا یعنی میں نے کچھ نہیں کرنا خدا خود ہی ٹھیک کر دے گا اللہ نے یہ جہان بنایا تھا ہمارے لیے اور قران میں کہا ہے کہ خدا اسی قوم کے حالات بدلتا ہے جو اپنے حالات خود بدلتے ہیں اور انسان کے لیے بغیر کوشش کے کچھ بھی نہیں لیکن پھر بھی ایک غلط فکر سب جگہ پہ موجود ہے سارے کام جو ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے حالانکہ کائنات کی تاریخ یہ بتاتی ہے مختلف جو معاشرے اور اقوام کی جب ہم تاریخ پڑھتے ہیں ان کا عروج و زوال تو یہی دیکھتے ہیں کہ جب وہ کوششیں کرتے ہیں تو وہ کامیاب ہیں اور جب انہوں نے سستیاں کی اور تقدیر کے سپرد کر دیے سارے معاملات اور خود عیاشیوں میں اور اپس کے مسائل میں ایک دوسرے سے لڑائیوں میں نا اتفاقیوں میں تفرقہ بازیوں میں جو ہے وہ گم ہو گئے غرق ہو گئے تو قومیں تباہ ہو گئی کئی مملکت ہیں اس دنیا عرض پر نمودار ہوئیں اور غائب ہوئیں کئی ملک بنے اور ختم ہو گئے پوری دنیا کی تاریخ کئی قومیں تھیں لیکن اج ان کا نام و نشان تک نہیں کون سی قومیں باقی ہیں جنہوں نے اپنے اپ کو باقی رکھا ہے جنہوں نے حرکت میں رہے ہیں جنہوں نے کوششیں کی ہیں جنہوں نے اپنے اصلاح کی جنہوں نے محنتیں کی جنہوں نے کمال کی طرف حرکت کی وہ ہیں ابھی بھی ہیں ۔
ابھی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حوالے سے بھی یہی ایک عجیب سی فکر ہر جگہ پہ ہے تو مولا ائیں گے خود ہی سارے کام کر لیں گے اللہ ان کے لیے سارے کام کر دے گا وہ ائیں گے اشارہ کریں گے مشرق مغرب ٹھیک ہو جائیں گے یا ان کے ساتھ فرشتے ہوں گے معجزات ہوں گے دنیا کی امور ٹھیک ہو جائیں گے یہ غلط فکر ہے اور یہ ہمارے ائمہ کے زمانے میں بھی کچھ لوگ اس قسم کی فکر رکھتے تھے اور ائمہ اس کی تصدیق فرماتے تھے مثلا امام باقر علیہ السلام کی بارگاہ میں ایک شخص نے ا کے کہا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب مہدی قیام کریں گے تو سارے امور خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے کوئی خون نہیں گرے گا اللہ جو ہے وہ ایک رات میں ہی سارے کام ٹھیک کر دیا تو مولا نے فرمایا ہرگز نہیں خدا کی قسم اگر کسی کے لیے کام خود بخود ٹھیک ہونا درست ہوتا تو یہ کام پھر پیغمبر گرامی ہے اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ہوتے پھر خدا ان کے لیے ٹھیک کرتا حالانکہ اپ کے دندان مبارک شہید ہوئے اپ کے چہرے مبارک پر زخم ائے لہذا ہرگز ایسا نہیں ہے کہ امور خود بخود ٹھیک ہو جائیں خدا کی قسم یہ ٹھیک نہیں ہوں گے جب تک ہم اور اپ خون اور پسینہ میں غرق نہ ہو جائیں اس کے بعد پھر اپ نے مولا نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تو واضح ہوا کہ زحمتیں قربانیاں بہت کچھ دینا پڑے گا ابھی سے دینا پڑے گا ابھی سے تیاری یہی ہے ابھی ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں زحمتیں کریں گے کل بڑے بڑے مسائل میں مولا کی ہمراہی کے قابل ہوں یہ انقلاب ایسے نہیں انا اس میں بے پناہ خون جو ہے وہ دیا جائے گا ۔
جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اپنی حکومت بپا کی مدینہ میں اور جو اہستہ اہستہ پورے حجاز تک پھیل گئی کتنا خون دیا کتنے اصحاب کی جانیں گی۔ بس انتظار فقط یہ نہیں ہے کہ ایک ذہنی مفہوم ہو اس کا کوئی اثر نہ ہو معاشرے میں اور ہم اپنی زندگی میں مست رہیں گم رہیں اور ذہنی مفہوم رکھیں کہ
بس ہم منتظر ہیں نہیں عمل ہے عمل سرگرمیوں کا نام ہے ایک جدوجہد ہے جس کے اثار ہیں معاشرے میں مثبت برکتیں اور اثار ہیں اس لیے ہم دیکھیں کہ حقیقی معنوں میں جو انتظار کرنے والے ہیں انہیں رسول اللہ کی ہمراہی میں دشمنان اسلام پر تلوار چلانے والوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے بہت بڑا عمل ہے یہ اس میں بہت ساری چیزیں ہیں جب تک وہ ہم انجام نہیں دیں گے اس وقت تک انتظار جو ہے وہ محقق نہیں ہوگا
اللہ تعالی ہم سب کو زمانے کے امام کا سچا منتظر بننے کی توفیق عطا فرمائے
و السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ
*درس 4*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کی ضرورت ، انتظار دراصل ظہور کا پیش خیمہ، مستشرقین اور مغربی دانشوروں کے شیعیت میں انتظار پر تبصرے*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار امام زمانہ شریف ہے اج ہم ضرورت انتظار پر گفتگو کریں گے احادیث اور روایات کی رو سے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے ظہور کا انتظار درحقیقت خود مولا کے قیام کا پیش خیمہ ہے یعنی یہ انتظار ہر صورت میں ضروری ہے اگر یہ نہ ہو تو گویا ہم یا ظہور کو موخر کرنے کا باعث بنیں گے یا اگر ظہور ہوگا تو ہم کوئی کردار ادا نہیں کر پائیں گے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں مومنین کے انتظار کو واجب قرار دیا گیا ہے جیسے مشہور فرمان ہے منتخب العصر میں مولا فرماتے ہیں کہ قائم ہم میں سے اور قائم و مہدی ہے کہ وہ واجب ہے کہ ان کا غیبت میں انتظار کیا جائے اور جب وہ ظہور کریں تو ان کی اطاعت کی جائے بس انتظار ایک واجب فریضہ ہے اور کیوں ضروری ہے کیونکہ یہ ظہور کا مولا کے قیام کا پیش خیمہ ہے در واقع انتظار وہ پیریڈ ہے جس میں ہم نے تیار ہونا ہے منصوبہ بندی کرنی ہے اپنے پروگرام جو ہیں وہ بنانے ہیں کہ کس طرح اپنے مقاصد کو حاصل کریں دنیا کے اندر ہر انقلاب انے سے پہلے ایک زمانہ انتظار ہے اور وہ ضروری ہے اگر وہ نہ ہو اور انقلاب جلدی ا جائے تو وہ انقلاب پھر اپنے اہداف تک نہیں پہنچتا اس سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے مثلا اپ دیکھیں بسا اوقات کوئی کام کوئی تحریک کوئی قیام شروع ہوتا ہے لیکن وہ وہی تحریک شروع کرنے والے وہی قیام شروع کرنے والوں کی اپس کی لڑائیاں اور نفرتوں اور خواہشات نفسانی جو بھی ہے اس کی وجہ سے وہ تحریک جو ہے وہ ختم ہو جاتی ہے وہ تکمیل تک پہنچتی نہیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک کامیاب انقلاب برپا کریں تو اس سے پہلے ایک زمانہ انتظار ہو ہم خود دیکھیں اللہ تعالی نے اخری شریعت کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے پانچ صدیاں لوگوں کو انتظار کروایا حضرت عیسی صلوات اللہ علیہ کے اسماں کی طرف اٹھائے جانے کے بعد سے لے کر رسول اللہ کے انے تک درمیان میں یہ جو کئی صدیوں کا فاصلہ ہے یہ وہی انتظار تھا اخری دن کا اور اخری نبی کا انتظار در واقع اپنے اہداف کو حاصل کرنے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا پروگرام بنانا ہے اس لیے بہت ایک عظیم مرحلہ ہے کسی بھی تحریک کے لیے کسی بھی قیام کے لیے اپ دیکھیں کہ اس وقت زمانہ غیبت میں ہمارے اعمال کا ایک معیار جو ہے وہ انتظار ہے مولا امام زمان کے ظہور میں جیسے یہ حدیث موجود ہے غیبت نعمانی میں کہ امام صادق علیہ السلام سے یہ سوال ہوا کہ اعمال کا جو ہے وہ قبولیت کا معیار کیا ہے تو اپ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اعمال کی قبولیت کا کیا معیار ہے تو اس میں وہ چیزیں جو معیار تھیں ان میں سے ایک انتظار القائم یعنی حتی خود امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں بھی سب کا ایک فریضہ یہ تھا کہ وہ قائم کا انتظار کریں اب تو ہم قائم کے زمانے میں ہیں ان کی غیبت کے زمانے میں ہے تو اب تو یہ فریضہ سب سے زیادہ جلوہ گر ہے تو مولا فرماتے ہیں کہ میرے زمانے کی بھی اگر شیعہ ہیں امام صادق کے زمانے کے ان کے اعمال کی قبولیت کا بھی ملا کر قائم ال محمد کا انتظار ہے تو اب تو ہم خود انہی کے زمانے میں اور یہ انتظار ہی ہے کہ جس کی وجہ سے شیعت جو ہے وہ باقی ہے اور یہ انتظار ہی ہے کہ جس کی وجہ سے شیعہ جو ہے وہ جدوجہد کرتے ہیں اور کریں گے اور یہ حرکت میں ائیں گے اور یہ نا امیدی سے بچے رہتے ہیں اگر اپ اسلام پر جن لوگوں نے قلم اٹھایا ہے یہی مستشرقین اگر ان کی تحریروں کو پڑھیں تو وہ تشیع کو بطور خاص توجہ دیتے ہیں مثلا فرانس کا ایک معروف اسلام شناس کاربن جو ہے وہ لکھتے ہیں کہ دور حاضر میں غیبت کے مفہوم اور غیبت کی حقیقت پر گہرا مطالعہ نہیں کیا گیا میرے نزدیک اس حقیقت کا معنی یہ ہے کہ یہ حقائق کے معنی کا ایک غیر محدود ابدی سر چشمہ ہے اسلام کی معنوی حیات اور اس کے دوام کا تصور صرف شیعہ تشریح سے ہی ممکن ہے اور اس سے اسلامی معاشروں میں انے والے ہر قسم کے تغیر کا حل ممکن ہے امام زمان وہ باکمال مفہوم ہے کہ جو غیبت کے مفہوم کو پایا تکمیل تک پہنچاتا ہے لیکن یہ مفہوم بطور کامل ہے امام غائب کی شخصیت سے متعلق ہے میں مگر بھی فکر کو اپناتے ہوئے امام غائب کے مفہوم کو ایک نیا اور جدید مفہوم محسوس کرتا اور مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرے دل میں یہ الہام ہو رہا ہے کہ انسان کی معنوی حیات کا اس سے تعلق اسی طرح فرانس کا ایک اور اور مشہور مستشرک جیم سٹار جیمی سٹار یمسٹر وہ جو ہیں لکھتے ہیں کہ بغداد کے نزدیک الا شہر جو ہے وہ واقع ہے اور جہاں ہر روز نماز عصر کے بعد 100 افراد اپنی تلواریں جو ہیں وہ نیام سے نکال کر گھوڑوں پر سوار ہو کر جاتے تھے اور شہر کے حاکم سے ایک سجا ہوا گھوڑا لاتے تھے اور بلند اواز سے کہتے تھے کہ اے صاحب زمان اپ کو خدا کا واسطہ ہے اب اپ ائیں یعنی اپنی تیاری کا اعلان کرتے ہیں یہ تحریر یہ ہماری تاریخ میں ہے کہ یہ ہوتا تھا اس زمانے میں یعنی کئی صدیاں پہلے تو یہ تاریخ کا وہ واقعہ لکھنے کے بعد جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ ملت جسے ایسے جذبات کے ساتھ پرورش دی گئی ہو اسے قتل تو کیا جا سکتا ہے لیکن اپنا فرمانبردار نہیں بنایا جا سکتا اسی طرح جرمن کے ایک محقق بھی وہ لکھتے ہیں کہ اسلام کے اندر شیعت کی کامیابی اور امید کا ایسا سبب جو سماجی مسائل کا اہم رکن ہے وہ اس مکتب کا امام عصر کے وجود پر عقیدہ اور ان کے ظہور کا انتظار ہے
:- روس کا ایک تاریخ دان جو وہ ایران پر تحقیق کرتے ہیں اور تشیعوں پر اور لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو مہدی کے منتظر ہیں جنہوں نے تیرویں صدی میں ایران کے مختلف تحریکوں کو اٹھایا وہ عظیم مرتبہ کے مالک ہیں لیکن چودویں اور پندرہویں صدی عیسوی میں یہ عقیدہ بہت ہی راستہ خور واضح نظر انا شروع ہوا
تو خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو جملے ہم مختلف مغربی دانشوروں کے یا مستشرکین کے جو لارے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا جو عقیدہ انتظار ہے اس کو دوسری دنیا کے ماہرین نے بھی درک کیا اور اس انتظار کو اہمیت دی چونکہ یہ عقیدہ انتظار اور یہ خود ہمارا عمل انتظار ہے یہ اصل میں تبدیلیوں کا اغاز ہے ہم اگر ظہور چاہتے ہیں یعنی مولا کے ظہور کے لیے ہم اگر کوشش کرنا چاہتے ہیں اور اس ظہور سے پوری دنیا کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انتظار خود ایک پیریڈ ہے جس میں ہم نے خود تبدیل ہونا ہے اپنے اہداف بنانے ہیں اپنا پروگرام تیار کرنا ہے کس طرح کام شروع کرنا ہے وہ تمام کو چاہت حدیث میں بیان ہے اس کے مطابق ہم نے اپنا اپنی حرکت وہ قدم جو ہے وہ اٹھانے ہیں
تو انتظار تربیت گاہ ہے
انتظار جو ہے وہ پیش خیمہ ہے
ایک بہت بڑے قیام کا لہذا اس کو توجہ سے جو ہے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور عملی زندگی جو ہے اس کے مطابق گزارنے کی ضرورت ہے اللہ تعالی ہم سب کو یہ توفیق دے
و السلام علیکم ورحمۃاللہ
5
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: دشمنوں کا شیعہ انتظار سے خوف، عقیدہ مہدویت کے خلاف سازشیں ، انتظار کے پہلو ، فکری تیاری*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_✨خلاصہ:_
موضوع سخن انتظار کی بحث ہے اور ہم نے عرض کیا کہ تشیع کے اندر انتظار اتنا واضح ہے کہ دیگر مکاتب فکر کے دانشور حضرات نے بھی اس چیز کو بیان کیا اپنی کتابوں میں اس حد تک کہ دشمنوں نے بھی اس موضوع پر تبصرہ کیا کافی عرصہ پہلے اسرائیل کے اندر طلبی میں ایک کانفرنس ہوئی تھی اسلام اور تشیع کے خلاف اور اس میں شیعت کی استقامت یعنی کہ شیعہ کیوں پائیدار ہیں؟ اور کیوں مستحکم باقی ہیں؟
←⭕ اس کی وجہ دو چیزیں بیان ہوئی ہیں:
١- ایک شیعت کے اندر سرخ نظریہ
اور
٢- ایک سبز نظریہ ہے
←🟣 سرخ نظریہ یعنی نگاہ عاشورہ ہے کہ مولا امام حسین علیہ السلام کی عزاداری یہ وہ سرخ نگاہ ہے تشیع کی۔
←🌸سبز یعنی امام مہدی عج کا ظہور کہ جس سے پوری دنیا میں بہاروں کی رنگینی پیدا ہوگی تو اس کانفرنس میں جو بڑے بڑے اسلام دشمن ہیں شخصیات تھی ان سب نے جو ہے یہ کہا اس کے اندر مشرفوں کو کلر جو ہے یہ یہودی اور اس طرح دیگر جو ہے جیسے بنناٹ لے اس مئی کر لی اسی طرح مارٹن کرام اور بہت سارے لوگ انہوں نے کہا کہ یہ شیعہ جو ہیں یہ امام حسین علیہ السلام کے نام پر قیام کرتے ہیں اور امام زمانہ کے نام پر اس قیام کو تحفظ دیتے ہیں جتنے بھی ہمارے دشمن ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا رہنما غائب ہے لیکن اس کے باوجود شیعہ جو ہے اس رہنما سے وابستہ ہیں اس کے نائبین سے اپنی رہنمائی لے رہے ہیں اب یہاں کئی کام کیا دشمنوں نے ایک تو جھوٹے مہدی بنائے گئے اور امام مہدی عج کے چہرے کو مسخ کرنے کی ان جھوٹے مہدیوں کے ذریعے جس کی مثال آپ جو ہے وہ برصغیر کے اندر مرزائی لوگ ہیں فرقہ قادیانی اور ایران میں جو ہے بابی فرقہ جو ہے یہ بہائی اس طرح کچھ ایسے لوگ سامنے لائے گئے جنہوں نے مہدویت پر حملے کیے اور اس کو افسانہ کرا دیا ہے جیسے آپ *احمد القاطب* ہے یا جیسا کہ بارش تھی جس نے پورے اسلام کو افسانہ قرار دیا یہ احمد کا سروی ہے یا پاکستان کے اندر شرف الدین ہیں اور بھی بہت سارے لوگ ہیں یہ جو غلط پروپگنڈا ہے اس کا ایک ہی ہدف ہے اور وہ یہ ہے کہ مہدویت کے حوالے سے لوگوں کے جو عقائد ہیں وہ کمزور کیے جائیں اور لوگوں کو منحرف کیا جائے *1982ء* کے اندر باقاعدہ ایک فلم بنائی گئی اور یہ فلم جو ہے سیریل اس کا خلاصہ ہے اس فلم کے اندر جو ہے *ٹومارو* کے عنوان سے یہ فلم جو ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کے اندر اس نے جتنی پیشین گوئیاں کی تھیں وہ ساری جو ہیں یہ اکثر درست ثابت ہیں اور اس کی کچھ پیشین گوئیاں بھی باقی ہیں وہ پیغمبرﷺ کا جو نواسہ ہے اس کا مکہ سے ظہور ہے اور اس نے مسلمانوں کو مدد کرنا ہے اور مغربی دنیا پر فتح حاصل کرنی ہے اور بڑے بڑے جو جدید شہر ہیں یورپ امریکہ کے سب کو نست و نابود کرنا یعنی ایک ایسی مناظر کشی کی گئی کہ جس سے لوگوں میں دہشت اور خوف پھیلے یعنی اس اس میں امام مہدیعج کو ایک بے رحم نعوذ باللہ جو ہے وہ دکھایا گیا اور انہوں نے پھر اسلام کے اس منجی موعود کے خلاف لوگوں کے جو ہیں وہ جذبات بھڑکائے اور ایک نفسیاتی ماحول فراہم کیا اور لوگوں کو تیار کیا کہ اس کا مقابلہ کیا جائے اور پھر نائن 9/11 کے جو حملے تھے اس میں بھی اس چیز کو بہت زیادہ جو ہے وہ قوت سے بیان کیا گیا کہ یہ مسلمان ہیں دہشت گرد اور ان کا جو رہنما ہے اس نے بھی یہی کام کرنا ہے تو دشمن جو ہے وہ کئی حیلوں بہانوں سے اور سازشوں سے جو ہے وہ کام کر رہا ہے لیکن ہم یہاں کیا کر رہے ہیں ہمارا اصل کام جو ہے یعنی اصل جو تشیع یا شیعہ ہے اج کے دور میں وہ شیعہ انتظار ہے یعنی ہم منتظر ہوں گے تو شیعہ ہوں گے ورنہ حقیقی معنوں میں ہم شیعہ نہیں ہیں ہر زمانے میں شیعوں کے شیعہ کی ایک پہچان ہے شیعہ علوی شیعہ حسینی شیعہ امام سجاد شیعہ امام باقری ہر شیعہ ایک خاص جو ہے وہ رنگ رکھتا ہے ہم شیعہ مہدی ہیں ہمارا رنگ ہماری منشا ہمارا کردار وہی ہے جو امام زمان عج چاہتے ہیں دیکھیں ہم نے فکری طور پر بھی مضبوط ہونا ہے عملی طور پر بھی مضبوط ہونا ہے اور اخلاقی طور پر بھی سب سے بہتر ہونا ہے منتظر شخص وہ ہے جو پچھلے ١١ ائمہ علیہ السلام کی تعلیمات بھی رکھتا ہے اوربارویں کے لیے تیار ہے۔
سب سے پہلا مرحلہ جو ہے ہمیں یہ چاہیے کہ ہم انتظار کو اس کی تمام جہد کے ساتھ سمجھیں انتظار
←انتظار کے کئی پہلو ہیں:
١- ایک پہلو اس کا فکری ہے یعنی ہم عقیدہ اور فکر میں مضبوط ہوں
٢- پھر روحانی پہلو ہے
اسی طریقے سے جو ہے ہمارا جو ہے وہ دنیاوی امور میں جو نظم ہے وہ بھی ضروری ہے۔
٣- اخلاقیات
اور پھر اس سے آگے بڑھ کر جو ہے وہ ہمارے اخلاقیات ہے اور پھر حرکت ہے مولا کے لیے۔
*⭕فکری پہلو:*
اب ہم اگر فکری طور پر ہم اپنے اپ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اس میں ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنی چاہیے کہ وہ تمام بنیادی تعلیمات جو ہمیں بصیرت عطا کردے ہیں جو شعور میں ہمیں تقامل دیں وہ ہمیں حاصل کرنے چاہیے منتظر شخص جب عملی طور پر تیار ہوگا جب وہ عقلی اور فکری طور پر تیار ہو گا اس لیے کہتے ہیں کہ تفقع پیدا کرو یعنی فقی مسائل میں بصیرت پیدا کرو کہ حراف فہم و ادراک ہو جیسے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ *ہر چیز کی ایک بنیاد ہے اور دین اسلام کی بنیاد گہری فہم ہے گہرائی ادراک ہے* شیطان کے مقابلے میں ایک ایسا فقہی جو گہری فہم رکھتا ہے اس کی حیثیت ہے اور عبادت گزاروں سے زیادہ بہتر ہے کہ جن کے اندر معرفت نہیں ہے بصیرت نہیں ہے فقط عبادت ہمارے ارد گرد بے پناہ نظریات ہیں کون سا نظریہ حق ہے اور کیوں حق ہے اس کو جاننا جو ہے وہ اوپر ضروری ہے قران مجید دیکھیں کیا کہتا ہے صرف سننا نہیں ہے غور سے سننے اور پھر جو سب سے بہتر ہے اس کی پیروی کرنی چاہیے ہمیں اپنی معلومات کے لیے کوئی اصول اور ضابطہ رکھنا چاہیے کس طرح کی معلومات لینی ہے کس طرح کی نہیں کون سی معلومات جو ہیں وہ حیات دینے والی ہیں کمال دینے والے ہیں کچھ ایسی معلومات بھی ہیں جو ذہنوں کو مسنون اور مشکوک کرنے والی ہیں جو پستی کی طرف لے جانے والی ہر چیز کو ہم نے اپنے ذہن اور فکر میں نہیں ڈالنا اس لیے سب سے اہم چیز جو ہے وہ دینی معلومات کو بڑھانا ہے اور پھر ان میں غور و فکر کرنا ہے یہ ہمارا سب سے اہم ترین جو ہے وہ فریضہ ہے۔
پروردگار جو ہے ہمیں توفیق دے کہ ہم فکری طور پر جو ہے وہ استقامت پیدا کرے اور مولا کے فکری طور پر مضبوط منتظر قرار پائے ہیں۔
والسلام
التماس دعا
*درس 5*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: دشمنوں کا شیعہ انتظار سے خوف، عقیدہ مہدویت کے خلاف سازشیں ، انتظار کے پہلو ، فکری تیاری*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار کی بحث ہے اور ہم نے عرض کیا کہ تشیو کے اندر انتظار اتنا واضح ہے کہ دیگر مکاتب فکر کے دانشور حضرات نے بھی اس چیز کو بیان کیا اپنی کتابوں میں حد تک کہ دشمنوں نے بھی اس موضوع پر تبصرہ کیا کافی عرصہ پہلے اسرائیل کے اندر طلبی میں ایک کانفرنس ہوئی تھی اسلام اور تشیع کے خلاف اور اس میں شیعت کی استقامت جو ہے کہ شیعہ کیوں پائیدار ہیں اور کیوں مستحکم باقی ہیں اس کی وجہ دو چیزیں بیان ہوئی ہیں
ایک شیعت کے اندر سرخ نظریہ اور
ایک سبز نظریہ ہے
سرخ نظریہ یعنی نگاہ عاشورہ ہے کہ مولا امام حسین صلواۃ اللہ علیہ کی عزاداری یہ وہ سرخ نگاہ ہے تشیع کی اور
سبز یعنی امام مہدی علیہ السلام کا ظہور کہ جس سے پوری دنیا میں بہاروں کی رنگینی پیدا ہوگی تو اس کانفرنس میں جو بڑے بڑے اسلام دشمن ہیں شخصیات تھی ان سب نے جو ہے یہ کہا اس کے اندر مش مشرفوں کو کلر جو ہے یہ یہودی اور اس طرح دیگر جو ہے جیسے بنناٹ لے اس مئی کر لی اسی طرح مارٹن کرام اور بہت سارے لوگ انہوں نے کہا کہ یہ شیعہ جو ہیں یہ امام حسین علیہ السلام کے نام پر قیام کرتے ہیں اور امام زمانہ کے نام پر اس قیام کو تحفظ دیتے ہیں جتنے بھی ہمارے دشمن ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا رہنما غائب ہے لیکن اس کے باوجود شیعہ جو ہے اس رہنما سے وابستہ ہیں اس کے نائبین سے اپنی رہنمائی لے رہے ہیں اب یہاں کئی کام کیا دشمنوں نے ایک تو جھوٹے مہدی بنائے گئے اور امام مہدی صلوۃ اللہ علیہ کے چہرے کو مسح کرنے کی ان جھوٹے مہدیوں کے ذریعے جس کی مثال اپ جو ہے وہ برصغیر کے اندر مرزائی لوگ ہیں فرقہ قادیانی اور ایران میں جو ہے بابی فرقہ جو ہے یہ بہائی اس طرح کچھ ایسے لوگ سامنے لائے گئے جنہوں نے مہدیت پر حملے کی اور اس کو افسانہ کرا دیا ہے جیسے اپ احمد القاطب ہے یا مثلا بارش تھی جس نے پورے اسلام کو افسانہ قرار دیا یہ احمد کا سروی ہے مثلا یا پاکستان کے اندر شرف الدین مثلا اور بھی بہت سارے لوگ ہیں یہ جو غلط پروپگنڈا ہے اس کا ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے یہ ہے کہ مہدیت کے حوالے سے لوگوں کے جو عقائد ہیں وہ کمزور کیے جائیں اور لوگوں کو منحرف کیا جائے 1982 کے اندر باقاعدہ ایک فلم بنائی گئی اور یہ فلم جو ہے سیریل اس کا خلاصہ ہے اس فلم کے اندر جو ہے ٹومارو کے عنوان سے یہ فلم جو ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کے اندر اس نے جتنی پیشین گوئیاں کی تھیں وہ ساری جو ہیں یہ اکثر درست ثابت ہیں اور اس کی کچھ پیشین گوئیاں بھی باقی ہیں وہ پیغمبر اسلام کا جو نواسہ ہے اس کا مکہ سے ظہور ہے اور اس نے مسلمانوں کو مدد کرنا ہے اور مغربی دنیا پر فتح حاصل کرنی ہے اور بڑے بڑے جو جدید شہر ہیں یورپ امریکہ کے سب کو نست و نابود کرنا یعنی ایک ایسی مناظر کشی کی گئی کہ جس سے لوگوں میں دہشت اور خوف پھیلے یعنی اس اس میں امام مہدی کو ایک بے رحم نعوذ باللہ جو ہے وہ دکھایا گیا اور انہوں نے پھر اسلام کے اس منجی موعود کے خلاف لوگوں کے جو ہیں وہ جذبات بھڑکائے اور ایک نفسیاتی ماحول فراہم کیا اور لوگوں کو تیار کیا کہ اس کا مقابلہ کیا جائے اور پھر نائن 9/11 کے جو حملے تھے اس میں بھی اس چیز کو بہت زیادہ جو ہے وہ قوت سے بیان کیا گیا کہ یہ مسلمان ہیں دہشت گرد اور ان کا جو رہنما ہے اس نے بھی یہی کام کرنا ہے تو دشمن جو ہے وہ کئی حیلوں بہانوں سے اور سازشوں سے جو ہے وہ کام کر رہا ہے لیکن ہم یہاں کیا کر رہے ہیں ہمارا اصل کام جو ہے یعنی اصل جو تشیع یا شیعہ ہے اج کے دور میں وہ شیعہ انتظار ہے یعنی ہم منتظر ہوں گے تو شیعہ ہوں گے ورنہ حقیقی معنوں میں ہم شیعہ نہیں ہیں ہر زمانے میں شیعوں کے شیعہ کی ایک پہچان ہے شیعہ علوی شیعہ حسینی شیعہ امام سجاد شیعہ امام باقری ہر شیعہ ایک خاص جو ہے وہ رنگ رکھتا ہے ہم شیعہ مہدی ہیں ہمارا رنگ ہماری منشا ہمارا کردار وہی ہے جو امام زمان صلوات اللہ علیہ چاہتے ہیں دیکھیں ہم نے فکری طور پر بھی مضبوط ہونا ہے عملی طور پر بھی مضبوط ہونا ہے اور اخلاقی طور پر بھی سب سے بہتر ہونا ہے منتظر شخص وہ ہے جو پچھلے 11 ائمہ کی تعلیمات بھی رکھتا ہے اوربارویں کے لیے تیار ہے۔
سب سے پہلا مرحلہ جو ہے ہمیں یہ چاہیے کہ ہم انتظار کو اس کی تمام جہد کے ساتھ سمجھیں انتظار
انتظار کے کئی پہلو ہیں ایک پہلو اس کا فکری ہے یعنی ہم عقیدہ اور فکر میں مضبوط ہوں
پھر روحانی پہلو ہے
اسی طریقے سے جو ہے ہمارا جو ہے وہ دنیاوی امور میں جو نظم ہے وہ بھی ضروری ہے
اور پھر اس سے اگے بڑھ کر جو ہے وہ ہمارے اخلاقیات ہے اور پھر حرکت ہے مولا کے لیے اب ہم اگر فکری طور پر ہم اپنے اپ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اس میں ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنی چاہیے کہ وہ تمام بنیادی تعلیمات جو ہمیں بصیرت عطا کردے ہیں جو شعور میں ہمیں تقامل دیں وہ ہمیں حاصل کرنے چاہیے منتظر شخص جب عملی طور پر تیار ہوگا جب وہ عقلی اور فکری طور پر تیار ہو گا اس لیے کہتے ہیں کہ تفقع پیدا کرو یعنی فقی مسائل میں بصیرت پیدا کرو کہ حراف فہم و ادراک ہو جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہر چیز کی ایک بنیاد ہے اور دین اسلام کی بنیاد گہری فہم ہے گہرائی ادراک ہے شیطان کے مقابلے میں ایک ایسا فقی جو گہری فہم رکھتا ہے اس کی حیثیت ہے اور عبادت گزاروں سے زیادہ بہتر ہے کہ جن کے اندر معرفت نہیں ہے بصیرت نہیں ہے فقط عبادت ہمارے ارد گرد بے پناہ نظریات ہیں کون سا نظریہ حق ہے اور کیوں حق ہے اس کو جاننا جو ہے وہ اوپر ضروری ہے قران مجید دیکھیں کیا کہتا ہے صرف سننا نہیں ہے غور سے سننے اور پھر جو سب سے بہتر ہے اس کی پیروی کرنی چاہیے ہمیں اپنی معلومات کے لیے کوئی اصول اور ضابطہ رکھنا چاہیے کس طرح کی معلومات لینی ہے کس طرح کی نہیں کون سی معلومات جو ہیں وہ حیات دینے والی ہیں کمال دینے والے ہیں کچھ ایسی معلومات بھی ہیں جو ذہنوں کو مسنون اور مشکوک کرنے والی ہیں جو پستی کی طرف لے جانے والی ہر چیز کو ہم نے اپنے ذہن اور فکر میں نہیں ڈالنا اس لیے سب سے اہم چیز جو ہے وہ دینی معلومات کو بڑھانا ہے اور پھر ان میں غور و فکر کرنا ہے یہ ہمارا سب سے اہم ترین جو ہے وہ فریضہ ہے۔
پروردگار جو ہے ہمیں توفیق دے کہ ہم فکری طور پر جو ہے وہ استقامت پیدا کرے اور مولا کے فکری طور پر مضبوط منتظر قرار پائے ہیں۔
و السلام علیکم ورحمۃ اللہ
*درس 5*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کا روحانی پہلو، روحانی پہلو میں مضبوط کیسے ہو ، خود اعتمادی ، ذکر ، راستے کی مکمل شناخت ، تقوی ،خدا سے گہرا تعلق، تمرین*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_خلاصہ:🌸_
موضوع گفتگو انتظار کے پہلو ہیں ہم نے عرض کیا تھا امام زمانہ عج کا انتظار ہماری زندگی کی کئی جہاد کو شامل ہے ہم فکری طور پر بھی مولا کا انتظار کریں اپنی فکری استعداد اور صلاحیتوں کو بڑھایا ہے اس حوالے سے اپنا مطالعہ جو ہے مولا عج کے حوالے سے وہ زیادہ کریں اور اس میں جو سمجھنے والی باتیں ہیں سمجھیں اور جہاں شبہات ہیں اعتراضات ہیں ان کو ماہرین کے ساتھ مل کر حل کریں تاکہ ہم مولا کے حوالے سے فکری مدافع اور فکری جو ناصر ہیں وہی قرار پائیں ۔
*🟣روحانی پہلو:*
ایک اہم پہلو جو ہے مولا عج کے انتظار کا وہ روحانی پہلو ہے
روحانی طور پر ہمیں بہت زیادہ مضبوط ہونا پڑے گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ مولا کے زمانہ غیبت میں ناصر بنے زمانہ غیبت کے اندر ایک منتظر پر دو مشکل وقت ہیں
← ایک جب شیطان اور نفس امارہ جو ہے اس پر حملہ اور ہوتا ہے اور اسے راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اس وقت وہ کمزور نہیں پڑنا چاہیے اور اسے چاہیے کہ وہ پروردگار سے جو ہے دعاؤں کے ذریعے جیسے دعائے معرفت کی بہت زیادہ تاکید ہے زمانہ ہے غیبت کے اندر مولا امام رضا علیہ السلام کے پاس جب بھی کوئی زائر آتا تھا تو مولا اسے دعائے غیبت یعنی یہی دعائے معرفت کی تلقین کرتے تھے تو گناہ کا جو ٹائم ہے یہاں ہماری روحانیت کا پتہ چلے گا اور اسی طرح جب مشکلات آتی ہیں زندگی میں پیسے کم ہو گئے ہیں کوئی مرگ ہو گئی ہے یا کوئی اور بہت بڑی ٹینشن جو ہے بیماری آ گئی ہے اس وقت ہمیں اپنی روحانیت کا پتہ چلے گا کہ ہم کہاں ہیں تو یہ دونوں اعتبار سے روحانی پہلو کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جو ہیں وہ بالآخر تو علماء کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق جو ہے جیسا کہ محمد و آل محمدﷺ کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے ہم اس اعتبار سے جو ہے وہ قدم بڑھائیں اور اپنے آپ کو گناہوں سے بھی بچائیں اور جو ہے وہ دعائیں قرآن آپنی عبادات ان کے ذریعے جو ہے وہ پروردگار کی بارگاہ سے جو ہے وہ منسلک رہے ہیں یہ جو دعائے معرفت کی میں نے بات کی ہے یہ اسی اعتبار سے کہ بہت زیادہ تاکید ہے زمانہ غیبت میں دعائے معرفت کی کہ یہ انسان کو روحانی اعتبار سے مستحکم کرتی ہے جو کہ اس میں انسان اللہ سے تین معرفتیں مانگتا ہے ١- خدا کی معرفت
٢- رسولﷺکی
٣- وقت کے امام کی جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرئے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے یہ جو آفاق ہے کائنات کے اندر جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں اآفاقی تمام چیزوں پر غور فکر کریں ان کا خالق کون ہے؟ ان کا رب کون ہے؟ ان کو چلا کون رہا ہے؟ محبت جو ہے وہ خدا سے خدا کی نعمت کو یاد کرئے اور اس کا شکر ہے اور اسی طرح اللہ کی یاد جو ہے وہ رکھے شب و روز جو ہے خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے ←سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ:
آپ رات کو بھی اٹھا کریں کچھ رات کا حصہ جو ہے قیام میں قعود میں یعنی نماز عبادت اور قران کی جو تلاوت ہے اس میں صرف کریں اس لیے ہمارے نبی کریمﷺ اپنی رات کا ایک حصہ جو ہے یعنی تین حصے کرتے تھے ایک حصہ اپ نے فیملی کو دیتے تھے ایک حصہ سنتے تھے اور ایک حصہ اللہ کی یاد میں رہتے تھے منتظر جو ہے وہ ایسا ہے چونکہ اس کا زمانے کا امام بھی ایسا ہے اور اس کے اندر جو اگلا اخری نقطہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں ایک دفعہ نہ کرئے بار بار کرئے یعنی یہ سارے نکات جو بیان کیے ہیں یہ بار بار کرئے کہ اس کے وجود کا حصہ ہو جائے اس کی ذات کا حصہ ہو جائے یہ نہیں ہے کہ چار دن کی اور اس کے بعد پھر بھول گیا اور پھر وہی پرانی زندگی عام طور پر لوگوں میں ہوتا ہے ایسے ہی ایک جذبہ حالت آتی ہے چند دن پھر دوبارہ وہی پرانی ڈگر جو ہے وہ چل پڑتی ہے نہیں یہ شیطان جو ہے تین چار دن کے بعد اس کو اس راہ سے ہٹا لیتا ہے یہاں بار بار یہی کام کرئے ہر دن کے لیے ہر دن کو اپنے لیے نیا دن سمجھیں اور نئے جذبے سے جو ہے وہ کام کو شروع کرئے اتنا کرئے کہ یہ اس کی ذات کا حصہ بن جائے پھر وہ اس طرح مان جائے جیسے قرآن مجید میں ہے کہ کلمہ طیبہ کی جو مثال ہے وہ شجر طیبہ کی مانند ہے کہ جس کی اصل ثابت اس کی جو جڑ ہے وہ محکم اور مستحکم کھڑی ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں انسان کی شخصیت اس طرح سوار ہو کہ اآسمانی مخلوقات کو نظر ائے اپنے استحکام سے یا جیسے قرآن مجید اہل ایمان کو کہتے ہیں کہ یہ بالقول ثابت یہ اپنے تمام خور میں جو ہے وہ مستحکم ہے چونکہ انہوں نے یہ ہر بار کرتے ہیں یہ ہمیشہ اس کو انجام دے رہے ہیں یعنی اس حالت یہ حالت ان کے اندر دوام استمرار یعنی ہمیشگی والی حالت ہے چند دن کی اور چھوڑ دیا یہ نہ ہو یہ ساری چیزوں کی طرف اگر ہماری توجہ ہوگی تو ہمارے اندر وہ منتظر کا جو روحانی پہلو ہے وہ قوی ہو جائے گا اور الحمدللہ یہ چیز ہونی چاہیے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر ہم اوائل میں ہی یعنی شروع کی راہوں میں ہی ہم شکست کھا جائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ہم جیسے فکری طور پر مضبوط ہو رہے ہیں
خدا جو ہے جو شخص بھی اللہ کے لیے تقوی اختیار کرتا ہے خدا اس کے لیے مخرج یعنی اس سخت اور دشوار حالات سے یا شیطان کے پھندے سے نکلنے کی راہ کرا دیتا ہے بالآخر وہ ترقی اور کمال کی راہوں میں آجاتا ہے اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو آفاق ہیں کائنات کے اندر جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو آفاق ہیں کائنات کے اندر یہ جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں آفاقی نشانیاں ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرئے۔
والسلام
التماس دعا
درس 6
ہم فکری طور پر بھی مولا کا انتظار کریں اپنی معلومات کو بڑھائیں
ایک روحانی پہلو ہے
زمانہ غیبت میں منتظر کے لیے 2 مشکلات ہیں
ایک موقع جب شیطان اس کو راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس وقت اس کو کمزور نہیں ہونا چاہیے اور دعا مانگنی چاہیے ۔
مشکلات کے وقت روحانیت کا معلوم ہوتا ہے۔ اور گناہ سے بچنے ۔
دعائے معرفت پڑھیں اس میں بہت سارے روحانی پہلو ہیں۔
موضوع مہدویت کو پڑھیں تاکہ اعتماد پیدا ہو ثواب کو پڑھ کر۔
انسان اپنی عبادت سے وابسطہ رہیں اور امام زمانہ سے متعلق دعاؤں کو پڑھیں جو اس کو ہمت دے گی اور روحانیت کو مضبوط کرے گی۔
تقوی کی رعایت کرے حلال و حرام کا خیال رکھیں۔
خدا کی نشانیوں پر غور کرے اور اس کا شکر کرے۔
*درس 6*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کا نظم رکھنا، کھانے پینے ، سونے ،ورزش ، عبادات ، مطالعہ ہر چیز میں منظم، کونسا عمل افضل، منتظر کے اعمال کی خصوصیات*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_🌸خلاصہ:_
گفتگو کا موضوع انتظار ہے اور انتظار کے اندر ہم نے عرض کیا تھا کہ مختلف پہلو ہیں جیسے ایک فکری پہلو ہے اسی طرح روحانی پہلو ہے اور ایک چیز جو انتظار میں مورد توجہ ہونی چاہیے وہ خود شخص منتظر کا نظم ہے منتظر منظم زندگی گزارنے والا ہے شخص ہے کیونکہ اس کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور وہ ذمہ داری ظہور کی تیاری ہے اور ظہور کی تیاری کے لیے اس کی زندگی کے تمام پروگرام راہ و روش اہداف اس ساری چیزیں دقیق ہوں اور پھر مسلسل کوشش اور تلاش بھی ہو ہر چیز کے لیے یہ جو ہے ایک منظم پروگرام رکھے مثال دے رہا ہوں اگر کھانا پینا ہے تو اس کے لیے بھی ایک منظم پروگرام ہو اس کے پاس کہ کھانے پینے میں اپنی صحت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اپنے لیے کھانے کا بہترین چاٹ جو ہے وہ بنائے کہ جس سے بیماریاں نہ ہوں یا کم ہوں اور صحت کے اندر جو ہے وہ بہتری محسوس کرے ہمارے ائمہ علیہم السلام نے کھانے کے حوالے سے بہترین اصول بیان کیے ہیں کہ صبح کس طرح کھایا جائے دوپہر کو کتنا کھانا ہے اور شام کو کتنا کب ذرا مناسب کھانا ہے اور کب بالکل کم کھانا ہے اور کس ٹائم کیا کھانا ہے اور کس ٹائم کیا نہیں کھانا اگر ہم کھانے کے اصولوں کو بالکل مد نظر رکھیں اور ایک نظم پیدا کریں تو حد عقل جو چیز ہے وہ بیماریوں سے دور ہو جائیں گے
←••جیسے امیر المومنین علی علیہ السلام نے کھانے کے حوالے سے مطلقاً نہیں ایک اصول یہ بھی بیان کیا تھا کہ کھانا کھاتے وقت بھوک ابھی ہو تو کھانا چھوڑ دے یعنی کبھی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائیں بہت سارے لوگ یہ بتاتے ہیں کہ جنہوں نے اس اصول پر عمل کیا کہ وہ ہر بیماری سے بچے ہوتے ہیں کھانے کی تو ایک مثال ہے۔
←••مثلًا سونا ہے تو سونے کے لیے بھی ہمارے پاس جو ہے ایک ایک منتظر کے پاس ایک منظم جو ہے وہ پروگرام ہو کتنا سونا ہے اور کیسے سونا ہے کب نہیں سونا کب سونا رات کو پانچ یا چھ گھنٹے سونا ہے تو کچھ حصہ عبادت بھی ہو کچھ حصہ جو ہے وہ اگر شادی شدہ ہے تو اپنے دوسرے ہم سر بالآخر شوہر ہے شوہر ہے تو بیوی کو ٹائم دے بیوی ہے تو شوہر کو کم نہیں سونا مثال کے طور پر روایات میں ہے کہ دو طلوع کے درمیان نہیں سونا مثلًا سحری اور سورج کے طلوع ہوتے وقت آپ کی خدمت میں عرض کریں فجر جب ہوتی ہے اور سورج جب قدر طلوع ہے یہ دودھ طلوع کے درمیان جو ہے وہ سحری کے وقت جاگنا جو ہے وہ اس کے بہت اچھے آثار ہیں لیکن یہ جو ہے فجر اور طلوع شمس یعنی سورج کے طلوع ہونے اور فجر کے درمیان جو نماز کا ہم وقت بھی ہے اس میں قرآن حدیث متعلق کوئی بھی چیز یا ورزش کوئی بھی چیز لیکن نہ سوئے کہتے ہیں کہ بدترین سونے میں سے ایک یہ سونا روایات میں جو شخص ہوتا ہے وہ بہت ساری چیزوں کو کھو بیٹھتا صحت کے اعتبار سے بھی اور اپنے زندگی اور مستقبل کے اعتبار سے بھی کہتے ہیں کہ سارا دن جو ہے پھر قدم پہ ایک سستی یا ایک سی چھائی جاتی ہے ہم تو یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قدیم زمانے میں جو چرواہے تھے وہ اپنے جانوروں کو بھی اس ٹائم نہیں سونے دیتے تھے کیونکہ پھر سارا دن جانور سست رہتا ہے اسی طرح دن کے درمیان وسعت یعنی دن کے وسط میں یہ 20 گھنٹے سونا مستحب ہے جسے ہم کہتے ہیں ہمارے ڈاکٹر بعض کہتے ہیں کہ اس ٹائم سونا گویا رات کے کئی گھنٹے کے سونے کے برابر ہے یا نہیں بدن سے ہر قسم کی جو ہے وہ تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے یہ ساری مثالیں ہیں کہ یعنی ہر چیز میں نظم پیدا کریں سونا ہے کھانا ہے ورزش انسان کی زندگی کا حصہ ہے ورزش ضروری ہونی چاہیے۔
🌸← منتظر جو ہے وہ ہر سپاہی ہے اپنے مولا کا سپاہیوں والی زندگی ہو اس کی منظم عبادت کا اس کا ایک ورنامہ ہو پروگرام ہو عبادت واجبی بھی وہ انجام دے رہا ہے مستحب بھی عبادتیں بھی ہوں اس کے اندر نوافل بھی ہوں اس کے اندر ذکر بھی ہو اس کے اندر قرآن کی تلاوت بھی ہو غور و فکر بھی ہو اللہ کی آیات میں اب دیکھنا وہ جتنا کر سکتا ہے اب ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سارے کام چھوڑ گئے یعنی تھوڑا ہی کریں لیکن کریں ضرور اس کی زندگی کے اندر ہو اسی طرح صاحب مطالعہ ہو مختلف بکس کتابیں مختلف موضوعات ہر وہ چیز کو پڑھے جو مولا کے ظہور کے لیے مفید ہو اس کا جاننا اس کے لیے بطور کلی جو ہے منتظر ہمیشہ بہترین عمل کو انجام دینے والا ہے جب اس کے سامنے دو عمل ہوں تو ان میں سے جو افضل ہے اسے انجام دیتا ہے یہ نہیں دیکھتا کون سا میرے لیے اسان ہے
💫 امیر المومنین علی علیہ السلان اپنے ایک بھائی کی تعریف کر رہے تھے تو کہہ رہے تھے کہ میرا بھائی جو ہے جب اس کے سامنے دو عمل ہوتے تھے تو جو اس کی خواہشات کے قریب ہوتا تو اسے چھوڑ دیتا تھا دوسرے کو بجا لاتا تھا وہ اگرچہ دوسرا مشکل ہوتا تھا لیکن سب سے زیادہ طاقت اس سے زیادہ تھا اور اعلٰی ترین اقدار تک اسے لے جاتا تھا ←روایات میں بھی ہے کہ سب سے افضل جو عمل ہے وہ سب سے مشکل ہے منتظر جو ہے وہ جب بھی کوئی کام کرتا ہے وہ ماحول کو نہیں دیکھتا کہ لوگ کیا کہیں گے وہ جنت اور جہنم کو دیکھتا ہے کہ میرا یہ عمل مجھے جنت کی طرف لے جا رہا ہے یا جہنم کی طرف کیونکہ انسان کی ہر حرکت یا جنت کی ضرور جاتی ہے یا جہنم کی منتظر جو شخص ہے وہ اپنے عمل کے جمع مقدار کیفیت اس کو نہیں دیکھتا کہ میرا عمل جو ہے وہ حجم کے اعتبار سے کتنا ہے میں نے بڑا کام کیا ہے یہ ایک ایسا کیا ہے بلکہ وہ اپنی توانائی اور استداء کو دیکھتا ہے کہ میرے اندر اللہ نے اتنی طاقت پیدا کی اور میں کتنا کر سکتا ہوں وہ کرتا ہے
←••جیسے قرآن مجید میں ہے کہ _انسان کے لیے نہیں ہے مگر یہ کہ کوشش اور تلاش کریں جتنی وہ کوشش کرے گا اتنا جو ہے وہ اس کا ثمرہ رہے گا_ اسی طرح کا منتظر جو ہے وہ ہمیشہ کے موقع عمل کرتا ہے زمان اور مکان کے اعتبار سے جو ضروری ہے وہ کرتے ہیں ایسے ٹائم عمل نہیں کرتا کہ اب فائدہ ہی نہیں رہا جیسے توابین کے بارے میں آپ دیکھیں توابین نے خون دیا لیکن فائدہ نہیں رہا اگر یہی خون نو محرم کو آپ پہنچ جاتے ہوئے امام حسین السلام علیہ کی خدمت میں اور روز عاشور یا نو محرم کو یہی ہزاروں کا لشکر پہنچ جاتا تو آج اسلام کی تاریخ بدل جاتی ہے لیکن بعد میں وقت گزر چکا تھا توابین یعنی وہ شیعہ کوفہ کے جو موقع پر کربلا نہ پہنچ سکے بعد میں اٹھے لیکن شہید ہو گئے ہزاروں کی تعداد میں فائدہ نہ ہوا اس قیام کا منتظر جو ہے اس کا عمل افراد و تفریح سے پاک ہے یعنی قرآن و سنت کے مطابق ہے نہ بالکل دور ہے قرآن و سنت سے اور نہ یہ ہے کہ سارے کام چھوڑ کے ہم جو ہیں وہ اپنی طرف سے چیزوں کا دین میں اضافہ کر رہے ہیں یہ بھی نہیں ہے بدعتیں بھی نہیں کرنی ہم تو زہر جو ہے وہ ہمیشہ اس کا ایک ہی حدف ہے حق وہ حق کی کبھی مخالف سمت نہیں چلے گا جو کہ اسے پتہ ہے وہاں ہلاکت ہے وہ حق کو مد نظر رکھے گا اور منتظر کبھی بھی مغرور نہیں ہے اپنے عمل پہ بلکہ متواضع ہے قبلہ اپنا محاسبہ خود ہی کریں اس سے پہلے کہ کوئی آپ کا محاسبہ کرئے زندگی میں نظم ہو منظم منتظر ہی نتیجہ دے گا ہمیشہ دقیق اور مزم پروگرام نتیجہ دیتا ہے اور یہی زندگی نتیجہ ہے ہمارے جو بزرگان ہیں ان کی زندگی دیکھیں
💥 *امام خمینی رح* کے حوالے سے دیکھیں انہوں نے ایک ایک مملکت میں انقلاب برپا کیا ان کی زندگی اتنی منظم تھی کہ لوگ اپنے ٹائم ان کے معمولات کو دیکھ کر کرتے تھے انہیں پتہ تھا کہ یہ فلاں کام امام خمینی نے فلاں ٹائم کرنا ہوتا ہے کھانے کا پروگرام منظم عبادت کا منظم متعلق کا منظم ہر چیز کا منظم پروگرام ہوتا تھا ان کا اور اس سے وہ ایک منٹ یا ایک سیکنڈ بھی اگے پیچھے نہیں ہوتے تھے تو ایسی شخصیت جو ہے وہ انقلاب برپا کرتی ہے۔
والسلام
التماس دعا
*درس 6*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کا روحانی پہلو، روحانی پہلو میں مضبوط کیسے ہو ، خود اعتمادی ، ذکر ، راستے کی مکمل شناخت ، تقوی ،خدا سے گہرا تعلق، تمرین*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع گفتگو انتظار کے پہلو ہیں ہم نے عرض کیا تھا امام زماں اجل اللہ تعالی فرجہ شریف کا انتظار ہماری زندگی کی کئی جہاد کو شامل ہے ہم فکری طور پر بھی مولا کا انتظار کریں اپنی فکری استعداد اور صلاحیتوں کو بڑھائے ہیں اس حوالے سے اپنا مطالعہ جو ہے مولا کے حوالے سے وہ زیادہ کریں اور اس میں جو سمجھنے والی باتیں ہیں سمجھیں اور جہاں شبہات ہیں اعتراضات ہیں ان کو ماہرین کے ساتھ مل کر حل کریں تاکہ ہم مولا کے حوالے سے فکری مدافع اور فکری جو ناصر ہیں وہی قرار پائیں ۔
ایک اہم پہلو جو ہے مولا کے انتظار کا وہ روحانی پہلو ہے
۔:-روحانی طور پر ہمیں بہت زیادہ مضبوط ہونا پڑے گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ مولا کے زمانہ غیبت میں ناصر بنے زمانہ غیبت کے اندر ایک منتظر پر دو مشکل وقت ہیں ایک جب شیطان اور نفس امارہ جو ہے اس پر حملہ اور ہوتا ہے اور اسے راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اس وقت وہ کمزور نہیں پڑنا چاہیے اور اسے چاہیے کہ وہ پروردگار سے جو ہے دعاؤں کے ذریعے جیسے دعائے معرفت کی بہت زیادہ تاکید ہے زمانہ ہے غیبت کے اندر مولا امام رضا علیہ السلام کے پاس جب بھی کوئی زائر ایا اتا تھا تو مولا اسے دعائے غیبت یعنی یہی دعائے معرفت کی تلقین کرتے تھے تو گناہ کا جو ٹائم ہے یہاں ہماری روحانیت کا پتہ چلے گا اور اسی طرح جب مشکلات اتی ہیں زندگی میں پیسے کم ہو گئے ہیں کوئی مرک ہو گئی ہے یا کوئی اور بہت بڑی ٹینشن جو ہے بیماری ا گئی ہے اس وقت ہمیں اپنی روحانیت کا پتہ چلے گا کہ ہم کہاں ہیں تو یہ دونوں اعتبار سے روحانی پہلو کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جو ہیں وہ بالاخر تو علماء کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق جو ہے جیسا کہ محمد و ال محمد کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے ہم اس اعتبار سے جو ہے وہ قدم بڑھائیں اور اپنے اپ کو گناہوں سے بھی بچائیں اور جو ہے وہ دعائیں قران اپنی عبادات ان کے ذریعے جو ہے وہ پروردگار کی بارگاہ سے جو ہے وہ منسلک رہے ہیں یہ جو دعائے معرفت کی میں نے بات کی ہے یہ اسی اعتبار سے کہ بہت زیادہ تاکید ہے زمانہ غیبت میں دعائے معرفت کی کہ یہ انسان کو روحانی اعتبار سے مستحکم کرتی ہے جو کہ اس میں انسان اللہ سے تین معرفتیں مانگتا ہے خدا کی معرفت رسول کی اور پھر وقت کے امام کی جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے یہ جو افاق ہے کائنات کے اندر یا انفوسی جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں افاقی انفوسین تمام چیزوں پر غور فکر کریں ان کا خالق کون ہے ان کا رب کون ہے ان کو چلا کون رہا ہے محبت جو ہے وہ خدا سے خدا کی نعمت کو یاد کرے اور اس کا شکر ہے اور اسی طرح اللہ کی یاد جو ہے وہ رکھے شب و روز جو ہے خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو بھی اٹھا کریں کچھ رات کا حصہ جو ہے قیام میں قعود میں یعنی نماز عبادت اور قران کی جو تلاوت ہے اس میں صرف کریں اس لیے ہمارے نبی کریم اپنی رات کا ایک حصہ جو ہے یعنی تین حصے کرتے تھے ایک حصہ اپ نے فیملی کو دیتے تھے ایک حصہ سنتے تھے اور ایک حصہ اللہ کی یاد میں رہتے تھے منتظر جو ہے وہ ایسا ہے چونکہ اس کا زمانے کا امام بھی ایسا ہے اور اس کے اندر جو اگلا اخری نقطہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں ایک دفعہ نہ کرے بار بار کرے یعنی یہ سارے نکات جو بیان کیے ہیں یہ بار بار کرے کہ اس کے وجود کا حصہ ہو جائے اس کی ذات کا حصہ ہو جائے یہ نہیں ہے کہ چار دن کی اور اس کے بعد پھر بھول گیا اور پھر وہی پرانی زندگی عام طور پر لوگوں میں ہوتا ہے ایسے ہی ایک جذبہ حالت اتی ہے چند دن پھر دوبارہ وہی پرانی ڈگر جو ہے وہ چل پڑتی ہے نہیں یہ شیطان جو ہے تین چار دن کے بعد اس کو اس راہ سے ہٹا لیتا ہے یہاں بار بار یہی کام کرے ہر دن کے لیے ہر دن کو اپنے لیے نیا دن سمجھیں اور نئے جذبے سے جو ہے وہ کام کو شروع کرے اتنا کرے کہ یہ اس کی ذات کا حصہ بن جائے پھر وہ اس طرح مان جائے جیسے قران مجید میں ہے کہ کلمہ طیبہ کی جو مثال ہے وہ شجر طیبہ کی مانند ہے کہ جس کی اصل ثابت اس کی جو جڑ ہے وہ محکم اور مستحکم کھڑی ہے اور اس کی شاخیں اسمان میں انسان کی شخصیت اس طرح سوار ہو کہ اسمانی مخلوقات کو نظر ائے اپنے استحکام سے یا جیسے قران مجید اہل ایمان کو کہتے ہیں کہ یہ بالقول ثابت یہ اپنے تمام خور میں جو ہے وہ مستحکم ہے چونکہ انہوں نے یہ ہر بار کرتے ہیں یہ ہمیشہ اس کو انجام دے رہے ہیں یعنی اس حالت یہ حالت ان کے اندر دوام استمرار یعنی ہمیشگی والی حالت ہے چند دن کی اور چھوڑ دیا یہ نہ ہو یہ ساری چیزوں کی طرف اگر ہماری توجہ ہوگی تو ہمارے اندر وہ منتظر کا جو روحانی پہلو ہے وہ قوی ہو جائے گا اور الحمدللہ یہ چیز ہونی چاہیے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر ہم اوائل میں ہی یعنی شروع کی راہوں میں ہی ہم شکست کھا جائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ہم جیسے فکری طور پر مضبوط ہو رہے ہیں
:۔خدا جو ہے جو شخص بھی اللہ کے لیے تقوی اختیار کرتا ہے خدا اس کے لیے مخرج یعنی اس سخت اور دشوار حالات سے یا شیطان کے پھندے سے نکلنے کی راہ کرا دیتا ہے بالاخر وہ ترقی اور کمال کی راہوں میں ا جاتا ہے اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو افاق ہیں کائنات کے اندر یا انفسی جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں افاقی انفوسی ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو افاق ہیں کائنات کے اندر یا انفسی جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں افاقی انفوسی ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو افاق ہیں کائنات کے اندر یا انفسی جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں افاقی انفوسی ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو افاق ہیں کائنات کے اندر یا انفسی جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں افاقی انفوسی ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون ہے اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے خدا نے جو کچھ کائنات میں خلق کیا ہے ہمارے ہی جو افاق ہیں کائنات کے اندر یا انفسی جو نشانیاں میرے اپنے وجود میں افاقی انفوسی ان تمام چیزوں پر اور فکر کریم کا خالق کون ہے ان اسی لیے اگلا نقطہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ اللہ سے اپنا تعلق گہرا کرے اللہ کی یاد رکھے شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو بھی پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو بھی شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو بھی اٹھا شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو بھی اٹھا شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے بالخصوص جیسے سورہ مزمل میں اللہ کریم جو ہے ہمارے پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ اپ رات کو بھی اٹھا شب و روز شیر خدا کی یاد میں رہے کوئی نہ کوئی ذکر کرتا رہے
*درس 7*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کا نظم رکھنا، کھانے پینے ، سونے ،ورزش ، عبادات ، مطالعہ ہر چیز میں منظم، کونسا عمل افضل، منتظر کے اعمال کی خصوصیات*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گفتگو کا موضوع انتظار ہے اور انتظار کے اندر ہم نے عرض کیا تھا کہ مختلف پہلو ہیں جیسے ایک فکری پہلو ہے اسی طرح روحانی پہلو ہے اور ایک چیز جو انتظار میں مورد توجہ ہونی چاہیے وہ خود شخص منتظر کا نظم ہے منتظر منظم زندگی گزارنے والا ہے شخص ہے کیونکہ اس کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور وہ ذمہ داری ظہور کی تیاری ہے اور ظہور کی تیاری کے لیے اس کی زندگی کے تمام پروگرام راہ و روش اہداف اس ساری چیزیں دقیق ہوں اور پھر مسلسل کوشش اور تلاش بھی ہو ہر چیز کے لیے یہ جو ہے ایک منظم پروگرام رکھے مثلا مثال دے رہا ہوں اگر کھانا پینا ہے تو اس کے لیے بھی ایک منظم پروگرام ہو اس کے پاس کہ کھانے پینے میں اپنی صحت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اپنے لیے کھانے کا بہترین چاٹ جو ہے وہ بنائے کہ جس سے بیماریاں نہ ہوں یا کم ہوں اور صحت کے اندر جو ہے وہ بہتری محسوس کرے ہمارے ائمہ علیہم السلام نے کھانے کے حوالے سے بہترین اصول بیان کیے ہیں کہ صبح کس طرح کھایا جائے دوپہر کو کتنا کھانا ہے اور شام کو کتنا کب ذرا مناسب کھانا ہے اور کب بالکل کم کھانا ہے اور کس ٹائم کیا کھانا ہے اور کس ٹائم کیا نہیں کھانا اگر ہم کھانے کے اصولوں کو بالکل مد نظر رکھیں اور ایک نظم پیدا کریں تو حد عقل جو چیز ہے وہ بیماریوں سے دور ہو جائیں گے جیسے امیر المومنین صلواۃ اللہ علیہ نے کھانے کے حوالے سے مطلقا نہیں ایک اصول یہ بھی بیان کیا تھا کہ کھانا کھاتے وقت بھوک ابھی ہو تو کھانا چھوڑ دے یعنی کبھی بھی پیٹ پر کر نہ کھائیں بہت سارے لوگ یہ بتاتے ہیں کہ جنہوں نے اس اصول پر عمل کیا کہ وہ ہر بیماری سے بچے ہوتے ہیں کھانے کی تو ایک مثال ہے مثلا سونا ہے تو سونے کے لیے بھی ہمارے پاس جو ہے ایک ایک منتظر کے پاس ایک منظم جو ہے وہ پروگرام ہو کتنا سونا ہے اور کیسے سونا ہے کب نہیں سونا کب سونا مثلا رات کو پانچ یا چھ گھنٹے سونا ہے تو کچھ حصہ عبادت بھی ہو کچھ حصہ جو ہے وہ اگر شادی شدہ ہے تو اپنے دوسرے ہم سر بالاخر شوہر ہے شوہر ہے تو بیوی کو ڈیم دے بیوی ہے تو شوہر کو کم نہیں سونا مثلا روایات میں ہے کہ دو طلوع کے درمیان نہیں سنا مثلا سحری اور سورج کے طلوعیہ اپ کی خدمت میں عرض کریں فجر جب ہوتی ہے اور سورج جب قدر طلوع ہے یہ دودھ طلوع کے درمیان جو ہے وہ سحری کے وقت جاگنا جو ہے وہ اس کے بہت اچھے اثار ہیں لیکن یہ جو ہے فجر اور طلوع شمس یعنی سورج کے طلوع ہونے اور فجر کے درمیان جو نماز کا ہم وقت بھی ہے اس میں ا قران حدیث متعلق کوئی بھی چیز یا ورزش کوئی بھی چیز لیکن نہ سوئے کہتے ہیں کہ بدترین سونے میں سے ایک یہ سونا روایات میں جو شخص ہوتا ہے وہ بہت ساری چیزوں کو کھو بیٹھتا صحت کے اعتبار سے بھی اور اپنے زندگی اور مستقبل کے اعتبار سے بھی مثلا کہتے ہیں کہ سارا دن جو ہے پھر قدم پہ ایک سستی یا ایک نہی سی چھائی جاتی ہے ہم تو یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ا جو چرواہے تھے وہ اپنے جانوروں کو بھی اس ٹائم نہیں سونے دیتے تھے کیونکہ پھر سارا دن جانور سست رہتا ہے اسی طرح مثلا دن کے درمیان وسعت یعنی دن کے وسط میں یہ 20 گھنٹے سونا مستحب ہے جسے ہم اللہ کہتے ہیں ہمارے ڈاکٹر بعض کہتے ہیں کہ اس ٹائم سونا گویا رات کے کئی گھنٹے کے سونے کے برابر ہے یا نہیں بدن سے ہر قسم کی جو ہے وہ تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے یہ ساری مثالیں ہیں کہ یعنی ہر چیز میں نظم پیدا کریں سونا ہے کھانا ہے ورزش انسان کی زندگی کا حصہ ہے ورزش ضروری ہونی چاہیے منتظر جو ہے وہ ہر سپاہی ہے اپنے مولا کا سپاہیوں والی زندگی ہو اس کی منظم عبادت کا اس کا ایک ورنامہ ہو پروام ہو عبادت واجبی بھی وہ انجام دے رہا ہے مستحب بھی عبادتیں بھی ہوں اس کے اندر نوافل بھی ہوں اس کے اندر ذکر بھی ہو اس کے اندر قران کی تلاوت بھی ہو غور و فکر بھی ہو اللہ کی ایات میں اب دیکھنا وہ جتنا کر سکتا ہے اب ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سارے کام چھوڑ گئے یعنی تھوڑا ہی کریں لیکن کریں ضرور اس کی زندگی کے اندر ہو اسی طرح صاحب مطالعہ ہو مختلف بکس کتابیں مختلف موضوعات ہر وہ چیز کو پڑھے جو مولا کے ظہور کے لیے مفید ہو اس کا جاننا اس کے لیے بطور کلی جو ہے منتظر ہمیشہ بہترین عمل کو انجام دینے والا ہے جب اس کے سامنے دو عمل ہوں تو ان میں سے جو افضل ہے اسے انجام دیتا ہے یہ نہیں دیکھتا کون سا میرے لیے اسان ہے امیر المومنین صلوۃ اللہ علیہ اپنے ایک بھائی کی تعریف کر رہے تھے تو کہہ رہے تھے کہ میرا بھائی جو ہے جب اس کے سامنے دو عمل ہوتے تھے تو جو اس کی خواہشات کے قریب ہوتا تو اسے چھوڑ دیتا تھا دوسرے کو بجا لاتا تھا وہ اگرچہ دوسرا مشکل ہوتا تھا لیکن سب سے زیادہ طاقت اس سے زیادہ تھا اور اعلی ترین اقدار تک اسے لے جاتا تھا روایات میں بھی ہے کہ میم ہو گیا سب سے افضل جو عمل ہے وہ سب سے مشکل ہے منتظر جو ہے وہ جب بھی کوئی کام کرتا ہے وہ ماحول کو نہیں دیکھتا کہ لوگ کیا کہیں گے وہ جنت اور جہنم کو دیکھتا ہے کہ میرا یہ عمل مجھے جنت کی طرف لے جا رہا ہے یا جہنم کی طرف کیونکہ انسان کی ہر حرکت یا جنت کی ضرور جاتی ہے یا جہنم کی منتظر جو شخص ہے وہ اپنے عمل کے جم مقدار کیفیت اس کو نہیں دیکھتا کہ میرا عمل جو ہے وہ حجم کے اعتبار سے کتنا ہے میں نے بڑا کام کیا ہے یہ ایک ایسا کیا ہے بلکہ وہ اپنی توانائی اور استدا کو دیکھتا ہے کہ میرے اندر اللہ نے اتنی طاقت پیدا کی اور میں کتنا کر سکتا ہوں وہ کرتا ہے جیسے قران مجید میں ہے کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر یہ کہ کوشش اور تلاش کریں جتنی وہ کوشش کرے گا اتنا جو ہے وہ اس کا ثمرہ رہے گا اسی طرح کا منتظر جو ہے وہ ہمیشہ کے موقع عمل کرتا ہے زمان اور مکان کے اعتبار سے جو ضروری ہے وہ کرتے ہیں ایسے ٹائم عمل نہیں کرتا کہ اب فائدہ ہی نہیں رہا جیسے توابین کے بارے میں اپ دیکھیں توابین نے خون دیا لیکن فائدہ نہیں رہا اگر یہی خون نو محرم کو اپ پہنچ جاتے ہوئے امام حسین صلواۃ اللہ علیہ کی خدمت میں اور روز عاشور یا نو محرم کو یہی ہزاروں کا لشکر پہنچ جاتا تو اج اسلام کی تاریخ بدل جاتی ہے لیکن بعد میں وقت گزر چکا تھا توابین یعنی وہ شیعہ کوفہ کے جو موقع پر کربلا نہ پہنچ سکے بعد میں اٹھے لیکن شہید ہو گئے ہزاروں کی تعداد میں فائدہ نہ ہوا اس قیام کا منتظر جو ہے اس کا عمل افراد و تفریح سے پاک ہے یعنی قران و سنت کے مطابق ہے نہ بالکل دور ہے قران و سنت سے اور نہ یہ ہے کہ سارے کام چھوڑ کے ہم جو ہیں وہ اپنی طرف سے چیزوں کا دین میں اضافہ کر رہے ہیں یہ بھی نہیں ہے بدعتیں بھی نہیں کرنی ہم تو زہر جو ہے وہ ہمیشہ اس کا ایک ہی حدف ہے حق وہ حق کی کبھی مخالف سمت نہیں چلے گا جو کہ اسے پتہ ہے وہاں ہلاکت ہے وہ حق کو مد نظر رکھے گا اور منتظر کبھی بھی مغرور نہیں ہے اپنے عمل پہ بلکہ متواضع ہے حاسبو قبلہ اپنا محاسبہ خود ہی کریں اس سے پہلے کہ کوئی اپ کا محاسبہ کرے زندگی میں نظم ہو منظم منتظر ہی نتیجہ دے گا ہمیشہ دقیق اور مزم پروگرام نتیجہ دیتا ہے اور یہی زندگی نتیجہ ہے ہمارے جو بزرگان ہیں ان کی زندگی دیکھیں مثلا امام خمینی رحمت اللہ کے حوالے سے دیکھیں انہوں نے ایک ایک مملکت میں انقلاب ابا دیا ان کی زندگی اتنی مناظم تھی کہ لوگ اپنے ٹائم ان کے معمولات کو دیکھ کر کرتے تھے انہیں پتہ تھا کہ یہ فلاں کام امام خمینی نے فلاں ٹائم کرنا ہوتا ہے کھانے کا پروگرام منظم عبادت کا منظم متعلق کا منظم ہر چیز کا منظم پروگرام ہوتا تھا ان کا اور اس سے وہ ایک منٹ یا ایک سیکنڈ بھی اگے پیچھے نہیں ہوتے تھے تو ایسی شخصیت جو ہے وہ انقلاب گھر ہے انقلاب
درس 7
انتظار کے اندر مختلف پہلو ہیں۔
منتظر منظم زندگی گذارنے والا شخص ہے اور زندگی کے تمام پروگرام دقیق ہو ۔
ہمارے آئمہ نے کھانے کے اصولوں کو بیان کیا ہے۔
امام علی نے فرمایا جب بھوک لگے تو کھاؤ اور بھوک جب بچ جائے تو کھانا چھوڑ دو(مفہوما)
دو طلوع کے درمیان نہیں سونا چاہیے۔
دو طلوع کے درمیان تلاوت اور مطالعہ میں وقت صرف کرنا چاہیے
دن کے وسط میں سونا چاہیے اور ورزش بھی ضروری ہے۔
عبادات واجبہ اور مستحبی کو انجام دے۔
مختلف کتابوں کا مطالعہ کریں
اگر اس کے سامنے دو عمل ہو تو افضل عمل کو انجام دے۔
امام علی اپنے بھائی کی تعریف کررہے تھے کہ ان کے پاس دو عمل ہوتے تھے تو جو اس کی خواہشات کے قریب ہوتا تھا اس کو چھوڑ دیتا تھا اور دوسرے عمل کو بجالاتا تھا۔
دوسرا عمل مشکل ہوتا تھا لیکن اس کو طاقت دیتا تھا اور اعلی ترین اقدار تک لے جاتا تھا۔
منتظر لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ جنت اور جہنم کو خود کے سامنے دیکھتا ہے۔
منتظر کا عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
اور وہ کبھی اپنے عمل پر مغرور نہیں ہے اس کی زندگی منظم ہو
*درس 7*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کا ھدف ، دنیا کے تمام مذاھب و ادیان کا مشترکہ عقیدہ،مومن منتظر کے لیے کیوں دنیا قیدخانہ،عالمی مصلح کے انتظار میں اسلام اور شیعیت کا کردار ،شیعہ ظہور کے آغاز میں ہر اول دستہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_🟣خلاصہ:_
موضوع سخن انتظار امام زماں عج ہے اس سے پہلے ہم نے ایک منتظر شخص کی زندگی کے مختلف پہلو بیان کیے منتظر کا جو ہدف ہے وہ امام کے ظہور کی راہ کو ہموار کرنا اور اسی ہدف کی خاطر وہ تمام فکری روحانی جسمانی نظم و ضبط کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو اپنی منتظرانہ زندگی میں سمو لیتا ہے تاکہ ایک باصلاحیت ناصر کی شکل میں اپنے زمانے کے امام کی خدمت کریں ویسے تو دنیا میں سب لوگ ایک مسئلے ایک منجی کیونکہ یہ وہ حقیقت ہے جسے تمام انبیاء نے بیان کیا کہ تمام آسمانی کتابوں میں اس کی بشارت ہوئی آخری سمانی کتاب قرآن مجید کے اندر بیان ہوا ہے
←•••سورہ انبیاء کی آیت نمبر 105 میں کہ:
یہ حقیقت اس سے پہلے تورات انجیل میں بھی بیان ہوئی ہے پس یہ وہ بشارت ہے جو ہزاروں سالوں سے انسانوں کو مل رہی ہے اور یہ بالآخر ایک دن پوری ہونی ہے دنیا میں ایسے دین قومیں موجود ہیں جن کا کسی آسمانی دین سے تعلق نہیں ہے پتہ نہیں کتنے ہی عجیب و غریب قسم کے لوگوں کے بنائے ہوئے دین یا مذہب لیکن ایک چیز جو ان تمام آسمانی اور زمینی ادیان اور مکاتب میں مشترک ہے وہ یہ کہ *ایک منجی نجات دہندہ آئے گا جو دنیا کا رنگ بدلے گا اور دنیا میں انسانی اوصاف اور اصل انسانی خصلتیں جو ہیں وہ جلوہ گر ہوں گی لوگ یہ جانوروں جیسی زندگی چھوڑ دیں گے اس وقت تو حیوانیت کا غلبہ ہے*
آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں ایک دوسرے کے حق کو غصب کر رہے ہیں ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں انسان ہوں قومیں ہوں ممالک ہوں سب کچھ یہی ہو رہا ہے دنیا میں آپ دیکھیں کس وقت دنیا میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جو بڑے متمدن ہیں اپنے آپ کو جہان اولیاء دنیا اول کہتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے ممالک کو لوٹ رہے ہیں ان کی معدنیات کو لوٹ رہے ہیں ان کا استحصال کر رہے ہیں یہ پڑھے لکھے غارت گر ہیں ڈاکو ہیں جو اعلانیہ خون چوس رہے ہیں دوسرے انسانوں کا تو اب یہاں دنیا میں جتنے بھی مظلوم طبقات ہیں مرتضعفین ہیں وہ سارے بے چین تو ہیں اپنی تمام تر کوششیں کرنے کے باوجود ناکام ہو گئےان مشکلات میں جھگڑی ہوئی بھی یہ دنیا ایک مضبوط اور مستحکم وسیلے کی تلاش میں ہے ڈھونڈ رہا ہے کہ جہاں اسے روحانی تسکین ملے ایک ایسا چشمہ جو یسراب کرئے جو اس کی ساری مشکلیں دور ہوں اس اس کی روحی جسمانی بیماریاں جو ہے وہ ختم ایسا مصلح جس کے توسل سے اس کا اضطراب دور ہو اور دنیا جو ہے وہ بالخر پتہ چلے کہ انسانوں کی دنیا ہے نہ کہ حیوانوں کی جہاں لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں عاقلانہ حکیمانہ بابصیر زندگی گزارے دنیا کے اندر مختلف جو مقالے مضامین بڑے بڑے مفکرین لکھ رہے ہیں ان میں ایک چیز جو ہے وہ اب بیان ہو رہی ہے کہ موجودہ انسان ان بہانوں سے تنگ آ چکا ہے اس کی نگاہ سمان پر ہے اور ایک اچھے پر امید مستقبل کہ جس کے اندر نہ ظلم ہو نہ جہالت ہو نہ دانی ہو نہ فقر ہو نہ ہلاکت ہو اگرچہ ہم ترقی تو کر چکے ہیں مادی اعتبار سے لیکن اخلاقی اعتبار سے بدترین انسانیت کی تذلیل کا شکار ہے اب تو ایسا لگ رہا ہے جیسے زمین پر انسانی نسل کی بقاء کو بھی خطرات لاحق ہو گئی ہیں ایسے ایسے ہتھیار انسانوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے جو ہے وہ بنا لیا اس *21ویں صدی* کا جو انسان ہے وہ روحانی اور معنوی پہلو کے اعتبار سے ناکام ہے اس کا اعتراف بہت سارے مغربی مفکرین نے بھی کیا کہ آج کی دنیا تھک چکی ہے جسمانی خواہشات جو ہیں ان کا تو یہ عالم ہے کہ انسان جب کچھ مدت ان کے ساتھ گزارتا ہے تو پھر تھک جاتا ہے کسی جگہ پہ ایک مظاہرہ ہوا تھا امریکہ کے اندر اور وہاں لوگوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ خدا واپس لوٹ آئے یعنی دنیا صرف جسم کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی جسم اور جسمانی خواہشات کے ساتھ اسے روحانیت چاہیے اسے اخلاقیات چاہیے کیونکہ دنیا میں مادیت کا ہی دور دورہ ہے اس لیے مومن جو ادار روحانی ہے اپنی روح کے جو جلوے ہیں فاروق جو تقاضے ہیں ان پر بھی چلتا ہے اور پھر ادھا جسمانی جسم کی بھی جائز ضروریات پوری کرتا ہے اس کے لیے اس قسم کی دنیا جو ہے وہ زندہ ہے جیل ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں روایات میں اکثر یہ کہا گیا کہ *دنیا مومن کے لیے زندان ہے*
کیوں؟؟
کیونکہ یہ وہ دنیا نہیں ہے جس میں وہ رہنا چاہتا ہے۔
*⭕امیرالمومنین علی علیہ السلام خطبہ نمبر 193 میں بھی 70 اشارہ کرتے ہیں کہ:* اگر یہ موت جسے اللہ نے ہمارے لیے اپنے ٹائم پر لکھا ہوا ہے اگر یہ اس طرح مکتوب نہ ہوتی تو مومنین کی روحیں ان کے جسموں میں ایک لحظہ بھی نہ رہتی جو حالات ہیں اس وقت ہاں مومن یہاں آزمایا جا رہا ہے بار بار آزمایا جا رہا ہے اور بالآخر ایک دن اس نے پرواز کرنی ہے
←🌸دوسرے عالم کی طرف *جیسے کسی نے ایک مثال دی کہ اگر کسی برتن میں پانی کو ابالا جائے تو اس کے اندر جو خواب ہے جو قصافت ہے وہ اوپر آ جاتی ہے اور پانی ہلکا ہو کر بخارات بن جاتا ہے اور برتن کا اگر منہ کھلا ہو تو یہ بخارات پرواز کر جاتے ہیں اسی طرح انسان نے بھی پرواز کرنی ہے جو اس کا حقیقی عالم ہے نہ کہ یہ مادیات ہے اور گناہوں اور ظلم و ستم سے بھری ہوئی دنیا جو کہ کافر کے لیے جنت ہے لیکن مومن کے لیے زندان ہے* مومن کے لیے اس لیے بھی زندہ ہیں کہ مومن کا ظرف وسیع ہے اور اس کے سامنے یہ متائی دنیا بہت گلی ہے مومن روئی جسمانی فکری اعتبار سے ترقی کر چکا ہے اور دنیا اس بچے کی مانند ہے کہ جو فضول سوال کر کر کے بڑوں کو تھکا دیتی ہے اس لیے مومن اس دنیا کے حصار سے باہر دیگر عالم کو دیکھتا ہے اور اس کی نگاہ اس زندگی ابدی اور جا دانی پر ہے نہ کہ یہ دنیا کہ جس میں سوائے دکھ و رنج کے کچھ بھی نہیں دنیا کے اندر اپ جتنے بڑے بڑے مفکرین چاہے مغربی ہوں یا مشرقی وہ سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اب تک جو کچھ ہم معاشرتی اور سیاسی طور پر دیکھ رہے ہیں جتنے بھی اصلاح کے دعوے ہوئے جتنے بھی چینج چینج انقلاب کے دعوے ہوئے سب ناکام ہوگا ابھی تک وہ مدینہ فاضلہ جس کا افلاطون نے نقشہ کھینچا تھا کہ _جس میں نہ ظلم ہو نہ فکر ہو فقط عدل و انصاف ہو جس کی بشارت تمام ادیانوں نی دی اور بالخصوص قرآن کی 300 کے قریب آیات اور نبی کریم ﷺسے سینکڑوں ہزاروں حدیث جو محمد و آل محمد ﷺ کے ذریعے ہم تک پہنچی وہ دنیا ابھی تک سامنے نہیں آئی گی بالآخر لوگوں نے اٹھنا ہے جب یہ ساری حکومتیں ناکام ہو جائیں گی یہ سارے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ناکام ہو جائیں گے اصلاح کی حقیقی شکل جو ہے وہ دنیا میں پیدا ہوگی ایک لہر اٹھے گی اور لوگ تیار کریں گے اپنے اپ کو اس منجی اور مسیحا کے لیے کہ جس کا انہیں پتہ نہیں ہے صرف ایک خیال ہے ہاں اسلام اس کا پتہ بتا رہا ہے اور اس شخصیت کی عکاسی اس کا حسب و نسب اسلام بیان کرتا ہے_ اور بالخصوص تشیع کا یہ دعویٰ ہے اور عقیدہ ہے کہ وہ موجود ہے اور اپنے سوا اپنے ناصروں کا منتظر ہے اس لیے شیعہ جو ہے وہ انتظار کی حقیقت کی عملی شکل ہیں بہت قریب ہیں ایک ہلکی سی کروٹ تشیع کو جو ہے وہ اس حجت الہی کے دامن اور خیمہ تک پہنچا سکتی ہے اور پھر دنیا ایک عظیم تبدیلی ہوتا ہوا اپنے اندر ایک عظیم تبدیلی کا آغاز دیکھیں گے اس لیے تشیع کو سب سے پہلے میدان میں آنا چاہیے یہ ہر گلدستہ ہے یہ جب بدلیں گے اور صحیح معنوں میں منتظر بنیں گے اس وقت دنیا میں اس عالم کی انقلاب کا اغاز ہوگا اس وقت امام زماں عج پہ حجت تمام ہوگی امام کو وہ 313 عظیم سرباز اور ناصر ملیں گے جنہوں نے پیشوا بننا ہے مختلف امتوں کا اور یوں دنیا میں ایک عظیم الہی حرکت شروع ہوگی کہ جس کا اختتام عدل و انصاف کی حکومت بھی ختم ہوگا عالمگیر حکومت کہ جس کے نتیجے میں پوری دنیا سے ظلم و ستم ختم ہو جائے گا انشاءاللہ یہ ہدف ہے ہمارا اور اللہ ہم سب کو اس ہدف کو پایا تکمیل تک پہنچانے میں پروردگار ہمیں کامیاب کرئے ہماری زندگی میں مولا کا ظہور ہو ہماری آنکھیں ان کے نور سے منور ہوں اور ہمارے دل ہمارا وجود ان کی نصرت سے معطر ہو۔آمین
والسلام
التماس دعا
*درس 8*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کو بانشاط و پر تحرک کرنے کے دو اسباب، ملاقاتوں اور غیبت میں راہنمایی کا فلسفہ ، امام زمانہ عج کے پیغامات ، سلسلہ بشارت ، دیگر ادیان سے آج تک بشارت ہر رنگ میں رہی ہے*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_🖇️ خلاصہ:_
موضوع سخن انتظار ہے ہم زمانہ غیبت میں اہم ترین جو وظیفہ رکھتے ہیں وہ مولا کا عقیدہ علم اور عمل ہر اعتبار سے انتظار ہے انتظار کو بڑھانے میں دو چیزوں کا بڑا کردار ہے ١- ایک اسی زمانہ غیبت میں امام زماں عج کی علماء صالحین عام لوگوں سے جو ملاقاتیں ہوتی ہیں جب بھی دنیا مختلف مشکلات کا شکار ہوتی ہے انفرادی یا اجتماعی سطح پر تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مولا ایک مہربان ہے فرشتہ کی مانند خود یا کچھ افراد کے ذریعے لوگوں کی مشکلات دور کرتے ہیں ان کے مسائل حل کرتے ہیں اور ان توسل کرنے والوں کی رہنمائی کرتے ہیں اس طرح کے واقعات پڑھ رہے ہیں بہت ساری کتابیں ہیں خود *بحار الانوار* میں بہت سارے واقعات کتاب میں بہت سارے واقعات اس سے پہلے والی جو کتابیں ہیں جیسے *غیبتِ طوسی* ہے اور میں ہم ان واقعات کو جو ہے وہ کثرت سے دیکھتے ہیں یہ واقعات جو ہیں یہ بتاتے ہیں کہ امام ہمارے درمیان موجود ہے تاکہ ہم غفلت کا شکار نہ رہیں یا مایوس نہ ہو جائیں دیدار رہیں اور حرکت میں رہیں یہ واقعات ملاقات جو ہیں ایک طرح کی ہمارے لیے بشارت ہے کہ سلسلہ ہدایت جو ہے وہ جاری ہے اور بالخصوص ایسے ادوار جب بھی امام کا انکار ہوتا ہے یا لوگ یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ پتہ نہیں ایسی کوئی شخصیت ہے بھی یا نہیں تو اس دوران اس طرح کے واقعات جو ہیں لوگوں کا ایمان بڑھا دیتے ہیں اور منکرین جو ہیں یا اہل شک گمراہ ہونے والے ان کے لیے جو ہے ایک بیدار ہونے کی یا غفلت سے نکلنے کی جو ہے وہ ایک اہم ترین جو ہے وہ نوید ہوتی ہے یا رہنمائی ہوتی ہے ان واقعات خود مولا امام زمانہ عج کا فرمان بحارانوار میں بھی موجود ہے فرماتے ہیں کہ:
_میں تو کسی بھی عالم میں جو ہے وہ تمہاری حالات کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا یعنی تم پر ناظر ہوں اور کبھی بھی تمہیں نہیں بھولا اگر ایسا نہ ہوتا تو دشمن جو ہیں وہ تمہیں کپ کے ختم کر چکے ہوتے کیا کیا مصیبتیں جو ہیں وہ تم پر آتی ہیں پروردگار کا تقوی جو ہے وہ اختیار کرئے اللہ سے ڈرتے رہے گناہوں میں نہ پڑے_
ہمارے اوپر جو ہے مولان ناصر اور یہ فرمان بتا رہا ہے کہ ہم موجود ہیں اور ان کی طرف سے ہے جیسے مولا کا فرمان ہے
*زمانہ غیبت میں مجھ سے اسی طرح استفادہ کریں گے جس طرح اس سورج کے لوگ پیدا کرتے ہیں کہ جب بادل اسے نگاہوں سے چھپاتے ہیں پھر بھی اس کی روشنی رہتی ہے ٹھیک اسی طرج میں تمہارے درمیان مظاہر بظاہر تو نہیں ہوگا لیکن میری ہدایت میری رہنمائی میرا تمہارے درمیان ہوگی تمہارے مسئلے حل ہوں گے تم آگے بڑھو گے*
یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ زمانہ غیبت میں جتنی تشیع نے ترقی کی ہے اتنی کسی اور دور میں نہیں کی ہمیشہ ہم اس لیے ادوار میں تکیہ میں رہے تنگیوں میں رہے مشکلات میں رہے غیبت صغری اور کبری میں تقیہ ختم ہوا یہ حکومت قائم ہوئی یا حوضات شیعہ مذہب جو ہے وہ دنیا میں اسلامی حقیقی کا علمبردار ہے اور پوری دنیا میں حقیقت کو جان رہی ہے اور ہر موضوع پر اسلامی کو اور حقیقی معنی میں قران کی تفسیر اور سنت پیغمبر ﷺکو پیش کر تو عرض خدمت یہ ہے کہ امام ہمارے درمیان میں وہ ایک دور کسی جگہ پہ نہیں رہتے مولا جو ہے وہ ہمارے اندر ہی ہیں کسی جزیرے میں نہیں ہے جہاں شیعہ ہے وہیں مولا ہے اور اس لیے
🟡 *امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ:* *"تمہارے امام کہ جن کا حق جو ہے وہ دشمن نے ظالموں نے لے لیا یعنی حکومت کا تو مولا کا تھا وہ تمہارے درمیان میں ہی یعنی جہاں شیعہ رہتے ہو وہیں وہ امام رفت و احمد رکھتے ہیں تمہارے بازاروں میں چلتے ہیں تمہارے گھروں میں یآتے ہیں تم انہیں ابھی نہیں پہچانتے جب اللہ کا حکم ہوگا اس وقت وہ اپنی پہچان کروائیں گے*
اسی طرح بعض روایت کہتی ہیں کہ اپ حج کے دنوں میں بھی وہیں ہوتے ہیں مکہ میں وہی منی میں وہی عرفات میں لوگوں کو دیکھتے ہیں پہچانتے ہیں لوگ بھی نہ دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں خلاصہ یہ ہے کہ جب توقیعات کا زمانہ تھا لوگ خط لکھتے تھے اس وقت بھی مولا نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کو واضح کیا تھا کہ ہم تمہارے حالات سے مکمل آگاہ ہیں تم شیعوں کے کوئی بھی چیز ہم پر پوشیدہ نہیں ہے جب بھی بڑے بڑے شبہ آئے امام نے فقہاء کی مدد کی ان شبہوں کا ان سوالوں کا جواب دیں جب بھی شیعہ قوم کا قتل عام ہونے کا وقت آیا مولا نے جو ہے وہ بچایا اتنا تو واقعات بہت ہیں جیسے بحرین کا وہ انار والا واقعہ آپ نے پہلے بھی اسی طرح مختلف ادوار میں ایران عراق جانوں کے حالات دیکھیں پاکستان کے اندر کئی دفعہ ایسے کام ہوئے لیکن درست ہے کچھ نہ کچھ شہادتیں ہوئی ہیں وہ ہمیں بیدار رکھنے کے لیے لیکن اجتماعی طور پر ایسا وقت نہیں آنے دیا گیا کہ مکمل شیعہ قوم جو ہے وہ قتل عام ہوا اگر ہم کہیں مصیبتیں دیکھ رہے ہیں تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہم خود بھی ہیں کہ اپنے زمانے کے امام کے لیے صحیح معنوں میں وظائف انتظار پہ عمل نہیں ہو رہا متحرک نہیں ہے دوسری جو چیز تھی وہ مصلحت ہے سلسلہ بشارت ہمیشہ رہا ہے قرآن مجید کے اندر سورہ انبیاء کی 105 نمبر یہی تو بتا رہی ہے کہ اللہ نے قرآن سے پہلے والی کتابوں میں بھی یہ بشارت دی زبور تورات اس سے پہلے جتنے صحف سب میں یہ بشارت تھی نبی کریم جو ہے وہ بھی بشارت دیتے رہے اصحاب تابعین ادھر ہمارے آئمہ جیسے مہدی عج کی بھی حالتیں یہ حوصلہ انسان کو دیتی ہیں کہ یہ کام ہر صورت میں ہوگا اور تو نے غیبت میں مختلف واقعات حکایات یہ ساری چیزیں جو ہیں وہ صرف ہمیں اس حوالے سے بتائی گئی اور بتائی جا رہی ہیں کہ ہم انتظار کریں وہ انتظار جو عبادت ہے سب سے یعنی بہترین افضل عبادت مومن کی کیا انتظار ہو اللہ تعالی کا وہ حکم ظہور جو ہے وہ آئے اور مولا ظہور کریں تو یہ ساری چیزیں اس لیے ہیں کہ ہمارے انتظار جو ہے وہ عملی معنوں میں سامنے آئے اور بامقصد سامنے آئے اور وہ شیعہ قوم کی وہ انفرادی اجتماعی حرکت قیام بالآخر ہر پوری دنیا میں سامنے آئے کہ جس کا نتیجہ اس نے خدا کہلائے چونکہ حجت تمام ہو گئی اور وقت کی حجت جو ہے وہ ظاہر ہو
والسلام
التماس دعا
*درس 8*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کا ھدف ، دنیا کے تمام مذاھب و ادیان کا مشترکہ عقیدہ،مومن منتظر کے لیے کیوں دنیا قیدخانہ،عالمی مصلح کے انتظار میں اسلام اور شیعیت کا کردار ،شیعہ ظہور کے آغاز میں ہر اول دستہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار امام زماں حجل اللہ فرجہ شریف ہے اس سے پہلے ہم نے ایک منتظر شخص کی زندگی کے مختلف پہلو بیان کیے منتظر کا جو ہدف ہے وہ امام کے ظہور کی راہ کو ہموار کرنا اور اسی ہدف کی خاطر وہ تمام فکری روحانی جسمانی نظم و ضبط کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو اپنی منتظرانہ زندگی میں سمو لیتا ہے تاکہ ایک باصلاحیت ناصر کی شکل میں اپنے زمانے کے امام کی خدمت کریں ویسے تو دنیا میں سب لوگ ایک مسئلے ایک منجی کیونکہ یہ وہ حقیقت ہے جسے تمام انبیاء نے بیان کیا تمام اسمانی کتابوں میں اس کی بشارت ہوئی اخری اسمانی کتاب قران مجید کے اندر بیان ہوا ہے سورہ انبیاء کی 105 نمبر ایت میں کہ یہ حقیقت اس سے پہلے تورات انجیل میں بھی بیان ہوئی ہے پس یہ وہ بشارت ہے جو ہزاروں سالوں سے انسانوں کو مل رہی ہے اور یہ بالاخر ایک دن پوری ہونی ہے دنیا میں ایسے دین قومیں موجود ہیں جن کا کسی اسمانی دین سے تعلق نہیںمت ہے سکھ ہے جی ہمت ہیں اور پتہ نہیں کتنے ہی عجیب و غریب قسم کے لوگوں کے بنائے ہوئے دین یا مذہب لیکن ایک چیز جو ان تمام اسمانی اور زمینی ادیان اور مکاتب میں مشترک ہے وہ یہ کہ ایک منجی نجات دہندہ ائے گا جو دنیا کا رنگ بدلے گا اور دنیا میں انسانی اوصاف اور اصل انسانی خصلتیں جو ہیں وہ جلوہ گر ہوں گی لوگ یہ جانوروں جیسی زندگی چھوڑ دیں گے اس وقت تو حیوانیت کا غلبہ ہے اپس میں ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں ایک دوسرے کے حق کو غصب کر رہے ہیں ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں انسان ہوں قومیں ہوں ممالک ہوں سب کچھ یہی ہو رہا ہے دنیا میں اپ دیکھیں کس وقت دنیا میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جو بڑے متمدن ہیں اپنے اپ کو جہان اولیا دنیا اول کہتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے ممالک کو لوٹ رہے ہیں ان کی معدنیات کو لوٹ رہے ہیں ان کا استحصال کر رہے ہیں یہ پڑھے لکھے غارت گر ہیں ڈاکو ہیں جو اعلانیہ خون چوس رہے ہیں دوسرے انسانوں کا تو اب یہاں دنیا میں جتنے بھی مظلوم طبقات ہیں مرتضیفین ہیں وہ سارے بے چین تو ہیں اپنی تمام تر کوششیں کرنے کے باوجود ناکام ہو گئےان مشکلات میں جھگڑی ہوئی بھی یہ دنیا ایک مضبوط اور مستحکم وسیلے کی تلاش میں ہے ڈھونڈ رہا ہے کہ جہاں اسے روحانی تسکین ملے ایک ایسا چشمہ جو سسراب کرے جو اس کی ساری مشکلیں دور ہوں اس اس کی روحی جسمانی بیماریاں جو ہے وہ ختم ایسا مصلح جس کے توسل سے اس کا اضطراب دور ہو اور دنیا جو ہے وہ بالاخر پتہ چلے کہ انسانوں کی دنیا ہے نہ کہ حیوانوں کی جہاں لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں عاقلانہ حکیمانہ بابصیر زندگی گزارے دنیا کے اندر مختلف جو مقالے مضامین بڑے بڑے مفکرین لکھ رہے ہیں ان میں ایک چیز جو ہے وہ اب بیان ہو رہی ہے کہ موجودہ انسان ان بخانوں سے تنگ ا چکا ہے اس کی نگاہ اسمان پر ہے اور ایک اچھے پر امید مستقبل کہ جس کے اندر نہ ظلم ہو نہ جہالت ہو نہ دانی ہو نہ فقر ہو نہ ہلاکت ہو اگرچہ ہم ترقی تو کر چکے ہیں مادی اعتبار سے لیکن اخلاقی اعتبار سے بدترین انحطاط کا اور انسانیت کی تذلیل کا شکار ہے اب تو ایسا لگ رہا ہے جیسے زمین پر انسانی نسل کی بقا کو بھی خطرات لاحق ہو گئی ہیں ایسے ایسے ہتھیار انسانوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے جو ہے وہ بنا لیا اس 21ویں صدی کا جو انسان ہے وہ روحانی اور معنوی پہلو کے اعتبار سے ناکام ہے اس کا اعتراف بہت سارے مغربی مفکرین نے بھی کیا کہ اج کی دنیا تھک چکی ہے جسمانی خواہشات جو ہیں ان کا تو یہ عالم ہے کہ انسان جب کچھ مدت ان کے ساتھ گزارتا ہے تو پھر تھک جاتا ہے کسی جگہ پہ ایک مظاہرہ ہوا تھا امریکہ کے اندر اور وہاں لوگوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ خدا واپس لوٹ ائے یعنی دنیا صرف جسم کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی جسم اور جسمانی خواہشات کے ساتھ اسے روحانیت چاہیے اسے اخلاقیات چاہیے کیونکہ دنیا میں مادیت کا ہی دور دورہ ہے اس لیے مومن جو ادار روحانی ہے اپنی روح کے جو جلوے ہیں فاروق جو تقاضے ہیں ان پر بھی چلتا ہے اور پھر ادھا جسمانی جسم کی بھی جائز ضروریات پوری کرتا ہے اس کے لیے اس قسم کی دنیا جو ہے وہ زندہ ہے جیل ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں روایات میں اکثر یہ کہا گیا کہ دنیا مومن کے لیے زندان ہے کیوں کیونکہ یہ وہ دنیا نہیں ہے جس میں وہ رہنا چاہتا ہے امیرمومنین خطبہ نمبر 193 میں بھی 70 اشارہ کرتے ہیں کہ اگر یہ موت جسے اللہ نے ہمارے لیے اپنے ٹائم پر لکھا ہوا ہے اگر یہ اس طرح مکتوب نہ ہوتی تو مومنین کی روحیں ان کے جسموں میں ایک لحظہ بھی نہ رہتی جو حالات ہیں اس وقت ہاں مومن یہاں ازمایا جا رہا ہے بار بار ازمایا جا رہا ہے اور بالاخر ایک دن اس نے پرواز کرنی ہے دوسرے عالم کی طرف جیسے کسی نے ایک مثال دی کہ اگر کسی برتن میں پانی کو ابالا جائے تو اس کے اندر جو خواب ہے جو قصافت ہے وہ اوپر ا جاتی ہے اور پانی ہلکا ہو کر بخارات بن جاتا ہے اور برتن کا اگر منہ کھلا ہو تو یہ بخارات پرواز کر جاتے ہیں اسی طرح انسان نے بھی پرواز کرنی ہے جو اس کا حقیقی عالم ہے نہ کہ یہ مادیات ہے اور گناہوں اور ظلم و ستم سے بھری ہوئی دنیا جو کہ کافر کے لیے جنت ہے لیکن مومن کے لیے زندان ہے مومن کے لیے اس لیے بھی زندہ ہیں کہ مومن کا ظرف وسیع ہے اور اس کے سامنے یہ متائی دنیا بہت گلی ہے مومن روئی جسمانی فکری اعتبار سے ترقی کر چکا ہے اور دنیا اس بچے کی مانند ہے کہ جو فضول سوال کر کر کے بڑوں کو تھکا دیتی ہے اس لیے مومن اس دنیا کے حصار سے باہر دیگر عالم کو دیکھتا ہے اور اس کی نگاہ اس زندگی ابدی اور جا دانی پر ہے نہ کہ یہ دنیا کہ جس میں سوائے دکھ اورنج کے کچھ بھی نہیں دنیا کے اندر اپ جتنے بڑے بڑے مفکرین چاہے مغربی ہوں یا مشرقی وہ سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اب تک جو کچھ ہم معاشرتی اور سیاسی طور پر دیکھ رہے ہیں جتنے بھی اصلاح کے دعوے ہوئے جتنے بھی چینج چینج انقلاب کے دعوے ہوئے سب نہ کام ہوگا ابھی تک وہ مدینہ فاضلہ جس کا افلاطون نے نقشہ کھینچا تھا کہ جس میں نہ ظلم ہو نہ فکر ہو فقط عدل و انصاف ہو جس کی بشارت تمام ادیانوے دی اور بالخصوص قران کی 300 کے قریب ایات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سینکڑوں ہزاروں حدیث جو محمد و ال محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے ہم تک پہنچی وہ دنیا ابھی تک سامنے نہیں ائی گی بالاخر لوگوں نے اٹھنا ہے جب یہ ساری حکومتیں ناکام ہو جائیں گی یہ سارے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ناکام ہو جائیں گے اصلاح کی حقیقی شکل جو ہے وہ دنیا میں پیدا ہوگی ایک لہر اٹھے گی اور لوگ تیار کریں گے اپنے اپ کو اس منجی اور مسیحا کے لیے کہ جس کا انہیں پتہ نہیں ہے صرف ایک خیال ہے ہاں اسلام اس کا پتہ بتا رہا ہے اور اس شخصیت کی عکاسی اس کا حسب و نسب اسلام بیان کرتا ہے اور بالخصوص تشیع کا یہ دعوی ہے اور عقیدہ ہے کہ وہ موجود ہے اور اپنے سوا اپنے ناصروں کا منتظر ہے اس لیے شیعہ جو ہے وہ انتظار کی حقیقت کی عملی شکل ہیں بہت قریب ہیں ایک ہلکی سی کروٹ تشیع کو جو ہے وہ اس حجت الہی کے دامن اور خیمہ تک پہنچا سکتی ہے اور پھر دنیا ایک عظیم تبدیلی ہوتا ہوا اپنے اندر ایک عظیم تبدیلی کا اغاز دیکھیں گے اس لیے تشیع کو سب سے پہلے میدان میں انا چاہیے یہ ہر گلدستہ ہے یہ جب بدلیں گے اور صحیح معنوں میں منتظر بنیں گے اس وقت دنیا میں اس عالم کی انقلاب کا اغاز ہوگا اس وقت امام زماں پہ حجت تمام ہوگی امام کو وہ 313 عظیم سرباز اور ناصر ملیں گے جنہوں نے پیشوا بننا ہے مختلف امتوں کا اور یوں دنیا میں ایک عظیم الہی حرکت شروع ہوگی کہ جس کا اختتام عدل و انصاف کی حکومت بھی ختم ہوگا عالمگیر حکومت کہ جس کے نتیجے میں پوری دنیا سے ظلم و ستم ختم ہو جائے گا انشاءاللہ یہ ہدف ہے ہمارا اور اللہ ہم سب کو اس ہدف کو پایا تکمیل تک پہنچانے میں پروردگار ہمیں کامیاب کرے ہماری زندگی میں مولا کا ظہور ہو ہماری انکھیں ان کےسے منور ہو اور ہمارے دل ہمارا وجود ان کی نصرت سے انشاءاللہ معطر ہو
*درس 9*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: منتظر کو بانشاط و پر تحرک کرنے کے دو اسباب، ملاقاتوں اور غیبت میں راہنمایی کا فلسفہ ، امام زمانہ عج کے پیغامات ، سلسلہ بشارت ، دیگر ادیان سے آج تک بشارت ہر رنگ میں رہی ہے*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار ہے ہم زمانے غیبت میں اہم ترین جو وظیفہ رکھتے ہیں وہ مولا کا عقیدہ علم اور عمل ہر اعتبار سے انتظار ہے انتظار کو بڑھانے میں دو چیزوں کا بڑا کردار ہے ایک اسی زمانہ غیبت میں امام زماں عجل اللہ فرجہ شریف کی علماء صالحین عام لوگوں سے جو ملاقاتیں ہوتی ہیں جب بھی دنیا کے ایو مختلف مشکلات کا شکار ہوتی ہے انفرادی یا اجتماعی سطح پر تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مولا ایک مہربان ہے فرشتہ کی مانند خود یا کچھ افراد کے ذریعے لوگوں کی مشکلات دور کرتے ہیں ان کے مسائل حل کرتے ہیں اور ان توسل کرنے والوں کی رہنمائی کرتے ہیں اس طرح کے واقعات پڑھ رہے ہیں بہت ساری کتابیں ہیں خود بہار الانوار میں بہت سارے واقعات کتاب میں بہت سارے واقعات اس سے پہلے والی جو کتابیں ہیں جیسے غیبت طوسی ہے اور میں ہم ان واقعات کو جو ہے وہ کثرت سے دیکھتے ہیں یہ واقعات جو ہیں یہ بتاتے ہیں کہ امام ہمارے درمیان موجود ہے تاکہ ہم غفلت کا شکار نہ رہیں یا مایوس نہ ہو جائیں دیدار رہیں اور حرکت میں رہیں یہ واقعات ملاقات جو ہیں ایک طرح کی ہمارے لیے بشارت ہے کہ سلسلہ ہدایت جو ہے وہ جاری ہے اور بالخصوص ایسے ادوار جب بھی امام کا انکار ہوتا ہے یا لوگ یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ پتہ نہیں ایسی کوئی شخصیت ہے بھی یا نہیں تو اس دوران اس طرح کے واقعات جو ہیں لوگوں کا ایمان بڑھا دیتے ہیں اور منکرین جو ہیں یا اہل شک گمراہ ہونے والے ان کے لیے جو ہے ایک بیدار ہونے کی یا غفلت سے نکلنے کی جو ہے وہ ایک اہم ترین جو ہے وہ نوید ہوتی ہے یا رہنمائی ہوتی ہے ان واقعات خود مولا امام زمانہ عجل اللہ شریف نے جو فرمان ہے مولا کا بحارانوار میں بھی موجود ہے فرماتے ہیں کہ ا فرماتے ہیں کہ میں تو کسی بھی عالم میں جو ہے وہ تمہاری حالات کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا یعنی تم پر ناظر ہوں اور کبھی بھی تمہیں نہیں بھولا اگر ایسا نہ ہوتا تو دشمن جو ہیں وہ تمہیں کپ کے ختم کر چکے ہوتے کیا کیا مصیبتیں جو ہیں وہ تم پر اتی ہیں پروردگار کا تقوی جو ہے وہ اختیار کرے اللہ سے ڈرتے رہے گناہوں میں نہ پڑھے ہمارے اوپر جو ہے مولانا ناصر اور یہ فرمان بتا رہا ہے کہ ہم موجود ہیں اور ان کی طرف سے ہے جیسے مولا کا فرمان ہے زمانہ غیبت میں مجھ سے اسی طرح استفادہ کریں گے جس طرح اس سورج کے لوگ پیدا کرتے ہیں کہ جب بادل اسے نگاہوں سے چھپاتے ہیں پھر بھی اس کی روشنی رہتی ہے ٹھیک ہے میں تمہارے درمیان مظاہر بظاہر تو نہیں ہوگا لیکن میری ہدایت میری رہنمائی میرا تمہارے درمیان ہوگا تمہارے مسئلے ہوں گے تم اگے بڑھو گے یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ زمانہ غیبت میں جتنی تشیع نے ترقی کی ہے اتنی کسی اور دور میں نہیں کی ہمیشہ ہم اس لیے ادوار میں تکیہ میں رہے تنگیوں میں رہے مشکلات میں رہے غیبت صغری اور کبری میں تکیہ ختم ہوا یہ حکومت قائم ہوئی یا حوضات شیعہ مذہب جو ہے وہ دنیا میں اسلامی حقیقی کا علمبردار ہے اور پوری دنیا میں حقیقت کو جان رہی ہے اور ہر موضوع پر اسلامی کو اور حقیقی معنی میں قران کی تفسیر اور سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پیش کر تو عرض خدمت یہ ہے کہ امام ہمارے درمیان میں وہ ایک دور کسی جگہ پہ نہیں رہتے مولا جو ہے وہ ہمارے اندر ہی ہیں کسی جزیرے میں نہیں ہے جہاں شیعہ ہے وہیں مولا ہے اور اس لیے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ تمہارے امام کہ جن کا حق جو ہے وہ دشمن نے ظالموں نے لے لیا یعنی حکومت کا تو مولا کا تھا وہ تمہارے درمیان میں ہی یعنی جہاں شیعہ رہتے ہو وہیں وہ امام رفت و احمد رکھتے ہیں تمہارے بازاروں میں چلتے ہیں تمہارے گھروں میں اتے ہیں تم انہیں ابھی نہیں پہچانتے جب اللہ کا حکم ہوگا اس وقت وہ اپنی پہچان کروائیں گے اسی طرح بعض روایت کہتی ہیں کہ اپ حج کے دنوں میں بھی وہیں ہوتے ہیں مکہ میں وہی منی میں وہی عرفات میں لوگوں کو دیکھتے ہیں پہچانتے ہیں لوگ بھی نہ دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں خلاصہ یہ ہے کہ جب توقیات کا زمانہ تھا لوگ خط لکھتے تھے اس وقت بھی مولا نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کو واضح کیا تھا کہ ہم تمہارے حالات سے مکمل اگاہیں تم شیعوں کے کوئی بھی چیز ہم پر پوشیدہ نہیں ہے جب بھی بڑے بڑے شبہ ائے امام نے فقہاء کی مدد کی ان شبہوں کا ان سوالوں کا جواب دیں جب بھی شیعہ قوم کا قتل عام ہونے کا وقت ایا مولا نے جو ہے وہ بچایا اتنا تو واقعات بہت ہیں جیسے بحرین کا وہ انار والا واقعہ اپ نے پہلے بھی اسی طرح مختلف ادوار میں ایران عراق جانوں کے حالات دیکھیں پاکستان کے اندر کئی دفعہ ایسے کام ہوئے لیکن درست ہے کچھ نہ کچھ شہادتیں ہوئی ہیں وہ ہمیں بیدار رکھنے کے لیے لیکن اجتماعی طور پر ایسا وقت نہیں انے دیا گیا کہ مکمل شیعہ قوم جو ہے وہ قتل عام ہوا اگر ہم کہیں مصیبتیں دیکھ رہے ہیں تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہم خود بھی ہیں کہ اپنے زمانے کے امام کے لیے صحیح معنوں میں وظائف انتظار پہ عمل نہیں ہو رہا متحرک نہیں ہے دوسری جو چیز تھی وہ مثالت ہے سلسلہ بشارت ہمیشہ رہا ہے قران مجید کے اندر سورہ انبیاء کی 105 نمبر ای تو بتا رہی ہے کہ اللہ نے قران سے پہلے والی کتابوں میں بھی یہ بشارت دی زبور تورات اس سے پہلے جتنے صحف سب میں یہ بشارت تھی نبی کریم جو ہے وہ بھی بشارت دیتے رہے اصحاب تابعین ادھر ہمارے ائمہ جیسے مہدی کی بھی حالتیں یہ حوصلہ انسان کو دیتی ہیں کہ یہ کام ہر صورت میں ہوگا اور تو نے غیبت میں مختلف واقعات حکایات یہ ساری چیزیں جو ہیں وہ صرف ہمیں اس حوالے سے بتائی گئی اور بتائی جا رہی ہیں کہ ہم انتظار کریں وہ انتظار جو عبادت ہے سب سے یعنی بہترین افضل عبادت مومن کی کیا انتظار ہو اللہ تعالی کا وہ حکم ظہور جو ہے وہ ائے اور مولا ظہور کریں تو یہ ساری چیزیں اس لیے ہیں کہ ہمارے انتظار جو ہے وہ عملی معنوں میں سامنے ائے اور بامقصد سامنے ائے اور وہ شیعہ قوم کی وہ انفرادی اجتماعی حرکت قیام بالا ہر پوری دنیا میں سامنے ائے کہ جس کا نتیجہ اس نے خدا کہلائے چونکہ حجت تمام ہو گئی اور وقت کی حجت جو ہے وہ ظاہر ہو اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ہماری زندگیوں میں ایسا انتظار ہمارے ذریعے لوگوں میں پیدا ہو اور مولا کے ظہور کو ہم اپنی زندگیوں میں دیکھیں انشاءاللہ
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
درس نمبر 9
انتظار کو بڑھانے میں دو چیزوں کا ہاتھ ہے۔
زمانے غیبت میں امام کی علماہ سے ملاقات
مولا مہربان فرشتے کی مانند مشکلات کو دور کرتے ہیں جب عالم تشیع کسی مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔
ان توسل کرنے والوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ واقعات بتاتے ہیں امام ہمارے درمیان موجود ہیں تاکہ انسان غفلت میں نہ پڑے۔
امام کا ارشاد ہے بحار الانوار میں
میں کبھی بھی تمہیں نہیں بھولا۔۔۔۔۔۔مصیبتیں آتے
خدا سے ڈرتے رہیں اور گناہوں میں نہ پڑیں ۔
مولا ہمارے اوپر ناظر ہیں اور رہنمائی کا سلسلہ بھی موجود یے۔
زمانے غیبت میں تشیع نے جتنی ترقی کی ہے اتنی کسی اور دور میں نہیں کی۔
غیبت کبری اور صغری میں تقیہ ختم ہوا شیعہ حکومتیں قائم ہوئیں مراکز بنیں امام بازار اور گھروں میں ہوتے ہیں لیکن ہم ان کو نہیں پہچان سکتے۔
جب خدا کا حکم ہوگا وہ اپنی پہچان کرائیں گے ۔
سورہ انبیاہ میں بشارت دی امام مہدی کی کہ یہ کام کر صوت میں ہوگا۔
بہترین افضل عبادت انتظار ہے
*درس 10*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کی ضرورت ، اقبال کا معنی و مفہوم ، امام زمان عج کا صدقہ اور اسکا فلسفہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_✨خلاصہ:_
موضوع سخن انتظار ہے ہماری پانچویں گفتگو انتظار کے مرحلے کے حوالے سے جو کہ انتظار کی ضرورت ہے۔
*🟣انتظار کی ضرورت:*
جہاں بھی انتظار ہے وہاں حرکت ہے کیونکہ انسان جب اپنے ہدف کو جان لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیتا ہے تو وہ ہدف میں آتا ہے اب وہ کدھر جاتا ہے؟وہ رب سے ہدایت مانگتا ہے اور ولی کے لیے حرکت کرتا ہے
✨←وہ منتظر لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایت سے مستفید ہوتے ہیں کیونکہ وہ اہل ذکر ہیں منتطر کبھی بھی لاتعلق نہیں رہتا اور نہ لاپرواہی کرتا ہے۔
♦مثال کے طور پر:
حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے منتظر تھے تو وہ لاتعلق نہیں بیٹھے بلکہ ہمیشہ اپنے بیٹوں سے کہتے کہ جاؤ یوسف اور اسکے بھائی کو تلاش کرو اور خدا رحمت سے ناامید نہ ہوں۔
*♠اقبال کے معنی و مفہوم:*
اہل فکر کے یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والے معمولی سے واقعات پر پھی نظر رکھتے ہیں۔
_••معنی:_
توجہ کرنا اور اپنے محبوب پر دل نچھاور کرنا
١- معرفت
٢- حجت و عنایت کا تجربہ
٣- دوسروں لوگوں میں کمزوریوں اور کم ظرفیوں کا تجربہ
٤- ناکامیوں اور مشکلات کا تجربہ
والسلام
التماس دعا
*درس 10*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کی ضرورت ، اقبال کا معنی و مفہوم ، امام زمان عج کا صدقہ اور اسکا فلسفہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انتظار ہے اج سے ہم جو ہے وہ پانچویں گفتگو انتظار کی یعنی مرحلے کے اعتبار سے جو کہ اپ کا کتابچہ جو ہے اس کے اندر پانچواں باب انتظار کی ضروری انتظار ہے اج سے ہم جو ہے وہ پانچویں گفتگو انتظار کی یعنی مرحلے کے اعتبار سے انتظار کی ضروریات جہاں بھی انتظار ار ہے وہاں حرکت ہے چونکہ انسان جب اپنے ہدف کو جان لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیتا ہے تو وہ حرکت میں اتا ہے اب وہ کدھر جاتا ہے اور رب اور اپنے وقت کے ولی رب سے ہدایت مانگتا ہے ولی سے راہ جو ہے وہ پوچھتا ہے بالاخر ذمہ داریاں پوچھتا ہے اور ولی کے لیے حرکت میں ہمیشہ منتظر لوگ ہیں کہ جو اللہ کی ہدایت سے مستفید ہوتے ہیں کیونکہ وہ اہل ذکر ہے اہل راز و نیاز ہے اور منتظر شخص کبھی بھی لا تعلق اور بے پروا نہیں ہو سکتا ہے ہمارے سامنے مثال ہے حضرت یعقوب کے انتظار کی ہے ہمیشہ اپنے بیٹوں کو کہتے تھے کہ اپ بیکار نہ بیٹھے جائیں بھائی کو تلاش کرتے ہیں خدا کی رحمت سے نا امید نہ ہو خود بھی دائمن راز و نیاز دعاؤں میں اور جہاں تک ہو سکے حضرت یوسف کی تلاش میں تھے اس وقت بھی ایک یوسف زہرہ کا بیٹا پردہ غیبت میں ہے اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم نے تلاش کریں اور مولا تک پہنچے ہیں امام کی طرف سے رہنمائی ہوتی ہے ہمارے ارد گرد بے پناہ واقعات ہیں جن کے اندر سبق ہے درس ہے یہ وہی درس ہے جو امام ہمیں دینا چاہتے ہیں جیسے کہ امام کاظم علیہ السلام ایک مومن کو فرماتے تھے کہ جو چیز بھی تمہاری انکھیں دیکھتی ہیں اس میں بعض و نصیحت ہے ہم اپنی زندگی اجتماعی زندگی ارد گرد لوگوں کی زندگی کو دیکھیں ہمیں معلوم ہوگا میں اپنے مکتب میں کے اندر مولا کی بے پناہ رہنمائیاں اپنی زندگی میں بے پناہ رہ لو ہم وہ ہیں کہ جو توسل کرتے ہیں تو کیوں نہ امام رہنمائی کرے بہت سارے مصائب مشکلات پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں اگر ہیں تو ازمائش ہے انتظار کی ضرورت کی بحث میں ایک موضوع ہے جس کو اقبال کہا گیا ہے اب اس کا معنی کیا ہے مثلا ایک معنی اقبال کا جو ہے وہ توجہ کرنا ہے یعنی اپنے ولی اپنے وقت کے امام پر اپنی مکمل توجہ رکھنا ان کی عظمت ان کا جمال ان کے اہداف کو اپنے وجود میں پانا ان کی اطاعت کرنا مولا کی ہر حوالے سے ہم رائی جنگ ہو میدان ہو مسجد ہو کر بس ہم دیکھیں مولا علی جو ہیں وہ کس طرح رسول اللہ کی ہمراہی کرتے تھے یہ ہمارے لیے اسوہ ہے ہم بھی اپنے ماموں کی جیسے ہی کریں جیسے مالک اشتر کرتے تھے جیسے بزر کرتے تھے اب اگر ہم اپنے وقت کے امام سے لو لگانا چاہتے ہیں توجہ کرنا اور ان کی توجہ لینا چاہتے ہیں تو چند چیزوں کی طرف انشاءاللہ جو ہے وہ وہ عنایت ہو ایک امام کی معرفت معرفت کیا ہے یعنی اتنا پڑھیں اپنے مولا کو کہ امام پر یقین حاصل ایک رات بھی معرفت کے بغیر قابل قبول نہیں ہے جیسے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک رات رہے ایک رات گزارے کہ جس کے اندر اس نے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کی ہو تو اور وہ مر جائے تو جاہلیت کی موت مرے گا یا وہ ایک رات اس کی جو اس حالت میں گزرے گی وہ جاہلیت کی موت کے برابر ہے دوسری جو چیز ہے وہ یہ ہے زمانے کی حجت اور ان کی جو عنایات ہیں ہم پر ان پر توجہ اور تیسری چیز جو ہے وہ لوگوں میں دیکھیں کہ کیا نقائص ہے اور تاریخ سے تاریخ کے ائمہ کے زمانے کی تاریخ اور غیبت کی تاریخ اور اب تک کیا مسائل ہیں کہاں بے وفائیاں ہوئی ہیں اور یہ جو مشکلات ہیں اور ناکامیاں ہیں ان کو پڑھایا جائے تاکہ ان میں سے کامیابی کی راہ ڈھونڈی جائے ہم نقامی کو سمجھیں گے تو مد مقابل کامیابی پسند نہیں گے دوستو یہی جو چیز ہے مولا کی محبت و عنایت جو ہم پر ہے اور دوسروں کے اندر جو اضاف اور ناکامی ہے اس حوالے سے اگر اپ غور کریں دنیا میں مختلف اس وقت گروہ ہے مکتب ہے قوم میں ہے سب کے کوئی نہ کوئی رہنما ہے امام ہے اولیاء ہیں جو بھی ہیں ان کو دیکھے ان کی کمزوری دیکھے اور پھر اپنے زمانے کے امام کی عظمتیں دیکھیں کہ اللہ نے ہمیں ایسی ہستیاں عطا کی ہے ان رہنماؤں اور ان کے جو ان قوموں کے جو بڑے ہیں وہ کس لے رہے ہیں لوگوں سے اور ہم ہمارے ہاں کس طرح دے رہے ہیں اس پہ دیکھیں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تم پر تم سے زیادہ مہربان ہے ہمارے ائمہ تو بے پناہ رحمت محبت اپنی ماننے والوں پر نچھاور کرتے تھے دیتے تھے گھر سے دیتے تھے اپنے اپ سے دیتے تھے خود مشکلوں میں رہتے تھے لیکن سورہ دہر میں بی بی زہرا سلام اللہ علیہا ان کے خانوادے مقدس کا عمل کیا ہے اب میں بھی توجہ کرو نا اپنے امام کی طرف میرا بھی ایک ایک عمل جو ہے وہ حساب ہوگا صبح اٹھ کر مولا کے لیے سلام کرنا ان کے لیے صدقہ دینا اپنے اور اپنے بچوں کے صدقے پر اپنے مولا کا صدقہ ترجیح دینا یہ پیغام بھی محبت ہے بہت سارے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اے مولا کو صدقہ کی ضرورت ہے نہیں مجھے ضرورت ہے ہمیں ضرورت ہے کیونکہ صدقہ یعنی امام کی توجہ دے دو مولا جب ظہور کریں گے تو ہماری جانیں صدقہ بنیں گی تو تھوڑا سا مال اس پر پوچھنے کی بات کیا ہے تھوڑا سا مال ہم نچھاور کرتے ہیں کہ مولا ہمیں نہیں پتہ اپ کہاں لیکن جہاں بھی ہے اللہ اپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے یہ صدقہ ہماری محبت کا پیغام ہے ہم اپ کی سلامتی چاہتے ہیں چونکہ ہمارے مولا جو ہیں وہ ہماری جہنم سے زیادہ ان کی جان ترجیح رکھتی ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم بے پرواہ ہو جائیں یہ وہ ہستی ہے کہ جو فرماتے ہیں کہ میں پیغمبر کا اخری وسیع ہوں میرے وسیلے سے خاندان اور مرشیوں سے مصیبتیں دور ہوتی ہے اہل زمین کے لیے امان کا باعث ہو ہمارے امام ہمارے غموں میں غمگین ہماری خوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں ہمارے حالات سے واقف ہے جیسا کہ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شیعہ چاہے ہمیں پتہ ہے کب و غمگین ہے کہا وہ خوش ہے وہ بھی ہماری خوشیوں اور غمیوں میں غمگین اور خوش ہوتے ہیں یہ ساری چیزیں جو ہیں وہ معرفت ہے امام کی اور ان کی توجہ ہے اور وہی معنی اقبال ہے یعنی توجہ کرنا اور توجہ لینا اللہ سب ہم سب کو توفیق دے کہ ہم مانو اور مفہوم اقبال اپنے اندر پیدا کریں یعنی مولا کی طرف توجہ کرے اور ان کی توجہ ملے مولا کی دعاؤں میں ان کی نگاہوں میں ائے ہیں
درس نمبر ۱۱ – کتابچہ ۸
اپنے زمانے کے امام سے عہد و پیمان
سورۃ الرعد کی آیت نمبر ۲۰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اہلِ ایمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرتے ہیں اور اسے نہیں توڑتے۔
اللہ سے جو عہد و پیمان ہوتا ہے، وہ اس کے ولی کے ذریعے ہوتا ہے۔ روایات میں ائمہ علیہم السلام نے فرمایا کہ ہم اللہ کا عہد ہیں۔ جس نے ہم سے وفا کی، اس نے اللہ سے وفا کی، اور جس نے ہم سے عہد توڑا، اس نے اللہ سے عہد توڑا۔
ایک سچا منتظر اپنی باطنی کیفیت کو درست کرتا ہے، اپنے رب سے تعلق مضبوط بناتا ہے، اور دل سے یہ عہد کرتا ہے کہ:
> “میرا وجود، میرا مال، میری اولاد — سب تیری عطا ہے، اے اللہ! میں یہ سب تیری اور تیرے ولی کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوں۔”
قرآنِ کریم میں سورۃ النحل میں فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، مگر جو اللہ کی راہ میں دو گے وہ باقی رہے گا۔
لہٰذا جب ہم اپنے وقت کے امام کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو وہ عمل ضائع نہیں ہوتا، بلکہ کئی گنا بڑھ کر واپس ملتا ہے۔
ایک مؤمن اپنے امام سے بیعت کرتا ہے، عہد و پیمان باندھتا ہے — جیسے دعاِ عہد میں ہم یہ وعدہ دہراتے ہیں کہ ہم اپنی جان، مال اور ہر چیز امام کے مقصد کے لیے قربان کرنے کو تیار ہیں۔
جب بھی کوئی مشکل یا پریشانی آئے تو امامِ وقت کی پناہ حاصل کریں، کیونکہ امام ایک مہربان باپ، مخلص بھائی اور سچے دوست کی طرح مومن کی مدد کرتے ہیں۔
تحریر: شہر بانو
درس # 12
کتابچہ # 8
موضوع# انتظار اور وظائف منتظرین
منتظر کے لئے ایم وظیفہ یہ ہے کہ اللہ سے محمد و آل محمد کے وسیلے سے ہدایت مانگے
جیسا کہ دعائے ندبہ میں ہے
محمد و آل محمد کو وسیلہ قرار دیا گیا ہے یعنی اگر جنت حاصل کرنی ہے اگر ہدایت پانی ہے تو آپ حضرات ذریعہ و وسیلہ ہیں اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان جو واسطہ ہیں وہ یہ ہستیاں ہیں
اسی طرح روز عرفہ میں جو دعا مانگی جاتی ہے جو امام زین العابدین ع سے نقل ہوئ ہے وہاں بھی یہی تعبیر یے کہ آپ پروردگار کی طرف وسیلہ ہیں اسکی جنت کی طرف راہ ہیں
جب ہم نے ان ہستیوں کو مان لیا یہ ہدایت کے ذرائع ہیں تو اب یہ دیکھیں کہ ان سے کیا مانگنا ہے
کس طرح کی ہماری آرزوئیں ہونی چاہئیں وہ ان ع کی شان کے مطابق ہوں اور واقعا جو ہماری ضرورت ہے اس کے مطابق ہو
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ قبل از اسلام طائف کا ایک شخص کے گھر نبی کریم ص مہمان بنے تھے اس نے بہت احترام کیا تھا
جب نبی ص حاکم بن گئے تو لوگوں نے اس سے کہا کہ وہ شخص اب حاکم بن گیا ہے تمہارے برے حالات ہیں جاؤ ان کی خدمت میں اور کچھ مانگو بس وہ آیا اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے مجھے پہچانا میں وہی ہوں جس کے گھر آپ مہمان آئے تھے نبی ص نے فرمایا مرحبا میں پہچان گیا بتاؤ کیا چاہتے ہو اس نے بہت سوچا پھر کہا مجھے دو سو بھیڑے چرواہے کے ساتھ چاہئیں
پیغمبر ص نے سوچا سر جھکایا پھر کہا اس کی حاجت پوری کردیں اس کو دے دیں اس کے بعد اصحاب سے افسوس کے ساتھ فرمایا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس شخص کا حوصلہ اس بوڑھی عورت سے کم ہو اصحاب نے پوچھا تو نبی ص نے فرمایا
میرے بھائ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے شام کی طرف ہجرت کرنا چاہتے تھے تو وحی ہوئ اے موسیٰ یوسف کا جسد بھی اپنے ساتھ لے جاؤ تو ایسے شخص کو ڈھونڈ اگیا کہ جس کو یہ علم ہو کہ حضرت یوسف کہاں دفن ہیں لوگوں نے کہا اس جگہ کو بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت جانتی ہے حضرت موسیٰ نے اسکو بلا کر کہا تم جو مانگو گی دیا جائے گا بتاؤ وہ جنازہ کہاں ہے اس نے کہا میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک میری درخواستیں پوری نہ ہوں حضرت موسیٰ نے کہا جنت چاہئے اس نے کہا وہی جو مجھے چاہئے حضرت موسیٰ حیران ہوئے وحی آئ اے موسی قبول کرو تم نے نہیں دینا ہم نے دینا ہے موسیٰ نے کہا کہو اس بوڑھی عورت نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ جنت میں روز قیامت میں آپ کے ساتھ رہوں اور جو آپ کا رتبہ و مقام ہے وہی میرا ہو
بس رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ٹھنڈی سانس لی اور فرمایا کہ یہ جو طائف کا شخص ہے اس نے کیسی درخواست کی اس کی درخواست کیوں نہ اس بوڑھی عورت کی طرح تھی اس کا حوصلہ و ہمت کیوں اس عورت سے کم تھا
مطلب یہ کہ ہم بسا اوقات ان ہستیوں سے توسل تو کرتے ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگتے ہیں جو ہمیں ویسے تھوڑی سی محنت سے مل سکتی ہیں ہم اپنی چھوٹی خواہشات ان سے مانگتے ہیں جب کہ یہ کریم ہیں سچے ہیں ان سے وہ مانگنا چاہئے جو کہیں سے نہیں ملتا جو دنیا میں کوئ پورا نہیں کرسکتا
آخرت مانگیں قبر کی آسانیاں مانگیں روح کا علاج مانگیں برائیاں ہورہی ہیں ان کا حل مانگیں تربیت مانگیں علم مانگیں
بس پہلے اپنے آپ کو پہچانیں اپنی ضرورتوں کو درک کریں وہ ضرورت جو اپنی محنت سے دنیا میں ڈھونڈ نے سے پوری نہیں ہوسکتیں وہ ان سے طلب کریں
اس وقت امام زمان عج موجود ہیں اللہ نے ان کو ہمارے لئے ہادی قرار دیا ہے ہادی مسیحا نفس ہیں تاریک راہوں کو کھولتے ہیں روشن کرتے ہیں وہ عج عظیم ذات ہیں کہ جن کے بارے میں نبی ص نے فرمایا امام مہدی وہ ہستی ہیں کہ جن کے وجود سے غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی تم سب آزاد ہو جاؤگے
تو کس چیز کی غلامی ؟ کس چیز کی زنجیریں ؟ غلامی کی زنجیریں خواہشات کی گناہوں کی
تو شرق و غرب ہدایت پائے گا پوری دنیا میں مولا عج کی ہدایت نافذ ہوگی
بس اللہ سے اسی طریقے سے مانگو جیسے اللہ نے چاہا ہے ان ہی راستوں سے تمسک و توسل رکھو جو راستے خدا و رسول نے بیان کئے ہیں اللہ ہم سب کو اسی طرح کا منتظر ہونے کی اور محمد و آل محمد سے صحیح معنوں میں متوسل ہوکر اور حقیقی ہدایت لینے کی تو فیق عطا فرمائے 🤲
الہی آمین
13 missing
*درس 14*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کے ثمرات ، صبر دین آئمہ میں سے ہے، صابر کا درجہ صدیق ہے،امام حسین ع کی غیبت کے بارے پشین گوئی ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیبت میں منتظرین کی توصیف کرنا،صابرین ہی حزب اللہ ہیں*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام وعلیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن کتابچہ انتظار ہے اور ہماری جو گفتگو ہے وہ انتظار کے ثمرات پر پہنچی کیونکہ اہم ترین بحث جو ہے انتظار کے حوالے سے وہ یہ ہے کہ ہم اگر مولا کا انتظار کرتے ہیں تو اس کا ثمرہ ہمیں کیا حاصل ہوتا ہے ممکن ہے امام کے ظہور میں بھی تاخیر ہو لیکن میں بھی انہوں نے منتظر جو انتظار کر رہا ہوں مجھے خود اپنی انفرادی اجتماعی زندگی میں اس کے کیا فوائد اور برکات جو ہیں وہ حاصل ہو رہی ہیں۔
سب سے پہلا ثمرہ جو ہمارے ماہرین بیان کرتے ہیں احادیث و روایات کی رو سے وہ صبر ہے صبر جو ہے وہ ایک پاکیزہ متقی شخص کی اندرونی ایک صفت حسنہ ہے کہ وہ مشکلات اور مصائب کے سامنے جو ہے وہ حصہ پلائی دیوار بن جائے اور اپنا دفاع کرے اپنی شخصیت کا اپنے اداب کا اور کبھی بھی رائے حق سے نہ ہٹے اور متزلزل نہ ہو صبر بہت مشکل ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے لیے توانائی جو ہے وہ انتظار فراہم کرتا ہے اس حوالے سے امام صادق علیہ السلام کا بہار الانوار میں یہ فرمان موجود ہے فرماتے ہیں کہ اور اس کے بعد کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں اور اخر میں کہتے ہیں انتظار الفرج فرماتے ہیں کہ ائمہ کا جو دین ہے ائمہ کی جو روش ہے وہ یہ ہے کہ وہ پرہیزگار ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ صبر کے ساتھ جو ہے وہ ظہور کے منتظر ہیں صبر کے ساتھ اسانیوں کے منتظر ہیں صبر جو ہے وہ ایک منتظر کی یوں سمجھنا نشانی بھی ہے اخر وہ اہل تو بات یہ ہے کہ یہ جانتا ہے کہ کائنات جو ہے وہ حجت خدا سے خالی نہیں ایک حجت خدا موجود ہے جو پشپنا ہے اور بالاخر وہ کسی وقت بھی ظہور کر سکتے ہیں اور ان کے لیے راہ جو ہے وہ کھل سکتی ہے اور یہاں اپنے امام کی اقتدا میں جو ہے وہ صبر کرتا ہے وہ بھی مشکلات کا جو ہے وہ مقابلہ کرتا ہے مشکلات جو ہے وہ تو بلاخر پیش ائیں گی اور ہمیں پتہ نہیں کئی طرح کی مشکلات پیش ا رہی ہیں مادی تو اپنی جگہ سیاسی اپنی جگہ اس کے علاوہ ایک مشکل جو ہے وہ خود دین کے موضوع میں بھی ہے اتنے انفرافات فرقے بدعتیں اس حوالے سے امام حسین علیہ السلام کا فرمان ہماری کتابوں میں موجود ہے نقل کر رہے ہیں کہ مولا فرماتے ہیں کہ امام مہدی کے لیے ایک ایسی غیبت ہے کہ جس کے دوران ایک گروہ دین کو چھوڑ دے گا اور ایک گروہ دین کا پابند رہے گا اور جو دین کا پابند رہے گا اسے لوگ اذیت دیں گے اور انہیں کہیں گے اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ مہدی کے ظہور کا وعدہ کب پورا ہوگا لیکن وہ جو زمانہ غیبت میں ان مشکلات اور جھٹلائے جانے پر ثابت قدم رہیں گے صبر کریں گے وہ ایسے مجاہد کی مانند ہیں جو رسول خدا کے ہمراہ تلوار سے جہاد کر رہا ہوں اب یہاں مولا نے جو پشین گوئی کی اس نے یہ بتا دیا کہ غیبت کے زمانہ کے جو لوگ ہیں جیسے ہم ہیں ہمیں ایک بہت بڑی مشکل کا جو سامنا کرنا پڑے گا وہ خود دین کے اندر اذیت بازار ہے یعنی کچھ لوگ دین کو چھوڑیں گے یعنی ولایت سے ہٹ جائیں گے اس سے مہدویت جائیں گے جیسے ابھی بھی بعض لوگ سمجھ تے ہیں کہ یہ افسانے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں تو یہاں ہمیں پتہ چلے گا ہم کتنے دین سے متمسک ہیں اور کتنے دین پر ثابت قدم ہے یہاں اصل جو ہے مقام صبر ہے اج ہم ان چیزوں کا سامنا کریں ایک اور روایت اس حوالے سے کہ جو امام صادق علیہ السلام سے لقد ہوئی یہ بھی اصول کافی میں ہے روایت یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام جو ہے وہ نقل کرتے ہیں اپنے ابا و اجداد سے اور یہاں تک کہ رسول خدا خدا سے کوئی نقل کیا اور اس اعتبار سے یہ حدیث ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ائے گا کہ جب قتل و غارت کے علاوہ حکومت ہاتھ نہ ائے گی یعنی جو بھی حق بنے گا پہلے کتنی قتل و غارت کرے گا جیسے اج بھی ہم دیکھ رہے ہیں جب حکومتیں چینج ہوتی ہیں درمیان میں کتنی ہی بے گناہ مارے جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مال و سروت سوائے غضب اور بخلق نہیں ملے گی مال و سرور جو ہے سوائے غصب اور بخل حسب سے مراد یعنی یہی ہے کہ ان لوگ لوگوں کے مالوں پر قبضہ کریں گے اور ناجائز طریقے سے دوسروں کے مال جو ہے وہ ان سے کھینچے جائیں گے اور بخل کریں گے بخل یہ نکل جوسی سخاوت سے دوری اختیار کریں گے اجتماعی طبقات بن جاتے ہیں وجہ سے لوگ کچھ امیر سے امیر ہوں گے کوئی فقیر سے فقیر تو اس کے بعد مولا فرماتے ہیں محبت اور دوستی دین سے خارج ہوئے بغیر حاصل نہ ہوگی یعنی وہی دوست بنے گا جو بے دین ہوگا اور وہ بے دینی کو پسند کرے گا دیندار سے دوستی نہیں ہوگی دین داروں کو حقارت کا احساس کمتری کا نشانہ بنایا جائے پھر مولا فرماتے ہیں بس جو بھی اس زمانے کو پائے اپنی تنگدستی پر صبر کرے یہاں سے اب نصیحتیں مولا کی کہ جو زمانے کو پائے اسے چاہیے کہ وہ اس تنگدستی پر کیونکہ غربت ہے ایسا نہیں ہے پیسہ بھی دینوں کے پاس ہے صبر کرے اگرچہ لوگوں کی محبت کو طلب کر سکتا ہو لیکن اس ذلت و خواری پر صبر کرے یعنی بے دین ہو کے اگرچہ لوگوں کا دوست بن سکتا ہے لیکن دین دار رہ کر ذلت برداشت کر رہا ہے اس پر صبر کر دیتے ہیں جبکہ عزت دار بننے کی طاقت رکھتا ہو لہریں جب کہ بدین بنے گا تو لوگوں کی نگاہوں میں عزیز بنے گا لیکن وہ دینداری پر رہتا ہے اور صبر کرتا ہے فرماتے ہیں دیکھیں ایسا شخص جو ہے وہ اللہ تعالی جو ہے اس کو صدیق کے برابر جو ہے وہ اجر و ثواب عطا کرے گا صدیق ایک مقام ہے جو قران مجید میں اللہ نے نبیوں کے بعد صدیقین کا ذکر کیا ہے یعنی بہت بلند مقام ہے تو صدیق کے برابر جو ہے خدا اسے اجر و ثواب دے گا اب یہاں جو عزت اور ذلت کی بات ہوئی ہے وہ دنیا کے اعتبار سے ہے نہ کہ اللہ کے زبان سے اللہ کے اعتبار سے مومن ہمیشہ عزت رکھتا ہے چاہے وہ غریب ہو یا امیر ہو چاہے وہ فقیر ہو اصل میں عزت ہو یا جو خدا کے نزدیک ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امام کاظم علیہ السلام کا فرمان ہے فرماتے ہیں جو بھی صبر کرے اور منتظر رہے اسے کامیابی اور خرچ یعنی یہ اسانیاں حاصل ہوں گی اور فرماتے ہیں کہ یہ خود انتظار کی جو کیفیت ہے یہ بھی اسی فرج یوسی اسانیوں کا ایک حصہ ہے لیکن اب بار بار منتظر کے لیے صبر کی بات ہو رہی ہے صابر لوگ ہی اصل میں مولا کے ظہور کا سبب بنیں گے جو قائم رہیں گے ثابت قدم رہیں گے یہ گویا کہ ہمارے لیے بنیادی اور حیاتی مسئلہ ہے منتظرین کے اس لیے اپ دیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بشارتیں دی ہیں اہل انتظار میں وہ صبر کرنے والوں کو بشارت دی یہ جو فرمان ہے مشہور فرماتے ہیں کہ قال رسول اللہ وہ جو قائم کی غیبت میں اہل صبر ہے ان کے لیے بشارت ہو فرماتے ہیں یہ وہ ہیں کہ جن کی اللہ نے اپنی کتاب میں توصیف کی ہے کیا فرماتے ہیں یہ وہی ہے کہ جن کی قران مجید کے اندر اللہ نے تعریف کی ہے کہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ اللہ کا گروہ ہے اور اللہ کا گروہ جو ہے وہ ہمیشہ کامیاب ہونے والا ہے تو بس ہماری ایک اہم ترین جو ذمہ داری بھی بنتی ہے اور ثمرہ ہے یعنی انتظار ہمیں یہ طاقت دے رہا ہے کہ ہم اپنے اپ کو ان تمام مشکلات کے مقابل جو ہے صابر قرار دیں اور کسی صبروری حالت کو انشاءاللہ جاری رکھیں باداخل کامیابی صابرین کا جو ہے وہ مقدر ہے اللہ ہم سب کو صابرین منتظرین میں سے قرار دے
*درس 15*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کے ثمرات ، ذکر اور اپنی اصلاح،غفلت اور وسوسوں سے بچنا ہے تو اہل ذکر بنیں ، کیسے ذکر کیا جائے، اصلاح نہ ہونے کے نقصانات ، تاریخ میں عبرت کے نمونے، اخلاق کا آغاز کس طرح ہوتا ہے،آئمہ علیہم السلام کے فرامین اور امام زمان عج کا شکوہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار کے ثمرات ہیں اس حوالے سے صبر کا ذکر ہو چکا ہے جو کہ اہم ترین سمرا ہے ایک منتظر کے انتظار کا مزید جو احادیث اور روایات کے اندر صبر کے ثمرات ذکر ہوئے ہیں ان میں سے ایک ذکر ہے ذکر یعنی وہی انسان کی عبادت وہی دعائیہ مناجات یا صلوات پر یا استغفار پر مشتمل کلمات جو کہ ہماری دعاؤں کی کتابوں میں موجود ہے جیسے مفاتیح الجنح ہے ہر دن کی مناسبت سے دعا ہے زیارت ہے اسی طرح انسان پر جو مختلف کیفیتیں اور حالات اور مشکلات جو بھی طاری ہوتا ہے یا اتا ہے اس پر کچھ نہ کچھ پڑھنے کا اللہ کو یاد رکھنے کا محمد و ال محمد کے طفیل کچھ مانگنے کا جو ہے وہ ہمیں ایک ذکر ہے جو سکھایا گیا ہے اس سے انس پیدا کرنا اور اسے اپنا ورد زبان رکھنا یہ منتظر کے انتظار کا ثمرہ ہے چونکہ منتظر ا اس غیبت کے زمانہ میں سب سے بستر جس چیز کا تشنہ ہے وہ کل بھی سکون ہے اور روحانی تسکین اور وہ چاہتا ہے کہ مجھے وسوسوں اسی طرح غفلت سے نجات ملے تو ایک طرف تو وہ اپنی معلومات کو بڑھا رہا ہے جس سے اس کے اندر بصیرت فہم ادراک پیدا ہو رہا ہے اس کی نگاہ جو ہے وہ امیق اور بہتر ہو رہی ہے اور دوسری طرف جو ہے شیطانی اور نفسانی وسوسوں سے بچنے کے لیے اسے ضرورت ہے ذکر کی ایک تو روز مرہ کی جو عبادت ہے وہ تو حتمن ہونی چاہیے وہ تو اس کی دینداری اس کا ایمان سب کچھ اس پہ موقوف ہے ہم جو ذکر کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ منتظر چونکہ مولا کا ناصر بنے گا تو اسے کبھی بھی غافل نہیں ہونا چاہیے اور ہر وقت جو ہے وہ تیار ہونا چاہیے چونکہ یہ جو غفلت ہے یا بے خبری ہے یہ بعض اوقات پڑھے لکھے لوگوں کو بھی لاحق ہوتی ہے لہذا یہاں فقط علم کارساز نہیں بلکہ ذکر ہے جو چارہ ساز ہے اور اسی سے وہ فتنہ فساد اور وسوسوں سے بچے چونکہ زمانہ غیبت میں شیطان کے یا شیطان کے معنی جو لوگ ہیں ان کے جو حملے ہیں وہ بڑے سخت ہیں اور مختلف قسم کے فتنے مختلف قسم کی بدعتیں مختلف قسم کے شیطان نامہ لوگ جو بظاہر ہو سکتا ہے ایک روحانی شکل میں ائیں اور لوگوں کو جو ہے وہ راہ حق سے دور کرتے ہیں اسی لیے ایک مومن کی روح کو قوی رہنے کے لیے اور اس کے دل کو لاحق زندہ رکھنے کے لیے اور دل کی نورانیت بستر جو ہے وہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اذکار کی نورانیت اور اس عظیم عبادت کی جو ہے وہ حلاوت اس سے اپنی زندگی کو اباد رکھے پھر وہ ایک مستحکم انداز سے معاشرے کے اندر ایک پختہ انداز سے جو ہے وہ اپنے امور انجام دے گا اور بلکہ کئی لوگوں کی رہنمائی کا باعث بنے گا تیسری چیز جو ہم ایک منتظر میں دیکھ رہے ہیں کہ انتظار میں اس کی اصلاح کر دی ہے اسے پاکیزہ کر دیا ہے اس کے باخلاق بنا دیا اخلاق حسنہ کا انا جو ہے وہ انتظار کے ثمرات میں سے ہے اپ نے تاریخ کے اندر کئی لوگوں کو دیکھا کہ جو بظاہر شروع میں ائمہ کے ساتھ تھے لیکن بعد میں انہوں نے چھوڑ دیا جس کی اہم مثال جناب طلحہ اور زبیر ہیں جو شروع میں امیر المومنین کے ساتھ تھی اور بعد میں یہی لوگ بیت شکن ہوئے یا عمر سد دیکھیں گے یا اس طرح کے بہت سارے لوگ ہیں کیا وجہ تھی وجہ وہی تھی کہ اخلاقی جو کمزوریاں ہیں وہ ان پر چھا گئی اور ان کی وہ اصلاح نہ کر سکے امام نے میرا ہر منتظرین کو جو ہے وہ دنیا کی حکومت دینی ہے منتظر وہ ہے جس نے اپنے اپ کو تمام اخلاقی صاف نقص اور ان سے پاک رکھا اتنا وہ پاکیزہ ہوگا اتنا ہی وہ ترقی کرے گا اور بہتر انداز سے مولا کی برکت کر سکے اخلاق کا اغاز جو ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان سے شروع ہوگا کہ مولا نے جو ایک مسلمان کی نشانی بیان کی کہ مسلمان کون ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یہاں سے اواز ہے اخلاق کا یا مسلمان کون ہے مسلمان وہ ہے کہ جو اس حالت میں صبح کرے اور اسے مسلمانوں کے امور کی کوئی فکر نہ ہو فرماتے ہیں مسلمان نہیں ہے مسلمان یعنی فکر مان جو صرف اپنے گھر اور پیٹ کی حد تک فکر نہ رکھے بلکہ امور مسلمین کی فکر بھی اس کے اندر اخلاق میں یہ کہتا ہے کہ اگر اپ دنیا کے دیگر مسلمانوں کی مدد نہیں کر سکتے کم از کم ان کے لیے دعا کر سکتے ہیں انسان کو با اخلاق ہونا چاہیے تمام اخلاق کی خصوصیات سے جو ہے اسے مزین ہونا چاہیے اور تمام برائیوں سے اخلاق کی برائیوں سے بات ہونا چاہیے اسی لیے اپ دیکھیں کہ ائمہ سے پوچھا گیا ہے انہوں نے اخلاق حسن کی بات کہ جو شخص اخلاق نہ رکھے گا اور صاحب تقوی ہوگا وہ منتظر غیبت نعمانی میں بھی ہے اور کہ ہر انوار کے اندر بھی ہے کہ بعض دفعہ ائمہ یہ فرماتے تھے کہ امام قائم کا ظہور جو ہے وہ ہو سکتا ہے اچانک وہ فرماتے تھے تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ ہر وہ کام جو ہماری محبت کا باعث بنے اسے اپنائیں اور جو کام ہماری ناراضگی کا سبب ہو اس سے پرہیز کرے کیونکہ ہمارا فرمان جو ہے وہ اچانک اور پھر اس وقت توبہ اور لوٹنا کسی کو فائدہ نہیں دے گا گناہ پر پشیمانی کسی کو ہمارے غضب سے نجات نہیں دلائے گی جتنے بھی گنہگار ہیں بلاخر وہ ضرب کھائیں گے اس زمانے میں یہاں سزا پائیں گے اگر انہوں نے ایسے گناہ کیے ہیں جو دوسروں پر ظلم و ستوں کا باعث بنے یا جو اپنے گناہوں کی وجہ سے کوئی خاص ترقی نہیں کر پائیں گے اور بالاخر وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے کہ جو ہو سکتا ہے کہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مولا کے مد مقابل قرار اور نیکیوں کے امام کی دشمنی میں اٹھ کھڑے ہوں گناہ جو ہے وہ انسان کو نبی اور امام کے مقابلے میں بھی لے اتے ہیں اسی لیے بہت زیادہ زور ہے کہ اصلاح کریں جیسے اج لوگ بد اخلاقیوں میں اللہ کی پرواہ بھی نہیں کرتے تو اس وقت بھی وہ ہو سکتا ہے گناہوں کے چسکے اور ان گناہوں کی جو بیہودہ لذت ہے اس کی خاطر وہ امام کے مدمقابل ہے اس لیے ہمارے زمانے کے امام جو ہیں وہ بہت زیادہ فکر مند ہیں ہماری اخلاقی حالت کے حوالے سے یہ جو مرحوم شیخ مفید کے نام امام زمہ کی توقی صادر ہوئی تھی اس میں یہ فرمایا تھا کہ صرف وہ چیز جو ہمیں دور کر رہی ہے اپنے شیعوں سے وہ ان کے ناپسندیدہ اعمال ہیں جو ان کی طرف سے ہم تک پہنچتے ہیں اور ہماری خوشی کا باعث نہیں ہے بلکہ رنگ کا باعث ہیں اور ہمیں تو ان اعمال کی توقع بھی نہیں اپنے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا قائم کا ناصر کیسا ہونا چاہیے فرماتے ہیں قاری رکھیں اور اخلاق حسنہ سے اپنے اپ کو زینت دے تمام خوبیاں اس کے اندر ہوں بدیاں نہ اس کا تعارف جو ہے وہ بے عنوان ایک شخصیت اخلاق کی اللہ ہم سب کو اس طرح کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے توفیق عطا فرمائے
*درس 16*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کے ثمرات ، منتظر باامید ہے ، انتظار اور تشیع کی بقاء کا فلسفہ،زندہ امام کے وجود پر یقین اور انکے ظہور کی امید شیعہ کی حیات،امام زمان عج کی ہمراہی ، اقتداء امام ہی شیعہ زندگی ، آج کے شیعہ سے امام زمان عج کی جھلک، آج کی دعائے امام زمان عج جو منتظرین کی شخصیت بیان کرتی ہے، امام زمان عج کی ہمراہی کی دعا، ماہ رمضان کی دعاؤں کا فلسفہ، خیمہ امام زمان عج کیا ہے؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار کے ثمرات ہیں ایک منتظر جو اپنے وظائف منتظرین کو انجام دے رہا ہے اس کی شخصیت کیسی ہے وہ کن صفات کا اور کس طرح کے کردار کا مالک ہے اس حوالے سے مختلف منتظر کی شخصیت کی پہچان کے حوالے سے پوائنٹ اپ کی خدمت میں بیان ہوئے اج جو دو چیزیں بیان ہوں گی ان میں سے ایک اس کا ہمیشہ پر امید ہونا امید رکھنا منتظر یعنی مایوس نہیں ہے اگرچہ دنیا میں ایم بے پناہ ظلم دیکھ رہا ہے گناہ دیکھ رہا ہے پریشانیاں مصیبتیں لیکن اسے چونکہ یقین ہے کہ میں جس امام کی امامت کا قائل اور جس نے ظہور کرنا ہے وہ ابھی زندہ ہے ہمارے درمیان موجود ہے حاضر و ناظر ہیں نتیجتا وہ کبھی بھی حالات سے مایوس نہیں ہوگا وہ ان تمام مشکلات کا مقابلہ جو ہے اس امید سے کہ کسی وقت بھی مولا ظہور کر سکتے ہیں اور یہ دنیا جو ایک ستم کدہ بنی ہوئی ہے مرکز عدالت بن جائے گی لوگ ظلمتوں سے نکل کر ہدایت کے نور میں ا جائیں گے وہ اسی لیے اسی امید سے اپنے سخت ترین حالات سے لڑتا ہے اپنے نفس سے لٹتا ہے شیطان سے لڑتا ہے اور ارد گرد معاشرے میں انسانوں کی شکل میں بے پناہ شیاطین ان کے نام مشہور تقاضوں سے لڑتا ہے بالاخر وہ جیتا ہے اور اپنے ساتھ بہت ہی بہت سارے لوگوں کو جینے کا درس دیتا ہے دنیا میں کوئی بھی تحریک اس وقت تک زندہ رہتی ہے جب تک اس تحریک کے اندر موجود لوگوں کو یقین ہو کہ ہمارا رہبر زندہ ہے اگرچہ وہ رہبر کچھ بھی نہ کر رہے ہو صرف اس کا زندہ ہونا ہی کافی ہوتا ہے لوگوں کو حوصلہ اور توانائی دیتا ہے اگر وہ رہبر نہ ہو فوت ہو جائے تو وہ تحریک جو ہے وہ فورا جو ہے وہ اختلافات کا شکار ہو جاتی ہے اور دشمنوں سے ختم کر دیتے ہیں امام مہدی صلواۃ اللہ علیہ ہے تقریبا 1200 سال ہونے والے ہیں وہ ہمارے درمیان ہے اور زندہ ہے بے پناہ واقعات ملاقات اور ان کے خطوط اور ان کا شرق و غرق میں مسلسل سفر اور حرکت میں رہنا جہاں شیعوں کو بہت ساری مصیبتوں اور مسائل سے بچائے ہوئے ہیں وہاں کیا ملت کے اندر امید عدالت سے اور زندگی کی روح بھی پھنکے ہوئے اور شیعہ اپنے مولا کے ظہور کی امید کے ساتھ اپنے مکتب کو اپنے وجود کو اپنی ملت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں دوسرا جو ثمرہ ہے تو امام کی حملہ ہے منتظر جو ہے اس کے لیے کوئی نہ کوئی ایک ائیڈیل ہونا چاہیے ایک نمونہ ہے اور اس کی زندگی کس سے ملنی چاہیے کس جیسی ہونی چاہیے شیعوں کی زندگی ہمیں اور اج کے شیعہ کی زندگی امام مہدی جیسی ہو اس کے کردار گفتار سے امام مہدی کی جھلک ہو چونکہ وہ ان کے ہمراہ ہیں ان کے ہم رکاب ہیں شیعہ یعنی اپنے امام جیسا ایک دعا جو بڑی معروف ہے مفاتح الجان میں اصل میں یہ اج کے شیعوں کی دعا ہے اللہ توفیق سے شروع ہوتی ہے یہ دعا جو ہے یہ شیعہ کردار کی منظر کشی کرتی ہے اور اس کے اندر جب وہ یہاں پہنچتا ہے کہ وہ جلی بہر رسول سبیلا یعنی اپنے پروردگارا جو تیرا نمائندہ ہے جو تیرا سفیر ہے اس کی ہمراہی اور اس کے ہمراہ ہونے کی جب وہ ہم راہی یعنی قدم قدم پر ساتھ ہونا البتہ یہ ہمراہی والی جو دعا ہے یہ امام صادق علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ہے جو ہم ماہ رمضان میں ہیں مانگتے ہیں لیکن یہ ہماری پوری زندگی کی عکاسی ہے بہرحال رمضان کی دعاؤں کا فلسفہ یہ ہے کہ رمضان میں عبادتیں مناجات دعائیں کرنا سکھاتا ہے لازمی نہیں ہے کہ یہ دعائیں صرف ماہ رمضان کی حد تک محدود رکھے باقی ایام کے اندر بھی ہم یہ دعائیں مانگا کریں ماہ رمضان یعنی ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے دعا کرنی ہے اور یہ دعا جو ہے یعنی ہم پورا سال مانگ سکتے ہیں وہ سکھا رہا ہے صرف ماہ رمضان ایک قسم کا معلم ہے ہمیں باقی 11 ماہ میں ایک ایسی زندگی گزارنی ہے وہ درس ماہ رمضان دیتا ہے تو منتظر یعنی جو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنے امام جیسا ہو یہ بات تو میں اپنے امام جیسا لوگوں کی امور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنے امام جیسا اپنے معاملات اپنے اقتصادی امور میں حلال و حرام کا خیال رکھنے میں اپنے امام جیسا اپنے ہمسائے اپنے والدین اپنے عزیزوں ان کے حقوق ان کی صلح رحمی ان تمام چیزوں میں اپنے امام جیسا اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ روایات کے اندر ما معرفت منظر کی جو ایک تعریف کی گئی ہے یا شخصیت بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ شیخ استاد تھے کہ منتظر یعنی ایسا ہے کہ جو گویا اپنے امام کائم کے ساتھ ان کے خیمہ میں زندگی گزارتا ہو منتظر یعنی امام مہدی کے ہمراہ رہنے والا ان کے خیمہ میں رہنے والا یہ اصل میں ہماری زندگی ہے کہ ہم امام کے ہمراہ رہے ہیں اپنے تصورات میں اپنے خیالوں میں اپنے ذہنوں میں اور حقیقی زندگی میں بھی اس ہمراہی کو محسوس کریں مولا ہمارے وجود سے ان کی جھلک جو ہے وہ ظاہر ہو جو ہمیں دیکھ کے اسے امام مہدی یاد ائے یعنی ہماری زندگی کا عمل مہدی زندگی ہو جب ہمارے رنگ مہدوی ہوں گے تو مولا ظہور کریں گے کیسے امام ظہور کریں جب ان کے ماننے والوں کے رنگ کچھ اور طرح کے ہیں بلکہ اکثر جو ہے ان کے رنگ الہی نہیں ہے شیطانی ہے امام کے دشمنوں جیسے ہیں کیسے مولا ضرور کریں انہیں ایسی سپاہی چاہیے کہ جو اپنے کمانڈر اپنے رہبر اپنے سالار کی خوشبو دیتی ہے ۔
*درس 17*
*کتابچہ 8 انتظار*
*موضوع: انتظار کے ثمرات ، منتظر بابصیرت ہے ، بصیرت کیا ہے کیسے حاصل ہوگی ، امام سجاد ع کی نگاہ میں غیبت کے بابصیرت منتظرین کا مقام ،امام صادق ع کی بشارت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فضیلت بیان کرنا*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
السلام علیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع سخن انتظار ہے اور انتظار کے ثمرات اس حوالے سے ہم نے کچھ چہ نکات اپ کی خدمت میں بیان کی ہے ایک چھٹا جو ہے انتظار کا وہ بصیرت ہے منتظر شخص اپنے اپ کو ہر پہلو سے تیار کرتا ہے اور انسانی زندگی میں ایک اہم ترین پہلو فکری ہے ایک مومن منتظر کی فکری جدوجہد کا جو نتیجہ ہے وہ بصیرت اور معرفت ہے یعنی جب وہ مطالعہ کرتا ہے اور ذکر کرتا ہے مختلف دینی ماہرین سے تمام دینی پہلوؤں کو جو ہے وہ جانتا ہے ان پر علم حاصل کرتا ہے اور پھر ان پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے بصیرت حاصل ہوتی ہے ایک گہرائی اسے جو ہے وہ حاصل ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پھر وہ مختلف جو زندگی میں حادثات فتنہ فساد بدعت انحرافات جب بھی پیش ائیں گے تو کبھی بھی متزلزل نہیں ہوگا وہ اپنی بصیرت کی وجہ سے اپنے ایمان پر یعنی حقیقی ایمان اور حقیقی دین پر اور ولایت پر جو ہے وہ قائم و دائم رہے گا مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں یعنی ایک بصیر شخص جو ہے اس کی یہ علامت ہے کہ وہ سنتا ہے اس میں غور و فکر کرتا ہے نر وہ حقائق کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے مکتب تشیع شروع سے ہی دشمنوں کے حملوں کی زد میں اور زمانہ غیبت میں تو بہت زیادہ باہر سے بھی حملے ہو رہے ہیں اور اندر سے بھی منحرف لوگ والی لوگ بدعتیں کرنے والے کو دین میں مختلف گمراہیاں پیدا کر رہے ہیں اب با بصیرت جو منتظر ہے وہ یہاں ایک تو صحیح مکتب کا دفاع کرے گا دشمنوں کو بھی جو ہے وہ دندان شکن جواب دے گا اور دوسری طرف جو ہے وہ اندر جو گمراہیاں پیدا ہو رہی ہیں ان کے خلاف بھی وہ قیام کرے گا جیسے شہدائے کربلا کا کردار ہے سید الشہداء وہ بھی دین میں جو انحراف ہوا تھا اس کے خلاف اٹھے تھے وہ بھی یہاں زمانے کے امام سے وفا کریں گے شہدائے کربلا کی طرح بلکہ حضرت فضل اللہ عباس علیہ السلام کی طرح جو ہے ان کو اپنا جو ہے وہ اس وقت ا جائیں گے اور درس بصیرت لیں گے منتظر مومن جو بصیرت رکھتا ہے وہ ہمیشہ بیدار ہے چونکہ وہ فکری اعتبار سے اتنا پختہ ہو گیا کہ اب تمام سوالوں کا شبہات کا جواب دے رہا ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام جو ہیں وہ غیبت کے زمانے کے جو وابست سیرت کیا ہے ان کے خاص انداز سے جو ہے وہ تعریف فرماتے ہیں اپنے ایک صحابی جناب ابو خالد کو مولا جو ہیں وہ خطاب کرتے ہیں فرماتے ہیں حقیقت ہے جی فرماتے ہیں کہ زمانہ غیبت کے لوگ جو امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے معتقد ہیں اور ان کے ظہور کے منتظر ہیں وہ تمام زمانوں کے لوگوں سے بہتر ہے کیونکہ اللہ نے انہیں اس قدر عقل اور شعور دیا ہے کہ ان کے لیے غیبت جو ہے وہ اب ظہور کی مانند ہو چکی ہے یعنی وہ زمانہ غیبت میں معرفت کے اس مقام پر ہیں گویا مولا کو دیکھ رہے ہیں انہیں پتہ ہے امام کیا ہیں ان کی ہمراہی کیا ہے ان کے اہداف کے ہیں اور کیا کرنا ہے وہ ہمیشہ امادہ اور تیار ہیں اور ہر اعتراض اور شبہ کا راہ انہوں نے بند کیا ہے اور ان کی روح اور قلب ہر شر سے محفوظ ہے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوں گے اس لیے اپ دیکھیں کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں یعنی وہ لوگ جو قائم کی ہمارے قائم کی غیبت کے زمانے میں جو ہمارے ولایت سے متمسک ہیں ان کے لیے خوشخبری ہو ان کا دل ہمیشہ ہدایت پر ہر وہ کبھی بھی گمراہی کی طرف نہیں جھکے گا باطل کی طرف نہیں جھکے گا تو بس ان لوگوں کی ہمیشہ جو ہے وہ عظمت بیان ہوئی ہے کیونکہ یہ ایمان میں کمال صاحب اور یقین تک پہنچے ان کی تعریف جو ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس انداز سے فرماتے ہیں کہتے ہیں کہ اے علی جان لو لوگوں میں باکمال اور ایمان میں صاحب عظمت وہ گروہ ہے جنہوں نے اخر الزماں میں پیغمبر کو نہیں دیکھا اور اپنے زمانے کے امام سے بھی مثلا دور ہیں غیبت ہے لیکن اس کے باوجود وہ با ایمان ہے اور باعمل ہے بصیرت یعنی ایمان اور عمل میں پختہ ہونا اور اج ہمارے پاس الحمدللہ ساری سہولیات موجود ہیں علماء موجود ہیں ماہرین موجود ہیں ظاہر ہے بلاک موجود ہیں ہمارے ہاتھوں میں موبائل انٹرنیٹ کے ذریعے ان ہستیوں تک دس رسی موجود ہے کتابیں موجود ہیں سب کچھ موجود ہے کاش ٹائم ہوتا اور ہم اس کام کے لیے اپنا ٹائم وقف کرتے اور بابصیرت منتظر بنتے اور یہ وہ چیز ہے جس سے ظہور جلد ہوگا اور یہ ظہور میں تاخیر جو ہے وہ ختم ہو گئی اللہ ہم سب کو ایسے باب سیرت منتظرین بننے کی توفیق دے
درس # 19
کتابچہ # 8
موضوع # انتظار
سوال یہ ہے کہ اس انتظار کا نتیجہ کیا ہوگا؟
اس انتظار کا نتیجہ آخری بار منجی کی غیبت پر ختم ہوگا
اللہ وہ زمانہ دکھائے کہ غیبت ختم ہو اور صبح ظہور شروع ہو جیسا کہ قرآن میں اور دعائے عہد میں ہے
اگر ہم انتظار کر یں گے تو ظہور کو نزدیک دیکھیں گے
یہ دنیا یا ظالم ہے وہ ظہور جو دور دیکھتی ہے ہمارا انتظار ہماری ہر حرکت ہماری نیکیاں مولا کے ظہور کو نزدیک کریں گی
اب نتیجہ کیسے دیکھ رہے ہیں وہ حق کی باطل پر کامیابی ہے
قرآن نے بشارت دی ہے جب حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے
امام زمان عج کی شکل میں حق آئے گا اور دنیا سے ظلم باطل گناہوں سے بھری زندگی اور انسانوں کے درد و رنج ختم ہو جائیں گے روایات یہ بتاتی ہیں کہ جب مولا عج کا دور آئیے گا
جیسا کہ معصوم نے فرمایا کہ آخری زمانے میں میری اولاد سے ایک عظیم مرد ظہور کرے گا
جب اس کا پرچم فضا میں لہرائے گا تو مشرق و مغرب منور ہو جائیں گے اور اس کے ظہور سے پورے عالم میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی
یہ ہمارے نبی ص کے جملے ہیں
یہی وہ بشارتیں ہیں جو ہمارے ائمہ ع نے دیں ہیں جن کی وجہ سے ہم شدت سے منتظر ہیں مولا عج کے ظہور کے
مولا علی ع فرماتے ہیں کہ یہ جو لوگ اللہ کا در چھوڑ چھوڑ کر گناہوں میں ہر رہے ہیں کاش وہ پروردگار کو سمجھتے اس کی معرفت کو جانتے اللہ کس طرح ان سے محبت کرتا ہے اگر یہ اللہ کی محبت جو درک کرلیتے تو خوشی کے مارے اپنی جان دے دیتے یہ اللہ کی محبت ہے کہ اس نے ہمارے لئے اتنا عظیم الشان مانجی رکھا ہوا ہے
غیبت میں خدا ہمارے عمل کا منتظر ہے تاکہ وہ منجی آئے اوراس کو ہمارے لئے خیر و برکت کا محور قرار دے
بعض لوگ صرف دعا کی حد تک ہیں حالانکہ تعجیل فرج میں دعا کا بڑا کردار ہے
امام عج نے اپنی توقیع میں فرمایا کہ میرے ظہور کے لئے ظہور میں تعجیل کے لئے کثرت سے دعا کرو کیونکہ اس میں آپ لوگوں کے لئے بھی کشائش ہے
امام عسکری علیہ السلام نے بھی غیبت کے فتنہ و فساد سے خلاصی کی جو شرط قرار دی تھی وہ تعجیل فرج ہے
تعجیل فرج کی دعا نہ صرف لوگوں کو ہلاکت سے نجات دیتی ہے بلکہ لوگوں کو امام کی امامت پر ثابت قدم رکھتی ہے
امام فرماتے ہیں جو نماز کے بعد کہے کہ پروردگار محمد اور انکے آل پر درود بھیج اور قائم کے ظہور میں جلدی فرما وہ قائم کو دیکھے بغیر دنیا سے نہیں جائے گا
لہذا ایک منتظر شیعہ کی زندگی کا حصہ کہ وہ روانہ کی دعاؤں میں مولاعج کی تعجیل کی دعا کو ہمیشہ مقدم رکھے یاد رکھے
جو بھی یہ چاہتا ہے کہ کائنات کا ذخیرہ دیکھے اور خلائق سے بہترین آدم و شیث سے کے نوح اور نوح سے ابراہیم اسمعیل اور موسی و عیسی و شمعون تا پیغمبر اور امام عسکری علیہ السلام تک سب معصومین کی زیارت کوئ کرنا چاہتا ہے تو یہ ساری صفات ایک ہستی میں جمع ہیں وہ ہیں مہدی زہرا عج
ان کے ظہور کے لئے دعا کریں
دعا کا تنا بڑا اثر ہے کہتے ہیں حضرت موسیٰ نے 170 سال بعد آنا تھا لیکن ان دعاؤں کی وجہ سے 170 سال پہلے ان کا ظہور ہوا اور فرعون اور اس کے ظلم و ستم سے رہائی ملی یہ مولا امام صادق ع کی تفسیر عیاشی کے اندر یہ فرمان موجود ہے تو دعا کے ساتھ جب تک عمل نہیں ہوگا دعا کی اہمیت عظمت فضیلت اپنی جگہ لیکن ہمارا ہر عمل ہر نیکی چاہے وہ معفرت کی شکل میں امر باالمعروف کی شکل میں تقوی کی شکل میں ہم دلی کی شکل میں مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جس شکل میں بھی ہو وہ مولا کے ظہور کو نزدیک کرتا ہے ہمارے اندر عدالت ہمارے رویوں میں ہمارے مزاج میں
عادل امام کو عادل مزاج ناصر چاہئیے
پروردگار ہم سب کو ان لوگوں میں سے قرار دے جن کا انتظار مولا عج کے ظہور کا باعث بنے اور اپنی آنکھوں سے اس حجت الہی کا ظہور دیکھیں اور انکی ہمراہی میں ان کی خدمت میں دشمنان اسلام سے جنگ کا اجر و ثواب ملے
درس # 19
کتابچہ # 8
موضوع # انتظار
سوال یہ ہے کہ اس انتظار کا نتیجہ کیا ہوگا؟
اس انتظار کا نتیجہ آخری بار منجی کی غیبت پر ختم ہوگا
اللہ وہ زمانہ دکھائے کہ غیبت ختم ہو اور صبح ظہور شروع ہو جیسا کہ قرآن میں اور دعائے عہد میں ہے
اگر ہم انتظار کر یں گے تو ظہور کو نزدیک دیکھیں گے
یہ دنیا یا ظالم ہے وہ ظہور جو دور دیکھتی ہے ہمارا انتظار ہماری ہر حرکت ہماری نیکیاں مولا کے ظہور کو نزدیک کریں گی
اب نتیجہ کیسے دیکھ رہے ہیں وہ حق کی باطل پر کامیابی ہے
قرآن نے بشارت دی ہے جب حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے
امام زمان عج کی شکل میں حق آئے گا اور دنیا سے ظلم باطل گناہوں سے بھری زندگی اور انسانوں کے درد و رنج ختم ہو جائیں گے روایات یہ بتاتی ہیں کہ جب مولا عج کا دور آئیے گا
جیسا کہ معصوم نے فرمایا کہ آخری زمانے میں میری اولاد سے ایک عظیم مرد ظہور کرے گا
جب اس کا پرچم فضا میں لہرائے گا تو مشرق و مغرب منور ہو جائیں گے اور اس کے ظہور سے پورے عالم میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی
یہ ہمارے نبی ص کے جملے ہیں
یہی وہ بشارتیں ہیں جو ہمارے ائمہ ع نے دیں ہیں جن کی وجہ سے ہم شدت سے منتظر ہیں مولا عج کے ظہور کے
مولا علی ع فرماتے ہیں کہ یہ جو لوگ اللہ کا در چھوڑ چھوڑ کر گناہوں میں ہر رہے ہیں کاش وہ پروردگار کو سمجھتے اس کی معرفت کو جانتے اللہ کس طرح ان سے محبت کرتا ہے اگر یہ اللہ کی محبت جو درک کرلیتے تو خوشی کے مارے اپنی جان دے دیتے یہ اللہ کی محبت ہے کہ اس نے ہمارے لئے اتنا عظیم الشان مانجی رکھا ہوا ہے
غیبت میں خدا ہمارے عمل کا منتظر ہے تاکہ وہ منجی آئے اوراس کو ہمارے لئے خیر و برکت کا محور قرار دے
بعض لوگ صرف دعا کی حد تک ہیں حالانکہ تعجیل فرج میں دعا کا بڑا کردار ہے
امام عج نے اپنی توقیع میں فرمایا کہ میرے ظہور کے لئے ظہور میں تعجیل کے لئے کثرت سے دعا کرو کیونکہ اس میں آپ لوگوں کے لئے بھی کشائش ہے
امام عسکری علیہ السلام نے بھی غیبت کے فتنہ و فساد سے خلاصی کی جو شرط قرار دی تھی وہ تعجیل فرج ہے
تعجیل فرج کی دعا نہ صرف لوگوں کو ہلاکت سے نجات دیتی ہے بلکہ لوگوں کو امام کی امامت پر ثابت قدم رکھتی ہے
امام فرماتے ہیں جو نماز کے بعد کہے کہ پروردگار محمد اور انکے آل پر درود بھیج اور قائم کے ظہور میں جلدی فرما وہ قائم کو دیکھے بغیر دنیا سے نہیں جائے گا
لہذا ایک منتظر شیعہ کی زندگی کا حصہ کہ وہ روانہ کی دعاؤں میں مولاعج کی تعجیل کی دعا کو ہمیشہ مقدم رکھے یاد رکھے
جو بھی یہ چاہتا ہے کہ کائنات کا ذخیرہ دیکھے اور خلائق سے بہترین آدم و شیث سے کے نوح اور نوح سے ابراہیم اسمعیل اور موسی و عیسی و شمعون تا پیغمبر اور امام عسکری علیہ السلام تک سب معصومین کی زیارت کوئ کرنا چاہتا ہے تو یہ ساری صفات ایک ہستی میں جمع ہیں وہ ہیں مہدی زہرا عج
ان کے ظہور کے لئے دعا کریں
دعا کا تنا بڑا اثر ہے کہتے ہیں حضرت موسیٰ نے 170 سال بعد آنا تھا لیکن ان دعاؤں کی وجہ سے 170 سال پہلے ان کا ظہور ہوا اور فرعون اور اس کے ظلم و ستم سے رہائی ملی یہ مولا امام صادق ع کی تفسیر عیاشی کے اندر یہ فرمان موجود ہے تو دعا کے ساتھ جب تک عمل نہیں ہوگا دعا کی اہمیت عظمت فضیلت اپنی جگہ لیکن ہمارا ہر عمل ہر نیکی چاہے وہ معفرت کی شکل میں امر باالمعروف کی شکل میں تقوی کی شکل میں ہم دلی کی شکل میں مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جس شکل میں بھی ہو وہ مولا کے ظہور کو نزدیک کرتا ہے ہمارے اندر عدالت ہمارے رویوں میں ہمارے مزاج میں
عادل امام کو عادل مزاج ناصر چاہئیے
پروردگار ہم سب کو ان لوگوں میں سے قرار دے جن کا انتظار مولا عج کے ظہور کا باعث بنے اور اپنی آنکھوں سے اس حجت الہی کا ظہور دیکھیں اور انکی ہمراہی میں ان کی خدمت میں دشمنان اسلام سے جنگ کا اجر و ثواب ملے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں